7. Surah Al-A'raaf

الأعرافThe Heights · 206 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 7:100–102

اَوَ لَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ١ۚ وَ نَطْبَعُ عَلٰى قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 7:100 in the Quran reader

کیا نہیں واضح ہوا ان لوگوں کے لئے جو وارث ہوتے ہیں زمین کے اس کے اہل کے ہلاک ہونے کے بعد ، کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو مبتلائے مصیبت کردیں ان کے گناہوں کی وجہ سے ، اور مہر مہر کردیں ان کے دلوں پر ، پس وہ لوگ نہیں سنتے

تِلْكَ الْقُرٰى نَقُصُّ عَلَیْكَ مِنْ اَنْۢبَآئِهَا١ۚ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَیِّنٰتِ١ۚ فَمَا كَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ١ؕ كَذٰلِكَ یَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰى قُلُوْبِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 7:101 in the Quran reader

یہ بستیاں میں ہم بیان کرتے ہیں تجھ پر ان کے کچھ حالات اور البتہ تحقیق ان کے پاس ان کے رسول واضح باتیں لے کر آئے۔ پس نہیں تھے وہ لوگ کہ ایمان لاتے اس چیز پر جس کو انہوں نے پہلے ہی جھٹلا دیا تھا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ مہر کردیتا ہے۔ کافروں کے دلوں پر

وَ مَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ١ۚ وَ اِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ Open ayah 7:102 in the Quran reader

اور نہیں پایا ہم نے ان میں سے اکثروں کے لئے کوئی عہد اور بیشک پایا ہے ہم نے ان میں سے اکثروں کو نافرمان

ربط آیات گزشتہ چند رکوع میں اللہ تعالیٰ نے تاریخ انبیاء کے سلسلے میں اپنچ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کا حال بیان فرمایا ان قوموں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور اللہ کی ناشکر گزاری کا ثبوت دیا جس کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا اور وہ دنیا سے ناپید ہوگئے اب اللہ تعالیٰ نے ان پانچ اقوام کی مجموعی حالت پر تبصرہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سے مواقع فراہم کیے مگر انہوں نے ان سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا انہوں نے اپنی پیش رو اقوام کے انجام سے کوئی سبق نہ سیکھا اور خود بھی ہلاک ہوئے ان واقعات میں امت آخرالزمان کو تسلی بھی دی گئی ہے اور انہیں نصیحت بھی کی گئی ہے کہ وہ ان حالات سے ضرورت فائدہ اٹھائیں اور ان اقوام کے کردار کو نہ اپنائیں جو کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت کا شکار ہوئیں اس تبصرے کے بعد آیات کا ربط پھر تاریخ انبیاء کے ساتھ ہوجائے گا اور پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی قوم کا تفصیل کے ساتھ ذکر آئے گا۔ مقام عبرت ارشاد ہوتا ہے اولم یھد للذین یرثون الارض من بعد اھلھا کیا واضح نہیں ہوئی ان لوگوں کے لیے جو زمین کے وارث بنے اس کے اہل کی ہلاکت کے بعد۔ یھد کا عام فہم معنی ہدایت دینا یا راہ دکھانا ہے مگر یہاں پر مطلب ہے اولم یتبین یعنی کیا نئی آنے والی اقوام پر سابقہ قوموں کی ہلاکت سے یہ بات واضح نہیں ہوئی ان تونشاء اصبنھم بذنوبھم کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں بھی مبتلائے مصیبت کردیں سابقہ لوگوں کے حالات بیان کرکے موجودہ لوگوں کو عبرت دلانا مقصود ہوتا ہے کہ دیکھو ! ان لوگوں نے کس طرح خدا تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کی ، انبیاء کو جھٹلایا اور اپنی ضد پر اڑے رہے تو اللہ تعالیٰ نے تباہ و برباد کردیا لہٰذا تم ان کے نقش قدم پر نہ چلنا ورنہ تمہارا انجام بھی ان سے مختلف نہیں ہوگا۔ زمین کا وارث بنانے سے مراد یہ ہے کہ جن مکانوں میں پہلے لوگ رہتے تھے اور جس زمین پرکھیتی باڑی اور کاروبار کرتے تھے ان پر ہم نے تمہارا تصرف قائم کردیا گویا تم ہی ان کے وارث بنے ہو۔ یہ تو عام قولہ ہے کہ ” اگلا گرا تو پچھلا ہوشیار ہوگیا “ کہ جونسی غلطی کرکے یہ گرا ہے اس کو میں نہ دہرائوں مگر عام طور پر اقوام عالم کی ذہنیت یہی رہی ہے کہ انہوں نے پہلی قوموں کے حالات سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ چاہئے تو یہ تھا کہ پچھلے آنے والے اس بات پر غور کرتے کہ پہلوں کی تباہی کی کیا وجہ تھی تاکہ اس سے بچ جاتے مگر تاریخ گواہ ہے کہ پچھلے بھی اگلوں کی راہ پر ہی اسی طرح تباہی کے گڑھ میں گرے جس طرح پہلے گرے تھے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اقوام عالم کے حالات کا تجزیہ کرتے فرماتے ہیں کہ عام طور پر یہ لوگ تین قسم کے حجابات میں مبتلا ہو کر غفلت کا شکار ہوتے رہے ہیں اور پھر خدا تعالیٰ کی گرفت کا شکار ہوئے ہیں پہلا حجاب حجاب طبع ہے۔ انسان مادی تقاضوں یعنی اپنے جسمانی لوازمات کی تکمیل میں ہی مصروف رہے۔ انہیں کھانے پینے ، کام کاج ، چلنے پھرنے اور میل ملاقات سے ہی فرصت نہ ملی۔ انہوں نے عجائبات قدرت کی طرف غور ہی نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہ کی اور جسمانی تقاضوں کو ہی پورا کرتے رہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں جاب کی دوسری قسم حجاب رسم ہے۔ اکثر لوگ قوم ، قبیلہ ، برادری ، محلہ یا گائوں کی رسم و رواج میں ہی زندگی گزار دیتے ہیں۔ حقیقی زندگی کی طرف ان کی توجہ مبذول ہی نہیں ہوتی۔ نہ انہوں نے فکر کو پاک کیا ، نہ فرائض کو سمجھا بلکہ شادی بیاہ ، کھیل کود اور دیگر رسومات میں ہی پھنسے رہے اور زندگی میں ناکام ہوگئے۔ شاہ صاحب (رح) کی اصلاح میں تیسرا حجاب سوء معرفت ہے۔ یعنی انہوں نے خدا تعالیٰ کی ذات کو صحیح طور پر پہچانا ہی نہیں۔ ایسے لوگ خدا تعالیٰ کے متعلق غلط قسم کا عقیدہ قائم کرکے حجاب سوء معرفت میں مبتلا رہتے ہیں۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ حجاب سوء معرفت کے مصداق دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔ پہلی قسم یہ ہے کہ لوگ تشبیہ میں مبتلا ہوجاتے یعنی اللہ تعالیٰ کے لیے وہ صفات ثابت کرتے ہیں جو مخلوق کا خاصہ ہے۔ عیسائیوں نے ولدیت اور انبیت کا عقیدہ خدا کے لیے ثابت کیا اور کہا مسیح (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں۔ یہودیوں نے عزیز (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا تسلیم کرلیا اور اس طرح مخلوق کی صفات خدا کی ذات میں مان کر عقیدہ تشبیہ میں مبتلا ہوئے اور دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو خدا تعالیٰ کی صفات خاصہ مخلوق میں مان کر شرک کے مرتکب ہوئے خدا کے علاوہ دوسروں کو بھی عالم الغیب علم کل ، قادرِ مطلق اور مختار کل تسلیم کیا ، کبھی انبیاء کو پکارا کبھی جنات اور فرشتوں کی دہائی دی کبھی اولیا اللہ سے استعانت طلب کی ، کسی سے مراد پوری کرائی ، کسی سے حاجت روائی کرائی اور جو تعظیم خدا تعالیٰ کے ساتھ مختص تھی وہی دوسروں کے سامنے بھی کرنے لگے ، یہی شرک ہے اور اسی کے ارتکاب سے حجاب سوء معرفت کا شکار ہوئے۔ گویا شاہ صاحب نے تین حجابات کا ذکر کیا ہے جن میں مبتلا ہو کر اکثر اقوام قہر الٰہی کا نشانہ بنیں۔ فرمایا اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کی وجہ سے انہیں مبتلائے مصیبت کردیں۔ پہلی قوموں کو بھی اللہ نے ان کے گناہوں کی وجہ سے ہی متتلا مصیبت کیا تھجا۔ سورة کہف میں فرمایا ” وتلک القری اھلکنھم لما ظلمو “ یہی وہ تباہ شدہ) بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ان کے گناہوں (کفر و شرکت وغیرہ) کی وجہ سے ہلاک کیا۔ سورة ابراہیم میں ہے۔ وسکنتم فی مسکن الذین ظلمو انفسھم وتبین لکم کیف فعلنا پھم تم انہی لوگوں کے ٹھکانوں میں رہائش پذیر ہوئے جنہوں نے اپنی جانوں پر ظلم کیا تھا اور تمہارے لیے یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ ہم نے ان کے ساتھ کیا سلوک کیا ” وضربنا لکھم المثال “ اور ہم نے تمہارے لیے طرح طرح کی مثالیں بیان کیں۔ پہلی قوموں کی ہلاکت کے یہی اسباب ہیں۔ جن پانچ قوموں کا ذکر گزشتہ دروس میں ہوچکا ہے وہ اپنے گناہوں کی وجہ سے ہی ہلاکت کے گڑھے میں گریں مگر اکثر لوگوں نے ان تاریخی واقعات سے فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ پہلے لوگوں کی طرح خرمستیوں میں پڑے اور حجابات کا شکار رہے۔ دنیا میں عروج وزوال کی داستانیں بار بار دہرائی جاتی ہیں مگر کتنے لوگ ہیں جو ان سے عبرت حاصل کرتے ہیں ہمارے ملک کے لوگوں نے سقوط ڈھا کہ سے کیا عبرت حاصل کی۔ آدھا ملک کٹ گیا ، کتنے لوگ ہلاک ہوئے ، کتنے بےگھر ہوئے ، مگر پچھلوں نے اس سے کیا فائدہ اٹھایا۔ پھر وہی عیش و عشرت ، وہی نافرمانی ، وہی چال ڈھال ، کوئی فرق نہیں پڑا۔ اللہ تعالیٰ بار بار توجہ دلا رہے ہیں کہ سابق امتوں کے واقعات سے عبرت پکڑو اور ظلم و زیادتی اور نافرمانی سے باز آجائو۔ مقصد یہ کہ گناہ ایسی چیز ہے جس کی وجہ سے قوموں پر زوال آتا ہے ذلت چھا جاتی ہے۔ نظام بگڑ جاتا ہے اور پوری انسانی سوسائٹی خراب ہوجاتی ہے۔ جب اعتقادی اور عملی گناہوں کی فراوانی ہوجاتی ہے ، حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی گرفت آتی ہے۔ اگر گناہوں سے بچتے رہیں تو امن و سکون قائم رہتا ہے اور خدا کی طرف سے برکتیں اور رحمتیں نازل ہوتی ہیں۔ فرمایا اگر ہم چاہیں تو انہیں گناہوں کی وجہ سے مبتلائے مصیبت کردیں ونطبع علی قلوبھم فھم لایسمعون اور بطور سزا ان کے دلوں پر مہر لگا دیں۔ پس وہ لوگ نہیں سنتے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ پہلے گناہ پر ہی دل پر ٹھپہ نہیں لگتا بلکہ کوئی انسان جوں جوں برائی اختیار کرتا جاتا ہے اس کا دل سیاہ ہوتا جاتا ہے اور پھر آخر میں اس کے دل پر مہر لگا دی جاتی ہے جس کے نتیجہ میں اس کی صلاحیت اور استعداد ہی ختم ہوجاتی ہے۔ پھر اس کے نزدیک نیکی اور برائی میں کوئی تمیز نہیں رہتی اور برائیوں میں بڑھتا ہی چلا جاتا ہے سورة بقرہ کی ابتدا میں بھی فرمایا ہے ” ختم اللہ علیٰ قلوبھم “ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور اب ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔ جب کسی کے دل پر ٹھپہ لگ جاتا ہے تو وہ دل سخت ہوجاتا ہے جو کہ بہت ہی خطرناک بیماری ہے۔ سورة بقرہ ہی میں بنی اسرائیل کے متعلق فرمایا ” ثم قست قلوبکم من بعد ذلک “ پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے ” کا لحجارۃ اواشد فسوۃ “ پھر یہ پتھر یا اس سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔ اب ایسے دل میں نیکی کی کوئی بات داخل نہیں ہوسکتی او آدمی ہلاک ہوجاتا ہے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ان بعد شئی من اللہ القلب القاسی یعنی اللہ تعالیٰ سے دور رہنے والی چیزوں میں سب سے دور وہ دل ہے جو سخت ہے۔ خدا سے دوری کا مطلب کوئی مسافت کی دوری نہیں بلکہ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ انسان پر غفلت کے دبیز پردے پڑجاتے ہیں اور انسان خدا تعالیٰ کی ذات ، صفات اور توحید کو سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہوجاتا ہے۔ دل کو سختی سے بچانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ نسخہ بیان فرمایا ہے۔ ” واذکر ربک فی نفسک تضرعا وخیفۃ ودون الجھرمن القول بالغذو والاصال ولاتکن من العفلین “ (اعراف :205) اے لوگو اپنے رب کو صبح و شام اپنے دل میں گڑگڑاتے ہوئے اور اس سے ڈرتے ہوئے پست آواز سے یاد کرتے رہو۔ اور دیکھو اس سے غافل نہ ہونا فرمایا القری یہ بستیاں ہیں نقص علیک من انبائھا ہم آپ پر بیان کرتے ان کی خبروں میں سے کچھ۔ تمام حالات نہیں بلکہ ان میں بعض حالات بیان کرتے ہیں۔ یہاں من تبعیضیہ ہے دوسری جگہ آتا ہے ” ومنھم من لم نقصص علیک “ ان میں سے بعض واقعات ایسے ہیں جو ہم نے بیان نہیں کیے۔ ویسے اجمالاً فرما دیا کہ ہم نے بشارت دینے والے اور ڈرانے والے نبی بھیجے مگر اللہ نے ہر ایک کی تفصیل ذکر نہیں کی کہ ہر ایک کے ساتھ کس قسم کے حالات پیش آئے۔ البتہ اتنی بات واضح کردی کہ اللہ کے ہر نبی نے خدا کا پیغام اپنی امت تک پہنچایا اور انہیں پوری پوری نصیحت کردی مگر اکثر وبیشتر لوگوں نے تسلیم نہیں کیا عاد وثمود جیسی قوموں کے کھنڈرات سے ان کی تہذیب کا کچھ پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قسم کے لوگ تھے۔ ہمارے ہاں ٹیکسلا میں پرانی گندھارا تہذیب کے آثار موجود ہیں۔ کھدائی کے دوران نکلنے والے برتن اور اوزار سے پتہ چلتا ہے کہ ان لوگوں کا تذہیب و تمدن کیسا تھا۔ اب تو ٹیکلا چھوٹی سی بستی ہے مگر آج سے تقریباً تین ہزار سال پہلے یہ شہر میلوں میں پھیلا ہوا تھا۔ یہ مہاتما بدھ کے زمانے کی تہذیب ہے جو کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے بھی پانچ سو سال پہلے ہوئی ہے۔ اس دور میں موجودہ پشاور پر شادری کہلاتا تھا اسی طرح سندھ میں منجودھاڑو کے مقام پر پانچ ہزار سال پرانی تہذیب کے آثار ملے ہیں۔ ادھر عراق میں آشوریو کی تہذیب کا پتہ چلتا ہے۔ مصر کے عجائبات تو مشہور و معروف یہں۔ یہ سب پرانی تہذیبیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں نیست و نابود کردیا۔ اللہ نے فرمایا کہ ان میں سے ہم نے بعض کے کچھ حالات بیان کردیئے ہیں تاکہ لوگ عبرت پکڑیں۔ فرمایا ولقد جاء تھم رسلھم بالبیکنت البتہ ان بستیوں اور قمھوں کے ساس ہمارے رسول آئے واضح باتیں لے کر اللہ تعالیٰ نے مجملاً بتا دیا ہے کہ ہمارے رسول ہمارا پیغام لے کر ان پرانی اقوام کی طرف آئے بینہ سے عام طور پر معجزہ مراد لیتے ہیں۔ تاہم یہ لفظ دلیل کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے جیسے فرمایا ان فی ذلک لایت اسی طرح قرآن پاک میں احکام کو بھی بینات کہا گیا ہے اللہ تعالیٰ کے احکام بڑے واضح ہوتے ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا واقعہ سورة یونس میں موجود ہے۔ آپ نے قوم سے فرمایا ، میری باتیں اچھی طرح سن لو ثم لایکن امرکم علیکم غمۃ اب کوئی چیز مخفی نہیں رہنی چاہئے۔ میں واضح باتیں کر رہا ہوں۔ بینہ سے خود نبی کی ذات بھی مراد ہوتی ہے اور احکام اور دلائل بھی۔ امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کا آنا چوتھے درجے میں ہوتا ہے سب سے پہلے انسان کی فطرت سلیمہ پر پیدائش ہے۔ پھر اس کے ساتھ ملا اعلیٰ کی توجہ اور ان کی دعائیں یا بددعائیں انسان کے ساتھ شامل ہوجاتی ہیں پھر شرائع مکتوبہ نازل ہوتے اور اس کے بعد چوتھے نمبر پر نبی آتا ہے جو تمام باتوں کو واضح کردیتا ہے۔ اس کے بعد حجت تمام ہوجاتی ہے۔ لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ بعد الرسل “ (النسائ) رسول آنے کے بعد خدا تعالیٰ کے سامنے کوئی عذر باقی نہیں رہتا۔ اللہ کا نبی توحید اور شرک ، اچھائی اور برائی ، حلال اور حرام ، ایمان اور کفر ، اخلاص اور نفاق ہر چیز کو واضح کردیتا ہے۔ اس کے بعد جو لوگ نافرمانی کرتے ہیں وہ اللہ کے غضب کا نشانہ بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ” وما کنا معذبین حتی نبعت رسولا “ (بنی اسرائیل) ہم اس وقت تک سزا نہیں دیتے جب تک رسول بھیج کر اپنی حجت تمام نہ کردیں۔ مفسر قرآن مولانا عبید اللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ قرآن پاک میں بینات اور ہدی دو مختلف چیزیں بیان کی گئی ہیں۔ سورة بقرۃ میں آتا ہے۔ ” ان الذین یکتمون ما انزلنا من البینھت والھدی “ بینات سے مراد واضح باتیں ہیں جن کو ہر انسان بغیر محنت اور کاوش کے آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ جیسے توحید جو بغیر کاوش کے سمجھ میں آجاتی ہے خدا تعالیٰ کا شکر ، صبر ، عبادت وغیرہ ایسی چیزیں ہیں جو ذرا سی توجہ سے انسانی عقل میں آجاتی ہیں اور ہدایت سے مراد باریک باتیں ہیں جو بغیر کاوش کے انسانی فہم میں نہیں آتیں اور ان کے لیے استاذ اور رہنما کی ضرورت ہوتی ہے جیسے تعظیم شعائر اللہ ، حلال و حرام کی تمیز وغیرہ ہدیٰ میں شامل ہیں۔ جنہیں نبی یا استاذ سمجھاتا ہیغ۔ فرمایا ہمارے رسول ان کے پاس واضح باتیں لے کر آئے فما کانو لیئو منو بما کذبوا من قبل وہ لوگ اس چیز پر ایمان لانے والے نہیں تھے جسے وہ پہلے جھٹلا چکے تھے۔ جب اللہ کے نبی نے خدا کا پیغام پہلی دفعہ پہچایا اور امت نے نہ مانا تو پھر کتنے بھی دلائل و شواہد پیش کیے ان لوگوں نے نہ مانا مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ کافر لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے درخواست کریں گے کہ ہمیں واپس دینا میں لوٹا دیا جائے ہم نیکی اختیار کریں گے مگر اللہ فرمائیں گے ولو ردوا لعادو لما نھوا عنۃ “ (الانعام “ اگر ان کو واپس لوٹا دیا جائے تو پھر بھی وہی کچھ کریں گے جن سے انہیں منع کیا گیا تھا۔ یہ ضدی لوگ ہی ، اللہ تعالیٰ ان کی مخفی استعداد سے واقف ہے کہ واپس جا کر یہ کیا کریں گے فرمایا کذلک یطبع اللہ علی قلوب الکفرین اسی طرح اللہ تعالیٰ کافروں کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیتا ہے۔ ان کے ضد ، عناد اور تعصب کی بنا پر ان کے دل سربمہر کردیئے جاتے ہیں۔ فرمایا وما وجدنا لاکثرھم من عہد ہم نے ان کی اکثریت میں کوئی عہد نہیں پایا۔ یعنی اکثر لوگوں نے عہد کی وفا نہیں کی۔ اس جہان میں آنے سے پہلے سب نے اللہ تعالیٰ سے عہدالست کیا تھا کہ مولا کریم تو ہی ہمارا رب ہے پھر انبیاء (علیہم السلام) آکر اس عہد کی یاد دہانی کراتے رہے کہ جو کوئی اس عہدو پیمان کو توڑے گا ، اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آئے گا مگر ان میں سے اکثروں نے عہد سے وفا نہ کی اس دنیا میں آکر بھی انسان ایک عہد کرتا ہے ہر کلمہ گو دو باتوں کا عہد کرتا ہے ایک یہ کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور دوسرا یہ کہ حضرت محمد ﷺ کے برحق رسول ہیں میں ان کا اتباع کروں گا مگر افسوس کا مقام ہے کہ اکثر لوگ ان دونوں عہدوں کو فراوش کردیتے ہیں اور ان کے خلاف چلتے ہیں نہ اللہ تعالیٰ کی توحید پر پختہ رہتے ہیں اور نہ اللہ کے نبی کی اطاعت پر قائم رہتے ہیں اسی لیے فرمایا کہ ہم نے بہتوں کو عہدشکن ہی پایا۔ فسق کی تین اقسام فرمایا ایک تو ہم نے اکثریت کو عہد کی خلاف ورزی کرتے پایا وان وجدنا اکثرھم لفسقین اور دوسری بات یہ کہ ہم نے ان میں سے اکثر لوگوں کو نافرمان ہی پایا اب فسق یا نافرمانی کی تین قسمیں ہیں جن میں سے کسی نہ کسی قسم میں اکثر لوگ مبتلا ہوتے ہیں پہلی قسم کا نافرمان وہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے احکام کا صریحاً انکار کرتا ہے اللہ کے نبیوں کا جھوٹا کہتا ہے ایسا آدمی کافر ہوتا ہے یہ بھی فاسق کے زمرے میں داخل ہے دوسرا فاسق وہ ہے جو زبان سے تو تسلیم کرتا ہے مگر دل سے انکار کرتا ہے اس کو عام اصطلاح میں اعتقادی منافق کہتے ہیں اور یہ بھی فاسق ہے تیسرا فاسق وہ ہے جو دل و زبان سے اقرار کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ، اس کے رسولوں کی رسالت کتب سماویہ اور معاد پر ایمان رکھتا ہے مگر عمل نہیں کرتا یہ عملی منافق ہے اور آج ایسے لوگوں سے دنیا بھری پڑی ہے اعتقادی منافق کی نسبت عملی منافقوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ہر چیز کو مانتے ہوئے اس پر عمل نہیں کرتے نماز کی فرضیت کو تسلیم کرتے ہیں مگر پڑھتے نہیں عدل کو ضروری سمجھتے ہیں مگر حکومت کی کرسی پر بیٹھ کر اس سے پہلوتہی کرتے ہیں زبان سے اقرار کرتے ہیں اور دل سے رسومات کو برا سمجھتے ہیں مگر ایسے مجبور ہیں کہ ان کو انجام بھی دیے جا رہے ہیں تو فاسق کی تعریف میں یہ تینوں گروہ آتے ہیں جن کے متعلق فرمایا کہ ہم نے ان میں سے اکثریت کو فسق کے درجے میں پایا۔ اللہ تعالیٰ نے پانچ اقوام کے حالات ذکر کرنے کے بعد اس درس میں ان پر بحیثیت مجموعی تبصرہ فرمایا ہے آگے پھر سلسلہ کلام تاریخ انبیاء کے ساتھ منسلک ہوجائے گا اور چھٹے نبی اور ان کی قوم کا حال بیان ہوگا دو دور اس سے پہلے گزر چکے ہیں اب تیسرے دور کے حالات تفصیل کے ساتھ بیان ہوں گے۔
Ayahs 7:103–108

ثُمَّ بَعَثْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ مُّوْسٰى بِاٰیٰتِنَاۤ اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡئِهٖ فَظَلَمُوْا بِهَا١ۚ فَانْظُرْ كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 7:103 in the Quran reader

پھر بھیجا ہم نے ان (انبیاء اور ان کی قوموں) کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سربرآوردہ لوگ کے پاس پس انہوں نے ظلم کیا ان (نشانیوں) کے ساتھ پس دیکھو کیسا پس انہوں نے ظلم کیا ان (نشانیوں) کے ساتھ۔ پس دیکھو کیسا ہوا انجام فساد کرنے والوں کا

وَ قَالَ مُوْسٰى یٰفِرْعَوْنُ اِنِّیْ رَسُوْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 7:104 in the Quran reader

اور کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے اے فرعون ! بیشک میں بھیجا ہوا ہوں رب العلمین کی طرف سے

حَقِیْقٌ عَلٰۤى اَنْ لَّاۤ اَقُوْلَ عَلَى اللّٰهِ اِلَّا الْحَقَّ١ؕ قَدْ جِئْتُكُمْ بِبَیِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَرْسِلْ مَعِیَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَؕ Open ayah 7:105 in the Quran reader

اور میں سزا وار ہوں اس بات کا کہ میں نہ کہوں اللہ پر مگر حق تحقیق میں لایا ہوں تمہارے پاس کھلی نشانی تمہارے رب کی طرسے۔ پس بھیج دو میرے ساتھ بنی اسرائیل کو

قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَةٍ فَاْتِ بِهَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ Open ayah 7:106 in the Quran reader

کہا فرعون نے اگر تو لایا ہے کوئی نشانی تو لا اس کو اگر تو سچا ہے

فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌۚۖ Open ayah 7:107 in the Quran reader

پس ڈالا موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی کو ، پس اچانک وہ ایک بڑا اژدھا بن گیا

وَّ نَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ۠ Open ayah 7:108 in the Quran reader

اور نکالا انہوں نے اپنے ہاتھ کو ، پس اچانک وہ سفید تھا دیکھنے والوں کے لئے

ربط آیات اس سے اللہ تعالیٰ نے پانچ انبیا (علیہ السلام) اور ان کی قوموں کا حال بیان کرکے حضور ﷺ اور آپ کے پیرو کاروں کو جرات دلائی اور تسلی دی کہ ان قوموں کا حال پیش نظر رکھو اور تبلیغ دین کے لیے مستعد ہوجائو۔ پھر اللہ نے درمیان میں اقوام عالم کی عمومی ذہنیت کا ذکر کیا اور اللہ کی وہ سنت اور دستور بیان کیا جس کے تحت نافرمانوں کو سزا ملتی ہے اور اطاعت گزاروں کو فلاح نصیب ہوتی ہے اب اس درس سے تاریخ انبیا ہی کے سلسلے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان لوگوں کا ذکر شروع ہورہا ہے جن کی طرف آپ کو مبعوث کیا گیا تو یہاں سے کافی دور تک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آپ کی قوم بنی اسرائیل اور فرعون اور اس کی قوم کے لوگوں کا حال بیان ہوگا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تک صابی دور تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے حنیفی دور شروع ہوا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے تقریباً سات سو سال بعد اور حضرت یوسف (علیہ السلام) سے تقریباً چار سو سال بعد مبعوث ہوئے۔ اس لحاظ سے آپ حنیفی آئمہ میں سے عظیم المرتبت امام ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی بعثت کا تذکرہ اس طرح کیا ہے ثم بعثنا من بعدھم موسیٰ پھر ہم نے ان کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا ان سے مراد وہ پانچ انبیا علہیم السلام اور ان کی اقوام ہیں جن کا ذکر تبلیغ رسالت کے ضمن میں ہوچکا ہے ہم نے موسیٰ علیہ السلا ام کو بھیج بایتنا اپنی نشانیاں دے کر۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کل نو نشانیاں یا معجزات عطا کیے تھے جن میں سے دو کا ذکر اس مقام پر ہے ، چھ معجزات کا ذکر آگے آئے گا اور ایک کا ذکر سورة یونس میں آتا ہے تو فرمایا ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو واضح نشانیوں کے ساتھ بھیجا الی فرعون وملائہ فرعون اور اس کے سربرآوردہ لوگوں کی طرف موسیٰ (علیہ السلام) کی امت دعوت قبطی لوگ اور ان کا بادشاہ فرعون تھا جو مصر میں برسراقتدار تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت میں ان کی اپنی قوم بنی اسرائیل بھی تھی جو کہ آپ کو ماننے والی امت اجابت تھی۔ مصر کی تاریخ میں کئی دور گزرے ہیں وہاں پر سولہ سو سال تک فراعین کو عروج حاصل رہا۔ مصر میں چار تاریخی ادوار گزرنے کے بعد پانچواں دور مسلمانوں کا آیا جب صحابہ کرام ؓ کے زمانے میں مصر فتح ہوا۔ لفظ فرعون لفظ ” فرعون “ کے مادہ اشتقاق میں مفسرین کا اختلاف ہے بعض فرماتے ہیں کہ فرعون تفرع سے مشتق ہے جس کا معنی تکبر کرنا ہے چونکہ فرعون بڑا مغرور اور متکبر آدمی تھا اس لیے وہ اس نام سے مشہور ہوا تفسیر حقانی میں فرعون کا مادہ اشتقاق فروع بتایا گیا ہے اور مصری زبان میں اس کا معنی بڑا بادشاہ ہے فرعون اپنے آپ کو بڑا رب انا ربکم الاعلیٰ (النزعت) کہلاتا تھا۔ اس لیے یہ فرعون کے نام سے موسوم ہوا فرعون کا معنی دیوتا بھی ہوتا ہے بعض فرماتے ہیں کہ فرعون کو سورج کا مظہر قرار دیا جاتا تھا صابیوں کے دور میں ستاروں کی پرستش ہوتی تھی اور ان کے نام پر مندر بھی بنے ہوئے تھے۔ جس طرح ہندو مختلف مظہر اور اوتار مانتے ہیں اسی طرح فرعون کو سورج کا اوتار مانا جاتا ہے بہرحال لفظ فرعون کا معنی کچھ بھی کیا جائے یہ مصر کے بادشاہوں کا لقب تھا اور سارے مصری بادشاہ اسی لقب سے ملقب ہوئے تھے بعد میں قبطی اپنے بادشاہ کو مقوقس بھی کہتے تھے۔ اس قسم کے شاہانہ القاب باقی دنیا میں پائے جاتے تھے جیسے ہندوستان میں بادشاہ کو راجہ کہتے تھے چین میں خاقان ، ایران کا بادشاہ کسری کہلاتا تھا جب کہ رومی اپنے بادشاہ کو قیصر کہتے تھے بہرحال مصر کے بادشاہ کا اصل نام مصعب ابن ریان یا اعمیس تھا بعض کہتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے دو مختلف بادشاہوں کا زمانہ پایا۔ یعنی آپ کی پرورش کرنے والا فرعون اور تھا اور غرق ہونے والا دوسرا تاہم زیادہ مشہور یہی ہے کہ وہ امیس ہی تھا جس کے عہد حکومت میں موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اسی کے ساتھ آپ کے بحث مباحثے ہوتے رہے اور وہی غرق ہوا۔ اسی کو قرآن پاک میں فرعون کا نام دیا گیا ہے۔ معجزات کا انکار جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور اس کے حاریوں کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ میں تمہارے پاس اپنے رب کی طرف سے نشانیاں یا معجزات لے کر آیا ہوں فظلموبھا تو انہوں نے ان نشانیوں کا انکار کردیا اور کہا یہ تو جادو ہے ، ظلم کا عام فہم معنی زیادتی ہے اور اس سے مراد شرک اور کفر ہے۔ ظلم عدل کے مقابلے میں ناانصافی کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ قتل ، حق تلفی اور فتنہ و فساد سب ظلم کی تعریف میں آتے ہیں یہاں پر ظلم سے مراد انکار ہے یعنی فرعون اور اس کے سراروں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے لائے ہوئے معجزات کو تسلیم کرنے سے انکار کردای۔ تو فرمایا فانظرکیف کان عاقبۃ الفمسدین دیکھو ! فساد کرنے والوں کا کیسا انجام ہوا انبیا (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کے سفیر ہوتے ہیں وہ بنی نوع انسان کے بےلوث خیر خواہ اور ان کے لیے نمونہ ہوتے ہیں وہ ایمان ، تقویٰ اور نیک اعمال کی طرف دعوت دیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو شخص ان انبیاء کا انکار کرتا ہے ان کے لائے ہوئے معجزات کو جھٹلاتا ہے ان کو ایذا پہنچاتا ہے اس سے بڑھ کر فسادی کون ہوسکتا ہے۔ ایسے لوگوں کا انجام وہی ہوتا ہے جو فرعون اور اس کی قوم کا ہوا۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا دیکھو ! فساد کرنے والوں کا کیا انجام ہوا۔ فرعون سے خطاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اس طرح دعوت پیش کی وقال موسیٰ یفرعون انی رسول من رب العلمین اے فرعون میں تمام جہانوں کے پروردگار کی طرف سے رسول بناکر بھیجا گیا ہوں دوسرے مقام پر حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) دونوں کا ذکر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کو فرعون کی طرف بھیجا اور فرمایا خرف نہ کھائو ، میں تمہارے ساتھ ہوں فقرلا انارسولا ربک (طہ) انہوں نے کہا ہم دونوں تیرے سب کے رسول ہیں یہاں پر صرف موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ہے کہ انہوں نے فرعون سے ا پنا تعارف کرا کے یہ بھی فرمایا حقیق علی ان لا اقول علی اللہ الا الحق میں اس بات کا سزاوار ہوں کہ اللہ تعالیٰ پر حق کے سوا کچھ نہ کہوں۔ حقیق حق کے مادے سے ہے اور اس کا معنی ثابت ہونا یا قائم ہونا بھی ہوتا ہے۔ اسی لیے حضرت مولانا شی ، الہند (رح) اس آیت کا ترجمہ کرتے ہیں میں قائم ہوں اس بات پر ” کہ اللہ کے بارے میں وہی بات کہوں جو کچی ہے اور کوئی غلط بات اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب نہ کروں۔ جھوٹی بات منسوب کرنا تو کذاب کا کام ہوتا ہے اللہ کا نبی سچا ہوتا ہے وہ کبھی جھوٹی بات نہیں کرتا۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے کہا کہ میں اس بات کے لائق ہوں کہ اللہ تعالیٰ پر حق کے سوا کچھ نہ کہوں۔ معجزہ اور کرامت آپ نے یہ بھی فرمایا قدجتکم ببینۃ من ربکم میں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے واضح نشانی لے کر آیا ہوں اس نشانی سے دین ، شریعت ، ایمان ، معجزہ وغیرہ مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں پر دو واضح نشانیاں یعنی معجزات کا ذکر کیا ہے جو موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کے پاس لے کر گئے تھے معجزہ اس لیے معجزہ کہلاتا ہے کہ وہ انسان کے بس میں نہیں ہوتا اور انسان اس سے عاجز ہوتے ہیں۔ معجزہ طبعی امور میں سے نہیں ہوتا بلکہ خارق عادت چیز ہوتی ہے یہ ایسی غیر معمولی اور خلاف طبع چیز ہوتی ہے جس کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا اور انسان مجبور ہوجاتا ہے لہٰذا انسان کا فرض ہے کہ جب کوئی معجزہ دیکھے تو اس کو تسلیم کرلے اس کا انکار نہ کرے۔ اگر کوئی خارق عادت چیز نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہو تو معجزہ کہلاتی ہے اور اگر ولی سے ظاہر ہو تو اسے کرامت کہتے ہیں تاہم یاد رکھنا چاہیے کہ معجزہ یا کرامت غیر اختیاری چیز ہے کسی نبی یا ولی کے اختیار میں نہیں ہوتا کہ جب چاہے کوئی معجزہ یا کرامت ظاہر کردے۔ سورة مومن میں موجود ہے ” وما کان لرسول ان یاتی بایۃ الا باذان اللہ “ کسی رسول کے بس میں نہیں کہ اللہ کے حکم کے سوا کوئی معجزہ پیش کرسکے امام شاہ ولی (رح) محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اکثر لوگ نبی یا ولی کے ہاتھ پر معجزہ یا کرامت دیکھ کر اسے ان کا ذاتی فعل سمجھتے ہیں اور اس طرح شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں حالانکہ معجزہ یا کرامت اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے جو وہ نبی یا ولی کے ہاتھ پر ظاہر کرکے ان کو عزت بخشتا ہے نصاریٰ اسی مقام پر آکرگمراہ ہوئے انہوں نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے معجزات دیکھے تو ان کے متعلق الوہیت کا اعتقاد قائم کرلیا اور اس طرح شرک میں ملوث ہوگئے۔ بنی اسرائیل کی آزادی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تقریر فرعون کے سامنے جاری ہے آپ نے سب سے پہلے اپنا تعارف بحیثیت رسول کرایا ، پھر کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کے متعلق صرف حق بات کہنے پر مامور ہوں پھر بتایا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نشانیاں لے کر آیا ہوں اس کے بعد چوتھے نمبر پر آپ نے اپنا مدعا بیان کیا اور فرعون سے فرمایا فارسل معی بنی اسرائیل پس بھیج دے میرے ساتھ بنی اسرائیل کو انہیں اپنی غلامی سے نکال دے تاکہ میں ان کو مصر سے ان کے اصل وطن شام اور فلسطین لے جائوں حضرت یوسف (علیہ السلام) کا اصل وطن تو فلسطین تھا مگر مصر میں پہنچ کر اللہ نے آپ کو اقتدار بخشا اس زمانے میں آپ کے خاندان کے 70 یا 72 افراد تھے جنہیں یوسف (علیہ السلام) سے تعلق کی بنا پر بڑی عزت حاصل تھی تاہم آپ کے بعد وہاں کے مقامی قبطی لوگ ہی برسراقتدار آئے اور انہوں نے آہستہ آہستہ بنی اسرائیلیوں کو غلام بنالیا اور انہیں سخت تکالیف میں مبتلا کردیا اس دوران کئی صدیاں گزر گئیں ان کی تعداد بڑھتی رہی چناچہ جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کو لے کر راتوں رات مصر سے نکلے تو اس وقت تک ان کی تعداد چھ لاکھ ستر ہزار افراد تک پہنچ چکی تھی اصلاً یہ لوگ موحد تھے اور مصر کے مقامی لوگ مشرک تھے مذہبی اختلاف کی بنا پر بھی بنی اسرائیل قبطیوں کے مظالم کا شکار بنے ہوئے تھے اور دوسری بات یہ ہوئی کہ کسی نجومی نے فرعون کو اس وہم میں مبتلا کردیا کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا شخص پیدا ہونے والا ہے جو تیسری سلطنت کے زوال کا باعث ہوگا چناچہ فرعون نے اسرائیلی بچوں کو ہلاک کرنے کا منصوبہ بنایا جس کا ذکر سورة بقرہ اور دیگر سورتوں میں بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے احسانات یاد کراتے ہوئے فرمایا واذا نجینکم من اٰل فرعون یسومونکم سوء العذاب یذبحون ابناء کم ویستحیون نساء کم “ اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تمہیں قوم فرعون سے نجات دی وہ تمہیں سخت تکالیف میں مبتلا کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے تھے اور تمہاری بچیوں کو زندہ رکھتے تھے۔ بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا۔ غلامی غیر فطری چیز ہے غلامی ایک غیر فطری چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے غلامی کا مسئلہ سورة نحل میں سمجھایا ہے ” عبداً مملوکاً لایقدر علی شی ئٍ “ یعنی غلام آدمی کسی چیز کا مالک نہیں ہوتا چناچہ اگر وہ کوئی مال چھوڑ کر مرجائے تو یہ اس کے کسی وارث کو نہیں ملتا بلکہ اس کے آقا کی ملکیت ہوتا ہے کیونکہ وہ آقا کے تابع ہوتا ہے اسی لیے شریعت کا یہ مسئلہ بھی ہے کہ اگر غلام اپنے آقا کے ساتھ سفر پر جائے تو قیام یا سفر کے لیے غلام کی اپنی کوئی نیت نہیں ہوتی بلکہ جو نیت آقا کی ہوتی ہے غلام پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے ، اگر آقا نے کسی جگہ پر پندرہ دن یا زیادہ کے قیام کی نیت کی ہے تو غلام کو بھی وہی نیت شمار ہوگی اور اسے پوری نماز پڑھی ہوگی اسی طرح اگر آقا کسی مقام پر مسافر ہے تو غلام بھی مسافر سمجھا جائے گا یہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح بیوی کی نیت اپنے خاوند کے تابع ہوتی ہے جہاں خاوند نے قیام کی نیت کی ، بیوی بھی مقیم سمجھی جائے گی اور جہاں خاوند نے سفر کی نیت کی بیوی بھی مسافر ہوگی۔ بہرحال غلامی ایک غیر فطری چیز ہے اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو آزاد پیدا کیا ہے خاص طور پر غلاموں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنا ، اس سے طاقت سے زیادہ مشقت لینا اور خوراک لباس وغیرہ مناسب نہ دینا نہایت ہی ظلم کی بات ہے جو کہ کسی طرح بھی مستحسن نہیں۔ قدیم زمانے میں پوری دنیا میں غلامی کا رواج پایا جاتا تھا مگر اب گزشتہ صدی سے یہ قباحت ختم ہوچکی ہے۔ غلاموں کے لیے اصلاحات نزول قرآن کے زمانہ میں غلامی کا رواج عام تھا جس سے تمدن کا سارا نظام بگڑ چکا تھا اس وقت اکثر کاروبار غلاموں کے سر پر تھا س لیے اس نظم کو یکسر ختم کردینا ممکن نہیں تھا ایسا کرنے سے پورے معاشی نظام کے الٹ پلٹ ہوجانے کا خطرہ تھا لہٰذا حضور ﷺ نے اس نظام میں اصلاح کا اہتمام کیا آپ نے فرمایا ان غلاموں کو حقیر نہ سمجھو یہ تمہارے انسانی بھائی ہیں اللہ نے کسی وجہ سے انہیں تمہارے ہاتھ میں دے دیا ہے ان کو ویسا ہی کھلائو جیسا خود کھاتے ہو اور ان کو ویسا ہی پہنائو جیسا خود پہنتے ہو ان سے استطاعت سے زیادہ کام نہ لو۔ اگر کسی مشقت کے کام میں لگائوں تو خود بھی ان کے ساتھ تعاون کرو اور ان پر کسی قسم کا ظلم نہ کرو۔ مسلم شریف میں ابو مسعود انصاری ؓ کا واقعہ منقلو ہے کہ اس نے راستے میں غلام کو مارا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پیچھے آرہے تھے آپ نے فرمایا واللہ اقدر علیک منک علی ھذا یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ تم پر زیادہ قدرت رکھتا ہے اس سے جتنا تم اس غلام پر قادر ہو پھر انہوں نے عمر بھر غلام کے ساتھ کبھی زیادتی نہیں کی حضور ﷺ نے غلاموں کی آزادی کا ایک راستہ بتا دیا چناچہ کئی گناہوں کا کفارہ غلام کی آزادی قرار دیا ویسے بھی حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جو شخص غلام کو آزاد کرے گا اس کے ہر ہر عضو کے بدلے اللہ تعالیٰ آزاد کنندہ کے ہر ہر عضو کو جہنم کی آگ سے آزاد کرے گا۔ مسلمانوں کی مجموعی غلامی مسلمانوں کا پہلا ساڑھے چھ سو سال کا دور آزادی کا دور تھا انہیں دنیا میں عروج حاصل تھا آزادی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہوتی ہے مگر تاتاریوں کے حملے کے بعد مسلمانوں پر زوال آیا اور ان پر مجموعی غلامی کا دور شروع ہوا اس وقت یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ مسلمان غلام بھی ہوسکتا ہے علمائے وقت کو سخت پریشانی لاحق ہوئی کہ مسلمانوں کی اجتماعیت کو کیسے برقرار رکھا جائے مگر غلامی کے سائے گہرے ہوتے گئے اور پھر آخر میں انگریزوں کا زمانہ آیا جس میں انہوں نے مسلمانوں کو اخلاقی اور اقتصادی غلامی میں مبتلا کردیا مسلمانوں سے ان کی تعلیم ختم کرکے اپنی تعلیم رائج کی جس کا نتتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان ذہنی غلامی میں پھنس گئے وہ پنی سوچ اور فکر سے بھی محروم ہوگئے اور ان کی فکر کا واحد معیار انگریزی تعلیم رہ گئی۔ آج بھی تمام مشرقی ممالک ذہنی طور پر انگریز کے غلام ہیں امریکہ تو اب اٹھا ہے مگر ہے یہ بھی انگریز۔ انگریزوں نے مسلمانوں کو دین اور قرآن سے دور کردیا ہے عورتوں میں شیطانی آزادی کی روح پھونک دی ہے اب تمام ممالک انگریز کی سیاسی اور اقتصادی غلامی میں جکڑے ہوئے ہیں روسی بھی بگڑے ہوئے انگریز ہیں یہودی اور عیسائی پہلے ہی مسلمانوں کے دشمن ہیں اہل اسلام کے خلاف یہ سب لوگ اکٹھے ہیں اور ثابت کر رہے الکفر ملۃ واحدۃ کہ یہ ایک ہی ملت کے افراد ہیں۔ امریکہ میں عیسائیوں اور یہودیوں کی اجارہ داری ہے اقتصادی غلبہ یہودیوں کو حاصل ہے سرمایہ دار لوگ ہیں اور تمام بنک انہی کے قبضے میں ہیں چناچہ اقتصادیات کے معاملہ میں حکومت بھی ان کی دست نگر ہے ایسی گہری سازش تیار کرتے ہیں کہ کسی کو پتہ نہیں چلتا۔ اقتصادی غلامی بھی بہت بڑی لعنت ہے جس کے سامنے مسلمان بےبس ہیں ان کی ذہنی غلامی نے آزاد اقوام کے شایان شان یہ ہے کہ وہ سائنس اور ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کریں۔ صنعت و حرفت میں ترقی کریں اور دوسروں کے دست نگر بننے کی بجائے اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کی کوشش کریں۔ مگر دیکھ لیں آج مسلمان دنیا کس تنزل میں پھنسی ہوئی ہے غریب ممالک اقتصادی طور پر تباہ حال اور ترقی سے محروم ہیں اور جن ممالک کے پاس پیسے کی فراوانی ہے ان کے پاس افرادی قوت نہیں ہے اللہ تعالیٰ نے عربوں کو تیل کی دولت سے مالا مال کیا ہے مگر وہ ماہرین کے محتاج ہیں۔ چالیس سال کے عرصے میں اپنے انجینئر پیدا نہیں کرسکے تیل کے کنویں میں آگ لگ جائے تو اس پر قابو پانے کے لیے امریکہ اور جرمنی سے ماہرین منگوانا پڑتے ہیں مغربی ممالک نے صنعت و حرفت میں ترقی کرکے مشرقی ممالک کو تجارتی منڈیاں بنا رکھا ہے ان کے لیے ہر چیز باہر سے آتی ہے یہ ایسے ذہنی غلامی میں مبتلا ہیں کہ جس سے نکلنے کے لیے ان کے پاس کوئی پروگرام نہیں۔ انسان کی عزت و آبرو آزادی میں ہے۔ اس کے بغیر تو علامہ اقبال کہتے ہیں ” غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر “ غلام میں رہ کر انسان پست اور گھٹیا کام کرنے کا عادی ہوجاتا ہے فتنہ فساد ، کھیلتماشے ، عیاشی اور فحاشی اس کے محبوب مشغلے ہوتے ہیں۔ اپنوں سے دشمنی اور اغیار سے دوستی اس کا معمول بن جاتا ہے انگریزوں کے زمانہ میں برصغیر میں مسلمانوں نے ایک دوسرے کی جاسوسی کرکے من حیث القوم مسلمانوں کو کتنا نقصان پہنچایا۔ کسی کو مراد دیا۔ کسی کو قید کرایا اور کسی کو کالے پانی بھجوایا۔ اپنوں سے دشمنی مگر انگریز کے کہنے پر کعبہ پر بھی گولی چلادی اور ترکوں کے خلاف جنگ میں شریک ہوئے یہ سب غلامی کے اثرات ہیں۔ بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون سے کہا کہ بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کرکے میرے ساتھ روانہ کردو تاکہ میں انہیں گندے ماحول سے نکال لے جائوں چناچہ فرعون کی غرقابی کے بعد جب آپ صحرائے سینا میں پہنچ گئے تو پھر وہیں کھلی فضا میں رہنا پسند کیا ، واپس مصر نہیں گئے کیونکہ وہاں پر وہی قوم آباد تھی جس سے انہوں نے آزادی حاصل کی تھی۔ دو عظیم معجزے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون کو معجزات کی پیش کش کرچکے تھے چناچہ فرعون نے کہا قال ان کنت جئت بایۃ اگر آپ کوئی نشانی یا معجزہ لائے ہیں فات بھا ان کنت من الصدقین اور اگر آپ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو وہ معجزات پیش کریں چناچہ فالقی عصاہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی کو ڈالا یہ ا ن کا پہلا معجزہ تھا کہ ان کے ہاتھ میں جو لاٹھی تھی اسے زمین پر پھینک دیا فاذاھی تعبان مبین پس اچانک وہ بڑا اژدھا بن گیا یہاں پر ثعبان کا ذکر ہے جب کہ بعض دوسرے مقامات پر جان یعنی چھوٹے سانپ کا ذکر آتا ہے عصا کے سانپ بننے کا واقعہ کئی مواقع پر پیش آیا ضرورت کے مطابق موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا کبھی بڑا اژدھا بن جاتا ہے اور کبھی چھوٹا۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کا جادو گروں کے ساتھ کھلا مقابلہ ہوا اور جادوگروں نے رسیوں کے سانپ بنا ڈالے تو موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا بہت بڑا اژدھا بن گیا جو تمام سانپوں کو نگل گیا لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی جس میں کئی آدمی ہلاک ہوگئے۔ خود فرعون پر ایسی دہشت طاری ہوئی کہ اسہال شروع ہوگئے۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے دوسری نشانی پیش کی ونزع یدھ آپ نے اپنا ہاتھ اپنی بغل میں ڈال کر باہر نکالا فاذا ھی بیضاء للنظرین پس اچانک وہ دیکھنے والوں کے لیے سفید تھا۔ آپ کا ہاتھ اتنا روشن تھا کہ اس نے زمین و آسمان کی درمیانی فضا کو منور کردیا دوسری جگہ من غیر سوء کے الفاظ بھی آتے ہیں کہ اس سفیدی میں کوئی خرابی نہیں تھی بعض اوقات برص کی بیماری کی وجہ سے انسانی جسم کے بعض حصے سفید ہوجاتے ہیں ایسا نہیں تھا بلکہ آپ کے ہاتھ میں نورانیت تھی اور وہ سورج کی طرح چمکتا تھا۔ یہاں پر اجمالی طور پر دو معجزات کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا فرمائے آگے کئی رکوع تک مزید تفصیلات آرہی ہیں۔
Ayahs 7:109–119

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌۙ Open ayah 7:109 in the Quran reader

کہا سربرآوردہ لوگوں نے فرعون کی قوم سے ، بیشک یہ (موسیٰ علیہ السلام) البتہ بڑا جاننے والا جادوگر ہے

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ١ۚ فَمَا ذَا تَاْمُرُوْنَ Open ayah 7:110 in the Quran reader

یہ چاہتا ہے کہ تم کو نکال دے تمہاری زمین سے پس تم کیا مشورہ دیتے ہو

قَالُوْۤا اَرْجِهْ وَ اَخَاهُ وَ اَرْسِلْ فِی الْمَدَآئِنِ حٰشِرِیْنَۙ Open ayah 7:111 in the Quran reader

انہوں نے کہا مہلت دے دے اس کو اور اس کے بھائی کو ، اور آدمیوں کو بھیج دے مختلف شہروں میں کہ وہ اکٹھا کرنے والے ہوں

یَاْتُوْكَ بِكُلِّ سٰحِرٍ عَلِیْمٍ Open ayah 7:112 in the Quran reader

جو لائیں تیرے پاس ہر علم والے جادوگر کو

وَ جَآءَ السَّحَرَةُ فِرْعَوْنَ قَالُوْۤا اِنَّ لَنَا لَاَجْرًا اِنْ كُنَّا نَحْنُ الْغٰلِبِیْنَ Open ayah 7:113 in the Quran reader

چناچہ آگئے جادوگر فرعون کے پاس تو انہوں نے کہا کہ بیشک ہمارے لئے اجر ہوگا اگر ہم غالب آئے

قَالَ نَعَمْ وَ اِنَّكُمْ لَمِنَ الْمُقَرَّبِیْنَ Open ayah 7:114 in the Quran reader

تو فرعون نے کہا ہاں ، یقینا تم البتہ مقربین میں سے ہو جائو گے

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُلْقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنْ نَّكُوْنَ نَحْنُ الْمُلْقِیْنَ Open ayah 7:115 in the Quran reader

ان لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا اے موسیٰ ! یا تو تم ڈالو ، یا ہم ہوں پہلے ڈالنے والے

قَالَ اَلْقُوْا١ۚ فَلَمَّاۤ اَلْقَوْا سَحَرُوْۤا اَعْیُنَ النَّاسِ وَ اسْتَرْهَبُوْهُمْ وَ جَآءُوْ بِسِحْرٍ عَظِیْمٍ Open ayah 7:116 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا تم ڈالو تو جب انہوں نے ڈالا ، تو انہوں نے سحر کردیا لوگوں کی آنکھوں میں اور خوفزدہ کردیا ان کو ، اور لائے وہ بہت بڑا جادو

وَ اَوْحَیْنَاۤ اِلٰى مُوْسٰۤى اَنْ اَلْقِ عَصَاكَ١ۚ فَاِذَا هِیَ تَلْقَفُ مَا یَاْفِكُوْنَۚ Open ayah 7:117 in the Quran reader

اور ادھر ہم نے وحی کی موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف کہ ڈال دو تم اپنی لاٹھی کو ، پس وہ تیزی سے نگلتی ہے اس چیز کو جس کو وہ بناتے ہیں

فَوَقَعَ الْحَقُّ وَ بَطَلَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَۚ Open ayah 7:118 in the Quran reader

پس ثابت ہوگیا حق اور باطل ہوگئی وہ بات جو وہ کرتے تھے۔

فَغُلِبُوْا هُنَالِكَ وَ انْقَلَبُوْا صٰغِرِیْنَۚ Open ayah 7:119 in the Quran reader

اس موقع پر وہ مغلوب کردیئے گئے اور لوٹے وہ ذلیل ہو کر

ربط آیات تبلیغ رسالت کے سلسلے میں پہلے پانچ انبیا (علیہم السلام) اور ان کی اقوام کا ذکر ہوا۔ پھر سنت اللہ اور اقوام کی ذہنیت کا بیان ہوا یہ صرف ان پانچ انبیاء کی بات نہیں بلکہ دیگر انبیاء کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے ایسا ہی سلوک کیا پھر اللہ کا دستور یہ رہا کہ پہلے ان لوگوں پر تنگی ڈال کر انہیں آزمایا اور پھر آسودگی دے کر بھی آزمائش کی۔ اکثر و بیشتر نتیجہ یہی نکلا کہ لوگوں نے انبیاء کو تسلیم نہ کیا اور تباہ ہوئے۔ ان کی ہلاکت کا تذکرہ ان الفاظ میں ہوچکا ہے ” فانظرکیف کان عاقبۃ المفسدین “ دیکھو ! فساد کرنے والوں کا کیسا برا انجام ہوا۔ ان انبیاء کے بعد پھر دوسرے دور میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو دو قوموں کی طرف بھیجا ۔ ایک آپ کی اپنی قوم بنی اسرائیل تھی اور دوسری قبطی قوم تھی جس کا سربراہ فرعون تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے لیے پہلا حکم خدا وندی یہی تھا کہ فرعون اور اس کے حواریوں کو ہمارا پیغام پہنچائو اللہ نے فرعون کے مقابلے کے لیے دو نشانیاں یا معجزات بھی آپ کو عطا فرمائے ان میں سے ایک عصا تھا اور دوسرا یدبیضا جب موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کا پیغام لے کر فرعون کے پاس پہنچے تو اس نے نشانیوں کا مطالبہ کیا آپ نے دونوں معجزات ظاہر کردیے تو فرعونی مرعوب ہوگئے مگر ایمان نہ لائے اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ فرعون کے جادوگروں کے مقابلے کا ذکر کیا ہے یہ سلسلہ بیان آگے دور تک چلا جارہا ہے جس میں موسیٰ (علیہ السلام) کے حالات تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ معجرات کا انکار جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا اور یدہیضا کے معجزات پیش کیے تو فرعون اور اس کی قوم کہنے لگی قال الملامن قوم فرعون تو فرعون کی رقوم کے سرداروں نے کہا ان ھذا لسحر علیم موسیٰ (علیہ السلام) تو بڑا ماہر جادوگر معلوم ہوتا ہے اور نہ انصاف سے کام لیا اور اللہ کے نبی کو جادوگر کہہ دیا اس کے بعد لوگوں کو بدظن کرنے کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) پر یہ الزام لگایا یرید ان یحرجکم من ارضکم یہ چاہتا ہے کہ تمہیں زمین سے نکال دے۔ لوگوں کو اللہ کے نبیوں سے بدظن کرنے کے لیے جابر قسم کے لوگوں کا ہمیشہ یہی وطیرہ رہا ہے کہ وہ انبیاء کے خلاف ملک گیری کا جھوٹا پراپیگنڈا کرتے ہیں دیکھو ! اگر اس شخص کی بات مان لی تو یہ تمہیں ملک بدر کردے گا اور خود تمہارے علاقے پر قبضہ کرے گا اس ملک کے اصل مالک تم ہو ، تمہاری حکومت ہے ، تمہیں یہاں اقتدار حاصل ہے مگر یہ شخص اپنا تسلط چاہتا ہے لہٰذا اس سے خبردار رہنا اور اس کی باتوں میں نہ آنا ، ہر مصلح اور نبی کے بارے میں یہی پراپیگنڈا کیا گیا مشرکین مکہ بھی حضور ﷺ کو ساحر کہتے تھے شق القمر کا معجزہ دیکھا تو کہنے لگے اس شخص نے جادو کردیا ہے فرعون اور اس کے حواریوں نے بھی یہی ہتھیار استعمال کیا موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو سحر اور آپ کو ماحر کا خطاب دیا۔ بعثت انبیاء کا مقصد امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انبیاء کی بعثت کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ کی وحدانیت اور اس کی عبادت کی دعوت دیں گویا بندوں کو اللہ تعالیٰ سے روشناس کرائیں انبیاء کے فرائض منصبی میں یہ بھی داخل ہے کہ وہ رسومات باطلہ کو مٹائیں اور لوگوں کے درمیان ظلم و زیادتی کو ختم کریں معرفت الٰہی کے بعد دوسرے امور کے لیے جماعت کی ضرورت ہوتی ہے جو معاشرتی نظام بھی درست کرتی ہے اور جہاد کا فریضہ بھی انجام دیتی ہے مگر نبی کا بنیادی مقصد ملک گیری نہیں بلکہ ملکی اصلاح ہوتا ہے اسی لیے تاریخ انبیاء میں ہم دیکھتے ہیں کہ پورے سلسلہ انبیاء میں صرف چند ایک ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے نبوت و رسالت کے ساتھ ساتھ خلافت ارضی بھی عطا فرمائی وگرنہ اکثر و بیشتر انبیاء کا مشن اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچانے اور لوگوں کی اصلاح تک محدود رہا اور اگر کوئی بادشاہ دین حق کو قبول کرے اس پر عمل پیرا ہوجائے تو پھر نبی کو تخت حکومت پر بیٹھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی جب اغیار کے نظام کی جگہ اللہ کا مقرر کردہ نظام آگیا تو نبی کا مشن پورا ہوگیا خود حضور ﷺ کے زمانہ میں کئی حکمرانوں نے اسلام قبول کیا تو آپ نے حکم دیا کہ حکومت انہی کے پاس رہنے دو ، ہمارا مقصد پورا ہوگیا ہے غرضیکہ نبی کا کام سلطنت پر متمکن ہونا نہیں ہوتا اور اگر باطل رسومات کو مٹانے اور ظلم کو ختم کرنے کے لیے جماعت کی ضرورت ہو تو پھر ایسی جماعت تیار کرنی پڑتی ہے جو تبلیغ کے ذریعہ اور ضرورت ہو تو جہاد کرکے اللہ کے دین کو دوسروں تک پہنچائے اور عدل و انصاف قائم کرے۔ جادوگروں کا اجتماع بہرحال سربرآوردہ لوگوں نے یہ پراپیگنڈہ کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) تمہیں ملک بدر کرنا چاہتا ہے فماذا تامرون اب بتلائو ، تم اس سلسلے میں کیا مشورہ دیتے ہو یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی تحریک کا کیا جواب دینا چاہیے قالوا تو ان لوگوں نے کہا ارجہ واخاہ موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو کچھ مدت مہلت دو وہ خوفزدہ تو ہوچکے تھے کہنے لگے اس معاملہ میں جلدی نہ کرو اور اس دوران میں وارسل فی المدائن حشرین اور مختلف شہروں میں آدمی بھیجو یا توک بکل سحر علیم جو ہر علم والے جادوگر کو تیرے پاس لے آئیں گے۔ جس طرح آج کل سائنس اور ٹیکنالوجی کو بڑا عروج حاصل ہے قدیم زمانے میں نجومیوں اور سحروں کی بڑی قدر و منزلت تھی جس طرح موجودہ زمانے میں مختلف امور میں فنی ماہرین کے مشورے کے بغیر حکومت کوئی کام شروع نہیں کرتی اس زمانے میں زمام حکومت میں ساحروں کا بڑا عمل دخل ہوتا تھا حکمران ہر کام میں ان سے مشورہ لیتے تھے چناچہ فرعون کے دربار میں جب موسیٰ (علیہ السلام) کا معاملہ زیر بحث آیا تو سربرآوردہ لوگوں نے یہی مشورہ دیا کہ ہمارے ملک میں بڑے بڑے قابل ساحر موجود ہیں انہیں اکٹھا کرکے ان کی خدمات سے استفادہ حاصل کرنا چاہیے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جادو کا کھیل دکھایا ہے تو اس کا مقابلہ ماہر جادوگر ہی کرسکتے ہیں چناچہ حکومت کے کارندے مختلف شہروں میں بھیجے گئے اور جادوگروں کو بلایا گیا بڑے بڑے جادوگر دور دراز علاقوں سے بمعہ اپنے سازو سامان کے اکٹھے ہوگئے ان کی تعداد کے متعلق مفسرین کی مختلف رائیں ہیں بعض نے بیس ہزار ، بعض نے نوے ہزار حتیٰ کہ تین لاکھ کی تعداد بھی روایات میں آتی ہے تاہم جادوگروں کی کم از کم تعداد امام بغوی (رح) نے بیان کی ہے وہ پندرہ ہزار ہے ان جادوگروں کے کرتب کا سامان کم و بیش تین سو اونٹوں پر لاد کر لایا گیا۔ وجاء السحرۃ فرعون چناچہ جادوگر فرعون کے پاس آگئے اور یوں کہنے لگے قالو ان لنا لاجراً بیشک ہمارے لیے کوئی معاوضہ یا اجر ہوگا ؟ ان کنا نحن الغلبین اگر ہم موسیٰ (علیہ السلام) پر غالب آگئے بس یہی وہ موڑ ہے جہاں آکر نبی اور ساحر میں امتیاز ہوتا ہے ساحر خود غرض اور مفاد پرست ہوتے ہیں وہ جو کام کرتے ہیں پیسے کی خاطر کرتے ہیں ان جادو گروں نے بھی کہا کہ ہم دور دراز سے سفر کرکے آئے ہیں تکالیف برداشت کی ہیں ، وقت دیا ہے ، زاد راہ خرچ کیا ہے ہمیں محنت کا کچھ معاوضہ بھی ملے گا یا نہیں ؟ ادھر اللہ کا نبی ہے جو کہتا ہے لا اسئلکم علیہ اجراً میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا ” ان اجری الا علی اللہ “ (سورۃ ہود) میرا اجر تو اللہ کے پاس ہے وانصح لکم (اعراف) میں تو تمہارا خیر خواہ ہوں۔ میں تمہاری بہتری چاہتا ہوں یہ دو اذہان کا فرق ہے جادو گروں کو شک تھا کہ کہیں فرعون محض بیگار میں ہی ہم سے کام نہ لے لے لہٰذا انہوں نے اجرت کا مطالبہ پہلے کردیا ادھر اللہ کا سچا نبی ہے جو بلامعاوضہ لوگوں کی خیر خواہی کا حق ادا کررہا ہے۔ جادوگروں کی عزت افزائی جب جادوگروں نے اپنی اجرت کا مطالبہ کیا قال نعم تو فرعون نے کہا ، ہاں تمہیں نہ صرف معاوضہ ملے گا بلکہ انکم لمن المقربین تم میرے مصاحب بن جائو گے مقربین میں شامل ہوجائو گے ، اگر تم کامیاب ہوگئے تو تمہیں بڑے بڑے اعزاز دوں گا اپنا وزیر اور مشیر بنالوں گا بس تم ذرا کام کرکے دکھائو۔ اس زمانے میں فرعون جیسے ڈکٹیٹر کا مشیر بن جانا بڑا اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ لہٰذا وہ اس بات سے خوش ہوگئے اب ہمارا بھی کچھ نہ کچھ کام بن جائے گا اس زمانے میں بھی نجومی ، ساحر ، پامسٹ ، دست شناس ، میجک ماسٹر ، مداری وغیرہ سب وہی ذہن رکھتے ہیں کہ جس طرح بھی ہوسکے پیسہ کمائو۔ کوئی بھی ماہر بلا معاوضہ خدمت کرنے کے لیے تیار نہیں۔ فرعون کے ساحروں کی طرح آج بھی سب پیسے کے پجاری ہیں تو بہرحال فرعون نے جادوگروں کو تسلی دی کہ فکر نہ کرو تمہیں بہت کچھ دیا جائے گا۔ جادوگروں کا کرتب جب فرعون اور جادوگروں کے درمیان معاملہ طے ہوگیا قاو یموسیٰ جادوگر کہنے لگے اے موسیٰ (علیہ السلام) ! اما ان تلقی کیا پہلے تم اپنا فن دکھانا چاہتے ہو واما ان نکون نحن الملقین یا ہم اپنا کرتب ظاہر کریں سورة طہٰ میں آتا ہے اس مقابلے کے لیے دوپہر کا وقت مقرر کیا گیا لاکھوں آدمی میدان میں اکٹھے ہوگئے تو موسیٰ (علیہ السلام) نے جادوگروں کو پہلے وار کرنے کی دعوت دی قال القوا فرمایا ڈالو جو جادو تمہارے پاس ہے اسے ظاہر کرو۔ فلما القوا جب انہوں نے ڈالا اور اپنا جادو پیش کیا سحروا اعین الناس لوگوں کی آنکھوں میں سحر کردیا یعنی تماشائیوں کی نظر بندی کردی جادو کی حقیقت بس اتنی ہی ہے۔ اسے نظر کا دھوکہ کہہ لو یا ہاتھ کی صفائی جو کچھ نظر آتا ہے وہ اصلیت نہیں ہوتی مولانا رشید احمد گنگرہی (رح) فرماتے ہیں کہ قرب قیامت میں دجال کا معاملہ بھی ایسا ہی فریب نظر ہوگا حقیقت میں وہ دن معمول کے مطابق ہی ہوگا مگر لوگوں کو بہت لمبا محسوس ہوگا یہ میجک ماسٹر کیا کرتے ہیں ہاتھ میں ایک انڈا پکڑتے ہیں پھر ایک سے دو اور دو سے چار بنا دیتے ہیں یہ محض ہاتھ کی صفائی ہوتی ہے جو دو دو یا چار چار نظر آتے ہیں حقیقت میں ایک ہی انڈا ہوتا ہے اس کے برخلاف معجزہ انقلاب حقیقت پر مبنی ہوتا ہے اس کے ذریعے کسی چیز کی ماہیت ہی کو تبدیل کردیا جاتا ہے مگر یہ انسان کے بس کی بات نہیں ہوتی کیمسٹری کے ماہرین پتھر کو کسی فارمولے کے تحت سونے میں تبدیل نہیں کرسکتے مگر یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ اگر چاہے تو پتھر کو سونا بنادے تمام کائنات ، ذرات اور عناصر کا خالق اللہ تعالیٰ ہے وہ جو تبدیلی چاہے کردے ۔ بہرحال جادو گروں نے لوگوں کی آنکھوں میں سحر کردیا کہ واسترھبو ھم اور ان کو ڈرایا وجاء و بسحر عظیم اور وہ بہت بڑا جادو لے کر آئے۔ عصائے موسیٰ جب جادوگر اپنا کرتب دکھا رہے تھے تو موسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے حکم کے منتظر تھے کہ انہی کیا کرنا چاہیے چناچہ ارشاد ہوتا ہے واوحینا الیٰ موسیٰ اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی کی ان الق عصاک کہ اپنی لاٹھی ڈالدیں یہ معجزے کی لاٹھی تھی اللہ کے حکم سے آپ نے وہ نیچے پھینک دی فاذا ہی تقف مایا فکون پس وہ جادوگروں کی بنائی ہوئی چیزوں کو تیزی سے نگل گئی انہوں نے رسیاں پھینکیں تھیں جو سانپ نظر آنے لگے تھے مگر موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی ڈالی تو وہ بہت بڑا اژدھا بن کر جادوگروں کے جعلی سانپوں کو نگل گئی لقف کا معنی کسی چیز کو تیزی کے ساتھ نگل جانا ہے شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) فتوح الغیب میں فرماتے ہیں المومن وقاف والمنافق لقاف یعنی مومن رک جاتا ہے اور منافق تیزی سے نگل جاتا ہے جب کسی شخص پر کھانے کے لیے کوئی چیز پیش کی جاتی ہے تو مومن آدمی اس کو کھانے سے پہلے خوب تحقیق کرلیتا ہے اور حلال و حرام میں امتیاز کرتا ہے وہ جانچتا ہے کہ کوئی حرام یا مشکوک چیز نہیں۔ نذر لغیر اللہ گیارہویں شریف یا صدقہ خیرات تو نہیں برخلاف اس کے منافق آدمی بلاتحقیق تیزی سے نگل جاتا ہے یہ گویا مومن اور منافق کی پہچان ہے۔ بہرحال موسیٰ (علیہ السلام) کی لاٹھی بہت بڑا اژدھا بن کر جادوگروں کے بنائے ہوئے سانپوں کو نگل گئی دیکھتے ہی دیکھتے سارا میدان صاف ہوگیا پھر اژدھا اچھل اچھل کر تماشائیوں کی طرف لپکنے لگا جس سے خوف و ہراس پیدا ہوگیا فرمایا فوقع الحق پس حق ثابت ہوگیا۔ وبطل مالکانوا یعملون اور جادوگروں کا بنایا ہوا کھیل باطل ہوگیا۔ حقیقت کے سامنے جادو ناکام ہوگیا فغلبوا ھنالک فرعونی اور جادوگر مغلوب ہوگئے وانقلبوا صغرین اور وہ ذلیل ہو کر واپس لوٹ آئے۔