Ayahs 7:145–147ربط آیات
اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر تشریف لے گئے اور وہاں پر چالیس راتوں کا اعتکاف کیا پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو شرف تکلم بخشا اور آپ کو کتاب تورات عطا فرمائی درمیان میں موسیٰ (علیہ السلام) کے اس اشتیاق کا ذکر ہوا جب آپ نے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اللہ نے فرمایا اس مادی جہان میں میری رویت ممکن نہیں نیز فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) میں نے تمہیں اپنی رسالت اور کلام کے ساتھ لوگوں میں ممتاز فرمایا ہے لہٰذا جو چیز میں عطا کروں اس کو لے لو اور میرا شکریہ ادا کرو جس چیز کا موقع اور محل نہیں ہے اس کے متعلق سوال نہ کرو اب آج کے درس میں اللہ جل شانہ نے تورات کی کچھ تفصیل بیان کی اور اس کے متعلق بعض ہدایات دی ہیں۔
تورات بطور نصیحت
ارشاد ہوتا ہے وکتبنا لہ فی الالواح من کل شی ئٍ موعظۃ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا فرمائی وہ نصیحت و موظعت کا مجموعہ تھی پوری تورات تختیوں کی دونوں طرف لکھی ہوئی تھی باقی رہی یہ بات کہ کل کتنی تختیاں تھیں اس کے متعلق یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ دس یا کم و بیش تختیوں کا ذکر بھی آتا ہے تختیوں کی ساخت کے متعلق بھی کچھ معلوم نہیں کہ یہ لکڑی کی تھیں زمرد کی یا کسی دوسری دھات لوہے ، تانبے وغیرہ کی بنی ہوئی تھیں تاہم اللہ نے فرمایا کہ ہم نے ان تختیوں پر ہر قسم کی نصیحت کندہ کردی نصیحت سے وہ باتیں مراد ہیں جن کو سن کر انسان کے عقائد کی اصلاح ہوتی ہے عمل کی قوت بڑھتی ہے اور کوتاہیاں دور ہوتی ہیں نصیحت تمام کتب سماویہ کا موضوع ہے وعظ و نصیحت اعلیٰ درجے کی چیز ہے مگر بعض لوگ اسے محض ثواب کی نیت سے سنتے ہیں کہ کوئی اچھی بات سن لی تو اس سے ثواب حاصل ہوجائے گا ایسا نہیں ہے بلکہ یہ تو اصلاح کا پروگرام ہے جس پر عمل کرنے سے ہی انسان کو فائدہ پہنچ سکتا ہے امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) وعظ کی تعریف اس طرح فرماتے ہیں قھرالمدارک اظلمانیۃ بانوادالمعاروف القدسانیۃ (الخیرالکثیر) انسان میں علوم کے اعتبار سے جو تاریک باتیں ہوتی ہیں انہیں معرفت کے مقدس انوار کے ساتھ مٹانا ، انسان کی فکر سے ظلمات کو دور کرنا ، یہ چاروں آسمانی کتابوں کا موضوع ہے قرآن پاک کے متعلق سورة یونس میں موجود ہے قد جاء تکم موعظۃ من ربکم تمہارے پاس تمہارے رب کی جانب سے نصیحت کی بات آچکی ہے تو فرمایا کہ ہم نے تورات میں ہر قسم کی نصیحت لکھ دی۔
ہر چیز کی تفصیل
فرمایا تورات میں ایک تو نصیحت تھی اور دوسری چیز وتفصیلاً لکل شی ئٍ ہر چیز کی تفصیل بھی موجود ہے سورة بنی اسرائیل میں قرآن پک کے متعلق آتا ہے وکل شی ئٍ فضلتہ تفصیلاً یعنی اس میں ہر چیز کو تفصیل کے ساتھ بیان کردیا ہے تفصیل سے مراد ہر قسم کی جزئیات نہیں بلکہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی تفسیر کے مطابق لکل شی ئٍ سے حلال حرام اور جائز و ناجائز سے متعلق احکام ہیں انسانی عقل و تجربے سے حاصل ہونے والے امور صنعت و حرفت یا مختلف قسم کے فنون کی تفصیل یہاں نہیں ملے گی مثال کے طور پر اگر کوئی شخص چاہے کہ صابن بنانے کا فارمولا اسے کتاب میں سے مل جائے تو اس کا مطالبہ درست نہیں ہے یا کوئی شخص خراد کا کام سیکھنا چاہے اور قرآن پاک کی ورق گردانی کرنے لگے تو مسئلہ حل نہیں ہوگا کیونکہ یہ انسانی عقل و ہنر اور محنت و مشقت کا کام ہے جس کے لیے متعلقہ تربیت ہی حاصل کرنا ہوگی البتہ جو چیزیں عقائد و اعمال سے تعلق رکھتی ہیں اور اس کے لیے بنی نوع انسان ہدایت الٰہی کے محتاج ہوتے ہیں ان کی رہنمائی اللہ کی کتاب سے ضرور ہوگی ایسی ہر چیز کی تفصیل اسے میسر آئے گی اور یہی اس آیت کا مفہوم ہے اور کل شی ئٍ سے ایسی ہی چیزیں مراد ہیں۔
اس قسم کی مثال قرآن پاک میں شہد کی مکھیوں سے متعلقہ آیت کریمہ میں بھی ملتی ہے اللہ نے شہد کی مکھی کو حکم دیا ہے ثم کلی من کلی الثمرات پھر تم ہر قسم کے پھل کھائو تاکہ تمہارے پیٹ میں شہد تیار ہو اب ہر قسم کے پھلوں سے یہ مراد نہیں کہ دنیا میں جتنے بھی پھل اور پھول ہیں سب کو کھانا اور ان کا رس چوسنا مکھی کے لیے لازم ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ پھل کھائو جو تمہاری فطرت کے ساتھ مناسبت رکھتے ہیں مثلاً مکھی کھجور یا انگور پر بیٹھ کر اس کا رس تو چوس سکتی ہے مگر اخروٹ یا بادام کو تو توڑ کر نہیں کھا سکتی اسی طرح بیشمار ایسے پھل ہیں جن سے شہد کی مکھی مستفید نہیں ہوسکتی کیونکہ یہ اس کے مناسب حال نہیں تو اس کے لیے کل سے مراد وہی پھل اور پھول ہوں گے جنہیں وہ کھاسکتی ہے اور جن کا رس چوس سکتی ہے اسی طرح یہاں کل شئی سے وہی چیزیں مراد ہیں جن کی انسان کو ضرورت ہے مگر وہ اپنی عقل سے حاصل نہیں کرسکتا چناچہ تورات ایک جامع کتاب تھی اس میں احکام حدود ، مواعظ ، تاریخ وغیرہ موجود تھیں جس طرح قرآن پاک میں احکام ، حدود ، زواجر ، عبادات ، اخلاقیات اور معاملات موجود ہیں اسی طرح تورات میں بھی تھے اور انہی کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ ہم نے تختیوں پر ہر شے کی تفصیل لکھ دی تھی۔
تمک بالکتاب
اللہ تعالیٰ نے کتاب کے مندرجات بیان کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) سے فرمایا فخذھا یقوۃ ان کو مضبوطی سے پکڑ یعنی اس میں موجود احکام پر سختی سے عمل کرو اور قوم سے کر ائو مطلب یہ کہ ان احکام کو دلجمعی سے پکڑیں دل کی محبت اور توجہ کے ساتھ انہیں سیکھیں سکھائیں اور ان پر عمل کریں اگر ایسا کرو گے تو راسخ ہوجائو گے اور اس کا تمہیں فائدہ ہوگا اور اگر یہ چیز پیدا نہ ہوسکی تو کتاب سے تعلق پختہ نہیں ہوگا انسانی سوسائٹی میں اسے رائج نہیں کیا جاسکے گا قرآن پاک اور دیگر کتب سماویہ کے متعلق بھی یہی حکم ہے۔
فرمایا وامرقومک یاخذوا باحسنھا اے موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو حکم دیں کہ وہ اس کتاب کی اچھی باتوں کو لے لیں احسن اسم تفصیل کا صیغہ ہے کتب سماویہ تو ساری کی ساری احسن ہی ہوتی ہیں تو پھر صرف اچھی چیزیں ہی لینے کا کیا مطلب ہے کیا اس میں کوئی ایسی چیزیں بھی ہیں جو اچھی نہیں ہیں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں پر احسن کا صیغہ ہی مناسب حال ہے کیونکہ احکام دو قسم کے ہوتے ہیں بعض احکام عزیمت سے تعلق رکھتے ہیں اور بعض کا تعلق رخصت سے ہوتا ہے عزیمت والے احکام درجہ اول کے احکام ہوت ہیں اور رخصت دوسرے درجے میں آتی ہے جب کوئی شخص عزیمت والے احکام پر بوجوہ عمل کرنے سے قاصر ہوتا ہے تو اسے رخصت کی اجازت ہوتی ہے مثلاً کوئی شخص کسی تکالیف کی وجہ سے رمضان المبارک میں روزے نہیں رکھ سکتا تو اسے افطار کرنے کی رخصت ہے وہ بہد میں قضا کرلے گا اور اگر بڑھاپے یا لمبی بیماری کی وجہ سے روزہ رکھنے کی صلاحیت واپس آنے کا امکان نظر نہیں آتا تو ایسا شخص روزے کے بدلے میں فدیہ بھی دے سکتا ہے تو گویا روزہ رکھنا عزیمت کا کام ہے اور قضا کرنا یا فدیہ ادا کردینا رخصت ہے تو یہاں پر احسن سے مراد یہ ہے کہ عزیمت کے کام کرو بعض فرماتے ہیں کہ جن چیزوں کے کرنے کا حکم دیا گیا ہے وہ احسن ہیں اور جن سے منع کیا گیا ہے وہ غیر احسن ہیں ان سے بچنے کی ضرورت ہے اور احسن امور کو انجام دینے کا حکم دیا گیا ہے۔
نافرمانوں کا گھر
فرمایا اپنی قوم کو احسن کام کرنے کا حکم دو ساریکم دارالفسقین میں عنقریب تمہیں فاسقوں کا گھر دکھا دوں گا فاسقوں اور نافرمانوں کے گھر سے جہنم بھی مراد ہوسکتی ہے کیونکہ نافرمان لوگ بالآخر وہیں پہنچیں گے بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ دنیا میں فاسقوں کا گھر ذلت اور رسوائی ہے کیونکہ وہ گناہ میں مبتلا ہوتے ہیں اس لیے وہ ذلیل خوار ہوتے ہیں اور آخرت میں ان کے لیے جہنم تو بہرحال مقرر ہے۔
بعض فرماتے ہیں کہ دارالفاسقین سے مراد وہ سرزمین ہے جس پر عمالقہ قابض تھے اور پھر اللہ نے وہ سرزمین بنی اسرائیل کو عطا کی یہ وہی فلسطین و شام کا علاقہ ہے جو اللہ نے عمالقہ کے قبضے سے نکال کر بنی اسرائیل کو عطا کیا تو اللہ نے خوشخبری دی کہ بالآخر اس سرزمین پر تمہارا تسلط قائم ہوجائے گا۔
آیات الٰہی سے محرومی
آگے اللہ تعالیٰ نے ایک اور بات بھی بیان فرمائی ہے ساصرف عن ایتی الذین یتکبرون فی الارض بغیرالحق میں پھیر دوں گا اپنی آیتوں سے ان لوگوں کو جو زمین میں ناحق تکبر کرتے ہیں یعنی میری آیات تک مغرور لوگوں کی رسائی نہیں ہوگی اور انہیں وہی لوگ حاصل کرسکیں گے جن کا عقیدہ اور ایمان درست ہوگا اور جو انہیں اپنا دستور العمل بنائیں گے امام سفیان ابن عینیہ (رح) امام ابوحنیفہ (رح) کے ہم عصر (اور ان کے شاگرد) تھے آپ اپنے زمانے کے بڑے محدث امام ہیں وہ فرماتے ہیں کہ آیات سے پھیر دینے کا مطلب یہ ہے کہ متکبر لوگ قرآن فہمی سے عاری ہوں گے ان کو قرآن کی سمجھ ہی نہیں آئے گی امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ امام ابن عینیہ (رح) نے یہ بات سمجھائی ہے کہ کلام تو موسیٰ (علیہ السلام) کی کتاب تورات کے ضمن میں ہورہا ہے مگر تمام آسمانی کتابوں کا یہی حکم ہے کہ جو بھی زمین میں ناحق تکبر کریں گے وہ اللہ تعالیٰ کی آیات سے مستفید نہیں ہوں گے ویسے بھی سلف صالحین کا قول ہے لن ینال العلم حی ولا مستکبر یعنی شرمانے والا اور تکبر کرنے والا آدمی علم کو نہیں پاسکتا علم میں شرمانے کی بات روا نہیں ہے علم حاصل کرنے کے لیے سوال تو کرنا ہی پڑتا ہے اگر اپنی مشکلات کا اظہار نہیں کرے گا تو علم کیسے حاصل کرے گا صحیحین کی حدیث میں آتا ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ نے انصار مدینہ کی عورتوں کی تعریف فرمائی ہے نعم نساء الانصار لم یمنعھن الحیاء ان یتفقھن فی الدین یعنی انصار مدینہ کی عورتیں بہت اچھی ہیں دین کی سمجھ حاصل کرنے میں ان ک شرم مانع نہیں ہے جو بات ان کو معلوم نہیں ہوتی وہ بلا تکلف دریافت کرلیتی ہیں حیا ہر معاملے میں محمود ہے مگر حصول علم کے لیے نامعلوم کے متعلق ضرور دریافت کرلینا چاہیے سلف کا یہ بھی مقولہ ہے کہ جو شخص ایک گھڑی بھر سیکھنے کی ذلت برداشت نہیں کرتا یعنی علم حاصل کرنے کے لیے شاگردی اختیار نہیں کرتا اور استاد سے سوال کرنے سے ہچکچاتا ہے وہ ہمیشہ کے لیے جہالت کی ذلت میں مبتلا ہوجاتا ہے بزرگان دین فرماتے ہیں کہ تکبر بہت بری بیماری ہے روحانی بیماریوں میں یہ سب سے شدید ہے اور باقی بیماریوں کے مقابلے میں سب سے آخر میں بڑی محنت کے بعد دورتی ہوتی ہے۔
بہرحال فرمایا کہ کتب سماویہ کے فہم میں تکبر بہت بڑی رکاوٹ ہے مغرور آدمی کتاب الٰہی کو نہیں سمجھ سکے گا اسی لیے فرمایا کہ میں اپنی آیات کو ایسے لوگوں سے پھیر دوں گا۔
صحیح راستے کا انتخاب
ارشاد ہوتا ہے کہ اس قسم کے مغرور لوگوں کی حالت یہ ہے کہ وان یروا کل ایۃ لایومنو بھا کہ اگر ہر قسم کی نشانی دیکھ لیں پھر بھی ایمان نہیں لاتے پہلے گزر چکا ہے کہ وہ جو بھی نشانی دیکھتے تھے اسے جادو کہہ کر انکار کردیتے تھے اور ایمان نہیں لاتے تھے ان کی طبائع میں بھی غرور تکبر راسخ ہوچکا تھا فرمایا وان یرا واسبیل الرشد اور اگر یہ مغرور لوگ ہدایت کا راستہ دیکھتے ہیں لا یتخذوہ سبیلاً تو اسے راستہ ہی نہیں پکڑتے ظاہر ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) جو راستہ کتب الٰہی کے ذریعے واضح کرتے ہیں وہ ہدایت ہی کا راستہ ہوتا ہے مگر ان لوگوں کی ذہنیت اس قدر بگڑ چکی ہے کہ راستے کو راستہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے فرمایا وان یروا سبیل الغی اور اگر وہ گمراہی کے راستے کو دیکھیں یتخذوہ سیلاً تو اس کو راستہ بناتے ہیں یعنی وہ لوگ عیاشی ، فحاشی ، برائی ، کھیل تماشہ ، نام نمود اور رسومات باطلہ کے کاموں کو دیکھتے ہیں تو فوراً اس کی طرف دوڑ کر جاتے ہیں افراد کے علاوہ موجودہ زمانے کی اکثر حکومتوں کا بھی یہی حال ہے وہ بھی ہدایت کے راستے کو اختیار کرنے کی بجائے گمراہی کے راستے کو پسند کرتے ہیں اور ہو اسی میں اپنا کمال سمجھتے ہیں۔
اللہ نے فرمایا کہ مغرور لوگ ہدایت کی بجائے گمراہی کا راستہ اس لیے پکڑتے ہیں ، رلک بانھم کذبو بایتنا ایہ اس لیے کہ انہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا آیات میں صرف معجزات ہی نہیں بلکہ تمام احکام اور شرائع شامل ہیں لہٰذا احکام الٰہی کو جھٹلانے کی وجہ سے یہ لوگ گمراہی کا راستہ اختیار کرتے ہیں فرمایا اس کی دوسری وجہ یہ ہے وکانو عنھا غفلین کہ ان لوگوں نے آیات الٰہی سے بالکل غفلت برتی یعنی اس طرف توجہ یہ نہیں کی اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی اپنی آیات تک رسائی ممنوع قرار دیدی تاکہ وہ اس کے فہم تک نہ پہنچ سکیں جب آیات کا فہم نہیں ہوگا تو ان پر عمل کیسے ہوسکے گا اللہ نے فرمایا کہ ہم انہیں اپنی آیات سے پھیر دیں گے۔
اعمال کا ضیاع
فرمایا والذین کذبو بایتنا ولقاء الاخرۃ وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا نہ تو اس دنیا میں ہمارے احکام و شرائع کو تسلیم کیا اور نہ ہی بعث بعدالموت پر یقین کیا کہ مرنے کے بعد اعمال کی جواب دہی بھی کرنی ہے ان کے متعلق فرمایا حبطت اعمالھم ان کے اعمال ضائع ہوگئے اول تو انہوں نے نیک اعمال کیے ہی نہیں اور اگر کوئی ہوگا تو وہ ضائع ہوجائے گا اس کا کچھ فائدہ نہیں پہنچے گا اگر کوئی نیکی کی ہوگی تو رائیگاں جائے گی اعمال کی قبولیت تو جب ہوگی جب ان اعمال کے پیچھے ایمان کی بنیاد موجود ہوگی اگر ایمان ہی نہیں ہے قیامت کے دن اور محاسبے پر یقین ہی نہیں ہے تو نیکی کس کام آئے گی ؟ وہ تو ایسا عمل کریں گے جسے اپنی عقل کے مطابق صحیح سمجھیں گے مگر وہ ان کے لیے قطعاً مفید نہیں ہوگا اور بالآخر انہیں مایوسی کا منہ دیکھنا پڑے گا اس کا کوئی اچھا نتیجہ نہیں نکلے گا۔
فرمایا ھل یجزون الا ماکانو یعملون وہ نہیں بدلہ دیئے جائیں گے مگر ان اعمال کا جو وہ انجام دیتے رہے انہوں نے کفرو شرک کا ارتکاب کیا آیات الٰہی کی تکذیب کی عیاشی اور فحاشی کو معمول بنائے رکھا کھیل تماشے میں مصروف رہے ، رشد و ہدایت کی باتوں کو قبول نہ کیا تو پھر انہیں ان اعمال کا بدلہ بھی ایسا ہی ملے گا انہیں کسی اچھے بدلے کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔
Ayahs 7:148–151ربط آیات
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت اجابت کا ذکر ہورا ہے گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ بنی اسرائیل آپ کی رہنمائی میں مصر سے نکلے تھے انہوں نے بحیرہ قلزم کو پار کیا دشمن ہلاک ہوچکا تھا صحرائے سینا میں پہنچ کر خود قانون کا مطالبہ کیا موسیٰ (علیہ السلام) نے کتاب کے لیے دعا کی تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوا کہ کوہ طور پر اعتکاف بیٹھیں تو مقرر مدت کے بعد آپ کو کتاب کی صورت میں لائحہ عمل عطا کیا جائے گا طور پر چلتے وقت آپ نے اپنے بڑے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنا نائب مقرر کیا تاکہ ان کی عدم موجودگی میں قوم کی قیادت کا فریضہ انجام دے سکیں اعتکاف کی تکمیل پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے اپنی رویت کی خواہش کا اظہار کیا تو اللہ نے فرمایا کہ اس جہان میں ایسا ممکن نہیں ہے اللہ نے نصیحت فرمائی کی ایسی خواہش نہ کریں جو ممکن نہیں اس کے بجائے اللہ تعالیٰ نے آپ کو رسالت و نبوت کا جو بلند مقام عطا فرمایا ہے آپ اس پر اکتفا کریں اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں۔
سونے کا بچھڑا
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) طور پر چلے گئے تو پیچھے قوم کے اکثر لوگ گمراہی میں مبتلا ہوگئے واتخذ قوم موسیٰ من بعدہ من حلیھم عجلاً اور بنالیا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے آپ کے جانے کے بعد اپنے زیورات سے ایک بچھڑا دوسری سورتوں میں تفصیل موجود ہے کہ سامری نامی شخص نے یہ بچھڑا بنایا (اور تفسیری روایتوں میں ہے کہ ) پھر اس میں جبرائیل (علیہ السلام) کے نقش پا ، کی خاک ڈالی تو کرشمے کے طور پر وہ بولنے لگا یہ بچھڑا کیا تھا ؟ فرمایا جسداً لہ خوار سونے کو ڈھال کر بنایا گیا ایک جسم تھا جس کے اندر سے گائے کی آواز آتی تھی خوار گائے کی آواز کو کہا جاتا ہے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ یہ بچھڑا اپنی مخصوص آواز میں بول رہا ہے جن زیورات کو ڈھال کر بچھڑا بنایا گیا تھا وہ اصلاً بنی اسرائیل کے لوگوں کی ملکیت نہ تھے بلکہ مصر سے چلتے وقت انہوں نے قبطیوں سے عاریۃً حاصل کیے تھے تورات میں آتا ہے کہ بنی اسرائیل نے قبطیوں سے کہا کہ وہ اپنے ایک مذہبی میلہ میں جا رہے ہیں لہٰذا آپ انہیں کچھ زیورات ادھا ردے دیں قبطیوں نے یہ زیورات خوشی سے ان کو دے دیے جنہیں لے کر وہ بحیرہ قلزم سے ہوتے ہوئے صحرائے سینا میں پہنچ گئے فرعونی تو سمندر میں غرق ہوچکے تھے اب یہ زیورات انہی کے قبضے میں تھے لہٰذا سامری کے کہنے پر انہوں نے وہ سارے زیورات اکھٹے کیے اور انہیں پگھلا کر ایک بچھڑا بنالیا جس سے بولنے کی آواز بھی آتی تھی بعض کہتے ہیں کہ بچھڑے کے منہ میں کرشمے والی مٹی ڈالنے سے وہ گوشت پوست کا بچھڑا بن کر بولنے لگا تھا مگر زیادہ تر خیال یہی ہے کہ وہ سونے کا بچھڑا تھا تاہم اس سے آواز آتی تھی۔
زیورات کی اباحت
جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے جن زیورات سے بچھڑے کا مجسمہ بنایا گیا تھا وہ ان کی اپنی ملکیت نہ تھے بلکہ وہ قبطیوں سے عاریۃً لے کر گئے تھے مگر یہاں پر اللہ نے حلیھم یعنی ان کے زیورات فرمایا مفسرین اس سے یہ مسئلہ نکالتے ہیں کہ حربی کافروں کا مال مسلمانوں کے لیے مباح ہے اور مسلمانوں کا مال ان کے لیے جائز ہے مال غنیمت اور مال فے اسی اصول کے تحت جائز قرار پایا ہے جب کوئی کافر قوم مسلمانوں سے برسر پیکار ہو تو ان کا مال خواہ جنگ کے نتیجے میں حاصل ہو یا بغیر لڑائی کے وہ مسلمانوں کے لیے مباح ہوتا ہے قبطی چونکہ کافر تھے اور بنی اسرائیل پر مظالم بھی ڈھاتے تھے اس لیے ان سے حاصل کردہ زیورات مسلمانوں کی ملکیت بن چکے تھے اللہ نے اسی لیے حلیھم کہا ہے۔
سورۃ حشر میں مال فے کے متعلق آتا ہے للفقراء المہجرین الذین اخرجو من دیارھم یہ ان فقرا اور مہاجرین کے لیے ہے جنہیں اپنے گھروں سے نکال دیا گیا مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ طیبہ آنے والے سارے فقراء ہی تو نہیں تھے بلکہ ان میں تو صاحب مال لوگ بھی تھے مگر ہجرت کے بعد ان کے مال پر کفار مکہ نے قبضہ کرلیا لہٰذا یہ محتاج ہوگئے جب ایک دفعہ یہ مال کفار کے قبضہ میں چلا گیا تو پھر اس پر کافروں کا حق ملکیت تسلیم کرلیا گیا اور مسلمانوں نے فتح مکہ کے بعد بھی اسے واپس نہیں لیا حجتہ الوداع کے موقع پر جب حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کل آپ کہاں ٹھہریں گے سوال کرنے کا مقصد یہ جاننا تھا کہ کیا آپ اپنے چھوڑے ہوئے آبائی مکان میں قیام فرمائیں گے تو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا عقیل (حضرت علی ؓ کے بھائی جو ابھی اسلام نہیں لائے تھے) نے ہمارے لیے کوئی مکان چھوڑا بھی ہے جہاں ہم قیام کرسکیں ؟ مطلب یہ تھا کہ ہجرت کے بعد آپ کا مکان بھی وہ لوگ بیچ کر کھا گئے اب وہ ہمارا مکان نہیں رہا غرضیکہ جس طرح حربی کافروں کی جائیداد مسلمانوں کے لیے مباح ہے اس طرح مسلمانوں کا مال کافروں کے لیے مباح ہے چونکہ قبطیوں کے زیورات بنی اسرائیل کے قبضہ میں آچکے تھے اس لیے اللہ نے ان زیورات کو انہی کے زیورات کہا ہے یعنی وہ ان کے مالک بن چکے تھے۔
بچھڑے کی پرستش
جب سونے کا بچھڑا تیار ہو کر بولنے لگا تو سامری نے بنی اسرائیل کو ورغلایا کہ دیکھو ! خدا تو یہ ہے اس کی پرستش کرو موسیٰ (علیہ السلام) تو بھول کر طور پر گئے ہیں تمہارے لیے یہی معبود کافی ہے چناچہ بچھڑے کے سامنے سجدے کرنے لگے اور اس کی نذر و نیاز شروع ہوگئی تو اللہ نے فرمایا کہ یہ کتنے بیوقوف لوگ ہیں اور کیسی حرکتیں کر رہے ہیں الم یروا انہ لا یکلمھم کیا یہ نہیں دیکھتے کہ یہ بچھڑا تو ان سے بات بھی نہیں کرسکتا بمحض ایک بےمعنی آواز نکل رہی ہے جس کی وجہ سے اسے الومہیت کا درہ دے دیا گیا ہے ولایھدیھم سبیلاً اور نہ ہی ان کی رہنمائی کرتا ہے وہ تو بیچارہ خود عاجز ہے یہ کیسے معبود ہوسکتا ہے۔
فرمایا اتخذوہ انہوں نے اس کو معبود بنالیا یہ مجسمہ سامری نے بنایا تھا وہ خود گمراہ تھا اور اس نے دوسروں کو بھی گمراہ کیا مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ سامری بنی اسرائیل کا فرد نہیں تھا بلکہ اس کا تعلق سمیری قوم سے تھا مگر منافقوں کی طرح بنی اسرائیل میں شامل ہوچکا تھا اور انہی میں شمار ہوتا تھا بعض فرماتے کہ تھا تو اسرائیلی مگر اس میں بگاڑ پیدا ہوچکا تھا وہ منافق تھا اور اس کا دل ایمان سے خالی تھا اس کے ورغلانے پر اسرائیلیوں نے بچھڑے کو معبود بنالیا وکانو ظلمین اور وہ بڑے بےانصاف تھے یہ ان کی غائت درجے کی حماقت تھی کہ خود ساختہ مجسمے کو معبود بنالیا محض بےجان ڈھانچے سے آواز نکلتی سن کر گمراہ ہوگئے اور خدا تعالیٰ کی شان اور عظمت کو فراموش کردیا جب انسان کا ذہن خراب ہونے پر آتا ہے تو پھر ایسی ہی بےوقوفی کی باتیں کرتا ہے سانپ جیسے موذی کیڑے کی پرستش کرنے والے ناگ پنچھمی بھی دنیا میں پائے جاتے ہیں انسانوں ، پتھروں ، پانی ، بلیوں ، گائے ، بیل ، سورج ، چاند اور ستاروں کے پرستار بھی موجود ہیں اسرائیلیوں نے بھی یہی کیا کہ ایک بےجان بچھڑے کی پوجا کرنے لگے اسی لیے اللہ نے فرمایا یہ بڑے بےانصاف لوگ تھے جو حق تعالیٰ کی پرستش کرنے کی بجائے خود ساختہ چیز کے سامنے جھک گئے سورة طہٰ میں موجود ہے کہ اللہ کے نبی نے انہیں بڑا سمجھایا مگر انہوں نے آپ کی بات نہ مانی ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ سارے اسرائیل اس قباحت میں مبتلا نہیں ہوئے تھے ان میں اکثر توحید پر قائم رہے تھے تاہم بیس پچیس ہزار کے قریب ایسے لوگ موجود تھے جنہوں نے بچھڑے کو پوجنا شروع کردیا پھر جب موسیٰ (علیہ السلام) واپس آئے اور انہوں نے سمجھایا تو اسرائیلیوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انہوں نے اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کی جیسا کہ سورة بقرہ میں آتا ہے اللہ تعالیٰ نے توبہ کی قبولیت کے لیی بہت بڑی شرط لگائی اور وہ یہ تھی کہ پوجا نہ کرنے والے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کریں وہاں پر فاقتلو انفسکم کے الفاظ آتے ہیں پھر انہوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا باپ نے بیٹے کو قتل کیا بھائی نے بھائی کو مار ڈالا تو جب جاکر ان کی توبہ قبول ہوئی فتاب علیکم۔
قوم کی ندامت
آگے ارشاد ہوتا ہے ولما سقط فی ایدیھم اور جب بنی اسرائیل نادم ہوئے سقط مجہول کا صیغہ ہے اور اس کا لفظی معنی ہے کہ جب وہ گرائے گئے اپنے ہاتھوں میں ۔ مطلب یہ ہے کہ غلط کام کرنے کی وجہ سے خود اپنی نظروں میں گرگئے جب کوئی آدمی نادم اور پشیمان ہوتا ہے تو اپنی گردن کو جھکا دیت ہے یا اپنے ہاتھوں کو دانتوں سے چباتا ہے کف افسوس ملتا ہے یہی حالت بنی اسرائیل کے ان لوگوں کی تھی جنہوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی جب وہ نادم ہوئے وراوا انھم قد ضلو اور انہوں نے دیکھ لیا یعنی سمجھ گئے کہ وہ تو گمراہ ہوچکے ہیں قالو لئن لم یرحمنا ربنا کہنے لگے اگر ہمارا پروردگار ہم پر رحم نہیں فرمائے گا ویغفرلنا اور ہمیں معاف نہیں کرے لنکونن من الخسرین تو یقیناً ہم نقصان اٹھانے والوں میں ہوں گے اس طرح گویا انہوں نے اپنی جہالت اور گمراہی کا اقرار کیا اور اللہ تعالیٰ سے معافی مانگی۔
موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی
اب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طور سے واپسی کا حال بھی بیان فرمایا ہے ولما رجع موسیٰ الیٰ قومہ غضبان آسفاً اور جب واپس آئے موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کی طرف غصے میں اور غمزدہ۔ اسف کو غضبان کی صفت بنایا جائے تو معنی ہوگا شدید غصے میں کیونکہ غضبان صفت مشبہ کا ضیغہ ہے اور اسفاً غم سے بھرے ہوئے یعنی سخت غمزدہ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو سخت افسوس اور غم ہوا کہ دیکھو چند دن کی بات تھی میں اپنے پیچھے نائب بھی چھوڑ کر گیا تھا مگر یہ لوگ پھر بھی شرک سے باز نہ آئے آپ نے نہایت افسوس کا اظہار کیا قال بسئما خلفتمونی من بعدی فرمایا میرے بعد تم نے میری نیابت بہت برے طریقے سے انجام دی اعجلتم امرربکم کیا تم نے جلد بازی کی اپنے رب کے حکم سے اللہ تعالیٰ کا حکم تو یہ تھا کہ چالیس رات کا اعتکاف بیٹھو تو تمہیں کتاب دوں گا مگر تم نے اتنے دن تک بھی انتظار نہ کیا اور بچھڑے کو معبود بنالیا۔
ہارون (علیہ السلام) کی سرزنش
موسیٰ (علیہ السلام) نے غصے سے والقی الالواح تورات کی تختیاں پھینک دیں واخذ براس اخیہ یجرہ الیہ اور اپنے بھائی کا سرپکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے آپ نے غصے سے بےقابو ہو کر تختیاں بھی پھینک دیں اور سرزنش کے طور پر بھائی کے سر کو پکڑ کر کھینچا یہ دونوں کام اللہ کے نبی نے کیے جو کہ بظاہر نامناسب معلوم ہوتے ہیں بعض کام گناہ معلوم ہوتے ہیں مگر حقیقت میں وہ گناہ نہیں ہوتے اللہ کا نبی قوم کی طرف سے شرک کے ارتکاب پر بےقابو ہوگیا جس کی وجہ سے ان سے یہ دونوں کام سرزد ہوئے آپ نے اپنے بھائی کی توہین کی نیت سے ایسا نہیں کیا تاہم چونکہ آپ کی طبعیت جلالی تھی ہارون (علیہ السلام) امور نبوت میں آپ کے وزیر تھے اس لیے انہوں نے آپ کی موجودگی میں شرک کے ارتکاب پر سخت غم و غصہ کا اظہار کیا مطلب یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا مقصد بھائی کو تقصیر پر تنبیہ کرنا تھا ان کی توہین مقصود نہ تھی۔
بعض فرماتے ہیں کہ قوم کی گمراہی کی خبر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پہاڑ پر ہی دے دی تھی کہ اس طرح سامری نے قوم کو شرک میں ملوث کردیا ہے اس وقت تختیاں بھی آپ کے پاس تھیں مگر وہاں آپ کو اتنا غصہ نہیں آیا مگر جب واپس آکر دیکھا کہ قوم بچھڑے کے گرد جمع ہے تو پھر آپ کا پیمانہ صبر لبریز ہوگیا آپ نے تختیاں پھینک دیں اور بھائی کو بھی سخت سرزنش کی۔
ہارون (علیہ السلام) کی وضاحت
ہارون (علیہ السلام) تحمل مزاج تھے اپنے بھائی کی طرف سے سختی کا جواب اس طرح دیا قال ابن ام کہا اے میری ماں کے بیٹے ، آپ نے برادرانہ محبت و شفقت کے ساتھ نہایت نرمی سے خطاب کیا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) سگے بھائی تھے آپ کی والدہ کا نام یوخا بذیا یوخانز تھا آپ بڑی ایماندار خاتون تھیں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں ان کی تعریف بیان کی ہے تو آپ نے نہایت ترحم کے لہجے میں کہا ، اے میری ماں زادے ! میں نے قوم کو تبلیغ کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کی بلکہ حتی الامکان ان کو شرک سے باز رکھنے کی کوشش کی ہے مگر بات یہ ہے ان القوم استضعفونی میری قوم نے مجھے کمزور خیال کیا اور میری بات نہ مانی دوسری جگہ موجود ہے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) نے کہا ، اے لوگو ! خدا کا خوف کھائو ، تم کس گندگی میں مبتلا ہوگئے ہو ، میری بات سنو ، پروردگار تو وہی رحمان و رحیم ہے تم کس کو معبود بنا رہے ہو ؟ کچھ غور و فکر کرو ، مگر قوم نے ایک نہ سنی وکادوا یقتلوننی اور قریب تھا کہ وہ مجھے جان سے مار ڈالتے ہیں میں نے اپنی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں کی یہ سب کچھ ان کا اپنا کیا دھرا ہے دوسری جگہ موجود ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے بھائی سے کہا کہ جب تم نے دیکھا کہ یہ شرک میں مبتلا ہوگئے ہیں تو آپ ان سے علیحدگی اختیار کرلیتے تو ہارون (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ یہ میں نے ایسا اس لیے نہیں کیا کہ واپس آکر آپ یوں نہ کردیں ” فرقت بین بنی اسرائیل “ (طہٰ ) کہ تم نے بنی اسرائیل میں تفریق ڈال دی تھی ان کی دو پارٹیاں بنا دی ہیں فرمایا میں نے اس مصلحت کے تحت مخلص اہل ایمان کو شرک کرنے والوں سے علیحدہ نہیں کیا۔
ہارون (علیہ السلام) نے مزید عرض کیا فلا تشمت بی الاعداء مجھے سرزنش کرکے تو دشمنوں کو خوش نہ کرو لوگ دیکھیں گے تو جگ ہنسائی ہوگی کہ دونوں بھائی لڑ پڑے ہیں آپ ایسی بات نہ کریں ، قوم کی گمراہی میں مجھے مورد الزام نہ ٹھہرائیں ولاتجعلنی مع القوم الظلمین اور مجھے ظالموں میں شامل ہ کریں اگر میں نے کوئی تقصیر کی ہوتی تو ان کے ساتھ شامل ہوجاتا مگر اس معاملے میں ان کا ہرگز ساتھی نہیں ہوں میں نے تو تبلیغ کا پورا پورا حق ادا کردیا مگر انہوں نے مجھے کمزور خیال کیا اور مجھے قتل کرنے کی دھمکیاں دیں سارا قصور انہی کا ہے میں اس معاملے میں بےقصور ہوں۔
موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا
جب موسیٰ (علیہ السلام) کی تسلی ہوگئی کہ قوم کی گمراہی میں ہارون (علیہ السلام) کا کسی طرح بھی قصور نہیں ہے تو آپ نے فوراً اللہ رب العزت کی طرف رجوع کیا قال رب اغفرلی عرض کیا اے پروردگار ! مجھے معاف کردے ولاحی اور میرے بھائی کو بھی معاف فرما دے میں جان گیا ہوں کہ اس نے قصداً کوئی کوتاہی نہیں کی لہٰذا اسے بھی معاف کردے۔ وادخلنا فی رحمتک اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کرے وانت ارحم الرحمین اور تو سب سے بڑھ کر رحم کرنے والا ہے۔
آپ نے دیکھ لیا کہ اللہ کا نبی شرک کے معاملہ میں کتنا حساس ہوتا ہے اسے کفر اور شرک سے کس قدر نفرت ہوتی ہے یہ معاملہ پیش آیا تو موسیٰ (علیہ السلام) برداشت نہ کرسکے تورات کی تختیاں پھینک دیں اور بھائی کو سرزنش کی جب معاملہ صاف ہوگیا تو اپنے لیے اور بھائی کے لیے اللہ سے معافی کی درخواست کی۔
Ayahs 7:152–154سورة الاعراف پر ایک نظر
یہ سورة الاعراف ہے اس کی ابتداء میں قرآن کریم کی طرف دعوت دی گئی اس کے بعد آدم (علیہ السلام) اور خلافت ارضی کا ذکر ہے پھر اللہ تعالیٰ نے مختلف انبیاء کی تاریخ بیان فرمائی ہے اس ضمن میں انبیاء کی دعوت ، طریقہ تبلیغ ، ان کی قوموں کا جواب اور پھر ان کا انجام بھی بیان فرمایا ہے گزشتہ چند رکوعات سے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہا السلام) کا تذکرہ ہورہا ہے اللہ نے دو انبیاء کی بعثت کا ذکر فرمایا وہ خدا کا پیغام لے کر فرعون اور اس کی قوم کے پاس گئے قوم سخت بدسلوکی سے پیش آئی اور اللہ کے نبیوں کو طرح طرح کی تکالیف دیں اور آخر کار فرعون اور اس کی قوم کی سزا کا وقت بھی آگیا اللہ کی گرفت آئی اور خود فرعون اور اس کے لشکری بحیرہ قلزم میں غرق ہوگئے اور موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی قوم بنی اسرائیل دریا کو عبور کرکے صحرائے سینا میں پہنچ گئے جب انہیں فرعون کے مظالم سے نجات حاصل ہوگئی اور وہ آزاد فضا میں سانس لینے لگے تو موسیٰ (علیہ السلام) سے خود مطالبہ کیا کہ ان کے لیے قانون کی کتاب ہونی چاہیے جس پر وہ عمل کرسکیں موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی تو حکم ہوا کہ وہ طور پر آکر چالیس دن اعتکاف بیٹھو اس دوران عبادت ریاضت میں مشغول رہو تو اس کے بعد کتاب عطا کی جائے گی حسب الحکم موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو اپنا جانشین بنایا اور خود طور پر تشریف لے گئے۔
اسرائیلیوں کے پاس وہ زیورات موجود تھے جو انہوں نے مصر سے چلتے وقت فرعونیوں سے عاریتہً حاصل کیے تھے سامری نے وہ زیورات حاصل کیے انہیں ڈھال کر سونے کا بچھڑا بنایا اور پھر اس کے منہ میں جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کے قدموں کی مٹی ڈالی تو بچھڑا بولنے لگا سامری نے بتایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تو خواہ مخواہ طور پر گئے ہیں خدا تو یہ ہے چناچہ اسرائیلیوں کی ایک معتدبہ تعداد نے بچھڑے کو معبود بنالیا اور اس کی پوجا کرنے لگے ادھر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو بذریعہ وحی خبر دے دی کہ آپ کی قوم فتنے میں مبتلا ہوچکی ہے چناچہ جب آپ واپس آئے تو اپنی نہ آنکھوں سے دیکھا کہ لوگ بچھڑے کے گرد جمع ہو کر اس کی پوجا کر رہے ہیں آپ کو سخت غصہ آیا اور اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو سر کے بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا کہ تیری موجودگی میں قوم کیسے گمراہ ہوگئی انہوں نے بھائی کو قصوروار سمجھا مگر ہارون (علیہ السلام) نے وضاحت کی کہ اس معاملہ میں ان کا کچھ قصور نہیں قوم ہی ان کے قتل کے درپے ہوگئی تھی آپ نے یہ بھی کہا کہ میں نے ان کو خوب اچھی طرح سے سمجھایا تھا مگر انہوں نے میری بات نہ مانی بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) نے ہارون (علیہ السلام) کا عذر قبول کرکے اللہ تعالیٰ سے اس کوتاہی کی معافی مانگی کہ مولا کریم مجھے اور میرے بھائی کو معاف کردے اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل کرے کہ تو سب سے بڑا رحم کرنے والا ہے۔
موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ ابھی مزید چل رہا ہے اس کے بعد حضور خاتم النبیین ﷺ کا تذکرہ اور اسلام کی دعوت عامہ کا ذکر ہے پھر آخر میں قرآن حکیم کے متعلق ذکر ہے غرضیکہ اس سورة مبارک میں کئی اہم مضامین بیان ہوئے ہیں۔
انسان کی انتہائی پستی
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) تو اللہ کے پاک نبی تھے انہوں نے اللہ تعالیٰ سے لغزش کی معافی بھی طلب کرلی اب اللہ تعالیٰ نے باقی قوم کا حال بیان فرمایا ہے جو بچھڑے کی پوجا میں ملوث ہوگئی تھی ارشاد ہوتا ہے ان الذین اتخذو العجل بیشک وہ لوگ جنہوں نے بچھڑے کو معبود بنایا انسان کی ذہنی پستی ملاحظہ کریں کہ سونے سے بنے ہوئے بچھڑے میں ذرا سا کرشمہ دیکھا تو فوراً اس کی پوجا شروع کردی انسان جب ماننے پر آجاتا ہے تو حقیر سے حقیر چیز کو الٰہ بنا لیتا ہے دیکھ لیں ناگ پنھپمی والے ہندو سانپ کی پوجا کرتے ہیں گائے کی پوجا کرنے والے کتنے لوگ موجود ہیں نہ صرف گائے بلکہ اس کے گوبر اور پیشاب کو بھی پوتر (پاک) تصور کرتے ہیں کوئی چیز برتن وغیرہ ناپاک ہوجائے تو اسے گائے کے پیشاب سے پاک کرتے ہیں مگر یہی حضرت انسان جب انکار کرنے پر آتا ہے تو اللہ وحدہٗ لاشریک کی توحید کا انکار کردیتا ہے اس کی بھیجی ہوئی کتابوں کو تسلیم نہیں کرتا حتیٰ کہ اس کے مقدس پیغمبروں کو پتھر مار کر ہلاک کردیتا ہے یہ انسان کی ذہنی پستی کی انتہا ہے۔
دنیا میں ذلت
فرمایا جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنالیا سینا لھم غضب من ربھم عنقریب انہیں ان کے رب کی طرف سے غضب پہنچے گا اللہ کے نبی ان میں موجود ہیں اور سمجھا رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی واحدانیت کو قبول کرلو اور بچھڑے کی پوجا چھوڑ دو ورنہ عذاب میں مبتلا ہوجائو گے یہاں پر غضب سے مراد عذاب ہے فرمایا ایک تو انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخرت میں عذاب ہوگا وذلۃ فی الحیوۃ الدنیا اور دوسرے انہیں دنیا کی زندگی میں بھی ذلت و رسوائی کو اٹھانا پڑے گی جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے کہ بچھڑے کے پجاریوں کی توبہ اس شرط کے ساتھ قبول ہوئی تھی کہ نہ پوجنے والے پوجنے والوں کو اپنے ہاتھوں سے قتل کریں چناچہ ایسا ہی ہوا ان کے اس قتل کو ہی ذلت شمار کیا گیا ہے جو انہیں اسی دنیا میں حاصل ہوئی جو لوگ اس طریقے سے قتل ہوگئے اللہ نے اس کی توبہ قبول فرمالی اور وہ آخرت کے مواخذہ سے بچ گئے اور جنہوں نے اس طریقے سے توبہ نہ کی ان کے متعلق فرمایا کہ وہ عنقریب آخرت کے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔
اور پھر سزا کے ذکر کے ساتھ اللہ نے یہ بھی فرمایا وکذلک نجزی المفترین ہم افتراء باندھنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیتے ہیں ظاہر ہے کہ جس نے شرک کا ارتکاب کیا اس نے گویا اللہ پر افتراء باندھا اور اس قسم کے مفتریوں کے لیے سزا بھی ایسی ہی مقرر ہے۔
مرتد کی سزا
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس جملے سے یہ بات اخذ ہوتی ہے کہ مرتد کے لیے موت کی سزا مقرر ہے بچھڑے کے پجاری جلی شرک میں مبتلا ہوگئے انہوں نے عاقل بالغ ہو کر دین حق کو چھوڑ کر کفر اختیار کرلیا تھا لہٰذا اللہ نے ان کے لیے قتل کیے جانے کی سزا مقرر کی حضور علیہ الصلٰوۃ والسلام کا ارشاد گرامی بھی ہے من بدل دینہ فاقتلوہ جس نے اپنا دین تبدیل کرلیا اس کو قتل کردو البتہ سزائے موت پر عملدرآمد سے پہلے استتابہ ضروری ہے اگر اس کے ذہن میں دین اسلام کے متعلق کوئی شک و شبہ پیدا ہوگیا ہے جس کی بنا پر مرتد ہوا تو پھر اس کے شکوک رفع کرنے کا بندوبست کیا جائے گا اسلامی حکومت کا فرض ہے کہ اس کام کے لیے علماء کرام کی خدمات حاصل کی جائیں اور متذکرہ شخص کی ہر طرح سے تسلی کی جائے اگر پھر بھی وہ اپنے دین پر واپس نہیں آتا تو اس کی سزائے موت پر عملدرآمد کردیاجائے گا ایسا شخص باغی تصور ہوتا ہے اور باغی کی سزا آج کی دنیا میں بھی یہی ہے روسی قانون میں باغی کی سزا واضح طور پر موت ہے بیریا پچیس سال تک پولیس کمشنری کے عہدے پر فائز رہا مگر بعد میں غداری کا مقدمہ بنا اور اسے سزائے موت ہوئی ارتداد دین کے ساتھ کھلی بغاوت ہے لہٰذا ایسا شخص واجب القتل ہے۔
توبہ کی قبولیت
اللہ تعالیٰ نے جہاں بڑے بڑے جرائم کے لیے سخت سزائیں رکی ہیں وہاں اس کی رحمت بھی ساتھ ساتھ چلتی ہے اور بغاوت سے نادم ہونے والے کو اپنی آغوش میں لے لیتی ہے ارشاد ہے والذین عملوالسیات وہ لوگ جنہوں نے برے کام کیے ثم تابو من بعدھا وامنو پھر اس کے بعد انہوں نے توبہ کرلی اور ایمان لائے فرمایا ان ربک من بعدھا لغفور رحیم بیشک تیرا پروردگار اس کے بعد البتہ بہت بخشش کرنے والا اور مہربان ہے اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں اس بات کی وضاحت فرما دی ہے کہ جرم کتنا بھی سنگین ہو حتیٰ کہ کفر اور شرک کے ارتکاب کے بعد بھی اگر کوئی شخص تائب ہوجائے اور مرنے سے پہلے پہلے اللہ کے حضور گڑ گڑا کر معافی مانگ لے تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے سورة بقرہ میں تابوا کے ساتھ واصلحوا کا لفظ بھی آتا ہے یعنی انہوں نے معافی مانگنے کے ساتھ ساتھ اپنی اصلاح بھی کرلی گویا ایسی سچی توبہ کی کہ پھر اس جرم کے کبھی قریب نہیں آیا تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔
البتہ ایک بات یاد رہے کہ حقوق العباد توبہ سے بھی معاف نہیں ہوتے ار کسی کا حق غضب کیا ہے کسی کو ایذا پہنچائی ہے تو جب تک متعلقہ شخص معاف نہیں کرے گا اللہ تعالیٰ بھی ایسے جرم کو نہیں بخشے گا حقوق اللہ تو توبہ سے معاف ہوجاتے ہیں مگر حقوق العباد کے لیے اس کے پاس جانا ہوگا جس کا حق ضائع ہوا ہے اگر اس دنیا میں کسی کا غضب شدہ حق واپس نہیں کیا تو آخرت میں لازماً ادا کرنا پڑے گا مگر وہاں مال تو نہیں ہوگا لہٰذا اس حق کے بدلے میں نیکیاں دینا ہوں گی اور اگر کسی غاصب کے پاس نیکیاں بھی نہ ہوں گی تو حقدار کی برائیاں غاصب کے سر پر ڈال دی جائیں گی مقصد یہ کہ حقوق العباد کا مواخذہ لازمی ہے لہٰذا اس کی تلافی اسی دنیا میں کردینی چاہیے۔
تختیوں کی شکستگی
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ قوم کو شرک میں مبتلا دیکھ کر موسیٰ (علیہ السلام) کو سخت غصہ آیا اور آپ نے تورات کی تختیاں بھی ہاتھ سے پھینک دیں اور اپنے بھائی کی سرزنش کی جب ہارون (علیہ السلام) نے معذرت کی تو پھر آپ نے اپنے لیے اور اپنے بھائی کے لیے اللہ رب العزت سے معافی کی درخواست کی اب اسی بات کو آگے چلایا گیا ہے ولما سکت عن موسیٰ الغضب جب موسیٰ (علیہ السلام) کا غصہ تھم گیا اخذ الا لواح تو آپ نے تورات کی تختیاں اٹھا لیں مسنداحمد ، طبرانی اور مستدرک حاکم میں یہ روایت موجود ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے غصے میں آکر تختیاں زمین پر ڈال دی تھیں تو اس وقت ان میں سے کوئی تختی ٹوٹ بھی گئی تھی مگر بالکل چورا چور نہیں ہوئی تھی کہ اس کے مندرجات پڑھے ہی نہ جاسکیں بعض اوقات اس قسم کی چیز اگر دو ٹکڑے بھی ہوجاء یتو ان ٹکڑوں کو جوڑ کر اس پر لکھی ہوئی عبارت پڑھی جاسکتی ہے تورات میں تختی کے بالکل چورا چورا ہوانے کا ذکر ہے جو کہ درست نہیں اس آیت سے بھی واضح ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے پھینکی ہوئی وہ تختیاں دوبارہ اٹھالیں جس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے کوئی بھی تختی بالکل ناکارہ نہیں ہوگئی تھی ہوسکتا ہے کہ معمولی شکستگی آئی ہو ، کانچ کی طرح ٹوٹ کر بالکل ریزہ ریزہ نہیں ہوئی تھی۔
ہدایت کی ضرورت
اب آگے اللہ تعالیٰ نے تختیوں کے متن کے متعلق فرمایا ہے وفی تسخ تھا ھدیً و رحمۃ اور ان تختیوں پر جو چیز لکھی ہوئی تھی وہ ہدایت اور رحمت تھی گزشتہ سے پیوستہ رکوع میں یہ بھی گزر چکا ہے وکتبنا لہ فی الالواج من کل شی ئٍ موعظۃ و تفصیلاً لکل شی ئٍ یعنی ان تختیوں میں ہم نے ہر قسم کی نصیحت اور ہر چیز کی تفصیل لکھ دی تھی تمام ضروری باتیں جن کی قوم کو ضرورت تھی وہ اس میں لکھ دی گئی تھیں فرمایا اس میں ایک چیز تو ہدایت تھی سورة مائدہ میں موجود ہے ہم نے تورات نازل کی فیھا ھدیً و نورا جس میں ہدایت اور روشنی تھی اسی طرح قرآن پاک کے متعلق اللہ نے فرمایا انزلنا الیک توراً مبیناً ہم نے قرآن کی شکل میں آپ کی طرف واضح روشنی نازل کی ہے اللہ نے تورات ، انجیل اور قرآن پاک کو بھی نور فرمایا ہ کے مولانا عبیداللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ بینات اور ہدایت میں قدرے فرق ہے بینات ایسی چیزیں ہوتی ہیں جو معمولی توجہ سے بھی انسان کی سمجھ میں آجاتی ہیں مثلاً توحید ، صبر ، ذکر ، شکر ، خدا تعالیٰ کی عبادت وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جو آسانی سے سمجھ میں آجاتی ہیں اور ہدایت وہ چیز ہے جو خودبخود معمولی طریقے سے ذہن نشین ہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے استاد سے سیکھنا پڑتا ہے جیسے تعظیم شعائر اللہ اور دیگر باریک باتیں اس جہان میں انسان کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہدایت ہے اور اس کا اولین ذریعہ وحی الٰہی ہے اللہ تعالیٰ نے ایسی ہی ہدایت کے حصول کے لیے تلقین فرمائی ہے فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون اگر کسی چیز کو تم نہیں جانتے تو جاننے والوں سے دریافت کرلیا کرو وہ تمہیں سمجھا دیں گے ہدایت کا سلسلہ اسی طرح چلتا ہے کہ اللہ کا نبی وحی الٰہی کے ذریعے حاصل کرکے امت تک پہنچاتا ہے اور امت کے اہل علم آگے آنے والی نسلوں تک پہنچاتے ہیں اور اس طرح یہ چیز نسل درنسل منتقل ہوتی رہتی ہے ہدایت اتنی ضروری چیز ہے جسے ہم ہر نماز کی ہر رکعت میں طلب کرتے ہیں اھدنا الصراط المستقیم اے مولا کریم ! ہمیں سیدھے راستے کی طرف ہدایت نصیب فرما معلوم ہوا کہ عبادات ہوں یا معاملاتخ سیاسیات ہوں یا معاشیات یا اخلاقیات ہر معاملے میں انسان ہدایت کا محتاج ہے اپنے اپنے دور میں زبور ، تورات اور انجیل ذریعہ ہدایت تھی اسی لیے فرمایا کہ تورات میں ہدایت تھی حدیث شریف میں آتا ہے کہ کلکم ضال الا من ھدیتہ تم میں سے ہر شخص بھٹکا ہوا ہے مگر جسے اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرما دے لہٰذا ہدایت ہمیشہ اللہ تعالیٰ ہی سے طلب کرنی چاہیے۔
رحمت الٰہی کا نزول
جب کوئی شخص ہدایت الٰہی حاصل کرکے اس کے اصولوں کے مطابق عمل کرتا ہے تو پھر اس کے نتیجے میں رحمت کا نزول ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت ایسے شخص کی طرف متوجہ ہوجاتی ہے اللہ کی مہربانی اس کے شامل حال ہوجاتی ہے بہرحال فرمایا کہ تورات کی تختیوں میں جو چیز لکھی ہوئی تھی وہ ہدایت اور رحمت تھی مگر کن لوگوں کے لیے ؟ للذین ھم لربھم یرھبون ان کے لیے جو اپنے رب تعالیٰ سے ڈرتے ہیں ظاہر ہے کہ ہدایت پر وہی شخص عمل پیرا ہوسکتا ہے جس میں خوف خدا ہوگا جو شخص اس چیز سے عاری ہے وہ ہدایت پر عمل نہیں کرے گا اور نہ ہی اس کے حق میں رحمت الٰہی کا نزول ہوگا سورة بقرہ کی ابتدا میں ” ھدیً للمتقین “ کا یہی مطلب ہے قرآن پاک سراپا ہدایت ہے مگر متقین کے لیے جن لوگوں میں تقویٰ اور خوف خدا ہوگا اس ہدایت ربانی سے وہی فائدہ اٹھا سکیں گے جو اس کی طرف توجہ ہی نہیں کرے گا اسے کیا فائدہ پہنچے گا ؟ تو یہاں پر تورات کے متعلق بھی فرمایا کہ اس میں ہدایت اور رحمت لکھی ہوئی ہے مگر اس سے وہی لوگ مستفید ہوسکیں گے جن کے دل میں خوف خدا جاگزیں ہوگا۔
قرآن پاک کی واضح ہدایت ہے مگر اس سے اعراض کرنے والے اس سے محروم ہیں جو اس کی طرف توجہ ہی نہیں کرے گا وہ سمجھے گا کیسے اور اس پر عمل کیسے کرے گا ؟ اور ہدایت سے محرومی کی یہی وجہ ہے اللہ نے فرمایا ہے کہ قرآن پاک منافقوں کے لیے نجاست میں اضافہ کرتا ہے وہ لوگ یا تو شک میں مبتلا ہوتے ہیں یا بالکل انکار ہی کردیتے ہیں لہٰذا عمل کرنے کی نوبت ہی نہیں آتی یہی وجہ ہے کہ ان کے عقیدے کی نجاست میں اضافہ ہوجاتا ہے بہرحال فرمایا کہ تورات میں ہدایت اور رحمت ہے مگر رب تعالیٰ سے ڈرنے والوں کے لیے۔