Ayah 6:145گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے انمحرمات کا کر فرمایا تھا جن کو مشرکین نے اپنے اعتقاد فاسد کے ساتھ مشرکہ نہ طریقے سے از خود حرام قرار دے رکھا تھا۔ اللہ نے ان باطل عقائد کی تردید فرمائی اور پھر مویشیوں میں سے آٹھ قسم کے مویشیوں کی حلت کا زکر کیا۔ اور فرمایا اگر تم ان میں سے بعض کو حرام سمجھتے ہو تو اس کے لیے کوئی عقلی یا نقلی دلیل پیش کرو۔ اور اگر اس کے لیے کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتے تو پھر یہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ بولنے کے مترادف ہے۔ اور بغیر علم اور تحقیق کے لوگوں کو گمراہ کرنے والی بات ہے۔ ایسا کرنا بڑاظلم ہے اور اللہ تعالیٰ ظالم کو کبھی صراط مستقیم کی طرف ہدیت نہیں کرتا اب آج کی دایت میں اللہ تعالیٰ نے حقیقی محرمات کا تذکرہ فرمایا ہے اور ان کھانے میں جو خرابیاں پائی جاتی ہیں ان کو بیان فرمایا ہے۔
آج کے درس میں جن محرمات کا ذکر ہے وہ چار بنیادی چیزیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے سورتوں میں بیان فرمایا ہے۔ انہی چار چیزو کا بیان سورة بقرہ کے رکو 21 میں ان الفاظ میں آچکا ہے ” انما حرم علیکم المیتت والد م ولحم الخنزیر و ما اھل بہ بغیر اللہ “ بیشک اللہ تعالیٰ نے تم پر حرام قرار دیا ہے۔ مردار ، خون ، خنزیر کا گوشت اور وہ چیز جس پر اللہ کے سوا کسی دوسرے کا نام پکارا گیا ہو ۔ پھر یہی مضمون سورة مائدہ کے پہلے رکوع میں بھی بیان ہوا ہے۔ طرز بیان ذرا مختلف ہے ” حرمتعلیکم المیتۃ والدم الحم الخنزیر وما اہل بغیر اللہ بہ “ اسی طرح اب اس آیت میں بھی انہی چار چیزوں کی حرمت کا تذکرہ ہے البتہ یہاں طرز بیان بالکل مختلف ہے۔ ارشاد ہوتا ہے قل لا اجد فی ما اوحی الی محرما علی طاعم یطعمہ الا ان یکون میتۃ او دما مسفوھا او لحم خبنزیر فانہ رجس او فسقا احل بغیر اللہ بہ “ حجور نبی کریم ﷺ سے خطاب ہے کہ آپ کہ دیں کہ جو چیز میری طرف وحی کی گئی ہے ۔ میں اس میں ان چیزوں کے علاوہ اور کسی چیز کو حرام نہیں پاتا یعنی مردار بہتا ہوا خون ، خنزیر کا گوشت کہ یہ نا پاک ہے اور گناہ کی یہ بات ہے کہ اللہ کے سوا کسی دوسرے کا نام پکارا گیا ہو۔
اس آیت کریمہ میں محرمات کے ضمن میں حصر کا یہی تاثر اشکال کا باعث بن رہا ہے کیونکہ سورة مائدہ میں ان چاروں کی حرمت کے ساتھ بعض دوسری چیزوں کا بھی ذکر ہے ” سوالمنخنقۃ والموقوذۃ والمتردیۃ والنطیحۃ وما اکل السبع الا ماذکیتم وما ذلج علی النصب وان تستقسمو ابالازلام “ یعنی مذکورہ چار چیزوں کے علاوہ یہ جانور بھی حرام ہیں جو گلا گھٹنے سے مر گیا ہو ، جو چوٹ لگنے سے ہلاک ہوگیا ہو۔ اور جو اونچی جگہ سے گر کر ہلاک ہوگیا ہو اور جس کو دوسرے جانور نے سینگ مار کر ہلاک کردیا ہو اور جس کو درندوں نے پھاڑ کھایا ہو ، البتہ جسے ذبح کرلیا گیا ہو (وہ حلال ہے) ان کے علاوہ جانور بھی حرام ہے جو کسی استھان پر ذبح کیا ہے۔ اور جوئے کے تیروں کے ساتھ تقسیم کرنا بھی حرام ہے۔
اس اشکال کے جواب میں مفسرین کرام نے کئی توجیہات پیش کی ہیں شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) نے صرف ایک جملے میں اس اشکال کو حل کرنے کی کوشش کی ہے ” یعنی جن جانوروں کا کھانا دستور ہے ، ان میں یہی حرام ہیں۔ مطلب یہ کہ عام طو ر پر انسانی خوراک بننے والی چیزوں میں صرف یہی حرام اشیاء ہیں۔ ان کے علاوہ جو درندے وغیرہ ہیں ، وہ تو ایسے ہی لوگ نہیں کھاتے اس لیے ان کا یہاں پر ذکر نہیں کیا گیا۔ بعض جانور قطعی حرام نہیں بلکہ کراہیت کی فہرست میں آتے ہیں اور بعض کو فقہائے کر امنے جائز بھی قرار دیا ہے اس لیے ہر مکروہ چیز کا ذکر نہیں کیا گیا کیونکہ وہ قطعی طور پر حرام نہیں ہیں۔ بعض جانوروں کے معاملہ میں فقہائے کرام میں قطعی اختلافپایا جاتا ہے۔ جیسے امام شافعی (رح) بجو کو جائز قرار دیتے ہیں جب امام ابو حنفیہ (رح) اسے حرام کہتے ہیں۔ امام لیث (رح) بلی کو حلال قرار دیتے ہیں اور بعض گھریلو گدھوں کو مکروہ کہتے ہیں۔ یعنی یہ گدھے مذکورہ قطعی چار حرام اشیاء کے برابر حرام نہیں بلکہ حرمت میں ان کا درجہ کم تر ہے۔ مقصد یہ کہ عام طور پر کھائی جانے والی اشیاء میں سے قطی حرام چار ہیں اور باقی مکروہات کے درجے میں آتی ہیں۔ امام جلال الدین سیوطی (رح) نے اپنی تفسیر ” اتقان “ میں امام شافعی (رح) کا یہ قول نقل کیا ہے کہ یہاں پر جن چار یزوں کی حرمت کو بیان کیا گیا ہے اس سے مراد قانون ھرمت کو انہیں چار چیزوں تک محدود کرنا مقصود نہیں بلکہ ان چارچیزوں کا تذکرہ کر کے مشرکین کے عقائد باطلہ کا رد کیا گیا ہے۔ کیونکہ ان چیزوں کو حلال قرا دیتے تھے ۔ مثلاً مردار کی حلت کے متعلق گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ مشرکین کا عقیدہ یہ تھا کہ بحیرہ ، سائبہ وغیرہ کے بطن سے اگر مردہ بچہ پیدا ہوتا تو مردوں اور عورتوں سب کے لیے حلال سمجھا جاتا تھا۔ اسی طرح نصاریٰ اور مشرکین خنزیر کو حلال سمجھتے تھے اور اس کا گوشت کھاتے تھے۔ پھر نذر لغیر اللہ کا عام رواج تھا۔ یہ نہ صرف جائز تھی بلکہ کار ثواب سمجھی جاتی تھی۔ غرضیکہ ان چیزوں کی حرمت کا حکم دے کر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے غلط عقائد کا ردفرایا ہے ۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ سورة بقرہ میں جہاں ان محرماتکا ذکر کیا ہے وہاں بھی انما حرم سے شروع کیا ہے۔ اور اس میں بھی کسی حد تک حصر کا مفہوم پایا جاتا ہے ، لہٰذا اس آیت کریمہ میں واضح حصر کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔
بہر حال فرمایا اے پیغمبر ! آپ اعلان فرمادیں کہ کھانے کے معاملے میں تو ان چیزوں کے علاوہ کوئی چیز حرام نہیں پاتا۔ ان میں پہلی چیزمیتۃ یعنی مردار ہے مردار وہ جانور ہے جو حلال ہو مگر بغیر ذبح کیے خود بخود مر جائ ، یا گر ذبح بھی کیا جائے تو خلاف شریعت طریقہ سے مثلا گلا گھونٹ دیا جائے یا لکڑی پتھر مار کر موت کے گھاٹ اتار دیا جائے یا دیدہ دانستہ ذبح کرتے وقت اس پر اللہ کا نام لیا جائے اگر کسی زندہ جانور کا کوئی عضو کاٹ لیا جائے تو وہ بھی مردار ہی کی تعریف میں آئے گا کسی جانور کو اگر کوئی دوسرا جانور سینگ مار کر ہلاک کر دے یا کوئی درندہ پھاڑ کھائے اور وہ مرجائے تو وہ بھی مردار کے حکم میں آئے گا ۔ حضرت مولانا شیخ الہند (رح) فرمات ہیں کہ ایسے تمام جانور مردار تصور ہوں گے۔ البتہ دو جانور بمطابق حدیث اس ھرمت سے مستثنیٰ ہیں اور بغیر ذبح کیے ان کا کھانا درست ہے۔ فرمایا احلت لنا میتتان السماک والجراد یعنی ہمارے لیے دو مردار حلال ہیں ایک مچھلی اور دوسرے ٹڈی۔ ان دو جانوروں کو بغیر ذبح کیے کھانا حلال ہے۔
محرمات اربعہ میں س دوسری چیز رما مسفوحا یعنی بہتا ہوا خون ہے ذبح کرتے وقت جانور کی رگوں سے جو خون بہتا ہے وہ قطعی حرام ہے البتہ ذبح کے بعد جو تھوڑا بہت خون گوشت کے ساتھ رہ جاتا ہے ، وہ ناپاک نہیں ہے۔ اس لیے اگر گوشت کو دھوئے بغیر بھی پکا کر کھالیا جائے تو کوئی حرج نہیں ، تاہم نظافت کا تقاضا ہے کہ گوشت کو دھو کر اور صاف کر کے پکایا جائے۔ ظاہر ہے کہ جانور کی رگ کاٹنے سے یہی مقصود ہے کہ اس کا تمام خون بہہ جائے جو کہ حرام ہے۔ البتہ ایک چیز کی گنجائش ہے ۔ جس جانور کو شرعی طریقہ سے ذبح کرنا ممکن نہ ہو مثلاً کوئی پرندہ یا تیز بھاگنے والا جانور ہے تو اسے اللہ کا نام لے کر ذکمی کردینا ہی کافی ہے۔ ایسے جانور کو تیر چلاتے وقت یا نیزہ بھالا وغیرہ مارتے وقت اللہ کا نام لے لیا جائے تو جانور حلال ہوجائے گا ۔ مقصد یہ کہ اگر اللہ کا نام لے کر تیز دھار آلے سے حملہ کیا جائے تو جانور حلال ہوگا ورنہ نہیں۔ اگر لکڑی ، غلیل یا بندوق کا نشانہ لگایا جائے تو بغیر ذبح کیے جانور حلا ل نہیں ہوگا۔
بہر حال اللہ تعالیٰ نے دم مسفوح کو بھی قطعی حرام قرار دیا ہے۔ البتہ خون کی دو قسمیں حدیث شریف کے مطابق حلال ہیں حضور نے فرمایا احلت لنا دمان الکبد والطعال ہمارے لیے دو خون حلال ہیں ایک جگر اور دوسرا تلی۔ یہ دونوں اعضا منجمد خون ہیں اور حلال جانور کے حلال ہیں۔
حرام خون کی مذکورہ توضیح کے پیش نظر قفہائے کرام میں مسئلہ انتقال خون (Blood Transffudsion) میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض اسے قطعی حرام اور بض جائز قرار دیتے ہیں۔ تاہم صحیح صورتحال یہ ہے کہ انتقال ِ خون صرف اضطرار کی حالت میں جائز ہے۔ اور عام حالات میں درست نہیں۔ بعض اوقات ڈاکٹر معمولی امراض میں بھی خون لگا دیتے ہیں۔ جو یقینا درست نہیں۔ البتہ جہاں جان جانے کا خطرہ ہو اور خون دینے کے بغر کوئی چارہ کار نہ ہو وہاں اگر حسب ضرورت ایک آدھ بوتل لگا دی جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔ اسی لیے پاکستان کے سب سے بڑے مفتی مولانا محمد شفیع صاحب (رح) نے لکھا ہے کہ اس معاملے میں بڑے احتیاط کی ضرورت ہے۔ خون کا انتقال صرف متدین اور ماہر ڈاکٹر (Specialist Doctor) کے مشورہ سے ہی دینا چاہئے اور وہ بھی کم از کم مطلوبہ مقدار میں ورنہ آدمی گناہ گار ہوگا۔
محرمات اربعہ میں سے تیسری حرام چیز لحم خنزیر یعنی خنزیر کا گوشت ہے۔ خنزیر نجس العین جانور ہے۔ حضرت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے ہیں کہ حضرت نوح علیہ اسلام کے بعد اللہ تعالیٰ نے جتنے نبی معبوث فرمائے ہیں سب کی شرائع میں خنزیر رہا ہے۔ عیسائیوں کا تو دماغ خراب ہوگیا ہے جنہوں نے اسے بھیڑ بکری کی طرح کھانا شروع کردیا ہے۔ چناچہ جب حضرت عیسیٰ علی السلام کا دوبارہ نزول ہوگا تو آپ صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو قتل کریں گے تاکہ عیسائیوں کی تذلیل ہو اور ان کی غلط کارروائی کا پردہ چاک ہو۔ انگریز عیسائی اور سکھ جو خنزیر کا گوشت کھاتے ہیں۔ وہ مغوی طور پر نجاست کا شکار ہوتے ہیں۔ خنزیر گندگی خور ہے لہٰذا اس کے کھانے والے بھی گندی ذہنیت کے حامل ہیں۔ خنزیر بڑا بےغیرت جانور ہے لہٰذا اس کو کھانے والے بھی انتہائی بےغیرتی کا شکار ہوتے ہیں۔ یہ ایسا ناپاک جانور جسے اللہ نے فناہ رجس اوفسقا فرمایا ہے۔ جس طرح پاخانہ ، پیشاب وغیرہ کسی صورت میں بھی پاک نہیں ہو سکتے اس طرح یہ جانور بھی نجس العین ہے اور اس کا کوئی حصہ یعنی گوشت ، پوست ، ہڈی ، چمڑا وغیرہ سب ناپاک ہیں۔ حتیٰ کہ باقی حرام جانوروں کی کھال دباغت سے پا ہوجاتی ہے مگر خنزیر کی کھال دباغت سے بھی پاک نہیں ہوتی۔ محرمات میں چوتھا نمبر اھل لغیر اللہ بہ کا ہے۔ یعنی وہ چیز بھی حرام ہے جس پر اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کا نام پکارا گیا ہو۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے فسقا سے تعبیر کیا ہے کہ یہ گناہ کی بات ہے اگر کوئی چیز کسی بت ، جن ، فرشتے ، نبی یا بزرگ کے تقریب یا خوشنودی کے لیے بطور نیاز دی جائے جیسے شیخ سدھو کا بکرا ، شیخ کبیر کی گائے ، زین خاں کا مرغا شیخ علی ہجویری کا دنبہ یا پیران پیر کی گیارھیویں تو یہی نذر لغیر اللہ ہے ۔ اس سے اگر یہ مقصود ہو کہ فلاں ہستی خوش ہو کر کسی مصیبت سے بچائے گی یا کوئی بگڑا ہوا کام بن جائے گا تو ایسی چیز بہر حال حرام ہوجاتی ہے۔ اگر جانور کو ذبح کرتے وقت بسم اللہ بھی پڑھ لی جائے ، تب بھی جانور ہی رہے گا ۔ کیونکہ وہ غیر اللہ سے منسوب ہے۔ البتہ اگر کوئی شخص ایسے عقیدے سے تائب ہو کر ذبح کرتا ہے تو پھر جانور حلال ہوگا۔ نذر لغیر اللہ تمام انبیاء اور ملت حنفیہ کے اماموں کے نزدیک حرام ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ایسی چیزیں معنوی نجاست پیدا ہوجاتی ہے اور یہ کسی صورت میں بھی حلال نہیں ہوتی بلکہ اس کی خباثت مردار کی خباثت سے بھی بڑھ جاتی ہے وجہ یہ ہے کہ مردار میں تو صرف یہ خرابی ہے کہ اسکی جان اللہ کے نام پر نہیں نکلی مگر جو جانور غیر اللہ کے نام پر نزر کیا گیا ہے اس پر تو غیر کا نام آگیا ہے جو عین شرک ہے۔ جس طرح کوئی کتا یا خنزیر تکبیر کہہ کر ذبح کرنے سے حلال نہیں ہوتا۔ اسی طرح نذر لغیر اللہ کا جانور بھی بسم اللہ اللہ اکبر کہنے سے حلال نہیں ہوتا۔ علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر کسی بادشاہ کی دعوت پر اسکی تعظیم کی نیت سے جانور ذبح کیا جائے یا اینٹوں کا بھٹہ پکانے کے لیے کوئی جانور اس کی بھینٹ کیا جائے تو وہ جانور مردار کی طرح حرام ہوگا۔ اور ایسا کرنے والا آدمی مشرک ٹھرہیگا۔ حدیث شریف میں آتا ہے لعن اللہ من ذبح لغیر اللہ جو غیر اللہ کی تعظیم خوشنودی یا تقریب کے لیے جانور ذبح کرتا ہے۔ اس پر اللہ کی لعنت ہے ۔ ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لے یا نہ لے ، اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ جانور غیر اللہ کی طرف نسبت کی بنا پر ہی حرام ہوگیا ہے اور اب تکبیر اسے حلال نہیں کرسکتی۔ ہاں اگر اللہ تعالٰ کے نام پر ، اسکی رضا اور تقریب کے لیے ذبح کرے اور پھر اس کا ثواب کسی وت شدہ عزیز ، پیر یا بزرگ کو ایصال ثواب کرے تو جائز نہ ہے۔
شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن (رح) دارالعلوم دیو بند کے صدر مدرس تھے۔ آپ نے پچا س سال تک مدرسے میں تعلیم دی۔ آپ عظیم المرتبت علما میں سے تھے۔ انگریزوں کے سخت مخالف تھے۔ انگریز نے آپ کو بغاوت کے الزام میں سزائے موت دینے کا ارادہ کیا مگر اللہ نے بچا لیا اور آپ کو جزیرہ مالٹا میں ساڑے چار سال تک قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ قرآن پاک کا یہ ترجمہ اور سورة بقرہ اور سورة نساء کا حاشیہ آپ نے اسی جیل میں قلمبند کیا تھا۔ مالٹا سے واپس آئے تو جلدی ہی فوت ہوگئے۔ آپ کے شاگردوں میں مولانا سید حسین احمد مدنی (رح) مولانا احمد علی لاہوری (رح) ، مولانا انور شاہ صاحب کشمیری (رح) ، مفتی کفایت اللہ (رح) ، مولانا عبدالعزیز گوجرانوالہ ، مولانا عبید اللہ سندھی (رح) ، مولوی محمد صادق (رح) کھڈے والے مفتی عبدالرحیم (رح) پوپلزئی جیسے اکابر علماء شامل ہیں۔ تاریخ بین حضرات جانتے ہیں کہ انگریزوں نے مسلمانوں کو کس قدر نقصان پہنچایا۔ اسلامی سلطنتوں کو درہم برہم کیا ، مسلمانوں کے مذہب ، اخلاق اور تہذیب کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔ گذشتہ چار صدیوں سے دنیا میں انگریز ہی کا عروج رہا۔ روس بھی اصل میں انگریز ہی تھے جو بعد میں اشتراکی بن گئے۔ امریکہ ، فرانس ، جرمنی وغیرہ کے لوگ انگریزی نسل سے ہی تعلق رکھتے ہیں۔ یہ سب کے سب اسلام کے بد ترین دشمن ثابت ہوئے ۔ حضرت شیخ الہند (رح) نے ان سے حتی المقدور ٹکر لی۔ بہر حال ان آیات کی تشریح میں جو کچھ غرض کیا ہے یہ حضرت شیخ الہند (رح) ہی کے الفاظ ہیں جو آپ کو پڑھ کر سنائے گئے ہیں۔
آیت کے آکر میں ارشاد ہے فمن اجطر پس جو کوئی مجبور ہوگیا۔ غیر باغ نہ وہ نافرمانی کرنے والا ہے ولا عاد اور نہ تعدی کرنے والا ہے۔ فان ربک غفور رحیم تو بیشک تیرا پروردگار بخشش کرنے والا اور مہر بان ہے مجبوری سے مرادیہ ہے کہ کسی شخص کے پاس فی الوقت کھانے کی کوئی چیز موجود نہیں اور نہ ہی اسے کسی حلال چیز تک دسترس حاصل ہے۔ تو ایسی حالت میں اگر وہ مذکورہ حرام اشیاء میں سے کوئی چیز کھا کر جان بچالے تو اللہ تعالیٰ معاف کر دے گا۔ اس پر کوئی مواخذہ نہیں ہوگا ۔ مگر یہ ضروری ہے کہ مجبوری کی حالت ہو نہ کہ جان بوجھ کر بلا عذر حرام خوری کر کے بغاوت کا مرتکب ہو۔ غیر باغ کا یہی مطلب ہے کہ نافرمانی کرنے والا نہ ہو بلکہ صحیح معنوں میں مجبور ہو۔ اور دوسری بات یہ کہ ولاعاد ذیادتی بھی نہ کرے یعنی صرف اتنا کھائے جس سے جان بچ سکتی ہو اس سے زیادہ کا لالچ نہ کرے۔ اگر پائوبھر چیز کھانے سے جان بچا سکتا ہے تو پھر اس سے زیادہ ایک لقمہ بھی کھانے کی کوشش نہ کرے۔ اگر ان دو شرایط کے ساتھ سخت اضطراری حالت میں کوئی حرام چیز بھی استعمال کرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دیگا۔ بلکہ فقہائے کرام تو یہ بھی فرماتے ہیں کہ مجبوری کی حالت میں اگر حرم چیز میسر ہے مگر کوئی شخص نہ کھا کر اپنی جان ضائع کرلیتا ہے تو وہ اللہ کے ہاں ماخوز ہوگا۔ جب ایسی حالت میں اللہ نے حرام چیز کو مباح قرار دیا ہے تو پھر اس نے کیوں نہ استعمال کی۔ البتہ کسی شخص پر اگر ایسی مجبوری کی حالت آجئے کہ اسے جان سے مار دینے کی دھمکی دے کر کفر کا کلمہ کہنے پر آمادہ کیا جائے ، تو اس کے لیے بہتر یہ ہے ، کہ کلمہ کفر نہ کہے چاہے جان چلی جائے۔ البتہ جان بچانے کے لیے حرام کا کھا لینا بہتر ہے بجائے اس کے کہ اس کی جان ضائع ہو۔
Ayahs 6:146–147ربط آیات :
غیر اللہ کی نیاز اور فعلی شرک کی تردید کے بعد اللہ تعالیٰ نے گذشتہ درس میں چار بنیادی حرام چیزوں کا تذکرہ کیا۔ یہ چار چیزیں ہر دور میں انسانوں کے لیے حرام رہی ہیں اور وہ ہیں مردار ، بہتا ہوا خون ، خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام پر نامزد کی جانے والی چیز جس سے اس کا تقریب اور خوشنودی مطلوب ہو۔ جو لوگ ایسی چیزوں کو استعمال کریں گے وہ جسمانی یا روحانی خرابیوں میں مبتلا ہوں ۔ گے چناچہ مردار کھانے سے انسان کی جسمانی نشوو نما خراب ہوتی ہے۔ بہتا ہوا خون زہریلے مادوں سے مرکب ہوتا ہے۔ اور جسمانی صحت کے لیے مضر ہے۔ اسی طرح خنزیر ایک نجس العین جانور ہے ، نجاست خور اور بےغیرت ہے لہٰذا اس کو کھانے والے بھی انہی صفات سے متصف ہوں گے۔ اسی کے علاوہ خنزیر ایک ملعون جانور ہے۔ بعض قومتوں کو سزا کے طور پر ان کی شکل میں تبدیل کردیا گیا جس کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے۔ حدیث میں چوہوں کا ذکر بھی آتا ہے کہ بعض قوموں کو چوہوں کی شکل میں تبدیل کردیا گیا۔ اگرچہ مسخ شدہ شکلوں والی قوم کو زندہ ہنیں رکھا گیا ، تاہم مغضوب علیہ قوم اور جن جانوروں کی شکلوں میں وہ تبدیل ہوئی ، لعنت سے خالی نہیں۔ اس لحاظ سے خنزیر ایک ملعون جانور ہے اور اسے کھانے والا لعنت میں اس کا حصے دار بنے گا۔
غیر اللہ کے نام پر دی گئی نیاز میں بھی معنوی طور پر نجاست پیدا ہوجاتی ہے۔ اور جیسا کہ آپ کل سن چکے ہیں ، یہ نجاست خنزیر اور مردار سے بھی زیادہ ہوتی ہے۔ لہٰذا ایسی چیزوں کے استعمال سے اللہ کریم نے منع فرمایا ہے۔ البتہ اللہ تعالییٰ نے اپنی خاص مہربانی سے مجبوری کی حالت میں جان بچانے کی خاطر ان چیزوں کے استعمال کو مباح قرار دیا ہے بشرطیکہ واقعی حالت مجبوری ہو اور ضرورت سے زیادہ استعمال نہ ہو۔
بعض چیزیں دائمی طور پر حرام نہیں ہوتیں بلکہ انہیں خاص وجہ سے بعض اقوام پر وقتی طور پر حرام کردیا جاتا ہے۔ چناچہ آج کے اس دور میں اللہ تعالیٰ نے ایسی ہی حرمت کا ذکر کیا ہے۔ یہ تذکرہ بعض دوسری سورتوں میں بھی موجود ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے وعلی الزین ھادوا اور ان لوگوں پر جو یہودی ہوئے۔ یعنی جو اپنے آپ کو حضرت موسیٰ علیہ اسلام کے امتی اور ان کے پیروکار ہونے کے دعویدار ہیں۔ یہ لوگ اگرچہ ابتدائی دور میں صحیح ایمان رکھنے والے تھے مگر بعد میں یہودی اور عیسائی دونوں گروہ اپنے اپنے مشن سے ہٹ گئے انہوں نے اللہ کی کتابوں میں جابجا تحریف کی اور موسیٰ علیہ اسلام اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کے احکام کو تبدیل کیا اور انہوں نے دین کو بگاڑ کر رکھ دیا ۔ پھر یہودی مغضوب علیہ ہوئے اور عیسائی گمراہ ٹھرے۔
بہر حال فرمایا کہ جو لوگ یہودی ہوئے ان پر حرمنا کل ذی ظفر ہم نے ہر ناخن والا جانور حرام قرار دے دیا ۔ اس سے مراد وہ جانور ہیں جن کے پائوں پنجے کی شکل میں ہوں اور ودرمیان سے پھٹے ہوئے نہ ہوں۔ ان میں اونٹ شتر مرغ ، بطخ اور مرغابی وغیرہ شامل ہیں ۔ اگرچہ یہ جانور بنیادی طور پر حلال ہیں مگر جیسات کہ آگے آرہا ہے اللہ نے یہودیوں کی سر کشی کی وجہ سے ان پر یہ جانور وقت طور پر حرام قراد دے دیا۔ اور اس طرح سزاء کے طور پر یہودیوں کو ایک نعمت سے محروم کردیا۔
فرمایا ناخن والے جانوروں کے علاوہ ومن البقر واغنم گائے بیل اور بھیڑ بکریوں میں سے حرمنا علیھم شحومھما ہم نے ان پر ان جانوروں کی چربی حرام کردی ۔ یعنی یہودی لوگ گائے اور بھیڑ بکریوں کا گوشت تو استعمال کرسکتے تھے مگر چربی استعمال نہیں کرسکتے تھے۔ الا ماحملت ظھورھما سوائے اس چربی کے جو ان جانوروں کی پشتوں کے ساتھ لگی ہوئی ہو اوالحوایا یا جو آنتوں کے ساتھ ملی ہوئی ہو اوما اختلط بعظم یا جو ہڈیوں کے ساتھ لگی ہو۔ اللہ نے اس تین قسم کی چربی کے علاوہ باقی ساری چربی یہودیوں کے لیے ممنوع قرار دے دی ہے وہ نہ اسے کھا سکتے تھے اور نہ کسی دیگر کام میں استعمال کرسکتے تھے۔ یہودیوں کے لیے یہ بڑاسخت حکم تھا ، ایک حلال جانور کا گوشت تو کھا سکتے تھے مگر چربی نہیں کھا سکتے تھے جسے گوشت سے علیحدہ کرنے کے لیے انہیں بڑی مشقت اٹھانا پڑتی تھی۔ کیونکہ وہ حرام تھی۔
اس قسم کے سخت اور دشوار حکم کی مثال سورة بقرہ میں بھی ملتی ہے جب ایک شخص قتل ہوگیا تو اللہ نے حکم دیا کہ گائے ذبح کر کے اس کا ایک ٹکرا اس مردہ پر مارو تو وہ زندہ ہو کر تمہیں قاتل کا پتہ دے دیگا۔ یہودیوں نے حکم کی تعمیل کی بجائے طرح طرح کے سوال کرنے شروع کردیئے کہ وہ گائے کیسی ہو۔ اس کا رنگ کیسا ہو۔ عمر کتنی ہو وغیرہ وغیرہ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ایسی سخت پابندیاں عائد کیں کہ انہیں بڑی مہنگائی گائے حاصل کر کے ذبح کرنا پڑی اور تب جا کر ان پر حقیقت حال منکشف ہوئی۔ یہ ان کی حکم عدولی ، نافرمانی اور شرارت کی وجہ سے تھا۔ یہاں پر بھی اللہ تعالیٰ نے بعض جانور اور بعض کی چربی ان پر انکی اپنی کارستانیوں کی بناء پر حرام فرمائی۔ فرمایا ذلک جزینھم ببغیفھم یہودیوں کو یہ سزا ہم نے ان کی بغاوت کی وجہ سے دی ہے۔ ان سے بعض حلال جانوروں کی حلت موقف کردی تاکہ انہیں تکلیف ہو اور اگر وہ اس سزا میں پورا نہ اتریں اور حرام کردہ اشیاء کو بھی استعمال کریں تو ان پر مزید و بال لایا جاسکے۔ انسانوں پر ظلم و زیادتی ، انسانی حقوق کی تلفی ، شرارت اور خدا تعالیٰ کے سامنے عدم اخبات کی وجہ سے ہی اللہ تعالیٰ انہیں اس قسم کی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے ، حضور ﷺ نے فرمایا ان العبد لیحرم من الرزق بالذنب انسانوں کو اپنے گناہوں کی وجہ سے رزق سے محروم کردیا جاتا ہے۔ ایک حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ انسان کے گناہوں کی وجہ سے خود اس پر ، جانوروں اور کیڑے مکوڑوں پر بُرے اثرات پڑتے ہیں۔ اسی لیے جب کوئی شریر آدمی مرجاتا ہے تو اس علاقے کے جانور اور درخت خدا تعالیٰ شکریہ ادا کرتے ہیں کہ اس موذی سے جان چھوٹی۔ وہ جاتنے ہیں کہ اس بد کار آدمی کی وجہ سے وہ بھی پریشانی میں مبتلا تھے۔ البتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سزا اپنی حکمت کے مطابق دیتا ہے۔ کبھی فوری گرفت کر لیاتا ہے اور کبھی مہلت دے دیتا ہے۔ اللہ نے فرمایا ” املیی لھم “ میں ان کو ڈھیل دیتا ہوں ” ان کیدی متین “ میری تدبیر بڑی مضبوط ہے۔ بعض آدمیوں کو اللہ تعالیٰ دنیا میں بالکل سزا نہیں دیتا ۔ اس میں بھی اس کی خاص مصلحت ہوتی ہے جو نہی انسان موت کی طرف بڑھتا ہے۔ اس کی سزا فوراً شروع ہوجاتی ہے۔ بعض کو انکی کوتاہیوں کی وجہ سے دنیا میں ہی سزا دے دیتا ہے۔ یہ سب اس کی حکمت پر موقف ہے۔
حضور علیہ اسلام کا یہ بھی فرمان ہے کہ انسان بڑا مجرم ہے ، جس نے کرید کی اور سوال کیا تو اس کے سوال کی وجہ سے ایک حلال چیز مسلمانوں پر حرام ہوگئی۔ اگر وہ سوال نہ کرتا تو حرمت نہ آتی ، اس نے خواہ مخوہ مخلوق خدا کو ایک نعمت سے محروم کردیا ۔ قرآن میں اکثر مقامات پر آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجرموں اور نافرمانوں کو چھوڑتا نہیں۔ دنیا پر جو پریشانیاں ، تکالیف ، حوارث ، بیماریاں اور نوازلات آتے ہیں ، یہ اکثر انسانوں کے ہاتھ کی کمائی کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ اللہ نے فرمایا ” بما کسبت اید یکم “ ان تکالیف میں تمہارے ہاتھوں کا دخل ہوتا ہے جس کی وجہ سے گرفت آتی ہے ” ویعفوا عن کثیر “ اور بہت سی چیزوں کو نظر انداز بھی کردیا جاتا ہے۔ فوری طور پر پکڑ نہیں ہوتی مگر آگے میدان حشر میں ذرے ذرے کا حساب ہوگا اور اعمال کے مطابق جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا۔ بہر حال فرمایا کہ ان کے گناہوں کی وجہ سے نے ان پر بعض پابندیاں عائد کردیں وانا لصد قون اور ہم اپنی بات میں بالکل سچے ہیں۔ ہمارا فیصلہ حق پر مبنی ہوتا ہے اور اس میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہونا چاہئے۔
بنی اسرائیل کے چند لوگ بغاوت کے مرتکب ہوئے تو ساری قوم ایک حلال چیز سے محروم ہوگئی۔ بسا اوقات ایسا ہوتا ہے۔ کہ شرارت ایک آدمی یا گروہ کرتا ہے مگر ساری قوم محکوم ہوجاتی ہے۔ ایک محدود طبقے کی شرارت کی وجہ سے 1791 ئ میں پاکستان کا ایک بازو کٹ گیا اور مسلمانوں کیا کثریت تباہ ہو کر رہ گئی ، مصائب کے پہاڑ ٹوٹ پڑے۔ مشرقی اور مغربی پاکستان ایک دوسرے کے دکھ درد میں برابر کے شریک تھے۔ اب ایک حصے کو تکلیف پہنچے تو دوسرا اس کی مدد کو نہیں آسکتا ۔ بڑی طاقتوں کی ہمیشہ سیے یہی پالیسی رہی ہے مسلمان ممالک کو وہ خاص طور پر تقسیم در تقسیم کے اصول کے تحت کمزور کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ان کی سیادت قائم رہے۔ اس وقت دنیا میں پچاس مسلمان ممالک میں مگر سب جدا جدا ہیں۔ کوئی کسی کا پرسان حال نہیں۔ اگر کہیں ملتے بھی ہیں تو منافقت کے ساتھ۔ سپر پاورز ہرگز نہیں چاہتیں کہ مسلمان اکٹھے ہو کر ان کے لیے خطرہ بن جائیں۔ ان کے سامنے ایسی تجاویز پیش کرتے ہیں جسکی وجہ سے یہ قانون کی پابندہ نہ کرسکیں اور ہمیشہ دست نگر رہیں۔ تعلیم کا میدان ہو یا ثقافت کا ، کھیل تماشہ ہو یا تہذیب و تمدن کی بات ، ان کی ہمیشہ ہی کوشش ہوتی ہے کہ مسلمان نہ تو اکھٹے ہو سکیں اور نہ اپنے دین پر عمل کرسکیں ان کا اسی میں فائدہ ہے۔ اور مسلمان اسی طرح ان کے سوالی اور غلام بن کر رہ سکتے ہیں۔ چند آدمیوں یا خاندانوں کی خوشحالی کوئی حیثیت نہیں رکھتی جب کہ پوری قوم ذلیل و رسوا ہو رہی ہو۔ آج مسلمان بحیثیت قوم اغیار کے نزدی ایک گری ہوئی قوم ہیں۔ خدا کے باغیوں کی نگاہ میں ان کی کوئی دقعت نہیں یہ سب اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے احکام کے ساتھ بغاوت کا نتیجہ ہے جس کا اثر پوری دنیا کے مسلمانوں پر پڑ رہا ہے۔
برصغیر پاک و ہند میں انگریزوں نے سو سال تک منظم حکومت کی ۔ جب انگریزوں کا رخ اس طرف ہوا تو امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے چار بڑے مسلمان حکمرانوں کو خطوط لکھ کر آنے والے خطرے سے آگاہ کیا تھا۔ آپ نے بڑے دکھ کے ساتھ لکھا تھا کہ خدا را آپس میں مت لڑو بلکہ
اغیار کے خلاف مشترکہ محاذ بناؤ، ورنہ تباہ ہوجاؤ گے ، مگر ایک درویش کی بات کون سنتا ہے ، ایران ، کابل اور ہندوستان ولے آپس میں ہی دست و گریباں رہے جس کا نتیجہ ظاہر ہے ۔ عراق و ایران جنگ کئی سالوں سے جاری ہے ، مسلکا دونوں ملک شیعہ ہیں مگر مفاد جدا جدا ہیں ، ایک دوسرے پر جنگ میں پہل کرنے کا الزام لگا رہے ہیں اور ایک دوسرے کا علاقہ دبائے بیٹھے ہیں۔ ہزاروں آدمی ہلاک ہوچکے ہیں ، صنعتیں تباہ ہوئیںِ عمارات کھنڈر بن گئے مگر کوئی فریق اپنے موقف سے سر مو ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی ہورہی ہے ۔ اغیار ان کو اسلحہ دے کر لڑا رہے ہیں ، اگر ان میں اسلام کی کوئی رمق باقی ہوتی ، خدا کا خوف ہوتا اہل ایمان کی ہمدردی کا جذبہ ہوتا تو یہاں تک نوبت نہ پہنچتی۔ دین کی خاطر معمولی علاقہ تو کجا پوری سلطنت بھی چھوڑنا پڑتی تو چھوڑ دیتے ، دنیا میں ان کا وقار ہوتا مگر اپنے ہی ہاتھوں ذلیل ہو رہے ہیں۔ بعض لوگوں کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے پوری قوم مبتلائے عذاب ہے۔
مجرمین کے لیے لازمی سزا :
بہرحال فرمایا کہ اللہ تعالیٰ لوگوں کی سرکشی کی وجہ سے مختلف قسم کی سزائیں دیتا ہے کبھی کسی حلال چیز کو حرام قرار دے کر ، کبھی کسی دیگر مصیبت میں مبتلا کر کے ، کبھی طوفان ، زلزلے اور بیماری کی صورت میں ، وہ سزا ضرور دیتا ہے ، فرمایا ان حقائق کے باوجود فان کذبوک اگر یہ لوگ آپ کو جھٹلائیں۔ آپ کی بات نہ مانیں فقل پس آپ کہہ دیں ربکم ذو رحمۃ واسعۃ تمہارا پروردگار بڑٰ وسیع رحمت کا مالک ہے اس کی رحمت کی چادر ہمیشہ تنی رہتی ہے جس سے لوگ مستفید ہوتے رہتے ہیں۔ لہذا تم بھی رحمت کے اس دریا میں غوطہ لگا لو ، اس کی رحمت جبھی حاصل ہوسکتی ہے جب اس پر ایمان لاؤ اس کے احکام کی تعمیل کرو اور برائی سے بچ جاؤ۔ اور اگر اس کی نافرمانی کرو گے تو یاد رکھو ولا یرد باسہ عن القوم المجرمین۔ مجرم لوگ اس کی سزا سے بچ نہیں سکتے۔ وقتی طور پر مہلت تو مہل سکتی ہے مگر وہ مواخذہ کے بغیر چھوڑتا نہیں ، بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے۔ ان اللہ لیملی للظٓلم حتی اذا اخذہ لم یفلتہ اللہ تعالیٰ ظالم کو مہلت دیتا رہتا ہے ۔ پھر جب اسے پکڑتا ہے تو سزا کے شکنجے میں جکڑ لیتا ہے۔
دنیا میں بعض نافرمان اور باغی لوگ بظاہر عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں ، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہے بلکہ یہ تو استدراج ہے ، خدا تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل دی جارہی ہے ، کوئی شخص بغاوت کرتا ہے ، کفر اور شرک کا ارتکاب کرتا ہے ، حدود اللہ کو توڑتا ہے حقوق العباد سے کھیلتا ہے مگر نعمتیں مل رہی ہیں تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کے قانون میں امہال اور تدریج ہے۔ وہ مہلت دیتا ہے مگر کوئی مجرم اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتا ، کسی نہ کسی وقت ضرور پکڑے جائیں گے ، مجرمین سے اللہ کا عذاب ٹلنے والا نہیں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں بنی اسرائیل کا ذکر کر کے یہ ساری بات امت محمدیہ کو بھی سمجھا دی کہ اگر تم بھی شرارت کرو گے اللہ کے احکام کی نافرمانی کرو گے ، تو تم بھی سزا میں مبتلا ہوسکتے ہو۔ یہودیوں کو بعض چیزوں کی حرمت کی صورت میں سزا ملی تو تمہیں کسی اور طریقے سے گرفتار مصائب کرسکتا ہے۔
Ayahs 6:148–150ربط آیات :
گزشتہ کئی رکوعات سے شرک کی تردید ہورہی ہے درمیان میں وقتی محرمات کا ذکر آیا ہے اور پھر دائمی محرمات کے ساتھ ساتھ یہودیوں پر بطور سزا حرام کی گئی ، بعض چیزوں کا بیان آیا ہے ۔ ان شرارتوں کی وجہ سے اللہ نے ان پر ناخن والے جانور اور گائے بیل اور بھیڑ بکری کی چربی حرام کردی تھی ، اس سے پہلے ان جانوروں بحیرہ ، سائبہ وغیرہ کا ذکر ہوا جن کو مشرک لوگ غیر اللہ کی نذر کے طور پر نامزد کر کے اپنے آپ پر حرام کرلیتے تھے ، جب ان سے ان محرمات کی دلیل پوچھی جاتی ہے تو وہ کوئی عقلی یا نقلی دلیل پیش نہیں کرسکتے بلکہ محض اٹکل پیچو باتیں کرتے ہیں ، آج کی آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اس باطل دلیل کا رد فرمایا ہے جو وہ شرک کے حق میں پیش کرتے تھے۔
مشرکین کی بھونڈی دلیل :
فرمایا مشرکین سے جب کسی دلیل کا مطالبہ کیا جائے گا سیقول الذین اشرکوا ، تو کہیں گے وہ لوگ جنہوں نے شرک کیا لو شاء اللہ ما اشرکنا ، اگر اللہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے۔ ولا اباونا اور نہ ہمارے آباؤ اجداد شرک کرتے ولا حرمنا من شیء ، اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ، وہ کہتے تھے کہ ہم جو کچھ اچھا یا برا کر رہے ہیں مشیت ایزدی سے کر رہے ہیں اگر یہ کام غلط ہوتے تو اللہ تعالیٰ انہیں کرنے کی توفیق ہی نہ دیتا ، لہذا ظاہر ہے کہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں وہ بالکل ٹھیک کام ہیں ، مشرکین نے اپنے شرکیہ افعال کا یہ جواز پیش کیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ لوگ حقیقت کو جھٹلا رہے ہیں۔ کذلک کذب الذین من قبلھم ، اس سے پہلے لوگوں نے بھی اسی طرح حق کو جھٹلایا ، حتی ذاقوا باسنا ، یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کا مزا چکھ لیا ، مطلب یہ کہ حقیقت سے انکار کرنے میں ٰہ لوگ بھی اپنے آباؤ اجداد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں یہ تو ایسی تاویل ہے جسے تمام غلط کار اپنے قبیح افعال کے حق میں پیش کرسکتے ہیں اس لحاظ سے تو کوئی کام بھی برا نہیں ہوسکتا کیونکہ ہر کام اس کی توفیق سے انجام پاتا ہے ۔
مشیت اور رضا :
حقیقت یہ ہے کہ بحیثیت خالق اللہ تعالیٰ اپنے ارادے اور مشیت سے بعض چیزوں کو پیدا کرتا ہے ، پھر انسان کو اختیار دیتا ہے کہ وہ چاہیں تو فلاں کام کرلیں مگر ساتھ ہی واضح کردیتا ہے کہ یہ کام برا ہے ، اس کی انجام دہی ہماری ناراضگی کا باعث ہوگی ، پھر بندہ اپنی مرضی سے وہ کام انجام دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا قانون سامنے آجاتا ہے ۔ لھا ما کسبت وعلیھا ما اکتسبت ، (البقرہ) جو اس نے اچھا کام کیا وہ اس کے حق میں بہتری کی خوشخبری لائے گا اور جو غلط کیا اس کا وبال اسی پر پڑے گا ، اللہ تعالیٰ نے بندوں کو اچھے برے اعمال کا فی الجملہ اختیار دے رکھا ہے ، اگر وہ یہ اختیار نہ دیتا تو انسان جمادات کی طرح مجبور محض ہوتے ، لہذا یہ تاویل قطعی بےبنیاد ہے کہ اگر اللہ کی رضا نہ ہوتی تو ہم یہ کام نہ کر پاتے ، دراصل لوگوں نے اللہ کی مشیت اور رضا کو ایک چیز سمجھ لیا ہے حالانکہ یہ دو مختلف اشیاء ہیں ، بعض کام اللہ اپنی مشیت اور ارادے سے کرتا ضرور ہے مگر ان میں اس کی رضا شامل نہیں ہوتی ، جیسے تخلیق ہے ، ہر اچھی بری چیز اللہ ہی کی پیدا کردہ ہے۔ مگر وہ بعض چیزوں کو پسند نہیں کرتا ، جیسے سورة زمر میں موجود ہے ، ولا یرضی لعبادہ الکفر ، وہ اپنے بندوں سے کفر کو پسند نہیں کرتا ، اگرچہ کفر کو بھی اسی نے پیدا کیا ہے اور پھر اس کی توفیق بھی دی ہے ، اس کا فیصلہ تو یہ ہے ، نولہ ما تولی ، جدھر کوئی جانا چاہتا ہے وہ ادھر ہی پھیر دیتا ہے۔ توفیق دے دیتا ہے ، تاہم ہر چیز کا خالق وہی ہے واللہ خلقکم وما تعملون ، اللہ نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور تمہارے اعمال کو بھی اسی نے پیدا فرمایا ہے ۔
یاد رہے کہ کسی شخص کو یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ غلط کام کرنے پر فورا گرفت کیوں نہیں کرتا ، تاکہ لوگ اس سے باز آجائیں ، یہ چیز بھی اللہ کی حکمت کے خلاف ہے وہ چاہے تو فورا پکڑ لے یا مہلت دے دے۔ دنیا کی سلطنت کا بھی قانون یہی ہے کہ عام طور پر جرم پر حکومت فورا گرفت ہیں کرتی بلکہ ڈھیل دیتی ہے اور ملزم کی کارگردگی پر نگاہ رکھتی ہے اور بالآخر گرفت کرلیتی ہے ، اگر کسی ملزم کو فوری طور پر گرفتار نہ کیا جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ بدکردار حکومت کی نگاہ میں اچھے ہیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی حکومت میں جب کوئی بغاوت اور سرکشی کرتا ہے تو مالک الملک بسا اوقات ڈھیل دیتا ہے۔ جب اس کی شرارت حد سے بڑھ جاتی ہے تو اچانک پکڑ لیتا ہے قرآن پاک میں موجود ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ گرفت کرنے پہ آتا تو دنیا میں کوئی چلنے پھرنے والی چیز نظر نہ آتی۔ انسانوں کی طرح جانور اور چرند پرند بھی غلطی کرتے ہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ سب کو فی الفور سزا دیتا تو سب ہلاک ہوجاتے مگر اس کا قانون ہے و یوخرکم الی اجل مسمی۔ ( سورة نوح) مقررہ وقت تک مہلت دیتا ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ گنہگار آدمی اللہ کے ہاں پسندیدہ ہے ، وہ اپنی حکمت کے مطابق جب چاہے گا پکڑ لے گا اور جب چاہے گا سزا دے گا۔ لہذا مشرکین کی اس دلیل میں کوئی وزن نہیں کہ شرک کے کام اگر غلط ہوتے تو خدا تعالیٰ ان کی توفیق ہی نہ دیتا مشرکین کے مطابق اگر انجام پانے والا ہر فعل درست ہے ، تو جب کوئی آدمی زہر استعمال کرلیتا ہے تو پھر وہ تریاق کی تلاش میں کیوں پھرتا ہے ، اگر اس نے زہر کا استعمال اللہ کی رضا سے کیا ہے تو پھر اس کا نتیجہ بھی بھتگنا چاہے ، اور ہلاکت سے بچنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے ، اسی طرح جب کوئی بیمار ہوجاتا ہے تو بیماری میں خدا تعالیٰ کی رضا تلاش کر کے اس پر صبر کرنا چاہیے ، نہ کہ ڈاکٹر سے دوائی لینی چاہیے ، بہرحال یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت اور رضا دو مختلف چیزیں ہیں ، انسان ہر کام بیشم اللہ کی توفیق ہی سے کرتا ہے مگر یہ انسان کا فرض ہے کہ وہ دیکھے کہ جو کام میں کر رہا ہوں اس میں اللہ کی رضا شامل ہے یا ناراضگی ، اگر اس بات کی سمجھ آجائے تو کوئی آدمی شرک پر آمادہ نہ ہوگا ، اور نہ وہ اسے خدا کی رضا پر محمول کرے گا۔
علمی دلیل :
ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغبر ! آپ ان سے کہہ دیں ھل عندکم من علم کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے ، یعنی شرک پر اصرار کرنے کی کوئی عقلی یا نقلی دلیل ہے ؟ اگر ہے فتخرجوہ لنا تو اسے ہمارے سامنے نکال لاؤ، ہم بھی دیکھیں کہ کس بنا پر تم شرک کا ارتکاب کر رہے ہو۔ تم نے یہ جو بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام بنا رکھے ہیں اور انہیں بعض پر حرام اور بعض کے لیے حلال کرتے ہو ، اس کے ثبوت کے لیے کوئی چیز تو پیش کرو ، کوئی صحیفہ ہو ، کوئی کتاب ہو ، کسی عقلمند نے ، کسی دانشور نے ، کسی بڑے فلاسفر نے ان شرکیہ افعال کی تصدیق کی ہو ، لاؤ کیا دلیل ہے تمہارے پاس ، قرآن پاک میں جگہ جگہ مطالبہ کیا گیا ہے ھاتوا برھانکم لاؤ اپنی دلیل جو تمہارے دعوے کی تصدیق کرے ، اور اگر کچھ پیش نہیں کرسکتے تو اس کا مطلب یہ ہے ان تتبعون الا الظن ، تم صرف گمان کا اتباع کر رہے ہو ، جو بات وہم و خیال میں آجاتی ہے اس کے پیچھے بھاگ نکلتے ہو وان انتم الا تخرصون ، اور تم محض اٹکل دوڑا رہے ہو کہ فلاں شخص نے یہ منت مانی تھی تو اس کی فلاں مراد پوری ہوگئی یا فلاں نے فلاں کام نہیں کیا تھا تو اس کا یہ نقصان ہوگیا۔ فرمایا یہ سب اٹکل پیچو باتیں ہیں جن کے پیچھے کوئی ٹھوس دلیل نہیں ہے۔ یہ محض ظن ہے جس کے متعلق فرمایا ان الظن لا یغنی من الحق شیئا۔ (النجم) حق کے مقابلے میں ایسے ظن اور گمان کی کیا حیثیت ہے اور یہ کیا فائدہ دے سکتا ہے ؟
کامل دلیل اللہ کی ہے :
ارشاد ہوتا ہے قل ، اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجیے فللہ الحجۃ البالغہ ، یاد رکھو ! اللہ کی دلیل ہی کامل ہے اس مالک املک نے انبیا اور کتابوں کے ذریعے عقلی اور نقلی دلائل کے ساتھ حق کو نازل فرمایا ہے اور اپنی حجت تمام کردی ہے لئلا یکون للناس علی اللہ حجۃ ، بعد الرسل ، (النساء) تاکہ کل قیامت والے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمارے پاس کوئی سمجھانے والا نہیں آیا ، کوئی خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ فقد جائکم بشیر و نذیر ، اب تمہارے پاس خوشخبری دینے والے اور ڈڑانے والے آچکے ، اللہ نے اپنی حجت مکمل کردی ، اب تمہارے پاس انکار کرنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا ، اللہ نے وحی کے ذریعے دلائل حقہ کو پھیلا دیا ہے ، نشانات قدرت واضح کردیے ہیں۔ اگر اب بھی حقیقت کو تسلیم نہیں کرتے تو یہ دن کے وقت آنکھیں بند کر کے طلوع آفتاب کے انکار کے مترادف ہے۔
جبری ہدایت خلاف حکمت ہے :
فرمایا ولو شاء لھدکم اجمعین۔ اور اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا مگر یہ اس کی حکمت اور مصلحت کے خلاف ہے۔ وہ جبرا کسی کو راہ راست پر نہیں چلانا چاہتا ، وہ چاہتا تو کفر کو بالکل ہی نابود کردیتا اور ایمان کے سوا کوئی چیز باقی نہ رہتی مگر اس کی حکمت کا تقاضا ہے۔
ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ۔ (انبیاء) ہم تمہیں برائی اور اچھائی کے ذریعے آزماتے ہیں۔ آزمائش جبھی ہوتی ہے جب اسے ہدایت واضح کرنے کے بعد کھلا چھوڑ دیا جائے تاکہ وہ اپنی مرضی سے ایمان کا راستہ قبول کرلے یا کفر کا فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر۔ (الکہف) ہاں اگر کفر کا راستہ اختیار کرے گا تو آگے اس کے لیے جہنم بھی تیار رہے ، اللہ نے انسان کو بہترین مخلوق پیدا فرمایا ، اسے عقل و خرد عطا کی ہے ، اس کے لیے نیکی اور بدی کا راستہ واضح کیا ہے اور اسی لیے مکلف بنایا ہے ، اگر یہ بھی جامد پتھر ہی کی طرح ہوتا کہ جدھر لڑھکا دیا لڑھک گیا ، تو پھر اس سے باز پرس بھی نہ ہوتی ، مگر مکلف ہونے کی حیثیت سے اللہ اسے جبری ہدایت نہیں دیتا بلکہ عمل کرنے کے لیے اسے موقع فراہم کرتا ہے اور پھر ان اعمال کا محاسبہ کرتا ہے ، جبری ہدایت بہرحال خلاف حکمت ہے۔
امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے انسانی فطرت میں ملکیت اور بہیمیت دونوں چیزیں رکھی ہیں ، اور یہ کبھی اس سے جدا نہیں ہوتیں ، ملکیت اور بہیمیت کی کشمکش ہی انسان کے مکلف ہونے کی دلیل ہیں ، ملکیت کا رخ اوپر عالم بالا کی طرف ہوتا ہے اور بہیمیت کا نیچے کی طرف پھر جونسی طاقت غالب آجاتی ہے انسان اسی کے مطابق عمل کرتا ہے اور جزا اور سزا کا مستحق ہوتا ہے ، غرضیکہ اللہ نے انسان کو مجبور محض بنایا اور نہ وہ کسی کو زبردستی ہدایت یا نافرمانی کی طرف لے جاتا ہے ۔
تحریم کے لیے گواہی :
ارشاد ہوتا ہے قل ، اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجیے ، ھلم شھداء کم الذین یشھدون ان اللہ حرم ھذا۔ اپنے گواہ لاؤ جو شہادت دیں کہ اللہ نے فلاں فلاں چیز کو حرام قرار دیا ہے ، تم نے خود ساختہ شریعت کے ذریعے بعض چیزوں کو حلال اور بعض کو حرام قرار دے لیا ہے ، ذرا ان احکام کے متعلق کوئی شہادت تو پیش کرو ، مگر یہ چیلنج ہے کہ اس معاملہ میں کوئی سچی گواہی پیش نہیں کی جاسکتی۔ البتہ جھوٹی گواہی دینے والا شاید کوئی مل جائے جو کہ دے کہ غیر اللہ کی نیاز جائز ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کی اجازت دے رکھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کو خطاب کر کے فرمایا ، فان شھدوا ، اگر یہ لوگ کوئی جھوٹی گواہی لے بھی آئیں فلا تشھد معھم تو آپ ان کے ساتھ گواہی نہ دیں یعنی آپ ان کی کچھ پروا نہ کریں ، کیونکہ سچی گواہی تو وہ کوئی نہیں لاسکتے جس سے کفر و شرک برحق ثابت ہوسکے ، پچھلے رکوع میں بھی گزر چکا ہے ام کنتم شھداء اذ وصکم اللہ بھذا ، کیا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ ایسا حکم دے رہا تھا کہ فلاں چیز صرف مرد ہی کھا سکتے ہیں اور عورتیں نہیں کھا سکتیں یا فلاں نیاز صرف پروہت ہی کا حق ہے ، فرمایا اس قسم کی کوئی شہادت پیش نہیں کی جاسکتی ، اور اگر یہ جھوٹی شہادت لاتے ہیں تو پھر آپ کی قطعا پروا نہ کریں اور اپنا کام کرتے رہیں۔
خواہشات کا اتباع :
آگے حضور ﷺ کو مزید ہدایت جاری کی جارہی ہے ولا تتبع اھواء الذین کذبوا بایتنا ، آپ ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کریں جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ ظاہر ہے کہ حق اور خواہشات کی اتباع دو مختلف اور متضاد چیزیں ہیں۔ حق کو تسلیم کرنے والا خواہشات کے پیچھے نہیں جاسکتا ، اسی طرح جو نفسانی خواہشات کا پجاری ہے وہ حق کو قبول نہیں کرتا۔ جو لوگ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والے ہیں ، انہوں نے حق کا انکار کردیا ہے اور ظاہر ہے کہ اب وہ خواہشات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں انہوں نے اپنی خواہشات ہی کو اپنا معبود بنا لیا ہے ، جب کہ حق کی تلاش کے لیے اللہ کے فرمان اور نبی کی تعلیم کو پیش نظر رکھنا ضروری ہے ، مگر اس دور میں حق کو کون پوچھتا ہے ، نام نہاد جمہوریت کے اس دور میں تو عوام کی مرضیات اور نامرضیات پر چلنا پڑتا ہے ، جو کچھ ممبران کہہ دیں وہ قانون بن جاتا ہے ، اگرچہ وہ خدائی قانون سے متصادم ہی کیوں نہ ہو۔ اور پھر لطف کی بات یہ ہے کہ اس معاملہ میں عوام کو بھی دھوکا دیا جاتا ہے۔ منصب اقتدار پر قابض لوگ عوام کے نام پر عوام کو بیوقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں ، یہ سب خواہشات کے اتباع کا نتیجہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو بار بار فرمایا ولا تتبعوا خطوات الشیطان ، شیطان کے نقش قدم پر مت چلو۔ وہ تمہیں گمراہی کی طرف لے جانا چاہتا ہے۔ شیطان کے پیچھے چلنا یا خواہشات نفسانیہ کی اتباع ایک ہی چیز ہے ، اسی لیے فرمایا کہ آپ لوگوں کی خواہشات کی پیروی نہ کریں جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا۔
آخرت کا انکار :
اور دوسری بات یہ فرمائی کہ آپ ان لوگوں کے پیچھے بھی نہ چلیں ، والذین لا یومنون بالاخرۃ ، جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے ، ظاہر ہے جن لوگوں کا آخرت پر یقین ہی نہیں ہے جن کو محاسبے کی فکر ہی نہیں ہے ، وہ تو من مانی کارروائیاں ہی کریں گے ، وہ حق و باطل میں امتیاز کیے کرسکتے ہیں اور حرام و حلال میں حد فاصل کیسے قائم کرسکتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا یہ ایمان سے محرومی کی دلیل ہے کہ آخرت کا خوف نہیں ، اور ایمان سے خالی انسان ہر اچھی بات سے محروم ہوجاتا ہے آخرت کا تصور ہی انسان کو برائی سے روکتا ہے اور اچھائی کی ترغیب دیتا ہے ، اگر یہی ناپید ہوجائے تو پھر آدمی شتر بےمہار ہے ، جدھر چاہے پھرتا رہے ، کفر اور شرک کرتا رہے کھیل تماشے میں لگا رہے اور بدعات کو رواج دیتا رہے ، اسے کسی چیز کی پروا نہیں ہوگی۔ لہذا آپ منکرین قیامت سے بھی علیحدہ رہیں۔
شرک سے بیزاری :
تیسری چیز یہ ہے کہ آپ ان لوگوں کے ساتھ بھی کوئی تعلق نہ رکھیں وھم بربھم یعدلون ، جو اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو برابر کرتے ہیں ، برابر کرنے سے مراد یہ ہے کہ وہ غیر اللہ کو بھی اللہ تعالیٰ کا ہم پلہ قرار دے کر شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔ فرمایا آپ ایسے لوگوں کا اتباع بھی نہ کریں یہ بات بار بار سمجھائی جاچکی ہے کہ اللہ وحدہ لاشریک ہے ، نہ کوئی اس کی ذات میں شریک ہے اور نہ صفات میں ، تمام انبیاء بزرگ ، اولیاء ، بت ، شیاطین ، اور جنات اس کی مخلوق ہیں ، اور جو مخلوق ہیں وہ اپنے خالق کے برابر کیسے ہوسکتے ہیں ، مگر یہ لوگ انہیں کبھی عبادت میں شریک ٹھہراتے ہیں اور کبھی نذر و نیاز میں شریک بناتے ہیں اور کہتے ہیں ، ھذا للہ بزعمھم وھذا لشرکائنا (انعام) یعنی نیاز میں یہ خدا کا حصہ ہے اور یہ ہمارے شرکا کا حصہ ہے ، خدا کے ساتھ برابر کرنے کا یہی معنی ہے جو کہ نہایت بیوقوفی کی بات ہے۔ خدا تعالیٰ کے حقوق میں دوسروں کو شریک کرنا بدترین گمراہی ہے ، لہذا آپ ایسے لوگوں کی بات بھی نہ مانیں۔