Ayahs 6:65–67پہلے اللہ تعالیٰ کے علاوہ غیروں کی عبادت کرنے سے منع کیا گیا…… کہ یہ کفر شرک اور گمراہی کی بات ہے۔ اس کے بعد الوہیت کی صفات مختصہ کا بیان تھا کہ عالم الغیب صرف وہی ہے وہی ہر چیز پر غالب ہے لہٰذا عبادت بھی صرف اسی کی ہونی چاہئے اور مدد بھی اسی سے طلب کرنی چاہئے۔ پھر درمیان میں فرمایا کہ لوگوں کو خشکی یا تری میں جو مشکلات پیش آتی ہیں ان سے بچا کر لانے والا بھی اللہ ہی ہے مگر افسوس کا مقام ہے کہ لوگ پھر بھی اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں۔ یہ ایک قسم کی تنبیہہ تھی کہ جب علم غیب کا مالک وہ ہے ‘ غلبہ اور قدرت اس کو حاصل ہے ‘ تو پھر الہ بھی اس کے سوا کوئی نہیں۔ اگر اللہ تعالیٰ فوراً گرفت نہیں کرتا تو یہ اس کیطرف سے مہلت ہوتی ہے جس سے غلط فائدہ نہیں اٹھانا چاہئے بلکہ پہلی وارننگ پر ہی کفر و شرک اور بدعات کو ترک کر کے اللہ تعالیٰ کی الوہیت کا اقرار کرلینا چاہئے۔
عذاب الٰہی کا انتظار
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت قادر مطلق کو بیان فرمایا ہے۔ قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں ھوالقادر وہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے علی ان یبعث علیکم عذابا کہ وہ تم پر کوئی عذاب بھیج دے گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کی طرف توجہ دلائی تھی کہ تمہیں مصائب سے بچانے والا خود اللہ ہے ‘ مشکلات کے وقت تم صرف اسی کو پکارتے ہو مگر جب وہ مصیبت ٹل جاتی ہے تو پھر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہو۔ اللہ نے فرمایا ہے کہ یہ نہ سمجھو کہ اگر تمہیں ایک مصیبت سے نجات مل گئی تو اب دوبارہ مشکل میں نہیں پھنس سکتے بلکہ وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب مسلط کر دے من فوقکم تمہارے اوپر سے اومن تحت ارجلکم یا پائوں کے نیچے سے۔ قرآن پاک میں سابقہ کئی اقوام کے حالات مذکور ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے اوپر سے عذاب نازل فرمایا۔ قوم لوط پر پتھروں کی بارش کی گئی جس سے پوری قوم کو ہلاک کردیا گیا۔ سورة ہود میں موجود ہے ” وامطرنا علیھا حجارۃ من سجیل منضود مسومۃ عند ربک “۔ ہم نے ان پر نشان زدہ پتھروں کی بارش کی۔ ہر پتھر پر نام لکھا ہوا تھا کہ فلاں کے سر پر لگے گا۔ اصحاب فیل کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک ہوا۔ ” ترمیھم بحجارۃ من سجیل “ ان پر چھوٹے چھوٹے سنگریزوں کی بارش کی گئی ‘ گویا اللہ تعالیٰ اوپر فضا سے عذاب نازل کرنے پر قادر ہے اوپر سے کوئی طوفان بھی آسکتا ہے جیسا قوم نوح (علیہ السلام) پر آیا۔ ” فاخذھم الطوفان “۔ (العنکبوت) پھر انہیں طوفان نے گھیر لیا۔ اس قسم کی سزا قوم فرعون پر بھی آئی تھی اور وہ ہلاک ہوگئے اور اللہ تعالیٰ نیچے سے بھی کوئی عذاب بھیج سکتا ہے۔ دنیا میں بڑے بڑے زلزلے آتے ہیں اور لوگ آناً فاناً تباہ ہوجاتے ہیں۔ سیلاب کی تباہ کاریاں بھی آئے دن مشاہدے میں آتی رہتی ہیں ‘ یہ بھی نیچے کی طرف سے عذاب الٰہی ہے تو بہرحال فرمایا کہ اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ وہ تمہارے اوپر سے کوئی عذاب بھیج دے یا تمہارے پائوں کے نیچے کوئی آفت برپا کر دے۔
امام ابن جریر طبری (رح) ‘ امام بیضاوی (رح) ‘ اور امام فخر الدین رازی (رح) نے حضرت عبدلالہ بن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ من فوق علم کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ظالم حاکم مقرر کر دے جو تمہیں ہر وقت پریشانی میں مبتلا رکھیں۔ انسانی سوسائٹی میں اس قسم کے واقعات پیش آتے رہتے ہیں کہ بڑے بڑے بادشاہوں یا ڈکٹیٹروں نے عوام کو کچل کر رکھ دیا۔ یہ روس میں کیا ہوتا ہے ‘ برسراقتدار ٹولے نے اپنے ماتحتوں کے خیالات پر بھی پابندی لگا رکھی ہے۔ حکومت کی خلاف نہ کسی کو سوچنے کی اجازت ہے اور نہ زبان کھولنے کی۔ جو ایسا کرتا ہے نیست و نابود کردیا جاتا ہے۔ چین کا کمیونزم بھی ایسا ہی ہے ۔ لوگوں کے مذہب پر بھی پابندی ہے۔ یہ عذاب الٰہی نہیں تو کیا ہے ؟ کوئی آدمی اوپر والوں کی مرصی کے خلاف کوئی بات نہیں کرسکتا۔ ایسا کرنے والوں کو غدار سمجھا جاتا ہی ‘ سزائے موت دیدی جاتی ہے ‘ جلاوطن کردیا جاتا ہے ‘ یا سائبیریا کے بیابانوں میں پھینک دیا جاتا ہے ‘ جہاں چار چار ہزار میل تک کوئی رسل و رسائل نہیں ‘ وہاں سے انسان بھاگ بھی نہیں سکتا۔
امریکہ نے بھی بعض قوموں کو غلام بنا رکھا ہے۔ اقتصادی امداد کے نام پر ملکوں کو اپنا دست نگر بنا لیا جاتا ہے اور پھر انہیں اپنی مرضی سے سانس بھی نہیں لینے دیا جاتا۔ کبھی جمہوریت کے نام پر اور کبھی مذہب کے نام پر لوگوں پر ظلم کیا جاتا ہے۔ فلسطینیوں اور مصریوں پر جو ظلم ہو رہے ہیں ‘ یہ سب امریکہ کی سازش ہے۔ ایسی سکیم لڑاتا ہے کہ بظاہر لوگوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار ہوتا ہے مگر درحقیقت ان کی جڑیں کاٹ دی جاتی ہیں ‘ برطانیہ کا بھی یہی معمول رہا ہے۔ وہ بھی کمزوروں کو غلام اور بےگیرت بنانے کے درپے رہا ہے۔ مشنریوں کے ذریعے سکول اور ہسپتال بنا کر لوگوں کے مذہب پر ڈاکہ ڈالا جاتا ہے۔ کھیل اور تماشے میں الجھا کر کاہل اور سست بنا دیا جاتا ہے۔ یہ سب اوپر والے عذاب کی مثالیں ہیں۔ جب لوگ اپنی مرکز سے ہٹ جاتے ہیں اور اپنے مسلک کو چھوڑ بیٹھتے ہیں تو پھر وہ اپنا سب کچھ بھول کر غیروں کی ترجمانی کرنے لگتے ہیں ‘ یہی سزا ہے۔
زبردست لوگوں کی طرف سے سزا کے مشاہدات بھی ہوتے رہتے ہیں مزدوروں ‘ کسانوں اور ملازموں کی طرف سے تحریکیں اور روزمرہ کی ایجی ٹیشن انجمن سازی ‘ فرائض سے غفلت اور حقوق کے مطالبات اور والوں کے لئے درد سر بن جاتے ہیں اور وہ ہر وقت پریشانی میں غرق رہتے ہیں۔
اوپر والے نیچے والوں کو کچلتے ہیں اور نیچے والے اوپر والوں کا چین حرام کردیتے ہیں۔ کارخانے داروں کو مزدور پریشان کرتے ہیں ‘ زمینداروں اور وڈیروں کو مزارع تنگ کرتے ہیں ‘ کرایہ دار مالک مکان و دکان سے برسرپیکار رہتا ہے اور ماتحت ملازمین اپنے افسران کا ناک میں دم کردیتے ہیں ۔ یہ سلسلہ اس طرح چلتا رہتا ہے اور اوپر والوں اور نیچے والوں دونوں کے لئے عذاب الٰہی ثابت ہوتا ہے اسی لئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ تمہیں اوپر سے کسی عذاب میں مبتلا کر دے یا نیچے سے کوئی سزا مقرر کر دے۔
…گھر کے چراغ سے
فرمایا اللہ تعالیٰ اس بات پر بھی قادر ہے او یلبسکم شیعا تمہارے مختلف فرقے بنا کر تمہیں خلط ملط کر دے۔ لبس کا معنی گڈ مڈ کردینا یا خلط ملط کردینا ہے تو فرمایا سزا کی ایک صورت یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ تمہیں مختلف فرقوں میں تقسیم کر دے۔ و یذیق بعضکم باس بعض پھر بعض کو بعض کی لڑائی کا مزہ بھی چکھائے۔ جب لوگ مختلف فرقوں میں بٹ جائیں گے ‘ ان میں اختلافات پیدا ہو جائین گے تو پھر وہ آپس میں ہی برسر پیکار ہوجائیں گے اور یہ بھی عذاب ہی کی ایک صورت ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ اس آیت کے جب یہ الفاظ نازل ہوئے عذاباً من فوقکم تو حضور ﷺ نی دعا کی اعوذ بوجھک اے اللہ ! میں تیری ذات کے ساتھ اس عذاب سے پناہ مانگتا ہوں ‘ پھر جب الفاظ او من تحت ارجلکم اترے ‘ تب بھی نبی (علیہ السلام) نے نیچے والے عذاب سے پناہ مانگی۔ آیت کا تیسرا ٹکڑا او یلبسکم شیعا ً آیا تو آپ نے فرمایا ‘ یہ نسبتاً سہل ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ ان تین دعائوں میں سے پہلی دو کو اللہ نے منظور کرلیا اور وعدہ فرمایا کہ امت نبی آخر الزمان (علیہ السلام) پر نہ تو نوح (علیہ السلام) کی قوم جیسا بارش یا پتھروں کا عذاب آئے گا کہ پوری قوم ہی ہلاک ہوجائے اور نہ نیچے سے زلزلے اور سیلاب وگیرہ ہی پوری امت کے لئے تباہ کن ہوں گے۔ البتہ آپس کی فرقہ بندی سے متعلق اللہ نے حضور ﷺ کی دعا قبول نہ کی ‘ چناچہ تفرقہ بازی اس امت میں قیامت تک قائم رہے گی۔ حضرت سعد ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ نبی (علیہ السلام) نے یہ دعا بھی کی ‘ اے اللہ ! میری امت پر کس دشمن کو مسلط نہ فرمانا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دعا بھی قبول فرمائی کہ دشمن تو مسلط نہ ہوگا۔ مگر آپس کی لڑائی بھڑائی جاری رہے گی۔ چناچہ امت محمدیہ میں تاتاریوں کا فتنہ محض اپنوں کی وجہ سے پیدا ہوا۔ افغانستان کی جنگ میں جو لوگ ہلاک ہو رہے ہیں وہ بھی آپس کی جنگ وجدال کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔ اس برصغیر میں انگریزوں کو تسلط اپنوں کی وجہ سے حاصل ہوا۔ غرضیکہ دنیا میں جہاں پر بھی مسلمانوں کو غلام بنایا گیا اور ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے ہیں۔ سب اندرونی غداروں کی وجہ سے ہوا ہے حضور ﷺ نے فرمایا میری اپنی امت کے لوگ ہی ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے۔
فرقہ بندی کا عذاب
اب مسلمانوں میں فرقہ پرستی کی وبا عام ہے ۔ خیر القرون میں تو لوگ اس بیماری سے محفوظ رہے مگر آپ کے رخصت ہونے کے 53 برس بعد یہ عذاب شروع ہوگیا۔ سب سے پہلا اختلاف خلیفہ راشد حضرت عثمان ؓ کے زمانے میں پیدا ہوا جو ان کی شہادت پر منتج ہوا۔ پھر مسلمانوں کے درمیان جمل اور صفین کی جنگیں ہوئیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ جب میری امت میں ایک دفعہ تلوار چل جائے گی تو پھر قیامت تک چلتی رہے گی۔ اس کے بعد عام فتنے شروع ہوگئے۔ فرقہ بندی پیدا ہوگئی۔ خلافت ملوکیت میں تبدیل ہوگئی۔ شہنشاہیت اور امپریلزم آ گیا۔ اجتماعیت کی جگہ انفرادیت نے لے لی اور اس طرح امت میں مستقل انتشار پیدا ہوگیا۔ نیک لوگ دنیا سے بالکل ناپید تو نہیں ہوئے مگر اکثر وبیشتر شر ہی کا غلبہ رہا۔ یہ سب اندرونی خلفشار کا نتیجہ ہے اپنے ملک میں فرقہ بندی کی حالت دیکھ لیں۔ ایک دوسرے کے خلاف کس طرح کیچڑ اچھالا جاتا ہے۔ ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے دیئے جاتے ہیں۔ پراپیگنڈا کے ذریعے ایک دوسرے کو بدنام کرنے کی کوشش کی جاتی ہی اور اس طرح لوگوں کو بیوقوف بنایا جارہا ہے یہی خدا کا عذاب ہے ‘ یہ آخری علمی امت ہے اور علم کا تقاضا ہے کہ ان کے نظریات اور آرا مختلف ہوں ‘ بعض کے نظریات اچھے ہیں مگر ان میں بعض کمزوریاں پائی جاتی ہیں۔ بعض لوگ فاسد رائے رکھتے ہیں اور بعض سو فیصدی گمراہی میں مبتلا ہیں ‘ شرک کفر اور بدعات کی وجہ سے فکر فاسد ہ وجاتی ہے عمل سے بےبہرہ لوگ نئے نئے نظریات وضع کرتے ہیں جس کی وجہ سے آپس میں ٹکرائو پیدا ہونا ضروری ہوجاتا ہے۔ اسی چیز کے متعلق کہا کہ اللہ تعالیٰ قادر ہے کہ وہ تمہیں مختلف فرقوں میں تقسیم کر دے۔ اور تم ایک دوسرے کے لئے باعث عذاب بن جائو۔ آج یہ عذاب ہم پر مسلط ہے حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ جو قوم سنت کو ترک کردیتی ہے۔ اس کو لڑائی جھگڑے میں مبتلا کردیا جاتا ہے جب سنت چھوٹتی ہے تو اس کی جگہ بدعت آتی ہے اور اس کے نتیجے میں جھگڑے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ آخری امت اسی چیز کی سزا بھگت رہی ہے۔
مقام غور و فکر
فرمایا ” انظر کیف نصرف الایت “ دیکھو ! ہم کس طرح پھیر پھیر کر آیات کو بیان کرتے ہیں۔ ہم مختلف طریقوں سے شرک کی تردید کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ الوہیت کی صفت صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے اللہ نے اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کی صفات بھی سمجھائی ہیں۔ یہ صفات کسی غیر میں مانو گے تو شرک کے مرتکب ہوجائو گے ۔ علیم کل اور قادر مطلق بھی وہی ہے۔ مشکلات سے نکالنے والا اس کے سوا کوئی نہیں لہٰذا اس کی سامنے التجا کرو۔ مصیبت میں اسی کو پکارو ‘ اس کی توحید کو مانو ‘ اس کے سامنے عاجزی کا اظہار کرو ‘ اور اس کی عبادت بجا لائو ‘ فرمایا ہم یہ آیات ‘ معجزات اور نشانیاں پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔ لعلھم یفقھون تا کہ یہ لوگ سمجھ جائیں شرک کی تردید میں سورة کے اگلے حصے میں بھی مختلف طریقوں سے بات سمجھائی گئی ہے۔
تکذیب اور سزا
فرمایا و کذب بہ قومک آپ کی قوم نے اس قرآن پاک کو جھٹلا دیا و ھوا الحق۔ حالانکہ وہ برحق ہی۔ سب سے پہلے قریش مکہ اور پھر عرب کے باقی لوگوں نے وحی الٰہی کی تکذیب کی۔ اسی سورة میں پہلے بیان ہوچکا ہے کہ مشرکین کہتے ہیں کہ ہم آپ کو تو صادق اور امین جانتے ہیں مگر ہم اس کتاب کو تسلیم نہیں کرتے کیونکہ یہ ہمارے طور طریقوں اور ہمارے معبودوں کی تردید کرتی ہے۔ فرمایا اے پیغمبر (علیہ السلام) ! جب یہ لوگ کلام الٰہی کی تکذیب کرتے ہیں۔
قل لست علیکم بوکیل تو آپ ان سے کہہ دیں کہ میں کوئی تمہارا نگہبان تو نہیں ہوں۔ تمہارا نگران تو خدا تعالیٰ ہے۔ وہ جب چاہے سزا دے سکتا ہی۔ میرا کام تو تمہیں سمجھانا ہے اللہ کے حکم سے آگاہ کرنا ہے اور اس بات کا مجھے علم نہیں کہ سزا کب آئے گی۔ حقیقت یہ ہے لکل نباء مستقر ہر خبر کی لئے وقت مقرر ہے۔ جب وہ وقت آئے گا تو وہ چیز واقع ہوجائے گی۔ تاہم مجھے اس کا علم نہیں ۔ کفر و شرک کرنے والے ہمیشہ عذاب میں گرفتار ہوئے ہیں۔ جب اللہ کی مشیت ہوگی وہ مجرمین کو پکڑ لے گا۔
” قد جعل اللہ لکل شیء قدرا “ اللہ نے ہر چیز کے لئے ایک اندازہ مقرر کر کھا ہے جس کے مطابق وہ ظاہر ہوجاتی ہے عروج وزوال وقت پر آتا ہے۔ جزا اور سزا بھی اپنے وقت مقررہ پر آئے گی ‘ موت اور قیامت کے لئے ایک وقت متعین ہے۔ ہر چیز ایک وقت پر ٹک جاتی ہے قرار پا لیتی ہے اس کا علم اس وقت مجھے بھی نہیں اور تمہیں بھی نہیں و سوف تعلمون ‘ البتہ تم چاہے عنقریب جان لو گے۔ جب اللہ کی طرف سے سزا آئے گی تو پتہ چل جائے گا کہ یہ وہی عذاب ہے جس کے متعلق اللہ کا پیغمبر خبردار کیا کرتا تھا مگر تم اسے جھٹلاتے رہے۔
Ayahs 6:68–70ربط آیات
پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید فرمائی اور پھر اپنی صفات مختصہ کا ذکر کیا کہ وہ علیم کل ‘ عالم الغیب ‘ قاہر ‘ قادر مطلق اور ہر چیز کا خالق ہے ۔ اللہ نے فرمایا کہ دیکھو ہم کس طرح مختلف طریقوں سے اپنی آیات کو پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں تا کہ یہ لوگ سمجھ جائیں ‘ فرمایا اس کے باوجود کذب بہ قومک آپ کی قوم نے اس قرآن پاک کو جھٹلا دیا ‘ حالانکہ وہ برحق حی۔ پھر فرمایا کہ آپ کہہ دیں میں کوئی تم پر نگہبان تو نہیں ہوں ‘ مجھے کچھ علم نہیں کہ خدا تعالیٰ کی گرفت کب آتی ہے یہ میرے بس کی بات نہیں ہے۔ بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی مشیت پر موقوف ہے ہر خبر کے لئے ایک وقت مقرر ہے جس پر وہ ظاہر ہوجاتی ہے اور تمہیں عنقریب پتہ چل جائے گا کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوتا ہے اور اللہ کی وحدانیت کو چھوڑ کر شرک کو اختیار کرنے سے کتنا بڑا وبال آتا ہے۔
آیات الٰہی سے تمسخر
اب آج کی آیات میں آیات الٰہی سے تمسخر کرنے اور ان کو مشغلہ بنانیوالوں کی مذمت بیان کی گئی ہے اور ان سے اعراض کرنے کا حکم دیا گیا ہے ‘ البتہ تبلیغ دین کا کام جاری رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے اور پھر ایسے لوگوں کو ملنے والے عذاب کا تذکرہ بھی ہے تو ارشاد ہوتا ہے ۔ واذا رایت الذین یخوضون فی ایتنا اور جب آپ دیکھیں ان لوگوں کو جو اللہ کی آیتوں کے ساتھ تمسخر کرتے ہیں ‘ ان کو مشغلہ بناتے ہیں ان کی عیب جوئی کرتے ہیں یا ان پر طعن کرتے ہیں ‘ خوضکا لغوی معنی گھس جانا ہے اور یہاں باطل میں گھس جانا مراد ہے۔ گویا جو لوگ آیات الٰہی کو تضحیک کا نشانہ بناتے ہیں ‘ وہ باطل کے ساتھ مل جاتے ہیں۔ مشرکین اور اہل کتاب کلام الٰہی سے مذاق کرتے تھے ‘ قرآنی احکام کا تمسخر اڑاتے تھے۔
یہاں پر خطاب تو پیغمبر (علیہ السلام) سے ہے مگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ حکم امت کے ہر فرد کے لئے یکساں قابل عمل ہے۔ تو فرمایا جب لوگ قرآن کی آیات سے استہزاء کرنے لگیں تو پھر آپ کے لئے یہ حکم ہے فاعرض عنھم آپ ان لوگوں سے اعراض کریں یعنی ان سے کنارہ کشی اختیار کرلیں ‘ ان کی مجالس میں شریک نہ ہوں حتیٰ یخوضو فی حدیث غیرہ یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں مشغول ہوجائیں۔ مقصد یہ کہ اگر ان کا موضوع گفتگو خوض فی الایات نہ ہو بلکہ کوئی اور بات چیت ہو تو پھر آپ کو ان کی مجلس میں بیٹھنے کی اجازت ہے۔ یہ حکم نزول قرآن کے زمانہ میں بھی تھا اور آج بھی ہر مسلمان کے لئے نافذ العمل ہے اس کا خلاف ‘ احکام الٰہی کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔
امام ابوبکر حصاص (رح) فرماتے ہیں کہ جس مجلس میں آیات الٰہی کی توہین ہو رہی ہو ‘ حدیث مبارک کے ساتھ مذاق ہوتا ہو یا احکام دین کا تمسخر اڑایا جاتا ہو وہاں کسی مسلمان کو بیٹھنا روا نہیں بلکہ وہاں سے فوراً علیحدہ ہوجانا چاہئے۔ مبتدعین کی مجالس کا بھی یہی حکم ہے ۔ جہاں بدعات کی حوصلہ افزائی ہوتی ہو۔ آیات الٰہی کے معانی کو توڑ موڑ کر پیش کیا جاتا ہو ‘ وہاں کسی راسخ العقیدہ مسلمان کا ٹھہرنا درست نہیں بلکہ ایسی مجالس سے کنارہ کش کرنا ہی بہتر ہے۔ منافقین کا رویہ بھی اسی قسم کا ہوتا ہے۔ وہ بھی نجی مجلسوں میں آیات الٰہی کے خلاف باتیں کرتے ہیں۔ پیغمبر اسلام پر تنقید کرتے ہیں مگر جب ان کا تعاقب کیا جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو محض دل لگی کر رہے تھے ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ نے فرمایا ” قل ابا اللہ وایتہ “ آپ کہہ دیں کیا اللہ تعالیٰ اور اس کی آیات کے ساتھ دل لگی کرتے ہو ؟ یہ تو بہت ہی بری بات ہے۔ بہرحلا اہل ایمان کو ہر اس مجلس سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے جس میں قرآن پاک ‘ حضور کے ارشادات مبارکہ اور شریعت حقہ کی کسی بات سے ٹھٹا تمسخر کیا جاتا ہو یا کسی قسم کی نکتہ چینی کی جاتی ہو۔
دوسری جگہ بھی موجود ہے اللہ نے فرمایا جب یہ لوگ باطل باتوں میں مشغول شعائر دین پر نکتہ چینی اور عیب جوئی کر رہے ہوں تو ایسی صورت میں اگر آپ ان کی مجلس میں شامل ہوں گے ۔ ” انکم اذا مثلھم “ تو آپ بھی انہی جیسے ہوجائیں گے۔ اسی لئے تمام بزرگان دین ایسے واعظین کی مجلس میں بیٹھنے سے منع کرتے ہیں جو موضوع حدیثیں بیان کرتے ہوں اور اللہ کے نبی کی طرف غلط باتیں منسوب کرتے ہوں ۔ فرماتے ہیں کہ تم تو اسے نیکی کا کام سمجھ کر شامل ہوگئے۔ مگر حقیقت میں اس سے نقصان ہوگا کیونکہ وہاں سے جو چیز اخذ ہوگی وہ دین کی بات نہیں ہوگی بلکہ شرک اور بدعت ہوگی اور یہی چیز سم قاتل ہے اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے تمام افراد امت کو ایسی مجالس میں جانے سے منع فرمایا ہے۔
اچھی مجالس کی تلاش
علامہ اقبال مرحوم نے ہمیشہ شکوہ کیا کہ اچھی مجلس نہیں ملتی اچھے آدمی ناپید ہیں اور اچھی سوسائٹی میسر نہیں ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ جب تک اچھی سوسائٹی بہت سی باتیں ہیں۔ اچھی مجلس خدا تعالیٰ کا انعام ہے۔ اچھا واعظ ‘ اچھا انسان ‘ اچھا پیر ‘ اچھا لیڈر ‘ مل جانا بڑی غنیمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے متعلق فرمایا ہے۔ ” فادخلی فی عبدی وادکلی جنتی (الفجر) پہلے میرے بندوں میں شریک ہو جائو اور پھر میرے بہشت میں داخل ہو جائو۔ یہاں پر سوسائٹی کو مقدم رکھا گیا ہے۔ اچھی سوسائٹی جنت میں داخلے کا ایک ذریعہ ہے مگر موجودہ دور میں ایسی مجلس کہاں میسر ہے ؟ اب تو جدھر دیکھو کھیل تماشا ‘ طعن تشینع ‘ عریانی ‘ عیاشی اور فحاشی والی سوسائٹی ہی ملے گی ‘ ہر مجلس میں فلموں اور ٹیلیویژن کی باتیں یا کھیل کود کے تذکرے ہوتے ہیں۔ اچھی سوسائٹی کہاں نصیب ہوگی ؟ بہرحال بری سوسائٹی سے اجتناب اور اچھی سوسائٹی کی تلاش کامیابی کی دلیل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ دین کے دشمنوں کے ساتھ لڑنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ” طعنوا فی دینکم وہ تمہارے دین کے معاملے میں طعن کرتے ہیں۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا ’ قتاتلوا ائمتہ الکفر “ کفر کے پیشوائوں سے جنگ کرو جب تک ان کی سرکوبی نہیں ہوگی۔ وہ اپنی مذموم حرکات سے باز نہیں آئین گے لہٰذا ان کی مجالس میں جانی سے بھی منع فرما دیا۔
شیطان کا بھلاوا
آگے اللہ نے ایک اور امکانی صورت حال کا تذکرہ فرمایا ہے۔ وہ اما ینسینک الشیطن اگر تمہیں شیطان بھلا دے۔ یعنی اگر آپ بھول کر دین پر طعن وتشنیع کرنے والی مجلس میں شامل ہوجائیں یا کسی لا علمی کی بناء پر وہاں جا بیٹھیں تو فرمایا فلا تقعد بعد الذکری مع القوم الظلمین تو یاد آجانے کے بعد اس ظالم قوم کے پاس نہ بیٹھیں بلکہ ایسی مجلس سے فوراً علیحدگی اختیار کرلیں۔
دینا
یہاں پر بھول جانے یا بھلا دینے کا ذکر ہے۔ درحقیقت کسی چیز کا بھلا اللہ تعالیٰ کی منشاء کے بغیر تو نہیں ہوتا۔ مگر یہاں پر اسے شیطان کی طرف اس لئے منسوب کیا گیا ہے کہ وہ ایسی باتوں سے خوش ہوتا ہے۔
امام شاہ ولی اللہ (رح) نے یہ بات بھی سمجھائی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ نماز میں نکیر کا پھوٹ پڑنا یا کوئی دیگر عارضہ لاحق ہوجانا دراصل اللہ کی طرف سے ہوتا ہے مگر اسے بھی شیطان کی طرف منسوب کیا گیا ہے کیونکہ وہ ہر ایسے کام پر خوش ہوتا ہے جس میں دین کا نقصان ہو۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے سفر کے واقعہ میں بھی آتا ہے کہ جب آپ اور آپ کے ساتھی یوشع منزل مقصود سے بہت آگے نکل گئے تو وہاں خادم نے کہا کہ جب ہم چٹان کے پاس ٹھہرے تھے تو میں مچھلی وہاں بھول گیا تھا جو سمندر میں چلی گئی ” وما انسنیہ الا الشیطن (کہف) اور یہ بھول شیطان ہی کی کارستانی تھی۔ یہاں بھی بھول کر شیطان کی طرف منسوب کیا کیونکہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور یوشع کے لمبے سفر اور تکالیف کی وجہ سے خوش ہو رہا تھا۔ بہرحال اس مقام پر فرمایا کہ اگر تمہیں شیطان بھلا دے اور تم بری مجلس میں شریک ہو جائو تو پھر یاد آنے پر فوراً علیحدہ ہوجائیں وہاں بیٹھنے کی اجازت نہیں۔
تبلیغ دین کا فریضہ
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ذکر ہی سے مراد نصیحت ہے۔ اور مطلب یہ ہے کہ اگر آپ ایسی مجلس میں موجود ہوں تو وہاں ان لوگوں کو نصیحت کرنے کی حد تک ٹھہر سکتے ہیں۔ جب آپ اس فریضہ سے سبکدوش ہوجائیں تو پھر وہاں بالکل نہ رکیں بلکہ علیحدگی اختیار کرلیں۔ اور جب آپ ایسی مجلس سے اٹھ کر چلے جائیں گے۔ وما علی الذین یتقون من حسابھم من شئی “ تو کفار و مشرکین کے حساب میں سے متقین پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوتی۔ ان کی برائی کا حساب آپ سے تو نہیں لیا جائے گا ‘ وہ اپنی کارکردگی کے خود ذمہ دار ہیں۔ آپ کا فرض یہی ہے کہ ان کو نصیحت کریں اور برائی سے روکنے کی کوشش کریں ‘ آپ کے لئے یہی بہتر ہے۔ ولکن ذکری لعلھم یتقون ان کو نصیہت کریں تا کہ وہ بچ جائیں ‘ ہو سکتا ہے کہ آپ کی تبلیغ سے کوئی سعادت مند آدمی برائی سے باز آجائے۔
بہرحال مبلغین کے لئے یہ دستور العمل دیا گیا ہے کہ آپ مایوس نہ ہوں بلکہ تبلیغ دین کا کام جاری رکھیں ‘ کئی مانے یا نہ مانے آپ اپنا کام جاری رکھیں۔ سورة اعلیٰ میں فرمایا ہے ” فذکر ان نفعت الذکری “ آپ ان کو نصیحت کریں ‘ شاید یہ نصیحت سود مند ثابت ہو۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں پر نفع نہ دینے والی بات مخدوف ہے۔ اور پورا مطلب یہ ہے کہ آپ نصیحت کرتے رہیں خواہ ان کو فائدہ ہو یا نہ ہو۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ مسلمان کو ہمیشہ پرامید رہنا چاہئے اور خیر خواہی کی بات کرتے رہنا چاہئے۔ دین نام ہی خیر خواہی کا ہے۔ لوگ کتنے بھی غلط کار اور ہٹ دھرم ہوں ‘ تبلیغ کا کام جاری رہنا چاہئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے نبی کمال درجے کے اطاعت گزار ہوتے ہیں اور وہ تبلیغ دین کا کام پورے خلوص کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ اس کے باوجود قیامت کے دن حال یہ ہوگا کہ کی نبی کے پیچھے صرف ایک ہی امتی ہوگا اور بعض پیغمبر ایسے بھی ہوں گے جن کے ساتھ کوئی بھی امتی نہیں ہوگا۔ تاہم اس میں نبی کا کوئی قصور نہیں ہے ‘ کیونکہ اس نے حق تبلیغ ادا کردیا ‘ اب کوئی مانتا ہے یا نہیں مانتا ‘ یہ نبی کی ذمہ داری نہیں ہے مقصد یہ ہے کہ جب نبی کی بات کا بھی بعض اوقات اثر نہیں ہوتا تو ہم گنہگار کس کھاتے میں ہیں۔ اگر لوگ نصیحت سے فائدہ نہیں اٹھاتے تو مایوس نہیں ہونا چاہئے بلکہ اپنا کام کرتے رہنا چاہئے۔ ہمارے لئے یہی لائحہ عمل ہے۔
دین اور کھیل تماشا
پھر فرمایا وذرالذین اتخذوا دینھم لع باولھوا آپ ان لوگوں کو چھوڑ دیں جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا ہے جو لوگ اللہ کے سچے دین سے ٹھٹا کرتے ہیں۔
فرشتوں سے تمسخر کرتے ہیں ‘ معجزات کے منکر ہیں ‘ احکام الٰہی کا مذاق اڑاتے ہیں آپ ان سے علیحدہ ہوجائیں۔ یہ ایسے ناہنجار لوگ ہیں جو اللہ کے عذاب سے بےخوف ہوچکے ہیں ‘ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں ‘ یہ خود ہی اپنی کرتوتوں کا مزہ چکھ لیں گے ‘ ہمفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس جملے کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ اپ ان لوگوں کو چھوڑ دیں جنہوں نے کھیل تماشے کو ہی اپنا دین بنا لیا ہے۔ اس وقت دنیا کی کئی اقوام ایسی ہیں جن کے دین کی حیثیت کھیل تماشا ہی رہ گئی ہے۔ عیسائی اپنا مذہبی تہوار کرسمس ڈے کس طرح مناتے ہیں ؟ اربوں روپے کی شراب نوشی ہوتی ہے ‘ جواء کھیلا جاتا ہے ‘ زنا ہوتا ہے اور طرح طرح کے لہو لعب اختیار کئے جاتے ہیں ‘ کیا مقدس دن منانے کا یہی طریقہ ہے ؟ کیا عیسیٰ علیہالسلام نے اپنا دن ایسے ہی منانے کا حکم دیا تھا ‘ دراصل ان لوگوں نے دین کو کھیل تماشا بنا لیا۔ جشن نور روز بھی اپنے جلو میں اسی قسم کی قباحتیں لاتا ہے ۔
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی تفسیر کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہر قوم کے لئے ایک عید کا دن مقرر کیا ہے تا کہ اس دن لوگ اس کا ذکر کریں ‘ اس کی عبادت میں مشغول ہوں اور سچی خوشی کا اظہار کریں مگر یار لوگوں نے اسے کھیل تماشا بنا لیا۔
ہمارے ہاں بھی جشن میلاد کھیل تماشا ہی بن کر رہ گیا ہے۔ جس طرح عیسائی کرسمس ڈے مناتے ہیں ‘ اسی طرح مسلمانوں نے عید میلاد منانا شروع کردیا ہے۔ ساز و سرود کی محفلیں جمائی جاتی ہیں ناچ گانے ہوتے ہیں جھنڈیاں لگتی ہیں ۔ مکہ اور مدینے کے ماڈل بنا کر رکھے جاتے ہیں۔ جس طرح ہندو وسہرہ اور دیوالی مناتے تھے ‘ راون کے بڑے بڑے بت بنا کر رکھتے تھے اور پھر انہیں آگ لگاتے تھے ‘ چراغاں کرتے تھے ‘ شور و شر اور ڈھول ڈھمکا ہوتا تھا ‘ بالکل وہی خرافات مسلمان بھی کر رہے ہیں۔ جس طرح انہوں نے دین کو کھیل تماشا بنا لیا ‘ اسی طرح مسلمان بھی ان کے پیچھے چل رحی ہیں۔ تو فرمایا آپ چھوڑ دیں ان کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا ہے۔
دھوکے کی زندگی
پھر فرمایا کہ ان کا حال یہ ہے وعزتھم الحیوفۃ الدنای ان کو دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ہمیشہ اسی طرح خوشحال رہیں گے اور کھیل تماشے ہوتے رہیں گے۔ وہ محاسبے کے عمل کو بھول چکے ہیں اور اسی دنیا کی زندگی پر فریفتہ ہیں۔ ” زین لھم الشیطن اعمالھم “ (انفال) شیطان نے ان کے اعمال کو مزین کر کے دکھایا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جو کفر ‘ شرک اور بدعات اور انجام دے رہے ہیں ‘ بالکل ٹھیک کر رہے ہیں لہٰذا وہ اسی دھوکے میں مبتلا ہیں کہ وہ جو کچھ کر رہے ہیں وہی سیدھا راستہ ہے فرمایا وذکربہ آپ اس قرآن پاک کے ذریعے ان کو نصیحت کرتے رہیں بہ کی ضمیر قران کی طرف جاتی ہے بلکہ اللہ نے قرآن کو تذکرہ بھی فرمایا ہے کہ یہ نصیحت اور یاد دہانی ہے اس کی تعلیمات کے ذریعے یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ یہ دنیا فانی ہے ‘ اس کی زینت میں الجھ کر نہ رہ جانا بلکہ آخرت کی دائمی زندگی کے لئے سامان کرنا چاہئے۔ اللہ نے انسان کو کھیل کود کے لئے پیدا نہیں کیا تھا بلکہ ” وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون “ تخلیق انس و جن کا مقصد اس مالک الملک کی عبادت کرنا ہے۔
فرمایا اس قرآن پاک کے ذریعے آپ نصیحت کریں ان تبسل نفس بما کسبت تا کہ کوئی نفس اپنی غلط کارکردگی کی وجہ سے گرفتار نہ ہو۔ ظاہر ہے کہ جو کوئی نصیحت نہیں پکرے گا ‘ وہ اپنے کئے دھرے میں پکڑا جائیگا۔ سورة مدثر میں آتا ہے ” کل نفس ‘ بما کسبت رمینۃ “ ہر شخص اپنے اعمال کی وجہ سے جکڑا ہوا ہے وہ احکام الٰہی سے سرکشی کر کے بھاگ نہیں سکتا۔ بالآخر پکڑا جائے گا ۔ تو یہاں بھی فرمایا کہ ہر شخص اپنے افعال کی وجہ سے گرفتار ہے۔ ابسال کے مختلف معانی آتے ہیں۔ مثلاً منع کرنا ‘ روک دینا ‘ گرفتار کرنا وغیرہ۔ شیر کو اسد باسل اس لئے کہتے ہیں کہ وہ شکار کو روک لیتا ہے اور وہ بھاگ نہیں سکتا اسی طرح رجل باسل اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے مدمقابل کو قابو کرلیتا ہے اور چھوڑتا نہیں۔ بہرحال فرمایا کہ آپ ان کو نصیحت کرتے ہیں تا کہ یہ اپنے کردہ گناہوں کی پاداش میں گرفتار نہ ہوجائیں اور جو نفس اپنے جرائم کی سزا میں گرفتار ہوجائے گا۔ لیس لھا من دون اللہ ولی ولا شفیع اس کے لئے اللہ کے سوا نہ کوئی کارساز ہوگا اور نہ کوئی سفارش کرنے والا دنیا میں لوگ جھوٹی سچی کئی قسم کی طرفداریاں پیدا کرلیتے ہیں مگر قیامت والے دن کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکے گا اور مجرمین اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔
فدیہ کی عدم قبولیت
فرمایا وان تعدل کل عدل اگر کوئی گرفتار مصیبت شخص اپنی رہائی کے لئے فدیہ دینا چاہے ‘ ہر قسم کا فدیہ لا یوخذمنھا تو اس سے قبول نہیں کیا جائے گا۔ دوسرے مقام پر آتا ہے کہ اگر بالفرض کسی کے پاس پوری زمین کے برابر خزانہ ہو اور وہ اپنی جان کے بدلے میں دینا چاہے گا تو ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ وہاں نہ کوئی حمایتی کام آئے گا ‘ نہ جتھا اور نہ کوئی سفارش ‘ وہاں تو نیکی اور ایمان ہی کام آنے والی چیزیں ہیں جنہیں وہ ٹھٹا و تمسخر میں گنوا چکے ہوں گے ‘ لہٰذا ان کے بچائو کی کوئی صورت باقی نہیں رہے گی ‘ ان سے کوئی فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔
مجرمین کے لئے عذاب
فرمایا اولئک الذین ابسلوا بما کسبوا یہی وہ لوگ ہیں جنہیں گرفتار کیا گیا ہے ان کی کمائی کے بدلے ‘ جنہوں نے اس دنیا میں کفر ‘ شرک اور بدعات کو اکٹھا کیا ‘ آخرت میں ان کی تواضع اس طرح ہوگی کہ لھم شراب من حمیم ان کے پینے کے لئے کھولتا ہوا پانی ہوگا۔
سورۃ محمد میں ہے ” سقوا ماء حمیما فقطع امعاء ھم “ گرم پانی کا گھونٹ منہ میں ڈالیں گے تو وہ آنتوں کو کاٹ کر نیچے پھینک دیگا۔ وہ پانی پگھلے ہوئے فولاد سے بھی زیادہ گرم ہوگا۔ دوزخ کی آگ دنیا کی آگ سے ستر گنا زیادہ گرم ہوگی۔ وہ عذاب الیم اور طرح طرح کا دردناک عذاب دیا جائے گا۔ اس دنیا میں کی گئی تمام برائیاں خوفناک شکلوں میں متشکل ہو کر ان کے لئے عذاب بن جائیں گی۔ مثلاً بخل سانپ کی شکل بن کر ڈسے گا ‘ بداخلاقی درندوں کی شکل اختیار کر کے حملہ آور ہوگی اور کفر اور شرک جہنم کی آگ بن کر لپیٹے گا۔
کیونکہ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ جگہ جگہ فرمایا ہے والکفرون ھم الظلمون “ کفر کرنے والے ہی ظالم ہیں جو مختلف سزائوں میں مبتلا ہوں گے۔ فرمایا ان کے لئے عذاب الیم ہوگا بما کانوا یکفرون اس وجہ سے کہ یہ لوگ دنیا میں کفر کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے دین میں طعن کرنے والوں کے برے انجام سے آگاہ کردیا اور نصیحت والی بات بھی سمجھا دی۔
Ayahs 6:71–73ربط آیات
گزشتہ کئی دروس سے شرک اور مشرکین کا رد بیان ہو رہا ہے۔ پھر خدا تعالیٰ کی صفات مختصہ کا ذکر بھی ہوا۔ آیات الٰہی کے ساتھ استہزاء کرنے والوں کی تردید ہوئی پھر اہل ایمان کو نصیحت کی گئی کہ آیات الٰہی پر طعن کرنے والوں کی مجلس میں مت بیٹھو کہ یہ دینی طور پر مضر اور تمہارے لئے سم قاتل ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے برے انجام کا تذکرہ بھی کیا اور فرمایا کہ آپ ان کو اپنے حال پر چھوڑیں ایک دن آنے والا ہے ‘ جب یہ نادم ہوں گے ‘ مگر اس دن نہ ان کا کوئی سفارشی ہوگا اور نہ ہی کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا ‘ یہ لوگ آخرکار عذاب الٰہی میں گرفتار ہوں گے ۔ آج کی آیات میں بھی شرک ہی کی تردید ہے اور یہ سلسلہ آگے دور تک چلا جا رہا ہے۔ ان آیات میں بعض ان مشرکین کا تذکرہ بھی ہے جو اہل ایمان کو اپنے راستے پر چلنے کی دعوت دیتے تھے اور معبودان باطلہ کی عبادت پر آمادہ کرتے تھے۔
شرک کی دعوت
مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ حضور ابوبکر صدیق ؓ کے بیٹے عبدالرحمن ؓ پہلے کافروں کے ساتھ تھے چناچہ معرکہ بدر میں وہ مشرکین کی طرف سے شامل ہوئے ‘ بعد میں اللہ نے آپ کو ایمان کی دولت نصیب فرمائی۔ اپنے ابتدائی دور میں اپنے باپ صدیق اکبر ؓ کو اپنے پرانے دین اور قوم اور برادری کے طریقے پر واپس آنے کی دعوت دیا کرتے تھے۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے اندعوا من دون اللہ کیا ہم اللہ کے علاوہ ان لوگوں کو پکاریں مالا ینفعنا ولا یضرنا جو ہمارے لئے نفع نقصان کے مالک نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی ذات ایسی نہیں جس کو نفع یا نقصان پہنچانے کا اختیار حاصل ہو کیونکہ ہرچیز کا مالک تو خود خدا ہے اور ہم اس کے اسمائے مبارکہ میں النافع الضار بھی پڑھتے ہیں ج کا مطلب یہ ہے کہ نفع اور نقصان پہنچانے والا صرف وہی ہے ‘ مگر مشرکین اللہ کے علاوہ غیروں کو بھی نفع و نقصان کا مالک سمجھتے ہیں اور اسی لئے وہ ان کی پرستش کرتے ہیں۔ مشرکین کا طریقہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو بھی مافوق الاسباب پکارتے ہیں ‘ ان کی دھائی دیتے ہیں ‘ ان کو نفع و نقصان کا مالک سمجھتے ہیں اور ان سے حاجت براری کرتے ہیں۔ یہی شرک ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اللہ نے دوسروں کو بھی اختیارات تفویض کر رکھے ہیں اور وہ تصرف کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ اگر کوئی شخص غیر اللہ میں تصرف بالذات سمجھے تو یہ بھی غلط ہے اور اگر اس کا عقیدہ ہے کہ اللہ نے انہیں بعض اختیارات دے رکھے ہیں تو اس کا بھی کوئی ثبوت نہیں۔ یہ ان کا خود ساختہ اور باطل عقیدہ ہے۔ جس کی کوئی بنیاد نہیں۔
فرمایا ‘ کیا ہم اللہ کے سوا ان کی عبادت کریں جو نہ فائدہ پہنچا سکتے ہیں اور نہ نقصان ‘ تو اس کا مطلب یہ ہوگا و نرد علی اعقابنا بعد اذھدنا اللہ کہ ہم اپنی ایڑیوں پر پلٹ جائیں یعنی سابقہ باطل دین کی طرف لوٹ جائیں اس کے بعد کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہدایت کا راستہ دکھا دیا ہے۔ ایسا کرنا تو کسی مومن کے شایان شان نہیں ‘ وہ ہدایت کو چھوڑ کر گمراہی کی طرف کیسے جاسکتا ہے۔
تدعوا کا معنی پکارنا بھی ہے اور عبادت کرنا بھی۔ کسی کو مافوق الاسباب پکارنا ‘ اس سے مشکل کشائی اور حاجت روائی کی امید وابستہ کرنا ہی تو شرک ہے یہ تصور رکھنا کہ اللہ کے سوا مافوق الاسباب کوئی اور بھی بگڑی بنا سکتا ہے ‘ کسی کی تکلیف رفع کرسکتا ہے یا اللہ تعالیٰ نے کسی کو اپنے اختیارات سونپ رکھے ہیں ‘ بالکل باطل عقیدہ ہے۔ نفع نقصان کا مالک تو صرف اللہ ہے متصرف فی الامور بھی وہی ہے ادنیٰ ذرے سے لے کر آفتاب تک اور زمین سے لے کر آسمانی کروں تک ہر چیز کی تدبیر کرنی والا کون ہے سورة الم سجدہ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” یدبر الامر من السماء الی الارض آسمان کی بلندیوں سے لے کر زمین کی پستیوں تک ہر چیز کی تدبیر خود وہی کرتا ہے ؟ جب بات اس طرح ہے۔ تو پھر ہم سچے دین کو چھوڑ کر جاہلیت کے دین میں کیسے چلے جائیں ؟ حالانکہ اللہ نے ہمیں ہدایت کے راستے پر ڈال دیا ہے۔
شیطانی راستہ
آگے اللہ تعالیٰ نے ایک مثال بھی بیان فرمائی ہے کالذی استھوتہ الشیطین فی الارض کو واپس باطل دین کی طرف پھرجانے کی مثال اس شخص کی ہے جسے شیطانوں نے کسی زمین (جنگل) میں سرگرداں کردیا ہو۔ لفظ استھوتہ ھوی کے مادہ سے ہے جب یہ ضرب یضرب کے باب میں آتا ہے تو اس کا معنی ہوتا ہے نیچے گرنا یعنی کسی چیز کا بلندی سے پستی میں گر جانا۔ جس نے کفر یا شرک کیا یا گمراہی کا راستہ پکڑا وہ ہلاکت کے گڑھے میں جا گرا۔ اور ھویٰ کا معنی خواہش اور محبت بھی ہوتا ہے۔ جیسے سورة نجم میں آتا ہے ” وما ینطق عن الھویٰ “ بنی اپنی خواہش سے بات نہیں کرتا۔ تو یہاں پر یہ دونوں معنے ہو سکتے ہیں۔ یعنی یہ اس شخص کی مثال ہے جسے شیطان نے گمراہ کر کے ہلاکت کے گڑھے میں ڈال دیا ہو۔ یا کسی شخص کو ایمان کے راستے سے ہٹا کر خواہش کے راستے پر لگا دیا ہو ۔ جب لوگ خواہشات نضانیہ کی پیروی کرنے لگتے ہیں تو پھر قوم یا برادری کی خواہش کے مطابق انہی کا دین قبول کرتے ہیں اور دین حق کی طرف نہیں آتے۔
فرمایا ‘ ایسے شخص کو شیطان نے بہکا کر جنگل میں سرگردان کردیا ہے جہاں وہ حیران حیران پریشان اور متردد بھٹک رہا ہے۔ لہ اصحب یدعونہ الی الھدی ائتنا وہاں اس شخص کے کچھ ساتھی بھی جو اسے بلا رہے ہیں کہ ہدایت کا راستہ یہ ہے جس پر ہم چلے رہے ہیں “ لہٰذا ادھر آ جائو ‘ مگر شیطان نے اسے ایسا بہکا دیا کہ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ کیا کرے اور اسی طرح حیران و سرگرداں پھر رہا ہے۔
ہدایت کا راستہ
اب درمیان میں جملہ معترضہ ہے قل ان ھدی اللہ ھوالھدی اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ اللہ کی ہدایت ہی حقیقی ہدایت ہے۔ اللہ نے جو پروگرام وحی الٰہی ‘ کتب سماویہ ‘ قرآن پاک اور اپنے انبیاء کے ذریعے بھیجا ہے وہی ہدایت کا راستہ اور پروگرام ہے۔ جو کوئی اس راستے کو چھوڑ کر دوسرا راستہ اختیار کرے گا۔ وہ تو خواہش نفسانی ہوگی۔ یا شیطان کی پیروی ‘ جس کے نتیجے میں وہ بالآخر ہلاکت کے گڑھے میں جا گرے گا۔ بہرحال اللہ نے ہدایت کا راستہ واضح کردیا ہے۔ اگر پھر بھی کوئی غلط راستہ اختیار کرے گا تو اس کی مثال بیان ہوچکی ہے کہ وہ حیران اور پریشان ہی پھرتا رہے گا۔ منزل مقصود تک نہیں پہنچ سکتا۔
اور ادھر صحیح راستے کی نشاندہی اس طرح فرمائی۔ وامرنا لنسلم لرب العلمین اور ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم پروردگار عالم کی اطاعت اور فرمانبردار نبی قبول کرلیں ‘ اس کے متعین کردہ اراستے پر چل نکلیں اور تمام شیطانی راستوں کو بھول جائیں۔ حضرت شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانی (رح) نے بڑے اچھے الفاظ میں اس کی تشریح یوں کی ہے کہ مسلمان کی شان تو یہ ہے کہ وہ راہ گم کردہ لوگوں کو نصیحت کرتا ہے ۔ لوگوں کو شیطانی راستوں سے ہٹا کر صراط مستقیم کی طرف لاتا ہے ان کو خدائے وحدہ لا شریک کی چوکھٹ پر لے آتا ہے نہ کہ خود گمراہوں کے راستے پر چلنے لگتا ہے۔ مومن سے یہ توقع عبث ہے کہ وہ توحید کی صاف اور سیدھی سڑک کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ کے سوا کسی ایسی ہستی کے آگے سربسجود ہوگا جو نہ نفع پہنچا سکتی ہے اور نہ نقصان دے سکتی ہے۔ اگر کوئی شخص شیطانی راستے پر چل نکلتا ہے (معاذ اللہ) تو اس کی مثال اس شخص جیسی ہوگی جو اپنے رفقاء کے ساتھ جنگل میں سفر کر رہا تھا۔ ناگاہ غول بیابانی اور خبیث جنات نے اسے بہکا کر راستے سے الگ کردیا اور اب وہ چاروں طر بھٹکتا پھرتا ہے۔ اس کے ساتھی ازراہ ہمدردی اس کو آوازیں دے رہے ہیں کہ ہماری طرف آئو ‘ سیدھا راستہ یہ ہے ‘ مگر وہ پریشان اور مخبوط الہو اس ہوچکا ہے ‘ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ وہ کدھر جائے اور منزل کو کیسے پائے۔
فرمایا آخرت کے مسافر انسان کی مثال ایسی ہی ہے۔ اس کے سامنے ایمان اور توحید کی سیدھی راہ موجود ہے اس کے رفقائے سفر اللہ کے نبی ‘ پیغمبر اور ان کے ماننے والے ہیں ‘ مگر یہ شخص سیطان کے پھندے میں پھنس کر صحرائے ضلالت میں بھٹکتا پھرتا ہے۔ اس کے ساتھی اور ہادی اسے صراط مستقیم کی طرف بلا رہے ہیں۔ مگر یہ شخص نہ کسی کی بات سنتا ہے اور نہ سمجھتا ہے۔ تو فرمایا ‘ کیا تم چاہتے ہو کہ ہم بھی اس بھٹکے ہوئے مسافر کی طرح سرگراں ہوجائیں ‘ اسی لئے کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے سوا ان معبود ان باطلہ کی عبادت کریں جو نفع نقصان کے مالک بھی نہیں ہیں۔
ہدایت پر پختگی
فرمایا ‘ ہمیں ایک تو یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم پروردگار عالم کی فرمانبرداری کریں اور دوسرا یہ کہ وان اقیموالصلوٰۃ ہم نماز کو قائم کریں اس پر مداومت اختیار کریں کیونکہ نماز تعلق باللہ کا بہترین ذریعہ ہے اور ہمیں یہ بھی حکم ملا ہے واتقوہ کہ خدائے برتر سے ہر وقت ڈرتے رہیں کہ اس کی نافرمانی کر کے کہیں عتاب میں نہ آجائیں ‘ تقویٰ سے مراد جادہ حق اور حدود شریعت کی حفاظت کرنا اور دل میں خوف خدا رکھنا ہے کہ کہیں معصیت میں گرفتا رنہ ہوجائیں کیونکہ و ھوالذین الیہ تحشرون۔ وہی اللہ ہے جس کی طرف تم سب اکٹھے کئے جائو گے۔ آخرکار اسی کے سامنے پیش ہونا ہے ‘ اعمال کا محاسبہ ہوگا ‘ لہٰذا اس کے لئے ابھی سے تیاری کی ضرورت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انسان کو زندگی جیسی قیمتی پونجی دے کر اس دنیا میں بھیجا ہے کہ اس محدود وقت میں نیکی کی تجارت کرے ‘ یہی تمہارے کام آئے گی۔
حضور ﷺ کا فرمان ہے۔ 1 ؎ کل الناس یغدوا فبائع نفسہ ہر شخص جو صبح کرتا ہے ‘ اپنے نفس کو بیچتا ہے ‘ یا اس کے بدلے میں لاکت خریدتا ہے یا نفس کو نجات دلا دیتا ہے ۔ اگر اس نے ایمان اور تقویٰ خرید لیا ‘ اس قیمتی پونجی کو اچھی کام میں لگا دیا تو اپنے آپ کو دوزخ سے آزاد کرا لیا اور اگر کفر ‘ شرک اور برائی خریدی تو اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال لیا۔ انسان کی زندگی بڑا قیمتی سرمایہ ہے۔ زندگی کی پونجی ہمیشہ گھٹتی رہتی ہے۔ لہٰذا عقلمندی کا تقاضا یہ ہے کہ اسے نیکی کے کام میں لائے اور اگر کفر و شرک ہی خریدا تو ” فما ربحت تجارتھم “ تو کفار کی تجارت نے انہیں کچھ فائدہ نہ پہنچایا۔ بلکہ انہوں نے ہمیشہ کے لئے اپنے آپ کو تباہ و برباد کرلیا۔
خالق و مالک
اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ کی بعض صفات بیان کی گئی ہیں۔ وھوالذین خلق السموات والارض بالحق وہی اللہ ہے جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمینوں کو حق کے ساتھ اس مقام پر کائنات کی پیدائش کیا آسمانوں اور زمینوں کو حق کے ساتھ اس مقام پر کائنات کی پیدائش کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے یہ بات سمجھائی ہے کہ کائنات کا یہ پورا نظام بےسود ہی پیدا نہیں کردیا گیا ‘ بلکہ اس کا کوئی نتیجہ بھی سامنے آنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو اپنی حکمت کے ساتھ بنایا ہے۔ پھر جب یہ نظام مدت پوری کرلے گا تو پھر وہ دن بھی آجائے گا ویوم یقول کن فیکون جس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا ہوجا ‘ تو وہ ہوجائے گا جس طرح اللہ نے انسان کو بنایا ‘ کائنات کی ہر چیز کو پیدا کیا ‘ اسی طرح جب قیامت کا مقررہ دن آئے گا ‘ تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہر چیز فناہو جائے گی پھر جب اللہ تعالیٰ دوبارہ حکم کرے گا تو نئی زمین اور نیا آسمان پیدا ہوگا ‘ اور انسان دوبارہ اٹھ کھڑے ہوں گے ‘ پھر حساب کتاب کی منزل آئے گی اور جزا و سزا کا فیصلہ ہوگا ‘ مقصد یہ کہ وہ مالک الملک با اختیار ہے اسے ہر چیز پر تصرف حاصل ہے ‘ وہ جو کچھ کرنا چاہتا ہے بغیر کسی معاون کے کر گزرتا ہے۔ فرمایا قولہ الحق اس کی بات بالکل سچی ہے ولہ الملک اور بادشاہی بھی اسی کی ہے۔ تمام کائنات میں اسی کا حکم چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کو زمین پر جو عارضی اختیار تفویض کرتا ہے ‘ اسے پا کر انسان بگڑ جاتے ہیں ‘ کوئی ڈکٹیٹر بن جاتا ہے اور کوئی شہنشاہ بننے کی کوشش کرتا ہے اور ملک الملوک کی کرسی سنبھالنا چاہتا ہے ‘ انسان اقتدار کے نشہ میں آ کر اپنے انجام کو بھول جاتا ہے۔
قیامت کا نقشہ
فرمایا جب بادشاہی اسی کی ہے تو پھر وہ جب چاہے اقتدار چھین بھی سکتا ہے۔ یوم ینفخ فی الصور جس دن صور میں پھونکا جائے گا یعنی جب قیامت کا بگل بج جائے گا تو سب فنا ہوجائیں گے حتیٰ کہ آخر میں ملک الموت کو بھی موت آجائے گی ‘ تمام مقرب فرشتے اور حاملین عرش ختم ہوجائیں گے اس دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ لمن الملک الیوم یعنی آج بادشاہی کس کی ہے مگر کوئی جواب دینے والا نہیں ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ خود ہی فرمائیں گے۔ ” للہ الواحد القھار “ بادشاہی اللہ ہی کی حے۔ وہ اکیلا ہے اور قہار ہے فرمایا وہ اللہ علم الغیب والشھادۃ جو چیزیں مخولق کے سامنے ہوتی ہیں اور مشاہدے میں آتی ہیں اللہ تعالیٰ ان کو بھی جانتا ہے اور جو چیزیں انسانی مشاہدے میں نہیں آتیں ان کو بھی جانتا ہے۔ اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔ کوئی چیز اس کے احاطہ سے باہر نہیں۔
اللہ تعالیٰ کی یہ صفت اس سورة مبارکہ میں بار بار دہرائی گئی ہے۔ سورة مائدہ کے آخر میں گزرچکا ہے۔ ” انک انت علام الغیوب “ عالم الغیب بھی اسی کے سوا کوئی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو تھوڑا سا علم دیا ہے۔ مخلوق میں سے انبیاء کو سب سے زیادہ علم دیا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں پوری مخلوق کا علم قلیل ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ انبیاء (علیہم السلام) جو علم آگے امتوں تک پہنچاتے ہیں وہ علم غیب نہیں ہوتا بلکہ غیب کی خبریں ہوتی ہیں جو وحی الٰہی کے ذریعے انبیاء کو بتائی جاتی ہیں۔
خدائے حکیم و خبیر
آخر میں اللہ تعالیٰ کی دومزید صفات کا ذکر ہے۔ و ھوالحکیم الخبیر وہ حکیم ہے کہ اس نے ہر چیز کمال حکمت کے ساتھ بنائی ہے کوئی چیز بےسود پیدا نہیں کی بلکہ ہر چیز کی خلقت میں اس کی حکمت بالغہ کارفرما ہے۔ اللہ تعالیٰ خبیر ہے کہ کوئی چیز اس کے علم سے باہر نہیں۔ وہ کسی چیز سے غافل نہیں۔ وہ خالق اور مالک ہے ‘ رب العالمین ہے یہ تمام صفات اس کی الوہیت پر دلالت کرتی ہیں معبود وہی سکتا ہے۔ جو ان صفات کا حامل ہو۔ جو نافع اور ضار ہو ‘ جو قادر مطلق ہو ‘ جو متصرف اور مدبر ہو۔ لہٰذا اس کے علاوہ کسی دوسرے کو پکارنے یا اس کی عبادت کرنے کا کیا جواز رہ جاتا ہے۔ مگر اس کے باوجود مشرکین نے زمین و آسمان کی کئی چیزوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ اس سورة میں ہر قسم کے شرک کی تردید کی گئی۔ ابھی تک زمینی معبودوں کا ذکر ہوتا رہا ہے آپ آئندہ درس میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے واقعہ میں آسمانی اشیاء کی عبودیت کی نفی ہوگی۔ بہرحال زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی مخلوق ہے لہٰذا اس کے سوا معبود بھی کوئی نہیں ہوسکتا۔