Ayahs 6:27–30گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفر اور شرک کرنے والوں کی تردید فرمائی اور قیامت میں پیش آنے والے حالات کا تذکرہ کیا ‘ یعنی جس دن ہم سب کو اکٹھا کریں گے اور پھر مشرکین سے پوچھیں گے کہ تمہارے وہ شرکاء کہاں ہیں جن کے متعلق تم گمان کرتے تھے کہ وہ تمہیں چھڑا لیں گے۔ فرمایا اس موقع پر شرک کا انکار کردیں گے اور جھوٹ بولیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو مذمت بیان فرمائی ‘ اللہ نے ان کی یہ خصلت بھی بیان فرمائی کہ جب خدا تعالیٰ کا کلام نازل ہوتا ہے تو یہ لوگ اس کا انکار یہ کہہ کردیتے ہیں کہ یہ تو پچھلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ یہ لوگ خود بھی قرآن پاک اور پیغمبر اسلام سے دور رہتے ہیں ‘ اور دوسروں کو بھی قریب آنے سے روکتے ہیں۔ اب آج کی آیات میں اللہ نے آخرت کا کچھ مزید حال بیان فرمایا ہے۔
قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کی توحید ‘ رسالت اور معاد یعنی قیامت کو پوری تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے اور قرآن کریم کا چوتھا مضمون اس کی اپنی حقانیت اور صداقت ہے ‘ یہ چاروں مضامین اللہ نے مختلف سورتوں میں احسن طریقے سے بیان فرمائے ہیں بعض سورتوں مثلاً سورة یونس میں قرآن حکیم کی حقانیت کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے اسی طرح سورة یٰسین میں چاروں مضامین کو بیان فرمایا ہے ۔ چونکہ ان چاروں مضامین کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اس لئے قریب المرگ شخص کے اس کا پڑھنا مستجب ہے تا کہ اس کی فکر مستقیم ہوجائے اور وہ بہتر حالت میں اس دنیا سے رخصت ہو۔ پھر سورة قصص ‘ شعرائ ‘ صفت میں رسالت کا تفصیلی بیان ہے ‘ اور اب اسی صورۃ انعام میں توحید اور شرک کی تمام اقسام کا تذکرہ ہے تاہم باقی باتیں بھی ضمناً آگئی ہیں۔
جزائے عمل
جس طرح اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ایمان کا اہم جزو ہے ‘ اس کی ذات ‘ صفات ‘ اسمائے مبارکہ ‘ اس کے انبیائ ‘ کتب سماویہ ‘ قرآن پاک کی حقانیت پر ایمان لانا ضروری ہے اسی طرح معاد یعنی قیامت کے وقوع اور جزائے عمل پر ایمان لانا ضروری ہے ‘ انسان کو سمجھ لینا چاہئے کہ وہ اس دنیا میں جو کچھ اچھا یا برا کر رہا ہے ‘ اسے اس کا نتیجہ مل کر رہے گا۔ انسان اس دنیا میں پیدا ہوتا ہے ‘ نشونما پاتا ہے ‘ کاروبار کرتا ہے ‘ اس کا ایک وجود ہوتا ہے جس کے ذریعے وہ دنیا کے تمام امور انجام دیتا ہے ۔ جس طرح اسے اپنے وجود اور ہستی پر یقین ہے ‘ اسی طرح اسے جزائے عمل پر بھی یقین ہونا چاہئے۔ کہ جس اللہ تعالیٰ نے اسے اس دنیا میں اپنے احکام دے کر بھیجا ہے ‘ اسی طرح وہ اللہ تعالیٰ اسے اگلے جہان میں بھی کھڑا کرے گا اور پھر اس سے اس کے اعمال کی بازپرس ہوگی۔ ہر انسان کو اس معاملہ میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہونا چاہئے۔
دنیا میں واپسی کی تمنا
تو یہاں پر معاد کے ضمن میں کچھ حالات بیان فرمائے ہیں اور بتایا کہ اس دن مشرکین کس قسم کی کیفیت سے دوچار ہوں گے۔ ارشاد ہوتا ہے ولو تری اذا وقوفوا علی النار (اے مخاطب) جب تو دیکھے کہ ان کو کھڑا کیا آگ پر یعنی مشرکین کو دوزخ کے کنارے لا کھڑا کیا جائے گا اور وہ اپنے ٹھکانے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔ یہاں پر مخاطب سے مراد سب سے پہلے حضور ﷺ کی ذات مبارکہ ہے پھر صحابہ کرام ؓ اور پھر ہر شخص مخاطب ہے جس تک قرآن پاک کا پیغام پہنچے تو فرمایا جب مشرکین کو دوزخ میں ڈالنے کا وقت آئے گا اور انہیں اس کے بالکل قریب کردیا جائے گا۔ فقالوا تو اس وقت وہ کہیں گے یلیتنا نرد اے کاش ! ہم دنیا کی طرف لوٹائے جاتے تا کہ اس عذاب سے بچ سکتے۔ بڑی تمنا کریں گے کہ ہم ایک دفعہ پھر دنیا میں چلے جائیں ولا تکذب بایت ربنا تو اب ہم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو نہیں جھٹلائیں گے ‘ اس وقت تو ہم آیات ربانی کو پہلے لوگوں کی کہانیاں کہتے تھے ‘ مگر اب ہمیں یقین آ گیا ہے کہ یہ اللہ کا سچا کلام ہے ‘ لہٰذا اب ہم اس کی تکذیب نہیں کریں گے۔ ومنکون من المومنین اور ہم ایمان والے بن جائیں گے یعنی اے مولا کریم ! دنیا میں واپس جا کر ہم تیری وحدانیت پر ایمان لائیں گے ‘ تیری رسولوں اور کتابوں پر یقین کریں گے اور تیرے تمام احکام کو تسلیم کریں گے۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ولو تری کی خبر مخدوف ہے اور وہ یہ ہے کہ اے مخاطب جب تو دیکھے اس حالت کو کہ مجرمین کو دوزخ کے کنارے پر کھڑا کیا جائے گا تو وہ بڑا خوفناک منظر ہوگا۔ لرایت امرا عظیماً آپ کو بڑی خوفناک چیز نظر آئے گی اور پھر جو لوگ دنیا میں واپسی کی خواہش کریں گے ان سے کہا جائے گا کہ اس وقت تمہارا تمنا کرنا کچھ مفید نہیں ہے ‘ اب اپنے کئے کا بھگتان کرو۔ تمہاری دنیا کی زندگی عمل کی دنیا تھی ‘ اس وقت کا ایمان اور عمل ہی آج کام آسکتا تھا۔ اب تمہاری خواہش پوری نہیں ہو سکتی ‘ چناچہ انہیں جہنم میں پھینک دیا جائے گا ‘ اللہ فرمائے گا ‘ کہ دنیا کی زندگی ایک ہی دفعہ ہم نے دی تھی ‘ وہ دور ختم ہوچکا ‘ اب دوبارہ واپسی کا کوئی قانون نہیں ‘ لہٰذا اپنے کئے کی سزا بھگتو۔
فرمایا اس دن کفار و مشرکین کی دنیا میں دوبارہ آنے کی خواہش تو پوری نہیں ہوگی۔ بل بدالھم ما کانوا یخفون من قبل ‘ بلکہ جو چیزیں وہ اس سے چھپاتے تھے ‘ سب ظاہر ہوجائیں گی۔ پہلیآیات میں گزر چکا ہے۔ کہ قیامت کے دن ایک موقع ایسا بھی آئے گا جب مجرم لوگ کہیں گے ” واللہ ربنا ما کنا مشرکین قسم ہے اللہ کی جو ہمارا پروردگار ہے کہ ہم شرک نہیں کرتے تھے۔ وہ اپنے جرائم کو چھپانے کی کوشش کریں گے مگر وہ چھپ نہیں سکیں گے ‘ بلکہ ان کے اعمال نامے سامنے آجائیں گے ‘ ان کے اعضاء وجوارح ان کے خلاف گواہی دیں گے بلکہ جس خطہ ارضی پر جرم کیا گیا ‘ وہ زمین بول اٹھے گی لہٰذا وہ لوگ اپنے کرتوتوں پر پردہ نہیں ڈال سکیں گے ‘ بلکہ سب کچھ ظاہر ہوجائے گا ۔ کیونکہ اس دن کا خاصہ یہ ہوگا یوم تبدلی السرائر (الطارق) اس دن تمام بھید ظاہر ہوجائیں گے۔ یومند تعرضون لا تخفی منکم خافیہ (الحاقۃ) اس دن تم پیش کئے جائو گے اور تمہاری کوئی پوشیدہ بات چھپی نہیں رہے گی۔
امام مبرد (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں بدالھم اور ما کے درمیان وبال کا لفظ مخدوف ہے اور اس طرح پوری قرات اس طرح بنتی ہے بل بدالھم و بال ما کانوا یخفون من قبل یعنی اس دن ان کے سامنے اس چیز کا وبال ظاہر ہوجائے گا جس کو وہ اس سے پہلے چھپاتے تھے منافقوں کے متعلق تو یہ بات واضح ہے کہ وہ بظاہر کلمہ پڑھتے تھے مسلمانوں کے ساتھ شریک ہوتے تھے مگر دل میں نفاق چھپا رکھا تھا۔ اس دن ان کا نفاق یہ اس کا وبال کھل کر سامنے آجائے گا۔ یا اس جملے کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ بڑے لوگ چھوٹے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لئے حقیقت حال کو واضح نہیں ہونے دیتے تھے بلکہ چھپا جاتے تھے ‘ جیسا کہ سورة احزاب میں ہے وقالوا ربنا انا اطعانا سائوتنا وکبراء نا فاضلونا السبیلا وہ لوگ کہیں گے۔ اے ہمارے پروردگار ! ہم نے اپنے سرداروں اور بڑے لوگوں کا کہنا مانا تو انہوں نے ہمیں گمراہ کردیا مگر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ اگر تمہیں اپنے مستقبل کی فکر ہوتی تو اپنے ڑوں کی اطاعت کرنے سے پہلے اچھی طرح غور کرلیتے ‘ اب گمراہ کرنے والے اور گمراہ ہونے والے سب جہنم میں داخل کئے جائیں گے۔
کفر و شرک پراسرا
اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے ایک اور بات بھی فرمائی ہے کہ ان لوگوں نے اپنی استعداد کو خراب کرلیا تھا ‘ لہٰذا ولوردوا لما دوالما انا سنہ اگر بالفرض ان کی خواہش کے مطابق ان کو دنیا میں واپس بھی بھیج دیا جائے تو پھر بھی وہی باتیں کریں گے جن سے انہیں منع کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ علیم بذات الصدور ہے اور ہر شخص کی اندرونی باتوں کو بھی جانتا ہے کہ ان کی ساخت کس قسم کی ہے اور ان کے تصورات کیسے ہیں ‘ یہ خوف اور دہشت کی وجہ سے ایسی باتیں کر رہے ہیں مگر ان کی فطرت نہیں بدلے گی ‘ دنیا میں واپس جا کر یہ پھر کفر ‘ شرک ‘ ظلم ‘ نفاق الحاد اور معصیت کا ارتکاب ہی کریں گے۔ فرمایا وانھم لکذبون ۔ اللہ جانتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں کیونکہ دنیا میں ان کا حال یہی رہا ہے وقالو ان ھی الا حیاتنا الدنیا کہ یہ کہتے ہیں کہ ہمارے لئے اسی دنیا کی زندگی ہے۔ اس کے بعد کچھ نہیں ہوگا۔ مرنے کے بعد ہمیں کون زندہ کرے گا اور کون حساب کتاب لے گا ‘ آج تک ہم نے کسی مردہ کو زندہ ہوتے نہیں دیکھا۔ یہ سب ڈھکوسلے ہیں کہ قیامت برپا ہوگی ‘ سب مردہ زندہ ہوجائیں گے ‘ اعمال نامے ملیں گے ‘ پھر حساب کتاب ہوگا اور دوزخ یا جنت میں جانا ہوگا۔ ان چیزوں میں کچھ صداقت نہیں۔ یہ تو زمانے کا چکر ہے ‘ لوگ پیدا ہوتے رہتے ہیں اور مرتے رہتے ہیں اس کے بعد کچھ نہیں ہوگا یہ لوگ دنیا کی زندگی میں اس قسم کے فاسد عقیدہ میں مبتلا ہوتے ہیں اور معاد کا انکار کرتے ہیں اور بعض بدبخت کہتے ہیں۔ ” ربنا عجل لنا قطنا قبل یوم الحساب “ اے اللہ ! ہمیں جو کچھ دینا ہے اسی دنیا میں دے دے۔ ہمیں قیامت کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم نہیں جانتے کہ مرنے کے بعد بھی کوئی بازپرس ہوگی لا بعث ولا حساب ولا نار ولا جنتہ شیطان نے ایسی پٹی پڑھا رکھی ہے کہتے ہیں کوئی دوبارہ زندگی نہیں ‘ نہ حساب کتاب ہے اور نہ دوزخ جنت ہے بس جو کچھ ہے یہی دنیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم اٹھا کر کہا ہے کہ معاد برحق ہے ” وعدا علینا ط انا کنا فعلین “ (سورۃ الانبیائ) ہمارا وعدہ بالکل سچا ہے۔ ہم قیامت ضرور برپا کریں گے۔ پھر ہر شخص سے باز پرس ہوگی اور اس کے لئے جزاء یا سزا کا فیصلہ ہوگا۔ یہ ہمارا اٹل فیصلہ ہے اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔
اللہ کے حضور پیشی
پھر فرمایا کہ یہ کہتے ہیں وما نحن بمبعوثین ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے مگر اے مخاطب ولو تریٰ ذوقضوا علی ربھم جب تو دیکھے اس حالت کو جب انہیں اپنے رب کے سامنے کھڑا کیا جائے گا تو اس وقت ان مکذبین کی کیا حالت ہوگی۔ بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اپنے سامنے کھڑا کر کے اللہ تعالیٰ ہر شخص سے براہ راست باز پرس کرے گا اور درمیان میں کوئی مترجم بھی نہیں ہوگا۔ لہٰذا ہر سوال کا جواب خود ہی دینا پڑے گا۔ سورة نحل میں آتا ہے تاتی کل نفس تجادل عن نفسھا ہر جان کو اپنی طرف سے خود ہی جوابدہی کرنا ہوگی۔ اس دنیا کی طرح کسی وکیل یا بیرسٹر کی خدمات حاصل نہیں ہوں گی جو مجرمان کی طرف سے جواب ‘ دعویٰ داخل کرے گا۔
فرمایا جب ان کو حق تعالیٰ کے سامنے کھڑا کیا جائے گا قال تو اللہ تعالیٰ پوچھیں گے الیس ھذا بالحق کیا یہ حق نہیں ہے ؟ کیا معاد اور بعث بعدالموت واقع نہیں ہوا ؟ اب جب کہ تم اپنے پروردگار کے روبرو کھڑے ہو ‘ اب بتائو کہ میرے انبیاء نے جو تمہیں بتایا تھا کیا وہ سچ نہیں تھا ؟ اس وقت کہیں گے قالوا بلیٰ وربنا ہمارے پروردگار کی قسم یہ تو بالکل برحق ہے ہم نے غلطی کی اور ہم دھوکے میں مبتلا رہے اللہ تعالیٰ فرمائے گا قال فذوقوا العذاب بما کنتم تکفرون اب اپنے کفر و شرک کا مزہ چکھو۔ تم نے معاد کا انکار کیا۔ اللہ کی توحید اور رسالت کا انکار کیا۔ قرآن کی صداقت کو تسلیم نہ کیا ‘ اس کا بدلہ اب پا لو۔ معاد کا مزید ذکر آگے بھی آ رہا ہے۔
Ayahs 6:31–33رابط آیات
گزشتہ دورس میں اللہ نے مشرکین کا رد کرنے کے بعد معاد کا مسئلہ بیان فرمایا ” یوم نحسر ھم جمعیاً جس دن ہم سب کو اکٹھا کریں گے پھر مشرکین کے برے انجام کا ذکر کیا اور ان کے اس قول کو دہرایا کہ وہ کہتے ہیں ان ھی الا حیاتنا الدنیا یعنی ہمارے لئے تو یہ دنیا کی زندگی ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں ” ومانحن بمبعوثین “ اور ہم دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے۔ گویا انہوں نے معاد کا صریحاً انکار کردیا۔ اللہ نے ان کی مذمت بیان فرمائی کیونکہ توحید ‘ رسالت ‘ قرآن کریم کی حقانیت پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ معاد پر ایمان لانا بھی ضروری ہے جو شخص اس عقیدے کا انکار کرتا ہے وہ کافر ہے۔ ایسے لوگوں کے ساتھ قیامت کے دن جو برا معاملہ پیش آنے والا ہے ‘ اس کا کچھ تذکرہ گزشتہ درس میں ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں ان کا حال مختلف انداز میں بیان کیا گیا ہے اور ساتھ ساتھ حضور ﷺ کو تسلی بھی دی گئی ہے کہ آپ دل برداشتہ نہ ہوں یہ لوگ آپ کا انکار نہیں کرتے بلکہ اللہ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں چناچہ اللہ نے ان آیات میں بھی تکذبین کا رد فرمایا ہے۔
معاد کا انکار
ارشاد ہوتا ہے قد خسرالذین کذبوا بلقاء اللہ تحقیق خسارے میں مبتلا ہوئے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا۔ لقاء اللہ سے یہی مراد ہے کہ قیامت کے دن دوبارہ اٹھ کر اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے اور یہ ہونا ہے اور یہ چیز اجزائے ایمان میں داخل ہے۔ حدیث شریف میں حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے ان نومن بالبعث وبلقائہ یعنی دوبارہ اٹھنے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہو کر جواب دہی کرنے پر بھی ایمان لانا ضروری ہے۔ جو اس بارے میں شک کرتا ہے اس نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈال لیا۔ ایمان ‘ توحید اور معاد کا منکر اپنی فطرت سلیمہ کو بھی بگاڑتا ہے اور عقل سلیم سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ‘ ان چیزوں پر ایمان لانا ہی عقل و فطرت کے مطابق ہے۔ دنیا میں تو ایسا انسان عقل و فطرت کے نقصان میں مبتلا ہوتا ہے اور آخرت میں ابدی سزا کا مستحق ہوجائے گا اور اسی چیز کو اللہ تعالیٰ نے خسران کے لفظ سے تعبیر کیا ہے ۔ سورة عصر میں بھی فرمایا ہے ان الانسان لفی خسر تمام انسان خسارے میں ہیں۔ ” الا الذین امنو ابجز ان کے جو ایمان لائے اور دیگر امور انجام دیئے۔ اسی طرح یہاں بھی اللہ نے فرمایا ہے تحقیق نقصان میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھٹلایا ہے یہ چیز عقل سلیم ‘ تعلیم انبیاء اور وحی الٰہی کے بھی خلاف ہے اور زندہ ضمیر بھی اسی بات کی شہادت دیتا ہے۔ معاد کی تکذیب انسان کے لئے بہت بڑے نقصان کا باعث ہوگی۔
فرمایا ‘ دنیا میں تو معاد کا انکار کرتے رہے حتیٰ اذا جاء تھم الساعۃ بغتہ یہاں تک کہ جب وہ گھڑی اچانک آگئی۔ الساعۃ سے مراد کل کائنات کی مجموعی موت یعنی قیامت بھی ہے اور ہر انسان کی انفرادی موت بھی یہ دونوں سورتیں اچانک آجاتی ہیں اور کسی شخص کو معلوم نہیں کہ اس کی موت کہاں اور کب واقع ہوگی۔ سورة لقمان میں موجود ہے ” وما تدری نفس بابی ارض نموت کوئی شخص نہیں جانتا کہ اس کی موت کہاں اور کس وقت آئے گی۔ اس سورة کی ابتداء میں بھی یہی بات سمجھائی گئی ہے کہ اللہ ہی زمین و آسمان کا خالق اور نور و ظلمات کا بنانے والا ہے۔ تمام علویات اور سفلیات کا خالق ‘ مالک اور متصرف وہی ہے۔ وہی معبود برحق ہے۔ اس کے علاوہ کوئی الہ نہیں مشکل کشا ‘ حاجت روا اور بگڑی بنانے والا بھی وہی ہے۔ اس کے سوا کوئی ہمہ دان ‘ ہمہ بین اور ہمہ تو ان نہیں اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے لئے دو قسم کی مہلتیں مقرر کیں۔ ایک تو اجلا ہے جو ہر انسان کے لئے ایک مقررہ مدت ہے جس کے بعد اسے موت آنی ہے۔ یہ محددو موت ہے اور اس کا وقت کسی انسان کے علم میں نہیں۔ البتہ اللہ تعالیٰ فرشتوں کو بتلا دیتا ہے۔ تحمل قرار پانے کے چوتھے مہینے میں اللہ کے فرشتے پوچھتے ہیں کہ مولاکریم ! پیدا ہونے والے اس انسان کی عمر کتنی ہوگی ‘ اس کی روزی کس قدر ہے ‘ یہ نیک بخت ہوگا یا بدبخت اللہ تعالیٰ یہ سب چیزیں فرشتوں کے رجسٹروں میں نوٹ کرا دیتا ہے اور پھر اس کے مطابق اس انسان کی زندگی بسر ہوتی ہے اور آخر کار مقررہ وقت پر موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے ‘ تاہم موت کی جگہ اور وقت کے متعلق خود انسان کو معلوم نہیں ہوتا اور پھر وہ اچانک آجاتی ہے۔ اسی لئے ہر انسان کو تعلیم دی گئی ہے کہ وہ ہر وقت محتاط رہے ‘ ایمان اور نیکی کو اختیار کئے رکھے ‘ کیونکہ کسی انسان کے علم میں نہیں ہے کہ اس کی موت کب آجائے گی۔
اور دوسری مدت اجل مسمی عندہ ہے یہ پوری کائنات کی مجموعی یعنی قیامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے واقع ہونے کا علم فرشتوں کو بھی نہیں دیا۔ صرف نشانیاں بتلائی ہیں مگر یہ بھی اچانک آجائے گی۔ بہرحال اس آیت کریمہ میں ساعتہ سے مراد دونوں اموات ہیں یعنی انسان کی انفرادی موت بھی اور اجماعتی بھی ۔ پھر جب یہ آجاتی ہے تو ایک سیکنڈ بھی آگے پیچھے نہیں ہوتی اور انسان کی مادی اور عملی زندگی ختم ہوجاتی ہے ‘ اس کے بعد والی زندگی جزائے عمل کی زندگی ہے جو کچھ انسان اس دنیا میں کرتا ہے ‘ اس کا بدلہ پانے کی زندگی ہے ‘ اسے جزاء یا سزا ملے گی جس کی ابتداء برزخ سے ہی ہوجاتی ہے۔ یہ برزخ یا قبر کی زندگی ایسی ہے جیسے کسی ملزم کو حتمی سزا کا فیصلہ ہونے تک حوالات میں رکھا جاتا ہے اور پھر فیصلہ ہونے پر اسے اصل سزا دی جاتی ہے یا بری کہہ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح انان کے لئے برزخ کی راحت یا تکلیف عارضی نوعیت کی ہوتی ہے ‘ پھر جب حشر کو ان کے تمام اعمال کا فیصلہ سنا دیا جائے گا تو پھر یا تو دائمی راحت میں چلا جائے گا یا مقررہ سزا کا مستوجب ہوگا۔ حضور ﷺ کا یہ بھی ارشاد ہے من مات فقد قامت قیامتہ جو شخص مر گیا اس کی قیامت صغریٰ تو برپا ہوگئی ہر انسان کی انفرادی ساعت تو اس کی موت کی گھڑی ہے اور تمام انسانوں کی ساعت قیامت کا دن ہوگی۔
فرمایا جب وہ قیامت کی گھڑی آن پہنچے گی قالوا تو منکرین کہیں گے یحشرتنا علی ما فرطنا وفیھا اے افسوس ہمارے جو ہم نے اس بارے میں کوتاہی کی۔ مگر اس وقت کی ندامت اور افسوس کچھ کام نہ آئے گا ‘ وہاں تو ایمان ہی کام آنے والی چیز ہے۔ قیامت کی تکذیب کرنے والوں کو اس وقت ندامت کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا ‘ سورة حشر میں اے ایمان والو ! اللہ سے ڈر جائو ولتنظر نفس ما قدمت لغذ اور ہر نفس کو چاہئے کہ وہ اس بات کا محسابہ کرے کہ اسنے کل یعنی قیامت کے لئے کیا آگے بھیجا ہے ‘ قیامت کے د تو نیک عمل ہی کام آئے گا ‘ اپنی بدکرداری پر افسوس کا اظہار کچھ فائدہ نہ دے گا۔
اعمال کا بوجھ
اور پھر ان مکذبین کی حالت یہ ہوگی وھم یحملون اوزارھم علی ظھورھم کہ وہ اپنے بوجھ اپنی پشتوں پر اٹھائیں گے۔ بوجھ اٹھانے کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ انسان ہر برے عمل کو اپنی پشت پر اٹھائے گا۔ حدیث شریف میں آتا ہے حضور ﷺ نے فرمایا اے لوگو ! یاد رکھو ! خیانت نہ کرنا ‘ جو آدمی خیانت کا مرتکب ہوگا ‘ تو ہر خیانت شدہ چیز کو اپنی گردن پر اٹھائے گا ‘ اگر کسی کی بکری چوری کی ہے تو قیامت والے دن اسے اپنی گردن پر اٹھا کر لائے گا۔ اگر گائے بھینس خیانت کی ہے تو اسے بھی اٹھانا پڑے گا ‘ اونٹ چوری کیا ہے یا کوئی اور چیز غصب کی ہے تو ہر چیز اسے اپنے سر پر اٹھانی ہوگی حتیٰ کہ اگر کسی کی ایک بالشت زمین بھی دبائی ہے تو طوقہ الی سبع ارضین تو ساتوں زمینوں تک کے اس ٹکڑے کو گلے کا طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا اور وہ اسے کھینچ کر لائے گا۔
قیامت کے حالات کو اس دنیا کے حالات پر قیاس نہیں کرنا چاہئے وہاں کے حالات بالکل مختلف ہوں گے اللہ تعالیٰ انسان کے جسم میں اتنی طاقت پیدا کردیں گے کہ بڑی سے بڑی چیز بھی اٹھانے کے قابل ہوگا۔
حضور ﷺ نے جو کچھ بتایا ہے وہ برحق ہے۔ ہر نیکی بدی کو اپنی پشت پر اٹھانا ہوگا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ نیک لوگوں کے نیک اعمال ان کے لئے سواری کا کام دیں گے ‘ اس کے برخلاف برے لوگوں کے برے اعمال خود ان لوگوں پر سواری کریں گے حضور ﷺ نے فرمایا کہ انسان کا معروف جب اس کے قریب آئے گا تو اس کو خوشخبری دے گا۔ اور جب منکر متعلقہ آدمی کے قریب آئے گا تو وہ شخص کہے گا کہ تو پیچھے رہ مگر وہ منکر اس کے ساتھ آ کر چمٹ جائے گا۔
یہ تو قیامت کے دن کا حال ہے اور برزخ کے متعلق بھی حضور ﷺ نے فرمایا کہ آدمی کے نیک اعمال خوبصورت انسانی شکل میں متشکل ہو کر اس کے پاس قبر میں آئیں گے تو وہ مستعجب ہو کر پوچھے گا تم کون ہو ؟ وہ جواب دے گا کہ میں تیرا عمل صالح ہوں جو تیرے ساتھمانوس ہونے کے لئے آیا ہوں ‘ تا کہ تجھے قبر میں وحشت نہ ہو۔ فرمایا انسان کے برے اعمال نہایت قبیح شکل میں اس کے پاس آئیں گے جنہیں دیکھ کر وہ سخت خوفزدہ ہوگا ‘ امام شاہ ولی (رح) بھی فرماتے ہیں کہ برے اعمال خاص شکلوں میں آ کر انسان کے اوپر سوار ہوجائیں گے اور ان کا بڑا بوجھ ہوگا۔ یہ بوجھ لوگ اپنی گردنوں اور پشتوں پر اٹھائیں گے۔
اللہ نے فرمایا الا سباء ما یزرون بہت بڑا بوجھ ہے جسے وہ اٹھائیں گے۔ انہوں نے معاد کا انکار کیا مگر آج اس کا بدلہ چکھ لیں گے انہیں معلوم ہوجائے گا کہ جس چیز کا وہ انکار کرتے رہے وہ برحق ہے اور آج وہ نقصان اٹھانے والوں میں ہوگئے۔
میعاد کا انکار انسان اسی دنیا میں کرتا ہے مگر اس دنیا کی حقیقت کیا ہے۔ وما الحیوۃ الدنیا الا لعب ولھو اور نہیں ہے۔
دنیا کی زندگی مگر کھیل اور دل کا بہلاوا لعب یعنی اس چیز کو کہتے ہیں جو بےمقصد ہو ‘ جس کی کوئی غرض صحیح نہ ہو ‘ آج کل دنیا میں کھیلوں کو بڑا عروج حاصل ہے ان کے لئے خطیر رقم صرف کر کے وسیع انتظام کئے جاتے ہیں حکومتوں میں کھیلوں کی وزارتیں قائم ہیں کھیلوں کی ٹی میں بیرون ملک بھیجنے پر لاکھوں روپے صرف کئے جاتے ہیں اور اس کی غرض وغایت محض تفریح ہے اور لھو ایسی چیز کو کہتے ہیں جو انسان کو مشغول کر دے۔ بچے کھیل کھیلتے ہیں کوئی بادشاہ بن جاتا ‘ کوئی وزیر اور کوئی چور ‘ بس تھوڑی دیر شغل کیا اور ختم ‘ حاصل کچھ نہ ہوا۔ دنیا کی زندگی بجائے خود ایک کھیل ہے۔ بڑے لوگ اقتدار پر قبضہ کر کے بادشاہ بنے ہوئے ہیں ‘ بعض کو وزیر بنا رکھا ہے اور بعض ان کے ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں۔ اس محدود اور ناپائیدار زندگی کی متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے وما الحیوۃ الدنیا الا متاع الغرور (الحدید)
یہ دنیا کی زندگی تو محض دھوکے کا سامان ہے۔
سرمایہ زندگی
اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے انسان کو زندگی جیسا قیمتی سرمایہ عطا کیا ہے۔ حدیث شریف 1 ؎ میں آتا ہے کل الناس یغدو فبائع نفسہ ‘ فمعتقہا اور موبقہا جب کوئی شخص رات گزار کر صبح صحت و تندرستی کے ساتھ بیدار ہوتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت نصیب ہوتی ہے اس لئے انسان کے تین سو ساٹھ جوڑوں میں سے ہر ہر عضو پر شکریہ واجب ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ہر عضو کی طرف سے صدقہ دینا ضروری ہوجاتا ہے۔ صحابہ نے عرض کیا ‘ حضور ! اس کی تو کوئی طاقت نہیں رکھتا کہ ہر عضو کی طرف سے ہر روز صدقہ ادا کرے ‘ فرمایا ‘ انسان کی ہر نیک بات اس کے لئے صدقہ بن جاتی ہے کسی کو نیکی کی بات بتلانے یا برائی سے منع کر دے تو وہ بھی اس کے لئے صدقہ ہوتا ہے ۔ راستے میں سے کانٹا یا پتھر ہٹا دے کہ کسی کو تکلیف نہ ہو تو یہ بھی صدقہ بن جاتا ہے۔ فرمایا اور کچھ نہین تو چاشت کے وقت دو رکعت نفعل ہی تمام اعضاء کی طرف سے صدقہ بن جائے گا۔ کوئی شخص صحیح اعتقاد کے ساتھ سبحان اللہ کر دے تو وہ بھی اس کے لئے صدقہ ہوگا۔
حضور ﷺ نے فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ نے انسان کو زندگی کا بڑا قیمتی سرمایہ عطا کیا ہے ‘ اس کے ساتھ اچھا سودا خریدو کیونکہ یہ سرمایہ قیمتی ہونے کے ساتھ ساتھ عارضی بھی ہے۔ انسان کی زندگی کی ناپائیداری کی مثال ایسی ہے جیسے برف کی ڈولی جو گرمی کی وجہ سے ہر آن پگھلتی رہتی ہے۔
عمر برف است و آفتاب تموز
اند کے ماند و خواجہ غرہ ہنوز
زندگی برف کی ڈلی ہے مگر صاحب زندگی دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں ‘ دھوپ تیز ہے اور برف پگھل رہی ہے ‘ وہ کتنی دیر تک ٹھہر سکے گی بہرحال اللہ تعالیٰ نے انسان کو زندگی جیسی قیمتی متاع عطا فرمائی ہے تا کہ اس سے نفع مند تجارت کرسکے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا ‘ اس قیمتی پونجی کو لگا کر بعض انسان واقعی اپنے نفس کو آزاد کردیتے ہیں وہ اس سے ایمان ‘ توحید اور نیکی جیسی قیمتی چیزیں خرید کر اپنے نفس کو جہنم سے آزاد کرا لیتے ہیں مگر بعض ایسے بھی ہیں جو اسی پونجی سے کفر ‘ شرک ‘ نفاق اور بدعات خرید کر اپنے نفس کو ہلاک کرلیتے ہیں ایسی تجارت میں انہیں نفع کی بجائے سراسر نقصان ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زندگی کے مصرف کو تجارت کی مثال دے کر سمجھایا ہے جسے تاجر لوگ بڑی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ جس شخص کی اصل پونجی ہی ضائع ہوجائے وہ کس قدر نقصان میں ہوتا ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں فرمایا قد خسرالذین کذبوا بلقاء اللہ جن لوگوں نے قیامت کا انکار کردیا۔ وہ بڑے خسارے میں پڑگئے۔ یہ دنیا کی زندگی بظاہر جلد ختم ہو جانیوالی ہے مگر ہے بڑی قیمتی۔ اس سے انسان اچھا سودا خرید کر دائمی عیش و آرام کا مستحق بن سکتا ہے۔
فرمایا جو شخص اس سرمایہ زندگی سے آخرت کا سودا کرتا ہے واللد ادالا اخرۃ خیر لذین یتقون اور آخرت کا گھر بہتر ہے ان لوگوں کے لئے جو اللہ سے ڈرنے والے ہیں جو لوگ کفر ‘ شرک اور معاصی سے بچتے ہیں۔ اپنی قیمتی زندگی کو غلط کام میں نہیں لگاتے بلکہ اس سرمایہ کو اچھے کاموں پر لگاتے ہیں ان کے لئے آخر ت کا گھر بہترین ٹھکانہ ہے فرمایا افلا تعقلون اللہ نے تمہیں عقل جیسا قیمتی جوہر عطا کیا ہے تم اسے بروئے کار لا کر حقیقت کو سمجھتے کیوں نہیں۔ اب بھی وقت ہے سمجھ جائو ‘ اس دنیا کی چند روزہ زندگی میں آخرت کو سنوارنے کا سامان پیدا کرو اور اس عمر عزیز کو فضول کاموں پر نہ گنوا بیٹھو۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں معاد کے منکرین اور مشرکین کا رد فرمایا ہے۔
اب اس کے بعد حضور نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ مکذبین کی تکذیب سے آپ رنجیدہ خاطر نہ ہوں۔ قد نعلم تحقیق ہم جانتے ہیں انہ لیحزنک الذین یقولون کہ وہ چیز آپ کو غم میں ڈالتی ہے ‘ جو یہ کہتے ہیں۔ یہ لوگ ‘ ایمان ‘ توحید ‘ رسالت اور معاد کا انکار کر کے ‘ قرآن پاک کو اساطیر الاولین کہ کر اور وحی الٰہی سے استہزاد کر کے آپ کو تکلیف پہنچاتے ہیں۔ مگر آپ یاد رکھیں فانھم لا یکذبونک بیشک یہ لوگ آپ کی تکذیب نہیں کرتے ‘ کیونکہ جب مشرکین مکہ سے حضور ﷺ کی ذات مبارکہ کے بارے میں پوچھا جاتا تو کہتے بڑا سچا ہے۔ سورة یونس میں موجود ہے۔ آپ نے فرمایا فقد لبثت فیکم عمرا من قبلہ افلا تعقلون میں نے تمہارے درمیان عمر کا ایک بڑا حصہ یعنی چالیس سال کا عرصہ گزارا ہے ‘ کبھی میں نے جھوٹ بولا ہے ؟ یا کسی کو نقصان پہنچایا ہے ؟ تو سب جواب دیتے کہ آپ صادق اور امین ہیں ‘ مگر جب آپ نے خدا تعالیٰ کا پیغام سنایا تو جھوٹا قرار دے دیا۔ وحدانیت کا پیغام دینے کے ساتھ ہی ساری برائیاں پیدا ہوگئیں۔ ابوجہل اور دیگر کفار آپ کی صداقت ‘ دیانت ‘ شرافت اور نیک نیتی کے مداح تھے مگر اپنی سیادت کو قائم رکھنے کے لئے حضور ﷺ کی مخالفت کرتے تھے۔ معرکہ بدر کے دوران لقس بن شریق نامی مشرک نے ابوجہل سے پوچھا تھا کہ خدا را یہ تو بتائو کیا محمد واقعی جھوٹا ہے تو ابوجہل کہنے لگا ‘ نہیں ‘ وہ سچا ہے۔ اس نے کہا پھر اس کی مخالفت پر کیوں تکے بیٹھے ہو ‘ تو کہنے لگا ‘ قصیٰ ابن کلاب کے خاندان میں پہلے سے لواء بھی موجود ہے ‘ خہابت بھی ان کے پاس ہے اور سقایت بھی ہے اور اب اگر نبوت بھی انہی کے پاس چلی گئی تو باقی قریش کہاں جائیں گے معلوم ہوا کہ ان کی مخالفت محض چوہدراہٹ کے لئے تھی ‘ وگرنہ دل سے وہ حضور کو بالکل سچا سمجھتے تھے قرآن پاک کے بیان کے مطابق بعض لوگ یہ بھی کہتے تھے کہ ہم آپ کو جھوٹا نہیں کہتے بلکہ جو پروگرام آپ لائے ہیں وہ جھوٹا ہے ہم اس کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔
تو یہاں پر اللہ تعالیٰ نے یہی بات بیان فرمائی کہ یہ لوگ آپ کو نہیں جھٹلاتے ولکن الظلمین بایت اللہ یجمدون بلکہ ظالم اللہ تعالیٰ کی آیتوں کی تکذیب کرتے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ جب آیات الٰہی کا انکار ہوگیا تو ایمان ‘ توحید ‘ رسالت ‘ کتب ‘ سماویہ ‘ معاد ‘ جزائے عمل غرضیکہ ہر چیز کا انکار لازم آ گیا۔ تو فرمایا انہیں آپ کی ذات سے کوئی اختلاف نہیں بلکہ اللہ کے بھیجے ہوئے پروگرام سے اختلاف ہے جس کو اپنانے سے ان کی سیادت ختم ہوجاتی ہے اور دنیا میں جاہ و اقتدار کو بڑی اہمیت حاصل ہے جس کے چھن جانے کے خوف سے مکہ کے مشرکین ہر چیز کا انکار کرجاتے تھے۔
حب مال اور حب جاہ
مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ دنیا میں حب مال اور حب جاہ ہی ساری خرابیوں کا باعث بنتی ہیں۔ حب مال سے حلال حرام کی تمیز اٹھ جاتی ہے اور انسان ہر قسم کے ظلم و ستم پر اتر آتا ہے۔ اسی طرح حب جاہ کی خواہش دنیا میں بدامنی کا باعث بنتی ہے ہر ملک ‘ شہر اور گھر میں حب جاہ ہی کی جنگ لڑی جا رہی ہے۔ اور پھر بین الاقوامی سطح پر بھی ہر ملک دوسرے کو زیر کر کے دنیا پر تسلط جمانا چاہتا ہے ۔ آج کی دنیا میں روس اور امریکہ کی سردجنگ کس لئے ہے ؟ چین اور روس ایک نظریہ ہونے کے باوجود کس چیز کے لئے برسر پیکار ہیں ؟ برطانیہ اور امریکہ کی اندرون خانہ مخالفت کی کیا وجہ ہے ؟ ان سب کے پیچھے حب جاہ کی خواہش ہی کا فرما ہے ہر ملک دنیا میں اپنی سیادت چاہتا ہے ‘ فرعون ‘ نمرود ‘ قیصرو کسریٰ بھی اسی لعنت میں گرفتار تھے اور ابوجہل بھی اسی برائی کی خاطر حضور ﷺ کی مخالفت کرتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو تسلی دی کہ آپ دل برداشت نہ ہوں۔ درحقیقت ان لوگوں کی مخالفت آپ کی ذات سے نہیں بلکہ وحی الٰہی کے پوگرام کے ساتھ ہے۔
Ayahs 6:34–36گزشتہ کئی دورس سے کفر و شرک کی تردید ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے معاد کا انکار کرنے والوں کا ذکر کیا ‘ پھر ان کے بیہودہ اعتراضات کا جواب دیا ‘ گزشتہ آیات میں فرمایا کہ تکذیب کرنے والے خود اپنا ہی نقصان کر رہے ہیں یہ لوگ اس وقت کف افسوس ملیں گے جب کسی کو موت آجائے گی یا قیامت واقع ہوگی مگر اس وقت کی ندامت کچھ مفید نہ ہوگی۔ ان لوگوں کو اپنے کفر ‘ شرک ‘ اور معاصی کا بوجھ اپنی پشتوں پر اٹھانا پڑے گا۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ یہ دنیا تو ناپائیدار بل کی فانی ہے۔ یہ کھیل کود کی طرح جلد ہی ختم ہوجائے گی ‘ اور پھر ہر ایک کو دائمی زندگی سے واسطہ پڑے گا۔ فرمایا خدا خوفی رکھنے والوں اور کفر و شرک اور معاصی سے پرہیز کرنے والوں کے لئے آخرت کا گھر ہی بہتر ہے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ اور آپ کے پیروکاروں کو تسلی بھی دی اور فرمایا کہ کفار و مشرکین کی ایذا رسانیوں سے ہم واقف ہیں۔ ان کی طرف سے انکار اور دیگر بیہودہ باتیں آپ کو غم میں ڈالتی ہیں ‘ مگر اپ کے لئے صبر ہی بہترین ہتھیار ہے حقیقت میں یہ لوگ آپ کی تکذیب نہیں کرتے بلکہ اللہ کی آیتوں کے ساتھ ظلم کر رہے ہیں آپ کو تو سچا ‘ امین اور پاکیزہ اخلاق کا مالک تسلیم کرتے ہیں مگر جو پروگرام آپ پیش کر رہے ہیں اس کو تسلیم کرنے کیلئے تیار نہیں۔ اس طرح آپ کو تسلی دی گئی۔
اب آج کے درس میں بھی مختلف انداز سے آپ کو تسلی دی گئی تا کہ آپ رنجیدہ نہ ہوں۔ ارشاد ہوتا ہے ولقد کذبت رسل من قبلک البتہ آپ سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کو جھٹلایا گیا۔ اور ان کے لائے ہوئے پروگرام کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا گیا۔ یہ لوگ آپ سے بھی وہی سلوک کر رہے ہیں تو آپ اس سے گھبرائیں نہیں بلکہ پہلے انبیاء کا طریقہ بھی اختیار کریں۔ فصبرواعلی ٰ ما کذبوا انہوں نے تکذیب شدہ چیز پر صبر کیا ‘ برداشت کیا واوذوا اور انہیں ایذا پہنچائی گئی۔ اللہ کے اکثر نبیوں کو تکالیف میں مبتلا کیا گیا مگر وہ ہمیشہ صبر و تحمل سے ہر تکلیف کو برداشت کرتے رہے حتیٰ اللھم انصرنا حتیٰ کہ انکے پاس ہماری مدد آن پہنچی اور مکذبین اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آگئے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح سابقہ انبیاء نے صبر و برداشت کا دامن تھامے رکھا ‘ آپ بھی ویسے کریں تو اللہ کی مدت اپنے وقت پر پہنچ جائے گی۔ لہٰذا آپ رنجیدہ خاطرہ نہ ہوں۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ کسی موقع پر ایک شخص نے حضور ﷺ کے بارے میں بیہودہ بات کی تو آپ کو سخت صدمہ پہنچا۔ آپ نے فرمایا رحم اللہ موسیٰ لقد او ذی باکثر من ھذا فصبروا اللہ تعالیٰ موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے کہ انہیں اس سے بھی زیادہ تکلیفیں پہنچائی گئیں مگر انہوں نے صبر ہی کیا ‘ تو میں بھی ان کے اسوہ کے مطابق صبر کا دامن ہی پکڑوں گا۔ حضور موسیٰ ﷺ کو اس حد تک ذہنی کوفت پہنچائی گئی کہ ایک فاحشہ عورت کو مجمع عام میں کھڑا کر کے اس سے کہلوایا گیا کہ موسیٰ ﷺ نے اس سے برائی کا ارتکاب کیا ہے (العیاذ باللہ) حضرت نوح (علیہ السلام) کے متعلق بھی قرآن پاک میں اشارات موجود ہیں کہ انہیں کس کس طرح سے جسمانی ‘ ذہنی اور مالی تکالیف پہنچائی گئیں۔
خود حضور ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کی ایذاء رسانی کر کے آپ کی کوفت کا باعث بنے مگر تمام انبیاء کی طرح آپ نے بھی صبر کا دامن نہ چھوڑا۔
صبر ملت ابراہیمی اور دین اسلام کا بہت بڑا اصول ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس اصول کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا ہے کہ اے ایمان والو ! تمہیں اہل کتاب اور مشرکین کی طرف سے بڑی تکلیفیں پہنچائی جائیں گی۔ ” وان تصبروا وتتقوا فان ذالک من عزم الامور۔ (آل عمران) پھر اگر تم صبرو کرو گے اور تقویٰ کا راستہ اختیار کرو گے تو پکتہ بات یہی ہے کامیابی کا انحصار صبر اور تقویٰ پر ہے۔ یہ ہمارے دین کا بہت بڑا اصول ہے ‘ اسی لئے قرآن پاک میں اس کی جگہ جگہ تاکید کی گئی ہے ‘ جیسے واستعینوا بالصبروالصلوٰۃ (بقرہ) صبر اور نماز کے ذریعے مدد حاصل کرو۔ نماز کے ذریعے تعلق باللہ کو قائم رکھو اور ہر تکلیف کو صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرو تو فلاح پاجائو گے۔ صبر کی بھی مختلف صورتیں ہیں۔ کبھی اطاعت پر جم جانے کے لئے صبر سے کام لینا پڑتا ہے اور کبھی نفسانی خواہش کو روک کر صبر کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ اور ہر مصیبت کے وقت صبر اختیار کرنا تو بہرحال مقصود ی کاموں میں سے ہے۔ اسی لئے فرمایا کہ جس طرح پہلے انبیاء نے تکالیف پر صبر کا مظاہرہ کیا ‘ اسی طرح آپ بھی صبر کا دامن پکڑے رہیں۔
فرمایا تمام انبیاء صبر کرتے رہے حتیٰ کہ ہماری مدد ان کو پہنچ گئی اور یاد رکھو ولا بدل لکلمت اللہ اللہ تعالیٰ کے کلمات کو کوئی ہستی تبدیل نہیں کرسکتی۔ یہاں پر کلمات سے مراد اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء سے جو وعدہ کر رکھا ہے اسے کوئی بھی بدل نہیں سکتا۔ اس کا وعدہ ہے ” لا غلبن انا ورسلی (المجادلۃ) میں اور میرے رسول ہی غالب ہوں گے۔ حالات چاہے کیسے بھی حوصلہ شکن ہوں مگر بالآخر میرے نبیوں کے مشن کو ہی کامیابی ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مدد کی خوشخبری تمام انبیاء اور اہل ایمان کو بھی دی ہے۔ انا لننصررسلنا والذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا و یوم یقوم الشھاد (المومن) بیشک ہم مدد کرتے ہیں اپنے رسولوں اور اہل ایمان کی دنیا میں بھی اور قیامت کے دن بھی۔ اللہ تعالیٰ کا یہی وعدہ یا کلمہ ہے جسے کوئی تبدیل نہیں کرسکتا ‘ وہ پورا ہو کر رہے گا مگر اس سے پہلے ہر قسم کی تکالیف کو برداشت کرنا ہوگا۔
فرمایا ولقد جاء ک من تبای المرسلین اور البتہ اس سے پہلے آپ کے پاس رسولوں کے حالات (بذریعہ وحی) پہنچ چکے ہیں۔ آپ ان حالات کو پیش نظر رکھیں اور سابقہ انبیاء کے اسوہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے تکالیف برداشت کریں اور صبر پر قائم رہیں۔
قبول حق کے لئے شدید خواہش
فرمایا وان کان کبر علیک اعراضھم اگرچہ ان کا قبول حق سے اعراض آپ پر شاق گزرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کے قلب مبارک میں اس بات کی شدید خواہش تھی کہ آپ کی قوم کے لوگ ایمان کو قبول کرلیں اور دوزخ سے بچجائیں۔ مگر وہ لوگ بعض اوقات سخت بیہودہ باتیں کرتے تھے۔ معجزات کے لئے فرمائشیں کرتے تھے کہ فلاں نشانی آجائے تو ہم مان جائیں گے اور حضور ﷺ کی دلی خواہش بھی ہوتی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مطلوبہ نشانی ‘ ظاہر فرما دے تو شاید وہ ایمان لے آئیں ‘ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگرچہ آپ کی یہ خواہش امور خیر کے متعلق ہے مگر یہ تکوینی مصلحت کے خلاف ہے حکمت لٰہی میں سب لوگوں کا ایمان لانا ضروری نہیں ہے اس قسم کی خواہش ابطال حکمت کے مترادف ہے ‘ اس لئے آپ ایسی تمنا پر اصرار نہ کیا کریں سورة کہف میں ہے۔ ” فلعلک باخخ نفسک علی اثارھم ان لھم یومنوا بھذا الحدیث اسفا “ اے پیغمبر ! آپ اس بات پر اپنے آپ کو ہلاک کرلیں گے کہ یہ لوگ اس آخری پروگرام پر ایمان نہیں لاتے آپ اتنا زیادہ غم نہ کیا کریں۔ آپ ان لوگوں پر کوئی داروغہ یا جبار تو نہیں ہیں کہ ان سے زبردستی ایمان قبول کرائیں اور پھر ان کا ایمان لانا ضروری بھی تو نہیں ہے۔
قبول حق اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے ‘ وہ جانتا ہے کہ کسی شخص میں قبول حق کی صلاحیت موجود ہے اور کس میں نہیں ہے۔ لہٰذا اس نے ایمان لانے کا اختیار مکمل طور پر بندے پر چھوڑ دیا ہے کہ وہ قبولیت یا عدم قبولیت کا فیصلہ اپنی صلاحیت کے مطابق اپنی صوابدید پر کرے۔ اللہ نے فرمایا ہے ” قدتبین الرشد من الغی “ (البقرہ) ہدایت گمراہی سے بالکل واضح ہوچکی ہے نیزیہ بھی فرمایا لا اکراہ فی الدین (البقرہ) دین میں جبر بھی نہیں ہے کہ کسی کو زبردستی مسلمان بنا لیا جائے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مصلحت کے خلاف ہے۔ لہٰذا آپ اس معاملہ میں زیادہ دلبرداشتہ نہ ہوں۔
امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ نے ہدایت کے تمام ممکنہ اسباب مہیا کردیئے ہیں۔ اس نے انسان کو زندگی ‘ وجود ‘ صحت ‘ عقل ‘ اور حواس ظاہر و باطنہ عطا کئے ہیں۔ اس کے اردگرد بیشمار بشانیاں پھیلا دی ہیں اللہ نے پیغمبروں کو بھیجا ‘ ان کی طرف وحی نازل فرمائی ‘ اس کے باوجود اگر کوئی شخص ہدایت کو قبول نہیں کرتا تو پھر اسے جہنم میں جانے دیں۔ اس کے متعلق آپ سے کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔ “ ولا تسئل عن اصحب الجحیم “ (2 : 911) آپ سے دوزخ میں جانے والوں کے متعلق نہیں پوچھا جائے گا۔ یہ تو خود دوزخیوں سے سوال ہوگا ماسلئکم فی سقر (57 : 24) تم جہنم میں کس وجہ سے آئے تو وہ خود اعتراف کریں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے۔ ہم مساکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔ ہم اہل باطل کے ساتھ شامل ہوجاتے تھے اور ہم قیامت کے دن کا انکار کرتے تھے۔ فرمایا آپ سے مجرمین کے متعلق سوال نہیں ہوگا۔ آپ کے ذمے تو خدا کا پیغام پہنچا دیا ہے آپ اپنا فرض ادا کریں اور ان لوگوں کی مطلوبہ نشانی کے لئے تمنا نہ کریں۔
معجزات کی فرمائش
فرمایا ان کا حق سے اعراض آپ پر شاق گزرتا ہے فان استطعت پس اگر آپ استطاعت رکھتے ہیں ان تبتغی نفقا فی الارض کہ زمین میں سرنگ تلاش کرلیں او سلما فی اسلماء یا آسمان میں سیڑھی لگا لیں ‘ تو آپ ایسا کر گزریں فتاتیھم بایتہ پھر لے آئیں ان کے لئے کوئی نشانہ جو وہ طلب کرتے ہیں۔ اس ضمن میں پہلی بات تو یہ ہے کہ کسی معجزہ یا نشانی کا ظاہر کرنا آپ کے اختیار میں نہیں ہے اور اگر بالفرض اللہ تعالیٰ مطلوبہ نشانی ظاہر بھی فرما دے تو اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ یہ ضرور ہی ایمان لے آئیں گے ان کا سابقہ ریکارڈ تو ان کے حق میں نہیں جاتا۔ مثلاً مشرکین مکہ نے چاند کو دو ٹکڑے کردینے کا معجزہ طلب کیا۔ جب اللہ کی مشیت ہوئی تو حضور ﷺ نے انگلی کا اشارہ کیا اور چاند دو ٹکڑے ہو کر ایک حصہ پہاڑ کی ایک طرف اور دوسرا دوسری طرف چلا گیا۔ یہ واضح نشانی دیکھنے کی بعد کہنے لگے ” سحر مستمر “ (4502) یہ تو چلتا ہوا جادو ہے ۔ بعض لوگوں نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ ہماری نظربندی کردی گئی ہو اور حقیقت میں چاند نہ پھٹا ہو ‘ لہٰذا باہر دور دراز سے آنے والے لوگوں سے دریافت کرنا چاہئے۔ چنانچنہ جب قافلے آئے تو ان سے پوچھا گیا۔ انہوں نے بھی تصدیق کی کہ فلاں دن فلاں مقام پر ہم نے چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا مگر اس کے باوجود مشرکین مکہ ایمان نہ لائے اور اپنی بات پر اڑے رہے۔
فرمایا یہ بات تو طے ہے کہ یہ لوگ نشانیاں دیکھ کر ایمان نہیں لائیں گے۔ البتہ ولو شاء اللہ لجمعھم علی الھدی اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان سب کو ہدایت پر اکٹھا کر دے ‘ سب کو مجبوراً ایک راستے پر لگا دے۔ مگر یہ اس کی حکمت کے خلاف ہے۔ جیسے کہ پہلے عرض کیا کسی کو ایمان لانے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ تمام دلائل اس کے سامنے رکھ کر پھر اس کو اختیار دیا گیا ہے من شاء فلیومن و من شاء فلیکفر (سورۃ کہف) جو چاہے ایمان لے آئے اور جو چاہے انکار کر دے ‘ کسی پر زبردستی نہیں ہے۔ البتہ اللہ نے بتا دیا انا اعتدنا للظلمین نارا (کہف) ہم نے ظالموں کے لئے دوزخ تیار کر رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ کفر کو ہرگز پسند نہیں کرتا ‘ بلکہ وہ تو ایمان قبول کرنے سے خوش ہوتا ہے۔ اب ہر شخص کے اپنے اختیار میں ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کو راضی کرنا چاہتا ہے یا ناراض۔
فرمایا اگر اللہ چاہے تو سب لوگ ایمان قبول کرلیں ‘ مگر آپ کیلئے یہی ہے فلاں تکونن من الھجلین کہ آپ نادانوں میں سے نہ ہوجائیں۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے محبت اور وعظ کے طریقے پر فرمایا ہے کہ میری حکمت کے خلاف تمنا کر کے آپ نادان نہ بنیں۔ اس جملے میں محبت آمیز عتاب بھی ہے اور وعظ و نصیحت بھی کہ حد سے آگے نہ بڑھیں ‘ ان لوگوں کے لئے جس قد رضروری ہے اسی قدر اللہ سے طلب کریں اور ان کی ہر خواہش کی تکمیل کی تمنا نہ کریں۔
جہل کا لفظ علم اور حلم دونوں کے مقابل میں آتا ہے یہ لفظ علم سے بےبہرگی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور بردباری کے خلاف واقع ہونے والی چیز کے لئے بھی۔ عربی شاعر کہتا ہے۔
الا لا یجھلن احد علینا
فنجھل فوق جھل الجاھلین
خبردار ! ہمارے خلاف کوئی جہالت یعنی زور آزمائی نہ کرے کیونکہ ہم زور آزمائوں سے بڑھ کر زور آزمائی کرنیو الے ہیں۔ مطلب یہ کہ حوصلے اور بربادی کے خلاف جو جلد بازی اور زور آزمائی ہوتی ہے ‘ اس پر بھی جہل کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ تو گویا اللہ تعالیٰ نے نہایت لطیف انداز میں حضور ﷺ کو نصیحت فرمائی ہے کہ آپ نامناسب فرمائش کی حمایت کر کے نادان نہ بنیں۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ آیت کے اس حصہ میں اگرچہ خطاب حضور ﷺ سے ہے ‘ مگر بات عام لوگوں کو سمجھائی جا رہی ہے کہ بیشک تمام مسلمانوں کی خواہش ہے کہ سب لوگ ایمان لے آئیں ‘ مگر یہ چیز حکمت کے خلاف ہے ۔ کسی کو ہدایت دینا آپ کے اختیار میں نہیں ہے ‘ آپ تو اس کے لئے دعا ‘ تمنا یا کوشش ہی کرسکتے ہیں ‘ وہ کریں اور نتیجہ اللہ تعالیٰ پر چھوڑ دیں کیونکہ یہ اس کے علم میں ہے کہ کس شخص میں ایمان قبول کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اور اگر آپ چاہیں کہ تمام کے تمام لوگ ہی ایمان قبول کرلیں تو یہ نادانی کی بات ہے ‘ اس کو اختیار نہ کریں۔
اہل فکر و نظر
فرمایا انما یستجیب الذین یسمعون بیشک قبول وہ لوگ کرتے ہیں جو سنتے ہیں اور جو آدمی سنتا ہی نہیں یعنی توجہ ہی نہیں دیتا۔ اس کو سنانے سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا دوسرے مقام پر فرمایا ۔ ” ولا تکونوا کالذین قالو سمعنا وھم لا یسمعون (انفال) ان لوگوں کی طژرح نہ ہو جائو جو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا حالانکہ وہ نہیں سنتے۔ سننے کا فائدہ تو اسے حاصل ہوتا ہے جو کسی چیز پر توجہ دے اس کو سمجھے اور اسے دل میں جگہ دے۔ برخلاف اس کے جو ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتا ہے ‘ اس کا سننا اور نہ سننا برابر ہے۔ فرمایا والموتی یبعثھم اللہ اور اللہ تعالیٰ مردوں کو اٹھائے گا امام رازی (رح) کہتے ہیں کہ یہاں مردوں سے مراد کافر ہیں اور مطلب یہ ہے کہ جس طرح مردوں کو سنانے کا کچھ فائدہ نہیں ‘ اسی طرح کافروں کا سننا اور نہ سننا برابر ہے ‘ کافروں سے خطاب مردوں سے خطاب کے مترادف ہے۔ اگر قبرستان میں کوئی شخص وعظ کرنا شروع کر دے تو اس کا کیا فائدہ ہوگا ‘ یہی حال کفر کرنے والوں کا ہے۔
فرمایا قیامت والے دن اللہ تعالیٰ مردوں کو اٹھائے گا تو پھر سنیں گے آج کا سننا تو ان کے لئے کچھ مفید نہیں مگر وہاں کا سننا بھی مفید نہیں ہوگا کیونکہ سن کر ایمان لانے کا وقت گزر چکا ہوگا۔ وہ تسلیم کریں گے کہ دنیا میں ہمیں جو سنایا جاتا تھا وہ برحق تھا۔ مگر ہم ہی غلط راستے پر چلتے رہے ‘ مگر اس وقت کا پچھتانا کسی کام نہ آئے گا فرمایا ثم الیہ یرجعون پھر ان سب کو خدا تعالیٰ کی طرف لوٹا دیا جائے گا۔ پھر محاسبہ ہوگا اور جیسا کسی کا عقیدہ باعمل ہوگا ‘ اس کے مطابق سزا یا جزا پائے گا۔ غرض یہ کہ پیغمبر (علیہ السلام) اور آپ کے ساتھیوں کو اللہ نے تسلی دی ہے کہ اگر کافر آپ کی بات نہیں مانتے تو آپ زیادہ اصرار نہ کریں اور ان کی خواہش کے مطابق نشانیوں کی تمنا نہ کریں کیونکہ یہ حکمت خداوندی کے خلاف ہے۔ آپ اپنا فرض ادا کرتے رہیں کسی کو ہدایت دینا یا گمراہ رکھنا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عقل جیسی نعمت کو ٹھیک طور پر استعمال نہیں کرتے۔ اس بات کا ادراک نہیں قیامت کے روز ہوگا ‘ مگر اس وقت کی ندامت کسی کام نہیں آئے گی اور کافر اپنے منطقی انجام کو پہنچ جائیں گے۔