Ayah 7:157ربط آیات
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اپنی امت کے حق میں دعا کی تھی ” واکتب لنا فی ھذا الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ انا ھدنا الیک “ اے مولا کریم ! لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا کی زندگی میں بھی بھلائی اور آخرت کی زندگی میں بھی ! بیشک ہم نے تیری طرف رجوع کیا ہے اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” عذابی اصیب بہ من اشائ “ یہ میرا عذاب ہے جسے میں چاہوں پہنچاتا ہوں اور میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے فرمایا میں وہ خاص رحمت ان لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جو ڈرتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور ہماری باتوں پر ایمان رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی امت کے حق میں موسیٰ (علیہ السلام) کی برتری کی دعا قبول نہ فرمائی بلکہ اس چیز کو ان لوگوں کے لیے خاص کردیا جن میں مذکورہ تین صفات پائی جائیں گی۔
اتباع بنی امی
اب اللہ تعالیٰ نے رحمت خاصہ کے مستحقین کی چوتھی صفت یہ بیان فرمائی ہے الذین یتبعون الرسول وہ لوگ جو پیروی کرتے ہیں اس رسول کی النبی الامی جو کہ نبی امی ہے فرمایا میں اپنی رحمت خاصہ ایسے ہی لوگوں کے لیے لکھ دوں گا جس کی وجہ سے انہیں اس دنیا میں بھی باقی امتوں پر فوقیت حاصل ہوگی اور آخرت میں بھی برتری حاصل ہوگی الذی اور نبی امی وہ ذات ہے یجدونہ مکتوباً عندھم فی التورۃ والا انجیل جسے وہ لکھا ہوا پاتے ہیں اپنے پاس تورات اور انجیل میں گویا اللہ تعالیٰ نے نبی آخرالزمان کے اتباع کو رحمت خاصہ کے حصول کے لیے چوتھی صفت کے طور پر بیان فرمایا اب یہ نبی امی کون ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے ان کی چھ صفات بیان کی ہیں ان میں سے دو اس درس میں مذکور ہیں اور باقی چار کا ذکر اگلے درس میں آئے گا یہ چھ صفات دراصل پوری نوع انسانی کے لیے ہدایت کا پروگرام ہے۔
نبی اور رسول
اس آیت کریمہ میں جس ذات کے اتباع کو لازم قرار دیا گیا ہے اس کے لیے نبی اور رسول دونوں الفاظ استعمال کیے گئے ہیں دونوں میں فرق یہ ہے کہ نبی وہ ہوتا ہے جس پر وحی آتی ہے اور احکام نازل ہوتے ہیں اور رسول وہ ہوتا ہے جس پر وحی تو بہرحال نازل ہوتی ہے اور اس کے ساتھ مستقل کتاب یا صحیفہ اور مستقل شریعت بھی نازل ہوتی ہے حضرت ابوذرغفاری ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ حضرت ! انبیاء (علیہم السلام) میں سب سے پہلا نبی کون ہے اور سب سے آخری کون ؟ حضور ﷺ نے فرمایا سب سے پہلے نبی حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور سب سے آخری نبی حضرت محمد ﷺ ہیں انہوں نے پھر عرض کیا حضور ! ان میں رسول کتنے ہیں ؟ تو آپ نے فرمایا تین سو پندرہ رسول ہیں اور باقی کم و بش ایک لاکھ چوبیس ہزار کے قریب جملہ نبی ہیں محقق دوانی نے نبی کی تعریف یہ لکھی ہے ھو انسان بعثہ اللہ تلبلیغ ما اوحی اللہ الیہ کہ نبی انسان ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اس پر کی گئی وحی کے احکام آگے پہنچانے پر مامور کرتا ہے اور رسول صاحب رسالت ، خدا کا پیغام پہنچانے والا تو الرسول سے مرا دعظیم الشان رسول ہے جیسا کہ پہلی سورتوں میں گزر چکا ہے ثم جاء کم رسول مصدیق لما معکم لتومنن بہ ولتصرنہ (ال عمران) پھر جب تمہارے پاس وہ رسول آگیا جو تصدیق کرنے والا ہوگا اس چیز کی جو تمہارے پاس ہے تو تم اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء سے یہ عہد لیا جس کا سب نے اقرار کیا کہ ہاں اگر ہم نے اس رسول کو اپنے زمانے میں پایا تو اس پر ایمان بھی لائیں گے اور اس کی مدد بھی کریں گے بہرحال یہاں پر جس رسول کے اتباع کو رحمت خاصہ کے لیے شرط قرار دیا جارہا ہے وہ یہی عظیم الشان رسول ہیں۔
لفظ امی کا مفہوم
آپ کی ایک صفت یہ ہے کہ آپ الامی ہیں اس لفظ کے متعدد معانی ہوسکتے ہیں عربی زبان میں ام ماں کو کہتے ہیں جو کسی چیز کا اصل ہوتی ہے اور اس سے کوئی دوسری چیز نکلتی ہے جب کوئی بچہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے تو اس وقت بالکل ناخواندہ ہوتا ہے پڑھنے لکھنے کا موقع کہیں بعد میں جاکر ملتا ہے اس لحاظ سے نوزائیدہ بچے کو امی کہہ سکتے ہیں جس نے ابھی تک کسی سے پڑھنا لکھنا نہیں سیکھا ہوتا چونکہ حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی کسی شخص سے پڑھنا لکھنا نہیں سیکھا اس لیے آپ کا لقب امی ہے پوری عرب قوم کا لقب بھی امی ہے اور خود حضور ﷺ کی قوم کو امیین کہا گیا ہے۔ ” ھوالذی بعث فی الامین رسولاً منھم “ (الجمعۃ) وہ وہی ذات ہے جس نے امیوں میں انہی میں سے عظیم الشان رسول مبعوث فرمایا شعیب (علیہ السلام) کے صحیفے میں بھی موجود ہے انی البعث امیا فی الامیین اللہ نے فرمایا کہ میں امیوں میں ایک امی رسول بھیجوں گا اسی طرح کی پیشین گوئیاں تورات ، انجیل اور دیگر کتب میں بھی موجود تھیں حتیٰ کہ آج کی محرف شیدہ ایبل تورات اور انجیل میں بھی نبی امی کے متعلق پیشین گوئیاں موجود ہیں حضور خاتم النبیین کا امی لقب اس لحاظ سے بھی ہے کہ آپ نے اپنی امت کے متعلق فرمایا انا امۃ امیۃ لانکتب ولا نحسب یعنی ہم تو امی امت ہیں ہم نہ تو لکھنا جانتے ہیں اور نہ حساب کرنا ، چناچہ دوہزار سال تک عربوں میں دفتر کاروبار بالک نہیں ملتا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانہ مبارک سے پہلے عربوں کی شرح خواندگی تین چار فیصد سے زیادہ نہ تھی البتہ عربوں کے علاوہ باقی اقوام نوشت و خواند سے واقف تھیں وہ دفتری کاروبار سے بھی واقف تھے ایرانی ، رومی ، مصری ، اطالوی اور یورپی اقوام لکھنا پڑھنا جانتے تھے یہود و نصاریٰ بھی اہل کتاب کہلاتے تھے اور پڑھے لکھے شمار ہوتے تھے صرف عرب ایسے تھے جو لکھنے پڑھنے سے عاری تھے ان کا تمام کاروبار زبانی یاداشت پر ہوتا ہے ان لوگوں کا حافظہ بڑا زبردست تھا شعرا کا سارا کلام لوگوں کو ازبر ہوتا تھا اللہ تعالیٰ نے نوشت و خواندگی کی کسر حافظے میں پوری کردی تھی ان کی یاد داشت کا یہ عالم تھا کہ جب چاہو سن لو کہ فلاں شاعر نے فلاں مقام پر قصیدہ پڑھا تھا انہیں اس حد تک یاد ہوتا تھا کہ ہم فلاں پانی پر جانور چرا رہے تھے وہاں فلاں شاعر آیا اور اس نے یہ کلام سنایا۔
زبان کی حفاظت
نزول قرآن کے زمانے میں دیہات کے رہنے والے بدو اپنی زبان کی بڑی حفاظت کرتے تھے اور وہ زبان کے معاملہ میں معیار سمجھے جاتے تھے اسی لیے لوگ اپنے بچوں کو ابتدائی عمر میں دیہات میں بھیج دیتے تھے ایک تو باہر کھلی آب و ہوا شہروں کی نسبت اچھی سمجھی جاتی تھی اور دوسرا یہ کہ دیہات میں رہ کر بچوں کی زبان ٹھیک تربیت پاتی تھی شہری ماحول میں دوسرے ممالک سے بھی لوگ آتے جاتے تھے جس کی وجہ سے وہاں کی زبان دوسری زبانوں سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتی البتہ دیہات کی زبان اس خلط ملط سے محفوظ رہتی تھی لہٰذا دیہاتی زبان ہی خالص اور بہتر سمجھتی جاتی تھی خود حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ابتدائی چار سال دیار بنی بکر میں گزارے اور آپ کی ابتدائی پرورش دیہاتی ماحول میں ہوئی غرضیکہ نبی امی کا معنی یہ ہے جو ناخواندہ تھے اور جنہوں نے پڑھنا لکھنا نہیں سیکھا البتہ عطائے نبوت کے بعد آپ نے معجزے کے طور پر خاص اوقات میں لکھا بھی اور پڑھا بھی ورنہ آپ نے عالم حالات میں کسی معلم سے لکھنے پڑھنے کا درس نہیں لیا کسی شاعر نے کہا ہے ؎
نگار من بہ متکب نہ رفت و خط نو نوشت
بحیر تم کہ بغمزہ آموخت و صدر مدرس شد
یعنی میرا نگار (معشوق) عجیب ہستی ہے کہ نہ وہ کسی مدرسے میں گیا اور نہ نوشت و خواند کا درس لیا مگر عجیب بات ہے کہ وہ اشارے سے سب کچھ سیکھ کر صدر مدرس بن گیا یہ بات حضور ﷺ پر بھی صادق آتی ہے آپ کا منبع علم و حی الٰہی ہے اور وحی کا معنی مخفی اشارہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آپ کو سب کچھ سکھایا چناچہ اس لحاظ سے بھی آپ کا امی لقب درست ہے اور جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے قرآن پاک نے پوری عرب قوم کو امی کا لقب عطا کیا ہے۔
حضور ﷺ کا امی لقب
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا امی لقب اس لحاظ سے بھی درست ہے کہ آپ ام القریٰ کے رہنے والے ہیں اور آپ کے فرائض منصبی میں داخل ہے لتنذر ام القریٰ ومن حولھا کہ آپ ام القریٰ اور اس کے اردگر والوں کو ڈرائیں سورة انعام ہی میں ہے کہ آپ کہہ دیں کہ یہ قرآن پاک میری طرف اس لیے وحی کیا گیا ہے لانذرکم بہ ومن بلغ تاکہ میں اس کے ذریعے تمہیں بھی اور ان سب کو ڈرائوں جن تک یہ کتاب پہنچے حضور ﷺ کا مولد مکہ مکرمہ ہے جسے ام القریٰ بھی کہا گیا ہے لہٰذا آپ کے امی لقب کی یہ بھی ایک وجہ ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا قیامت والے دن سارے نبیوں کو نور کے منبروں پر بٹھایا جائے گا اور ایک منبر سب سے بلند اور سب سے زیادہ نورانی ہوگا پھر اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا تمام نبیوں میں امی نبی کون ہیں اس پر تمام انبیاء کہیں گے ہم امی نبی ہیں کیونکہ ہم سب کی اپنی اپنی امت تھی جس طرح مکہ اور مدینہ کی طرف نسبت کرکے کسی کو ملکی یا مدنی کہا جاتا ہے اسی طرح تمام انبیاء اپنی اپنی امت کی نسبت سے اپنے آپ کو بطور امی پیش کریں گے اس پر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ وہ امی نبی کون ہیں جو عربی ہیں اور جو احمد ہیں حضور ﷺ نے فرمایا کہ پھر میں اپنے آپ کو پیش کروں گا تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ آپ جنت کا دروازہ کھٹکھٹائیں میں دروازہ کھٹکھٹائوں گا اور وہ کھولا جائے گا حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اس طرح اللہ تعالیٰ سب سے پہلے مجھ پر تجلی فرمائے گا میں اس تجلی کو دیکھ کر سجدہ ریز ہوجائوں گا اور جب تک خدا کو منظور ہوا سجدہ میں پڑا رہوں گا پھر حکم ہوگا آپ سر اٹھائیں اور سوال کریں آپ کی بات مان یجائے گی آپ سفارش کریں آپ کی سفارش قبول کی جائے گی حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ سجدے کے دوران میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریف کروں گا جو اس سے پہلے کسی نے نہ کی ہوگی بلکہ اس تعریف کے الفاظ آج بھی معلوم نہیں اللہ تعالیٰ اسی وقت الفا کرے گا اور میں ادا کروں گا بہرحال اس حدیث میں بھی نبی امی ہے مراد امت والا نبی ہے پھر یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن حضور ﷺ کی امت تعداد میں تمام امتوں سے زیادہ ہوگی تو بایں معنی بھی آپ امی نبی ہیں کہ آپ عظیم الشان است کے نبی ہیں بہرحال امی کے یہ تین معانی ہوسکتے ہیں ایک ناخواندہ ، دوسرے ام القریٰ کے رہنے والے اور تیسرے امت کی نسبت سے امی ، تاہم زیادہ مشہور معنی ایہی ہے کہ آپ ناخواندہ تھے آپ نے نوشت و خواند کسی سے نہیں سیکھا تھا۔
سابقہ کتب کی شہادت
فرمایا کہ وہ نبی امی جس کو اہل کتاب تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں گویا اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ آپ کا یہ لقب سابقہ کتب سماویہ میں بھی موجود تھا جسے یہود و نصاریٰ نے تبدیل کردیا حضور ﷺ کے متعلق تورات اور انجیل میں یہ پیشین گوئی پچھلی صدی تک موجود تھی کہ وہ فاران کی چوٹیوں سے دس ہزار قدسیوں کی جماعت کے ساتھ جلوہ گر ہوگا اس کے دائیں ہاتھ میں آتشیں شریعت ہوگی اور وہ دنیا کی اقوام سے محبت کرنے والا ہوگا دنیا کی یہ اقوام اس کے قدموں میں اکٹھی کی جائیں گی۔
جب یہود و نصاریٰ کو پتہ چلا کہ نبی آخر الزمان دس ہزار صحابہ کی جماعت کے ساتھ فتح مکہ کے دن مکہ معظمہ میں داخل ہوئے تھے تو سمجھ گئے کہ اس سے تو آپ کی نبوت و رسالت کی تصدیق ہوئی ہے مگر وہ انکار کرچکے تھے لہٰذا انہوں نے دس ہزار کے الفاظ کے الفاظ تبدیل کرکے ان کی جگہ لاکھوں قدسیوں کے الفاظ لکھ دیے اور اس طرح کتاب الٰہی میں تحریف کے مرتکب ہوئے اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق فرمایا ہے یحرفون الکم عن مواضعہ (النسائ) جس عبارت سے اسلام کی صداقت ظاہر ہوتی تھی یہ ظالم اس عبارت کو ہی تبدیل کردیتے تھے علاوہ ازیں انجیل میں یہ پیشیں گوئی بھی موجود تھی کہ میرے بعد فار قلیط آئے گا یہ عبرانی اور سریانی زبان کا لفظ ہے جس کا معنی ستودہ جہان ہے عربی میں اس کا ہم معنی لفظ احمد ہے چناچہ قرآن میں یہی لفظ آیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ میں تمہاری طرف رسول بناکر بھیجا گیا ہوں میں تصدیق کرنے والا ہوں اس چیز کو جو اس سے پہلے تورات میں ہے ” ومبشراً برسول یاتی من بعدی “ اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آنے والا ہے اسمہ احمد (سورۃ صف) جس کا نام نامی احمد ہوگا فار قلیط کا لفظ پچھلی صدی تک انجیل میں موجود تھا مگر اس صدی کی شائع شدہ انجیلوں میں اس کی بجائے مددگار کا لفظ لگا دیا گیا ہے کسی نسخے میں شفیع ہے اور کسی میں مددگار۔ تحریف کی یہ بھی ایک زندہ مثال ہے اب تک ایسی ہزاروں تحریفیں ہوچکی ہیں جن کا مقصود یہ ہے کہ اسلام اور پیغمبر آخرالزمان کی حقانیت کو چھپایا جاسکے مگر اس کے باوجود تحریف شدہ نسخوں میں بھی کوئی نہ کوئی چیز ایسی نکل آتی ہے جو اسلام کی حقانیت پر واضح دلیل بن جاتی ہے یہ تو قرآن پاک اور اسلام کی صداقت اور معجزہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی نہ کسی صورت میں اسے ظاہر کردیتا ہے وگرنہ یہ معکرس ذہنیت کے لوگ ہیں اور آج تک قرآن پاک کی صداقت کے قائل نہیں ہوئے ان عنادی لوگوں نے مسیح (علیہ السلام) کو دجال کہہ کر سولی پر لٹکانے کی کوشش کی اور جب دجال ظاہر ہوگا تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اصفہان کے ستر ہزار یہودی لمبے لمبے چغے پہنے دجال کو مسیح سمجھتے ہوئے اس کے لشکر میں شریک ہوں گے اور اس کے پیچھے پیچھے چلیں گے بہرحال اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ تورات و انجیل میں نبی امی کی پیشین گوئیاں لکھی ہوئی پاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت خاصہ کے مستحقین کو چوتھی صفت یہ ہے کہ نبی امی کا اتباع کرنے والے ہوں گے۔
قریب المرگ بچے کی حق گوئی
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ایک صحابی ابوسحرعقیلی ؓ ہوئے ہیں جو دیہات کے رہنے والے تھے مگر کاروبار کے سلسلے میں شہر میں بھی آمدورفت تھی پہلی دفعہ مدینے آئے تو حضور ﷺ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی کیونکہ وہ آپ کی تعریف سن چکے تھے وہ خود بیان کرتے ہیں کہ جب میں خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو آپ حضرت ابوبکر ؓ حضرت عمر ؓ اور بعض دیگر صحابہ ؓ کے ہمراہ ایک یہودی کے گھر اس کے بیمار لڑکے کی عیادت کے لیے جا رہے تھے ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ وہ یہودی لڑکا آپ کی خدمت بجا لایا کرتا تھا بہرحال آپ وہاں تشریف لے گئے لڑکا قریب المرگ تھا اور اس کا باپ اس کے سرہانے بیٹھا تورات پڑھ رہا تھا حضور ﷺ نے اس کے باپ کو مخالب کرکے فرمایا کہ میں تجھے قسم دلا کر پوچھتا ہوں کہ تم میرے متعلق اور میری ہجرت کے متعلق تورات میں لکھا ہوا پاتے ہو یا نہیں اس کے جواب میں یہودی نے ایسی کسی پیشین گوئی کا انکار کردیا اس پر وہ قریب المرگ لڑکا بول اٹھا کر کہنے لگا یا رسول اللہ میرا باپ غلط کہتا ہے خدا کی قسم ہر تورات میں آپ کی صفت اور آپ کی ہجرت کے متعلق لکھا ہوا پاتے ہیں اور پھر اس نے کلمہ شہادت پڑھ دیا اشھد ان لا الہ اللہ واشھدان محمد رسول اللہ اس کے بعد لڑکا فوت ہوگیا حضور ﷺ نے صحابہ ؓ سے فرمایا کہ اب اس بچے کا اس کے باپ کے ساتھ کوئی تعلق نہیں اس کی لاش کو سنبھال لو اور اس کا کفن دفن کرو ، یہ مسلمان ہوچکا تھا اور اسی حالت میں فوت ہوا چناچہ صحابہ کرام ؓ نے خود اس بچے کے کفن دفن کو انتقام کیا ۔
حضور ﷺ کی صفات سابقہ کتب میں
حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ پہلی کتابوں کے عالم کعب احبار وغیرہ کا بیان موجود ہے کہ حضور کی بعض صفات جو تورات میں موجود تھیں وہ قرآن پاک میں بھی آئی ہیں مثلاً قرآن پاک میں مبشراً و نذیراً کی صفات ہیں اور یہی صفات تورات میں بھی پائی جاتی تھیں کہ آپ مبشر اور نذیر ہوں گے تورات میں آپ کی یہ صفت بھی موجود تھی کہ آپ بازاروں میں شوروشر کرنے والے نہیں ہوں گے جس طرح قرآن پاک میں ہے کہ اگر آپ فظاً غلیظ القلب (ال عمران) یعنی سخت مزاج اور تنگ دل ہوتے تو یہ لوگ آپ کے گرد جمع نہ ہوتے اسی طرح تورات میں بھی تھا لیس بفظ ولا غلیظ یعنی آپ نہ سخت مزاج ہیں اور نہ تنگ دل تورات میں آپ کے متعلق حرزاً للامین کے الفاظ بھی پائے جاتے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ آپ امیوں کی پناہ گاہ ہیں آپ کی یہ بھی صفت ہے لا یجزی السیئۃ بالسیئۃ یعنی آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے نیز یہ بھی یعفو و یصفحوا آپ درگزر فرماتے ہیں اور معاف کردیتے ہیں تورات میں مذکوران میں سے بعض صفات قرآن پاک اور بعض احادیث میں موجود ہے۔
امربالمعروف اور نہی عن المنکر
فرمایا وہ نبی امی جس کی صفات تورات اور انجیل میں موجود ہیں وہ یہ امور انجام دیتے ہیں پہلی بات یہ کہ یامرھم بالمعروف یعنی جو لوگ بنی امی کا اتباع کرتے ہیں وہ ان کو نیکی کا حکم دیتا ہے معروف اس نیکی اور اچھے کام کو کہتے ہیں جسے شریعت اور عقل سلیم دونوں اچھا سمجھیں اس میں ایمان ، توحید ، نیکی ، اخلاق حسنہ ، والدین کی خدمت اور صلہ رحمی وغیرہ شامل ہیں یہ ایسی چیزیں ہیں جو شریعت او عقل سلیم دونوں کی کسوٹی پر پورا اترتی ہیں البتہ اس معاملہ میں شریعت معیار ہے گویا معروف یا نیکی وہ ہوگی جسے شریعت معروف کہے اور عقل سلیم اس کی تائید کرے۔
فرمایا وہ نبی امی ایک تو نیکی کا حکم دیتا ہے اور دوسرا وینھہم عن المنکر اور ان کو برائی سے منع کرتا ہے برائی کی تعریف بھی ویسی ہی ہے جیسی نیکی کی یعنی برائی وہ ہے جسے شریعت اور عقل سلیم برائی کہیں کسی کام کے برا ہونے کا فیصلہ بھی شریعت کرتی ہے اور عقل سلیم اس کی تائید کرتی ہے منکرات میں کفر ، شرک ، ظلم ، زیادتی ، بدعت ، نفاق قطع رحمی ، والدین کی نافرمانی ، حق تلفی وغیرہ شامل ہیں اسی طرح چوری ، ڈاکہ ، زنا ، حرام خوری اور دیگر تمام بری باتیں منکرات کی تعریف میں آتی ہیں الغرض معروف اور منکر دو حقیقتیں ہیں جو قیامت کے دن سامنے آئیں گی اچھی باتوں کا حکم کرنا اور بری باتوں سے روکنا تمام بنی نوع انسان کے لیے اجتماعی پروگرام ہے اس پر عملدرآمد سے دنیا میں امن و سکون قائم رہ سکتا ہے حضور ﷺ کی صفات کے ضمن میں یہ پروگرام بتا دیا گیا ہے اور پھر آپ کے اتباع میں آپ کی امت کے لوگ بھی مربالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے ہیں قرآن پاک کے متعدد مقامات پر اہل ایمان کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ نیکی کا حکم کرتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں …………… یہ کام کبھی زبان سے کیا جاتا ہے کبھی ہاتھ سے کبھی قانون سے اور کبھی طاقت سے جس مقام پر جو نسی چیز کار آمد ہو اسی کو بروئے کار لایا جاتا ہے انفرادی طور پر ایک دوسرے کو زبان اور ہاتھ سے نیکی کا حکم یا برائی سے روکا جاتا ہے اگر یہ سزا انفرادی قوت سے باہر ہو تو پھر قانون کے ذریعے اچھائی کو پھیلایا جاتا ہے اور برائی کا قلع قمع کیا جاتا ہے اگر قانون پر عملدرآمد نہ ہو تو پھر اس کام کے لیے ریاست کی طاقت استعمال کی جاتی ہے بہرحال یہاں پر نبی امی کی یہ دو صفات بیان کی گئی ہیں اور باقی چار صفات اسی آیت میں آگے آرہی ہیں۔
ربط آیات
اللہ تعالیٰ کی رحمت خاصہ کا ذکر ہورہا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی امت کے لیے اس رحمت کی دعا کی تھی مگر اللہ نے فرمایا کہ اس کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جو تقویٰ اختیار کرتے ہیں زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور اللہ کی ساری باتوں پر یقین رکھتے ہیں نیز فرمایا کہ رحمت خاصہ ان لوگوں کا حق جو اس نبی و امی کا اتباع کرتے ہیں جسے وہ تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں اور پھر اس نبی کی دو صفات کا ذکر پچھلیے درس میں ہوچکا ہے کہ وہ نیکی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے اب اس درس میں نبی کی باقی چار صفات کا ذکر آرہا ہے اس عظیم المرتبت نبی کے امی ہونے کی وجہ تسمیہ میں نے کل عرض کردی تھی کہ یا تو اس وجہ سے ان کا لقب امی ہے کہ وہ ام القریٰ یعنی مکہ مکرمہ کے رہنے والے تھے یا اس وجہ سے کہ آپ عظیم المرتبت امت کے نبی ہیں اور یا اس وجہ سے کہ آپ نوزائیدہ بچے کی طرح بالکل ناخواندہ تھے آپ نے کسی معلم یا استاد سے نوشت و خواند کا درس نہیں لیا تھا۔
حلت و حرمت کا قانون
آپ آج کے درس میں نبی امی کی تیسری اور چوتھی صفت کے متعلق فرمایا ویحل لھم الطیبت وہ ان کے لیے پاک چیزوں کو حلال قرار دیتا ہے ویحرم علیھم الخبث اور ان پر خبیث یا ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے اللہ تعالیٰ نے حلت و حرمت کا قانون قرآن پاک میں متعدد مقامات پر بیان فرمایا ہے یہ ایک اہم قانون ہے جس کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے یایھا الناس کلو مما فی الارض حللاً طیباً ز ولا تتبعوا خطوت الشیطن (البقرہ) اے لوگو ! زمین میں اللہ کی پیدا کردہ حلال اور پاکیزہ چیزیں کھائو اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص حلت و حرمت اور پاک اور ناپاک کی تمیز نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کے قانون پر عمل نہیں کرتا اور شیطان کے نقش قدم پر چلتا ہے یا خواہشات نفسانیہ کی پیروی کرتا ہے ایسا شخص کامیابی سے ہم کنار نہیں ہوسکتا کیونکہ فلاح ، ترقی اور سربلندی اسی صورت میں حاصل ہوگی جب کہ حلال و حرام کے قانون کی پابندی کی جائے یہ بڑا ضروری قانون ہے جسے طیبات اور خبائث کے نام سے بیان کیا گیا ہے حضور ﷺ نے اس کی تشریح بھی بیان کی ہے۔
اس آیت کریمہ میں حلت و حرمت کے فعل کو نبی (علیہ السلام) کی طرف منسوب کیا گیا ہے کہ وہ پاک چیزوں کو حلال اور نا پاک چیزوں کو حرار قرار دیتا ہے یہاں پر اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دینا اور حقیقت اللہ تعالیٰ کا کام ہے یہ اس کی تکوینی صفت ہے نبی خود کسی چیز کو حلال یا حرام قرار نہیں دیتا بلکہ وہ اللہ کی حرام یا حلال کردہ چیز کو بتلانے والا ہوتا ہے اور نبی کا بتلانا اس بات کی قطعی علامت ہوتا ہے کہ یہ چیز حلال ہے اور یہ چیز حرام ہے۔
پاکیزہ چیزوں کی حلت
فرمایا وہ نبی ان کے لیے پاک چیزوں کو حلال قرار دیتا ہے اور پھر ان کی وضاحت بھی فرماتا ہے کہ پاک چیزوں کی علامت کیا ہے اور پھر اسے استعمال کرنے کا طریقہ کونسا ہے ؟ پچھلی سورة انعام میں مہیمۃ الانعام کا قانون بیان ہوچکا ہے یہ ایسے جانور ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے ان کی علامت یہ ہے کہ گھاس کھاتے ہیں اور جگالی کرتے ہیں یہ آٹھ قسم کے جانور ہیں جن کی تفصیل سورة انعام میں گزر چکی ہے یعنی اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری یہ اور ان سے ملتے جلتے جانوروں کے نر اور مادہ دونوں حلال ہیں ان کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ یہ جانور انسانوں سے مانوس ہوتے ہیں اور اکثر گھروں میں پالے جاتے ہیں ان کا گوشت دودھ اور چمڑا سب حلال ہیں البتہ ان کو شریعت کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ذبح کرنا یعنی بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر گلے پر چھری چلانا ضروری ہے اسی طرح پرندوں میں مرغ ، کبوتر وغیرہ قسم کے جانور بھی حلال ہیں ان کی علامت یہ ہے کہ یہ پنجہ مار کر شکار نہیں کرتے ان کو بھی مسنون طریقہ سے ذبح کرکے کھایا جاتا ہے ان جانوروں اور پرندوں کا گوشت انسانی مزاج کے عین مطابق ہے یہ انسانی جسم کے متام قویٰ کے لیے مفید ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اسے اہل ایمان کے لیے حلال قرار دیا ہے۔
خبث چیزوں کی حرکت
اللہ تعالیٰ نے ان چیزوں کو اہل ایمان کے لیے حرام قرار دیا ہے جن کے کھانے سے انسانی اخلاق پر برا اثر پڑتا ہے انہی چیزوں کو خبائث یعنی ناپاک کا نام دیا گیا ہے انسان کے بنیادی اخلاق طہارت ، سماحت ، اخبات اور عدالت ہیں غذا کا اثران اخلاق پر براہ راست پڑتا ہے چناچہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزیں کھانے سے یا تو انسان کا جسمانی نقصان ہوتا ہے یا روحانی نقصان مثلاً محرمات اربعہ میں سے پہلا نمبر مردار کا ہے انما حرم علیکم المیۃ (البقرہ) اللہ نے تم پر مردار کو حرام قرار دیا ہے مردار تمام ملتوں میں بالاتفاق حرام ہے مردار جانور کا گوشت کھانے سے انسانی جسم میں کئی قسم کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں اسی طرح دم مسفوح (خونض کے استعمال سے جسمانی بیماریوں کے علاوہ سنگدلی جیسی روحانی بیماری بھی پیدا ہوتی ہے شیر اور ریچھ وغیرہ خون پینے والے جانور ہیں لہٰذا اللہ نے انہیں حرام قرار دیا ہے بلی ، کتا ، گیدڑ ، وغیرہ بھی اسی قبیل سے ہیں لہٰذا حرام ہیں اس کے علاوہ گندگی کھانے والے کیڑے مکوڑے بھی انسانی جسم کے لیے غیر مفید بلکہ مضر ہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انہیں حرام قرار دیا ہے۔
خنزیر کا گوشت بھی محرمات اربعہ میں شمار ہوتا ہے امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ نوح (علیہ السلام) کے بعد آنے والے تمام انبیاء نے لوگوں کو بتلایا ہے کہ خنزیر کا گوشت قطعی حرام ہے اس کی حرمت کی بھی کئی وجوہات ہیں مثلاً یہ نجاست خور اور بےغیرت جانور ہے اس کا گوشت کھانے والے بھی گندگی اور بےغیرتی کا شکار ہوتے ہیں آج دنیا میں خنزیر کا گوشت کھانے والے لوگ ان بیماریوں میں مبتلا نظر آتے ہیں خنزیر کی قطعی حرمت کے متعلق حدیث شریف میں آتا ہے کہ قرب قیامت میں جب مسیح (علیہ السلام) اس زمین پر نزول فرمائیں گے تو خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے مسیح (علیہ السلام) کا ایسا کرنے سے یہ بتلانا مقصود ہے کہ جس جانور کو تمام انبیاء کی شرائع میں حرام قرار دیا گیا عیسائیوں نے اسے بھی کھانا شروع کردیا نیز یہ بھی کہ عیسائیوں نے یہ شرکیہ عقیدہ قائم کرلیا کہ مسیح (علیہ السلام) کو سولی پر لٹکا دیا گیا حالانکہ آپ زندہ موجود ہیں پھر اسی پر بس نہیں کیا بلکہ سولی کا ماڈل بناکر اپنے گلے میں لٹکا لیا اور اسے مقدس صلیب تصور کیا غرضیکہ نصاریٰ کے غلط تصورات کی تردید کے لیے مسیح (علیہ السلام) خنزیر کو قتل کریں گے اور صلیب کو توڑیں گے جس سے معلوم ہوا کہ خنزیر قیامت تک کے لیے حرام ہے اس کے کھانے سے جسمانی اور روحانی دونوں طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں۔
چوتھی حرام چیز نذرلغیر اللہ ہے ” وما اھل بہ لغیر اللہ “ (البقرہ) اللہ تعالیٰ کے علاو غیر کے نام پر نامزد کی ہوئی ہر چیز خواہ جانور ہو یا غلہ ، دودھ ہو یا مٹھائی ، قطعی حرام ہے اس چیز میں ظاہری جسم کے لیے تو کوئی خرابی نظر نہیں آتی مگر اس کے کھانے سے انسان میں روحانی نجاست پیدا ہوتی ہے اسی لیے جانور کو ذبح کرتے وقت اس پر اللہ کا نام لینا ضروری ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” ولا تاکلو ممالم یذکر اسم اللہ علیہ “ (الانعام) جس جانور پر بوقت ذبح اللہ کا نام نہ جائے اسے مت کھائو جس جانور کو شرعی طریقہ سے اللہ کا نام لے کر ذبح کیا جائے اس میں پاکیزگی آجاتی ہے اور جس پر اللہ کا نہ نام نہ لیاجائے اور مسنون طریقہ سے ذبح نہ کیا جائے وہ مردار کی مانند ہوتی ہے نذر غیر اللہ میں روحانی نجاست ہوتی ہے جس سے انسان کی روح ناپاک ہوجاتی ہے غیر اللہ کی نذر شرک ہے اور شرک کرنے والا نجس ہے انما المشرکون نجس (توبۃ) مشرکوں کی روح ناپاک ہوتی ہے اگرچہ ان کے ظاہری اجسام میں کوئی خرابی نہیں ہوتی۔
طائف سے مشرکین کا ایک وفد حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے ان کا خیمہ مسجد کے ایک کونے میں لگوا دیا صحابہ نے عرض کیا حضور ! یہ مشرک لوگ تو ناپاک ہیں یہ مسجد میں کیسے ٹھہرائے گئے ہیں ؟ آپ نے فرمایا ان کے ظاہری جسموں میں تو کوئی نجاست نہیں ہے البتہ انجم انجاس الناس علی انفسھم ان کی نجاست ان کی جانوں پر پڑی ہوئی ہے یہ روحانی طور پر نجس لوگ ہیں ان کے قلب و روح اور دل و دماغ پلید ہیں تو بہرحال معلوم ہوا کہ بعض آدمیوں کی روح پلید ہوتی ہے چناچہ نذر غیر اللہ کے کھانے والوں کی روح ناپاک ہوجاتی ہے اس لیے اس کو حرام قرار دیا گیا ہے ملت براہیمیہ کے تمام آئمہ اس بات پر متفق ہیں کہ نذر غیر اللہ حرام ہے اور اس کے کھانے سے خاص قسم کی معنوی نجاست پیدا ہوتی ہے۔
دوائے خبیث کی ممانعت
جسمانی یا روحانی نقصان کی وجہ سے بعض چیزوں کی حرمت کی مثال ترمذی شریف کی ایک روایت سے بھی ملتی ہے حضور ﷺ نے نھیٰ عن دواء الخبیث خبیث دوائی سے منع فرمایا ہے خبیث دوا سے مراد مضر جسم چیز ہے مثلاً سنکھیا یا کوئی دوسرا زہر اگرچہ ناپاک نہیں ہے محض ایک زہریلا پتھر ہے مگر آ پنے اسے کچا کھانے سے اس لیے منع فرما دیا ہے کہ یہ انسانی جسم میں جاکر معدے ، جگر اور گردوں کی ساخت کو تباہ کردیتا ہے اور انسان کے جسم سے خون جاری ہو کر ہلاکت کا باعث بنتا ہے اس کا استعمال اس صورت میں جائز ہے جب کہ اس کا کشتہ بناکر طبیب کی ہدایت کے مطابق استعمال کیا جائے غرضیکہ مسئلہ حلت و حرمت میں یہ بنیادی اصول کارفرما ہے کہ جو چیز انسانی جسم و روح کے لیے مفید ہے وہ طیب ہے اور حلال ہے اور جو چیز جسم و روح کے لیے مضر ہے وہ خبیث ہے اور حرام ہے اب رزق حلال طیبات میں شامل ہے جب کہ سود ، رشوت ، فراڈ ، چوری اور ڈاکے کا مال خبائث کا حصہ ہے سینما ، تھیٹر ، رقص و سرود شراب وغیرہ کی کمائی بھی ناپاک ہے اور اسی لیے حرام ہے ایسی چیزوں کو استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے اور ناپاک چیزوں سے روکنا ہے یہ اس کی تیسری اور چوتھی صفت ہوگئی۔
سخت احکام کا بوجھ
اللہ کے نبی امی کی پانچویں صفت یہ بیان فرمائی ہے ویضع عنھم اصرھم و وہ لوگوں کے بوجھ اتارتا ہے یہاں پر بوجھ سے مراد وہ مشکل احکام ہیں جو اللہ نے بعض سابقہ امتوں پر ڈالے تھے مثلاً بنی اسرائیل کو اپنی سخت مزاجی کی وجہ سے بہت سے مشکل احکام پر عمل کرنا پڑا پہلے بیان ہوچکا ہے کہ جن لوگوں نے بچھڑے کے پوجا کی غلطی کی تھی اللہ نے ان کی توبہ قبول کرنے کے لیے یہ شرط لگائی کہ انہیں قتل کردیا جائے چناچہ ایسا ہی کیا گیا تاہم ہماری امت کیلئے اللہ تعالیٰ نے آسانی پیدا فرمائی ہے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے بعثتم مبسرین تمہیں اللہ نے آسانی کرنے والا بناکر بھیجا ہے اسی لیے ہماری امت کے گنہگاروں کی توبہ کا طریقہ یہ ہے کہ انسان سچے دل سے نادم ہوجائے اور معافی مانگ لے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرلیتا ہے البتہ اگر کسی کی حق تلفی کی ہے تو اس کی ادائیگی ضروری ہے کپڑے کی نجاست کو دور کرنے کے لیے ہماری امت کے لیح کم یہ ہے کہ پانی سے تین دفعہ دھو لیا جائے تو نجاست دور ہو کر کپڑا پاک ہوجاتا ہے برخلاف اس کے بنی اسرائیل کے لیے نجاست والے کپڑے کو پاک کرنے کے لیے نجاست شدہ حصہ کو قینچی سے کاٹنا پڑتا ہے تب جاکر باقی کپڑا پاک ہوتا تھا اسی طرح بنی اسرائیل کے لیے قتل کی سزا صرف قصاص تھی یعنی قاتل کو قتل کے بدلے میں قتل ہی کرنا پڑتا تھا جب کہ ہمارے لیے دیت اور معافی کی گنجائش بھی موجود ہے بنی اسرائیل ہفتہ کے روز کوئی کام نہیں کرسکتے تھے حتیٰ کہ کھانا پکانا تک منع تھا مگر ہمارے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ آسانی پیدا کردی ہے کہ صرف جمعہ کے روز جمعہ کی پہلی اذان سے لے کر نماز جمعہ کے اختتام تک کاروبار بند رکھنا ضروری ہے تماز کے بعد کاروبار دوبارہ شروع ہوسکتا ہے اللہ کا حکم کہ جب نماز سے فارغ ہوجائو فانتشروا فی الارض ابتغو من فضل اللہ (الجمعۃ) تو زمین میں پھیل جائو اور اللہ کا فضل یعنی رزق کی تلاش میں لگ جائو بنی اسرائیل صرف مقررہ عبادت خانے میں ہی عبادت کرسکتے تھے جب کہ آخری امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے روئے زمین کو مسجد بنا دیا ہے کوئی شخص کہیں بھی ہو وقت ہونے پر نماز ادا کرسکتا ہے البتہ بعض ناپاک مقامات پر نماز نہیں ادا کی جاسکتی مثلاً جانوروں کا باڑہ ، بوچڑ خانہ عام شاہراہ ، قبرستان وغیرہ میں نماز ادا نہیں کی جاسکتی اس کے علاوہ خشکی تری ہر جگہ نماز پڑھی جاسکتی ہے۔
رسومات کا طوق
اللہ نے اپنے نبی کی چھٹی صفت یہ بیان فرمائی ہے کہ وہ لوگوں سے اتارتا ہے والاغلل التی کانت علیھم وہ وطوق جو ان پر پڑے ہوئے ہیں اغلال ، غل کی جمع ہے جس کا معنی طوق ہوتا ہے اور یہاں پر اس سے مراد فاسد رسومات ہیں جن میں بنی اسرائیل پھنسے ہوئے تھے اور جن سے نبی آخرالزمان نے آکر ان کو چھڑایا تو معنی یہ ہوگا کہ وہ نبی امی جو باطل رسومات کو ان سے موقوف کرتا ہے غلط قسم کی رسمیں انسانوں کے گلے میں طوق کی طرح پڑجاتی ہیں جن سے جان چھڑانا مشکل ہوجاتا ہے یہ قباحت اب آخری امت میں بھی سرائت کرچکی ہے شرک ، بدعت اور رسم و رواج کی رسومات وبال جان بن چکی ہیں شادی کا موقع ہو یا غمی ، لوگ فضول رسومات کی ادائیگی میں ہی عزت سمجھتے ہیں حالانکہ اللہ کا نبی تو انہیں مٹانے کے لیے آیا تھا للہ نے اپنے نبی کی تعریف بیان کی ہے کہ وہ باطل رسومات کو مٹاتا ہے غرضیکہ سخت احکام اور رسوم و رواج لوگوں کی گردنوں کا طوق بن جاتے ہیں جنہیں ہٹانا نبی کے فرائض میں داخل ہے یہ نبی کی چھٹی صفت بھی بیان ہوگئی۔
کامیابی کا راز
آگے ارشاد ہوتا ہے فالذین امنو بہ جو لوگ اس نبی پر ایمان لے آئے وعزروہ اور آپ کی رفاقت اور تائید کی ونصروہ اور اس کی مدد کی یعنی تبلیغ دین کے معاملہ میں نبی کی معاونت کی۔ واتبعوا النور الذی انزل معہ اور اس نور کا اتباع کیا جو نبی کے ساتھ اتارا گیا ہے یعنی نبی نے جو کتاب پیش کی ہے اس کے احکام پر عمل کیا قرآن پاک کو بھی نور کہا گیا ہے انزلنا الیکم نوراً مبینا ہم نے تمہاری طرف واضح نور نازل کیا اس نور سے مراد ہدایت کی روشنی ہے جو زندگی کے ہر موڑ پر انسان کی رہنمائی کرتی ہے انسان کو کوئی بھی مشکل درپیش ہو ، قرآن پاک وہ روشنی ہے جس کے ذریعے تمام مسائل حل ہوتے ہیں اسی لیے فرمایا جس نے نبی کے ہمراہ نازل ہونے والی روشنی یعنی کتاب کا اتباع کیا اولیک ھم المفلحون یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
اتباع کے سلسلے میں قرآن کے ساتھ ساتھ سنت پر بھی عملدرآمد ضروری ہے امام ابن تیمیہ (رح) فرماتے ہیں کہ سنت قرآن کے اصولوں کی تشریح کرتی ہے گویا قرآن متن ہے تو سنت تشریح ہے اس لیے جب تک سنت پر عمل نہیں ہوگا قرآن پاک پر کماحقہ عمل نہیں ہوسکتا تو فرمایا جو لوگ نبی امی پر ایمان لائے اس کی تائید کی اس کی مدد کی اور اس پر نازل ہونے والی کتاب اور خود اس کی سنت کا اتباع کیا تو یہی لوگ کامیابی کی منازل طے کرنے والے ہیں اور یہی لوگ اللہ تعالیٰ کی رحمت خاصہ کے مستحق ہیں اگر یہود و نصاریٰ بھی نبی امی کا دامن پکڑ لیں تو وہ بھی مستحقین کی فہرست میں شامل ہوجائیں گے ورنہ وہ محروم رہ جائیں گے ان کے حق میں موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا قبول نہیں ہوگی کامیابی کا راز اس آیت میں بیان کردیا گیا ہے۔
Ayahs 7:158–159ربط آیات
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے ایک تو بنی اسرائیل کی معافی کی دعا کی تھی اور دوسرے اپنی امت کے لیے تمام اقوام عالم کے مقابلے میں برتری کی درخواست کی تھی اللہ تعالیٰ نے پہلی دعا قبول فرمالی اور بنی اسرائیل کی خطا کو معاف کردیا مگر دوسری دعا کی قبولیت کو بعض شرائط کے ساتھ مشروط کردیا اور فرمایا کہ میری رحمت خاصہ ان لوگوں کے لیے ہوگی جو تقویٰ اختیار کریں گے زکوٰۃ ادا کریں گے اور ہماری تمام باتوں پر ایمان لائیں گے نیز یہ بھی کہ جو اس عظیم الشان رسول کا اتباع کریں گے جو نبی امی ہے اور جس کے اوصاف یہ ہیں کہ وہ نیکی کا حکم دیتا ہے برائی سے منع کرتا ہے پاکیزدہ چیزوں کو حلال اور ناپاک چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے مشکل احکام کو بوجھ اتارتا ہے اور رسم و رواج کے طوق گردنوں سے اتار پھینکتا ہے فرمایا جو لوگ اس نبی پر ایمان لائیں گے اس کی تائید کریں گے اس کی مدد کریں گے اور اس پر نازل ہونے والے نور کا اتباع کریں گے تو فلاح و کامیابی انہی کے حصے میں آئے گی وہی لوگ رحمت خاصہ کے مستحق ہوں گے اس کے نتیجے میں وہ دنیا میں بھی سرخرو ہوں گے اور باقی اقوام کے مقابلے میں انہیں آخرت میں بھی برتری حاصل ہوگی اگر یہود و نصاریٰ بھی ان شرائط پر پورے اتریں گے تو وہ بھی اس فضیلت میں شامل ہوجائیں گے اور کامیابی سے ہمکنار ہوں گے اور جو لوگ اس نبی امی پر ایمان نہیں لائیں گے وہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوں گے۔
تاریخ نبوت و رسالت
اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کی تاریخ بھی بیان فرمائی ہے خلافت ارضی کے سلسلہ میں حضرت آدم (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا اور پھر آپ کے بعد آنے والے جلیل القدر انبیاء (علیہم السلام) کی تاریخ کا ایک حصہ بیان فرمایا اس ضمن میں حضرات نوح ، ہود ، صالح ، لوط ، شعیب اور بنی اسرائیل کے دو عظیم الشان رسول موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کا تذکرہ فرمایا اور اب اس آیت میں حضور خاتم النبیین ﷺ کی نبوت عامہ کا اعلان فرمایا سابقہ انبیاء کی نبوت خاص خاص اقوام تک محدود تھی جیسے علیٰ (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا ورسولا الی بنی اسرائیل (آل عمران) یعنی آپ بنی اسرائیل کی طرف رسول بناکر بھیجے گئے موسیٰ (علیہ السلام) کو قبطیوں اور بنی اسرائیل دونوں اقوام کی طرف مبعوث کیا گیا لوط (علیہ السلام) کو شرق اردن اور سدوم والوں کی طرف بھیجا گیا ہود (علیہ السلام) کو قوم عاد کی طرف مبعوث کیا گیا صالح (علیہ السلام) کو قوم ثمود کی اصلاح کے لیے بھیجا گیا اور اسی طرح دیگر انبیاء کو ان کی اپنی اپنی قوموں کے پاس بھیجا گیا البتہ ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا انی جاعلک للناس اماماً (البقرہ) کہ آپ کی امامت عامۃ الناس کے لیے تھی۔
آج کی آیت میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نبوت عامہ کے اعلان کے ساتھ ساتھ طریقہ تبلیغ بھی ہوگیا ہے اور اس طرح تاریخ انبیاء کا یہ بھی حصہ بن گیا اس آیت سے تمام انبیاء (علیہم السلام) پر حضور خاتم النبیین کی برتری اور فضیلت کا اظہار بھی ہوتا ہے اور دین کا بنیادی عقیدہ بھی اس آیت میں بیان کردیا گیا ہے اس کے بعد بنی اسرائیل کی بعض مزید خرابیوں کا ذکر آئے گا اور آخر میں قرآن کریم کی طرف دعوت عامہ کا بیان ہوگا بہرحال یہاں پر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی نبوت کو نبوت عامہ کے طور پر یش کیا ہے جس کا دائرہ کار تمام بنی نوع انسان کے لیے ہے خواہ وہ کسی مقام اور کسی زمان میں ہوں۔
مختلف اقوام سے خطاب
گزشتہ مختلف سورتوں میں مختلف اقوام کو خطاب کیا گیا تھا سورة بقرہ میں بنی اسرائیل کو خاص طور پر خطاب تھا جیسے فرمایا یبنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی انعمت علیکم اس سورة میں خاص طور پر یہودیوں کی اصلاح مطلوب تھی یعنی اے اولاد اسرائیل ! میری نعمتوں کو یاد کرو اور اپنی اصلاح کرلو اسی طرح سورة آل عمران میں زیادہ تر روئے سخن نصاریٰ کی طرف تھا اس میں ان کے غلط عقائد اور باطل نظریات کا رد ہے جو عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ حضرت مریم ؓ کے متعلق قائم کرلیے تھے اللہ نے ان کی اصلاح کا پروگرام بھی دیا پھر سورة نساء اور سورة مائدہ خاص طور پر عربوں کی اصلاح کے لیے نازل فرمائیں عربوں کے دیرینہ رسم و رواج ، عقائد اور عادات و خصائل کا ذکر کرکے ان کو ترغیب دی کہ وہ بھی اپنی اصلاح کریں اس کے بعد سورة انعام میں مجوسیوں کو خطاب کیا گیا ان کا مرکز ایران تھا اور نزول قرآن کے زمانہ میں آدھی دنیا ان کے زیرنگیں تھی مجوسیوں کے ضمن میں تمام صابی اقوام کا ذکر بھی آگیا کیونکہ مجوسی بھی صابی ملت میں ہی شمار ہوتے ہیں ان کی زیادہ تر آبادی منگولیا ، چین ، ہندوستان اور برما وغیرہ میں ہے اللہ تعالیٰ نے انہیں فرمایا کہ وہ خدا تعالیٰ کی توحید کو پہچانیں اور غلط عقائد کو ترک کردیں چناچہ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے شرک کا رد فرمایا ہے اب اس سورة مبارک میں قرآن پاک کی دعوت عامہ اور حضور خاتم النبیین ﷺ نبوت عامہ کا ذکر ہ کے اس کے بعد اگلی دو سورتوں انفال اور توبہ میں جہاد کی ترغیب دی گئی ہے قرآن پاک کے پروگرام کو ماننے والوں کو حکم دیا گیا ہے کہ اس پروگرام کے مخالفین کے خلاف طاقت استعمال کرو چناچہ یہ دونوں سورتیں جہاد کے احکام پر مشتمل ہیں یہ سب دعوت قرآنی کی تدریج ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔
حضور ﷺ کی نبوت عامہ
جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے آج کے درس میں حضور ﷺ کی نبوت عامہ کا تذکرہ ہے ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! یہ گویا تمام بنی نوع انسان سے خطاب ہے خواہ وہ مشرق میں رہتے ہوں یا مغرب میں شامل کے باشندے ہوں یا جنوب ، متمدن دنیا کے لوگ ہوں یا جنگلوں اور پہاڑوں میں رہنے والے ، سب کو خطاب کیا گیا ناس آدم (علیہ السلام) کی اولاد کو کہا جاتا ہے ناس نسیان کے مادے سے ہے یہ آدم (علیہ السلام) کا لقب ہے کیونکہ اول الناس اول ناس یعنی سب سے پہلا انسان سب سے پہلا بھولنے والا تھا تو یہاں پر تمام اولاد آدم کو خطاب ہے ہمارا یہ دور آدمیت کا دور ہے جو حضرت آدم (علیہ السلام) سے شروع ہوا اس سے پہلے ادوار کے متعلق کچھ معلوم نہیں کہ وہ کیے تھے حضور ﷺ کا ارشاد ہے بعثت الی الاحمروالا سود یعنی میں تمام سرخ اور سیاسی لوگوں کی طرف بھیجا گیا ہوں حضرت نوح (علیہ السلام) کے بیٹوں ، حام سام اور یافث کی جتنی بھی اولاد دنیا میں پائی جاتی ہے خواہ وہ کسی خطے اور کسی رنگ سے تعلق رکھتی ہے حضور نے فرمایا میں سب کی طرف رسول بناکر بھیجا گیا ہوں میں نہ تو اوتار ہوں اور نہ خدا کا بیٹا اور نہ ہی میں عین اللہ ہوں بلکہ میں تو اللہ تعالیٰ کا فرستادہ ہوں انی رسول اللہ الیکم جمیعا میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں میری نبوت و رسالت سے کوئی ملک خواہ وہ دنیا کے کسی خطے میں ہو ، یا کوئی آدمی خواہ وہ کسی رنگ اور نسل کا ہو ، مستثنیٰ نہیں ہے میں سب کا رسول برحق ہوں۔
قومی اور بین الاقوامی نبی
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ حضور خاتم النبیین (علیہ السلام) کی دو حیثتیں ہیں آپ قومی نبی بھی ہیں اور بین الاقوامی بھی ، قومی نبوت کے متعلق سورة ابراہیم میں ارشاد خدا وندی ہے وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ ہم نے ہر رسول کو اس کی اپنی قومی زبان میں مبعوث فرمایا حضور ﷺ جس قوم میں پیدا ہوئے اور نشونما پائی وہ عرب اور قریش تھے اللہ تعالیٰ کو اس قوم کی سعادت منظور تھی لہٰذا اللہ نے انہی کی زبان میں اپنی کتاب نازل فرمائی حضور ﷺ بھی اسی زبان میں گفتگو کرتے اور دعوت ایمان دیتے چونکہ آپ کے دین مخاطبین عرب ہی ہیں اس لحاظ سے آپ قومی نبی ہیں اور بین الاقوامی نبی اس لحاظ سے کہ آپ تمام بنی نوع انسان کے لیے نبی مبعوث ہوئے اور آپ کی دعوت بالواسطہ پوری دنیا میں پھیلی ہے سورة البقرہ میں ہے اے لوگو ! ہم نے تمہیں امت وسط بنایا لتکونو اشھدء علیٰ الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا شاہ عبدالقادر (رح) شہید کا معنی معلم کرتے ہیں اور آیت کا معنی اس طرح بنتا ہے کہ اے عرب کے لوگو ! رسول تمہارا معلوم ہے اور تم آگے باقی لوگوں کے معلم ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا آخری پروگرام قرآن پاک عربی زبان میں نازل فرمایا انا انزلنا قرانا عربیا لعلکم تعقلون (یوسف) ہم نے قرآن پاک عربی زبان میں نازل فرمایا تاکہ پہلے تم اسے اچھی طرح سمجھو اور پھر اسے آگے دوسروں تک پہنچائو چناچہ ایسا ہی ہوا صحابہ کرام ؓ اس پروگرام کو لے کر دنیا کے گوشے گوشے میں پہنچ گئے حتیٰ کہ صفین کے واقعہ تک صرف پچاس سال کے عرصہ میں آدمی دنیا پر اسلام کا غلبہ ہوچکا تھا اور باقی نصف دنیا ان کے تابع تھی دنیا کی کوئی بڑی سے بڑی طاقت بھی مسلمانوں کے ساتھ ٹکر لینے کے قابل نہ تھی حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے مامن یھودی ولا نصرانی یسمع بی ثم لم یومن بی الادخل النار کوئی یہودی ہو یا نصرانی وہ میرے بارے میں سن لے کہ میرا دور آگیا ہے پھر مجھ پر ایمان نہ لائے تو وہ جہنم میں جائے گا حضرت جنید بغدادی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کی معرفت اور قرب کے تمام راستے بند ہوچکے ہیں اور صرف ایک راستہ کھلا ہے جو محمد ﷺ کی طرف سے ہو کرجاتا ہے لہٰذا اگر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے تو حضور ﷺ کا اتباع کرنا ہوگا کیونکہ ان کی نبوت صرف عرب تک محدود نہیں بلکہ ومن بلغ کے مصداق اللہ کا پیغام جہاں تک پہنچے آپ کی نبوت کا دائرہ کار وہاں تک ہے چناچہ حضور ﷺ نے قرآن پاک کا پروگرام اپنے اولین مخاطبین اہل عرب کو پہنچایا اور انہوں نے آگے ساری دنیا میں پھیلا دیا یہی اس بات کی دلیل ہے کہ آپ پوری نوع انسانی کے لیے نبی اور رسول معبوث ہوئے اور آپ کی نبوت قیامت تک قائم رہے گی۔
صفات باری تعالیٰ
فرمایا اس مالک الملک کا فرستادہ ہوں الذی لہ ملک السموت والارض جس کی بادشاہی تمام آسمانوں اور زمین میں ہے وہ پوری کائنات کا خالق ومالک ہے لا الہ الا ھو اس کے علاوہ کوئی مستحق عبادت نہیں وہ وحدہ لاشریک ہے یہ اسلام کا بنیادی نظریہ ہے (IDIOLOGY) ہے جس کی دعوت سارے نبی دیتے آئے ہیں یہ عقیدہ تمام انبیاء کی قدر مشترک ہے انبیاء کی اس دعوت کی حقانیت لازماً ظاہر ہوگی لہٰذا ہر انسان کا مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا بھی اسی طرح برحق ہے جس طرح اس مالک الملک کے علاوہ لائق عبادت کوئی نہیں حشر میں ہر چیز کھل کر سامنے آجائے گی اور اس وقت معلوم ہوگا کہ انبیاء کرام جو دعوت دیتے رہے وہ بالکل صحیح تھی فرمایا جس اللہ نے مجھے مبعوث فرمایا ہے اس کی ایک صفت یہ بھی ہے یحی ویمت زندگی بھی وہی دیتا ہے اور موت بھی وہی طاری کرتا ہے سورة بقرہ میں فرمایا کہ تم اللہ تعالیٰ کا کس طرح انکار کرتے ہو حالانکہ کنتم امواتاً تم بےجان نطفہ تھے فاحیاکم اللہ نے تمہیں زندگی بخشی وہ تمہیں نیست سے ہست میں لایا ثم یمیتکم پھر تم پر موت وارد کرے گا تم اپنی طبعی عمر گزار کرمرجائو گے ثم یحیکم قیامت کو وہ پھر تمہیں زندہ کرے گا ثم الیہ ترجعون پھر تمہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہوگا حساب کتاب کی منزل آئے گی اور پھر اعمال کی جزا یا سزا کا فیصلہ ہوگا اللہ تعالیٰ کی یہ صفات بھی بیان ہوگئیں۔
اللہ اور رسول پر ایمان
اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی صفات بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ جو ان صفات کی حامل ہستیاں ہیں فامنو باللہ ورسولہ پس ایمان لائو اللہ پر اس کے رسول پر اب فلاح کا یہی ایک راستہ باقی ہے کہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور خاتم البیین کی رسالت کو تسلیم کرلو وہ رسول النبی الامی جو کہ نبی امی ہے اس کی پیشین گوئیاں اسی نام کے ساتھ پہلی کتابوں میں بھی آچکی ہیں اور خود اس نبی کی کیفیت یہ ہے الذی یومن باللہ کہ وہ بھی اس اللہ پر اسی طرح ایمان رکھتا ہے جس طرح دوسروں کو دعوت دیتا ہے وہ نہ صرف اس کی ذات پر ایمان رکھتا ہے بلکہ وہ کلمتہ اس کے تمام کلاموں پر بھی یقین رکھتا ہے کلمات سے مراد تمام آسمانی کتابیں اور صحیفے ہیں زبور ، تورات ، انجیل ، قرآن پاک اور دیگر صحائف پر اس کا یکساں ایمان ہے کہ یہ سب منزل من اللہ ہیں اللہ تعالیٰ نے جو کچھ بھی نازل فرمایا ہے وہ برحق ہے لہٰذا واتبعوہ اس نبی کا اتباع کرو لعلکم تھتدون تاکہ تم ہدایت پاجائو ، اب ہدایت کا واحد راستہ وہی ہے جو اللہ کا نبی بتلاتا ہے یعنی اللہ کی وحدانیت پر ایمان لائو اور اس کے رسول کا اتباع کرو ، اسی میں تمہاری کامیابی ہے۔
حق پرست لوگ
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرے میں آپ کی قوم کی کئی ایک خرابیاں بیان ہوچکی ہیں یہ الٹی ذہنیت کے لوگ تھے اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق فرمایا کترکم فسقون کہ تم میں اکثر نافرمان ہیں تاہم ان میں بعض اچھے لوگ بھی ہیں سورة آل عمران میں بھی گزر چکا ہے لیسو سواء ان میں سارے برابر نہیں بلکہ بعض ایسے بھی ہیں جو حق کو پہچانتے ہیں چناچہ حضور ﷺ نے زمانہ مبارک میں مدینے کے دس یہودی علماء میں سے اللہ تعالیٰ نے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کو ایمان کی توفیق بخشی ایسے لوگ ہر زمانے میں ہوتے رہے ہیں اور آج بھی موجود ہیں جرمنی کا محمد اسد آج بھی زندہ سلامت ہے یہودی تھا ایمان قبول کیا اور پھر تبلیغ اسلام میں دن رات ایک کردیا اس نے (ISLAMAT THE CROSS ROAD) (اسلام چورا ہے پر نامی بڑی عمدہ کتاب لکھی ہے پاکستان میں رسالہ ” عرفات “ کا ایڈیٹر رہا ہے صحیح الخیال انسان ہے اسلام کی بڑی خدمت کررہا ہے آج کل فرانس میں مقیم ہے اسی طرح ماما ڈیوک چھتال عیسائی تھا انگریزوں نے جاسوسی کے لیے ترکی میں بھیجا وہاں کے شیخ الاسلام کی مجلس میں جاتا رہا اور آخر کار اسلام قبول کرلیا اللہ تعالیٰ نے دین کے علم سے نوازا انہوں نے قرآن پاک کا انگریزی زبان میں ترجمہ کیا ہے جو بڑا مقبول ہے ترجمہ مکمل کرنے کے بعد مصر کے علماء کے سامنے پیش کیا تاکہ کوئی غلطی ہو تو اطلاع کی جاسکے یہ اس کی حق پرستی کی علامت تھی آخر علماء کی تصدیق کے بعد ترجمہ شائع کیا جو ساری دنیا میں معیاری تسلیم کیا جاتا ہے پاکستان میں بھی تاج کمپنی نے شائع کیا ہے۔
یہاں پر بھی اسی بات کو بیان فرمایا ہے ومن قوم موسیٰ امۃ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم میں ایک امت ایسی ہے یھدون بالحق جو حق کے ساتھ رہنمائی کرتے ہیں وبہ یعدلون اور اسی حق کے ساتھ انصاف کرتے ہیں اگرچہ ان کی تعداد بالکل قلیل ہے تاہم ایسے لوگ ہر زمان میں ہوتے رہے ہیں البتہ یہود و نصاریٰ کی اکثریت اسلام دشمنی میں پیش پیش رہی ہے یہودی ہمیشہ اندرونی سازشیں کرتے ہیں اور عیسائی طاقت کے بل پر اسلام کو مغلوب کرنے میں ہمہ تن مصروف رہتے ہیں۔