Ayah 6:158شرک ، مشرکین اور شرکیہ رسوم کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے سے متعلق حرام اشیاء کی وضاحت فرمائی پھر مشرکین کی خود ساختہ محرمات از قسم نذر لغیر اللہ کی تردید فرمائی ۔ پھر ملت حنیفی کی ناجائز باتوں کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا۔ پھر تورات کا بیان آیا اور آخر میں قرآن حکیم کا تذکرہ بطور بابرکت کتاب کے کیا۔ نیز اس کا اتباع کرنے کا حکم دیا اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی نصیحت کی تا کہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی تمہارے شامل حالہو جائے خداوند تعالیٰ نے اس آخری کتاب کو نازل کر نیکی وجہ بھی بیان فرما دی تا کہ مشرک لوگ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہم سے پہلے یہودونصاریٰ کو کتابیں ملیں مگر ہمارے پاس وئی کتاب نہیں آئی اور یہ کہ ہمارے پاس بھی کوئی کتاب آتی تو ہم یہود و نصاریٰ سے زیادہ ہدایت یافتہ ہوتے کیونکہ ان کی نسبت ہمارے اذہان بہتر ہیں۔ اللہ نے اپنی آخری کتاب قرآن کریم نازل فرما کر مشرکین کے تمام عذر رفع کردیئے او فرمایا کہ اب جو بھی اس کتاب کو تسلیم کرنے سے اعراض کریگا ، وہ خدا تعالیٰ کے شدید عذاب کا شکارہو کر رہیگا۔ جب اللہ تعالیٰ نے انسان کی ہدایت کے لئے تمام ظاہری اور باطنی اسباب مہیا کردیئے حواس ظاہرہ عطا کرنے کے علاوہ وقتاً فوقتاً اپنے رسول اور کتابیں بھجیں اور پھر آخری رسول اور آخری کتاب نازل فرما کر اپنی نعمت کو تمام کردیا تو فرمایا اب ہدایت کی قبولیت کے لئے مزید کس چیز کا انتظار کر رہے ہو۔ سورة مرسلات میں اسی چیز کو یوں بیان فرمایا ہے۔ ” فبای حدیث بعدہ یومنون “ ان تمام ذرائع کے بعد اور اللہ کے رسول اور ذخری کتاب کی آمد کے بعد تم کس کتاب ، رسول اور شریعت پر ایمان لائو گے۔ اب تو نوع انسانی کی ہدایت کا سلسلہ مکمل ہوچکا ہے۔ اگر اب بھی ایمان نہیں لاتے تو پھر باقی کون سی چیز آنے والی ہے جس کا انتظار کر رہے ہو کہ وہ آئیگی تو ایمان لائیں گے۔
ارشاد ہوتا ہے ھل ینظرون الا ان تاتیھم الملائکۃ یہ لوگ نہیں اتظار کرتے مگر اس بات کا کہ ان کے پاس فرشتے آئیں ان لوگوں کو علم ہونا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے دو مقاصد کے لئے آتے ہیں پہلا مقصد یہ ہے کہ جب کوئی انسان اس دنیا کی زندگی پوری کرلیتا ہے تو فرشتے اس کی جان قبض کرنے کے لئے آتے ہیں تو کیا یہ لوگ اپنی موت کا انتظار کر رہے ہیں کعہوہ وقت قریب آئے تو فرشتے ان کے پاس جان کنی کے لئے آئیں پہلے اسی سورة میں گزر چکا ہے اور آگے بھی آئے گا کہ انسان کی روح قبض کرنے کے لئے اللہ کے فرشتے آتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مشرکین موت کے منتظر ہیں۔
فرشتوں کے نزول کا دوسرا مقصد بعد از مرگ انسان کا محاسبہ ہوتا ہے چناچہ یہ محاسبہ اولاً عالم برزخ میں ہوتا ہے جب فرشتے حاضر ہو کر مرنے والے کے ساتھ قبر میں سوال و جواب کرتے ہیں اور بعض کو سزا اور بعض کو راحت پہنچاتے ہیں پھر ایک آخری محاسبہ حشر کے دن بھی ہوتا ہے وہاں بھی فرشے حاضر ہو کر اللہ کے حکم کے مطابق اپنا اپنا فرض ادا کریں گے ۔ قرآن میں اس کی وضاحت موجود ہے کہ فرشتے آئیں گے اور محاسبے کی منزل شروع ہوگی۔ اس حقیقت کی روشنی میں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اگر مشرک لوگ آج ایمان نہیں لاتے ، ہدایت کے جملہ وسائل سے استفادہ حاصل نہیں کرے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اب وہ قیامت کے منتظر ہیں کہ قیامت آئے تو فرشتے بھی آئیں کیا فرشتوں کے آنے کا مطلب ہے ؟
فرمایا کیا ان کا یہ مقصد ہے اویاتی ربک یا تیرا پروردگار خود آجائے ، تب یہ ایمان لائیں گے ۔ اللہ تعالیٰ کو تو انسانی جسم پر محمول (یاقیاس) نہیں کیا جاسکتا انسان ایک خاص شکل و صورت اور اعضارکھتا ہے اور ایک مقام سے حرکت کر کے دوسری جگہ آتا جاتا ہے کیا یہ بیوقوف خدا تعالیٰ میں ایسی ہی صفات تلاش کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ خود چل کر ان کے پاس آجائے۔ اللہ تعالیٰ تو اس طرح حرکت نہیں کرتا۔ اس کا ظہور تو ذریعہ تجلی ہوگا وہ اپنی جگہ پر قائم ہے اس پر تغیر و تبدل طاری نہیں ہوتا۔ البتہ ایک وقت آئے گا جب وہ تجلی فرمائیگا اس کے بعد احکام نازل ہوں گے اور تمام حالات تبدیل ہوجائیں گے ایسی باتوں کا ذکر تو کیا جاسکتا ہے مگر خدا تعالیٰ کے چل کر آنے کا تصور نہیں کیا جاسکتا ۔ فرشتوں کے نزول کا تذکرہ سورة فرقان میں بھی ہے۔
” و یوم تشقق السمآء بالغمام ونزل الملئکۃ تنزیلاً “ جس دن آسمان بادل کے ساتھ پھٹ جائیگا اور پھر فرشتے نازل ہونگے۔
مگر اللہ تعالیٰ کا ظہور خاص قسم کی تجلی کی صورت میں ہوگا ، اللہ تعالیٰ نزول اجلال فرمائے گا اور کائنات کے درمیان فیصلے فرمائے گا مگر یہ سب کچھ قیامت والے دن ہوگا۔ تو کیا یہ لوگ اس دن کا انتظار کر رہے ہیں ؟
فرمایا ان لوگوں کو ایک اور چیز کا انتظار بھی ہو سکتا ہے اویاتی بعض آیت ربک یا یہ تمہارے رب کی نشانیوں کے انتظار میں ہیں کہ جب وہ آئیں گی تو پھر ایمان لائیں گے۔ اگر نشانیوں سے مراد مطلق معجزات ہیں توہ بہت سے ظاہر ہوچکے ہیں جنہیں دیکھ کر ان کو ایمان نصیب نہیں ہوا اور اگر آیات سے مراد اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور قدرت کے دلائل ہیں تو وہ اللہ نے جگہ جگہ پھیلا رکھے ہیں جیسے سورة بقرہ میں موجود ہے کہ ان فی خلق السمٰوت والارض… الخ یعنی آسمان و زمین کی ختلیق ، رات دن کے اختلاف ، سمندر میں چلنے والی کشتی ، آسمان سے ناززل ہونیوالا پانی ، وائوں کی اڑان اور زمین و آسمان کے درمیان بادلوں کی تسخیر صاحب عقل لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں مگر یہ لوگ انہیں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائے اب باقی تو قیامت کی بڑی بڑی نشانیاں رہ گئی ہیں جو وقوع قیامت سے قبل ظاہر ہوں گی ۔ مگر جب یہ نشانیاں ظاہر ہونگی تو اس وقت کا ایمان لانا کچھ فائدہ نہیں دیگا۔
حدیث کی اکثر کتب مشمولہ صحاحستہ میں قیامت کی دس بڑی بڑی نشانیوں کا ذکر موجود ہے جن میں سے ایک عظیم نشانی یہ ہے کہ سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہوگا ایک موقع پر جب سورج غروب ہورہا تھا تو حضور ﷺ نے حضرت ابوذر غفاری ؓ سے فرمایا کیا تم جانتے ہو کہ یہ سوج کہا جاتا ہے کہ عرض کیا حضور ! اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں آپ نے فرمایا کہ سورج ہر روز یہاں سے جا کر عرش الٰہی کے نیچے سجدہ کرتا ہے اور پھر اسے اپنی رفتار جاری رکھنے کی اجازت ملتی ہے اور وہ حسب معمول اپنا سفر جاری کردیتا ہے۔ فرمایا ایک دن ایسا آئے گا کہ جب سورج سجدہ کیلئے حاضر ہوگا تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا کہ اپنی حرکت الٹ دو چناچہ سورج مشرق کی بجائے مغرب سے طلوع ہوگا لوگ یہ عظیم نشانی دیکھ کر گھبرا اٹھیں گے اور سب لوگ ایمان لانے کی کوشش کریں گے ۔ حدیث کے الفاظ امن الناس کلھم اجمعون سارے کے سارے لوگ ایمان لے آئیں گے مگر اس دن کسی کا ایمان قبول نہیں ہوگا۔
بخاری شریف میں ہے کہ سورج کا مغرب سے طلوع اور دابۃ الارض کا ظہور قیامت کی دس نشانیوں میں سے ہے۔ اسکے علاوہ مسیح (علیہ السلام) کا نزول اور دجال کا خروج بھی انہی نشانیوں میں سے ہے پھر تین قسم کے بڑے بڑے خسف واقع ہوں گے ، یعنی لوگ زمین میں دھنسا دیئے جائیں گان میں سے ایک واقعہ مشرق میں ، ایک مغرب میں اور ایک جزیرۃ العرب میں ہوگا۔ ایک نشانی یہ بھی ہے کہ عدن کے کنارے سے بڑی لمبی چوڑی آگ نکلے گی جو لوگوں کو ہانک کر شام کی طرف لے جائیگی یہ آگ دوپہر کے وقت رک جائیگی اور لوگ آرام کرلیں گے اس کے بعد آگ پھر چل پڑے گی اور لوگ اس کے آگے آگے بھاگ رہے ہوں گے بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ سورج کا مغرب سے طلوع اور دجال کا خروج ایک دن یکے بعد دیگرے واقع ہوں گے ایک روایت میں یوں ہے کہمغرب کی جانب توبہ کا ایک دروازہ ہے التوبۃ معروضۃ یہ دروازہ انسان کے لئے ہر وقت کھلا ہے تا کہ وہ توبہ کر کے اپنے گناہوں کی معافی مانگ لے لیکن ایک دن ایسا آئے گا جب یہ دروازہ بند ہوجائے گا اور اس کے بعد کسی کی توبہ قبول نہیں ہوگی اس وقت پوری کائنات پر بحیثیت مجموعی جان کنی کی حالت طاری ہوگی۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے توبۃ العید مالم یفسرغر “ انسان کی توبہ اس وقت تک قبول ہوتی ہے جب تک کہ غرغرہ نہ طاری ہوجائے جب جان سینے سے نکلنے لتی ہے اور فرشتے نظر آجاتے ہیں غیب کا پردہ اٹھ جاتا ہے تو کسی فرد کی توبہ ایسے وقت میں قبول نہیں ہوتی۔ اسی طرح جب پوری کائنات پر بوجہ قیامت ایسی حالت طاری ہو جائیگی تو اس وقت بھی کسی کی توبہ قابل قبول نہ ہوگی یومایاتی بعض ایت ربک جس دن آئیں گی تیرے رب کی بعض نشانیاں۔
فرمایا جب قیامت کی نشانیاں ظاہر ہوجائیں گی لاینفع نفساً ایمانھا اس وقت کسی نفس کا ایمان لانا مفید نہیں ہوگا کیونکہ یہ اضطراری حالت کا ایمان ہوگا جب کہ قابل قبول ایمان وہ ہے جو اپنے ارادے اور مشیت سے از خود اختیار کیا جائے فرمایا ایسا ایمان قابل قبول نہیں ہوگا لم تکن امنت من قبل جو نشانیاں ظاہر ہونے سے پہلے پہلے اختیار نہ کیا گیا ہو جب نشانیاں ظاہر ہو جائینگی تو پھر ایمان لانے کا وقت گزر چکا ہوگا سورة یونس میں موجود ہے کہ غرقابی کے وقت تو فرعون نے بھی کہا تھا کہ میں اس وحدہ لا شریک پر ایمان لایا جس پر بنو اسرائیل ایمان لائے ہیں اور اقرار کیا مگر اللہ نے فرمایا الن وقد عصیت قبل و کنت من المفسدین “ اب تیرا ایمان قبول نہیں کیونکہ تو اس سے پہلے نافرمان اور مفسد تھا غرضیکہ قیامت کی نشانیوں کے ظہور کے بعد نہ تو ایمان قبول ہوگا اوکسبت فی ایمانھا خیرا اور نہ ہی کوئی نیکی قبول ہوگی اگر اس نے اس دن سے پہلے کوئی نیکی نہیں کمالی یعنی جو شخص دنیا میں ایمان لانے کے باوجود کوئی نیکی کا کام نہیں کرسکا ، نشانات قیامت ظاہر ہنے پر اس سے کوئی نیکی قبول نہیں کی جائیگی۔
بعض جدید روشنی کے لوگوں اعتراض کرتے ہیں کہ سورج کا مغرب سے طلوع ہونا طبعی امر کے خلاف معلوم ہوتا ہے اس قسم کے شہبات انگریزی تہدیب کا نتیجہ ہیں۔ وہ لوگ قیامت کی کسی نشانی کو تسلیم نہیں کرتے ، نہ دجال نہ مسیح نہ یاجون ماجون تو ایسے لوگ سورج کی معکوس حالت پر کیسے یقین کرسکتے ہیں۔ مگر ان واقعات کی خبر وحی الٰہی کے ذریعے حاصل ہوئی ہے اور قرآن پاک میں تفصیل موجود ہے بعض تفصیلات حضور ﷺ کے ارشادات مبارکہ میں ملتی ہیں اور صیحح سند سے ثابت ہیں جن پر اہل ایمان تو تو ہر صورت ایمان ہے کوئی دوسرا مانے یا نہ مانے ۔ ایمان بالغیب اسی بات کا نام ہے کہ صیحح سند سے پہنچنے والی چیزوں کو تسیم کرلیا جائے خواہ وہ کسی کی سمجھ میں آئیں یا نہ آئیں۔ پھر یہ بات بھی ہے کہ موجودہ نظام شمسی اللہ تعالیٰ ہی کا قائم کردہ ہے ۔ قرآن پاک میں موجود ہے کہ با لآخر اس نظام کو برخواست کردیا جائے گا۔ سورج اور ستاروں کی روشنی لپیٹ دی جائیگی۔ پورے نظام کو درہم برہم کرکے اس کی جگہ نیا نظام لایا جائیگا۔ اور پھر عالم بالا کے احکام ظاہر ہونگے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جس دن تیرے رب کی نشانیاں ظاہر ہونگی اس دن کسی ایسے نفس کا ایمان لانا کچھ مفید نہیں ہوگا جو پہلے ایمان نہیں لایا تھا۔ یا اس دن کوئی نیکی فائدہ نہیں دیگی جس نے اس سے پہلے ایمان کی حالت میں نیکی نہیں کمائی۔ یہ کفر و شرک کرنے والوں کا شکوہ ہوگیا۔
نتیجے کا انتظار
فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں انتظروا انا منتظرون انتظار کرو اور دیکھو کیا نتیجہ ظاہر ہوتا ہے اور ہم بھی انتظار کرنے والے ہیں ۔ جلد ہی پتہ چل جائے گا کہ کس کا موقف درست تھا ، یہود ونصاریٰ بھی انتظار کرتے رہے کہ مسیح (علیہ السلام) آنے والے ہیں مگر جب وہ آ ئگے تو انہوں نے انکار کردیا۔ اور تسلیم کرنے کی بجائے آپ کو دجال کا لقب دیا۔ پھر دین میں خوابیاں پیدا کرنے لگے۔ آسمانی کتابوں میں تحریف کی اور پورے دین کو بگاڑ کر رکھ دیا۔ پھر جب نبی آخرالزمان کا زمانہ آیا ، تو اہل کتاب آپ کے انتظار میں تھے ان کی کتابوں میں بشارت موجود تھی کہ اللہ کا آخری نبی آنے والا ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے نام لے کر بتایا تھا ” ومبشی برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد “ یعنی میرے بعد ایک عظیم الشان رسول آنے والا ہے جس کا نام نامی اور اسم گرامی احمد ہوگا مگر یہ لوگ اپنی ضد اور عناد کی وجہ سے نبی آخرالزمان پر بھی ایمان نہ لائے اور کفر و شرک پر ہی قائم رہے۔ ان کے علاوہ عرب کے لوگ تو ویسے ہی اپنی جہالت کی وجہ سے شرک پر اڑے رے اور حقیقت کو تسلیم نہ کیا۔
فرمایا ان منکرین سے کہہ دیں کہ جت تم کسی دلیل کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں اور محض ہٹ دھرمی پر قائم ہو تو پھر نتیجے کا انتظار کرو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ظاہر ہونے والا ہے اور یہ نتیجہ دو طرح سے ظاہر ہوگا۔ پہلی دفعہ تو انسان کو اس وقت پتہ چلتا ہے جس اس کی موت کا وقت آجاتا ہے من مات فقد قامت قیامت جو مرگیا اس کے لیے تو قیامت برپا ہوگئی اس کے ساتھ عالم برزخ کا معاملہ شروع ہوجائے گا اور پھر مجموعی طور پر قیامت کا دن ایسا ہوگا جب نتیجہ سامنے آئیگا ، اور ہر شخص کو اپنے ایمان اور اعمل کی حساب دینا ہوگا۔ فرمایا اس وقت کا انتظار کرو ہم بھی منتظر ہیں ، پھر پتہ چل جائے گا کہ نتیجہ کس کے حق میں بہتر نکلتا ہے
Ayahs 6:159–160ربط آیات
پہلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین اور ان کی شرکیہ رسوم کا پورے طریقے پر رد کیا اور پھر صراط مستقیم پرچلنے کی ہدایت فرمائی اور اس کا اتباع کرنے کی ہدایت فرمائی۔ موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات کا تذکرہ کرنے کے بعد حضور ﷺ اور قرآن پاک کا ذکر کیا اور صراط مستقیم پر ایمان نہ لانے والوں کا شکوہ کیا کہ یہ لوگ جس چیز کا انتظار کر رہے ہیں۔ کیا یہ موت کا انتظار کر رہے ہیں یا قیامت کی نشانیوں کے ظہور کے منتظر ہیں۔ فرمایا کہ ایسی نشانیاں ظاہر ہونے پر تو ایمان بھی قبول نہیں ہوگا کیونکہ اس وقت توبہ کا دروازہ بند ہوچکا ہوگا۔ گذشتہ آیات میں زیادہ شرک کی تردید تھی اب آج کی آیات میں فرقہ پرستی کی مذمت کی گئی ہے اور اس ضمن میں اہل بدعت کا خاص طور پر رد ہے۔ اس کے علاوہ نیکی کے کئی گنا اجروثواب کا ذکر ہے کہ برائی کے بدلے کو برائی کے برابر ہی قرار دیا گیا ہے۔
دین میں فرقہ بندی
ارشاد ہوتا ہے ان الذین فرقو دینھم وکانو شیعا وہ لوگ جنہوں نے تفریق ڈالی ہے اپنے دین میں یعینی دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے مختلف گروہوں میں بٹ گئے ہیں۔ لست منھم فی شیء نہیں ہیں آپ ان کے ساتھ کسی معاملہ میں۔ یعنی آپ کا ایسے لوگوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ لہذا آپ ان سے بیزاری کا اعلان فرمائیں۔ اس آیت میں جس تفریق سے منع فرمایا گیا ہے اس کی مثال حضور ﷺ نے اس حدیث میں بیان فرمائی ہے الا ان بنی اسرائیل افترقت علی موسیٰ یا حدی سبعین فرقۃ کلھا ضالۃ الا فرقۃ واحدۃ عیسیٰ ابن مریم باثنین وسبعین فرقۃ کلھا ضالۃ الا واحدۃ الا سلام وجما عتھم ثم انکم تکونون علی ثلاثۃ وسبعین فرقۃ کلھا ضالۃ الا فرقۃ واحدۃ الا سلام وجماعتھم
یعنی بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں بٹ گئے۔ یہ سب کے سب گمراہ ٹھہرے سوائے ایک فرقہ کے جو اسلام پر تھا اور وہ ایک جماعت تھی۔ پھر عیسیٰ (علیہ السلام) سے بہتر گروہ علیحدہ ہوئے وہ بھی سب کے سب گمراہ تھے سوائے ایک گروہ کے جو اسلام پر تھا اور وہ ایک جماعت تھی۔ پھر تم تہتر فرقے بن جائو گے تمام گمراہ ہونگے سوائے ایک فرقہ کے جو اسلام پر ہوگا اور اس کی ایک جماعت ہوگی۔ دوسری حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں گلھا فی انار الا واحدۃ یعنی سب فرقے روزخمی ہونگے سوائے ایک فرقہ کے۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا وہ ایک ناجی فرقہ کون سا ہوگا۔ فرمایا ما اعلیہ واصحابی
جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں۔ مفسر قرآن قاضی ثناء اللہ پای پتی (رح) فرماتے ہیں کہ تفریق دین کے سلسلے میں اللہ نے سب کو بیان کردیا ہے بنی اسرائیل نے تو بلاشبہ دین میں تفریق کی اور الگ الگ فرقوں میں بٹ گئے ، مگر اس آخری امت کی فرقہ بندی کا ذکر بھی یہاں اجمالا کردیا گیا ہے۔
اختلاف کی دو قسمیں
اس حدیث میں یہود و نصاری کا تذکرہ ہے تا ہم آخری امت کے اہل بدعت اور اہل ہویٰ بھی اس صف میں شامل ہیں۔ جنہوں نے الگ الگ گروہ بنا لئے ہیں وہ یقینا حق پر نہیں ہیں۔ اس امر کی تفصیل میں حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ اختلاف دو قسم کے ہیں ‘ ایک عقائد میں اور دوسرا مسائل ہیں۔ دوسرے لفظوں میں ہم ان کی تقسیم اصول اور فروغ میں بھی کرسکتے ہیں۔ اہل بدعت عقائد میں اختلاف کرتے ہیں تاہم انہیں ایمان سے بالکل خارج نہیں کیا جاسکتا۔ ایمان کے باوجود میں عقائد کی خرابی پائی جاتی ہے اس کے علاوہ ان کے اعمال میں بھی خرابی … ہے یہ لوگ عقائد اور اعمال دونوں چیزوں میں خرابی کی بناء پر دوزخ میں جائیں گے۔ البتہ ان میں سے جو لوگ کفر اور شرک میں مبتلا ہوجائیں گے وہ ابدی جہنمی ہیں اور جو اعمال میں کوتاہی کی وجہ سے دوزخ میں جائیں گے۔ انہیں سزا بھگتنے کے بعد نکال لیا جائے گا۔
امام ترمذی (رح) نے اپنی کتاب ترمذی شریف 1 ؎ میں لکھا ہے کہ تمام اہل حق اس بات پر متفق ہیں کہ اہل توحید کو ہمیشہ جہنم میں نہیں رکھا جائے گا۔ ایمان کے باوجود جن لوگوں کا عقیدہ خراب ہوگا یا جن کے اعمال خراب ہوں گے وہ جہنم میں جائیں گے مگر تزکیہ کے لئے جب وہ اپنے اعمال کی سزا بھگت کر پاک ہوجائیں گے ‘ تو وہاں سے نکال لئے جائیں گے۔ مگر کفر اور شرک کرنے والے کبھی پاک نہیں ہوں گے لہٰذا وہ ابدی طور پر جہنم میں ہی رہیں گے۔ ان سب کو ان کی خطائوں نے احاطہ کیا ہوا ہے۔
شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) بھی فرماتے ہیں کہ اختلاف دو قسم سے ہے۔ ان میں ایک اصول اور دوسری فزع ہے ۔ اصول میں وہ باتیں آتی ہیں جن پر ایمان لانا ضروری ہے اور ایمان اسی طرح لانا چاہئے جس طرح اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے ۔ صحابہ کرام ؓ اور سلف اس ایمان کا نمونہ ہیں۔ جو شخص اصولی باتوں میں اختلاف کرے گا ‘ وہ گمراہ ہوجائیگا۔ پھر اگر اس کا عقیدہ کافرانہ یا مشرکانہ ہوجائے تو ابدی جہنمی ہ وگا۔ اور اگر اہل بدعت اور اہل ہویٰ کی طرح عقیدے میں کچھ خرابی آگئی ہے تو پھر بھی جہنم میں ایک دفعہ ضرور جانا پڑے گا۔ تاہم بعد میں نکال لیا جائے گا۔ چناچہ اصولی اختلاف کی مثال فرقہ معتزلہ کی ہے جو رویت الٰہی کا انکار کرتے ہیں۔ اسی طرح قدریہ فرقہ تقدیر کا انکار کر کے گمراہ ہوگیا۔ روافض نے بھی بعض بنیادی اصولوں کا انکار کیا ہے لہٰذا یہ لوگ اہل بدعت اور اہل ھویٰ میں شمار ہوتے ہیں۔ اسی اختلاف سے فرقے معرض وجود میں آتے ہیں جن کی مذمت اس آیت کریمہ میں کی گئی ہے۔ جب فروعات کا اختلاف شدت اختیار کرجاتا ہے۔ تو تباہی و بربادی لاتا ہے ‘ جیسا کہ تاتاریوں کے زمانہ میں حنفیوں اور شافعیوں کا شدید اختلاف تھا جو کہ مومن اور کافر کی حد تک پہنچ چکا تھا۔ اس باہمی اختلاف کا نتیجہ یہ ہوا کہ دشمن کو حملہ آور ہونے کا موقع مل گیا اور مسلمان تباہ و برباد ہوگئے۔
البتہ فروغ کا اختلاف قابل برداشت ہے اور اس میں کسی ایک کو دوسرے پر ملامت نہیں کرنی چاہئے۔ اعمال میں ایک گروہ ایک طریقے پر عمل کرتا ہے اور دوسرے طریقے پر تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اس قسم کا اختلاف صحابہ کرام ؓ ‘ تابعین اور آئمہ دین میں بھی پایا جاتا ہے مگر یہ فروع کا اختلاف ہے۔ ایمان اور یقین لانے والی باتوں میں حنفی ‘ مالکی ‘ شافعی اور حنبلی سب متفق ہیں اور ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ فروعات کے ضمن میں بعض آئمہ ایک چیز کو سنت قرار دیتے ہیں مگر دوسرے ایسا نہیں سمجھتے۔ بعض کسی چیز کو مباح تسلیم کرتے ہیں جب کہ دوسرے ایسا نہیں سمجھتے ہیں۔ یہ معمولی باتیں ہیں البتہ ان کو زیادہ طویل دینے سے گمراہی پیدا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔ اس زمانے میں بھی قروعات کے اختلاف پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ فروعات میں اختلاف رائے کو برداشت کرنا چاہئے۔ البتہ اصول میں اختلاف گمراہی کا باعث ہوگا۔
اختلاف فروع کی مثال
فروعی اختلافات کی مثالیں خود حضور ﷺ کے زمانہ مبارک میں بھی ملتی ہیں۔ جب غزوہ خندق اختتام پذیر ہوا تو حضور ﷺ واپس لوٹے۔ آپ ہتھیار اتارنا چاہتے تھے کہ جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم فرشتوں نے تو ابھی ہتھیار نہیں اتارے آپ کیسے ہتھیار اتارتے ہیں ‘ پہلے بنی قریظہ کا فیصلہ ہوجانا چاہئے ۔ وہاں پر یہودیوں نے مسلمانوں کے خلاف سازش کی تھی چناچہ حضور ﷺ نے بنی قریظہ کے خلاف اعلان جہاد فرمایا اور حکم وبالا یصلین احدکم العصر الا فی بنی قریظۃ تم میں سے کوئی شخص عصر کی نماز پڑھے مگر بنی قریظہ میں۔ اس حکم کی تعمیل میں تمام مجاہد بنی قریظہ کی طرف نکل کھڑے ہوئے راستے میں عصر کی نماز کا وقت ہوگیا۔ ایک گروہ نے کہا کہ نماز کا وقت تنگ ہو رہا ہے۔ لہٰذا نماز پڑھ لینی چاہئے ان کا استدلال یہ تھا کہ حضور ﷺ کا بنی قریظہ میں جاکر نماز پڑھنے کا حکم اس لئے تھا کہ یہاں مدینہ میں کوئی نہ رہے بلکہ فوراً چلے جائو اب چونکہ نماز کا وقت ہوگیا ہے لہٰذا نماز ادا کر لینی چاہئے۔ برخلاف اس کے دوسرا گروہ کہتا تھا کہ آپ کے الفاظ یہ تھے کہ نماز بنی قریظہ میں ہی جا کر پڑھنی ہے لہٰذا راستے میں نہیں پڑھنی چاہئے۔ چناچہ دونوں گروہوں نے اپنے اپنے اجتہاد کے مطابق عمل کیا۔ پھر جب معاملہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا۔ تو حضور ﷺ کے الفاظ بخاری شریف میں اس طرح آتے ہیں فلم یعنصف واحدا منھم آپ نے ان میں سے کسی کو نہیں ڈانٹا۔ گویا دونوں گروہ ٹھیک ہیں۔ بہرحال ایسے معاملہ میں اجتہاد کی گنجائش موجود تھی ایک گروہ نے الفاظ پر عمل کیا۔ اور دوسرے نے مطلب سمجھنے کی کوشش کی ‘ لہٰذا دونوں حق پر تھے۔ حضور نے دونوں کی تصویب فرمائی ہے۔ کسی کو ڈانٹ ڈپٹ نہیں کی۔ غرض یہ کہ فروعات میں اس قسم کے اختلاف کی گنجائش موجود ہے جے طول دیکر گمراہی کی طرف نہیں جانا چاہئے۔
جو شخص اجتہاد کرنے کا اہل ہو اس کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا اذا مجتہد کے اجتھد جب وہ اجتہاد کرتا ہے ‘ پھر وہ ٹھیک بات کو پا لیتا ہے تو اس کے لئے اجر کے لئے دوہرا اجر ہوتا ہے اور اگر وہ غلطی کرتا ہے تو پھر بھی ایک اجر کا مستحق ہوتا ہے۔
…………کیونکہ اس نے اپنی اہلیت کے مطابق مسئلہ کے حل میں پوری پوری کوشش کی۔ حدیث شریف میں اس قسم کے اجتہاد کی مثال ملتی ہے۔ حضور ﷺ کے دو صحابی کسی سفر پر گئے۔ راستے میں پانی ختم ہوگیا۔ نماز کا وقت آ یا تو انہوں نے تمیم کر کے نماز ادا کرلی۔ مگر نماز کا وقت ابھی باقی تھا کہ پانی میسر آ گیا ۔ ان میں سے ایک شخص نے وضو کر کے دوبارہ نماز پڑھی جب کہ دوسرے شخص نے پہلی ادا شدہ نماز پر ہی اکتفا کیا۔ جب حضور نبی کریم ﷺ کی خدمت میں یہ واقعہ بیان کیا تو آپ نے تمیم سے نماز پڑھنے والے آدمی سے فرمایا اصبت السنۃ تو نے سنت کو پا لیا یعنی پانی کی عدم موجودگی میں تمیم کر کے نماز پڑھ لینی کافی ہے ‘ تمہارا فریضہ ادا ہوگیا۔ اور جس شخص نے دوبارہ نماز پڑھی تھی ‘ اس کو حضور ﷺ نے فرمایا لک الاجر مرتین تیرے لئے دوہرا اجر ہے ۔ تیری پہلی نماز کے ذریعے فرض کی ادائیگی ہوئی اور دوسری نماز نفل بن گئی ‘ لہٰذا تیرے لئے دوہرا اجر ہے۔
فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اس قسم کے حالات میں انسان کو نماز میں تاخیر کر لینی چاہئے۔ پھر اگر پانی مل جائے تو وضو کرلے ورنہ تمیم کر کے نماز ادا کرے بہرحال ‘ امام ابوحنیفہ (رح) اور دیگر آئمہ کا اختلاف اس قسم کا ہے۔ اس میں کوئی اصولی اختلاف نہیں ہوتا ‘ لہٰذا تمام آئمہ مجتہدین کے متعلق یہی اعتقاد ہونا چاہئے ‘ کر کلھم علی الھدیٰ وہ سب ہدایت پر ہیں تاہم یہ ضروری ہے کہ مجتہد باصلاحیت ہو۔ اس زمانے کے پرویز اور علامہ مشرقی جیسے لوگ باصلاحیت مجتہد کی تعریف میں نہیں آتے جو معروف آئمہ مجتہدین کے اجتہاد کی تکذیب کرنے لگیں۔ ایسا اجتہاد مقبول نہیں ہے۔
اختلاف میں غلو
اختلاف میں زیادتی دین میں فرقہ بندی کا باعث بنتی ہے اور دشمنوں کے لئے تقویت کا باعث بھی۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا ‘ تاتاریوں نے اسی اختلاف سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کو تباہ کیا۔ البتہ اصول میں اختلاف سراسر گمراہی ہے۔ جس کا انجام دوزخ ہے۔ چناچہ رافضی ‘ خارجی ‘ معتزلہ ‘ نیچری وغیرہ ایسے اصولی اختلاف رکھتے ہیں کہ دین سے ہی خارج ہوجاتے ہیں۔ سورة فاطر میں ارشاد ہے۔
فمنھم ظالم لنفسہ ومنھم مقتصد ومنھم سابق بالخیرات “ بعض لوگ اپنے نفس پر ظلم کرنے والے ہیں ‘ بعض میانہ رو ہیں اور بعض نیکیوں میں سبقت کرنے والے ہیں۔ صحابہ کرام ؓ اور مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ اسی آخری امت کے لوگ ہیں۔ ظالم وہ لوگ ہیں جن کے عقائد میں خرابی پیدا ہوگئی ہے اور کفر اور شرک کی حد تک پہنچ گئے ہیں یا پھر اعمال میں خرابی پیدا ہو کر معاصی کا راستہ پکڑ لیا ہے۔ اس کے بعد مقتصد یعنی ماینہ رو وہ لوگ ہیں جن کی مثال سورة توبہ میں ملتی ہے۔ واخرون اعترفوا بذنوبھم خلطوا عملا صالحا واخرسیا “ بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں اور اچھے اور برے اعمال ایک ساتھ انجام دیتے ہیں۔ اور بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو نیکی کے کام میں سبقت کرنے والے ہیں نیکی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ فرمایا یہ تینوں قسم کے لوگ اس امت میں موجود ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ جو لوگ اختلاف میں غیر ضروری غلو کرتے ہیں اور معمولی بات کو بلاوجہ ہوا دیتے ہیں وہ بالآخر گمراہی کا شکار ہو کر قصر مذلت میں جاگرتے ہیں۔
فرقہ بندی سے بیزاری
فرمایا بیشک وہ لوگ جنہوں نے تفریق ڈالی اپنے دین میں اور گروہ در گروہ ہوگئے ‘ آپ کو ان سے کچھ سروکار نہیں۔ آپ ان سے بیزاری کا اعلان کردیں اور فرقہ بندی سے نفرت کا اظہار کریں انما امرھم الی اللہ بیک ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہی ‘ وہ خود کوئی فیصلہ فرمائے گا۔ ثم ینبئھم بما کانوا یفعلون پھر ان کو بتلا دے گا جو کچھ وہ کیا کرتے تھے ‘ ان کے تمام برے اعمال ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ ہی ان کو سزا دے گا۔ آپ کو ان سے کوئی تعلق نہیں۔ آپ ان سے بیزاری کا اظہار ہی کریں کیونکہ تفریق فی الدین ہرگز روا نہیں۔ گزشتہ رکوع میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے۔ ” وانا ھذا صراطی مستقیما فاتبعوا ولا تتبعوا السبل فتفرق بکم عن سبیلہ “ یعنی سیدھا راستہ صرف ایک ہی ہے اسی کا اتباع کرو اور مختلف راستوں پر نہ چلو ورنہ اصل راستے سے الگ ہو جائو گے ۔ حضور ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے اللہ نے فرمایا ” انک لمن المرسلین علی صراط مستقیم (سورۃ یٰس) آپ صراط مستقیم پر ہیں لوگوں کو اسی راستے کی طرف دعوت دیں اللہ نے یہ بھی فرمایا ” لعلی ھدی مستقیم “ آپ سیدھی اور واضح ہدایت پر ہیں میں خود بھی اسی پر کار بند ہیں اور دوسروں کو بھی اسی کی تلقین کریں ۔ فرقہ بندی بری چیز ہے اس سے بیزاری کا اظہار کریں۔
نیکی اور اس کا اجر
فرمایا قیامت کو نیکی اور بدی سب سامنے آنے والی ہے۔ اس دن اللہ تعالیٰ ہر شخص کے متعلق جزا اور سزا کا فیصلہ فرمائے گا من جاء بالحسنۃ جو شخص اللہ کی عدالت میں نیکی لائے گا تو اس کا قانون رحمت یہ ہے کہ ایک نیکی کے بدلے فلہ عشر امثالھا اس کو دس گنا اجر ملے گا۔ گویا اس نے ایک نیکی ایک دفعہ نہیں بلکہ دس دفعہ انجام دی۔ یہ کم از کم اجر ہے بشرطیکہ نیکی شریعت کی مقرر کردہ شرائط کے مطابق انجام دی گئی ہو پیغمبر (علیہ السلام) کا فرمان اس کی تائید کرتا ہو ‘ نیت بھی درست ہو۔ اور ادائیگی میں کوئی کوتاہی واقع نہ ہوئی ہو۔ جو نیکی صحیح طریقے سے نہیں کی گئی وہ قابل قبول نہیں ہوتی۔ بعض لوگوں کی نیکیاں محض اس لئے ضائع ہوجاتی ہیں کہ ان کی انجام دہی کا طریقہ اللہ کے رسول اور شریعت مطہرہ کے مطابق نہیں ہوتا۔ تمام بدعات نیکی کی چیزیں ہوتی ہیں مگر پیغمبر کے بتائے ہوئے طریقہ کی بجائے اپنی مرضی اور خواہش پر کی جاتی ہیں۔ جب روکا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ اس میں کیا حرج ہے بھائی نیکی وہی ہے جو اللہ کے رسول کے حکم کے مطابق ہو خود ساختہ نیکی کوئی نیکی نہیں کسی مغفرت کے لئے دعا کرنا بلاشبہ نیکی بلکہ عبادت ہے۔ مگر یہی دعا جب جنازہ پڑھنے کے متصلاً بعد کی جائے تو فقہاء نے اسے بدعت اور منکرات میں شمار کیا ہے کیونکہ دعا کرنے کا یہ موقع حضور ﷺ اور صحابہ کرام سے ثابت نہیں ہے بلکہ ان کے طریقہ کے خلاف ہے ۔ لہٰذا بدعت ہے۔
حضور ﷺ کا فرمان ہے۔ 1 ؎ فانہ من یعش منکم بعدی فسیری اختلافا کثیر اجو لوگ میرے بعد زندہ رہیں گے۔ وہ بہت سا اختلاف دیکھیں گے۔ اس وقت کے لئے میں تمہیں تلقین کرتا ہوں۔ فعابکم بسنتی وسنۃ الخلفاء الرشدین المھدین کہ میری سنت اور خلفائے راشدین کے طریقے پر قائم رہنا۔ تمسکوا بھا و عضوا علیھا بالتوجذب اور اسے دانتوں سے مضبوط پکڑ لو۔ مطلب یہ ہے کہ جب کسی معاملہ میں اختلاف پیدا ہوجائے تو پھر حضور ﷺ اور خلفائے راشدین کے طریقے کو معیار بنا لو اور اس کے مطابق چلو۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ کے زمانہ مبارک سے لے کر حضرت ابوبکر ؓ ‘ حضرت عمر ؓ اور حضرت عثمان ؓ کا چھ سال تک زمانہ متفق علیہ ہے۔ اس زمانے میں امت کا اختلاف نہیں ہوا لہٰذا پوری امت کے لئے یہی عرصہ دستور العمل ہے۔ جب بعد میں اختلافات شروع ہوگئے تو پھر یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ ہر ایک کی اپنی اپنی دلیل ہے تو فرمایا نیکی وہ ہوگی جو شرائط پر پوری اترتی ہو۔
مثال کے طور پر اگر کسی طہارت درست نہیں یا نیت ٹھیک نہیں تو اس کی نماز کیسے معتبر ہو سکتی ہے بعض اوقات انسان نماز کو اللہ کی عبادت کے طور پر ادا کرتا ہے مگر اس میں ایسی خرابی کرتا ہے کہ وہ منہ پر مار دی جاتی ہے لہٰذا نیکی بھی نہایت احتیاط کے ساتھ سنت کے مطابق ہونی ضروری ہے اور ایسی نیکی کا کم از کم ثواب دس گنا ہوگا جو شخص ایک دفعہ لا الہ الا اللہ خلوص نیت کے ساتھ کہتا ہے وہ بڑا ونچا عمل کرتا ہے جب اس نے اللہ کی محبت میں یہ کلمہ ایک دفعہ کہا تو اللہ تعالیٰ اس سے دس گنا محبت کرتا ہے حضور ﷺ کا فرمان ہے ہر حمد اور تسبیح کا کلمہ اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نیکی کے کام ہیں اور انسان کے لئے بمنزلہ صدقہ کے ہیں اور ہر نیکی کا اجر کم از کم دس گنا ہے۔
برائی کی سزا
فرمایا ومن جاء بالسیتہ جو کوئی براء لے کر آیا فلا یجزی الا مثلھا اس کو نہیں بدلہ دیا جائے گا مگر اس کے برابر یعنی برائی کا بلہ نیکی کی طرح بڑھا کر نہیں دیا جاتا ہے بلکہ اس کی اتنی ہی سزا دی جاتی ہے جتنی برائی کوئی انجام دیتا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی ہے کہ ایک شخص برائی کا ارادہ کرتا ہے مگر اس کا ارتکاب نہیں کرتا تو اس کو بھی ایک نیکی کا اجر مل جاتا ہے۔ تاہم جو نیکی خلوص نیت اور تمام شرائط کے ساتھ کی جائے اس کا کم از کم اجر دس گناہ ہے اور زیادہ سے زیادہ کوئی حد نہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے ایک نیکی کا اجر سات سو ‘ سات ہزار سات لاکھ ‘ سات کروڑ یا اس سے بھی زیادہ عطا فرما دیتا ہے۔ اس کے خزانے بڑے وسیع ہیں۔ کوئی شخص جس قسم کا متعلق باللہ قائم کرے گا۔ اس قسم کا اجر وثواب پایے گا۔ البتہ برائی کا بدلہ ایک ہی ملے گا ۔ و ھم لا یظلمون اور کسی پر زیادتی نہیں کی جائے گی۔ نہ کسی کی نیکی کو کم کیا جائے گا اور نہ کسی کی برائی میں اضافہ کیا جائے گا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کے قانون عدل کے خلاف ہے۔
Ayahs 6:161–163ربط آیات
پہلے شرک اور مشرکین کا رد ہوا ‘ پھر فرقہ بندی کی تردید ہوئی اور نیکی اور بدی کے حوالے سے جزا اور سزا کا ذکر ہوا۔ اب ملت ابراہیمیہ کا خلاصہ بیان کر کے اس کی پیروی کرنے کی ترغیب دی جا رہی ہے اس کے علاوہ باقی تمام طریقوں کو ترک کرنے کا حکم دیا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمیہ کے طریقے کو صراط مستقیم کا لقب دیکر اس کے اتباع کا حکم دیا ہے۔ گویا ملت ابراہیمی ‘ اسلام اور دین حق ایک ہی چیز کے مختلف نام ہیں۔
دین اور شریعت
اصل بات یہ ہے کہ تمام انبیاء (علیہم السلام) کا دین کے بنیادی اصولوں میں اتفاق ہے ‘ البتہ مختلف انبیاء کے ادوار میں ہر دور کے تقاضے کے مطابق شریعتیں مختلف رہی ہیں۔ سورة مائدہ میں گزر چکا ہے لکل جعلنا منکم شرعاً و منھاجا “ ہم نے ہر ایک کے لئے الگ شریعت اور الگ راستہ مفرور فرمایا ہے شریعت کا دین کے اصولوں کے ساتھ اختلاف نہیں ہوتا بلکہ یہ محض فروعات میں زمانے کے مطابق تغیر پذیر ہوتی ہے۔ کوئی چیز ایک نبی کی شریعت میں حرام ہوتی ہے تو دوسرے نبی کی شریعت میں حلال قرار دیدی جاتی ہے بعض اوقات عبادت کے طریقے بھی مختلف ہوتے ہیں… کسی شریعت میں روزے کی کثرت رہی ہے تو کسی شریعت میں نماز میں اضافہ ہوا ہے۔ پہلی امتوں میں غنیمت کا مال استعمال کرنا جائز نہیں تھا جب کہ آخری امت کے لئے اسے حلال قرار دیا گیا ہے کسی امت میں دو بہنوں سے بیک وقت نکاح مباح تھا مگر آخری شریعت میں ” ان تجمعوا بین الاختین “ (سورۃ النسائ) کے حکم کے تحت حرام قرار دیدیا گیا ہے۔ بہرحال اصول دین یعنی توحید ‘ ایمانیات اخلاقیات وغیرہ تمام امتوں میں یکساں رہے ہیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا (الشوری) تمہارے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے وہی دین مقرر کیا ہے جو نوع (علیہ السلام) اور ان کے بعد انے والے انبیاء کے لئے مقرر کیا گیا۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ 1 ؎ نحن معشر الانبیاء ابناء علات دیننا واحد ہم انبیاء کا گروہ علاقی بھائیوں کی طرح ہیں جس طرح علاقی بھائیوں کا باپ ایک اور مائیں مختلف ہوتی ہیں۔ اسی طرح ہم سب کا دین ایک ہی ہے مگر شریعتیں مختلف ہیں۔
ملت ابراہیمی
ملت بھی اصول و کلیات ہی کا نام ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور ان کی ملت کا ذکر قرآن پاک میں بکثرت ملتا ہے جس طرح اسلام کا معنی اطاعت اور فرمانبداری ہے اسی طرح ملت سے بھی کمال درجے کی فرمانبرداری مراد ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ لسلام کی اطاعت الٰہی کے متعلق سورة بقرہ میں موجود ہے۔ اذقال لہ ربہ اسلم جب اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے کہا فرمانبردار بن جائو قال اسلمت لرب العلمین تو انہوں نے عرض کیا میں اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کی تعمیل کے لئے بسر وچشم حاضر ہوں ‘ یعنی میں کمال درجے کا فرمانبردار ہوں۔ ملت ابراہیمی اسی چیز کا نام ہے۔ اور اسی کو اسلام اور صراط مستقیم سے بھی تعبیر کرسکتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمی کا خاص طور پر اس لئے ذکر کیا ہے کہ اہل ایمان کے علاوہ دنیا کی اکثر قومیں آپ کا احترام کرتی ہیں خواہ ان میں بگاڑ ہی کیوں نہ پیدا ہوچکا ہو۔ مثلاً یہودیت تورات کی بگڑی ہوئی سکل ہے اور عیسائیت انجیل کی مسخ شدہ صورت کا نام ہے ان لوگوں نے اپنی اپنی کتابوں میں تحریف کر کے دین کو بگاڑ دیا اور اصل دین کی بجائے نیا دین کھڑا کرلیا۔ عرب کے لوگوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ انہوں نے بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دین کو مسخ کر کے مشرکانہ اور جاہلانہ رسوم ایجاد کیں اور پھر ان کو دین ابراہیمی کا نام دے دیا۔ مقصد یہ کہ اگرچہ یہ لوگ دین ابراہیمی کو بگاڑنے کے مرتکب ہوئے تاہم یہ آپ کا احترام کرتے تھے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ایسی ملت کا ذکر کیا ہے جس پر کم از کم زبانی حد تک تو سب کا ایمان تھا اور پھر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے متعلق خاص طور پر فرمایا کہ آپ ملت ابراہیمی کے ہیں۔
اور یہود و نصاریٰ کا دعویٰ غلط ہے اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ ملت ابراہیمی اللہ کی خالص اطاعت اور توحید کا نام ہے۔ قرآن پاک نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حنیف کے لقب سے بھی پکارا ہے سورة آل عمران میں موجود ہے۔ ” ما کان ابراہیم یھود یا ولا نصرانیا ولکن کان حنیفا مسلما ابراہیم (علیہ السلام) نہ یہودی تھے اور نہ نصرانی بلکہ حنیف مسلمان تھے حنیف کا منی ہے ہر طرف سے ہٹ کر ایک خدا کی طرف لگنے والا۔ اہل کتاب اور مشرکین کے متعلق سورة بینہ میں ہے ” وما امروا الا لیعبدوا اللہ مخلصین لہ الدین حنفاء ان کو تو یہی حکم ہوا تھا کہ اخلاص عمل کے ساتھ خدا کی عبادت کریں اور ایک طرف لگنے والے بن جائیں۔
مستحکم دین
اس سورة مبارکہ میں ہر قسم کے شرک کا رد آ گیا ہے۔ اعتقادی بھی اور عملی بھی گزشتہ آیات میں گزر چکا ہے کہ نذر و نیاز میں شرک خدا تعالیٰ کی صفات میں شرک ہے۔ یہودیوں ‘ نصرانیوں ‘ مجوسیوں اور صابیوں کا رد بھی ہوگیا ہے۔ مخلوق میں کسی طرح بھی الوہیت کی صفت ماننے والے مشرک ہوتے ہیں ‘ اللہ نے سب کا رد فرمایا ہے۔
اب آخر میں سورة کا لب لباب اس طرح بیان فرمایا ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے اننی ھدینی ربی بیشک مجھے ہدایت دی ہے میری راہنمائی فرمائی ہے میرے پروردگار نے الی صراط مستقیم سیدھے راستے کی طرف اور وہ راستہ کون سا ہے دنیا قیما ایک مستحکم دین جس کے اصول بڑے مضبوط ہیں اور جن میں تغیر و تبدل نہیں ہو سکتا۔ اسی سورة کے چودھویں رکوع میں بھی گزر چکا ہے و تمت کلمتہ ربک صدقا وعدلا تیرے پروردگار کی باتیں سچائی اور انصاف میں پوری ہیں اس کے تمام اصول صحیح ہیں جنہیں کوئی غلط ثابت نہیں کرسکتا۔ البتہ اگر کوئی تعصب اور عناد کی بنا پر ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرے تو علیحدہ بات ہے۔ یہ وہی دین ہے جو ملت ابراہیمی ہے اور ہر زمانے کے لئے کافی ہے۔
دین حنیف
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ جو شخص خدا تعالیٰ کی وحدانیت کا قائل ہے کعبے کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتا ہے ‘ جنابت کا غسل کرتا ہے اور ختنہ کرتا ہے وہ حنیف کہلائے گا یہ سب چیزیں ملت ابراہیمیہ میں پائی جاتی ہیں دراصل احنف اس اونٹ کو کہتے ہیں جس کا پائوں چلتے وقت اندر یا باہر ایک طرف کو مائل ہوتا ہے اور یہاں پر حنیف سے مراد ایسا شخص ہے جو کفر ‘ شرک اور بدعات کو ترک کر کے ایک اصول اور ایک دین کو ماننے والا ہے ۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حنیف تھے اور شاکرا لا نعمہ (النحل) خدا تعالیٰ کی نعمتوں کے کر گزار تھے۔ شرک سے بیزار اور یکسو ہونے والے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسروں کو بھی حکم دیا۔ ” حنفاء للہ غیر مشرکین بہ “ (الحج) تم سب کے سب حنیف بن جائو وار شرک کرنے والے نہ بنو۔ گزشتہ رکوع میں بھی گزر چکا ہے۔ ” وان ھذا صراطی مستقیما فاتبعو “ یہی میرا صراط مستقیم ہے جس کی تشریح قرآن میں جگہ جگہ موجود ہے ‘ اسی راستے کا اتباع کرو ” ولا تتبعوالسبسل اور یہودیت ‘ نصرانیت ‘ مجوسیت اور صابیت کے گمراہی والے راستوں پر ملت چلو۔ بدعات اور خواہشات نفسانیہ کے غلط راستوں کو بھی اختیار نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ نے جس راستے کی طرف میری راہنمائی فرمائی ہے وہ یہی صراط مستقیم اور مستحکم دین ہے ملتہ ابراھیم حنیفا اور ہر طرف سے ہٹ کر ایک طرف کو لگنے والے ابراہیم (علیہ السلام) کی ملت بھی یہی ہے وما کان من المشرکین اور آپ شرک کرنے والوں میں سے نہ تھے بلکہ اللہ کی توحید کے خالص داعی تھے۔
نماز اور قربانی
آگے دین ابراہیمی کی بعض اصولی باتوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے ان صلاتی و نس کی بیشک میری نماز اور میری قربانی نسک کا اطلاق عبادت پر بھی ہوتا ہے اور قربانی پر بھی ‘ ناسک عابد کو بھی کہتے ہیں اور نسک احکام کو بھی کہتے ہیں چناچہ حجتہ الوداع کے موقع پر حضور ﷺ نے صحابہ کرام ؓ سے فرمایا تھا خذوا عنی مناسکم اے لوگو ! مجھ سے حج کے احکام خوب سمجھ لو۔ شاید اس سال کے بعد میری اور تمہاری ملاقات نہ ہو اسی طرح قربانی کے متعلق ولکل امۃ جعلنا منسکا (الحج) ہم نے ہر ایک امت کے لئے قربانی کا ایک طریقہ مقرر کیا ہے۔ ذی الحجہ کی قربانی کے علاوہ دم قران کو نسی کہ کہا گیا ہے سورة بقرہ میں جہاں احصار کی صورت میں قربانی کرنے کا حکم ہے۔ وہاں فرمایا کہ اس وقت تک اپنے سر نہ منڈوائو جب تک کہ قربانی اپنے ٹھکانے پر پنہ پہنچ جائے۔ فرمایا اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اور اسے اپنے آپ پر عائد کسی پابندی کو توڑنا پڑے فضدیتہ من صیام او صدقتہ او نسک تو اس کے بدلے میں فدیہ دے روزے کی صورت میں یا صدقے کی صورت میں یا قربانی کی صورت میں۔ امام ابوبکر حصاص فرماتے ہیں کہ نسک اس جانور کو کہتے ہیں جو الہ تعالیٰ کے تقریب کے لئے ذبح کیا جائے عام قربانی اور دم قرآن بھی تقریب الٰہی کے لئے ہوتا ہے مولانا شاہ اشرف علی تھانوی نسک کو عام معنوں میں لیتے ہیں اور آیت کے ٹکڑے کا ترجمہ یوں کرتے ہیں ‘ میری نماز اور تمام عبادتیں اللہ کے لئے ہیں تاہم دیگر مفسرین کرام نسک سے قربانی مراد لیتے ہیں۔ یعنی میری نماز اور میری قربانی اللہ کے لئے ہیں۔
قربانی کا وجوب
قربانی بظاہر چھوٹا سا عمل معلوم ہوتا ہے مگر اس کی اہمیت بہت زیادہ ہے بعض چیزیں اپنے اثر کے اعتبار سے بارعب ہوتی ہیں ۔ مثلاً نماز کے مقابلے میں اذان ایک چھوٹا سا عمل ہے کیونکہ یہ تو محض ایک اعلان ہے اور نماز تمام عبادتوں سے افضل عبادت ہے مگر اذان کا رعب اور دہشت اس قدر ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب شیطان اذان کی آواز سنتا ہے تو چھتیں سیل تک دو ربھاگ جاتا ہے۔ اسی طرح قربانی اس لحاظ سے اہم ہے کہ اس کے پیچھے میں بڑے کمال کی صفت پیدا ہوتی ہے۔
اکثر آئمہ کرام کے نزدیک قربانی سنت کا درجہ رکھتی ہے جب کہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک قربانی واجب ہے۔ امام ابوبکر حصاص (رح) امام ابوحنیفہ (رح) کے مسلک کی تائید میں اگلی آیت سے استدلال پیش کرتے ہیں۔ اور فرماتے ہیں وبذلک امرت (مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا) میں امر ہے جو کہ وجوب کے لئے ہوتا ہے چونکہ یہاں پر قربانی کا ذکر بھی ہے لہٰذا یہ واجب ہے۔ بعض احادیث سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ قربانی کا حکم عام صدقہ کا نہیں بلکہ یہ زیادہ موکد ہے اور اس میں وجوب کا درجہ پاجاتا ہے۔ سورة کوثر میں بھی آیا ہے ” فصل لربک وانحر “ یعنی اپنے رب کے لئے نماز پڑھیں اور قربانی دیں۔
زندگی اور موت
فرمایا بیشک میری نماز اور میری قربانی و محیامی ومماتی اور میری زندگی اور میری موت للہ رب العلمین سب اللہ کے لئے ہیں جو کہ تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ غرض یہ کہ اس آیت کریمہ میں چار چیزوں کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی ہے یعنی نماز ‘ قربانی ‘ زندگی اور موت ‘ زندگی اللہ کے لئے ہونے کا مطلب یہ ہے کہ انسان جب تک زندہ ہے اس سے ہر چھوٹا سے چھوٹا اور بڑے سے بڑا کام محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے لئے انجام پانا چاہئے اور کوئی کام اس کی رضا کی خلاف نہیں ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ جس کا م کے کرنے کا حکم دے ‘ وہ ہوجائے اور جس کام سے اللہ تعالیٰ منع فرمائے وہ نہیں ہونا چاہئے ‘ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ فرماتے ہیں کہ مسلمانوں کے لئے یہ آیت کریمہ بڑی اہم ہے اسے ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے اور اس کا مراقبہ کرنا چاہئے۔ اس زمانہ میں تو حالات بالکل الٹ ہیں۔ لوگوں نے اپنی زندگیاں شیطانی کاموں کے لئے وقف کر رکھی ہیں اللہ کی خوشنودی کو کون دیکھتا ہے۔ حالانکہ ایک مسلمان کے لئے لازم تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہ کرے ۔ موت کا بھی یہی حال ہے۔ اہل ایمان کے لئے تو یہ حکم ” فلا تموتن الا وانتم مسلمون (البقرۃ) تمہاری موت اس حالت میں آنی چاہئے کہ تم اسلام پر قائم ہو۔ مگر آج موت اتنی سستی ہوچکی ہے کہ باطل مقاصد کے لئے بیشمار قتل ہو رہے ہیں ‘ گویا موت بھی اللہ کی بجائے شیطان کے راستے میں آ رہی ہے۔ امریکہ ‘ روس ‘ جاپان ‘ یا ویٹ نام کا جھگڑا ہو ‘ مسئلہ لسانی ہو یا نسلی ‘ معاملہ اقتدار کا ہو یا مال کا ‘ ان میں خدا کی خوشنودی کہاں ہے ؟ اور اس طرح ضائع ہونے والی ہزاروں جانیں کس کھاتے میں جا رہی ہیں ؟ خود اہل اسلام میں فرقہ بندی کی وبا عام ہے اور یہ آپس کی کشیدگی بعض اوقات جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ یہ تو نفسانی خواہشات کی خاطر جان دینے والی بات ہے۔ حالانکہ اس آیت کریمہ میں یہ سبق دیا جا رہا ہے کہ اہل ایمان کی زندگی بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے صرف ہونی چاہئے اور جب موت آئے تو وہ بھی اس کی رضا جوئی کیلئے ؎ ہو۔
شرعی اور تکوینی امور
مولانا شاہ اشرف علی تھانوی ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں مذکورہ چار چیزوں میں سے دو شرعی اور تکوینی ہیں۔ نماز اور قربانی کا تعلق شریعت سے ہے اور یہ دونوں امور انسان اپنے اختیار سے انجام دیتا ہے۔ باقی دو چیزیں زندگی اور موت تکوینی ہیں موت وحیات اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور ان میں انسان کا اپنا کوئی دخل نہیں۔ دراصل عقیدہ توحید دو چیزوں سے مکمل ہوتا ہے۔ یعنی توحید فی العبادت اور توحید فی التصرف مذکورہ بالا دو شرعی امور کا تعلق توحید فی العبادت سے ہے۔ نماز اور قربانی اللہ تعالیٰ کے تقرب اور اس کی خوشنودی کے لئے ادا کی جاتی ہے۔ جو شخص غیر اللہ کی نماز ادا کرے گا یا غیر اللہ کے تقرب کے لئے قربانی دے گا ‘ وہ مشرک ہوجائے گا اور توحید فی العبادت میں پورا نہیں اترے گا۔ کیونکہ عبادت بدنی ہو یا مالی ‘ اس میں غیر اللہ کی شرکت کسی طور پر قابل قبول نہیں۔ باقی دو اشیاء زندگی اور موت تکوینی امور ہیں اور ان کا تعلق توحید فی التصرف کے ساتھ ہے موت اور زندگی پر تصرف اور کنٹرول صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ ان میں کسی انسان جن ‘ فرشتے یا کسی بھی غیر اللہ کو تصرف حاصل نہیں ‘ غرض یہ کہ ایمان اور عقیدہ توحید کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب انسان کا یقین کامل ہوجائے کہ ہر قسم کی عبادت بھی اللہ ہی کے لئے سزاوار ہے اور کائنات میں تصرف بھی صرف اسی کو حاصل ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔
ان چار مذکورہ امور کو دو مختلف صورتوں میں بھی منسلک کیا جاسکتا ہے مثلاً یہ کہ نماز کا تعلق زندگی کے ساتھ۔ انسان جب تک بقید حیات موجود ہے اسے نماز کی پابندی کرنی چاہئے ۔ زندگی اور نماز کو اس قدر مربوط ہونا چاہئے کہ زندگی کے آخری لمحات تک انسان کسی وقت بھی نماز سے غافل نہ ہو اور جب وہ آخری سانس لے تو اس کے ذمے کوئی نماز واجب الادا نہ ہو۔ دوسری طرف قربانی اور موت کو اکٹھا کرلیں۔ جانور کی قربانی تقرب الی اللہ کے لئے کی جاتی ہے اگویا ایک جانور کی جان کے بدلے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنا مقصود ہوتا ہے لہٰذا یہ بات ہمیشہ انسان کے ذہن نشین رہنی چاہئے کہ اس کی اپنی موت بھی ایسی حالت میں آنی چاہئے کہ اسے اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل ہو اور قربانی کا یہی مقصد ہے۔ یہ قربانی اور موت کا الحاق بھی ہوگیا۔
انفرادی اور اجتماعی اصلاح
دنیا میں امن وامان کے قیام کے لئے اللہ تعالیٰ نے اصلاح کا پروگرام دیا ہے جس کی ابتداء انفرادیت سے ہوتی ہے اور اجتماعیت پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ افراد صحیح ہوں گے تو معاشرہ خود بخود صحیح ہوگا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے نماز کا حکم دے کر انسان کی انفرادی اصلاح کا بندوبست کردیا ہے سب سے پہلے انسان نماز اور دیگر عبادات کے ذریعے اور قربانی کر کے اپنی ذاتی اصلاح کا بندوبست کرتا ہے جب اس پر اس کا یقین محکم ہوجاتا ہے۔ تو پھر اصلاح معاشرہ کی طرف توجہ دیتا ہے۔ اجتماعی اصلاح بھی نماز ہی سے شروع ہوجاتی ہے جب مسجد میں نماز با جماعت ادا ہوتی ہے تو محدود معاشرہ میں میل ملاپ کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ جب ہر شخص نماز کے ذریعے اصلاح نفس کرلیتا ہے تو پھر وہ آپس میں وسیع تر اصلاح احوال کی بنیاد بنتے ہیں اور اس طرح اجتماعی اصلاح کا عمل شروع ہوجاتا ہے جو بڑھتے بڑھتے ایک گائوں ‘ ایک شہر اور پورے ملک پر بلکہ پورے عالم اسلام کا احاطہ کرلیتا ہے۔ اگر انسان اللہ کی عطا کردہ زندگی کو احسن طریقے سے بسر کرے۔ اسے فکر ہو کہ زندگی کے کسی موڑ پر بھی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سرزد نہیں ہونا چاہئے۔ اگر یہ فکر پیدا ہوجائے تو یہی انسان کی اصل زندگی ہے اور اگر یہ فکر پیدا نہیں ہوئی تو ایسی زندگی کا کوئی فائدہ نہیں اسی طرح موت کے لئے بھی انسان کو ہر وقت فکرمند رہنا چاہئے تا کہ جب بھی اس کی موت آئے تو ایمان کی حالت میں آئے اگر یہ فکر پیدا ہوجائے تو انسان ہر لمحہ نیکی کے کام انجام دے گا ‘ فرمانبرداری اور اطاعت گزاری کی حالت میں رہے گا اسے علم نہیں کہ موت کس لمحے واقع ہوجائے گی ‘ لہٰذا وہ نیکی سے کبھی غافل نہیں ہوگا اور برائی سے ہمیشہ دور رہے گا تو اب لب لباب یہ ہوا کہ میری نماز اور میری قربانی ‘ میری زندگی اور موت سب اللہ ہی کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اگر انسان میں ان چاروں چیزوں کی حقیقی روح پیدا ہوگئی تو وہ انشاء اللہ کامیاب و کامران ہوگا۔
اولین اطاعت گزار
آگے پھر سر کی تردید فرمائی اور حضور ﷺ کی زبان مبارک سے کہ لایا لا شریک لہ ‘ آپ یہ بھی کہہ دیں کہ اس وحدہ لا شریک کا کوئی شریک نہیں ‘ نہ ذات میں اور نہ صفات میں ‘ نہ علم میں اور نہ تصرف میں وبذلک امرت اور مجھے بھی اسی بات کا حکم دیا گیا ہے کہ ملت ابراہیمی کے اصولوں پر کاربند ہوں ۔ سورة آل عمران میں بھی حضور ﷺ کی زبان سے امت کو یہی پیغام دیا ہے فاتنبعوا ملۃ ابراھیم حنیفا ملت ابراہیمی کا اتباع اختیار کرو کہ یہی دین ہے اور یہی اسلام ہے۔
فرمایا آپ یہ بھی کہہ دیں وانا اول المسلمین کہ میں صرف تمہیں ہی اطاعت گزاری کی تعلیم نہیں دے رہا۔ بلکہ سب سے پہلے خود اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ میں اولین اطاعت گزار اور فرمانبردار ہوں۔ امام ابوبکر حصاص (رح) فرماتے ہیں کہ امت میں سب سے پہلے نبی اللہ کی اطاعت کا اعلان کرتا ہے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس کا تعلق عالم ارواح سے بھی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے جب تمام روحوں کو پیدا فرمایا اور ان سے عہد الست لیا تو اس وقت بھی اللہ کی ربوبیت کا اقرار سب سے پہلے حضور نبی کریم ﷺ کی روح پاک نے کیا تھا۔ حدیث اول ماخلق اللہ نوری اگرچہ پایا ثبوت کو نہیں پہنچی تا ہم مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) نے اس نور سے مراد روح محمد لیا ہے کہ تمام ارواح میں سب سے پہلے اللہ نے آپ کی روح کو پیدا فرمایا۔ اور پھر سب سے پہلے آپ ہی نے اول المسلمین ہونے کا اقرار کیا۔ اس طرح گویا اس دنیا میں بھی اور عالم ارواح میں بھی حضور کا اولین اطاعت گزار ہونا ملتا ہے۔ اسی طرح ہر نبی پہلے خود اطاعت اختیار کرتا ہے اور پھر دوسروں کو دعوت دیتا ہے۔