6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 6:80–82

وَ حَآجَّهٗ قَوْمُهٗ١ؕ قَالَ اَتُحَآجُّوْٓنِّیْ فِی اللّٰهِ وَ قَدْ هَدٰىنِ١ؕ وَ لَاۤ اَخَافُ مَا تُشْرِكُوْنَ بِهٖۤ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ رَبِّیْ شَیْئًا١ؕ وَسِعَ رَبِّیْ كُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا١ؕ اَفَلَا تَتَذَكَّرُوْنَ Open ayah 6:80 in the Quran reader

اور جھگڑا کیا ان (ابراہیم علیہ السلام) سے ان کی قوم نے ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا ‘ کیا تم جھگڑا کرتے ہو میرے ساتھ اللہ کے بارے میں وار بیشک اس (اللہ) نے مجھے ہدایت دی ہے اور میں نہیں خوف کھاتا ان چیزوں سے جن کو تم اس کے ساتھ شریک بناتے ہو ‘ مگر یہ کہ میرا رب جو چاہے (وہ ہی ہوتا ہے) میرے رب کا علم ہر چیز پر وسیع ہے ‘ کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے

وَ كَیْفَ اَخَافُ مَاۤ اَشْرَكْتُمْ وَ لَا تَخَافُوْنَ اَنَّكُمْ اَشْرَكْتُمْ بِاللّٰهِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِهٖ عَلَیْكُمْ سُلْطٰنًا١ؕ فَاَیُّ الْفَرِیْقَیْنِ اَحَقُّ بِالْاَمْنِ١ۚ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَۘ Open ayah 6:81 in the Quran reader

اور میں کیسے خوف کھائوں گا ان چیزوں سے جن کو تم شریک بناتے ہو اور تم خوف نہیں کھاتے کہ تم شریک بناتے ہو اللہ تعالیٰ کے ساتھ ان چیزوں کو جن کے بارے میں اس نے تمہارے اوپر کوئی دلیل نازل نہیں کی پس دونوں فریقوں میں کون زیادہ مستحق ہے امن کا ‘ اگر تم کچھ سمجھ رکھتے ہو

اَلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ لَمْ یَلْبِسُوْۤا اِیْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ اُولٰٓئِكَ لَهُمُ الْاَمْنُ وَ هُمْ مُّهْتَدُوْنَ۠ Open ayah 6:82 in the Quran reader

وہ لوگ جو ایمان لائے اور نہیں ملایا انہوں نے اپنے ایمانوں کو ظلم (شرک) کے ساتھ ‘ یہی لوگ ہیں جن کے لئے امن ہوگا اور یہی لوگ ہیں ہدایت پانے والے

ربط آیات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے شرک کی تردید کے سلسلے میں اپنے والد اور قوم کے سامنے ستارے ‘ چاند اور سورج کے تغیر و تبدل کو بطور دلیل پیش کیا ‘ اور فرمایا غائب ہوجانے والی چیزیں الہ نہیں بن سکتیں لہٰذا میں شرک سے بیزاری کا اعلان کرتا ہوں معبود تو وہ ہو سکتا ہے جو ازلی ‘ ابدی ‘ قائم اور دائم ہو اور وہ صرف ذات باری تعالیٰ ہے جن چیزوں کی تم پرستش کرتے ہو وہ تو مخلوق ہیں ‘ ان کو زوال آتا ہے مگر تم ان کو معبودمشکل کشا اور حاجت رو ا مان کر …شرک کا ارتکاب کرتے ہو ‘ میں اس معاملہ میں تمہارے ساتھ شامل نہیں ہو سکتا میں نے تو اپنا رخ یعنی جسم و جان اس مالک الملک کی طرف پھیرلیا ہے جو زمین و آسمان کا خاطر ہے ‘ اس نے تمام کائنات کو بغیر نمونے کے پیدا کیا ہے۔ میں حنیف یعنی ہر طرف سے ہٹ کر صرف اسی ایک خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہوں۔ میں تو اس کی وحدانیت کا پرستار ہوں۔ میں شرک کرنیوالوں میں سے نہیں ہوں۔ معبودان باطلہ کے متعلق جھگڑا جب ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد اور قوم کے سامنے شرک کی تردید اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے حق میں دلیل پیش کی تو وہ لوگ دلیل کا جواب دلیل سے تو نہ دے سکے بلکہ وحاجہ قومہ آپ کی قوم نے آپ سے جھگڑا کرنا شروع کردیا۔ اس جھگڑے کی بہت سی مثالیں قرآن پاک میں موجود ہیں مثلاً جب ابراہیم (علیہ السلام) کسی راستے سے گزرتے تھے تو مشرکین آپ کی طرف اشارے کرتے تھے اور کہتے تھے اھذا الذی یذکر الھتکم “ (سورۃ الانبیائ) کیا یہ ہے وہ شخص جو تمہارے معبودوں پر نکتہ چینی کرتا ہے ؟ کہتا ہے کہ یہ تمہاری مشکلات کو حل نہیں کرسکتے کوئی کہتا باز آجائو ‘ ہمارے معبودوں کی مذمت نہ کرو ‘ ورنہ خطرہ ہے کہ وہ تمہیں کوئی نقصان نہ پہنچائیں ‘ کوئی کہتا کہ تم ایسی باتیں اس لئے کرتے ہو کہ ہمارے معبودوں کی تم پر مار پڑگئی ہے۔ انہوں نے تمہیں مجنون بنا دیا ہے۔ مشرکین مکہ بھی یہی کہتے تھے کہ ہمارے معبودوں کو برا بھلا کہنے کی وجہ سے اس کا دماغ خراب ہوگیا ہے۔ کبھی کہتا ہے کہ مردے پھر زندہ ہوجائیں گے ‘ کبھی کہتا ہے محاسبہ ہوگا۔ غیر اللہ کی پوجا سے منع کرتا ہے ‘ ان کی نذر و نیاز کو غلط بتاتا ہے ‘ مشکلات میں انہیں پکارنے کو شرک بتاتا ہے۔ کوئی کہتا دیکھو کتنی عجب بات ہے ” اجعل الالھۃ الھا واحدا “ کیا اس نے اتنے معبودوں کی جگہ صرف ایک ہی الہ بنا لیا ہے۔ غرض یہ کہ ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم نے بھی آپ سے اسی قسم کا جھگڑا کیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) کا جواب قال اس کے جواب میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا ” اتحاجونی فی اللہ “ کیا تم اللہ کے بارے میں مجھ سے جھگڑا کرتے ہو ؟ وقد ھدئن حالانکہ اللہ تعالیٰ نے تو مجھے ہدایت عطا کی ہے۔ اس نے میری صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمائی ہے ‘ تم مجھ سے کیسے جھگڑتے ہو ؟ سن لو ! ولا اخاف ما تشرکون بہ میں ان چیزوں سے خوف نہیں کھاتا جن کو تم خدا تعالیٰ کے ساتھ شریک بناتے ہو۔ یہ تو بےجان اور بےحقیقت چیزیں ہیں۔ ان کے پاس نہ کوئی اختیار اور نہ کوئی تصرف ہے ‘ بھلا میں ان سے کیسے ڈر سکتا ہوں ‘ ہر چیز کا خالق ‘ مالک اور متصرف تو اللہ تعالیٰ ہے لہٰذا اسی سے ڈرنے کا حق ہے۔ حضرت ہود (علیہ السلام) کے ساتھ بھی ایسا ہی معاملہ پیش آیا ‘ آپ کی قوم نے کہا ‘ اے ہود (علیہ السلام) ہم تمہارے کہنے پر اپنے معبودوں کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ ان تقول الا اعتراک بعض الھتنا بسوء (سورۃ ہود) ہم تو سمجھتے ہیں کہ ہمارے کسی معبود نے تمہیں آسیب پہنچا کر دیوانہ کردیا ہے۔ ہود (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تمہارے شرکاء سے بیزار ہوں۔ اب تم جو تدبیر کرنا چاہو کرلو ثم لا تنظرون (ہود) پھر بیشک مجھے مہلت بھی نہ دو ۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی یہی فرمایا کہ میں تمہارے ان معوبدوں سے ہرگز خوفزدہ نہیں ہوں جو کسی نفع نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ الا ان یشاء ربی شیئا اختیار اور تصرف میرے رب کے پاس ہے اور وہی کچھ ہوتا ہے ‘ جو وہ چاہے۔ وہی عطا کرتا اور وہی واپس لینے پر قادر ہے وہی تکلیف پہنچاتا اور وہی دور کرتا ہے وسع ربی کل شی علما میرے رب کا علم ہر چیز پر وسیع ہے۔ وہ علیم کل اور عالم الغیب والشہادۃ ہے۔ اس کے احاطہ سے کوئی چیز باہر نہیں۔ افلا تتذکرون کیا تم نصیحت نہیں پکڑتے ؟ تم اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ با اختیار کون ہے اور بےاختیار کون ہے۔ پھر مجھے بےیارومددگار معبودوں سے ڈراتے ہو۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے مزید فرمایا و کیف اخاف ما اشرکتم میں کس طرح خوف کھائوں ان چیزوں سے جن کو تم اللہ کا شریک بناتے ہو ڈر تو تمہیں آنا چاہئے ‘ مگر ولا تخافون انکم اشرکتم باللہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم اللہ کے ساتھ شریک بناتے ہو ایسی چیزوں کو مالم ینزل بہ علیکم لسطنا جن کے بارے میں اس نے تم پر کوئی دلیل نازل نہیں کی۔ تم نے محض اپنی خواہشات نضانیہ ‘ رسم و رواج اور بےوقوفی کی وجہ سے ان کو خدا تعالیٰ کی صفت الوہیت میں شریک کرلیا ہے لہٰذا خوف تو تمہیں کھانا چاہئے ‘ جنہوں نے احکم الحاکمین ‘ قادر مطلق اور متصرف فی الامور خدا تعالیٰ سے ٹکر لے رکھی ہے یاد رکھو اس جرم عظیم کی پاداش میں تم پر ضرور گرفت آئے گی جس سے بچ نہیں سکو گے۔ سن کے خدا ر فرمایا فای الفریقین احق بالامن دونوں فریقوں میں سے کونسا فریق امن یعنی نجات کا زیادہ مستحق ہے ؟ ایک فرقہ ہمارا ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مانتا ہے اور شرک سے بیزار ہے۔ اور دوسرا فرقہ وہ ہے جس نے بیشمار معبود بنا رکھے ہیں ‘ انہیں خدا تعالیٰ کی صفات میں شریک کرتے ہیں ‘ ان کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھتے ہیں ‘ ان کے نام کی دہائی دیتے ہیں ‘ ان کو نذر و نیاز پیش کرتے ہیں۔ مصیبت کے وقت انہیں پکارتے ہیں۔ تو بتائو ان دونوں فرقوں میں سے اللہ کی ابدی رحمت کا کون مستحق ہے ان کنتم تعلمون اگر تمہیں کچھ علم اور سمجھ ہے تو خود ہی فیصلہ کرو کہ اللہ تعالیٰ کے انعامات کا کون زیادہ حقدار ہے ؟ پھر اللہ تعالیٰ نے خود ہی جواب دیا ‘ کہ امن کے حق دار وہ لوگ ہیں الذین امنوا جو ایمان لائے ولم یلبسوا ایمانھم بظلم اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ نہیں ملایا اولئک لھم الامن امن ایسے ہی لوگوں کو حاصل ہوگا ‘ وہی زیادہ حق دار ہیں۔ اس آیت میں مذکور ظلم کا مفہوم سمجھنے میں صحابہ کرام ؓ کو کسی قدر اشتباہ واقع ہوا ‘ چناچہ بخاری ‘ مسلم اور ترمذی شریف کی روایت حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ صحابہ ؓ کو خیال ہوا کہ ظلم سے مراد عام کوتاہی ہے۔ تو انہوں نے حضور ﷺ سے عرض کیا اینالم یظلم نفسہ ہم میں سے کون ایسا شخص ہے جس سے ظلم یعنی چھوٹی موٹی خطا نہ سرزد ہوئی ہو ‘ اگر ہر چھوٹے بڑے گناہ پر گرفت ہوگئی تو پھر ہماری نجات تو محال ہوجائے گی۔ اس پر حضور ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ لفظ ظلم کا اطلاق ہر چھوٹی سے چھوٹی برائی سے لے کر بڑے سے بڑے گناہ پر ہوتا ہے لغوی لحاظ سے اس کا معنی ہے وضع الشی فی غیر محلہ یعنی کسی چیز کا اپنے اصل مقام کی بجائے دوسرے مقام پر رکھ دینا۔ مثلا مسجد میں داخل ہوتے وقت اگر دائیاں پائوں پہلے داخل کرنے کی بجائے بائیاں پائوں داخل کردیا تو یہ بھی ظلم کی تعریف میں آ گیا ‘ اور بڑے سے بڑا ظلم شرک اور کفر ہے ‘ جیسا کہ حضرت لقمان ؓ نے اپنے بیٹے کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا بیٹا ! اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنانا کیونکہ ” ان الشرک لظلم عظیم “ (سورۃ لقمان) بیشک شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اس آیت میں ظلم سے چھوٹا موٹا گناہ مراد نہیں ہے بلکہ اس سے شرک مراد ہے اور آیت کا مفہوم یہ ہے کہ نجات اور امن ان لوگوں کا حق ہے جنہوں نے اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ ملوث نہیں کیا۔ اور جن لوگوں نے اپنے ایمان کے ساتھ شرک کو ملا لیا ‘ ان کا عقیدہ خراب ہوگیا ‘ ان کے لئے اللہ تعالیٰ کا قانون واضح ہے کہ ” ان اللہ لایغفر ان یشرک بہ و یغفر مادون ذلک لمن یشاء یعنی اللہ تعالیٰ شرک جیسے گناہ کو معاف نہیں کرے گا ‘ اس کے علاوہ جس کو چاہے بغیر توبہ کئے معاف فرما دے ‘ اسے مکمل اختیار حاصل ہے ‘ مگر شرک کو معاف نہیں فرمائے گا ‘ تو آیت کا مطلب یہ نکلا کہ نجات ایسے ایمانداروں کا حق ہے جو شرک سے بچتے رہے۔ وھم مھتدون اور یہی ہدایت یافتہ لوگ ہیں۔ متشابہ آیات کی تفسیر قرآن پاک میں اور بھی بہت سی آیات ایسی ہیں جن کے سمجھنے میں صحابہ کرام ؓ کو اشکال پیدا ہوا۔ مثلاً سورة بقرہ کے آخری رکوع میں آتا ہے ” ان تبدو ما فی انفسکم او تخفوہ یحسابکم بہ اللہ “ یعنی جو کچھ تم اپنے نفسوں میں ظاہر کرو چھپائو ‘ اللہ تعالیٰ اس کا ضرور حساب لے گا۔ یہ آیت صحابہ کرام ؓ پر بڑی دشوار گزری۔ انہوں نے تخفوہ سے ہر وہ خیال اور وسوسہ مراد لیا جو کسی انسان کے دل میں آتا رہتا ہے اور جسے وہ ظاہر نہیں کرتا۔ صحابہ ؓ نے حضور ﷺ سے عرض کیا کہ اگر ہر وسوسے پر بھی مواخذہ ہوا تو پھر کوئی بھی نہیں بچ سکے گا۔ آپ نے فرمایا ایسا خیال نہ کرو ‘ بلکہ کہو ” غفرانک ربنا “ اے ہمارے پروردگار ! ہم تجھ سے معافی طلب کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت نازل فرمائی ” لا یکلف اللہ نفساً الا وسعھا “ یعنی اللہ تعالیٰ کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ دل میں وسوسوں کا آنا غیر اختیاری امر ہے۔ یہ کسی شخص کی طاقت میں داخل نہیں ‘ لہٰذا اس پر مواخذہ نہیں ہوگا۔ اسی طرح اختتام سحری کے متعلق حضرت عدی بن حاتم کو اشتباہ پیدا ہوگیا تھا ‘ سورة بقرہ میں اختتام سحری کی نشانی اللہ تعالیٰ نے اسی طرح بیان فرمائی ہے۔ حتیٰ یتبین لکم الخیط الابیض من الخیط الاسود “۔ یہاں تک کہ سفید دھاگہ سیاہ دھاگے سے نمایاں ہوجائے۔ یعنی اس وقت تک روزہ رکھنے کے لئے سحری کھا سکتے ہو۔ حضرت عدی ؓ نے دھاگے سے مراد عام دھاگہ لیا اور صبح صادق کے امتیاز کے لئے اسے اپنے پاس سرہانے کے نیچے رکھ لیا۔ جب اس بات کا ذکر حضور ﷺ سے کیا ‘ تو آپ نے فرمایا ‘ تمہارا تکیہ تو بہت بڑا ہے ‘ جس میں تم نے دن اور رات کو لپیٹ کر رکھ لیا ہے ‘ فرمایا سیاہ اور سفید دھاگے سے رات اور دن مراد ہیں۔ اس پر اللہ نے ان الفاظ کے بعد ” من الفجر “ کے الفاظ نازل کردیئے ‘ جس سے واضح ہوگیا کہ طلوع فجر تک سحری کھا پی سکتے ہیں۔ موت پر ایمان اس آیت کریمہ کی تفسیر میں مسند احمد کی ایک لمبی حدیث بھی آتی ہے۔ جو حضرت جریر بن عبداللہ ؓ سے مروی ہے۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم حضور ﷺ کے ہمراہ کسی کام سے مدینہ سے باہر نکلے۔ تھوڑی دور گئے تھے کہ ایک سوار کو دیکھا جو اپنی سواری کو دوڑاتا ہوا ہماری طرف آ رہا تھا۔ اسے دیکھ کر حضور ﷺ نے فرمایا ” ایاکم یرید یعنی یہ سوار تمہارے پاس ہی آنا چاہتا ہے۔ جب وہ ہمارے پاس پہنچا تو اس نے سلام کیا ‘ ہم نے جواب دیا۔ پھر حضور ﷺ نے اس سے دریافت کیا من این اقبلت تم کہاں سے آئے ہو۔ عرض کیا من اھلی و ولدی و عشیرتی اپنے پیچھے اہل و عیال ‘ بال بچے اور خاندان چھوڑ کر آ رہا ہوں حضور ﷺ نے دریافت کیا این ترید کہاں جانے کا خیال ہے ؟ تو وہ شخص کہنے لگا ارید رسول اللہ ﷺ میں تو اللہ کے رسول کی خدمت میں حاضر ہونے کے لئے آیا ہوں ‘ آپ ﷺ نے فرمایا قد اصبتہ اس تک تم پہنچ گئے ہو۔ پھر اس شخص نے عرض کیا ‘ حضور ! علمنی ما لا یمان یعنی ایمان کیا ہے مجھے سکھا دیجئے۔ آپ نے فرمایا ‘ ایمان یہ ہے ان تشھد ان لا الہ الا اللہ و ان محمد رسول اللہ تو دل کی گہرائی سے گواہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد رسول اللہ ﷺ کے رسول ہیں اور پھر ظاہری احکام میں تقسیم الصلوٰۃ نماز قائم کرو توتی الزکوٰۃ مال ہے تو سالانہ زکوٰۃ ادا کرو۔ تصوم رمضان ماہ رمضان کے روزے رکھو۔ تحج البیت اگر استطاعت ہے تو بیت اللہ کا حج کرو۔ جب حضور ﷺ نے یہ باتیں بتائیں تو وہ شخص کہنے لگا قد اقررت میں نے مان لیا۔ آپ کے ارشادات پر اسی طرح عمل کروں گا۔ پھر جب واپس ہوا تو اس کے اونٹ کا پائوں جنگلی چوہے کی بل میں پھنس گیا ‘ جس سے اونٹ گر پڑا۔ ساتھ ہی وہ شخص بھی سر کے بل زمین پر گرا اور ہلاک ہوگیا۔ حضور ﷺ نے دیکھ کر فرمایا ‘ اسے جلدی اٹھا کرلے آئو۔ عمار ؓ اور حذیفہ ؓ دوڑے ‘ جب اس کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ اس کی روح پرواز کرچکی تھی ‘ انہوں نے حضور ﷺ سے عرض کیا قد قبض الرجل یہ آدمی تو اللہ کو پیارا ہوچکا ہے حضور ﷺ وہاں سے ذرا ہٹ گئے ‘ پھر عمار ؓ اور حذیفہ ؓ سے فرمایا ‘ کیا تم جانتے ہو کہ میں وہاں سے کیوں ہٹ گیا تھا ؟ پھر خود ہی فرمایا ‘ میں نے دیکھا کہ وہ فرشتے جنت کے پھل اس شخص کے منہ میں ڈال رہے تھے ‘ جس سے میں سمجھ گیا کہ اس شخص کی موت بھوک کی حالت میں واقع ہوئی ہے دوسری روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ جب اس شخص سے پوچھا گیا کہ تم کہاں سے آئے ہو ‘ تو اس نے یہ بھی کہا راستے میں مجھے کھانے کے لئے کوئی چیز نہیں ملی لہٰذا میں درختوں کے پتوں اور گھاس پھونس پر گزارہ کرتا رہا ہوں۔ الغرض ! اس واقعہ کے بعد حضور ﷺ صحابہ کی طرف مخاطب ہوئے اور فرمایا ‘ دیکھو ! ھذا من الذین لم یلبسوا ایمانھم بظلم یہ شخص ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ نہیں ملایا۔ یہ شخص ایمان لایا ‘ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار کیا ‘ پھر اس نے اپنے ایمان کو شرک کی نجاست سے پاک رکھا حتی کہ اس کی موت واقع ہوگئی۔ حضور ﷺ نے اس موقع پر یہی آیات تلاوت فرمائی۔ اس کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا ‘ یہ تمہارا بھائی ہے ‘ اس کو اٹھا لو ‘ پھر اس کو غسل دیا گیا ‘ خوشبو لگائی گئی ‘ کفن پہنایا گیا ‘ اس کی قبر کھودنے لگے تو آپ وہاں تشریف لے گئے اور فرمایا الحمد والہ اس کے لئی لحد یعنی بغلی قبر تیار کرو فان الحد لنا کیونکہ لحد ہمارے لئے ہے والشق لغیرنا اور دوسرے لوگوں کے لئے دراڑ یعنی کھلی قبر ہے تاہم ہمارے لئے کھلی یعنی صندوق نما قبر بھی جائز ہے مگر لحد یا بغلی قبر بہتر ہے۔ مدینے کی زمین قدرے سخت ہے اور وہاں لحد آسانی سے بن جاتی ہے۔ آپ نے اس موقع پر یہ بھی ارشاد فرمایا ھذا من الذین عملوا قلیلا واجروا کثیرا یہ شخص ان لوگوں میں سے ہے ‘ جنہوں نے عمل تو تھوڑا کیا مگر اجر بہت زیادہ پا گئے۔ ظاہر ہے کہ اس شخص نے ابھی تک نہ نماز پڑھی تھی ‘ نہ روزہ رکھا تھا ‘ نہ حج کیا اور نہ زکوٰۃ ادا کی۔ ایمان لانے کے متصل ہی اس کو حادثہ پیش آ گیا اور وہ فوت ہوگیا۔ بہرحال وہ صحیح اور شرک سے پاک ایمان لے کر گیا اور اے ایک طرح کی شہادت کا درجہ بھی مل گیا ‘ کیونکہ جو مومن کسی حادثے کا شکار ہوجائے وہ ایک درجے میں شہید ہوتا ہے۔ بہرحلا امام ابن کثیر (رح) نے مسند احمد کی یہ روایت بیان کر کے اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ جو لوگ ایمان کی حفاظت کریں گے ‘ اسے شرک میں ملوث نہیں کریں گے ‘ ان کی کامیابی انشاء اللہ یقینی ہی ‘ انہیں امن نصیب ہوگا۔ اس کے برخلاف شرک میں ملوث اور اعتقادی منافق پکڑے جائیں گے۔
Ayahs 6:83–86

وَ تِلْكَ حُجَّتُنَاۤ اٰتَیْنٰهَاۤ اِبْرٰهِیْمَ عَلٰى قَوْمِهٖ١ؕ نَرْفَعُ دَرَجٰتٍ مَّنْ نَّشَآءُ١ؕ اِنَّ رَبَّكَ حَكِیْمٌ عَلِیْمٌ Open ayah 6:83 in the Quran reader

اور یہ ایک ہماری دلیل ہے جو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی قوم کے مقابلے میں دی۔ ہم بلند کرتے ہیں درجے جس کے چاہیں۔ بیشک تیرا پروردگار حکمت والا اور جاننے والا ہے

وَ وَهَبْنَا لَهٗۤ اِسْحٰقَ وَ یَعْقُوْبَ١ؕ كُلًّا هَدَیْنَا١ۚ وَ نُوْحًا هَدَیْنَا مِنْ قَبْلُ وَ مِنْ ذُرِّیَّتِهٖ دَاوٗدَ وَ سُلَیْمٰنَ وَ اَیُّوْبَ وَ یُوْسُفَ وَ مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ١ؕ وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَۙ Open ayah 6:84 in the Quran reader

اور ہم نے بخشا اس (ابراہیم علیہ السلام) کو اسحاق (جیسا بیٹا) اور یعقوب (جیسا پوتا) سب کو ہم نے ہدایت دی اور نوح (علیہ السلام) کو ہم نے ہدایت دی اس سے پہلے اور اس کی اولاد میں سے حضرت دائود ‘ سلیمان ‘ ایوب ‘ یوسف ‘ موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) کو۔ اور ہم اسی طرح بدلہ دیتے ہیں نیکی کرنے والوں کو

وَ زَكَرِیَّا وَ یَحْیٰى وَ عِیْسٰى وَ اِلْیَاسَ١ؕ كُلٌّ مِّنَ الصّٰلِحِیْنَۙ Open ayah 6:85 in the Quran reader

اور زکریا اور یحییٰ اور عیسیٰ اور الیاس (علیہم السلام) کو یہ سب نیکوکاروں میں سے تھے

وَ اِسْمٰعِیْلَ وَ الْیَسَعَ وَ یُوْنُسَ وَ لُوْطًا١ؕ وَ كُلًّا فَضَّلْنَا عَلَى الْعٰلَمِیْنَۙ Open ayah 6:86 in the Quran reader

اور اسماعیل اور یسع اور یونس اور لوط (علیہ السلام) کو 0 اور سب کو ہم نے فضیلت بخشی تمام جہان والوں پر

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید کے ضمن میں ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا کیونکہ آپ کی کلدانی اور بابلی پوری قوم مشرک تھی۔ آپ کے والد آزر خود بت تراش اور بت پرست تھے۔ آپ نے اپنے والد اور قوم کو سمجھانے کی کوشش کی اور ان کے سامنے ستارے چاند اور سورج کی دلیل بھی پیش کی۔ باری باری ان تینوں کے متعلق فرمایا ‘ کیا یہ میرا رب ہے مگر جب وہ ڈوب گئے تو آپ نے ان سے بیزاری کا اعلان کردیا۔ اور فرمایا ‘ اے میری قوم ! جن چیزوں کو زوال آجائے یا جن میں تغیر و تبدل واقع ہو ‘ وہ چیزیں عبادت کے لائق نہیں ہو سکتیں ‘ چاند ‘ سورج اور ستارے طلو ع ہوتے ہیں۔ پھر غروب ہوجاتے ہیں تو میں ایسی چیزوں کو الٰہ تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں معبود وہ ذات ہو سکتی ہے جس میں کوئی تغیر و تبدل واقع نہ ہو اور جس کو کبھی زوال نہ آئے اور وہ ذات صرف خدا تعالیٰ کی ہے جو ہمیشہ سے قائم ہے اور ہمیشہ رہے گا جس کو کبھی زوال نہیں۔ پھر قوم نے آپ سے جھگڑا کیا ‘ تو آپ نے ان کو ٹھیک ٹھیک بتا دیا کہ تم میرے ساتھ اللہ کے معاملے میں جھگڑتے ہو ‘ حالانکہ خداوند تعالیٰ نے مجھے ہدایت سے نوازا ہے اور میں تمہارے معبودوں سے خوف نہیں کھاتا۔ حق پر کون ہے اور ابدی نجات کس کو حاصل ہوگی اس کا علم تمہیں قیامت کو ہوگا مگر یاد رکھو کہ امن کا مستحق وہ ہے جو سچے دل سے ایمان لایا اور پھر اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ ملوث نہیں کیا ‘ وہی ہدایت یافتہ ہوگا ‘ تم سب شرک میں مبتلا ہو۔ تمہیں کبھی فلاح حاصل نہیں ہو سکتی۔ بندی درجات گزشتہ سے پیوستہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو ابتداء سے ہی رشد و ہدایت سے نوازا تھا چناچہ انہوں نے شرک کے خلاف وہ واضح دلیل پیش کی جس کا تذکرہ پہلے ہوچکا ہے ‘ مگر مشرکین آپ کی بات کو تسلیم کرنے پر تیار نہ ہوئے بلکہ آپ سے جھگڑا کرنے لگے۔ تو ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اسی دلیل کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ وتلک حجتنا اتینا ھا ابراھیم علی قومہ۔ یہی ہماری دلیل ہے جو ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ان کی قوم کے مقابلے میں دی مگر مشرک قوم نے اس کو تسلیم نہ کیا۔ پھر فرمایا ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کی توحید پرستی اور شرک کی تردید کی وجہ سے بلند درجہ عطا فرمایا اور ہمارا قانون یہ ہے کہ نرفع درجت من نشاء ہم جس کو چاہیں درجات بلند کردیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کی صلاحیت ‘ استعداد ‘ ظاہر و باطن اور قلبی حالت سے واقف ہے ‘ وہ اپنی حکمت کے مطابق جس کو اس قابل سمجھتا ہے۔ اس کے درجات بلند فرما دیتا ہے۔ چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ نے خاص مہربانی فرمائی اور ان کے درجات بلند کردیئے۔ ابراہیم (علیہ السلام) کی بلندی درجات کئی وجوہات سے ہوئی۔ انہوں نے قوم کے سامنے علی الاعلان شرک سے بیزاری کا اظہار کیا اور کہا ” انی وجھت وجھی الذی فطر السموات والارض “ میں اپنا رخ ‘ توبہ اور جسم و جان اس ذات کی طرف کرتا ہوں جو زمین و آسمان کا موجد اور انہیں عدم سے وجود میں لانے والا ہے۔ ” حنیفا وما انا من المشرکین “ میں ہر طرف سے کٹ کر صرف اسی کی طرف لگنے والا ہوں اور مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ یہ آپ کی فکر کی بلندی اور عقیدے کی پختگی تھی جو آپ کے رفع درجات کا سبب بنی۔ فرشتوں کے درجات بھی اسی سبب سے بلند ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مانتے ہیں ‘ اس کا ذکر اور عبادت کرتے ہیں انبیاء بھی توحید باری تعالیٰ کے امام اور مبالغ ہوتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ان کے درجات بھی بلند فرما دیتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو ابوالانبیاء ہیں آپ کی اولاد میں اللہ تعالیٰ نے ہزاروں نبی اور رسول مبعوث فرمائے۔ بنی اسرائیل کے آخری رسول حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور حضور خاتم النبیین ﷺ بھی آپ ہی کی اولاد میں سے ہیں۔ عقیدے کی پاکیزگی کی ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو حسن اخلاق ‘ عبادت میں انہماک اور مخلوق خدا سے کمال درجے کی ہمدردی بھی عطا کر رکھی تھی ‘ لہٰذا یہ اوصاف بھی آپ کی بلندی درجات کا سبب بنے۔ فرمایا ان ربک حکیم علیم تیرا رب حکیم ہی ‘ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ وہ علیم بھی ہے ‘ اس کو ذرے ذریعے کا علم ہے اور وہ ہر چیز کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔ بہرحال مشرکین حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دلیل کا جواب تو نہ دے سکے ‘ مگر وہ اپنی خفت مٹانے کے لئے آپ کو طرح طرح کی تکلیفیں دینے لگے۔ دوسری سورتوں سے معلوم ہوتا ہے دلائل سے ناکامی کے بعد انہوں نے کئی قسم کی اذیتیں پہنچائیں حتیٰ کہ آپ کے قتل کے درپے ہوئے۔ مگر اللہ کی مدد ہمیشہ آپ کے شامل حال رہی ‘ دشمن آپ کو کوئی گزند نہ پہنچا سکے حتیٰ کہ ان کی طرف سے آپ کو زندہ جلا ڈالنے کا منصوبہ بھی بری طرح ناکام ہوگیا اور بالآخر آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہجرت کا حکم آ گیا۔ ابراہیم (علیہ السلام) پر احسانات اللہ تعالیٰ جس انسان پر بہت بڑا احسان کرتا ہے اسے منصب نبوت سے نوازتا ہے۔ چناچہ ابراہیم (علیہ السلام) پر سب سے بڑا احسان تو یہ ہے کہ اللہ نے انہیں جلیل القدر پیغمبر بنایا اور پھر دوسرا بڑا احسان یہ کہ آپ کی نسل سے ہزاروں انبیاء و رسل مبعوث فرمایا۔ اب اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسی احسان کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ووھبنا لہ اسحاق و یعقوب اور ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو اسحاق (علیہ السلام) جیسا عظیم فرزند اور یعقوب (علیہ السلام) جیسا پوتا عطا فرمایا۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کو اسرائیل بھی کہا جاتا ہے اسی لئے آپ کی اولاد بنی اسرائیل کہلاتی ہے تفسیری روایات کے مطابق آپ کی اولاد میں سے اللہ تعالیٰ نے چار ہزار نبی پیدا فرمائے اور یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے۔ ان آایت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت اسحاق (علیہ السلام) کا پہلے ذکر کیا ہے اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا بعد میں حالانکہ اسماعیل (علیہ السلام) عمر میں بڑے ہیں مفسرین کرام اس کی دو وجوہات بیان کرتے ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ اسحاق (علیہ السلام) کی پیدائش کے وقت تک آپ کی والدہ حضرت سارہ بہت بوڑھی ہوچکی تھیں اس وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عمر سو برس تھی اور کم و بیش اتنی ہی حضرت سارہ کی تھی۔ اس عمر میں بچے کی پیدائش اللہ تعالیٰ کی خاص قدرت اور انعام ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی زندگی میں ہی آپ کو یعقوب (علیہ السلام) پوتا عطا کیا ‘ یہ بھی بہت بڑا احسان ہے۔ روایات کے مطابق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے 571 سال عمر پائی۔ اسی دوران حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی ولادت بھی ہوگئی۔ چونکہ یہ دونوں چیزیں غیر معمولی طور پر پیش آئیں ‘ اس لئے اسحاق (علیہ السلام) کا ذکر پہلے کرنے کی ایک وجہ تو یہ ہے اور آپ کو دوسری فوقیت اس وجہ سے حاصل ہے کہ آپ آزاد عورت سارہ کے بطن سے پیدا ہوئے۔ جب کہ اسماعیل (علیہ السلام) حضرت ہاجرہ کے بطن سے جن کو لونڈی کے طور پر شاہ مصر نے حضرت سارہ کو دیا تھا۔ اگرچہ حضرت ہاجرہ فی الواقعہ لونڈی نہیں تھیں مگر مصر میں وہ لونڈی کی حیثیت سے وقت گزار رہی تھیں۔ بہرحال حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اگرچہ اسحاق (علیہ السلام) سے چودہ سال بڑے ہیں۔ تاہم مذکورہ بالا دو وجوہات کی بناء پر اللہ تعالیٰ نے اس مقام پر حضرت اسحاق (علیہ السلام) کا تذکرہ پہلے فرمایا ہے ۔ کلاھدینا سب کو ہم نے ہدایت دی۔ اولاد نوح و ابراہیم (علیہ السلام) آگے احسان ہی کے تسلسل میں فرمایا و نوحا ھدینا من قبل اس سے پہلے ہم نے نوح (علیہ السلام) کو ہدایت دی۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے آبائو و اجداد میں سے حضرت نوح کا ذکر فرمایا ہے جبکہ دونوں انبیاء کے درمیان بڑا طویل زمانہ حائل ہے۔ ومن ذریتہ دائود و سلیمن و ایوب و یوسف و موسیٰ و ہارون اور آپ کی اولاد میں دائود ‘ سلیمان ‘ ایوب ‘ یوسف ‘ موسیٰ اور ہارون (علیہم السلام) کو ہدایت عطا کی یہاں پر ذریتہ میں کی ضمیر کو اگر نوح (علیہ السلام) کی طرف لوٹایا جائے تو بھی درست ہے کیونکہ فی والواقع حضرت ابراہیم بھی حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہی ہیں۔ اس لئے باقی سارے مذکورہ انبیاء بھی انہی کی اولاد میں شمار ہوتے ہیں اور اگر ہ کی ضمیر کو ابراہیم (علیہ السلام) کی طرلوٹایا جائے تو بھی ٹھیک ہے کیونکہ حضرت دائود ‘ سلیمان ‘ ایوب ‘ یوسف ‘ موسیٰ اور ہارون (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔ بہرحال ان انبیاء میں سے کچھ تو براہ راست حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور کچھ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد سے۔ یہاں پر مذکور کل اٹھارہ انبیائے کرام میں سے چودہ تو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں اور باقی چار آپ کی نسل سے نہیں بلکہ براہ راست حضرت نوح (علیہ السلام) کی اولاد سے ہیں جو کہ موجودہ پوری نوع انسانی کے باپ ہیں حضرت لوط (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بھتیجے ہیں ‘ لہٰذا آپ کی اولاد میں سے نہیں ہیں۔ حضرت یونس (علیہ السلام) اور حضرت یسع (علیہ السلام) کے متعلق بھی آتا ہے کہ وہ اولاد ابراہیم (علیہ السلام) میں سے نہیں ہیں۔ اور خود حضرت نوح (علیہ السلام) تو سب کے بزرگ تھے ‘ لہٰذا آپ بھی اولاد ابراہیمی سے خارج ہیں۔ باقی سب انبیاء ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں۔ فرمایا و کذلک نجزی المحسنین ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح بدلہ دیا کرتے ہیں یہ سب اللہ کے نیک بندے تھے لہٰذا نہوں نے بہتر بدلہ پایا۔ پھر فرمایا و زکریا و یحییٰ و عیسیٰ والیاس اور ہم نے حضرات زکریا ‘ یحییٰ ‘ عیسیٰ اور الیاس (علیہ السلام) کو بھی ہدایت سے نوازا۔ کل من الصلحین یہ سب کے سب نیکوکاروں میں سے تھے صلاحیت اور نیکی والے لوگ تھے۔ صالح اس شخص کو کہتے ہیں جو اللہ کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اور بندوں کے حق میں ادا کرتا ہے۔ یہ سب نبی ایسے ہی تھے آگے فرمایا واسماعیل والیسع و یونس و لوطا یعنی حضرات اسماعیل ‘ یسع ‘ یونس اور لوط (علیہم السلام) بھی اللہ کے پیغمبر تھے ‘ اللہ نے ان کو بھی ہدایت دی۔ بہرحال یہ ابراہیم (علیہ السلام) پر ہونے والے احسان کا تذکرہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اولاد میں سے کتنے جلیل القدر انبیاء (علیہم السلام) کو پیدا فرمایا۔ انبیاء (علیہم السلام) کے گروپ ان آیات میں انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر مختلف گروپوں کی صورت میں ہوا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ گروپ انبیاء کی بعض مشترک خصوصیات کی بناء پر معرض وجود میں آتے ہیں۔ مثلاً حضرت ایوب (علیہ السلام) اور حضرت یونس (علیہ السلام) کا تعلق ابتلا کے گروپ سے ہے۔ دونوں پر سخت آزمائش آئیں ‘ حضرت ایوب (علیہ السلام) لمبی بیماری میں مبتلا رہے اور حضرت یونس (علیہ السلام) مچھلی کے پیٹ میں چلے گئے۔ بعض انبیاء ایسے ہیں جن پر ابتلا اور خوشحالی والے دونوں دور آئے۔ جیسے یوسف (علیہ السلام) ہیں کہ غلام بھی بنے اور تخت شاہی پر بھی بیٹھے۔ اسی طرح حضرت دائود اور سلیمان (علیہما السلام) حکومت کے لحاظ سے مشترک اقدار کے حامل ہیں۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) اور موسیٰ (علیہ السلام) بھی حکومت ملنے کی وجہ سے اس گروپ میں بھی شامل ہیں۔ بعض انبیاء کو عظیم معجزات عطا ہوئے ‘ ان میں حضرت موسیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے نام قابل ذکر ہیں اور بعض پیغمبر ایسے بھی ہوئے ہیں جن کا کوئی پیروکار نہیں بنا جیسے لوط (علیہ السلام) آپ اللہ کے عظیم رسول ہیں مگر قوم میں سے کوئی بھی ایمان نہیں لایا جب ہجرت پر نکلے تو صرف بیٹیاں ساتھ تھیں۔ بیوی بھی پیچھے رہ گئی تھی اور بعض انبیاء عبادت و ریاضت میں بہت بڑھے ہوئے تھے جیسے حضرات الیاس ‘ زکریا ‘ یحییٰ اور عیسیٰ علیہ السلام۔ عطائے فضیلت ان اٹھارہ انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا وکلا فضلنا علی العلمین ان سب کو ہم نے جہان والوں پر فضیلت بخشی۔ یہ دوسرا بڑا احسان ہے۔ انہیں نبی بنایا ‘ ہدایت دی اور پھر اپنے اپنے زمانے میں تمام انبیاء باقی لوگوں پر فضیلت رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو علم اور حکمت عطا کی اور بعض کو حکومت اور سلطنت بھی دی۔ یہ بھی فضیلت کی بات ہے۔ اور آخرت میں تو اس فضیلت کا بہت بہتر ثمرہ ظاہر ہوگا۔ اللہ تعالیٰ وہاں بھی علی قدر المراتب ‘ اعمال اور ابتلا کی وجہ سے اعلیٰ درجات عطا فرمائیں گے۔ بنیادی طور پر تو اللہ کے سارے ہی نبی عابد ‘ زاہد اور کامل ہوتے ہیں۔ پھر بھی بعض کو حالات کی بناء پر بعض پر فوقیت حاصل ہے جیسے فرمایا تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض “ (البقرۃ) یہ رسول ہیں ‘ ہم نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی۔ بہرحلا یہاں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے مشرکین کے سامنے دلیل پیش کرنے کے سلسلے میں ان کی اپنی فضیلت کا ذکر ہوا۔ اور آپ پر احسانات کے صمن میں آپ کی اولاد میں پیدا ہونے والے انبیاء ک ذکر ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی طرح ان سب پر اپنا احسان فرمایا ‘ ان انبیاء کا ذکر کر کے قرآن پاک کے اولین مخاطبین کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ حضور خاتم النبین ﷺ کا بھی وہی مشن ہے جو تمام سابقہ انبیاء کا تھا ‘ لہٰذا انہیں ان کی بات کو بسروچشم تسلیم کرلینا چاہئے۔
Ayahs 6:87–90

وَ مِنْ اٰبَآئِهِمْ وَ ذُرِّیّٰتِهِمْ وَ اِخْوَانِهِمْ١ۚ وَ اجْتَبَیْنٰهُمْ وَ هَدَیْنٰهُمْ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ Open ayah 6:87 in the Quran reader

اور اس کے آبائو اجداد میں سے اور ان کی اولادوں اور بھائیوں میں سے ہم نے انہیں منتخب کیا اور ان کو سیدھے راستے کی ہدایت دی۔

ذٰلِكَ هُدَى اللّٰهِ یَهْدِیْ بِهٖ مَنْ یَّشَآءُ مِنْ عِبَادِهٖ١ؕ وَ لَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 6:88 in the Quran reader

یہی ہے اللہ کی ہدایت ‘ وہ ہدایت دیتا ہے اس کے ساتھ جس کو چاہے اپنے بندوں میں سے اور اگر یہ بھی شرک کرتے تو البتہ ضائع ہوجاتے ان کے وہ کام جو وہ کیا کرتے تھے۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ اٰتَیْنٰهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْحُكْمَ وَ النُّبُوَّةَ١ۚ فَاِنْ یَّكْفُرْ بِهَا هٰۤؤُلَآءِ فَقَدْ وَ كَّلْنَا بِهَا قَوْمًا لَّیْسُوْا بِهَا بِكٰفِرِیْنَ Open ayah 6:89 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں جن کو دی ہے ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت ‘ پس اگر کفر کریں اس کے ساتھ وہ (مکے والے) پس بیشک مقرر کیا ہے ہم نے اس کے ساتھ ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ کفر کرنے والے نہیں ہیں۔

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ هَدَى اللّٰهُ فَبِهُدٰىهُمُ اقْتَدِهْ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٰى لِلْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 6:90 in the Quran reader

یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے ‘ پس تو بھی ان کی ہدایت کے راستے پر چل۔ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے ‘ میں نہیں مانگتا تم سے اس پر کوئی بدلہ ‘ نہیں ہے یہ مگر نصیحت سب جہان والوں کیلئے

ربط آیات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اس دلیل کا ذکر ہوچکا ہے جو انہوں نے توحید باری تعالیٰ کے حق میں اپنی قوم کے سامنے پیش کی۔ پھر اللہ نے بطور احسان فرمایا کہ یہ دلیل ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو سمجھائی۔ اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور آپ کی اولاد پر کئے گئے احسانات کا ذکر بھی کیا ‘ آپ کو جلیل القدر اور عالی مرتبت بیٹے عطا کئے جن کی نسل سے ہزاروں انبیاء مبعوث ہوئے۔ اولاد کا نجیب ہونا باعث شرف ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے جدامجد حضرت نوح (علیہ السلام) کا تذکرہ بھی کیا کہ موجودہ نبی نوع انسان آپ ہی کی اولاد ہے ۔ طوفان نوح میں تمام کافر مشرک ہلاک ہوگئے تھے اور پھر آگے نسل انسان آپ کے تین بیٹوں حام ‘ سام اور یافث کے واسطے سے ہی چلی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد سلسلہ نبوت اور رشد و ہدایت آپ ہی کی نسل میں قائم ہوا۔ آپ کی اولاد سے اللہ نے بڑے عالیشان رسول اور حضرت دائود اور سلیمان (علیہما السلام) جیسے خلیفتہ اللہ پیدا فرمائے۔ حضرت ایوب (علیہ السلام) اور یوسف (علیہ السلام) پر بڑی بڑی آزمائشیں آئیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت (علیہ السلام) کو عظیم معجزات عطا کئے۔ یہ سب انبیاء اور رسل حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں ۔ پھر اللہ نے اپنے ان بندوں کی نیکی اور ان کے اچھے انجام کا ذکر کیا۔ حضرات زکریا ‘ یحییٰ ‘ الیاس اور عیسیٰ (علیہم السلام) جیسے عبادت گزاروں اور زاہدوں کا ذکر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اسماعیل (علیہ السلام) کا تذکرہ بھی کیا جن کی اولاد سے حضور خاتم النبین ﷺ پیدا ہوئے۔ دنیا میں عزت و شرف پانے والی قوم قریش آپ ہی کی نسل سے ہے۔ اللہ نے حضرت الیسع ‘ یونس اور لوط (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا جن کی قوموں نے ان کی دعوت کا کوئی جواب نہ دیا۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے گزشتہ درس میں حضرت نوح (علیہ السلام) سے شروع کر کے اٹھارہ انبیاء کا ذکر کیا ہے۔ متعلقین انبیاء کا انتخاب اب آج کے درس میں ان انبیاء علہیم السلام کے متعلقین کا تذکرہ ہو رہا ۔ اور ان کی فضیلت بیان کی جا رہی ہے ارشاد ہوتا ہے ومن ابائھم اور ان مذکورہ انبیاء کے آبائو اجداد میں سے بعض کو بزرگی عطا فرمائی۔ یہاں پر من تبعیضیہ ہے ‘ یعنی سارے کے سارے آبائو اجداد کو نہیں بلکہ ان میں سے بعض کو شرف عطا فرمایا ‘ ان کو صحیح راستے کی طرف راہنمائی فرمائی اور ان کو ہدایت بخشی۔ البتہ بعض انبیاء کے آبائو اجداد کا فر اور مشرک بھی ہوئے ہیں۔ خود حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد آزر کا تذکرہ گزشتہ رکوع میں ہوچکا ہے کہ وہ سخت قسم کے بت پرست تھے آگے فرمایا وذریتھم اور ان انبیاء کی اولادوں میں سے بھی بعض کو اعلیٰ درجات عطا کئے۔ ایمان کی دولت نصیب کی اور بعض کو نبوت سے ونوازا ‘ تاہم بعض کفر ‘ شرک اور معصیت میں بھی مبتلا رہے۔ پھر فرمایا واخوانھم اور ان انبیاء کے بھائیوں میں سے بھی بعض کو فضیلت عطا کی اور ان کے درجات بلند کئے۔ بہرحال مجموعی طور پر انبیاء اور ان کے متعلقین کے بارے میں فرمایا واجتبینھم ہم نے ان کو منتخب کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی صلاحیتوں سے باخبر تھا اس لئے ان کو پسند فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی نیکی تقویٰ اور ایمان کو پسند فرمایا اور سب کو عزو شرف سے نوازا۔ اس دنیا میں بھی ان کو اعلیٰ مقام پر فائز کیا اور آخرت میں بھی ان کے لئے اعلیٰ درجات کا وعدہ فرمایا ‘ ان کے انتخاب سے یہی مراد ہے۔ صراط مستقیم کی طرف راہنمائی فرمایا انبیاء (علیہم السلام) اور ان کے متعلق کو منتخب فرمایا و ھدینھم الی صراط مستقیم اور ان کی صراط مستقیم کی طرف راہنمائی بھی فرمائی۔ ظاہر ہے کہ جسے اللہ تعالیٰ کسی خاص کام کے لئے منتخب کرتا ہے ‘ پھر اس کی راہنمائی بھی کرتا ہے۔ اور سیدھا راستہ وہی ہے جو اللہ کی توحید اور اس کی اطاعت کا راستہ ہے ‘ تمام انبیاء یہی کہتے ہیں ” نحن لہ مسلمون “ (البقرہ) ہم صرف اللہ ہی کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے والے ہیں اور اس کی وحدانیت کو مانتے ہیں۔ وہ کہتے تھے نعبد الھا واحد ہم صرف ایک خدا کی عبادت کرتے ہیں ‘ عبادت میں غیر اللہ کو شریک نہیں کرتے۔ فرمایا ذلک ھدی اللہ یہی اللہ تعالیٰ کی ہدایت ہے یھدی بہ من یشاء من عبادہ اس کے ساتھ ہدایت دیتا ہے اپنے بندوں میں سے جسے چاہے ‘ ہر شخص کی نیت ‘ ارادے ‘ صلاحیت اور باطنی عزائم کے مطابق اس کو ہدایت دیتا ہے ‘ جن لوگوں کی صلاحیتیں درست ہوتی ہیں انہیں اس ہدایت سے سرفراز فرماتا ہے۔ شرک سے اعمال کا ضیاع ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ شرک کی تردید کے ضمن میں ہی بیان ہوا تھا۔ اب اٹھارہ انبیاء کا ذکر کرنے اور ان پر کئے گئے احسانات کا تذکرہ کرنے کے بعد شرک کی قباحت کو یوں بیان فرمایا ولو اشرکوا اگر اللہ کے منتخب بندے اور پیغمبر بھی شرک کا ارتکاب کرتے ۔ لحبط عنھم ما کانوا یعملون تو ان کے بھی تمام اعمال ضائع ہوجاتے ۔ شرک اتنی بری چیز ہے کہ بالفرض اگر اللہ کے برگزیدہ بندے بھی اس میں ملوث ہوجائیں تو اللہ تعالیٰ ان کو بھی معاف نہیں کرتا بلکہ ان کے تمام کئے دھرے پر پانی پھیر دیتا ہے۔ سورة الزمر میں آتا ہے۔ ” ولقد اوہی الیک والی الذین من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخسرین۔ “ آپ کی طرف بھی اور آپ سے پہلے رسولوں کی طرف بھی ہم نے وحی کی کہ اگر بالفرض آپ بھی شرک کا ارتکاب کریں یا سابقہ نبی شرک کا ارتکاب کرتے تو سب کے اعمال ضائع ہوجاتے۔ معلوم ہوا کہ شرک بہت ہی قبیح چیز ہے۔ سو سال کی عبادت ایک لحظہ میں غرق ہوجاتی ہے۔ ہاں اگر معافی مانگ لے تو بات بن جائے گی۔ اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے۔ التوبۃ معروضۃ قبل الموت موت سے پہلے پہلے تو یہ قابل قبول ہے۔ لیکن اگر شرک سے باز نہیں آئے گا تو کسی نیکی کا کچھ فائدہ نہیں ہوگا۔ سب اکارت جائیں گی۔ سورة رعد میں آتا ہے کہ لوگ نیکیوں کے بڑے بڑے پہاڑ لے کر آئیں گے۔ مگر جب کفر شرک سامنے آئے گا تو وہ پہاڑ ایسے اڑ جائیں گے جیسے ہوا میں راکھ اڑ جاتی ہے۔ ایسے اعمال کا کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔ کیونکہ نیکی کی قبولیت کے لئے ایمان اور عقیدے کی درستگی لازمی ہے۔ نجات اس شخص کے لئے ہے ومن یعمل من الصلحت من ذکر او انثیٰ و ھو مومن “ ۔ (النسائ) جو نیک اعمال انجام دے گا بشرطیکہ اس کا ایمان صحیح ہو۔ ایمان کی درستگی اللہ کی وحدانیت اور شرک سے بیزاری کے ذریعے ہوتی ہے جیسے ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور قوم کے مٹانے کا اعلان کیا۔ انا برائو وا منکم و مما تعبدون من دون اللہ “ (ممتمنہ) میں ان سے بیزار ہوں جن کی تم پوجا کرتے ہو آپ نے اپنی قوم کے لوگوں سے یہ بھی کہا ” اف “ لکم ولما تعبدون من دون اللہ “ (انبیائ) افسوس ہے تم پر اور ان پر جن کی اللہ کے سوا تم عبادت کرتے ہو۔ فرمایا وبدابیننا و بینک العداوۃ والبغضاء ابدا “ ہمارے اور تمہارے درمیان نفرت کی دیوار حائل ہے اور یہ دیوار اسی طرح رہے گی۔ ” حتیٰ تومنوا باللہ وحدہ “۔ یہاں تک کہ تم اللہ پر ایمان لے آئو (سورۃ ممتحنہ) انبیاء (علیہم السلام) بلاشبہ شرک سے پاک ہوتے ہیں مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بالفرض اگر یہ بھی شرک کا ارتکاب کرتے تو ان کے سارے اعمال ضائع ہوجاتے۔ یہ بات سب لوگوں کو اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ جب انبیاء کرام بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں تو پھر شرک کرنے والے کسی شخص کو معافی کیسے مل سکتی ہے۔ شرک سے ہمیشہ اجتناب کرنا چاہئے ورنہ خطرہ ہے کہ تمام اعمال ضائع ہوجائیں گے۔ کتاب ‘ حکم اور نبوت آگے اللہ تعالیٰ نے انبیاء علہیم السلام کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ اولئک الذین اتینھم الکتب والحکم والنبوۃ یہی وہ لوگ ہیں جن کو ہم نے کتاب ‘ حکم اور نبوت عطا کی۔ انبیاء (علیہم السلام) پر وحی نازل ہوتی رہی اور ان میں سے بعض کو مکمل کتاب عطا فرمائی اور بعض پر صحیفے نازل فرمائے۔ بعض انبیاء کو اس بات کا پابند بنایا کہ وہ سابقہ کتب و صحالف کی ہی نشرو اشاعت کریں ‘ ان کو علیحدہ احکام و شرائع نہیں دیئے گئے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ حکم سے مراد شریعت ہے یعنی کچھ انبیاء کو خاص شریعت دی گئی بعض اس سے حکومت بھی مراد لیتے ہیں۔ تاہم حکومت بھی تمام انبیاء کو تو نہیں ملی۔ البتہ بعض کو ملی ہے جیسے حضرت دائود اور سلیمان علیہما السلام۔ بعض فرماتے ہیں کہ حکم سے مراد فہم ہے جس سے انسان صحیح فیصلے پر پہنچتا ہے اور یہ تمام انبیاء کو عطا کیا گیا۔ چونکہ نبی پوری امت کے معاملات میں حکم ہوتا ہے اس لئے اس میں قوت فہم و فیصلہ بھی بدرجہ اتم ہوتی ہے باقی رہی نبوت تو یہ کائنات میں سب سے اعلیٰ اعزاز ہے۔ اللہ کے نزدیک اس کا نبی مقرب ترین بندہ ہوتا ہے۔ نبی ہوتا بجائے خود بلند ترین ہستی ہونے کی نشانی ہے وہ خدا تعالیٰ کے معصوم بندے ہوتے ہیں ‘ انہیں اس بات کی گارنٹی حاصل ہوتی ہے کہ ان سے گناہ سرزد نہیں ہوتا۔ وہ امت کے لئے نمونہ ہوتے ہیں ‘ ان کا قول ‘ فعل اور عمل امت کے لئے حجت ہوتا ہے۔ قیام دین کا خدائی انتظام انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد روئے سخن اولین مخاطبین قرآن کی طرف ہوتا ہے فان یکفر بھا ھولاء اگر یہ لوگ اس کے ساتھ کفر کریں یہاں ھولاء کی ضمیر مکہ والوں کی طرف لوٹتی ہے۔ قرآن پاک کے اولین مخاطبین وہی تھے اور وہی لوگ نبی ‘ کتاب اور شریعت کا انکار کرتے تھے۔ سورة یوسف میں اس با ت کی تصریح ہے۔ انا انزلنا قرآناً عربیا لعلکم تعقلون “ ہم نے قرآن پاک کو عربی زبان میں عربی بولنے والے لوگوں کی طرف نازل کیا تا کہ تم سمجھ سکو۔ فرمایا اگر یہ مکہ والے اس کا انکار کردیں۔ فقد و کلنا بھا قوما لیسعا بھا بکفرین۔ پس ہم نے اس کے ساتھ ایسے لوگوں کو مقرر کردیا ہے جو کفر کرنے والے نہیں ہیں۔ مقصد یہ کہ اگر اولین مخاطبین اللہ کے دین پر اور پیغمبر آخر الزمان پر ایمان نہیں لائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان کی جگہ دوسرے لوگوں کو کھڑا کر دے گا۔ جو ایمان لا کر دین کے مددگار ثابت ہوں گے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ جب مشرکین مکہ نے مخالفت کی تو مدینے والوں نے خوشی خاطر سے دین کو قبول کرلیا اور اس کی حمایت کا یقین دلایا جب آپ ہجرت کر کے مدینہ طیبہ تشریف لے گئے تو اردگرد کے تمام قبائل آپ کے جاں نثار بن گئے۔ چناچہ یہی اولین لوگ ہیں جو اسلام کا علم لے کر دنیا میں پھیل گئے۔ اسلام کی آباری انہی لوگوں کے ہاتھوں سے ہوئی اور یہ لوگ پوری دنیا کے معلم بن کر ابھرے۔ حدیث شریف میں آتا ہے جب حب الانصار ایتہ الایمان یعنی انصار مدینہ کے ساتھ محبت رکھنا ایمان کی نشانی ہے اور ان کے ساتھ بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی رفاقت کے لئے منتخب فرمایا۔ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے سورة محمد میں اس طرح بیان فرمایا۔ وانتتولوا یستبدل قوما غیرکم ثم لا یکونوا امثالکم اگر تم روگردانی کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری بجائے دوسرے لوگوں کو لے آئے گا جو تمہاری طرح نہیں ہوں گے۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ تاتاری اسلام کے سخت دشمن تھے اور بقول مولانا شبلی نعمانی (رح) انہوں نے ایک کروڑ مسلمانوں کو قتل کیا ‘ مگر تھوڑے عرصہ بعد ہی یہ لوگ اسلام کے علمبردار بن گئے اللہ نے ایمان کی دولت نصیب فرمائی۔ جب اپنے بیگانے ہوگئے تو اللہ نے بیگانوں کو اپنا بنا دیا۔ ترکوں کا بھی یہی حال تھا۔ ابتداء میں اسلام کے بدترین دشمن تھے ‘ مگر حضور ﷺ نے فرمایا اترکوا الترک ما ترکو کم ترکوں کو کچھ نہ کہو جب تک وہ خود چھیڑ چھاڑ کی ابتدا نہ کریں اور پھر سلطان محمد خامس کے زمانے میں وہ دور بھی آیا جب اللہ نے انہی ترکوں کو اسلام کی طرف مائل کردیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ ایک دن میں چار لاکھ ترک مسلمان ہوئے اور آج تک پوری کی پوری ترک قوم اسلام کی شیدائی ہے۔ باہر سے آنے والے کچھ یہودی اور نصرانی وہاں موجود ہیں ‘ وگرنہ اصل ترک سب مسلمان ہیں۔ ترکی میں بڑے بڑے سیاسی انقلاب بھی آئے مگر انہوں نے اسلام کا دامن نہیں چھوڑا۔ اللہ کا قانون آج بھی وہی ہے۔ اگر آج کا مسلمان دین سے غفلت کرے گا تو خدا تعالیٰ اس کی جگہ کسی دوسرے کو کھڑا کر دے گا۔ جو اس کے دین کو آگے بڑھا سکے۔ اس طرح دین تو قائم و دائم رہے گا مگر یہ مسلمانوں کی بدقسمتی ہوگی کہ وہ دین کے پودے کی آبیاری نہ کرسکیں۔ جب عربوں میں صلاحیت باقی نہ رہی تو وہ بھی ذلیل ہوگئے۔ سیاسی طور پر اب ترک بھی ختم ہوچکے ہیں خدا نے انگریز جیسا دشمن دین مسلط کردیا ہے جس نے تمام مسلمان سلطنتوں کو کچل کر رکھ دیا ہے۔ روسی ‘ امریکی اور برطانوی سب انگریز ہیں اور عیسائی ہیں ‘ جو ہمیشہ دین اسلام کے خلاف سازشیں کرتے رہتے ہیں۔ اور اس کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ اقتدار کا ہوس آج مسلمان قوم محض اس لئے اغیار کا شکار ہو رہی ہے کہ یہ اندرونی خلفشار میں مبتلا ہے۔ ان کی آپس میں اقتدار کے لئے رسہ کشی ہو رہی ہے ہر فرد اور ہر ملک حب مال و جاہ کی بیماری میں مبتلا ہے ۔ ہر کوئی سیاہ وسفید کا مالک بننا چاہتا ہے۔ اب ان میں دین سے لگائو اور قربانی کا جذبہ ختم ہوچکا ہے۔ عباسی بھی اسی وجہ سے ذلیل ہوئے اور مغل بھی اسی بیماری کا شکار ہوئے۔ آج کے مسلمان کی ذلت کی وجہ بھی یہی ہے کہ اس نے دین کے کام کو پس پشت ڈال دیا ہے۔ تبلیغی جماعت والے کسی حد تک اسلام کا پیغام دنیا میں پہنچا رہے ہیں۔ مگر ان کے ذریعے ایک فیصد سے زیادہ کام نہیں ہو رہا ہے۔ باقی 99 فیصد کام کون کرے گا ؟ اسلام جس قربانی کا تقاضا کرتا ہے ‘ وہ مسلمانوں میں مفقود ہوچکی ہے۔ آج مسلمانوں کی ساری توانایاں فسق و فجور پھیلانے پر صرف ہو رہی ہیں۔ اقتدار کے حصول کے لئے روپیہ پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے۔ تمام کوششیں امریکہ روس اور چین کی خوشنودی کے لئے کی جا رہی ہیں۔ عیاشی ‘ فحاشی اور کھیل تماشے میں مگن ہیں۔ کھیلوں کی وزارتیں بن چکی ہیں۔ کھیل کی ٹی میں غیر ممالک میں بھیجنے پر کثیر رقوم خرچ کی جاتی ہیں مگر اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والے ملک پاکستان میں اسلام کے نام کے سوا کچھ نہیں ہو رہا۔ کمیٹیاں بن جاتی ہیں ‘ سیمینار ہوتے ہیں مگر عملی طور پر ایک انچ بھی آگے نہیں بڑھتے۔ یاد رکھو اگر تم دین کا بیڑا نہیں اٹھائو گے ‘ تو اللہ تعالیٰ تمہاری جگہ دوسروں کو کھڑا کر دے گا۔ علامہ اقبال مرحوم کہا کرتے تھے ‘ مسلمانو ! جب تم نے دین کا دامن چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ نے سکھوں میں سے ایک آدمی کھڑا کردیا جس نے دین کی ڈولتی ہوئی کشتی کو سہارا دیا۔ مولانا حمد علی لاہوری کے والد سکھ ہی تو تھے۔ آپ نے پانچ سو علماء کو قرآن پاک کی تفسیر پڑھائی۔ مولانا عبیداللہ سندھی کا باپ بھی سکھ تھا۔ وہ ہمارے استاد الاساتذہ ہیں ‘ جنہوں نے ہمیں قرآن و حدیث کی تعلیم دی مگر مسلمان کیا کر رہے ہیں ؟ انہوں نے دین سے کیوں اعراض کیا ہے۔ دین تو بہرحال زندہ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ یہ کام کسی دوسری ہستی سے لے لے گا۔ مگر ہماری تذلیل ضرور ہوگی۔ اسی لئے فرمایا کہ اگر یہ مکہ والے دین کا انکار کریں گے تو ہم ان کی جگہ دوسرے لوگوں کو لے آئیں گے جو آگے بڑھ کر اس کا دامن تھام لیں گے۔ ہدایت یافتہ لوگ فرمایا اولئک الذین ھدی اللہ یہی وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت دی ہے۔ اس سے مراد وہی انبیائے کرام ہیں جن کا ذکر ہوچکا ہے۔ فرمایا یہ ہدایت یافتہ لوگ ہیں فبھدئم اقتدہ آپ بھی انہی کی ہدایت کی اقتدار کریں۔ یہ خطاب حضور ﷺ سے ہو رہا ہے کہ آپ بھی ان انبیاء کے طریقے کو اپنا کر دین کے کام کو آگے بڑھائیں ‘ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ تین چیزیں انبیاء کی ہدایت کا جزو ہیں۔ پہلی چیز توحید ہے جس پر سب متفق ہیں۔ لہٰذا آپ بھی اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ‘ اس کی ذات اور صفات ‘ اس کی عبادت ‘ شرک سے بیزاری وغیرہ کے معاملہ میں سابقہ انبیاء کی اتباع کریں۔ دوسری چیز اخلا قحمیدہ اور صفات کاملہ ہے۔ یہ چیزیں بھی انبیاء (علیہم السلام) میں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ آپ بھی اپنے اندر یہ چیزیں پیدا کر کے انہی کا اقتدار کریں۔ فرمایا تیسری چیز احکام اور شرائع ہیں۔ بہت سے احکام و شرائع سارے نبیوں میں مشترک رہے ہیں ‘ آپ بھی ان پر چلتے رہیں۔ اصول فقہ والے بتاتے ہیں کہ سابقہ امتوں کے جو احکام قرآن پاک یا زبان نبوی سے بیان ہوئے ہیں ‘ اگر ان کی تردید نہیں کی گئی تو وہ ہمارے لئے بھی قابل عمل ہیں مختلف انبیاء کی شرائع میں بعض چیزیں مختلف ہوتی ہیں مگر اصول دین تمام نبیوں کے مشترک ہوتے ہیں ‘ آپ بھی ان پر کاربند ہیں۔ بلامعاوضہ تبلیغ دین تبلیغ دین کے سلسلے میں ایک اصولی بات سمجھا دی گئی ہے۔ قل اے پیغمبر آپ کہہ دیجئے لا اسئلکم علیہ اجرا میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ یہ دین کا کام میں کوئی تجارت کے طور پر نہیں کرتا ہوں ‘ بلکہ یہ حق پرستی کی تعلیم میرے فرائض منصبی میں شامل ہے جسے میں ادا کر رہا ہوں۔ اللہ کے سارے نبیوں کا یہ شیوہ رہا ہے کہ وہ تبلیغ دین کی کوئی فیس طلب نہیں کرتے۔ دوسرے مقام پر آتا ہے۔ ” ان اجری الا علی رب العالمین “ (الشعرائ) میرا اجر تو اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ ہم انبیاء کی جماعت ہمیشہ بےلوث ہوتے ہیں ‘ ہم کسی ذاتی غرض کے لئے دین کا کام نہیں کرتے۔ ہم جو چیز آپ کے پیش کر رہے ہیں ان ھو الا ذکری للعالمین یہ تو تمام جہان والوں کے لئے ایک نصیحت ہے۔ ہماری خواہش ہے کہ لوگ اس نصیحت کو قبول کرلیں ‘ توحید کا راستہ اختیار کرلیں ‘ کفر ‘ شرک اور معصیت کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچ جائیں۔ دین نام ہی خیر خواہی کا ہے۔ ہم تو خیر خواہی کے طور پر تمہیں صراط مستقیم کی طرف بلاتے ہیں۔ بہرحال آیت کے اس حصلہ میں یہ بات واضح کردی گئی ہے کہ نبی لوگوں سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ دوسری جگہ موجود ہے کہ جو کچھ ہم نے مانگا ہے اے اپنے پاس رکھو ۔ ہماری دعوت کو قبول کر کے فلاح پا جائو یا انکار کر کے دائمی ذلت کا شکار ہو جائو ‘ اب یہ تمہاری فکر پر موقوف ہے۔