Ayah 7:155ربط آیات
گزشتہ آیات میں ان لوگوں کا بیان تھا جو موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم سے تعلق رکھتے تھے مگر بچھڑے کی پوجا میں ملوث ہوگئے تھے اللہ نے انہیں اسی وقت آگاہ کردیا تھا کہ انہیں خدا تعالیٰ کا غضب پہنچنے والا ہے اور یہ کہ انہیں دنیا کی زندگی میں بھی ذلت کا سامنا ہوگا یہ کیا کم ذلت تھی کہ انہیں اپنے ہی عزیزوں کے ہاتھوں قتل کیا گیا ان کی توبہ اس شرط کے ساتھ مشروط تھی کہ وہ ایک دوسرے کو قتل کریں اللہ نے فرمایا ہم افتراء کرنے والوں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں امام سفیان ابن عینیہ (رح) فرماتے ہیں کہ کل صاحب بدعۃ ذلیل یعنی ہر بدعتی شخص ذلیل ہے جو دین میں نئی بات ایجاد کرتا ہے وہ اچھا آدمی نہیں ہوسکتا بہرحال گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ تھم گیا تو انہوں نے تورات کی تختیاں اٹھالیں ان میں ہدایت لکھی ہوئی تھی جس پر عملدرآمد کا نتیجہ رحمت الٰہی کی صورت میں برآمد ہوتا۔
غضب الٰہی کے متعلق درس میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ کی ناراضگی مخلوق کی ناراضگی کی طرح نہیں ہوتی جس سے جذبہ انتقام کو ٹھنڈا کرنا مقصود ہو بلکہ اس غضب کا مطلب یہ ہے کہ مخلوق نے جو عمل اس دنیا میں انجام دیا ہے اس کا طبعی نتیجہ مرتب ہو کر سامنے آجائے چونکہ برے آدمی کے عقائد ، اعمال اور اخلاق ناپسندیدہ ہوتے ہیں اس لیے اس کے اعمال کا نتیجہ بھی خراب ہی نکلتا ہے اور اسی پر غضب کا اطلاق کیا جاتا ہے۔
ملکیت اور بہیمیت
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں ملکیت اور بہیمیت دو ایسی چیزیں رکھی ہیں جو اس سے کسی وقت بھی علیحدہ نہیں ہوتیں البتہ اللہ کا حکم یہ ہے کہ ایسے افعال انجام دو جن سے ملکیت میں اضافہ ہوتا رہے اور بہیمیت مغلوب رہے اس کے برخلاف اگر بہیمیت کو غلبہ حاصل ہوگیا تو انسان ناکام ہوجائے گا شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کی روح کے دو رخ ہیں ایک عالم بالا یا خطیرۃ القدس کی طرف اور دوسرا اس مادی جہاں کی طرف عالم بالا سے آنے والی اچھائی کی تمام باتیں اس رخ سے انسان میں داخل ہوتی ہیں جو عالم بالا کی طرف ہے اس کی مثال روشندان کی ہے جس کے ذریعے روشنی اندر داخل ہوتی ہے اسی رخ کو ملکیت سے تعبیر کیا گیا ہے انسان کی روح کا دوسرا رخ جو اس مادی جہان کی طرف سے وہ بہیمیت کہلاتا ہے تو شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص طہارت و پاکیزگی والے امور انجام دیتا ہے اللہ کے سامنے اخبات یعنی عاجزی کا اظہار کرتا ہے خیس اغراض سے علیحدہ رہتا ہے اور عدل و انصاف کو قائم کرتا ہے تو اس کے باطن میں موجود ملکیت کو بڑی تقویت حاصل ہوتی ہے اور انسان کا مزاج بالکل درست رہتا ہے اس کے برخلاف اگر کسی شخص نے اس دنیا میں نجاست اور گندگی والے امور انجام دیے کفر و شرک کی دلدل میں پھنس گیا بدعات میں ملوث ہوگیا ظلم و زیادتی اور حق تلفی کا مرتکب ہوا تو اس سے اس کی بہیمیت میں اضافہ ہوگا اور اس کا مزاج بگڑ جائے گا پھر جب جزائے عمل کا وقت آئے گا تو ایسا شخص ناکام ہوجائے گا اسی چیز کو اللہ کے غضب سے تعبیر کیا گیا ہے۔
شاہ صاحب (رح) انسانی مزاج کی مثال گھاس خور جانور کے ساتھ دیتے ہیں حلال جانور جب تک گھاس چرتا رہے گا اس کا مزاج درست رہے گا اور اگر یہی جانور (گائے بکری وغیرہ) گوشت کھانے لگے تو اس کا مزاج بگڑ جائے گا………… اور اس کے گوشت سے بو آنے لگے گی جس کی وجہ سے وہ کھانے کے قابل نہیں رہے گا اسی طرح جلالہ (گندگی کھانے والا) جانور کے گندگی کھانے کی وجہ سے اس کے گوشت سے بدبو آنے لگتی ہے اور اس کا گوشت کھانا جائز نہیں رہتا وجہ وہی ہے کہ اس نے اپنی فطرت کے خلاف کام کیا جس کی وجہ سے اس کا مزاج بگڑ گیا اسی لیے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ جلالہ جانور اگر گائے ہے تو اس کو دس دن تک باندھ کر رکھو اسے پاکیزہ چارہ کھلائو اور اس کے بعد ذبح کرو پھر اس کا گوشت صحیح ہوگا اور اگر کوئی مرغی گندگی کھاتی ہے تو اس کو کم از کم تین دن تک گھر میں بند رکھو اور پھر اس کے بعد ذبح کرو اس عمل کے بغیر جلالہ جانور کا گوشت کھانا مکروہ تحریمی میں داخل ہے۔
ستر آدمیوں کا انتخاب
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) تورات لے کر پہاڑ سے واپس آئے تو قوم کو شرک میں مبتلا پایا آپ نے غصے سے تورات کی تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کی سرزنش بھی کی پھر بھائی کی وضاحت پر آپ کا غصہ فرو ہوا تو آپ نے تورات کی تختیاں دوبارہ اٹھالیں جس میں ہدایت اور رحمت لکھی ہوئی تھی اب موسیٰ (علیہ السلام) نے وہ تورات قوم پر پیش کی اور اس پر عملدرآمد کا حکم دیا مگر قوم اس پر تیار نہ ہوئی آج کے درس میں ان ستر آدمیوں کا ذکر کیا جنہیں آپ طور پر لے گئے تھے اور پھر وہاں پر وہ ہلاک ہوگئے اس ضمن میں موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر بھی ہے ارشاد ہوتا ہے واختار موسیٰ قومہ سعبین رجلاً لمیقاتنا اور انتخاب کیا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے ستر آدمیوں کا ہمارے وعدہ کے وقت پر لانے کا یہاں پر قومہ سے پہلے لفظ من مخدوف ہے اور مطلب یہی ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم بنی اسرائیل میں سے ہی ستر آدمیوں کا انتخاب کیا بنی اسرائیل کے کل بارہ قبائل تھے اور یہ ستر آدمی انہیں میں سے چھ چھ آدمی تھے لمیقاتنا کا مطلب یہ ہے کہ خود اللہ تعالیٰ نے مقررہ وقت پر ان آدمیوں کو لانے کا حکم دیا تھا۔
ستر آدمیوں کے انتخاب کے متعلق مفسرین کی مختلف توجیہات ہیں بعض فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کی اپنی فرمائش پر جب اللہ تعالیٰ نے تورات نازل فرمائی اور موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے قوم پر پیش کیا اور اس کے احکام پر عملدرآمد کا حکم دیا تو وہ بگڑ گئے انہوں نے طرح طرح کے حیلے بہانے شروع کردیے کہنے لگے کہ اس کتاب کے احکام تو بہت مشکل ہیں ہم سے ان پر عمل نہیں ہوسکے گا اس کے علاوہ انہوں نے اس کتاب کے احکام الٰہی ہونے پر شبہ کا اظہار کیا کہنے لے پتہ نہیں کہ واقعی یہ اللہ کا کلام ہے یا موسیٰ (علیہ السلام) خود بناکر لے آئے ہیں امام سفیان ثوری (رح) نے حضرت علی (رح) سے روایت نقل کی ہے جس کے مطابق لوگوں نے کہا کہ ہم سے تورات پر عمل نہیں ہوتا بلک ہمارا اس پر یقین ہی نہیں ہے سورة بقرہ اور دوسرے مقامات میں موجود ہے کہ اس قوم ک مزاج ہی ایسا تھا اس وجہ سے یہ قوم لعنت کی مستحق ٹھہری اب دیکھ لیں کہ اللہ کے نبی سے خود ہی کتاب کا مطالبہ کیا اس پر اعتماد کیا مگر جب کتاب آگئی تو بےاعتمادی کا اظہار کیا اور اس کے منزل من اللہ ہونے پر ہی شبہ کا اظہار کردیا نیز موسیٰ (علیہ السلام) کے واضح معجزات دیکھنے کے باوجود آپ کا حکم ماننے سے انکار کردیا دوسری جگہ موجود ہے کہ انہوں نے تورات سن کر کہا سمعنا وعصینا یعنی ہم نے سن لیا مگر انکار کردیا کہ ہم سے اس پر عملدرآمد نہیں ہوسکتا کیونکہ یہ بڑے مشکل احکام ہیں ان حالات میں موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کی بارگاہ میں عرض کیا کہ اے مولا کریم ! اس ناہنجار قوم کا کیا علاج کروں تو اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان میں سے ستر آدمیوں کو منتخب کرکے طور پر لائو ہم کلام کریں گے جسے یہ لوگ خود اپنے کانوں سے سن لیں اور پھر واپس قوم کے پاس جا کر شہادت دیں کہ ہم نے اللہ کا کلام خود سنا ہے تورات کے کلام الٰہی ہونے میں کوئی شک نہیں لہٰذا اس پر عمل پیرا ہوجائو مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی تعمیل میں موسیٰ (علیہ السلام) نے ستر آدمیوں کا انتخاب کیا۔
بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جب بنی اسرائیل کے بعض لوگوں نے بچھڑے کی پوجا کی تو اللہ تعالیٰ اس قبیح حرکت سے سخت ناراض ہوئے اور موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنی قوم کے ستر سرکردہ آدمیوں کو طور پر لائیں جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف کریں اور معافی کی درخواست کریں اس حکم کی تعمیل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ایسے آدمیوں کو منتخب کیا جنہوں نے خود تو بچھڑے کی پوجا نہیں کی تھی مگر انہوں نے شدومد سے دوسروں کو منع بھی نہیں کیا تھا مفسرین کا تیسرا قول یہ ہے کہ جب ہارون (علیہ السلام) کا آخری وقت قریب آگیا تو اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور خاندان کے دیگر لوگ ایک پہاڑ کے دامن میں اقامت پذیر تھے جب ہارون (علیہ السلام) فوت ہوگئے تو موسیٰ (علیہ السلام) قوم کے پاس واپس آئے اور انہیں بھائی کی وفات کی خبر دی قوم نے کہا کہ ہارون (علیہ السلام) آپ کے مقابلے میں بڑے نرم مزاج تھے وہ ہم پر بڑے مہربان تھے جب کہ آپ سختی سے پیش آتے ہیں ہمیں شبہ ہے کہ آپ نے ہارون (علیہ السلام) کو خود قتل کردیا ہے چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) قوم کو لے کر واپس اپنے مقام پر آئے جہاں ہارون (علیہ السلام) کا جسم مبارک رکھا ہوا تھا ان لوگوں کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ نے ہارون (علیہ السلام) سے خطاب کیا کہ آپ کو کس نے قتل کیا ہے تو ہارون (علیہ السلام) نے بول کر کہا کہ مجھے کسی نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے طبعی وفات دی ہے یہ بات اپنے کانوں سے سن کر بھی وہ لوگ مطمئن نہ ہوئے اور انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے حیلہ بازی کی جس کی وجہ سے اگلے واقعات پیش آئے گویا بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ستر آدمیوں کا انتخاب اس مقصد کے لیے کیا تھا تاہم معذرت والی بات زیادہ قرین قیاس ہے۔
بہرحال ستر آدمیوں کے انتخاب کا جو بھی مصداق ہے موسیٰ (علیہ السلام) ان کو لے کر کوہ طور پر گئے تاکہ اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہوسکیں تفسیری روایات میں آتا ہے کہ جب یہ لوگ طور پر پہنچے تو ابر چھا گیا پھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام کیا جسے بنی اسرائیل نے خود سنا مگر پھر بھی ایمان نہ لائے اور کہنے لگے کہ ہمیں کیا معلوم ہے کہ آپ کے ساتھ واقعی اللہ تعالیٰ ہم کلام تھا نیز یہ بھی کہا لن نومن لک حتیٰ نری اللہ جھرۃ (البقرۃ) ہم آپ پر گز ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں یہ ان کا نیا مطالبہ تھا اللہ تعالیٰ کو اس دنیا میں دیکھنا چاہتے تھے جو کہ ممکن نہیں ہے پہلے گزر چکا ہے کہ خود موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی رویت الٰہی کی خواہش ظاہر کی تھی مگر اللہ نے فرمایا لن ترنی کہ تم مجھے ہرگز نہیں دیکھ سکتے پھر اللہ نے کوہ طور پر اپنی ذرا سی تجلی ڈالی تو پہاڑ ریزے ریزے ہوگیا اور موسیٰ (علیہ السلام) بےہوش ہو کر گر پڑے۔
پریشانی اور دعا
بہرحال جب قوم کے ستر آدمیوں نے اللہ کا کلام سن کر بھی اللہ کو آنکھوں سے دیکھنے کا مطالبہ کردیا تو اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکا فلما اخذتھم الرجفۃ پھر جب پکڑا ان کو زلزلے نے سورة بقرہ میں آتا ہے فلخذ تکم الصعقۃ پھر تمہیں بجلی نے پکڑ لیا گزشتہ دروس میں بھی بیان ہوچکا ہے کہ ان لوگوں پر اوپر سے بجلی پڑی اور نیچے سے زلزلہ آیا اور یہ ستر آدمی وہیں ہلاک ہوگئے بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ وہ لوگ بےہوش ہو کر نیم مردہ حالت میں ہوگئے اور بعض کہتے ہیں کافی الحفیقت ان پر موت طاری ہوگئی اب موسیٰ (علیہ السلام) پریشان ہوگئے کہ یہ لوگ تو اپنی گستاخی کی وجہ سے ہلاک ہوگئے مگر میں واپس جاکر قوم کو کیا جواب دوں گا وہ کہیں گے کہ تم نے ہمارے آدمی ساتھ لے جاکر مروا دیے ہیں اس پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حضور نہایت عاجزی کے ساتھ دعا کی قال رب عرض کیا اے پروردگار الوشئت اھلکتھم من قبل اگر تو چاہتا تو ان کو پہلے ہی ہلاک کردیتا جب دوسرے فرعونی دشمنوں کو ہلاک کیا تھا تو ان کو بھی کردیتا مگر تو نے اب تک ان کو مہلت دی تو قادر مطلق ہے ان کے علاوہ وایایٰ تو مجھے بھی اس سے پہلے ہلاک کرنے پر قادر تھا موسیٰ (علیہ السلام) نے اس حد تک عاجزی اور انکساری کا اظہار کیا کہ خود کو بھی ہلاکت میں شامل کرلیا اور عرض کیا اے پروردگار اتھلکنا بما فعل السفھاء منا کیا تو ہمیں اس لیے ہلاک کرتا ہے کہ ہم میں سے بعض بیوقوفوں نے غلطی کی ہے سارے لوگ تو اس کے مرتکب نہیں ہوئے مگر بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے ؎
یکے از قوم چوں بےدانشی کرو
نہ کہ را منزلت مانند نہ مہ را
کہ قوم میں سے چند آدمی بےوقوفی کرتے ہیں مگر اس کا وبال ساری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے نہ چھوٹے کا کوئی مقام رہتا ہے اور نہ بڑے کا قوموں کی زندگی میں ایسے واقعات پیش آتے رہتے ہیں کہ چند آدمیوں نے کوئی بری حرکت کی تو ساری قوم اس کپلیٹ میں آگئی ملک و قوم کے غدار چند آدمی ہوتے ہیں مگر ان کی ملک دشمن حرکات کی وہ سے سارا ملک تباہی کے کنارے پر پہنچ جاتا ہے اسی لیے موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ کے حضور عرض کیا کہ مولا کریم ! کیا ان چند بیوقوفوں کی گستاخی کی وجہ سے تو ساری قوم کو ہلاک کرتا ہے۔
ابتلامن جانب اللہ
مزید عرض کیا ان ھی الا فتنتک نہیں ہے یہ ہلاکت مگر تیری آزمائش ستر آدمیوں کی ہلاکت تیری طرف سے امتحان ہے مگر اس امتحان میں کامیابی بھی تیری توفیق ہوسکتی ہے کیونکہ تضل بھا من تشاء تو جس کو چاہے اس کے ساتھ بہکا دے وتھدی بھا من تشاء اور جس کو چاہے راہ راست دکھا دے مطلب یہ کہ آزمائش میں کامیابی یا ناکامی تیرے ہی دست قدرت میں ہے پھر آپ نے یہ بھی عرض کیا انت ولینا تو ہی ہمارا کارساز ہے تیرے بغیر بگڑی بنانے والا کوئی نہیں ۔ فرغفرلنا پس ہمیں معاف کردے ہم سے غلطی ہوئی چند آدمیوں نے گستاخی کا ارتکاب کیا مگر مولا کریم ! اب تو ہمیں معاف کردے وارحمنا ہم پر رحم فرما کہ ہم تیری رحمت کے طلب گار ہیں وانت خیرالغفرین اور سب سے بہتر بخشش کرنے والی تیری ذات ہے تیر بغیر کوئی نہیں جو ہم پر مہربانی کرسکے چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا اللہ نے قبول فرمائی اس کا ذکر سورة بقرہ میں موجود ہے ثم بعتنکم من م بعد موتکم لعلکم تشکرون اللہ نے فرمایا پھر ہم نے تمہیں اٹھا دیا مرجانے کے بعد تاکہ تم خدا تعالیٰ کی نعمت کا شکر ادا کرو اور آئندہ ایسی گستاخی نہ کرو گویا اللہ تعالیٰ نے ان ستر آدمیوں کو پھر زندہ کردیا۔
اگلی آیت میں موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا بقیہ حصہ آرہا ہے پھر اس کے بعد اسلام کی دعوت عامہ اور حضور خاتم النبیین ﷺ کی نبوت و رسالت کا تذکرہ آئے گا۔
Ayah 7:156ربط آیات
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے بنی اسرائیل میں سے ستر آدمیوں کا انتخاب کیا اور انہیں لے کر طور پہاڑ پر گئے تاکہ وہ معصیت کے ارتکاب پر اللہ تعالیٰ سے معذرت کریں وہاں پر ان لوگوں نے کلام الٰہی سنا مگر ایمان لانے کی بجائے حیل و حجت کرنے لگے اور اس کے کلام الہی ہونے پر شک کا اظہار کیا طرح طرح کی نقطہ چینی اور اعتراضات کیے اس پر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی ہوئی نیچے سے زلزلہ آیا اور اوپر سے بجلی گری اور ان لوگوں پر موت طاری ہوگئی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کی بار گاہ میں نہایت عاجزی اور انکساری کے ساتھ دعا کی کہ پروردگار ! اگر تو چاہتا تو اس سے پہلے بھی انہیں ہلاک کرسکتا تھا اور ساتھ ہی مجھے بھی ہلاک کرسکتا تھا تو کیا ہم میں سے بعض بیوقوفوں کی وجہ سے تو ہمیں ہلاک کرے گا یہ تری آزمائش ہے جس کے ساتھ تو بہکاتا ہے اور سیدھے راستے پر ڈالتا ہے جسے چاہتا ہے ہمارا کارساز تو ہی ہے ہماری عاجزانہ درخواست ہے کہ ہمیں معاف کردے اور بخش دے ہماری عاجزانہ درخواست ہے کہ ہمیں معاف کردے اور بخش دے ان لوگوں سے غلطی ہوئی ہے جس اثر باقی قوم پر بھی پڑے گا ہم کو معاف کردے اور ہم پر رحم فرما اور تو سب سے بہتر بخشش کرنے والا ہے اب آج کے درس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا باقی حصہ آرہا ہے۔
موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا
آپ نے بارگاہ رب العزت میں یہ بھی عرض کیا واتکب لنا فی ھذہ الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ اے اللہ ! لکھ دے ہمارے لیے اس دنیا کی زندگی میں بھلائی اور آخرت میں انا ھدنا الیک بیشک ہم نے رجوع کیا تیری طرف ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پہلی دعا معصیت کے ارتکاب پر معافی کے لیے تھی اور اب یہ دعا دنیا و آخرت میں بھالئی کے حصول کے لیے ہے شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) لکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے اپنی امت کے حق میں دنیا و آخرت کی بھلائی سے مراد یہ ہے کہ ان کی امت دنیا و آخرت میں تمام امتوں پر مقدم رہے یعنی اللہ تعالیٰ ان کو باقی ساری امتوں پر برتری عطا فرمائے مگر اللہ نے جواب میں فرمایا کہ میرا عذاب اور رحمت کسی خاص فرقے یا گروہ کے لیے مخصوص نہیں ہے اللہ تعالیٰ جس کو چاہے عذاب دے دے اور اس کی رحمت عامہ ساری مخلوق کو شامل ہے البتہ جس رحمت خاصہ کا مطالبہ تم کر رہے ہو وہ تو ان لوگوں کو حاصل ہوگی جن میں خوف خدا پایا جائے جو زکوٰۃ ادا کرتے ہوں اور جو اللہ کی تمام باتوں پر یقین رکھتے ہوں اور یہ تینوں صفات نبی آخرالزمان (علیہ السلام) کی امت میں پائی جائیں گی اس کے حقدار حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت کے وہ لوگ بھی ہوں گے جو اللہ کے آخری نبی اور اس کی کتاب پر ایمان لے آئیں گے اور جو لوگ آخری امت کا جزو نہیں بن سکیں گے پیغمبر آخرالزمان پر ایمان نہیں لائیں گے وہ اس دعا کا مصداق نہیں بن سکیں گے۔
الغرض ! موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس طرح دعا کی کہ اللہ ! ہمارے لیے اس دنیا میں بھی بھلائی لکھ دے اور آخرت میں بھی بیشک ہم نے تیری ہی طرف رجوع کیا ہے قرآن پاک میں یہی دعا ان الفاظ میں بھی آئی ہے کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار (البقرہ) اے اللہ ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا فرما اور آخرت میں بھی اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا اس کے علاوہ بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو یوں دعا کرتے ہیں ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ (البقرہ) اے اللہ ! ہمیں اس دنیا میں بھلائی عطا فرما دوسرے مقام پر آتا ہے ربنا عجل لنا قطنا قبل یوم الحساب اے اللہ ! ہمیں جو کچھ دینا ہے قیامت سے پہلے پہلے یہیں دے دے گویا ہم آخرت کو نہیں جانتے۔ اللہ نے فرمایا ومالہ فی الاخرۃ من خلاق (البقرہ) ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہے دنیا و آخرت دونوں مقامات کے لیے بھلائی طلب کرنی چاہیے یہی دعا درست اور پسندیدہ ہے۔
دنیا و آخرت کی بھلائی
دنیا اور آخرت کی بھلائی کی دعا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کی اور یہ ہماری امت کے لیے بھی نہایت مفید ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں حسنۃ یعنی بھلائی اپنے اندر بڑا وسیع مفہوم رکھتی ہے مثلاً انسان غلطی کرنے کے بعد اگر تائب ہوجائے تو یہ اس کے لیے بمنزلہ بھلائی کے ہے توبہ کی توفیق حاصل ہوجانا بہت بڑی سعادت ہے جس کو توبہ کی توفیق نہیں ملتی وہ شخص شقی اور بدبخت ہوتا ہے اور بھلائی یہ ہے کہ انسان کو نیکی کی توفیق مل جائے رزق حلال نصیب ہو ، اطاعت کی توفیق ملے اور دنیا میں نیک نیتی اور سچائی حاصل ہو صدق مقال بھی بہت بڑی نعمت ہے جسے حاصل ہوجائے ڈاکٹر اقبال مرحوم کہتے ہیں ؎
سردین اکل حلال صدق مقال
خلوت و جلوت تماشائے جمال
دین کا راز اس بات میں ہے کہ انسان کو حلال روزی اور سچی بات نصیب ہو اور خلوت و جلوت میں خدا کے جمال کا مظاہرہ ہو اگر خلوت و جلوت کی حالتیں مختلف ہیں تو یہ نفاق کی علامت ہے حضرت علی ؓ کا قول ہے کہ نیک بیوی نصیب ہوجانا بھلائی ہے سعدی صاحب (رح) کا قول بھی ہے ؎
زن بد درسائے مردنکو
ہمدریں عالم است دوزخ اد
یعنی نیک آدمی کے گھر میں بری عورت دنیا میں دوزخ کے مترادف ہے تو حسنہ میں یہ بھی داخل ہے کہ اچھی عورت نصیب ہو مستدرک حاکم میں حضور ﷺ کا یہ ارشاد موجود ہے کہ جس آدمی کو تین چیزیں نصیب ہوجائیں وہ دنیاوی لحاظ سے سعادت مند ہے یعنی اچھی بیوی اچھی سواری اور مناسب مکان۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا اگر اچھی بیوی میسر نہیں تو دنیا میں ہی دوزخ ہے اگر سواری بہتر نہیں تو پھر بھی نقل و حمل میں تکلیف کا باعث ہے اور اگر مکان مناسب حال نہ ہو گرمی سردی سے بچائو نہ کرسکے یا مناسب ہوادار نہ ہو تو بھی شقاوت کی نشانی ہے۔
مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) لکھتے ہیں کہ حسنہ سے مراد محض مال و جاہ سازو سامان ، صحت و عافیت وغیرہ ہی نہیں کاروباری برتری ، فارغ البالی ، اچھا مکان ، اچھی بیوی اور اچھی سواری ہی سعادت کی علامت نہیں صرف اچھی اولاد کا ہونا بھی کسی شخص کے لیے بھلائی کی نشانی نہیں بلکہ حسنہ سے مراد وہ حالت ہے جو اللہ کے نزدیک اچھی ہو انسان دولت مند ہو یا فقیر ، صحت مند ہو یا بیمار ، اس کی اچھی حالت وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کو پسندیدہ ہے جاہ و مال کا حامل آدمی شقی ہوسکتا ہے مگر ایک تکلیف زدہ ضرور اللہ کے ہاں سعادت مند ہوسکتا ہے اس لیے اللہ تعالیٰ سے دنیا میں ایی بھلائی کی درخواست کرنی چاہیے جو اس کے نزدیک بہتر ہے اور آخرت میں اچھی حالت سے یہ مراد ہے کہ انسان کو نجات حاصل ہوجائے گناہوں کی معافی مل جائے اور خدا تعالیٰ کی رضا نصیب ہوجائے اور پھر بھلائی کا آخری درجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوجائے اگر آخرت میں خدا کی رضا اور نجات حاصل نہ ہوئی تو یہ آخرت کی بدبختی ہے اسی لیے اللہ کے نیک بندوں کی دعا ہمیشہ یہ ہوتی ہے کہ مولا کریم ! ہمیں دنیا میں بھلائی نصیب فرما اور آخرت میں بھلائی حاصل ہو وقنا عذاب النار اور دوزخ کے عذاب سے ہمیں بچالے۔
یہود کی وجہ تسمیہ
موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے آخری الفاظ یہ ہیں انا ھدنا الیک اے مولا کریم ! بیشک ہم نے تیری طرف رجوع کیا ہے یعنی دنیا و آخرت کی بھلائی کے حصول کے لیے تیرے ہی دروازے پر دستک دی ہے اور تیرے ہی سامنے ہاتھ پھیلائے ہیں مفسرین کرام نے لفظ ھدنا کے کئی ایک معانی بیان کیے ہیں اگر یہ ھاد ، یھود ، ھوداً ہو تو اس کا معنی رجوع کرنا ہے اس کا مادہ یھد بھی آتا ہے اور ھاد یھید کا معنی مائل کرنا آتا ہے اگر یہ معنی لیا جائے تو مراد ہوگا کہ ہم نے اپنے دلوں کو توبہ کے لیے تیری طرف مائل کردیا ہے…………… اسی ھدنا کے لفظ سے یہودیوں کا لقب یہودی بھی بنا ہے تاہم بعض فرماتے ہیں کہ یہود کا لقب حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بیٹے یہودا کے نام پر رکھا گیا ہے یہودی مذہب چونکہ نسلی مذہب سمجھا جاتا ہے اس لیے وہ اولاد اسرائیل ہی کو ہدایت پر سمجھتے ہیں چناچہ یہودا کی اولاد یہودی کہلائی۔
بہرحال یہاں پر ھدنا کا معنی رجوع کرنا ہے موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی آخر میں عرض کیا کہ بیشک ہم نے تیری ہی طرف رجوع کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کا پہلا حصہ قبول ہوگیا جس میں انہوں نے ستر آدمیوں کی دوبارہ زندگی کی درخواست کی تھی مگر یہ دوسرا حصہ دعا جس میں آپ بنی اسرائیل کی اقوام عالمی پر برتری چاہتے تھے قبول نہ ہوا ، اللہ نے فرمایا یہ سعادت ان لوگوں کو نصیب ہوگی جن میں وہ باتیں پائی جائیں گی جن کا ذکر اس آیت کے آخری حصہ میں آرہا ہے یعنی تقویٰ ، ادائے زکوٰۃ اور آیات الٰہی پر ایمان۔
عذاب الٰہی اور رحمت
موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا قال عذابی اصیب بہ من اشاء میں اپنا عذاب جس کو چاہوں پہنچاتا ہوں یعنی سزا اس کو ملتی ہے جو اس کا مستحق ہوتا ہے کسی شخص کو بلاوجہ سزا میں مبتلا نہیں کیا جاتا البتہ ورحمتی وسعت کل شی ئٍ میری رحمت ہر چیز پر وسیع ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دو حصے ہیں ایک عام اور ایک خاص اس کے لیے قرآن پاک میں دونوں لفاظ آئے ہیں الرحمن الرحیم رحمان کا معنی عام رحمت ہے جو مومن و کافر سب کے لیے ہے اور رحیم کی صفت خاص مومنوں کے لیے ہے خصوصی رحمت صرف ایمان والوں کو نصیب ہوگی اس میں نافرمانوں کے لیے کوئی حصہ نہیں ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ رحمت کی دو قسمیں ہیں ایک رحمت اللہ تعالیٰ کی رحمت واسعہ مطلقہ ہے یہ عام ہے حدیث شریف میں آتا ہے رحمتی سبقت غضبی میری رحمت میرے غضب سے سبقت کرتی ہے یہ بہت وسیع ہے اور ہر ایک کو نصیب ہے البتہ دوسری قسم کی رحمت خاصہ جو صرف خواص کے لیے ہوگی موسیٰ (علیہ السلام) نے اسی رحمت خاصہ کی دعا کی تھی مگر اللہ نے فرمایا یہ ان خاص لوگوں کے لیے ہے جن میں متذکرہ تین صفات پائی جائیں گی رحمت واسعہ کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد مبارک ہے کہ اللہ نے رحمت کے سو حصے بنائے ہیں ان میں سے ایک حصہ دنیا میں تقسیم کیا ہے یہ اسی رحمت کا تقاضا ہے کہ ایک جانور بھی پائوں زمین پر رکھنے سے پہلے دیکھ لیتا ہے کہ اس کا بچہ کہیں اس کے پائوں کے نیچے نہ آجائے وہ اپنی اولاد پر اتنا رحم اور شفقت کرتا ہے فرمایا رحمت کے باقی ننانوے حصے اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس رکھے ہیں جو آخرت میں صرف ایمان والوں پر تقسیم کیے جائیں گے اس میں کافروں کے لیے کوئی حصہ نہیں ہوگا یہ رحمت خاصہ ہے۔
رحمت خاصہ کے مستحقین
اس رحمت کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فسا کتبھا پس میں لکھ دوں گا اس کو للذین یتقون ان لوگوں کے لیے جو ڈرتے ہیں تقویٰ کا معنی سنبھل کر قدم رکھنا معصیت کے کانٹوں کے درمیان پھونک پھونک کر قدم رکھنا کہ کہیں دامن نہ الجھ جائے نیز کفر ، شرک معصیت اور تمام برائیوں سے بچتے رہنا اللہ نے فرمایا میری رحمت خاصہ ان لوگوں کے لیے ہے جو بچتے ہیں یعنی تقویٰ اختیار کرتے ہیں شیخ عبداللہ ہراتی (رح) اپنی کتاب صد میدان میں لکھتے ہیں کہ تقویٰ کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ انسان توحید کے ساتھ شرک کی آمیزش نہ کرے عبادت کے ساتھ بدعت کو نہ ملائے اخلاص کے ساتھ نفاق کو نہ جوڑے اور خدمت میں ریا کی ملاوٹ نہ کرے اور پھر اعلیٰ درجے کا تقویٰ یہ ہے کہ انسان نعمت کے ساتھ خدا تعالیٰ کا شکوہ نہ کرے۔
فرمایا رحمت خاصہ کے مستحقین کا دوسرا گروہ وہ ہے ویوتون الزکوۃ جو زکوٰۃ ادا کرتے ہیں یعنی اگر اللہ نے مال عطا کیا ہے اور وہ نصاب کو پہنچ گیا ہے تو اس میں سے خدا تعالیٰ کا مقرر کیا ہوا حصہ مستحقین کو ادا کرتے ہیں ایسا کرنے سے مال کا تذکیہ ہوجاتا ہے ابودائود شریف میں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ نے زکٰوۃ اس لیے فرض کی ہے تاکہ انسان کا باقی ماندہ مال پاک ہوجائے اگر کوئی شخص زکوٰۃ نہیں نکالتا تو اس کا سارا مال ناپاک رہتا ہے ایسا مال کھائے گا تو اس سے ناپاک خون پیدا ہوگا اس کے جذبات اور احساسات بھی ناپاک ہوں گے حتیٰ کہ ارادے اور عزائم بھی ناپاک ہوں گے اور پھر ناپاکی کا یہ سلسلہ دور تک چلا جائے گا بعض یوتون الزکوۃ کا معی کرتے ہیں ” جو تذکیہ نفس کرتے ہیں “ یعنی نفس کو کفر ، شرک ، نفاق اور معصیت کی آلائشوں سے پاک کرتے ہیں اللہ کی رحمت خاصہ ان لوگوں کیلیے جو اس معیار پر پورا اتریں گے یہ نفس کی زکوٰۃ ہے سورة الشمس میں ہے قد افلح من زکھا بیشک وہ فلاح پا گیا جس نے نفس کو پاک کرلیا غرضیکہ زکوٰۃ سے مراد مال اور نفس دونوں کی زکوٰۃ ہے۔
رحمت خاصہ کے مستحق تیسرے طبقے کے متعلق فرمایا والذین ھم بایتنا یومنون وہ لوگ جو ہماری ساری باتوں پر ایمان رکھتے ہیں اور یہی صفت ہے جو نبی آخرالزمان (علیہ السلام) کی امت کو رحمت خاصہ کے لیے خاص کرتی ہے سورة بقرہ کی ابتداء میں ہے ” والذین یومنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک “ یعنی وہ لوگ جو اس چیز پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو حضور نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئی اور اس چیز پر بھی جو آپ سے پہلے نازل ہوئی گویا امت آخر الزمان کا تمام آسمانی کتب پر ایمان ہے وہ خدا کی تمام باتوں کی تصدیق کرنے والے ہیں لہٰذا اللہ کی رحمت خاصہ کے مستحق ہیں برخلاف اس کے دیگر مذاہب والے صرف اپنی اپنی کتابوں تورات ، انجیل ، زبور پر ایمان رکھتے ہیں اور خدا کی آخری کتاب قرآن حکیم کا انکار کرتے ہیں اس لیے وہ تمام باتوں پر ایمان لانے والوں میں شامل نہیں ہوتے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت خاصہ سے محروم ہوجاتے ہیں بہرحال فرمایا دنیا و آخرت میں تمام امتوں پر برتری ان لوگوں کو نصیب ہوگی جن میں یہ تین صفات پائی جائیں گی یعنی تقویٰ ، زکوٰۃ اور مجموعی ایمان ، اس کے بعد چوتھی صفت کا ذکر آگے آرہا ہے۔