6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمعالم العرفان

Ayah 6:1

اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ جَعَلَ الظُّلُمٰتِ وَ النُّوْرَ١ؕ۬ ثُمَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ یَعْدِلُوْنَ Open ayah 6:1 in the Quran reader

سب تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے پیدا کئے ہیں آسمان اور زمین اور جس نے بنائے ہیں اندھیرے اور اجالا ‘ پھر وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے۔ اپنے رب کے ساتھ ‘ دوسروں کو برابر کرتے ہیں۔

اس سورة کا نام سورة الانعام ہے۔ انعام ‘ نعم کی جمع ہے اور اس کا جمع الجمع اناعیم آتا ہے۔ انعام کا اطلاق عام طور پر اونٹ پر کیا جاتا ہے اور گائے اور بھیڑ بکری پر کیا جاتا ہے اور عام فہم میں اس کا معنی وہ مویشی ہوتے ہیں جنہیں عام طور پر لوگ پالتے ہیں اور وہ انسان سے مانوس ہوتے ہیں۔ سورة بخل میں موجود ہے والانعام خلقھا لکم فیھا دف و منافع و منھاتا کلون۔ اللہ تعالیٰ نے مویشیوں کو پیدا کیا ‘ ان میں تمہارے لئے بہت سے فائدے رکھے ہیں اللہ نے انہیں تمہاری خدمت کے لئے پیدا فرمایا ہے۔ اور تمہارے تابع بھی کردیا ہے ‘ یہ بڑی عاجزی کے ساتھ تمہاری خدمت انجام دیتے ہیں۔ ان میں تمہارے لئے موسم سرما میں گرمی کا سامان بھی پیدا کیا ہے۔ بہرحال اس سورة کا نام انعام اس لئے ہے کہ اس میں مویشیوں کا تذکرہ ہے اور ان کی حلت و حرمت کا مسئلہ بیان فرمایا ہے۔ اس سورة میں اس شرک کی بھی تردید کی گئی ہے جو عرب لوگ مویشیوں کے ذریعے کرتے تھے۔ یہ سورة مکی زندگی میں نازل ہوئی ‘ اس کی ایک سو پینسٹھ آیتیں اور اور بیس رکوع ہیں۔ اس سورة میں کل 0503 کلمات اور 22421 حروف ہیں۔ سورة انعام سورة حجر کے بعد نازل ہوئی ہے۔ یہ لمبی سورتوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس سے پہلے ساری سورتیں مدنی ہیں۔ دراصل اس سورة میں توحید کے تمام دلائل ذکر کئے گئے ہیں اور شرک کی جملہ اقسام کی تردید کی گئی ہے۔ ترتیب تلاوت کے لحاظ سے یہ پہلی مکی سورت ہے۔ تاہم ترتیب نزول کے حساب سے اس کا نمبر بہت بعد میں آتا ہے۔ اس سورة کی فضیلت کے متعلق امام رازی (رح) اور دیگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس کی چند آیتوں کو چھوڑ کر باقی ساری سورة بیک وقت نازل ہوئی۔ اس سورة کے ساتھ ستر ہزار فرشتوں کی جماعت زمین پر نازل ہوئی جس سے پوری وادی پر ہوگئی۔ قرآن پاک میں سب سے پہلے سورة فاتحہ کو رکھا گیا ہے۔ اس میں ملت ابراہیمیہ کے تمام اصولوں کا خلاصہ اور لب لباب دیدیا گیا ہے ‘ اسی لئے حضور ﷺ نے فرمایا ‘ چاروں آسمانی کتابوں یعنی تورات ‘ انجیل ‘ زبور اور قرآن پاک میں سورة فاتحہ جیسی کوئی دوسری سورة نہیں۔ تمام کتابوں میں سورة فاتحہ کو سب سے زیادہ فضیلت حاصل ہے ‘ یہ وہی سورة ہے جسے ہم نماز میں پڑھتے ہیں اور اس لحاظ سے یہ سورة الصلوٰۃ بھی کہلاتی ہے۔ سورۃ فاتحہ کے بعد دو سورتوں بقرہ اور آل عمران میں ملت ابراہیمی کی ظاہری تفصیل ہے۔ ان سورتوں میں ادنی مسائل سے لے کر خلافت کبریٰ تک کے نظام کے مسائل بیان کئے گئے ہیں اور انفرادی احکام سے لے کر اجتماعی احکام تک سب چیزیں آگئی ہیں اسی طرح عبادات کو بھی وضاحت کے ساتھ بیان کردیا گیا ہے۔ تاہم اس ملت کی شکل و صورت کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب ان کے ساتھ سورة نساء اور سورة مائدۃ کے مضامین کو بھی ملا لیا جائے۔ چناچہ ان چار سورتوں کو باہم ملانے سے ملت ابراہیمیہ کی ظاہری اور باطنی دونوں صورتیں کھل کر سامنے آجاتی ہیں۔ سورة نساء (Women) اور سورة مائدہ (Foop Table) میں انسانی زندگی سے متعلق اہم باتیں بیان کی گئی ہیں۔ انسانی زندگی کے ساتھ عورت اور کھانے کا گہرا تعلق ہے۔ جب تک ان دونوں چیزوں کا توازن موجود نہ ہو انسان کو سکون حاصل نہیں ہوتا۔ ایک لحاظ سے سورة بقرہ اور سورة آل عمران میں ان لوگوں کا تذکرہ ہے جنہوں نے ملت ابراہیمیہ کو بگاڑ دیا تھا۔ سورة بقرہ میں زیادہ تر یہودیوں کے باطل عقائد کا ذکر ہے اور سورة آل عمران میں نصاریٰ کو موضو سخن بنایا گیا ہے۔ یہ دونوں قومیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد اور پیروکار ہونے کی دعویدار ہیں مگر ملت ابراہیمیہ کو بگاڑنے کی ذمہ داری بھی انہی پر آتی ہے۔ لہٰذا ان دوسورتوں میں ان دونوں گروہوں کو خطاب کیا گیا ہے۔ ملت ابراہیمیہ میں بگاڑ پیدا کرنے والا تیسرا گروہ مشرکین عرب کا تھا ‘ جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد اور ان کے بیشمار خاندانوں پر مشتمل تھا۔ چناچہ اگلی دو سورتوں نساء اور مائدہ میں روئے سخن مشرکین عرب کی طرف ہے۔ جب قرآن پاک نازل ہوا تو اس نے یہ تعلیم دی کہ اگر یہ سب لوگ اپنے اپنے پیدا کردہ بگاڑ کو ترک کردیں تو یہ لوگ بھی ملت ابراہیمیہ کا حصہ بن جائیں گے اور اسی راستے پر گامزن ہوجائیں گے جس راستے پر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کے بعد آنے والے تمام انبیاء (علیہم السلام) چلتے رہے۔ یہ تمام انبیاء ملت ابراہیمیہ کے ہی امام تھے۔ غرض یہ کہ سورة مائدہ تک ملت ابراہیمیہ کو بگاڑنے والے تینوں فرقوں یہود ‘ نصاریٰ اور مشرکین عرب کو خطاب ہوگیا ہے۔ سورۃ بقرۃ میں یبنی اسرائیل سے شروع کر کے یہودیوں کی چالیس خربایوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اور سورة آل عمران میں معاملہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت سے شروع ہوتا ہے اور 38 آیتوں تک روئے سخن نصاریٰ کی طرف ہوتا ہے جن میں ان کے غلط عقائد کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان آیات میں عیسائیوں پر واضح کیا گیا ہے۔ مامن الہ الا اللہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں مگر تم مسیح (علیہ السلام) کی الوہیت کے قائل ہوچکے ہو۔ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو آئو آپس میں فیصلہ کرلیں۔ بحث و تمحیص کے ذریعے معاملے کو صاف کرلیں یا پھر مباہلے کے ذریعے کذب و صداقت کی پہچان ہوجائے ‘ مگر یہ لوگ آج تک اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے ہوئے ہیں غرض یہ کہ ان چاروں طویل سورتوں میں ملت ابراہیمیہ کا ظاہر و باطن بیان کردیا گیا ہے۔ اب تک قرآن حکیم کی پانچ سورتوں کا بیان ہوچکا ہے اس کے بعد چھٹی سورة انعام اور ساتویں سورة اعراف ہے یہ ساتویں سورتیں مل کر قرآن پاک کا ایک باب بنتا ہے۔ اس باب کا پہلا حصہ سورة مائدہ پر ختم ہوا جس کے ساتھ ہی ملت ابراہیمیہ کا بیان ختم ہوا ہے اور اب سورة انعام سے روئے سخن صابی ملت کی طرف ہوتا ہے۔ صابی ملتوں سے خطاب حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانے سے لے کر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے تک صابی ملت کا دور تھا۔ بلکہ اس سے پہلے حضرت ادریس (علیہ السلام) کا زمانہ بھی اسی دور میں شمار ہوتا ہے ۔ ملت ابراہیمی کے ماننے والوں کی طرح ملت صابی کے پیروکاروں نے بھی اس کے اصول بگاڑ دیئے تھے۔ اصل دین کو کفر و شرک میں تبدیل کردیا تھا۔ اس ملت میں بھی توحید ‘ طہارت ‘ صلوٰۃ اور صوم کے چاروں اصول موجود تھے ‘ جیسا کہ امام جلال الدین سیوطی (رح) نے اپنی کتاب ” حسن المحاضرۃ فی احوال المصر والقاھرۃ “ میں لکھا ہے ‘ اس ملت کے پیروکاروں نے خود ان اصولوں کو بگاڑ دیا۔ اور دین میں خرابیاں پیدا کردیں قرآن پاک کا فرمان ہے کہ اگر تم ان خرابیوں کو چھوڑ دو تو تمہاری ملت بھی ٹھیک ہے قرآن پاک آج بھی دعوت دے رہا ہے کہ غلط عقائد کو چھوڑ کر راہ راست پر آ جائو تو تم آج بھی نجات پانے والے بن سکتے ہو۔ صابی ملتوں میں مشرق میں چینی قوم ہے۔ ہندوستان میں آریہ اور ا س سے پہلے اور بعد والی قدیم قومیں ہیں۔ وسط ایران کے مجوسی اور مغرب میں رومی اور یونانی ہیں۔ یہ پانچویں قومی صابی ملت کی پیروکار ہیں مگر یہ ملت کے اصل اصولوں کو چھوڑ کر شرک میں مبتلا ہوگئے ‘ جس طرح یہود نصاریٰ اور بنی اسماعیل نے کفر و شرک کو اپنا کر انہی کو ملت ابراہیمی کا نام دے دیا ‘ اسی طرح ان اقوام نے بھی باطل عقائد پر صابی ملت کا لیبل چسپاں کردیا ۔ صابی قوموں میں سے وسطی علاقوں کے مجوسی چونکہ ارض القرآن سے زیادہ قریب تھے لہٰذا سب سے پہلے روئے سخن ان کی طرف ہے اس کے بعد تمام صابی اقوام کا اختیار کردہ شرک کی جملہ اقسام کا رد کیا گیا ہے ملت ابراہیمی کے ماننے والوں سے خطاب کی ابتداء بھی الحمد للہ سے ہوتی تھی اور اب صابی ملت سے خطاب الحمد للہ سے ہی ہو رہا ہے۔ الغرض اس سورة میں صابی امتوں سے خطاب کر کے ان میں رائج شرک کی تمام اقسام کا ذکر ہو رہا ہے اور ان کا رد بھی کیا گیا ہے اس کے بعد سورة اعراف میں مجموعی طور پر تمام اقوام عالم سے خطاب ہوگا اور ان کے سامنے قرآن پاک کی دعوت پیش کی جائے گی۔ یایھا الناس انی رسول اللہ الیکمم جمعیاً ۔ اے لوگو ! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں۔ اور میری دعوت یہ ہے ۔ ” لا الہ الا ھو ‘ اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ” یحی و یمیت “ وہی زندہ کرتا ہے اور وہی مارتا ہے ‘ جب کوئی چیز عقلی اور نفلی دلائل کے ساتھ پیش کی جاتی ہے تو اس کی مخالفت باطل پرست ہی کرسکتے ہیں۔ لہٰذا ان کی ساتھ بات چیت ‘ بحث مباحثہ ہو سکتا ہے ‘ کوئی اعتراض ہو تو اس کا جواب دیکر بات کو سمجھا اور سمجھایا جاسکتا ہے۔ اور اگر انکار بلاوجہ اور بےدلیل ہو تو پھر ایسے مفسد عنصر کے خلاف طاقت استعمال کرنے کا حکم بھی ہے۔ غرض ! سورة اعراف کے بعد سورة انفال اور توبہ جہاد بالسیف والسنان کے متعلق ہیں۔ ان سورتوں میں جنگی احکام مذکور ہیں سورة توبہ میں آتا ہے۔ ” وجاھدوا باموالکم وانفسکم فی سبیل اللہ ۔ اللہ کے راستے میں اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ جہاد کرو۔ واعد والھم ما استطعتم من قوۃ و من رباط الخیل (انفال) اور جہاں تک ہو سکے طاقت سے اور گھوڑوں کی تیاری کے ساتھ مستعد رہو۔ غرض یہ کہ جہاد کے تمام بنیادی اصول ان دو سورتوں میں بیان کردیئے گئے ہیں۔ اس کے بعد اگلی سورتوں یونس اور ہود میں قرآن حکیم کی حقانیت اور تمام انبیاء کے دین کا بیان ہوگا پھر سورة یوسف میں حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ کے مماثلت میں حضور ﷺ کی کامیابی کا تذکرہ ہوگا۔ پھر وحدت ملت انبیاء اور ملت ابراہیمی کا دوربارہ تذکرہ سورة ابراہیم میں ہوگا۔ گویا اس طریقے سے یہ سورتیں آپس میں مربوط ہیں۔ نشانات معرفت الٰہی قرآن پاک کے باب اول کا یہ دوسرا حصہ صابی اقوام کے خطاب سے شروع ہو رہا ہے۔ سورة فاتحہ کی طرح سورة الانعام بھی اللہ تعالیٰ کی تعریف سے شروع ہوتی ہے۔ الحمد للہ الذی خلق السموات والارض سب تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔ وجعل الظلمت والنور اور جس نے اندھیروں اور روشنی کو بنایا۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ کی دو صفات بیان کی گئی ہیں یعنی وہ ارض و سماء کا خالق اور اندھیروں اور اجالے کا بنانے والا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کی حکمت میں اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اللہ کی ان صفات کے ذریعے اس کی پہچان تک پہنچتا ہے۔ اس نے اپنی صفت فطور اور ابداع کے ذریعے اس جہاں کو پیدا کیا۔ ” فاطر السموات والارض “ وہ آسمانوں اور زمین کا خالق ہے وہ ” بدیع السموات والارض “ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے جب انسان ان چیزوں پر غور و فکر کرتا ہے تو وہ اسی نتیجے پر پہنچتا ہے کہ واقعی وہی موجد ‘ خالق اور مالک ہے ‘ لہٰذا وہی معبود برحق ہے۔ جواہر ان اشیاء کو کہتے ہیں جو مستقل وجود رکھتی ہیں اور ان کے لئے مکان کی ضرورت ہوتی ہے جیسے ارض و سما اور اس میں موجود ہر چیز ہے یہ تمام چیزیں وجود رکھتی ہیں۔ اور دوسری چیزیں اعراض ہیں جو دوسری چیزوں کے ذریعے قائم ہوتی ہیں ‘ ان کا اپنا کوئی وجود نہیں ہوتا ‘ جیسے اندھیرا اور اجالا یا سیاسی اور سفیدی ‘ ان چیزوں کا تعلق سورج کے ساتھ ہے اور اسی کی وجہ سے یہ چیزیں پیدا ہوتی ہیں اور ختم ہوتی ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ مستقل وجود رکھنے والے جواہر ہوں یا دوسروں کے ذریعے سے ظاہر ہونے والے اعراض ہوں سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اور پھر اس کی صفت ربوہیت ہے۔ کہ ہر چیز کو آہستہ آہستہ حد کمال تک پہنچانے والا بھی وہی ہے۔ عقل سلیم رکھنے والے شخص کے لئے یہ راستہ ہے جس پر چل کر وہ اپنے رب کی معرفت حاصل کرسکتا ہے۔ فرما ای سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جس نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا۔ و جعل الظلمت والنور اور بنائے ہیں اندھیرے اور اجالا۔ یہاں پر اندھیرے کو جمع کے ساتھ تعبیر کیا ہے جب کہ روشنی کو مفرد کے ساتھ ‘ کیونکہ روشنی سے مراد حق ہے اور وہ ایک ہی ہے جبکہ اندھیرے باطل پر محمول ہیں اور ان کی کئی شاخیں ہیں ۔ ظلمات میں کفر ‘ شرک ‘ نفاق ‘ بدعات اور ہر قسم کی معصیت شامل ہے ‘ جبکہ توحید ‘ ایمان ‘ یقین اور نبوت سے انسان کو روشنی میسر آتی ہے جو شخص اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے گا ‘ اس کا فہم درست ہوگا اور اس کو بصیرت حاصل ہوگی۔ غرضیکہ ایمان روشنی اور نور ہے جبکہ اس کے خلاف ہر چیز اندھیرا ہے۔ ملل صابیہ میں مجوسیوں کا عقیدہ ہے کہ نور و ظلمت کے خالق مختلف ہیں۔ ان کے نزدیک نور کو پیدا کرنے والا یزدان ہے جب کہ ظلمت کا خالق اہرمن ہے۔ اس طرح یہ لوگ ثنوی عقیدہ رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں پر اسی باطل عقیدہ کی تردید فرمائی ہے کہ خالق دو نہیں ہیں بلکہ وہ ایک ہی ہے ج نے ظلمت اور نور دونوں کو پیدا کیا۔ نور اور ظلمت سے خیر اور شر بھی مراد لیا جاتا ہے۔ بہرحال خیر و شر کے پیدا کرنے والے دو خدا ہوں یا نور و ظلمت کے دو خالق ہوں ‘ یہ بالکل شرکیہ عقیدہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات وحدہ و لا شریک ہے۔ مجوسیوں نے تو صرف دو خالقوں پر اکتفا کیا ہے ہندوئوں کے نزدیک بتیس کروڑ دیوتا ہیں ‘ العیاذ باللہ۔ ہندوئوں میں آریہ سماج فرقہ تو تین خدائوں پر آ کر رک گئے۔ عیسائیوں کی طرح وہ تثلیث کے عقیدہ میں پھنس گئے۔ انہوں نے روح ‘ مادہ اور ایشور تینوں کو قدیم مان لیا ‘ حالانکہ قدیم صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے ‘ باقی سب کچھ اس کی مخلوق ہے غرض یہ کہ تین خدائوں کا عقیدہ رکھنے والے بھی مشرک ٹھہرے وہ بھی توحید کا مقام نہیں پا سکے۔ فرمایا کہ جب علویات سے لے کر سفیات تک ‘ عالم بالا سے عالم زیریں تک ‘ ارض و سما اور جواہر و اعراض کا پیدا کرنے والا صرف خدا تعالیٰ ہے ‘ تو پھر بڑے افسوس کا مقام ہے ثم الذین کفر بربھم یعدلون کہ کافر لوگ اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو برابر ٹھہرا رہے ہیں۔ کوئی مادے کو شریک مانتا ہے ‘ کوئی نور اور ظلمت کو برابر ٹھہراتا ہے ‘ کوئی شجر و حجر کو معبود مانتا ہے ‘ کوئی قبر پر سجدہ ریز ہوتا ہے ‘۔ کوئی زندہ کو پوج رہا ہے اور کوئی مردے کی پرستش میں محو ہے۔ یہ کتنا بڑا ظلم ہے کہ اللہ کی صفات میں دوسروں کو شریک کر رہے ہیں۔ بہرحال یہاں سے صابی اقوام کے باطل عقائد کا پردہ چاک کیا جا رہا ہے۔
Ayahs 6:2–5

هُوَ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ مِّنْ طِیْنٍ ثُمَّ قَضٰۤى اَجَلًا١ؕ وَ اَجَلٌ مُّسَمًّى عِنْدَهٗ ثُمَّ اَنْتُمْ تَمْتَرُوْنَ Open ayah 6:2 in the Quran reader

اللہ کی ذات وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے پھر مقرر کی اس نے ایک مدت۔ اور ایک مدت اور مقرر ہے اس کے پاس ‘ پھر تم شک کرتے ہو

وَ هُوَ اللّٰهُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ فِی الْاَرْضِ١ؕ یَعْلَمُ سِرَّكُمْ وَ جَهْرَكُمْ وَ یَعْلَمُ مَا تَكْسِبُوْنَ Open ayah 6:3 in the Quran reader

اور وہی اللہ ہے آسمانوں میں اور زمین میں ‘ وہ جانتا ہے تمہاری چھپی ہوئی باتوں کو اور ظاہر باتوں کو اور جانتا ہے جو کچھ تم کماتے ہو

وَ مَا تَاْتِیْهِمْ مِّنْ اٰیَةٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّهِمْ اِلَّا كَانُوْا عَنْهَا مُعْرِضِیْنَ Open ayah 6:4 in the Quran reader

اور نہیں آتی ان کے پاس کوئی نشانی اپنے رب کی نشانیوں میں سے ‘ مگر وہ اس سے اغراض کرنے والے ہوتے ہیں۔

فَقَدْ كَذَّبُوْا بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَهُمْ١ؕ فَسَوْفَ یَاْتِیْهِمْ اَنْۢبٰٓؤُا مَا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ Open ayah 6:5 in the Quran reader

پس تحقیق جھٹلایا انہوں نے حق کو جب ان کے پاس آیا پس عنقریب آجائے گی ان کے پاس خبر (حقیقت) اس چیز کی کہ جس کے ساتھ یہ ٹھٹھا کیا کرتے تھے۔

گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء اور اس کی بعض صفات کا ذکر ہوا۔ شرک کی تردید عالم کبیر یعنی تمام کائنات کو پیدا کرنے والا بھی وہی ہے اور نور ظلمت کا خالق بھی وہی ہے ‘ اس کے باوجود لوگ اللہ کے علاوہ دوسروں کو اس کے برابر تسلیم کر کے شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔ چناچہ مجوسی فرقہ والے دو خدائوں کے قائل ہیں۔ ان کے نزدیک نیکی کا خدا یزدان ہے اور بدی کا ہر من ہے یہ لوگ ثنویہ فرقہ والے کہلاتے ہیں۔ ہندوستان کے قدیم مشرک بتیس کروڑ دیوتائوں گو مانتے تھے ‘ ان میں آریہ سماج والوں نے تین خدائوں پر اکتفا کیا ‘ وہ مادہ ‘ روح اور خدا تعالیٰ تینوں کو قدیم مان کر مشرک کے مشرک ہی رہے۔ یہ بھی عیسائیوں کے عقیدہ اقانیم ثلاثہ میں شامل ہوگئے۔ پھر یہودیوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف ایسی ایسی لغوضفات منسوب کیں جو ایک عام انسان کی طرف منسوب کرتے ہوئے بھی شرم محسوس ہوتی ہے مشرکین عرب نے بھی خدائی اختیارات مختلف ہستیوں میں تقسیم کر رکھے تھے۔ وہ پتھر کے خود ساختہ بتوں کے آگے سجدہ ریز ہوتے تھے۔ جب انسان شرک کرنے پر آجاتا ہے تو پھر وہ مٹی اور خاک کو بھی اپنا معبود تسلیم کرلیتا ہے ‘ سورج ‘ چاند ‘ سیاروں اور ستاروں کی پوجا شروع ہوجاتی ہے۔ انسان اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود درختوں اور حیوانات تک کے سامنے جھک جاتا ہے۔ قدیم مصری لوگ بیسیوں کی پرستش کرتے تھے۔ کہیں اللہ کی عبادت میں غیروں کو شریک کیا جاتا تھا۔ کہیں غیر اللہ سے مافوق الاسباب استعانت طلب کی جاتی تھی۔ یہ تمام قسم کے شرک پوری دنیا میں بالعموم اور سرزمین عرب میں بالخصوص پائے جاتے تھے۔ یونان اور روم کے مشرکین عقول عشرہ کے باطل عقیدہ میں مبتلا تھے۔ کہتے تھے ‘ اللہ تعالیٰ نے پہلے ایک عقل کو بنایا پھر اس عقل نے ایک آسمان کو اور دوسری عقل کو بنایا تو اس نے دوسری عقل اور دوسرا آسمان بنا ڈالا ‘ علی ہذا القیاس ان کے دس عقول بھی معبودوں کا درجہ رکھتے تھے ‘ انسانوں کی پرستش ہی کے ضمن میں قبروں اور درختوں کی پوجا ہوتی تھی ‘ غیر اللہ کو مشکل کشا اور حاجت روا سمجھا جاتا تھا۔ نہایت دکھ کی بات ہے اور بڑا افسوس ہے کہ ہر ذرے ذرے کا خالق تو اللہ تعالیٰ ہی ہے مگر مشرکین دوسروں کو اس کے برابر لا ٹھہراتے ہیں۔ گزشتہ درس میں یہ بھی ذکر بھی آ چکا ہے کہ ملت حنیفیہ کو بگاڑنے والے یہود ونصاریٰ ہوں یا صابی ملت والے چینی مشرک ‘ قدیم ہندوستانی مشرک ہوں یا جدید آریہ سماجی ‘ ان سب کا اللہ تعالیٰ نے رد فرمایا کہ یہ کس قدر بدبخت لوگ ہیں ۔ کوئی اللہ کے لئے اولاد تجویز کر رہا ہے ‘ کوئی انسانوں میں خدائی اختیارات تسلیم کر رہا ہے ۔ کوئی مسیح کو مختار مطلق اور شفیع مختار سمجھتا ہے۔ کوئی خدا کی صفت خاصہ کو کسی انسان کی طرف منسوب کرتا ہے۔ کوئی مخلوق کی عبادت کرتا ہے ‘ اس کے لئے نذر و نیاز مانتا ہے ‘ رکوع و سجود کرتا ہے ‘ یہ سب چیزیں شرک کی مختلف قسمیں ہیں جن کے متعلق فرمایا ” ثم الذین کفروا بربھم یعدلون۔ یعنی کفر کرنے والے اغیار کو اس کے برابر لا کھڑا کرتے ہیں۔ بہرحال یہاں تک اللہ نے عالم کبیر یعنی کائنات کی تخلیق کا ذکر فرمایا کہ ارض و سما اور پوری کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے ‘ وہ بدیع ہے یعنی ہر چیز اسی کی ایجاد کردہ ہے ۔ اس نے کائنات کی ہر چیز کو بغیر نمونہ کے بنایا۔ لہٰذا وہی معبود برحق ہے۔ اس کے علاوہ باقی سب کفر اور شرک ہے۔ تخلیق انسانی کائنات کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق یعنی عالم صغیرکا ذکر فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کے ساتھ انسانی جسم میں بیرونی دنیا کے تمام خواص جمع فرما دیئے ۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ھوالذی خلقکم من طین اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا۔ انسان اول کی تخلیق مٹی سے ہوئی صحیح حدیث میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا وجود پوری سطح ارض کی مٹی سے بنایا۔ تفسیر مظہری والے قاضی ثناء اللہ پانی پتی حکیم ترمذی (رح) اور ابن عدی (رح) کے حوالے سے درجہ دوئم کی حدیث بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کا جسم جابیہ کی مٹی سے بنایا اور اسے جنت کے پانی سے گوندھا اور پھر اس سے آدم کا پتلا بنایا۔ جس طرح جولان کی پہاڑیاں ام کا حصہ ہیں مگر اب اسرائیل کے قبضہ میں ہیں۔ اسی طرح جابیہ شام میں ایک مقام ہے۔ ویسے لغوی لحاظ سے جبا ایسی پست جگہ کو کہتے ہیں جہاں پانی اور مٹی مل کر گارا بن جاتا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ تمام سطح ارضی کی بلندو پست جگہوں سے مٹی حاصل کی گئی۔ اسی لئے حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس طرح مختلف مقامات کی مٹی مختلف الانواع یعنی سفید ‘ سیاہ ‘ سرخ ‘ پیلی وغیرہ ہے کہیں کی مٹی چکنی ہے اور کہیں کی ریتلی ‘ اسی طرح کے اثرات تمام نسل انسانی میں بھی پائے جاتے ہیں۔ کوئی اچھے اخلاق کا آدمی ہے اور کوئی کھردرے اخلاق والا ‘ کوئی خبیث ہے اور کوئی طبیب کسی کا رنگ سفید ہے اور کسی کا سیاہ ‘ اسی طرح کوئی سرخ رنگ والا ہے اور کوئی پیلا ‘ یہ سب مٹی کے ابتدائی اثرات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے مٹی کو بالکل ایک حقیر چیز بنایا ہے۔ ہر شخص اسے اپنے پائوں تلے روندتا ہے اور جس طرح چاہے اس سے کام لیتا ہے باقی اشیاء کے مقابلے میں خاک کو کم ترین حیثیت دی جاتی ہے۔ جو چیز کسی کام کی نہ ہو اسے خاک سے تشبیہہ دی جاتی ہے مگر مٹی کے اسی عجز و انکسار نے اس کے مقام کو بہت بلند کردیا ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی (رح) اپنے مکتوبات میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی ذاتی تجلیات مقرب فرشتوں جبرائیل اور میکائل کو بھی حاصل نہیں بلکہ یہ اس انسان کے لئے مخصوص ہیں جس کی تخلیق مٹی جیسی حقیر چیز سے ہوئی۔ میر تقی میر اردو کا سب سے بڑا شاعر ہے ‘ جو ناخدائے سخن مانا جاتا ہے۔ شاہ ولی (رح) اور شاہ عبدالعزیز کا ہم عصر ہے۔ وہ اپنے دیوان میں کہتا ہے ؎ میرے مالک نے میرے حق میں یہ احسان کیا خاک ناچیز تھا میں ‘ سو مجھے انسان کیا یعنی میرے مالک کا مجھ پر کتنا احسان ہے کہ میں ایک حقیر اور ناچیز خاک تھا ‘ اس نے مجھے انسان بنا دیا ‘ اسی لئے بزرگان دین فرماتے ہیں کہ انسان کی تخلیق چونکہ جیسی حقیر چیز سے ہوئی ہے لہٰذا اسے ہمیشہ عاجزی اور انکساری اختیار کرنی چاہئے کہ یہی اس کی بلندی و رفعت کی دلیل ہے۔ جو لوگ بزرگوں اور اولیاء اللہ کے پاس بیٹھتے ہیں۔ مرشدان حق کے سامنے زانوئے ادب طے کرتے ہیں ‘ وہ ان سے عجز و انکساری کا درس لیتے ہیں ۔ تو ان میں توحید کا مقام روشن ہوتا ہے اور انہیں معرفت کا جلوہ نظر آتا ہے جس شخص میں تکبر و غرور جیسے برے اخلاق پائے جائیں اسے کچھ حاصل نہیں ہوتا ‘ اسی لئے محاورے میں کہا جاتا ہے۔ ؎ ” ساقی مجھے خاک بےجان کر دے “ یعنی میرے اندر عجز و انکساری پیدا ہو کر بلند مقام حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے۔ شیخ سعدی فرماتے ہیں۔ رسیدم بہ بیل خان بہ عابدے میں بیل خان کی سرزمین میں ایک عابد کے گفتم مرابہ تربیت ازجہل پاک کن پاس پہنچا اور اس سے کہا کہ میری تربیت کر کے بروچوں خاک تحمل کنی فقیہہ مجھے جہلت سے پاک کردیں تو اس بزرگ یا ہر چہ خواندئی ہمہ در زیر خاک کن نے کہا اے عالم فقیہہ جائو ہٹی کی طرح تحمل اور عاجزی اختیار کرو ‘ ورنہ جو کچھ پڑھا ہے اسے مٹی کے نیچے دفن کر دو کیونکہ اس کا کچھ فائدہ نہیں غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے مٹی جیسی حقیر چیز سے انسان کو بنایا جو ملائکہ پر بھی فوقیت رکھتا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) اپنی کتاب حجتہ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں۔ 1 ؎ کہ انسان کی پیدائش سے لاکھوں کروڑوں سال پہلے اللہ تعالیٰ نے ملائکہ مقربین کو انسان کی مصلحت کے لئے پیدا فرمایا ‘ گویا انسان کی مصلت ملاء اعلیٰ کی جماعت پر موقوف ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ خدا کی ذات تو وہ ہے جس نے تمہیں مٹی سے پیدا کیا ثم قضیٰ اجلاً پھر ایک مدت مقرر کی یعنی پیدائش کے ساتھ ہی ہر انسان کی مر بھی مقرر فرمائی۔ چناچہ انسان کے پیدا ہونے سے پہلے رحم مادر میں جب اس کے اندر عالم بالا کی روح پھونکی جاتی ہے ‘ تو فرشتے عرض کرتے ہیں۔ پروردگار ! اس کی مر کتنی ہے روزی کس قدر ہے۔ یہ نیک ہے یا بدبخت ‘ تو یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ انہیں بتلا دیتا ہے جسے وہ اپنے رجسٹروں میں نوٹ کرلیتے ہیں مقصد یہ کہ ہر انسان کی عمر اور اس کی موت کے وقت کو کارکنان قضاء و قدر اللہ تعالیٰ کے بتانے سے جانتے ہیں۔ اسی کے متعلق فرمایا ہے کہ ہم نے انسان کو مٹی سے پیدا کر کے اس کی ایک مدت مقرر کردی ہے۔ آگے فرمایا واجل مسمی عندہ۔ یعنی ایک مدت مقررہ اللہ تعالیٰ کے پاس بھی ہے جس کا علم اس نے نہ کسی مقرب فرشتے کو دیا ہے اور نہ کسی بنی مرسل کو اور وہ ہے مجموعہ عالم کی موت یعنی قیامت کا وقوع۔ اس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے کہ کب واقع ہوگی۔ سورة لقمان میں موجود ہے۔ ان اللہ عندہ علم الساعۃ قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے ” لا یجلیھا لوقتھا الا ھو “ اس کے واقع ہونے کا علم اسی کے پاس ہے ” ثقلت فی السموات والارض لا تاتیکم الا بغتتہ “ (اعراف) یہ زمین و آسمان میں ایک بڑی بوجھل چیز ہوگی اور اچانک آجائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی علامات تو انبیاء کو بتائی ہیں مگر اس کے آنے کا وقت کسی کو نہیں بتایا۔ غرض ! اس اجل مسمی سے قیامت کی مدت مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قیامت صغریٰ یعنی ہر انسان کی موت کا وقت تو فرشتوں کو بتا دیا ہے مگر قیامت کربیٰ کا علم اللہ نے اپنے پاس رکھا ہے جسے کسی پر ظاہر نہیں کیا اللہ تعالیٰ نے قیامت صغریٰ کو قیامت کبریٰ کے لئے دلیل بنایا ہے جس طرح ہر انسان کے لئے موت کا ایک وقت مقرر ہے۔ اسی طرح مجموعہ عالم کی فنا کے لئے بھی ایک مدت مقرر ہے۔ ثم انتم تمترون مگر افسوس کہ تم شک میں پڑے ہوئے ہو۔ کہ اللہ کا وہ وعدہ پورا ہوگا یا نہیں۔ پھر کیا اللہ تعالیٰ کی صفات کمال کے متعلق تمہیں شک ہے ؟ یا اس کی وحدانیت کے متعلق تم متردد ہو ؟ فرمایا وھو اللہ فی السموات و فی الارض وہی خدا ہے آسمانوں اور زمین میں۔ یہ ارض و سما اسی کے پیدا کردہ ہیں۔ اسی کو ان میں تصرف حاصل ہے اور وہی معبود برحق ہے۔ آسمانوں میں بھی اسی کی عبادت ہوتی ہے اور زمین پر بھی حدیث شریف میں آتا ہے ‘ آسمانوں میں ایک بالشت بھر بھی ایسی جگہ خالی نہیں جہاں کوئی فرشتہ عبادت یعنی رکوع و سجود میں مشغول نہ ہو۔ البتہ زمین پر ایک گروہ ایسا ہے جو اللہ تعالیٰ کا نافرمان ہے اور ناہنجار ہے وگرنہ روئے زمین کے تمام جانور ‘ شجر و حجر سب خدا کی عبادت بجا لاتے ہیں سورة نحل میں موجود ہے ‘ اللہ نے فرمایا لوگوں میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اس کی عبادت کرنے کی بجائے شیطان کا اتباع کرتے ہیں ‘ توحید کی بجائے شرک میں مبتلا ہیں اور ایمان کے بجائے کفر کا راستہ اختیار کر رکھا ہے۔ اسی لئے فرمایا آسمانوں اور زمین میں وہی اللہ معبود اور متصرف ہے۔ یعلم سرکم وجھرکم وہ تمہاری پوشیدہ اور ظاہر سب باتوں کو جانتا ہے و یلعم ما تکسبون اور وہ تمہاری کمائی کو بھی جانتا ہے جو نیکی یا بدی کرتے ہو ‘ جس اخلاق یا نفاق میں مبتلا ہو ‘ جو حلال یا حرام کھاتے ہو ‘ جس شکر گزاری یا ناشکری کے مرتکب ہوتے ہو ‘ وہ سب کچھ جانتا ہے ‘ اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔ لہٰذا ایک دن آنے والا ہے جب وہ تم سے ایک ایک چیز کا حساب طلب کرے گا۔ اپنے کلی علم کی صراحت میں اللہ نے سورة ملک میں فرمایا ” الا یعلم من خلق “ کیا وہ نہیں جانے گا جس نے تمہیں پیدا کیا ہے ؟ جس ہستی نے تمہارا جوڑ جوڑ پیدا کیا ‘ جس نے لطیف ترین طاقتیں پھیلائی ہیں ‘ کیا وہ تمہاری حرکات سے واقف نہیں ؟ کیوں نہیں ‘ وہی لطیف بھی ہے اور خبیر بھی ہے وہ ہر چیز کا حساب لے لے گا۔ انسان کی تخلیق میں اللہ تعالیٰ نے مٹی کا ذکر کیا کہ انسان کا بنیادی ڈھانچہ اسی سے تیار کیا گیا ہے۔ پھر مٹی کے گوندھنے کے ضمن میں پانی کا ذکر بھی آ گیا ۔ تاہم یہ بات مشہور ہے کہ انسان اربعہ عناصر یعنی مٹی ‘ پانی ‘ آگ اور ہوا کا مجموعہ ہے۔ ہندوئوں کے فلسفے میں پانچ انسانی عناصر ہیں اور وہ پانچواں عنصر آکاش کو مانتے ہیں۔ قدیم یونان میں چھ اور سات عنصر ماننے والے لوگ بھی موجود تھے ‘ تاہم سائنس کی جدید تحقیق کے مطابق انسانی عناصر ایک سوبیس تک دریافت ہوچکے ہیں اور یہ بات مسلم ہے کہ خارجی دنیا کے تمام عناصر انسانی وجود کا حصہ ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے یہاں پر انسانی موت یعنی قیامت صغریٰ اور مجموعہ عالم کی موت یعنی قیامت کبریٰ کے متعلق اشارات کردیئے ہیں جو صاحب عقل سلیم کو اللہ تعالیٰ کی معرفت تک راہنمائی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی تخلیق ‘ اپنی قدرت کاملہ اور کلی علم کا تذکرہ کرنے کے بعد انسان کی ناشکرگزاری کا تذکرہ ان الفاظ میں فرمایا ہے۔ وما تاتیھن من ایتہ من ایت ربھم ان کے پاس اپنے رب کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی نہیں آتی۔ الا کانوا عنھا معرضین ۔ مگر یہ کہ اس سے اعراض کر جاتے ہیں۔ ان نشانیوں میں تنزیلی نشانیاں بھی ہو سکتی ہیں اور تکوینی بھی۔ تنزیلی آیات کے طور پر اللہ نے اپنے نبی بھیجے ‘ کتابیں نازل فرمائیں اور معجزات کا اظہار فرمایا ‘ مگر ان لوگوں نے اعراض ہی کیا۔ پھر تکوینی یا تخلیقی طور پر انسان کے اردگرد ا قدر نشانیاں پھیلا دیں اور خود وجود انسانی میں ایسے ایسے نشانات موجود ہیں کہ اگر انسان تھوڑا سا غور بھی کرے تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی صفات کو پہچان سکتا ہے۔ اور اگر یہ ان انشانیوں کی طرف توجہ ہی نہ دے بلکہ غفلت میں پڑا رہے تو پھر اس پر معرفت الٰہی کے دروازے کیسے کھل سکتے ہیں ؟ پھر تو وہ اعراض ہی کرے گا جسے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں افسوس کے ساتھ بیان فرمایا ۔ وکاین من ایتہ فی السموات والارض یمرون علیھا و ھم عنہا معرضون ( سورة یوسف) لوگوں کے پاس زمین میں کس قدر نشانیاں ہیں جن کے پاس سے گزر جاتے ہیں مگر ان کی طرف توجہ ہی نہیں دیتے ‘ اللہ نے یہ بھی فرمایا ۔ توفی انفسکم اولا تبصرون خود تمہاری جانوں میں بیشمار نشانیاں موجود ہیں مگر تم انہیں دیکھتے ہی نہیں اور ان میں غور ہی نہیں کرتے۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ ہم نے اپنی معرفت کی بہت سی نشانیاں پھیلا دی ہیں مگر لوگ ان کی طرف متوجہ ہی نہیں ہوتے اس لئے انہیں اللہ کی پہچان بھی نصیب نہیں ہوتی۔ تکذیب حق فرمایا اگر یہ لوگ اعراض کرتے ہیں فقد کذبوا بالحق لما جاء ھم جب بھی ان کے پاس حق آیا انہوں نے اس کی تکذیب ہی کی۔ اور اب اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی اور آخری کتاب کے ذریعہ اپنا آخری پروگرام پیش کردیا ہے۔ اگر ان لوگوں نے اس پروگرام کو بھی جھٹلا دیا۔ فسوف یاتیھم انبواء ماکانوا بہ یستھزون۔ پس عنقریب ان کے پاس وہ خبر یعنی حقیقت آجائے گی جس کے ساتھ یہ ٹھٹا کرتے تھے۔ اس چیز سے مراد قیامت ‘ پل صراط ‘ جزائے عمل ‘ میزان ‘ عالم برزخ اور عالم آخرت سے تعلق رکھنے والی تمام چیزیں ہیں جن کی کافر لوگ تکذیب کرتے ہیں اور ان کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا ان اشیاء کی حقیقت عنقریب ان کے سامنے آجائے گی۔ پھر اس وقت کہیں گے کہ افسوس ! ہم اس حقیقت کو جھٹلاتے رہے ‘ ہم اس کے ساتھ ٹھٹا کرتے رہے۔ ہم نے جنت اور دوزخ کو برحق نہ جانا اور آج یہ ہمارے سامنے ہے۔ مگر اس وقت ا ن کا افسوس کرنا کچھ کام نہ آئے گا اور انہیں اپنے برے اعمال کا مزہ چکھنا ہوگا۔
Ayahs 6:6–11

اَلَمْ یَرَوْا كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنْ قَرْنٍ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ مَا لَمْ نُمَكِّنْ لَّكُمْ وَ اَرْسَلْنَا السَّمَآءَ عَلَیْهِمْ مِّدْرَارًا١۪ وَّ جَعَلْنَا الْاَنْهٰرَ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمْ فَاَهْلَكْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ وَ اَنْشَاْنَا مِنْۢ بَعْدِهِمْ قَرْنًا اٰخَرِیْنَ Open ayah 6:6 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھا ان لوگوں نے کہ ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی قومیں ہلاک کیں کہ ہم نے ان کو ٹھکانا دیا تھا زمین میں کہ نہیں ٹھکانا دیا تھا اتنا تم کو اور چھوڑا ہم نے ان پر آسمان بارش برسانے والا ‘ اور بنائی ہم نے نہریں جو ان کے سامنے بہتی تھیں۔ پس ہم نے ان کو ہلاک کیا ان کے گناہوں کی بدولت اور ہم نے پیدا کردیا ان کے بعد دوسری قوموں کو

وَ لَوْ نَزَّلْنَا عَلَیْكَ كِتٰبًا فِیْ قِرْطَاسٍ فَلَمَسُوْهُ بِاَیْدِیْهِمْ لَقَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّا سِحْرٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 6:7 in the Quran reader

اگر ہم نازل کریں آپ پر کتاب کاغذ پر لکھی ہوئی ‘ پس یہ اس کو اپنے ہاتھوں سے چھوئیں تو کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کہ نہیں ہے یہ مگر کھلا جادو

وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ مَلَكٌ١ؕ وَ لَوْ اَنْزَلْنَا مَلَكًا لَّقُضِیَ الْاَمْرُ ثُمَّ لَا یُنْظَرُوْنَ Open ayah 6:8 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ لوگ کہ کیوں نہ اتارا جاتا اس پر فرشتہ اور اگر ہم اتاریں فرشتے کو ‘ البتہ فیصلہ کردیا جائے معاملے کا ‘ پھر ان کو مہلت نہ دی جائے

وَ لَوْ جَعَلْنٰهُ مَلَكًا لَّجَعَلْنٰهُ رَجُلًا وَّ لَلَبَسْنَا عَلَیْهِمْ مَّا یَلْبِسُوْنَ Open ayah 6:9 in the Quran reader

اور اگر ہم اس کو بناتے فرشتہ ‘ البتہ ہم بناتے اس کو انسان کی صورت میں وار ہم ان پر ملتبس کردیں گے اس چیز کو کہ جس کے التباس میں یہ پڑے ہوئے ہیں۔

وَ لَقَدِ اسْتُهْزِئَ بِرُسُلٍ مِّنْ قَبْلِكَ فَحَاقَ بِالَّذِیْنَ سَخِرُوْا مِنْهُمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠ Open ayah 6:10 in the Quran reader

البتہ تحقیق ٹھٹا کیا گیا رسولوں کے ساتھ آپ سے پہلے ‘ پس گھیر لیا گیا ان لوگوں کو جنہوں نے ٹھٹا کیا تھا ان میں سے اس چیز نے جس کے ساتھ وہ ٹھتا کرتے تھے۔

قُلْ سِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِیْنَ Open ayah 6:11 in the Quran reader

اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے چلو زمین میں پھر دیکھو ‘ کیسا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا

ابتدائی آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اعراض کا ذکر کر کے ان کی تردید فرمائی۔ کہ جب بھی ان کے پاس کوئی نشانی آتی ہے ‘ وہ حق کو جھٹلا دیتے ہیں۔ فرمایا اس کی حقیقت عنقریب ان کے سامنے آجائے گی جب وہ سزا میں مبتلا ہوں گے اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے اعراض کرنے والوں کو تنبیہہ فرمائی ہے ‘ اور انہیں وعید سنائی ہے۔ مثال کے طور پطر سابقہ قوموں کا حال بھی بیان کیا ہے کہ انہوں نے کس طرح اللہ کے احکام کی نافرمانی کی تو سزا میں مبتلا ہوئے ‘ اگر یہ لوگ بھی احکام الٰہی سے اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے اعراض کریں گے تو پہلی قوموں کی طرح سزا میں مبتلا ہوں گے ۔ آج کے درس میں نزول قرآن کے متعلق مشرکین کے اعتراضات اور ان کے جوابات کا بیان بھی ہے اور ساتھ ساتھ حضور ﷺ کو تسلی بھی دی گئی ہے۔ طاقتور قوموں کی ہلاکت خدا تعالیٰ نے مشرکین عرب کو خطاب کر کے پہلی قوموں کی ہلاکت کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ۔ الم یروا کم اھلکنا من قبلھم من قرن کیا نہیں دیکھا یعنی کیا ان کو معلوم نہیں کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کردیا۔ ایسی قومیں مکنھم فی الارض مالم نمکن لکم۔ کہ ہم نے انہیں زمین میں ایسا جمایا تھا ‘ ایسا ٹھکانا دیا تھا کہ اس جیسا تمہیں نہیں دیا۔ یعنی تمہاری نسبت سابقہ قوموں کے پاس جسمانی اور مادی طاقت بھی زیادہ تھی اور ان کو وسائل بھی زیادہ مہیا تھے ‘ مگر اس کے باوجود ہم نے ان کی نافرمانی کی وجہ سے انہیں ہلاک کر ڈالا۔ لفظ قرآن کے مختلف معانی اس آیت کریمہ میں لفظ قرن خاص طور پر توجہ طلب ہے۔ عربی زبان میں قرن کے بہت سے معانی وارد ہوئے ہیں۔ اس کا ایک معنی کنارا ہے اسی لئے قرن الشمس سورج کے کنارے کو کہتے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب سورج کا کنارہ نظر آنے لگے تو اس وقت نماز درست نہیں ہوتی۔ قران سینگ کو بھی کہتے ہیں اور اسی لحاظ سے اس کا اطلاق بگل پر بھی ہوتا ہے۔ حضور ﷺ نے اسرافیل (علیہ السلام) کو صاحب القرن (سینگ یا بگل والا) کہا ہے کیونکہ وہ صور پکڑے اللہ کے حکم کا منتظر ہے کہ جب حکم ہو تو وہ اسے پھونک کر کائنات کو تباہ کر دے ‘ حضور نے یہی فرمایا ہے کیف انعم و صاحب القرن میں قرن والے فرشتے سے کیسے بےفکر ہو سکتا ہوں جو پوری کائنات کو درہم برہم کرنے کے لئے مستعد کھڑا ہے۔ قرن کا لفظ زمانے کی ایک خاص مدت پر بھی بولا جاتا ہے۔ قرن کی مدت کے متعلق چالیس سال سے لیکر ایک سو بیس سال کے عرصہ خی اقوال ملتے ہیں تام عام طور پر سو سال کے زمانے کو قرن کہتے ہیں ایک صحابی کے لئے حضور ﷺ نے برکت کی دعا فرمائی تھی اور اس کے سر پر ہاتھ بھی پھیرا تھا۔ تو اس شخص نے سو سال کی عمر پائی تھی ‘ اس لحاظ سے ایک قرن کو سو سال کے برابر تسلیم کیا جاتا ہے۔ اور قرن کا معنی قوم اور جماعت بھی ہوتا ہے ‘ جیسے حصور (علیہ السلام) کا ارشاد مبارک ہے۔ خیر القرون قرنی ثم الذین یلونھم ثم الذین یلونھم ینی انسانوں کی جماعت کے اعتبار سے سب سے بہتر میرا زمانہ ہے۔ پھر ان سے ملنے والے لوگوں کا اور پھر ان سے ملنے والے لوگوں کا تو اس آیت کریمہ میں قرن سے مراد جماعت ہے کہ دیکھو ان سے پہلے ہم نے کتنی قوموں کو ہلاک کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے ہلاک ہونے والی قوموں میں سے بعض کا ذکر قرآن پاک میں کیا ہے جیسے قوم عاد ‘ قوم ثمود ‘ قوم فرعون اور قوم تبع وغیرہ۔ اور بعض قوموں کا ذکر نہیں کیا جیسے قدیم مصری اقوام ‘ آشوری اور کلدانی لوگ اور اجنٹا اور الورا تہذیبوں کے حاملین ‘ اس برصغیر میں بھی بعض پرانی تہذیبوں کے آثار ملتے ہیں۔ ہڑپہ اور منجوڈھارو کے کھنڈرات سے ساڑھے چھ ہزار سال پرانی تہذیب کا پتہ چلتا ہے۔ کھدائی کے دوران برآمد ہونے والے برتن اور دیگر اشیاء دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے۔ ٹیکسلا کے کھنڈرات سے بھی ایک عظیم تہذیب کے نشانات ملے ہیں ‘ کسی زمانے میں یہ کسی بڑی سلطنت کا دارالخلافہ تھا۔ ان کے پاس مال و دولت اور دیگر وسائل بہت زیادہ تھے اور وہ جسمانی طاقت میں بہت بڑھے ہوئے تھے۔ دوسرے مقام پر آتا ہے کہ ہم نے ان کو جو طاقت اور سلطنت دی تھی ‘ تمہیں اس کا عشر عشیر بھی نہیں دیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے ایسی بہت سی قوموں کو تم سے پہلے ہلاک کردیا۔ آج ان کے نشانات صرف کھنڈرات کی صورت میں ہی ملتے ہیں۔ فرمایا ان قدیم قوموں پر ہم نے اور بھی بہت سے احسان کئے تھے۔ منجملہ ان کے یہ بھی ہیں۔ اور سلنا السماء علیھم مدارادا ہم نے ان پر بارش برسانے والا آسمان چھوڑ دای۔ ان کی ضرورت کے مطابق آسمان سے بازش نازل ہوتی تھی جس سے ان کی فصلیں خوب پیداوار دیتی تھیں اور انہیں خوشحالی نصیب ہوتی تھی۔ فرمایا اس کے علاوہ وجعلنا الانہار تجہری من تہتھم ان کے سامنے نہریں جاری تھیں فرعون کے زمانے میں مصر میں بڑے بڑے ڈیم بنے ہوئے تھے اور آبپاشی کے وسیع ذرائع موجود تھے زمین زرخیز تھی اور لوگ معاشی لحاظ سے مضبوط تھے لیکن ہوا یہ کہ فاھلکنھم بذنوبھم ان کے گناہوں کی وجہ سے ہم نے انہیں ہلاک کردیا۔ جب انہوں نے سرکشی اختیار کی ‘ توحید کو چھوڑ کر شرک کا راستہ اختیار کیا ‘ اطاعت کی بجائے معاصی ہیں مبتلا ہوگئے تو ہم نے انہیں صفحہ ہستی سے ناپید کردیا۔ فرمایا ” کذلک نجزی الظلمین “ ہم ظالموں کو اسی طرح سزا دیا کرتے ہیں۔ دوسری جگہ آتا ہے کہ ہمارا قانون یہ ہے کہ ” نجزی کل کفور “ ہم ہر کفر کرنے والے کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ اور یہ قانون آج بھی جاری ہے ‘ فرق صرف یہ ہے کہ اب سزا کے طریقے بدل چکے ہیں ‘ پہلی قوموں پر براہ راست عذاب نازل ہوا اور وہ ہلاک ہوگئے۔ قوم عاد اور ثمود کو بالکل ختم کردیا گیا ‘ البتہ ان کے نشانات ہزاروں سال بعد بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ وادی تبوک میں ان کے بنائے ہوئے مکانات کے نمونے آج بھی موجود ہیں۔ وہ لوگ پتھروں کو تراش تراش کر پہاڑوں میں بڑے خوبصورت اور نقش و نگار والے گھر تعمیر کرتے تھے۔ فرمایا ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں ہلاک کیا۔ وانشا نامن بعد ھم قرنا اخرین۔ پھر ان کے بعد ہم نے دوسری قوموں کو پیدا کیا۔ یہ تنبیہہ کی جا رہی ہے کہ اگر یہ لوگ بھی کفر و شرک پر اصرار کریں گے ‘ تو ویسے ہی سزا میں مبتلا ہوں گے جیسے پہلی قومیں ہوئیں۔ اور اب سزا کا طریقہ یہ ہے کہ کبھی سماوی اور ارضی آفات کے ذریعے ملتی ہے اور کبھی خود انسانوں کے ہاتھوں سے مجرمین کی سرزنش کردی جاتی ہے۔ چناچہ مشرکین مکہ کو میدان بدر میں مسلمانوں کے ہاتھوں سخت ذلت اٹھانا پڑی۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ مشرکین مکہ حضور ﷺ کے اس دعویٰ کو تسلیم نہیں کرتے تھے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں یا آپ پر وحی نازل ہوتی ہے اور فرشتہ اللہ کا پیغام آپ کے پاس لاتا ہے وہ کہتے تھے کہ ہم آپ پر اس شرط پر ایمان لائیں گے کہ اللہ کا فرشتہ لکھی لکھائی کتاب ہمارے سامنے لائے ‘ بعض کہتے تھے کہ مکمل کتاب بیک وقت آنی چاہئے جسے چار فرشتے اٹھا کر لائیں ‘ وہ ہمارے سامنے رکھیں جسے ہم چھو کر محسوس کرسکیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ولو نزلنا علیک کتابا فی قرطاس اگر ہم پر کاغذ پر لکھی ہوئی کتاب نازل کریں۔ فلمسوہ بایدھم پھر یہ لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھوئیں لقال الذین کفروا ان ھذا الا سحر مبین تو پھر بھی کفر کرنے والے یہی کہیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ مقصد یہ کہ اگر ان کی فرمائش پوری بھی کردی جائے تو پھر بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے بلکہ حیلے بہانے سے انکار ہی کریں گے ‘ اس طرح حضور ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ ان کے اعتراضات سے رنجیدہ خاطر نہ ہوں ‘ اگر ان کی فرمائش پوری بھی کردی جائے تب بھی یہ ایمان سے محروم ہی رہیں گے۔ نزول فرشتہ کی فرمائش آگے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے ایک اور اعتراض کا ذکر کیا ہے۔ وقالو لو لا انزل علیہ ملک وہ کہتے ہیں کہ اگر اپ اللہ کے سچے رسول ہیں تو اصلی شکل و صورت میں فرشتہ کیوں نہیں اتارا جاتا۔ آپ کے پاس فرشتہ آئے ‘ ہم اسے دیکھیں ‘ وہ آپ کی تصدیق کرے تو ہم ایمان لے آئیں گے۔ مگر اللہ نے فرمایا ‘ ان کی یہ فرمائش بالکل بیہودہ اور ان کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ ولو انزلنا ملکا اگر ہم فرشتے کو اپنی اصل شکل میں اتاریں لقضی الامر تو معاملے کا فیصلہ ہی کردیا جائے۔ یعنی اگر فرشتہ ان کے سامنے آجائے تو اسے دیکھنے کی طاقت نہ پا کر فوراً ہلاک ہوجائیں گے ‘ یعنی ان کا معاملہ ہی صاف ہوجائے گا۔ ثم لا ینظرون پھر ان کو مہلت ہی نہیں ملے گی ‘ یعنی فوراً ہی ان کی موت واقع ہوجائے گی ‘ اور انہیں آپ کی تصدیق کرنے اور ایمان لانے کی مہلت ہی نہیں ملے گی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے دو مرتبہ جبرئیل (علیہ السلام) کو اپنی اصلی شکل میں دیکھا۔ پہلی دفعہ غار حرا پر دیکھا تو دہشت طاری ہوگئی ‘ غشی آنے لگی ‘ آپ پر کپکپی طاری ہوگئی۔ اسی حالت میں آپ گھر تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اوڑھا دو اور دوسری مرتبہ آپ نے جبرئیل کو سدرۃ المنتہیٰ کے قریب اصلی حالت میں دیکھا جیسا کہ سورة نجم میں مذکور ہے ولقد راہ نزلۃ اخریٰ عند سدرۃ المنتہیٰ بہرحال تمام انبیاء میں سے صرف حضور ﷺ نے ہی جبرئیل (علیہ السلام) کو اپنی اصل شکل میں دیکھا ہے عام طور پر جبرئیل (علیہ السلام) انسانی شکل میں آپ کے پاس آتے تھے یا پھر انسلاخ کے طریقے پر قلب کے ساتھ تعلق جوڑ کر بات کرتے تھے۔ اگرچہ پیغمبر کے قوائے روحانیہ بہت زیادہ طاقتور ہوتے ہیں ‘ اس کے باوجود فرشتوں کو اصلی حالت میں دیکھنا عام طور پر ممکن نہیں ہوتا۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) الطاف القدس میں فرماتے ہیں کہ عام انسانوں کے حواس باطنہ پانچ ہوتے ہیں جب کہ پیغمبروں میں چھٹی حس بھی ہوتی ہے جس کے ذریعے وہ فرشتے سے رابطہ قائم کرتے ہیں۔ یہ وہی حس ہے جو فرشتے کو برداشت کرسکتی ہے اس لئے یہاں پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر ان مشرکین کی فرمائش پر ہم فرشتے کو نازل کردیں تو یہ اسے برداشت نہیں کرسکیں گے اور فوراً ان کا کام تمام ہوجائے گا۔ پتھروں کو تراش تراش کر پہاڑوں میں بڑے خوبصورت اور نقش و نگار سے گھر تعمیر کرتے تھے۔ فرمایا ‘ اگر ہم ان لوگوں کی فرمائش کی تکمیل کرنا ہی چاہیں ولو جعلنہ ملکا یعنی اگر ہم فرشتے کو بھیجنا ہی چاہیں لجعلنہ رجلا تو ہم اسے انسان کی شکل میں متشکل کر کے بھیجیں گے ۔ ملائکہ اور جنات کو اللہ تعالیٰ نے اجازت دی ہے کہ وہ انسان یا حیوان جس شکل میں چاہیں متشکل ہو سکتے ہیں۔ اسی لئے فرمایا کہ ہم فرشتے کو انسانی شکل میں بھیجیں گے تا کہ یہ لوگ اسے برداشت کرسکیں۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ وللبسنا علیھم ما یلبسون تو ہم ان پر اسی چیز کو ملتبس کردیں گے۔ جس التباس میں یہ پڑے ہوئے ہیں یعنی وہ جس ضد پر اب قائم ہیں ‘ اسی پر قائم رہیں گے اور فرشتے کو دیکھ کر ایمان نہیں لائیں گے۔ اس وقت ان کی حالت یہ ہے کہ ایک انسان کو نبی ماننے کے لئے تیار نہیں۔ اور پھر جب انسانی صورت میں فرشتہ آئے گا تو کہیں گے کہ یہ فرشتہ نہیں بلکہ انسان ہے جیسا کہ سورة شعراء میں موجود ہے ‘ لوگوں نے کہا ما انت الا بشر مثلنا کہ آپ تو ہمارے جیسے انسان ہیں ۔ سورة مومنون میں ہے کہ کفار کے سرداروں نے کہا ” ما ھذا الا بشر مثلکم “ یعنی یہ بھی تو تمہاری طرح انسان ہی ہے یہ بھی ہماری طرح کھاتے پیتے ہیں شادیاں کرتے ہیں ‘ بال بچے والے ہیں ” یمشون فی الاسواق “ (الفرقان) بازاروں میں جاتے ہیں ‘ سود اسلف لاتے ہیں ‘ یہ کیسے نبی ہو سکتے ہیں ؟ بہرحال فرمایا کہ انسانی شکل میں فرشتے کو دیکھ کر بھی انکار ہی کردیں گے گویا اسی شبہ میں پڑے رہیں گے جس میں اس وقت مبتلا ہیں اور ایمان نہیں لائیں گے۔ اس طرح حضور ﷺ کو تسلی دی گئی ہے کہ آپ ان کے انکار کی وجہ سے گبھرائیں نہیں یہ لوگ تو اسی طرح کرتے رہتے ہیں۔ آپ اپنا کام جاری رکھیں۔ رسولوں کے ساتھ ٹھٹا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی کے لئے مزید فرمایا ولقد استھزی برسل من قبلک البتہ تحقیق اللہ کے رسولوں کے ساتھ آپ سے پہلے بھی ٹھٹا کیا گیا۔ ان کے متعلق اعتراض کرتے تھے کہ ان کے پاس مال و دولت نہیں ہے ‘ فوج اور پہریدار نہیں ‘ ان کی کیا پوزیشن ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے ساتھ ٹھٹا کیا گیا ‘ حضرت صالح اور ہود کا مذاق اڑایا گیا ‘ کہتے تھے یہ چوہدری بننا چاہتے ہیں مگر ہم آپ کی سیادت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ان کا اعتراض تھا کہ آپ کے ماننے والے کم تر لوگ ہیں ‘ کوئی بڑا آدمی آپ کا حامی نہیں ‘ لہٰذا ہم آپ کو رسول کیسے مان لیں ؟ فرمایا کہ آپ سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ ٹھٹا کیا گیا اور پھر اس کا نتیجہ کیا ہوا ؟ فحاق بالذی سخروا منھم ما کانوا بہ یستھزئون پھر ٹھٹا کرنے واوں کو اسی چیز نے گھیر لیا جس کے ذریعے وہ ہنسی مذاق کیا کرتے تھے۔ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کی گرفت کا مذاق اڑاتے تھے ‘ کہتے تھے فاتنا بما تعدنا ان کنت من الصدقین۔ (اعراف) اگر تو اپنی بات میں سچا ہے تو جو قیامت ہم پر ڈھانا چاہتا ہے لے آ۔ او تسقط اسلماء کما زعمت علینا کسفا) (بنی اسرائیل) یا ہم پر آسمان کا ٹکڑا گرما دے۔ ہم تو نہیں مانیں گے۔ تو فرمایا کہ جس چیز کے ساتھ ٹھٹا کرتے تھے ‘ اسی نے ان کو گھیر لیا۔ اللہ کی طرف سے گرفت آئی اور یہ لوگ سزا میں مبتلا ہوگئے۔ فرمایا قل سیروا فی الارض اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ زمین میں چلو پھرو ‘ ملازمت کاروبار یا سیر و تفریح کے لئے تو سفر کرتے رہتے ہو ‘ کبھی عبرت حاصل کرنے کے لئے بھی نکلو تم انظرواکیف کان عاقبتہ المکذبین پھر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا برا انجام ہوا پرانی قوموں کے حالات معلوم کرو۔ ان کے آثار قدیمہ پر نظر دوڑائو اور پھر دیکھو کہ وہ کس شان و شوکت کے مالک تھے مگر ان کا حشر کتنا عبرتناک ہوا۔ آشوری اور کلدانی قوموں کا حال دیکھو ‘ اجنٹا اور الورا والوں کا کیا بنا عاد اور ثمود کے کھنڈرات دیکھو کہ کتنی بڑی بڑی اور نقش و نگار سے مزین عمارات تعمیر کرتے تھے مگر آج ان کی تہذیبیں صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہیں۔ یہ جائے عبرت ہے کہ جن لوگوں نے خدا تعالیٰ کی توحید کو جھٹلایا ‘ کتب الٰہیہ اور قیامت سے انکار کیا ‘ دنیا میں بڑا عروج حاصل کیا مگر آخرکار اللہ تعالیٰ کے عذاب میں مبتلا ہو کر تباہ و برباد ہوئے ‘ ان کی کوئی چیز باقی نہ رہی۔ یہ تو اس دنیا میں عبرتناک انجام ہے جب قیامت قائم ہوگی تو انہیں اللہ رب العزت کے حضور پیش ہو کر ایک ایک چیز کا حساب دینا ہوگا ‘ اس وقت انہیں معلوم ہوگا کہ وہ اللہ کے نبیوں ‘ اس کی کتابوں اور جزائے عمل کو جھٹلاتے رہے اور پھر وہ دائمی عذاب میں مبتلا ہوجائیں گے۔