Ayah 6:74ربط آیات
گزشتہ آیات میں شرک کی تردید بیان ہوئی تھی اور اس بات کی وضاحت کی گئی تھی کہ مشرک لوگ جن ہستیوں اور چیزوں کو اللہ کے سوا پکارتے ہیں وہ نفع نقصان کے کچھ مالک نہیں پھر ایمان والوں کے متعلق فرمایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو اختیار کرتے ہیں اور کسی دوسری ہستی کی عبادت نہیں کرتے ‘ نہ ہی کسی کو اپنا کارساز مانتے ہیں۔ وہ تو اللہ رب العالمین کی اطاعت کرتے ہیں کیونکہ ان کے لئے یہی حکم ہے کہ وہ نماز قائم کریں اور خدا تعالیٰ سے ڈرتے رہیں جس کے سامنے سب کو اکٹھا ہونا ہے وہی ارض و سما کا مالک ‘ با اختیار اور متصرف ہے۔ اس کی بات برحق ہے ‘ بادشاہی صرف اسکی ہے جس دن وہ صور پھونکنے کا حکم دے گا ‘ کائنات کا سارا نظام درہم برہم کردیا جائے گا ‘ محاسبے کی منزل آجائے گی ‘ اللہ تعالیٰ عالم الغیب والشہادۃ ہے۔ وہ حکمت کا مالک اور ہر چیز سے باخبر ہے۔
آج کا درس بھی تردید شرک پر ہی مشتمل ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ابولموحدین ہوئے ہیں۔ ان کا باپ اور پوری قوم گمراہی میں مبتلا تھی ‘ بتوں کی پوجا کرتے تھے۔ آمدہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس دعوت توحید کا ذکر فرمایا ہے جو ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آذر کے سامنے پیش کی۔ آپ نے شرک کی قباحتوں کو واضح کر کے اس سے منع فرمایا۔ آپ نے بتایا کہ مسئلہ توحید تمام انبیاء (علیہم السلام) کی مشترکہ دعوت ہے۔ ہر نبی نے اپنی قوم کے سامنے یہی دعوت پیش کی کہ تمام معبودان باطلہ کو چھوڑ کر صرف ایک اللہ کی عبادت کرو۔ حضرت ابراہیم کا واقعہ بیان کرنے سے مشرکین عرب کو سمجھانا مقصود ہے کہ اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ بھی وہی دعوت پیش کر رہے ہیں جو تمہارے جد امجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پیش کی ‘ اس لئے یہ کوئی انوکھی دعوت نہیں ہے۔ اسے قبول کرلو۔ تمام انبیاء کا دین یہی رہا ہے۔
عرب میں شرک کی ابتداء
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب سب کیلئے قابل صد احترام ہیں۔ عراق اور عرب کے دیگر علاقوں کے صابی لوگ بھی آپ کا احترام کرتے تھے کیونکہ جدالانبیاء ہونے کی حثیت سے اپ سب کے جانے پہچانے تھے۔ اگرچہ ان لوگوں نے آپ کے دین کو بگاڑ رکھا تھا۔ تاہم وہ سب اپنے آپ کو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) ہی کی طرمنسوب کرتے تھے۔ یہود و نصاریٰ حضرت اسحاق (علیہ السلام) کے واسطے سے آپ کی نسل سے تھے اور عرب کے لوگ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کی وجہ سے اپنا تعلق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے جوڑتے تھے ‘ بلکہ عربوں کا دعویٰ تو یہ تھا کہ صرف وہی اصل دین ابراہیمی پر ہیں ‘ باقی کوئی نہیں۔ کسی حد تک حقیقت حال بھی یہی تھی۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد تقریباً ڈیڑھ ہزار سال تک عرب کے لوگ دین حنیف پر قائم تھے اور ان میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کا طریقہ ہی رائج تھا۔ تاہم حضور ﷺ کی بعثت سے تقریباً چار پانچ سو سال پہلے آپ کے اجداد میں سے قصی بن کلاب کے زمانے میں عرب کی سرزمین پر شرک کی ابتداء ہوئی اور پھر آہستہ آہستہ یہ وبا ایسی پھیلی کہ عربوں کا کوئی گھر شرک سے خالی نہ رہا۔ ہزاروں میں کوئی اکا دکا آدمی ہی صحیح دین پر ملتا تھا ‘ وگرنہ تمام بنی اسماعیل شرک میں غرق ہوچکے تھے۔
ملت ابراہیمی سے پہلے صابی ملت کا دور تھا۔ امام جلال الدین سیوطی (رح) اپنی تاریخ کی کتاب ” حسن المحاضرۃ فی احوال المصر والقاھرۃ “ میں لکھتے ہیں کہ صابی ملت اصل میں حضرت ادریس (علیہ السلام) کی ملت ہے آپ پر بہت سے صلحیفے نازل ہوئے۔ آپ کی ملت میں بنیادی طور پر یہ چار چیزیں تھیں۔ توحید ‘ طہارت ‘ صلوٰۃ اور صوم۔ مگر جب اس ملت میں بگاڑ پیدا ہوا ‘ تو ان میں سے کوئی چیز بھی باقی نہ رہی ۔ جس طرح یہود ونصاریٰ نے اصل دین کو بگاڑ رکھا تھا ‘ اسی طرح صابیوں نے بھی اصل دین کو بالکل مسخ کردیا تھا۔
ستارہ پرستی
صابی ملت والوں کا ستاروں کے ساتھ خاص طور پر تعلق ہے۔ یہ لوگ آسمانی چیزوں یعنی ستاروں ‘ سورج اور چاند وغیرہ میں خدائی کرشمہ مانتے تھے اور ان کی پوجا کرتے تھے۔ رومیوں اور یونانیوں نے ان ستاروں کے نام پر مندر بنائے ہوئے تھے ۔ وہاں پر زہرہ ‘ مشتری اور عطارد کے نام مندر موجود تھے۔
عرب میں شعریٰ سیارے کی پوجا کی جاتی تھی جس کی تردید سورة نجم میں موجود ہے جہاں اللہ تعالیٰ کی صفات کا ذکر ہے ‘ وہاں یہ بھی ہے ” وانہ ھو رب الشعریٰ “ یعنی شعریٰ سیارے کا رب بھی وہی اللہ ہے۔ لہٰذا اس سیارے کی پوجا کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ یہ سیارہ بھی اسی خدائے واحد کے ہکم کے تابع ہے اس میں الوہیت کی کوئی بات نہیں ‘ وہ تو مخلوق ہے اور اللہ کے حکم سے چلتا ہے عبادت کے لائق صرف خداوند قدوس ہے جو اس سیارے کا بھی خالق ہے۔
ماہرین فلکیات بتاتے ہیں کہ شعریٰ سیارہ ہماری اس زمین سے بہت دور ہونے کی وجہ سے بہت چھوٹا نظر آتا ہے ‘ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ اس کا حجم سورج کے حجم سے بیس ہزار گنا بڑا ہے۔ ادھر سورج ہماری زمین سے بارہ لاکھ گنا بڑا ہے اور زمین سے اس کا فاصلہ نوکروڑ تیس لاکھ میل ہے نظام شمسی میں جتنے سیارے پائے جاتے ہیں ‘ ان میں سورج سب سے بڑا ہے اور باقی سارے سیارے اس سے چھوٹے ہیں۔ بہرحال شعریٰ سیارہ یہاں سے اربوں میل دور ہونے کی وجہ سے کہکشاں کے ایک چھوٹے سے ستارہ کی صورت میں نظر آتا ہے۔ تو اللہ نے فرمایا کہ اس شعریٰ جیسے بڑے سیارے کا رب بھی اللہ ہے۔ تو پھر تم ان تمام ستاروں اور سیاروں کی پرستش کیونکر کرتے ہو۔ عبادت کے لائق تو فقط وہی ہے جو ہر چیز کا خالق اور مالک ہے شعریٰ کی طرح سورج کی پرستش بھی کی جاتی تھی ‘ مصر میں سورج کے نام پر مندر موجود تھے جو فرعون کے زمانے میں بھی پائے جاتے تھے۔ سورج کے کچھ پرستار آج بھی دنیا میں موجود ہیں۔ جب یہ طلوع ہوتا ہے کہ سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر اس کو سلام کرتے ہیں اور اس کی پوجا کرتے ہیں ‘ اس کو سورج دیوتا مانتے ہیں۔
رات کو بارش ہوئی تو صبح کے وقت حضور ﷺ نے فرمایا کہ مخلوق میں دوقسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ کہ جب بارش ہوئی تو کہا مطرنا برحمتہ اللہ و فضلہ ہم پر اللہ کی رحمت اور اس کے فضل سے بارش ہوئی۔ یہ بندے اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور ستاروں میں کوئی کرشمہ نہیں مانتے۔ اور دوسری قسم کے وہ لوگ ہیں جنہوں نے کہا کہ فلاں نچھتر طلوع ہوا تو بارش ہوئی یعنی فلاں ستارے کی وجہ سے ہمیں بارش نصیب ہوئی۔ فرمایا یہ لوگ ستاروں پر یقین رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرتے ہیں۔ علم نجوم والے بھی سعادت اور نحوست کو ستاروں کی طرف منسوب کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جب فلاں سیارہ فلاں کے بالمقابل آجائے گا تو اس وقت پیدا ہونے والا بچہ سعادت مند ہوتا ہے اور اگر فلاں فلاں ستارے آمنے سامنے آجائیں تو بچہ منحوس پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح وہ حوادثات دنیا کو سیاروں اور ستاروں کی طرف منسوب کرتے ہیں جو کہ کفر ہے۔ سیاروں میں کوئی ذاتی تاثیر نہیں ‘ وہ تو اس کے نظام کا ایک حصہ ہیں۔ یہ سب اس کی قدرت کا کرشمہ ہیں کوئی چمک دیتا ہے ‘ کوئی روشنی اور کوئی حرارت ‘ لہٰذا جو لوگ تمام امور کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہیں ‘ وہ اللہ کے شکرگزار بندے ہوتے ہیں اور جو لوگ ستاروں میں تاثیر مانتے ‘ وہ کفران نعمت کے مرتکب ہوتے ہیں اگر انہوں نے کسی چیز کو موثر بالذات سمجھ لیا تو مشرک ہوگئے کافر بہ و مومن بالکواکب یعنی اللہ تعالیٰ کا انکار کر کے کافر بن گئے اور ستاروں پر ایمان لے آئے۔ بہرحال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے سامنے جو استدلال پیش کیا ‘ اس میں یہی بات سمجھائی گئی ہے کہ سیاروں اور ستاروں میں کوئی تاثیر نہیں اور نہ ہی یہ عبادت کے لائق ہیں۔ اصل مدبر اور موثر تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جس کا حکم ستارے بھی مانتے ہیں ‘ لہٰذا ستاروں اور سیاروں کی عبادت کسی طور پر روا نہیں۔ بعض لوگوں نے ستاروں کے نام پر بت بنائے ہوئے تھے جن کی پوجا کرتے تھے۔ ان میں الوہیت کی صفت مانی جاتی تھی۔ پھر ان کی تعظیم ہوتی ‘ ان پر نذرانے رکھے جاتے تھے ‘ آج کل تعزیہ کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جاتا ہے ‘ اس پر نذرانے ڈالے جاتے ہیں۔ اور پھر قبروں کے ساتھ تو بہت کچھ ہو رہا ہے۔ پہلے پختہ بنائی جاتی ہیں۔ ان پر بڑے بڑے گنبد تعمیر ہوتے ہیں۔ پھر ان کو غسل دیا جاتا ہے۔ چادریں چڑھائی جاتی ہیں۔ نذر و نیاز ہوتا ہے ‘ کوئی چومتا ہے اور کوئی سجدہ کرتا ہے یہی کچھ صابی ملت کے لوگ ‘ ہندو وغیرہ کرتے تھے اور یہی چیز آج مسلمانوں میں بھی موجود ہے۔
نظام شمسی
جس کائنات میں ہم رہتے ہیں اسے نظام شمسی کا نام دیا گیا ہے اللہ تعالیٰ نے سات سیاروں کا یہ نظام کمال حکمت کے ساتھ بنایا ہے۔ اس نظام میں سورج سب سے بڑا سیارہ ہے ‘ زمین بھی انہی میں سے ایک سیارہ ہے جس پر ہم رہتے ہیں۔ یہ تمام سیارے سورج کے گرد اپنی اپنی مقررہ رفتار کے ساتھ چکر لگا رہے ہیں۔ اتنے بڑے بڑے سیاروں کی فضا میں گردش قدرت کے قائم کردہ قانون جذب و کشش کے تحت ہو رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر سیارے میں ایک خاص درجے کی کشش رکھی ہے جس کی وجہ سے ان کی رفتار معین ہے اور اپنے اپنے مدار میں چل رہے ہیں۔ اس متعینہ کشش کی وجہ سے یہ سیارے نہ تو اپنے مدار سے باہر نکل سکتے ہیں اور نہ ہی یہ ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے سورج میں سب سے زیادہ کشش رکھی ہے۔ جس کی وجہ سے تمام باقی سیارے اس کے گرد ایک فاصلے اور خاص رفتار سے چکر لگانے پر مجبور ہیں۔ جو چیز غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ سیاروں کی یہ کشش خود بخود نہیں آ رہی ہے بلکہ اسے اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے ‘ یہی وجہ ہے کہ ان سیاروں کا آپس میں ٹکرائو نہیں ہوتا۔ اس مالک الملک کا فرمان ہے کہ ایک دن آنے والا ہے جب یہ سیارے آپس میں ٹکرا کر پاش پاش ہوجائیں گے اور کائنات کا سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔ جب قیامت برپا ہوگی تو ہر چیز فنا ہوجائے گی پھر دوبارہ قائم ہوگی اور محاسبے کا عمل شروع ہوگا۔
ابراہیم علیہ السام کا وطن مولود
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ولادت باسعادت آج سے تقریباً پانچ ہزار سال پہلے کلدان یعنی بابل کے مقام اور میں ہوئی۔ موجودہ جغرافیے کے مطابق یہ علاقہ اب عراق میں شامل ہے۔ بابل شہر بغداد سے ساٹھ ستر میل دور آباد تھا یہاں پر بڑے متمدن لوگ رہتے تھے ‘ اس زمانے میں نمرود ابن کنعان وہاں کا بادشاہ تھا۔ یہ بڑا ظالم ‘ جابر اور مشرک آدمی تھا۔ مصر کے فرعون کی طرح یہ بھی لوگوں پر ظلم و ستم ڈھاتا تھا۔ گردش زمانہ کے ہاتھوں بابل کا مشہور و معروف شہر جہاں کلدانی نسل آباد تھی ‘ تباہ و برباد ہوگیا ‘ اب صرف کھنڈرات باقی ہیں جن کی کھدائی کر کے ماہرین آثار قدیمہ کلدانی تہذیب کے متعلق معلومات حاصل کرتے ہیں۔ انگریزوں نے سلطان ترکی سے اجازت لے کر کھدائی شروع کی تو نیچے سے سنگ مرمر کے بنے ہوئے عجیب و غریب مجسمے برآمد ہوئے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانے میں سنگ تراشی کو عروج حاصل تھا ‘ لوگ خود ہی پتھروں کو تراش کر بت بناتے تھے اور پھر خود ہی ان کی پرستش کرنے لگتے۔
پرانی تہذیبوں کے آثار پوری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ہمارے ہاں ہڑپہ اور موہنجوداڑو کے کھنڈرات سے پانچ چھ ہزار سال پرانے آثار ملے ہیں۔ بلوچستان اور سوات میں بھی بعض قدیم تہذیبوں کے آثار ملے ہیں۔ ہندوستان میں بدھ سے بھی سینکڑوں سال پہلے کے نشانات ملے ہیں۔ مصر میں ابراہم کے نام سے جو بڑے بڑے گنبد نظر آتے ہیں ‘ ان کی تاریخ بھی ساڑھے پانچ ہزار سال پرانی ہے بعض مورخین کا خیال ہے کہ یہ اس زمانے کے حکمرانوں کی قبریں ہیں ‘ جن پر یادگار کے طور پر عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ مصر کا سب سے بڑا حرم چار سو فٹ بلند ہے جس پر پچھتر پچھتر من وزنی پتھر لگائے گئے ہیں آج تو سائنس بہت ترقی کرچکی ہے۔ ایسے کاموں کے لئے بڑی بڑی مشینیں اور کرینیں ایجاد ہوچکی ہیں جنہیں بجلی کے ذریعے کام میں لایا جاتا ہے ‘ مگر اس زمانے میں جب یہ وسائل میسر نہیں تھے ‘ اتنی بڑی بڑی عمارتیں بنانا حیران کن ہے۔ وہ بھی بڑے ذہین لوگ تھے جنہوں نے اتنے بڑے کام محض افرادی قوت کے ساتھ انجام دیئے۔
ابراہیم (علیہ السلام) کے والد آزر
تورات کے بیان کے مطابق حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کا نام تارخ تھا ‘ مگر اس آیت کریمہ میں ان کا نام آزر بتایا گیا ہے۔ چناچہ مفسرین کے نزدیک یہ تفاوت اشکال کا باعث بنا ہے۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ تارخ اور آزر ایک ہی شخصیت ہے۔ قرآن پاک میں تو واضح طور پر آزر لکھا ہے اور اگر ان کا اصل نام تارخ بھی تسلیم کرلیا جائے تو آزر لقب ہو سکتا ہے اور بعض اوقات نام کی نسبت لقب زیادہ مشہور ہوجاتا ہے جس طرح حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب اسرائیل تھا تو وہ زیادہ تر اسی لقب سے پہچانے جانے لگے اور ان کی اولاد بنی اسرائیل کے نام سے مشہور ہوئی۔ آزر ایک بت کا نام بھی تھا جس کی وہ پوجا کرتے تھے بلکہ خود بت تراش اور بتوں کی تجارت کرتے تھے آپ مشرکین کے امام اور مندروں کے محافظ تھے۔ ان کا لقب آزر شاید اسی بت کی نسبت سے مشہور ہوگیا۔ بہرحال قرآن پاک نے ان کا نام آزر بتایا ہے۔ دونوں ناموں میں سے ایک کو اصل نام اور دسرے کو لقب مان لیا جائے تو تعارض باقی نہیں رہتا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ آزر ابراہیم (علیہ السلام) کے باپ نہیں بلکہ چچا تھے جو کہ درست نہیں ہے ‘ تارخ اور آزر ایک شخصیت کے دو نام ہیں جو بلاشبہ مشرک تھے۔
ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پیدائش اور پرورش کے متعلق بہت سے واقعات تفسیری روایات میں آتے ہیں۔ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ نے فرعون کی دست برد سے بچایا ‘ اسی طرح ابراہیم (علیہ السلام) بھی نمرود کے ہاتھوں سے بچتے رہے۔ نمرود کو کاہنوں اور نجومیوں نے بتایا تھا کہ تیری سلطنت میں ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے جو تیرے زوال کا باعث بنے گا ۔ چناچہ اس نے میاں بیوی کے ملاپ کی ممانعت کردی۔ اس کے باوجود جو بچے پیدا ہوتے ان کی نگرانی کی جاتی اور اس کے متعلق پوری تحقیق کی جاتی کہ یہی وہ بچہ تو نہیں جس کی پیشین گوئی کی جا چکی ہے مگر اللہ تعالیٰ کو ایسا ہی منظور تھا جب ابراہیم (علیہ السلام) پیدا ہوئے تو سرکاری کارندوں نے اس طرف دھیان ہی نہیں دیا بعض یہ بھی فرماتے ہیں کہ آپ کی والدہ ایک غار میں چلی گئیں ‘ وہیں آپ کی پیدائش ہوئی اور پھر آپ کو تین سال تک اسی غار میں رکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کی پرورش بڑے اچھے طریقے سے فرمائی ‘ پھر جب آپ سن شعور کو پہنچے تو اللہ نے غیر معمولی رشد و ہدایت سے نوازا ولقد اتینا ابراھیم رشدہ من قبل و کتابہ علمین (سورۃ الانبیائ) ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بچپن ہی سے سمجھ عطا فرمائی۔ وہ اللہ کی توحید کے محقق اور اس پر سختی سے کاربند تھے وہ ابوالموحدین یعنی تمام توحید پرستوں کے باپ تھے ‘ بہرحال آپ کی پیدائش اور پرورش کے متعلق تاریخی روایات ملتی ہیں جن کے متعلق یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ قرآن و حدیث اس معاملہ میں خاموش ہیں۔
باپ کو دعوت توحید
آج کی آیت کریمیہ میں اسی دعوت توحید کا تذکرہ ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کو دی تھی واذقال ابراہیم لابیہ ازر اور اس وقت کو دھیان میں لائو جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ آزر سے کہا اتخذ اصناما الھۃ کیا تو بتوں کو معبود بناتا ہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی باپ سے اس طرح کی ہم کلامی کے اور بھی واقعات قرآن پاک میں مذکور ہیں۔ مثلاً سورة مریم میں ہے آپ نے باپ سے فرمایا یابت انی قد جاء نی من العلم “ اے میرے باپ ! میرے پاس علم آ گیا ہے جس کی روسنی میں میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں ” فاتبعنی اھدک صراطا سویا “ میری بات مان لے میں تجھے سیدھے راستی کی طرف راہنمائی کروں گا۔
اصنام صنم کی جمع ہے اور یہ لفظ ایسی انسانی شکل پر بولا جاتا ہے جو مٹی ‘ پتھر ‘ سونے ‘ چاندی وغیرہ سے بنائی گئی ہو۔ اور جو چیز بغیر کسی شکل و صورت کے معبود تسلیم کی جائے اسے وثن کہتے ہیں۔ ہندوئوں کے ہاں کروڑوں معبود ہیں۔ ان میں سے بعض کسی شکل پر بنائے جاتے ہیں اور بعض اوقات ویسے ہی کسی چیز ‘ ان گھڑے پتھر یا مٹی وغیرہ کو خاص حیثیت دے کر اس کی پوجا کرنے لگتے ہیں۔ یہ وشن کہلاتے ہیں۔ اس پر نذرانے ڈالے جاتے ہیں ‘ اس کے سامنے منتیں مانی جاتی ہیں اور سجدے ہوتے ہیں۔ سورة حج میں موجود ہے۔ ” فاحتنبوا الرجس من الاوثان “ ان (ان گھڑے) بتوں کی پلیدی سے بچ جائو۔ ان میں ذہنی اور فکری نجاست پائی جاتی ہے اور انسان شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
بہرحال جب ابراہیم (علیہ السلام) نے ہوش سنبھالا اور انہوں نے اپنے اردگرد نگاہ کی تو پورے ماحول کو شرک میں ڈوبا ہوا دیکھا۔ کوئی مشتری اور زہہ کا پجاری ہے۔ کوئی ستاروں میں کرشمہ مانتا ہے ۔ کوئی ارضی چیزوں کے پرستار ہیں اور کوئی آسمانی چیزوں کے۔ اور پھر سب سے بڑھ کر اپنے باپ کو مندر کا محافظ اور بڑا مشرک پایا تو دعوت توحید کی ابتدا اسی سے کی اور کہا کہ اے میرے باپ ! کیا تم ان خود تراشیدہ بتوں کی پوجا کرتے ہو۔ یہ بہت ہی بری بات ہے کہ حقیقی خالق اور مالک کو چھوڑ کر اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے مٹی اور پتھروں کے بتوں کی پوجا کی جائے۔
پوری قوم کی گمراہی
فرمایا انی ارک و قومک فی ضلل مبین۔ میں تو تمہیں اور پوری قوم کو کھلی گمراہی میں دیکھ رہا ہوں۔ ابراہیم (علیہ السلام) نے پورے وثوق اور جوش و جذبے کے ساتھ اعلان کیا کہ اے باپ ! تو اور تیری پوری قوم شرک کا ارتکاب کر کے گمراہی کے گڑھے میں گر چکی ہے۔ فرمایا جن بتوں کو تم اپنے ہاتھوں سے تراشتے ہو پھر ان کی خریدو فروخت کرتے ہو ‘ نہ وہ سن سکتے ہیں ‘ نہ بول سکتے ہیں ‘ تم ان کی عبادت کیوں کرتے ہو۔ ان پر چڑھاوے کیوں چڑھاتے ہو۔ ان کو نذر و نیاز کیوں پیش کرتے ہو ؟ آخر ان کو کون سا اختیار حاصل ہے جس کے ذریعے یہ تمہاری مدد کرتے ہیں اور تم انہیں الوہیت کا درجہ دیتے ہو۔ یہ تو محض شیطان کا دھوکہ ہے جو تمہیں پٹی پڑھاتا ہے کہ یہ سب کچھ کرسکتے ہیں ‘ انہیں خدائی اختیارت حاصل ہیں حالانکہ یہ سب جھوٹ کا پلندہ ہے۔
مولانا ابوالکلام آزاد (رح) لکھتے ہیں کہ انسان بھی عجیب مخلوق ہے۔ جب یہ ماننے پر آتا ہے تو گوبر کو بھی معبود بنا لیتا ہے ‘ کیڑے مکوڑوں ‘ مکھیوں ‘ بلکہ بلی چوہے اور سانپ کی پوجا کرنے لگتا ہے۔ اور جب انکار کر دے تو پھر اللہ کے جلیل القدر پیغمبر نوح (علیہ السلام) کو جھٹلا دے اور ان پر پتھر برسانے لگے۔ اللہ کے مقرب انبیاء کو کتنی تکلیفیں دی گئیں۔ خود حضور ﷺ کو اپنے بھائی بندوں کے ہاتھوں کتنی مشقت برداشت کرنا پڑی۔ عکاظ کی منڈی میں لوگوں نے دیکھا حضور ﷺ تشریف لے جا رہے اور کہہ رہے ہیں اے لوگو ! قولوا لا الہ الا اللہ تفلحوا لا الہ الا اللہ کو دو فلاح پا جائو گے۔ آپ کے پیچھے پیچھے لمبا چغہ پہنے ہوئے ایک لمبا دھڑنگا گورا چٹا جوان آپ کو پتھر مارتا جاتا تھا۔ اور کہتا تھا لوگو ! یہ شخص (معاذ اللہ) پاگل ہے۔ اس کی بات نہ سننا۔ پوچھنے والے نے پوچھا کہ یہ پتھر مارنے والا شخص کون ہے تو بتلایا گیا کہ یہ حضور ﷺ کا حقیقی چچا ابولہب ہے۔ بہرحال ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ کے سامنے توحید کا واضح تصور پیش کیا اور اسے بتایا کہ تم اور تمہاری پوری قوم گمراہی کے گڑھے میں گر چکی ہے۔ اس کے بعد اگلی آیت میں اس کمال کا ذکر ہے۔ جو اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو عطا کیا ۔ پھر اس کے بعد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے شرک کی تردید اور توحید کے حق میں قوم کے سامنے واضح دلائل پیش کئے جن کی وہ تردید نہ کرسکے۔
تارخ اور آزر
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے والد کٹر مشرک اور آپ کے سخت دشمن تھے۔ ان کے نام کے متعلق قرآن میں تو صراحتاً موجود ہے کہ ان کا نام آزر تھا ‘ مگر بعض لوگ آزر کو باپ ماننے کے لئے اس لئے تیار نہیں کہ نبی کا باپ مشرک نہیں ہو سکتا ‘ لہٰذا باپ نہیں بلکہ چچا تھا۔ یہ بات اصولاً غلط ہے اسی طرح حضور ﷺ کے آبائواجداد کے متعلق یہ کہا کہ ان میں سے کوئی بھی مشرک نہیں تھا ‘ قطعاً غلط ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے بعد آپ کی نسل میں بہت سے مشرک گزرے ہیں۔ لہٰذا اگر ابراہیم (علیہ السلام) کے والد مشرک تھے تو یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے ‘ جس سے نبی کی معاذ اللہ توہین کا پہلو نکلتا ہو۔ شیخ سعدی (رح) نے کہا ہے۔
ہنر بہ نما اگر دارمی نہ گوہر گل از خار است و ابراہیم از آزر اگر تم ذات نہیں رکھتے تو ہنر میں کمال پیدا کرو۔ پھول کانٹوں سے نکلتا ہے اور اسی طرح ابراہیم (علیہ السلام) آزر سے نکلا ہے۔ قرآن پاک میں موجود ہے۔ کہ اللہ تعالیٰ چاہے تو زندہ سے مردہ اور مردہ سے زندہ نکال دے۔ یعنی یہ تو اس کی حکمت پر موقوف ہے ‘ چاہے تو مشرک سے موحد پیدا فرما دے اور مومن کی نسب سے کافر پیدا کر دے۔ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے ‘ وہ جو چاہے کرے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) جیسے پیغمبر کا بیٹا اگر باپ کی بات نہیں مانتا تو غرق ہوجاتا ہے۔ لہٰذا یہ ثابت کرنا کہ حضور ﷺ کی نسل میں کوئی بھی مشرک نہیں تھا ‘ حقیقت کے خلاف ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا باپ بھی مشرک تھا اور ان کی اولاد میں بھی بہت سے مومن تھے اور بہت سے کافر و مشرک بھی تھے۔
بہرحال ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ سے کہا کہ میں تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں۔ کفر و شرک سب سے بڑی گمراہی ہے جس میں پوری قوم مبتلا تھی۔ بابل شہر کا رقبہ ساٹھ یا سومربع میل پر پھیلا ہوا تھا مگر پوری آبادی مشرک تھی۔ جب ابراہیم (علیہ السلام) نے وہاں سے ہجرت کی تو آپ اپنی بیوی سارہ اور بھتیجے لوط (علیہ السلام) کے ہمراہ نکلے۔ اس وقت ان کے علاوہ کوئی مومن نہیں تھا۔
Ayahs 6:75–79ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان فرمایا ہے اور اس دلیل کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے شرک کی تردید میں مشرکین کے سامنے پیش کی۔ ان آیات میں ابراہیم (علیہ السلام) کا عقیدہ اور مسلک بھی کھل کر سامنے آ گیا ہے پھر اگلی آیات میں قوم سے جھگڑا کرنے کا ذکر ہوگا۔ پھر انبیاء کا مسلک بیان ہوگا جو کہ ابراہیم (علیہ السلام) ہی کا مسلک ہے۔ گزشتہ آیت میں گزر چکا ہے کہ اللہ نے فرمایا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ کو دھیان میں لائو ‘ جب انہوں نے اپنے والد آزر سے کہا تھا کہ کای تو بتوں کو الٰہ بناتا ہے۔ میں تجھے اور تیری قوم کے لوگوں کو صریح گمراہی میں دیکھتا ہوں تم اپنے ہاتھ سے پتھر تراش کر بت بناتے ہو اور پھر انہیں معبود سمجھ کر ان کے سامنے سجدہ ریز ہوجاتے ہو ‘ یہ کونسا دین ہے ؟ یہ تو واضح گمراہی ہے جس میں ساری قوم مبتلا ہے۔
نام آزر کی تحقیق
میں نے کل عرض کیا تھا کہ مفسرین کی تحقیق کے مطابق آزر ابراہیم (علیہ السلام) کے والد ہیں۔ مولانا عبیداللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ تورات میں اور عام تاریخی کتابوں میں ان کا نام تارخ آتا ہے مگر قرآن پاک نے صراحتاً آزر بتایا ہے اس معاملے میں بعض مفسرین کو غلط فہمی بھی ہوئی ہے جنہوں نے تارخ کو والد اور آزر کو چچا کہا ہے پہلی بات تو یہ ہے کہ بعض کے نزدیک تارخ کی بجائے زارخ کا تلفظ بھی آیا ہے اور عین ممکن ہے زارخ کو آزر میں تبدیل کردیا گیا ہو بعض اوقات اہل لغت الفاظ میں اس قسم کی تبدیلی کرلیتے ہیں لہٰذا اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ امام ابن کثیر (رح) کی تحقیق کے مطابق ابراہیم (علیہ السلام) کے والد چونکہ آزر نامی بت کے پجاری تھے اور اس کی خدمت کیا کرتے تھے ‘ لہٰذا ان کا نام بھی بت کے نام پر آزر ہی مشہور ہوگیا۔ اور یہی بات زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتی ہے تاہم اگر اصل نام تارخ بھی ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ آپ کا لقب بہرحال آزر مشہور ہوگیا اور اسی نام سے جانے پہچانے جانے لگے۔ عربی زبان اب باپ کے لئے استعمال ہوتا ہے نہ کہ چچا کے لئے قرآن پاک میں ہر جگہ ابی کا لفظ ہی آیا ہے ‘ لہٰذا اس امر میں کوئی شبہ نہیں رہتا کہ آزر آپ کے والد ہی تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی والدہ کا نام شانی تھا ‘ آپ کلدانی قوم کے فرد تھے۔ یہ قوم قدیم عراق میں ایک بڑی تہذیب کی وارث تھی اور وہاں پر صدیوں سے ان کی حکومت چلی آ رہی تھی۔
اس علاقے میں کلدانیوں سے پہلے آشوری دور بھی گزرا ہے کلدانیوں میں حمورابی بادشاہ ہوا ہے جس نے اپنے قوانین پتھروں پر کنندہ کرا دیئے تھے یہ شخص دو ہزار سال قبل مسیح ہوا ہے۔ اسی سرزمین سے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو پیدا کیا۔ اس وقت نمرود حکمران تھا۔ نمرود اصل میں نمو تھا۔ نمو سے انمو ہوا اور پھر عربی لہجے میں آ کر نمرود بن گیا۔
خاندان ابراہیم (علیہ السلام)
جیسا کہ کل عرض کیا تھا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی بڑی بیوی کا نام سارہ تھا۔ جو آپ کی چچازاد تھی۔ آپ کی دوسری بیوی ہاجرہ تھیں جو حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی والدہ ہیں عام مشہور یہ ہے کہ حضرت ہاجرہ لونڈی تھیں مگر یہ بات درست نہیں ہے۔ حضرت مولانا انور شاہ کشمیری (رح) کی تحقیق کے مطابق حصرت ہاجرہ شہزادی تھیں۔ گردش زمانہ میں آ کر کسی طرح قید ہو کر شاہ مصر کی تحویل میں چلی گئیں جنہوں نے انہیں لونڈی بنا لیا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جب حضرت سارہ کے ہمراہ مصر پہنچے تو وہاں کا جبار حکمران اپنے دستور کے مطابق برائی کا ارادہ رکھتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کی مدد شامل ہوئی اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوسکا۔ اللہ تعالیٰ نے کسی طریقے سے خوفزدہ کردیا ‘ چناچہ اس نے حکم دیا کہ ان نواردان کو مصر سے نکال دیا جائے تاہم اس نے خدمت کے لئے حضرت ہاجرہ حضرت سارہ کو دیدی۔ پھر انہوں نے اسے حضرت ابراہیم کو ہبہ کردیا۔ آپ نے ان سے نکاح کرلیا ‘ اور اللہ تعالیٰ نے ان کے بطن سے اسماعیل جیسا عظیم فرزند اور عالی شان رسول پیدا فرمایا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی ایک اور بیوی قطورہ نامی بھی تھی۔ آپ نے عمر کے آخری حصے میں ان سے قریہ خلیل میں نکاح کیا۔ اسی مقام پر آپ کی قبر کی نشان دہی بھی ملتی ہے۔ مدین والے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی اسی بیوی کی اولاد تھے جو بنی قطورہ کہلاتے تھے۔
ابراہیم اللہ کے جلیل القدر پیغمبر ہوئے ہیں۔ آپ کالقب خلیل اللہ ہے آپ کا تذکرہ قرآن پاک کی بہت سی سورتوں میں مختلف عنوانات کے تحت ہوا ہے۔ آپ کے نام ایک سورة ابراہیم بھی قرآن پاک میں موجود ہے آپ حنیفیت کے سب سے بڑے امام تھے۔ آپ سے پہلے صابی دور تھا۔ جو کہ شیث (علیہ السلام) کے دور سے چلا آرہا تھا یہ دین بھی ابتداء میں حق پر تھا مگر بعد میں اس میں بت پرستی ‘ ستارہ پرستی اور سورج پرستی شروع ہوگئی۔ یہ لوگ آسمانی کردوں میں کرشمہ مانتے تھے اور سیاروں کے نام پر مندر بنائے ہوئے تھے جن کی وہاں پوجا ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس ماحول میں آنکھ کھولی ‘ ان قباحتوں کو دیکھا اور پھر ان کے خلاف جہاد میں مصروف ہوگئے۔ اور آیات میں آپ کی اس کاوش کا ذکر ہے جس کے ذریعے آپ نے بتوں کی پرستش کے خلاف نہایت حکیمانہ دلائل قدرت پیش کئے۔
قیام حجت
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ اللہ نے ارشاد فرمایا ” ولقد اتینا ابراھیم رشدہ من قبل “ یعنی ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو شروع سے ہی سمجھ عطا فرمائی۔ امام ابن کثیر من قبل کی تفسیر میں فرماتے ہیں من صغرہ الفی کبرہ یعنی ابراہیم (علیہ السلام) بچپن سے لے کر سن شعور تک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے ماہر اور محقق تھے۔ آپ نے اپنے والد کو خطاب کر کے واضح الفاظ میں کہا کہ تم اور تمہاری قوم گمراہی میں پڑے ہوئے ہو۔ چونکہ وہ لوگ صابی ملت سے تعلق رکھتے تھے اور عام طور پر ستارہ پرست تھے ‘ لہٰذا ابراہیم (علیہ السلام) نے ان ستاروں اور سیاروں کو ہی اپنی قوم کے سامنے بطور دلیل پیش کیا آج کی آیات میں ستارہ چاند اور سورج تین چیزوں کا ذکر ہے جن کے مشاہدہ کے بعد ابراہیم (علیہ السلام) نے ان کی الوہیت کی نفی کی ہے تو یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ یہ تینوں مشاہدات ایک ہی دن میں نہیں کئے گئے ‘ بلکہ مختلف مواقع پر ان کا مشاہدہ کرنے اور پھر قوم کو متوہ کرنے کے بعد آپ نے ان پر دلیل و حجت قائم کی۔ اور اپنے باپ آزر اور قوم کے دیگر افراد کو سمجھایا کہ بتوں کی پرستش صریح گمراہی ہے کفر اور شرک ہے ‘ لہٰذا اس سے باز آ جائو۔
نشانات قدرت کا مشاہدہ
ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فضیلت بیان فرمائی ہے و کذلک نری ابراھیم ملکوت السموات والارض اور اسی طرح ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمان اور زمین کی سلطنت دکھا دی۔ ملکوت ‘ ملک کا مبالغہ ہے ‘ جیسے رحمت سے رح موت اور جبر سے جبروت ‘ اور ملکوت کا معنی ہوگا عظیم سلطنت ۔ اس طرح ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو ارض و سما کی عظیم سلطنت کا نظام دکھا دیا۔ عجائبات قدرت کا انہیں مشاہدہ کرا دیا۔ اس قسم کا طرز کلام سورة بنی اسرائیل میں واقعہ معراج کے ضمن میں بھی آیا ہے ‘ پاک ہے وہ (ذات) جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا۔ ” لنریہ من ایتنا “ تا کہ ہم اسے اپنی قدرت کی نشانیاں دکھائیں اور پھر اصل مشاہدہ کی تصدیق سورة نجم میں یوں کی ” لقد رای من ایت ربہ الکبری “ انہوں نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔ اسی طرح ابراہیم (علیہ السلام) کو بھی اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی عجیب و غریب نشانیوں کا مشاہدہ کرایا۔ اللہ نے آپ کو سمجھا دیا کہ کائنات کا نظام اس طریقے سے چل رہا ہے۔ یہ سورج ‘ چاند اور ستارے اللہ تعالیٰ کی عظیم سلطنت کا ایک حصہ ہیں۔ اور یہ سب کچھ دکھانے سے مطلب کیا تھا ؟ ولیکون من الموقنین “ تا کہ ابراہیم (علیہ السلام) کا یقین اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر پختہ ہوجائے۔ بعض اوقات ایمان لانے کے باوجود مشاہدہ کی خواہش برقرار رہتی ہے ‘ جس کی مثال ابراہیم (علیہ السلام) ہی کے واقعہ میں ملتی ہے۔ آپ نے پروردگار عالم سے عرض کیا رب ارنی کیف نحی الموتیٰ اے پروردگار ! مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرے گا۔ تو اللہ نے فرمایا ‘ کیا تو اس بات پر ایمان نہیں رکھتا۔ عرض کیا ‘ ایمان تو رکھتا ہوں۔ ” ولکن لیطمئن قلبی “ تاہم میں مشاہدے کے ذریعے اطمینان قلب حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو چار پرندوں کو ذبح کرنے کے بعد پھر زندہ کردینے کا مشاہدہ کرا دیا اسی طرح یہاں بھی فرمایا کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی سلطنت کی نشانیاں دکھا دیں۔ اور ان کی حکمت سے بھی آپ کو آگاہ کردیا۔
ستارے پر نگاہ
ارشاد ہوتا ہے فلما جن علیہ الیل را کوکبا جب رات تاریک ہوگئی تو ابراہیم (علیہ السلام) نے ستارے پر نگاہ کی جو کہ چمک رہا تھا۔ اس وقت آپ کسی مجلس میں ہوں گے جہاں قوم کے بہت سے لوگ ہوئے تھے جن کی وہاں پوجا ہوتی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس ماحول میں آنکھ کھولی ‘ ان قباحتوں کو دیکھا اور پھر ان کے خلاف جہاد میں مصروف ہوگئے۔ ان آیات میں آپ کی اس کاوش کا ذکر ہے جس کے موجد تھے تو آپ نے ان کو متوجہ کرتے ہوئے فرمایا قال ھذا ربی کیا یہ (ستارہ) میرا رب ہے ؟ بعض مفسرین کو یہاں پر غلط فہمی ہوئی ہے ان کے مطابق ابراہیم (علیہ السلام) تحقیق کے منازل طے کرنے کے دوران شرک بھی کرتے رہے ‘ اسی لئے انہوں نے ستارے کو ایک نظر دیکھ کر کہہ دیا کہ یہ میرا رب ہے اور پھر آخرکار تحقیق کرتے کرتے توحید خالص کا نقطہ پا لیا۔ مولانا مودودی صاحب کو بھی اسی قسم کا اشتباہ ہوا ہے۔ مگر یہ حقیقت کے برعکس ہے۔ ابراہیم (علیہ السلام) روز اول سے ہی کامل درجے کے موحد تھے۔ انہوں نے کبھی ستارے ‘ چاند ‘ یا سورج کو اپنا رب نہیں کہا بلکہ انہوں نے لوگوں کو سمجھانے کے لئے استفہامیہ طور پر کہا ‘ کیا یہ میرا رب ہے ؟ آپ کا مقصد ستارے کو توحید کی دلیل بنانا تھا۔ فلما افل جب وہ ستارہ غروب ہوگیا قال لا احب الافلین فرمایا میں غروب ہوجانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ آپ نے قوم کو سمجھایا کہ تم محض ستارے کی چمک دیکھ کر اسے معبود بناتے ہو حالانکہ یہ تو غروب ہوجانے والی چیز ہے۔ اور جس چیز پر زوال آجائے وہ الہ نہیں ہو سکتی ‘ لہٰذا میں ستارے کو اپنا رب تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔ معبود برحق تو وہ ہستی ہے الئن کما کان جو ازل میں بھی تھی اور اب بھی ہے اور ابد میں بھی ہوگی۔ ایسی ذات پر کسی قسم کا تغیر نہیں آسکتا۔ اللہ تعالیٰ مخلوق پر اپنی تجلیات کا نزول کرتا ہے ‘ کبھی وہ نظر آتی ہیں اور کبھی نہیں آتیں ‘ تو اس سے مخلوق میں تو تغیر آتا ہے مگر خود اس ذات باری تعالیٰ میں کوئی تغیر واقع نہیں ہوتا۔ وہ آج بھی ایسا ہے جیسا ازل میں تھا اور ابد میں بھی رہے گا۔ وہ چیز الہ نہیں ہو سکتی جو کبھی طلوع ہو اور کبھی غروب ہو ‘ کبھی ایک افق میں ہو اور کبھی دوسرے افق میں ‘ فرمایا میں متغیر ہونے والی شے کو معبود تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔
چاند کا مشاہدہ
چاند بھی خدا تعالیٰ کی بہت بڑی نشانی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشادمبارک ہے۔ الشمس والقمر ایتان من ایت اللہ یعنی سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو عظیم نشانیاں ہیں۔ مگر ان کو الوہیت کا درجہ دینا سخت گمراہی ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ جس روز سورج گرہن ہوا ‘ اسی روز حضور ﷺ کے فرزند حضرت ابراہیم کی وفات ہوئی جاہلیت میں یہ تو ہم پایا جاتا تھا کہ جس دن سورج یا چاند گرہن ہو اس دن کوئی بڑا آدمی پیدا ہوتا ہے یا فوت ہوتا ہے۔ آپ نے اس کی تردید فرمائی اور فرمایا کہ کسوف کسی کے پیدا ہونے یا مرنے کی وجہ سے نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے مخلوق میں تغیر و تبدل کو دکھا دیتا ہے تا کہ لوگ سمجھ جائیں کہ جب اللہ تعالیٰ اتنی بڑی چیزوں میں تغیر و تبدل پیدا کردیتا ہے تو ان کے مقابلے میں کمزور سے انسان کی کیا حیثیت ہے ‘ بہرحال کسوف کے دن آپ نے لمبی نماز پڑھی طویل قرارت کی ‘ رکوع اور سجود بہت لمبے کئے اور پھر بڑی لمبی دعا فرمائی۔
سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق جب زمین ‘ سورج اور چاند کے درمیان ایک سیدھ میں آجاتی ہے ‘ تو زمین کا سایہ چاند پر پڑتا ہے ‘ جس کی وجہ سے چاند کا اتنا حصہ تاریک ہوجاتا ہے ‘ اسے چاند گرہن کہتے ہیں ‘ اسی طرح جب چاند ‘ سورج اور زمین کے عین درمیان میں آجاتا ہے تو سورج کی روشنی زمین کے اتنے حصے تک نہیں پہنچ پاتی جس کی وجہ سے اس حصہ زمین سے سورج تاریک نظر آتا ہے ‘ یہ سورج گرہن ہے۔ کسوف کی تکوینی وجہ کچھ بھی ہو یہ بہرحال خدا تعالیٰ کا فعل ہے کہ چاند یا سورج کی روشنی کو موقوف کر دے۔ حضور ﷺ نے فرمایا ‘ ایسے موقع پر توبہ و استغفار کرو ‘ غلام آزاد کرو۔
صدقہ خیرات کرو اور اپنی فکر کرو ‘ نہ کہ کیمرے لے کر فوٹو کھینچنا شروع کر دو ۔ اس فعل کو خدا ہی کی طرف منسوب کرو اور مشرکانہ یا مبتدعانہ افعال سے پرہیز کرو۔
حقیقت میں نیر اعظم یعنی روشنی کا منبع تو سورج ہی ہے جب سورج کی روشنی چاند پر پڑتی ہے تو وہ معکوس ہو کر پھر زمین پر پڑتی ہے ‘ اسی لئے چاند کی روشنی مدھم ہوتی ہے یہ اللہ تعالیٰ کی حکمت کا کرشمہ ہے کہ اس نے سورج کو بہت زیادہ تابانی عطا کی ہے اور چاند کو کم۔ سائنس دان کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے سورج میں تابانی کے لئے بڑے درجے کا ایندھن جمع کردیا ہے جو سورج کی پیدائش کے دن سے لیکر جب تک اللہ کو منظور ہے روشنی اور حرارت بہم پہنچاتا رہے گا۔ پھر ایک دن آئے گا جب اللہ تعالیٰ اس ایندھن کو ٹھنڈا کر دے گا اور کائنات کا پورا نظام درہم برہم ہوجائے گا۔
اللہ تعالیٰ نے چاند کی دھیمی روشنی میں انسان کے فائدے کی کئی چیزیں رکھی ہیں۔ چاند کے ذریعے اناج میں رس اور پھلوں میں مٹھاس پیدا ہوتی ہے اور پانی پر اس کے خاص اثرات وارد ہوتے ہیں۔ اسی طرح سورج حرارت اور روشنی کا منبع ہے۔ اس کے ذریعے فصلیں پکتی ہیں اور کئی قسم کے دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
فرمایا فلما را القمر بازغا جب ابراہیم (علیہ السلام) نے چاند کو چمکتا ہوا دیکھا ‘ ظاہر ہے کہ اس معاشرے میں چاند کے پجاری بھی موجود تھے۔ چاند کے مشاہدہ کے وقت آپ نے ان کو متوجہ کیا قال ھذا ربی اور کہا ‘ کیا یہ ہے میرا رب ؟ فلما افل پھر جب چاند بھی غروب ہوگیا تو آپ نے قوم کے سامنے دوسری دلیل پیش کی۔
قال لئن لم یھدنی ربی لا کونن من القوم الضالین اگر میرا پروردگار مجھے راہ راست پر نہیں رکھے گا ‘ تو میں گمراہ لوگوں میں سے ہوجائوں گا۔ اگر اللہ نے میری راہنمائی نہ فرمائی تو جس طرح یہ لوگ چاند میں کرشمہ مان کر شرک میں مبتلا ہوچکے ہیں تو میں بھی بہک سکتا ہوں۔ ہدایت بھی اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے ہی حاصل ہوتی ہے اگر وہ دستگیری نہ فرمائے اور اپنی رحمت سے نہ نوازے تو کسی کو صراط مستقیم کی طرف راہنمائی حاصل نہیں ہو سکتی۔ حدیث شریف میں آتا ہے ‘ حضور ﷺ خطبہ میں پڑھا کرتے تھے من یضللہ فلا ھادی لہ جسے اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے ‘ اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ بہرحال ابراہیم (علیہ السلام) نے دوسرے دن چاند کا مشاہدہ کر کے اس سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی دلیل پکڑی اور قوم کو سمجھانے کی کوشش کی۔
آفتاب ماہتاب
مفسرین فرماتے ہیں کہ جب ابراہیم (علیہ السلام) کے خصوصی مشاہدے کا تیسرا دن آیا ت سورج اپنی پوری تابانی کے ساتھ آسمان پر موجود تھا ‘ چناچہ ارشاد ہوتا ہے فلما را الشمس بازغۃ جب آپ نے سورج کو چمکتے ہوئے دیکھا قال ھذا ربی ھذا اکبر فرمایا کیا یہ میرا رب ہے ؟ یہ تو بڑا ہے ۔ مگر سورج بھی تغیر پذیر ہے فلما افلت جب وہ بھی غروب ہوگیا قال انی بری مما تشرکون ۔ فرمایا ‘ اے لوگو ! میں ان چیزوں سے بیزا رہوں جن کو تم شریک بناتے ہو ‘ مقصد یہ کہ نہ ستارہ الہ ہے ‘ نہ چاند اور نہ ہی سورج جو ان میں سب سے بڑا ہے لہٰذا میں ان میں سے کسی کو بھی معبود تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔
مقصد یہی تھا کہ تم ان کو معبود بنا کر شرک کے مرتکب نہ ہو بلکہ معبود برحق وہ ہے جس نے ان سب چیزوں کو پیدا کیا ہے۔ دوسرے مقام پر فرمایا ۔ ” لا تسجدوالشمس ولا للقمر واسجدوا للہ الذی خلقن “ (حمن سجدہ) لوگو ! نہ سورج کو سجدہ کرو ‘ نہ چاند کی پرستش کرو بلکہ اس اللہ وہدہ لا شریک کو سجدہ کرو جس نے ان سب کو پیدا کیا۔
رجوع الی اللہ
پھر فرمایا انی وجہت وجہی للذی فطر السموات والارض بیشک میں نے متوجہ کرلیا اپنے رخ کو اس ذات کی طرف جو آسمان اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے یعنی میں تو صرف اسی کو معبود مانتا ہوں جس نے بغیر نمونے کے زمین و آسمان اور باقی تمام مخلوق کو پیدا کیا۔ فاطر اور بدیع کا یہی معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جس نے ہر چیز کو بغیر سابقہ نمونہ اور بغیر کسی آلے کے اپنی صفت اور تجلی سے پیدا فرمایا۔ تو ابراہیم (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تمہارے تمام شریکوں سے بیزار ہو کر اسی ایک خدا کی طرف لو لگاتا ہوں۔ اور اسی کو معبود برحق جانتا ہوں۔ حنیفاً میں حنیف ہوں ‘ یعنی ہر طرف سے کٹ کر صرف ایک وحدہ لا شریک کی طرف جھکنے والا ہوں ۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ حنیف وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو مانتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کو یہی حکم دیا ہے ” حنفاء للہ غیر مشرکین بہ “ (الحج) تم سب حنیف بن جائو ‘ ہر طرف سے کٹ کر اس ایک کی طرف متوجہ ہو جائو ۔ جیسا کہ ابراہیم (علیہ السلام) نے کیا۔ فرمایا میں حنیف ہوں وما انا من المشرکین اور مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ میں کسی قسم کا شرک روا نہیں سمجھتا۔ بہرحال ابراہیم (علیہ السلام) نے ستاروں ‘ چاند اور سورج کو سامنے رکھ کر قوم کے سامنے اللہ کی وحدانیت کی دلیل پیش کی۔ تغیر و تبدل کو علت بنایا کہ جس میں یہ چیز پائی جائے وہ معبود نہیں ہو سکتا۔ آپ نے اپنا عقیدہ قوم کے سامنے واضح کردیا اب اگلی آیات میں قوم کے بحث مباحثے اور جھگڑے کا تذکرہ آئے گا۔