Ayahs 6:108–110گذشتہ دروس میں شرک کی تردید اور توحید کے اثبات میں عقلی اور نقلی دلائل پیش ہوئے۔ پھر فرمایا کہ ان دلائل کی وجہ سے انسان میں جو بصیرت پیدا ہوتی ہے وہ تمہارے پاس پہنچ چکی ہے جو اسے دیکھے گا تو اسی کی بہتری ہے اور جو خود آنکھیں بند کر کے اندھا بن جائے گا۔ اس کا وبال اسی پر پڑیگا۔ یہ اللہ کے پیغمبر کی ذمہ داری نہیں ہے کہ کسی کو بُرائی سے زبردستی منع کرے یا کسی کے دل میں لازماً ایمان ڈالے البتہ ا تمام حجت تمام انبیاء اور ان کے متبعین کی ذمہ داری میں شامل ہے انہوں نے تمام دلائل بیان کر کے ہدایت کا سامان کردیا ہے انہوں نے ہر یز کو وضاحت کے ساتھ بیان کردیا ہے ، اب اگر کوئی شخص نہیں مانتا تو وہ بُرے نتائج کا خود ذمہ دار ہے۔ نبی اس پر وکیل یا داروغہ نہیں کہ اسے زبردستی منائے ، فرمایا ، نبی کا کام یہ ہے کہ وہ اتباع وحی کرے جس میں اہم ترین بات اللہ کی وحدانیت ہے اس کو لازم پکڑیں اور مشرکین کو زیادہ خاطر نہ لائیں۔ اگر اللہ تعالیٰ سب کو جبراً ہدایت دیتا ، تو وہ دے سکتا تھا مگر یہ اس کی حکمت کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو قویٰ ظاہرہ اور باطنہ عطا کیے ہیں عقل و فہم عطا کیا ہے اور پھر اس کو اختیار دیا ہے ۔ اب یہ اس کی مرضی ہے کہ ایمان قبول کرتا ہے یا کفر کا راستہ اختیار کرتا ہے وہ جو بھی فیصلہ کرے گا۔ آپ کا کام صرف پہنچا دینا اور سمجھا دینا ہے۔ یہ لوتگ اگر ضد ، عنا اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ، کفر شرک اور بد عقیدگی میں مبتلا ہیں تو اس کی ذمہ داری آپ پر عاید نہیں ہوتی۔ فریضہ تبلیغ کی ادائیگی میں بعض اوقات بحث مباحثہ بھی کرنا پڑتا ہے اور کفار سے مناظرہ کی نوبت بھی آتی ہے مگر اللہ نے فرمایا ہے کہ غصے یا ناراضگی میں آکر کفار کے معبودوں یا مقتدائوں کو بُرا بھلا نہ کہیں ، کیوں ایسے کرنے سے وہ لوگ ضد اور عناد کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہیں تمہارے معبود حق کو بُرا بھلا نہ کہنے لگیں۔ فرمایا عین ممکن ہے کہ یہ لوگ جہالت اور نادانی کی وجہ سے واجب التعظیم خدا تعالیٰ کی شان میں گستاخی کرنے لگیں یا انبیائے کرام اور بزرگان دین کی بےادبی کے مرتکب ہوں۔ لہٰذا آپ ان کے معبود ان باطلہ کے حق میں بھی بُرے الفاظ استعمال نہ کریں۔ دوسرے مقام پر جہاں تبلیغ کے اصول بیان کیے گئے ہیں وہاں بھی یہی نصیحت کی گئی ہے کہ کسی دوسرے کو بات سمجھانے کے لیے نرمی کا طریقہ اختیار کریں۔ اگر آپ سختی کریں گے تو ان میں چڑ پیدا ہوگی اور وہ مزید دور ہوجائیں گے۔ چناچہ صورۃ نمل میں ارشاد ہوتا ہے۔ ” ادعالیٰ سبیل ربک بلحکمہ والموعظۃ الحسنۃ “ آپ حکمت اور دانشمندی کے ساتھ اپنے رب کے راستے کی طرف دعوت دیں۔ اور اگر بحث مباحثہ اور مناظرہ بھی کرنا پڑے “ وجاد لھم بلتی ھی احسن ! “ تو بہتر طریقہ اختیار کریں اور اخلاق کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ان کے معبود ان باطلہ کو بُرا بھلا نہ کہیں کہ اس کا کوئی خراب نتیجہ برآمد نہ ہو۔
ارشاد ہوتا ہے۔ ولا تسبوالذین یدعون من دون اللہ اور نہ برا بھلا کہیں ان کو جن کی مشرکین اللہ کے سوا پر ستش کرتے ہیں الذین سے معبود ان باطلہ مراد ہیں۔ جن کو یہ مشکل کشائی اور حاجت روائی کے لیے پکارتے ہیں۔ فرمایا اگر ان کو بُرا بھلا کہا گیا ، تو یہ لوگ چڑ جائیں گے اور ضد اور عناد کا مظاہرہ کریں گے فلیسبو اللہ پس وہ اللہ تعالیٰ کو بُرا بھلا کہیں گے جو کہ معبود برحق ہے عد و حد سے تجاوز کرتے ہوئے بغیر علم نادانی اور جہالت کی وجہ سے۔ فنانچہ مشرکین مکہ اپنی جہالت کی وجہ سے قرآن پاک ، جبرائیل علیہ اسلام ، حضور نبی کریم ﷺ حتیٰ کہ خدا تعالیٰ کی ذات پر بھی وشنام طرازی کے مرتکب ہوتے تھے۔ اسی لیے حکم ہوا کہ ان کے باطل خدائوں کو بھی بُرا بھلا نہ کہو۔ مکی زندگی کے دوران چونکہ مشرکین کا غلبہ تھا اس لیے وہ ہر حیلے بہانے سے اہل ایمان کو تنگ کرتے تھے۔ ان کے شر سے بچائو کے لیے اللہ تعالیٰ نے نماز کی قرأت کے متعلق بھی فرمایا ولا تجھر بصلو تک ولا تخافت بھا وابتغ بین ذلک سبیلا “ (بنی اسرائیل) آپ نہ تو اتنی بلند آواز سے تلاوت کریں کہ مشرکین کی طرف سے شرکا خطرہو اور نہ اتنا آہستہ پڑھیں کہ اپنے ساتھی بھی نہ سن سکیں ‘ فرمایا ان دونوں حالتوں میں اعتدال کی راہ اختیار کریں۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے معبودان باطلہ کو بُرا بھلا کہنے سے منع فرمایا “ البتہ کفر و شرک جیسے قبیح جرم کی تردید کا فریضہ انجام دیتے رہنے کی تلقین فرمائی کہ توحید کی دعوت آپ کا فریضہ منصبی ہے۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ معبودان باطلہ کو بڑا بھلا کہنا تو فرض واجب ہے اور نہ ہی ناجائز بلکہ سبارح ہے۔ اور اگر مباح چیز کو اختیار کرنے میں بڑی قباحت پیدا ہونے کا احتمال ہو تو مباح کا ترک کردینا بھی روا ہے مطلب یہ کہ اگر معبودان باطلہ کو بُرا بھلا کہنے سے خدا تعالیٰ یا انبیاء کی گستاخی کا پہلو نکلتا ہو تو پھر اس مباح کو ترک کردینا چاہئے۔ البتہ فرض اور واجب کو کسی صورت میں بھی ترک نہیں کیا جاسکتا توحید کی اشاعت ہر حالت میں لازم ہے مگر اس کے لیے کوئی ایسا طریقہ اختیار نہیں کرنا چاہئے جس سے کفار اپنے معبودوں کی تحقیر کا پہلو نکال سکتے ہوں۔ اس لیے حضور علیہ اسلام نے سببیت کا مسئلہ بھی بیان فرمایا ہے ارشاد ہے ملعون من سب والدیہ جو شخص اپنے والدین کو گالی دیتا ہے وہ ملعون ہے۔ صحابہ کرام ؓ نے تعجب کیا ، حضور ! ایسا شخص کون ہوگا جو اپنے ماں باپ کو گالی دے فرمایا ، جب تم کسی کے والدین کو گالی دو گے تو وہ تمہارے والدین کو گالی دے گا……… اپنے ماں باپ کو گالی دینے کا سبب تم خود بنے اور تم ہی اپنے والدین کے خلاف دشنام طرازی کا باعث بنے یہی اپنے والدین کو گالی دینا ہے۔ اسی اصول کے تحت اس مقام میں معبود ان باطلہ کے متعلق ایسی ویسی بات کرنے سے منع کیا گیا ہے جس کے جواب میں مشرکین کی طرف سے خدائے لم یزل کی شان میں گستاخی کی جاسکتی ہے۔
سببیت ہی کے ضمن میں بیت اللہ شریف کی تعمیر کا مسئلہ بھی آتا ہے حضور علیہ اسلام کے دعویٰ نبوت سے پہلے مشرکین بیت اللہ شریف کی تعمیر ابراہیمی بنیادوں پر کرنے کی بجائے اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیا تھا جو اب بھی حطیم کی صورت میں موجود ہے۔ حضور علیہ اسلام نے ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا لولا قومک حدیث عہد بکفی اگر تیری قوم نئی نئی کفر سے نہ ن کی ہوتی تو میں ضرور اسے گرا کر ابراہیمی بنیادوں پر تعمیر کرتا۔ مگر لوگ نئے نئے اسلام میں داخل ہوئے ہیں ، ان میں بد ظنی پیدا ہونے کا خطرہ ہے نیز یہ کہ میرے پاس ۔۔ بھی نہیں ہے ، لہٰذا میں نے بیت اللہ شریف کی تعمیر نو کا ارادہ ترک کردیا ہے۔ آپ کے زمانہء مبارک کے بعد حضرت عبداللہ بن زبیر ؓ نے اصل ابراہیمی بنیادوں پر اللہ کی تعمیر کی تھی مگر مردانیوں نے اس کو قبول نہ کیا اور دوبارہ اسے حضور علیہ اسلام کے زمانہ کی تعمیر کے مطابق کردیا۔ خانہ کعبہ کی چھت اور فرش تو تبدیل ہوتا رہا ہے۔ مگر اس کے مسقف رقبہ میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوئی اور حطیم والا حصہ آج تک بد ستور کمرے سے باہر ہے۔ بہر حال اس کے بعد علمائے ‘ کرام نے بھی یہی فتوی دیا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔ یہ فتوی اس سبب سے تھا کہ اگر ایک دفعہ اس کی تعمیر نو کی اجازت دے دی گئی تو پھر خلفاء اور سلاطین کو کھیل بنالیں گے۔ اور تعمیر آئے دن تبدیلی ہوتی رہے گی۔ چناچہ خانہ کعبہ کی موجودہ تعمیر انہی پتھروں اور اتنی جگہ پر ہوتی رہی ہے۔ آگے اللہ تعالیٰ نے ایک عام طبعی رحجان کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ ہر شخص ، قوم اور فرقہ اپنے اعمال کو ہی بہترین سمجھتا ہے قطع نظر اس کے کہ اس میں واقعی کوئی خوبی ہے یا وہ سراسر باطل ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ کذلک زینا لیکل امۃ عملھم اسی طرح ہم نے ہر امت کے لیے اس کا عمل مزین کردیا ہے۔ ہر قوم اپنے اعتقادات اور رسم و رواج کو ہی بہتر سمجھتی ہے۔ مشرکین کے نزدیک شرک بھی ایک بہت اچھا کام ہے۔ بدعتی بدعت کے کام پر نازاں ہے۔ کافر اپنے معبودانِ باطلہ کو پوجا کر کے خوش ہے غرضیکہ ہر امت کا یہ دستور چلا آرہا ہے کہ اپنے اپنے اعمال کو اچھا خیال کر کے اس پر عمل پیرا رہتے ہیں۔ پہلے اس سورة میں بھی گزر چکا ہے ” وزین لھم الشیطن ماکانو یعملون “ ظاہر اسباب کے سلسلے میں شیطان نے ان کے اعمال کو بڑا مزین کر کے دکھلایا ہے ۔ کوئی جواء کھیلتا ہے ، لہو و لعب میں مصروف ہے ، شراب نوشی کرتا ہے ، بدعات پر عمل پیرا ہے ، قبروں پر گنبد بناتا ہے۔ چادریں چڑھاتا ہے ، شیطان کہتا ہے تم بالکل ٹھیک کر رہے ہو ، ایسے ہی کرتے جائو۔ ہر فرقہ اپنے قبیح اعمال کو بھی نہایت اچھے اعمال سمجھ کر انجام دے رہا ہے اور انہیں سمجھتا کہ شیطان نے اس کے اعمال پر ڈاکہ ڈال رکھا ہے شرک کی جتنی اقسام ہیں ، سب نیکی اور کار ثواب سمجھ کر انجام دی جاتی ہیں فرمایا دنیا میں اسی طرح ہوتا رہے گا ” ولایزالون مختلفین “ اختلاف مٹنے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ، یہ اسی طرح چلتے رہیں گے۔ سورة حج میں فرمایا اللہ یحکم بینکم یوم القیمۃ فیما کنتم فہ تختلفون “ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ قطعی فیصلہ کردے گا اس چیز میں جس میں یہ اختلاف کرتے ہیں۔ البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دین حق اور اس کے دلائل کو بالکل واضح کردیا ہے۔ جو شخص منصف مزاج ہوگا ، وہ ذرا سا بھی غور کریگا تو حقیقت کو پالے گا۔ سورة بقرہ میں موجود ہے ” قد نبی ن الرشد من الغی “ نیکی اور بدی میں امتیاز ہوچکا ہے ، لٰہذا کسی کو اشتباہ باقی نہیں رہنا چاہئے۔ حضرت نوح علیہ اسلام نے اپنی قوم سے فرمایا تھا۔
خوب اچھی طرح سن لو ، اب کوئی بات مخفی نہیں رہنی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے خود حضور علیہ اسلام کی زبان مبارک سے کہلوایا ” علیٰ بصیرۃ انا ومن اتبعنی (سورۃ یوسف) میں بھی بصیرت پر ہوں اور میرے پیروکار بھی بصیرت پر ہیں۔ اب کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہا۔ ہمیں یقین ہے کہ ہمارا عقیدہ عمل اور طور طریقہ بالکل برحق ہے۔ ہم اندھیرے میں نہیں بلکہ بصیرت پر ہیں تاہم ہر مذہب اور فرقہ یہی دعو یٰ کرتا ہے کہ وہ حق پر ہے خواہ وہ کفر و شرک پر ہو یا بدعات کا پیروکار۔ ہر امت کے زہن میں ان کے اعمال مزین ہوتے ہیں۔
پھر کیا ہوگا ، فرمایا ثم الیٰ ربھم مر جعھم سب کو اپنے رب کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے اسی کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے فینبعُھم بما کانوا یعملون پس وہ جتلادے گا وہ باتیں ، جو وہ کیا کرتے تھے۔ سب لوگوں کے اعمال ان کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔ اور کہا جائے گا یہ ہیں تمہارے اعمال جنہیں میں نے گِن کر رکھا ہوا ہے۔ اب ان کا بھگتان کرو۔ تو جس طرح انسان کی پیدائش اور اس کا اپنا وجود قطعی ہے اسی طرح جزائے عمل بھی لازم ہے۔ اس امتحان سے ہر ایک کو گزرنا ہوگا ، کوئی بچ نہیں سکے گا۔
آگے مشرکین کے مطالبے کا ذکر فرمایا کہ وہ اپنی مرضی کی نشانی دیکھنا چاہتے ہیں اور اس س سلے میں واقسمعو باللہ جھد ایما نھم اللہ کے نام کی بڑی پختہ قسمیں اٹھا کر کہتے ہیں۔ لئِن جاء تھم ایۃ لیو منن بھا اگر ان کے پاس کوئی نشانی آجائے تو وہ ضرور ایمان لے آئیں گے۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی خواہش کے مطابق معجزہ پیش کیا جائے۔ کہتے تھے جس طرح موسیٰ علیہ اسلام نے عصا کا معجزہ پیش کیا ، علیٰ علیہ اسلام نے مردوں کو زندہ کر دکھایا اور صالح علیہ اسلام نے پتھر سے اونٹنی نکالی ، اگر اسی طرح کی کوئی نشانی ظاہر ہو ، تو ایمان قبول کرلیں گے۔ مومن لوگ بھی چاہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مرضی کا کوئی معجزہ ظاہر فرمادے۔ تو شاید یہ لوگ اسلام میں داخل ہوجائیں اور ہر روز کا جھگڑا ہی ختم ہوجائے۔ مشرکین کا مطالبہ تھا کہ صفا پہاڑی کو سونے کا بنادیا جائے۔ ان کا ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ مکہ کی سرزمین کو ہموار کردیا جائے ، یہاں پر نہریں جاری ہوں اور کھیتی باڑی ہونے لگے۔ مند احمد کی حدیث میں آتا ہے کہ حضور علیہ اسلام نے بعض مطالبات کی منظوری کے لیے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں درخواست بھی پیش کی۔ تو مالک المک نے جواباً فرمایا کہ آپ چاہیں تو صفا پہاڑی کو سونے کا بنادیا جائیگا ، تاہم اگر انہوں نے پھر بھی انکار کیا تو پھر میں فوری طور پر سخت سے سخت سزادوں گا۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر آپ پسند کریں تو ان کی فرمائش پوری کرنے کی بجائے ان پر توبہ کا دروازہ کھلا رکھتا ہوں تاکہ کبھی نہ کبھی ایمان لے آئیں اس پر حضور علیہ اسلام نے عرض کیا ، مولاکریم ! مجھے یہ بات پسند ہے کہ ان کی منہ مانگی فرمائش پورا کرنے کی بجائے ان پر توبہ کا دروازہ کھلا رکھ۔ سورة مائدہ میں بھی اس قسم کا تذکرہ آپ پڑھ چکے ہیں۔ نزول مائدہ کی فرمائش پر اللہ نے فرمایا کہ میں یہ فرمائش پوری کرتا ہوں اور اگر یہ پھر بھی ایمان نہ لائے ” فانی اعذبہ عذابالا اعذبہ احد من العلمین “ تو ایسی سزا دونگا کہ دنیا میں کسی کو ایسی سزا نہ ملی ہو۔ چناچہ مائدہ نازل کرنے کے بعد بھی جن لوگوں نے نافرمانی کی ، انہیوں اللہ تعالیٰ نے فوری سزا میں مبتلا کیا ، ان کی شکلیں مسخ کردی گئیں اور پھر وہ ہلاک کردیئے گئے۔ فرمایا یہ لوگ پختہ قسمیں اٹھا کر کہتے ہیں کہ معجزات پاکر فوراً ایمان لے آئیں گے۔ قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجیے انما الایت عنداللہ بیشک نشانی کا ظاہر کرنا تو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے۔ اس نے اس سے بیشتر سینکڑوں معجزات ظاہر کیے ہیں مگر فرمائشیں پوری نہیں کی کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات کا پابند نہیں ہے کہ ہر خواہش مند کی خواہش کے مطابق نشانی ظاہر کردے ۔ البتہ وہ اپنی حکومت کے مطابق جب ضرورت ہوتی ہے کوئی نہ کوئی معجزہ ظاہر کردیتا ہے مگر وما یشعرکم تم حیقت حال سے واقف نہیں ہو۔ تم سمجھتے ہو کہ نشانی دیکھ کر فوراً ایمان قبول کرلیں گے ایسا نہیں ، اللہ ان کے باطنی حالات کو خوب جانتا ہے تمہیں کیا معلوم ہے انھا اذ جائت لا یومنون کہ جب وہ نشانیاں آجائیں تو یہ لوگ ایمان ہی لے آئیں گے۔ اگر چہ یہاں پر الفاظ لایومنون ہے مگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ لازائد ہے اور اس کو لاصلہ کہتے ہیں۔ اس لیے اس کا یہ معنی کرتے ہیں کہ تمہیں کیا معلوم کہ نشانی دیکھ کر وہ ضرور ایمان لے آئیں گے اس کی مثال اس طرح ہے ” و حرام علی قریۃ اہلکنھا انھم لایرجعون (انبیائ) جس بستی کو ہم نے ہلاک کیا ، حرام ہے کہ وہ لوٹ کر آئیں۔ یہاں بھی لا زائد ہے۔
بعض فرماتے ہیں کہ یہاں پر ان کا لفظ لعل کے معنی میں آیا ہے۔ عربی زبان میں ایسا بھی ہوتا ہے۔ اگر انھا کے یہ معنی لیے جائیں تو مفہوم ہوگا تم کو کیا معلوم شاید یہ لوگ نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں۔ عدی بن زید مشہور عربی شاعر ہوا ہے۔ نعمان شاہ عراق اس کا بہنوئی تھا۔ کسی وجہ سے اس سے ناراض ہو کر عدی کو جیل میں ڈال دیا۔ زمانہ جاہلیت میں اس نے کہا تھا ۔
اعاذل مایدریدء ان مینت
فی ساعۃِ الیوم اوفی ضحی افدی
تمہیں کیا معلوم شاید کہ میری موت آج کے دن …واقع ہوجائے یا کل دوپہر سے پہلے ۔ مقصد یہ ہے کہ یہاں بھی ان شاید کے معنوں میں استعمال ہوا ہے اور عربی زبان میں یہ معانی بھی ہوتے ہیں۔
بہر حال اس آیت میں اہل ایمان کو تسلی دی گئی ہے۔ تم یہ نہ خیال کرو کہ نشانیاں دیکھ کر یہ ایمان لے آئیں گے۔ حقیقت یہ ہے ونقلب افد تھم وابصار ھم ہم ان کے دلوں اور آنکھوں کو پٹیاں دیتے ہیں۔ جب کوئی شخص ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل اور آنکھوں کو اس طرح پلٹ دیتا ہے کہ وہ نہ تو صحیح بات سمجھ سکتا ہے اور نہ آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے۔ اور اگر دیکھتا بھی ہے تو نظر انداز کردیتا ہے ۔ دل کے پلٹ دینے کے متعلق حضور علیہ اسلام نے یہ دعا بھی سکھلائی ہے یا مقلب القلوب ثلبت قلبی علی دینک اے دلوں کے پلٹنے والے ، میرے دل کو اپنے دین کی طرف پلٹ دیں قرآن پاک میں دوسری جگہ موجود ہے کہ برائی کرنے کے بعد مطئمن ہو کر نہ بیٹھ جائو۔ ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ دل ہی پلٹ دے ” واعلموا ان اللہ یحول بین المرعِ وقلبہ “ بیشک تعالیٰ انسان اور اس کے دل کے درمیان رکاوٹ ڈال دیتا ہے۔ پھر دل نیکی کی طرف آہی نہ سکے اور ظاہر ہے کہ جو ہٹ دھرمی کریگا ، اللہ تعالیٰ اس کے دل کو پلٹ دیگا۔ اسی لیے فرمایا کہ جو لوگ نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے ہم ان کے دلوں کو اور آنکھوں کو پلٹ دیتے ہیں جس کی وجہ سے وہ نیکی سے اس طور پر محروم ہوجاتے ہیں۔ کمالم یو منو بہ اول مرۃ جیسا کہ وہ پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے تھے جس طرح ابتداء میں انہوں نے اسلام قبول نہ کیا ، اب نشانیاں دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ ان کو چاہئے تھا کہ جب پہلی دفع قرآن پیش کیا گیا تھا تو فوراً ایمان لے آتے مگر انہوں نے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کیا جس کی وجہ سے ہم نے ان کے دلوں کو پلٹ دیا ہے اور اب یہ ہر بار انکار ہی کرتے رہیں گے۔ اسی چیز کے متعلق سورة بقرہ کی ابتداء میں آچکا ہے ” ختم اللہ علی قلوبھم “ بل سکۃ ران علی قلوبھم “ ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے۔ کہیں فرمایا ” بل طبع اللہ علیھا بکفی ھم “ (نسائ) ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ اب یہ رارست پر نہیں آسکتے ۔ ان کا ٹھکانا اب جہنم ہے کیونکہ یہ پہلی دفعہ ایمان نہیں لائے۔ ان سے نشانیاں دیکھ کر ایمان لانے کی امید نہ رکھیں ۔ ونزرھم اور ہم ان کو چھوڑتے ہیں فی طغیا نھم یعمھون یہ اپنی سرکشی میں ہی ٹھبکتے رہیں گے۔ اے پیغمبر ! آپ اپنا فریضہ ادا کرتے رہیں۔ ان کو تبلیغ کرتے رہیں ، ان سے ہمدردی اور خیر خواہی کا سلوک کریں مگر ان کی طرف سے مسلسل انکار سے دل برداشتہ نہ ہوں ، اللہ تعالیٰ خود ان سے نپٹ لیگا۔
Ayahs 6:111–113یہ آیات بھی گذشتہ آیات کے ساتھ مربوط ہیں گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مشرکین پختہ قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگر ہماری مرضی کے مطابق کوئی نشانی آجائے تو ہم مان جائیں اور تصدیق کردیں گے پہلے تو اللہ نے اس کا رد فرمایا کہ آپ کہ دیں کی نشانیاں لانا میرے بس کی بات نہیں ی تو اللہ کے اختیار میں ہے پھر اہل ایمان سے خطاب کیا کہ تمہیں کیا معلوم کہ نشانی آجانے پر یہ ضرور ہی ایمان لے آئیں گے۔ فرمایا جس طرح یہ پہلی دفعہ کلمہ حق سُن کر ایمان نہیں لائے ، اسی طرح آئندہ بھی ان سے ایمان لانے کی توقع نہ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ دلوں کو پلٹتا ہے ، سرکشی کرنے والوں کو مہلت دیتا ہے مگر وہ اسی میں بھٹکتے رہیں ان لوگوں میں شقاوت قلبی آچکی ہے ، یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
مشرکین کا ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ اگر آپ اللہ کے سچے نبی ہیں تو پھر لولا انزل علیہ ملک آپ پر فرشتے کیوں نہیں آترتے۔ ہمارے سامنے آسمان س فرشتے نازل ہوں وہ اپنے ساتھ کتاب لائیں اور تصدیق کریں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں۔ تو پھر ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فمایا ولو اننا نزلنا الیھم الملئِکۃ اگر ہم ان پر فرشتے بھی نازل کردیں تو پھر بھی یہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے۔ اس سورة کی ابتداء میں بھی گزر چکا ہے کہ ان کے سامنے فرشتوں کا نزول ممکن نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اگر فرشتے اصل شکل میں نازل ہوں تو ان کے لیے قابل برداشت نہیں ہوگا ، اور یہ ہلاک ہوجائیں گے۔ اس جہاں میں انسان کے لیے فرشتوں کا دیکھنا ممکن نہیں ، البتہ اگلے جہان میں پہنچ کر ایسا ہو سکے گا ، اللہ نے پردہ ڈال رکھا ہے۔ اور فرشتوں پر ایمان بالغیب رکھنا ہی ضروری ہے۔ اور اگر فرشتے انسانی شکل میں نازل ہوں تو یہ لوگ ان کو فرشتے ماننے کے لیے تیار نہیں ہوں گے اس کے بجائے ” للبسنا علیھم مایلبسون “ یہ اشتباہ میں ہی پڑے رہیں گے ، لہٰذا ان کی فرمائش کے مطابق اگر ہم فرشتے بھی نازل کردیں ، تب بھی ایمان نہیں لائیں گے۔
اللہ نے فرمایا کہ مشرکین ضد اور عناد میں اس قدر بڑھ چکے ہیں کہ اگر ہم ان پر فرشتے نازل کردیں وکلمھم الموتی اور مردے ان سے ہم کلام ہوں۔ مشرکین کہتے تھے کہ اگر تم اس بات میں سچے ہو کہ ہم مرنے کے بعد پھر زندہ ہوجائیں گے ” فاتو با باء نا ان کنتم صدقین “ (الدخان) تو پھر ہمارے آبائو اجداد کو اٹھالائو ، ہم بھی دیکھ لیں کہ ایسا ممکن ہے۔ اس اعتراض کے جواب میں اللہ نے یہاں فرمایا ہے کہ اگر ان کے مردے زندہ ہو کر ان سے ہم کلام بھی ہوجائیں تو یہ لوگ اتنے نادی ہیں کہ پھر بھی ایمان نہیں لائیں گے۔ فرمایا مردوں کے علاوہ وحشرنا علیھم کل شئی قبلا ہم ہر چیز ان کے سامنے لا کر اکٹھی کردیں ، تو یہ پھر بھی تسلیم نہیں کریں گے۔ قبلاً کا معنٰی سامنے ہوتا ہے۔ قبلاً قبیل کی جمع بھی ہے یعنی فوج درفوج۔ اور یہ معنٰی بھی ہو سکتا ہے کہ اگر ہم مختلف اشیاء کو گروہ درگروہ بھی لا کر کھڑا کردیں پھر بھی یہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہیں گے۔ اور ما کانو الیومنو اور اللہ کی وحدانیت ، آپ کی رسالت اور کتاب الٰہی پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔
فرمایا ایک صورت میں یہ لوگ ایمان لاسکتے ہیں الانیشاء اللہ اگر اللہ چاہے تو ایسا ہو سکتا ہے کیونکہ وہ تو قادر مطلق ہے۔ وہ کسی کو ایمان لانے پر مجبور بھی کرسکتا ہے۔ اسکی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں مگر یہ بات اسکی حکمت کے خلاف ہے۔ گذشتہ رکوع میں گزر چکا ہے ” ولو شاء اللہ ما اشرکوا اگر اللہ چاہتاتو یہ شرک نہ کرتے مگر ایسا نہیں ہے۔ ایمان اس کا مقبول ہے جو خود اپنی مرضی سے قبول کرے۔ اور ساتھ ہی اپنے نبی سے فرمایا۔ آپ ان کی ضد کی وجہ سے دل برداشتہ نہ ہوں ” وما جعلنک علیھم حفیظا “ ہم نے آپ کو ان پر کوئی نگہبان تو نہیں بنایا۔ آپ بالکل فکر مند نہ ہوں۔ اگر ایمان قبول کرتے ہیں تو ٹھیک ہے اور نہ ہم خود ان سے نپٹ لیں گے۔ یہاں بھی فرمایا ، کہ اگر اللہ چاہے تو وہ ایمان قبول کرلیں مگر حقیقت یہ ہے ولکن اکثر ھم یجھلون ان میں سے اکثر لوگ نادان اور بےسمجھ ہیں۔ حق بات انکی سمجھ میں نہیں آتی اور یہ تعصب اور عناد کی وجہ سے مخالفت پر تلے بیٹھے ہیں۔ بہر حال یہاں پر ایمان کے ضمن میں توحید اور رسالت دونوں چیزیں آگئی ہیں۔ کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لائے گا وہ رسالت کو بھی تسلیم کرلے گا۔ بلکہ توحید کی دعوت اسے رسول کی معرفت ہی ملے گی۔ لہٰذا جب تک دونوں چیزوں پر ایمان نہیں لائیگا ، اس کا ایمان مکمل نہیں ہوگا۔ یہاں پر یہ اشارہ موجود ہے۔
اب آگے رسالت کی بات ہو رہی ہے۔ فرمایا کذلک جعلنا لکل نبی عدو اور اسی طرح ہم نے ہر نبی کے دشمن بنائے ۔ شاید ہی اللہ کا کوئی نبی ہوگا جس کا کوئی دشمن نہ ہو۔ اس میں حضور ﷺ کے لیے تسلی کا پہلو ہے۔ کہ ہر نبی کے ساتھ عناد رکھنے والے لوگ ہمیشہ موجود رہے ہیں لہٰذا آپ کے ساتھ دشمنی کوئی انوکھی بات نہیں ہے۔ نزول وحی کے پہلے دن ہی حضور علیہ اسلام کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا ۔ جب آپ غار حرا سے لزرتے کانپتے گھر پہنچے اور پھر کچھ دیر بعد آپ کو افاقہ ہوا ، تو ام المومنین حضرت خدیجہ ؓ آپ کو اپنے بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ اس سے گفتگو ہوئی تو وہ کہنے لگا ، کاش اس وقت میں زندہ ہوتا جب آپ کی قوم آپ کو اس شہر سے نکال دے گی۔ حضور ﷺ کو تعجب ہوا کہ میری کسی کے ساتھ عداوت نہیں ، میں کسی پر زیادتی نہیں کرتا ، پھر یہ لوگ مجھے کیوں نکال دیں گے ، ورقہ نے کہا یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا ہے۔ وہ پہلی کتابوں کا عالم تھا ، کہنے لگا جس نے بھی ایسی چیز پیش کی جو تم کر رہے ہو ، تو اس کے ساتھ دشمنی ہی کی گئی افسوس کہ درقہ کو مہلت نہ ملی اور وہ تین دن بعد فوت ہوگیا۔ حضرت خدیجہ ؓ نے حضور ﷺ سے دریافت کیا کہ ورقہ کا کیا حال ہے۔ اگرچہ اسے مکمل ایمان لانے کا موقع تو نہ ملا مگر وہ آپ کی تصدیق تو کر گیا تھا۔ حضور ﷺ نے فرمایا ، میں نے ورقہ کو خواب میں سفید لباس میں دیکھا ہے جس سے میں اس کے بارے میں اچھی توقع رکھتا ہوں۔ بہر حال ہر نبی کے ساتھ اس کے دشمن بھی پیدا ہوتے رہے ہیں اور اسی طرح نبی آخر الزمان کو بڑے ذلیل قسم کے دشمنوں سے واسطہ پڑا۔ آگے اللہ نے دشمنوں کی تفصیل بھی بیان کی ہے کہ وہ کون ہیں ؟ شیطین الانس والجن وہ شیاطین ہیں جو انسانوں میں سے بھی ہیں اور جنوں میں سے بھی ہیں ، جنات میں سے تو ظاہر ہے کہ ابلیس اور اس کی زریت ہر اہل ایمان کی صریح دشمن ہے۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ موجود ہے ” انہ لکم عدو مبین “ کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ سورة کہف میں فرمایا ” افتحتخذونہ وزریتہ اولیاء من دونی کیا تم شیطان اور اس کی ذریت کو میرے سوا دوست بناتے ہو ؟ اس کے کہنے پر چلتے ہو ؟ حالانکہ وہ تمہارا ازلی دشمن ہے۔ اس نے تمہیں بہکانے کی قسم کھا رکھی ہے وہ انسان کے آخری دم تک کوشش کرتا ہے کہ وہ ایمان سے خالی ہوجائے۔ وہ چاہتا ہے کہ سب لوگ اس کے پیچھے لگ جائیں اور وہ سب کو اپنے ساتھ جہنم میں لے جائے انما یدعو جزبہ لیسکونو من اصحب السعیر “ (فاطر) وہ تو اپنی پارٹی بڑھانا چاہتا ہے۔ دعوت دیتا ہے کہ آئو ! میرے ساتھ لگ جائو تاکہ سب کو اپنے اتھ دوزخ میں لے جائوں۔ غرضیکہ شیطان تو انسان کا ہر صورت میں دشمن ہے۔ البتہ بعض انسانوں میں سے بھی شیطان کے ایجنٹ ہوتے ہیں۔ خود بھی شیطانی کام انجام دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی ترغیب دیتے ہیں۔ شیطان کا مقصد لڑائی جھگڑا اور دنگا فساد کرانا ہوتا ہے۔ جو انسان یہ کام کرتے ہیں۔ بلا شبہ وہ بھی شیطان ہیں جو ہر نبی کے ساتھ بھی دشمنی کرتے رہے ہیں۔ کسی انسان کو بد بختی کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ اللہ کے نبیوں کا دشمن ہو ۔ اللہ کے نبی تو توحید اور ہدایت کا راستہ بتاتے ہیں۔ اللہ کی مرضیات پر چلتے ہیں اور دوسرے انسانوں کو بھی اسی راستے پر چلانا چاہتے ہیں۔ مگر شیطان اسی وج سے ان کا دشمن ہے۔ ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ، سب سے سخت عذاب اس شخص کے لیے ہے۔ جو اللہ کے نبی کو قتل کرے یا اللہ کا نبی اسے قتل کرے۔ ظاہر ہے کہ نبی کا قاتل نہایت ہی شقی آدمی ہوگا۔ لہٰذا اس سے بڑا ب بخت کون ہو سکتا ہے۔ اسی طرح جس شخص کو نبی جیسا سراپا رحمت قتل کر دے وہ بھی بڑا ہی بد باطن ہوگا۔ جب اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ اسلام کو زمین پر اتارا تو فرمایا ” بعضکم لبعض عدو (البقرہ) تم ایک دوسرے کے دشمن ہوگے ، تمہاری اولاد میں سے بھائی بھائی کا دشمن ہوگا۔ باپ اور بیٹے میں دشمنی ہوگی۔ قوم اور برادری ایک وسرے کے خلاف بر سر پیکار ہوگی۔ پارٹیوں اور فرقوں میں دشمنی ہوگی۔ اولاد آدم میں ایک دوسرے کے خلاف عام دشمنی ہوگی مگر سب سے بڑی بد بختی یہ ہے کہ اللہ کے نبیوں کے ساتھ عداوت رکھی جائے۔
فرمایا ہر نبی کے دشمن ہوئے ہیں اور اسی طرح آپ کے بھی ہیں ، یہ انسان اور جن شیاطین یوحی بعضھم الی بعض ایک دوسرے کی طرف وحی کرتے ہیں ۔ یعنی منصوبہ بندی کرتے ہیں اور پھر لوگوں کے دلوں میں وسو سے پیدا کرتے ہیں۔ حضرت مالک بن دینار (رح) فرماتے ہیں کہ شیطان چونکہ انسانوں اور جنوں دونوں انواع سے ہیں اس لیے میں ہمیشہ لاحول ولا قوۃ الا باللہ پڑھتا ہوں یا تعوذ کرتا ہوں تو جنات کی نوع کے شیطان تو بھاگ جاتے ہیں مگر انسانی شیطان ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں اور ہمیشہ آدمی کو گناہ کی طرف مائل کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ اور پھر یہ ہے کہ انسانی شیطان جناتی شیطان سے زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ جناتی شیطان تو نظروں سے اوجھل رہتے ہیں مگر انسانی شیطان ظاہر اً شیطانی کام کرتے رہتے ہیں حتیٰ کہ آدمی کو معاصی میں مبتلا کردیتے ہیں۔ یوحی کا لفظی معنی اشارہ کرنا ہے ار اس کا دوسرا معنی تیزی سے بات کرنا بھی آتا ہے۔ چناچہ وحی الٰہی میں مخفی اشارہ ہوتا ہے جو اللہ کی جانب سے فرشتے کے ذریعے پیغمبر کے قلب پر نازل ہوتا ہے۔ یہاں پر وحی سے مراد القا کرنا ہے جو ایک دوسرے پر وسوسے وغیرہ ڈالتے ہیں اور لوگوں کو برائی کی طرف مائل کرتے ہیں۔
فرمایا شیطان ایک دوسرے کی طرف وحی کرتے ہیں زخرف القول ملمع کی ہوئی بات۔ زخرف اس چیز کو کہتے ہیں جس کا ظاہر اچھا ہو اور باطن خراب ہو۔ اس کی مثال حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کا قول ہے۔ جسے شیخ ابو طالب مکی (رح) نے اپنی کتاب قوت القلوب میں بیان کیا ہے۔ فرماتے ہیں ، علمائے سوء کی مثال گندی نالی کی ہے جس میں بظاہر تو سیمنٹ لگا ہوتا ہے مگر اس کے اندر گندگی ہوتی ہے۔ تو یہ شیطان بھی انسان کے دلوں میں ایسی بات ڈلاتے ہیں جو بظاہر تو بڑی خوبصورت ہوتی ہے مگر اس کے نتائج ہمیشہ خراب نکلتے ہیں۔ ایک تو ملمع والی بات ڈالتے ہیں اور دوسری غروراً دھوکے والی بات کرتے ہیں۔ یہ شیطان انسانوں کے دلوں میں بھی وسوسے ڈلاتے ہیں اور خود ایک دوسرے کو بُرا خیال کرتے ہیں۔ ایسی بنا سنوار کر بات کرتے ہیں جو دین ، اخلاق اور حق کے خلاف ہوتی ہے اور لوگ اس سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔ اسلام دشمن طاقتوں کا اسلام کے ساتھ رویہ بھی ایسا ہی ہے۔ وہ بظاہر تو بڑی ہمدردی اور خیر خواہی کا اظہار کرتے ہیں مگر در پر وہ ان کے عزائم نہایت مکروہ ہوتے ہیں جن کے ذریعے وہ الام اور اہل اسلام کو نقصان پہنچاتے رہتے ہیں۔ روس ، امریکہ اور یورپین قومیں بظاہر دوستی کا دم بھرتی ہیں۔ اور امداد کی پیش کش کرتی ہیں مگر ان کا اصل مقصد مسلمانوں کو غلام بنانا اور ان کی تہذیب و تمدن کو مٹانا ہوتا ہے۔ بڑی بڑی پارٹیوں اور لیڈروں کا بھی یہی حال ہے۔ بڑے بڑے سبز بڑے باغ دکھاتے ہیں ، ملمع شدہ بات کرتے ہیں ، جھوٹے وعدے کرتے ہیں۔ مگر مقصد محض حصول اقتدار ہوتا ہے۔ پھر جب وہ منزل مراد کو پالیتے ہیں ، تو ان کے تمام وعددے جھوٹ کا پلندہ ثابت ہوتے ہیں ، تعلیم کے نام پر ، پیری مریدی کے پردے ہیں اور انعامی سکیموں کی آڑ میں لوگوں کے ساتھ ملمع سازی کی جاتی ہے اور دھوکا دیا جاتا ہے۔ بڑے بڑے مصنف بھی ایسا ہی کرتے ہیں ان کی تصانیف بظاہر بڑی اچھی اور خوش کن ہوتی ہیں مگر اندر زہر بھرا ہوتا ہے۔ بھولے بھالے لوگ خوبصورت الفاظ کے جال میں پھنس جاتے ہیں اور لوگوں کو دھوکے میں ڈالتے ہیں۔
انسانی شیاطین کا ایک کارنامہ آپ نے کل اخبارات میں پڑھا ہوگا۔ اسلامی قانون شہادت کے مطابق دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے۔ اس قانون کے خلاف عورتوں نے مظاہرہ کیا ہے۔ شیطان نے ایسی پٹی پڑھائی ہے کہ یہ قانون عورتوں کے ساتھ ظلم ہے ، ان کے حقوق غصب کیے جا رہے ہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے حقوق کی بات ہو رہی ہے مگر درپردہ کمیونسٹ عورتیں اسلام کے خلاف بغاوت کر ارہی ہیں اور عورتوں کو دین سے برگشتہ بنا رہی ہیں۔ شیاطین نے ملمع سازی کے ذریعے عورتوں کو ورغلالیا ہے۔ آخر ہماری حکومت ایسی کھلی بغاوت کا کیوں نوٹس نہیں لیتی۔ حکومت باطل باتوں کے لیے تو طاقت استعمال کرتی ہے مگر حق کے لیے اپنی ذمہ داری کیوں نہیں پوری کرتی۔ اگر پہلے دن سے اسلام کو منتہائے مقصود بنایا ہوتا اور اس کا نفاذ سختی کے ساتھ کرتے تو اس قسم کی پیچدگیاں نہ پیدا ہوتیں۔ اگر مارشل لاء کے ضابطے طاقت کے بل پر لاگو کیے جاسکتے ہیں تو اسلام کی دفاعت کیلئے کیوں حیل و محبت کی جاتی ہے اصل بات یہ ہے کہ اسلام کے لیے نیت میں خلوص نہیں ہے اب اگر اسلام کا قانون شہادت منظور نہیں ہے تو کل کو یہ بھی مطالبہ پیش ہو سکتا ہے کہ زنا کے مقدمہ میں چار مردوں ہی کی گواہی کیوں ہے ، اس حق سے عورتوں کیوں مرحوم گیا ہے ، لہٰذا خدائی قوانین میں دخل اندازی کر کے اس کے غضب کو دعوت دینا ہے۔
زندگی کے ہر شعبے میں ملمع سازی داخل ہوچکی ہے۔ ذرا ان نام نہاد لیڈروں کے دعوے دیکھو ، کوئی غربت ختم کرنے کا دعویٰ کرتا ہے تو کوئی تعلیم کا جھانسہ دیتا ہے۔ کوئی اسلام کا نام لیتا ہے اور کوئی معیشت کی بات کرتا ہے۔ کوئی زمین الاٹ کرنے کا وعدہ کرتا ہے اور مکان دینے کا جھانسہ دیتا ہے۔ حقیقت میں بات کچھ بھی نہیں سب جھوٹے وعدے ہیں جو کہ مند اقتدار تک پہنچنے کا ذریعہ ہیں۔ یہ سب ذخرف القول غرورا ہے۔ ملمع سازی ، دھوکہ اور فریب جو شیاطین انجام دے رہے ہیں۔ فرمایا ولو شاء ربک مافعلہ اگر تمہارا رب چاہتا تو یہ ایسا نہ کر پاتے ۔ مگر اللہ تعالیٰ کسی سے جبراً کوئی کام نہیں کروانا چاہتا ہے۔ اس لیے فرمایا فزرھم وما یفترون اے پیغمبر آپ کو ان کی حالت پر چھوڑدیں اور جو کچھ وہ افتراء کرتے ہیں ، انہیں کرنے دیں۔ ولتصغی الیہ افدۃ الذین لا یومنون بالخرۃ تاکہ ان لوگوں کے دل ان کی طرف مائل ہوں جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ۔ ظاہر ہے کہ جو آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ تو شیطان کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے۔ انہیں تو آخرت کی فکر ہوگی کہ اللہ کی بارگاہ میں پیش ہو کر حساب دینا ہے۔ البتہ جنہیں آخرت کے محاسبے پر یقین نہیں ہے۔ وہی ایسی ملمع شدہ باتوں کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ ولیر ضوہ اور تاکہ وہ ایس دھوکے فریب کی باتوں کو ہی پسند کرتے ہیں ۔ انہیں اس طرف لگا رہنے دیں ولیقتر فو ماھم مقرترفون اور وہ جو کچھ بُرا بھلا کماتے ہیں ، انہیں کمانے دیں۔ قیامت کے دن ان کی ساری کمائی سامنے آجائیگی اور انہیں ہر بات کا جواب دینا پڑ گا۔ اللہ نے نبی علیہ اسلام کو تسلی دی کہ زیادہ دل برداشتہ نہ ہوں ، انہیں ان کے حال پر رہنے دیں۔
Ayahs 6:114–117گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک اور مشرکین کی تردید کے ساتھ ساتھ رسالت کا ذکر بھی کیا ۔ اس کے ساتھ توحید کا ذخر بھی مختلف انداز میں کیا اور انسانی اور جناتی شیطانوں کا بیان بھی فرمایا اور یہ بھی کہ جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رک تھے وہ شرکیہ باتوں میں ملوث ہوجاتے ہیں اور اللہ کی وحدانیت کا انکار کردیتے ہیں اور پھر اللہ کے انبیاء کے متعلق بھی بیہودہ باتیں کرتے ہیں۔ اللہ نے ان سب کی تردید فرمائی اور اب آج کے درس میں مشرکین کے ایک سوال کا جواب دیا ہے۔ قریش مکہ حضور علیہ اسلام کی رسالت کے منکر تھے اور آپ پر نازل ہونے والی کتاب کا بھی انکار کرتے تھے۔ بعض لوگ کہتے تھے کہ اگر آپ اللہ کے رسول ہیں تو ہماری مرضی کی نشانیاں پیش کریں۔ اس کا جواب پہلے دیا جا چکا ہے کہ نشانی کا اظہار مشیت ایزدی پر موقف ہے ، وہ جب چاہے نشانی ظاہر کردیتا ہے۔ یہ بات پیغمبر کے اختیار میں نہیں ہے۔ پھر اہل ایمان کو تسلی بھی دی گئی کہ آپ ان کی ہٹ دھرمی کو خاطرہ نہ لائیں آپ سمجھت ہیں کہ اپنی مرضی کی نشانی پاکر یہ لوگ مان جائیں گے مگر تمہیں کیا معلوم ، یہ ایسے عنادی لوگ ہیں کہ نشانی دیکھ کر بھی ایمان نہیں لائیں گے ۔ لہٰذا انہیں ایسے ہی بھٹکنے دیں۔
مشرکین مکہ نے حضور علیہ اسلام کی رسالت پر ایمان لانے کے متعلق ایک اور تجویز پیش کی تھی ۔ کہتے تھے کہ اگر آپ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں کہ آپ اللہ کے برحق رسول ہیں تو ، اس کا فیصلہ کسی معتبر آدمی سے کروالیتے ہیں۔ پھر جو وہ فیصلہ کرے ہم دونوں فریق اسے تسلیم کرلیں۔ اس کام کے لیے وہ ولید ابن مغیرہ کا نام تجویز کرتے تھے جو کہ بڑا تجربہ کار ، دولت مند اور دشمن رسول شخص تھا یہ حضرت خالد ؓ بن ولید کا باپ تھا۔ بڑا جہاں گشت اور جہاں دیدہ آدمی تھا۔ بڑے بڑے لوگوں سے ملاقات رکھتا تھا۔ لوگ اکثر اپنے معاملات کے فیصلے اس سے کرواتے تھے۔ مشرکین مکہ طائف کے بڑے سردار مسعود کا نام بھی پیش کرتے کہ اسے حکم تسلیم کرلیں۔ وہ یہ بھی کہتے کہ اگر یہود و نصاریٰ کا کوئی بڑا عالم آپ کی نبوت کی تصدیق کر دے تو ہم پھر بھی مان جائیں گے۔ صاحب تفسیر روح المعانی علامہ سید محمود آلوی بغدادی (رح) نے بھی لکھا ہے۔ کہ مشرکین مکہ تاصدیق رسالت کے لیے یہود و نصاریٰ کے علماء کی بات ماننے کے لیے بھی تیار تھے۔ مقصد یہ کہ وہ لوگ آپ کی رسالت کی تصدیق کسی دوسری شخصیت یا جماعت سے چاہتے تھے اور حضور علیہ اسلام کے دعویٰ نبوت اور اللہ کی کتاب کو ماننے کے لیے تیار نہ تھے۔ آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اسی بات کا جواب دیا ہے۔
ارشاد ہوتا ہے۔ کہ اے پیغمبر ! آپ ان کے سوال کا جواب یہ دیں ، افغیر اللہ ابتغی حکما کیا میں اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو حکم ، مصنف یا پنچ تلاش کرلوں ؟ کیا میں اس کے فیصلے کا انتظار کروں کہ میں اللہ کا رسول ہوں یا نہیں اور مجھ پر نازل ہونے والی کتاب برحق ہے یا نہیں ؟ فرمایا میں کسی ایسے جج کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ۔ میری صداقت کا گواہ تو خود اللہ تعالیٰ ہے۔ وھو الذی انزل الیکم الکتب مفصلا حالانکہ اللہ تعالیٰ وہ ہے جس نے تمہاری طرف بڑی واضح کتاب نازل فرمائی ہے۔ اس کتاب میں عقائد ، احکام ، دلائل اور واقعات بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کردیئے گئے ہیں۔ اور بعض آیات کی تفصیل اللہ کے نبی کی زبان سے کرا دی گئی ہے۔ تو ایسی عظیم کتاب کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو حکم بنانا تو ممکن بات ہے۔ ہر مومن اللہ کی رضا پر راضی ہوگا اور وہ اسکی نازل کردہ کتاب اور اس کے بھیجے ہوئے پیغمبر کو اپنا فیصل بنائے گا۔ جب وہ مالک المک احکم الحاکمین ہے تو پھر دوسرا کون حکم بن سکتا ہے ؟
فرمایا تم یہود و نصاریٰ کے علماء کو حکم بنانا چاہتے ہے ، ان کی حالت یہ ہے والذین اتینھم الکتب جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے یعنی قرآن پاک سے پہلے یہودیوں کو تورات دی اور نصاریٰ کو انجیل عطا کی۔ یعلمون انہ منزل من ربک بالخق وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ قرآن پاک تیرے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے ٹھیک ٹھیک۔ وہ یہ جانتے ہیں کہ آپ اللہ کے سچے نبی ہیں۔ دوسرے پارہ میں موجود ہے یعرفونہ کما یعرفون ابناء ھم وہ اللہ کے آخری نبی کو اسی طرح پہنچاتے ہیں جس طرح اپنی اولاد کو پہنچاتے ہیں۔ اپنی کتابوں میں بیان کردہ نشانیوں کی بناء پر انہیں یقین ہے کہ حضور ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں مگر بغاوت ، سرکشی خود غرضی اور چودھراہٹ کی وجہ سے انکار کرتے ہیں۔ یہاں پر بھی فرمایا اہل کتاب کو یقین ہے کہ قرآن پاک و ہی کتاب ہے جس کا وعدہ اللہ نے پہلے نبیوں سے کیا تھا۔ تورات میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ اسلام سے فرمایا میں تیرے بھائی بھائی بندوں یعنی بنی اسماعیل میں سے تیرے جیساعظیم رسول اٹھائوں گا اور اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا۔ یہ وہی کلام ہے جو اللہ نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل فرمایا ہے۔ فرمایا فلا تکونن من الممترین پس نہ ہوں آپ شک کرنے والوں میں ، مطلب یہ کہ اس کتاب کے منزل من اللہ ہونے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہونا چاہئے۔ ظاہر ہے کہ حجور علیہ اسلام کو تو کوئی تردد نہیں ہو سکتا تھا۔ کیونکہ خود ان پر کتاب نازل ہو رہی تھی ، تاہم باقی مومنوں کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ یہ اللہ کا سچا کلام ہے۔ اس کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے ، لہٰذا کسی سردار یا عالم یا دانشور کو اس معاملہ میں منصف نہیں بنایا جاسکتا ۔ دوسری جتگہ یہ بھی آتا ہے کہ اگر یہ لوگ اللہ کی کتاب کا انکار کرتے ہیں تو کرتے رہیں ، خود اللہ تعالیٰ تو اس بات کا گواہ ہے کہ یہ کتاب اس نے نازل کی ہے۔ اس میں مومنین کے لیے تسلی کا پہلو بھی ہے۔
اللہ نے اس کلام برحق کے متعلق فرمایا وتمت کلمت ربک اور تیرے رب کے کلمات پورے ہوگئے ہیں۔ یعنی تیرے رب کا کلام مکمل ہوگیا ہے۔ صدقاً وعدلا صدق اور عدل کے ساتھ ، یعنی سچائی اور انصاف کے ساتھ ، امام رازی (رح) چھٹی صدی کے عظیم مفسر قرآن ہوئے ہیں۔ آپ اسلام کے خادم ، منطقی اور فلاسفر تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ تکمیل کلمہ کے لیے دو لفظ صدق اور عدل آئے ہیں اور ان دونوں کا مصداق الگ الگ ہے۔ قرآن پاک میں ماضی اور مستقبل کے متعلق بہت سی خبریں دی گئی ہیں ، جہاں تک ان خبروں کا تعلق ہے یہ صدق یعنی سچائی پر مبنی ہیں۔ اس لحاظ سے یہاں پر صدق کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ قرآن پاک کا ایک معتدبہ حصہ احکام پر مشتمل ہے اور ہر انسان ان احکام کا مکلف ہے ، اس کے لیے فرمایا کہ یہ احکام عدل پر مبنی ہیں لہٰذا ان پر عمل پیرا ہونے میں کسی قسم کا تردد نہیں کرنا چاہئے۔ یہ احکام اللہ نے اپنی کمال حکمت کے ساتھ بنی نوع انسان کی بہتری کے لیے نازل فرمائے ہیں۔ ان میں عدل کا پہلو واضح ہے۔
پھر فرمایا لا مبدل لکلمتہ اللہ تعالیٰ کے کلمات کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن پاک کے حقائق کو کوئی شخص غلظ ثابت نہیں کرسکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ اپنا ہی 9 دماغ ٹیڑھا ہو تو ہر چیز ٹیڑھی نظر آئے اور اس طرح قرآن پاک میں کجی تلا کرتا پھرے وگرنہ یہ تو بالکل برحق کلام ہے۔ جس طرح بھینگے آدمی کو ایک کی بجائے نظر آتی ہیں۔ یا صفر اوی آدمی کو ہر چیز زرد نظر آتی ہے ، اسی طرح قلب و ذہن کے مریض کو اللہ کے کلام میں خامی نظر آتی ہے۔ حقیقت میں اس میں کوئی خامی نہیں ۔ دوسری بات یہ ہے کہ سابقہ کتب سماویہ میں تحریف ہوچکی ہے۔ اور وہ اپنی اصل حالت پر قائم نہیں رہ سکیں۔ تورات و انجیل میں بیشمار تبدیلیاں ہوچکی ہیں۔ ان کے احکام بدل کر ان میں کفر و شرک کی آمیزش کردی گئی ہے۔ انجیل ایک سے ایک سو بیس اور پھر ایک سو بیس سے چار ہوئیں اور چار سے پانچ ہوگئیں۔ اللہ نے صاف فرمایا ” یحرفون الکلم عن موا ضعہ “ یہود و نصاریٰ نے احکام کو تبدیل کردیا۔ بائیبل کا ہر نیا ایڈیشن پہلے سے مختلف ہوتا ہے۔ بعض احکام نکال کر نئی چیزیں شامل کردی جاتی ہیں۔ مگر یہ شرف صرف قرآن پاک کو حاصل ہے کہ اس میں ذرہ برابر بھی کمی بیشی نہیں ہوئی کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے لے رکھا ہے۔ ’ انا نخن نزلنا الذکروانالہ لحفظون “ ہم نے ہی اس کتاب کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔ اسی لیے یہاں فرمایا ہے کہ اس کے کلمات کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔
انگریزوں اور یہودیوں نے قرآن پاک میں تحریف کرنے کی بڑی کوشش کی ہے مگر کامیاب نہیں ہو سکے ، ابھی کچھ عرصہ پہلے یہودیوں نے تحریف شدہ قرآن کے نسخے چھپوا کر افریقی ممالک میں بھجوائے۔ مصر کے صدر ناصر مرحوم کو پتہ چلا تو انہوں نے صوت الاسلام کے نام س ریڈو اسٹیشن قائم کیا جس کے ذریعے یہودیوں کی ناپاک سازش کا پردہ چاک کیا گیا اور افریقی باشندوں کو اس ناپاک حرکت سے آگاہ کیا گیا ۔ اس کے علاوہ قرآن پاک کے لا تعداد نسخے نہایت صحت کے ساتھ طبع کرا کے افریقہ اور ساری دنیاں میں بھجوائے اور اس طرح یہودی سازش کا کامیاب مقابلہ کیا۔ یہ نسخہ یہاں ہمارے پاس بھی موجود ہے انگریزوں نے بھی قرآن پاک کے خلاف بڑا زبردست پراپیگنڈا کیا ہے ملکہ وکٹوریہ کے زمانے میں وزیر اعظم گلیڈ سٹون نے قرآن پاک کا نسخہ ہاتھ میں اٹھا کر کہا تھا کہ جب تک یہ کتاب دنیا میں موجود ہے لوگ مہذب نہیں ہو سکتے ۔ وجہ یہ ہے کہ یہ ایسی کتاب ہے جو شراب اور جوئے پر پابندی عائد کرتی ہے۔ زانی کے لیے سخت سزا تجویز کرتی ہے۔ کسی کی حق تلفی کی اجازت نہیں دیتی ۔ قوموں کو غلام بنانے کیخلاف ہے۔ لہٰذا اسے دنیا سے ناپید ہونا چاہئے ، اس کی موجودگی میں امریکہ ، بر طانیہ ، فرانس اور جرمنی کی تہذیب پروان نہیں چڑھ سکتی۔ انگریز اپنے مقصد میں تو کامیاب نہیں ہو سکے۔ البتہ ان کی اپنی سلطنت جس پر کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا ، آج ایک دو جزیروں تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ قرآں پاک کی حفاظت کا ذمہ خود اس کو نازل کرنے والے نے لے رکھا ہے۔
ہندو ستان میں یو پی کا گورنر ولیم میور پادری تھا۔ اس نے اعلان کیا تھا کہ دنیا میں انسانیت کی دشمن دو چیزیں ہیں ، ایک محمد کی تلوار اور دوسرااُس کا قرآن۔ اس شخص نے ” لائف آف محمد “ کے نام سے حضور علیہ اسلام کے سوانح عمری بھی لکھی۔ بہر حال اس نے یہ فقرہ کہا تھا جسے سن کر سر سید بھی تڑپ اٹھا اور اسے انسانیت کا دشمن قرار دیا ۔ بہر حال آج بھی یورپی ممالک میں اسلام اور قرآن کے خلاف برابر سازشیں ہو رہی ہیں۔ ان کی مقرر کردہ کمیٹیاں برابر کام کر رہی ہیں۔ اس معاملے میں مشرقی علوم کا ذوق رکھنے والے مغربی دانشور جنہیں متشرقین کہا جاتا ہے ، وہ بھی اسلام کے خلاف بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں۔ کوئی قرآن پر ریسرچ کر رہا ہے اور کوئی حدیثت پر ، پھر اپنے زیر اثر لوگوں اور یورپی یونیورسٹیوں میں پڑھنے والے مشرقی طالب علموں کو ریسرچ کے نتائج سے آگاہ کرتے ہیں اور اس طرح اپنے باطل افکار اہل اسلام کے اذہان میں منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ دنیا میں لوگوں کے دلوں سے قرآن کی عظمت کو ختم کیا جاسکے۔
پاکستان میں بھی اس قسم کے فتنے اٹھتے رہتے ہیں۔ ایوب خان کے زمانے میں فضل الرحمن نے یہ بیان دیا تھا کہ قرآن پاک کا کچھ حصہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے ، کچھ جبریل علیہ اسلام کا اور کچھ حضور علیہ اسلام کا ۔ اس پر پاکستان میں سخت احتجاج ہوا جس کے نتیجے میں فضل الرحمن کو اس کے عہدے سے ہٹانا پڑا اس کا باپ دیوبند کا فاضل بڑا جید عالم تھا مگر یہ انگریزی سازشوں کا شکار ہوگیا۔ پرویز بھی یہی کچھ کر رہا ہے۔ یہ انگریزی حکومت میں سپرٹینڈنٹ تھا ، اس نے بھی مگر بی افکار کو قرآن پاک کی تعلیم میں داخل کرنے کی کوشش کی ہے عجیب بات ہے کہ یہ دشمن قرآن پاک کی ایسی تفسیر بیان کر رہا ہے جسے سلف صالحین بھی نہ سمجھ سکے۔ یہ سب انگریزوں کی سازش کے تحت مستشرقین کے کارنامے ہیں۔
مرزائیت کا پودا بھی انگریزوں نے اسی سازش کے تحت لگایا ہمارے اس اسلامی ملک پاکستان میں اب بد عات سرکاری طور منائی جارہی ہیں یہ خدا کے غضب کو دعوت دینے والی بات ہے حکومت ایسی چیزوں کی سرکاری سرپرستی اس لیے کرتی ہے تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ دوام حاصل ہو سکے۔ افسوس کی بات ہے کہ بدعات کو تو رواج دیا جا رہا ہے مگر حق بات کہنے کی کسی کو توفیق نہیں ہوتی۔ اس مملکت خدا داد میں خدا کا قانون اور نبی کا فرمان ذاتی خواہشات کی وجہ سے پس پشت ڈالا جا رہا ہے۔ تاہم حضور علیہ اسلام کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر زمانے میں ایسے لوگ پیدا کرتا رہے گا جو غالیوں کی طرف سے دین میں تحریف کو عام لوگوں کے سامنے آشکار کرتے رہیں گے۔ اللہ کے یہ بندے ہر تحریف ، بد عت اور نفس پرستی کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کی حفاظت کا انتظام کردیا ہے۔ اب کوئی شخص لفظی تحریف نہیں کرسکتا۔ تاہم معنوی تحریف کے خلاف بھی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو کھڑا کرتا رہے گا۔ غرضیکہ فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے کلمات کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔ اس کی حفاظت کا ذمہ اس نے خود لے رکھا ہے۔ وھوالسمیع العلیم وہ ہر بات کو سننے والا اور ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے قلت و کثرت (NAJORITY/MINORITY) کا مسئلہ بھی بیان فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے۔ وان تطع اکثر من فی الرض اگر آپ زمین میں موجود اکثریت کا کہنا مانیں گے یضلو ک عن سبیل اللہ وہ آپ کو اللہ کے راستے سے بہکا دیں گے۔ محض اکثریت کی بنیاد پر حق و باطل کی پہچان نہیں کی جاسکتی کیونکہ اکثریت کا حال یہ ہے ان یتبعون الا الظن وہ تو محض گمان کا اتباع کرتے ہیں اٹکل پچو باتیں کرتے ہیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ گمان دوقسم کا ہوتا ہے ایک تو حسن ظن یعنی اچھا گمان ہے ، اس کی بنیاد کسی دلیل پر نہیں ہوتی بلکہ محض اٹکل دوڑانے والی بات ہوتی ہے۔ البتہ گمان کی دوسری قسم وہ ہوتی ہے جس کی بنیاد دلیل پر ہوتی ہے۔ مجتہدین اسی گمان کے تحت مسائل کا حل پیش کرتے ہیں۔ ان کا ہر فتویٰ مستندالی دلیل ہوتا ہے۔ وہ ہر حال صحیح دلیل سے اخذ کرکے بتاتے ہیں۔ اس کے بر خلاف کفر ، شرک بدعت وغیرہ اٹکل پچو باتوں سے رائج کیے جاتے ہیں۔ اسمبلیوں میں قوانین کثرت رائے سے منظور ہوتے ہیں۔ جو کہ حق کے سراسر خلاف ہے۔ یہ بھی محض گمان ہوتا ہے جسکی کوئی قطعی دلیل نہیں ہوتی جو اکثریت نے کہ دیا ، کرلیا ، خواہ اس میں کتنی قباحت ہو ” وان الظن لا لا یعنی من الحق شائیا “ (النجم) اس قسم کا گمان حق کے مقابلے میں کچھ فائدہ نہیں دیتا ۔ غور فرمائیں ، آج دنیا میں جتنے بھی نظریات سامنے آرہے ہیں ، سب کی بنیاد گمان محض پر ہے ۔ کوئی ایرانیوں کا فلسفہ ہو یا انگریزوں کا ، ڈارون کا نظریہ ہو یا آئن سٹائن کا۔ اشتراکیوں کی بڑ ہو یا سرمایہ پرستوں کی ، سب کے سب محض عقل کی تخلیق ہیں۔ اس میں سے کسی کا استناد بھی وحی الٰہی کی نہیں ہے۔ کارل مارکس نے سرمایہ داری کے خلاف کتاب لکھی تھی کہ مزدوروں کے مسائل کیا ہیں اور ان کا حل کیا ہے ، ان کی اجرت کا تعین کیسے ہو اور انہیں کون کونسی دیگر سہولتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ محض حساب کتاب کی بتا ہے مگر لوگ اسے انجیل کی طرح مانتے ہیں۔ یہ سب انسانی دماغ کی اختراع اور گمان ہے۔ مارشل لاء کے ضابطے ، انگریز کی طرز پر اسمبلیوں کا نظام محض اٹکل پچو بات ہے۔ جب تک اللہ کی کتاب یا نبی کا فرمان کسی بات کی تصدیق نہیں کرتا کوئی قانون درست ثابت نہیں ہو سکتا۔
1922 ئ میں امریکی اسمبلی میں شراب نوشی کے خلاف بل پیش ہوا اس کے خلاف دلائل دیئے گئے کہ فضول خرچی ہے اور انسانی ذہن کو مائوف کرتی ہے چناچہ بل پاس ہوگیا اور شراب نوشی ممنوع قرار پائی۔ اکثریت نے فیصلہ دے دیا بمشکل چار سال تک اس قانون پر عملدرآمد ہوا اور اس کے بعد لوگوں نے چوری چھپے شراب کی کشید شروع کردی اور پینے پلانے لگے۔ معاملہ پھر اسمبلی میں پیش ہوا۔ پھر اس کے حق میں دلائل دیئے گئے اور اسمبلی نے اس کو دوبارہ جائز قرار دیدیا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جو قانون محض اکثریت کے بل بوتے پر بنا تھا اسے پھر اکثریت نے ہی مسترد کردیا ، حالن کہ شراب کی قباحت نہ پہلے کم تھی نہ بعد میں۔ 1960 ئ کے بعد برطانوی اسمبلی نے دو بالغ مردوں کی باہمی رضا مندی سے ہم جنسی کو جرائم کی فہرست سے خارج کردیا تھا ۔ یہ بھی کثرت رائے کا فیصلہ تھا۔ بہر حال کثرت کے فیصلے تو ایسے ہی ہوتے ہیں کہ حلا کو حرام اور حرام کو حلال قرار دے دیا جائے۔ وہی ہے جو وحی الٰہی کے ذریعے حاصل ہو اور جس میں تغیر و تبدیل کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔
آج دنیا کے پانچ ارب نفوس دیکھ لیں کہ کثرت کن کو حاصل ہے ہر جگہ کفر و شرکت کو اکثریت حاصل ہے۔ ظالم ، فاسد اور بد عقیدہ لوگ اکثریت میں ہیں۔ حرام خور اور انسانیت کے دشمن ہر جگہ غالب ہیں۔ تو کیا حق و صداقت کا یہی معیار ہے ؟ ڈاکٹر اقبال مرحوم نے کہا تھا از مغز دو صبد خر فکہ انسا نے نمی آئد “ یعنی ایک انسان کے مقابلے میں دو سو گدھوں کی فکر کو قبول نہیں کیا جاسکتا ، کثرت و قلت کا یہی مسئلہ ہے جب تک جاہل اکثریت کو عالم اقلیت پر غلبہ رہیگا ، دنیا کا نظام درست نہیں ہو سکتا۔ اسی لیے فرمایا کہ نہیں پیروی کرتے یہ لوگ مگر گمان کی وان ھم الا یخروصون اور نہیں وہ مگر اٹکل دوڑاتے۔ یہ سب اٹکل پچو کا م ہو رہے ہیں ، اس میں حقیقت کو کوئی دخل حاصل نہیں ہے۔ فرمایا ان ربک ھو اعلم من یضل عن سبلیہ بیشک تیرا پروردگار خوب جانتا ہے جو اس کے راستے سے بہک گیا ہے۔ وھو اعلم بلمھتدین اور وہ اللہ کے راستے پر چلنے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔ لہٰذا آپ اپنا کام کرتے جائیں۔ کسی شخص کو حکم نہ بنائیں۔ اللہ کے فیصلے پر راضی رہیں۔ قرآن کو اپنا حکم تصور کریں اور اسی کے احکام پر عمل کرتے رہیں۔ اللہ نے مفصل کتاب نازل کردی ہے۔ اب کسی پادری یا سردار کے فیصلے کی ضرورت نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے اعتراض کا یہ جواب دیا۔