Ayahs 6:138–140گذشتہ آیات کی طرح یہ آیات بھی شرک ہی سے متعلق ہیں ان آیات میں بھی عملی شرک ہی کا بیان ہے۔ مشرکین عرب نے جو رسومات باطلہ ایجاد کر رکھی تھیں اللہ تعالیٰ نے ان کا رد فرمایا ہے ، وہ لوگ دو طرح کے نذر و نیاز دیتے تھے ، ایک اللہ کے نام پر اور دوسری معبودان باطلہ کے نام پر اور پھر اللہ کے حصے کی زیادہ پرواہ نہیں کرتے تھے مگر غیر اللہ کی نذر کے لیے خاص اہتمام کرتے تھے اور اس پر کسی قسم کی کمی نہیں آنے دیتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ قتل اولاد کا ذکر بھی ہوچکا ہے۔ کہ وہ لوگ اولاد کو مختلف حیلوں سے قتل کردیتے تھے۔ کبھی ننگ و ناموس کے نام پر اور کبھی معاشی تنگدستی کے پیش نظر گر سب سے بڑی قباحت یہ تھی کہ وہ بچوں کو معبودان باطلہ کی بھینٹ چڑھا دیتے تھے اور ان کی خوشنودی کیلئے بچوں کو قتل کردیتے تھے اللہ تعالیٰ نے ایسی تمام قبیح رسوم کا رد فرمایا ہے۔
اب آج کی آیات میں بھی عملی شرک کی بعض صورتوں کا تذکرہ ہے۔ وہ اپنی پیداوار کا کچھ حصہ خاص لوگوں کے لیے رکھ لیتے تھے اور اس میں سے ان کی مرضی کے خلاف کسی کو کھانے کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ بعض جانوروں کی سواری ممنوع قرار دیتے تھے اور بعض جانوروں کا گوشت مردوں کے لیے حلال اور عورتوں کے لیے حرام قرار دے دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس خود ساختہ شریعت کی تردید فرمائی ہے۔
ارشاد ہوتا ہے وقالوا ھذہ انعام وحرث حجر اور مشرکوں نے کہا کہ یہ کچھ مویشی اور کچھ کھیتی ہے جو کہ ممنوع ہے ، ہم نے اس کو روک رکھا ہے لایطعمُھا الا من نشاء بزعمھم اس کو کوئی نہیں کھا سکتا سوائے اس کے کہ جسے ہم اپنے خیال کے مطابق چاہیں یہ رسم انہوں نے اپنے مذہبی راہنموں کے ایمان پر قائم کر رکھی تھی کیونکہ ایسی چیزیں صرف انہی کے لیے مخصوص ہوتی تھیں۔ عام آدمی ، غریب محتاج یا فقیر اس کو استعمال نہیں کرسکتا تھا۔ یہ صرف گدی نشینوں کا حق تصور کیا جاتا تھا۔ اس قسم کے رسوم مشرکین عرب کے علا وہ بعض دوسری اقوام میں بھی پائی جاتی تھیں۔ یہاں ہندوئوں میں بھی اس قسم کے عقائد پائے جاتے ہیں کہ بعض چیزیں صرف برہمن ہی استعمال کرسکتے ہییں ، کوئی دوسرا ان کو ہاتھ نہیں لگا سکتا۔ ان کی دیکھا دیکھی یہ چیزیں مسلمانوں میں بھی آگئی ہیں ، چناچہ دہلی والے حضرت بی بی فاطمہ ؓ کی صحنک کے نام سے نیاز دیتے ہیں۔ اس کا ذکر حضرت مولانا شاہ اسماعیل شہید (رح) نے اپنی کتاب تقریۃ الایمان میں بھی کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ بی بی کی صحنک پر یہ پابندی ہے۔ کہ اسے نہ تو مردکھا سکتے ہیں ، نہ لونڈی اور نہ دوخصمی عورت۔ یہ بالکل ویسی ہی پابندی ہے۔ جیسے مشرکین عرب نے از خود قائم کر رکھی تھی۔ اسی طرح 22 رجب کو امام جعفر صادق (رح) کے نام پر پکائے جانے والوں کو نڈوں پر بھی بعض پابندیاں عائد ہیں مثلاً کہ اس کا کھانا سورج نکلنے سے پہلے پہلے ضروری ہے۔ اور یہ چھت کے نیچے ہونا چاہئے۔ کھلی جگہ پر کھانا درست نہیں ہے۔ اور اس کھانے کو گر سے باہر بھی نہیں نکال سکتے۔ بلکہ جس کسی کو کھلان مقصود ہے اسے گھر بلا کر کھلانا ضروری ہے۔ یہ سب خود ساختہ پابندیاں ہیں اور ان مشرکین کا اتباع ہے جن کا ذکر اس آیت کریمہ میں کیا گیا ہے۔
مشرکین نے جس طرح بعض اشیاء کا کھانا اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا اس طرح بعض جانوروں پر سواری بھی نہیں کرتے تھے۔ چناچہ ارشاد ہے اونعام حرمت ظھور ھا اور بعض جانوروں کی پشتوں پر سواری حرم قرار دے رکھی تھی۔ وہ بھی نیاز کے جانور ہوتے تھے جن پر سواری نہیں کرتے تھے سورة مائدہ میں اس کا تفصیل سے ذکر آچکا ہے ” ماجعل اللہ من بحیرۃ ولا سائبۃ ولا و صیلۃ ولا حام یعنی اللہ تعالیٰ نے کوئی بحیرہ سائبہ ، وصیلہ اور حام مقرر نہیں کیے بلکہ یہ مشرکین کی اپنی ذہنی اختراع ہے ۔ بحیرہ اس مادہ جانور کو کہتے تھے جس کا دودھ نذر کے طور پر وقف کردیتے تھے اور اس کو کوئی عام مرد و زن نہیں پی سکتا تھا۔ سائبہ وہ اونٹ یا بیل وغیرہ ہوتا تھا جسے معبودان باطلہ کی نذر کے طور پر آزاد کردیا جاتا تھا۔ اس جانور پر نہ تو سوری کرتے تھے اور نہ کسی دیگر کام میں لاتے تھے۔ یہ اپنی مرضی سے حسب خواہش چلتا پھرتا رہتا تھا اور جہاں سے چاہے کھاتا رہتا تھا ، کوئی اس کو روکتا ٹوکتا نہ تھا کیونکہ وہ نیاز کا سانڈھ کہلا تھا ۔ اس قسم کا وہم ہندوئوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ وہ بھی بھیوانی دیوی کے نام بیل کو کھلا چھوڑ دیتے ہیں اور کوئی شخص اس سے تعرض نہیں کرتا ۔ وصیلہ ایسے مادہ جانور کو کہتے تھے جو ایک مقررہ تعداد میں لگا تار مادہ بچے جنے۔ جب وہ تعداد پوری ہوجاتی تھی تواسے نیاز کے طور پر کھلا چھوڑ دیتے تھے اور اس سے کوئی کام نہیں لیتے تھے۔ حام کا معنی بچانے والا ہوتا ہے اور اس سے مراد یہ ہوئی تھی کہ اس جانور نے اپنی پشت کو سواری سے بچا لیا ہے۔ اب کوئی شخص اس پر سواری نہیں کرسکتا۔ ، مثلاً جس اونٹ کی جفتی سے دس بچے پیدا ہوجائیں ، اس کے بعد اس کو سواری کے لیے استعمال نہیں کرتے تھے۔ اس آیت کریمہ میں بھی یہی ہے کہ وہ کہتے تھے کہ بعض جانوروں پر سواری حرام قرار دے دی گئی ہے۔
فرمایا وانعام لا یذکرون اسم اللہ علیھا بعض جانور ایسے تھے کہ مشرکین ان پر اللہ کا نام نہیں لیتے تھے۔ نہ دودھ دوہتے وقت اللہ کا نام لیتے تھے ، نہ سواری کرتے وقت اور نہ ہی ذبح کرتے وقت البتہ غیر اللہ کا نام ضرور لیتے تھے جیسے لات ، مناۃ ، عزٰی وغیرہ یعنی یہ ان کی نذر و نیاز ہے۔ ہندوستان میں بھی اس قسم کا تخیل پایا جاتا ہے جیسے شیخ سدھو کا بکرا مشہور ہے۔ حضرت سالار مسعود غازی (رح) بڑے بزرگ ہوئے ہیں ، جہاد کرتے ہوئے شہید ہوئے تھے ، ان کے مزار پر ان کے نام کی گائے نذر کی جاتی ہے اسی طرح پیر ان پیر کی گیارہویں کو بہت زیادہ شہرت حاصل ہوئی ہے ۔ ان کے نام پر دودھ ، کھانا ، جانور وغیرہ ان کے تقرب اور خوشنودی کے لیے دیا جاتا ہے۔ تاکہ کسی ممکنہ نقصان سے بچ جائیں۔ اگر یہ نیاز دی تو کھیتی یا پھلوں یا مویشیوں میں نقصان ہوجانے کا خطرہ محسوس کیا جاتا ہے یہی شر ک ہے کہ نفع نقصان کا مالک اللہ کی بجائے ان بزرگوں کو سمجھ لیا جاتا ہے اور پھر انکی رضا کے لیے ان کے نام پر نیاز دی جاتی ہے۔
بڑے افسوس کا مقام ہے کہ جن چیزوں کو پیدا کرنے والا اللہ وحدہ لاشریک ہے ان چیزوں پر اسی کا نام لینے سے بچتے تھے اور غیر اللہ کا نام لیتے تھے۔ اور اس سے بڑا ظلم یہ تھا کہ وہ اس چیز میں اللہ کی رضا کے دعویدار تھے۔ گویا اللہ کی بجائے غیر اللہ کا نام لینے کا حکم خود خدا تعالیٰ نے دیا ہے افتراء علیہ یہ تو اللہ تعالیٰ پر بہت بڑا افتراء ہے۔ اس نے تو ایسا حکم نہیں دیا اور نہ وہ ان باتوں سے راضٰ ہوتا ہے بلکہ یہ تو صریحا شرک ہے۔ جس کی عدم معافی کا اللہ نے واضح اعلان فرما دیا ہے ایسے شرکیہ عقائد کو اللہ کی طرف منسوب کرنے والا مفتری ہے ، اللہ نے فرمایا سیجزھم بما کانو یفترون ایسے لوگوں کو اللہ تعالٰ ضرور سزا دیگا جو اس پر افتراء باندھتے ہیں۔ اس کے نام پر جھوٹی باتیں منسوب کرتے ہیں۔ یہ تو خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہے۔ مذہبی راہنمائوں نے سادہ لوح لوگوں کو اس قسم کے توہمات میں جکڑا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ضرور عذاب میں مبتلا کریگا۔
آگے اللہ نے مشرکین کا ایک اور خود ساختہ مسئلہ بھی بیا فرمایا وقالوا وہ کہتے ہیں۔ مافی بطون ہزہ الانعام خالصۃ لذکورنا یعنی ان جانوروں کے پیٹ میں جو کچھ ہے وہ خالص ہمارے مردوں کے لیے ہے۔ و محرم علی ازواجنا اور ہماری عورتوں کے لیے حرام ہے اور وہ خاص جانور وہ ہوتے تھے جنہیں بحریہ ، سائبہ وصیلہ اور حام وغیرہ کی صورت میں آزاد کردیا جاتا تھا۔ ان سے پیدا ہونے والے بچوں کا گوشت صرف مرد کھا سکتے تھے ، عورتوں کے لیے ممنوع تھا۔ ہاں البتہ اتنی رعایت دے رکھی تھی وان یکن میتۃ اگر مردہ بچہ پیدا ہوتا فھم فیہ شرکاء تو اس کی حلت مرد زن سب شریک ہوتے ۔ یہ بھی ایسی ہی پابندی تھی جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہرگز نہ تھی اور نہ اس میں اس کی رضا شامل تھی ، بلکہ یہ محض مشرکین کی خود ساختہ شریعت کا حصہ تھا۔ اکثر رسومات باطلہ اور بدعات اسی قبیل سے ہوتی ہیں ۔ اللہ نے فرمایا سیجزیھم وصفھم ہم انہیں اس بیان کا ضرور بدلہ دیں گے۔ انہوں نے از خود نئی شریعت وضع کی ہے۔ غلط رسوم کو رواج دیا ہے اور اللہ پر جھوٹ باندھا انہیں اسکی لازماً سزا ملیگی۔ اللہ نے تو فرمایا ہے کہ اللہ کا نبی مومن ” علی بصیرۃ “ بصیرت پر ہیں۔ مگر انہوں نے اپنی طرف سے بغیر ماخذ اور سند کے اختراعات ایجاد کرلی ہیں ۔ انہیں اس دیدہ دلیری کا مزہ چکھنا پڑے گا۔ اسی سورة میں آگے بھی آرہا ہے ” ھل عند کم من علم فتخرجوہ لنا کیا تمہارے پاس کوئی ایسا علم ہے جسکی بناء پر شریعت نکالتے ہو ۔ علم کا قطعی ذریعہ تو وحی الٰہی ہے جو انبیاء کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ کیا تمہارے پاس کوئی ایسی دلیل ہے یا تم نے کسی صاحب عقل آدمی سے کوئی چیز حاصل کی ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ ایسی اخترعات کے پیچھے دلیل نہیں ہوتی۔ نہ قرآن و سنت سے ماخوذ ہوتی ہیں اور نہ یہ ائمہ مجتہدین کی کسی دلیل پر مبنی ہوتی ہیں۔ فقہ کے ماخذ تو چار ہی ہیں قرآن ، سنت اور اجماع اور قیاس جب پہل تین ماخذ سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہوتا تو پھر اہل علم قیاس کے ذریعے اس کا حل بتاتے ہیں اور ساتھ وہ آیت یا حدیث رسول بھی بتاتے ہیں جس سے وہ دلیل پکڑتے ہیں۔ مگر تمہارے رسومات اور بدعات تو بلا دلیل اور خود ساختہ ہیں۔ یہ محض آبائو اجداد کی اندھی تقلید کے سواء کچھ نہیں ۔ تم کہتے ہو ” وجد نا علیہ آبائنا “ ہم نے اپنے آبائو اجداد کو ایسا ہی پایا ، مگر اللہ تعالیٰ نے بھی جواب دیدیا ” اولو کان ابائو ھم لایقلون شیئا ولا یھتدون “ (البقرۃ) اگر ان کے ابائو اجداد بےعقل اور راہ ہدایت سے محروم ہوں۔ اس سے زیادہ بےوقوفی کی کیا بات ہو سکتی ہے کہ محض آبائو اجداد کے افعال کو دلیل پکڑا جائے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو اس بیان کی وجہ سے ضرور سزادے گا۔ انہ حکیم علیہم وہ حکیم ہے ۔ حکمت کے ساتھ مہلت دیتا ہے اور جلدی گرفتار نہیں کرتا ۔ وہ علیم بھی ہے ۔ اس کو علم ہے کہ کون شخص کیا کرتا ہے۔ وہ ہر باطل رسوم کے پجاری اور غیر اللہ کی نذر و نیاز کے حامی کو جانتا ہے۔ اس سے کوئی چز پوشیدہ نہیں ہے۔
قتل اولاد کا ذکر گذشتہ درش میں ہوچکا ہے۔ کہ مشرکین کی مذہبی پروہت اسے مزین کر کے دکھاتے تھے جس کی وجہ سے وہ اولاد کو معبودان باطلہ کے نام پر قربان کردیتے تھے۔ اس کے متعلق اللہ کا ارشاد ہے۔ قد خسر الذین قتلو اولادھم سفھام بغیر علم نقصان میں پڑے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو قتل کیا بیو قوفی سے اور بغیر علم کے ۔ ننت و ناموس کی خاطر بچیوں کا زندہ درگور کرنا یا معاشی بنیاد پر بچوں کا مطلقا قتل یا ان کو معبودان باطلہ کے نام پر بھینٹ چڑھا دینا انتہا درجے کی بیوقوفی اور علم سے بےبہرگی کا نتیجہ تھا۔ اس کا نقصان بالکل واضح ہے۔ اولاد سے محرومی ظاہری دنیا میں عظیم نقصان ہے اور دوسرا نقصان یہ ہے کہ ایک غلط کام اچھا اور نیکی سمجھ کر کر رہے ہیں۔ ایسے کاموں سے اللہ تعالیٰ خوش کیو ہوگا ؟ وہ تو سخت ناراض ہوتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ ایسے لوگ خسارے میں پڑگئے۔ ایک اور نقصان یہ بھی ہے وحرمواما رزقھم اللہ جو رزق اللہ نے انہیں دیا ہے اسے اپنے آپ پر حرام قرار دے لیا ہے۔ اللہ کی عطاکی ہوئی روزی سے محروم رہنا بھی کتنی بڑی بد نصیبی اور کتنا بڑا نقصان ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ یہ لوگ گھاٹے میں پڑگئے۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ وھر مو اما رزقھم اللہ سے اولاد بھی مرد لی جاسکتی ہے۔ یعنی جو اولاد اللہ تعالیٰ کسی شخص کو دیتا ہے یا دنیا پر چاہتا ہے۔ اس کو اپنے آپ پر حرام قرار دے لیتے ہیں اور اولاد کی پیدائش میں رکاوٹ بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ انفرادی سطح پر بھی ہوتا ہے اور اجتماعی سطح پر بھی برتھ کنٹرول کے لیے بڑے بڑے منصوبے بنائے جاتے ہیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ سے عطا ہونے والی اولاد کو لینے سے انکار کیا جاتا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی کسی سکیم کا مقابلہ کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ اور لاد اعلیٰ کی لعنت کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ پیدائش روکنے کے لیے طرح طرح کے حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔ کبھی عورت کو مانع حمل گولیاں کھلا کر اور کبھی بچہ دانی کا آپریشن کر کے حمل کو روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ عمل ایک طرف سے آیت کریمہ کی زد میں آتا ہے اور دوسری طرف بےحیائی کو فروغ دیتا ہے۔ خاندانی منصوبہ بندی کا جواز یہ پیش کیا جاتا ہے۔ کہ کثیر آبادی کی خوراک کی ضروریات پوری نہیں کی جا سکتیں ، حالانکہ رزق کے تمام ذرائع اللہ تعالیٰ نے اپنے قبضے میں رکھے ہیں۔ ان پر کسی کو تصرف کا اختیار نہیں دیا۔ سرۃ الذٰریٰت میں ارشاد ہے ” ان اللہ ھوالرزق ذوالقوۃ المتین “ مضبوط طاقت کا مالک وہی رزاق ہے۔ تمہارا فرض یہ ہے کہ اس کے دیے ہوئے رزق کو صحیح طریقے سے خرچ کرو۔ ادھر ایک طرف تو برتھ کنٹرول کی ترغیب دی جاتی ہے اور دوسری طرف دن میں چھ چھ مرتبہ جانوروں کی طرح بےتحاشا کھایا جاتا ہے۔ تم الل کی گدی پر بیٹھ کر رزاقیت کے مالک بنتے ہو اور سمجھتے ہو کہ ہماری جاری کردہ سکیموں کے ذریعے رزق حاصل ہوگا۔ یہ تو حماقت ہے تمہارے پاس جو کچھ ہے اسے منصفانہ طریقے سے تقسیم تو کرو اور پھر دیکھو کہ وسائل رزق کس طرح مہیا ہوتے ہیں۔ اچھی تعلیم اور اچھی ملازمتیں بڑے لوگوں کے لیے مخصوص کردی جائیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی سے غریب طلبا کو محروم کردیا جائے۔ با صلاحیت بچوں کے داخلے پر قدغن لگا دی جائے تو روزگار کا بہائو نیچے کی طرف کیسے آسکتا ہے۔ یہ اسی امتیازانہ سلوک کا نتیجہ ہے کہ امیروں کے بد کار بچے ڈگریاں حاصل کر کے اعلیٰ عہدوں پر فائز ہوجاتے ہیں۔ اور غریب آدمی کو مزدوری تک نہیں ملتی۔ یہ سب غیر منصفانہ تقسیم کا نتیجہ ہے۔ اللہ نے تو واضح طور پر فرما دیا ہے ” وکاین من دابۃ لا تحمل رزقھا “ کتنے جانور ہیں جو اپنا رزق اپنی پشت پر اٹھائے نہیں پھرتے ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ اللہ یرذقھار “ (عنکبوت) ان کو رزق اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتا ہے۔ دیکھیں یہ چرند ، پرند ، درند ، کیڑے مکوڑے کہاں سے روزی حاصل کرتے ہیں ، اللہ نے سب کے لئے انتظام کر رکھا ہے اور تمہاری روزی کے اسباب بھی وہی پیدا فرماتا ہے۔
جہاں تک قتل اولاد کا تعلق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے ” ولاتقتلوا اولادکم من الاق “ (الانعام) اپنی اولاد کو رزق کی کمی کی وجہ سے قتل نہ کرو۔ حقیقت یہ ہے ” نخن نرزقکم وایاھم (الانعام) رزق ان کو بھی لازمی ہم دیتے ہیں اور تمہیں بھی لہٰذا اس بناء پر اولاد کو قتل کرنا یا اولاد کی پیدائو میں رکاوٹ ڈالنا اللہ تعالیٰ کے تصرف میں دخل اندازی کے مترادف ہے۔ اللہ جل جلالہ ، اپنی حکمت کے مطابق ہر ذی جان کو رزق پہنچاتا ہے کسی کو کم دیتا ہے اور کسی کو زیادہ عطا کرتا ہے۔ ” ولوبسط اللہ الرزق لعباد لبغوا فی الارض “ (الشوریٰ ) اگر سب کا رزق اللہ تعالیٰ کشادہ کردیتا تو یہ سب دنیا میں فتنہ و فساد کا بازار گرم کرتے ۔ یہ اللہ تعالٰ کی حکمت ہے کہ کسی کو رزق میں وسعت دیتا ہے اور کسی کا روک لیتا ہے تاکہ دنیا میں امن وامان قائم رہ سکے۔
فرمایا انہوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ چیز کو اپنے آپ پر حرام قرار دے لیا ” افترء علی اللہ “ اللہ تعالیٰ پر افتراء کرتے ہوئے۔ بچوں کی بھینٹ کو خدا تعالیٰ کی خوشنود پر محمول کرتے تھے جو کہ اللہ پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے ، فرمایا قد لو ا یہ گمراہ ہوگئے وما کانو ا مھتدین اور یہ ہرگز ہدایت پر نہیں ہیں بلکہ گمراہی میں پھنسے ہوئے ہیں آگے چل کر ان کو ان کی کارکردگی کا ضرور بدلہ مل جائیگا۔
Ayahs 6:141–142گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اس مشرکانہ رسم کا رد فرمایا جس کی رو سے مشرک لوگ اپنے جانوروں اور کھیتی کی پیداوار میں غیر اللہ کی نیاز نکالتے تھے اس کے ساتھ ساتھ قتل اولاد کی قباحت کا بھی ذکر کیا۔ فرمایا مشرکانہ افعال کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے منسوب کرنا اللہ پر افتراء باندھنا ہے۔ بعض لوگ اللہ کی پیدا کردہ جانوروں کو خد اپنے آپ پر حرام ٹھہرالیتے ہیں جو کہ اللہ تعالیٰ کی ناشکری کرنے کے مترادف ہے ، اس سے بچنا چاہئے اور اللہ کی عطا کردہ نعمتوں سے فائدہ اٹھانا چاہئے آج کے درس میں بھی اللہ تعالیٰ نے اناج ، پھل اور جانوروں جیسی نعمت کو کھانے کی ترغیب دی ہے۔ البتہ فضول خرچی سے نع فرمایا ہے۔ اور ساتھ ساتھ شیطان کی پیروی سے بھی منع فرمایا ہے۔
ارشاد ہوتا ہے۔ وھو الذی خدا کی ذات وہ رحیم ، کریم اور مہربان ہے انشا جس نے پیدا کیے ہیں۔ جنت باغات ، اور باغات کی آگے دو قسمیں بیان فرمائیں معروشت جن کو چھپروں پر چڑھایا جاتا ہے۔ وغیر معروشت اور جن کو چھپروں پر نہیں چڑھایا جاتا ۔ بعض پھل تو بڑے بڑے درختوں پر لگتے ہیں البتہ بعض پھل اور سبزیاں بیلوں میں پید کی ہوتی ہیں۔ ان بیلوں میں سے کچھ ایسی ہیں جنہیں معروشات کہتے ہیں یعنی انہیں زمین سے اوپر اٹھا کر رکھنا پڑتا ہے۔ ایسی بیلیں لکڑی کی ٹٹیاں بنا کر ان پر چڑھا دی جاتی ہیں یا دیواروں کے ساتھ لٹکا دی جاتی ہیں یا پھر درختوں پر چڑھا دی جاتی ہیں۔ مثلا انگور کی بیل کو لازما اوپر اٹھا کر رکھنا پڑتا ہے ورنہ وہ بیل پھل نہیں دیتی۔ سبزیوں میں توری کی بیل ہے ۔ جڑی بوٹیوں میں گلو ہے۔ غیر معروشات بیلوں میں ہمارے ہاں خربوزہ اور تربوز کی بیلیں ہیں یا ٹنڈا اور کدو کی بیلیں ہیں جو زمین پر پڑے پڑے عمدہ پھل دے جاتی ہیں۔ ان کو اوپر چڑھانے کی ضرورت ہیں ہوتی بہر حال یہاں معروشات اور غیر معروشات کا ذکر فرمایا کہ اللہ نے اپنی کمال قدرت کے ساتھ انہیں پیدا کیا ہے۔
اس کے علاوہ فرمایا والنخل اللہ نے کھجور کو پیدا فرمایا ہے اس کے گچھے بڑے بڑے درختوں پر لگتے ہیں اور پکنے پر اتار لیے جاتے ہیں۔ انسانی استعمال کے لیے نہایت مفید چیز ہے۔ اسے تفریح طبع کے لیے بطور پھل بھی استعمال کیا جاتا ہے۔ اور بعض ریگستانی علاقوں میں اسے غذا کے طور پر بھی کھایا جا ا ہے اس کی بیشمار قسمیں ہیں جو چھوٹے یا بڑے درختوں پر پیدا ہوتی ہیں۔ صحیحین اور دیگر کتب حدیث میں یہ روایت موجود ہے کہ حضور علیہ اسلام نے فرمایا کھجور کا درخت مومن آدمی کی مانند ہے ۔ جس طرح ایک مومن آدم نور ایمان اور نور توحید سے لبریز رہتا ہے۔ اس کے اخلاق و اعمال بہترین ہوتے ہیں اور وہ ہمیشہ ترو تازہ رہتا ہے اسی طرح کھجور کا درخت بھی نہایت مفید ہے اس میں نہایت ہی کار آمد پھل آتا ہے جو ظاہری اور باطنی حسن سے مالا مال ہوتا ہے اور درخت بارہ مہینے ہرا بھرا رہتا ہے۔ یہ بڑا ہی بابرکت درخت ہے۔ فرمایا والزرع اللہ نے مختلف قسم کی کھیتیاں بھی پیدا کی ہیں۔ جن کے ذریعے مختلف الانواع غلہ پیدا ہوتا ہے۔ جو انسان کی خوراک کا کام دیتا ہے۔ اناج کی ہر قسم کا اپنا رنگ ، ذائقہ اور غذائیت ہوتی ہے۔ اللہ نے انسان کی غذا کے لیے کئی قسم کا غلہ پیدا کیا تاکہ ایک ہی چیز کو ہمیشہ استعمال کر کے تنگ نہ آجائے بلکہ حسب خواہش کبھی گندم ، کبھی مکئی ، کبھی باجرہ ، کبھی چاول اور دوسری اجناس استعمال کرسکے۔ یہ اللہ کا بہت بڑا انعام ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ اللہ نے کھیتیاں پیدا فرمائی مختلفا اکلہ جن کے پھل مختلف اقسام کے ہیں۔ اس کے علاوہ والزیتون اللہ نے زیتون پیدا کیا ۔ یہ بھی بڑا مفید درخت ہے۔ یہ پورا درخت ، اس کے پتے ، چھال اور پھل نہایت کا ر آمد ہیں اس کا تیل ساری دنیا میں گھی کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کلو الزیت وادھنو ا بہ فانہ من شجرۃ مبارکۃ زیتون کا تیل کھائو اور اس کی مالش کرو کہ اللہ نے اسے بڑے بابرکت درخت سے پیدا فرمایا ہے۔ اس کا پھل ویسے بھی کھایاجاتا ہے اور اس کا اچار بھی بناتے ہیں ۔ اس کی ٹہنیاں تک دوائوں میں استعمال ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ فرمایا والرمان اللہ نے انار بھی پیدا فرمایا ہے۔ اس کے پھل کے مختلف ذائقے ہوتے ہیں۔ کوئی میٹھا ، کوئی ترش اور کوئی کھٹا میٹھا ۔ اس کے بعض اقسام کے دانے چھوٹے ہوتے ہیں اور بعض کے موٹے۔ اس کا سارا ہی پھل کار آمد ہے۔ میٹھا پھل فوراً ہی کھالیا جاتا ہے یا اس کا شربت بنا کر پیتے ہیں۔ ترش پھل کا انار دانہ بنالیا جاتا ہے۔ جو مصالحہ میں استعمال ہوتا ہے۔ بہر حال یہ پھل انسانی جسم کی نشوو نما کے لیے مفید ہے۔
فرمایا یہ تمام پھل متشا بھا وغیر متشابہ ایک دوسرے کے مشابہ اور غیر مشابہ ہیں یعنی بعض ایک دوسرے ملتے ہیں اور بعض نہیں ملتے ۔ پھر یہ بھی ہے کہ بعض ظاہری طور پر آپس میں ملتے جلتے ہیں مگر معنوی طور پر نہیں ملتے بعض رنگ میں ملتے ہیں اور بعض ذائقہ میں۔ بعض کی ظاہری شکل ایک جیسی ہوتی ہے۔ مگر ذائقہ مختلف بہر ھال اللہ تعالیٰ نے یہ تمام پھل انسان کے فائدے کے لیے پیدا کیے ہیں ۔ اسی لیے فرمایا کلو ا من ثمرہ اذا اثمر جب یہ درخت اور پودے پھل دینے لگیں تو ان کے پھل کھائو اور ان کو خود بخود اپنے آپ پر حرام نہ قرار دے لو۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہارے لیے ایسی ایسی نعمتیں پیدا کی ہیں۔ ان کے کھانے سیے انکار کرکے اللہ کی ناشکری نہ کرو۔ دوسری بات یہ ہے کہ انہیں اللہ کے نام پر دو ، غیر اللہ کی نیاز کے لیے انہیں استعمال نہ کرو ، کیونکہ یہ بھی حد درجے کی ناشکری اور شرک ہوگا۔
باغات اور پھلوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک چیز کا حکم دیا ہے اور ایک چیز سے منع فرمکایا ہے۔ کرنے والی بات یہ ہے واتو حقہ یوم حصارہ فصل یا پھل کٹنے کے دن اس کا حق ادا کرو۔ اس حق کی تشریح میں مفسرین کرام کے دو مختلف اقوال پائے جاتے ہیں۔ یعنی بعض مفسرین اس حق سے صرف صدقہ حیرات مراد لیتے ہیں جب کہ بعض دوسرے اسے ذکوۃ اور عشر پر محمول کرتے ہیں۔ جو حضرات اسے صرف صدقہ پر محمول کرتے ہیں ان کی دلیل یہ ہے کہ زکوٰۃ و عشر کی تفصیلات مدنی زندگی میں نازل ہوئی جب کہ یہ سورة مکی ہے ، لہٰذا اس حق سے ذکوٰۃ و عشر مراد نہی نہیں لیا جاسکتا۔ صدقہ خیرات کرنے کا حکم بھی قرآن پاک میں مذکور ہے۔ فی اموالھم حق معلوم للسائل والمحروم (معارج) یعنی تمہارے اموال میں سئل اور محتاجوں کا حق ہے۔ یہ حق کبھی واجب ہوتا ہے اور کبھی سنت یا نفل ۔ بہر حال اللہ نے اہل ثروت کے مال میں غریبوں اور محتاجوں کا حق رکھا ہے۔ اسی لیے فرمایا جب کھیتی یا پھل پک جائین تو اس کا حق ادا کرو۔ یعنی جب فصل کاٹی جائے یا پھل درختوں سے اتار جائے تو اسے گھر لاتے وقت مسکینوں ، یتیموں اور بیوائوں کو بھی کچھ نہ کچھ حصہ ادا کرو۔ اما م ابن کثیر (رح) اور امام ابوبکر ابن عربی (رح) فرماتے ہیں کہ زکوۃ مکی زندگی میں ہی فرض ہوگئی تھی ، تاہم اس کی مقدار مدینے میں جا کر مقرر ہوئی لہٰذا مکی دور میں بھی بطور زکوٰۃ کچھ نہ کچھ ادا کرنا پڑتا تھا اس کی دلیل سورة مزمل ک آیت کریمہ واقیموالصلۃ واتوالذکوۃُ “ جس میں نماز کے ساتھ ذکوٰۃ کا بھی حکم ہے جب کہ یہ سورة مکی زندگی کے بالکل ابتدائی دور میں نازل ہوئی تھی۔ چناچہ بعض مفسرین اور امام ابو حنفیہ (رح) فرماتیھ ہیں۔ کہ یہاں پر واقتو احقہ سے مراد زمین کی پیداوار سے عشر کی ادائیگی ہے ۔ جس کی تشریح 2 میں مدینہ منورہ میں مکمل ہوئی ہے اور جس کے مطابق سونے چاندی میں سے چالیسواں حصہ ذکوۃ مقرر ہوئی۔ موییوں میں سے پانچ اونٹوں کے بدلے ایک بکری ، ہر تیس گائے بھینس میں سے ایک اور چالیس بھیڑ بکریوں میں سے ایک بکری یا بھیڑ زکوٰۃ مقرر ہوئی ہے۔ زمین کی پیداوار پر عشر اور نذصف عشر کا اطلاق ہوا ۔ چناچہ جس زمین کی آباپشی محنت کے ذریعے یعنی نہر ، کنویں یا پانی باہر سے لاکر کی جاتی ہے اس زمین کی پیداوار میں سے بیسواں حصہ اور جو زمین بارانی ہے اس کی پیداوار میں سے دسواں حصہ (عشر) بطور زکوٰۃ مقرر ہوا البتہ زمینی پیداوار کے نصاب کے متعلق آئمہ کرام میں کچھ اختلافات پایا جاتا ہے۔ عام فقہائے کرام پیداوار کا نصاب پانچ وسق کے برابر قرار دیتے ہیں یعنی اس سے کم پیداوار پر عشر عائد نہیں ہوتا ، البتہ امام ابو حنفیہ (رح) کے نزدیک زمینی پیداوار کا کوئی نصاب مقرر نہیں لہٰذا زمینی پیداوار کی ہر قلیل یا کثیر مقدار پر عشر واجب الادا ہوتا ہے جو کہ دسواں یا بیسواں حصہ ہے۔ امام شو کانی (رح) فرماتے ہیں کہ امام صاحب کا فتویٰ غربا و مساکین کے حق میں زیادہ بہتر ہے کیونکہ اس میں گریب پروری کا زیادہ خیال رکھا گیا ہے۔ اور یہ فتویٰ سورة بقرۃ میں موجود احکام الٰہی کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھتا ہے جن میں فرمایا گیا ہے کہ یا ایھا الذین امنوا الفقوا من طیبت ما کسبتم ومما اخرجنا لکم من الرض اے اہل ایمان اپنی پاکیزہ کمائی میں سے بھی اللہ کے راستے میں خرچ کرو اور اس چیز میں سے بھی جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے پیدا کی ہے ۔ غرضیکہ زمین کی پیداوار سے اتفاق فی سبیل اللہ کے لیے کوئی تحدید (LIMIT) نہیں ہے لہٰذا اس آیت کریمہ میں بھی حکم ہے کہ فصل کٹتے وقت یا پھل اتر تے وقت اس کا حق ادا کرو۔
دوسری چیز جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے ، وہ ہے ولا تسرقوا یعنی فضول خرچی نہ کرو۔ مال کو بلا ضرورت یا ضرورت سے زاید خرچ نہ کرو اگر کوئی کام تھوڑے خرچہ سے پورا ہو سکتا ہے تو اس کے لئے زیادہ خرچ نہ کرو۔ یہی اسراف ہے۔ سورة اعراف میں موجود ہے ” کلو واشرلوا ولا تسرفوا “ کھائو پیو مگر فضول خرچی نہ کرو ۔ کیونکہ انہ لا یحب المسرفین اللہ تعالٰ فضول خرچ کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ہر ناجائز کام مثلاً (علیہ السلام) ٰٓفحاشی اور رسوم باطلہ پر خرچ کرنا اسراف و تبذیر میں آئے گا۔ روپیہ پیسہ ہو یا اناج اور پھل ، ضرورت سے زائد استعمال کرنا فضول خرچی کے زمرہ میں آئے گا۔ اسراف و تبزیر ہماری سوسائٹی کا روگ بن چکا ہے۔ کھانے کے علاوہ مکان کی شان و شوکت اور اس میں سامان بھرنے کی دوڑ شادی اور غمی کی رسومات اور جھوٹی آن کی آڑ میں کس قدر فضول خرچی کی جاتی ہے۔ اللہ نے فرمایا ” ان المبسذرین کانوا اخوان الشیطین “ (بنی اسرائیل) یعنی فضول کرچ شیطانکے بھائی ہیں۔ یہ لوگ انسانی بھلائی کے کام کرنے کی بجائے فضولیات میں مال اڑاتے ہیں اور اس طرح شیطان کی خوشنودی حاصل کرتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ اسکی عطا کردہ نعمتیں کھائو پیو مگر فضول خرچی نہ کرو۔ جب کھیتی پک جائے اور درختوں کا پھل اتار لو تو اس میں غریبوں اور مسکینوں کا حق ادا کرو۔
کھیتی اور پھلوں کا زکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بعض جانوروں کے فوائد بھی ذکر کیے ہیں فرمایا ومن الانعام حمو لۃ جانوروں میں سے بعض ایسے ہیں جو باربرداری کا کام کرتے ہیں ان میں اونٹ ، بیل ، خچر گدھے وغیرہ ہیں جو انسان کے لیے بڑے مفید کام انجام دیتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں انسان کا خادم بنادیا ہے۔ فرمایا بوجھ اٹھانے والے جانوروں کے علاوہ وفرشاً بعض جانور ایسے ہیں جو زمین سے لگے ہوئے ہیں یعنی پست قد ہیں۔ ان میں بھیڑ بکریاں اور دیگر چھوٹے جانور ہیں۔ یہ بھی انسان کے لیے بڑے مفید ہیں۔ امام ابوبکر حصاص (رح) فرماتے ہیں کہ ان کو فرشاً اس لیے کہا گیا ہے کہ ان کے چمڑے اور بالوں سے مصلیٰ وغیرہ بنا کر زمین پر بچھایا جاتا ہے۔ بالوں سے کپڑا بنا کر کمبل کے طور پر لیا جاتا ہے اور پہننے کے کام بھی آتا ہے۔ کھال کو رنگ کرنے کے بعد فرش پر بچھایا جاتا ہے اس کے علاوہ وہ چونکہ یہ جانور بوقت زبح زمین پر لٹا دیئے جاتے ہیں ، لہٰذا فرشاً کی یہ بھی تو جیہہ ہو سکتی ہے۔ دنیا میں ہر روز لاکھوں ، کروڑوں بھیڑ بکریاں زبح کردی جاتی ہیں جو کہ انسان کے لیے نہایت مقوی غذا کا کام دیتی ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔
فرمایا کلو مما رزقکم اللہ جو رزق تمہیں اللہ نے دیا ہے۔ اسے کھائو۔ یہ رزق خواہ کھیتی کی شکل میں ہو یا پھلوں کی صورت میں یا جانوروں کی شکل میں اسے استعمال کرو۔ کیونکہ یہ چیزیں اللہ نے تمہارے لیے پیدا فرمائی ہیں۔ البتہ ان کے کھانے میں اور دیگر ضروریات میں فضول خرچی نہ کرو۔
فرمایا ان انعامات کے جائز استعمال پر کوئی پابندی نہیں ، البتہ ولا تتبعوا خطوت الشیطن شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ امام شا ولی اللہ (رح) کی اصطلاح میں شیطان کے نقش قدم پر چلنا خدا تعالیٰ کے قانون کی پابندی کو چھوڑ دینا ہے۔ جو شخص قانون خدا وندی پر عمل کرنے کی بجائے اپنی خواہش کی پیروی کرتا ہے ، رسم و رواج کے پیچھے چلتا ہے وہ حقیقت میں شیطان کا اتباع کرتا ہے ترقی کی منازل تک پہنچنے کے لیے قانون کی پابندی لامزی ہے۔ جو شخص اس کی پروا نہیں کرتا وہ خطیرۃ القدس اور جنت میں نہیں پہنچ سکتا ۔ اس ضمن میں حلت و حرمت کے قانون کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اللہ نے فرمایا حلال اور پاکیزہ چیزیں کھائو اور حرا کے قریب نہ جائو۔ حرام خوری شیطانی کام ہے۔ وہ تمہیں ہر وقت بہکا تا رہتا ہے اور ناجائز امور کی ترغیب دیتا ہے۔ یا درکھو ! اس کی بات نہ ماننا کیونکہ انہ لکم عد و مبین وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ، وہ تمہیں غلط مشورہ ہی دیگا اور تمہای عاقبت کو خراب کر نیکی کوشش کریگا۔ وہ انسان کو غرغرہ کی حالت تک بہکانے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ تمہیں ایمان سے دور کر کے ضلالت و گمراہی کے گڑھے میں دھکیلنا چاہتا ہے ، اس سے ہمیشہ بچ کر رہو کیونکہ وہ تمہارا صریح دشمن ہے۔ تمہیں ورغلا نے کے لیے اس نے قسم اٹھا رکھی ہے۔ لہٰذا تمہاراکام ہے کہ اس سے بچ نکلو۔
Ayahs 6:143–144گذشتہ درو میں مختلف اقسام ِ شرک کی تردید بیان ہوچکی ہے بعض لوگ اللہ کے علاوہ دوسروں کی نذر و نیاز بھی نکالتے تھے۔ بعض ایسی رسومات باطلہ ایجاد کر رکھی تھیں جن کی رو سے وہ بعض حلا ل اور طیب چیزوں کو از خود اپنے اوپر حرام قرار دے دیتے تھے ، اللہ ان کا بھی رد فرمایا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کے سلسلے میں پھلوں اور کھیتی کا تذکرہ فرمایا اور حکم دیا کہ ان کو استعمال کرو اور میری ان نعمتوں کا شکر ادا کرو۔ اللہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ جب کھیتی اور پھل پک جائے تو اس میں سے اس کا حق ادا کرو یعنی غرباء اور مساکین کو بھی کچھ دے دیا کرو۔ اور اسراف نہ کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ مسرفین کو ہرگز پسند نہیں فرماتا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مویشیوں کی بعض اقسام کا ذکر کیا ان میں س کچھ بوجھ اٹھانے والے ہیں اور کچھ زمین سے لگ کر چلتے ہیں یعنی یا تو ان کی پشتیں ہر وقت زمین کے ساتھ لگی رہتی ہیں۔ یا وہ زمین کے قریب پست قد ہوتے ہیں اس لیے ان کو فرشاً کہا گیا ہے ۔ ا س کی توجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ان کی کھالوں کو فروش پر بچھایا جاتا ہے۔ بہر حال فرمایا کہ اللہ کی دی ہوئی روزی میں سے کھائو اور شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو یعنی غیر اللہ کی نیاز نہ دو اور نہ انہیں معبودان باطلہ کے نام سے منسوب کرو۔
جن آٹھ مویشیوں کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ان آیات میں ان کی تشریح بیا کی گئی ہے ۔ ارشاد ہے ثمنیۃ ازواج یہ آٹھ جوڑے ہیں جن میں سے بعض بار برداری کا کام دیتے ہیں ار بعض زمین سے لگ کر چلتے ہیں اللہ نے فرمایا کہ یہ تم پر خاص انعام ہے۔ انہیں صحیح طریقے پر استعمال کرو اور اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائو۔ نہ غیر اللہ کی نیاز دو اور نہ بیہودہ اور فضول رسمیں ادا کرو۔
گذشتہ درس میں حمولۃ اور فرشا کے دو الفاظ آئے تھے یعنی بعض جانور بار برداری کے کام آتے ہیں اور بعض پست قد ہیں جو اگرچہ باربرداری کے کام تو نہیں آتے مگر ان کا گوشت بہر حال انسانی استعمال میں آتا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ آج کی آیت میں ثمنیۃ زاواجِ انہی جانوروں کی تفصیل ہے یعنی جن دو قسم کے جانوروں کا ذکر ہوا ہے ان میں یہ آٹھ جانور شامل ہیں۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ لفظ ” آٹھ جوڑے “ کلوا کا مفعول بھی ہو سکتے ہیں۔ گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان گزر چکا ہے ” کلو امما رزقکم اللہ یعنی جو رزق اللہ نے تمہیں دیا ہے اسے کھائو ۔ تو فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جس رزق کے کھانے کا حکم دیا ہے وہ یہی آٹھ جانور ہیں بعض مفسرین یہ فرماتے ہیں کہ ثمنیۃ ازواج سے پہلے انشاوا اوجد کا فعل مخدوف ماننا پڑے گا۔ اور پورامسیٰ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے فائدے کے لیے بنائے ہیں اور ایجاد کیے ہیں ” آٹھ جوڑے “ یہ سب ترکیبیں درست ہیں اور صحیح معنی دیتی ہیں۔
اب ان آٹھ جوڑوں کی تفصیل یہ ہے من الضان اثنین بھیڑوں میں سے دو ، نر بھی اور مادہ بھی ، یعنی بھیڑ بھی اور چھترا بھی۔ ومن المعز اثنین اور بکریوں میں سے دو یعنی بکرا اور بکری دونوں حلا ل ہیں۔ دونوں اقسام میں سے ہر نر اور مادہ کو حلال قرار دے کر اللہ نے مشرکین کے بعض باطل عقائد کا رد فرمایا ہے۔ مشرکین بعض جانوروں کو بحیرہ ، سائبہ وصیلہ اور حام کے نام پر چھوڑ دیتے تھے اور انہیں اپنے آپ پر حرام قرار دے لیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی ہے۔ مشرکین کا ایک اور باطل عقیدہ یہ بھی تھا کہ ان مادہ جانوروں کے پیٹ سے اگر زندہ بچہ پید ہوتا تو کہتے کہ یہ مردوں کے لیے حلال ہے اور عورتوں کے لیے حرام ہے اور اگر مردہ بچہ پیدا ہوتا تو کہتے کہ یہ سب کے لیے حلال ہے۔ اللہ نے ایسے تمام غلط عقائد کی تردید فرمائی اور واضح طور پر بتلا دیا کہ بھیڑ اور بکری کا ہر نر اور مادہ بلا تشخیص سب کے لیے حلال ہے۔ انہیں کسی خود ساختہ شریعت کے تحت حرام نہیں قرار دیا جاسکتا ۔ زمانہ جاہلیت میں بعض کا دودھ نہیں پیتے تھے ، تو ان تمام عقائد و باطلہ کا اللہ نے رد فرمادیا ہے ۔ بعض ان نر جانوروں کی سواری اور گوشت خود پر حرام کرلیتے تھے جن کی جفتی سے مقررہ تعداد میں بچے پیدا ہوجاتے تے مگر اللہ نے فرمایا ، ان کی کچھ حقیقت نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰنے انہیں سب کے لیے حلال قراردیا ہے۔ ان پر سواری بھی کرسکتے ہو اور ان کا گوشت بھی کھا سکتے ہو ان کے بال بھی استعمال میں لائے جاسکتے ہیں اور دباغت کے بعد کھال بھی کام میں لائی جاسکتی ہے۔
قاضی ثناء اللہ (رح) پانی پتی تفسیر مظہری میں رقمطراز ہیں کہ مشرکین سے ایک شخص مالک ابن عوف مجشمی حضور ﷺ سے ملاقاتی ہوا اور عرض کیا کہ معلوم ہوا ہے کہ آپ ہمارے بزرگوں کی طرف سے مروجہ غیر اللہ کی نیاز کی مخالفت کرتے ہیں اور اسے حرام قرار دیتے ہیں حالانکہ یہ طریقہ ہمارے آبائو اجداد سے چلا آرہا ہے۔ اس پر نبی کریم ﷺ نے اس شخص سے جوابی سوال کیا کہ تم جانوروں کو از خود اپنے آپ حرام قرار دیتے ہو اور کہتے ہو کہ یہ فلاں کی نذر ہے ، تو بتلائو کہ یہ حرمت نر کی وجہ سے ہے یا مادہ کی وجہ سے ۔ اگر نر ہونے کی بنا پر انہیں حرام قرار دیتے ہو تو سارے کے سارے نر حرام ہونے چاہئیں۔ پھر تم نے بعض کو حلال اور بعض کو حرام کیسے بنالیا۔ اور اگر ان کی حرمت مادہ ہونے کی وجہ سے ہے تو پھر سارے مادہ جانور حرام ہونے چاہئیں۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ اگر تم نے یہ حرمت رحم یعنی بچہدانی کی وجہ سے عائد کی ہے تو پھر نر اور مادہ سب کے سب حرام ہیں آکر تم نے حلت و حرمت کا کون سا اصول اپنایا ہے اور اس کے لیے تمہارے پاس کیا دلیل ہے اس شخص سے کوئی جواب نہ بن آیا تو کہنے لگا ، حضور ! میرے پاس تو اس کا کوئی جواب نہیں ، اب آپ بولیں ہم سنتے ہیں۔ قاضی صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ اسلام کے مالک بن عوف کے ساتھ تکلم کو ان آیات کی صورت میں نازل فرمادیا۔
حضرت مولانا امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی معرکۃ الا کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں کہ دراصل کسی چیز پر حلت و حرمت کا حکم لگانا اللہ تعالیٰ کا منصب ہے اور اس معاملہ میں اس کا کوئی شریک نہیں۔ تحلیل و تحریم کائنات میں تکوین نافذ کا نام ہے کہ لاں کام کرو۔ اگر نہیں کرو گے تو جوابدہ ہو گے۔ اور فلان کام نہ کرو ، اگر کرو گے تو مجرم ٹھہروگے ۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ یہ صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور فرض ، واجب ، سنت اور مستحب وغیر تمام امور کا حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے عرش عظیم سے دیا ہے۔ جب کسی آیت کریمہ یا حدیث نبوی میں حلت و حرمت کی نسبت بنی کی طرف کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ چیز قطعی طور پر حلالیا حرام ہے اور اس کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے اور نبی نے اس کو امت تک پہنچایا ہے بعض معاملات میں مجتہدین بھی حلت و حرمت کا حکم لگاتے ہیں مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ انی طرف سے کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہرا رہے ہیں بلکہ وہ تو صرف اس امر کی وضاحت کرتے ہیں کہ قرآن پاک کی فلاں آیت یا حضور ﷺ کی فلاح حدیث سے حلت و حرمت کا اظہار ہوتا ہے۔
اسی طرح نبی بھی اپنی طرف سے ایسا کوئی حکم نہیں لگاتا بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حلال اور حرا کردہ اشیاء کی وضاحت کرتا ہے۔ اللہ کے علاوہ اگر کوئی دوسرا شخص اپنی طرف سے حلت و حرمت کا حکم لگائے تو وہ مشرک بن جائے گا کیونکہ اس نے خدائی اختیارات کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کی ہے۔ غرضیکہ مشرکین کو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ تمہاری طرف سے بعض چیزوں کو حلال اور بعض کو حرامقرار دے لیناشرک ہے۔ یہود و نصارٰی کے احبار اور رہبان اپنی طرف سے جو لت و حرمت کا فتویٰ دیتے تھے ، ان کا یہ فعل خدائی معاملات میں مداخلت کے مترادف تھا اور شرک تھا۔ حلت و حرمت کا اختیار اللہ کے سوا کسی کو نہیں ہے۔
بہر حال بھیڑوں اور بکریوں کی حلت کا قانون بتانے کے بعد اللہ نے فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ ان سے دریافت کریںء الذکرین حرم ام الانثین کیا اللہ تعالیٰ نے دونوں نر (بکرا اور چھترا) حرا کیے ہیں یا دونوں مادہ (بکری اور بھیڑ ) اما ا شتملت علیہ ارحام الانثین یا جس پر مادہ کا رحم مشتمل ہے یعنی پیٹ میں نر مادہ جو کچھ بھی ہے وہ حرام ہے۔ اس کی وضاحت کرو۔
فرمایا۔ نبی ونی بعلم مجھے علم کے ساتھ بتلائو یعنی کوئی علمی دلیل پیش کرو ان کنتم صدقین اگر تم حلت و حرمت کے دعوے میں سچے ہو تو بتائو تم نے ازخود بعض جانوروں کو اپنے اوپر کیسے حرام قرار دیے لیا ہے۔
آٹھ میں سے دو چھوٹے جانوروں (بھیڑ بکری) کے تذکرہ کے بعد اللہ نے باقی دو بڑے جانوروں کا ذکر بھی اسی طرح کیا ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے ان مویشیوں کو بھی تمہارے فائدے کے لیے پیدا کیا ہے اور تمہارے لیے حلا قرار دیا ہے۔ وہ ہیں ومن البل اثنین اونٹوں میں سے بھی دو ہیں یعنی اونٹ اور اونٹنی ومن البقر اثنین اور گائے بھینس میں سے بھی دو یعنی بیل اور گائے یا بھینسا اور بھینس یہاں پر بقرہ گائے اور بھینس دونوں پر محمول کیا گیا ہے کیونکہ دونوں دراصل ایک ہی نسل سے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ گائے ہر قسم کی آب و ہوا میں پرورش پاسکتی ہے جب کہ بھینس کے لیے گرم مرطوبآب و ہوا کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے بھینس صرف میدانی گرم مرطوب علاقوں میں پائی جاتی ہے جب کہ گائے کی نسل دنیا کے ہر خطے میں موجود ہے۔ بہر حال گائے اور بھینس کے لیے قربانی میں بھی ایک ہی حکم ہے اور اس کا دودھ ، گھی ، گوشت اور چمڑا بھی یکساں طور پر قابل استعمال ہے۔ تو اللہ نے فرمایا قل ! اے پیغمبر آپ ان سے دریافت کریں الزکرین حرم ام النثین کیا اللہ نے اس نسل یعنی اونٹ اور گائے بھینس کے دونوں نر حرام کیے ہیں یا دونوں مادہ اما اشتملت علیہ ارحام الانثین یا وہ چیز جس پر مادہ کا رحم مشتمل ہے۔ یعنی مادہ کے پیٹ میں جو بھی نر یا مادہ ہے ، وہ حرام ہے۔ آکر تمہارے پاس حلت و حرمت کی کیا دلیل ہے اگر مادہ زندہ پیدا ہو تو مردوں کے لیے حلال اور عورتوں کے لیے حرام ہوگا اور مردہ پیدا ہو تو سب کے لیے حلال ہوگا۔
فرمایا اگر تمہارے پاس حلت و حرمت کی کوئی عقلی دلیل موجود نہیں ہے توا س کے لیے نقلی دلیل لائو۔ نقلی دلیل کا ماخذ وحی الٰہی ہوتا ہے جو نبی کی وساطت سے حاصل ہوتا ہے مگر نبوت پر تمہارا ایمان ہی نہیں ہے ۔ جیسا کہ گذشتہ آیات میں گزر چکا ہے۔ کہ مشرکین نبوت کا سرے سے انکار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ خدا تعالیٰ نے کسی انسان کو نبی نہیں بنایا ۔ اب اگر یہ دلیل بھی تمہارے پاس موجود نہیں ہے تو کس طرح ثابت کرو گے کہ حلت و حرمت کا تمہاراقانون برحق ہے۔ دلیل کے بغیر تو یہی سمجھا جائے گا کہ تمہارے حلت و حرمت کے قانون کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور یہ محض آباواجداد کی رسومات پر مبنی ہے۔ البتہ ایک تیسری صورت یہ رہ جاتی ہے ام کنتم شھد ا ء اذ وصکم اللہ بھذا کیا تم خود وہاں موجود تھے جب اللہ تعالیٰ نے حلت و حرمت کا یہ فیصلہ کیا تھا ۔ اب اس بات کا دعویٰ بھی کون کرسکتا ہے ۔ کہ اس کی موجودگی میں اللہ تعالیٰ نے کوئی حکم دیا تھا۔ تو معلوم ہوا کہ تمہارے تمام دعوے بلادلیل میں ، لہٰذا ناقابل قبول ہیں۔
آگے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے جھوٹ کی ایک دفعہ پھر تردید فرمائی ہے فمن اظلم ممن افتر ی علی اللہ کذبا اس سے بڑا ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھتا ہے یعنی اس کی طرف غلط بات منسوب کرتا ہے اللہ نے تو ایسا کوئی حکم جاری نہیں کیا جس پر یہ مشرکین عمل پیرا ہیں ایسے رسم و رواج کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا تو بڑا ظلم ہے اور اس سے بڑھ کر یہ بھی کہ مشرکین کہتے ہیں کہ ہمارے ان بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام سے اللہ خوش ہوتا ہے اللہ تعالیٰ پر شرکیہ افعال کی خوشنودی کا الزام بھی لگاتے تھے۔ العیاذ باللہ۔ فرمایا یہ اللہ پر بہتان ہے۔ اس نے کوئی ایسا حکم نہیں دیا۔ لہٰذا للہ کی عطا کردہ نعمتوں کو استعمال کرو اور اس کا شکریہ ادا کرو۔ فرمایا اللہ پر اس قسم کا بہتان لگا نا اس وجہ سے ہے لضل الناس بگیر علم تاکہ لوگوں کو بغیر علم کے گمراہ کیا جاسکے۔ نہ عقلی دلیل ہے اور نہ نقلی دلیل ہے تو پھر اسے گمراہی کے سوا کیا نام دیا جاسکتا ہے ؟ فرمایا ان اللہ لایھدی القوم الظلیمن اللہ تعالیٰ بہتان طرازی کرنے والے ظالموں کو کبھی ہدایت نصیب نہیں کرتا ۔ اللہ کا قانون یہ ہے کہ ہدایت اس وقت نصیب ہوگی جب ظلم کو تر ک کر کے ہدایت کا طالب ہوگا وگرنہ اللہ تعالیٰ کسی کو زبردستی ہدایت نہیں دیتا ۔ دوسرے مقام پر آتا ہے ” ان اللہ لا یھدی القوم الکفرین “ اللہ تعالیٰ کفر کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیتا ۔ ایسے لوگ کفر کی حالت میں ہی مریں گے اور ہمیشہ کے لیے نامراد ہو گے ، اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے ” نولہ ماتولی “ جدھر کوئی جانا چاہتیا ہے ہم ادھر ہی توفیق دے دیتے ہیں کسی کو ایمان قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا جاتا ۔ بلکہ ایمان تو اس کو نصیب ہوتا ہے جس میں اس کے لیے تڑپ ہو ۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اس کا اخیر جہنم ہے وہ بچ نہیں سکتا۔