6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 6:99–100

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ مِنَ السَّمَآءِ مَآءً١ۚ فَاَخْرَجْنَا بِهٖ نَبَاتَ كُلِّ شَیْءٍ فَاَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا١ۚ وَ مِنَ النَّخْلِ مِنْ طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِیَةٌ وَّ جَنّٰتٍ مِّنْ اَعْنَابٍ وَّ الزَّیْتُوْنَ وَ الرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَّ غَیْرَ مُتَشَابِهٍ١ؕ اُنْظُرُوْۤا اِلٰى ثَمَرِهٖۤ اِذَاۤ اَثْمَرَ وَ یَنْعِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكُمْ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یُّؤْمِنُوْنَ Open ayah 6:99 in the Quran reader

اور وہ وہی ذات ہے جس نے … اتارا آسمان کی طرف سے پانی ، پس نکالے ہم نے اس کے ذریعے ہر قسم کے پودے۔ اور نکالا ہم نے اس سے سبزہ جس سے نکالتے ہیں دانے تہ بر تہ ّ (اوپر نیچے چڑھے ہوئے) اور کھوجوروں میں سے بھی ان کی شاخوں سے گھچے جھکے ہوئے اور باغات انگور اور زیتون اور انار کے جو ملتے جلتے ہیں اور جو نہیں ملتے (جدا جدا) ۔ اس کے پھل کی طرف دیکھو جب وہ پھل دیتا ہے ۔ اور اس کے (پکنے کی طرف دیکھو) بیشک البتہ اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔

وَ جَعَلُوْا لِلّٰهِ شُرَكَآءَ الْجِنَّ وَ خَلَقَهُمْ وَ خَرَقُوْا لَهٗ بَنِیْنَ وَ بَنٰتٍۭ بِغَیْرِ عِلْمٍ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَصِفُوْنَ۠ Open ayah 6:100 in the Quran reader

اور انہوں نے جنات کو اللہ کے شریک بنائے حالانکہ اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ اور انہوں نے گھڑے اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں جہالت سے پاک ہے اس کی ذات اور بلندو برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔

گذشتہ کئی دورس سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور شرک کی تردید بیان ہو رہی ہے آج کی آیات بھی اسی سلسلہ کے ساتھ مربوط ہیں عقلی دلائل کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر پودے اور درخت پیدا کرنے کا ذکر فرمایا پھر رات کی تاریکی سے دن کی روشنی کی طرف توجہ دلائی ، سورج ، چاند اور ستاروں کو ایک خاص حساب سے مقرر کرنے کا بیان کی اور فرمایہ کہ ان تمام اشیاء میں اہل عقل و خرد کے لیے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی نشانیاں موجود ہیں ۔ اللہ نے ایک نفس سے تمام بنی نو نسن کی پیدائش کا ذکر بھی کیا کہ دیکھو معبود حقیقی وہی ذات ہے جس کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کے مطابق کائنات کا پورا نظام چل رہا ہے ، لہٰذا اس کے علاوہ کسی دوسرے کو الہ تسلیم کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ اب آج کی آیات میں مزید عقلی دلائل بیان ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل جیسا عظیم جو ہر عطا کیا تاکہ انسان کو صحیح طور پر استعمال کر کے اس کی قدرت کے نشانات کو دیکھے ، ان میں غور و فکر کرے ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین لائے اور شرک کی قباحت سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرے۔ ارشاد ہوتا ہے وھو الذی انزل من السمائِ مائً وہ ہی ذات ہے جس نے آسمان کی طرف سے پانی نازل فرمایا۔ سماء کا لفظ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے ، آسمان کے علاوہ یہ لفظ فضا ، بادل اور بلندی کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نزول بارش کے لیے یہ انتظام فرمایا ہے کہ سورج کی گرمی سے سمندروں سے بخارات اٹھتے ہیں جن سے بادل بنتے ہیں اور ہوائیں انہیں اڑا کر دور دراز علاقوں تک لے جاتی ہیں پھر جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے وہاں بادلوں سے برسنے لگتا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں پر آسمان کا لفظ اس لیے استعمال کیا گیا ہے کہ کہیں لوگ بادلوں پر ہی تکیہ لگا کر نہ بیٹھ جائیں بلکہ ان بادلوں کو بھییجنے والی حقیقی ذات اللہ تعالیٰ کی ذات ہے جو آسمانوں سے حکم جاری کر کے سارے نظام کو چلارہا ہے۔ اس کی قدرت کا یہ بھی کمال ہے کہ بارش نازل کر کے اسے یونہی نہیں چھوڑ دیتا بلکہ کچھ فالتو پانی کو جھیل ، تالاب اور چشمے کی صورت میں جمع کرلیتا ہے اور پانی کو ندی نالوں کی صورت میں آگے چلادیتا ہے تاکہ جہاں بارش نہیں ہوئی ، وہ جگہ بھی پانی سے سیراب ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ پانی کا کچھ ذخیرہ زمین کے اندر بھی جمع کردیتا ہے جسے لوگ اپنی ضرورت کے لیے کنویں اور ٹیوب ویل کے ذریعے نکال لیتے ہیں۔ غرضیکہ پانی اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ سورة فرقان میں ارشاد خداوند ہے ” وانزلنا من السماء ماء طھورا “ اور ہم نے آسمان سے پاک پانی اتارا جو خود بھی پاک ہے اور دوسری چیزوں کو بھی پاک کرتا ہے۔ اللہ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ” وجعلنا من الماء کل شئی حی “ (انبیا) اسی پانی سے ہم نے ہر جاندار کو حیات بخشی۔ ، تمام انسان ، جانور ، چرند ، پرند کیڑے مکوڑے پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔ میڈیکل سائنس والے بتاتے ہیں کہ انسان کی رگوں میں جو خون گردش کرتا ہے اس میں اسی 80 فیصد پانی ہے اور باقی 20 فیصد میں سالٹ پروٹین ، وٹامن ، لحمیات ، نشاستہ ، پنیر اور دوسری اشیائے غذائیت ہیں۔ یہ خون پورے جسم میں گردش کر کے ہر حصہ جسم کو اس کی مطلوبہ خوراک بہم پہنچاتا ہے۔ چناچہ خون کی گردش کے دوران ناخن اپنی ضرورت کی غذا حاصل کرتے ہیں ، بال اپنی غذا ، دل و دماغ اپنی اپنی ضروریات حیات تلاش کرلیتے ہیں ہڈیاں حسب ِ ضرورت کیلشیم حاصل کرتی ہیں اور اسی طرح جسم کے باقی اعضاء اپنی اپنی غذائیت اسی خون سے حاصل کرتے ہیں۔ خون میں غالب مقدار چونکہ پانی کی ہوتی ہے۔ لہٰذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسانی زندگی کا مدار پانی پر ہے ۔ کسی جاندار کی زندگی کے لیے جس طرح پانی ضروری ہے اسی طرح ہوا بھی لازمی ہے بلکہ پانی کے بغیر تو جاندار کچھ عرصہ تک زندہ رہ سکتا ہے مگر ہوا کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔ انسانی جسم کو آکسیجن کی ہر سانس کے ساتھ ضرورت ہوتی ہے۔ یہی وہ نسیم طیب ہے جس کے ذریعے انسانی خون صاف ہوتارہتا ہے اور وہ جسمانی نشو نما کے لیے اپنے کام میں مصروف رہتا ہے۔ سانس کے ذریعے انسانی جسم میں بہت سے گیس داخل ہوتے ہیں جن میں سے آکسیجن خون کو صاف کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے انسانی جسم کے دخانی مادے باہر آتے ہیں اور انسان تازہ دم رہتا ہے۔ اس کے علاوہ کار بن ڈائی آکسائڈ جیسی غلیظ گیس بھی جسم میں پہنچ جاتی ہے جب یہ جسم کے اندر زیادہ مقدار میں جمع ہوجاتی ہے تو انسان کو مختلف قسم کی بیماریاں لاحق ہوجاتی ہیں۔ غرضیکہ انسان کی والین ضرورت ہوا ہے جس کے ذریعے وہ ایک منٹ میں بہت دفعہ سانس لیتا ہے اور بہتر 72 دفع اس کی نبض تڑپتی ہے۔ انسانی سانس سوتے ، جاگتے ، چلتے پھرتے کسی حالت میں بھی منقطع نہیں ہوتا اور اس طرح انسان کو چوبیس گھنٹوں میں کم و بیہش چوبیس ہزار نعمتیں سانس کے ذریعے حاصل ہوتی ہیں۔ انسان صرف انہی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرسکتا ‘ چہ جائیکہ وہ باقی تمام نعمتوں کا حق بھی ادا کرے۔ انسانی زندگی کے لیے سب سے ضروری چیز ہوا کو اللہ تعالیٰ نے بالکل فری کردیا۔ یہ ہر جاندار کو بالکل مفت حاصل ہوتی ہے۔ دوسری ضروری چیز پانی ہے جس پر زندگی کا دارو مدار ہے۔ قانونِ درت کے مطابق یہ چیز بھی مفت حاصل ہونی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے خود اس کا انتظام بارش کی صورت میں اور پھر ندی ، نالوں اور چشموں کے ذریعے کردیا ہے جہاں تک انسانی ہاتھوں کے ذریعے پانی کی بہم رسانی کا تعلق ہے۔ تو یہ بھی فری ہونی چاہئے۔ اب یہ کار پرواز ان حکومت کا کام ہے ۔ کہ وہ پانی کی بہم رسانی کو مفت اور یقینی بنائیں اس معاملے میں کسی انسان کو دقت پیش نہیں آنی چاہئے ۔ جب قدرت نے پانی مفت نازل کیا ہے کہ انسانوں کا بھی فرض ہے کہ وہ قانونِ قدرت کا اتباع کرتے ہوئے کم ازکم پانی پر کوئی ٹیکس عائد نہ کریں۔ فرمایا ہم نے آسمان کی طرف سے پانی نازل فرمایا فاخرجنا بہ نبات کل شی اور اس کے ذریعے ہر قسم کے پودے نکالے۔ تمام فصلیں اور باغات پانی ہی کے مرہونِ منت ہیں۔ جب بارش نہیں ہوتی تو نہ فصلیں اور سبزیاں اگتی ہیں اور درخت پھل لاتے ہیں۔ فرمایا پانی نازل کر کے فاخرجنا منہ خضراً ہم سبزہ نکالتے ہیں اور پھر نخرج منہ حبا متراکِبا اس سے تہ بہ تہ دانے نکالتے ہیں۔ ہر خوشہ پہلے سبز رنگا کا ہوتا ہے ، پھر پک کر سُرخ ہوجاتا ہے اور س سے بیشمار دانے پیدا ہوتے ہیں۔ کہیں دھان پیدا ہوتے ہیں ، کہیں جوار ، باجرہ اور مکئی اور کہیں گندم پیدا ہوتی ہے۔ ایک ایک پودے سے بیشمار دانے اللہ تعالیٰ پیدا فرماتے ہیں اسی لیے فرمایا کہ پانی نازل کر کے ہم سبز پودا پیدا کرتے ہیں اور پھر اس میں تہ بہ تہ بیشمار دانے پیدا کرتے ہیں۔ عام اناج کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ومن النخل اور ہم پانی کے ذریعے کھجوریں بھی پیدا کرتے ہیں ۔ اور ان کی پیدائش کی صورت یہ ہے من طلعھا قنوان دانیۃ یہ کھجھور کے درخت کی شاخوں میں گچھے جھکے ہوئے۔ کھجور کے ایک ایک گچھے میں ڈھیروں کھجوریں ہوتی ہیں جن کے وزن کی وجہ سے شاخیں جھک جاتی ہیں۔ کھجوروں کے درخت مختلف قسموں کے ہوتے ہیں۔ بعض قد میں چھوٹے اور بعض قد میں لمبے ہوتے ہیں۔ کھجور کا درخت بہت لمبی عمر پاتا ہے۔ شاہدرہ کے مقام پر کھجور کے درخت نظر آتے ہیں ، یہ مغلوں کے زمانہ کے ہیں یہ درخت دنیا کے گرم خطوں میں خاص طور پر پائے جاتے ہیں۔ حضور علیہ اسلام کا ارشاد مبارک ہے کہ کھجور کے درخت کی مثال مومن جیسی ہے۔ جس طرح کھجور کا درخت بارہ مہینے سر سبز رہتا ہے اسی طرح مومن کا دل بھی سدا بہار ہے۔ کھجور کا پھل دیر پا ہے جو جلدی خراب نہیں ہوتا ، اس ۔ لیے یہ سارا سال استعمال ہوتا ہے۔ جس طرح نور ایمان سے منور اور اعمال حسنہ اور اخلاقی حسہ کا پیکر مومن مخلوق خدا کے لیے نمونہ ہوتا ہے اسی طرح کھجور کا پھل بھیمخلوقِ خدا کے کے لیے نہایت مفید ہوتا ہے۔ پھر یہ ہے کہ کھجور کے درخت کی جڑیں بڑی مضبوط ہوتی ہیں۔ اسی لیے حادثات کی صورت میں یہ آسانی سے نہیں گرتا۔ اسی طرح مومن کے دل میں ایمان کی جڑی بڑی مضبوط ہوتی ہیں اور وہ آسانی سے شیطان کے بہکاوے میں نہیں آتا۔ اللہ تعالیٰ مومنوں کے دلوں میں ایمان کو پختہ کرچکا ہے۔ سورة محمد میں موجود ہے ” ان ینصر واللہ ینصر کم ویثبت اقدامکم “ اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو گے تو وہ بھی تمہاری مدد کریگا اور تمہارے قدم مضبود کر دے گا اور انہیں کوئی دوسری طاقت اکھیڑ نہیں سکے گی۔ اسی طرح کھجور کے درخت کی جڑیں بھی بڑی مضبوط ہوتی ہیں ” وفو عھا فی السمائ “ اور اس کی شاخیں بھی فضا میں پھیلی ہوتی ہیں۔ ایمان والے آدمی کے اعمال بھی اسی طرح اوپر عالم بالا کی طرف جاتے ہیں۔ یہ کمال حیثیت کا درخت ہے اور اسے مومن آدمی کے ساتھ یہ مطابقت حاصل ہے۔ کھجور کے درخت کو انسانی زندگی سے ایک بھی مطابقت اور مناسبت ہے اور وہ یہ کہ جس طرح انسان کے سرے تک پانی پہنچ جائے تو یہ بھی سوکھ جاتا ہے۔ انسان کی گردن کٹ جائے تو وہ ختم ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اس درخت کا تنا اگر اوپر سے کاٹ دیا جائے تو یہ بھی بیکار ہوجاتا ہے۔ اس کو انسان کے ساتھ عجیب مشابہت ہے۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں کھجور کا ذکر سب سے پہلے فرمایا ہے کہ اکثر خطوں میں اس کا پھل بطور غذا استعمال ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ واسلام کا ارشاد مبارک ہے کہ جس گھر میں کھجوریں موجود ہیں اس گھر کے رہنے والے بھوکے نہیں ہیں۔ کھجور ایک لذیز اور طاقتور غذا ہے اور انسان کے لیے نہایت مفید ہے۔ دوسرے نمبر پر اللہ تعالیٰ نے انگور کا ذکر کیا ہے و جنت من اعناب انگور کے باغات بھی اللہ نے اسی پانی کے ذریعے پیدا کیے۔ انگور بڑا شیریں اور طاقتور پھل ہے ، اسے افضل الاثمار یعنی پھلوں میں سے افضل کہا جاتا ہے۔ اسے جائز طریقے سے بھی استعمال کیا جاتا ہے اور ناجائز طریقے سے بھی۔ جن خطوں میں انگور کثرت سے پیدا ہوتا ہے ، وہاں لوگ اسے غذا کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور اس کا شربت بنا کر مشروب کے طور پر پیتے ہیں۔ حیدر آباد دکن میں انگور سے ملتا جلتا شریف پھل پیدا ہوتا ہے جسیے فاکھۃ الغربا یعنی غریب لوگوں کا پھل کہا جاتا ہے۔ وسیع جنگلوں میں یہ وافر مقدار میں پیدا ہوتا ہے اور مفت مل جاتا ہے اور لوگ اسے کھانے کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ انگور کا جائز استعمال بھی ایسا ہی ہے۔ البتہ اس سے شراب بھی کشید کی جاتی ہے جو کہ حرام ہے۔ سورة نمل میں موجود ہے کہ اللہ نے کھجور اور انگور جیسے عمدہ پھل پیدا کیے تتخذون منہ سکرا و رِزقاً حسنا “ جنہیں تم نشے اور عمدہ روزی کے طور پر استعمال کرتے ہو ۔ گویا اس کا ایک ناجائز استعمال شراب کی صورت میں بھی ہے۔ بہر حال انگور ایک اچھا اور عمدہ پھل ہے۔ جو کہ غذائیت سے بھرپور ہے۔ کھجور کے بعد دوسرا نمبر انگور ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تیسرے درجے پر زیتون کا ذکر فرمایا ہے۔ والذیتون زیتون زیادہ ترعرب اور افریقہ میں پایا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں بھی اس کی کاشت کے تجربات ہو رہے ہیں۔ اللہ کے نبیوں نے اس درخت کے بابرکت ہونے کی دعا فرمائی۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (رح) اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ شام و فلسطین نے زیتون کے بعض درخت یونانیوں کے زمانے سے چلے آرہے ہیں جنکی عمر اڑھائی ہزار سال سے تجاوز کرچکی ہے۔ اس درخت کے متعلق حضور علیہ اسلام کا ارشاد ہے۔ کلوا الذیت ورھنابہ فانہ من شجرۃ مبارکۃ زیتون کا تیل کھانے میں استعمال کرو اور اس کی مالش بھی کرو کیونکہ یہ مبارک درخت کی پیداوار ہے۔ اگرچہ یہ تیل Olive oil مہنگا ہے مگر دنیا کے ہر خطے میں ملتا ہے۔ لوگ اسے گھی کی جگہ استعمال کرتے ہیں اور سر میں لگانے کے کام بھی آتا ہے۔ اس کا پھل بھی کھایا جاتا ہے۔ درخت کی لکڑیاں استعمال ہوتی ہیں ، پتے اور چھل کہ بھی مفید ہے اور اس کی جڑیں بھی کام میں لائی جاتی ہیں۔ یہ غذا اور دوا دونوں طریقوں سے استعمال میں آتا ہے۔ اللہ نے عجیب و غریب درخت بنایا ہے۔ چوتھے نمبر پر فرمایا والرمان اللہ تعالیٰ نے پانی کے ذریعے انار بھی پیدا فرمایا ہے یہ میٹھا اور مے خوش یعنی کھٹا میٹھا پھل ہے ، اس کی مختلف قسمیں ہیں جن میں قند ھاری انار کے دانے موٹے اور زیادہ لزیز ہوتے ہیں۔ اس میں فولاد کا فی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ جسکی وجہ سے جگر کے مریضوں کے لئے بڑا مفید ہے گرمی کو مارتا ہے اور گردوں اور جگر کو صاف کرتا ہے۔ اللہ نے اس کے موٹے موٹے دانوں کو باریک چھلکے میں عجیب طریقے سے محفوظ کیا ہے۔ احمد شاہ ابدالی محض اس لیے دہلی میں نہ رہ سکا کہ وہاں قند ھاری انار کھانے کو نہیں ملتے تھے ‘ کہنے لگا ” این جانا انار قندھار کجاست “ یہاں کھانے کے لیے قندھاری انار میسر نہیں لہٰذا واپس وطن چلو۔ بہر حال یہ بھی کمال درجے کا پھل ہے اور اس کا دارومدار بھی پانی پر ہے۔ تمام پھلوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا مشتبھا و غیر متشا بہ یہ پھل ایک دوسرے کے مشابہ بھی ہیں اور بعض غیر مشابہ بھی بعض کی شکل ملتی ہے تو ذائقہ الگ ہے۔ بعض کا ذائقہ ملتا جلتا ہے تو رنگ مختلف ہے اللہ نے سورة رعد میں فرمایا ہے ‘ اللہ نے زمین میں انگور کے باغات اور کھیتی اور کھجور کے درخت پیدا کیے یسقٰی بسمائٍ واحد سب کو ایک ہی پانی سے سیراب کیا جاتا ہے مگر کوئی میٹھا ہے اور کوئی کڑوا ، کوئی تلخ ہے اور کوئی کسیلہ ، مختلف رنگ ، مختلف ذائقے ، مختلف شکلیں۔ کچھ آپس میں ملتے جلتے ہیں اور کچھ غیر مشابہ ہیں مگر خوراک سب کی ایک ہی پائی ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا یہ کتنا بڑا کمال ہے۔ اس میں صاحب عقل لوگوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ غور کیجئے ، آخر یہ سب کچھ خود بخود اپنی نیچر سے ہو رہا ہے یا اسے کرنے والی کوئی ذات موجود ہے۔ یہ اس مالک الملک کی شان ہے کہ خربوزے کے کھیت میں ایک ہی کنویں سے پانی جا رہا ہے مگر کوئی خر بوزہ میٹھا ہے اور کوئی پھیکا ہے۔ یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ یہاں پر اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ ہی کارفرما ہے اس کے علاوہ کوئی ایسی ہستی نہیں جو اس قسم کے عجیب و غریب کام کرسکے۔ فرمایا انظروا الی ثمرہ اذا اثمر اس پھل کی طرف دیکھو جب وہ پھل دیتا ہے وینعمہ اور اس کے پکنے کی طرف دیکھو۔ پہلے اس کا رنگ سبز ہوتا ہے ، پھر زرد اور پھر کوئی سرخ ہوجاتا ہے اور کسی کی رنگت زرد ہی رہتی ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنی حکمت بالغہ کے ساتھ پکاتا ہے تاکہ انسان کی غذا بن سکیں فرمایا ان فی ذلکم لاٰیت لقوم یومنون ان تمام چیزوں میں اہل ایمان کے لیے نشانیاں ہیں۔ ایمان والے تو یہ دلائل دیکھ کر یقین کرلیتے ہیں کہ بارش کا برسانا ، کھیتوں اور درخت کا پھل لانا اسی وحدہ لاشریک کا کا ہے مگر جو لوگ ایمان سے خالی ہیں وہ ان واضح عقلی دلائل سے بھی نصیحت نہیں پکڑتے فرمایا ان تمام دلائل کو دیکھنے کے باوجود مشرکین کا حال یہ ہے۔ کہ وجعلوا للہ شرکاء الجن انہوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھہرالیا ہے وخلقھم حالانکہ اسی خداوند تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ بعض نے انسانوں کو معبود بنا رکھا ہے ، بعض نے پتھروں اور قبروں کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھ لیا ہے۔ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ یہ لوگ ذرا غور نہیں کرتے عمارت تعمیر کرتے ہیں تو لوگ جانور زبح کرتے ہیں تاکہ جنات نقصان نہ پہنچائیں۔ جنوں کو خدا کا شریک بنا لیا حالانکہ ان کا خالق بھی وہی ہے۔ پھر مشرکین نے یہ بھی ظلم عظیم کیا وخرق 3 وا لہ بنین وبنت کہ اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹے اور بیٹیاں گھڑلئے۔ بغیر علم بغیر علم کے یعنی محض جہالت کی وجہ سے عیسائیوں نے مسیح علیہ اسلام کو خدا کا بیٹا ٹھہرالیا اور یہودیوں نے عزیر علیہ اسلام کو بیٹا تسلیم کرلیا۔ کسی نے کہ دیا الملٰئِکہۃ بنات اللہ یعنی فرشتے اللہ کی بیٹیاں ہیں مگر اللہ نے فرمایا ما تخذ صاحبۃ ولا ولہ (سورۃ الجن) اللہ کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ اولاد۔ وہ تو ان چیزوں سے پاک ہے وہ صمد ‘ غنی اور بےنیاز ہے۔ اولاد کا ہونا تو مخلوق کی صفت ہے۔ اسے اللہ میں کیسے ثابت کرتے ہو۔ سورة بنی اسرائیل میں فرمایا ، بڑے افسوس کی بات ہے آفافاصفکم ربکم بلنین “ (بنی اسرائیل) تم اپنے لیے تو بیٹے پسند کرتے ہو ” واتخذ من الملٰئِکۃ انا ثاط (بنی اسرائیل) اور فرشوں کو اللہ کی بیٹیاں ٹھہراتے ہو۔ یعنی جو چیز اپنے لیے پسند نہیں کرتے ، وہ خدا کے لیے تجویز کرتے ہو ” انکم لتقو لون قولاً عظیما “ تم اپنی زبانوں سے بہت بڑی بات کہتے ہو۔ سورة مریم میں فرمایا کہ اللہ کے لیے اولاد کا عقیدہ رکھنا اتنا گندہ عقیدہ ” تکاد السمٰوٰتِ یتفطرن منہ وتنشق الارض وتخر الجبال ھدا “ کہ قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائے ، زمین شق ہوجائے یا پہاڑ ریزہ ریزہ ہوجائیں خدا کی شان میں یہ گستاخی اس کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہے آخر اللہ کو بیٹے کی کیا ضرورت ہے۔ کیا اسے نسل کشی کی ضرورت ہے یا اسے بڑھاپے میں سہارے کی ضرورت ہے وہ تو صمد اور غنی ہے ، وہ محتاج نہیں بلکہ ساری مخلوق اس کی محتاج ہے۔ تم نے جہالت کی وجہ سے اس کے بیٹے اور بیٹیاں بنا لیے ہیں۔ سبحنہ اس کی ذات تو ایسی چیزوں سے پاک ہے و تعلی اور اس کی ذات اعلیٰ وارفع ہے عما یصفون ان چیزوں سے جو یہ لوگ بیان کرتے ہیں۔ کوئی اس کی طرف اولاد کو منسوب کرتا ہے کوئی کسی کو علم اور تصرف میں شریک ٹھہراتا ہے اور کوئی قدرت میں شریک بناتا ہے۔ فرمایا ان تمام چیزوں سے پاک ہے۔ ، وہ تو وحدہٗ لا شریک ہے۔
Ayahs 6:101–103

بَدِیْعُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اَنّٰى یَكُوْنُ لَهٗ وَلَدٌ وَّ لَمْ تَكُنْ لَّهٗ صَاحِبَةٌ١ؕ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 6:101 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ ایجاد کرنے والا ہے آسمانوں اور زمین کا کیسے ہو سکتا ہے اس کا بیٹا حالانکہ نہیں ہے اس کی کوئی بیوی۔ اور اس نے پیدا کی ہے ہر چیز اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے

ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ خَالِقُ كُلِّ شَیْءٍ فَاعْبُدُوْهُ١ۚ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ وَّكِیْلٌ Open ayah 6:102 in the Quran reader

یہ ہے اللہ تمہارا پروردگار ۔ نہیں ہے کوئی عبادت کے لائق اس کے سواء پیدا کرنے والا ہے ہر چز چیز کا۔ پس تم اسی ہی کی عبادت کرو۔ اور وہ ہر چیز کار ساز ہے۔

لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ١٘ وَ هُوَ یُدْرِكُ الْاَبْصَارَ١ۚ وَ هُوَ اللَّطِیْفُ الْخَبِیْرُ Open ayah 6:103 in the Quran reader

نہیں پا سکتیں اس کو آنکھیں اور وہ پا سکتا ہے آنکھوں کو۔ اور وہ نہایت باریک بین اور خبر رکھنے والا ہے۔

گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید اور توحید کی عقلی دلائل بیان کیے۔ اگر انسان اپنی عقل کو بروئے کار لائے اور غور وفکر کرے تو اللہ کی وحدانیت سمجھ میں آسکتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا شکوہ بھی کیا کہ دیکھو انہوں نے اللہ کے لیے شریک بنا رکھے ہیں ، کسی نے جنات کو خدا کا شریک بنا لیا ہے ، کوئی اللہ کی اولاد کا عقیدہ رکھتا ہے حالانکہ خدا تعالیٰ کی ذات اس کی طرف منسوب کی جانے والی ان چیزوں سے پاک ہے۔ پھر اللہ نے تو حید ہی کے اثبات میں اپنی بعض صفات کا ذکر کیا ہے۔ چناچہ گذشتہ درس میں نزول بارش اور اس سے پیدا ہونے کی تردید بھی کی جا چکی ہے۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کی طرف توجہ دلا کر اپنی بیوی اور اولاد ہونے کی نفی کی ہے اور اپنی توحید خالص کا درس دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک صفت یہ بھی بیان فرمائی ہے بدیع السموت والرض وہ آسمانوں اور زمین کا ایجاد کرنے والا بدیع کا معنی سے وجود میں لانے والا ، یا نیستی سے ہستی میں لانے والا یا پیدا کرنے والا ہے۔ بدیع کا ہم معنی لفظ فاطر بھی ہے۔ اللہ نے مختلف مقامات پر ” فاطر السموت والارض بھی فرمایا ہے ۔ اس کے معنٰی بھی کسی چیز کو کتم عدم سے پھاڑ کر نکالنے کے ہیں۔ گویا دونوں الفاظ کے معانی قریب قریب ایک ہی ہیں۔ ابداع ایسی چیز کو کہتے ہیں ۔ جو بغیر نمونے مادہ ، اور آلے کے وجود میں آئے اور بدیع اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ لفظ بدعت کا مادہ بھی یہی ہے اور اس سے مراد دین میں ایسی ایجاد ہے جس کا شریعت میں کوئی ثبوت موجود نہ ہو یعنی وہ ایجاد بندہ ہو ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کائنات کو پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ کی چار صفات بالترتیب کام کرتی ہیں۔ سب سے پہلے ابداع ، اس کے بعد خلق ، اس کے بعد تدبیر اور آخر میں تدلی کی صفت ، اسکی تفصیل آپ نے اس طرح بیان فرمائی ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا ابداع سے مراد ایسی چیز ہے جو بغیر سابقہ نمونے ، مادہ اور آلہ کے وجود میں آئے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی اس صفت کے ساتھ ساتھ کائنات کو مجموعی طور پر کتم عدم سے نکالا ہے ۔ اس کو شخص اکبر بھی کہا گیا ہے ۔ مجموعہ کائنات کی ایجاد ایمان بالغیب سے تعلق رکھتی ہے اور انسان کی اس کی کیفیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ مبدع (موجد) اور مبدع (ایجاد کردہ) کے درمیان عالم شہادت میں کوئی ایسی چیز نہیں ہے۔ جسے نظیر کے طور پر پیش کیا جاسکے۔ یعنی موجد اور ایجاد کردہ کے درمیان ایسی نسبت پائی جاتی ہے کہ اس کی کوئی مثال کائنات میں موجود نہیں لہٰذا یہ نہایت ہی پوشیدہ اور غامضن چیز ہے اللہ تعالیٰ نے کائنات کو کس طرح ایجاد کیا ، یہ انسان کی عقل و فکر سے باہر ہے البتہ یہ ہوا ضرور ہے اور اس کی موجود گی ہی اس کا ثبوت ہے۔ مجموعی کائنات اللہ کی تجلیات اور صفات کے نتیجے میں معرض وجود میں آئی ہے کیونکہ اس کے وجود سے پہلے نہ کوئی نمونہ تھا ، نہ مادہ اور نہ ایجاد کرنے کا کوئی آلہ۔ جب کائنات بحیثیت مجموعی وجود میں آگئی تو پھر اللہ تعلیٰ کی صفت خلق کا رفرما ہوئی۔ یعنی ابداع کے بعد دوسرے نمبر پر صفت خلق نے کام کیا۔ اگر پہلے مادہ موجود ہو تو اس سے کسی چیز کو بنانا خلق کہلاتا ہے۔ جب مجموعی کائنات بشمول زمین اور اس کی مٹی ایجاد ہوگئی تو پھر اللہ تعالیٰ نے مٹی سے آدم علیہ اسلام کی تخلیق کی ، جیسے فرمایا خلقہ من ترابٍ (آل عمران) اسے مٹی سے پیدا فرمایا۔ ابداع اور خلق میں یہی فرق ہے۔ ابداع کے ذریعے مٹی کو بغیر کسی مادہ کے ایجاد کیا اور پھر اس مٹی سے آدم علیح اسلام کو تخلیق کیا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام سطح زمین سے مٹی لے کت آدم کا مجمہ بنایا ، اس کے اعضا بنائے اور پھر اس میں روح ڈالی تو انسان زندہ ہو کر کھڑا ہوگیا۔ پھر اللہ نے اس ایک نفس سے سلسلہ تناسل کے ذریعے نسل انسانی کو آگے بڑھایا۔ آدم (علیہ السلام) کی طرح جنات کی تخلیق کے متعلق ارشاد ہے ” وخلق الجان من مارج من نار (الرحمن) اور جنات کو آگ کے شعلے سے پیدا کیا۔ یہاں بھی آگ کا مادہ موجود ہے جس سے جنات کو خلق کیا۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ شیاطین وغیرہ کے اجسام مختلف عناصر کے گندے اور تعفن زدہ مادے سے اٹھنے والے بخارات سے پیدا کیے جاتے ہیں ، پھر ان میں غلیظ قسم کی روحیں ڈالی جاتی ہیں جن کا مبنیٰ فساد ہوتا ہے۔ بہر حال خلق اللہ تعالیٰ کی وہ صفت جس کے ذریعے وہ پہلے سے موجود مادہ سے کوئی نئی چیز پیدا کرتا ہے۔ جب کوئی چیز تیار ہوجاتی ہے تو اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی صفت تدبیر کام کرتی ہے ۔ پیدائش کے بعد انسان ، حیوان ، پرندوں اور درندوں کا بتدریج جوانی کی عمر تک پہنچنا اور پھر بڑھاپے میں اس کے اعضاء کا کمزور ہوجانا حتیٰ کہ بتدریج موت کی آغوش میں چلے جانا ، اللہ تعالیٰ کی صفت تدبیر ہی کا کام ہے۔ اسی طرح نباتات اور درختوں کی پیدائش کے بعد انہیں بڑھانا ان میں پھل پید ا کرنا اور پھر اپنی مقرر ہ مدت پوری کر کے ختم ہوجانا سب اسی صفت کا کام ہے۔ کائنات میں موجود چاند ، سورج اور دیگر سیاروں کو ایک مربوط نظام کے تحت چلانا ، دن اور رات کا آگے پیچھے ہونا اور کبھی بڑے اور کبھی چھوٹے ہونا ، بادلوں کا آنا ، بارش کا برسنا ، چاند اور سورج کا گہنا جانا ، سورج کا ہمیشہ یکساں رہنا جب کہ چاند کا بڑھتے گھٹے رہنا ، ہر ہر کام کی تدبیر اللہ تعالیٰ کی صفت تدبیر ہی کی مرہون منت ، اس کا اپنا ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے یدبرالامرمن السماء الی الارض (الم سجدہ) جو آسمان سے لے کر زمین تک کے تمام معاملات کی تدبیر کرتی ہے۔ ابداع اور خلق کے بعد صفت تدبیر تیسرے مرحلے میں کام کرتی ہے۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ عرش الٰہی کے نیچے خطیرۃ القدس میں تمام انسانیت کا ایک مجسم نمونہ پایا جاتا ، اس کو امام نوع انسانی یا روح اعظم کہتے ہیں۔ اسی نمونے پر دنیا میں ہر انسان کی تخلیق ہوتی ہے۔ بعض احادیث میں آتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں بچہ جب چوتھے چلّے میں داخل ہوتا ہے۔ تو جو روح اس میں ڈالی جاتی ہے وہ روح اعظم کا عکس ہوتا ہے اور اس عکس میں اللہ تعالیٰ کی اس تجلی کا عکس بھی ہوتا ہے جو عرش پر پڑتی ہے اور پھر اس کا اثر خطیرۃ القدس کی معرفت روح اعظم میں بھی ہوتا ہے اور یہی اثر پھر ہر انسان کی روح میں بھی آتا ہے۔ مقصد یہ کہ ہر نو مولود کی روح میں بھی آتا ہے۔ مقصد یہ کہ ہر نومولود کی روح میں اللہ تعالیٰ کی تجلی اعظم کا عکس ضرور پایا جاتا ہے جسے تدلی کا نام دیا گیا ہے تجلی اعظم کے عکس کے اثر کی وجہ سے ہر انسانی روح کی کشش اوپر اللہ تعالیٰ کی طرف ہوتی ہے۔ اس دنیا کے مادی دھندوں میں پھنس کر انسانی روح کی حالت ایسے نیم بیہوش شخص کی سی ہوجاتی ہے۔ جسے کلوروفارم سونگھا دیا گیا ہو۔ جس دن اس کلوروفارم کا اثر زائل ہوجائے گا تو آدمی کو ہوش آجائیگا۔ اور تجلی اعظم کا عکس انسان کو اوپر کی طرف کھینچے گا۔ پھر اگر اس نے اس دنیا میں رہ کر ایمان حاصل نہیں کیا تو اس کا اوپر جانا نہایت دشوار ہوجائیگا اور وہ اوپر کی بجائے نیچے کی طرف جائیگا جسکی وجہ سے اسے سخت تکلیف ہوگی البتہ جس نے خطیرۃ القدس میں موجود نمونہ کے مطابق زندگی بسر کی ہوگی ، اسے تجلی اعظم کی کشش آسانی سے اوپر عالم بالا میں لے جائیگی۔ بہر حال شاہ صاحب کی کمت کے مطابق یہ اللہ تعالیٰ کی چوتھی صفت تدلی ہے جس کا تعلق انسان کی روح کے ساتھ ہوتا ہے۔ جس طرح انسان کی روح میں تجلی اعظم کا عکس ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر آدمی کے قلب میں بھی تجلی اعظم کا ایک نمونہ ہوتا ہے۔ انسانی دماغ کی طرح انسانی قلب بھی بڑا پیچیدہ (Complicated) عضو ہے۔ ابھی تک سائنس نے انسانی دماغ کے 45 فیصد سے زیادہ کا مطالعہ نہیں کیا ، اللہ تعالیٰ نے اس کو ایسا غامضن بنایا ہے ہزاروں آپریشن اور تجربات ہوچکے ہیں مگر انسان اس کی تہ تک نہیں پہنچ سکتا۔ اللہ نے انسانی قلب بھی عجیب و غریب چیز بنائی ہے ۔ خدا پرستی کے مرکز اسی دل میں پائے جاتے ہیں ۔ چناچہ بزرگان دین جو خاص ترتیب کے ساتھ ذکرت کراتے ہیں ان کا مقصد ان مراکز کی بیداری ہوتا ہے۔ مگر اس میں بعض اوقات کامیابی ہوتی ہے اور بعض اوقات ناکامی کا منہ بھی دیکھنا پڑتا ہے۔ تاہم کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس کے قلب پر خدا کی تجلی اعظم کا عکس نہ پڑتا ہے۔ تاہم کوئی انسان ایسا نہیں ہے جس کے قلب پر خدا کی تجلی اعظم کا عکس نہ پڑتا ہو۔ اگر وہ اس تجلی سے خاطر خواہ فائدہ اس زندگی میں نہیں اٹھائے گا تو اس کی کشش اسے بہت پریشان کریگی۔ بہر حال یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اپنی صفت ابداع کا ذکر فرمایا کہ اُ س نے اس صنعت کے ذریعے آسمانوں اور زمین کو بغیر نمونے ، مادے اور آلے کے پیدا فرمایا۔ یہ مجموعی کائنات کی ایجاد کا تذکرہ ہے کیونکہ اس سے پہلے کچھ نہیں تھا۔ پھر جب یہ چیز معرض وجود میں آگئی تو اللہ تعالیٰ نے باقی اشیاء اس کے مادہ سے پیدا فرمائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی صفتِ ابداع کے تذکرہ کے بعد فرمایا انی یکون لہ ولہ ولم تکن لہ صاحبۃ ، جو اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خود موجد ہے اس کی اولاد کیسے ہو سکتی ہے حالن کہ اس کی بیوی بھی کوئی نہیں۔ اولاد اجسام کے قبیلے سے ہوتی ہے اور وہ اپنے باپ کے ہم جنس اور مشابہ ہوتی ہے مگر اللہ تعالیٰ تو اجسام کے قبیلے سے ہی نہیں ہے لہٰذا اس کی اولاد اور پھر اس کے مشابہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ” لئس کمثلہ شئی “ اس کی مثل تو کوئی چیز ہو ہی نہیں سکتی ‘ لہٰذا اس کی اولاد بھی نہیں ہو سکتی۔ اولاد کی پیدائش کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک فطری طریقہ وضع کیا ہے ، میاں اور بیوی خاص جذبات کے تحت ملتے ہیں جس کے نتیجہ میں مادہ خارج ہو کر حمل قرار پاتا ہے اور پھر اولاد پیدا ہوتی ہے۔ مگر یہاں پر واضح کردیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تو بیوی ، شہوت رانی اور انسانی جذبات سے مبرا اور منزہ ہے اس کی طرف اولاد کی نسبت کیسے کی جاسکتی ہے اسے بیوی اور اولاد کی آخر ضرورت بھی کیا۔ وخلق کل شئی وہ تو خود ہر چیز کا خالق ہے۔ کائنات اور اللہ کے درمیان خالق کی نسبت ہے۔ جو چیز مخلوق ہے وہ خالق کی اولاد کیسے ہو سکتی ہے۔ کیونکہ اولاد تو ہم جنس ہوتی ہے مگر اللہ تعالیٰ کی جنس سے کوئی دوسری ہستی نہیں ہے وہ یکتا ہے اور لاشریک ہے۔ فرمایا وھو بکل شئی علیم اور وہ ہر چیز کو جاننے والا یعنی علیم کل ہے۔ اس کی نظروں سے کوئی چیز اوجھل نہیں ۔ وہ ہر شخص کی نیت اور ارادے تک سے واقف ہے اس کی اولاد ثابت کرنا اس کا شریک ٹھہرانا ہی ناقابلِ معافی جرم ہے۔ فرمایا ذلکم اللہ ربکم یہی اللہ تمہارا پروردگار ہے جو تمہیں پیدا کرکے بتدریج درجہ کمال تک پہنچاتا ہے۔ لہٰذا لا الہ الا ہو اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ عبادت کے لائق وہی ہو سکتا ہے جو موجد اور علیم کل ہو۔ چونکہ یہ صفات کسی دوسری زات میں نہیں پائی جاتیں ، اس لیے اس کے سوا معبود بھی کوئی نہیں ہو سکتا ۔ خالق کل شئی پھر فرمایا کہ ہر چیز کا خالق وہی اللہ ہے فاعبد وہ لہٰذا عبادت بھی اسی کی کرو چونکہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ جن ، فرشتے ، انبیاء وغیرہ سب مخلوق ہیں اس لیے ان میں سے کوئی بھی معبود نہیں ہو سکتا بلکہ یہ سب اسی کی عبادت کرنے پر مامور ہیں۔ عبادت انتہائی درجے کی عاجزی کا نام ہے اور عاجزی کا اظہار ، قلب ، اعضاء اور مال سے ہوتا ہے لہٰذا ہر قسم کی زبانی ، قلبی ، مالی اور بدنی عبادت کے لائق صرف وہی وحدہٗ لاشریک ہے۔ آخر اس کی عبادت اور انتہائی تعظیم کیوں نہ کی جائے جب کہ وھو علی کل شئی وکیل ہر چیز کا کار ساز بھی وہی ہے۔ بگڑی کو بنانے والا وہی ہے۔ ہر چیز کا تصرف اسی کے پاس ہے۔ ، لہٰذا ہر قسم کی حاجت براری کے لیے ہاتھ بھی اسی کے سامنے پھیلانا چاہئے۔ سورة مزمل میں فرمایا ” لا الہ الا ہو فاتخذہ وکیلا “ چونکہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں ، لہٰذا ہر کام میں کارساز بھی اسی کو پکڑو۔ وہی تمہارے کام بنائے گا اور وہی بگاڑے گا۔ یہ صف صرف اسی کے لیے خاص ہے باقی سب اس کے عاجز بندے ہیں۔ یہ بات عام تعلیم کے دوران بھی سمجھائی جاتی ہے کہ خدا تعالیٰ غیر مرئی ہے اس کائنات میں کوئی شخص اس کو زن ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتا۔ یہاں بھی فرمایا ہے۔ لاتدر کہ الابصار اللہ تعالیٰ کو یہ آنکھیں دیکھنے سے قاصر ہیں۔ اس مادی جہان میں انسانی آنکھ وہ صلاحیت نہیں ہے جس سے وہ اللہ تعالیٰ کا دیدار کرسکے ، البتہ دوسرے جہاں میں اہل ایمان کو روئیت الٰہی نصیب ہوگی۔ ایک حدیث شریف کے الفاظ ہیں لم تروا ربکم حتیٰ تموتوا مرنے سے پہلے تم اپنے رب کو نہیں دیکھ سکتے۔ بعض لوگوں نے اس آیت سے روئیت کا مطلق انکار کیا ہے مگر ایسا نہیں ، بلکہ اس عدم روئیت کا تعلق اس جہان سے ہے۔ اسی اشتباہ کی وجہ سے یہ اختلاف بھی پید ہوا کہ معراج کے موقع پر بھی حضور علیہ اسلام کو اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہوا تھا یا نہیں۔ اس ضمن میں شیخ ابن عربی (رح) فرماتے ہیں کہ آخرت دو چیزوں پر مشتمل ہے ایک زمان اور دوسری مکان ہے۔ آخرت کا زمانہ تو جب آئے گا جب قیامت برپا ہوگی ، البتہ اس کا مکان عالم ِ بالا میں ہے۔ معراج کے موقع پر حضور علیہ اسلام اللہ تعالیٰ کی روئیت اِ س دنیا کے مکان میں نہیں بلکہ عالم بالا میں ہوئی تھی۔ وہ تو خطیرۃ القدس کا مقام تھا جس کے متعلق آتا ہے۔ ” ولقدرہُ نزلۃً اُخریٰ عند سدرۃ منتہیٰ بہر حال یہ اس جہاں کا ذکر ہے ، اس مادی دنیا میں روئیت الٰہی ممکن نہیں۔ فرمایا تمہاری آنکھیں اس کو نہیں پاسکتیں وھو ید رک الابصار اور وہ آنکھوں کو پاتا ہے۔ اس کی نظر ہر چیز پر ہے ، کوئی چیز اس کی نظروں سے پوشیدہ نہیں ۔ بعض فرماتے ہیں کہ روئیٹ اور ادراک دو مختلف چیزیں ہیں۔ روئیت سے مراد سطحی نظر سے دیکھنا بھی ہو سکتا ہے۔ جب کہ ادراک سے مراد کسی چیز کا مکمل طور پر احاطہ ہوتا ہے یہاں پر ادراک کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی یہ انسانی آنکھیں اس کا پورے طور پر احاطہ نہیں کرسکتیں اور یہ چیز تو اگلے جہان میں بھی ممکن نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کی ذات لا محدود ہے جس کا احاطہ ممکن ہی نہیں۔ البتہ اس کے نیک بدندوں کو تجلی نظر آئے گی جس سے وہ لطف اندوز ہوں گے ، یہی روئیت ہوگی۔ معراج کے واقع میں بھی حضور علیہ اسلام نے فرمایا رایت نور فسجدت لہ میں نے نور دیکھا اور سجدے میں گر گیا۔ بہر حال آخرت میں اللہ تعالیٰ کی تجلیات کا نصٰب ہونا بھی بہت بڑی بات ہے۔ اسی کو روئیت سے تعبیر کیا گیا ہے۔ فرمایا وہو اللطیف الخبیر لطیف کے دو معنی آتے ہیں۔ یعنی مہربانی کرنے والا اور بہت زیادہ لطافت والا اور باریک بین خبیر سے مراد ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہوتا ہے۔ یہ دونوں صفات واحد رب العلمین میں پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ نہ کوئی لطیف ہے کہ اس کی نظر ہر چھوٹی سے چھوٹی اور مخفی چیز پر ہو اور نہ کوئی علیم کل ہے اسی طرح اس کے علاوہ نہ کوئی بدیع ہے اور نہ خالق۔ یہ تمام صفات اسی کے ساتھ خاص ہیں لہٰذا معبود برحق بھی وہی ہے۔
Ayahs 6:104–107

قَدْ جَآءَكُمْ بَصَآئِرُ مِنْ رَّبِّكُمْ١ۚ فَمَنْ اَبْصَرَ فَلِنَفْسِهٖ١ۚ وَ مَنْ عَمِیَ فَعَلَیْهَا١ؕ وَ مَاۤ اَنَا عَلَیْكُمْ بِحَفِیْظٍ Open ayah 6:104 in the Quran reader

تحقیق آچکی ہیں تمہارے پاس بصیرت کی باتیں تمہارے رب کی طرف ستے جس نے دیکھا (بصیرت کی باتوں کو) پس اپنے نفس کے فائدے کے لیے۔ اور جو اندھا بنا رہا ، پس اس پر پڑے گا اس کا وبال۔ اور نہیں ہوں میں تم پر نگہبان۔

وَ كَذٰلِكَ نُصَرِّفُ الْاٰیٰتِ وَ لِیَقُوْلُوْا دَرَسْتَ وَ لِنُبَیِّنَهٗ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:105 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم پھیر پھیر بیان کرتے ہیں دلائل اور تاکہ یہ لوگ کہیں آپ نے پڑھا ہے اور تاکہ ہم بیان کردیں اس کو ان لوگوں کے لیے جو دانشور ہیں۔

اِتَّبِعْ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ۚ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ وَ اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِیْنَ Open ayah 6:106 in the Quran reader

اے پیغمبر آپ کے پروردگار کی جانب سے نہیں کوئی عبادت کے لائق اس کے سوا اور آپ اعراض کریں شرک کرنے والوں سے

وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ مَاۤ اَشْرَكُوْا١ؕ وَ مَا جَعَلْنٰكَ عَلَیْهِمْ حَفِیْظًا١ۚ وَ مَاۤ اَنْتَ عَلَیْهِمْ بِوَكِیْلٍ Open ayah 6:107 in the Quran reader

اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو یہ شرک نہ کرتے ۔ اور نہیں بنایا ہم نے تمہیں ان پر نگہبان اور نہیں ہیں آپ ان پر وکیل۔

گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کے رد میں عقلی اور نقلی دونوں قسم کے دلائل بیان فرمائے اور ان کا ذکر آگے بھی آئے گا سابقہ کتب کا ذکر بھی ہوچکا ہے اور اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر جو مختلف قسم کے انعامات فرمائے ہیں ان کا ذکر بھی ہوچکا ہے کائنات کی تخلیق اور اس کے چلانے والے نظاموں کے متعلق بیان ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ دلائل قدرت بیان کر کے اپنی ذات وصفات کو سمجھنے کی تعلیم دی ہے۔ اس سے پہلے انسان کی تخلیق ، رات دن کے اختلاف ، چاند اور سورج کی مسافرت ، ستاروں اور سیاروں پر مربوط نظام ۔ آسمان سے بارش کے نزول اور اس کے ذریعہ سبز ، اناج اور پھلوں کی فراوانی خاص طور پر کھجور ، انگور ، زیتون ، اور انار کا تذکرہ کر کے انسان کی توجہ ان دلائل قدرت کی طرف دلائی گئی ہے ، کہ ان چیزوں پر غور کرنے سے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت سمجھ میں آتی ہے اور انسان ایمان قبول کرنے پر آمادہ ہوجاتے ہیں ۔ مگر افسوس ہے ان لوگوں پر جنہوں نے ان واضح دلائل کے باوجود جنوں ، فرشتوں اور انسانوں میں سے اللہ کے شریک بنا رکھے ہیں حالن کہ نیتس سے ہست کرنے والا ، ذرے ذرے کا علم رکھنے والا اور ہر چیز کی تدبیر کرنے والا ہی وحدہٗ لاشریک ہے جب یہ تمام صفات اللہ تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں تو معبود برحق بھی وہی ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہو سکتا۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے دلائل بیان کرنے کے بعد فرمایا ہے۔ قد جاء کم بصائِر من ربکم تحقیق تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بصرت کی باتیں آچکی ہیں۔ بصارت آنکھ کی روشنی کو کہتے اور بصیرت سے مراد انسان کے دل کی روشنی ، علم اور یقین ہے جب کوئی شخص دل کی آنکھوں سے کوئی چیز پالیتا ہے تو اسے بصیر حاصل ہوجاتی ہے۔ یہاں بصار سے مراد ہی عقلی اور نقلی دلائل ہیں جو پہلے بیان ہوچکے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی ہر نشانی صاحب و عقل ضردانسان کے دل میں بصیرت پیدا کردیتی ہے جس سے وہ سمجھ جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ واقعی وحدہٗ لاشریک ہے۔ تو فرمایا تمہارے دل کو روشن کردینے والی بصیرت کی باتیں تمہارے پاس آچکی ہیں فمن ابصر جس نے ان واضح دلائل کو دل کی آنکھوں سے دیکھ لیا فلنفسہ پس یہ اس کی اپنی بہتری کے لئے ہے ۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کریگا۔ اس کا فائزہ اسی کی ذات کو پہنچے گا ، ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی قربت کا مستحق ہوجائے گا ، اس کا شمار مقربین کے گروہ میں ہوگا ، وہ بہترین سوسائٹی کا فرد اور خطیرہ القدس کا ممبر بن جائے گا۔ جو ایمان لا کرنی کی کا اہتمام کرے گا ، اس کا فائدہ خدا تعالیٰ کو تو نہیں پہنچے گا کیونکہ وہ تو بےنیاز ہے البتہ اس کا فائدہ خود مومن ہی کو پہنچے گا۔ فرمایا ومن عمی اور جو اندھا بنا رہا ۔ نہ عقلی دلیل پر غور کیا اور نہ نقلی دلیل کو سمجھا ، اس نے ہر طرف سے آنکھیں بند کرلیں جو شخص دل و دماغ کو بروئے کار ہی نہ لایا ، وہ اللہ کی وحدانیت کو کیسے پا سکتا ہے۔ حقیقت میں ایسے شخص کا دل اندھا ہوچکا ہے جو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ہے۔ سورة حج میں اس کی وضاحت یوں فرمائی ” فاِنھا لا تعمیٰ البصار ولکن تعمی القلوب التی فی اصدور “ دراصل بات یہ ہے کہ یہ ظاہری آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ سینوں میں رکھے ہوئے دل اندھے ہوتے ہیں۔ عام طور پر علم ، ایمان اور نیکی کے بارے میں دل اندھے ہوتے ہیں۔ جب دل ہی اندھے ہوجائیں تو بصیرت کیسے آسکتی ہے۔ بصیرت تو غور و فکر ، طلب اور جذبے کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے مگر جس شخص نے ان چیزوں کی طرف سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں وہ حقیقت کو نہیں پا سکتا ۔ اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی سورج کی روشنی میں اپنی آنکھیں بند کر کے خود اندھا بن جائے۔ ایسی صورت میں اسے کوئی چیز نظر نہیں آئیگی اور وہ ہر بھلائی سے محروم ہو کر رہ جائے گا۔ اسی لیے فرمایا ، جو شخص خود اندھا بنا رہا فعلیھا تو اس کا وبال اسی کی ذات پر پڑے گا کسی دوسرے شخص کا کچھ نہیں جائیگا۔ ایسا شخص ایمان ، نیکی اور بالآخرت نجات سے محروم ہوجائیگا۔ اللہ تعالیٰ نے نیکی اور بدی کا قانون اس طرح سمجھایا ” لا ما کسبت و علیھا ما اکتسبت “ (البقرۃ) اگر انسان اچھے کام کرے گا تو ان کا فائدہ اسی کو پہنچے گا اور اگر بُرے کام کریگا تو نقصان بھی خود ہی اٹھائیگا ہر بُرے کام کا وبال برائی کرنیولاے پر ہوگا ، نہ کہ کسی دوسرے شخص پر ۔ امام ابوحنیفہ فقہ کی یوں تعریف کرتے ہیں معرفۃ النفس مالہا وما علیھا یعنی انسان کا نفس اپنے لیے ہر مفید اور نقصان دہ چیز کو جان لے امام صاحب نے حدیث شریف کی تعریف میں فرمایا ہے معرفۃ قول الرسول و فعلہ وتقریرہ یعنی حضور علیہ اسلام کے قول ، فعل اور تقریر کا نام حدیث ہے تقریر اس عمل کو کہتے ہیں جو حضور علیہ اسلام کے سامنے کیا گیا ہو ، مگر آپ نے اس سے منع نہ کیا ہو۔ بہر حال سمجھدار آدمی وہ ہے جو اپنی اچھائی اور برائی سے واقف ہے۔ اسی لیے یہاں بھی فرمایا کہ جو کئی بصیرت حاصل کرے گا ۔ اس میں اسی کا فائدہ ہوگا اور جو اندھا بن جائیگا۔ وہ خود اپنے نقصان کا ذمہ دار ہوگا۔ حدیث شریف میں آتا ہے ، حضور علیہ اسلام نے ارشاد فرمایا کہ منافق آدمی میں دو چیزیں نایاب ہوتی ہیں ، ایک حسن خلق اور دوسری تفقہ فی الدین جس شخص کے اخلاق اچھے نہیں ہیں وہ بھی منافق ہے اور جسے دین کی سمجھ نہیں۔ وہ بھی منافق ہے۔ اعتقادی منافق تو حضور علیہ اسلام کے زمانہ میں ہی تھے۔ آپ کے زمانہ میں منافق کی پہچان وھی کے ذریعے ہوجاتی تھی مگر اب اعتقادی منافق کا علم اس وقت تک نہیں ہو سکتا جب تک وہ خود ظاہر نہ کرے۔ البتہ عملی منافقوں سے دنیا بھری پڑی ہے۔ ہر بد اخلاق اور دین سے بےبہرہ منافق ہے۔ حضور علیہ اسلام کا ارشاد ہیمن یرد اللہ بہ خیرا یفقھہ فی الدین جس شخص سے اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ رکھتا ہے اس کو دین میں سمجھ عطا کرتا ہے۔ ایسے شخص کو توحید ، کفر ، شرک ، بد عت اور معصیت کی پہچان ہوتی ہے اور وہ دین کی باتوں کو اچھی طرح سمجھنے لگتا ہے۔ تو فرمایا جو اندھا بنا رہا اس کا وبال اسی پر پڑے گا ، یہ وضاحت کرنے کے بعد فرمایا ، اے پیغمبر ! آپ ان سے کہہ دیں وما انا علیکم بحفیظ میں تم پر کوئی نگہبان نہیں ہوں۔ مجھے اللہ نے مبلغ بنا کر بھیجا ہے اور حکیم دیا ہے بلغ ما انزل الیک من ربک (المائدۃ) جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے آپ پر نازل کیا گیا ہے ، اسے آگے پہنچا دیں۔ میرا کام تو تبلیغ ہے ، لوگوں سے زبردستی منوانا نہیں ہے کیونکہ میں تم پر نگران بنا کر نہیں بھیجا گیا۔ فرمایا وکذلیک نصرف الایت اسی طرح ہم اپنے دلائل پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں ، کبھی عقلی دلائل دیتے ہیں ، کبھی نقلی دلائل پیش کرتے ہیں۔ کہیں سابقہ اقوام کے حالات بیان کر کے اور کبھی نیک آدمیوں کے واقعات سنا کر لوگوں کے لیے ترغیب کا انتظام کرتے ہیں اور بری اقوام اور برے لوگوں کے حالات بیان کر کے ترہیب کی صورت پیدا کرتے ہیں۔ غرضیکہ ہم اپنی آیات کو مختلف طریقوں سے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں۔ ہمارے یہ دلائل اس قدر قوی ہوتے ہیں ولیقولو درست کہ لوگ یہ کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کہ اے پیغمبر ! یہ باتیں آپ نے کسی سے پڑھی ہیں۔ یہ اتنی جامع باتیں ہیں کہ کسی سے سیکھے بغیر حاصل نہیں ہو سکتیں درس کا معنی پڑھنا یا سیکھنا ہوتا ہے۔ مگر حضور علیہ اسلام تو امی تھے۔ آپ نے کسی سکول ، کالج یا یونیورسٹی میں تو تعلیم حاصل نہیں کی تھی اور یہی آپ کی صداقت کی دلیل تھی۔ ناخواندہ ہونے کے باوجود ایسی ایسی حکمت کی باتیں اللہ کا نبی ہی کرسکتا ہے۔ مگر وہ لوگ کہتے تھے کہ آپ کسی دوسرے شخص سے سیکھ کر آتے ہیں۔ یہود و نصاریٰ کہتے تھے کہ آپ تورات ، انجیل اور دیگر پرانی کتابوں سے اخذ کر کے یہ باتیں بیان کرتے ہیں ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ تمام باتیں اللہ تعالٰ آپ کو وحی کے ذریعے سکھاتا تھا۔ بہر حال معترضین کے ایسی باتیں کرنے سے ان پر حجت تمام ہوگئی۔ جب انہوں نے یہ کہا کہ تم کسی سے سیکھ کر آئے ہو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو حق کی بات پہنچ گئی اور انہوں نے انکار کردیا۔ اب کل کو یہ تو نہیں کہ سکیں گے کہ ہمیں اللہ کا سچا پیغام پہنچا ہی نہیں۔ بعض اس لفظ کو دادست بھی پڑھتے ہیں جس کا معنٰی مٹ جانا ، مٹا دینا یا محو کردینا ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ تو پرانی محوشدہ باتیں ہیں۔ ہم ان کو پہلے بھی سنتے آئے ہیں ۔ یہ محض قصے کہانیاں ہیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ معترضین کا یہ کہنا بھی اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ کے احکام ان تک پہنچ گئے اور ان پر حجت تمام ہوگئی۔ اب وہ انکار نہیں کرسکیں گے۔ بہر حال فرمایا کہ ان دلائل کو پھیر پھیر کر بیان کرنے کا ایک مقصد تو یہ ہے کہ وہ لوگ کہیں کہ آپ نے یہ چیزیں کس سے سیکھی ہیں۔ اور دوسری بات یہ ہے ولنبینہ لقوم یعلمون تاکہ ہم واضح کردیں اس کو ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں۔ جو لوگ عقلی اور نقلی دلائل دیکھ کر ایمان لے آتے ہیں ہم ان کی تقویت ایمان کے لیے ان دلائل کو بار بار بیان کرتے ہیں۔ آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر اور آپ کے امتبعین کو تسلی دی ہے اور فرمایا ہے اتبع ما اوحی الک من ربک اے نبی علیہ اسلام ! تمہارے رب کی طرف سے جو کچھ تمہاری طرف وحی کی جاتی ہے ، آپ اس کی پیروی کریں۔ یہ لوگ تو اعتراض کرتے رہیں گے آپ ان کی پروا کیے بغیر حکم خداوندی کا اتباع کرتے رہیں اور اپنے عقیدے مشن ، اور عمل کو جاری رکھیں۔ اور دیکھیں آپ کی طرف جو وحی نازل کی جاتی ہے ، اس میں سب سے بڑی بات یہ ہے لا الہ الا ہو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ لہذا اس کی وحدانیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسی کی فرمانبرداری کریں۔ اتباع ومی میں سب سے اہم بات یہی ہے ، جب کوئی اتباع وحی کو ترک کردیتا ہے تو وہ اس کی توحید کا انکار کرتا ہے۔ اور پھر شرک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ جب وحدانیت کا دامن چھوٹ جاتا ہے تو پھر کفر ، بدعت اور معاصی آجاتے ہیں اور انسان دور کی گمراہی میں جا پڑتا ہے۔ فرمایا آپ ان کو اللہ کی وحدانیت کی طرف دعوت دیتے رہیں۔ اگر پھر بھی یہ شرک پر اصرار کریں وعرض عن المشرکین تو آپ ان سے اعراض فرمائیں۔ ان کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔ انہیں اپنے حال پر چھوڑ کر علیحدہ ہوجائیں۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے تمام دلائل کے ذریعے حق کا راستہ وضح کردیا ہے ولو شاء اللہ ما اشرکو اور اگر اللہ چاہتا تو یہ لوگ شرک نہ کرتے چاہنے سے مراد یہ ہے ” ولوشاء لھد لکم اجمعین “ (الخل) اگر اللہ چاہتا تو تمام لوگوں کو ہدایت عطا کردیتا مگر یہ اس کی حکمت کے خلاف ہے۔ وہ کسی کو ہدایت کا راستہ قبول کرنے پر مجبور نہیں کرتا ” فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر “ (کہف) جس کا جی چاہے ایمان لے آئے اور جس کا دل چاہے کفر کا راستہ اختیار کرے اس نے اپنی حجت تمام کردی۔ اب یہ ہر آدمی کی اپنی مرضی پر منحصر کہ وہ کونسا راستہ اختیار کرتا ہے۔ اس رب العلمین کا قانون تو یہ ہے۔ لا اکراہ فی الدین “ (بقرۃ) کہ دین کے معاملہ میں جبر نہیں ہے اگر اللہ تعالیٰ سب کو زبردستی دین کی طرف لے آتا تو یہ جبری ایمان ہوتا جو اللہ تعالیٰ کو ہرگز قبول نہیں ہے۔ پھر اللہ نے وعید بھی سنادی کہ اگر کفر کرو گے تو آگے تمہارے لیے جہنم بھی تیار ہے اور اگر ایمان لائو گے تو کامیابی کی بشارت بھی موجود ہے۔ وان تشکرو یرض لکم “ (الذمر) اگر شکر کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم سے راضی ہوگا ” ولایرضیٰ لعبادہ الکفر “ (الزمر) اور کفر کرنے والوں سے اللہ تعالیٰ ہرگز راضی نہیں ہوتا ۔ البتہ جس طرف کوئی جاناچاہئے ، وہ اسکی تو فیق سلب نہیں کرتا بلکہ اس کا فرمان ہے ” نولِہ ‘ ماتولی “ (النسا) جدھر کوئی جانا چاہتا ہے۔ ہم اس کو اسی طرف پھیر دیتے ہیں ۔ تاہم برائی ، کفر ، شرک کا انجام بُرا ہوگا۔ اس نے اچھا اور بُرا راستہ واضح کر کے تمہیں آزمائش میں ڈال دیا ہے۔ اور ہر قسم کے وسائل اور دلائل دے کر تمہیں چھوڑ دیا ہے کہ جس راستے پر جانا چاہو ، چلے جائو۔ ” ونبلوکم بالشر والخیر فتنۃ ہم تمہیں نیکی اور بدی کے ذریعے آزماتے ہیں (الانبیائ) فرمایا وما جعلنک علیھم حفیظا اے پیغمبر علیہ اسلام ! ہم نے آپ کو ان لوگوں پر نگہبان نہیں بنایا۔ وما آنت علیھم بوکیل اور نہ ہی آپ ان کے ذمہ داری ہیں۔ نہ تو آپ ان کو ایمان لانے پر مجبور کرسکتے ہیں اور نہ ہی آپ پر کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایمان کیوں نہیں لائے سورة غاشیہ میں ہے ” لست علیھم بمصیطر “ آپ ان پر کوئی داروغہ نہیں ہیں جو پکڑکر ایمان کی طرف لے آئیں گے۔ ” ما انت علیھم ۔۔ “ (ق) آپ ان پر زبردستی کرنے والے بھی نہیں ہیں۔ ماننا یا نہ ماننا ان کی اپنی صوابدید پر ہے۔ آپ کا کام صرف پہنچا دینا ہے۔ یہ حضور ﷺ کو تسلی دی جا رہی ہے کہ آپ ان کی طرف سے دل برداشتہ نہ ہوں۔ وہ اپنے بُرے انجام کے خود ذمہ دار ہیں ” ولا تسئل عن اصحب الجحیم “ آپ سے اہل دوزخ کے متعلق کوئی سوال نہیں ہوگا۔ بلکہ ان سے پوچھا جائے گا ” ماسلککم فی سق “ (مدثر) کہ تم جہنم میں کس وجہ سے پہنچے ۔ آپ اپنا فریضہ تبلیغ ادا کرتے ہیں۔ ایمان قبول کرنا یا نہ کرنا ان کی اپنی ذمہ داری ہے جس کے لیے یہ خود جوابدہ ہیں۔