Ayahs 7:80–84ربط آیات
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ حضرات نوح ، ہود اور صالح علیہ (علیہم السلام) کے تاریخی واقعات بیان کرچکے ہیں جن کے ذریعے اہل ایمان کو جرات دلائی جارہی ہے کہ دیکھو ! اللہ کے انبیاء نے کتنے نامساعد حالات میں بھی دین کی خدمت کی اور خدا کا پیغام اپنی اپنی قوموں تک پہنچایا۔ یہ واقعات اگرچہ اجالاً بیان کیے گئے ہیں تاہم مقصد یہ ہے کہ امت آخر الزمان کو بھی یہ واقعات پیش نظر رکھ کر دین کے کام کو آگے بڑھانا ہے اس سورة میں حضرت صالح (علیہ السلام) کے بعد حضرت لوط (علیہ السلام) اور ان کی قوم کا حال بیان فرمایا ہے ولوطاً اس کا عطف بھی لقد ارسلنا نوحاً پر ہے اور مطلب یہ ہے کہ ہم نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو رسول بناکر بھیجا تو یہاں پر اللہ تعالیٰ نے آپ کی تقریر اور قوم کے جواب کا تذکرہ فرمایا ہے۔
حضرت لوط (علیہ السلام)
حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے تھے آپ کا تعلق کلدانی خاندان سے ہے آپ اور ابراہیم (علیہ السلام) کا وطن مالوف بابل ہے جو موجودہ بغداد سے ساٹھ ستر میل دور تقریباً سو مربع میل پر پھیلا ہوا بہت بڑا شہر تھا شہر کلدانیوں اور آشوریوں کا دارالخلافہ رہا ہے بڑا متمدن شہر تھا ابراہیم (علیہ السلام) اسی شہر میں پیدا ہوئے جوان ہوئے تو اللہ کی طرف سے نبوت عطا ہوئی انہوں نے لوگوں کو خدا کا پیغام پہنچایا مگر آپ کی بیوی سارہ اور بھتیجے لوط (علیہ السلام) (جو اس وقت بچے تھے) کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے فامن لہ لوط (العنکبوت) مردوں میں صرف لوط (علیہ السلام) آپ پر ایمان لائے پھر اللہ تعالیٰ ے ہجرت کرجانے کا اشارہ فرمایا تو ابراہیم (علیہ السلام) اپنی بیوی اور لوط (علیہ السلام) کے ساتھ بابل نے نکل کھڑے ہوئے پہلے مصر پہنچے وہاں سے ایک خادمہ ہاجرہ بھی مل گئی جس کے ساتھ آپ نے بعد میں نکاح کرلیا پھر راستے میں کسی مقام پر حضرت لوط (علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوئی اور حکم ہوا کہ شرق اردن میں پہنچ کر وہاں کے لوگوں کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچائو ، یہ بھی اس زمانے میں بڑا متمدن علاقہ تھا امام ابن کثیر (رح) نے لکھا ہے کہ اس علاقے میں چار بڑے بڑے شہر تھے جن کی آبادی چار لاکھ سے کم نہ تھی یہ شہر سدوم ، عامورہ ، دواما اور صعودا تھے سدوم کو مرکزی حیثیت حاصل تھی اور یہ دارالخلافہ تھا بڑا سرسبز علاقہ تھا کھیتی باڑی اور باغات عام تھے تجارت بھی وسیع پیمانے پر ہوتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط (علیہ السلام) کو اہل سدوم کی طرف رسول بناکر بھیجا آپ کا سلسلہ نسب لوط بن ہارن بن تارخ یا آزر ہے۔
مشترک اور متفقر جرائم
جن جن اقوام کی طرف اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء مبعوث فرمائے ان میں بعض مشترک جرائم تھے اور بعض مختلف ، کفر اور شرک تمام اقوام کا مشترک جرم ہے اس میں سب لوگ ہی مبتلا رہے ہیں چناچہ جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے ہر نبی کی پہلی دعوت یہی ہوتی تھی یقوم اعبدواللہ مالکم من اللہ غیرہ اے میری قوم ! اللہ تعالیٰ کی عادت کرو اس کے سوا کوئی معبود نہیں بعض جرائم مختلف اقوام میں مختلف رہے ہیں مثلاً شعیب (علیہ السلام) کی قوم تجارتی بددیانتی کا شکار تھی وہ ماپ تول میں کمی بیشی کرتے تھے ہود (علیہ السلام) کی قوم میں غرور وتکبر کی فراوانی تھی صالح (علیہ السلام) کی قوم اسراف و تبذیر کا شکار تھی بےجا عمارتیں بناتے تھے اور لہود لہب میں مصروف رہتے تھے اسی طرح قوم لوط فعل خلاف وضع فطری یعنی اغلام بازی میں ملوث تھی حضرت لوط (علیہ السلام) کے تذکرے میں ان کی قوم کی اس قبیح بیماری لواطت یا سدومت کا ذکر بھی آتا ہے زنا اور لواطت ملتے جلتے جرائم ہیں مگر لواطت زنا سے بھی شدید تر جرم ہے صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ یہ فعل طبعاً عقلاً اور شرعاً ہر لحاظ سے قبیح ہے زنا قطعاً حرام ہے اگرچہ وہ طبعی محل میں ہوتا ہے مگر لواطت کا تعلق تو غیر طبعی محل سے ہے لہٰذا یہ تو زنا سے بھی بڑا جرم ہے کہتے ہیں کہ اس علاقے میں باغات عام تھے لوگ ان کا پھل توڑ لیتے تھے جن میں بچے بھی ہوتے تھے شیطان نے ان کو پٹی پڑھائی کہ بچوں سے یہ فعل کرو تو وہ پھل توڑنے سے باز آجائیں گے انہوں نے ایسا ہی کیا اور اس طرح اس فعل بد کی ابتداء ہوئی قوم لوط سے پہلے یہ بیماری کسی قوم میں نہ تھی یہ لوگ آہستہ آہتہ حادی ہوگئے حتیٰ کہ ان کی فطرت سلیمہ ہی مسخ ہو کر رہ گئی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عورتوں کی طرف التفات ختم ہوگیا اور شہوت رانی مردوں کے ذریعے ہونے لگی۔
فحاشی کا ارتکاب
نیکی کا حکم اور برائی سے امتناع ہر نبی کے فرائض منصبی میں شامل رہا ہے تمام نبی لوگوں کو برائیوں سے روکتے رہے کفر شرک کے علاوہ مخصوص برائیوں کے خلاف بھی انبیائے کرام آواز اٹھاتے رہے حضرت لوط (علیہ السلام) نے بھی اپنا فرض ادا کیا اذقال لقومہ جب انہوں نے اپنی قوم سے کہا اتالون الفاحشۃ کیا تم ایسی بےحیائی کا ارتکاب کرتے ہو ماسبقکم بھا من احد من العلمین کہ تم سے پہلے جہان بھر میں یہ کام کسی نے نہیں کیا یہاں پر لواطت کو بےحیائی کہا گیا ہے جب کہ زنا کو بھی اسی لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے ولا تقربو لزنی انہ کان فاحشۃ (بنی اسرائیل) زنا کے قریب نہ جائو کے بیشک یہ بےحیائی ہے قرآن پاک میں بخل کو بھی فحش کیا گیا ہے کیونکہ ذہنی طور پر وہ بھی فحاشی ہوتی ہے عملی طور پر زنا بھی فحش ہے اور لواطت اس سے بڑھ کر مولانا عبیداللہ سندھی (رح) اپنی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ لواطت اتنی خلاف طبع بات ہے کہ جانوروں میں بھی نہیں پائی جاتی ماسوائے بندر کے یہی وجہ ہے کہ جن قوموں کی اللہ نے سزا کے طور پر شکلیں بدل دیں انہیں بندر اور خنزیر بنا دیا بندر اور خنزیر دونوں غلیظ جانور ہیں اللہ تعالیٰ نے شہوانی خواہش کی تکمیل کے لیے مرد کے مقابلے میں عورت کو پیدا کیا ہے مگر اس بدترین فعل کے اولین مرتکبین قوم لوط ٹھہری چناچہ لوط (علیہ السلام) نے صریح لفظوں میں اپنی قوم سے فرمایا انکم لتاتون الرجال شھوۃ من دون النساء تم مردوں پر شہوت رانی کرتے ہوئے دوڑتے ہو عورتوں کو چھوڑ کر دوسری جگہ موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے عورتیں پیدا کی ہیں تاکہ نکاح کرکے اپنے طبعی تقاضے پورے کرو فرمایا تم نے جائز ذریعہ چھوڑ کر غیر فطری طریقہ اختیار کیا بل انتم قوم مسرفون تم حد سے بڑھنے والے لوگ ہوں۔
شہوت رانی کے جائز ذرائع
اللہ تعالیٰ نے انسان میں میلان شہوانی دو مقاصد کے لیے پیدا کیا ہے ایک تو نفسانی خواہش کی تکمیل ہے اور دوسرے نسل انسانی کا بقا ہے شہوانی مادہ انسان کو برائی پر آمادہ کرتا ہے اسی لیے دعا میں سکھایا گیا ہے الھم انی اعوذبک من شرمنی اے اللہ ! میں مادہ شہوت سے تیری پناہ پکڑتا ہوں اللہ تعالیٰ نے اس طبعی خواہش کو پورا کرنے کے لیے عورتوں سے نکاح کا حکم دیا ہے فانکحوا ماطاب لکم من النساء (النسائ) منکوحہ عورتوں کے علاوہ اوما ملکت ایمانکم کے مطابق لونڈیوں سے بھی طبعی خواہش پوری کی جاسکتی ہے اس زمانے میں چونکہ لونڈیوں کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے اس لیے نکاح ہی واحد ذریعہ ہے جس سے انسان طبعی تقاضے پورے کرسکتا ہے فرمایا فمن ابتغی ورآء ذلک فاولیک ھم العدون (المعارج) اس کے علاوہ اگر کوئی دیگر راستہ اختیار کرے گا تو وہ تعدی کرنے والا ہوگا۔
اغلام بازی کی طرح جانوروں کے ساتھ خلاف وضع فطری فعل کا ارتکاب بھی قطعاً حرام ہے اسی طرح مشت زنی کے ذریعہ مادہ منویہ کو خارج کرنا بھی ملعون ہے گویا جائز طریقہ صرف نکاح ہے حضور نے فرمایا کہ نکاح وہ بابرکت ہے جس میں تکلف نہ ہو سہل اور آسان طریقے سے نکاح کرو تاکہ برائیوں کا تدارک ہوسکے ہمارے ہاں تو نکاح کو سخت مشکل بنا دیا گیا لمبا چوڑا جہیز ، بلاوجہ لاتعداد جوڑے اور زیورات اور پھر تکلف دعوتیں ایسی قباحتیں ہیں جو نکاح کے راستے میں رکاوٹ بن رہی ہیں ان غلط رسومات کی وجہ سے سال ہا سال بچے بچیاں نکاح سے محروم رہتے ہیں جس کی وجہ سے طرح طرح کی معاشرتی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں ادھر تعدد ازواج پر بھی پابندی ہے حالانکہ نکاح کو عام کرنے کا حکم تاکہ فحاشی کو پھیلنے کا موقع ہی نہ ملے تندرست آدمی ہو ، کمائی کرسکتا ہو ، نمازی اور دیانتدار ہو ، بس کافی ہے نکاح کردوخ جہیز کی لعنت نے تو نکاح کو محدود کرکے رکھ دیا ہے جب اس قسم کے حالات پیدا ہوجائیں تو پھر یہ مکروہ تحریمی بن جاتا ہے حضور ﷺ کا اسوہ ہمارے پاس موجود ہے اس کے مطابق نکاح کرو یہ جہیز وغیرہ نہ تو فرض واجب ہے اور نہ سنت ، آخر ہم نے خود اپنے آپ پر کیوں پابندیاں عائد کرلی ہیں ؟ انہی پابندیوں کی وجہ سے فحاشی میں اضافہ ہورہا ہے اس کے خلاف وسیع پیمانے پر جہاد کی ضرورت ہے۔
قوم لوط کا سلوک
جب لوط (علیہ السلام) نے قوم کو اس مبنیہ فحاشی سے منع کیا وما کان جواب قومہ تو نہیں تھا قوم کا جواب الا ان قالو سوائے اس کے کہ انہوں نے کہا اخرجوھم من قریتکم ان کو یعنی لوط (علیہ السلام) اور آپ کے ماننے والوں کو اپنے شہر سے نکال باہر کرو انھم اناس یتطھرون یہ بڑے پاکباز بنے پھرتے ہیں انہیں ہم گنہگاروں کی بستی سے کیا سروکار ، انہیں یہاں سے کسی اچھی جگہ چلے جانا چاہیے لوط (علیہ السلام) نے تو پہلے ہی کہہ دیا تھا انی لعلکم من القالین (الشعرائ) میں تو تمہارے عمل سے نفرت کرتا ہوں آپ دعا کرتے تھے رب نجنی واھلی مما یعملون (الشعرائ) مجھے اور میرے اہل کو ان کے قبیح فعل سے نجات دے آپ اس متمدن علاقے میں عرصے تک تبلیغ کرتے رہے جس کے جواب میں قوم نے سخت مخالفت کی آپ کو مارا پیٹا ، گالیاں دیں آپ پر پتھر برسائے اور آپ کا تمسخر اڑایا مگر ان میں سے کوئی بھی ایمان نہ لایا آپ کی دو بچیاں ایماندار تھیں باقی ساری قوم بمعہ آپ کی بیوی آ پکے خلاف تھے جب آپ نے ہجرت کو تو اس وقت دو جوان بچیاں آپ کے ساتھ تھیں۔
فرمایا فانجینہ واھلہ ہم نے نجات دی لوط (علیہ السلام) اور آپ کے اہل یعنی دو بچیوں کو الا امراتہ ماسوائے بیوی کے وہ بھی عذاب الٰہی سے بچ نہ سکی کانت من الغبرین کیونکہ وہ پیچھے رہنے والوں میں سے تھی اس نے لوط (علیہ السلام) کے ساتھ تو ہجرت نہیں کی اس کی تفصیل سورة حجر میں موجود ہے اللہ نے فرمایا فاسرباھلک بقطع من اللیل اے لوط (علیہ السلام) ! رات کے ایک حصے میں اپنے گھر والوں کو لے کر نکل جائیں وہاں بھی آتا ہے ” الا امراتہ قدرنا انھا لمن الغبرین “ مگر بیوی نہیں جائے گی وہ بھی پیچھے رہنے والوں میں ہوگی اور عذاب کا شکار بنے گی۔
قوم پر عذاب
جب لوط (علیہ السلام) اپنے گھر والوں کو لے کر بستی سے نکل گئے تو فرمایا وامطرنا علیھم مطراً ہم نے ان پر خاص قسم کی بارش برسائی۔ جس میں پتھر برسے ، سورة ہود میں اس کی تفصیل موجود ہے وامطرنا علیھا حجارۃ سجیل ہم نے پتھروں سے بارش کی اور پتھر بھی ایسے مسومۃ عندربک جن پر نشان لگے ہوئے تھے کہ یہ پتھر فلاں بےایمان کے سر پر لگے گا اور یہ فلاں کو ہلاک کرے گا اس کے ساتھ آتش فشانی کی کیفیت تھی جس طرح آتش بازی کی صورت میں شعلے نکلتے ہیں اسی طرح آگ کے شعلے بھی نکل رہے تھے اور پتھروں کی بارش بھی ہورہی تھی اس طرح وہ قوم ہلاک ہوگئی اللہ تعالیٰ نے جہاں جہاں بھی عذاب نازل کیا ہے وہاں پر ایسا ہی ذکر کیا ہے کہیں پتھر برسائے ، کہیں زلزلہ آیا ، کہیں ہوا کو مسلط کیا ، کہیں طوفان آیا اور کہیں چیخ نے کام تمام کردیا اللہ نے مختلف اقوام پر مختلف طریقوں سے عذاب نازل کیا فرمایا فانظرکیف کان عاقبۃ المجرمین دیکھو ! مجرموں کا کیسا انجام ہوا برے کاموں کا ہمیشہ برا ہی انجام ہوتا ہے قوم لوط نہایت ہی قبیح فعل کی مرتکب ہوئی بلکہ ہم جنسی کے موجد ہی وہ تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں نہایت ہی سخت عذاب کے ذریعے ہلاک کیا جو بھی اللہ کی نافرمانی کرے گا وہ بالآخر خدا تعالیٰ کی گرفت میں آئے گا اگر کسی طرح دنیا میں بچ گیا تو برزخ اور آخرت میں تو بہرحال پکڑا جائے گا۔
لواطت کی شرعی سزا
لواطت کی شرعی سزا کے متعلق فقہائے کرام اور محدثین میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں حضور ﷺ کے زمانہ مبارک میں زنا کے تو کئی واقعات پیش آئے اور مجرمین پر حد بھی جاری کی گئی مگر لواطت کا کوئی کیس پیش نہیں آیا نہ آپ نے ایسا کوئی معاملہ نمٹایا یہی وجہ ہے کہ اس فعل شنیع کی سزا میں اختلاف پایا جاتا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت جسے ترمذی ، ابودائود اور امام احمد نے اپنی اپنی کتاب میں نقل کیا ہے کے مطاق لواطت کی سزا یہ ہے کہ فاعل اور مفعول دونوں کو قتل کردیا جائے مگر امام ترمذی (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی سند میں کلام ہے اس کے راوی ضعیف ہیں لہٰذا یہ صحیح نہیں ہے البتہ حضور ﷺ نے فرمایا من یعمل عمل قوم لوط فھو ملعون یعنی جو کوئی قوم لوط کا عمل انجام دے گا وہ ملعون ہے مگر اس حدیث میں قتل کرنے کا حکم نہیں۔
حضرت سعید ابن مسیب (رح) ، عطا (رح) ، امام حسن بصری (رح) ، امام ابراہیم نخعی (رح) ، امام سفیان ثوری (رح) ، امام اوزاعی (رح) ، امام ابو یوسف (رح) اور امام محمد (رح) وغیرہ ہم فرماتے ہیں کہ لواطت کی سزا زنا کی سزا کے برابر ہے یعنی شادی شدہ کو سنگسار کیا جائے گا ، اور غیر شادی شدہ کو سو کوڑے مارے جائیں گے صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ اس فعل کے پہلی دفعہ مرتکب کے لیے سزا نہیں ہے اور اگر دوسری دفعہ پھر یہ فعل کرے تو اسے زانی کے برابر سزا دی جائے امام احمد (رح) اور امام اسحاق (رح) کا مذہب یہ ہے کہ ہم جنسی کرنے والا شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ، اسے ہر حالت میں سنگسار کردینا چاہیے امام شافعی (رح) کہتے ہیں کہ لوطی کو ہر حالت میں قتل کردو یہ سب تعزیرات ہیں جو مختلف فقہائے کرام نے بیان کی ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ فعل لواطت کی حد نہیں بلکہ تعزیر ہے چناچہ امام ابوحنیفہ (رح) کا بھی یہی مسلک ہے کہ لواطت میں حد نہیں ہے بلکہ تعزیر ہے جو کہ مسلمان حاکم وقت کی صوابدید پر ہے کہ وہ عمر قید کی سزا دے سزائے موت دے دے یا کوڑے لگوائے چناچہ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں وقد ذھب الامام ابوحنیفہ الی ان من شاھق و یطبیٰ الحجارۃ کما فعل بقوم لوط یعنی حضرت امام ابوحنیفہ (رح) اس طرف گئے ہیں کہ لواطت کے مرتکب کو کسی اونچی جگہ سے گرا کر اوپر پتھر بھی مارنے چاہئیں کیونکہ اللہ نے قوم لوط کو یہی سزا دی تھی اس مسئلہ میں بعض حضرات امام صاحب (رح) کو مطعون کرتے ہیں کہ ہدایہ میں لکھا ہے کہ لواطت کی حد نہیں ہے حالانکہ یہ بھی لکھا ہے کہ تعزیر ہے اور تعزیر میں سخت ترین ابھی دی جاسکتی ہے جیسا کہ امام صاحب (رح) کا مسلک ہے کہ کسی اونچے مینار سے گرا کر پتھر بھی مارو بہرحال امام صاحب (رح) سزا کے قائل ہیں۔
صاحب مشکوۃ نے سند زریں کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ حضرت علی ؓ نے احرقھما یعنی لواطت کرنے والے دونوں کو آگ میں جلا ڈالا حضرت ابو صدیق ؓ کے متعلق آتا ہے ھدم علیھم حائطا آپ نے مجرم کو دیوار کے نیچے کھڑا کرکے اوپر دیوار گرادی مقصد یہ ہے کہ اس قسم کے کیس خلفائے راشدین ؓ کے زمانے میں پیش آئے تو انہوں نے اپنی اپنی صوابدید کے مطابق تعزیر لگائی کیونکہ اس جرم کے لیے کوئی حد مقرر نہیں ہے۔
حضرت جابر ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا انی اخاف علیٰ امتی من عمل قوم لوط مجھے اپنی امت سے زیادہ خطرہ ہے کہ وہ قوم لوط والے عمل میں ملوث نہ ہوجائے اس شنیع فعل کے موجد قوم لوط کے لوگ ہیں اس سے پہلے یہ کام نہ عرب میں تھا اور نہ عجم میں مگر جس بات کا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو خطرہ تھا وہی ہوئی اب یہ فعل ساری دنیا میں پایا جاتا ہے حتیٰ کہ برطانوی پارلیمنٹ نے تو یہ قانون پاس کردیا ہے کہ اگر دو بالغ مرد باہمی رضا مندی سے ہم جنسی کا ارتکاب کرتے ہیں تو ان پر کوئی جرم عائد نہیں ہوتا البتہ اگر یہ فعل کسی کے ساتھ زبردستی کیا جائے تو پھر قابل مواخذہ ہے خنزیر کھانے والے لوگ اسی طرح بےغیرت ہوتے ہیں انگریز اور سکھ دونوں قومیں خنزیر کا گوشت کھاتی ہیں اور دونوں پرلے درجے کے بےحیا ہیں۔ ان لوگوں کو زنا کے متعلق بھی یہی نظریہ ہے کہ اگر رضا مندی سے کیا جائے تو کوئی گرفت نہیں اور اگر بالجبر (RAPE) ہو تو پھر جرم ہے۔
شہوت رانی کے ناجائز ذرائع
فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ عورت کے مقام مکروہ سے مجامعت کرنا بھی قطعی حرام ہے حضور ﷺ کا اشراد ہے ملعون من اتی امراۃ فی دبرھا ایسا شخص ملعون ہے …………… ترمذی شریف میں یہ بھی آتامن اتی خائضا او امراۃ فی دبرھا اوکاھتا فصدقہ فقد کفر بما انزل علی محمد جس شخص نے حائضہ عورت سے مجامعت کی یا عورت کے ساتھ قوم لوط کا عمل کیا یا کاہن کے پاس گیا اور اس کی باتوں کی تصدیق کی اس نے محمد ﷺ پر نازل شدہ چیز کا انکار کیا اسی طرح حضرت عبداللہ ابن عباس سے ترمذی شریف میں منقول ہے من اتی بھیمہ فلاحد علیہ جس نے کسی جانور سے فعل بد کا ارتکاب کیا اس پر حد نہیں ہے البتہ تعزیر ہوگی یہی قول امام ابوحنیفہ (رح) کا ہے جس حدیث میں آتا ہے کہ اگر کوئی آدمی کسی جانور کے ساتھ ملوث پایا جائے تو دونوں کو قتل کردو یہ ح دیث صحیح نہیں ہے فعل بہرحال حرام ہے اور مرتکب شخص ملعون ہے شیخ عبدالحق (رح) اپنی کتاب لمعات میں لکھتے ہیں کہ چاروں آئمہ اس بات پر متفق ہیں کہ جانور کے ساتھ بدفعلی کرنے والے پر حد نہیں ہے یہی مسلک امام ابوحنیفہ (رح) کا ہے۔
مولانا مودودی کا سہو
مولانا مودودی (رح) نے حضرت لوط (علیہ السلام) کے متعلق آیت 80 کی تفسیر میں لکھا ہے کہ ” اپنے چچا کے ساتھ عراق سے نکلے اور کچھ مدت تک شام و فلسطین و مصر میں گشت لگا کر دعوت و تبلیغ کا تجربہ حاصل کرتے رہے پھر مستقل پیغمبر کے منصب پر سرفراز ہو کر اس بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح پر مامور ہوئے۔
مولانا کی غلطی یہ ہے کہ انہوں نے نبوت کو عام سرکاری ملازمت یا سول سروس پر قیاس کیا ہے گویا لوط (علیہ السلام) پہلے ٹریننگ حاصل کرتے رہے اور اس کے بعد منصب نبوت پر فائز ہوئے ایسی بات نہیں ہے اللہ تعالیٰ اپنی مرضی سے انبیاء کا انتخاب کرتا ہے وہ ان کی صلاحیتوں سے واقف ہوتا ہے اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ (الانعام) وہ جانتا ہے کہ منصب رسالت کو کہاں رکھنا ہے اور پھر اس کے مطابق فیصلہ کرنا ہے نبوت عطا ہونے سے پہلے خود نبی کے علم میں بھی نہیں ہوتا کہ اسے کس منصب پر سرفراز ہوتا ہے چناچہ حضور ﷺ کے متعلق واضح طور پر موجود ہے ” وما کنت تدری ما الکتب ولا ایمان “ (الشوری) نبوت سے پہلے آپ کو کتاب و ایمان کا علم نہیں تھا پھر جب نبوت عطا ہوجاتی ہے تو نبی کو حکم ہوتا ہے ” بلغ ما انزل الیک من ربک “ جو کچھ آپ کی طرف نازل کیا جاتا ہے اس کو پہنچا دیں ” وان لم تفعل فما بلغت رسالتہ “ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو حق رسالت ادا نہیں کیا بہرحال یہ اللہ کی شان ہے کہ وہ جس کو چاہے نبوت و رسالت کے لیے منتخب فرمائے اور پھر جسے اس منصب کے لیے منتخب فرماتا ہے اس کی تربیت اور حفاظت کا انتظام بھی خود ہی فرماتا ہے کسی نبی کے لیے کسی دوسری جگہ سے تربیت حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔
Ayahs 7:85–87ربط آیات
تبلیغ رسالت کے سلسلے میں اس سے پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت ہود (علیہ السلام) ، حضرت صالح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کا تذکرہ ہوچکا ہے اب پانچویں نمبر پر اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کا حال بیان فرمایا ہے اگرچہ ان انبیاء کی پوری تفصیلات تو یوں بیان نہیں کی گئیں تاہم یہ ان کی تاریخ کے بعض اہم حصے ہیں شعیب (علیہ السلام) اور ان کی قوم کے واقعات سورة ، سورة شعراء اور بعض دیگر سورتوں میں بھی بیان ہوئے ہیں ان واقعات سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے انبیاء نے کس قدر نامساعد حالات میں تبلیغ کا حق ادا کیا اور لوگوں تک خدا کا پیغام پہنچایا امت آخر الزمان کو ترغیب دلائی گئی ہے کہ وہ بھی تبلیغ دین کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائیں اور لوگوں سے پوری پوری خیر خواہی کا اظہار کرتے ہوئے اللہ کا پیغام دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچا دیں تسلسلہ تبلیغ کی آخری کڑی حضور خاتم النبیین ﷺ کی نبوت و رسالت ہے جو اس باب کے آخر میں بیان ہوگی۔
حضرت شعیب (علیہ السلام)
ارشاد ہوتا ہے والی مدین اخام شعیباً ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا یہ بھی اس کے باب کے ابتدائی الفاظ ” لقد ارسلنا نوحا الٰی قومہ “ پر عطف ہے۔ اس لیے یہاں پر لقد ارسلنا کے الفاظ محذوب ہیں مدین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ایک بیٹے کا نام ہے جو آپ کی بیوی قتورا کے بطن سے تھا اسی نام سے بعد میں ایک قبیلہ مشہور ہوا اور جس بستی یا علاقے میں وہ مقیم تھے اس کا نام بھی مدین پڑگیا شعیب (علیہ السلام) اسی مدین کی اولاد میں سے تھے اسی علاقے اور بستی میں پیدا ہوئے آپ کو نبوت عطا ہوئی اور آپ اپنی ہی قوم کی طرف مبعوث ہوئے اسی لیے یہاں پر فرمایا کہ ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب (علیہ السلام) کو رسول بنا کر بھیجا۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) کے سلسلہ نسب میں قدرے اختلاف پایا جاتا ہے تاہم محمد ابن اسحاق (رح) کے مطابق شجرہ نسب اس طرح ہے شعیب (علیہ السلام) بن میکائیل بن شیجر بن مدین بن ابراہیم (علیہ السلام) ہوسکتا ہے کہ درمیان میں کچھ اور کڑیاں بھی ہوں اس سلسلے میں یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا بائیبل میں شعیب (علیہ السلام) کے لیے پیرو اور حوباب کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں ممکن ہ کے آپ ان ناموں پر بھی موسوم ہوں تاہم قرآن پاک میں آپ کا نام صراحتاً شعیب آیا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے دو قوموں یعنی مدین اور ایکہ کی طرف مبعوث فرمایا ایکہ جنگل کو کہتے ہیں مدین کی بستی کے قریب بہت بڑا جنگل بھی تھا شاید اسی لیے وہ ایکہ والے مشہور ہیں بعض کہتے ہیں کہ مدین اور ایکہ والے ایک ہی قوم ہیں تاہم صحیح بات یہ ہے کہ مدین اور ایکہ الگ الگ خاندان تھے الگ الگ قبیلے یا قومیں تھیں اور حضرت شعیب (علیہ السلام) دونوں قبائل کے رسول تھے ، قرآن پاک میں دونوں کا ذکر آتا ہے۔
مدین کی بستی
مدین حجاز سے شمال مغرب اور فلسطین سے بطرف جنوب خلیج عقبہ اور بحر احمر کے کنارے ایک مشہور شہر اور تجارتی منڈی تھی یہ شہر مکہ سے مصر اور شام جانے والی بڑی شاہراہ پر واقع تھا اردگرد کے لوگ تجارت کے لیے اسی شاہراہ کو اختیار کرتے تھے یہ شہر اسی شاہراہ پر واقع تھا جہاں سے یمن ، مکہ ، شام اور مصر کو راستے جاتے تھے اس لحاظ سے مدین بہت بڑا تجارتی مرکز بن گیا تھا یہ وہی مدین کی بستی ہے جس کا ذکر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی آتا ہے جب آپ سے ایک قبطی آدمی قتل ہوگیا اور آپ کا مصر میں رہنا دشوار ہوگیا تو آپ وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور کئی دن کی مسافت طے کرنے کے بعد مدین پہنچے جہاں شعیب (علیہ السلام) سے ان کی ملاقات ہوئی اس امر میں اختلاف ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) جس شخص کے پاس ٹھہرے وہ خود شعیب (علیہ السلام) تھے یا ان کے بھانجے تھے تاہم وہ معمر آدمی تھے خدا کے نبی اور رسول تھے آپ کی بینائی کمزور ہوچکی تھی اور کام کاج میں عملی طور پر حصہ نہیں لے سکتے تھے موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی آتا ہے کہ جب آپ مدین پہنچے تو آپ نے کنویں پر دو لڑکیوں کو پایا جو جانوروں کو پانی پلانے کے لیے آئی ہوئی تھیں موسیٰ (علیہ السلام) کو اس پر تعجب ہوا تو لڑکیوں نے بتایا کہ ان کا باپ کافی بوڑھا ہوچکا ہے اور کام کاج کے قابل نہیں ہے اس لیے جانوروں کی دیکھ بھال انہیں کرنا پڑتی ہے۔
درس توحید
جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے اللہ کے تمام انبیاء اپنی اپنی قوموں کو سب سے پہلے توحید کا درس ہی دیتے ر ہے چناچہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کو نبوت و رسالت عطا فرمائی تو آپ نے بھی اپنی قوم کو سب سے پہلے ہی سبق پڑھایا قال یقوم اعبدوا اللہ فرمایا اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو مالکم من الہ غیرہ اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں ہے جیسا کہ گزشتہ دروس میں بھی بیان ہوچکا ہے عقیدہ کی اصلاح اور فکر کی پاکیزگی کے لیے توحید کا درس ضروری ہے اس کے بغیر انسان کا باطن ناپاک رہتا ہے عقیدے کا فساد شرک کی علامت ہے اور مشرک کے متعلق اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے انما المشرکون نجس (توبہ) یعنی مشرک ناپاک ہیں مقصد یہ ہے کہ توحید باری تعالیٰ طہارت کا پہلا سبق ہے امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اور مجدد الف ثانی (رح) اپنی کتابوں میں فرماتے ہیں کہ تمام شدان برحق ، نیک اور صالح لوگ اپنے مریدوں کو سب سے پہلا درس توحید ہی کا دیتے ہیں تاکہ باطن پاک ہوجائے عقیدہ درست ہوجائے اور تاکہ اس بنیاد کی استواری کے بعد اس پر عمل اور اخلاق کی عمارت تعمیر کی جاسکے اگر کسی شخص کا عقیدہ درست نہیں ہے تو اس کا عمل اور اخلاق بیکار ہے اس کا کچھ فائدہ نہیں ہے لہٰذا عقیدے کی درستگی کو اولیت حاصل ہے اسی طریقے کے مطابق حضرت شعیب (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم کو توحید کا درس دے کر شرک کی جڑ کاٹی اور پھر اس کے بعد ان کی معاشرتی خرابی یعنی ماپ تول میں کمی کی طرف توجہ دی یہ لوگ بدترین قسم کی تجارتی بددیانتی میں مبتلا تھے لوگوں کے حقوق ضائع کرتے تھے جب خود کوئی چیز ماپ کر یاتول کرلیے تو پورا پورا لیتے اور جب دوسروں کو دیتے تو کم دیتے اس کا بیان آگے آرہا ہے۔
حضرت شعیب (علیہ السلام) کی بتینہ
آپ نے قوم سے فرمایا قد جاء تکم بینۃ من ربکم تحقیق تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف بینہ ، نشانی یا معجزہ آگیا ہے اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کوئی نہ کوئی معجزہ یا نشانی عطا کی ہے جسے بینہ کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے اس مقام پر حضرت شعیب (علیہ السلام) کی کسی خاص نشانی یا معجزے کی نشاندہی نہیں کی گئی تاہم آپ کو بھی اللہ نے کوئی نہ کوئی واضح نشانی ضرور عطا کی ہوگی جس کے متعلق فرمایا کہ تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے کھلی دلیل آچکی ہے بعض فرماتے ہیں کہ بینہ کا لفظ حکم اور دلیل پر بھی بولا جاتا ہے اور بحیثیت نبی اللہ تعالیٰ نے آپ کو کئی احکام اور دلائل دیے جن کی طرف یہاں پر اشارہ کیا گیا ہے بینہ کا لفظ خود نبی کی ذات پر بھی بولا جاتا ہے چناچہ سورة بینہ میں اللہ تعالیٰ ن دو دفعہ اس لفظ سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات مراد لی ہے نبی کا قول فعل اور عمل سب بینہ ہوتا ہے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ یہاں پر بینہ سے مراد خود شعیب (علیہ السلام) کی ذات ہو اس کے علاوہ بینہ کا لفظ نبی کے چہرہ اور آواز پر بھی بولا جاتا ہے جیسا کہ مولانا رومی (رح) کہتے ہیں ” روئے و آواز پیغمبر معجزاست “ یعنی نبی کا چہرہ اور آواز معجزہ ہوتا ہے اگر کوئی خاص معجزہ مراد نہ بھی ہو تو بہرحال اس سے نبی کی ذات مراد ہوسکتی ہے۔
ماپ تول میں کمی
اس کے بعد شعیب (علیہ السلام) نے قوم کی توجہ ان کی معاشرتی خرابی کی طرف دلائی فاوفو الکیل والمیزان پس پورا کرو ماپ اور تول کو ولا تبخسو الناس اشیاء ھم اور نہ گھٹائو لوگوں کو ان کی چزیں مقصد یہ ہے کہ ماپ تول میں ڈنڈی مار کر لوگوں کا حق ضائع نہ کرو یہاں پر اللہ تعالیٰ نے تاجروں کی گندی ذہنیت کا تذکرہ کیا ہے سورة مطففین میں اللہ کا ارشاد اس طرح ہے اذا کالوھم او وزنوھم یخسرون یعنی جب لوگوں سے ماپ کر یا تول کر خود لیتے ہیں تو پورا لیتے ہیں جب دوسروں کو دیتے ہیں تو اس میں کمی کر جاتے ہیں عام طور پر تاجر اسی ذہن کے مالک ہوتے ہیں الا ماشاء اللہ حضور ﷺ نے ایماندار تاجر کو خوشخبر سنائی ہے کہ اس کا حشر انبیائ ، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا وہ تو حلال و حرام کا امتیاز رکھے گا کسی ا حق تلف نہیں کرے گا۔ مگر کمزور ایمان والوں ، مشرکوں اور کافروں کے پیش نظر محض فائدہ حاصل کرنا ہوتا ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی مذمت بیان فرمائی ہے ۔
سورۃ ہود میں آتا ہے حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم سے کہا بقیت اللہ خیرلکم ان کنتم مومنین لوگوں کے حقوق ادا کرنے کے بعد تمہارے پاس جو کچھ بچ رہے گا وہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم ایمان والے ہو قوم نے جواب دیا یشعیب اصلوتک تامرک ان نترک مایعبد ابائونا آئو ان تفعل فی اموالنا مانشوء اے شعیب ! تیری نمازیں یہ کہتی ہیں کہ ہم اپنے آبائو اجداد کے معبودوں کو چھوڑ دیں یا اپنے اموال میں تصرف کرنا ترک کردیں ؟ ہم جس طرح چاہیں گے کمائیں گے اور جس طرح چاہیں گے خرچ کریں گے تو اپنی نمازوں کی فکر کر ، حضرت شعیب (علیہ السلام) نے نہایت ہمدردی اور خیر خواہی کے ساتھ سمجھانے کی کوشش کی کہ حرام کی کمائی میں برکت نہیں ہوتی اس میں تردد اور شبہات پائے جاتے ہیں روحانیت تباہ ہوجاتی ہے لہٰذا حلال ذرائع سے کمائو اور پھر اس میں سے مستحقین کے حقوق ادا کرو اس کے بعد جو کچھ بچے گا وہی بابرکت ہوگا مگر قوم نے ایک نہ سنی۔
فساد فی الارض
فرمایا ولاتفسدو فی الارض بعد اصلاحھا نہ فساد کرو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد ، حضرت شعیب علیہ لاسلام کی یہ تقریر اس زمانے کی ہے جب ان کے اردگرد ہر طرف فساد ہی فساد تھا مگر یہاں پر بعد اصلاحھا سے ظاہر ہوتا ہے کہ پہلے زمین میں بالکل امن وامان تھا اور اس کے بعد فساد کا بازار گرا ہوا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اصلاح سے مراد وہ اصلاحی پروگرام ہے جو اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی طرف بھیجا خدا وند تعالیٰ نے اس سلسلے میں انبیاء مبعوث فرمائے ، کتابیں نازل فرمائیں قانون اور شریعت دی تاکہ لوگ اس پروگرام پر عمل کرکے دنیا میں امن قائم کریں مگر ان لوگوں نے اس پروگرام کی طرف توجہ نہ دی ظاہر ہے کہ اس پروگرام کی آمد کے بعد جو شخص اس قانون کو توڑتا ہے اور اس کے خلاف چلتا ہے وہ باغی ، شریر اور مفسد فی الارض ہے اور سزا کا مستحق ہے امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں ان من اعظم مقاصد بعثۃ الانبیاء رفع التظالم من بین الناس فان تظالھم بضیق علیھم یعنی انبیاء کی بعثت کے اہم ترین مقاصد میں سے یہ بھی ہے کہ لوگ ایک دوسرے پر ظلم نہ کریں یہ ایسی چیز ہے جو لوگوں پر تنگی ڈال دیتی ہے اور لوگ مصیبت میں گرفتار ہوجاتے ہیں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا بھی ارشاد گرامی ہے انی حرمت الظم علی نفسی جعلتہ بینکم حراماً فلا تظا لمو اے لوگو ! میں نے ظلم کو اپنے اوپر بھی حرام قرار دیا ہ کے اور تم پر بھی حرام کیا ہے لہٰذا ایک دوسرے پر ظلم نہ کیا کرو شرک اور کفر ظلم ہے کسی کا حق غضب کرنا ، کسی کے ساتھ ناانصافی کرنا ، چوری ، زنا ، ہم جنسی وغیرہ سب ظلم کی تعریف میں آتے ہیں اللہ نے ان سے منع فرمایا ہے تو شعیب (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم سے یہی کہا کہ زمین میں فساد نہ کرو یعنی ایک دوسرے پر ظلم و زیادتی سے باز آجائو۔
امام بیضادی (رح) فرماتے ہیں کہ اخلال بالشرائع یعنی خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ قانون شریعت کے خلاف فساد فی الارض میں شامل ہے ہر برائی فساد ہے جس سے منع کیا گیا ہے فرمایا فساد نہ کرو بلکہ امن اور چین قائم کرو ذلکم خیرلکم ان کنتم مومنین یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو تجارتی بددیانتی اس امت میں بھی موجود ہے اسی لیے حضور ﷺ نے فرمایا ، اے تاجرو ! پہلی امتوں کو خدا تعالیٰ نے ماپ تول کا متولی بنایا تھا انہوں نے اس معاملہ میں تعدی کی وہ ماپ تول میں کمی کرتے تھے لہٰذا ہلاک ہوگئے اب تمہاری باری ہے دیکھو ! کسی پر زیادتی نہ کرنا کہ پہلے قومیں اسی وجہ سے ہلاک ہوئیں۔
راستے کی رکاوٹ
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے یہ بھی فرمایا ولاتقعدوا بکل صراط ہر راستے میں مت بیٹھو توعدون وتصدون عن سبیل اللہ من امن بہ تم لوگوں کو ڈراتے ہو اور ایمان لانے والے کو اللہ کے راستے سے روکتے ہو ، ڈرانے سے مراد یہ ہے کہ تم شاہرائوں پر ڈاکے ڈالتے ہو ، لوگوں کو ڈرا دھمکا کر ان سے مال چھین لیتے ہو اور اگر کوئی مزاحمت کرے تو جان سے مار دینے سے بھی گریز نہیں کرتے قوم شعیب کا یہ قبیح طریقہ آج بھی جاری ہے ہر روز اخباروں میں پڑھتے ہیں کہ فلاں شاہراہ پر ڈاکوئوں نے بس کو لوٹ لیا یا فلاں مقام پر ڈاکو ساری رات بسوں اور ٹرکوں کو لوٹتے رہے ان کا طریقہ واردات بھی عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ ایک آدمی بس میں سوار ہوجاتا ہے اور اس کے باقی ساتھی کسی مقررہ مقام پر انتظار کرتے ہیں رات کو جب بس غیر آباد مقام پر پہنچتی ہے تو بس کو روک لیا جاتا ہے اور پھر تمام ڈاکو مسافروں سے نقدی ، گھڑیاں اور زیورات چھین کر فرار ہوجاتے ہیں اب تو دن دہاڑے ڈاکے پڑنے لگے ہیں یورپ اور امریکہ جیسے متمدن ممالک میں کار چوری کی وارداتیں کثرت سے ہورہی ہیں حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم کو اس قبیح فعل سے منع فرمایا۔
اہل ایمان کو اللہ کے راستے سے روکنے کا مطلب یہ ہے کہ ایسا پراپیگنڈہ کیا جائے جس سے متاثر ہو کر لوگ اللہ کے راستے کو چھڑ دیں اور نئے آنے والے رک جائیں جو لوگ شعیب (علیہ السلام) کی بات سننا چاہتے تھے قوم کے لوگ انہیں حیلے بہانے سے آپ کے پاس جانے سے روکتے تھے اور آپ کے خلاف غلط پراپیگنڈا کرکے لوگوں کو آپ سے متنفر کرتے تھے مشرکین مکہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے ان کی بھی خواہش ہوتی تھی کہ کوئی نووارد حضور ﷺ سے ملاقات نہ کرسکے وہ جانتے تھے کہ اگر ایک دفعہ کسی نے حضور ﷺ کی بات سن لی تو وہ انہی کا ہو کر رہ جائے گا حضرت ضماد ؓ کا واقعہ مشہور ہے آپ اسلام لانے سے پہلے بہت بڑے کاہن اور طبیب تھے مکہ آئے تو حضور ﷺ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی مشرکین نے کہا وہ تو پاگل ہے اس کے پاس جاکر کیا کرو گے کہنے لگے میں طبیب ہوں ، اگر وہ بیمار ہیں تو ان کا علاج کروں گا آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر علاج کی پیش کش کی تو آپ نے خطبہ ارشاد فرمایا پس آپ کی بات سننا تھا کہ گھائل ہوگیا اور حضور ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرکے واپس آیا تو راستے سے روکنے کا یہی مطلب ہے۔
کجی کی تلاش
شعیب (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم اللہ کے راستے سے روکتے ہو وتبعو نھا عوجاً اور دین کے راستے میں کچی تلاش کرتے ہو دین میں ایسی خامیاں تلاش کرتے ہو جن کا پراپیگنڈا کرکے لوگوں کو برگشتہ کرنا چاہتے ہو مشرکین اور کفار ہمیشہ یہی کرتے آتے ہیں یہود و نصاریٰ بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اسلام کے خلاف پراپیگنڈا کرنے کے لیے کوئی مواد ہاتھ آئے آج کے نام نہاد مستشرقین بھی یہی کر رے ہیں تحریروں اور تقریروں کے ذریعے اسلام کی خامیاں بیان کرتے ہیں تاکہ لوگ اس سے متنفر ہوجائیں کبھی دین کے مسائل کو غلط رنگ میں پیش کریں گے جیسے ایک لندن پلٹ اعلیٰ ڈگری یافتہ ڈاکٹر نے کہا تھا کہ مسلمانوں کا دین کیسا ہے کہ جانور کو چھری سے رگڑ رگڑ کر ذبح کرتے ہیں یہ تو جانور کے ساتھ ظلم ہے کیوں نہ ایک ہی وار میں جانور کا سر تن سے جدا کردیاجائے۔ اس قسم کا پراپیگنڈا کرتے ہیں حالانکہ تیز چھری کے ساتھ حلق سے ذبح کنا ملت ابراہیمی کا مسلمہ اصول اور فطرت کے عین مطابق ہے بیک وار گردن قلم کردینا غلط ہے اور اس سے مذبوحہ جانور مکروہ تحریمی بن جاتا ہے یہ بدبخت پیغمبر اسلام کی ذات مبارکہ کو بھی اپنے غلط پراپیگنڈا کا نشانہ بناتے ہیں حضور ﷺ پر نعوذ باللہ بادشاہ اور عیاش ہونے کا الزام لگاتے ہیں افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ عیسائی ، یہودی ، ہندو اور دہریوں کی اسلام دشمنی میں ان کے مسلمان شاگرد بھی شامل ہوجاتے ہیں اور پھر ان کی ڈیوٹی یہ انجام دینے لگتے ہیں حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ بھی یہی کام کرتے تھے جس سے آپ نے منع فرمایا۔
عددی برتری
حضرت شعیب (علیہ السلام) نے قوم کو اللہ کا یہ احسان بھی یاد دلایا و اذکرو اذکنتم قلیلاً فکثرکم اور یاد کرو جب تم قلیل تعداد میں تھے تو اللہ نے تمہیں زیادہ کرودیا تمہاری نسل میں برکت دی جو خوب پھیلی اور تمہیں عددی اکثریت حاصل ہوگئی کثرت تعداد اللہ تعالیٰ کا انعام ہے مگر اس زمانے میں اسے وبال جان سمجھا جانے لگا ہے انگریز نے ایسی پٹی پڑھائی ہے کہ آبادی بڑھ جانے سے خوراک کی قلت پیدا ہوجائے گی لہٰذا آبادی پر کنٹرول ہونا چاہیے بچے کم پیدا کرو ، خاندانی منصوبہ بندی کو اپنائو وغیرہ وغیرہ ، دنیا پر ایک نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمیشہ اکثریت نے اقلیت کو مغلوب کیا قبرض اور لبنان میں کیا ہوا ، عیسائیوں کی عددی اکثریت کی وجہ سے مسلمانوں کو نقصان اٹھانا پڑا ہمیں ہندوستان سے کیوں علیحدہ ہونا پڑا کہ ہندو اکثریت میں تھے اگر ہم اکثریت میں ہوتے تو پورا ملک ہمارا ہوتا۔
عددی اکثریت دو طریقوں سے حاصل ہوتی ہے یا تو فکری جذبہ کے تحت تبلیغ عام کی جائے تاکہ لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوں یا پھر دوسرا طریقہ تعداد ازواج کا ہے حضور ﷺ نے فرمایا مسلمانوں کی عددی برتری میرے لیے باعث فخر ہے آبادی میں کمی کرنا مشرکانہ اور جاہلانہ تصور ہے اگر وسائل رزق کی تقسیم صحیح ہوجائے تو کسی چیز کی قلت نہیں پیدا ہوگی مشکل تو یہی ہے کہ ہم اسلامی اصولوں کو اپنانے کی بجائے انہیں مٹانے پر کمر بستہ ہیں بعض لوگ دن میں چھ چھ مرتبہ پر تکلف کھانا کھاتے ہیں اور بعض کو ایک وقت بھی سیر ہو کر میسر نہیں ہم نے کاروبار ، ملازمت ، تعلیم کوئی بھی چیز اسلامی اصولوں کے مطابق تقسیم نہیں کی جس کی وجہ سے بےچینی پائی جاتی ہے اگر بچوں کی تعلیم و تربیت صحیح ہو تو جتنی عددی اکثریت ہوگی اتنا ہی ہمارے لیے بہتر ہوگا بنگال کے کچھ لوگ تبلیغ کے لیے روس میں گئے تو وہاں کے مفتی نے کہا کہ خدا سے دعا کرو کہ یہاں کے لوگوں کو مذہبی آزادی حاصل ہوجائے وہ کم از کم عبادت تو کھلے بندوں کرسکیں ہمیں تو کوئی عبادت بھی نہیں کرنے دیتا کیونکہ ہم اقلیت میں ہیں غرضیکہ عددی برتری کو اللہ نے بطور احسان یاد دلایا ہے۔
فرمایا وانظروا کیف کان عاقبۃ المفسدین دیکھو فساد کرنے والوں کا کتنا برا انجام ہوا دنیا میں جس نے بھی من مانی کی ظلم و ستم کا بازار گرم کیا وہی قوم باعث عبرت بن گئی اللہ نے مختلف قوموں کا حال بیان کرکے بعد میں آنے والوں کی توجہ دلائی ہے کہ دیکھو قوم نوح کا کیا حال ہوا قوم عاد اور ثمود کس انجام کو پہنچی قوم لوط کا حال بیان کرتے ہوئے فرمایا وانکم لتمرون علیھم (الصفت) تم ان پر صبح شام گزرتے ہو کیا یہ باعث عبرت نہیں ہے۔
خدائی فیصلے کا انتظار
فرمایا وان کان طائفۃ منکم امنو بالذی ارسلت بہ تم میں سے ایک گروہ ایمان لایا ہے اس چیز پر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے اپنا پیغام دین اور شریعت بھیجی ہے تمہارے لیے اصلاح کی دعوت بھیجی ہے جس پر ایک گروہ ایمان لاچکا ہے وطائفۃ یومنو اور ایک گروہ ایمان نہیں لایا وہ الٹا دین کے راستے میں روڑے اٹکاتا ہے لوگوں کو دین کے راستے سے روکتا ہے فرمایا اس کا علاج یہ ہے کہ دل برداشتہ نہ ہو بلکہ فاصبرو کا دامن تھامے رکھیں اور اس وقت کا انتظار کریں حتیٰ یحکم اللہ بیننا یہاں تک اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کردے حضور ﷺ نے بھی یہی سبق دیا موسیٰ (علیہ السلام) اور شعیب (علیہ السلام) نے یہی طریقہ اختیار کیا اور اہل ایمان کو صبر کی تلقین کی آگے آرہا ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی اپنی قوم سے استعینو باللہ واصبرو (اعراف) اللہ سے مدد چاہو اور صبر کرو خود حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو آپ کی طرف وحی کی جاتی ہے آپ اس کا اتباع کریں واصبر حتی یحکم اللہ (یونس) اور صبر کریں حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کوئی فیصلے د یہی بات شعیب (علیہ السلام) نے کہی کہ صبر کرو حتیٰ کہ اللہ ہمارے درمیان کوئی فیصلہ کردے وھو خیرالحکمین اور وہ بہتر فیصلہ کرنے والا ہے آخری فیصلہ اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ اہل ایمان کے حق میں ہوگا انہ لا یفلح الظلمون (الانعام) اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو کبھی فلاح نہیں دیتا بلکہ وہ ہمیشہ نامراد رہتے ہیں آخری کامیابی اہل ایمان کی ہوگی۔