7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعالم العرفان

Ayah 7:54

اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١۫ یُغْشِی الَّیْلَ النَّهَارَ یَطْلُبُهٗ حَثِیْثًا١ۙ وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ وَ النُّجُوْمَ مُسَخَّرٰتٍۭ بِاَمْرِهٖ١ؕ اَلَا لَهُ الْخَلْقُ وَ الْاَمْرُ١ؕ تَبٰرَكَ اللّٰهُ رَبُّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 7:54 in the Quran reader

بیشک تمہارا پروردگار وہ اللہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پھر وہ مستوی ہوا عرش پر۔ وہ ڈھانپ دیتا ہے رات کو دن پر طلبک رتا ہے وہ اس کو تیزی سے دوڑتا ہوا اور سورج اور چاند اور ستارے مسخر ہیں اس کے حکم کے ساتھ۔ سنو ! اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور حکم دنیا بڑی برکت والی ہے وہ ذات اللہ تعالیٰ کی جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے

ربط آیات گزشتہ آیات میں اصحاب اعراف کے تذکرے کے بعد اہل جہنم کا ذکر ہوا ، ان کے برے انجام کو بیان کیا گیا پھر ان کی خواہش کا ذکر ہوا …………کہ ان کے لیے کوئی سفارش ہو یا انہیں دنیا میں واپس پلٹا دیا جائے جہاں ر پوہ اچھے کام انجام دیں وہ اس وقت اپنی کوتاہی کا اعتراف کریں گے مر اس وقت کا اقرار کچھ مفید نہیں ہوگا دنیا کی زندگی میں انہوں نے وقت کو ضائع کردیا اور اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالا غرضیکہ پہلے اللہ تعالیٰ نے اچھے لوگوں کا انجام بھی بیان کیا اور پھر توحید ، رسالت اور معاد کے منکرین کا حال بھی بیان کیا اب آج کے درس میں اللہ نے ابتدائی تخلیق کا ذکر کیا ہے پہلے ساری کائنات کی تخلیق کا ذکر ہے اور اس کے بعد نوع انسانی کی تخلیق کا ، قرآن پاک کا ایک یہ اسلوب بیان ہے کہ مختلف چیزوں کو مختلف انداز سے بیان کیا جاتا ہے مثلاً ترغیب کے ساتھ ترہیب کا ذکر ہوتا ہے اسی طرح یہاں پر انجام کے ساتھ اب آغاز کا ذکر ہورہا ہے تخلیق کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ ، اس کی قضا و قدر اور اس کے فیصلے کا ذکر کیا جاتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی توحید کا مسئلہ سمجھایا جاتا ہے توحید کا بیان ، شرک کی تردید ، کفر کی مذمت ، رسالت اور معاد کا ذکر ، قضا و قدر کی تفصیلات اور کتاب الٰہی کی صداقت و حقانیت قرآن کریم کے اہم ترین مضامین میں سے ہیں بہرحال اللہ تعالیٰ نے یہاں پر آغاز کا ذکر کیا ہے جب آغاز ہوگا تو انجام کی بھی فکر ہوگی اور اس طرح وقوع قیامت اور قضا و قدر کی تفصیلات سے بھی آگاہی ہوگی۔ تخلیق کائنات اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تخلیق کائنات کا ذکر اس طرح کیا ہے ان ربکم بیشک تمہارا پروردگار تخلیق کائنات کے سلسلے میں یہاں پر اللہ تعالیٰ کی صفت ، ربوبیت کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ عام لوگوں کو فہم صفت ربوبیت کو آسانی سے سمجھ جاتا ہے اس لیے جب الوہیت کا مسئلہ بیان کرنا مطلوب ہوتا تو اس کی ابتداء صفت ربوبیت سے ہی کی جاتی ہے البتہ اللہ تعالیٰ کے ذاتی نام کا تذکرہ خاص لوگوں کے لیے کیا جاتا ہے کیونکہ وہ اسے سمجھنے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں بہرحال فرمایا بیشک تمہارا پروردگار اللہ الذی وہ اللہ ہے خلق السموت والارض جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو فی ستۃ ایام چھ دن میں مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ چھ دن سے مراد یہ چوبیس گھنٹے کی رات دن کے ایام مراد نہیں ہیں بلکہ ان ایام سے دن کی وہ مقدار مراد ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” فی یوم کان مقدارہ الف سنۃ مما تعدون “ (السجدۃ) تیرے پروردگار کے نزدیک ایک دن ایک ہزار سال کے برابر ہے اس لحاظ سے چھ دن سے مراد ایک ایک ہزار سال کے چھ دوریا چھ وقفے یا چھ (PERIOD) ہوگا یعنی تمہارا رب وہ اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ ادوار میں پیدا فرمایا۔ عجلت یا تدریج حضرت سعید ابن جبیر (رح) مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کے شاگرد تھے وہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو ایک لمحے میں بھی پیدا کرنے پر قادر ہے جیسا کہ قرآن میں مختلف مقامات پر کن فیکون کے الفاظ آتے ہیں جب اللہ تعالیٰ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو ہتا ہے ہو جائو تو وہ فوراً ہوجاتی ہے اسی طرح اگر وہ چاہتا تو پوری کائنات کو بھی پلک جھپکنے میں پیدا کرسکتا تھا وہ قادر مطلق ہے اس کی ایک صفت قدیر ہے وہ اپنی قدرت کاملہ سے ہر چیز پر قادر ہے اللہ تعالیٰ کی دوسری صفت حکمت بھی ہے اس کے ہر کام میں کوئی نہ کوئی حکمت پوشیدہ ہوتی ہے مگر انسان اسے نہیں سمجھ سکتے تو حضرت سعید ابن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ کائنات کو چھ دن میں پیدا کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ انسانوں کو یہ تعلیم دینا چاہتا ہے کہ جلد بازی نہیں کرنی چاہیے بلکہ تمام کام آہستہ آہستہ سکون کے ساتھ بتدریج انجام دینے چاہئیں حضور ﷺ کا فرمان ہے التودہ من الرحمن والعجلۃ من لشیطن یعنی آہستگی رحمان کی طرف سے اور عجلت شیطان کی طرف سے ہے انسان جو کام جلد بازی میں کرے گا اس میں خرابی واقع ہوگی لہٰذا تمام کام سوچ سمجھ کر نہایت اطمینان کے ساتھ آہستہ آہستہ کرنے چاہئیں شیخ سعدی (رح) بھی کہتے ہیں کہ تعجیل کار شیطاطین بود ، یعنی جلد بازی شیطانی کاموں میں سے ہے غرضیکہ کائنات کو چھ یوم میں پیدا کرکے اللہ تعالیٰ نے ہر کام کو تسلی کے ساتھ انجام دینے کی تعلیم دی ہے۔ استویٰ علی العرش ابتدائے تخلیق کے ضمن میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات سے پہلے پانی کو پیدا کیا سورة ہود میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا فرمایا وکان عرشہ علی الماء اور اس کا عرش اس وقت پانی پر تھا پانی کی طرح عرش بھی اللہ کی مخلوق ہے اس کی صفت نہیں اس کے برخلاف اللہ تعالیٰ کی تجلیات اس کی صفات ہیں بہرحال فرمایا کہ تمہارا رب وہ ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دن میں پیدا کیا ثم استویٰ علی العرش پھر وہ عرش پر مستوی ہوا مفسرین کرام عرش پر مستوی ہونے کے دو معنی بیان کرتے ہیں ایک تو مجازی معنی ہے جو متکلمین بیان کرتے ہیں اور اس کا مطلب یہ ہے کہ پوری کائنات میں اللہ تعالیٰ ہی کی بادشاہی ہے عرش پر بیٹھنا صاحب اقتدار ہونے کی علامت ہوتی ہے جیسے شاعر کہتا ہے ؎ استویٰ بشر علی العراق من غیر سیف و دم مہراق بشرتخت پر بیٹھ گیا یعنی اس کو اقتدار مل گیا مگر یہ تلوار چلی اور نہ خون بہا بہرحال استویٰ علی العرش کے مجازی معنی یہ ہیں کہ تخت پر بیٹھ گیا اختیارات مل گئے یا بادشاہ وغیرہ بن گیا۔ استویٰ کو حقیقی معنی پر بھی محمول کرسکتے ہیں جیسا کہ امام مالک (رح) ، امام ابوحنیفہ (رح) ، سفیان ثوری (رح) ، امام ابن عینیہ (رح) ، امام شافعی (رح) اور دیگر آئمہ سلف کا مسلک ہے امام مالک کا قبول ہے استوی معلوم والکیف غیر معقول یعنی استویٰ کا معنی تو معلوم ہے مگر اس کی کیفیت عقل میں نہیں آسکتی یا فرماتے ہیں ولکیف مجھول یعنی اس کی کیفیت سمجھ میں نہیں آسکتی کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ کا استوی بھی اسی طرح سمجھا جائے جس طرح کوئی انسان کرسی یا چارپائی پر بیٹھتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا جسم ثابت ہوگا حالانکہ وہ جسمانیت او مادیت سے پاک ہے وہ مکانیت سے بھی مبرا ہے لیس کمثلہ شی وہ بےمثال ہے اس کی مثال کسی چیز سے نہیں دی جاسکتی اور نہ ہم اس کے استویٰ کی حالت کو سمجھ سکتے ہیں فرماتے ہیں والایمان بہ واجب اس کے استوی پر ایمان لانا ضروری ہے والسوال عنہ بدعہ مگر اس کی کیفیت کے متعلق سوال کرنا بدعت ہے چناچہ تمام آئمہ کرام کا یہی عقیدہ ہے کہ اس چیز پر ایمان لائو کہ خدا مستوی العرش ہے جیسا کہ اس کی شان کے لائق ہے باقی اس کی کیفیت کو خدا کے سپرد کرو۔ یاد رکھنا چاہیے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ جسم اور مکان سے پاک ہے اسی طرح وہ جہت سے بھی پاک ہے اگر اس کے آگے پیچھے ، دائیں بائیں یا اوپر نیچے جہت تسلیم کی جائے تو خدا تعالیٰ کی مادیت تسلیم کرنے کے مترادف ہوگا اور انسان کافر اور مشرک بن جائے گا خدا تعالیٰ ان تمام چیزوں سے منزہ ہے اللہ تعالیٰ کی دائیں بائیں جہت بالکل نہیں کلتا یدی الرحمن یمین اللہ کے دونوں ہاتھ داہنے میں اس کا بیاں ہاتھ نہیں ہے بائیں ہاتھ سے عموماً حقیر کام کیے جاتے ہیں لہٰذا خدا تعالیٰ کے لیے بائیں ہاتھ کا تصور اس کے لائق نہیں ہے اس کے دونوں ہاتھ داہنے ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے یہ بات زیادہ آسان طریقے سے سمجھائی ہے وہ استویٰ العرش کا ترجمہ یوں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ عرش پر تجلی ڈالتا ہے اس کی تجلی خصوصاً تجلی اعظم ہر وقت عرش الٰہی پر پڑتی رہتی ہے جس سے سارا عرش رنگین ہوجاتا ہے اس کے اثرات تمام کائنات پر پھیلتے ہیں اور پھر واپس پلٹتے ہیں یہ سلسلہ اسی طرح جاری ہے اس کی ابتداء کب ہوئی یہ انسان کے علم سے باہر ہے خدا تعالیٰ کی ذات وراء الوراء ہے وہ سب کائنات سے جدا ہے وہ غیب الغیب ہے وہاں کسی کا ادراک کام نہیں کرسکتا۔ تجلیات کی بہت سی قسمیں ہیں مگر تجلی اعظم ہر وقت عرش الٰہی پر پڑتی ہے آخرت میں اللہ تعالیٰ کی مومنین کو جو رویت ہوگی وہ تجلی اعظم ہی کی رویت ہوگی امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ وہ تجلی اس وقت بھی کائنات کے وسط عالم مثال اور خطیرۃ القدس میں پڑ رہی ہے تاہم جب لوگ آخرت میں جائیں گے تو اس کے قریب تر ہوجائیں گے اور اسے نمایاں طریقے سے محسوس کریں گے فرماتے ہیں جس طرح کوئی شخص چودھویں رات کے چاند کو شک و شبہ کے بغیر دیکھتا ہے یا دوپہر کے وقت سورج کو دیکھتا ہے اسی طرح وہ آخرت میں تجلی اعظم کو دیکھ سکے گا۔ سب و روز کی دوڑ فرمایا ، پھر وہ عرش پر مستوی ہوا یغشی الیل النھار وہ اوڑھا دیتا ہے رات کو دینی پر یعنی دن پر رات کی چادر ڈال کر اسے چھپا دیتا ہے پہلے دن ہوتا ہے پھر رات آجاتی ہے یطلبہ حثیثاً وہ طلب کرتا ہے اس کو تیزی سے دوڑتا ہوا یعنی جس طرح رات دن پر چھا جاتی ہے اسی طرح پھر دن رات پر مسلط ہوجاتا ہے اور اسی طرح شب و روز کی دوڑ جاری رہتی ہے جو کہ ہر ایک کے مشاہدہ میں ہے نابعہ زبیانی شاعر بادشاہ کے زیر عتاب آگیا تو کہنے لگا ؎ فانک کاللیل الذی ھومدرکی وان خلت ان المنتای عنک واسع تم تو رات کی مانند ہو جو دور کی مسافت سے آکر بھی پکڑ لیتی ہے اور چھا جاتی ہے اسی طرح میں تم سے بھاگ نہیں سکتا کیونکہ میں جہاں بھی جائوں تم مجھے پکڑ لو گے اسی طرح رات اور دن ہیں جو ہمیشہ ایک دوسرے کے تعاقب میں رہتے ہیں اور مقررہ وقت پر ایک دوسرے پر حاوی ہوجاتے ہیں شب و روز کے اس تغیر و تبدل میں اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی حکمت رکھی ہے دن کے وقت تمام جاندار کام کاج کرتے ہیں اپنی روزی تلاش کرتے ہیں پھر رات کے وقت آرام کرتے ہیں تو ان کے قوی اگلے دن کی عبادت اور محنت کیلئے بحال ہوجاتے ہیں رات اور دن کا برابری کی بنیاد پر تذکرے سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ رات کو کام او دن کو آرام بھی کیا جاسکتا ہے چناچہ آج کل صنعتی دور میں بعض کارخانے چوبیس گھنٹے چلتے ہیں بعض لوگ دن کی شفٹ میں کام کرتے ہیں اور رات کو آرام کرتے ہیں اور بعض رات کو ڈیوٹی دیتے ہیں اور دن کے وقت آرام کرلیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے دن رات کا یہ چکر کمال حکمت کے ساتھ وضع فرمایا ہے۔ سورج چاند اور ستارے آسمان و زمین کی تخلیق استویٰ علی العرش اور رات دن کے تغیر و تبدل کے ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے سیاروں اور ستاروں کی تخلیق کا ذکر بھی فرمایا ہے ارشاد ہے والشمس والقمر اللہ نے سورج اور چاند کو پیدا فرمایا ہے یہ بھی اس کے نشانات قدرت اور توحید کے دلائل میں سے ہیں والنجوم اور ستاروں کو بھی کمال قدر ت سے پیدا کیا ہے اللہ نے تمام سیاروں اور ستاروں میں الگ الگ خاصیت رکھی ہے سورج میں تیز روشنی اور حرارت پیدا کی ہے جس سے پوری کائنات متاثر ہوتی ہے اور اس سے فائدہ اٹھاتی ہے چاند کی اپنی شان ہے وہ مدہم اور خوشنما روشنی مہیا کرتا ہے ، سبع سیارات کے باقی پانچ ارکان میں سے زحل کی روشنی نیلگوں ہوتی ہے ، مشتری کی روشنی خاکستری مائل ہے مریخ آگ کے شعلے کی طرح سرخ ہے عطارد کی روشنی زردی مائل ہے اور زہرا میں خاص قسم کی تیز چمک ہے اللہ تعالیٰ نے ہر ایک کا جدا جدا رنگ اور الگ الگ خاصیت رکھی ہے زمین کی طرح باقی سیارے بھی مختلف مادوں سے بنے ہیں امریکی خلا باز چاند کی سطح سے جو مٹی لائے تھے اس پر تجربات کیے گئے اس میں بھی زمین والی نشونما کی خاصیت پائی جاتی ہے تاہم زمین کے عناصر چاند کی نسبت زیاہ کثیف ہیں اور فلکیات کے عناصر لطیف ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ مختلف سیاروں کی ساخت میں تھوڑا بہت فرق ہے اسی لیے ان کے رنگوں میں بھی فرق ہے اور روشنی بھی مختلف ہے اللہ نے ہر سیارے کے مادے کو مختلف عناصر سے پیدا فرمایا ہے اخبارات میں یہ خبر بھی آچکی ہے کہ اولین امریکی خلا باز مسلمان ہوچکا ہے اس نے چاند پر کوئی عجیب آواز سنی پھر واپس آکر اس نے وہی آواز اذان کی صورت میں سنی تو اسے اسلام کی حقانیت پر یقین آگیا اور اس نے اسلام قبول کرلیا یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ اس نے چاند پر اپنی کسی مخلوق کی اذان کی آواز اس خلا باز کو سنادی۔ سات سیارے چھوٹے چھوٹے لاکھوں اور کروڑوں ستاروں کے علاوہ سات بڑے سیارے ہیں جن کا ابھی ذکر ہوا ہے یہ نظام شمسی کے رکن سیارے ہیں اللہ تعالیٰ نے اپنی کمال حکمت کے ساتھ انہیں خلا میں پھیلا دیا ہے اور ہر ایک کی اپنے محور اور اپنے اپنے مدار میں چال مقرر کردی ہے جس کی وجہ سے یہ اپنے اپنے راستے پر چل رہے ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا جانے کی نوبت نہیں آتی سبع سیارات میں چاند اور سورج کی چال تو ایک جیسی ہے البتہ باقی پانچ سیارے (خمسہ ستحیرہ) کبھی سیدھے چلتے ہیں ، کبھی دائیں بائیں اور کبھی غائب ہوجاتے ہیں پچھلے سال مارچ میں یہ واقعہ ہوا کہ ساتوں سیارے ایک سیدھ میں آگئے نجومیوں کے ہاں یہ بڑا حادثہ ہوتا ہے جو سینکڑوں ہزاروں سال میں پیش آتا ہے اور پھر اس کے نتیجے میں بڑے بڑے تغیرات واقع وہتے ہیں بہرحال سورج اور چاند کی رفتار میں مماثلت پائی جاتی ہے اور یہ پورا سال بارہ برجوں میں گردش کرتے ہیں ان کا ہر ماہ کا سفر مختلف برج میں ہوتا ہے چناچہ موسموں کا تغیر و تبدیل بھی اسی کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے یہ سب کے سب سیارے مسخرات بامرہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہیں اللہ تعالیٰ جس طرح چلاتا ہے اسی طرح چلتے ہیں اس کے حکم کے پابند ہیں اللہ نے جس مدار میں ان کو چلایا ہے اور جو ڈیوٹی لگائی ہے اس کو انجام دے رہے ہیں نظام شمسی کے متعلق قرآن پاک نے یہ بھی بتلا دیا ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب یہ پورا نظام تبدیل کردیاجائے گا تمام کائنات درہم برہم ہوجائے گی اور پھر اس کی جگہ دوسرا نظام لایا جائے گا قرآن پاک کی اصطلاح میں یہ واقعہ قیامت کے نام سے موسوم ہے اس نظام شمسی کے علاوہ بعض دوسرے نظام بھی کائنات میں جاری ہیں جن میں سب سے بڑا نظام خطیرۃ القدس کا نظام ہے جو ابھی تک ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے جب نظام شمسی ختم ہوجائے گا جو ابھی تک ہماری نظروں سے پوشیدہ ہے جب نظام شمسی ختم ہوجائے گا تو خطیرۃ القدس کا نظام ظاہر ہوجائے گا بہرحال یہ تمام نظام اللہ تعالیٰ کے حکم کے تابع ہیں ” مسخرات بامرہ “ کا یہی مطلب ہے۔ عالم خلق اور امر فرمایا الالہ الخلق والامر سن لو ! پیدا کرنا اور حکم دینا اسی اللہ تعالیٰ کا کام ہے ” اللہ خالق کل شی “ ہر شے کا پیدا کرنے والا وہی ہے خلق العلیم بھی وہی ہے تخلیق کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کی چار صفات کام کرتی ہیں پہلی صفت ابداع ہے جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو نیست سے ہست کرتا ہے پھر دوسری صفت تخلیق ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک چیز کو دوسری چیز کے مادے سے بناتا ہے آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے تخلیق کیا گیا سورة آل عمران میں موجود ہے خلقہ من تراب اور پھر آگے اللہ نے توالد اور تناسل کے ذریعے نسل انسانی کو پھیلایا سورة السجدہ میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق مٹی سے کی ثم جعل نلہ من سللۃ من مائٍ مھین پھر اس کی نسل حقیر پانی سے چلائی اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی تیسری صفت تدبیر کام کرتی ہے یعنی آگے پیچھے یا تغیر و تبدل کرنا بھی اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے اور پھر اللہ تعالیٰ ہر مخلوق کے قلب میں تدلی بھی پھینکتا ہے جو کہ اس کی چوتھی صفت ہے یہ چاروں صفات تخلیق کے سلسلے میں یکے بعد دیگرے اپنا اپنا کام کرتی ہیں۔ صفت خلق کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے یہاں پر امر کا ذکر بھی کیا ہے کہتے ہیں کہ عرش سے اوپر عالم امر ہے جس کی کیفیت کو کوئی مخلوق نہیں جان سکتی اس سے نیچے عالم خلق ہے چناچہ اس کے متعلق فرمایا ہے کہ خلق بھی اسی کا ہے اور امر بھی اسی کا ہے گویا پیدا کرنا بھی اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور حکم دینا بھی اسی کو سزاوار ہے مولانا شیخ الہند (رح) اس حصہ آیت کا ترجمہ کرتے ہیں سن لو ! اسی کا کام ہے پیدا کرنا اور حکم فرمانا ، تخلیق بھی اسی کے قبضہ قدرت میں ہے اور حکم بھی اسی کا چلتا ہے لہٰذا عبادت بھی صرف اسی کی کرنی چاہیے چناچہ اگلی آیات میں الوہیت ککا مسئلہ بھی بیان ہوگا کہ جو خالق ، رب اور صاحب امر ہے ، عبادت بھی اسی کی کرو غیر اللہ کی عبادت کرکے کیوں شرک میں مبتلا ہوتے ہو وہ خالق ہے ہم مخلوق ہیں وہ آمر ہے ہم مامور ہیں وہ رب ہے ہم مربوب ہیں وہ مالک ہے ہم مملوک ہیں جب خالقیت اور ربوبیت کی پہچان ہوجائے گی تو پھر الوہیت کی پہچان بھی آجائے گی۔ بابرکت ذات فرمایا تبرک اللہ رب العلمین تمام جہانوں کا پروردگار اللہ تعالیٰ بڑا بابرکت ہے وہ برکتیں عطا کرنے والا ہے برکت ایسی زیادتی اور نشونما کو کہتے ہیں جس میں تقدس اور پاکیزگی پائی جائے برکت دینے والی ذات بھی فقط ذات خدا وندی ہے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تھا وجعلنی مبرکاً (سورۃ مریم) اللہ ہی نے مجھے بابرکت بنایا میرے ہاتھ سے معجزات ظاہر ہوئے اور حیرت انگیز چیزیں پیش آئیں سورة ملک کی ابتداء میں ہے تبرک الذی بیدہ الملک بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں اختیار ہے تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ (الفرقان) برکتوں والی ہے وہ ذات جس نے قرآن جیسی عظیم کتاب نازل فرما کر نبی نوع انسان پر احسان فرمایا خدا تعالیٰ نے قرآن پاک کی صورت میں اپنا کلام اور صفت نازل فرمائی اور انسان کو اعزاز بخشا مگر انسان بڑا ہی ناشکرگزار اور ناقدردان ہے یہ صفت الٰہی کی قدر نہیں کرتا اللہ تعالیٰ تمام جہانوں کا پروردگار ہے وہ ہر ایک کی تربیت کرنے والا ہے۔ پہلے انجام کا بیان تھا اب اس آیت میں آغاز کا ذکر ہوا ابتدائے تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت اس کے تصرف اور صفت امر کا تذکرہ ہوگیا ہے اس کے ذریعے خدا تعالیٰ کی الوہیت اور عبودیت کو پہچان سکتا ہے اس کی تشریح اگلی آیات میں آئے گی۔
Ayahs 7:55–56

اُدْعُوْا رَبَّكُمْ تَضَرُّعًا وَّ خُفْیَةً١ؕ اِنَّهٗ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَۚ Open ayah 7:55 in the Quran reader

پکارو اپنے پروردگار کو گڑا گڑا کر اور چپکے چپکے بیشک وہ نہیں پسند کرتا تعدی کرنے والوں کو

وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا وَ ادْعُوْهُ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١ؕ اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ Open ayah 7:56 in the Quran reader

اور نہ فساد کرو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد اور اسی کو پکارو اس سے ڈرتے ہوئے اور اسی سے امید رکھتے ہوئے۔ بیشک اللہ کی رحمت قریب ہے نیکی کرنے والوں کے

ربط آیات اصحاب اعراف کے ذکر کے بعد اچھے اور برے لوگوں کا انجام بیان ہوا پھر قدرت تامہ کے دلائل ذکر کیے گئے اللہ تعالیٰ نے ابتدائے تخلیق کائنات ، دن رات کے تغیر و تبدل اور سماوی کر ات کا ذکر کیا جو اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں مقررہ رفتار سے اپنی اپنی منزل کی طرف رواں دواں ہیں تمام سیارے اور ستارے اللہ تعالیٰ کے حکم سے مسخر ہیں اور اس کی قدرت تامہ کے دلائل ہیں پیدا کرنا بھی اسی کا کام ہے اور حکم دنیا بھی اسی کی شان ہے خدا تعالیٰ کی ذات بڑی بابرکت ہے اور وہ تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اب آج کے درس کی پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس کو پکارنے کا طریقہ بیان فرمایا ہے اور دوسری آیت میں نیکی اختیار کرنے کی تلقین فرمائی ہے اپنی حوائج اور مشکلات میں اللہ تعالیٰ کو پکارنا چاہیے اور اسی کے سامنے عاجزی اور انکساری کا اظہار کرنا چاہیے کیونکہ خلق اور امر اسی کا ہے اگر اس کے علاوہ کسی دوسرے کو پکارے گا تو شرک میں ملوث ہوجائے گا کیونکہ خدا تعالیٰ کے سوا مخلوق میں سے کوئی بھی مشکل کشائی اور حاجت روائی کا اختیار نہیں رکھتا لہٰذا اس آیت میں دعا اور مناجات کا طریقہ سکھلایا گیا ہے۔ دعا کا طریقہ ارشاد ہوتا ہے ادعوربکم پکارو اپنے پروردگار کو تضرعاً گڑگڑا کر ضراعت کا معنی عاجزی کرنا اور گڑگڑانا ہے دعا کا پہلا ادب یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے حضور نہایت عجزوانکساری اور خشوع و خضوع کے ساتھ دست سوال دراز کے ضراعت کا معنی میلان بھی ہوتا ہے اور ضرع ان تھنوں کو کہتے ہیں جن کا دودھ دوہنے کی طرف مائل ہوجاتا ہے تو دعا کرنے کا ایک ادب اور طریقہ تو یہ ہے کہ انسان نہایت عاجزی کے ساتھ دعا کرے اور دوسرا وخفیۃ چپکے چپکے پوشیدہ طور پر شہرت اور ریا کاری سے بچتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے اس کی مناجات کرے اور اس سے سوال کرے اپنی حاجات طلب کرے۔ مناجات اور دعا عبادت ہے اور ذکر مطلقاً عبادت ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد مبارک ہے الدعا مخ العبادۃ یعنی عبادت کا مغز اور گودا دعا ہے یعنی دعا عین عبادت ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے وقال ربکم ادعونی استجب لکھ ان الذین یستکبرون عن عبادتی سیدخلون جھنم دخرین (المومن) مجھ سے دعا کیا کرو میں قبول کروں گا جو خدا تعالیٰ کے سامنے دعا کرن ی سے تکبر کرتے ہیں اللہ ان کو ذلیل کرکے جہنم میں داخل کرے گا گویا اللہ تعالیٰ کو پکارنا اس کے سامنے دست سوال دراز کرنا عین عبادت ہے بلکہ عبادت کا اہم حصہ ہے بہرحال یہاں پر دعا کے دو آداب کا ذکر کیا گیا ہے ایک عجزو انسکاری اور دوسرا خفیہ طور پر چپکے ، چپکے۔ ذکر بالجہر وبالسر دعا اور ذکر کا بنیادی اصول یہ ہے کہ چپکے چپکے اور پوشیدہ طور پر ہونا چاہیے قرآن و سنت میں اس کی صراحت موجود ہے اور علما کا اس پر اتفاق ہے البتہ بعض مخصوص حالات اور شریعت کے مقررہ مواقع پر ذکر بالجہر بھی روا ہے مثلاً اذان اور اقامت بلند آواز سے کہنے کا حکم ہ کے ایام تشریق کی تکبیرات بھی بلند آواز سے پکاری جاتی ہے حج اور عمرہ کا تبیہ لبیک الھم لبیک بلند آواز سے پکارا جاتا ہے امام تین نمازوں میں قرأت بلند آواز سے کرتا ہے اور پھر ایک رکن نماز سے دوسرے کی طرف منتقلی کے لیے بلند آواز سے تکبیر کہتا ہے اگر امام سے سہو ہوجائے تو مقتدی بلند آواز سے سبحان اللہ کہہ کر امام کی توجہ دلاتا ہے غرضیکہ ان خاص مواقع کے علاوہ عام حالات میں ذکر بالسر ہی افضل ہے۔ مخفی ذکر کی فضیلت مخفی ذکر کی فضیلت کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے خیرالذکر الخفی وخیرالرزق مایکفی بہتر ذکر وہ ہے جو پوشیدہ ہو اور بہتر روزی وہ ہے جو انسان کے لیے کفایت کر جائے بعض اوقات رزق کی فراوانی انسان کو غفلت میں ڈال دیتی ہے ماقل وکفیٰ خیرمما کثروالھیٰ تھوڑا اور کفایت کرنے والا بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو مگر غفلت میں مبتلا کرنے والا ہو۔ مفسر قرآن امام ابوبکر جصاص (رح) فرماتے ہیں کہ ادعو امر کا صیغہ ہے یعنی پکارو اپنے رب کو خفیۃ آہستہ سے مخفی طور پر اللہ تعالیٰ نے سورة مریم میں اپنے عبد صالح زکریا (علیہ السلام) کی اس طرح تعریف فرمائی ہے اذ نادیٰ ربہ نداء خفیا جب اس نے اپنے پروردگار کو چپکے چپکے سے پکارا اس کا مطلب یہ ہے کہ دعا کا افضل طریقہ مخفی طور پر پکارنا ہے اسی لیے امام ابوحنیفہ (رح) کے مسلک کے مطابق امام ابوکر جصاص (رح) فرماتے ہیں التامین ھوالعبادۃ یعنی سورة فاتحہ کے بعد جو ” آمین “ کہی جاتی ہے یہ بھی دعا ہے اور دعا کا توازن یہ ہے کہ آہستہ کہنا افضل ہے لہٰذا نماز میں آمین بھی آہستہ ہی کہنی چاہیے کہ یہی افضل ہے امام شافعی (رح) آمین بلند آواز سے کہنے کے حق میں ہیں مگر ان کے مقلد صاحب تفسیر کبیر امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ آمین آہستہ کہنا زیادہ افضل ہے۔ اختلاف اسمہ ایسے مسائل میں اماموں کا جو اختلاف ہوتا ہے وہ جواز یا عدم جواز کا نہیں ہوتا بلکہ افضلیت کو طول دے کر خواہ مخواہ نفرت کا بیج بوتے ہیں آمین کا مسئلہ انہی فروعی مسائل میں سے ہے امام شافعی (رح) آمین بالجہر کو افضل کہتے ہیں جب کہ امام ابوحنیفہ (رح) آمین بالسر کو افضل سمجھتے ہیں دوسرے مقام پر یہ بھی آتا ہے واذکر ربک فی نفسک (الاعراف) اپنے رب کو اپنے جی میں یاد کرو آگے ودون الجھر من القول کے الفاظ بھی آتے ہیں یعنی بلند آواز سے یاد نہ کریں مقصد یہ ہے کہ آہستہ ذکر زیادہ افضل ہے اگر وجوب ثابت نہ بھی ہو تو استحباب کے درجے میں تو بہرحال ہے اسی طرح رفع یدین کا مسئلہ ہے بعض آئمہ کہتے ہیں کہ کرنا افضل ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) نہ کرنے کو ترجیح دیتے ہیں مسئلہ صرف اولیٰ اور غیر اولیٰ کا ہے لہٰذا ایسے مسائل میں الجھنا مناسب نہیں ذکر بالجہر اور بالسر میں بھی یہی بات پیش نظر رکھنی چاہیے۔ ذکر بالجہر کی ممانعت صحیح احادیث میں آتا ہے کہ بعض مواقع پر جب صحابہ کرام نے بلند آواز سے ذکر کیا تو حضور ﷺ نے فرمایا اربعوا علی انفسکم لاتدعون اصماً ولاغائباً اپنے نفسوں پر نرمی کرو تم کسی ایسی ہستی کو تو نہیں پکار رہے ہو جو معاذ اللہ بہری یا غائب ہو بلکہ تم توسمیع اور قریب ہستی کو پکار رہے ہو جو ہر بات کو سنتی ہے آپ نے ایک صحابی سے یہ بھی فرمایا کہ خدا تعالیٰ تمہاری سواری کی گردن سے بھی زیادہ قریب ہے جس کو تم پکارتے ہو لہٰذا بلند آواز سے پکارنے کی ضرورت نہیں ہے قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں کہ شریعت کے مذکورہ مقامات کے علاوہ بلند آواز سے ذکر کرنا مکروہ ہے خاص طور پر جب کہ دوسرے لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث ہو قاضی صاحب نے ذکر کے تین مراتب بیان کیے ہیں جن میں سے پہلا مرتبہ ذکر بالجہر کی کراہت ہے اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص بلند آواز سے ذکر کررہا ہے تو دوسرے کی نماز یا تلاوت میں خلل واقع ہوتا ہے جس بیما کو آرام کی ضرورت ہے وہ ذکر بالجہر کی وجہ سے مکمل آرام نہیں کرسکتا جس کی وجہ سے اسے تکلیف ہوتی ہے مسند احمد میں تو یہ روایت بھی ہے لایجھر بعضکم علی بعض تم میں سے بعض دوسروں کے سامنے بلند آواز سے قرآن پاک کی تلاوت بھی نہ کریں تاکہ کسی کے لیے تکلیف کا باعث نہ ہو۔ امام ابن ہمام (رح) آٹھویں ، نویں صدی میں مصر میں بہت بڑے فقیہہ ہوئے ہیں آپ نے ہدایہ کی شرح بھی لکھی ہے سجرالرائق والے ابن نجیم (رح) بھی بڑے فقیہ گزرے ہیں آپ کی کتاب پر فتویٰ دیا جاتا ہے اسی طرح شیخ ابراہیم حلبی (رح) جنہوں نے منیتہ المصلی کی شرح لکھی ہے وہ بھی بڑے پایہ کے محدث اور فقیہ تھے ان سب حضرات نے امام ابوحنیفہ (رح) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ بلند آواز سے ذکر کرنا بدعت ہے کیونکہ یہ لوگوں کیلئے ایذاء رسانی کا باعث ہوتا ہے فتح القدیر میں لکھا ہے کہ اگر کوئی شخص مسجد میں بلند آواز سے ذکر کرے گا سو اس میں دو بدعتیں پائی جائیں گی ایک تو یہ آداب مسجد کے خلاف ہے اور دوسرے لوگوں کے لیے ایذاء کا باعث ہے۔ ہمارے ملک میں تو خاص طور پر ذکر بالجہر کے ذریعے بڑا ظلم اور تعدی ہوتی ہے نہ مسجد میں دوسرے نمازیوں کا خیال آتا ہے نہ محلے کے بیماروں کی پروا کی جاتی ہے گھر میں کوئی عورت نماز پڑھنا چاہتی ہے ذکر کرنا چاہتی ہے تلاوت کا شوق رکھتی ہے مگر بعض حضرات لائوڈ سپیکر کھول کر وقت بےوقت صلوٰہ وسلام یا نعت خوانی شروع کردیتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ اس کی وجہ سے کتنے لوگوں کو پر یشنی لاحق ہورہی ہے فقہا و محدثین کے فتوے موجود ہیں مگر کون مانتا ہے ان کے سامنے تو ایک ہی فلسفہ ہے کہ اس کی آواز دوسری سے بلند ہوجائے اب تو بعض مسجدوں میں نماز کی قرأت بھی بلند آواز میں لائوڈ سپیکر پر ہونے لگی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اردگرد کی مسجدوں میں نمازیوں کی نمازیں خراب ہوتی ہیں عبادت میں خلل واقع ہوتا ہے یہ نیکی نہیں بلکہ بدعت اور گنا ہے اس معاملے میں حکومت بھی بےبس ہے وہ تو اکثریت کو دیکھتی ہے کہ لوگ کیا چاہتے ہیں انہیں جائز ناجائز سے کوئی سروکار نہیں اب شیعوں نے زکوٰۃ جمع کرانے سے انکار کردیا کہ ہمارا مسلک اجازت نہیں دیتا تو حکومت نے انہیں مستثنیٰ قرار دے دیا ان کی دیکھا دیکھی سنی بھی شیعہ بن گئے کہ چلو زکوٰۃ اور عشر سے تو بچ جائیں گے غلط کام کا نتیجہ ہمیشہ غلط ہی نکلت ہے ذکر تو آہستہ کرنا افضل ہے مگر جب لوگوں نے دوسرا راستہ اختیار کیا تو پھر اس میں قباحتیں بھی پیدا ہونے لگیں۔ زبان اور روح سے ذکر قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں کہ ذکر کا دوسرا مرتبہ لسانی یعنی زبانی ذکر ہے اس میں افضل بات یہی ہے کہ ذکر آہستہ کرے حضور ﷺ کا ارشاد ہے لایزال لسانک رطباً من ذکر اللہ (ترمذی ، ابن ماجہ) تمہاری زبان اللہ کے ذکر سے ہمیشہ تر رہنی چاہیے آپ سے دریافت کیا گیا کہ کون سا عمل زیادہ افضل ہے فرمایا ان تفارق الدنیا و لسانک رطب من ذکر اللہ تم دنیا سے اس حالت میں رخصت ہو کہ تمہاری زبان ذکر الٰہی سے تر ہو قاضی صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ ذکر کا تیسرا مرتبہ روح اور نفس کے ساتھ ذکر کرنا ہے اور یہ بالکل ہی پوشیدہ ہوتا ہے مسند ابویعلیٰ میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ مخفی ذکر جہر ذکر سے ستر مرتبہ زیادہ افضل ہے فرمایا قیامت والے دن ایک شخص کا حساب پیش ہوگا اللہ تعالیٰ اعمال لکھنے و الے اور نگرانی کرنے والے فرشتوں سے فرمائیں گے کہ اس شخص کا اگر اور کوئی عمل ہے تو لے آئو فرشتے عرض کریں گے باری تعالیٰ ! اس کا کوئی عمل باقی نہیں رہا ہم نے تمام عمل جو لکھے تے پیش کردیے ہیں اللہ تعالیٰ فرمائے گا اے فرشتو ! اس شخص کا ایک ایسا عمل بھی ہے جسے تم نہیں جانتے ، اسے میں جانتا ہوں یہ اس کا قلب و روح کے ساتھ ذکر ہے جو تم نے نہیں لکھا مگر میرے علم میں ہے۔ تجاوز کی ناپسندیدگی فرمایا اپنے رب کو گڑگڑا کر اور چپکے چپکے پکارو انہ لایحب المعتدین بیشک اللہ تعالیٰ تعدی و تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرمایا ت ذکر کرتے وقت چیخنا چلانا اور شور کرنا ہرگز پسندیدہ نہیں اسی طرح اپنی دعا میں کسی غلط اور ناجائز چیز کا طلب کرنا بھی روا نہیں کیونکہ یہ بھی تعدی میں داخل ہے صحابی رسول حضرت عبداللہ بن مغضل ؓ نے سنا کہ ان کا بیٹا یوں دعا کررہا ہے الھم انی اسئلک القصر الابیض عن یمین الجنۃ اے اللہ ! میں جنت میں دائیں طرف سفید محل کا سوال کرتا ہوں یہ سن کر آپ نے فرمایا بیٹے ! ایسا مت کہو بلکہ سل اللہ الجنۃ اللہ تعالیٰ سے صرف جنت کا سوال کرو و تعوذبہ من النار اور اس کی ذات کے ساتھ جہنم سے پناہ مانگو فرمایا یہ دعا بھی کرو اسئلک الجنۃ وما قرب الیھا من القول والعمل اے اللہ ! میں تجھ سے جنت طلب کرتا ہوں اور ایسی بات اور ایسا عمل طلب کرتا ہوں جو جنت کے قریب کردے………… نیز یہ بھی انی اعوذبک من النار وما قرب الیھا من القول والعمل اور میں دوزخ سے پناہ مانگتا ہوں اور اس بات اور عمل سے بھی جو جہنم کے قریب کردے حضرت عبداللہ ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے یہ دعا سنی تھی لہٰذا کہا اے بیٹے تیرے لیے اتنی دعا ہی کافی ہے اپنی دعا میں قصر ابیض (WHITE HOUSE) کا سوال مت کرو پھر آپ نے یہی آیت پڑھی انہ لایحب المعتدین یعنی اللہ تعالیٰ تعدی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ فساد فی الارض آگے ارشاد ہوتا ہے ولا تفسدوفی الارض بعد اصلاحھا نہ فساد کرو زمین میں اصلاح کے بعد امام بیضادی (رح) فرماتے ہیں کہ یہاں پر فساد سے مراد کفر ، شرک اور بدعات ہیں مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے قانون کو توڑ کر فساد کا باعث نہ بنو فساد اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب قانون شکنی کی جائے جب تک قوانین الٰہیہ پر عمل ہوتا رہے انسانوں کو امن اور چین نصیب ہوتا ہے ایمان ہوگا تو سکون ہوگا اور جب شرک ہوگا تو بدامنی اور شروفساد پیدا ہوگا اسی لیے فرمایا زمین میں اصلاح کے بعد فساد مت کرو اللہ تعالیٰ نے منافقین کے متعلق بھی اسی قسم کی بات کی ہے واذا قیل لھم لاتفسدو فی الارض قالو انما نحن مصلحون جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد نہ کرو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں حالانکہ وہ کفر و شرک اور نفاق کا ارتکاب کرکے فساد فی الارض کا بیج بوتے ہیں ایک دوسرے کے خلاف جھگڑا ، فساد ، سازش ایمان اور اخلاص کے منافی ہیں بدعات اور خلاف سنت امور بھی فساد کا باعث بنتے ہیں اسی لیے فرمایا کہ زمین میں فساد مت کرو۔ خوف و امید اس کے بعد فرمایا وادعوہ خوفاً وطمعاً اللہ تعالیٰ کو خوف اور امید کے ملے جلے جذبات کے ساتھ پکارو ، اللہ تعالیٰ خلق اور امر کا مالک ہے وہ کسی مجرم کو سزا دیے بغیر نہیں چھوڑے گا لہٰذا اس کا خوف ہمیشہ دل میں جاگزین رہنا چاہیے ہر شخص کے دل میں یہ بات اچھی طرح نقش ہونی چاہیے کہ جب وہ کوئی کوتاہی کرے گا پکڑے جائے گا یہی خوف ہے اور اس سے گناہوں کی بخشش اور معافی کی امید بھی رکھنی چاہیے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کبھی ناامید نہیں ہونا چاہیے غلطی کرکے جب اس کے دروازے پر دستک دے تو پورے یقین اور امید کے ساتھ کہ وہ اپنے بندوں پر نہایت ہی رحیم و کریم ہے وہ کسی پر زیادتی نہیں کرتا اور جب اس کا کوئی بندہ خلوص نیت کے ساتھ اس کے دروازے پر آجاتا ہے تو پھر وہ اس کو خالی نہیں بھیجتا بلکہ اس کی جھولی اور دامن کو مراد سے بھر دیتا ہے خوف کے ساتھ ساتھ یہ امید بھی اس کے ساتھ وابستہ ہونی چاہیے الایمان بین الخوف والرجی ایمان تو وہی ہے جو خوف اور امید کے درمیان ہو اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کی ایک صفت اور امید کے درمیان ہو اللہ تعالیٰ نے اپنے نیک بندوں کی ایک صفت یہ بھی بیان کی ہے ” یدعوننا رغباً ورھبا “ (الانبیائ) کہ وہ ہمیں پکارتے ہیں ہماری نعمتوں کی طرف رغبت کرتے ہوئے اور ہماری گرفت سے ڈرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہی حکم دیا ہے کہ ہمارے انعام کی خواہش رکھتے ہوئے اور ہماری گرفت سے ڈرتے ہوئے ہمیں پکارو ، یہی ایمان کا تقاضا ہے۔ فرمایا یاد رکھو ! ان رحمۃ اللہ قریب من المحسنین اللہ تعالیٰ کی مہربانی نیکی کرنے والوں کے قریب ہوتی ہے جو بھی ایمان لاکر اعمال صالحہ انجام دے گا اعلیٰ درجے کی نیکی کرے گا ، قوانین الٰہیہ کا خیال رکھے گا سنت کے مطابق چلنے کی کوشش کرے گا بدعات سے بچے گا شرکیہ افعال سے اجتناب کرے گا وہ محسن ہوگا اور جو نیکی والا ہوگا وہ اللہ کی رحمت کے قریب ہوگا ہر موقع پر خدا تعالیٰ کی مہربانی اس کے شامل حال ہوگی۔
Ayahs 7:57–58

وَ هُوَ الَّذِیْ یُرْسِلُ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ حَتّٰۤى اِذَاۤ اَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنٰهُ لِبَلَدٍ مَّیِّتٍ فَاَنْزَلْنَا بِهِ الْمَآءَ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ١ؕ كَذٰلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتٰى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَ Open ayah 7:57 in the Quran reader

اور وہ وہی ذات ہے جو چلاتا ہے ہوائوں کو خوشخبری دینے والی اس کی باران رحمت سے پہلے ، یہاں تک کہ جب وہ اٹھاتی ہیں بوجھل بادلوں کو تو ہم چلاتے ہیں اس کو مردہ شہر (خشک بستی) کی طرف ، پس ہم اتارتے ہیں اس سے پانی۔ پھر ہم نکالتے ہیں اس (پانی) کے ساتھ ہر قسم کے پھل۔ اسی ہم زندہ کریں گے مردوں کو تکاہ تم نصیحت پکڑو

وَ الْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُهٗ بِاِذْنِ رَبِّهٖ١ۚ وَ الَّذِیْ خَبُثَ لَا یَخْرُجُ اِلَّا نَكِدًا١ؕ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّشْكُرُوْنَ۠ Open ayah 7:58 in the Quran reader

اور جو شہر پاکیزہ ہوتا ہے نکلتے ہیں اس کے پورے اپنے رب کے حکم سے اور جو خراب ہوتا ہے نہیں نکلتے اس کے پودے مگر ناقص اسی طریقے سے ہم پھیرپھیر کر باین کرتے ہیں آیتوں کو ان لوگوں کیلئے جو شکر ادا کرتے ہیں۔

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے اصحاب اعراف کا ذکر کرنے کے بعد نیک و بدلوگوں کا انجام بیان فرمایا پھر تخلیق کائنات کا ذکر فرمایا ان ربکم الذی خلق السموت والارض فی ستۃ ایام “ اس کے ساتھ عرش الٰہی کا ذکر ہوا نشانات قدرت میں سے سورج ، چاند اور ستاروں کی مقررہ مدار میں گردش کے ساتھ یہ بھی واضح فرما دیا کہ خلق اور امر یعنی پیدا کرنا اور حکم دینا اللہ تعالیٰ ہی کو سزاوار ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰ کو پکارنے کے حکم کے ساتھ اس کی دعا اور مناجات کا طریقہ بھی بتلایا کہ اس کے لیے دو باتیں ضروری ہیں ایک گڑگڑانا اور دوسری پوشیدہ طریقے سے دعا کرنا اس کے بعد زمین میں فساد کرنے سے منع فرمایا ، ظاہر ہے کہ کفر ، شرک اور معاصی فساد کی جڑ بنیاد ہیں جن کی وجہ سے نوع انسانی میں فساد برپا ہوتا ہے اور امن و سکون تباہ و برباد ہوجاتا ہے آج کی دنیا میں بےچینی کی وجہ یہی برے افعال ہیں اور ہر طرف ظھر الفساد فی البر البحر کا منظر پیش ہورہا ہے امن وامان ختم ہوچکا ہے قتل و غارت گری کا دور دورہ ہے فرقہ بندی زوروں پر ہے ہر شخص سکون کی تلاش میں سرگرداں ہے مگر اس کی مشکلات میں اضافہ ہی ہورہا ہے ہر طرف سازشوں کا جال بچھا ہوا ہے ہر شریف آدمی کو پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے بہرحال اللہ تعالیٰ نے اپنی تمام حوائج و مشکلات میں اسے ہی پکارنے کا حکم دیا کیونکہ مشکل کشا اور حاجت رو صرف وہی ہے خوف وامید کے ساتھ اس کے سامنے دست سوال دراز کرنا چاہیے یعنی ہمیشہ اس کی گرفت سے خوفزدہ رہے اور اس کی رحمت سے کبھی مایوس بھی نہ ہو کیونکہ مایوس ہونا کافروں کا شعار ہے۔ ہوائیں اور بارش تخلیق کائنات کے سلسلے میں عالم بالا کے دلائل ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے زمین سے متعلق دلائل کا تذکرہ کیا ہے ان میں سے دو نشانیوں یعنی قیامت اور وحی الٰہی کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے چانچہ ارشاد ہوتا ہے وھوالذی یرسل الریح اللہ تعالیٰ وہی ہے جو ہوائوں کو چلاتا ہے بشراً بین یدی رحمتہ جو کہ باران رحمت سے پہلے خوشخبری دینے والی ہیں بارش سے پہلے عام طور پر خوشگوار ہوائیں چلتی ہیں جو کہ بارش کی آمد کی خوشخبری دیتی ہیں مگر ان ہوائوں کو کون چلاتا ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان ہوائوں کو چلانے والا بھی میں ہی ہوں یہ ہوائیں خودبخود نہیں چلتیں سائنس دانوں اور محکمہ موسمیات والوں کا یہ دعویٰ باطل ہے کہ مون سون ہوائیں بارش لاتی ہیں مگر سوال تو یہ ہے کہ ان ہوائوں کو مختلف خطوں تک کون پہنچاتا ہے وہ ہوائوں کا رخ تو بتا سکتے ہیں کہ کس طرف جارہی ہیں مگر اس طرف انہیں کون لیجا رہا ہے اور انہیں فضا میں کون اٹھائے اٹھائے پھرتا ہے یہ باتیں ان کی نگاہ سے اوجھل ہیں اللہ کا ارشاد ہے کہ وہ اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کے ساتھ ہوائوں کو اپنی مرضی کے رخ پر چلاتا ہے جب کوئی خطہ ارضی سخت پیاسا ہوتا ہے تو اللہ کے حکم سے ہوائیں چلتی ہیں اسی لیے حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب ہوا زور سے چلے ، آندھی آئے تو اسے برا بھلا مت کہو لاتسبو الریح یہ تو اللہ کے حکم سے چلتی ہیں ان کا کیا قصور ہے فرمایا جب تیز ہوائیں چلیں تو یوں کہا کرو الھم انی اسئلک من خیرھا وخیر ما ارسل وآعوذ بک من شرھا وشرما ارسل اے اللہ ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں ان ہوائوں سے بہتری کا اور جس مقصد کی بہتری کے لیے ان کو چلایا گیا ہے اور میں پناہ مانگتا ہوں ان کے شر سے اور اس شر سے جس کے لیے انہیں چلایا گیا ہے ہوائوں کا چلنا اور بارش کا آنا خیر و شر دونوں مقاصد کے لیے ہوسکتا ہے بعض اوقات بارش تباہی کا باعث بن جاتی ہے جیسا کہ آج کل کی بارشوں سے فصلوں کو سخت نقصان پہنچ رہا ہے گندم کا بیشتر حصہ ضائع ہوگیا ہے حکومت تو طرح طرح کی تسلیاں دے رہی ہے کہ کچھ نہیں ہوا مگر حقیقت یہی ہے کہ فصل پک جانے کے بعد اگر بارش ہوجائے تو فصل ضائع ہوجاتی ہے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے اس کا اعلان ہے ونبلوا کم بالشر الخیرفتنۃ (الانبیائ) ہم خیر اور شر دونوں طریقوں سے آزماتے ہیں لوگ تو بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ خود کفالت کی سکی میں بناتے ہیں اور غرور میں مبتلا ہوجاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہماری فلاں حکمت عملی سے ہوا ہے حالانکہ جب اللہ تعالیٰ کی رحمت اور مہربانی شامل حال ہو تو انہیں اس کا شکر ادا کرنا چاہیے نہ کہ غرور وتکبر کرنا اللہ تعالیٰ بسا اوقات اس وجہ سے ناراض ہوجاتا ہے کہ اس کے بند اس کے سامنے عاجزی کا اظہار نہیں کرتے اس کی رحمت کی امید نہیں رکھتے اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے اس کی بجائے وہ سائنس اور ٹیکنالوجی اور اپنے کمال پر بھروسہ کرتے ہیں اور مادی وسائل کو ہی اول و آخر سمجھ بیٹھتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی آتی ہے اور پھر وہ نعمت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ بارش باعث رحمت یا زحمت فرمایا بسا اوقات ہوائیں باران رحمت کی نوید لاتی ہیں مگر بعض اوقات یہی بارش عذاب کا پیغام بھی لاتی ہے حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب بادل اٹھتے تو حضور ﷺ پریشانی کے عالم میں کبھی اندر جاتے کبھی باہر آتے ایک موقع پر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے عرض کیا حضور ! بادلوں کو دیکھ کر لوگ خوش ہوتے ہیں کیونکہ عام طور پر یہ رحمت کی نوید لاتے ہیں مگر آپ اکثر پریشان ہوجاتے ہیں فرمایا ، مجھے ڈر ہے کہ یہ بادل ویسے نہ ہوں جو قوم عاد پر اٹھے تھے اس قوم میں پہلے تین سال تک بالکل بارش نہ ہوئی قحط پڑگیا گرمی کی وجہ سے مخلوق خدا تڑپ اٹھی ، پھر یکایک بادل اٹھے ، لوگ خوش ہوئے اور بول اٹھے ” ھذا عارض ممطرنا “ (احقاف) یہ بادل بارش برسائیں گے تمام لوگ بادلوں کے نیچے جمع ہو کر باران رحمت کا انتظار کرنے لگے مگر ان بادلوں میں قوم کی ہلاکت کا سامان تھا ، اچانک اوپر سے آگ برسی اور قوم کو ہلاک کردیا غرضیکہ بادلوں میں خیرو شر کے دونوں پہلو ہوسکتے ہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرنی چاہیے اور شر سے پناہ مانگنی چاہیے۔ بارش اور کھیتی فرمایا اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو باران رحمت کی خوشخبری کے طور پر ہوائوں کو چلاتا ہے حتیٰ اذا قلت سحاباً ثقالاً یہاں تک کہ جب یہ ہوائیں بوجھل بادلوں کو اٹھاتی ہیں بادل پانی کی نمی کی وجہ سے سخت بوجھل ہوتے ہیں جنہیں ہوائیں اپنے کندھوں پر اٹھائے پھرتی ہیں پھر جہاں بارش برسانا مقصود ہو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں سقنہ لبلا میت ہم انہیں مردہ شہر یعنی خشک زمین کی طرف چلاتے ہیں فانزلنا بہ الماء پھر ہم اس کے ذریعے پانی نازل کرتے ہیں جب کوئی خطہ ارضی خشک ہوجاتا ہے انسان اور جانور پانی کو ترسنے لگتے ہیں تو ہم ہوائوں کو اس طرف چلا دیتے ہیں جو بادلوں کو اٹھا کرلے جاتی ہیں اور مردہ زمین کے لیے سیرابی کا انتظام کرتی ہیں اور پھر جس قدر بارش برسانا ہماری حکمت کے مطابق ہوتا ہے اتنا برسا دیتے ہیں اگر راحت مقصود ہو تو ضرورت کے مطابق ” وانزلنا من السماء مائََ بقدرٍ “ (المومنون) ہم آسمان سے پانی نازل کرتے ہیں فاخرجنا بہ من کل الثمرات پھر ہم اس پانی کے ذریعے ہر قسم کے پھل پیدا کرتے ہیں سورة البناء میں آتا ہے کہ ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں ” لنخرج بہ حبا ونباتا وجنت القافا “ اور پھر اس کے ذریعے غلہ ، سبزیاں اور گھنے باغات پیدا کرتے ہیں۔ پانی ذریعہ حیات و نباتات وجعلنا من الماء کل شئی حی ہم نے ہر چیز کو پانی کے ذریعے حیات بخشی (سورۃ انبیائ) ہر چیز کا انحصار پانی پر ہے حتیٰ کہ تمام جانداروں کی زندگی پانی سے وابستہ ہے انسان کی تخلیق بھی قطرہ آب سے ہوئی یہی حال جانوروں ، درندوں ، پرندوں اور حشرات الارض کا ہے جس طرح جاندار کی تخلیق پانی سے ہوتی ہے اسی طرح جسم کے اعضا کو قائم رکھنے کے لیے پانی کی ضرورت ہوتی ہے انسانی جسم میں خون کو مرکزی حیثیت حاصل ہے اور اس میں اسی فیصدی پانی ہے اسی طرح غذائی مواد میں بھی اسی فیصدی پانی اور باقی بیس فیصدی دیگر اجزا ہیں جو عناصر خارجی دنیا میں پائے جاتے ہیں وہی عناصر انسانی جسم میں بھی موجود ہیں چونکہ انسان کی ابتدائی تخلیق تمام سطح ارضی کی مٹی سے ہوئی تھی اس لیے زمین پائی جانے والی تمام مع دنیات انسانی جسم میں بھی پائی جاتی ہیں حتیٰ کہ فولاد ، سونا ، چاندی ، ریت ، نمک وغیرہ خاص مقدار میں موجود ہیں یہ تمام چیزیں خون میں ملی ہوئی ہیں جب خون انسانی جسم میں حرکت کرتے ہوئے ہر عضو سے گزرتا ہے تو متعلقہ عضو خون سے اپنی مطلوبہ غذا حاصل کرتا ہے اور باقی چیزوں کو دوسری ساختوں کے لیے چھوڑ دیتا ہے اسی طرح ہر عضو خون سے اپنا حصہ حاصل کرکے نشونما پاتا رہتا ہے فضلات کے نک اس کے لیے دوسری نالیاں اور راستے مقرر ہیں جن کے ذریعے وہ باہر نکل جاتے ہیں خون پھیپھڑے میں آکر صاف ہوتا ہے اس میں آکسیجن شامل ہوجاتی ہے اور پھر یہ قلب میں پہنچ کر گردش میں شامل ہوجا ات ہے تو بہرحال خون میں اسی فیصدی پانی ہے جس پر ہر جاندار کی زندگی کا انحصار ہے۔ پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے جب حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ افضل صدقہ کونسا ہے تو آپ نے اس میں پانی کو بھی شامل فرمایا پانی کی قدر ان لوگوں کو ہوتی ہے جہاں اس کی قلت واقع ہوتی ہے ریاض وغیرہ (سعودی عرب) میں پانی کی قدرو قیمت کا یہ حال ہے کہ پائو بھر پانی کی بوتل پر حکومت کو دو ریال خرچ کرنے پڑتے ہیں وہاں پر پانی 1200 میٹر کی گہرائی سے نکالا جاتا ہے پھر بڑی بڑی مشینوں کے ذریعے اسے صاف کرکے استعمال کے قابل بنایا جاتا ہے ہمارے ہاں پانی کی قدر نہیں کیونکہ یہ 25 , 20 فٹ کی گہرائی سے بآسانی دستیاب ہے دریائوں اور نہروں میں پانی دستیاب ہے اس لیے یہاں پر بہت سا پانی ضائع بھی کردیا جاتا ہے شریعت نے اسراف فی الماء کو ناجائز قرار دیا ہے فرمایا غسل اور وضو کے لیے ضرورت سے زیادہ پانی استعمال ن کرو حتیٰ کہ اگر نہر پر بیٹھ کر وضو کرو تو بھی اسراف سے پرہیز کرو بہرحال فرمایا کہ ہم بادلوں کو خشک زمین کی طرف چلا کر اس سے پانی برساتے ہیں اور پھر اس پانی کے ذریعے زمین سے ہر قسم کے پھل پیدا کرتے ہیں۔ مردوں کی دوبارہ زندگی فرمایا جس طرح زمین سے پھل نکالتے ہیں کذلک نخرج الموتی اسی طرح ہم مردوں کو بھی نکالیں گے جس طرح بارش برسا کر زمین سے سبزیاں پیدا کیں اسی طرح قیامت کو خدا تعالیٰ ایک خاص قسم کی بارش برسا کر مردوں کو قبروں سے نکالیں گے سروۃ عبس میں آتا ہے کہ ہم نے انسان کو قطرہ آب سے پیدا کیا پھر اس کا اندازہ مقرر کیا اور اس کے لیے راستہ آسان کردیا ثم اماتہ فاقبرہ پھر اس کو موت دے کر قبر میں پہنچا دیا ثم اذا شاء انشرہ پھر جب وہ چاہے گا اسے دوبارہ زندہ کر کے اٹھالے گا سورة انفطار میں ہے واذا القبوربعثرت جب قبریں اکھاڑ دی جائیں گی اور اللہ کے حکم سے مردے زندہ ہو کر قبروں سے نکل کھڑے ہوں گے تو بہرحال اللہ تعالیٰ نے بارش اور سبزہ اگانے کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اسی طرح ہم مردوں کو بھی نکالیں گے یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی دلیل ہے کہ جو خدا وند تعالیٰ زمین سے پھل پھول نکال سکتا ہے وہ ایک حکم کے ذریعے مردوں کو بھی زندہ کردے گا اور پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی اور ہر شخص کو اپنے اپنے اعمال کا حساب دینا ہوگا جس کے مطابق جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا فرمایا یہ مثالیں اور دلائل اس لیے بیان کیے جاتے ہیں لعلکم تذکرون تاکہ تم نصیحت پکڑو اگر ان دلائل قدرت پر غور کرو گے تو تمہیں معاد پر بھی یقین آجائے گا اور پھر اللہ تعالیٰ کے احکام کو بھی بجا لائو گے۔ وحی الٰہی کی ضرورت و اہمیت جس طرح اللہ تعالیٰ نے انسان کی ظاہری حیات کے لیے پانی نازل فرمایا ہے اسی طرح اس کی باطنی حیات کے لیے وحی الٰہی کو نازل فرمایا ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو ہدایت مجھے دے کر بھیجا ہے اس کی مثال بالکل بارش جیسی ہے جب بارش سخت حصہ زمین یا ٹیلوں پر ہوتی ہے تو وہ بہ جاتی ہے وہ خطہ ارضی بارش سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتا بعض مقامات پر گڑھے اور تالاب ہوتے ہیں جب بارش ہوتی ہے تو پانی ان نشیبی مقامات پر جمع ہوجاتا ہے جس سے انسان اور جانور فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں اس پانی سے لوگ کھیتی باڑی کرتے ہیں خود بھی استعمال کرتے ہیں اور جانوروں کو بھی پلاتے ہیں تیسری قسم کی زمین نرم ، ہموار اور قابل کاشت ہوتی ہے جب بارش ہوتی ہے تو وہ پانی جذب کرلیتی ہے پھر اس میں سبزیاں ، پودے اور طرح طرح کا غلہ اناج پیدا ہوتا ہے یہ بہترین قسم کی زمین ہوتی ہے جو بارش سے پورا پورا فائدہ اٹھاتی ہے اسی طرح انسان بھی تین قسم کے ہوتے ہیں بعض لوگ پتھر کی طرح سخت دل ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی اور ہدایت سے کچھ فائدہ نہیں اٹھاتے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت کی بارش ہوتی ہے مگر ان کے اوپر سے گزر جاتی ہے بعض لوگ نشیبی زمین کی طرح ہدایت اور وحی الٰہی سے خود تو مستفید نہیں ہوتے مگر دوسروں کے لیے بہت بڑا ذخیرہ جمع کرلیتے ہیں اللہ تعالیٰ انہیں دین کی سمجھ عطا کرتا ہے اور وہ اس سے دوسروں کو مستفید کرتے ہیں اس میں تحریر و تقریر کے تمام ذرائع شامل ہیں تیسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو نرم اور ہموار زمین کی طرح ہیں وہ وحی الٰہی سے پورا پورا فائدہ اٹھاتے ہیں جس طرح زمین اپنے اندر پانی جذب کرکے پھل اور غلہ پیدا کرتی ہے اسی طرح نیک لوگ وحی الٰہی سے مستفید ہو کر اپنے لیے ذخیرہ آخرت قائم کرلیتے ہیں حضور ﷺ نے ہدایت ربانی کو زمین سے اس طرح تشبیہ دی۔ اچھی اور ناقص زمین کی مثال اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے اس انداز سے بھی بیان فرمایا ہے والبلا الطیب یخرج نباتہ باذن ربہ پاکیزہ شہر یعنی اچھی بستی جس کی زمین زرخیز ہو وہاں کے پودے اپنے رب کے حکم سے نکلتے ہیں سبزیاں اگتی ہیں پھل پیدا ہوتے ہیں اور اناج پیدا ہوتا ہے زمین اچھی ہے تو اس کی برداشت بھی اچھی ہوگی البتہ والذی خبث جو ناقص اور نکمی زمین ہوتی ہے لایخرج الا نکداً اس سے ناقص پودے ہی نکلتے ہیں نگداً ناقص ، نکمی اور فضول چیز کو کہتے ہیں ایسی جگہوں پر گھاس پھونس ، کانٹوں اور جڑی بوٹیوں کے سوا کچھ پیدا نہیں ہوتا کیونکہ زمین کی خاصیت اچھی نہیں ہوتی آگے سورة رعد میں آرہا ہے ” وفی الارض قطع مجورات “ زمین کے مختلف خطے ہیں کوئی خشک ہیں کوئی ریتلے ، کوئی سخت ، کوئی کلر والے اور کوئی بالکل نکمے فرمایا ایسے خطوں میں ناقص چیز ہی پیدا ہوگی کسی کام کی چیز کی توقع نہیں ہو سکتی انسان کی استعداد کا بھی یہی حال ہے جس کی استعداد اچھی ہوتی ہے وہ ہدایت سے خوب فائدہ اٹھاتا ہے اور جس کی استعداد خراب ہو وہ وحی الٰہی سے بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتا باران ہدایت میں تو شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں وہ بالکل برحق ہے مگر انسان کی اپنی صلاحیت ہی خراب ہے جو ہدایت کو قبول نہیں کرسکتی اور نیکی سے محروم رہتی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ ہر انسان فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے مگر انسان خود اپنی استعداد اور صلاحیت کو خراب کرلیتے ہیں جس کی وجہ سے ان پر ہدایت اثر انداز نہیں ہوتی فرمایا کذالک تصرف الایت اسی طرح ہم اپنے دلائل و شواہد کو مختلف انداز سے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں لقوم یشکرون ان لوگوں کے لیے جو شکر ادا کرتے ہیں بادل اور بارش اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے اسے پاکر بھی جب لوگ اس مالک الملک کا شکریہ ادا کرتے تو اللہ تعالیٰ اس رحمت کو زحمت میں بدل دیتا ہے بعض اوقات اللہ تعالیٰ بادل اور ہوائوں کو سزا کا ذریعہ بنا دیتا ہے لہٰذا ہر نعمت پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنا اچہیے اس کا فرمان ہے کہ اگر تم شکر کروگے تو میں مزید دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو پھر میرا عذاب بھی بڑا سخت ہے۔