7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 7:26–27

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ قَدْ اَنْزَلْنَا عَلَیْكُمْ لِبَاسًا یُّوَارِیْ سَوْاٰتِكُمْ وَ رِیْشًا١ؕ وَ لِبَاسُ التَّقْوٰى١ۙ ذٰلِكَ خَیْرٌ١ؕ ذٰلِكَ مِنْ اٰیٰتِ اللّٰهِ لَعَلَّهُمْ یَذَّكَّرُوْنَ Open ayah 7:26 in the Quran reader

اے اولاد آدم ! تحقیق ہم نے اتارا ہے تمہارے لئے لباس جو ڈھانپتا ہے تمہارے اعضائے مستورہ کو اور تمہارے لئے زینت کا ذریعہ ہے اور تقویٰ کا لباس ہی بہتر ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات میں سے ہے تکاہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ لَا یَفْتِنَنَّكُمُ الشَّیْطٰنُ كَمَاۤ اَخْرَجَ اَبَوَیْكُمْ مِّنَ الْجَنَّةِ یَنْزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِیُرِیَهُمَا سَوْاٰتِهِمَا١ؕ اِنَّهٗ یَرٰىكُمْ هُوَ وَ قَبِیْلُهٗ مِنْ حَیْثُ لَا تَرَوْنَهُمْ١ؕ اِنَّا جَعَلْنَا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ لِلَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ Open ayah 7:27 in the Quran reader

اے اولاد آدم ! نہ فتنے میں ڈالے تم کو شیطان جیسا کہ اس نے نکالا تمہارے ماں باپ کو جنت سے وہ اتاراتا تھا ان سے ان کا لباس تاکہ دکھائے ان کو ان کے اعضائے مستورہ ، بیشک دیکھتا ہے تم کو وہ اور اس کا قبیلہ جہاں تم ان کو نہیں دیکھتے بیشک ہم نے بنا دیا ہے شیطان کو رفیق ان لوگوں کے لئے جو ایمان نہیں لاتے۔

ربط آیات پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کتاب ہدایت کے ذکر کے بعد تخلیق آدم کا ذکر فرمایا اور اس کے ساتھ شیطان کی عداوت اور دشمنی کا ذکر کیا پھر شیطان کے برے عزائم کا تذکرہ بھی ہوا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کی لغزش اور میاں بیوی کے بارگاہ رب العزت میں گڑ گڑا کر دعا کرنے کی بات کی اللہ نے جنت سے اتر جانے کا حکم دیا اور فرمایا کہ تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے تمہارے لیے زمین میں ٹھکانا اور ایک مقررہ مدت تک فائدہ اٹھانا ہے یہ مقررہ مدت کسی انفرادی انسان کی موت کے ساتھ پوری ہوجاتی ہے اور پھر اجتماعی طور پر قیامت کو یہ وقت پورا ہوجائے گا فرمایا اسی زمین میں تم زندہ رہو گے اسی میں مرو گے اور پھر قیامت کو اسی زمین سے زندہ کیے جائو گے۔ لباس کی اہمیت اب اللہ تعالیٰ نے تمام اولاد آدم کے لیے لباس کا حکم دیا ہے یہ حکم حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانے سے نافذ ہے جب شیطان نے جنت میں آدم (علیہ السلام) کا لباس اتروا دیا تو اللہ تعالیٰ نے دنیا میں لباس پہننے کا حکم دیا کیونکہ برہنگی خلاف فطرت ہے اللہ تعالیٰ نے لباس پہننے کے حکم کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سی باتیں ارشاد فرمائی ہیں اور لباس کی اہمیت کو واضح کیا ہے امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی کتاب حجۃ البہ البالغہ ص 40 میں فرماتے ہیں کہ پوری متمدن دنیا میں بسنے والے انسان خواہ وہ کسی دین ، مذہب یا عقیدے سے تعلق رکھتے ہوں ، اس بات پر متفق ہیں ان العری شین واللباس زین لباس پہننا باعث زینت ہے جب کہ برہنگی اور عریانی عیب ہے ستر پوشی اور لباس اچھی چیز ہے اسلام اس کو بڑی اہمیت دیتا ہے لیکن اگر کوئی شخص فطرت سے نکل جائے اور غیر فطری امور کی انجام دہی سے اپنے مزاج اور طبیعت کو ہی مسخ کرڈالے تو ایسے شخص کا کوئی اعتبار نہیں وگرنہ ہر متمدن شخص لباس کو زینت اور ستر پوشی کا ذریعہ سمجھتا ہے بہرحال یہاں پر اللہ تعالیٰ نے لباس کا تذکرہ بطور احسان فرمایا ہے۔ نزول لباس ارشاد ہوتا ہے یبنی ادم اے اولاد آدم ! قد انزلنا علیکم لباساً تحقیق ہم نے تمہارے لیے لباس اتارا ہے یہاں پر لفظ انزلنا غور طلب ہے کیونکہ لباس بنانے کے لیے کپاس تو زمین سے پیدا ہوتی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے اتارنے کا ذکر کیا ہے دراصل اتارنا بعض اوقات پیدا کرنے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسے سورة حدید میں آتا ہے وانزلنا الحدید یعنی ہم نے لوہا نازل کیا ظاہر ہے کہ لوہا زمین سے نکلتا ہے مگر اس کے لیے بھی نزول کا لفظ استعمال کیا ہے اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ ہم نے تمہارے لیے لباس اتارا ہے یعنی پیدا کیا ہے مویشیوں کے متعلق فرمایا وانزل کم من الانعام ثمنیۃ ازواج ہم نے تمہارے لیے آٹھ جوڑے مویشی نازل کیے یہاں بھی نازل کرنے سے مراد پیدا کرنا ہی ہے۔ مفسرین کرام لفظ ” اتارنے “ کی یہ توجیہہ بھی بیان کرتے ہیں کہ کپاس پٹ سن وغیرہ جن سے عام طور پر لباس تیار ہوتا ہے زمین ہی سے پیدا ہوتی ہیں اسی طرح جن جانوروں کی اون یا کھال سے لباس بنایا جاتا ہے وہ بھی زمین ہی کی پیداوار ہیں مگر ان اشیا کی پیداوار اور نشونما کے لیے پانی کی اشد ضرورت ہے جو کہ اللہ تعالیٰ آسمان ہی سے نازل کرتے ہیں اس لیے لباس کو انزلنا کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے اس کے علاوہ ایک بات یہ بھی ہوسکتی ہے کہک لباس خیرو برکت کی چیز ہے اور ایسی چیزوں کا نزول اللہ تعالیٰ ہی کی جانب سے ہوتا ہے اس لیے طرز کلام میں لباس کو ” نازل فرمانا “ کہا گیا ہے۔ ستر عورت آگے اللہ تعالیٰ نے لباس کی غرض وغایت اور اس کے فوائد اس انداز میں بیان فرمائے ہیں یعنی اے بنی آدم ، ہم نے تم پر لباس اتارا یوریٰ سوا تکم جو تمہارے اعضائے مستورہ کی پردہ پوشی کرتا ہے اعضائے مستورہ کا کھل جانا پوری متمدن دنیا میں معیوب سمجھا جاتا ہے اس لیے اللہ نے لباس کا پہلا فائدہ یہ بتایا کہ یہ تمہاری ستر پوشی کرتا ہے ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ صحابہ کرام ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا حضور ! ہم جسم کا کتنا حصہ کھول سکتے ہیں اور کتنا حصہ مخفی رکھیں یا دوسروں کا کتنا حصہ دیکھ سکتے ہیں آپ نے فرمایا احفظ عورتک اوسواتک یعنی اپنے اعضائے مستورہ کو چھپائو اور کھلا نہ چھوڑو الامن زوجتک ارما ملکت یمینک سوائے اپنی بیوی یا لونڈی کے صحابی نے پھر عرض کیا حضرت ! اگر ہم تنہا ہوں تو پھر کیا حکم ہے فرمایا فاللہ احق ان یستمی منہ پھر اللہ کا زیادہ حق ہے کہ انسان اس سے حیا کرے مقصد یہ ہے کہ بلا مقصد تنہائی میں بھی اضعائے مستورہ کھولنے کی اجازت نہیں پھر پردے کا یہ بھی حکم ہے کہ مردوں کے لیے بھی حلال نہیں کہ ایک دوسرے کے مخفی اعضا کو دیکھیں اور نہ عورتوں کے لیے جائز ہے کہ وہ ایک دوسری کے سامنے بےپردہ ہوں ایک روایت میں اس طرح آتا ہے ملعون من نظر الی سوات احد وہ شخص ملعون ہے جو کسی کے ستر پر نظر ڈالتا ہے یہاں تک کہ ان کی حفاظت کا بھی حکم دیا گیا ہے ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے الفخذ عورۃ ران کا بھی پردہ ہے اس لیے محدثین اور فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ ناف سے لے کر گھنٹے تک کے حصہ کو ڈھانپنا فرض عین ہے۔ لباس کے احکام قرآن و حدیث میں لباس کے متعلق بہت سے احکام وارد ہوئے ہیں محدثین نے اپنی کتابوں میں کتاب اللباس کے نام سے باب باندھے ہیں جن میں اللہ اور اس کے ر سول اکرم ﷺ کے احکام متعلقہ لباس بیان کیے ہیں ویسے بھی عربی کا مقولہ ہے الناس باللباس لوگ لباس کے ساتھ ہی متمدن نظر آتے ہیں انسان کی حیثیت ، وقار اور شان و شوکت لباس ہی سے وابستہ ہوتی ہے محدثین کرام فرماتے ہیں کہ جس لباس سے اعضائے مستورہ کی پردہ پوشی کی جاتی ہے وہ فرض ہے اور باقی لباس سنت ہے چناچہ عبادت کے لیے صاف ستھرا لباس ہونا چاہیے خاص طور پر جمعہ اور عیدین کی نماز کے لیے اگر نیا لباس میسر نہیں تو کم از کم دھلا ہوا تو ہونا چاہیے خصوصاً صاحب ثروت آدمی کو اچھا لباس زیب تن کرنا چاہیے اگر پھٹا پرانا لباس پہنے گا تو ناشکر گزاری کا مرتکب ہوگا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک شخص کو میلے کچیلے کپڑے پہنے دیکھا ، فرمایا کیا تیرے پاس مال ہے عرض کیا ہاں میرے پاس بھیڑ بکریاں ، گائے ، بیل ، اونٹ اور لونڈی غلام ہیں تو آپ نے ارشاد فرمایا فلیری اثرنعمۃ اللہ علیک و کر امتہ (احمد و نسائی) تو پھر اللہ کے انعام و احسان اور اس کے فضل و کرم کا اثر تم پر نظر آنا چاہیے پھٹا پرانا لباس تو مجبور آدمی پہنتا ہے تم اچھا لباس پہنا کرو بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کل ماشئت والبس ماشئت ما اخطاتک اثنتان سرف و مخیلۃ جو جی چاہے کھائو اور پہنو جب تک کہ دو چیزیں نہ ہوں یعنی اسراف اور تکبر ، یہ دونوں چیزیں مکروہ تحریمی میں داخل ہیں کھانا ، پینا اور پہننا مباح ہے مگر ان دو شرائط کے ساتھ۔ شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) اپنے ترجمہ قرآن میں اس مقام پر حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ اس آیت سے اللہ تعالیٰ کی مراد یہ ہے کہ دشمن نے تم سے جنت کے کپڑے اتروا لیے پھر ہم نے تمہیں دنیا میں لباس کی تدبیر سکھائی کہ لباس اس طرح بناکر پہنو چناچہ اب وہی لباس پہننا چاہیے جس میں پرہیز گاری ہو ، مرد کے لیے اس دنیا میں ریشمی لباس حرام ہے البتہ جنت میں ولباسھم فیھا حریر (الحج) ان کے لیے ریشمی لباس ہوگا اسی طرح اس دنیا میں شراب حرام ہے مگر جنت میں شراب طہور نصیب ہوگی اس طرح اس جہان میں مرد صرف چاندی کی انگوٹھی پہن سکتا ہے اس کے علاوہ سونا اور چاندی حرام ہے مگر جنت میں اسے سونے اور چاندی کے زیورات پہنائے جائیں گے۔ لباس کے متعلق بعض اور بھی احکام ہیں مثلاً مرد ریشمی لباس نہ پہنیں اور دامن دراز نہ کریں ٹخنوں سے نیچے کپڑا لٹکانا مکروہ تحریمی ہے شلوار ، تہمند ، پتلون یا چادر ہو مرد کے لیے ٹخنے ننگے ہونے چاہئیں وگرنہ نماز بھی مکروہ ہوگی البتہ عورت کو اجازت ہے صحیحین کی روایت میں ہے من جرتوبہ خیلاء لم ینظر اللہ الیہ یوم القمۃ جو کوئی فخر کے طور پر اپنا کپڑا نیچے کریگا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اس کی طرف نگاہ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا۔ حضور ﷺ نے عورت کو باریک کپڑے پہننے سے بھی منع فرمایا ہے حضور ﷺ نے حضرت اسماء کو باریک دوپٹہ پہنے ہوئے دیکھا جس سے چھن کر بال نظر آرہے تھے آپ ناراض ہوگئے اور فرمایا جب عورت بالغ ہوجاتی ہے تو اس کے چہرے اور ہاتھوں کے سوا جسم کا کوئی حصہ نظر نہیں آنا چاہیے اور جوان عورت بلاوجہ چہرہ بھی نہ کھولے ، تاہم یہ ستر میں داخل نہیں۔ ضرورت کے وقت منہ ننگا کرسکتی ہے ایسی وضع قطع کا لباس پہننا جس سے جسم کے بعض حصے نظر آئیں یہ بھی بےحیائی کی بات ہے شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ عورت بہت باریک لباس نہ پہنے ، نیز سورة نور کے احکام ولا یبدین زینتھن کے مطابق اپنی زینت کا اظہار نہ کرے سوائے خاوند یا دیگر محرم مردوں کے سامنے ، بہرحال لباس فرض بھی ہے سنت بھی ہے حرام بھی ہے مکروہ بھی ہے اور مباح بھی ہے فخر وتکبر والا لباس جائز نہیں اسی طرح میلا کچیلا لباس مکروہ ہے لباس کے معاملہ میں اسراف بھی نہیں ہونا چاہیے باقی سب لباس مباح ہیں ہر ملک کے باشندے مقامی وضع قطع یا آب و ہوا ، گرمی سردی کی مناسبت سے لباس پہن سکتے ہیں۔ نئے لباس کی دعائیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے نیا لباس پہننے کی بعض دعائیں بھی منقول ہیں مثلاً نیا لباس پہننے پر آدمی یوں کہے الحمد للہ الذی رزقنی من الریاش ما اتجمل بہ فی الناس واوری بہ عورتی (مسند احمد) اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے مجھے یہ لباس زینت عطا کیا اور جس سے میں لوگوں میں آرائش حاصل کرتا ہوں اور اپنی ستر پوشی کرتا ہوں سنن ابو دائود میں یہ دعا بھی ہے الحمد للہ الذی کسانی ھذا ورزقنیہ من غیر حول منی ولا قوۃ اللہ تعالیٰ کے لیے حمد و شکر ہے جس نے مجھے یہ کپڑا پہنایا اور بغیر میری محنت وسعی کے یہ مجھے عطا فرمایا ترمذی شریف میں حضور ﷺ کی یہ دعا بھی منقول ہے اللھم لک الحمد لکما کسوتیہ اسئالک خیرہ وخیر ماصنع لہ واعوذ بک من شرہ وشرما صنع لہ اے اللہ ! تیرا شکر ہے تو نے مجھے یہ کپڑا پہنایا میں تجھ سے مانگتا ہوں اس لباس کی بہتری اور اس مقصد کی بہتری جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے نیز میں تیری پناہ پکڑتا ہوں اس کپڑے کی برائی سے اور اس مقصد کی برائی سے جس کے لیے یہ بنایا گیا ہے لباس کے متعلق اس کے علاوہ بھی بعض دعائیں اور احکام موجود ہیں۔ لباس ذریعہ زینت فرمایا اے اولاد آدم ہم نے تمہارے لیے لباس نازل کیا جس کا پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ یہ پردہ پوشی کرتا ہے اور دوسرا وریشا یہ لباس باعث زینت بھی ہے زیب وزینت لباس کی ہو یا گھر کے فرنیچر وغیرہ کی اس کے لیے عربی میں ریاش کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس طرح پرندے کے پر اس کے لیے زینت کا باعث ہوتے ہیں اور جس طرح بعض درندوں کو اللہ نے خوبصورت کھال پہنا دی ہے جس سے ان کی زینت ہوتی ہے اسی طرح انسان کے لیے لباس بمنزلہ زینت ہے۔ قدیم زمانے سے کپاس کا دھاگہ لباس کے لیے خام مال کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے مگر آج کل پٹرول کے گاد سے دھاگا تیار کرکے مختلف الانواع لباس تیار کیے جا رہے ہیں مگر سوتی لباس سے بہتر کوئی لباس نہیں نائلون یا ٹٹرون چونکہ پٹرول کی باقیات سے تیار ہوتا اس لیے یہ آگ بھی جلد پکڑتا ہے اگر آدمی کے کپڑوں میں آگ لگ جائے تو اس پر قابو پانا مشکل ہوجاتا ہے آج کل میڈیکل سائنس والے تحقیق کر رہے ہیں کہ یہ لباس انسان کے لیے کس حد تک مفید ہے اگرچہ نائلون کا دھاگہ ، خوشنما ، نرم اور دیرپا ہے مگر انسانی جسم کے لیے سوتی کپڑے سے بہتر کوئی کپڑا نہیں ہوسکتا کپاس اللہ تعالیٰ نے کمال درجے کی بنائی ہے جسے انسانی جسم سے عین مطابقت ہے طنطاوی (رح) نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ انسان کی دو بنیادی ضرورتوں خوراک اور لباس کا مادہ ایک ہی ہے ان کے عناصر کی ترکیب میں صرف فیصدی کا فرق ہے مثال کے طور پر اگر گندم میں آکسیجن کا حصہ بیس فیصدی ہے تو کپاس میں دس فیصدی ہے بہرحال فرمایا کہ لباس انسان کے لیے پردہ پوشی اور زینت کا باعث ہے۔ تقویٰ کا لباس آگے فرمایا و لباس التقویٰ ذلک خیر تقویٰ کا لباس ہی بہتر ہے بعض فرماتے ہیں کہ تقویٰ سے مراد ایمان اور نیکی ہے کہ لباس کے ساتھ ساتھ یہ دو چیزیں بھی ہونی چاہئیں بعض فرماتے ہیں کہ تقویٰ کا لباس وہ ہے جو بےتکلف ہو اور ناجائز نہ ہو حضور ﷺ کی عادت مبارک تھی کہ جیسا لباس مل جاتا پہن لیتے اور کسی تکلف میں نہ پڑتے آپ نے اپنی زندگی میں قیمتی لباس بھی زیب تن فرمایا ہے مگر عام طور پر آپ معمولی لباس پہنتے تھے بزرگان دین بھی مختلف لباس پہنتے تھے مثلاً خواجہ ابوالحسن شاذلی ؓ اور مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) عمدہ لباس پہنتے تھے البتہ امام احمد بن حنبل (رح) ، شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) ، خواجہ معین الدین چشتی (رح) ، مولانا رشید احمد گنگرہی (رح) سادہ لباس پہنتے تھے آپ عاجزی اور تواضع کو زیادہ پسند کرتے تھے تاہم جس قسم کا لباس میسر ہو مباح ہے بشرطیکہ حرام سے اجتناب کیا جائے ہمیشہ تکلیف اٹھا کر بھی خاص لباس فراہم کرنا پسندیدہ نہیں ہے کیونکہ یہ چیز رفاہیت بالغہ میں داخل ہے اور اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے تقویٰ کا لباس ہی بہر صورت بہتر ہے فرمایا یہ لباس ذلک من ایت اللہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہے انسانوں کو لباس پہننے کا حکم دیا گیا ہے لعلھم یذکرون تاکہ وہ نصیحت پکڑیں۔ شیطان سے احتیاط اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا بنی ادم لا یفتننکم الشیطن اے اولاد آدم خبردار کہیں شیطان تمہیں فتنے میں نہ ڈال دے تمہیں بہکا نہ دے کیونکہ شیطان دو دروازوں کے ذریعے انسانوں کو گمراہ کرتا ہے ایک شبہات اور دوسرا شہوات ، یا تو انسان کے دل میں شکو و شبہات ڈال کر انسان کو بدعقیدہ بنا دیے گا یا اسے خواہشات میں مبتلا کرکے تباہ و برباد کردے گا اسی لیے فرمایا کہیں شیطان تم کو فتنے میں نہ ڈال دے کما اخرج ابویکم من الجنۃ جیسا کہ اس نے تمہارے ماں باپ یعنی حضرت آدم اور حوا (علیہما السلام) کو جنت سے نکالا شیطان نے ان دونوں کو بہکا کر ینزع عنھما لباسھما ان سے ان کا لباس اتار رہا تھا لیریھما سواتھما تاکہ ان کو ان کے اعضائے مستورہ دکھا دے دراصل آدم اور حوا (علیہما السلام) کو نہ تو شیطان نے خود جنت سے نکالا تھا اور نہ ان کا لباس اتارا تھا بلکہ یہ تو اس کے بہکانے میں اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہوا تھا تاہم چونکہ شیطان اس کا سبب بنا لہٰذا اسے اس کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ شیطان کی ابتداء سے یہ کوشش ہے کہ انسان سے غیر فطری حرکت کرائے یعنی اس کو برہنہ کرے اس وقت اس کا دائو حضرت آدم اور حوا (علیہما السلام) پر چلا تھا اور اب جدید تمدن میں بھی وہ لوگوں کو اسی طرف لگا رہا ہے نیم عریانی جدید تہذیب میں فیش بن چکی ہے چناچہ نیم برہنہ تصاویر کی نمائش اور نیم برہنہ حالت میں ناچ گانا جدید دور کے لوازمات میں شامل ہیں شیطان ایسی چیزوں کو خوب مزین کرکے دکھاتا ہے جس کی وجہ سے لوگ اس کے دام میں گرفتار ہو کر اس کی خواہش کی تعمیل کرنے لگتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو خبر دار کیا ہے کہ شیطان بہت مکار دشمن ہے اس سے ہوشیار رہنا اس کو یہ سہولت بھی حاصل ہے کہ انہ یرہکم ھو وقبیلہ وہ اور اس کا قبیلہ تو تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتا ہے من حیث لا ترونھم جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے شیطان عام طور پر انسانوں کی نظروں سے اوجھل رہتے ہیں اور بعض حالات میں ظاہر بھی ہوجاتے ہیں حضور ﷺ نے جنات کو چھ مرتبہ وعظ و تبلیغ کی آپ نے انہیں قرآن پاک پڑھایا اس کے علاوہ بھی کبھی کبھار نظر آجاتے ہیں مگر عموماً نظروں سے اوجھل رہتے ہیں فرمایا انا جعلنا الشیطین اولیاء للذین لا یومنون بیشک ہم نے شیطان کو ان لوگوں کا ساتھی بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے شیطان ایسے لوگوں پر مسلط ہو کر انہیں بہکاتے رہتے ہیں تاکہ اس کے تبعین کی تعداد میں اضافہ ہو اور وہ سب کو لے کر جہنم میں جائیں تو فرمایا شیطان چونکہ خطرناک دشمن ہے جو نظر بھی نہیں آتا لہٰذا اس سے زیادہ احتیاط کی ضرورت ہے۔ بزرگان سلف فرماتے ہیں کہ ایسے مکار دشمن سے پناہ بھی بڑی ذات کی پکڑنی چاہیے اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ ہی کی ذات کافی ہے چونکہ وہ شیطان کی تمام حرکات کو دیکھ رہا ہے اور شیطان اسے نہیں دیکھ سکتا لہٰذا شیطان سے بچائو کے لیے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنا چاہیے انسان اسی قلعے میں محفوظ رہ سکتا ہے وگرنہ اس کا اعلان ہے کہ وہ چاروں اطراف سے انسان پر حملہ آور ہو کر اسے گمراہ کرنے کی سعی کرے گا شیطان سے پناہ کے لیے اعوذباللہ من الشیطن الرجیم کے الفاظ سب لوگ جانتے ہیں یا پھر لاحول ولا قوۃ الا باللہ پڑھنا چاہیے جو کہ عرش کے خزانوں میں سے ایک خزانہ ہے بہرحال شیطان سے بچائو کی تدبیر یہ ہے کہ کثرت سے اللہ کا ذکر کیا جائے اور اس کی پناہ اختیار کی جائے۔
Ayahs 7:28–31

وَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً قَالُوْا وَجَدْنَا عَلَیْهَاۤ اٰبَآءَنَا وَ اللّٰهُ اَمَرَنَا بِهَا١ؕ قُلْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَاْمُرُ بِالْفَحْشَآءِ١ؕ اَتَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:28 in the Quran reader

اور جب کرتے ہیں (یہ منکر لوگ) کوئی بےحیائی کا کام تو کہتے ہیں کہ پایا ہم نے اس پر اپنے آبائو اجداد کو اور اللہ نے ہمیں اس کا حکم دیا ہے اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے ، بیشک اللہ تعالیٰ نہیں حکم دیتا کسی بےحیائی کی بات کا کیا تم کہتے ہو وہ بات اللہ پر جو تم نہیں جانتے

قُلْ اَمَرَ رَبِّیْ بِالْقِسْطِ١۫ وَ اَقِیْمُوْا وُجُوْهَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ ادْعُوْهُ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ١ؕ۬ كَمَا بَدَاَكُمْ تَعُوْدُوْنَؕ Open ayah 7:29 in the Quran reader

اے پغیمبر ! آپ کہ دیجیے ، حکم دیا ہے میرے پروردگار نے انصاف کا اور یہ کہ قائم کرو اپنے چہروں کو (اللہ کے لئے) ہر نماز کے وقت ، اور پکارو اسی کو اس حال میں کہ خالص اسی کی اطاعت کرنے والے ہو۔ جیسا کہ اس نے تمہیں پیدا کیا ہے اسی طرح تم دوبارہ لوٹو گے

فَرِیْقًا هَدٰى وَ فَرِیْقًا حَقَّ عَلَیْهِمُ الضَّلٰلَةُ١ؕ اِنَّهُمُ اتَّخَذُوا الشَّیٰطِیْنَ اَوْلِیَآءَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ وَ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ مُّهْتَدُوْنَ Open ayah 7:30 in the Quran reader

ایک فرقے کو اس نے ہدایت دی ہے اور ایک فرقہ ایسا ہے جس پر گمراہی کی بات ثابت ہوچکی ہے بیشک انہوں نے بنا لیا ہے شیطان کو اپنا ساتھی اللہ کے سوا ، اور گمان کرتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں

یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ خُذُوْا زِیْنَتَكُمْ عِنْدَ كُلِّ مَسْجِدٍ وَّ كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا وَ لَا تُسْرِفُوْا١ۚ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ۠ Open ayah 7:31 in the Quran reader

اے اولاد آدم ! اختیار کرو اپنی زینت ہر نماز کے وقت اور کھائو اور پیو اور اسراف نہ کرو بیشک اللہ تعالیٰ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

ربط آیات وحی الٰہی کے اتباع کا حکم دینے کے بعد اللہ تعالیٰ نے نافرمانی کرنے والوں کا انجام بیان کیا اس کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیدائش اور زمین میں ان کی خلافت و نیابت اور شیطان کے اغوا اور عداوت کی ساری کارگزاری اللہ نے بیان فرمائی جو شیطان نے آدم (علیہ السلام) کے ساتھ کی تھی اللہ تعالیٰ نے آدم اور حوا (علیہما السلام) کی لغزش اور اس پر تنبیہ کا حال بیان فرمایا پھر ان کو معاف کیا اور زمین پر اترنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ ایک مقررہ مدت تک اس زمین پر تمہارا ٹھکانہ ہوگا یہیں مرو گے اور قیامت کو اسی زمین سے اٹھائے جائو گے شیطان کی عداوت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس نے جنت میں آدم اور حوا (علیہما السلام) کا لباس بھی اتروا دیا تھا اور انہیں جنت کے پتے ٹانک کر اپنے اعضائے مستورہ کو چھپانا پڑا اسی ضمن میں اللہ نے زمین پر استعمال ہونے والے لباس کا ذکر بھی کیا اور فرمایا کہ اے بنی آدم ! ہم نے تمہیں دنیا میں لباس کا طریقہ سکھایا جو کہ انسان کے لیے ستر پوشی اور زینت کا باعث ہوتا ہے سترپوشی انسان کے لیے فرض ہے اور اعضائے مستورہ کا چھپانا انسانی فطرت میں داخل ہے اس کی مکمل تشریح کل عرض کردی تھی۔ لباس کا دوسرا بڑا فائدہ انسان کے لیے زینت ہے آگے بھی زینت اختیار کرنے کا حکم آرہا ہے زینت کی کئی قسمیں ہیں یہ جائز بھی ہے اور ناجائز بھی مباح بھی ہے اور سنت بھی مکروہ بھی ہے اور حرام بھی انسان کو جائز زینت ہی اختیار کرنی چاہیے فرمایا لباس بیشک انسان کے لیے باعث زینت ہے مگر تقویٰ اور پرہیز گاری کا لباس سب سے بہتر ہے پھر اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو تنبیہ فرمائی کہ دیکھو کہیں تمہیں شیطان بہکانہ دے اس نے جنت میں تمہارے جدامجد کا لباس اتروا دیا تھا شیطان اور اس کی ذریت تمہارے کھلے دشمن ہیں اور تمہیں نظر بھی نہیں آتے لہٰذا ان سے بچائو کا سامان اختیار کرو جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان پر شیاطین مسلط ہو کر انہیں بہکاتے رہتے ہیں۔ برہنہ طواف اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے منکرین توحید کی ایک قباحت کا ذکر فرمایا ہے واذا فعلو فاحشۃ جب یہ لوگ کوئی بےحیائی کا کام کرتے ہیں قالو وجدنا علیھا اباونا تو کہتے ہیں ہم نے اپنے آبائو اجداد کو اس چیز پر پایا ہے یعنی وہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے اس بےحیائی سے مفسرین برہنہ طواف مراد لیتے ہیں جب باہر کے لوگ حج کے لیے آتے تھے تو وہ اپنے روزمرہ کے لباس میں طواف کرنا درست خیال نہیں کرتے تھے بلکہ قریش سے عاریتاً لباس لے کر اس میں طواف کرتے تھے اس کی تاویل انہوں نے یہ کررکھی تھی کہ جس لباس میں ہم گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں اس میں اللہ کے پاک گھر کا طواف نہیں کرسکتے پھر خاندان قریش بعض حاجیوں کو اپنے تعلقات یا وسعت کی بنا پر لباس مہیا کردیتے تھے اور جو لوگ لباس کے حصول میں ناکام رہتے وہ برہنہ حالت میں طواف کرتے اس میں مرد اور عورتیں سب شامل ہوتے البتہ مرد دن کے وقت اور عورتیں رات کے وقت برہنہ طواف کرتیں مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ طواف کرتے وقت عورتیں اپنی زبان سے یہ بھی کہتیں الیوم یبدو بعضہ اوکلہ فما بدا منہ فلا احلہ یعنی آج ستر کا بعض حصہ یا کل حصہ کھل جائے گا مگر آج کے دن ہم اسے برائی کے لیے جائز قرار نہیں دیتے اس طرح مرو زن ننگے طواف کرتے۔ فاسد تاویلات فرمایا کہک جب ان سے پوچھا جاتا ہے کہ برہنہ حالت میں طواف کیوں کرتے ہو تو کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو اسی طریقے پر پایا ہے جس طرح وہ طواف کرتے تھے ہم بھی اسی طرح کرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنے گناہ آلود کپڑوں میں اللہ کے پاک گھر کا طواف نہیں کرسکتے سورة بقرہ میں آبائو اجداد کی اندھی تقلید کے متعلق یہ بھی آتا ہے ” اولو کان ابائوھم لایعقلون شیاء ولا یھتدون اگرچہ ان کے باپ داد بےعقل اور غیر ہدایت یافتہ ہی ہوں مگر یہ انہی کے راستے پر چلنے کے لیے مصر ہیں اگر کسی کے سلف صحیح راستے پر گامزن ہوں تو ان کی پیروی کرنا اچھی بات ہے جیسا کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے کہا تھا واتبعت ملۃ اباء ی ابراہیم واسحاق و یعقوب میں تو اپنے آبائو اجداد حضرت ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب (علیہم السلام) کی ملت کا اتباع کرتا ہوں مگر مشرکین اور اہل بدعات کے راستے پر چلنے کی کیا تک ہے اللہ تعالیٰ نے اولاد آدم کو عقل اور فہم عطا کیا ہے لہٰذا یہ دیکھنا ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ صحیح راستے پر جا رہے ہیں یا غلط راستے پر محض آبائو اجداد کی تقلید کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی گرفت سے نہیں بچ سکیں گے قوم اور برادری کو معیار اتباع بنانا کمزور اور بودی دلیل ہے اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ اتبعو ما انزل الیکم من ربکم اپنے رب کی طرف سے نازل شدہ چیز کا اتباع کرو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ دین اور شریعت کے احکام ہی قابل اتباع ہیں ایمان کا تقاضا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنے والی ہدایت کی پر وی کی جائے بعض چیزیں ذہنی طور پر بھی فاحشات میں داخل ہیں جیسے قرآن پاک میں بخل اور کمینگی کو بھی فحش سے تعبیر کیا گیا ہے زنا ، لواطت اور عریانی بھی بےحیائی میں شامل ہیں اور انہی میں سے ایک فحاشی برہنہ طواف ہے حالانکہ بیت اللہ شریف کا طواف اہم ترین عبادت ہے جسے ان لوگوں نے برہنہ ہو کر فحاشی میں بدل دیا۔ اللہ پر افتراء فرمایا برہنہ طواف کو ایک تو انہوں نے اپنے آبائو اجداد کی طرف منسوب کیا اور دوسری بدترین دلیل یہ پیش کی واللہ امرنا بھا ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے اس طرح انہوں نے اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا جھوٹ باندھا اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں ان اللہ لا یامربالفحشاء اللہ تعالیٰ تو کسی بےحیائی اور فحاشی کا حکم نہیں دیتا وہ تو پاک ذات ہے وہ بری بات کا حکم کیوں دیتا ، برائی پر آمادہ کرنا تو شیطان کا کام ہے برائی کا اللہ کی طرف انتساب تو عقل سلیم بھی تسلیم نہیں کرتی ، لہٰذا تمہارا یہ دعویٰ بالکل باطل ہے کہ اللہ تعالیٰ نے برہنہ طواف کا حکم دیا ہے فرمایا اتقولون علی اللہ مالا تعلمون کیا تم اللہ تعالیٰ کے متعلق ایسی بات کہتے ہو جس کو جانتے نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ پر صریح جھوٹ باندھنے والی بات ہے نعوذ باللہ خدا تعالیٰ برہنہ طواف کا حکم کیسے دے سکتا ہے۔ قیام عدل فرمایا اس کے برخلاف قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں امر ربی بالقسط میرے رب نے تو عدل و انصاف قائم کرنے کا حکم دیا ہے قسط ایسے درمیانے راستے کو کہتے ہیں جو افراط تفریط سے پاک ہو چناچہ توحید عدل ہے اور شرک اور غلو افراط وتفریط میں داخل ہے اسی طرح بےحیائی بھی افراط میں داخل ہے اللہ تعالیٰ نے ہر کام میں عدم اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور عدل کیا ہے اعلدل ھوالوسط من کل شیٔ المتجا فی عن الافراط والتفریط یعنی عدل اس درمیانے راستے کو کہا جاتا ہے جو افراط تفریط سے پاک ہو اللہ تعالیٰ اعتدال اور انصاف کا حکم دیتا ہے اور افراط تفریط سے منع کرتا ہے بھلا وہ کیسے بےحیائی کا حکم دے سکتا ہے یہ تو مشرکین کی اپنی اختراع ہے جسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کردیا گیا ہے۔ اخلاص فی العبادت فرمایا ، آپ یہ بھی کہہ دیں واقیموا وجوھکم عند کل مسجد اور قائم کرو اپنے چہروں کو ہر نماز کے وقت ، یہاں پر مسجد سے مراد نماز ہے بعض اوقات کسی چیز کا جزو بیان کرکے مراد پوری چیز لی جاتی ہے جیسے واذا قیل لھم ارکعو لا یرکعون (المرسلت) یعنی جب ان سے کہا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے حضور جھک جائو تو نہیں جھکتے جس طرح یہاں پر رکوع سے پوری نماز مراد لی گئی ہے اس طرح اس آیت میں مسجد سے نماز مراد ہے چہرے کو قائم کرنے کا ظاہری معنی تو قبلہ کی طرف منہ کرنا ہے اور اس کا وجوب فولوا وجوھکم شطرہ (البقرہ) میں ہے کہ تم جہاں بھی ہو منہ ای کی طرف کرو اور باطنی معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت خلوص کے ساتھ کرو اور اس سے مقصود یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ظاہر و باطن سے خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کرے گا تو افراط وتفریط باقی نہیں رہے گی اور اعتدال کی راہ قائم ہوجائے گی ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں بےحیائی کی نوبت کہاں آسکتی ہے۔ نماز باجماعت بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ مسجد سے مراد مطلق مسجد بھی ہوسکتا ہے کہ اپنے چہروں کو مسجدوں کی طرف کرلو اور مسجد کی طرف نماز با جماعت کے لیے جانا ہوتا ہے لہٰذا اس میں نماز با جماعت کی تاکید پائی جاتی ہے بعض فقہائے کرام کے نزدیک نماز باجماعت فرض ہے جب کہ امام احمد بن حنبل (رح) کے نزدیک واجب اور امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک سنت موکدہ ہے امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے استاذ امام ابوالحسن کرخی (رح) نماز با جماعت کو فرض کفایہ فرماتے ہیں یعنی اگر بستی یا محلہ کے بعض آدمی جماعت کے ساتھ نماز ادا کرلیں تو فرض ادا ہوجاتا ہے اور اگر کوئی بھی ایسا نہ کرے تو سب گہنگار ہوں گے حضور ﷺ نے نماز باجماعت کی سخت تاکید فرمائی ہے اور فرمایا کہ اگر کسی باویہ ، گائوں ، جنگل یا صحرا میں تین آدمی موجود ہوں اور وہ نماز باجماعت ادا نہ کریں تو ان پر شیطان مسلط ہوجاتا ہے نیز یہ کہ نماز باجماعت کا درجہ اکیلے پڑھنے کی نسبت ستائیس گنا بڑھ جاتا ہے جماعت سے غیر حاضر رہنے والوں کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے سخت وعید سنائی ہے فرمایا میں چاہتا ہوں کہ جماعت کھڑی کرا دوں اور کچھ لوگوں کو ساتھ لے کر جائوں اور نماز میں شامل نہ ہونے والے لوگوں کے گھروں کو لکڑیاں ڈال کر آگ لگا دوں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں ہے کہ جماعت کی حاضری ترک کرو گے تو تارک سنت اور منافق بن جائو گے اور اگر ایسا ہوا لضللتم تو گمراہ ہوجائو گے الغرض اس آیت میں مذکور مسجد سے مطلق مسجد بھی مراد ہوسکتی ہے جماعت کی حاضری پر بھی محمول کرسکتے ہیں نماز میں رخ کا تعین بھی ہوسکتا ہے اور نماز میں اخلاص کا پیدا کرنا بھی مراد لے سکتے ہیں۔ فرمایا وادعوہ مخلصین لہ الدین اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارو اس حال میں کہ خاص اسی کی فرمانبرداری کرنے والے ہو وہی عبادت کے لائق ہے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائو اور عبادت میں ریا کاری کو داخل نہ ہونے دو مگر تم سو فیصدی اس کے خلاف کرتے ہو غلط باتوں کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کرتے ہو جو کہ بڑے ظلم کی بات ہے۔ بعث بعدالموت فرمایا یاد رکھو ! کما بداکم تعودون جس طرح تم کو پیدا کیا تھا اسی طرح تم دوبارہ لوٹو گے قیامت برحق ہے وہ برپا ہوگی اور جزائے عمل ضرور واقع ہوگا بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ بدا سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ جس حالت میں تم اس دنیا میں ہوگے اسی حالت میں قیامت کو اٹھائے جائو گے اگر دنیا میں تم ایمان پر قائم رہے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے رہے اور اسی پر تمہارا خاتمہ ہوگیا تو وہاں بھی ایماندار ہی اٹھو گے حدیث شریف میں یہ الفاظ آتے ہیں یبعث مامات علیہ انسان اس چیز پر دوبارہ اٹھایا جائے گا جس پر اس کی موت واقع ہوئی اسی لیے اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے فلا تموتن الا وانتم مسلمون (البقرہ) تمہیں ہر وقت اس بات کے لیے کوشاں رہنا چاہیے کہ تمہاری موت ایمان پر آئے جو فرمانبرداری کی حالت میں فوت ہوگا وہ اسی حالت پر اٹھے گا اور جو نافرمانی کی حال ت میں مرے گا اس کی بعثت بھی نافرمانی کی حالت میں ہی ہوگی غرضیکہ جزائے عمل بالکل برحق ہے اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ ہے کہ جس مقام پر اس کی توحید اور ایمان کا ذکر ہوتا ہے ساتھ رسالت کا تذکرہ بھی ہوتا اور ساتھ ساتھ قیامت کا ذکر بھی کردیا جاتا ہے تو یہاں پر بھی اللہ تعالیٰ نے جہاں ایمان اور اخلاص کا ذکر کیا ہے ساتھ بعث بعد الموت کا تذکرہ بھی کردیا ہے۔ ہدایت یافتہ اور گمراہ لوگ ارشاد ہوتا ہے فریقاً ھدیٰ ایک فریق کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت بخشی ہے وہ منصف مزاج تھے ان کی صلاحیت ٹھیک تھی اور قویٰ درست تھے لہٰذا وہ ہدایت پا گئے اور اس کے برخلاف وفریقاً حق علیہم الضللۃ اور ایک گروہ پر گمراہث ثابت ہوگئی جب کسی کی استعداد صحیح نہ ہو یا اس کا استعمال غلط ہو تو پھر ان کی حالت یہ ہوتی ہے ان شرالدواب عنداللہ الصم البکم الذین لا یعقلون بیشک خدا کے نزدیک بدترین جاندار بہرے اور گونگے ہیں جو عقل کو استعمال نہیں کرتے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کا شکوہ کیا ہے کہ اس نے عقل جیسا اعلیٰ جوہر عطا کیا مگر ایک گروہ نے اس سے صحیح فائدہ نہ اٹھایا جو کوئی عقل سے کام لے گا اسے صحیح طریقے پر استعمال کرے گا وہ ہدایت پا جائے گا گمراہی کی بات پر اصرار کرنے سے انسان کی استعداد اور صلاحیت ہی ضائع ہوجاتی ہے پھر اگر وہ معافی نہ مانگے تو دل پر سیاہ نقطہ لگ جاتا ہے پھر وہ بڑھتا رہتا ہے حتیٰ کہ سارا دل زنگ آلود ہو کر وہ شخص اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ اس فہرست میں شامل ہوجاتا ہے جس کے متعلق فرمایا کلا بل ران علی قلوبھم بما کانو یکسبون ان کے اعمال کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ جاتا ہے اور دل تاریک ہوجاتے ہیں اسی لیے فرمایا کہ جو کوئی برائی پر اصرار کرتا ہے کفر ، شرک اور بدعات میں مبتلا ہوتا ہے اسے ہدایت نصیب نہیں ہوتی۔ گمراہ ہونے کی خام خیالی فرمایا انھم اتخذو الشیطین اولیاء من دون اللہ انہوں نے اللہ کے علاوہ شیاطین کو اپنا رفیق بنالیا وہ شیطان کے پھندے میں پھنس چکے ہیں اور اب جس قسم کا وہ وسوسہ ڈالتا ہے اسی قسم کے کام انجام دیتے ہیں حتیٰ کہ عریانی اور فحاشی کو عبادت سمجھنے لگتے ہیں اور برائی کو نیکی پر محمول کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ تعجب کی بات یہ ہے و یحسبون انھم مھتدون وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہدایت یافتہ ہیں یعنی جو کچھ کر رہے ہیں بالکل ٹھیک کر رے ہیں اہل بدعات اور غلط رسوم کے پجاری ہمیشہ یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ بہت اچھا کام انجام دے رہے ہیں سورة کہف میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے قل ھل ننبئکم بالاخسرین اعمالاً الذین ضل سعیھم فی الحیوۃ الدنیا وھم یحسبون انھم یحسنون صنعاً ، آپ کہہ دیجئے کیا ہم تمہیں نہ بتائیں کہ اعمال کے اعتبار سے زیادہ گھاٹے والے کون لوگ ہیں ؟ یہ وہ لوگ ہیں کہ جن کی دنیا کی کوشش رائیگاں گئی ، مگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ بڑا اچھا کام کر رے ہیں حالانکہ وہ سو فیصدی شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوئے ہیں شرک کرنے والے بدعات کے کام انجام دینے والے حتیٰ کہ ننگا طواف کرنے والے بھی یہی سمجھے بیٹھے ہیں کہ بڑا نیکی کا کام کر رہے ہیں قبروں پر گنبد بنانے والے ان پر چادریں چڑھانے اور عرس منانے والے حتیٰ کہ ڈھول بجانے اور قوالی کرنے ورالے بھی اسے اعلیٰ درجے کی نیکی اور کارثواب سمجھ کر کرتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ ان کاموں سے اللہ راضی ہورہا ہے یا شیطان اپنے مقصد میں کامیاب ہورہا ہے بلاشبہ جن پر گمراہی ثابت ہوچکی ہے انہوں نے شیاطین کو اپنا رفیق اور ساتھی بنا لیا ہے تمام غلط کار اپنی پالیسی اور طرز عمل کو بالکل درست عمل خیال کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی مذمت بیان فرمائی ہے۔ نماز کے وقت زینت آخر میں پھر وہی بات آئی جو حضرت آدم (علیہ السلام) کے تذکرے میں شروع ہوئی تھی یبنی آدم خذوا زینتکم عند کل مسجد اے اولاد آدم ! ہر نماز کے وقت اپنی زینت اختیار کرو جیسا کہ پہلے عرض کیا مسجد سے اگر مطلق مسجد مراد ہو تو مطلب نماز کی حاضری ہے اور اگر مسجد سے سجدہ مراد لیا جائے تو مطلب مکمل نماز ہے اس کو طواف پر بھی محمول کرسکتے ہیں کیونکہ الطواف حول البیت مثل الصلوٰۃ الا انکم تتکلمون فیہا بیت اللہ شریف کا طواف بھی نماز کی مانند ہی ہے سوائے اس کے کہ نماز میں کلام نہیں کیا جاسکتا جبکہ طواف میں یہ مباح ہے اس سے بھی واضح ہوتا ہے کہ جب نماز برہنگی کی حالت میں نہیں ہوسکتی اور اس کے لیے ستر عورت ضروری ہے تو طواف ایسی حالت میں کیسے ہوسکتا ہے جبکہ وہ بھی نماز کی مثل ہی ہے مرد کے لیے ستر عورت ناف سے لے کر گھنٹوں تک ہے اور گھنٹے اس کے اندر ہیں یہ فرض عین ہے بلکہ امام احمد (رح) تو فرماتے ہیں کہ نماز کے لیے کندھوں پر کپڑا ہونا بھی فرض ہے تاہم باقی آئمہ اسے فرائض میں شامل نہیں کرتے جہاں تک عورت کا تعلق ہے اس کے لیے چہرے ، کلائی تک ہاتھوں اور ٹخنوں تک پائوں کے علاوہ سارا جسم ستر ہے حتیٰ کہ سرکے بال بھی پردہ میں داخل ہیں اگر بال کھلے ہیں تو بھی نماز نہیں ہوگی تو فرمایا نماز کے وقت زینت پکڑ اور زینت لباس سے ہوتی ہے اس کے متعلق کل عرض کیا تھا کہ لباس فرض بھی ہے سنت بھی مباح بھی اور حرام بھی جس کی تفصیلات بیان ہوچکی ہیں۔ عورت کے لیے پردہ کا حکم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد مبارک ہے کہ جب عورت بالغ ہوجائے تو اس کے چہرے اور ہاتھوں کے سوائے کوئی حصہ جسم نظر نہیں آنا چاہیے امام مالک (رح) ہاتھ کو بھی پردے میں شمار کرتے ہیں لیکن امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک تین اعضا مستثنا ہیں یعنی پائوں ہاتھ اور چہرہ ، اگر ان کے علاوہ عورت کے جسم کا کوئی حصہ کھلا ہوگا تو نماز نہیں ہوگی فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ چہرہ اگرچہ ستر میں داخل نہیں لیکن احتیاط اسی میں ہے کہ جوان عورت گھر سے باہر جاتے وقت چہرے پر نقاب ڈال لے کیونکہ حسن و خوبی کا اظہار چہرے ہی سے ہوتا ہے اور اکثر فتنے چہرہ کھلنے سے ہی پیدا ہوتے ہیں لہٰذا بغیر ضرورت ان اعضا کو نہیں کھولنا چاہیے شامی میں یہی لکھا ہے البتہ بعض اوقات مجبوری کی حالت میں پردے کے بعض اعضا کو کھولنا مباح ہوجاتا ہے مثلاً کہیں شناخت کرانا مقصود ہو یا کہیں شہادت دینا ہو یا بیماری کی صورت میں ماہر معالج کو کوئی حصہ جسم دکھانا ضروری ہوجائے وغیرہ وغیرہ افسوس کا مقام ہے کہ انگریزی تہذیب نے عورت کو بالکل بےپردہ کردیا ہے اللہ کا فرمان ہے ولا یبدین زینتھن الا ماظہر منھا ولیضرین بخمرھن علی جیوبھن (سورۃ نور) عورتیں اپنی زیب وزینت کا اظہار نہ کریں اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیاں اوڑھے رکھیں اس کے برخلاف اگر عورتیں چہرے کی زیب وزینت کے ساتھ بلاپردہ باہر نکلیں گی تو اس سے فتنے ہی پیدا ہوں گے۔ اسراف کی ممانعت فرمایا ہر نماز کے وقت زینت اختیار کرو وکلوا وشرابوا کھائو پیو ، ولا تسرفوا مگر فضول خرچی نہ کرو کھانا پینا عام حالات میں مباح ہے مگر بعض حالات میں فرض ہوجاتا ہے مثلاً اگر کوئی شخص بھوک کی وجہ سے جان بلب ہے مگر کھانا نہیں کھاتا تو وہ مردار کی موت مرے گا ایسی حالت میں اس کے لیے کھانا فرض ہوجاتا ہے لیکن اسراف یہ ہے کہ کوئی شخص حلال مال کو حرام کے کاموں میں خرچ کرے یا ضرورت سے زیادہ خرچ کرے باطل رسومات کے تمام اخراجات اسراف میں شامل ہیں اور قابل مواخذہ ہیں لوگ مکان بنانے پر اسراف کرتے ہیں ضرورت سے زیادہ بڑا مکان یا اس پر غیر ضروری نقش و نگار فضول خرچی میں شامل ہے خوراک کے معاملے میں بھی اکثر اسراف ہوتا ہے شادی بیاہ اور مرنے کی تقریبات پر ترتکلف اور وافر مقدار کے کھانے بلاشبہ اسراف میں داخل ہیں امراء کی دیکھا دیکھی غربا بھی اس دوڑ میں شامل ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر مقروض ہوجاتے ہیں یہ دوسری قباحت ہے جہیز کی ادائیگی میں ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرنے کی کوشش اور پھر زیورات کی دوڑ سب اسراف کے مختلف نمونے ہیں اللہ نے اسراف و تبذیر کے مرتکبین کو شیطان کے بھائی کہا ہے فرمایا انہ یحب المسرفین اللہ تعالیٰ فضول خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنتے ہیں نھی عن اضاعۃ المال مال کو بلاوجہ ضائع کرنے سے منع کیا گیا ہے جس طرح حرام کمائی میں برکت نہیں ہوتی اسی طرح حرام خرچ بےبرکت ہوتا ہے ہمیشہ اعتدال کی راہ اختیار کرنی چاہیے۔
Ayahs 7:32–34

قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَجَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِ١ؕ قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِ١ؕ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 7:32 in the Quran reader

اے پیغمبر ! کہہ دیجیے ، کس نے حرام قرار دیا ہے اللہ کی زینت کو جو اس نے نکالی ہے اپنے بندوں کے لئے اور پاکیزہ چیزیں رزق سے۔ آپ کہ دیجیے یہ چیزیں ان لوگوں کے لئے ہیں جو ایمان لائے دنیا کی زندگی میں اور یہ خالص ہوں گی ان کے لئے قیامت کے دن ، اسی طرح ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں آیتیں ان لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں

قُلْ اِنَّمَا حَرَّمَ رَبِّیَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ وَ الْاِثْمَ وَ الْبَغْیَ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ اَنْ تُشْرِكُوْا بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ سُلْطٰنًا وَّ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ Open ayah 7:33 in the Quran reader

اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجیے ! بیشک حرام قرار دیا ہے میرے پروردگار نے بےحیائی کی باتوں کو جو ظاہر ہوں ان میں سے یا پوشیدہ اور گناہ اور ناحق سرکشی (کو حرام قرار دیا ہے) اور یہ کہ تم شریک بنائو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسی چیزوں کو جن کے بارے میں اس نے کوئی دلیل نہیں اتاری اور یہ کہ تم کہو اللہ پر وہ بات جو تم نہیں جانتے

وَ لِكُلِّ اُمَّةٍ اَجَلٌ١ۚ فَاِذَا جَآءَ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ سَاعَةً وَّ لَا یَسْتَقْدِمُوْنَ Open ayah 7:34 in the Quran reader

اور ہر ایک امت کیلئے ایک وقت مقرر ہے۔ جب آجائے گا ان کا وعدہ تو نہیں پیچھے ہٹیں گے ، اس سے ایک گھڑی اور نہ آگے ہوں گے۔

ربط آیات گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے نماز کے وقت زینت اختیار کرنے کا حکم دیا تھا اس ضمن میں ستر پوشی کو اولیت حاصل ہے سترپوشی انسان کے لیے ہر وقت ضروری ہے مگر نماز کے لیے تو اس کا خاص طور پ اہتمام ہونا چاہیے اس کے برخلاف برہنہ طواف کرنے والوں کی مذمت بیان کی گئی اور واضح کیا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسا کوئی حکم نہیں دیا بلکہ یہ بات شیطان نے مشرکین کے ذہنوں میں ڈال رکھی ہے کہ جس لباس میں ہم روزمرہ کے کام انجام دیتے ہیں اور گناہوں کا ارتکاب بھی کرتے ہیں وہ لباس اللہ کے پاک گھر کے طواف کے لیے مناسب نہیں چناچہ اس کے لیے وہ مکہ کے پیرزادوں سے عاریتاً حاصل کرتے تھے یا پھر برہنہ طواف کو ترجیح دیتے تھے اللہ تعالیٰ نے اسے بےحیائی قرار دے کر اس سے منع فرمایا اور پردہ پوشی کا حکم دیا یہ مرد کے لیے ناف سے لے کر گھٹنوں تک کا حصہ جسم پردہ میں شامل ہے اور اس کا ڈھانپنا فرض عین ہے البتہ عورت کے لیے اس کا سارا جسم پردہ ہے سوائے ہاتھوں اور چہرے کے عورت کے لیے ہر وقت باپردہ رہنا ضروری ہے اور نماز کے لیے اس کا خاص اہتمام ہونا چاہیے اللہ تعالیٰ نے بےحیائی کے کاموں سے منع فرمایا اور کھانے پینے کی اجازت دی اور اسراف سے روکا۔ حلت و حرمت کی بنیاد اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے حلت و حرمت کا مسئلہ بیان فرمایا ہے اور واضح کردیا ہے کہ حلال یا حرام وہ چیز نہیں جو تمہارے ذہن کی اختراع ہو بلکہ کسی چیز پر حلت و حرمت کا حکم لگانا اللہ تعالیٰ کی ذات کا کا م ہے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے دین کے کچھ بگڑے ہوئے لوگ تو ترک دنیا اختیار کرلیتے تھے کچھ عبادت بھی کرتے تھے مگر مشرک ہی ہوتے تھے وہ متخنث کہلاتے تھے احبار اور رہبان قسم کے یہ لوگ اپنی مرضی سے بعض حلال اور جائز چیزوں کو بھی ناجائز قرار دے دیتے تھے وہ نہ تو اچھے لباس کو جائز قرار دیتے تھے اور نہ اچھی خوراک کو بلکہ انہوں نے یہ چیزیں ازخود اپنے آپ پر حرام کررکھی تھیں اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا ہے اور اچھے لباس اور اچھی خوراک کو حسب توفیق جائز قرار دیا ہے جب تک کہ ان میں حرام کی ملاوٹ نہ ہو ، چناچہ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے البسوا ماشئتم جو لباس تمہارا جی چاہے پہنو جس میں تکبر اور اسراف نہ ہو ، حرام لباس کی بھی اجازت نہیں ، نفیس اور قیمتی لباس بھی اگر حلال ذرائع سے میسر ہو تو پہن سکتا ہے حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضور ﷺ نے ایک جوڑا خریدا تھا جس کی قیمت ستائیس اونٹیاں تھی اسی طرح یہ بھی آتا ہے کہ دومتہ الخبدل کے حاکم اکیدر نے آپ کی خدمت میں ایک جوڑا بھیجا تھا جس قیمت 35 اونٹ کے برابر تھی آپ نے یہ لباس بھی زیب تن فرمایا تاہم عام طور پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی عادت مبارک تھی کہ سادہ لباس پہنتے تھے آپ نے عمدہ لباس پہننے کے لیے کبھی تکلف نہیں فرمایا۔ تکبر کی تعریف حدیث شریف میں یہ بھی آتا ہے کہ جب آپ نے تکبر کی مذمت بیان فرمائی تو لوگوں نے دریافت کیا حضور ! ان یکون لہ توباً حسانا ونعلہ حسناً ومرکبہ حسناً یعنی اگر کسی شخص کا لباس اچھا ہو جوتا اچھا ہو اور سواری اچھی ہو تو یہ کیا تکبر کی علامت ہے ؟ فرمایا نہیں بلکہ یہ تو جمال کی نشانی ہے اللہ جمیل ویحء الجمال اللہ تعالیٰ خود جمیل ہے اور وہ جمال کو پسند کرتا ہے ولکن الکبر غمط الناس وبطرالحق بلکہ تکبر یہ ہے کہ لوگوں کو حقیر سمجھا جائے اور حق بات کو ٹھکرا دیا جائے کس یدوسرے کو مال میں کمی کی وجہ سے حقیر جانے یا خاندانی کمتری خیال کرے یہ تکبر کی نشانی ہے اسی طرح کوئی شخص اپنے آپ کو علم میں اعلیٰ اور دوسرے کو حقیر سمجھے تو یہ بھی تکبر ہے کوئی شخص اچھے مکان اور اچھی سواری کی وجہ سے تکبر کرے اور دوسرے کو حقیر جانے تو وہ بھی اسی صف میں شامل ہوگا اور تکبر ایسی چیز ہے جسے اللہ تعالیٰ نے قطعی حرام قرار دیا ہے۔ مباح اور ناجائز زینت چونکہ متخنثین نے اچھے لباس اور اچھی خوراک کو ازخود حرام قرار دے رکھا تھا اس لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجیے من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ کس نے حرام قرار دیا ہے اللہ کی زینت کو جو اس نے اپنے بندوں کے لیے نکالی ہے زینت کی اولین چیز انسان کا لباس ہوتا ہے نہانا دھونا ، میل کچیل صاف کرنا ، دھلا ہوا ستھرا لباس پہننا ، خوشبو لگانا ، تیل استعمال کرنا ، سرمہ لگانا ، عورتوں کو مہندی لگانا یہ سب زینت کی چیزیں ہیں اور بالکل جائز ہیں ان کو حرام قرار دینے والا کون ہے ؟ یہ تو پسندیدہ چیزیں ہیں البتہ اگر تکلیف اٹھا کر اپنی وسعت سے زیادہ زیب وزینت کا اہتمام کیا جائے تو وہ درست نہیں اسی طرح عورتیں اپنے بال لمبے ظاہر کرنے کے لیے دوسری عورتوں کے بال استعمال کریں تو یہ ممنوع امر ہے دانت صاف کرنے کے لیے مسواک یا کوئی دوسری چیز استعمال کرنا درست ہے مگر غیر موزوں قدرتی دانتوں کو ربگڑوا کر درست کرنا یا ان کی جگہ خوبصورت دانت لگوانا یا دانتوں پر سونے چاندی کا خول چڑھانا بناوٹی زینت میں شمار ہوتا ہے اور قبیح فعل ہے عام حالات میں اگر دانت ضائع ہوجائیں تو ان کی جگہ نئے دانت لگوائے جاسکتے ہیں مگر محض رینت کی خاطر دانتوں کے درمیان فاصلہ قائم کرنا ، گھنے ابرئوں کو کشادہ کرنا جسم کے کسی حصے پر داغ کے ذریعے پھول بوٹے بنوانا درست نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے جائز طریقے سے زیب وزینت اختیار کرنے کی اجازت دی ہے۔ پاکیزہ رزق اللہ نے فرمایا واطیبت من الرزق روزی میں سے پاکیزہ چیزیں کس نے حرام قرار دی ہیں ؟ حلال ، لذیذ ، عمدہ اور ستھرا کھانا ہو تو اس کو کون حرام کہے گا اللہ تعالیٰ نے تو ایسی روزی کو حلال قرار دیا ہے مگر اس میں بھی تکلف نہیں کرنا چاہیے اپنی حیثیت کے مطابق کھانا کھانا چاہیے البتہ حرام اور مشتبہ چیز کو کھانے کی اجازت نہیں مگر راہب لوگوں نے تو جائز روزی کو حرام کررکھا ہے جو کسی طرح بھی مناسب نہیں البتہ بعض آدمی مصلحت کی خاطر اچھے لباس اور اچھے کھانے سے پرہیز کرتے ہیں وہ جائز ہے مثلاً حضرت عمر فاروق ؓ عمدہ لباس محض اس لیے نہیں پہنتے تھے کہ ان کی دیکھا دیکھی ان کے عمال اسے فیشن کے طور پر نہ اختیار کرلیں آپ پیوند زدہ کپڑے پہنتے تھے معمولی کھانا کھاتے تھے تاکہ لوگ ان کی پیروی کریں اور تکلیف میں نہ پڑیں اگر آپ کے کسی حاکم نے اعلیٰ لباس پہنا تو آپ نے ڈانٹ پلائی کہ تمہیں دیکھ کر باقی لوگ بھی ایک دوسرے سے سبقت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے اور پھر یہ تکلیف کا باعث ہوگا ملوکیت میں یہی تو لعنت ہوتی ہے کہ ان کے پیش نظر عیاشی ہوتی ہے اور پھر عام لوگ بھی انہی کے نقش قدم پر چلتے ہیں کیونکہ مشہور مقولہ ہے الناس علیٰ دین ملوکھم یعنی لوگ اپنے ملوک کے طریقے پر ہی چلتے ہیں۔ بعض بزرگان دین کے پیش نظر بھی یہی مصلحت رہی کہ کہیں لوگ تعیش میں نہ پڑجائیں لہٰذا انہوں نے سادہ خوراک اور معمولی لباس استعمال کیا مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ عمدہ ضروریات زندگی ناجائز ہیں بہت سے متقدین خوش پوشی کی مثال بھی پیش کرتے ہیں امام حسین ؓ نے شہادت کے وقت پشم کا لباس پہنا ہوا تھا امام حنیفہ (رح) نے چار سو درہم کی چادر اوڑھی ، امام محمد (رح) بھی اچھا اور عمدہ لباس پہنتے تھے امام ابوالحسن شاذلی (رح) اور مولانا شاہ شرفعلی تھانوی (رح) بھی خوش پوشی کا نمونہ تھے یہ زینت ہے اور اللہ نے اسے حلال قرار دیا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ صاحب استطاعت آدمی اگر محض اللہ کی رضا کی خاطر معمولی لباس پر اکتفا کرتا ہے تو وہ شخص بلند مرتبت ہے اللہ تعالیٰ اسے بہت زیادہ اجر دے گا بعض لوگ دوسروں کو اچھا لباس پہنا کر خوش ہوتے ہیں وہ بھی عنداللہ ماجور ہوں گے امام ابوحنیفہ (رح) کپڑے کے صنعتکار اور بہت بڑے تاجر تھے اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی وسعت عطا کی تھی آپ خود بھی اچھا پہنتے تھے اور اسلام کے راستے میں بھی دل کھول کر خرچ کرتے تھے غریب غربا ، علما اور طلبا کی خدمت کو باعث سعادت سمجھتے تھے امام حسین ؓ کے فرزند امام زین العابدین ؓ اعلیٰ کپڑا پہنتے اور کچھ دیر استعمال کے بعد کسی غریب کو دے دیتے ایک دفعہ آپ نے بڑا قیمتی کمبل خریدا اور پھر صدقہ کردیا بہرحال جائز زینت اختیار کرنا روا ہے اور اسی طرح پاکیزہ اور حلال روزی کھانے میں بھی کوئی امر مانع نہیں ہے۔ ان انعامات کے مستحقین اچھی زینت اور پاکیزہ کھانے ک استحاق کے متعلق فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں ھی للذین امنو فی الحیوۃ الدینا یہ نعمتیں دنیا کی زندگی میں اہل ایمان کے لیے ہیں وہ انہیں استعمال کرسکتے ہیں خالصۃ یوم القیمۃ اور قیامت والے دن خاص طور پر ایمان والوں کے لیے ہوں گی مقصد یہ ہے کہ اچھا لباس اور اچھی خوراک دنیا میں تو اہل ایمان کے علاوہ کافر ، مشرک ، دہریے ، ملحد اور منکرین خدا کو بھی میسر ہیں انہیں بھی استعمال کرنے کی اجازت ہے مگر قیامت کو یہ چیزیں اہل ایمان کے لیے خاص ہوں گی وہاں منکرین ان سے استفادہ نہیں کرسکیں گے بلکہ وہ تو عذاب میں مبتلا ہوں گے بعض فرماتے ہیں کہ اس حصہ آیت کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں تو یہ نعمتیں بغیر مشقت کے حاصل نہیں ہوتیں اور اگر ہوتی بھی ہیں تو دائمی نہیں ہوتیں ان ک چھن جانے کا ہر لمحہ امکان ہوتا ہے اور کچھ نہیں تو انسان کی اپنی موت تو ہر وقت سر پر سوار رہتی ہے جونہی موت کا بگل بچ گیا سب کچھ ختم ہوگیا لہٰذا دنیا میں یہ نعمتیں بالکل عارضی ہیں اس کے برخلاف آخرت کی نعمتیں دائمی ہوں گی اور بغیر کسی مشقت کے حاصل ہوں گی ان کے چھن جانے کا کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ فرمایا کذلک نفصل الایت لقوم یعلمون اسی طرح ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں آئتیں یعنی احکام ان لوگوں کے لیے جو علم اور سمجھ رکھتے ہیں صاحب عقل لوگ سمجھ جائیں گے کہ مشرکوں کا طریقہ غلط ہے اللہ کی حلال کردہ اشیا حلال اور قابل استعمال ہیں تاہم اس نے ساتھ یہ پابندی لگا رکھی ہے کہ اس کی نعمتوں کو استعمال کرکے ان کا شکریہ بھی ادا کرو۔ حرام اشیاء آگے اللہ تعالیٰ نے بعض حرام چیزوں کی تفصیل بیان فرمائی ہے ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں انما حرم ربی الفواحش بیشک حرام قرار دیا ہے میرے رب نے بےحیائی کو اور اس میں زنا ، لواطت ، عریانی ، نیم عریانی ، گالی گلوچ ، بخل ، بداخلاقی ، فحش گانے اور ناول وغیرہ سب شامل ہیں ان چیزوں سے انسان کا اخلاق برباد ہوتا ہے فرمایا ہر فحش بات حرام ہے ماظھرمنھا وما بطن خواہ وہ ظاہر ہو یا پوشیدہ ہو انگریز کے قانون میں تو برائی وہ ہے جسے سرعام کیا جائے اور اندرون خانہ انجام دی گئی برائی پر کوئی مواخذہ نہیں ہوتا مگر اسلام میں ہر ظاہر اور پوشیدہ برائی بہرحال برائی اور قابل مواخذہ ہے اللہ نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ فحاشی کے علاوہ والا ثم گناہ کی ہر بات بھی حرام ہے چوری ، جوا ، شراب نوشی ترک فرائض وغیرہ سب گناہ میں شامل اور حرام ہیں فرمایا والبغی بغیرالحق اور ناحق سرکشی بھی حرام ہے کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی کرنا کسی کا ناحق مال کھانا ، کسی کا حق غصب کرنا ، تہمت لگانا ، یہ سب اسی مد میں آتے ہیں لہٰذا یہ بھی حرام ہیں اللہ نے فرمایا وان تشرکوا باللہ مالم ینزل بہ سلطناً اور یہ کہ تم اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسی چیزوں کو شریک ٹھہرائو جن کے بارے میں اس نے کوئی دلیل نازل نہیں کی شرک بھی قطعی حرام اور اکبر الکبائر میں شامل ہے مشرکین بہت سی باتوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف ناحق منسوب کرتے تھے جیسا کہ گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ وہ برہنہ طواف کو اللہ کی طرف منسوب کرتے تھے یا جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے وہ بعض جانوروں کو ازخود حرام قرار دے کر اس کی نسبت اللہ کی طرف کردیتے تھے کہ اللہ نے ایسا ہی حکم دیا ہے فرمایا وان تقولوا علی اللہ مالا تعلمون یہ بھی حرام ہے کہ تم اللہ تعالیٰ پر وہ بات کہو جو تم نہیں جانتے مثلاً خدا کے لیے بیوی اور اولاد کا ثابت کرنا یا ایسی چیزوں کی حلت و حرمت اللہ کی طرف منسوب کرنا جو فی الحقیقت اس نے نہ کی ہو بعض رسومات باطلہ کو اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں حالانکہ اللہ نے ان کا حکم نہیں دیا ہوتا سب چیزیں حرام ہیں۔ گناہوں کے اثرات مفسرین کر امفرماتے ہیں کہ مختلف گناہوں کے اثرات اپنی نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں مثلاً زنا کی وجہ سے نسب میں خرابی پیدا ہوتی ہے اسی لیے زنا کو فحش قرار دیا گیا ہے شراب نوشی سے انسان کی عقل خراب ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے گالیاں بکتا ہے اور قتل و غارت کا مرتکب ہوجاتا ہے شراب جیسی قبیح چیز کے متعلق کہا گیا ہے الخمر جماع الاثم شراب تمام گناہوں کی جامع ہے عربی میں شراب کو مجسم گناہ بھی کہا جاتا ہے جیسے ؎ شربت الاثم حتی ضل عقلی کذک الاثم یھذب بالعقول میں نے شراب نوشی کی حتیٰ کہ میری عقل جاتی رہی یہ شراب عقل کو اسی طرح گم کردیتی ہے شراب کے علاوہ بھنگ ، چرس ، ہیروئن وغیرہ تمام نشہ آور چیزیں ہیں جو دماغ میں فتور پیدا کرتی ہیں۔ سرکشی جیسے قبیح گناہ کی وجہ سے انسان کی عزت و آبرو خراب ہوجاتی ہے جب کوئی شخص کسی کے ساتھ ظلم و زیادتی کرتا ہے کسی کا مال چھینتا ہے کسی کو قتل کرتا ہے گالی نکالتا ہے تو یہ چیزیں اسے بےآبرو کرکے رکھ دیتی ہیں شرک کا ارتکاب کرنے سے انسان کی روح ناپاک ہوجاتی ہے انما المشرکون نجس بیشک شرک کرنے والے ناپاک ہیں وہ اگرچہ بظاہر صاف ستھرے ہوں مگر ان کی روحیں ناپاک ہوتی ہیں اسی طرح غیر اللہ کی نیاز کھانے والوں کا باطن پلید ہوجاتا ہے یہ مختلف قسم کے گناہ ہیں اور حرام ہیں ان سے بچنا چاہیے البتہ اچھا لباس پہنو ، پاک کھانا کھائو ، خدا تعالیٰ کی عبادت کرو اس کا شکریہ ادا کرو۔ مقررہ وقت فرمایا ولکل امۃ اجل ہر امت کے لیے ایک وقت مقرر ہے جس طرح ایک فرد اپنی زندگی کے ایام پورے کرکے رخصت ہوجاتا ہے اسی طرح ہر قوم اور گروہ بھی اپنے وقت پر ختم ہوجاتا ہے فرد کی نسبت قوموں کی عمریں بہت لمبی ہوتی ہیں بعض قومیں دنیا میں ہزاروں سال تک بڑی دھوم دھام سے برسر عروج رہتی ہیں پھر جب ان میں اسباب حیات کمزور پڑجاتے ہیں تو وہ مغلوب ہوجاتی ہیں یا دنیا سے بالکل مٹ جاتی ہیں مسلمان دنیا میں صدیوں تک چھائے رہے مگر اب الخطاط پذیر ہیں ان میں وہ اخلاق باقی نہیں رہا جس سے قومیں زندہ رہتی ہیں اب ان کی حالت مردہ قوم کی سی ہے دنیا میں کہیں بھی وقار حاصل نہیں دنیا میں اس وق مسلمانوں کی پچاس ریاستیں ہیں مگر فرداً فرداً سب دوسروں کی دست نگر ہیں اس انحطاط کے باوجود مسلمانوں میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کا شعور موجود ہے مگر اس کے لیے جس محنت وسعی کی ضروت ہوے وہ منقود ہے اگر مسلمان اجتماعی طور پر کوشش کریں تو نشاۃ ثانیہ میں عزت و وقار حاصل کرسکتے ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں قوموں کے عروج وزوال کا خوب حال بیان کیا ہے قوموں کی خوبیاں اور خامیاں بھی بیان کی ہیں اور زوال کے اسباب کی نشاندہی بھی کی ہے آپس کی فرقہ بندی ، لڑائی بھڑائی ، جہالت وغیرہ ایسے اسباب ہیں جن کی وجہ سے قومیں اپنا مقام کھو بیٹھی ہیں اور جب ایک دفعہ گر جاتی ہیں تو پھر صدیوں تک اٹھنا محال ہوجاتا ہے۔ فرمایا ہر امت کے ایک وعدے کا وقت ہے فاذا جاء اجلھم پھر جب ان کے وعدے کا وقت آجاتا ہے لایستاخرون ساعۃ ولا یستقدمون تو نہ پیچھے ہٹتے ہیں اور نہ آگے ہوتے ہیں بلکہ عین وقت پر ان کا خاتمہ ہوجاتا ہے مقصد یہ کہ جب کسی قوم کی اجتماعی زندگی کا وقت پورا ہوجاتا ہے تو پھر اسے مزید مہلت نہیں دی جاتی اور وہ ختم ہوجاتی ہے وقت سے پہلے واقع ہونے کی بات بابطع کی گئی ہے اصل بات یہی ہے کہ تاخیر نہیں ہوتی یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کسی دکاندار سے چیز کا بھائو پوچھ کر کہا جاتا ہے کہ کچھ کمی بیشی کرو اس سے مراد کمی ہی ہوتا ، بشی تو کبھی بھی مراد نہیں ہوتی اسی طرح یہاں بھی فرمایا گیا ہے کہ وقت مقررہ سے آگے پیچھے نہیں ہوتا یعنی مقررہ وقت میں تاخیر نہیں کی جاتی بلکہ عین وقت پر کام ہوجاتا ہے۔ حلال و حرام کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے قوموں کے وقت مقررہ کا ذکر اس لیے فرمایا ہے تاکہ مذکورہ حلت و حرمت کے قوانین کی پاسداری کرو تمہارے لیے یہی نجات کا راستہ ہے اور اگر اس پر کاربند نہ رہ سکے تو پھر تمہارا مقررہ وقت تو لازماً آئے گا جس پر مہلت ختم ہوجائے گی اور تمہیں پکڑ لیا جائے گا۔