Ayahs 7:14–18ربط آیات
سورۃ کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کا ذکر فرمایا اور اس کے اتباع کا حکم دیا پھر نافرمانی کرنے والوں کا انجام بیان فرمایا محاسبے کے عمل اور اعمال کے وزن سے آگاہ کیا اس کے بعد انسان پر کیے جانے والے دو انعامات کا ذکر کیا ایک زمین تسلط اور دوسرا ذرائع معیشت ، پھر انسان کی تخلیق کا مسئلہ بھی بیان فرمایا انہیں بہترین شکل و صورت عطا کی اور زمین میں اپنا خلیفہ بنایا نیز آدم (علیہ السلام) کو مسجود ملائکہ بنایا تاکہ اس کی اولاد کی برتری تمام مخلوق پر ثابت ہوجائے۔
پھر اسی ضمن میں یہ بھی بیان فرمایا کہ شیطان لعین نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا اور غرور میں مبتلا ہو کر اپنی بڑائی کا اظہار کیا اور اپنے آپ کو آدم (علیہ السلام) پر فوقیت دینے کی کوشش کی شیطان نے اپنی برتری کے متعلق یہ فلسفہ بیان کیا کہ اسے آگ سے پیدا کیا گیا ہے جب کہ آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے ، اللہ تعالیٰ نے شیظان کے اس تکبر کا رد کیا کیونکہ تکبر کرنا صرف خدا تعالیٰ کی شان ہے ، مخلوق کی شان عاجزی اور انکساری میں ہے جس نے اکڑ دکھائی اللہ نے اسے ذلیل قرار دیا اور اسے اپنی رحمت کے مقام سے دور کردیا پھر مضناً یہ بات بھی آگئی کہ آگ کو خاک پر کوئی برتری حاصل نہیں آگ میں طیش ، غصہ ، تپش اور بلندی ہے جو کہ تکبر کی نشانی ہے جب کہ مٹی میں سکون ، وقار ، عاجزی اور انکساری ہے اور مخلوق کے لیے یہی چیز بہتر ہے حضور ﷺ نے فرمایا بس العبد وہ آدمی کتنا برا ہے جو خدا تعالیٰ کی ہستی کو فراموش کردیتا ہے غفلت اختیار کرتا ہے اور تکبر کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے یہ بات بھی سمجھا دی کہ شیطان کی طرح جو بھی تکبر کرے گا وہ ذلیل و خوار ہوگا۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد مبارک ہے یحشرالمتکبرون کا مثال ذرٍ یوم القیمۃ قیامت والے دن متکبر لوگ چیونٹیوں کی طرح چھوٹے چھوٹے بناکر اٹھائے جائیں گے تاکہ وہ ذلیل ہوجائیں پھر جب حساب کتاب کی منزل آئے گی تو ان کے قد معمول کے مطابق بڑے ہوجائیں گے شیطان کو ذلیل کرنے والی دوسری چیز حسد تھی بزرگان دین کا قول ہے ماخلا جسدً عن حسدٍ یعنی شاید ہی کوئی جسم حسد سے خالی ہوگا یہ بھی بہت بری بیماری ہے بہرحال ان دو وجوہات سے شیطان بارگاہ رب العزت سے مردود ہوگیا اور اللہ نے فرمایا فاخرج انک من الصغرین یہاں سے نکل جائو تم ذلیل ہو اس طرح شیطان نہ صرف اپنی لاکھوں سال کی عبادت گنوا بیٹھا بلکہ اپنی صلاحیت ہی کھو بیٹھا۔
شیطان کی دعا
حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور شیطان کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں متعدد مقامات پر کیا ہے اس میں ایک طرف تو انسان کو اپنی حیثیت یاد دلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر انعامات کیے ہیں اسے اپنا خلیفہ بنایا ہے لہٰذا اس کا فرض ہے کہ وہ ایسے کام انجام دے جو اس کی شان کے لائق ہیں اور دوسری طرف اسے اس کے دشمن شیطان سے خبردار کیا ہے ” ان الشیطن لکھ عدو فاتخذوہ عدواً (فاطر) شیطان تمہارا دشمن ہے اس کو دشمن ہی سمجھو ، اسی سورة میں شیطان کی دشمنی کے متعلق اور بھی بہت سی باتیں آئیں گی کہ وہ کس طرح لوگوں کو گمراہ کرکے کفر اور شرک کے راستے پر ڈال دیتا ہے مگر لوگ بالکل بیخبر ہیں انہیں سمجھ ہی نہیں آرہی ہے کہ انہیں کس طرف لے جایا جارہا ہے جب اللہ تعالیٰ نے شیطان کو مردود قرار دے دیا تو اس وقت اس نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں درخواست کی قال انظرنی الی یوم یبعثون مجھے مہلت دے دیں اس دن تک جس دن یہ اٹھائے جائیں گے اللہ تعالیٰ نے درخواست قبول فرما لی اور فرمایا قال انک من المنظرین جائو تمہیں حسب خواہش مہلت دے دی گئی دوسرے مقام پر آتا ہے الی یوم الوقت المعلوہ (الحجر) تمہیں معلوم وقت تک مہلت دی یہاں پر وقت سے مراد حساب کتاب کا وقت نہیں بلکہ پہلی دفعہ صور پھونکے جانے کا وقت ہے یعنی اس وقت تک تجھے لوگوں کو ورغلانے کی اجازت ہے۔
مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) بزرگان دین کا قول نقل کرتے ہیں کہ اگر کسی شخص کی دعا قبول ہوجائے تو اس کا یہ مطلب نہیں لینا چاہیے کہ وہ خدا تعالیٰ کا مقرب بن گیا ہے اور نہ اسے اس پر مغرور ہونا چاہیے کیونکہ دعا کی قبولیت کسی کی بحیثیت مجموعی قبولیت کی علامت نہیں دیکھو شیطان رامذہ درگاہ ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس کی دعا بھی قبول فرمالی اور اسے قیامت تک کے لیے مہلت دیدی اسی طرح دعا تو کسی کافر اور بڑے نافرمان کی بھی منظور ہوسکتی ہے مگر یہ کوئی بزرگی کی نشانی نہیں ہے اللہ تعالیٰ کے نزدیک تقرب کی بنیاد ایمان ، توحید اور نیکی ہے سورة حجرات میں موجود ہے ان اکرمکم عنداللہ اتقسکم اللہ کے نزدیک صاحب عزت وہ شخص ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے محض کرشمہ ظاہر ہونے کی بناء پر بھی کوئی شخص اللہ کا مقرب نہیں بن سکتا کیونکہ کرشمے تو دجال کے ہاتھ سے بھی ظاہر ہوں گے اور دنیا دنگ رہ جائے گی۔
شیطان کا عزم
جب شیطان کی یہ دعا قبول ہوگئی کہ اسے قیامت تک مہلت دیدی گئی ہے تو اس نے اپنے عزم کا اظہار اسی وقت کردیا قال فبما اغویتنی شیطان نے کہا پس اس وجہ سے ہ تو نے مجھے گمراہ ٹھہرا دیا ہے شرارت تو بیشک میری ہی تھی میں نے یہی تکبر کا اظہار کیا اب جبکہ تو نے میرے متعلق فیصلہ کر ہی دیا ہے تو اب میرا ارادہ یہ ہے لاقعدن لھم صراطک الستقیم کہ میں بنی نوع انسان کیلئے تیرے سیدھے راستے پر ضرور بیٹھوں گا اور انہیں گمراہ کرکے تیرے صراط مستقیم سے ہٹانے کی کوشش کروں گا حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب آدمی جہاد کیلئے جاتا ہے تو راستے میں شیطان ملتا ہے اور اس کے دل میں وسوسہ ڈالتا ہے کہ جہاں میں جا رہے ہو ، مارے جائو گے تمہاری بیوی بیوہ اور بچے یتیم ہوجائیں گے اس کام سے باز آجائو اس طرح جو آدمی زکوٰۃ کا مال لے کر نکلتا ہے اس کے دل میں یہ بات ڈالتا ہے کہ اتنی رقم دے کر تم قلاش ہوجائو گے سورة بقرہ میں آتا ہے ” الشیطن یعدکم الفقر “ شیطان تمہیں محتاجی سے ڈراتا ہے کہ مال خرچ نہ کر بیٹھنا ، خود کنگال ہوجائو گے ، نمازی جب نماز کے لیے نکلتا ہے تو شیطان پھر حملہ آور ہوتا ہے کہ کوئی کام کی بات کرو جس سے تمہیں اور تمہارے گھر والوں کا فائدہ ہو محض ٹکریں مارنے سے کیا فائدہ ، غرضیکہ شیطان ہر طریقے سے انسان کو نیکی کے کام لے روکنے کی کوشش کرتا ہے کیونکہ اس نے چیلنج کررکھا ہے کہ اے مولا کریم ! میں تیرے سیدھے راستے میں بیٹھوں گا اور اس پر چلنے والے ہر انسان کو ورغلانے کی کوشش کروں گا کہ وہ اس راستے سے ہٹ کر میرے گروہ میں شامل ہوجائے۔
آگے اور پیچھے سے اغوا
شیطان نے کہا کہ اے اللہ ! میں تیرے صراط مستقیم پر بیٹھ جائوں گا ثم لاتینمھم من بین ایدھم پھر اس راستے پر چلنے والوں کے پاس آگے سے بھی آئوں گا ومن خلفھم اور ان کے پیچھے سے بھی آئوں گا حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ اس کی تفسیر یوں بیان فرماتے ہیں کہ آگے سے مراد آخرت ہے انسان اپنی آخری منزل کی طرف ہی رواں دواں ہے اور مطلب یہ ہے کہ شیطان نے کہا کہ میں انسان کو آخرت کے معاملہ میں گمراہ کروں گا اس کے دل میں وسوسہ ڈالوں گا کہ قیامت یعنی آخرت کا کوئی تصور نہیں ہے نہ کوئی حساب کتاب کی منزل آئے گی نہ دوزخ جنت کوئی چیز ہے یہ سب بنائی ہوئی کہانیاں ہیں لہٰذا تم آگے کا کچھ فکر نہ کرو غرضیکہ شیطان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ انسان کا آخرت پر اعتقاد ضعیف کردے تاکہ وہ محاسبے کے عمل سے بےنیاز ہو کر من مانی کرتا پھرے اور اس طرح بالآخر جہنم میں پہنچ جائے۔
اور پیچھے سے مراد یہ دنیا ہے یعنی میں دنیا کے راستے سے بھی آکر لوگوں کو گمراہ کروں گا اور اس کی صورت یہ ہے کہ میں اس دنیا کے لوازمات کو لوگوں کے لیے مزین کرکے دکھائوں گا لازینن لھم فی الارض (الحجر) میں دنیا کو لوگوں کے سامنے اس خوبصورت انداز میں پیش کروں گا کہ وہ اس کے گرویدہ ہو کر رہ جائیں گے میں لوگوں کو حجاب طبع اور حجاب رسم پر ڈال دوں گا وہ یا تو ذاتی زیب وزینت میں مصروف رہیں گے ، کوٹھی ، کا اور بینک بیلنس کے چکر میں پھنسے رہیں گے بیوی بچوں میں الجھے رہیں گے یا پھر قوم اور برادری کے رسم و رواج میں پھنس کر رہ جائیں گے کبھی شادی کے لیے زیورات ، کپڑے ، جہیز اور فرنیچر کے چکر میں پھنسے رہیں گے اور کبھی مرنے پر ساتے اور چالیسویں کریں گے کبھی عرس منائیں گے کبھی چادریں چڑھائیں گے اس طرف لگا کر میں انہیں اللہ کے سیدھے راستے سے ہٹا دوں گا۔
دائیں اور بائیں سے اغوا
شیطان نے یہ بھی کہا کہ میں آئوں گا تیرے بندوں کے پاس وعن ایمانھم ان کے دائیں سے وعن شمایلھم اور ان کے بائیں سے ، حضرت ابن عباس ؓ کی تفسیر کے مطابق دائیں سے مراد نیکی اور حسنات ہے جب کہ بائیں سے مراد برائی ہے نیکی میں گمراہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو نیکی کرنے ہی نہ دی جائے یا یہ کہ نیکی کرنے کے باوجود اس کا کوئی فائدہ نہ ہو اس معاملے میں بھی شیطان وسوسہ اندازی کرتا ہے نیکی سے روکنے کی صورت تو یہ ہے کہ وسوسہ اندازی کے ذریعے کسی کو جہاد ، نماز ، زکوٰۃ یا حج سے روک دے یا کسی غریب کی امداد نہ کرنے دے اور اگر نیکی کا کام انجام دینے کے باوجود اس میں ریا کاری کا عنصر شامل ہوجائے تو وہ کی ہوئی نیکی بھی ضائع ہوگئی یا نیکی کے ضیاع کی یہ صورت بھی ہے کہ حضور ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق نہ ہو نبی (علیہ السلام) نے فرمایا من عمل عملاً لیس علیہ امرنا فھو رد (بخاری مسلم) جو کام ہمارے طریقے کے مطابق نہ ہو ، وہ مردود ہے ، بدعات کی اسی لیے مذمت کی جاتی ہے کہ وہ کام حضور ﷺ کے طریقے کے مطابق نہیں ہوتا اس طرح گویا شیطان دائیں یعنی نیکی اور دین کے کاموں میں بہکانے کی کوشش کرے گا۔
اور بائیں طرف یعنی برائی سے مراد یہ ہے کہ شیطان انسان کو برائی کے کاموں کی ترغیب دے اس نے اعلان کیا کہ میں برائیوں کی مزین کرکے دکھائوں گا اور لوگوں کو گمراہ کروں گا سورة بقرہ میں ہے انما یا مرکم بالسوء والحشاء شیطان تمہیں برائی اور بےحیائی کی ترغیب دیتا ہے ایسا وسوسہ ڈالتا ہے اور ایسی حکمت بیان کرتا ہے کہ انسان برائی پر آمادہ ہوجاتا ہے کبھی کہتا ہے کہ گزر ، کوئی دیکھنے والا نہیں ، کوئی نہیں پوچھے گا ، کبھی کہتا ہے پکڑا جائے گا تو فلاں چھڑا لے گا کبھی کہتا ہے کوئی بات نہیں ابھی بڑی عمر ہے توبہ کرلینا غرضیکہ ہر طریقے سے انسان کو ورغلانے کی کوشش کرتا ہے بائیں طرف سے نفساتی خواہشات بھی مراد ہیں ساری عمر انسان انہی کی تکمیل میں لگا رہتا ہے اور نیکی کرنے کا موقع نہیں ملتا حتیٰ کہ انسان کی موت کا وقت آجاتا ہے۔
بہرحال جب شیطان مردود ٹھہرا تو اس نے اللہ تعالیٰ سے مہلت مانگی جو عطا کی گئی تو اس نے کہا کہ میں تیرے بندوں کو چار سمتوں یعنی آگے ، پیچھے ، دائیں اور بائیں سے آکر گمراہ کروں گا ان کے دلوں میں وسوسے ڈالوں گا پھر کوئی منکر ہوجائے گا اور کوئی شک میں پڑجائے گا تو میرا کام پورا ہوجائے گا دوسرے مقام پر آتا ہے کہ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تو جو چاہے کرلے ” ان عبادی لیس لک علیھم سلطن “ (الحجر) میرے بندوں پر تیرا دائو نہیں چلے گا البتہ جو تیرا اتباع کریں گے ان کا انجام بہت برا ہوگا۔
اوپر اور نیچے کی جہت
اس مقام پر چار جہتوں کا ذکر آیا ہے حالانکہ کل چھ جہات ہیں شیطان نے اغوا کے لیے اوپر اور نیچے کی جہت کے متعلق کچھ نہیں کہا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ اس وجہ سے ہے کہ نیچے سے توغضب الٰہی یا سزا ہی آسکتی ہے اس لیے اس طرف سے شیطان کے بہکانے کا کوئی چانس نہیں اور اوپر کی طرف سے بھی شیطان کا بس نہیں چل سکتا کیونکہ اوپر کی طرف سے صرف اللہ کی رحمت کا نزول ہوتا ہے البتہ باقی چاروں اطراف سے شیطان کے بہکاوے اور گمراہی کا امکان ہے اس کے متعلق سعدی صاحب (رح) نے بھی کہا ہے۔
برسائبان حسن عمل اعتماد نیست
سعدی مگر بہ سایہ لطف خدا رود
یعنی ہمیں اچھے عمل کے سائبان پر تو کچھ اعتبار نہیں لہٰذا سعدی تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے سائے میں ہی جارہا ہے غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے شیطان کی خواہش پر اسے مہلت دیدی خواہ وہ اس کے بندوں کو بہکانا ہی چاہتا تھا مہلت دینا بھی اللہ کی رحمت کا فیضان ہے وہ بسا اوقات مجرموں کو مہلت بھ یدے دیتا ہے۔
اکثریت ناشکر گزار ہے
شیطان نے کہا کہ اے اللہ ! میں تیرے بندوں کو چاروں جہات سے گمراہ کروں گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا ولا تجد اکثر ھم شیکرین اور تو نہیں پائیکا ان میں سے اکثر کو شکر نے والے یعنی لوگوں کی اکثریت میرے بہکاوے میں آجائے گی دوسرے مقام پر اللہ نے فرمایا کہ اس وقت شیطان نے یہ بات محض اندازے سے کہی تھی کہ میں تیرے بندوں کو ہر طریقے سے گمراہ کروں گا ولقد صدق علیھم ابلیس ظنہ فاتبعوہ الا فریقاً من المومنین (سورۃ سبا) مگر ابلیس نے اپنے اندازے کو سچا کر دکھایا ، اکثر لوگوں نے دنیا میں شیطان ہی کا اتباع کیا اور ناشکر گزار ثابت ہوئے ہر زمانے اور ہر دور میں اکثریت منکرین ہی کی رہی ہے اکثر لوگ شیطان کے پیچھے لگنے والے ہوتے ہیں شیطان نے اپنا یہ عزم تخلیق آدم کے وقت کیا تھا جو کہ ایک گمان کی بات تھی مگر اب اس نے حقیقت کا روپ دھار لیا ہے۔
بہرحال شیطان کے سا ارادے کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اسی وقت کہہ دیا قال اخرج منھا یہاں سے نکل جائو جس مقام پر بھی یہ مکالمہ ہوا وہ جنت تھی یا کوئی اور جگہ اللہ نے فرمایا یہاں سے دفع ہوجائو مذء وماً مذمت کیے ہوئے ظاہر ہے کہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرکے اور اس کے بندوں کو بہکانے کی مہلت حاصل کرکے شیطان قابل مذمت ٹھہرا نہ کہ قابل تحسین ، تو فرمایا نکل جائو مذمت کیے ہوئے مدحوراً دھکیلے ہوئے یعنی رجیم اور مردود ، شیطان حکم عدولی کی وجہ سے اللہ کی رحمت سے دھکیلا ہوا یعنی دور ہوگیا اب اسکے قبضہ میں صرف اغوا اور وسوسہ اندازی ہی رہ گئی ہے اور پھر آگے آخرت میں چل کر بہت برا انجام ہوگا آگے پھر اللہ تعالیٰ نے یہ بات بھی واضح کردی لمن تبعک منھم ان میں سے جو کوئی تیرا اتباع کرے گا یعنی بنی نوع انسان میں سے جو آدمی تیرے بہکاوے میں آجائے گا لاملئن جھنم منکم اجمعین تو میں ضرور بھردوں گا جہنم کو تم سب سے یعنی جو بھی شیطان کی پیروی کرے گا اس کو بھی اور اس کے پیچھے لگنے والوں سب کو جہنم میں داخل کروں گا گویا قیامت کے دن تابع اور متبوع سب جہنم کا ایندھن بن جائیں گے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ شیطان اور اس کے سب پجاری جہنم رسید ہوں گے یہ بات اللہ تعالیٰ نے تخلیق آدم کے وقت ہی واضح کردی اس کے بعد حضرت آدم (علیہ السلام) کے ساتھ حضرت حوا کا ذکر بھی آرہا ہے اور ساتھ ساتھ شیطان کی کشمکش بھی دور تک چلی گئی ہے شیطان نے مشرکین کو شرک اور بےحیائی کی باتوں پر جس طریقے سے لگایا اس کی تفصیلات آگے آرہی ہیں۔
Ayahs 7:19–22ربط آیات
ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے نزول اور اس کے اتباع کا حکم دیا جزائے عمل کے ضمن میں قرآن کریم کی مخالفت کرنے والوں کو برے انجام سے آگاہ کیا پھر انسان کی تمکین فی الارض اور اس کے لیے سامان معیشت کا ذکر کیا اس کے بعد انسان کی تخلیق اور اس کے اشرف ہونے کا بیان ہوا اللہ نے آدم (علیہ السلام) کو مسجود ملائکہ بنایا اور دنیا میں اپنا نائب مقرر فرمایا پھر ابلیس کے تذکرے میں فرمایا کہ اس نے اللہ کے حکم سے سرتابی کی اور آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا پھر اس انکار کی توجیہہ یہ بیان کی کہ میں آگ سے پیدا ہوا ہوں اور آدم (علیہ السلام) مٹی سے آگ چونکہ مٹی کی نسبت ارفع ہے لہٰذا میں آدم (علیہ السلام) سے بہتر ہوں اور ظاہر ہے کہ ایک اعلیٰ ہستی کم تر ہستی کے سامنے سجدہ نہیں کرسکتی شیطان کے اس تکبر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اسے رامذہ درگاہ کردیا اس وقت شیطان نے اللہ کی بار گاہ میں کہا کہ تو نے میری گمراہی کا حکم تو لگا دیا اب مجھے وقت معلوم تک مہلت دیدے تاکہ میں تیرے بندوں کو آگے پیچھے ، دائیں اور بائیں سے آکر گمراہ کروں اور تیرے بندوں کی اکثریت ناشکر گزار ہوگی اس وقت تو شیطان نے یہ بات اندازے سے کی تھی مگر بعد میں یہ سچ ثابت ہوئی اللہ نے فرمایا یہاں سے نکل جائو ، جو شخص تمہارے پیچھے لگے گا میں تمہارے سمیت سب کو جہنم رسید کردوں گا۔
جنت میں سکونت
تخلیق آدم اور اس کی برتری کے اظہار کے بعد اب آج کی آیات میں آدم (علیہ السلام) کے جنت میں رہائش اختیار کرنے کا بیان ہے اس دوران میں شیطان کی دشمنی ، حسد اور عداوت کے ساتھ ساتھ آدم (علیہ السلام) کی لغزش کا تذکرہ ہے اور پھر اس سے پیدا ہونے والے بعض واقعات کو ذکر کیا گیا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے ویادم اسکن انت وزوجک الجنۃ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، اے آدم (علیہ السلام) ! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو ، تمہیں وہاں سونت اختیار کرنے کی اجازت ہے حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کا مسئلہ قرآن پاک میں متعدد مقامات پر بیان ہوا ہے اس کا اکثر حصہ سورة بقرہ میں چوتھے رکوع میں بیان ہوچکا ہے واز قال ربک للملکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ وہاں پر میاں بیوی کے جنت میں سکونت اختیار کرنے کا تذکرہ کیا گیا ہے آدم (علیہ السلام) اور آپ کی زوجہ کی تخلیق کا مسئلہ بھی اللہ نے سورة نساء کی ابتداء میں ذکر کیا ہے وخلق منھا زوجھا آپ ہی کے جسم سے اللہ نے آپ کا جو اڑ بھی نکالا تھا جو کہ اللہ تعالیٰ کی حکمت تامہ اور قدرت کاملہ کا مظہر تھا بہرحال اللہ تعالیٰ نے دونوں کو جنت میں رہنے کی اجازت مرحمت فرمادی۔
بنیادی ضروریات
رہاش کے لیے مکان انسان کی بنیادی ضروریات میں شمار ہوتا ہے اقوام متحدہ سمیت رہائش کا مسئلہ دنیا کے ہر ملک کے لیے پریشان کن مسئلہ بنا ہوا ہے جس کے لیے بڑے بڑے منصوبے تیار ہوتے ہیں مگر پوری دنیا میں اس مسئلہ پر قابو نہیں پایا جاسکا اولین انسان حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے ساتھ ہی اس کی رہائش اور دیگر ضروریات کا مسئلہ درپیش ہوا تو اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے آپ کی رہائش کا بندوبست کیا اور فرمایا کہ تم اور تمہاری زوجہ جنت میں رہو سورة طہٰ میں اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کے لیے چار چیزوں کا ذکر فرمایا ہے کہ تم جنت میں رہو ، وہاں تمہارے لیے یہ آسائشیں ہوں گی ان لک الا تجوع فھا ولا تعریٰ ، وانک لاتظموفیھا ولا تضحیٰ “ کہ وہاں تمہیں نہ بھوک کا فکر ہوگا اور نہ تم ننگے رہو گے نہ پاس ستائے گی اور نہ دھوپ ، گویا دوسرے الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی بنیادی ضروریات خوراک ، لباس ، پانی اور مکان کا انتظام کردیا اس زمانے میں اقوام متحدہ کے منشور کے تحت انسان کی بنیادی ضروریات کا بڑا چرچا ہے مگر اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی ان کا ذکر کرکے ان چیزوں کو انسان کی بنیادی ضروریات میں شامل کرلیا ……………… اب ان چاروں چیزوں کے علاوہ بنیادی ضروریات میں تعلیم اور صحت کو بھی شامل کرلیا گیا ہے۔
دراصل بنیادی ضروریات کی عدم فراہمی کی ذمہ داری بہت حد تک صاحبان اقتدار پر عائد ہوتی ہے جب تک دولت کی تقسیم صحیح طریقے سے نہیں ہوگی یہ مسئلہ یانیمل رہے گا قدیم زمانے سے دنیا میں ملوکیت کا دور دورہ رہا ہے یہ ڈکٹیٹر شپ مسلط رہی ہے جس کی وجہ سے وسائل کی تقسیم صحیح نہیں ہوسکی بعض لوگ عیش و آرام کی زندگی بسر کرتے ہیں ان کے پاس ضرورت سے زیادہ وسائل ہوتے ہیں مگر لوگوں کی اکثریت مصائب کا شکار رہتی ہے لوگ آرام طلبی اور غلیظ امور میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں لہو و لعب ان کا دل پسند مشغلہ ہے لہٰذا جن کے پاس وسائل ہیں وہ اپنی ذاتی خواہشات کی تکمیل میں لگے رہتے ہیں اور دوسروں کے حقوق کا خیال نہیں کرتے جس کی وجہ سے مختلف طبقات کی تفادت کی خلیج وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی جاتی ہے۔
حضرت مولانا شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ چار بنیادی باتیں تمام ادیان میں ہمیشہ اٹل رہی ہیں یہ اصول طہارت ، اخبات (عاجزی) سماحت (خیس باتوں سے اجتناب) اور عدل ہیں یہ اصول ہماری شریعت میں بھی بنیادی حیثیت رکھتے ہیں عدل سے مراد یہ ہے ات کل دی حق حقہ ہر حقدار کو اس کا حق ادا کرو اور بنیادی حقوق میں اللہ نے یہ چار چیزیں بیان فرمائی ہیں خوراک ، لباس ، پانی اور رہائش کے لیے جگہ جہاں وہ آرام کرسکے اور گرمی اور سردی سے بچائو کرسکے اس طرح تعلیم بھی انسان کی بنیادی ضرورت ہے جس کے ذریعے انسان اپنی عقلی ضروریات کو پورا کرسکے پھر بنیادی تعلیم میں دینی تعلیم سب سے مقدم ہے اتنی تعلیم ہ مردوزن کے لیے لازمی ہے جس سے وہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پہچان سکے طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم (ومسلمۃ) کا یہی معنی ہے اکثر انسانیت تعلیم سے بھی محروم ہے اتنی تعلیم تو جبری ہونی چاہیے جس سے انسان اپنے حقوق و فرائض کی پہچان کرسکے۔
بے علم نتواں خدا را شناخت
علم کے بغیر تو انسان خدا کو بھی نہیں پہچان سکتا نہ اپنے حقوق کو پہچان سکتا ہے اور نہ بنی نوع انسان کے حقوق کی پاسداری کرسکتا ہے بہرحال یہ بنیادی چیزیں ہر انسان کو نصیب ہونی چاہیے غذا انسان کو لازماً حاصل ہونی چاہیے کسی کو اچھی کسی کو کم تر ، تاہم کوئی بھی اس سے محروم نہیں ہونا چاہتا اسی طرح مکان ، لباس اور صحت بھی انسان کی بنیادی ضروریات میں شامل ہیں۔
شجر ممنوعہ
فرمایا ، اے آدم (علیہ السلام) ! تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو فکلا من حیث شعتما اور کھائو جہاں سے چاہو اور جو چیز چاہو لیکن ولاتقربا ھذہ الشجرۃ اور اس درخت کے قریب نہ جانا اگر ایسا کرو گے اس درخت کا پھل کھائو گے فتکونا من الظلمین تو ہو جائو گے نقصان اٹانے والوں میں سے ، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش تھی کہ اس درخت کا پھل نہ کھانا ، باقی جہاں سے جی چاہے کھائو اور جتنا چاہو استعمال کرو۔
جس درخت سے منع کیا گیا وہ کونسا درخت تھا اس کی تصریح قرآن پاک یا حدیث میں نہیں ہے البتہ تورات میں مختلف قسم کی روایات ملتی ہیں اس کو انجیر کا درخت بھی کہا گیا ہے بعض نے گندم کا پودا اور بعض نے انگور کہا ہے بعض فرماتے ہیں کہ بائیبل کی روایت کے مطابق اس درخت سے مراد خیروشر کی پہچان کا درخت ہے بہرحال کوئی بھی درخت تھا جس کے قریب جانے سے منع فرمایا گیا اور فرمایا اگر قریب جائو گے تو ظلم کرنے والے ہوجائے گے۔
شیطان وسوسہ
فرمایا فوسوس لھما الشیطن پس وسوسہ ڈالا ان دونوں کے لیے شیطان نے ، عربی زبان میں وسوسہ باریک اور مخفی آواز کو کہا جاتا ہے زیور کی معمولی سی جھنکار کو بھی وسوسہ کہتے ہیں تو شیطان نے آدم (علیہ السلام) اور حوا کے دل میں وسوسہ ڈالا شیطان کو بہشت سے نکلنے کا حکم ہوچکا تھا مگر وہ ابھی نکلا نہیں تھا لہٰذا وہ وسولہ ڈالنے میں کامیاب ہوگیا وسوسہ ایک نفسیاتی عمل ہے جس کے لیے قریب آنا ضروری ہے اور اعضائے مستورہ نظر نہیں آتے تھے مگر جب یہ حصے کھل گئے تو آپ سخت پریشان ہوگئے۔
امتناع شجر کی وجوہات
شیطان نے حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا کو بہانے کے لیے ان سے ہمدردی کا اظہار کیا اور وقال مانھکما ربکما عن ھذہ الشجرۃ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس درخت سے اس لیے منع کیا ہے الا ان تکونا ملکین کہ تم دونوں فرشتے نہ بن جائو اوتکونا من الخلدین یا پھر جنت میں ہمیشہ رہنے والے نہ بن جائو شیطان نے ان کو یقین دلایا کہ اللہ نے تمہارے مفاد کے خلاف تمہیں اس درخت سے روک دیا ہے ملک فرشتہ ہوتا ہے اور ملک بادشاہ کو کہتے ہیں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ دونوں قراتیں درست ہیں اور مطلب یہ ہے کہ ممنوعہ پھل کھانے سے یا تو تم فرشتے بن جائوں گے یا تمہیں یہاں کی دائمی بادشاہی مل جائے گی یہ فہوم سورة طہٰ میں بھی ملتا ہے وہاں اس طرح آتا ہے کہ شیطان نے وسوسہ ڈالا اور ھل ادلک علی شجرۃ الخلد وملک لایبلی ٰ ، بھلا میں تم کو ایسا درخت بتلائوں جو ہمیشہ کی زندگی اور کبھی نہ زائل ہونے والی بادشاہت دے گویا یہ لالچ دیا یہ دور سے بھی ڈالا جاسکتا ہے اگر آدم (علیہ السلام) جنت میں ہوں اور شیطان وہاں سے نکل کر دور کھڑا دیکھ رہا ہو تو پھر بھی وہ وسوسہ اندازی ہوسکتی تھی شیطان نے دور کھڑا ہو کر ایسی حرکات کیں جنہیں دیکھ کر آدم (علیہ السلام) کے دل میں وسوسہ پیدا ہوا یا دور سے اس کی آواز سن کر کوئی خیال پیدا ہوگیا بہرحال شیطان وسوسہ اندازی میں کامیاب ہوگیا اور اس کا مقصد یہ تھا لیبدی لھما ماوری عنھما من سوا اتھما تاکہ ظاہر کردے ان دونوں کے لیے وہ چیز جو چھپائی گئی ہے ان دونوں سے ان کی شرم گاہوں میں سے یعنی وسوسہ اندازی کا اثر یہ ہوا کہ آدم (علیہ السلام) اور حوا کے ستر کھل گئے جو چیز ان کی نظروں سے پوشیدہ رکھی گئی تھی وہ ظاہر ہوگئی سوات کے کئی معنی آتے ہیں جسے عام ، برائی اور جسم کے مستورہ حصے ، اس مقام پر جسم کے مستورہ حصے مراد ہیں حدیث شریف میں یہ لفظ اس طرح استعمال ہوا ہے لاتنظر الی سواۃ اخیک اپنے بھائی کے ستر کی طرف مت دیکھو بلکہ بعض روایا ت میں ستر دیکھنے والے کو ملعون کہا گیا ہے اگر انسان کے مستورہ حصے کھل جائیں تو نماز بھی فاسد ہوجاتی ہے پہلے آدم (علیہ السلام) اور حوا نورانی لباس میں ملبوس تھے شیطان نے وسوسہ اندازی کی اور ساتھ قسم بھی اٹھائی وقا سمھما انی لکما من النصحین کہ میں تمہارا بڑا خیر خواہ ہوں تمہارے فائدے کی بات بتا رہا ہوں لہٰذا اس ممنوعہ پھل کو کھالو بہرحال جب شیطان نے اللہ کے نام کی قسم کھائی تو آدم (علیہ السلام) کے جھانسے میں آگئے۔
آخر اس کا نتیجہ یہ ہوا فدلھما بغرور شیطان نے ان دونوں کو یہ دھوکہ دے کر نیچے اتروادیا دل دلالت سے ہے اور یہ رہنمائی کے معنوں میں آتا ہے اگر بفتح دال ہو تو اس کا معنی جرات دلانا ہے اور اگر دلا ہو تو معنی نیچے اتارنا ہے اس مقام پر یہی معنی عبارت کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے اب نیچے اتارنے کی بھی کئی صورتیں ہیں نیچے اتارنا فکر کے اعتبار سے بھی ہوسکتا ہے کہ شیطان نے ان کی فکر اتنی کمزور کردی کہ وہ اللہ کے حکم پر قائم نہ رہ سکے نیچے اتارنا مرتبے کے لحاظ سے بھی ہوسکتا ہے کہ زوجین کو جس اعلیٰ منصب پر فائز کیا گیا تھا اس نے نیچے اتارنے کا ذریعہ بن گیا اور جنت سے نیچے اتارنے کا مطلب تو بہر حال ہے غرضیکہ شیطان وسوسہ اندازی کے ذریعہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا کو نیچے اتارنے کا سبب بنا۔
آدم (علیہ السلام) کی لغزش
ممنوعہ شجر کی قربت حضرت آدم (علیہ السلام) کی محض لغزش تھی اسے گناہ نہیں کہا جاسکتا آپ کو اجتہا میں غلطی لگی تھی نسی آدم ایک بات تو یہ تھی کہ آدم (علیہ السلام) بھول گئے اللہ تعالیٰ کا امتناع والا فرمان بھول گئے اور دوسری بات کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کو سمجھنے میں غلطی کی کسی چیز سے امتناع بعض اوقات فرض ہوتا ہے اور بعض اوقات استجابی ، مثلاً قرآن پاک کا حکم ہے ” اقیمواصلوٰۃ “ تو نماز فرض ہے یہ فرضی حکم ہے اس کی تعمیل لازمی ہے اور بعض احکام ضروری نہیں ہوتے جیسے ارشاد باری تعالیٰ ” واذا حللتم فاصطاً دوا “ (المائدۃ) جب احرام کھول دو تو شکار کرو ظاہر ہے کہ احرام کے بعد شکار نہ فرض ہے نہ واجب اور نہ سنت موکدہ بلکہ محض مباح ہے کہ احرام کھل جانے کے بعد تمہیں شکار کرنے کی اجازت ہے اب اگر کوئی شخص احرام کھولنے کے بعد شکار نہیں کرتا تو اس پر کوئی جرم نہیں ہوگا اسی طرح حضرت آدم (علیہ السلام) نے بھی شاید امتناع شجر کو محض استجابی حکم سمجھا اور اس کی تعمیل ضروری نہ سمجھی اور پھل کھالیا بہرحال اس لغزش کی یہ دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔
زوکین کی ستر پوشی
غرضیکہ شیطان نے آدم (علیہ السلام) اور حوا کو دھوکہ دیا فلما ذاقا الشجرۃ پھر جب دونوں نے اس درخت کو چکھا بدت لھما سوا تھما ان دونوں کی شرمگاہیں ظاہر ہوگئیں مستورہ حصے ایک دوسرے کو نظر آنے لگے اس حالت میں وہ سخت پریشان ہوئے اور فوراً ستر پوشی کی کوشش کی وطفقاً اور ان دونوں نے شروع کیا یخصفن علیھما من ورق الجنۃ ٹانکنے لگے اپنے جسموں پر جنت کے پتے پتوں کو جوڑ کر اپنے اعضائے مستورہ کو چھپانے لگے لباس تو وہاں کوئی تھا نہیں جو پہن لیتے لہٰذا انہوں نے پتے جوڑ کر آگے پیچھے ستر پوشی کی گویا ستر پوشی انسان کی فطرت میں داخل ہے جب برہنہ ہوگئے تو آدم (علیہ السلام) اور حوا دونوں کو سب سے پہلے ستر پوشی کی فکر ہوئی کہ حیا داری کا یہی تقاضا تھا آج بھی افریقہ میں بعض وحشی قبائل ایسے ہیں جو لباس سے بےنیاز ہیں مگر ستر پوشی وہ بھی کرتے ہیں اور گھاس پھونس اکٹھا کرکے اعضائے مستورہ کو ڈھانپنا ضروری سمجھتے ہیں برہنگی تو شیطان کی تعلیم سے ہوئی تھی لہٰذا یہ شیطانی فعل ہے مگر بعض حلقوں میں یہ چیز آج بھی فیشن میں داخل ہے نیم عریانی حالت میں ناچ گانا یا ایسے باریک کپڑے پہننا جو ستر پوشی کے تقاضے پورے نہ کرتے ہوں بالکل غیر فطری بات ہے بلکہ 1930 ء کے لگ بھگ جرمنی میں برہنہ لوگوں کی ایک انجمن قائم ہوئی تھی اس کے تمام ممبران مرد اور عورتیں اپنے ایون فطریہ میں برہنگی اختیار کرتے تھے وہاں پر ستر پوشی انجمن کے قواعد کے خلاف تھی تاہم قرآن پاک سے واضح ہوتا ہے کہ ستر پوشی ایک فطری تقاضا ہے جو ہر انسان میں پایا جاتا ہے اسکے باوجود اگر کوئی بغاوت کی راہ اختیار کرتا ہ کے تو وہ اسکے لیے خود ذمہ دار اور قابل مواخذہ ہے ستر پوشی حیاداری ہی کا دوسرا نام ہے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے الحیاء من الایمان یعنی حیا داری ایمان کا ایک حصہ ہے نیز فرمایا لایمان لمن لاحیاء لہ جس کی حیا نہیں کا ایمان نہیں۔
شیطان کی دشمنی
جب اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) اور حوا کو اس پریشان میں دیکھا تو فرمایا ونادھما ربھما ان دونوں کو ان کے پروردگار نے پکارا اور کہا الم انھکما عن لکما الشجرۃ کیا میں نے تمہیں اس درخت کے قریب جانے سے منع نہیں کیا تھا ؟ واقل لکما اور کیا میں نے تم دونوں سے نہیں کہا تھا ان الشیطن لکما عدو مبین کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے اس سے محتاط رہنا مگر تم پھر بھی اس کے بہکاوے میں آگئے۔
سورۃ طہٰ میں موجود ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ و آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کریں تو سب نے سجدہ کیا سوائے ابلیس کے کہ اس نے انکار کردیا اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا یادم ان ھذا عدولک ولزوجک قلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقیٰ اے آدم شیطان تمہارا اور تمہاری بیوی کا کھلا دشمن ہے یہ تمہیں جنت سے نہ نکلوا دے لہٰذا اس سے خبردار رہنا مگر اس تنبیہ کے باوجود آدم (علیہ السلام) اور حوا شیطان کے بہکاوے میں آگئے جس وجہ سے انہیں جنت سے محروم ہونا پڑا۔
غرضیکہ اللہ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں اس درخت سے منع نہیں کیا تھا اس کے باوجود تم نے یہ غلطی کیوں کی اب اس کے بعد اگلی آیات میں حضرت آدم (علیہ السلام) اور حوا کا بیان ہوگا شیطان کا جواب متکبرانہ تھا انا خیر منہ کہ میں آدم (علیہ السلام) سے بہتر ہوں کیونکہ تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور آدم (علیہ السلام) کو مٹی سے پیدا کیا مگر اب آدم (علیہ السلام) اور ان کی بیوی کا جواب عجزہ انکاری کا مظہر ہوگا یہیں سے انسان کی اجتماعی اور احتیاج کی زندگی شروع ہوگی سب سے پہلے لباس کی ضرورت محسوس ہوئی ہے کیونکہ برہنگی کو تنہائی میں بھی پسند نہیں کیا گیا اب جو آدم (علیہ السلام) اور حوا کا جواب آرہا ہے اسمیں بھی زندگی کے بہت سے حقائق سمجھائے گئے ہیں۔
Ayahs 7:23–25ربط آیات
پہلے اللہ نے آدم (علیہ السلام) کی تخلیق اور جنت میں اقامت اختیار کرنے کا ذکر فرمایا یاٰدم اسکن انت وزوجک الجنۃ تم اور تمہاری بیوی جنت میں رہو ، چلو پھر اور جہاں سے جی چاہے کھائو پیو مگر ایک درخت کے قریب نہ جانا ادھر جب شیطان نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے خلاف آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کرنے سے انکار کردیا تو اس کا حسد اور تکبر ظاہر ہوگیا تھا اس نے اللہ تعالیٰ سے مہلت لے کر چیلنج کردیا تھا کہ میں تیرے سدھے راستے میں بیٹھوں گا اور تیرے بندوں کو چاروں طرف سے گمراہ کروں گا اس وقت آدم (علیہ السلام) اور حوا جنت میں مقیم تھے اور جنت سے مراد وہی جنت الماویٰ ہے جو اللہ کے پاس ہے بعض لوگ مذکورہ جنت کو اس دنیا کے کسی باغ پر محمول کرتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے بلکہ یہ وہی جنت جہاں سے آدم (علیہ السلام) کو نکالا گیا اور اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کو جس کا پھر وارث بنائے گا تلک الجنۃ التی نورث من عبادنا من کان تقیاً (مریم) اس جنت کا وارث ہم اس شخص کو بنائیں گے جو کہ متقی ہوگا مطلب یہ ہے کہ جس مقام پر ابتداء آدم (علیہ السلام) کو رکھا گیا ہے وہ جنت الماویٰ ہی ہے۔
آدم (علیہ السلام) کی تخلیق تو خلافت ارضی کے لیے ہوئی تھی وازقال ربک للملکۃ انی جاعل فی الارض خلیفۃ اللہ تعالیٰ نے فرشتوں پر انکشاف کیا کہ میں زمین میں خلیفہ بنانے والا ہوں اور اسے زمین پر ہی جانا تھا مگر عارضی طور پر اسے پہلے جنت میں رکھا گیا کیونکہ یہ اس کا ابدی ٹھکانا ہے اور پھر اس کی نعمتیں دکھا کر اس کی طرف رغبت دلانا بھی مقصود تھا کہ اگر نسل انسانی خلاف کا صحیح صحیح حق ادا کرے گی تو اس کا ابدی ٹھکانا یہ جنت ہوگی پھر اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت بھی شامل تھ یکہ اسے زمین پر کس طریقے سے بھیجنا ہے اس سلسلہ میں شیطان کے وسوسے نے بھی اپنا کام کیا اس کی نوع انسانی سے عداوت بھی ظاہر ہوگئی اور آدم (علیہ السلام) کو زمین پر اتارنے کا جواز بھی پیدا ہوگیا۔
آدم (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے جنت میں رہنے کی اجازت دیتے وقت بتلا دیا تھا ان ھذا عدولک ولزوجک (طہٰ ) یہ شیطان تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے فلا یخرجنکما من الجنۃ فتشقیٰ (طہٰ ) یہ کہیں تمہیں جنت سے نہ نکال دے پھر تم مشقت میں مبتلا ہوجائے گے اس دنیا کی زندگی میں کوئی شخص مشقت سے خالی نہیں مگر جنت میں کسی قسم کی نہ مشقت اور نہ پریشانی ہوگی نہ محنت کرکے روزی کمانے کی فکر ہوگی اور نہ کسی چیز کے مہیا کرنے کی تکلیف اٹھانا پڑے گی بلکہ ہر چیز بلامشقت حاصل ہوگی بایں ہمہ آدم (علیہ السلام) اس بات کو بھول گئے اور شیطان نے اپنا کام شروع کردیا چناچہ اس نے آدم (علیہ السلام) اور حوا کے دل میں وسوسہ ڈال کر انہیں ممنوعہ پھل کھانے پر آمادہ کرلیا وہ پھلدار درخت انجیر ، گندم یا انگور تھا اس کی تشریح موجود نہیں تاہم بعض نے اسے علم و خبر سے آگاہی کے پھل سے موسوم کیا ہے کہ بائیبل میں اسی کا ذکر ہے اور بعض مفسرین نے اسے مباثرت کا پھل بھی کہا ہے اولاد انسان کا پھل ہوتا ہے اور اس کا ذریعہ زوجین کی مباثرت ہوتا ہے لہٰذا اس پھل کو مباثرت پر بھی محمول کیا گیا ہے بہرحال جو بھی پھل تھا وہ آدم اور حوا (علیہما السلام) نے چکھ لیا کھالیا تو اس کا اثر یہ ہوا کہ ان کا جنت کا لباس اتر گیا اور وہ دونوں برہنہ ہوگئے حیا چونکہ انسانی فطرت میں داخل ہے اس بےبرہنگی کی وجہ سے میاں بیوی سخت پریشان ہوئے اور ستر پوشی کے لیے انہوں نے درختوں کے پتے ٹانکنے شروع کردیے اور ان سے اپنے ستر کو ڈھانپا ادھر اللہ نے آواز دی کہ اے آدم اور حوا کیا میں نے تمہیں اس درخت کے قریب جانے سے منع نہیں کیا تھا اور تمہیں آگاہ نہیں کردیا تھا کہ شیطان تمہارا دشمن ہے اس کے فریب میں نہ آجانا اس واقعہ کے متعلق سورة طہٰ میں آتا ہے فنسی ولم نجدلہ عزماً آدم (علیہ السلام) بھول گئے اور ہم نے ان کا ارادہ کمزور پایا تو ممانعت والی بات ان کے ذہن میں نہ رہی اور یا وہ یہ سمجھے کہ حکم امتناعی واجبی حکم نہیں ہے بلکہ محض اباحت کی بات ہے اگر یہ پھل کھا بھی لیں گے تو کوئی ایسی گرفت نہیں ہوگی ادھر شیطان نے بھی بہکانے کی قسم اٹھا رکھی تھی آدم (علیہ السلام) کا عزم کمزور پایا تو اس کا دائو چل گیا۔
انبیاء کی لغزش
مفسرین کرام اس بات پر بحث کرتے ہیں کہ آدم (علیہ السلام) کی یہ اجتہادی غلطی گناہ میں شمار ہوتی ہے یا لغزش میں بعض فرماتے ہیں کہ یہ صغیرہ گناہ ہے اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ گناہ نہیں بلکہ معمولی لغزش ہے قرآن و حدیث میں انبیاء عہلیم السلام سے جو بھی لغزشیں مذکور ہیں وہ زلات کہلاتی ہیں اور یہ ایسی چیز ہے جو صغیرہ گناہ سے بھی کم درجہ ہوتی ہے ظاہر ہے گناہ کا کام وہ ہوتا ہے جو ارادے اور مشیت سے کیا جائے اور انبیاء عہلیم السلام کو عصمت کی گارنٹی حاصل ہوتی ہے لہٰذا وہ گناہ کا ارتکاب نہیں کرسکتے البتہ بلا ارادہ چھوٹی موٹی خطا کا سرزدہ ہوجانا ممکن ہے اس کی مثال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں بھی ملتی ہے قبطی آدمی بنی اسرائیل پر زیادتی کررہا تھا آپ نے قبطی کو ایک مکا رسید کیا جس سے وہ ہلاک ہوگیا مکہ کی ضرب شدید تھی یا آدمی کمزور تھا جو برداشت نہ کرسکا ورنہ موسیٰ (علیہ السلام) کا ارادہ قتل کا نہیں تھا اس لیے وہ بھی گناہ میں شمار نہیں ہوتا بلکہ وہ تو مظلوم کی امداد تھی تاہم موسیٰ (علیہ السلام) کو اس پر سخت پشیمانی ہوئی قیامت والے دن جب تمام لوگ سفارش کے لیے کہیں گے تو آپ جواب دیں گے کہ میرے ہاتھ سے ایک آدمی مارا گیا تھا حالانکہ لم اومر بقتلھا مھجے اس کے متعلق کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا لہٰذا میں اللہ کے حضور سفارش کے لیے حاضر نہیں ہوسکتا الغرض اہل سنت والجماعت اس امر پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ انبیاء (علیہم السلام) کو صغیرہ یا کبیرہ ہر قسم کے گناہوں سے محفوظ رکھتا ہے البتہ ان سے لغزش سرزد ہوسکتی ہے۔
چونکہ انبیائے کرام کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے حفاظت کا انتظام ہوتا ہے اس لیے ان کی معمولی لغزش بھی قابل گرفت ہوتی ہے مولانا شاہ اشر فعلی تھانوی (رح) اس کی وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ جس قدر کسی کو اللہ کا قرب حاصل ہو اسی قدر وہ لغزش پر قابل مواخذہ بھی ہوتا ہے کوئی دوسرا آدمی کوئی بڑے کام کا ارتکاب بھی کر بیٹھے تو اتنا قابل گرفت نہیں ہوتا جتنا ایک قریبی آدمی ہوتا ہے انبیائے کرام چونکہ مقربین الٰہی ہوتے ہیں اس لیے انہیں معمولی لغزش پر بھی سخت تنبیہ ہوجاتی ہے خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا واقعہ موجود ہے ایک نابینا صحابی سے ذرا سی بےاعتنائی برتی تو اللہ تعالیٰ کی آیات نازل ہوگئیں عبس وتولیٰ ، ان جاء ہ الاعمیٰ (سورۃ عبس) اسی طرح حضرت آدم (علیہ السلام) ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ، حضرت یونس (علیہ السلام) وغیرہم پر بھی ابتلا آئی مولانا رومی (رح) نے بھی اس بات کو اپنے انداز میں بیان کیا ہے ؎
بود آدم دیدہ نور قدیم
موئے در دیدہ بود کوہ عظیم
آدم (علیہ السلام) تو نور قدیم کی آنکھ تھے ان کی آنکھ میں بال بھی پہاڑ بن گیا حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ کامل الایمان مومن وہ ہوتے ہیں جو معمولی غلطی اور صغیرہ گناہ کو بھی بڑا گناہ خیال کرکے ڈر جاتے ہیں کہ کہیں گرفت نہ ہوجائے اس کے برخلاف منافق کی حالت یہ ہے کہ وہ بڑے سے بڑے گناہ کو بھی ایسا ہی سمجھتا ہے جیسے ناک پر مکھی بیٹھ جائے تو آدمی آسانی سے اڑا دیتا ہے آدم (علیہ السلام) چونکہ شان رفیع کے مالک تھے اس لیے اس غلطی پر فوراً پریشان ہوگئے اور یہی مٹی کی خاصیت ہے کہ اس میں عاجزی ، انکساری ، تواضع ، فروتنی ، حلم اور برد باری پائی جاتی ہے چناچہ اس غلطی پر حضرت آدم (علیہ السلام) فوراً اللہ کی طرف متوجہ ہوگئے۔
معافی کی درخواست
تفسیری روایات میں آتا ہے کہ جنت سے نکلنے کے بعد آدم (علیہ السلام) تین سو سال تک اپنی لغزش پر روتے رہے اور اس کے بعد جیسا کہ سورة بقرہ میں آتا ہے ” فتلقیٰ آدم من ربہ کلمت فتاب علیہ “ آدم (علیہ السلام) نے اپنے پروردگار سے کچھ کلمات سیکھے جن کے ساتھ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں دست بدعا ہوئے یہ وہی کلمات ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر بیان فرمایا ہے قالا ربنا ان دونوں نے کہا ، اے ہمارے پروردگار ! یہاں پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کی صفت ربوبیت کے ذریعے ہی درخواست کی یہ وہی صفت ہے جس میں کسی بھی شخص کی بتدریج تربیت کا مفہوم پایا جاتا ہے اور عام طور پر دعائوں میں لفظ ربنا سے ہی اللہ تعالیٰ کو مخاطب کیا جاتا ہے جیسے ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الاخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار ، اسی طرح آدم اور حوا (علیہا السلام) نے عرض کیا کہ اے ہمارے پروردگار ظلمنا انفسنا ہم نے اپنے نفسوں پر زیادتی کی ہے اپنی غلطی کا فوراً اقرار کرلیا شیطان کی طرح کوئی حجت بازی نہیں کی بلکہ نہایت عاجزی کے ساتھ عرض کیا وان لم تغفرلنا اگر تو ہمیں معاف نہیں کرے گا وترحمنا اور ہم پر رحم نہیں فرمائے گا لنکونن من الخسرین تو ہم یقیناً نقصان اٹھانے والوں میں ہوجائیں گے تیری رحمت کے سوا ہمارا کوئی ٹھکانا نہیں ہوگا ہم تیری مہربانی کے محتاج اور تیری رحمت کے طلب گار ہیں انسان کی شان و بلندی عاجزی اور انکساری میں ہی ہے لہٰذا ایمان والے کا شیوہ یہی ہے کہ وہ ہر وقت اپنی کمزوریوں پر نگاہ رکھے اور غرور وتکبر کے قریب تک نہ جائے چناچہ حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت حوا نے یہی طرز عمل اختیار کیا دوسری جگہ موجود ہے فتاب علیہ (بقرہ) اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا اب اس لغزش پر گرفت نہیں ہوگی تاہم وہ فتشقیٰ کے مصداق اس دنیا میں آکر مشقت کی زندگی میں پڑگئے آپ ایک ہزار برس تک زمین میں موجود رہے اور مشقت کی زندگی گزاری بہرحال اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ اور بعض دیگر سورتوں میں بھی وضاحت فرما دی ہے کہ آدم (علیہ السلام) کو اسی وقت بتا دیا تھا کہ اگر جنت میں دوبارہ آنے کی خواہش ہے تو پھر ایمان اور تقویٰ کا سامان ساتھ لانا ہوگا۔
باہمی دشمنی
اللہ تعالیٰ نے فرمایا قال اھبطوا زمین پر اتر جائو اور وہاں پر تمہیں تین چیزیں پیش آئیں گی پہلی بات یہ ہوگی بعضکم لبعض عدو بعض تمہارے بعض کے دشمن ہوں گے ان ” بعض “ سے آدم (علیہ السلام) اور شیطان بھی مراد ہوسکتے ہیں اور اس کا مطلب عام انسان بھی آپس میں ہو سکتے ہیں شیطان تو ابتداء سے ہی انسان کا حریف ہے اسے الی یوم الوقت المعلوم (الحجر) مہلت مل چکی ہے لہٰذا وہ انسان کو گمراہ کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا تاہم انسانوں کی آپس میں دشمنی او عداوت بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں اس عداوت کی ابتداء حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں ہی سے ہوگئی تھی سورة مائدہ میں تفصیل موجود ہے کہ شادی کے مسئلہ پر ایک بیٹا دوسرے کا دشمن ہوگیا اور آخر اسے قتل ہی کردیا یہ دشمنی قیامت تک انسانوں میں قائم رہے گی کبھی دو خاندانوں میں عداوت ہوتی ہے تو کبھی دو برادریوں میں کبھی دو قومیں ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار ہوتی ہیں تو کبھی دو سلطنتوں میں جنگ چھڑ جاتی ہے بھائی بھائی کا دشمن بن جاتا ہے اور بیٹا باپ سے عناد رکھتا ہے اسی لیے فرمایا بعض تمہارے بعض کے دشمن ہوں گے اور اس دشمنی میں شیطان کا ہاتھ بھی ہے اور خود انسانوں کی اپنی کوتاہی بھی شامل ہے البتہ کامیاب وہی ہوگا جو ان کمزوریوں اور کوتاہیوں سے بچ کر نکل جائے گا۔
زمین بطور قرار گاہ
اللہ تعالیٰ نے دوسری بات یہ فرمائی ولکم فی الارض مستقر و متاع الیٰ حین تمہارے لیے زمین میں ٹھکاتا ہے اور ایک وقت تک نفع اٹھانے کا سامان ہے اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کو زمین پر بھیجنے سے پہلے بتا دیا تھا کہ نوع انسانی کا مستقر اور دارالعمل زمین ہی ہے اسی لیے حص جصین کی روایت میں آتا ہے کہ مردے کو دفن کرتے وقت یہ کلمات پڑھو بسم اللہ وعلیٰ ملۃ رسول اللہ ، منھا خلقنکم وفیھا نعیدکم ومنھا نخرجکم تارۃً آخری۔ ہم نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ، پھر اسی میں لوٹائیں گے اور پھر اسی سے دوسری مرتبہ اٹھائیں گے یہاں پر بھی اللہ تعالیٰ نے یہی بات بیان فرمائی ہے کہ تمہاری قرار گاہ زمین کو بنایا گیا ہے جہاں تم ایک خاص وقت تک مستفید ہوگے نیز زمین کے علاوہ اور کوئی جگہ تمہارے رہنے کے لیے نہیں ہوگی اگر ہوگی تو محض عارضی ، وگرنہ تمہارا اصل ٹھکانا زمین ہی ہے آدمی بعض اوقات چند گھنٹوں کیلئے فضا میں پرواز کرتا ہے اور زمین سے اس کا تعلق منقطع ہوجاتا ہے مگر یہ عارضی علیحدگی ہوتی ہے بالآخر اسے زمین پر ہی واپس آنا ہوتا ہے اور اگر خدانخواستہ فضا میں کوئی حادثہ پیش آجائے انسان ہلاک ہوجائے اور اس کے اعضا منتشر ہوجائیں تب بھی اس کے بچے کھچے اجزا زمین پر ہی آتے ہیں ایسی چیزوں کی نوعیت عارضی ہوتی ہے ایسے شاذ واقعات کو عام قانون پر محمول نہیں کیا جاسکتا لہٰذا انسان کا اصل ٹھکانا زمین ہی ہے۔
موجودہ سائنسی دو میں لوگ لمبے عرصہ تک فضا میں پرواز کرتے رہتے ہیں بلکہ زمین سے قریب ترین سیارے چاند پر انسان پہنچ چکا ہے مگر یہ سب کچھ عارضی مدت کے لیے ہے اور جو شخص خلائی پرواز پر جاتا ہے وہ بالآخر زمین پر ہی واپس آتا ہے وہاں اس کی مستقل رہائش کا کوئی بندوبست نہیں ہوسکتا سائنسدانوں کے بیان کے مطابق چاند پر جانے کے لیے جس خلائی لباس کی ضرورت ہے وہ چار لاکھ روپے میں تیار ہوتا ہے کیونکہ چاند کے بعض حصوں میں اس قدر گرمی ہے کہ عام لباس میں انسان وہاں ایک منٹ بھی زندہ نہیں رہ سکتا فوراً جل کر کوئلہ بن جائے اسی طرح چاند کے بعض حصوں میں سردی انسان کے لیے ناقابل برداشت ہے پھر یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ چاند پر ایک پونڈ انسانی خوراک پہنچانے کے لیے تیس ہزار پونڈ خرچ آئے گا ظاہر ہے کہ ان حالات میں زمین سے باہر چاند پر بھی مستقل رہائش ناممکن ہے چہ جائیکہ باقی سیاروں مریخ وغیرہ کی بات کی جائے جو زمین سے کروڑوں میل دور ہیں اور جن کی سائنس دان ابھی تک محض تصویر کشی ہی کر پائے ہیں مفسر قرآن علامہ شبیر احمد عثمانی (رح) اس آیت کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ خرق عادات کے طور پر کسی کا زمین سے باہر ہونا اس آیت کے منافی نہیں ہے کیونکہ یہ تو عام انسان کی بات ہے کہ زمین کے علاوہ اس کا کہیں ٹھکانا نہیں بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) اس وقت دوسرے آسمان پر اقامت پذیر ہیں اور جیسا کہ معراج کے واقعہ میں آتا ہے حضور ﷺ کی ان سے ملاقات بھی ہوئی مگر یہ اللہ تعالیٰ کی خاص مصلحت کے تحت ہوا ہے اور پھر بالآخر ایک مدت کے بعد انہیں بھی زمین پر واپس آنا ہے یہیں فوت ہوں گے اور اسی مٹی میں دفن ہوں گے۔
زندگی موت اور بعثت
تیسری بات اللہ تعالیٰ نے یہ بیان فرمائی قال فھا تحیون تم اسی زمین میں زندہ رہو گے یہی مشقت اور عملی زندگی ہے اسی زندگی میں ا پنا اصل مقام جنت حاصل کرنے کی سعی کرنا ہوگی وفیھا تموتون اپنی زندگی کی مدت پوری کرنے کے بعد اسی زمین میں تمہاری موت واقع ہوگی اور اسی میں دفن ہوگے جیسے دوسرے مقام پر فرمایا ” ثم اماتہ فاقبرہ (سورۃ عبس) پھر اس کو موت دی اور قبر میں دفن کرایا انسان کے لیے عام قانون یہی ہے کہ آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں ہابیل اور قابیل سے لے کر آج تک زمین میں ہی دفن ہوتے آرہے ہیں اگر کوئی شخص سمندر کی لہروں کی نذر ہوگیا ، جلا دیا گیا یا کسی درندے کے پیٹ میں چلا گیا پھر اس کے اجزا بالآخر زمین ہی کا حصہ بنتے ہیں اور جیسا کہ پہلے عرض کیا اس قسم کے واقعات بہت قلیل ہوتے ہیں اس لیے عام کے حکم میں کوئی فرق نہیں پڑتا اور انسان کا تعلق کسی نہ کسی طرح زمین سے قائم رہتا ہے۔
فرمایا تم اسی زمین میں زندہ رہو گے اسی میں مرو گے ومنھا تخرجون اور پھر اسی زمین سے دوبارہ نکالے جائو گے جب دوسری دفعہ صور پھونکا جائے گا تو تمام مردے اٹھ کھڑ ہوں گے اور میدان حشر میں جمع ہوجائیں گے اس کے بعد محاسبے کا عمل شروع ہوگا یہ زمین ختم ہوجائے گی ” یوم تبدل الارض غیر الارض “ (ابراہیم) پھر اس کی جگہ نئی زمین لائی جائے گی پل صراط کی منزل اور محاسبے کے دوسرے معاملات اس نئی زمین پر طے ہوں گے اور پھر وہاں سے ابدی ٹھکانے جنت الماویٰ تک پہنچیں گے جہاں سے آدم (علیہ السلام) کو نکالا گیا تھا۔