7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 7:189–190

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّ جَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِیَسْكُنَ اِلَیْهَا١ۚ فَلَمَّا تَغَشّٰىهَا حَمَلَتْ حَمْلًا خَفِیْفًا فَمَرَّتْ بِهٖ١ۚ فَلَمَّاۤ اَثْقَلَتْ دَّعَوَا اللّٰهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ اٰتَیْتَنَا صَالِحًا لَّنَكُوْنَنَّ مِنَ الشّٰكِرِیْنَ Open ayah 7:189 in the Quran reader

اللہ کی ذات وہ ہے جس نے پیدا کیا ہے تم کو ایک جان سے اور بنایا ہے اس سے اس کا جوڑا تاکہ سکونپ کڑے اس کی طرف پھر جب مرد نے ڈھانپا اس عورت کو تو حمل ٹھہرا اس عورت کو ہلکا سا پھر وہ اس کو لے کر چلتی پھرتی رہی۔ جب وہ بوجھل ہوگئی تو پکارا دونوں نے اپنے پروردگار کو کہ اگر تو دے گا ہمیں اچھا بھلا بچہ تو ہم ضرور ہوں گے شکر گزاروں میں سے

فَلَمَّاۤ اٰتٰىهُمَا صَالِحًا جَعَلَا لَهٗ شُرَكَآءَ فِیْمَاۤ اٰتٰىهُمَا١ۚ فَتَعٰلَى اللّٰهُ عَمَّا یُشْرِكُوْنَ Open ayah 7:190 in the Quran reader

پس جب کہ دیا ان کو اچھا بھلا بچہ ، ٹھہرائے ان دونوں اس کے لئے شریک اس میں جو اللہ نے ان کو دیا تھا۔ پس بلند ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ان چیزوں سے جن کو یہ لوگ شریک بناتے ہیں

ربط آیات گزشتہ سے پیوستہ رکوع کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اسمائے حسنہ کا ذکر فرمایا اور حکم دیا کہ مجھے انہی ناموں سے پکارا کرو اور یہ کہ ان ناموں میں الحاد نہ کرو یعنی اللہ تعالیٰ کا اہم خاص غیر اللہ پر مت بولو ، اس کی صفت اور اسم کو غلط معنی نہ پہنائو یا ان کو غلط جگہ پر استعمال نہ کرو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارض وسما کی سلطنت میں غور وفکر کی دعوت دی جس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت اور حکمت کا بیان کرنا اور اس کی وحدانیت کو سمجھنا مقصود ہعے اس کے ساتھ معاذ کا بیان بھی ہوا کہ لوگ آپ سے وقوع قیامت کے وقت کے متعلق دریافت کرتے ہیں تو اس کا جواب یہ دیا گیا کہ یہ چیز باری تعالیٰ کی ذات کے ساتھ مختص ہے اور اس کا علم اس نے کسی کو نہیں دیا کوئی نبی ، فرشتہ یا انسان قیامت برپا ہونے کے وقت کو نہیں جانتا ، البتہ قیامت سے پہلے ظاہر ہونے والی بعض نشانیوں کا ذکر ملتا ہے پھر اللہ نے پیغمبر (علیہ السلام) سے کہلوایا کہ قیامت کا علم تو بڑی بات ہے میں تو اپنی جان کے لیے بھی نفع اور نقصان کا مالک نہیں ہوں ، یہ سب کچھ خدا وند تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے سوائے اس کے کہ جو اللہ چاہے پھر فرمایا کہ اگر میں غیب کا علم جانتا تو اپنے لیے بہت سے مفاد حاصل کرلیتا اور مجھے کوئی تکلیف بھی نہ پہنچتی غیب جاننے کی وجہ سے میں پیش بندی کرلیتا اور نقصان سے بچنے کی تدبیر کرلیتا مگر علم غیب بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اس کے سوا علم غیب بھی کوئی نہیں جانتا۔ اب آج کے درس میں بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور شرک کی تردید کا بیان ہے ایمان کی حقیقت کو بگاڑنے والی چیز شرک ہی ہے یہ روحانی بیماریوں میں سب سے بری بیماری ہے عقیدے کو خراب کرنے والے امراض کفر ، نفاق ، شک ، ترود ، الحاد ، زمذقہ وغیرہ میں سے شرک سب سے خطرناک بیماری ہے اس کے بعد عملی اور اخلاقی بیماریوں کا نمبر آتا ہے سو یہاں پر اللہ تعالیٰ نے شرک کی صراحتاً تردید فرمائی ہے اس رکوع میں اللہ نے اس مضمون کو کافی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ نفس واحدۃ سے تخلیق ارشاد ہوتا ہے ھوالذی خلقکم من نفس واحدۃ خدا کی ذات وہ رحیم اور کریم ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا تخلیق انسانی کا مسئلہ قرآن پاک میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے سورة نساء کی ابتداء اسی مسئلہ سے ہوئی ہے اس کے علاوہ سورة مومن ، سورة انبیاء اور بعض دیگر سورتوں میں بھی اس کا بیان آتا ہے تو فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے تمہیں ایک جان سے پیدا فرمایا وجعل منھا زوجہا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا یہاں پر ایک جان سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں اور جوڑے سے مراد آپ کی بیوی حوا ہیں جو تمام انسانوں کی ماں ہیں اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا فرمایا اور پھر جیسا کہ صحیمین کی روایت میں آتا ہے آپ کی پسلیوں سے حوا کی تخلیق کی چونکہ پسلیاں ٹیڑھی ہوتی ہیں اس لیے عورت کی فطرت میں قدر کجی پائی جاتی ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ عورت سے اس کے ٹیڑھا پن سے ہی فائدہ حاصل کرو اس کو سیدھا کرنے کی کوشش نہ کرو ، کیونکہ ایسا کرنے سے وہ ٹوٹ جائے گی مگر سیدھی نہیں ہوگی۔ آگے حدیث میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں وکسرھا طلاقھا اس کا توڑنا یہ ہ کہ طلاق دے کر علیحدہ کردوگے جیسا کہ عرض کیا نفس واحدہ یعنی حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق مٹی سے ہوئی اللہ نے فرمایا خلقکم من تراب تم سب کو مٹی سے پیدا کیا چونکہ انسانوں کے جدامجد کو مٹی سے پیدا کیا اس لحاظ سے تمام انسان مٹی سے تخلیق ہوئے اللہ نے یہ بھی فرمایا انی خالق بشراً من طین کہ میں مٹی سے انسان پیدا کرنے والا ہوں اللہ تعالیٰ نے فرشتے کو حکم دیا کہ تمام روئے زمین کی مٹی لی جائے چناچہ ہر جگہ کی کالی ، سفید ، سرخ ، ریتلی ، چکنی وغیرہ مٹی حاصل کرکے اس سے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کی گئی حضور ﷺ نے فرمایا کہ نسل انسانی میں اسی مٹی کا اثر ہے کہ کوئی آدمی کالا ہے کوئی گورا ہے کوئی سخ مزاج اور کوئی نرم خو ، کوئی طیب اور کوئی خبیث اور پھر ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں کہ کسی انسان کی تخلیق جس جگہ کی مٹی سے ہوتی ہے انسان مرنے کے بعد اسی مٹی میں آکر مل جاتا ہے یعنی اسی مقام پر اس کی قبر بنتی ہے۔ تخلیق کا جدید نظریہ بہرحال قرآن پاک نے اس بات کی تصریح کردی ہے کہ تمام انسان ایک نفس کی اولاد ہیں جس سے بعض فلاسفروں کے نظریات کی نفی ہوتی ہے جو بنی نوع انسان کو کسی ایک شخص کی اولاد نہیں متعدد اشخاص سے سمجھتے ہیں انیسویں صدی کے ڈارون کا فلسفہ یہ ہے کہ نسل انسانی بندروں کی ترقی یافتہ نسل ہے پہلے سب بندر تھے پھر آہستہ آہستہ انسانوں کی شکل میں ترقی کرگئے پہلے عقل و شعور بھی کم تھا جو بعد میں مکمل ہوگیا ہندو بھی نفس واحدۃ کو نہیں مانتے برخلاف اس کے قرآنی نظریہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو سب سے پہلا انسان پیدا کیا وہ نبی تھا اور نبی ذہنی اور عقلی اعتبار سے کامل درجے کا انسان ہوتا ہے حضرت علی ؓ کا قول ہے الناس من جھۃ التمشال اکفاء ابوھم اٰدم والام ، حواء تمام لوگ ایک دوسرے کے ہم مثل ہونے کے اعتبار سے برابر ہیں ان کا باپ آدم (علیہ السلام) ہے اور ماں حوا ؓ ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد بھی ہے الناس کلھم ابناء اٰدم و اٰدم من تراب تمام انسان حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اور آدم کی تخلیق مٹی سے ہوئی مذکورہ نفس واحدہ کا نظریہ قرآن پاک کے علاوہ باقی آسمانی کتابوں میں بھی ملتا ہے چناچہ تورات کا پہلا باپ ہی تخلیق (پیدائش) کے نام پر ہے۔ تخلیق زوج فرمایا اللہ تعالیٰ وہی ذات ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا وجعل منھا زوجھا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا آدم (علیہ السلام) کو نرپیدا فرمایا اور پھر حوا ؓ کو ان کا جوڑا یعنی مادہ بنایا حضرت حوا ؓ کی پیدائش کے متعلق تفاسیر میں آتا ہے کہ حضر آدم (علیہ السلام) سوئے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی پسلی سے حضرت حوا ؓ کو پیدا فرمایا دراصل جیب اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو پیدا کیا توہ جنت میں تنہا تھے جس کی وجہ سے انہیں وحشت ہوتی تھی اور بےاطمینانی کی سی کیفیت تھی اس بےسکونی کی حالت کو تبدیل کرنے کے لیے اللہ نے حوا ؓ کی صورت میں ان کا جوڑا پیدا کیا لیسکن الیھا تاکہ آدم (علیہ السلام) حوا کی طرف سکون پکڑیں چناچہ جب آپ نیند سے بیدار ہوئے تو حوا آپ کے پاس موجود تھیں جنہیں پاکر آپ کو تسکین ہونے لگی اب اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی سے کہا یاٰدم اسکن انت وزوجک الجنۃ (البقرہ) یعنی اے آدم ! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو خوب کھائو پیو ، یہاں تمہیں راحت کے تمام سامان میسر ہوں گے البتہ یاد رکھو ! اس ایک درخت کے قریب نہ جانا ، میاں بیوی کچھ عرصہ تک جنت میں رہے اور پھر شیطان کے بہکانے اور جنت کے ممنوعہ درخت کا پھل کھانے کا واقعہ پیش آیا جس کی وجہ سے میاں بیوی کا لباس بھی اتر گیا اور بالآخر انہیں جنت سے نکلنا پڑا۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے نسل انسانی کی ابتداء کا ذکر کیا ہے کہ پہلے ایک مرد کو پیدا کیا گیا اور پھر اسی سے اس کا جوڑا پیدا کیا اور پھر ان دونوں سے نسل انسانی آگے بڑھی ، سورة نساء کی ابتداء میں بھی ہے اے لوگو ! اس پروردگار سے ڈر جائو جس نے تمہیں نفس واحدۃ سے پیدا فرمایا پھر اس سے اس کا جوڑ پیدا کیا وبث منھما رجالاً کثیراً ونساء پھر ان دونوں سے کثیر تعداد میں مردوزن پھیلا دیے تو اللہ تعالیٰ نے انسان کا جوڑ پیدا کرنے کی ایک وجہ تو یہ بیان فرمائی تا کہ وہ سکون پکڑے اور ساتھ یہ بھی فرما دیا وجعل بینکم مودۃ رحمۃ (الروم) تمہارے درمیان محبت اور شفقت کے جذبات پیدا کردیے اور محبت والفت کے یہی جذبات ہیں جو نسل انسانی کے آگے پھیلانے کا ذریعہ بنتے ہیں اس میں طبعی خواہشات بھی ہیں عقلی ضروریات بھی اور قانون کی پابندی بھی ، جب کوئی انسان تنہا ہوتا ہے تو وہ ضابطہ اخلاق کا پابند ہوتا ہے اور جب وہ دو ہوجاتے ہیں تو انہیں قانون کی پابندی کرنا پڑتی ہے اور یہی ترقی کا پہلا زینہ ہے میاں بیوی کے پانے اپنے حقوق و فرائض ہیں جب یہ حقوق ادا کیے جاتے ہیں تو قانون کی پابندی ہوتی ہے اور انسان کو ترقی اور عروج حاصل ہوتا ہے جب تک قانون کی پابندی نہیں کی جائے گی کوئی انسان خطیرۃ القدس کے راستے پر قدم بھی نہیں رکھ سکتا بہرحال اللہ تعالیٰ نے ایک انسان سے دو بنائے پھر دو سے بڑھے تو خاندان بگیا رشتہ داریاں قائم ہوئیں قبائل بنے اور نسل انسانی وجود میں آگئی۔ اولاد کے لیے شرک نسل انسانی کی عمومی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد اللہ نے بچے کی پیدائش کے سلسلے میں کیے جانے والے شرک کا ذکر کیا ہے ارشاد ہوتا ہے فلما تغشھا جب مرد نے عورت کو ڈھانپ لیا غاشیہ پردے کو کہتے ہیں ڈھانپ دینا ، کپڑا ڈال دینا اور مراد یہ ہے کہ جب مرنے اپنی بیوی کے ساتھ ہم بستری کی حملت حملاً خفیفاً تو پہلے ہلکا سا حمل رہا فمرت بہ تو عورت اس حمل کے ساتھ چلتی پھرتی رہی کوئی خاص تکلیف محسوس نہ کی فلما اتقلت پھر جب وہ بوجھل ہوگئی آہستہ آہستہ حمل بڑھ گیا اور پیٹ بھاری ہوگیا بچے کی پیدائش کا وقت قریب آگیا اور انہیں زچہ و بچہ کے متعلق فکر لاحق ہوئی تو دونوں بیوی اور خاوند نے دعوا اللہ ربھما اپنے رب سے دعا کی لن اتیتنا صالحاً کہ اگر تو ہمیں صحیح سلامت اچھا بھلا بچہ عطا کرے گا لنکونن من الشکرین تو ہم ضرور شکر گزاروں میں سے ہوں گے فلما اتھما صالحاً پھر جب اللہ نے انہیں صحیح سلامت ، صحت مند بچہ عطا کردیا جعلالہ شرکاء فیھا اتھما تو اللہ کے عطا کردہ میں دونوں نے اسی کا شریک بنالیا یعنی بچے کے عطا کرنے میں غیروں کو بھی شریک کرلیا۔ اس سلسلے میں ترمذی ، مسند احمد اور مستدرک حاک میں روایت آئی ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا ؓ کے بچے پیدا ہو کر مرجاتے تھے جس کی وجہ سے وہ بڑے متفکر رہتے تھے اس اثنا میں ان کے پاس شیطان آیا اور انہیں خوفزدہ کیا کہ بچے کی پیدائش بڑی تکلیف دہ چیز ہے نیز یہ کہ ہونے والا بچہ ناقص اتحلقت بھی ہوسکتا ہے اور پھر خود ہی انہیں مشورہ دیا کہ اگر وہ بچے کی پیدائش صحیح سلامت چاہتے ہیں اور اس کا زندہ رہنا بھی مطلوب ہے تو پھر پیدائش کے بعد اس کا نام عبدالحارث رکھنے کا عہد کرو فرشتوں میں حارث شیطان کا نام مشہور تھا اور وہ اس قسم کا نام رکھوا کر آدم اور حوا کو شرک میں مبتلا کرنا چاہتا تھا وہ دونوں خوفزدہ تھے چناچہ انہوں نے یہ نام رکھنے کا وعدہ کرلیا پھر جب بچہ صحیح سلامت پیدا ہوا تو اس کا نام عبدالحارث رکھا اور وہ زندہ رہا اسی چیز کے متعلق فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں صحیح سلامت بچہ عطا فرمایا تو انہوں نے بچے کا نام شیطان کے نام پر رکھ کر شرک کا ارتکاب کیا۔ اس روایت کو جمہور محدثین نے تسلیم نہیں کیا کیونکہ اللہ کے نبی آدم (علیہ السلام) کی طرف شرک کی نسبت کرنا درست نہیں ہوسکتا دوسری بات یہ بھی کہ آدم (علیہ السلام) ایک دفعہ پہلے بھی شیطان کے ہاتھوں زگ اٹھا چکے تھے جب انہیں جنت سے نکلنا پڑا تو اب وہ دوبارہ اس کے دھوکے میں نہیں آسکتے تھے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان بھی ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں ڈسا جاتا لہٰذا یہ روایت اصلاً ہی غلط ہے۔ اس آیت کریمہ کی توضیع امام حسن بصری (رح) اور مجاہد (رح) اس طرح بیان کرتے ہیں کہ آیت کا پہلا حصہ ھوالذی سے لے کر لیسکن الیھاتک حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا ؓ کے بیان پر مشتمل ہے جب کہ فلما تغشھا سے شروع کرکے اگلی بات عام بنی نوع انسان کے متعلق ہے نہ کہ صرف آدم (علیہ السلام) اور حوا ؓ کے متعلق چناچہ اس حصہ آیت کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ نوع انسانی میں جب کسی مرد نے عورت کو ڈھانپا یعنی اس کے ساتھ اختلاط کیا تو پہلے اسے ہلکا سا حمل ٹھہرا اور پھر وہ بڑھ کر بھاری ہوگیا تو میاں بیوی نے صحیح سلامت بچے کی دعا کی جب بچہ پیدا ہوگیا تو انہوں نے خدا تعالیٰ کا شریک بنالیا فرماتے ہیں یہ عام انسانوں کی بات ہے اللہ کے نبی تو معصوم عن الخطا ہوتے ہیں وہ تو ایک لحظہ کے لیے بھی شرک میں مبتلا نہیں ہوسکتے حضرت حوا ؓ بھی اہل ایمان اور نبی کی بیوی تھیں ان سے بھی ایسی توقع نہیں کی جاسکتی۔ نام میں شرک نومولود کے نام رکھنے میں شرک ابتداء سے چلا آرہا ہے اور آج بھی اس کا ارتکاب ہوتا ہے عبدالحارث کے علاوہ عبدالعزی ، عبدالمسیح ، عبدالمناۃ وغیرہ قسم کے نام حضور ﷺ کے زمانے میں بھی پائے جاتے تھے اور فقیر بخش ، نبی بخش ، عبدالرسول ، عبدالحین ، عبداعلی ، پیراں دتہ وغیرہ قسم کے نام آج ہمارے معاشرے میں بھی موجود ہیں عطا تو اللہ کرتا ہے مگر منسب اغیار کے نام پر کردیتے ہیں یہی شرک ہے اسی سلسلہ میں پھر غیر اللہ کی نذر بھی مانتے ہیں اور بچے کی پیدائش پر سلام کے لیے داتا صاحب لے جاتے ہیں وہاں پر منت پوری کرنے کے لیے بچے کا سر قبر یا غلاف کے ساتھ لگاتے ہیں غرضیکہ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں کہ جو نعمت کے حصول کے لیے اللہ تعالیٰ سے بڑی بڑی دعائیں کرتے ہیں مگر جب وہ نعمت حاصل ہوجاتی ہے تو اس میں شرک کرنے لگتے ہیں اللہ نے دوسرے مقام پر فرمایا رکبوا فی الفلک دعوا اللہ مخلصین نہ الدین ، فلما نجھم الی البر اذا ھم یشرکون ، (العنکبوت) جب سمندر میں پھنس جاتے ہیں تو گڑگڑا کر خدا وعدہٗ لاشریک کو پکارتے ہیں اور جب ساحل پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور غیر اللہ کی نذر و نیاز شروع ہوجاتی ہے۔ غرضیکہ اولاد کے شرکیہ نام نہیں رکھنا چاہیے اور اگر کسی وجہ سے بچے کا غلط نام رکھ دیا گیا ہو تو بعد میں اس کی تصحیح کرلینی چاہیے حدیث شریف میں آتا ہے کہ ابوہریرہ ؓ کا پہلا نام عبدالشمس تھا جو تبدیل کرکے حضور ﷺ نے عبدالرحمن کردیا بعض دیگرلوگوں کے نام بھی درست فرمائے اور اصول کے طور پر یہ بات سمجھا دی کہ بچے کی پیدائش پر ساتویں دن اس کا عقیقہ کریں اس کے بال اتاریں اور اس کا اچھا نام رکھیں پھر اس کی اچھی طرح تربیت کریں نام اللہ کی طرف منسوب ہونے چاہئیں چی سے عبداللہ ، عبدالرحمن ، عبدالغفوروغیرہ یا انبیاء کے نام پر ابراہیم ، یونس ، موسیٰ ، الیاس (علیہ السلام) وغیرہ نام رکھنے چاہئیں انگریزوں جیسے کینڈی اور جارج وغیرہ نام رکھنا درست نہیں ہے مولانا رشید احمد گنگری (رح) فرماتے ہیں کہ اگر ناموں میں لغوی مقصد مراد نہ بھی ہو تب بھی اس میں شرک کی بو ضرور آئے گی مثلاً اگر کوئی شخص عبدالحسین نام رکھ لیتا ہے اور اس کی نیت حسین کے بندہ ہونے کی نہیں ہے پھر بھی یہ نام درست نہیں ہے کیونکہ اس میں شرک کی آمیزش پائی جاتی ہے نام ایسا صاف ستھرا اور توحید پر مبنی ہونا چاہیے جس سے اللہ تعالیٰ کی عبدیت ظاہر ہو اور شرک کا شائبہ تک نہ پایا جائے۔ بلند و برتر ذات فرمایا والدین پہلے تو یہ دعائیں کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ صحیح سلامت تندرست اور صحت مند بچہ عطا فرمائے مگر اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول کرکے ٹھیک ٹھاک بچہ عطا کردیتا ہے تو اس میں اللہ کے شریک بنانے لگتے ہیں مگر اللہ نے فرمایا فتعلیٰ اللہ عما یشرکون اللہ تعالیٰ کی ذات بلندو برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ خدا کے ساتھ شریک بناتے ہیں شرک کبھی نام رکھنے میں ہوتا ہے کبھی نذرو نیاز میں ، کبھی رکوع و سجود میں اور کبھی دیگر عبادات میں بعض اوقات غیر اللہ کی انتہائی تعظیم کرکے شرک کا ارتکاب کیا جاتا ہے اور کبھی اس سے مراد مانگ کر شرک کیا جاتا ہے بہرحال شرک اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ہو یا اس کی صفات کے ساتھ یا عبادت میں اس کی ذات ان چیزوں سے بلندو برتر ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے وہ وحدہٗ لاشریک ذات ہے۔ آگے کافی دورتک شرک اور مشرکین کا رد آرہا ہے اللہ تعالیٰ نے بت پرستی اور انسان پرستی کی پورے طریقے سے تردید فرمائی ہے یہاں پر بچے کی پیدائش کے سلسلے میں جو شرک کیا جاتا ہے اس کی خصوصاً تردید فرمائی گئی ہے بچے کا نام بھی ایسا نہیں رکھنا چاہیے جس سے شرک کی بو آتی ہو بلکہ اگر کوئی ایسا نام موجود ہو تو اس کی صلاح کرلینی چاہیے حضور ﷺ نے عبدالرحمن اور عبداللہ کو بہترین نام قرار دیا ہے کیونکہ ان میں بندے کی نسبت اپنے اللہ کے ساتھ کی گئی ہے۔
Ayahs 7:191–195

اَیُشْرِكُوْنَ مَا لَا یَخْلُقُ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ٘ۖ Open ayah 7:191 in the Quran reader

کیا یہ شریک بناتے ہیں ان کو جو نہیں پیدا کرتے کسی چیز کو اور وہ خود پیدا کئے جاتے ہیں

وَ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ لَهُمْ نَصْرًا وَّ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:192 in the Quran reader

اور نہیں طاقت رکھتے وہ ان کے لئے مدد کی اور نہ وہ اپنی جانوں کی مدد کرسکتے ہیں

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَتَّبِعُوْكُمْ١ؕ سَوَآءٌ عَلَیْكُمْ اَدَعَوْتُمُوْهُمْ اَمْ اَنْتُمْ صَامِتُوْنَ Open ayah 7:193 in the Quran reader

اور اگر پکارو تم ان کو ہدایت کی طرف تو وہ نہیں پ یروی کرتے تمہاری ، برابر ہے تم پر کہ تم ان کو پکارو یا خاموش رہو

اِنَّ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ عِبَادٌ اَمْثَالُكُمْ فَادْعُوْهُمْ فَلْیَسْتَجِیْبُوْا لَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 7:194 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو پکارتے ہیں اللہ کے سوا دوسروں کو ، وہ تو بندے ہیں تمہارے جیسے ، پس پکارو ان کو ، چاہئے کہ وہ قبول کریں تمہاری پکار کو ، اگر تم سچے ہو

اَلَهُمْ اَرْجُلٌ یَّمْشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَیْدٍ یَّبْطِشُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اَعْیُنٌ یُّبْصِرُوْنَ بِهَاۤ١٘ اَمْ لَهُمْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا١ؕ قُلِ ادْعُوْا شُرَكَآءَكُمْ ثُمَّ كِیْدُوْنِ فَلَا تُنْظِرُوْنِ Open ayah 7:195 in the Quran reader

کیا ان کے لئے پائوں ہیں جن کے ساتھ وہ چلتے ہیں ، یا ان کے لئے ہاتھ ہیں جن کے ساتھ وہ پکڑتے ہیں ، یا ان کی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے ہیں یا ان کے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سنتے ہیں ، اے پیغمبر ! آپ کہ دیجیے ، پکارو اپنے شریکوں کو ، پھر تم جو تدبیر میرے خلاف کرسکتے ہو کہ گزرو اور پھر مہلت بھی نہ دو ۔

ربط آیات گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اولین انسان اور اس کے جوڑے کی پیدائش کا تذکرہ فرمایا اور اس پیدائش کی غرض وغایت بھی بیان فرمائی پھر انسان کے شرک میں مبتلا ہونے کی مثال بیان فرمائی کہ میاں بیوی کی مقاربت سے ہلکا سا حمل ٹھہرتا ہے جب یہ بڑھتا ہے تو میاں بیوی کو خطرات لاحق ہوتے ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں صحیح سلامت ، صحت مند بچہ عطا فرمائے پھر جب بچہ کی پیدائش ٹھیک طریقے سے ہوجاتی ہے تو اللہ کے ساتھ شریک بنانے لگتے ہیں اول تو بچے کا نام ہی شرکیہ رکھتے ہیں اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنے کی بجائے غیروں کی طرف منسوب کرتے ہیں حالانکہ اس کی پیدائش ، تندرستی اور ضروریات زندگی فراہم کرنے میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کوئی شریک نہیں ، فرمایا خدا تعالیٰ کی ذالت ان چیزوں سے بلندو برتر ہے جن کو یہ اس کے ساتھ شریک بناتے ہیں یہ شرک کا رد ہوگیا۔ بت پرستی اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے بت پرستی کا رد بیان کیا ہے مٹی پتھر یا لکڑی کے مجسمے بناکر ان کی پوجا کرنا شرک کی ایک صورت ہے اور بت پرستی کی یہ لعنت حضرت نوع (علیہ السلام) کے زمانے سے لے کر تمام اقوام میں پائی جاتی رہی ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اس کا بار بار رد فرمایا ہے اس کے علاوہ جو لوگ ملائکہ اور جنات کو عبادت میں شریک کرتے ہیں اللہ نے ان کا بھی رد فرمایا ہے شرک اللہ تعالیٰ کی صفات میں ہو یا عبادت میں یہ قابل مذمت ہے اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے بت پرستی کا اس طرح رد فرمایا ہے ایشرکون مالا یخلق شیئاً کیا یہ لوگ ان کو شریک بناتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے وھم یخلقون اور وہ خود پیدا کیے جاتے ہیں اگلی آیت میں خاص طور پر مٹی اور پتھر کے گھڑے ہوئے بتوں کا ذکر آئے گا جب کہ یہاں پر اللہ تعالیٰ کے سوا تمام معبودان مراد ہیں خواہ وہ بت ہوں ، عام انسان ہوں ، انبیاء ہوں ، ملائکہ ہوں یا جنات ہوں فرمایا کہ یہ لوگ ان کی پوجا کرتے ہیں جو کچھ پیدا نہیں کرسکتے بلکہ خود اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ ہیں چونکہ کائنات کی تمام اشیاء اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں اس لیے ان میں سے کوئی بھی چیز ایسی نہیں جو الٰہ اور معبود برحق کی شریک بنائی جاسکے۔ صفات الوہیت کسی ذات کے الٰہہ ونے کے لیے اس میں بعض صفات کا ہونا لازمی ہے مثلاً یہ کہ وہ ذات واجب الوجود ہو ، ایسی ذات جس کا وجود خود بخود ہو ، نہ کہ کسی دوسری ذات کا عطا کردہ یہ الوہیت کی سب سے پہلی صفت ہے ظاہر ہے واجب الوجود صرف ذات خداوندی ہے اس کے علاوہ ہر ذات کا وجود خدا تعالیٰ کا عطا کردہ ہے لہٰذا اللہ کے بغیر نہ کوئی واجب الوجود ہے اور نہ وہ الٰہ ہوسکتا ہے الٰہ کی دوسری صفت یہ کہ وہ خالق ہو ، مخلوق نہ ہو اور یہ صفت بھی صرف باری تعالیٰ میں پائی جاتی ہے اس کے علاوہ کوئی خالق نہیں لہٰذا معبود برحق بھی صرف وہی ہے الوہیت کے لیے علیم کل ہونا بھی ضرورت ہے اور یہ صفت بھی صرف اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے انہ بکل شی علیم وہی ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے الا یعلم من خلق وھو اللطیف الخبیر (الملک) یاد رکھو ! ہر چیز کا ظاہر و باطن اور اس کی ضرورت وہی جانتا ہے جو اس کا خالق ہے چونکہ خالق اللہ تعالیٰ ہے لہٰذا مخلوق کی تمام جزئیات کو جاننے والا یعنی علیم کل بھی وہی ہے الوہیت کی صفات میں مدبر ہونا اور غیر مرئی ہونا بھی شامل ہے وہی ہر چیز کی تدبیر کرتا ہے وہ خود ہر چیز کو دیکھتا ہے مگر اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا بہرحال اس آیت کریمہ میں خلق کی صفت کے ساتھ الوہیت کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے کوئی انسان ہو یا جن یا فرشتہ ، ان میں سے کوئی بھی خالق نہیں ہے بلکہ سب مخلوق ہیں تو اللہ نے فرمایا کہ ان کو شریک بناتے ہیں جو خالق نہیں بلکہ خود مخلوق ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ملائکہ کو انسان کی پیدائش سے اربوں کھربوں سال پہلے پیدا فرمایا امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ مصلحت انسانی کی تکمیل کے لیے اس سے پہلے فرشتوں کا پیدا کیا جانا ضروری ہے لہٰذا اس نے فرشتوں کو پہلے پیدا کیا۔ سب سے پہلے ملاء اعلیٰ کی جماعت کو پیدا کیا پھر ملاء سافل کی جماعت کو پیدا فرمایا اور اس کے بعد عام ملائکہ کو ، اور ان سب سے آخر میں انسان کو پیدا کیا تو فرمایا جو کسی چیز کے خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں انہیں خدا کے ساتھ کیسے شریک بنا رہے ہیں۔ امداد از غیر اللہ فرمایا جن کو یہ شریک بناتے ہیں ان کی ایک بات تو یہ ہے کہ وہ کسی چیز کو پیدا کرنے پر قادر نہیں اور دوسری بات یہ ولا یستطیعون لھم نصرا وہ معبود ان باطلہ شرک کرنے والوں کی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں ہیں والانفسھم ینصرون اور نہ وہ خود اپنی جانوں کی مدد کرسکتے ہیں گزشتہ رکوع میں حضور ﷺ کی ذات مبارکہ کے متعلق گزر چکا ہے قل لا املک لنفسی نفعاً ولامنی اے لوگو ! سن لو ، میں اپنی جان کے لیے نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں الا ما شاء اللہ ، مگر جو اللہ چاہے ظاہر ہے کہ بنی نوع انسان کی بلند ترین ہستی بھی اگر اپنے نفع نقصان کے مالک نہیں ہے تو وہ کسی دوسرے کو مانوق الاسباب نفع نقصان کیسے پہنچا سکتی ہے یہ تو صرف اللہ تعالیٰ کا خاصہ ہے انبیائ ، ملائکہ اور جنات جو زندہ ہستیاں ہیں وہ بھی اس معاملہ میں بےبس ہیں تو اپنے ہاتھ سے بنائے ہوئے مٹی یا پتھر کے مجسمے ان کی کیا مدد کرسکتے ہیں فرمایا وہ تو اتنے عاجز ہیں وہ ان تدعو ھم کہ اگر تم انہیں پکارو الی الھدی ہدایت کے راستے کی طرف لایتبعوکم تو وہ تمہاری پیروی نہیں کرسکتے یعنی وہ تمہاری کوئی خواہش پوری نہیں کرسکتے جب وہ اس قدر بےبس ہیں تو فرمایا سواء علیکم تمہارے لیے برابر ہے ادعوتھم ھم ام انتم صامتون کہ تم انہیں پکارو یا خاموش رہو مطلب یہ ہے کہ جب وہ معبود ان باطلہ تمہارے لیے کسی چیز پر قادر ہی نہیں ہیں تو انہیں لاکھ پکارے جائو وہ سنتے ہی نہیں تو پھر انہی پکارنا اور نہ پکارنا برابر ہے۔ غیر اللہ کی پرستش شرک فی العبادت قدیم اقوام میں بھی پایا جاتا ہے اور آج بھی موجود ہے چناچہ رومی ، یونانی ، مصری اور کلدانی قومیں شجر وحجر کی پرستش میں ملوث تھیں بعض لوگ بچھو ، سانپ اور درختوں کی پوجا بھی کرتے تھے سورج پرستی بھی قدم زمانے سے چلی آرہی ہے اور سورج کے پجاری کراچی میں آج بھی موجود ہیں جو طلوع شمس کے وقت اس کی طرف ہاتھ باندھے نظر آتے ہیں اور زبان سے کچھ الفاظ بھی ادا کرتے ہیں جو غالباً دعائیہ الفاظ ہوں گے۔ ستاروں اور سیاروں کے پجاری بھی ہیں اور گائے اور بلی کو پوجنے والے بھی مل جاتے ہیں انسانی ذوق کی انتہا یہ ہے کہ بعض لوگ گوبر کو بھی پوجتے ہیں قبروں کو پوجنے والے تو خود مسلمانوں میں موجود ہیں کوئی نہ کوئی زندہ انسان کسی مردے کو پوجنے والا مل جاتا ہے مسلمانوں میں قبر پرستی ، پیر پرستی ، مشرکانہ تعظیم جیسی بیماریاں موجود ہیں شرک کا ردتمام آسمانی کتب خصوصاً قرآن پاک اور تمام انبیائے کرام نے واضح طور پر کیا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں چھوڑا سورة انعام میں تمام قسم کے شرک کی تردید ہوچکی ہے شرک نذرونیاز میں ہو یا تعظیم میں سب کی نفی ہوچکی ہے ظلمت کو الٰہ ماننے والوں کا رد بھی ہوچکا ہے جانور ذبح کرتے وقت جو شرک کیا جاتا تھا اللہ نے اس کی بھی تردید فرمائی ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ خود کلمہ گو مسلمان شرک کی بہت سی قسموں میں ملوث ہیں مولانا الطاف حسین حالی (متوفی 1914) سرسید کے ہم عصر اور قومی شاعر ہوئے ہیں آپ بڑے صحیح العقیدہ مسلمان تھے آپ نے قاری عبدالرحمن اور شاہ الحق سے تعلیم حاصل کی آپ نے مسدس حالی میں مسلمانوں کے عروج وزوال کا خوب نقشہ کھینچا ہے انہوں نے آج کے مسلمانوں کی بدعقیدگی کا نقشہ بڑے عجیب پیرائے میں کھینچا ہے فرماتے ہیں ؎ کرے غیر گر بت کی پوجا تو کافر جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر جھکے آگ پر بہر سجدہ تو کافر کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر مگر مومنوں پر کشادہ ہیں راہیں پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں نبی کو جو چاہیں خدا کر دکھائیں اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں مزاروں پہ دن رات نذریں چڑھائیں شہیدوں سے جاجا کے مانگیں دعائیں نہ ایمان میں کچھ خلل اس سے آئے نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے قبروں پر چادریں اور چڑھاوے چڑھانا ، ان پر سجدہ کرنا ، ان کو چومنا چاٹنا ان کی حد درجہ تعظیم کرنا ، فرشتوں اور جنات کی دہائی دینا ، پیر دستگیر کو غائبانہ پکارنا ، شیخ معین الدین چشتی اور زکریا ملتانی (رح) کو امداد کے لیے پکارنا ، سب شکریہ باتیں ہیں ان کے اختیار میں کوئی چیز نہیں نہ وہ پیدا کرسکتے ہیں اور نہ فریاد رسی کے قابل ہیں اور کیا مضر ہے مگر مسلمان ہی ہیں جو ان کو سب کچھ تسلیم کیے بیٹھے ہیں حتیٰ کہ بسوں پر ان کے نام کے نعرے لکھ رہے ہیں یا غوث اعظم یا پیر دستگیر ، یا علی مدد وغیرہ یہ سب شرک کی باتیں ہیں جن کا قرآن نے رد کیا ہے فرمایا جن کو تم شریک بناتے ہو ان میں تو الوہیت کی صفت ہی نہیں پائی جاتی۔ اللہ کے عاجز بندے آگے فرمایا ان الذین تدعون من دون اللہ عباد امثالکھ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو وہ تو تمہاری طرح بندے ہیں جس طرح تم پیدا کیے گئے ہو اسی طرح وہ بھی پیدا کیے گئے ہیں تم بھی خدا کے سانے عاجز ہو اور ہو بھی عاجز ہیں جس طرح تم ہر چیز کے محتاج ہو ، اسی طرح وہ بھی محتاج ہیں اللہ تعالیٰ نے صراحت فرما دی ہے یسئلہ من فی السموت والارض آسمان و زمین کی ہر چیز اپنی ہر ضرورت کے لیے اسی کے سامنے ہاتھ پھیلاتی ہے تمام مخلوق مانگنے والی ہے اور دینے والی واحد ذات خدا وندی ہے ، انسان اولاد ، دولت اور اقتدار مانگتے ہیں فرشتے اللہ کا قرب مانگتے ہیں اور اس کی رضا کے طالب ہوتے ہیں فرمایا جب ہر چیز اسی سے مانگتی ہے تو پھر تم ان کو شریک کیسے بناتے ہو جو خود عاجز اور محتاج ہیں پھر فرمایا فادعوھم انہیں پکار کر دیکھ لو اگر وہ تمہاری پکار سنتے ہیں فلیسجیبو الکم ان کنتم صدقین پس چاہیے کہ وہ تمہاری پکار کو قبول کریں اگر تم سچے ہو مگر وہ تمہاری حاجت روائی اور مشکل کشائی کیسے کریں گے جب کہ نہ تو وہ قادر مطلق ہیں نہ علیم کل اور نہ واجب الوجود ، حقیقت یہ ہے کہ انتم الفقراء ، الی اللہ واللہ ھو الغنی الحمید (فاطر) تم سب اللہ کے محتاج ہو غنی تو صرف وہی ہے اس کے علاوہ کون ہے جو تمہاری غائبانہ مدد کرے گا تم نے تو خواہ مخواہ بت اور وثن بنا رکھے ہیں جن کے نام کی نذریں مانتے ہو ان کے سامنے دودھ ، مٹھائی اور کھانارکھتے ہو ان کے سامنے دست بستہ کھڑے ہوتے ہو ان کے ساتھ عابدانہ تصورات رکھتے ہو جس طرح کوئی بت پڑا ہوتا ہے اسی طرف رخ کرلیتے ہو یہ تو نہایت ہی بےوقوفی کی بات ہے۔ فرمایا ذرا غور تو کرو کہ جن بتوں کی تم پوجا کرتے ہو الھم ارجل یمشون بھا کیا ان کے پائوں ہیں جن کے ساتھ وہ چلتے ہیں ام لھم ایدھ یبطشون بھا کیا ن کے ہاتھ ہیں جن کے ساتھ وہ پکڑتے ہیں ام لھم اعین یبصرون بھا کیا ان کی آنکھیں ہیں جن کے ساتھ وہ دیکھتے ہیں ام لھم اذان یسمعون بھا کیا ان کے کان ہیں جن کے ساتھ وہ سنتے ہیں ان کے پاس تو کچھ بھی نہیں ، پھر وہ تمہاری پکار سن کر تمہاری مدد کیسے کرسکتے ہیں سورة حج میں ہے کہ اللہ کے سوا تم جن کو پکارتے ہو وہ تو ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے اور مکھی کوئی چیز ان سے چھین لے تو وہ اسے چھڑانے پر بھی قادر نہیں چیہ جائیکہ تمہاری فریاد رسی کریں۔ فرمایا صعف الطالب والمطلوب طالب اور مطلوب دونوں بودے ہیں کوئی کسی کے کام نہیں آسکتا اللہ نے انسان کو بہترین مخلوق بنایا تھا اسے عقل و شعور سے نوازا تھا مگر ای کی حماقت کی انتہا ہے کہ خود ساختہ بتوں کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتا ہے اور عقیدہ یہ ہے کہ یہ ہماری بات سنتے ہیں اور حاجت براری کرتے ہیں فرمایا اگر یہ بات ہے قل ادعوا شرکاء کم پھر اپنے شریکوں کو پکار کر دیکھ لو ثم کیدون پھر جو کچھ تم میرے خلاف کرنا چاہتے ہو کر گزرو فلا تنظرون پس مجھے مہلت بھی نہ دو ۔ حضرت ہود اور صالح (علیہما السلام) کو بھی مشرکین نے یہی کہا تھا ان نقول الا اعتراک بعض الھتنا بسوئٍ ہمارے معبودوں نے تمہارا دماغ خراب کردیا ہے تم باز نہیں آتے اور بہکی بہکی باتیں کرتے ہو اللہ نے فرمایا کہ ایسی باتوں کا یہی جواب ہے کہ اپنے تما معبودوں کو اکٹھا کرلو اور پھر جو تدبیر میرے خلاف کرنا چاہتے ہو کرلو میں کسی سے کوئی خطرہ محسوس نہیں کرتا ؎ اگر ہر دو جہائم خصم گروند نہ ترسم چوں نگاہ بائم تو باشی اگر اللہ تعالیٰ نگہبان ہے تو دونوں جہان کی مخالفت بھی میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہے مجھے یقین ہے کہ اللہ کی مشیت کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا تمہارے معبود محض بےاختیار ہیں اگلی آیات میں شرک کی مزید باتوں کی تردید ہورہی ہے۔
Ayahs 7:196–199

اِنَّ وَلِیَِّۧ اللّٰهُ الَّذِیْ نَزَّلَ الْكِتٰبَ١ۖ٘ وَ هُوَ یَتَوَلَّى الصّٰلِحِیْنَ Open ayah 7:196 in the Quran reader

بیشک میرا کار ساز اللہ ہے جس نے اتاری ہے کتاب اور وہ کار سازی کرتا ہے نیکو کاروں کی

وَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِهٖ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَكُمْ وَ لَاۤ اَنْفُسَهُمْ یَنْصُرُوْنَ Open ayah 7:197 in the Quran reader

اور وہ جن کو تم پکارتے ہو اس کے سوا ، نہیں طاقت رکھتے تمہاری مدد کی اور نہ وہ اپنی جانوں کی مدد کرسکتے ہیں

وَ اِنْ تَدْعُوْهُمْ اِلَى الْهُدٰى لَا یَسْمَعُوْا١ؕ وَ تَرٰىهُمْ یَنْظُرُوْنَ اِلَیْكَ وَ هُمْ لَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 7:198 in the Quran reader

اور اگر تم انہیں پکارو ہدایت کی طرف تو سنتے نہیں اور تم دیکھو گے ان کو کہ تک رہے ہیں تمہاری طرف حالانکہ وہ نہیں دیکھتے

خُذِ الْعَفْوَ وَ اْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْجٰهِلِیْنَ Open ayah 7:199 in the Quran reader

آپ عادت ڈالیں درگزر کرنے کی اور حکم دیں نیک کام کرنے کا اور کنارہ کشی اختیار کریں جاہلوں سے ۔

ربط آیات گزشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید کے سلسلے میں بت پرستی کا رد فرمایا اور جو لوگ اللہ کے سوا دوسروں کی عبادت کرتے ہیں ان سے حات روائی اور مشکل کشائی کی توقع رکھتے ہیں ان کی بھی تردید فرمائی گزشتہ درس میں یہ بھی ارشاد ہوچکا ہے کہ تم اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہو وہ تو تمہاری طرح عاجز بندے ہیں وہ تمہاری مدد کیسے کرسکتے ہیں وہ نہ تو تمہاری مشکل آسان کرسکتے ہیں اور نہ بگڑی بنا سکتے ہیں فرمایا اگر کچھ زعم ہے تو ان کو پکار کر دیکھ لو کہ وہ تمہاری بات کو سن کر تمہاری کون سی مشکل کشائی کرتے ہیں وہ تو تمہاری طرح مخلوق ہیں اور تمہارے کچھ کام نہیں آسکتے مٹی اور پتھر کے بتوں کے رد میں خاص طور پر فرمایا کہ تم تو زندہ انسان ہو ، ہاتھ پائوں ، آنکھ اور کان رکھتے ہو اور ان سے کام لیتے ہو مگر یہ بت تو تم سے بھی گئے گزرے ہیں جو ان اعضا اور حواس سے بھی محروم ہیں مگر کتنے افسوس کا مقام ہے کہ تم ان بےجان مجسموں کو خدا کا شریک ٹھہراتے ہو اللہ نے چیلنج کے طور پر اپنے نبی سے کہلوایا کہ تم اپنے معبودان باطلہ کو بلالو اور میرے خلاف جو تدبیر کرنا چاہتے ہو کرلو مجھے تمہارے شرکاء سے کچھ خوف نہیں میرے لیے میرے اللہ کی حفاظت اور نگرانی ہی کافی ہے اور مجھے اسی پر اعتماد ہے تمہارے معبودان کسی نفع و نقصان کے مالک نہیں ہیں لہٰذا وہ مجھے کوئی گزند نہیں پہنچا سکتے تم اپنا پورا جتن کرلو اور پھر بیشک مجھے مہلت بھی نہ دو ۔ کار سازما خدا تعالیٰ اسی سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوئے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کہلوایا جارہا ہے ان ولی ے اللہ بیشک میرا ولی ، کار ساز اور حمایتی صرف اللہ تعالیٰ ہے اور مجھے اسی پر بھروسہ ہے سورة بقرہ میں اس مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے اللہ ولی الذین امنو اللہ تعالیٰ کارساز ہے ایمان والوں کا یخرجھم من اظلمت الی النور جو انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے والذین کفرو ولیاء ھم اطاغوت اور کافروں کا کارساز شیطان ہے جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتا ہے اہل ایمان چونکہ صحیح عقیدہ پر ہوتے ہیں اس لیے ان کی حفاظت اور کارسازی خدا تعالیٰ کرتا ہے چناچہ میرا کارساز بھی وہی اللہ ہے الذی نزل الکتب جس نے کتاب یعنی قرآن پاک نازل فرمایا ہے یہ خدا تعالیٰ کی کارسازی کی بین دلیل ہے کہ اس نے ہمارے لیے کتاب نازل فرما کر ہدایت کا سامان مہیا کردیا ہے اور ہدایت ایک ایسی چیز ہے کہ ہر انسان زندگی کے ہر موڑ پر اس کا سب سے زیادہ محتاج ہے اور پھر اس قرآن پاک کی صفت یہ ہے کہ یہ ھدی للناس وبینت من الھدی (البقرہ) لوگوں کے لیے ہدایت اور ہدایت کی واضح دلیلیں ہیں یہی قرآن ھدی للمتقین (البقرہ) یعنی متقیوں کے لیے ذریعہ ہدایت بھی ہے اللہ کا کلام زندگی کے ہر موڑ پر رہنمائی کرتا ہے اور تمام مشکلات کے حل کا ذریعہ ہے اگر اس پر ایمان لاکر عمل کیا جائے تو انسان کی زندگی سنور سکتی ہے انسان کا اخلاق درست ہوسکتا ہے اور اس کی فکر پاک ہوسکتی ہے اسی قرآن کی بدولت آدمی کے اعمال درست ہوسکتے ہیں اور انسانی زندگی ایک کارآمد زندگی میں تبدیل ہوسکتی ہے بہرحالل اللہ تعالیٰ نے انسان کو مہمل نہیں چھوڑا بلکہ اپنی عظیم کتاب نازل فرما کر اس کی ہدایت کا سامان مہیا کردیا ہے اسی لیے فرمایا کہ میرا کار ساز وہ اللہ رب العزت ہے جس نے کتاب نازل فرمائی ہے۔ نیکو کاروں کا کارساز فرمایا وہ باری تعالیٰ نہ صرف میرا کار ساز ہے بلکہ وھو یتولی الصلحین وہ تمام نیکو کاروں کا کار ساز ہے اور ان کی فلاح اور ہدایت کا سامان مہیا کرتا ہے مگر مشرکوں کو وہ سزا دیے بغیر نہیں چھوڑتا صالح اس شخص کو کہتے ہیں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں ادا کرتا ہے اسی طرح قرآن پاک میں ابرار اور مقربین کی اصطلاحات بھی استعمال ہوئی ہیں قوت القلوب والے بزرگ لکھتے ہیں کہ ابرار وہ لوگ ہوتے ہیں جن کی نگاہ ہر وقت نیکی پر لگی رہتی ہے اور مقربین وہ ہوتے ہیں جن کی نگاہ ہمیشہ خاتمہ پر مرتکز رہتی ہے وہ ہمیشہ اسی فکر میں رہتے ہیں کہ پتہ نہیں خاتمہ کیسا ہوگا بعنی خاتمہ بالخیر ہوگا یا بالشر اور بالآخر وہ جنتی ہوں گے یا دوزخی ، وہ ہمیشہ اسی فکر میں مبتلا رہتے ہیں۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) خلفائے بنوامیہ میں سے ہیں آپ کا دور خلافت تو صرف اڑھائی سال ہے مگر اس بات پر سب متفق ہیں کہ آپ کی خلافت خلفائے راشدین کا ہو بہو نمونہ تھی آپ کچھ عرصہ گورنر بھی رہے مگر مکمل خلافت کا موقع زیادہ دیر نہیں ملا آپ کے متعلق صاحب تفسیر کبیر لکھتے ہیں کہ جب خلافت کی ذمہ داری سنبھالی تو اپنی اولاد کے لیے کوئی مال و دولت اور جائیداد نہ چھوڑی کسی نے کہا کہ آپ کی اولاد ہے آپ ان کی بہتری کے لیے بھی کوئی بندوبست کردیتے آپ نے فرمایا میری اولاد دوحالتوں سے خالی نہیں ہوسکتی یا تو وہ صالحین یا مجرمین اگر وہ صالح ہوں گے تو اس آیت کے مصداق وھو یتولی الصلحین اللہ تعالیٰ ان کا کارساز ہوگا اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی ضرور کار سازی کرکے گا لہٰذا مجھے فکر کرنے کی ضرورت نہیں اور اگر وہ مجرمین ہوئے تو اللہ تعالیٰ مجرمین کا مددگار نہیں ہوسکتا لہٰذا میں بھی ان کا پشت پناہ ہیں بن سکتا اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان ہے انہ لا یفلح المجرمون (یونس) وہ مجرموں کو فلاح نصیب نہیں کرتا اس نے اپنے پاک انبیاء سے بھی فرمایا فلن اکون ظہھراً للمجرمین میں مجرموں کا مدد گار کیوں بنوں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بھی سورة قصص میں یہی کہا تھا ، پروردگار ! میں مجرموں کا مدد گار نہیں بن سکتا۔ تو حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے بھی یہی جواب دیا کہ اگر میری اولاد مجرم ہوگی تو میں ان کا مدد گار نہیں بن سکتا۔ بے اختیار معبود آگے مشرکین کے معبودان کے متعلق فرمایا والذین تدعون من دونہ جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو لایستطعیون نصرکم وہ تمہاری مدد کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے ولا انفسھم ینصرون اور نہ ہی وہ خود اپنی مدد کرسکتے ہیں جن کو تم مدد کے لیے پکارتے ہو ، وہ سب مخلوق ہیں خواہ انبیاء ہوں یا فرشتے ، عام انسان ہوں یا پتھر کے بت اور شجر ہوں یا حجر ، وہ تمہاری مدد کرنے کے قابل نہیں ہیں مافوق الاساب مدد تو اللہ کے سوا کوئی نہیں کرسکتا ، لہٰذا ان معبودان باطلہ کو آوازیں دینا بعث ہے۔ فرمایا وان تدعوھم الی الھدی لایسمعوا ، اور اگر تم انہیں ہدایت کی طرف پکارو تو وہ تو سنتے ہی نہیں درخت ، پتھر وغیرہ بےجان چیزیں تو ویسے ہی حواس سے محروم ہیں اور جاندار بھی ہوں تو انہیں تو علم ہی نہیں کہ کوئی پکار رہا ہے تو وہ کیا سنیں گے اور کیا مدد کریں گے ہاں اللہ تعالیٰ کسی کو اطلاع دے دے تو دوسری بات ہے مگر ان کو پتہ ہی نہیں چلتا حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو درود شریف مجھ پر دور سے پڑھا جاتا ہے وہ مجھے فرشتوں کے ذریعے پہنچایا جاتا ہے اور جو شخص میری قبر پر آکر درود پڑھتا ہے میں اس کو سنتا ہوں مقصد یہ ہے کہ دور سے کہی گئی بات کو تو حضور ﷺ بھی خودبخود نہیں سنتے چہ جائیکہ کسی دوسری ہستی کے متعلق یہ عقیدہ رکھا جائے کہ وہ ہماری ہر بات ، ہر وقت اور ہر مقام سے سنتا ہے پھر اسی زعم میں لوگ یا رسول اللہ اور یا علی ؓ کے نعرے لگاتے ہیں یا پیر دستگیر امداد کن امدادکن کی آوازیں لگاتے ہیں مگر اللہ نے فرمایا کہ اگر تم انہیں پکارو تو وہ سنتے ہی نہیں بعض مفسرین اسے صرف بت پرستی پر محمول کرتے ہیں اور بعض فرماتے ہیں کہ اس میں انسان پرستی ، ملائکہ پرستی اور جنات پرستی سب شامل ہیں تاہم اکثر مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ آیات ان مجسموں کے متعلق ہیں جنہیں مشرکین شریک بناتے تھے اور پھر ان کی نذرونیاز دیتے تھے ایسے لوگ عرب کے علاوہ روم ، یونان ، مصر اور ہندوستان میں آج بھی موجود ہیں جو بتوں میں کرشمہ مانتے ہیں اور ان کی عبادت کرتے ہیں۔ اندھے معبود اور متبعین انہی معبودان باطلہ کے متعلق فرمایا وترھم ینظرون الیک اور تم ان کو دیکھو گے کہ وہ تمہاری طرف تک رہے ہیں وھم لایبصرون حالانکہ وہ نہیں دیکھتے مشرک لوگ بتوں کے تمام اعضا بناتے تھے حتیٰ کہ ان کی آنکھیں اس طرح نظر آتی تھیں گویا کہ وہ پوجا کرنے والے کو دیکھ رہے ہیں اللہ نے فرمایا کہ حقیقت میں وہ کچھ نہیں دیکھتے کیونکہ ان میں دیکھنے کی صلاحیت ہی موجود نہیں ہے اور اگر اس سے کافر اور مشرک مراد لیے جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ یہ منکرین لوگ بظاہر جسمانی آنکھوں سے تو حضور ﷺ کو دیکھتے ہیں مگر حقیقت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے اگر دل کی آنکھوں سے دیکھیں تو ضرور آپ کو پہچان لیں کہ آپ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں یہ لوگ سمجھ جائیں کہ اللہ کا نبی ہمارا خیر خواہ ہے اور ہمیں خدا کے عذاب سے بچانا چاہتا ہے مگر وہ حقیقت میں دیکھتے ہی نہیں اس لیے ناکام ہیں ابوجہل ، امیہ بن خلف اور ابولہب جیسے ظاہری آنکھوں سے دیکھنے کے باوجو آپ کو نہ پہچان سکے اور نامراد ہوئے جبکہ ابوبکر ؓ و عمر ؓ نے حقیقت کی آنکھوں سے دیکھ لیا اور وہ کامیاب ہوگئے۔ سلطان محمود غزنوی (رح) کے زمانے میں خواجہ ابوالحسن خرقانی (رح) بڑے پائے کے بزرگ ہوئے ہیں سلطان اکثر ان کی مجلس میں حاضر ہوتا تھا اور ہندوستان پر حملہ کرنے سے پہلے سے دعا کراتا تھا ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ خواجہ ابوالحسن (رح) نے فرمایا کہ جس نے بایزید بسطامی (رح) کو دیکھا ہے اس پر آتش دوزخ حرام ہے اس پر سلطان کو بڑا تعجب ہوا کہنے لگا حضرت ! یہ بات میری سمجھ میں نہیں آئی کہ ایک طرف حضور خاتم النبیین افضل الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات مبارکہ ہے جنہیں کافر بھی دیکھتے ہیں مگر ان پر دوزخ کی آگ حرام نہیں ہے مگر دوسری طرف آپ کے امتی بایزید بسطامی (رح) ہیں کہ جنہیں دیکھنے سے دوزخ کی آگ حرام ہوجاتی ہے اس پر خواجہ ابوالحسن خرقانی (رح) نے یہی آیت پڑھی وتراھم ینظرون الیک وھم لایبصرون یعنی آپ انہیں دیکھتے ہیں کہ آپ کی طرف تک رہے ہیں مگر درحقیقت وہ نہیں دیکھتے مطلب یہ ہے کہ کفار اور منافقین نے حقیقت کی آنکھوں سے آپ کو دیکھا ہی نہیں اگر ابوجہل ، عتبہ ، شیبہ اور عبداللہ بن ابی جیسے آئمۃ الکفر آپ کو دل کی آنکھ سے دیکھ لیتے تو ضرور ایمان لے آتے اور ان پر دوزخ کی آگ حرام ہوجاتی سورة حج میں اسی مضمون کو اس طرح بیان فرمایا گیا کہ فانھا لاتعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور کہ ان لوگوں کی آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ سینوں میں رکھے ہوئے اندھے ہوتے ہیں جس کی وجہ سے یہ حقیقت کو نہیں پہچان سکتے غرضیکہ یہاں پر فرمایا کہ کفار و مشرکین آپ کی طرف دیکھتے ہوئے نظر تو آتے ہیں مگر حقیقت میں وہ نہیں دیکھتے لہٰذا ایمان سے محروم ہیں۔ درگزر کی عادت آگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے پیغمبر ! خذالعفوا آپ معاف کرنے کی عادت ڈالیں کافر اور مشرک اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے بہت بگڑیں گے الٹی سیدھی باتیں کریں گے مگر آپ درگزر ہی کرتے رہیں اور ان سے الجھیں نہیں مشرکین کی طرح کسی سے جھگڑا نہ کریں البتہ آپ وامر بالعرف نیکی کا حکم کرتے رہیں تبلیغ دین کا کام برابر جاری رکھیں لوگوں کو توحید کی دعوت دیتے رہیں اور کفر و شرک کی خرابیاں بیان کرتے رہیں مگر کسی کے ساتھ الجھائو پیدا نہ کریں البتہ واعرض عن الجاھلین آپ جاہلوں سے روگردانی کریں تعرض نہ کریں اور درگزر کی عادت ڈالیں۔ امام جعفر صادق (رح) فرماتے ہیں کہ مکارم اخلاق کے سلسلے میں قرآن پاک میں سب سے جامع آیت یہ ہے جس میں حکم دیا گیا ہے کہ معاف اور درگزر کرنے کی عادت ڈالیں اور مخالفین سے الجھیں نہیں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت میں بھی آتا ہے کہ حضور نبی کریم علیہ الصلوٰۃ والسلام نہ فاحش تھے اور نہ بہ تکلف فحش بات کرتے تھے اور نہ برائی کا بدلہ برائی سے دیتے تھے بلکہ فاعفوا واصفحو (البقرہ) کے مصداق آپ معاف فرماتے اور درگزر فرماتے بہرحال حضور ﷺ کو حکم ہوا کہ آپ ان لوگوں کی الٹی سیدھی باتوں کو خاطر میں نہ لائیں بلکہ درگزر اور معافی کی پالیسی اپنائیں البتہ انہیں نیکی کا حکم کرتے رہیں اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کریں۔