7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 7:88–93

قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَنُخْرِجَنَّكَ یٰشُعَیْبُ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَكَ مِنْ قَرْیَتِنَاۤ اَوْ لَتَعُوْدُنَّ فِیْ مِلَّتِنَا١ؕ قَالَ اَوَ لَوْ كُنَّا كٰرِهِیْنَ۫ Open ayah 7:88 in the Quran reader

کہا ان سرداروں نے جنہوں نے تکبر کیا شعیب (علیہ السلام) کی قوم سے کہ ہم ضرور نکال دیں گے تم کو لے شعیب ! اور ان لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لانے ہیں اپنی بستی سے ، یا یہ کہ تم پلٹ آئو ہمارے دین میں کہا شعیب (علیہ السلام) نے اگرچہ ہم ناپسند کرنے والے ہوں (تمہارے دین کو) ؟

قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِكُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰىنَا اللّٰهُ مِنْهَا١ؕ وَ مَا یَكُوْنُ لَنَاۤ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْهَاۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ رَبُّنَا١ؕ وَسِعَ رَبُّنَا كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ عَلَى اللّٰهِ تَوَكَّلْنَا١ؕ رَبَّنَا افْتَحْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَ اَنْتَ خَیْرُ الْفٰتِحِیْنَ Open ayah 7:89 in the Quran reader

بیشک ہم نے اللہ پر جھوٹ باندھا اگر ہم لوٹیں گے تمہاری ملت میں بعد اس کے اللہ نے ہمیں بچایا ہے اس سے اور نہیں ہمارے لیے کہ ہم لوٹیں اس میں مگر یہ کہ چاہے اللہ ہمارا پروردگار۔ وسیع ہے ہمارا پروردگار ہر چیز پر علم کے اعتبار سے ہم اللہ کی ذات پر ہی بھروسہ رکھتے ہیں۔ اے ہمارے پروردگار ! فیصلہ کردے ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ اور تو بہتر فیصلہ کرنے والا ہے

وَ قَالَ الْمَلَاُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَوْمِهٖ لَئِنِ اتَّبَعْتُمْ شُعَیْبًا اِنَّكُمْ اِذًا لَّخٰسِرُوْنَ Open ayah 7:90 in the Quran reader

اور کہا سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا شعیب (علیہ السلام) کی قوم سے ، اگر تم نے شعیب کی پیروی کی تو بیشک اس وقت تم نقصان اٹھانے والے ہوگے

فَاَخَذَتْهُمُ الرَّجْفَةُ فَاَصْبَحُوْا فِیْ دَارِهِمْ جٰثِمِیْنَۚۖۛ Open ayah 7:91 in the Quran reader

پھر پکڑا ان کو زلزلے نے ، پس ہوگئے اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرنے والوں

الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَاَنْ لَّمْ یَغْنَوْا فِیْهَا١ۛۚ اَلَّذِیْنَ كَذَّبُوْا شُعَیْبًا كَانُوْا هُمُ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 7:92 in the Quran reader

وہ لوگ جنہوں نے جھٹلایا تھا شعیب (علیہ السلام) کو ایسے نابود ہوئے گویا وہ ان بستیوں میں بسنے والے ہی نہ تھے وہ لوگ جنہوں نے جھٹلایا شعیب کو وہی تھے نقصان اٹھانے والے

فَتَوَلّٰى عَنْهُمْ وَ قَالَ یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُكُمْ رِسٰلٰتِ رَبِّیْ وَ نَصَحْتُ لَكُمْ١ۚ فَكَیْفَ اٰسٰى عَلٰى قَوْمٍ كٰفِرِیْنَ۠ Open ayah 7:93 in the Quran reader

پس پلٹے (شعیب (علیہ السلام) ان لوگوں سے اور آپ نے کہا اے میری قوم کے لوگو ! بیشک میں نے تمہی پہنچا دیئے اپنے رب کے پیغام اور میں نے تمہاری خیر خواہی کی۔ پس کیسے افسوس کروں میں ان لوگوں پر جو کفر کرنے والے ہیں

تبلیغ رسالت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ پانچواں واقعہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کا بیان فرمایا ہے گزشتہ درس میں آپ کی اپنی قوم کی طرف بعثت اور ان کو دعوت توحید پیش کرنے کا ذکر تھا حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے ان کی خرابیوں کی نشاندہی کی اور ان سے منع فرمایا۔ قوم شعیب کی چیدہ چیدہ خامیاں ماپ تول میں کمی ، زمین میں فساد ، راستوں میں ڈاکے ڈالنا ، لوگوں کو ایذا پہنچانا۔ خدا کے راستے سے روکنا۔ پیغمبر اور دین حق کے خلاف غلط پراپیگنڈہ اور لوگوں کو متنفر کرنے کے لیے دین حق میں کجی تلاش کرنا تھیں آپ نے قوم کو اللہ تعالیٰ کی نعمتیں یاد دلائیں کہ اس نے تمہاری قلت تعداد کو کثرت میں تبدیل کردیا پھر آپ نے قوم کے دو گروہوں کا ذکر کیا۔ ایک گوہ ان پر ایمان لایا اور دوسرے نے انکار کردیا آپ نے موخرالذکر کو قنادی ٹولہ قرار دیا اور اہل ایمان کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ اس معاملہ میں کیا فیصلہ کرتا ہے۔ شعیب (علیہ السلام) کی تقریر کے جواب میں قوم نے آپ کو دھمکیاں دینا شروع کردیں جسے اللہ تعالیٰ نے یوں بیان فرمایا ہے قال الملا الذین استکبروا من قومہ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے متکبر سرداروں نے آپ کو جواب دیا لنخرجنک یشعیب والذین امنو معک من قریتنا اے شعیب ہم تمہیں اور تمہارے ساتھ ایمان لانے والوں کو اپنی بستی سے نکال دیں گے۔ ایک طرف قوم کے صاحب جاہ و مال اور متکبر لوگ ہیں جو اپنے آپ کو اعلیٰ وارفع خیال کرتے ہیں اپنی دولت پر مغرور ہیں انبیا اور اہل حق کے مقابلے میں اپنے آ پکو برتر تصور کرتے ہیں اور دوسری طرف پیغمبر کے کمزور اور ضعیف لوگ ہیں کیونکہ ہر نبی کے اولین تعبین غریب لوگ ہی ہوا کرتے ہیں تو یہ سردار لوگ صنعفا کو اپنی بستی میں رہنے کی اجازت دینے پر بھی تیار نہ ہوئے اور انہیں نکال باہر کرنے کی دھمکیاں دینے لگے۔ انہوں نے کہا کہ تم صرف ایک صورت میں یہاں رہ سکتے ہو او لتعودن فی ملتنا کہ تم ہمارے دین میں واپس پلٹ آئو۔ شعیب (علیہ السلام) اپنی قوم کو ماپ تول میں کمی اور بری رسومات سے منع کرتے تھے لوگوں کو ایذاد پہنچان اور لوٹ مار کرنے سے روکتے تھے مگر قوم کو آپ کی یہ تلیغ پسند نہ تھی اس لیے قوم کے بڑے بڑے سربرآواردہ لوگوں نے کہا کہ آپ ہمیں تلیغ کرنے اور برے کاموں سے روکنے سے باز آجائیں اور جس طرح ہم کرتے ہیں آپ بھی کرنے لگ جائیں ۔ دین کے نام پر رسومات باطلہ کو قبول کرلیں ورنہ ہم آپ کو اپنے شہر سے نکال دیں گے۔ اس قسم کا سلوک صرف شعیب (علیہ السلام) سے ہی نہیں ہوا بلکہ ہر نبی کے ساتھ اس کی قوم اسی طرح کرتی رہی ہے حتیٰ کہ انبیا (علیہ السلام) کی زندگی میں ایک موڑ ایسا بھی آتا رہا ہے جب وہ اپنا ملک اور شہر چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔ خود حضور علیہ اصلوٰۃ والسلام کے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش آیا۔ جب آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ نے اس کا واقعہ اپنی زوجہ محترمہ کے ہمراہ ان کے بھائی ورقہ بن نوفل کے سامنے بیان کیا تو اس نے آپ کی بات سن کر یہی کہا تھا ، کاش میں اس وقت جوان ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو نکال دیگی حضور ﷺ نے نہایت تعجب سے پوچھا کیا یہ لوگ مجھے مکہ سے نکال دیں گے۔ بخاری شریف کی پہلی حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں اومخرجی ھم کیا یہ لوگ مجھے یہاں سے نکال دیں گے ؟ آخر میں ان کے ساتھ کون سا برا سلوک کرتا ہوں کہ یہ لوگ مجھے برداشت نہیں کریں گے۔ ورثہ بن نوفل پہلی کتابوں کا عالم تھا ، کہنے لگا کہ جو چیز آپ نے بیان کی ہے اس کو جس نے بھی پیش کیا الا عودی اس کے ساتھ دشمنی ہی کی گئی گویا یہ تو ایک پرانی ریت ہے کہ ہر نبی کے ساتھ عداوت اختیار کی گئی حضرت لوط (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی گزر چکا ہے قوم نے کہا اخرجوھم من قریتکم ان لوگوں کو اپنی بستیوں سے نکال دو ، یہ بڑے پاکباز بنے پھرتے ہیں ان کا پلید لوگوں میں کیا کام ہے یہود و نصاریٰ کا بھی یہی حال ہے حضور نبی کریم ﷺ کے متعلق ان کا نظریہ یہ تھا ولن ترضیٰ عنک الیہود ولا النصریٰ حتی تتبع ملتھم (البقرہ :120) کہ وہ آپ سے کبھی راضی نہ ہوں گے ، یہاں تک کہ آپ ان کے دین کا اتباع کریں۔ بہرحال شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے بھی یہی کہا۔ کہ یا تو ہمارے دین میں واپس آجائو ورنہ ہم تمہیں اپنی ستی سے نکال دیں گے۔ یہاں پر لتعودن میں عود کا لفظ قدر اشکال پیدا کرتا ہے۔ کفار کے دین میں واپس لوٹ آنے سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ معاذ اللہ شاید شعیب (علیہ السلام) ابتدا میں انہی کے دین پر تھے۔ پھر نبوت عطا ہوئی تو دین حق قبول کیا اور اب پھر وہ آپ کو واپس پلٹانا چاہتے ہیں ایسا نہیں ہے کسی نبی کے لیے ایک لمحہ بھر کے لیے بھی کفر یا شرک اختیار کرنا محال ہے۔ ہر نبی اوائل عمر سے ہی اللہ تعالیٰ کی نگرانی میں ہوتا ہے اور کفر شرک سے بیزار ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے متعلق سورة انبیاء میں ہے ولقد اتینا ابراھیم رشدہ من قبل ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ابتدا ہی سے رشد عطا فرمائی۔ امام ابن کثیرہ من قبل کی تفسیر میں لکھتے ہیں من صغرہ الیٰ کبرہ یعنی بچپن سے لے کر بڑا ہونے تک اللہ تعالیٰ نے خوب فہم عطا فرمایا ، گویا بچپن میں بھی آپ سے کفرو شرک کا احتمال نہیں کیا جاسکتا۔ یہی بات حضرت شعیب (علیہ السلام) پر بھی صادق آتی ہے البتہ جو لوگ آپ پر ایمان لائے تھے وہ بلاشبہ پہلے شرک اور کفر میں ملوث تھے مگر بعد میں انہوں نے دین حق قبول کرلیا تو ان کے متعلق کہا جاسکتا ہے کہ آپ کی قوم ان لوگوں کو اپنے دین پر واپس پلٹانا چاہتے تھے گویا اس آیت کے مصداق وہ لوگ ہیں مگر ان میں تغلیباً پیغمبر کو بھی شامل کرلیا گیا ہے وگرنہ نبی کی ذات سے کسی بھی دور میں کفر شرک پر پایا جانا ناممکن ہے۔ مفسرین کرام لفظ عود کی ایک دوسری توجہیہ بھی کرتے ہیں فرماتے ہیں کہ عود کا ایک معنی دوبارہ پلٹ آنا ہے اور اس کا دوسرا معنی صار یعنی مطلقاً ہوجانا بھی آتا ہے۔ جیسے سورة یٰسین میں آتا ہے ہم نے چاند کی منزلیں مقرر کردیں حتیٰ عاد کالعرجون القدیم یہاں تک (گٹھتے گھٹتے) کھجور کی پرانی ٹہنی کی طرح ہوجاتا ہے۔ مقصد یہ کہ لعتودن فی ملتنا کا یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ تم ہمارے دین میں ہوجائو۔ قوم نے شعیب (علیہ السلام) کو اپنے دین کی طرف آنے کی دعوت دی تو آپ نے جواب میں فرمایا قال اولو کنا کر ھین اگرچہ ہم ناپسند کرنے والے اور بیزار ہوں یعنی ہم تو کفرو شرک سے بیزار ہیں اور تم ہمیں اس باطل دین کی طرف بلاتے ہو۔ ظاہر ہے کہ ہر اہل ایمان گندے عقائد اور گندی رسوم سے بیزار ہی ہوگا کفروشرک اور بدعات سے بیزاری ایمان کی شرائط میں سے ہے چناچہ شعیب (علیہ السلام) نے اپنی بات کی مزید وضاحت فرمائی کہ تمہارا دن اختیار کرنے کا مطلب یہ ہے کہ قد افترینا علی اللہ کذباً ان عدنا فی ملتکم کہ ہم اللہ تعالیٰ پر چھوٹ باندھیں ، یہ کہ ہم لوٹیں گے تمہاری ملت میں جھوٹے مذہب کو قبول کرنا تو خدا تعالیٰ پر کذب بیانی ہے۔ گویا اس نے یہ جھوٹا دین نازل کیا ہے۔ فرمایا ہم اللہ تعالیٰ پر یہ افترا کیسے باندھیں بعدازنجنا اللہ منھا بعد اس کے کہ اللہ نے ہمیں اس باطل عقیدے سے بچالیا ہے ہم ایسے دن کو کیسے اختیار کرسکتے ہیں۔ فرمایا وما یکون لنا ہمارے لیے یہ من اس ب نہیں ہے ان نعود فیھا کہ ہم تمہارے دین میں لوٹ آئیں الا ان یشاء اللہ ربنا وسیع ربنا کل شی ئٍ علماً سوائے اس کے کہ ہمارا پروردگار اللہ ایسا چاہے ہمارا رب وسیع ہے ہر چیز پر علم کے لحاظ سے یعنی اگر خدا تعالیٰ کسی شخص پر ناراض ہو کر اسے بےدین ہونے کی توفیق دے دے ، پھر تو ہوسکتا ہے وہ قادر مطلق ہے جو چاہے کرسکتا ہے وہ اگر چاہے تو کوئی شخص عقائد بد کی طرف لوٹ سکتا ہے ورنہ جس شخص کو اللہ نے ایک دفعہ اس غلاظت سے بچا لیا ہے وہ اسی میں واپس جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اسی لیے دعا میں عرض کیا جاتا ہے یا مقلب القلوب ثبت قلوبنا علی دینک اے دلوں کے پلٹنے والے خدا ہمارے دلوں کو ہمیشہ ثابت قدم رکھ ، ایسا نہ ہو کہ ہم تیری ناراضگی کا شکار ہو کر کفرو شرک کی طرف پلٹ جائیں۔ دعا کے یہ الفاظ بھی منقول ہیں انی اعوذبک من الحور بعد الکور اے اللہ میں ترقی کے بعد تنزل کی طرف جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں ایسا نہ ہو کہ تیری اطاعت اختیار کرنے کے بعد پھر معصیت کی طرف چلے جائیں الا ان یشاء اللہ ربنا کا یہی مطلب ہے اللہ تعالیٰ ہر ایک کی استعداد ، صلاحیت ، نیت اور ارادے کو جانتا ہے اور اسی کے مطابق کسی کے حق میں فیصلہ کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور ایمان سب سے زیادہ نبی کے دل میں راسخ ہوتا ہے وہ خدا کی ذات پر سب سے زیادہ اعتماد رکھتے ہیں ان کے قلوب ہر وقت اللہ تعالیٰ کی عظمت سے بھرپور رہتے ہیں چناچہ شعیب (علیہ السلام) اسی چیز کا اظہار کرتے ہیں علی اللہ توکلنا ہم اللہ ہی پر بھروسہ رکھتے ہیں اس لیے ہمیں امید ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں رسوا نہیں کرے گا اور ہمارے ایمان کو سلب نہیں کرے گا بلکہ ہم اس کی توحید پر ثابت قدم رہیں گے اور باطل دین کو کبھی اختیار نہیں کریں گے اہل ایمان کو ہمیشہ یہی تعلیم دی جاتی ہے کہ وہ کسی مادی چیز پر بھروسہ نہ کریں تمام چیزیں ناپائیدار ہیں اعتماد کے لائق ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے لہٰذا اسی پر بھروسہ ہونا چاہیے وہ کسی کو مایوس نہیں لوٹاتا۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی بھی تعریف کی ہے کہ ہر مشکل وقت میں ان کی زبان پر یہی ہوتا ہے ” حسبنا اللہ ونعم الوکیل “ ہمارے لیے وہی ذات کفایت کرنے والی ہے اور وہی ہمارے لیے بہترین کارساز ہے۔ شعیب (علیہ السلام) نے بھی سرداران قوم کی دھمکیوں کے جواب میں صاف بات کی اور اللہ پر بھروسے کا ذکر کیا۔ ہود (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی یہی بات ملتی ہے جب کافروں نے ڈرایا دھمکایا تو آپ نے فرمایا ” انی توکلت علی اللہ ربی وربکم “ (ھود) میں تو اللہ ہی پر بھروسہ کرتا ہوں جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی۔ شعیب (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ پر بھروسے کا اعلان فرمایا اور پھر بارگاہ رب العزت میں یوں دعا کی ربنا افتح بیننا وبین قومنابالحق اے پروردگار ! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کردے یہ تو ہمیں طرح طرح کی تکالیف پہنچانے اور ہمیں شہر بدر کرنے پر تلے بیٹھے ہیں ہمارے قتل کے درپے ہیں۔ مولیٰ کریم ! وانت خیرالفتحین تو ہی بہتر فیصلہ کرنے والا ہے اب تو ہی کوئی بہتر فیصلہ فرما کیونکہ قوم تو ہماری بات ماننے کے لیے تیار نہیں تمام انبیاء نے آخر میں مایوس ہو کر اسی قسم کی دعا کی ہے۔ قوم کے سردار پہلے تو شعیب (علیہ السلام) سے مخاطب تھے ، جب آپنے ان کا دین قبول کرنے سے صاف انکار کردیا تو پھر ان کا روئے سخن اہل ایمان کی طرف پھرا اور وہ آپ کی پیروی کرنے والے لوگوں سے کہنے لگے وقال الملا الذین کفی وامن قوم قوم کے کفر کرنے والے سربرآوارہ لوگوں نے کہا لئن اتیتھم شعیباً انکم اذاً لخسرون اگر تم نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو اتباع کیا تو تم نقصان اٹھانے والوں میں ہوگے اگر تم نے اپنے باپ دادا کا دین ترک کردیا شعیب (علیہ السلام) کے پیچھے لگ کر تجارتی پابندیاں قبول کرلیں تو پھر تمہارا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ جائے گا اور تم سخت گھاٹے میں پڑجائو گے حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے لوگوں نے بھی یہی کہا تھا کہ اگر ہم ایک بشر کے پیچھے لگ گئے ” انا اذاً لفی ضلل وسعیر “ بھلا یہ ہمیں کیسی نصیحت کرسکتا ہے شعیب (علیہ السلام) کی قوم نے بھی متعبین سے کہا کہ تم ایمان قبول کرکے مالی نقصان اٹھائو گے نیز تمہاری تمام سابقہ رسوم چھوٹ جائیں گی لہٰذا اس دین کو قبول نہ کرو بلکہ اپنے سابقہ دین میں واپس آجائو۔ رسومات باطلہ ہمیشہ انسانوں کے رگ وریشہ میں اس طرح سرایت کرجاتی ہیں کہ انہیں ترک کرنا بڑا دشوار ہوتا ہے آج بھی یہ حال ہے لوگ فضول رسم و رواج میں اس طرح پھنس چکے ہیں کہ اب اگر چھوڑنا بھی چاہیں تو نہیں چھوڑ سکتے اب تو اپنے آپ کو توحید پرست کہلانے والے بھی رسم و رواج پر قائم ہیں ان کے خلاف چلنے کو باعث نقصان سمجھتے ہیں کہتے ہیں اگر رسوم ادا نہیں ہوں گی تو ہماری عزت خاک میں مل جائے گی برادری کیا کہے گی خاندان کے لوگ مطعون کریں گے لہٰذا وہ چار و ناچار رسوم کو نبھانے پر مجبور ہیں کتنی بری بات ہے حضور ﷺ نے یہی تو فرمایا تھا لتتبعن سنن من کان قبلکم تم بھی اپنے سے پہلے والے لوگوں کے رسم و رواج پر چلو گے اگر وہ ایک بالشت چلے ہیں تو تم بھی ایک بالشت چلو گے اور اگر وہ ایک ہاتھ چلے ہیں تو تم بھی ایک ہاتھ چلو گے شبراً اور ذراعاً کے الفاظ آتے ہیں۔ بہرحال شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے سرداروں نے کہا کہ اگر تم نے شعیب (علیہ السلام) کی بات مان لی تو نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائو گے شعیب (علیہ السلام) کی پوری کوشش کے باوجود قوم نے تسلیم نہ کیا اور چند لوگوں کے سوا اکثریت اپنی بات پر اڑی رہی بلکہ الٹا شعیب (علیہ السلام) کی جان کے درپے ہوگئی ، کہنے لگے لولا رھطک لرجمناک (ھود) اے شعیب (علیہ السلام) ! ہم تیرے خاندان کا خیال کرتے ہیں ورنہ ہم تجھے پتھر مار مار کر ختم کردیتے۔ آخر اس قوم پر خدا کے غضب کا وقت آگیا ان کی نافرمانی انتہا کو پہنچ چکی تھی ، تشدد پر اتر آئے تھے شعیب (علیہ السلام) کو بسی سے نکال دینا چاہتے تھے خدا کا غضب بھڑکا فاخذتھم الوجفۃ پس پکڑا ان کو زلزلے نے فاصبحوا فی دارھم جثمین پھرو ہ ہوگئے اپنے گھروں میں اوندھے منہ گرنے والوں میں۔ جب آدمی گرتا ہے تو منہ کے بل گرتا ہے اور اس کے قدم نہیں جم سکتے ان پر بھی زلزلہ آیا اور وہ اندھے گر پڑے اور وہیں ہلاک ہوگئے۔ اس قوم پر تین قسم کا عذاب نازل ہوا تھا زلزلے کا ذکر تو اس مقام پر موجود ہے اس کے علاوہ ان سائبان کی شکل میں عذاب آیا فکذبوہ فاخذھم عذاب یوم الظلۃ (انشعرائ) انہوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا تو ان کو سائبان کے عذاب نے پکڑ لیا سخت گرمی سے بچنے کے لیے ان لوگوں نے تہہ خانوں کا رخ کیا مگر وہاں بھی سکون نہ ملا پھر آسمان پر بادل نما دھواں سا اٹھا ، لوگ اسے بادل سمجھ کر اس کی طرف دوڑے کہ شاید بارش ہوگی بادل کے نیچے پہنچ کر انہیں وقتی طور پر ٹھنڈک بھی محسوس ہوئی جب سب لوگ وہاں جمع ہوگئے تو بادل سے پانی کی بجائے آگ برسی جس نے سب کو جھلسا کرر کھ دیا یہ یوم الظلہ یعنی سائبان والے دن کا عذاب تھا کہتے ہیں کہ جب اس قوم پر آتشیں ابر چھایا ہوا تھا تو انہیں ایک شخص نے کہا کہ شعیب (علیہ السلام) کا انکار نہ کرو۔ اس قوم پر تیسرا عذاب خوفناک چیخ کی صورت میں آیا ” واخذت الذین ظلمو الصیحۃ (ہود) ظلم کرنے والوں کو چیخ نے آپکڑا فرشتے کی چیخ سے ان کے قلب و جگر پھٹ گئے اور وہ ہلاک ہوگئے چناچہ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے الذین کذبواشعیباً جن لوگوں نے شعیب (علیہ السلام) کی تکذیب کی کان لم یغنو فیھا وہ ایسے ملیا میٹ ہوئے گویا کبھی تھے ہی نہیں۔ فرمایا الذین کذبوا شعیباً کانو ھم الخسرین جن لوگوں نے شعیب (علیہ السلام) کو جھٹلایا وہی نقصان اٹھانے والے ٹھہرے۔ دنیا میں ذلت ناک ہلاکت کا نقصان ہوا اور آخرت میں ابدی تباہی کی طرف چلے گئے۔ جب قوم عذاب میں مبتلا ہوگئی تو شعیب (علیہ السلام) فتولیٰ عنھم ان سے پلٹے اور وقال اس طرح خطاب کیا یقوم اے میری قوم کے لوگو لقد البغتکم رسالت ربی میں نے تو اپنے رب کے سارے پیغام تمہیں پہنچا دیئے تھے ونصحت لکم اور تمہارے ساتھ خیر خواہی کا پورا پورا حق ادا کردیا ہے لیکن تم نے میری کوئی بات نہیں مانی اور آخر کار لقمہ اجل بن گئے۔ فرمایا فکیف اسی علی قوم کفرین پس میں کافروں پر کیسے اظہار افسوس کروں یہاں سے یہ اصول بھی نکلتا ہے کہ کافر اور معاند لوگوں کی تکلیف پر افسوس نہیں کرنا چاہیے یہ لوگ اسی قابل تھے اور اپنے انجام کو پہنچ گئے فرمایا ” فقطع دابرالقوم الذین ظلموا “ (الانعام) جو ظالم تھے ان کی جڑ کاٹ دی گئی والحمدللہ رب العلمین سب تعریفیں اللہ ہی کے لیے ہیں فرمایا یہ لوگ کسی رعایت کے مستحق نہیں اور نہ ہی ان پر افسوس کرنے کی ضرورت ہے ان لوگوں نے کفر کیا اپنی بات پر اڑے رہے میں ایسے لوگوں پر کیسے افسوس کروں۔
Ayahs 7:94–95

وَ مَاۤ اَرْسَلْنَا فِیْ قَرْیَةٍ مِّنْ نَّبِیٍّ اِلَّاۤ اَخَذْنَاۤ اَهْلَهَا بِالْبَاْسَآءِ وَ الضَّرَّآءِ لَعَلَّهُمْ یَضَّرَّعُوْنَ Open ayah 7:94 in the Quran reader

اور نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی نبی مگر یہ کہ ہم نے پکڑا وہاں کے رہنے والوں کو ساتھ بدحالی اور تکلیف کے تاکہ یہ لوگ عاجزی کریں اور گڑگڑائیں

ثُمَّ بَدَّلْنَا مَكَانَ السَّیِّئَةِ الْحَسَنَةَ حَتّٰى عَفَوْا وَّ قَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَنَا الضَّرَّآءُ وَ السَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰهُمْ بَغْتَةً وَّ هُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ Open ayah 7:95 in the Quran reader

پھر ہم نے تبدیل کردیا برائی کی جگہ پر بھلائی کو ، یہاں تک کہ وہ لوگ بڑھ گئے اور انہوں نے کہا تحقیق پہنچی ہے ہمارے باپ دادوں کو تکلیف اور خوشی پس پکڑا ہم نے ان کو اچانک اور وہ بیخبر تھے۔

ذہنیت اقوام اور سنت اللہ تبلیغ رسالت کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے یہاں تک پانچ انبیا (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ہے کہ ان جلیل القدر انبیا نے کس طرح محنت اور جانفشانی سے اپنی اپنی قوم کو اللہ کا پیغام پہنچایا اور پھر اقوام نے اس کا کیا جواب دیا اور انبیاء کے ساتھ کیا سلوک کیا ان اقوام کی نافرمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی گرفت آئی اور لوگ مختلف قسم کے عذابوں میں مبتلا ہو کر اپنے انجام کو پہنچے یہ واقعات بیان کرکے اللہ تعالیٰ نے بعد میں آنے والے لوگوں کو عبرت دلائی ہے کہ دیکھو اللہ کے احکام سے روگردانی کرنے والوں کا کیا حشر ہوا۔ آپ آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اقوام عالم کی ذہنیت اور اس معاملہ میں اپنے دستور کا ذکر کیا ہے ظاہر ہے کہ دنیا میں صرف یہی پانچ نبی تو مبعوث نہیں ہوئے بلکہ ہر قوم اور بستی کی طرف اللہ کا رسول آیا جس نے اپنی قوم تک اللہ کا پیغام پہنچایا اور حتی المقدور لوگوں کی اصلاح کی کشوش کی پھر ہر قوم نے اپنے اپنے نبی کی دعوت کے مختلف جوابات دیئے تو یہاں ان دو آیات میں اللہ تعالیٰ نے بحیثیت مجموعی اقوام عالم کی ذہنیت ، ناکامی کے اسباب اور ان کے ساتھ کیے گئے سلوک کا تذکرہ کیا ہے۔ اس کے بعد اگلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے کامیابی کے اصول بیان فرمائے ہیں پھر ملت ابراہیمی کے عظیم الشان رسول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کا ذکر ہوگا اور ان کے مدمقابل فرعون اور ملہان جیسے مجرمین کا بیان ہوگا ان کے واقعات اللہ تعالیٰ نے بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمائے ہیں اور بڑے بڑے اصولوں کی وضاحت کی ہے پھر آخر میں حضور خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کا ذکر آئے گا بہرحال یہاں پر اللہ تعالیٰ کا یہ دستور بیان ہوا ہے کہ انعام اور سزا کے بارے میں اللہ کا اصول ہمیشہ یکساں رہا ہے اس میں کبھی تبدیلی نہیں آئی اگر کسی قوم پر انعام ہوتا ہے تو وہ بھی کسی خاص بنیاد کی وجہ سے اور اگر کسی کو سزا ملتی ہے تو اس کے لیے بنیاد ہوتی ہے یہ سنت اللہ ہمیشہ سے جاری ہے اور اسی کے مطابق اللہ تعالیٰ سزا یا جزا کا فیصلہ کرتا ہے۔ آزمائش بذریعہ بدحالی اور تکلیف ارشاد ہوتا ہے وما ارسلنا فی قریۃ من نبی نہیں بھیجا ہم نے کسی بستی میں کوئی رسول ۔ قریہ کسی بھی آبادی کو کہتے ہیں خواہ چھوٹی ہو یا بڑی۔ چھوٹے سے لے کر بڑے شہروں تک کے لیے قریہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے چناچہ مصر کے بڑے بڑے شہروں پر بھی بستی کا اطلاق کیا گیا ہے سورة یوسف میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائیوں کا اپنے باپ کے سامنے یہ بیان ذکر کیا گیا ہے ” وسئل القریۃ التی کنا فیھا “ یعنی اے باپ ! اگر آپ کو ہماری بات کا یقین نہیں آتا تو اس بستی سے دریافت کریں جہاں ہم اترے تھے ظاہر ہے کہ جہاں وہ مصر میں گئے تھے وہ تو بہت بڑا شہر تھا اس یطرح قریہ کا اطلاق مکہ معظمہ پر بھی کیا گیا ہے طائف کو بھی قریہ کہتے ہیں کہ مکہ اور طائف دو بڑے شہر ہیں بہرحال قریہ سے مراد آبادی ہے جس میں چھوٹی بڑی سب شامل ہیں۔ فرمایا ، ہم نے نہیں بھیجا کسی بستی کوئی نبی مگر ہمارا دستور یہ رہا ہے الا اخذناً اھلھا کہ ہم پکڑتے ہیں اس کے رہنے والوں کو بالباساء والضراء بدحالی اور تکلیف کے ساتھ۔ مقصد یہ کہ کسی قوم یا بستی کی طرف اپنا رسول بھیج کر پھر ہم انہیں اس کے حال پر نہیں چھوڑ دیتے بلکہ انہیں آزماتے ہیں عام طور پر آزمائش کے دو طریقے اختیار کیے جاتے ہیں ایک یہ کہ لوگوں کو مشکل اور تکلیف میں ڈال کر آزمایا جائے کہ وہ کس حد تک صبر کرسکتے ہیں اور دوسرا یہ کہ آرام اور راحت دے کر آزمائش کی جائے کہ یہ کس طرح شکر ادا کرتے ہیں ۔ دوسرے مقام پر فرمایا ونبلوکم بالشر وہ الخیر فت نتد (انبیائ) ہم تمہیں بھلائی اور برائی کے ذریعے آزمائیں گے تو یہاں بھی فرمایا کہ ہم نے بستی والوں کو آزمایا ، بدحالی اور تکلیف دے کر۔ باساد بیرونی مکلیف کو کہتے ہیں جیسے قحط اور خشک سحالی وارد ہوجائے زلزلہ آجائے ، سیلاب اور طوفان آجائے۔ سخت گرمی یا سخت سردی کی لہر آجائے ، یہ سب بیرونی مصیبتیں ہیں جو کسی قوم پر نازل ہوسکتی ہیں اور ضراء انسان کی اندرونی تکلیف کو کہتے ہیں جیسے کوئی بیماری لاحق ہوجائے وبا پھوٹ پڑے ، کوئی شخص ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوجائے۔ خوف طاری ہوجائے۔ تو یہ اندرونی تکالیف ہیں۔ فرمایا ہماری آزمائش کی پہلی صورت یہ ہے کہ کسی قوم کو بیرونی یا اندرونی تکلیف میں مبتلا کردیں اور ایسا کرنے سے مقصود یہ ہوتا ہے لعلھم یضرعون تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑگڑائیں اور عاجزی کا اظہار کریں جب مشکل درپیش ہوتی ہے تو عام طور پر لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہیں اپنے گناہوں کی معافی چاہت ہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوجائے اور ان کی تکلیف رفع کردے اور ان کو مصیب سے نجات دیدے۔ کسی شخص یا قوم پر تکلیف کا آجانا اس کے لیے اللہ کی طرف سے تنبیہ ہوتی ہے تاکہ لوگ کفر اور شرک سے باز آجائیں برائی کو ترک کردیں اور نیکی کو اختیار کریں اللہ تعالیٰ کو خشوع و خضوع اور عاجزی بڑی پسند ہے حدیث شریف میں آتا ہے عجیا للاموالمومن ان اصابہ ضراء قصبر فکان خیرالہ وان اصابہ سراء فشکر مکان خیرالہ یعنی مومن کی حالت بڑی عجیب ہے اگر اس کو تکلیف پہنچتی تو صبر کرتا ہے اور یہ اس کے لیے بہتر ہوتا ہے اور اگر اس کو راحت پہنچتی ہے عزت و ترقی ملتی ہے صحت و عاقبت حاصل ہوتی ہے مال و دولت کی فراوانی ہوجاتی ہے تو وہ خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے فرمایا یہ حالت بھی اس کے لیے بہتر ہوتی ہے ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ ایمان دو چیزوں میں بند ہے اس کا نصف حصہ صبر میں ہ اور نصف حصہ شکر میں یہ بھی ارشاد ہے لایزال البلاء بالمومن یعنی مومن کسی وقت آزمائش سے خالی نہیں رہتا ہے حتی یخوج نقیامن الذنوب یہاں تک کہ وہ گناہوں سے پاک صاف ہو کر نکل جاتا ہے مومون شخص تنگی اور آسانی دونوں حالتوں میں کامیاب و کامران ہو کر نکلتا ہے سختی میں صبر کرتا اور راحت میں شکر ادا کرتا ہے مومن کا شعور صحیح ہوتا ہے وہ کبھی غرور میں مبتلا نہیں ہوتا بلکہ ہمیشہ عاجزی کا اظہار کرتا ہے اس کے برخلاف منافق کی مثال گدھے کی ہے اسے کچھ پتہ نہیں کہ مالک نے اسے کیوں باندھ رکھا ہے اور کیوں کھول دیا ہے اسی طرح منافق بھی سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے تکلیف میں کیوں مبتلا کیا تھا اور راحت کیوں عطا کی وہ ہر حالت میں اپنی ڈگر پر چلتا رہتا ہے۔ تکلیف کی بجائے راحت قوموں کی آزمائش کا پہلا طریقہ اللہ نے یہ بتایا کہ ہم متعلقہ وم کو تکلیف میں مبتلا کرتے ہیں تاکہ وہ عاجزی کریں اور گڑگڑائیں اب آزمائش کا دوسرا طریقہ یہ بیان کیا جارہا ہے ثم بدلنا مکان السیئۃ الحسنۃ پھر ہم برائی کو بھلائی میں بدل دیتے ہیں پہلے تکلیف میں مبتلا تھے پھر راحت آگئی پہلے بیمار تھے اب تندرست ہوگئے پہلے مال میں تنگی تھی پھر فراوانی آگئی۔ مطلب یہ ہے کہ ہم نے کسی شخص یا قوم کی بدحالی کو آسودگی میں تبدیل کردیا حتیٰ عفوا یہاں تک کہ وہ آسودگی میں بڑھ گئے عفو کا معنی پڑھنا اور پھلنا پھولنا ہوتا ہے یعنی جب انہیں آرام و راحت میں فراوانی حاصل ہوگئی وقالواتو انہوں نے کہا قد مس اباء نا الضراء والسراء یہ تکلیفیں اور راحتیں ہمارے آبائو اجداد کو بھی آتی رہی ہیں یہ کوئی نئی بات نہیں ہے دنیا کے دور اس اس طرح چلتے رہتے ہیں کبھی مصیبت آگئی کبھی راحت مل گئی ، کبھی خشک سالی اور کبھی فراوانی ، کبھی بیماری اور کبھی صحت ، کبھی غریبی اور کبھی امیری ، یہ زمانے کے چکر میں۔ افسوس کہ انہوں نے اللہ کی طرف سے ان آزمائشوں سے کوئی سبق نہ سیکھا بلکہ اسے معمولی چیز سمجھ کر اس سے گزر جاتے ہیں۔ دراصل یہی چیز انسان کی ناکامی کا سبب بنتی ہے اللہ تعالیٰ انسان پر مختلف حالتیں اس لیے وارد کرتا ہے کہ وہ ان سے سبق حاصل کریں اور تکذیب سے باز آجائیں۔ سرکشی کو چھوڑ دیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کریں پھر جو لوگ ان تنبیہات کا اثر قبول کرکے راہ راست پر آجاتے ہیں وہ کامیاب ہوجاتے ہیں اور جو صرف نظر کرتے ہیں وہ دائمی ناکامی کا منہ دیکھتے ہیں۔ آزمائش بصورت راحت جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کو راحت عطا کرتا ہے تو پھر وہ قوم دو گروہوں میں تقسیم ہوجاتی ہے جو مومن ہوتے ہیں وہ اسے اللہ تعالیٰ کا احسان مانتے ہوئے اس کا شکر ادا کرتے ہیں اور جو منافق ہوتے ہیں و عیش و آرام صحت ، مال و دولت پاکر تکرب میں مبتلا ہوجاتے ہیں پھر وہ غفلت میں پڑجاتے ہیں حتیٰ کہ خدا تعالیٰ اور عاقبت کو بھی فراموش کردیتے ہیں ان کا نظریہ وہی ہوتا ہے کہ ایسی تکلیفیں تو اکثر آتی رہتی ہیں ہمارے بڑوں کو بھی آئیں اس میں فکر کرنے کی کوئی بات نہیں ہے جب کسی قوم کی یہ حالت ہوجاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکتا ہے اور قوم دائمی عذاب میں مبتلا ہوجاتی ہے۔ حضرت شاہ عبدالقادر (رح) لکھتے ہیں کہ اگر بندے کو دنیا میں گناہ کی سزا پہنچتی رہے تو امید ہے کہ وہ توبہ کرلے اور جب گناہ راس آگیا تو یہ اللہ کا بھلا وہ ہے پھر ڈر ہے ہلاکت کا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی زہر کھالے۔ پھر اگر وہ اسے اگل دے تو بچ جانے کی امید ہوتی ہے اور اگر زہر ہضم ہوجائے تو انسان کا کام تمام ہوگیا انسان کا یہی حال ہے اگر اللہ کی طرف سے تبینہ آنے پر سنبھل گیا تو بچ گیا تھوڑی سی سزا پر ہی سمجھ آگئی توبہ کرلی اور دائمی سزا سے بچ گیا اور اگر وہ گناہ میں راسخ ہوگیا تو ہلاک ہوگیا پھر وہ مستقل عذاب کا مستحق بن گیا۔ اللہ تعالیٰ کا یہی دستور ہے۔ اچانک گرفت بہرحال فرمایا کہ اللہ نے جہاں بھی اپنے انبیا مبعوث فرمائے ان لوگوں کو راحت اور تنگی دونوں طریقوں سے آزمایا۔ پھر جب وہ اس آزمائش میں پورے نہ اترے فاخذ نھم بغتۃ تو ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا بغتہ قیامت کو بھی کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی اچانک ہی آئے گی حضور ﷺ نے فرمایا اچانک موت مومن کے حق میں بہتر ہے ، کیونکہ وہ ایمان کی حالت میں اچانک فوت ہوگیا وہ اللہ کی رحمت میں چلا گیا یہ موت اس کے لیے باعث برکت بن جائے گی اور کافر کے لیے اچانک موت نہایت افسوسناک ہوگی کہ وہ کوئی بات نہ کرسکا ہوسکتا ہے کہ وقت ملتا تو وہ توبہ ہی کرلیتا مگر اسے موقع ہی نہ ملا اور وہ ہمیشہ کے لیے ناکام ہوگیا۔ فرمایا ہم نے انہیں اچانک پکڑا ، اس حالت میں وھم لایشعرون کہ وہ بیخبر تھے ان کو عذاب کی آمد کا علم ہی نہ ہوسکا اور وہ غفلت ہی کی حالت میں ہی اپنے انجام کو پہنچ گئے اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے فلاح اور کامیابی کے اصول بیان فرمائے ہیں۔
Ayahs 7:96–99

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰۤى اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 7:96 in the Quran reader

اور اگر بستیوں کے رہنے والے ایمان لاتے اور تقوے کی راہ اختیار کرتے تو البتہ ہم کھول دیتے ان پر برکتیں آسمان کی طرف سے اور زمین سے ، لیکن انہوں نے جھٹلایا ، پس پکڑا ان کو ان کاموں کے بدلے جو وہ کماتے تھے

اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآئِمُوْنَؕ Open ayah 7:97 in the Quran reader

کیا بےفکر (نڈر) ہوگئے ہیں۔ بستیوں کے رہنے والے اس بات سے کہ آجائے ان کے پاس ہماری گرفت رات کے وقت اور وہ سوئے ہوئے ہوں

اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 7:98 in the Quran reader

کیا بےفکر (نڈر) ہوگئے ہیں بستیوں کے رہنے والے اس بات سے کہ آجائے ان کے پاس ہماری گرفت دوپہر کے وقت اور وہ کھیل میں مشغول ہوں

اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ١ۚ فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠ Open ayah 7:99 in the Quran reader

کیا بےفکر ہوگئے ہیں یہ لوگ اللہ کی مخفی تدبیر سے۔ پس نہیں بےفکر ہوتے اللہ کی مخفی تدبیر سے مگر وہی جو نقصان اٹھانے والے ہیں۔

ربط آیات تبلیغ رسالت کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے اس سورة کی ابتداء میں تخلیق انسان اور خلاف ارضی کا ذکر کیا ہے پھر انبیاء کی بعثت اور سلسلہ تبلیغ کے ضمن میں پانچ انبیاء اور ان کی قوموں کا حال بیان کیا گزشتہ دو آیات میں اللہ نے اقوام عالم کی ذہنیت کا حال بیان فرمایا ، ان کی انبیاء دشمنی اور اللہ کی سنت کا ذکر کیا جب لوگوں انبیاء (علیہم السلام) کی مخالفت پر تل جاتے ہیں تو ابتداء میں اللہ تعالیٰ معمولی آزمائش میں ڈالتا ہے اندرونی اور بیرونی تکالیف میں ڈال کر قوم کو متنبہ کرتا ہے اگر لوگ اس تنبیہہ کا کوئی اثر قبول نہیں کرتے تو پھر اللہ تعالیٰ تکلیف کی جگہ راحت اور برائی کی جگہ اچھائی کو لے آتا ہے آرام و راحت میں پڑ کر اکثر لوگ غفلت کا شکار ہوجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع نہیں کرتے تکلیف اور راحت کو زمانے کا چکر سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمارے آبائو اجداد سے یہ دستور چلا آرہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت اچانک آتی ہے اور انہیں بیخبر ی میں ہی ہلاک کردیتی ہے اللہ تعالیٰ نے یہاں پر صرف پانچ اقوام کا تذکرہ کیا ہے جو نازفرمانی اور تکذیب کی وجہ سے تباہ ہوئیں مگر انسانی تاریخ شاہد ہے کہ ہر نبی کے زمانے میں اس قسم کے حالات پیش آئے۔ ایمان اور تقویٰ کی برکات آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے ان ذرائع کا ذکر کیا ہے جن کی وجہ سے انسان دنیا اور آخرت میں کامیابی کی منازل طے کرسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ سکتا ہے ارشاد ہوتا ہے ولو ان اھل القویٰ اگر بستیوں میں رہنے والے جیسا کہ گزشتہ درس میں عرض کیا تھا بستی سے مراد ہر چھوٹا بڑا شہر قصبہ یا دیہات ہے اگر ان بستیوں کے رہنے والے امنو واتقوا ایمان لاتے اور تقویٰ اختیار کرتے ، پرہیز گاری کا راستہ پکڑتے لفتحنا علیھم برکت من السماء ولارض تو ہم ان پر آسمان کی طرف سے اور زمین سے برکتیں کھول دیتے یعنی اگر یہ لوگ خدا کی گرفت سے ڈرتے اور کفر ، شرک اور معاصی سے بچتے رہتے تو یقیناً ان پر اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوتا اور آسمان و زمین کی برکات کے دروازے کھل جاتے۔ آسمان کی طرف سے نزول کا ایک سیدھا سادھا مفہوم تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بارش برساتا اور زمین بھی اناج ، سبزہ اور پھل اگائی اس طرح بارش بھی ان کے لیے باعث رحمت ہوتی اور یہ لوگ زمین کی مختلف الانواع پیداوار سے بھی مستفید ہوتے غرضیکہ دنیا و آخرت میں کامیابی کے اللہ تعالیٰ نے دو اصول بیان فرمائے ہیں ایک ایمان اور دوسرا تقویٰ ۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ اگر انسان نیکی ، ایمان اور تقویٰ کی راہ اخیار کریں تو ہم ان پر ایسی مہربانی کریں کہ رات کو بارش برائیں اور گرج کی آواز تک لوگوں کے کانوں میں نہ پہنچے پھر دن کے وقت سورج کو خوب روشن کردیں اور اس طرح ان کی بدحالی خوشحالی میں بدل جائے ترمذی شریف کی حدیث قدسی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے یا بن اٰدم تفرغ لعبادتی اے آدم کے بیٹے ! اپنے دل کو میری عبادت کے لیی فارغ کردے اگر ایسا کروگے لاملاقلبک غنی تو میں تمہارے دل کو غنی سے بھردوں گا اسد فقرک اور تیری محتاجی کو دور کردوں گا اور اگر ایسا نہیں کرو گے میری عبادت کی طرف رجوع نہیں کرو گے میرے سامنے عاجزی کا اظہار نہیں کرو گے تو تمہارے دل کو فکر اور اندیشے سے بھردوں گا اور تمہاری احتیاج کو بھی بند نہیں کروں گا۔ ایمان اور تقویٰ کی اہمیت سے متعلق سورة مائدہ میں بھی گزر چکا ہے وتو ان اھل الکتب امنو واتقو اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور تقویٰ کی راہ اختیار کرتے تو ہم ان کے گناہ معاف کرکے انہیں جنت میں داخل کرتے مگر انہوں نے ناشکری کی اور طرح طرح کے آرام و مصائب کا شکار ہوئے یہاں بھی اللہ کا فرمان ہے کہ اگر اہل القریٰ ایمان لاتے اور تقویٰ کی راہ پر چلتے تو ہم ان کے لیے برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔ کمذبین کی گرفت فرمایا ایمان اور تقویٰ کی بجائے اکثر لوگوں نے ولکن کذبو اللہ کے پیغمبروں کی تکذیب کی اطاعت کی بجائے نافرمانی کا راستہ اختیار کیا اور نیکی کے بجائے بدی کو قبول کیا تو اس کا نتیجہ یہ ہوا فاخذنھم ہم نے ان کو پکڑ لیا حبا کانو یکسبون ان اعمال کی پاداش میں جو وہ انجام دیتے تھے جن گناہوں میں وہ لوگ مبتلا تھے اور برائی کے کام کرتے تھے کفر ، شرک اور معاصی میں غرق تھے لہٰذا پہلے ہم نے انہیں مہلت دی اور جب انہوں نے تنبیہ کو قبول نہ کیا تو پھر اچانک ہماری گرفت آئی اور وہ عذاب میں مبتلا ہوگئے اللہ تعالیٰ نے انہیں نہایت ذلت ناک طریقے سے ہلاک کیا کسی پر زلزلہ آیا ، کسی پر آسمان سے آگ برسی ، کوئی طوفان کا شکار ہوئے اور کسی پر پتھروں کی بارش ہوئی اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے پانچ قوموں کا حال باین کیا ہے تاہم باقی اقوام کے لیے بھی یہی اصول ہے جو بھی قوم اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتی ہے وہ طرح طرح کے عذاب میں مبتلا ہوتی ہے اور پھر آخرت کا عذاب تو سب سے بڑھ کر ہے اور دائمی ہے۔ برکت کا مفہوم برکت ایسی زیادتی کو کہتے ہیں جس میں تقدس کا مفہوم پایا جائے اس مقدس زیادتی کی مختلف صورتیں ہیں بعض اوقات کسی ظاہری چیز میں فی الواقع اضافہ ہوجاتا ہے حضور ﷺ کے کئی معجزات کے ذکر میں آتا ہے کہ پانی یا کھانا قلیل مقدار میں تھا پھر اس میں اللہ نے برکت دی تو چند آدمیوں کا کھانا سینکڑوں آدمیوں نے کھایا یا تھوڑا سا پانی تھا مگر اس سے سینکڑوں جانور اور آدمی سیراب ہوئے بعض اوقات تھوڑی مقدار کھانے میں اللہ تعالیٰ ایسی برکت عطا کرتا ہے کہ اچھے سے اچھا اور زیادہ مقدار کی نسبت بہتر صحت اور توانائی حاصل ہوجاتی ہے حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب کھانا کھائو تو برتن کو اچھی طرح صاف کرلیا کرو پھر اپنی انگلیوں کو بھی چاٹ لیا کرو فانکم لاتدرون فی ایۃ البرکۃ کیونکہ تمہیں علم نہیں کہ اللہ نے کس حصہ میں برکت رکھی ہے ہوسکتا ہے کہ پورے کھانے میں سے صرف انگلی کو لگنے والے حصہ میں ہی برکت ہو ، سیر بھر کھانا کھانے میں وہ صحت اور طاقت نہ ہو جو اس معمولی سے حصہ میں ہو ، بعض اوقات اللہ تعالیٰ معمولی سی چیز کو بڑی چیز کی نسبت زیادہ بابرکت بنا دیتا ہے۔ بسا اوقات کسی خاص وقت میں بڑی برکت ہوتی ہے کوئی انسان بارہ گھنٹے میں اتنا کام نہیں کرسکتا جتنا ایک گھنٹے میں کرلیتا ہے بزرگان دین کے اوقات مصروفیت دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اتنے کم وقت میں اتنا زیادہ کام کیسے انجام دے لیتے تھے مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) کی تصانیف کی تعداد ایک ہزار سے زیادہ ہے اس کے علاوہ آپ درس و تدریس کا کام بھی کرتے تھے روزانہ دس پارے تلاوت بھی کرتے ، بیعت ہونے والے مریدوں کو بھی ہدایات دیتے اور پھر روزانہ دو دو ، چار چار سو آنے والے خطوط کا جواب خود اپنے قلم سے تحریر فرماتے آدمی حیران ہوجاتا ہے کہ اتنے بہت سے کام کیسے انجام دے دیتے تھے اللہ تعالیٰ نے آپ کے اوقات میں برکت دے رکھی تھی کہ تھوڑے وقت میں زیادہ سے زیادہ کام انجام پا جاتا تھا۔ امام جلال الدین سیوطی (رح) کا بھی یہی حال تھا اللہ نے عمر زیادہ نہیں دی مگر جتنی دی ہے اس میں بہت زیادہ برکت عطا کی آپ نے سینکڑوں تصانیف چھوڑی ہیں جن سے مخلوق خدا مستفید ہوتی ہے تعلیم بھی دیتے تھے عبادات کی طرف بھی خاص رغبت تھی اور پھر روزمرہ کے دیگر امور بھی انجام دیتے تھے یہ سب اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی تھی جس نے وقت میں اتنی برکت ڈال دی کہ عام حالات میں اتنا کام سوگنا زیادہ وقت میں بھی نہیں کیا جاسکتا اسی طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کی صحت میں جان میں اور مال میں برکت عطا کرتا ہے جس کی وجہ سے انسان کو فلاح نصیب ہوجاتی ہے تاہم برکات کے نزول کا دارومدار دو چیزوں پر ہے یعنی ایمان اور تقویٰ یہ دونوں چیزیں جس قدر پرخلوص ہوں گی ، اللہ تعالیٰ ان میں اتنی ہی برکت عطا فرمائے گا۔ بے برکتی کے نتائج اس زمانے میں اپنے اردگرد نظر مارلیں اشیا کی تعداد اور مقدار لامحدود ہے اناج پہلے سے کئی گنا زیادہ ہے روزمرہ ضروریات زندگی کی فراوانی ہے ہر گھر میں ہر کام مشینوں کے ذریعے ہنے لگا ہے مہینوں کا کام ہفتوں میں اور ہفتوں کا دنوں میں ہورہا ہے بڑے بڑے کارخانے اور فیکٹریاں ہیں جن میں سو سو مزدور کا کام ایک ایک مشین انجام دے رہی ہے مگر اس کے باوجود ایک عام آدمی کی پریشانیوں میں اضافہ ہی ہوتا چلا جارہا ہے آخر وجہ کیا ہے ؟ ضرورت زندگی کی کثرت کے باوجود آدمی کو سکون کیوں میسر نہیں بات وہی ہے کہ ہر چیز سے برکت اٹھ گئی ہے برکت دو چیزوں سے حاصل ہوتی ہے یعنی ایمان اور تقویٰ جب انسان سے یہ بنیادی چیزیں مفقود ہوگئیں تو اللہ نے ہر چیز سے اپنی برکت اٹھالی۔ اب بےچینی اور اضطراب کے سوا کچھ نہیں ایک مزدور بھی پریشان ہے اور کروڑوں روپے میں کھیلنے والا ، محلات میں رہنے والا اور دنیا کی تمام آسائشوں کا حامل بھی بےچین اور مضطرب ہے آج روپے پیسے کی خوب ریل پیل ہے پرانے زمانے میں جو کام ایک پیسہ کے ذریعے ہوجاتا تھا وہ کام آج ایک روپے میں نہیں ہوتا نہ دلوں میں ایمان اور تقویٰ ہے اور نہ مال میں خیروبرکت ہے حدیث شریف میں آتا ہے کہ جو شخص جھوٹی قسم اٹھا کر سودا بیچتا ہے اس پر گاہک تو اعتماد کرلیتا ہے مگر اس کی کمائی سے برکت اٹھ جاتی ہے ایمان اور تقویٰ ہوگا تو تھوڑی چیز میں بھی برکت ہوگی ماقل وکفی خیرمماکثروالھی جو چیز تھوڑی مگر کفایت کرجائے وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو مگر غفلت میں ڈال دے آج لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں کفر ، شرک اور معاصی عام ہیں ایمان اور تقویٰ کمزور ہیں خوف خدا مفقود ہے ہر چیز کی فرواوانی ہے مگر سکون نایاب ہے۔ عذاب سے بےفکری فرمایا پہلے لوگوں کو بھی یہی حال تھا اگر بستیوں والے ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے تو ہم برکات نازل کرتے مگر انہوں نے کبھی زبان سے جھٹلایا اور کبھی عمل سے۔ پھر ہم نے انہیں سزا میں مبتلا کیا کبھی بےبرکتی کی سزا میں مبتلا کیا اور کبھی بدامنی اور بےچینی پیدا کردی برے اعمال کا یہی نتیجہ ہوتا ہے فرمایا افامن اھل القریٰ کیا بستیوں والے اس بات سے بےفکر ہوگئے ہیں ان یاتھم باسنابیانا کہ ان کے پاس ہماری گرفت رات کے وقت آجائے وھم نائمون اس حالت میں کہ وہ سوئے ہوئے ہوں انسان کو ڈرنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی گرفت کہیں رات کو سوتے میں نہ آجائے ابھی پندرہ بیس سال کی بات ہے الجزائر کے ساحلی شہر بذرتہ میں رات تین بجے ایسا زلزلہ آیا کہ پورا شہر ملیا میٹ ہوگیا پچاس ہزار کی آبادی میں سے اکثر ہلاک ہوئے اور جو بچ گئے وہ بےگھر ہوئے کوئٹہ کا مشہور زلزلہ بھی رات کے وقت ہی آیا تھا جس میں ڈیڑھ لاکھ انسان مارے گئے ۔ آگے فرمایا او امن اھل القریٰ کیا اہل شہر اس بات سے بےخوف ہوگئے ہیں ان یاتیھم باسنا ضحیٰ کہ آجائے ان کے پاس ہماری گرفت دوپہر کے وقت وھم یلعبون اور وہ کھیل میں مصروف ہوں مقصد یہ ہے کہ ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں اس کی پکڑ اچانک ہی نہ آجائے اور وہ غفلت ہی میں مارے جائیں۔ مایوسی کبیرہ گناہ ہے اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بےخوف ہوجانا کبیرہ گناہ ہے صاحب روح المعانی حضرت عبداللہ ابن باس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کبیرہ گناہ کون سے ہیں فرمایا الشرک باللہ سب سے بڑا گناہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا ہے والیاس من روح اللہ اور خدا کی رحمت سے مایوس ہوجانا ہے والامن من مکر اللہ اور خدا کی مخفی تدبیر سے بےفکر ہونا ہے سورة یوسف میں بھی آتا ہے کہ انہ لایالیس من روح اللہ الا القوم الفکرون اللہ کی رحمت سے صرف کافر ہی ناامید ہوتے ہیں مومن ہمیشہ اس کی رحمت اور مہربانی کا امیدوار ہوتا ہے اور بےفکر نہیں ہوتا اسی لیے امام ابوحنیفہ (رح) اور بعض دوسرے بزرگان دین فرماتے ہیں الایمان بین الخوف والرجا یعنی ایمان جو ہے وہ خوف اور امید کے درمیان ہے انسان کو اللہ تعالیٰ کی پکڑ کا ڈر بھی ہونا چاہیے اور اس کی رحمت کی امید بھی اگر وہ مایوس ہوگیا تو خدا کی رحمت سے دور ہوگیا اور اگر نڈر ہوگیا تو پھر بھی تباہ ہوگیا۔ مخفی تدبیر سے بےفکری فرمایا افامنو مکر اللہ کیا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مخفی تدبیر سے بےخوف اور بےفکر ہوگئے ہیں مکر کا معنی پوشیدہ تدبیر ہوتی ہے ” ومکروا ومکر اللہ واللہ خیرالمکرین “ (آل عمران) انہوں نے بھی خفیہ تدبیر کی اور اللہ نے بھی خفیہ تدبیر کی اور اللہ بہترین تدبیر کنندہ ہے یہ اردو یا پنجابی والا مکر نہیں جس کا معنی دھوکہ اور فریب ہوتا ہے بلکہ عربی زبان میں مکر سے مراد خفیہ تدبیر ہوتی ہے تو فرمایا کیا یہ لوگ مخفی تدبیر سے بےفکر ہوگئے ہیں حالانکہ فلا یامن مکر اللہ الا القوم الخسرون اللہ کی پوشیدہ تدبیر سے نقصان اٹھانے والے لوگ ہی بےفکر ہوتے ہیں کامیابی حاصل کرنے والوں کا یہ شیوہ ہرگز نہیں ہوسکتا وہ تو ہمیشہ اس کی گرفت سے ڈرتے رہتے ہیں۔ حضرت خواجہ حسن بصری (رح) کا مقولہ ہے کہ مومن آدمی نیک اعمال بھی انجام دیتا ہے اور ساتھ خدا تعالیٰ سے ڈرتا بھی رہتا ہے قرآن پاک میں مشفقون کا لفظہ بھی آتا ہے مطلب یہ ہے کہ ہر وقت خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے کہ شاید کوئی کوتاہی ہوگئی ہو اور یہ کہ خدا تعالیٰ ناراض ہوجائے فرمایا منافق قسم کے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو برائی کا ارتکاب بھی کرتے ہیں مگر بےخوف بھی ہوتے ہیں انہیں نہ کوئی فکر ہوتا ہے اور نہ اندیشہ ، ایک حدیث شریف میں یہ بھی آتا ہے کہ جب مومن سے گناہ سر زد ہوتا ہے تو اسے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا اس کے سر پر پہاڑ آگرا ہے اور منافق بڑے سے بڑا گناہ بھی کرتا ہے تو ایسے محسوس کرتا ہے جیسے ناک پر مکھی بیٹھ گئی ہو ، بس یوں کیا اور اڑ گئی اسے گناہ کا اتنا بھی خوف نہیں ہوتا جتنا مکھی کے بیٹھنے کا۔ یہ منافقوں کی حالت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے شکوہ کیا ہے اور جس کے اکثر لوگ شکار ہیں خدا کی مخفی تدبیر سے بےخوف ہونا نقصان اٹھانے والوں کا شیو ہے فلاح پانے والے ایما اور تقویٰ کو اپنا شعار بناتے ہیں جس کے ذریعے دنیا میں بھی امن و سکون اور ترقی نصیب ہوتی ہے اور عقبی میں کامیابی حاصل ہوگی۔