6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمعالم العرفان

Ayah 6:151

قُلْ تَعَالَوْا اَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَیْكُمْ اَلَّا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَكُمْ مِّنْ اِمْلَاقٍ١ؕ نَحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَ اِیَّاهُمْ١ۚ وَ لَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ مَا بَطَنَ١ۚ وَ لَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ Open ayah 6:151 in the Quran reader

اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجیے آؤ میں پڑھ کر سناؤں تمہیں وہ چیزیں جو حرام قرار دی ہیں تمہارے پروردگار نے تم پر وہ یہ ہیں کہ تم نہ شریک ٹھہراؤ اس کے ساتھ کسی چیز کو ، اور والدین کے ساتھ احسان کرو ، اور نہ قتل کرو اپنی اولادوں کو مفلسی سے ، ہم تمہیں روزی دیتے ہیں اور انہیں ، اور نہ قریب جاؤ بےحیائی کی باتوں کے جو ظاہر ہوں ان میں سے ، اور جو پوشیدہ ہوں اور نہ قتل کرو اس جان کو جس کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے ، مگر حق کے ساتھ ، ان باتوں کا اللہ نے تاکیدی حکم دیا ہے تم کو ، تاکہ تم سمجھ جاؤ۔

ربط آیات : گزشتہ دروس میں اس بات کا ذکر ہوچکا ہے کہ مشرکین نے از خود بعض چیزوں کو حلال اور بعض کو حرام قرار دے رکھا تھا ، ان میں کھیتی کی پیداوار ، باغات کے پھل اور بعض مویشی شامل تھے ، یہ لوگ مشرکانہ طریقے پر غیر اللہ کی نیاز نکالتے تھے اور پھر اس کو کھانے کے لیے بعض لوگوں کو نامزد کردیتے تھے ، جن کے علاوہ انہیں کوئی نہیں کھا سکتا تھا ، بسا اوقات ایک قسم کی چیز کو مردوں پر حلال اور عورتوں پر حرام قرار دیتے تھے ، چناچہ اللہ نے ماکولات میں سے چار چیزوں کو قطعی طور پر حرام کردیا یعنی مردار ، خون ، خنزیر کا گوشت اور نیاز لغیر اللہ ، اب اگلی تین آیات میں دس محرمات کا ذکر آرہا ہے ۔ ملت ابراہیمی کے یہ دس محرمات ایسے ہیں جن پر قرآن کریم اور تورات دونوں متفق ہیں۔ چناچہ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ صحابہ کرام میں سے بعض فرماتے ہیں کہ جو آدمی حضرت محمد کے مہر شدہ صحیفے کو پڑھنا چاہتا ہے اسے چاہیے کہ قرآن پاک کی یہ تین آیتیں پڑھ لے ، یعنی قل تعالوا سے لے کر لعلکم تتقون تک۔ یہ تین آیات ایسا اٹل صحیفہ ہیں جس میں ملت ابراہیمی کے دائمی اصول بیان کیے گئے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ نے قرآن پاک میں مختلف ادوار کی باتیں بیان فرمائی ہیں۔ اگلی سورة اعراف میں انسان کے مادی دور سے پہلے والے روحانی دور کا تذکرہ ہے واذ اخذ ربک من بنی ادم من ظھورھم ذریتھم ، جب نسل انسانی ابھی پیدا نہیں ہوئی تھی تو اللہ نے حضرت آدم کی پشت سے تمام ارواح کو نکال کر ان سے عہد لیا تھا کہ بتاؤ میں تمہارا پروردگار نہیں ہوں ؟ تو سب نے اقرار کیا تھا ، پھر اللہ نے سورة الحاقہ میں یوم حشر کی تفصیلات بیان کی ہیں ، اور آج کی آیت میں ان باتوں کا تذکرہ ہے جن کی ضرورت اس دنیا میں ہے۔ گویا مذکورہ تین آیات میں موجودہ دور کی بات کی گئی ہے ۔ حضور ﷺ کا طریقہ تبلیغ : قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے اپنی تفسیر مظہری میں حضرت علی سے یہ روایت بیان کی ہے کہ جب قریش کی مخالفت حد سے بڑھ گئی تو حضور ﷺ نے اپنی دعوت دوسرے قبائل کے سامنے پیش کرنا شروع شروع کردی۔ خاص طور پر حج کے موقع پر جب لوگوں کی کثیر تعداد جمع ہوتی تو آپ ان کے سامنے دین کی تعلیمات پیش کرتے۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ آپ دوسرے قبائل کے لوگوں سے فرماتے اے لوگو ! تم میں سے کوئی ہے جو میرا حمایتی بن جائے تاکہ میں اللہ کا پیغام دوسروں تک پہنچا سکوں ، فرماتے تھے ان قریشا قد منعونی ان ابلغ رسالتہ ، قریش نے تو مجھے خدا کا پیغام پہنچانے سے روک دیا ہے اب اس معاملہ میں کون میری مدد کرنے کو تیار ہے۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ ایسے ہی ایک مقع پر میں اور حضرت ابوبکر صدیق موجود تھے۔ منی کے مقام پر بعض قبائل سے ملاقات ہوئی ، آپ نے قبیلہ کے سرداران مفروق اور ہانی سے تبلیغ اسلام کی بات کی تو مفروق کہنے لگا ، اے قریش کے بھائی ! آپ کیا چیز پیش کرتے ہیں ، اس پر حضور ﷺ نے یہی آیت پڑھ کر سنائی تو مفروق کہنے لگا کہ اس آیت کریمہ میں ایسی بنیادی اور اخلاقی تعلیم ہے کہ ہر سلیم الفطرت انسان اسے ماننے پر مجبور ہے ، اس نے تسلیم کیا کہ قریش آپ پر جھوٹ باندھتے ہیں ، حالانکہ آپ کا قول مکارم اخلاق کا اعلی نمونہ ہے ، آپ نے اس سے مزید کچھ باتیں کیں اور فرمایا اگر اس پروگرام کو مان لو تو وہ وقت دور نہیں جب ساری دنیا کی قومیں تمہاری غلام بن جائیں گی حتی کہ قیصر و کسری بھی تمہارے ماتحت ہوجائیں گے ، اس پر دونوں اشخاص کو سخت تعجب ہوا کہ قیصر و کسری جیسی عظیم طاقتیں بھی مغلوب ہوسکتی ہیں۔ بہرحال حضور ﷺ نے دین اسلام کی حقانیت ظاہر کرنے کے لیے یہی آیت زیر درس اس مجلس میں پڑھ کر سنائی۔ دس حقیقی محرمات : ارشاد ہوتا ہے قل تعالوا ۔ اے پیغبر ! آپ کہہ دیں آؤ، اتل ما حرم ربکم علیکم ، میں تمہیں پڑھ کر سناؤں وہ چیز جو تمہارے پروردگار نے تم پر حرام کی ہے۔ تعال اونچی جگہ پر کھڑے ہو کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے میں استعمال ہوتا ہے یعنی ادھر میری طرف آکر میری بات سنو۔ اس کے علاوہ یہ لفظ مطلقا خطاب کے موقع پر بھی استعمال کیا جاتا ہے ، جیسے یہاں فرمایا ہے کہ آؤ میں تمہیں اللہ کی حرام کردہ اشیا پڑھ کر سناؤں ، مفسرین فرماتے ہیں کہ مذکورہ بالا جملے کے آخر میں لفظ و اوجب محذوف ہے اور پورا مطلب یہ ہے کہ آؤ میں تمہیں وہ چیزیں سناؤں جن کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اور جن پر عملدر آمد کو ضروری قرار دیا ہے۔ لفظ تلاوت دو معانی میں استعمال ہوتا ہے ۔ تلاوت کا ایک مطلب یہ ہے کہ کلام الہی کو اجر وثواب کی خاطر پڑھا جائے اور دوسرا یہ کہ دوسرے لوگوں کو تعلیم دی جائے۔ تو یہاں پر اتل ان دونوں معانی کے لیے آیا ہے یہاں آیات الہی کی تلاوت بھی ہے اور لوگوں کو حلت و حرمت کی تعلیم دینا بھی مقصود ہے مشرکین نے بحیرہ ، سائبہ وغیرہ بعض لوگوں پر حرام قرار دے رکھتے تھے ۔ کسی جانور کا گوشت نہیں کھاتے تھے اور کسی کا دودھ نہیں پیتے تھے ، بعض جانوروں پر سواری کرنا حرام کرلیا تھا ، تو اللہ نے اس آیت کریمہ کے ذریعے اپنے نبی معظم کی زبان سے کہلوا لیا کہ جن چیزوں کو تم نے اپنی خود ساختہ شریعت کے ذریعے حرام کر رکھا ہے وہ حرام نہیں ہیں بلکہ یہ چیزیں حرام ہیں جو اللہ یہاں بیان فرما رہے ہیں۔ 1۔ الاشراک باللہ : پہلی حرام چیز یہ ہے کہ الا تشرکوا بہ شیئا ، کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہراؤ، نہ ذات میں شریک ٹھہراؤ نہ صفات میں ، نہ عبادت میں اور نہ استعانت میں ، غرضیکہ کسی بھی چیز کو اللہ کا شریک نہ بناؤ۔ شرک کو اللہ نے سب سے پہلے حرام قرار دیا ہے ، توحید باری تعالیٰ ملت ابراہیمی کا اٹل اصول ہے اور تمام کتب سماویہ اس پر متفق ہیں شرک کو اللہ نے اکبر الکبائر فرمایا ہے۔ سورة لقمان میں ہے ان الشرک لظلم عظیم ، یعنی سب سے بڑا ظلم اشراک باللہ ہے ، حضرت مسیح (علیہ السلام) نے بھی اپنی امت کو یہی تعلیم دی ” انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وماویہ النارُ “ (المائدہ) جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا ، اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا دوزخ میں ہوگا۔ ذات وصفات میں شرک تو شرک جلی کہلاتا ہے اور ریاکاری شرک خفی ہے۔ اگرچہ یہ شرک کفر کی حدتک تو نہیں پہنچتا مگر ریا کاری سے انسان کے اعمال ضرور ضائع ہوجاتے ہیں ۔ بہر حال اللہ تعالٰ نے ہر قسم کے شرک کو حرام قرار دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دوسری چیز کے متعلق فرمایا ” وبالوالدین اھانا “ اور والدین کے ساتھ احسان کرو ، اللہ نے بد سلوکی کو حرام فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بعد سب سے اہم چیز والدین کے حقوق ہیں جن کی قرآن پاک میں بار بار تاکید کی گئی ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں ہے ” وقضی ربک الا تعبدوا الا ایا ہ وبلوالدین احسانا “ تیرے رب نے یہ حکم دیا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئو۔ والدین کسی انسان کے قریب ترین محسن ہوتے ہیں ، وہ اپنے بچوں کی بےلوث پرورش کرتے ہیں ، لہٰذااُن پر احسان کرنا لازم اور عقو ق یعنی ان کو اذیت پہنچانا حرام ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ماں باپ کو نہ زبان سے تکلیف پہنچانی چاہئے وار نہ کسی عمل سے ، یہ قطعی حرام ہے۔ حضور علیہ اسلام کا ارشاد مبارک ہے کہ وہ شخص بد بخت اور شقی ہے جس نے والدین میں سے ایک یا دونوں کو پایا مگر ان کی خدمت کر کے جنت کا ٹکٹ حاصل نہ کیا۔ فرمایا والدین جنت کے دروازوں میں سے درمیان والا اور افضل دروازہ ہیں۔ اب یہ تمہاری مرضی ہے کہ ماں باپ کی خدمت کر کے یہ دروازہ اپنے لیے کھول لو یا ان کے ساتھ بد سلوکی کر کے اسے اپنے لیے بند کرلو۔ بہر حال فرمایا کہ والدین کے ساتھ نیک سلوک اور احسان کرنا ضروری ہے اور ان کو تکلیف دینا حرام ہے محدثین اور فقہائے کرام فرماتے کہ ماں اور باپ دونوں حسن سلوک کے مستحق ہیں۔ البتہ ادب باپ کا زیادہ ہے اور خدمت ماں کی کیونکہ ماں ‘ باپ کی نسبت کمزور ہوتی ہے۔ فرماتے ہیں کہ اگر والدین غیر مسلم بھی ہوں ، تب بھی ان کا احترام واجب ہے۔ البتہ اللہ کا حق ان پر مقدم ہے۔ اگر والدین شرک پر آمادہ کریں یا خلاف شرع کسی بات کا حکم دیں تو ان کی اطاعت ساقط ہوجاتی ہے ، بایں ہمہ انسان کے لیے حکم یہ ہے ” وصا جبھما فی الدنیا معروفا “ یعنی دنیا میں ان کے ساتھ بہر حال حسن سلوک سے پیش آئو۔ حجر مولانا عبید اللہ سندھی (رح) کا خاندان سکھ مذہب رکھتا تھا ، آپ کو اللہ تعالیٰ نے ایمان کی دولت نصیب فرمائی ، آپ کی والدہ آخر دم تک سکھ مذہب پر قائم رہی مگر آپ نے اس کی خدمت میں کبھی کسر نہیں چھوڑی۔ وہ ناراضگی کا اظہار کرتی بھری مجلس میں جوتے تک مارتی مگر آپ نے کبھی اُف تک نہ کی ہندومت میں برہمن کو بیل کی خیرات (دان) کو بہت بڑی نیکی سمجھا جاتا ہے۔ ایک دفعہ آپ کی ماں نے فرمائش کی کہ دان دینے کے لیے اسے بیل مہیا کیا جائے۔ چناچہ آپ نے بیل خرید کردیا اور ماں خوش ہوگئی۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے والدین کے حقوق کی بڑی تاکید فرمائی ہے جیسا کہ سورة بنی اسرائیل میں ” واخفض لھ ما جناح الذل من الرحمہ وقل رب ارجمعھما کما ربینی صغیرا اگر والدین مومن ہیں تو ان کے ادب و احترام کے علاوہ ان کے لیے دعا کو بھی اپنا وظیفہ بنا لو کہ اے مولا کریم ان پر رحم فرما جس طرح انہوں نے بچپن میں میری پرورش کی ۔ چناچہ حضور علیہ اسلام کا ارشاد مبارک ہے کہ والدین کے حقوق میں یہ بات بھی شامل ہے۔ کہ ان کی وفات کے بعد ان کے لیے دعائیں کریں اور ایصال ثواب کریں۔ بہر حال ماں باپ کے ساتھ بد سلوکی کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ تیسری بات اللہ نے یہ فرمائی ہے ولا تقتلوا اولاد کم من املاق اور مت قتل کرو اپنی اولادوں کو ناواری کی وجہ سے ۔ دوسرے مقام پر آتا ہے ” لا تقتلوا اولادکم خشیۃ املاق “ یعنی مفلسی کے آئندہ خطرے کے پیش نظر اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ کا مقصودیہ ہے کہ اگر تم فی الوقت مفلس و نادار ہو تو محض اس لیے اولاد کو قتل نہ کرو۔ کہ تمہارے پاس اسے کھلانے پلانے کے لیے کچھ نہیں۔ یا اگر اس وقت تو تنگدستی نہیں مگر خدشہ ہے کہ اولاد زیادہ ہوگئی تو ان کی ضروریات زندگی مہیا کرنا دشوار ہوجائیگا۔ فرمایا اس پیشگی خطرے کی وجہ سیے بھی اپنی اولاد کی جان کو ضائع نہ کرو۔ اللہ تعالیٰ نے قتل اولاد کو حرام قرار دیا ہے۔ تاریخ عالم سے پتہ چلتا ہے کہ مختلف ادوار میں قتل اولاد کی تین مختلف صورتیں دنیا میں رائج رہی ہیں۔ پہلی وجہ تو یہی ہے کہ لوگ مفلسی کے ڈر سے اولاد کو قتل کردیتے تھے کہ ان کے پاس اولاد کی پرورش کا سامان نہیں ہوتا تھا۔ قتل کی دوسری شکل دختر کشی کا رواج تھا۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ لڑکی کی پیدائش کو منحوس تصور کرتے تے لہٰذا لڑکیوں کو پیدا ہونے کے بعد زندہ درگور کردیا جاتا تھا۔ اور اس کی تیسری شکل یہ تھی کہ لوگ اپنے بچوں کو بتوں یا دیوی دیوتائوں کی بھینٹ چڑھا دیتے تے اور ان کے نام پر قتل کردیتے تھے۔ بر صغیر ہندوستان میں لوگ بچوں کو کالی دیوی کی بھینٹ چڑھاتے ہیں۔ اس بلدیان کا نام بھی دیا گیا ہے۔ بہر حال قتل انسانی کے یہ تینوں طریقے اللہ نے حرام قرار دیئے ہیں۔ فرمایا اپنی اولاد کو رزق کی کمی کی وجہ سے قتل نہ کرو کیونکہ حقیقت یہ ہے نخن نرزقم وایاھم کہ تمہیں بھی رزق ہم ہی دیتے ہیں اور جن کو قت قتل کرتے ہو ان کے رزق کے ذمہ دار بھی ہم ہیں۔ روزی کے تمام اسباب ہمارے قبضہ قدرت میں ہیں اور ہم ہی انہیں تقسیم کرتے ہیں۔ اللہ نے دوسرے مقام پر فرمایا ” ان اللہ ھوالرزق ذوالقوۃ المتین “ (الذاریات) رزاق اور صاحب قوت تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ اسلام کے بیان میں بھی آتا ہے کہ روزی اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ، اسی سے طلب کرو کہ وہ تمہارے لیے روزی کے دروازے کھول دے۔ یہہ تیسرا محرم ہے کہ اولاد کو مفلسی کے خوف سے قتل نہ کرو ۔ چوتھی حرام چیز کے متعلق فمایا ولا تقر بو الفواحش بےحائی کی بات کے قریب بھی نہ جائو ماظھر منھاوما بطن خواہ ظاہر ہو یا پوشیدہ۔ ہر دوقسم کی فحاشی کے قریب تک نہ جائو چہ جائیکہ اس کا ارتکاب کرو۔ بےحیائی کا دائرہ بڑا وسیع ہے۔ بعض چیزیں ذہنی اور عقلی طور پر انسان میں بُرے اخلاق پیدا کرتی ہیں۔ حدیث شریف میں چوری کو بےحیائی سے تعبیر کیا گیا ہے جب کہ قرآن پاک میں بخل کو بےحیائی کہا گیا ہے۔ زنا اور لواطت بلا شبہ بہت بڑی بےحیائی ہے بعض چیزیں لوگوں کو عریانی کی طرف مائل کرتی ہیں جس سے دین اور اخلاق خراب ہوتا ہے اسی لیے فرمایا بےحیائی کے قریب بھی نہ جائو۔ سورۃ نور اور سورة احزاب میں موجود ہے کہ عورتوں کی زیب و زنیت اور نیم برہنگی اور پھر مردوں سے غلط ملط سخت فحاشی کی بات ہے اسی طرح تصویریں ، مجسمے اور لغو گانے بےحیائی پر آمادہ کرتے ہیں ، اسی لیے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ جدید تہذیب کی ساری رونق بےحیائی پر قائم ہے عورتوں کا ننگے سر اور ننگے بازو سر عام پھرنا ، اخبارات میں نیم برہنا عورتوں کی تشہیر ریڈیوں اور ٹیلیفون پر غیر اخلاقی گانے اور مناظر انسانیت کی تباہی کا باعث بن رہے ہیں۔ اخلاق بگڑ رہا ہے ، اس کی اصلاح کرنے کی بجائے فلم انڈسٹری کو ترقی دینے کے منصوبے بنتے ہیں۔ کھیل تماشے کو بڑی اہمیت دی جارہی ہے کھیل کی ٹی میں اور ناچ گانے والے طائفے بیرونی ممالک میں بھیجے جاتے ہیں جس پر کروڑوں روپے کا زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے اور اس کے بدلے میں عریانی ، فحاشی اور بےحیائی پھیلائی جاتی ہے اسلام تو ایسی چیزوں کو مٹانے کے لیے آیا تھا مگر ہماری حکومتیں انہی چیزوں کی سرپرستی کر رہی ہیں۔ دین تو کہتا ہے الحیا من الایمان حیاواری ایمان کا جزو ہے نیزلا ایمان لمن لاحیاء جس میں حیا نہیں اس میں ایمان نہیں ، مگر آج حیاواری کا جنازہ نکل رہا ہے اور بےحیائی بلاروک ٹوک معاشرے میں ناسور کی طرح پھیل رہی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ بےحیائی کے قریب نہ جائو۔ یہ قطعی حرام ہے۔ پانچویں حرام چیز قتل ناحق ہے۔ ارشاد ولا تقتلو النفس التی حرم اللہ بالحق جس جان کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے اس کو ناحق قتل مت کرو ( قتال و جہاد کے علاوہ) قتل حق کی تین صورتیں معلوم ہیں۔ ان کے علاوہ باقی تمام قتل ناحق کی فہرست میں آتے ہیں پہلا قتل حق ہے النفس بالنفس یعنی جان کے بدلے جان۔ اگر کسی دوسرے شخص کو ناحق قتل کیا ہے تو قصاص کے طور پر قاتل کو قتل کرنا حق ہے اور اس کی اجازت ہے دوسرا یہ ہے کہ اگر کوئی شادی شدہ آزاد مسلمان زنا کا ارتکاب کرتا ہے تو اسے سنگسار کر کے قتل کرنا بھی برحق ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ کوئی عاقل مسلمان دین اسلام کو چھوڑ کر دہریہ بن جائے یا کوئی دوسرا دین اختیار کرے تو ایسا مرتد شخص بھی واجب القتل ہے۔ فرمایا ان تین صورتوں کے علاہ کسی شخص کا قتل قتل ناحق ہے اور حرام ہے۔ جب باغیوں نے حضرت عثمان ؓ کا محاصرہ کرلیا تو انہوں نے چھت پر کھڑے ہو کر فرمایا تھا ، لوگو ! تم مجھے قتل کیوں کرنا چاہتے ہو حالن کہ میں نے آج تک کسی کو ناحق قتل نہیں کیا ، زنا کا ارتکاب تو مجھ سے اسلامی دور سے پہلے جاہلیت کے زمانہ بھی نہیں ہوا اور جب سے میں نے حضور علیہ اسلام کے دست مبارک پر بعیت کی ہے ، میں مرتد نہیں ہوائ۔ پھر تم کس جرم میں قتل کے درپے ہو ۔ مگر باغیوں نے آپ کی کوئی بات نہ سنی اور فتنے کی ایسی بنیاد ڈال دی جو قیامت تک چلتی رہے گی۔ قتل کی دبا دینا کے اکثر و بیشتر ممالک میں عام ہے قدیم تہذیب والے ہوں یا جدید والے ، قتل روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ ان ماجہ شریف کی روایت میں آتا ہے کہ پوری دنیا کا تباہ ہوجانا اتنا اہم نہیں جتنا ایک مسلمان کا قتل ہوجانا۔ مگر یہاں تو معمولی معمولی وجوہات کی بنا پر ہر روز قتل ہوتے ہیں۔ ذاتی رنجشوں کے علاوہ سیاسی قتل بھی عام ہونے لگے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ معاشرہ میں امن وامان ناپید ہوچکا ہے۔ انسانی جانوں کی حفاظتکا واحد ذریعہ قانونِ قصاص اور دیت ہے مگر اس کو پسند نہیں کیا جاتا تو پھر دنیا میں امن کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ فرمایا یہ پانچ باتیں ایسی ہیں ذالکم وصکم بہ جن کے متعلق اللہ نے تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے کہ ان سے بچو۔ یہ حقیقی محرمات ہیں۔ لعلکم تعقون تا کہ تم سمجھ جائو۔ اگر مان جائو گے تو دنیا اور آخرت میں امن نصیب ہوگا ، ورنہ یہاں بھی بےسکونی اور آخرت میں عذاب ہوگا۔
Ayahs 6:152–153

وَ لَا تَقْرَبُوْا مَالَ الْیَتِیْمِ اِلَّا بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ حَتّٰى یَبْلُغَ اَشُدَّهٗ١ۚ وَ اَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ١ۚ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا١ۚ وَ اِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوْا وَ لَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى١ۚ وَ بِعَهْدِ اللّٰهِ اَوْفُوْا١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُوْنَۙ Open ayah 6:152 in the Quran reader

اور نہ قریب جائو یتیم کے مال کے مگر اس طریقے سے جو بہتر ہے یہاں تک کہ پہنچ جائے اپنی قوت تک اور پورا کرو ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ ہم نہیں تکلیف دیتے کسی نفسکو مگر اس کی طاقت کے مطابق اور جب تم بات کرو تو انصاف سے کرو اگر چہ قرابتدار ہی کیوں نہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرو یہ وہ چیز ہے جس کا اللہ نے تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تا کہ تم نصیحت حاصل کرلو

وَ اَنَّ هٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْهُ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِیْلِهٖ١ؕ ذٰلِكُمْ وَصّٰىكُمْ بِهٖ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ Open ayah 6:153 in the Quran reader

اور بیشک یہ قرآن کریمکا بیان کردہ راستہ میرا سیدھا راستہ ہے پس اس کا اتباع کرو اور نہ پیروی کرو مختلف راستوں کی پس وہ تم کو جدا کر دینگے اس کے راستے سے اس بات کا للہ نے تمہیں تاکیدی حکم دیا ہے تا کہ تم بچ جائو

ربط آیات : پہلے اللہ نے مشرکین کے خودساختہ محرکات کا ذکر کیا پھر اللہ نے بعض حلال جانوروں کا ذکر کیا ہے اور ان چار بنیادی محرکات کا ذکر کیا جن کا تعلق کھانے پینے سے ہے اس کے بعد اللہ تعالیٰنے بعض دیگر حرام چیزوں کا ذکر کیا جیسے اشراکب اللہ ، والدین سے بدسلوکی ، بیحیائی اور قتل اولاد اور قتل ناحق اب زیر درس آیات میں بعض دیگر چیزوں کی حرمت کا بیان آ رہا ہے۔ ان میں سے پانچ محرمات کا ذکرگزشتہ درس میں آ چکا ہے اور باقی پانچ چیزوں کا ذکر آج کی دو آیات میں آ رہا ہے۔ ان ممنوعہ امور کا ارتکاب وبال اور گناہ کا باعث ہے۔ یتیم کا مال کھانا : اللہ تعالیٰنے محرمات کے سلسلہ میں چھٹی چیز یہ فرمائی ہے ولا تقربوامال الیتیم اور یتیم کے مال کے قریب نہ جائو الا بالتی ہی احسن مگر اس طریقہ سے جو بہتر ہو۔ یتیم اور کمزور طبقات کی حقوق کے متعلق اللہ نے بڑے تاکیدی حکم صادرفرمائے ہیں جب کوئی چھوٹابچہ باپ کے سہارے سے محروم ہوجاتا ہے تو اس کی جائیداد کے انتظامو انصرام کے لئے عام طور پر اس کے اقرباء میں سے اس کا کوئی متولی بنتا ہے جو بچے کے سن بلوغت تک پہنچنے تک مال کی حفاظت کا ذمہ دار ہوتا ہی مگر تجربہ یہی ہے کہ زیر حفاظت مالکو خودمتولیوں نے ہی کھانے کی کوشش کی ۔ لہذا اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ میں مختلف مقامات پر ضروری احکام نازل فرمائے ہیں چناچہ سورة نساء کی ابتداء میں بھی یہی مسائل بیان ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرمایا ہے ” ولا تاکلواموالھم “ کہ ان کے مالوں کو مت کھائو آگے یہ بھی فرمایا ” ولا تاکلو ھا اسرا فاً فاوّبدارا آن یکبروا “ یتیموں کے مال کو فضول خرچی میں نہ اڑائو اس نیت سے کہ یہ بڑے ہوجائیں گے تو ہمارا تصرف ختم ہوجائے گا اور ان کا مال ان کو واپس کرنا پڑے گا ۔ سورة بقرہ میں بھی یتیموں کے مال کی حفاظت کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ حضور ﷺ کے زمانہ میں یتیموں کے متولی کھانے میں یتیموں کو اپنے ساتھ ملا لیتے تھے کیونکہ ان کا علیحدہ کھانا تیار کرنے میں خرچہ زیادہ آتا ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے مال کے متعلق بڑے سخت احکام نازل فرمائے تو صحابہ کرام ؓ نے انکا کھانا پینا بھی علیحدہ کردیا۔ اس خوف سے کہیں ان کا کوئی لقمہ ہماری طرف نہ آجائے۔ مگر اس طرح یتیموں کا مال زیادہ خرچ ہوتا تھا تو اللہ تعالیٰ نے سورة بقرہ میں اس مسئلہ کی وضاحت فرمائی اور فرمایا ” وان تخالطو ھم فاخوانکم “ یعنی اگر تم انہیں کھانے وغیرہ میں ساتھ ملا لو تو وہ تمہارے بھائی ہیں ، گویا اللہ تعالیٰ نے اس بات کی اجازت دیدی۔ اور فرمایا واللہ یعلم المفسدین المصلح “ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون فسادی ہے اور کون مصلح ہے۔ تم نیک نیتی سے یتیموں کے مال کی حفاظت کرو اور اسے ناجائز طریقے سے ہضم کرنے کی کوشش نہ کرو اللہ تعالیٰ تمہاری نیتوں سے بھی واقف ہے اور وہ تمہارے ساتھ تمہاری نیت کے مطابق ہی سلوک کریگا۔ بہرحال یتیم کا سرپرست جج یا قاضی ہو یا اقربا میں سے دادا یا کوئی دوسرارشتہ دار ، سب کے لئے حکمیہی ہے کہ یتیم کے مال کا انتظام اس طریقے سے کریں جو بہتر ہو اور جس میں مال کی حفاظت کی ساتھ ساتھ اس میں اضافے کی صورت بھی ہو۔ مثال کے طور پر اگر یتیم کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر تجارت وغیرہ کرنے میں بہتر نتائج کی توقع ہو تو پھر نیک نیتی کے ساتھ ایسا کر لیناجائز ہے اس آیت کریمہ میں اصل حکم یہ ہے کہ بری نیت سے یتیم کے مال کے قریب بھی نہ جائو ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” ان الذین یاکلون اموال الیتمیٰ ظلما انما یاکلون فی بطونھم نارا “ (النسائ) جو لوگ یتیموں کا مال ناجائز طریقے سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ کھاتے ہیں۔ لہذا یتیم کے مال کے قریب تک نہ جانے کا حکم دیا گیا ہے۔ سن بلوغت : فرمایا کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جائو مگر بہتر طریقے سے اور وہ بھی اس وقت تک حتیٰ یبلغ اشدہ کہ وہ یتیم اپنی قوت یعنی جوانی تک پہنچ جائے۔ مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ لفظ اشد مفرد ہے یا جمع۔ بعض فرماتے ہیں کہ اشد شدت کی جمع ہے اور بعض دوسرے حضرات کہتے ہیں کہ اشد شد کی جمع ہے اور مطلب دونوں صورتوں میں یہی ہے کہ اس کی قوتیں مکمل ہونے تکیتیم کے مال کی حفاظت کرو اور اس کے بعد اسے یتیم کو لوٹادو۔ قوتوں کیا جتماع سے فقہائے کرام یہ بھی مراد لیتے ہیں کہ یتیم کا محض بالغ ہونا کافی نہیں بلکہ اسے سوجھ بوجھ کا حامل ہونا بھی ضروری ہے چناچہ بعض فقہاء اس کے لئے اٹھارہ سے تیس سال تک کی عمر کا تعین کرتے ہیں کہ اس دوران یتیم اس قابل ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے مال کو خود تصرف میں لاسکے ، لہذا اسے اس کا مال واپس کردینا چاہئے ۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ اگر یتیم احمق نہ ہو تو پچیس سال کی عمر کو پہنچنے پر اس کا مال اسے واپس کردینا چاہئے اور بعض کے نزدیک 33 سال کی عمر تک بھی مال کو روک رکھنے کا عندیہ ملتا ہے بہرحال چھٹا حکم یہ ہے کہ سن بلوغت کے پہنچنے تک یتیم کے مال کی احسن طریقے سے نگرانی کرو اور اسے نقصان پہچانے کی غرض سے اس کے قریب بھی نہ جائو۔ ماپ تول میں کمی : اللہ نے ساتواں حکم یہ دیا ہے واوفوالکیل والمیزان بالقسط ماپ اور تول کو انصاف کے ساتھ پورا کرو یعنی اللہ نے ماپ تول میں کمی کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔ ماپ تول میں کمی کے جرم میں سابقہ بعض قومیں بھی ملوث رہی ہیں چناچہ ایکہ اور مدین والوں کا ذکر قرآن پاک میں بھی موجود ہے ایسے لوگوں کا طریقہ واردات یہ ہے کہ جب اپنا حق لینا ہوتا ہے تو پورا لیتے ہیں یعنی جب خود کوئی جنس دوسرے سے خریدتے ہیں تو پوری پوری لیتے ہیں اور جب وہی چیز آگے فروخت کرنا وہتی ہے تو ماپ تول میں کمی کرتے ہیں سورة مطففین میں موجود ہے کہ ماپ تول میں کمی کرنے والوں کے لئے ہلاکت و بربادی ہے کہ جب وہ لوگوں سے لیتے ہیں ” یستوفون “ تو پورا پورا لیتے ہیں اور جب ماپ کر یا تول کر دوسروں کو دیتے ہیں ” یخسرون “ تو کمی کردیتے ہیں۔ ایسا کرنا سخت گناہ اور حرام ہے۔ ترمذی شریف کی روایت 1 ؎ میں آتا ہے کہ ایک موقع پر حضور ﷺ نے تاجروں سے خطاب فرمایا یمعشر التجار انما ولیتم امرین ھلکت فیہ امم من قبلکم یعنی اے تاجروں کے گروہ ! تم دو چیزوں (ماپ اور تول) کے والی بنائے گئے ہو یہ تمہارا دور ہے مگر یاد رکھو ! ماپ تول میں خرابی کی وجہ سے پہلی کئی امتیں تباہ ہوگئیں ، لہذا تم اس معاملہ میں خرابی نہ کرنا کہ ماپ تول میں کمی کرنا قطعاً حرام ہے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جب کوئی چیز تول کر دو زن وارجح تو تول میں بڑھا کر دو ۔ اسی طرح پیمائش میں بھی کمی کی بجائے کچھ زیادہ ہی دے دیا کرو تا کہ تمہاری طرف کسی کا حق نہ رہ جائے اس کے ساتھ ساتھ آپ نے یہ بات بھی فرما دی کہ انسان کو اپنی طرف سے پوری کوشش کرنی چاہئے کہ کسی کا حق ضائع نہ ہو۔ اگر انسان کی نیک نیتی اور پوری کوشش کے باوجود کوئی کمی بیشی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ مواخذہ نہیں کریں گے بعض اوقات ایک چیز پوری پوری تول کردی جاتی ہے مگر وہی چیز جب دوبارہ تولی جاتی ہے تو اس میں کمی واقع ہوجاتی ہے ۔ فرمایا ایسی باتیں غیر اختیاری ہوتی ہیں اور اللہ تعالیٰ معاف فرما دیتا ہے کیونکہ اس کا ارشاد ہے ” لا تکلف نفسا الاوسعھا “ ہم کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے لہذا انسان کو اس معاملے میں خلوص نیت کے ساتھ حتی المقدور کوشش کرنی چاہئے اس کے باوجود اگر کوئی خامی رہ جائے تو عند اللہ ماخوذ نہیں ہوگا تو ساتویں حکم میں اللہ تعالیٰ نے ماپ تول میں کمی کو حرام قرار دیا ہے۔ ادائیگی فرض میں کوتاہی : حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب (رح) اپنی تفسیر عارف القرآن میں فرماتے ہیں کہ ماپ تول میں کمی پر وعید کا اطلاق ہر شخص کے اپنے فرائض منصبی پر بھی ہوتا ہے جس طرح ماپ تول میں کمی کرنا حرام ہے اسی طرح کسی شخص کی طرف سے ادائیگی فرض میں کوتاہی بھی حرام ہے۔ اگر کوئی مزدور مقررہ وقت تک کام نہیں کرتا ، کوئی ملازم پورا دن اپنی سیٹ پر نہیں بیٹھتا ، کوئی افسر ، جج یا سپاہی اپنی ڈیوٹی کا پابند نہیں ہے تو وہ بھی اسی حکم کے تحت آتا ہے اگر کسی شخص نے اپنی ڈیوٹی کی طرف ہمہ وقت توجہ نہیں دی اور اس میں کمی کا مرتکب ہوا ہے تو وہ بھی یہاں پر موجود وعید کا نشانہ بنتا ہے۔ ہمارے ملک میں تو یہ برائی اتنی عام ہوچکی ہے کہ اسے برائی تصور ہی نہیں کیا جاتا۔ دفتروں اور کارخانوں کا حال دیکھ لیں ۔ کہیں بھی آپ کو پوری حاضری نہیں ملے گی بلکہ اکثریت اس جرم میں ملوث ہوتی ہے۔ اللہ کا کوئی خال خال بندہ ہی ایسا ہوتا ہوگا جو اپنی ڈیوٹی پر پورا اترتا ہو۔ ورنہ معاملہ بہت ہی خراب ہے موطا امام مالک (رح) میں روایت موجود ہے ” لاکل شی وفاء و تطفیف “ یعنی ہر چیز میں وفا (پورا ہونا) اور کمی ہوتی ہے جو شخص نماز کو صحیح طور پر ادا نہیں کرتا ، نماز کے ارکان میں تعدیل کا خیال نہیں رکھتا وہ نماز میں کمی کرنے کا مرتکب ہوتا ہے اور یہی حرام ہے غرضیکہ جس طرح ماپ تول میں پورا پورا لینا دینا ضروری ہے اسی طرح اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی بھی لازمی ہے ، ان میں کسی قسم کی تقریط نہیں ہونی چاہئے ۔ ایسا کرنا عند اللہ جرم شمارہو گا۔ اگے فرمایا واذا قلتم فاعدلوا “ جب بات کرو تو انصاف کے ساتھ کرو ولو کان ذا قربیٰ “ اگرچہ تمہارا قرابتدار ہی کیوں نہ ہو یہاں پر قول سے مراد فیصلہ بھی ہو سکتا ہے اور شہادت بھی ، اور مطلب یہ ہے کہ اگر تم کسی معاملے میں حکم مقرر کئے گئے ہو تو تمہارا فیصلہ حق و انصاف پر مبنی ہونا چاہئے اور ناانصافی کی بات نہیں ہونی چاہئے خواہ فریق مقدمہ تمہارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو یہاں جس چیز کو حرام کیا گیا ہے وہ ناانصافی ہے کوئی عام بات ہو یا فیصلہ ہو ، انصاف کا دامن نہیں چھوٹنا چاہئے اور اگر کسی معاملہ میں آپ کی شہادت درکار ہو تو پھر بھی واقعات کے مطابق یا اپنے علم کی رو سے صحیح صحیح گواہی دو ۔ اس میں بھی کوتاہی حرام ہے اگرچہ تمہارا رشتہ دار ہی کیوں نہہو غلط بانی ، کذب ، واقعات کو توڑ موڑ کر پیش کرنا جس سے کسی کا نقصان مطلوب ہو یا کسی کو نفع پہنچانا مقصود ہو ، اس حکم کے تحت حرام ہے اللہ کا حکم ہے ” واقیموالشھادۃ للہ “ ہمیشہ حق کی گواہی دو اور بات کرو تو انصاف سے کرو اس کے خلاف کرنا حرام ہے۔ نواں حکم یہ ہے وبعھد اللہ اوفوا “ اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کرو اس عہد سے مراد عہدالست بھی ہو سکتا ہے وہی عہد جو اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدائش سے پہلے تمام انسانی روحوں کو جمع کر کے لیا تھا ” الست بربکم “ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں تو سب نے بیک زبان اقرار کیا تھا ” قالو بلیٰ “ مولا کریم ! کیوں نہیں۔ بیشک تو ہی ہمارا پروردگار ہے اس عہد کی یاد دہانی اللہ کے نبی اور اس کی کتابیں کراتی رہی ہیں اس عہد کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی واحدانیت پر قائم رہو۔ مفسر قرآن امام ابوبکر حصاص (رح) فرماتے ہیں کہ اس حکم میں تمام اموامر و نواہی آتے ہیں اور تمام فرائض و واجبات کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے اس کے علاوہ بندہ از خود بھی بعض چیزوں کو اپنے اوپر لازم قرار دے لیتا ہے۔ مثلاً جب وہ کوئی جائز منت یا نذر مانتا ہے تو اس کو پورا کرنا بھی ضروری ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی ایک صفت یہ بھی بیان فرمائی ہے ” یوفون بالنذر “ (سورۃ دہر ) وہ اپنی نذروں کو پورا کرتے ہیں۔ بہرحال عہد ، عہدالست ہو یا اوامرو نواہی یا نذر کا ، ان سب کو پورا کرنا ضروری ہے اور اس کے خلاف کرنا حرام ہے۔ یہاں تک نو حکم بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ذالکم وصکم بہ “ اللہ تعالیٰ اس کا تمہیں تاکیدی حکم دیتا ہے تعلکم تذکرون “ تا کہ تم نصیحت پکڑو۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ایک اصولی بات بیان فرمائی ہے۔ وان ھذا صراطی مستقیما “ اور یہی میرا سیدھا راستہ ہے جو قرآن پاک بیان کرتا ہے اور جس کے بعض اصول یہاں بیان کئے گئے ہیں اور یہی راستہ میری رضا اور خوشنودی کے مقام تک پہنچانے والا ہے ۔ فاتبعو “ لہذا اسی کا اتباع کرو اور دسواں اصول یہ ہے۔ ” ولا تتبعواسبیل “ اور مختلف راستوں پر مت چلو وجہ یہ ہے کہ فتفرق بکم عن سبیلہ کہ یہ ختلف راستے تمہیں اللہ کے راستے سے جدا کردیں گے ان راستوں سے گمراہی کے وہ تمام راستے مراد ہیں جن سے عقیدے اور عمل میں خرابی پیدا ہوتی ہے۔ تمام گمراہ فرقے ، رافضی ، خارجی ، معتزلہ ، جبریہ ، قدریہ اور منکرین حدیث عقیدے میں خرابی کی پیداوار ہیں اور عمل میں خرابی سے مراد یہ ہے کہ انسان بدعات پر عمل کرنے لگے جب صراط مستقیم کی وضاحت خدا تعالیٰ کے کلام اور نبی کے فرمان سے ہوچکی تو اب اس کے خلاف چلنے والے مدعات پر عمل پیرا ہیں جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے گمراہی عقیدے میں ہو یا عمل میں یہ بہرحال ناقابل برداشت ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے دسویں نمبر پر صراط مستقیم سے انحراف کرنے کو حرام قرار دیا ہے۔ بعض حضرات فقہائے کرام کے باہمی اختلاف کو سبل میں داخل کرتے ہیں اور کہت ہیں ائمہ کرام حنفی ، شافعی ، مالکی اور حنبلی کا اختلاف بھی اس آیت کی زد میں آتا ہے یہ بات درست نہیں بلکہ تمام امہ کرام کلھم علی الھدی ہدایت پر ہیں۔ ان کے درمیان اختلاف نہ تو عقیدے کا اختلاف ہے اور نہ عمل کا ۔ یہ ایسا اختلاف ہے جسے خود حضور ﷺ نے برداشت کیا ہے۔ اس کی مثال حدیث شریف میں موجود ہے۔ آپ نے بنو قریظہ کے ساتھ جہاد کے لئے جو لشکر روانہ فرمایا تو اسے دایت کی لا یصلین اں حدکم الا فی بنی قریظۃ تم میں سے کوئی شخص نماز نہ پڑھے مگر قریظہ میں جا کر۔ لشکر روانہ ہوگیا۔ چار میل کی مسافت تھی ، راستے میں نماز کا وقت ہوگیا۔ اب نماز کی ادائیگی کے سلسلے میں صحابہ ؓ دو گروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ بعض کا خیال تھا کہ وقت ہوگیا ہے راستے میں ہی نماز ادا کر لینی چاہئے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ حضور ﷺ کے ارشاد مبارک کا مقصد یہ تھا کہ کوئی شخص پیچھے نہ رہے۔ فوراً چلے جائو۔ اور قریظہ میں جا کر نماز ادا کرو۔ چناچہ انہوں نے راستے میں ہی نماز پڑھ لی۔ بعض دوسرے صحابہ ؓ نے ظاہر الفاظ پر محمول کرتے ہوئے راستے میں نماز ادا نہ کی بلکہ قریظہ پہنچ کر اس فرض سے سبکدوش ہوئے جب معاملہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو آپ نے کسی گروہ کا برا نہیں منایا بلکہ فرمایا کلا کما علی الحق “ یعنی دونوں گروہ حق پر ہیں جنہوں نے نماز راستے میں پڑھی وہ بھی حق پر ہیں اور جنہوں نے قریظہ پہنچ کر ادا کی ان کا موقف بھی درست ہے۔ بہرحال ائمہ دین کا اختلاف بھی اسی نوعیت کا ہے اور کسی کو بھی غلط قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی ، ظواہر وغیرہ سب حق پر ہیں بعض اسے بڑھا چڑھا کر فرقہ بندی پر محمول کرتے ہیں جو کہ ٹھیک بات نہیں ہے سب کا بنیادی عقیدہ صحیح ہے البتہ بعض اوقات سنت کی تشریح میں اختلاف ہوجاتا ہے بعض ائمہ ایک چیز کو ضروری قرار دیتے ہیں اور بعض غیر ضروری سمجھتے ہیں بعض کسی عمل کو مستحب خیال کرتے ہیں اور بعض اسے مکروہ سمجھتے ہیں ، یہ فروعی اختلافات ہیں اور کسی کے متعلق بدگمانی نہیں ہونی چاہئے۔ البتہ جو شخص کفر ، شرک یا بدعات میں ملوث ہوگیا وہ بلا شبہ گمراہ ہوگیا۔ بہرحال فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے صراط مستقیم پر گامزن ہوجائو اور گمراہی کے راستوں سے بچ جائو اگر گمراہی کے راستے پر چلو گے تو منزل مقصود کو نہیں پا سکو گے ۔ ذالکم وصکم بہ اللہ تعالیٰ یہ حکم تمہیں تاکیدی طور پر دیتا ہے۔ لعلکم تتقون تا کہ تم بچ جائو “ یعنی اس راستے پر چل کر ضلالت سے بچ جائو تمہاری خود ساختہ محرمات درست نہیں ہیں بلکہ اصل محرمات وہ ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے ان کی تشریح کردی گئی ہے اور حلت و حرمت کا اصول بھی بیان کردیا گیا ہے یہ وہی چیزیں جن کو اللہ کا قرآن بیان کرتا ہے اور اللہ کا نبی اس کی تشریح کرتا ہے۔ اس پر عمل کرو گے تو ناکامی سے بچ جائو گے۔
Ayahs 6:154–157

ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ تَمَامًا عَلَى الَّذِیْۤ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّكُلِّ شَیْءٍ وَّ هُدًى وَّ رَحْمَةً لَّعَلَّهُمْ بِلِقَآءِ رَبِّهِمْ یُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 6:154 in the Quran reader

(آپ ہماری طرف سے کہہ دیجئے) پھر ہم نے دی موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب ، پورا کرنے کے لئے نعمت کو اس شخص پر جل نے اچھا کام کیا۔ اور تفصیل ہر چیز کے لئے اور ہدایت اور رحمت تا کہ یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات ک ساتھ ایمان لائیں

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ فَاتَّبِعُوْهُ وَ اتَّقُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَۙ Open ayah 6:155 in the Quran reader

اور یہ کتاب (قرآن کریم) اس کو ہم نے نازل کیا ہے ، برکت والی ہے اس کا اتباع کرو اور ڈرتے رہو تا کہ تم پر رحم کیا جائے

اَنْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اُنْزِلَ الْكِتٰبُ عَلٰى طَآئِفَتَیْنِ مِنْ قَبْلِنَا١۪ وَ اِنْ كُنَّا عَنْ دِرَاسَتِهِمْ لَغٰفِلِیْنَۙ Open ayah 6:156 in the Quran reader

اس لئے تا کہ تم یہ نہ کہو کہ بیشک اتاری گئی ہیں کتابیں دو گروہوں پر ہم سے پہلے اور بیشک تھے ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے بیخبر

اَوْ تَقُوْلُوْا لَوْ اَنَّاۤ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْكِتٰبُ لَكُنَّاۤ اَهْدٰى مِنْهُمْ١ۚ فَقَدْ جَآءَكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ هُدًى وَّ رَحْمَةٌ١ۚ فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَذَّبَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ صَدَفَ عَنْهَا١ؕ سَنَجْزِی الَّذِیْنَ یَصْدِفُوْنَ عَنْ اٰیٰتِنَا سُوْٓءَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوْا یَصْدِفُوْنَ Open ayah 6:157 in the Quran reader

یا تم یہ کہو کہ اگر اتاری جاتی ہمارے اوپر وہ کتاب تو ہم ہوتے زیادہ ہدایت والے ان لوگوں سے پس تحقیق آگئی ہے تمہارے پاس کھلی دلیل تمہارے پروردگار کی طرف سے اور ہدایت اور حمت ، پس اس سے بڑا ظالم کون ہے جو جھٹلاتا ہے اللہ کی آیتوں جکو اور اعراض کرتا ہے ان سے ہم ضرور بدلہ دیں گے ان لوگوں کو جو اعراض کرتے ہیں ہماری آیتوں سے سخت عذاب اس وجہ سے کہ وہ اعراض کرتے تھے

پہلے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے شرکیہ افعال کا رد فرمایا اور پھر غیر اللہ کی نیازات کی تردید فرمائی ۔ اس کے بعد ان باتوں کا ذکر ہوا جن کو اللہ نے ناجائز قراردیا ہے اللہ نے ان کے متعلق سخت تاکیدی حکم دیا اور اس کو صراط مستقیم قرار دیا۔ نیز غلط راستوں پر چلنے سیمنع فرمایا ، کین کہ غلط راستے اللہ کے راستے سے جدا کرنے کا سبب بنتے ہیں اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے حوالے سے تورات کا ذکر فرمایا ہے اور نزول قرآن کا تذکرہ کیا ہے اللہ نے ان دونوں کتابوں کو ہدایت اور رحمت سے تعبیر کیا ہے اور قرآن پاک کا اتباع کر نیکی تلقین کی ہے پھر قرآن پاک کے نزول کی دو وجوہات بیان کر کے مشرکین کو ان کی طرف متوجہ کیا ہے نیز اس کلام پاک سے روگردانی کی مذمت بیان کی ہے او ایسا کرنیوالوں کو سخت سزا کی وعید سنائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ ثم اتینا موسیٰ الکتب پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السالم) کو کتاب عطا کی ۔ آیت کی ابتدا میں لفظ ثم کچھ اشکال پیدا کرتا ہے عربی زبان میں یہ لفظ عطف اور تاخیر کے لئے آتا ہے یعنی اس سے پہلے کوئی دوسرا کام انجام دیا جا چکا ہے اور بعد والے کام کے لئے ثم سے ابتداء ہوتی ہے۔ تو کیا اس کا مطلب یہ یہ کہ قرآن پاک پہلے نازل ہوا اور پھر اس کے بعد اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل فرمائی ؟ مگر ایسا نہیں ہے پہلے تورات عطا کی گئی اور اس کے بعد قرآن نازل ہوا۔ لہذا یہاں پر لفظ ثم سے ترتیب میں تاخیر مراد نہیں بلکہ صرف بیان میں تاخیر مراد ہے کہ پہلے کچھ اور بیان کی جا چکا ہے اور اس کے بعد تورات کی بات کی جا رہی ہے چناچہ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ اس عبارت کا تعلق گزشتہ سے پیوستہ درس والی آیت ” قل تعالوا “ سے ہے۔ وہاں بیان یہ تھا کہ آئو میں تمہیں پڑھ کر سنائوں وہ چیزیں جو اللہ نے تم پر حرام کی ہیں اور اب اسی پر عطف کر کے بیان کیا جا رہا ہے کہ پھر ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا فرمائی۔ امام ابن جرید (رح) اور بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت کی ابتداء میں الفاظ قل لھم مخدوف ہیں اور پورا مطلب یوں ہے کہ اے پیغمبر ! آپ ہماری طرف سے خبر دیتے ہوئے لوگوں سے کہہ دیں کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی۔ مفسرین کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس آیت سے پہلے توحید ، رد شرک اور محرمات کا بیان تھا اور سورة کے آخر میں بھی توحید ہی کا بیان اور ملت ابراہیمی کا خلاصہ آ رہا ہے تو یہاں درمیان میں نبوت اور رسالت کی بات ہے تو مطلب یہ ہے کہ جس طرح توحید اور شرک کا بیان سنا اسی طرح رسالت کی بات بھی سن لو ، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کی بات کی جا رہی ہے۔ مشرکین حضور ﷺ کی نبوت کا بھی انکار کرتے تھے اور آپ پر نازل ہونے والی کتاب قرآن پاک کو بیھ تسلیم نہیں کرتے تھے ، تو یہاں پر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی کتاب تورات کا ذکردلیل کے طور پر کیا ہے مقصد یہ ہے کہ حضور خاتم النبین (علیہ السلام) کا دعویٰ نبوت و رسالت کوئی انوکھی اور عجیب بات تو نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ پہلے بھی رسول بھجھتا رہا ہے۔ اور ان پر کتابیں بھی نازل ہوئیں ہیں ۔ لہذا حضور نبی کریم ﷺ کی رسالت اور نزول قرآن کا کیوں انکار کرتے ہو۔ بہرحال یہاں پر اللہ تعالیٰ نے نبوت کے انکار کے جواب میں نبوت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کیا ہے اور کتاب کے انکار کے جواب میں تورات کی بات کی ہے اس کے علاوہ دوسری بات یہی ہے گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ملت ابراہیمی کے جو دس اصول بیان فرمائے ہیں ان پر قرآن حکیم اور تورات دونوں کتابیں متفق ہیں ، چناچہ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی رسالت کی دلیل کے طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ کیا ہے۔ فرمایا ، آپ ہماری طرف سے کہہ دیں کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تورات عنایت کی۔ قرآن پاک اور تورات دونوں آسمانی کتابیں ہیں ، قرآن کریم کی طرح تورات بھی اپنے زمانے کی عظیم کتاب تھی۔ ایک مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” فاتوبکتب من عنداللہ ھوا اھدی منھما (القصص) اگر تمہیں ہماری یہ کتاب منظور نہیں ہے تو پھر کوئی اور کتاب لے آئو جو ان دونوں یعنی قرآن اور تورات سے زیادہ راہنمائی کرسکے ۔ یاد رہے کہ موجودہ تورات اپنی اصل حالت پر قائم نہیں رہ سکی۔ اس میں بہت سا تغیر و تبدل ہوچکا ہے اس وقت جو کتاب بائیبل کے نام سے موسوم ہے اس کے پہلے پانچ بات تورات ہی کا حصہ ہیں اس کے علاوہ بائیبل میں مزید 39 صحیفے شامل کئے گئے ہیں اور آخر میں چاروں انجیلیں ہیں غرضیکہ تورات اپنے زمانے میں جامعیت کے اعتبار سے ایک عظیم کتاب تھی ۔ باقی صحائف اتنی جامعیت کے حامل نہیں ہیں بلکہ تورات ایک مکمل قانون کی کتاب تھی۔ جس طرح یہ کتاب اپنے زمانے میں منفرد حیثیت کی حامل تھی اسی طرح موجودہ زمانے میں قرآن حکیم سب سے زیادہ راہنمائی کرنے والی کتاب ہے ، تو فرمایا اگر تم اس کتاب کو نہیں مانتے تو اس سے بہتر کوئی کتاب لے آئو ان دونوں کتابوں کا اکٹھا تذکرہ اس لحاظ سے بھی ہے کہ دونوں کے اوصاف مشترک ہیں۔ فرمایا کہ ہم نے موسیٰ علیہ اسلام کو کتاب عطا فرمائی تماما پورا کرنے کے لئے اپنی نعمت کو علی الذی احسن اس شخص پر جس نے بہتاچھا کام کیا۔ اس شخص سے مراد حضرت موسیٰ علیہ اسلام ہیں جنہوں نے تورات کے احکام لوگوں تک پہنچانے کے لئے بڑی محنت اور کوشش کی اس کے علاوہ الذی سے مراد ہر وہ شخص بھی ہو سکتا ہے جس نے تورات پر عمل کیا۔ ظاہر ہے کہ جس شخص تک تورات پہنچی پھر اس نے اسے تسلیم کیا اور اس کے احکام پر عمل کیا۔ اس پر اتمام نعمت ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر اپنی نعمت پوری کردی کہ اس نے ہدایت کو پا لیا اتمام نعمت کے سلسلے میں آگے قرآن پاک کا ذکر بھی آ رہا ہے۔ فرمایا تورات کا نزول ایک تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتمام نعمت ہے اور دوسرا وتفصیلا لکل شی اس میں ہر چیز کی تفصیل موجود ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ہر چیز سے مراد لکل مایحتاج الیہ فی امور الدین ہے یعنی دین کے معاملہ میں جن چیزوں کی احتیاج ہوتی ہ وہ سب اس میں آگئی ہیں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ کل شی سے ہر جزوی چیز مراد نہیں بلکہ دین کے قواعد ، کلیات ، اصول ، ضوابط وغیرہ مراد ہیں جو سب کے سب شامل ہیں۔ دین کے معاملے میں جن چیزوں کو انسان کی عقل و حواس ادراک کرنے سے قاصر ہے جیسے ثواب ، عذاب ، جنت ، دوزخ ، جائز ، ناجائز خدا کی مرضیات اور نامرضیات وغیرہ ، ایسی چیزوں کو وحی الٰہی کے ذریعے ہی سمجھا جاسکتا ہے اور یہ تمام تفصیلتا کتاب الٰہی میں پائی جاتی ہیں اسی لئے فرمایا کہ تورات میں ہر چیز کی تفصیل موجود ہے اس معاملہ میں حضور نبی کریم (علیہ السلام) نے بھی فرمایا ہے کہ دنیا کے معاملات میں تو ہو سکتا ہے کہ بعض معاملات کو بعض لوگ زیادہ بہتر جانتے ہوں مگر جب میں کوئی بات وحی الٰہی کے حوالہ سے کرتا ہوں تو وہ غلطی اور شک و شبہ سے پاک ہوتی ہے مقصد یہ ہے کہ کتاب الٰہی میں جن تفصیلات کا دعویٰ کیا گیا ہے وہ ایسی چیزیں ہیں جن کا ادراک وحی الٰہی کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ فرمایا وھدی ورحمۃ تورات میں ہدایت اور رحمت بھی موجودہدایت سے مراد راہنمائی ہے جس کا انسان سب سے زیادہ محتاج ہے ۔ اسی لئے ہمیشہ رب العزت سے دعا کی جاتی ہے ” اھدنالصراط المستقیم “ اے اللہ ! ہماری سیدھے راستے کی طرف راہنمائی فرما۔ دنیا کی زندگی میں انسان کو قدم قدم پر راہنمائی کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توحید پر پختگی ، نیک امور کی انجام دہی ، برائی سے پرہیز ، آخرت کی فکر اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کے سلسلے میں انسان ہمیشہ ہدایت کا محتاج ہے اور یہ راہنمائی اسے کتاب الٰہی سے ہی حاصل ہو سکتی ہے اسی لئے تورات کو ہدایت کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ تورات کو رحمت کا لقب بھی دیا گیا ہے اور یہ کسی عمل کے نتیجہ میں آتی ہے جب انسان اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ ہدایت کو اختیار کرتا ہے اور اس کے بھیجنے والے پر صدق دل سے اعتقاد رکھتا ہے اور پھر اس میں دیئے گئے احکام پر عمل پیرا ہوتا ہے تو اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی رحمت شامل حال ہوتی ہے۔ فرمایا نزول ہدایت و رحمت کا مقصد یہ ہے لعلھم بلقاء ربھم یومنون “ تا کہ یہ لوگ اپنے رب کی ملاقات پر یقین رکھیں ۔ جب کتاب الٰہی کو پڑھیں گے ان کے لئے ہدایت کا راستہ واضح ہوگا تو انہیں یقین آجائے گا کہ ایک دن انہیں اپنے رب کی بارگاہ میں پیش ہو کر اس دنیا کی زندگی کا حساب بھی پیش کرنا ہے ۔ جب کسی انسان کا عقیدہ آخرت پر مضبوط ہوجاتا ہے تو پھر وہ برائیوں سے رک کر نیکی کی طرف مائل ہوجاتا ہے اور جب یہی عقیدہ کمزور پڑجاتا ہے تو پھر اسے کسی قسم کی برائی کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں ہوتی وہ شتر بےمہار ہو کر جہاں چاہے چلا جاتا ہے اور آخرت کی دائمی زندگی کو عداب میں مبتلا کرلیتا ہے ۔ مقصد یہ کہ برائی سے بچنے کے لئے آخرت پر ایمان لانا ضروری یہ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے متقین کی صفات بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہے ” وبالاخرۃ ھم یوقنون (البقرہ) وہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ تورات کا تعارف کرانے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے اپنی آخری کتاب قرآن کریم کا تذکرہ فرمایا ہے وھذا کتب اور یہ کتاب بھی ، جس کی یہ بھی ایک سورة ہے ۔ اس کی کل 114 سورتیں ہیں اور ہر سورة ایک صحیفہ ہے۔ انزلنہ اس کو بھی ہم نے نازل کیا ہے۔ یہ بھی ایک عظیم کتاب ہے۔ اپنے حجم کے اعتبار سے تو یہ چھوٹی ہے مگر جامعیت کے اعتبار سے اس سے عظیم کوئی کتاب دنیا میں موجود نہیں۔ تمام تر اختصار کے باوجود اس کتاب میں علم و عرفان کا وہ خزانہ موجود ہے جس پر انسانیت ابدالآباد پر حاوی نہیں ہو سکتی۔ اور یہ ایسی کتاب ہے جسے بتدریج نازل کیا گیا اور پوری کتاب تئیس (23) برس میں مکمل ہوئی۔ برخلاف اس کے تورات کو یکبارگی عطا کیا گیا۔ اس لئے اس کے متعلق فرمایا ثم اتینا “ پھر ہم نے عطاکی لکھی لکھائی پوری کتاب مگر قرآن حکیم کے متعلق فرمایا انزلنہ ہم نے اسے نازل فرمایا یعنی تھوڑا تھوڑا کر کے بتدریج اپنے آخری نبی پر نازل فرمایا سورة بنی اسرائیل میں ہے ” وبالحق انزلنہ ہم نے اسے حق کے ساتھ نازل فرمایا یہ بھی خدا کا کلام اور وحی الٰہی ہے۔ تورات کی طرح یہ بھی چشمہ ہدایت ہے اور جس رسول پر اس کا نزول ہوا ہے ، وہ تمام رسولوں میں خدا کا آخری اور برگزیدہ رسول ہے۔ فرمایا اللہ کی اس آخری کتاب کی ایک صفت مبرک ہے یہ ہر لحاظ سے بابرکت اور مقدس کتاب ہے برکت کا معنی ہوتا ہے مقدس زیادتی ، ہر زیادتی کو برکت سے تعبیر نہیں کرسکتے بلکہ برکت اس زیادتی کو کہتے ہیں جس میں خدا تعالیٰ کی طرف سے خیر و خوبی شامل ہو امام ابوبکر حصاص (رح) فرماتے ہیں کہ برکت ذات باری تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے۔ اور برکت کو نازل کرنے والا صرف خدا تعالیٰ ہے جس کا کوئی شریک نہیں بہرحال فرمایا کہ یہ قرآن پاک ایک بابرکت کتاب ہے ۔ جب یہ بات واضح ہوگئی کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ بابرکت ہے تو حکم ہوا فاتبعوہ اب اس کا اتباع کرو ۔ اس میں موجود تمام احکام کو بسروچشم تسلیم کرو اور ان پر عمل پیرا ہو جائو اس میں مندرج فرائض سے کوئی شخص مستثنیٰ نہیں ہے ۔ بعض نوافل اور مباحات ہیں۔ بعض اس سے کم درجے کی مکروہات بھی ہیں۔ یہ تمام کی تمام واجب التعمیل ہیں۔ البتہ فرائض کو اولیت دو ، فرض واجب اور ارکان پر عمل لازم ہے ۔ فقہاء محدثین نے مثال کے طور پر وضاحت کی ہے کہ نماز میں فرض ، واجب ، ہنن ، مستحب ، مباح ، نوافل وغیرہ سب آتے ہیں ہر ایک کے درجے کو پہچاننا اور اس پر عمل کرنا ضروری ہے اگر فرض ترک ہوجائے تو نماز نہیں ہوتی واجب رہ جائے تو سجدہ سہو سے تلافی ہوجاتی ہے۔ سنت ترک ہوجائے تو نماز ناقص رہتی ہے اور کوئی مباح یا مستحب چھوٹ جائے تو نماز میں کوئی حرج واقع نہیں ہوتا۔ بہرحال فرمایا کہ قرآن پاک کے ہر حکم پر عمل کرو واتقوا اور ڈرتے رہو اور برائی سے بچتے رہو۔ کفر ، شرک اور بدعت کے قریب نہ جائو لعلکم ترحمون تا کہ تم پر رحم کیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے صول کا یہی ذریعہ ہے کہ اس بابرکت کتاب کا اتباع کیا جائے ، اس کے احکام کی خلاف ورزی سے ہمیشہ ڈرتے رہنا چاہئے یہ دونوں کتابوں یعنی تورات اور قرآن پاک کی پوزیشن واضح ہوگئی اور ان کتابوں میں موجودہ متفق علیہ چیزوں کا ذکربھیہو گیا۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم کے نزول کی دو وجوہات بیان فرمائی ہیں پہلی وجہ یہ ہے کہ ان تقولو اے مشرکین عرب ! تم یہ نہ کہ سوانمآ انزل الکتب علی طائفتین من قبلنا کہ ہم سے پہلے دو گروہوں پر کتاب اتاری گئی اور یہ گروہ یہود اور نصاریٰ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے بالترتیب تورات اور انجیل نازل فرمائی۔ یہ دونوں گروہ اہل کتاب کہلاتے ہیں اور مشرکین ان سے بخوبی واقف تھا امام ابوبکر حصاص (رح) فرماتے ہیں کہ مجوسیوں کو اہل کتاب میں شامل نہیں کیا گیا ، کیونکہ وہ خالصتاً مشرک تھے ۔ اسی لئے حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ مجوسیوں سے فدیہ لے لو مگر نہ ان کا ذبیح کھائو اور نہ ان کی عورتوں سے نکاح کرو۔ برخلاف اس کے یہود و نصاریٰ کا ذبیحہ بھی حلال ہے اور ان کی عورتوں سے نکاح بھی جائز ہے۔ فرمایا تم پر یہ کتاب اس وجہ سے اتاری ہے کہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہم سے پہلے دو گروہوں پر تو کتابیں نازل ہوئیں وانا کنا عن دراستھم لغفلین اور ہم ان کے پڑھنے پڑھانے سے بیخبر ہے یعنی ہم تو ان کتابوں کو پڑھ ہی نہیں سکے کیونکہ تورات عبرانی زبان میں تھی جب کہ انجیل سریانی زبان میں اور ہماری زبان عربی ہے لہذا ہم ان سے کوئی استفادہ حاصل نہیں کرسکے۔ سابقہ کتب عربوں تک نہ پہنچنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کتب کے حاملین نے انہیں آگے پہنچانے کا فریضہ بھی ادا کیا۔ لہذا ہم تک ان کتابوں کے مضامین نہیں پہنچ پائے اور ہم ان کو پہچاننے اور ان پر عمل کرنے سے قاصر رہے ہیں ۔ چناچہ اب اللہ تعالیٰ نے یہ قرآن کریم خود عربی زبان میں نازل فرما کر تمہارے مذکورہ عذر کو رفع کردیا ہے اب تم یہ عذرلنگ پیش نہیں کرسکتے کہ اللہ کے احکام تم تک نہیں پہنچ سکے۔ نزول قرآن کی دوسری وجہ اللہ نے یہ بیان فرمئای اوتقولو لو انا انزل علینا الکتب یا کل کو تم یہ نہ کہہ سکو کہ اگر ہم پر کتاب اتاری جاتی لکنا اھدی منھم تو ہم یہودی و نصاریٰ سے زیادہہدایت یافتہ ہوتے عرب کے لوگ اہل کتاب سے زیادہ ذہین تھے اور انہیں یقین تھا کہ اگر ان کی طرف کوئی آسمانی کتاب آتی تو وہ اہل کتاب کی نسبت زیادہہدایت یافتہ ثابت ہوتے ۔ نفسیات اور قوموں کے محققین کا یہ متفقہ فیصلہ ہے کہ عرب کے لکھنے پڑھنے سے عاجز لوگ بلا کی ذہانت کے حامل تھے۔ عموماً ان پڑھ ہونے کے باوجود ان کی قوت حافظہ بہت تیز تھی ان میں بڑے بڑے ادیب اور شعراء تھے جنہیں اپنے کلام پر عبور حاصل تھا۔ لہذا ان کا یہ دعویٰ معقول تھا کہ اگر ان کے پاس کتاب آتی تو وہ اس سے بہتر طور پر مستفید ہوتے۔ اس زمانے میں یہود و نصاریٰہی پڑھے لکھے لوگ تھے اور ان کے مقابلے میں عرب لوگ امی کہلاتے تھے۔ باقی دنیا بھی جہالت کے اندھیروں میں غرق تھی ۔ تہذیب نام کی چیز نہ ترکوں میں تھی اور نہ ہنادوستان والوں کے پاس یورپی قوموں کی پسماندگی کا حال یہ تھا کہ انہیں لباس پہننا بھی نہیں آتا تھا بلکہ اپنی پشتوں پر چھڑا باندھا کرتے تھے۔ تو اس زمانے میں بھی عربوں کی ذہانت قابل داد تھی اور ان کا یہ دعویٰ معقول تھا کہ اگر ان کے پاس کتاب آتی تو وہ اس کے بہتر عامل ثابت ہوتے۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ قرآن کریم نازل کرنے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ عرب کے لوگوں کا مذکورہ اعتراض رفع ہوجائے۔ فرمایا اے مشرکین عرب ! تمہاریان اعتراضات کی پیش بندی کے طور پر فقد جآء کم بینۃ من ربکم تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس اب کھلی دلیل آ چکی ہے وھدی ورحمۃ تورات کی طرح یہ کتاب بھی ہدایت اور رحمت کا چشمہ ہے اس کتاب کو اللہ نے ھدی للعلمین فرمایا ہے اور اس کی تشریح کرنے والے کو رحمۃ للعلمین “ کا لقب دیا ہے یہ اپنے مخاطبین کے لئے منبع ہدایت ہے اور پھر اس پر عمل کرنے والوں کے لئے چشمہ رحمت بھی ہے جو اس پر عمل کرے گا وہ اللہ کی رحمت کے مقام جنت میں داخل ہوگا۔ اس پر ایمان رکھنے والوں پر اللہ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے حتیٰ کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے جو لوگ بیٹھ کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں یا کتاب الٰہی کیتلاوت کرتے ہیں ان کو فرشتے ہر طرف سے گھیر لیتے ہیں آسمان تک فرشتوں کا ہجوم ہوتا ہے اور خدا تعالیٰ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ کلام مکمل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے فمن اظلم ممن کذب بایت اللہ اس شخص سے بڑا ظالم کون ہے جو الہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کرتا ہے۔ وصدف عنھا اور قرآن کریم سے اعراض کرتا ہے جو شخص ان خوبیوں کی حامل کتاب سے روگردانی کرتا ہے وہ بدبخت ہی ہو سکتا ہے ۔ فرمایا حقیقت واضحہو جاین کے بعد جو لوگ اس سے اعراض کریں گے۔ سنجزی الذین یصدفون عن ایتنا سوء العذاب ہم انہیں سخت عذاب میں مبتلا کریں گے وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کتاب نازل فرما کر منکرین کے ہر ممکنہ اعتراض کو رفع کردیا ہے اور اب عذر کرنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ لہذا اب جو لوگ اعراض کریں گے وہ سخت سزا کے مستحق ہوں گے بما کانو یصدفون اس وجہ سے کہ وہ ہماری کتاب اور آیات سے روگردانی کرتے تھے۔ انہوں نے واضح ہدایت آجانے کے باوجود اس کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اب ان کا بدلہ یہی ہے کہ وہ ہمارے سخت ترین عذاب کا مزہ چکھیں۔