Ayahs 6:37–41توحید ‘ رسالت اور معاد کے انکار اور پیغمبر اسلام سے نشانیاں طلب کرنے کا سلسلہ کئی دروس سے بیان ہو رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منکرین کے مقابلے میں صبر کی تلقین فرمائی ‘ جیسا کہ پہلے انبیاء کرتے رہے ہیں اور نشانیوں کے متعلق فرمایا کہ اگر ان کو حسب خواہش نشانی مہیا بھی کردی جائے تو پھر بھی یہ انکار ہی کریں گے۔ آج کی آیات میں بھی مشرکین کی طرف سے نشانیاں طلب کرنے کا ہی ذکر ہے اور پھر اس ضمن میں حضور ﷺ کو بعض ہدایات بھی دی گئی ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے وقالوا لو لا نزل علیہ ایتہ من ربہ ان منکرین نے کہا کیوں نہیں اتاری جاتی اس شخص پر کوئی نشانی اس کے رب کی طرف سے۔ اور نشانی سے مراد ان کے نزدیک ایسی نشانی ہے جس کو وہ خود طلب کرتے ہیں۔ مشرکین کہتے تھے کہ ہماری خواہش کے مطابق نشانی کیوں نہیں آتی ۔ یا نشانی سے مراد ایسی واضح نشانی ہے جو پہلے انبیاء پر ظاہر ہوتی ہیں جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور صالح (علیہ السلام) وغیرہ سے ظاہر ہوتی ہیں ۔ تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ کو دیں ان اللہ قادر علی ان ینزل ایتہ بیشک اللہ تعالیٰ نشانی اتارنے پر قادر ہے۔ یہ جس قسم کی نشانی بھی طلب کرتے ہیں ‘ اللہ تعالیٰ پیش کرنے کی طاقت رکھتا ہے۔ اس کے لئے مشکل نہیں ‘ مگر بات یہ ہے ولکن اکثرھم لا یعلمون کہ ان میں اکثر بےعلم اور بےسمجھ ہیں کیونکہ حضور ﷺ کے ہاتھ پر نشانیاں تو ظاہر ہوتی رہتی ہیں۔ مگر ان کو ملاحظہ کرنے کے باوجود یہ لوگ ایمان لانے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر ان کی مطلوبہ نشانی ظاہر کردی جائے تو وہ ان کے لئے سخت خطرناک ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ اگر انہوں نے نشانی پا کر بھی انکار ہی کیا تو پھر وہ خدا کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ پہلی قومیں اسی لئے عذاب میں مبتلا ہوئیں کہ انہوں نے خود معجزات طلب کئے مگر پھر بھی ایمان نہ لائے۔ ایک بات یہ بھی ہے کہ متعصب اور عنادی لوگوں کی فرمائش کو پورا کرنا حکمت الٰہی کا ابطال ہے اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کے مطابق مناسب حال نشانیاں ظاہر کرتا ہے مگر یہ بےعقل لوگ بیہودہ مطالبات کر کے خود خدا کے غضب کا نشانہ بنتے ہیں پہلے بھی گزر چکا ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ میں تمہاری خواہش کے مطابق نشانی نازل کر دوں گا۔ لیکن اگر تم نے پھر ناشکرگزاری کی تو ایسی سزا دوں گا جو جہان میں کسی کو نہ دی ہو۔ مگر اکثر لوگ اللہ تعالیٰ کی اس حکمت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔
جانوروں کی نشانیاں
فرمایا اگر یہ لوگ نشانیاں دیکھنے پر ہی بضد ہیں تو انہیں بتا دیں کہ تمہارے اردگرد اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کی بیشمار نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ صرف غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ سب کچھ سمجھ میں آجائے گا۔
مثال کے طور پر فرمایا ومامن دابتہ فی الارض زمین پر چلنے پھرنے والا کوئی جانور ایسا نہیں ہے ولا طئس یطیر بجناحیہ اور نہ کوئی ایسا پرندہ ہے جو اپنے بازوئوں سے اڑتا ہے الا ام امثالکم مگر یہ کہ وہ تمہاری طرح امتیں ہیں۔ ان تمام جانوروں ‘ پرندوں اور کیڑے مکوڑوں کی بھی جماعتیں اور گروہ ہیں۔ فرمایا اگر مشرکین کو اللہ کی نشانیوں کی تلاش ہے تو ان جانوروں اور پرندوں کو ہی دیکھ لیں۔ یہ لاکھوں کی تعداد میں ہیں اور پھر ہر ایک کی نوع الگ الگ ہے۔ ان میں ایسی حیرت انگیز باتیں پائی جاتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ نمونہ ہیں۔ چھوٹے چھوٹے کیڑوں مکڑوں سے لے کر بڑے بڑے درندوں تک ہر ایک جانور اپنے اپنے دائرہ کار میں کام کر رہا ہے۔ جانوروں کی ہر نوع کے لئے الگ الگ شریعت اور جدا جدا احکام ہیں۔ صرف زمین پر رہنے والے جانوروں کی اقسام و انواع ہی انسان کے علم سے باہر ہیں جب کہ پانی کے جانور اور ہوا میں اڑنے والی چیزیں ان کے علاوہ ہیں۔ ہر ایک کی نسل کشی ‘ ان کا چلنا پھرتا ‘ رہائش اور خوراک کے ذرائع اور طور طریقے جدا جدا ہیں یہ سب اللہ کی قدرت کے نشانات ہی تو ہیں۔ اگر انسان ان میں تھوڑا سا غور وفکر کرلے تو اسے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہونے میں دقت پیش نہیں آئے گی۔
معرفت الٰہی
چھوٹے سے چھوٹے جاندار سے لے کر بڑی سے بڑی مخلوق تک ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ اشرف المخلوقات ہونے کے باوجود انسانوں کی اکثریت اس سے غافل ہے۔ حضرت ابو دردا ؓ کی روایت میں آتا ہے ‘ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمام جانور ‘ چرند ‘ پرند یعرفوننی مجھے پہچانتے ہیں۔ یوحد وننی میری توحید کو مانتے ہیں ‘ یسجبوننی ‘ میری تسبیح بیان کرتے ہیں ویحمد وننی اور میری حمد و ثنا بیان کرتے ہیں۔ یہ سب قدرت کی نشانیاں ہی تو ہیں ۔
وان من شی الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقہون تسبیحم (بنی اسرائیل) تمام چیزیں اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرتی ہیں مگر تم ان کی زبان اور تسبیح کو سمجھ نہیں سکتے۔ ابودردا ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یوں فرماتا ہے کہ تمام جانور مجھے پہچانتے ہیں ‘ میری توحید کو بھی مانتے ہیں ‘ شرک نہیں کرتے ‘ خدا کی حمد اور تسبیح بیان کرتے ہیں۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضور ﷺ کہیں جا رہے تھے۔ دیکھا کہ دو بکریاں آپس میں گتھم گتھا ہو رہی ہیں۔ آپ کے ساتھ حضرت ابوذر غفاری ؓ بھی تھے۔ آپ نے فرمایا ‘ ابوذر ! عرض کیا ‘ حاضر ہوں فرمایا ‘ کیا تم جانتے ہو کہ یہ بکریاں کیوں لڑ رہی ہیں۔ عرض کیا ‘ حضور میں تو نہیں جانتا۔ فرمایا۔ مگر اللہ جانتا ہے جس بات پہ لڑ رہی ہیں اور قیامت کے دن ان کے درمیان فیصلہ کرے گا۔ اسی طرح ترمذی شریف کی روایت میں حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔ لتئودن الحقوق الی اھلھا تمام حقوق ان کے اہل تک پہنچائے جائیں گے۔ حتیٰ یقتص للجماء من القرناء یہاں تک اللہ تعالیٰ قیامت کے دن بےسینگ جانور کا سینگ والے جانور سے قصاص دلائیں گے۔ سینگوں والے نے اس پر کیوں ظلم کیا۔ تمام جانوروں کے درمیان عدل و انصاف قائم ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کسی کو چھوڑے گا نہیں۔ جب جانوروں کے متعلق اس قدر بازپرس ہوگی تو پھر ظالم انسان اپنے ظلم کا بدلہ پائے بغیر کیسے بچ سکتے ہیں غرض یہ کہ فرمایا جانور اور پرندے بھی تمہاری طرح امت ہیں۔ ہر ایک کے الگ الگ احکام ہیں جن کے مطابق وہ زندگی بسر کرتے ہیں۔
چیونٹیوں کا عالم
سائنس دانوں نے اللہ کی مخلوق پر تحقیق کر کے حیرت انگیز انکشافات کئے ہیں۔ بعض لوگوں نے چالیس چالیس سال تک عرق ریزی کر کے چیونٹیوں جیسی ادنیٰ مخلوق پر ریسرچ کی ہے ‘ ا ن کا اپنا نظام معاشرت ہے ‘ رسم و رواج ہیں اور خوراک جمع کرنے کے طریقے ہیں ہیں حتیٰ کہ مردے کو دفن کرنے اور صلح و جنگ کے احکام بھی ان میں پائے جاتے ہیں۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ ایک زندہ چیونٹی دوسری مردہ چیونٹی کو اٹھائے جا رہی ہے اس کا کیا مقصد ہے ؟ محققین کی تحقیق کے مطابق چیونٹیوں کے قبرستان ہوتے ہیں جہاں وہ اپنے مردوں کو دفن کرتے ہیں ‘ منے والی چیونٹیوں کو ویسے ہی نہیں چھوڑ دیا جاتا۔ چیونٹیوں کے خوراک جمع کرنے کا موسم مخصوص ہوتا ہے۔
جس میں اپنے مطلب کی خوراک ذخیرہ کرتی ہیں ‘ اس کام کے لئے چیونٹیوں کی ڈیوٹیاں لگائی جاتی ہیں۔ طنطاوی (رح) نے نظام العالم والامم میں لکھا ہے کہ سائنس دانوں کو ریسرچ کے مطابق چیونٹیوں کے درمیان جنگ بھی ہوتی ہے۔ اگر کوئی چیونٹی دشمن ملک میں چلی جائے تو وہاں پائوں پر نہیں چلتی۔ بلکہ الٹی ہوجاتی ہے۔ اپنی پشت زمین پر لگا دیتی ہے ‘ پھر اس علاقے کی فوج آتی ہے جو اسے اٹھا کر اپنے علاقے سے باہر نکال دیتی ہے ان کے ہاں یہ صلح و جنگ کے اصول مروج ہیں تحقیق کنندگان کہتے ہیں کہ ان چیونٹیوں میں دودھ دینے والے جانور بھی انہی کی نسل سے ہوتے ہیں۔ جن سے یہ دودھ حاصل کرتی ہیں۔ فرمایا یہ سب کچھ قدرت کے حیرت انگیز شاہکار نہیں ؟ غور و فکر کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ کی قدرت تامہ کے بہت سے نشانات موجود ہیں۔
شہد کی مکھیاں
دیگر جانداروں کی طرح شہد کی مکھیوں کا بھی ایک الگ جہان ہے۔ جہاں ان کے قوانین نافذ ہیں ‘ ان کے اپنے رسم و رواج اور لائحہ عمل ہے جس کے تحت وہ زندگی بسر کرتی ہیں اور کام کاج انجام دیتی ہیں۔ ان مکھیوں میں ایک بڑی مکھی ملکہ کہلاتی ہے۔ باقی سب مکھیاں اس کے ماتحت ہوتی ہیں اور اس کا ہر حکم بجا لاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان مکھیوں کے ذریعے انسان کے لئے ایک پاکیزہ مشروب شہد تیار کیا ہے۔ سورة نخل میں موجود ہے ” و اوحی ربک الی النحل “ تیرے رب نے شہد کی مکھیوں کی فطرت میں یہ بات ڈال دی ہے کہ وہ پہاڑوں اور درختوں میں اپنا گھر بنائیں اور ہر قسم کے پھل کھائیں پھر ان کے پیٹوں سے شفا بخش مشروب نکلتا ہے فرمایا ان فی ذلک لایتہ لقوم یتفکرون اس پورے نظام میں صاحب غور و فکر لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں۔ ان مکھیوں کی فطرت میں داخل ہے کہ وہ نجاست پر نہیں بیٹھیں گی ‘ بلکہ ان کی شریعت کا قانون یہ ہے کہ وہ ہمیشہ پاکیزہ چیز پر بیٹھیں۔ چناچہ شہد کی مکھی ہمیشہ مٹھائی ‘ پھول اور پھل پر بیٹھے گی ‘ کسی گندی چیز پر نہیں بیٹھے گی۔ اگر مکھیوں کو پتہ چل جائے کہ ان کی ہم نسل کوئی مکھی کسی ناپاک چیز پر بیٹھی پائی گئی ہے تو اس پر مقدمہ چلایا جاتا ہے ‘ اسے حاکم مکھی کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ پھر اگر الزام ثابت ہوجائے تو ایسی ملزمہ کو سزائے موت تک دیدی جاتی ہے یہ پورا نظام قدرت ‘ عقل مندوں کے لئے نشانیاں ہیں ۔ معرفت الٰہی کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا نشانی مطلوب ہے ؟
پرندوں کی جبلت
غرض یہ کہ فرمایا کہ تمہاری طرح جانوروں اور پرندوں کی بھی امتیں ہیں۔
جن کے پورے حالات کو اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے ۔ یہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھتے ہیں اور اس کی وحدانیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ تمام جاندار اپنے معبود کو بھی پہچانتے اور اپنی روزی کے ذرائع کو بھی جانتے ہیں ‘ نر اور مادہ ایک دوسرے کو خوب پہچانتے ہیں اور آپس کے تعلقات کے لئے آمادہ رہتے ہیں چڑیوں اور کبوتروں کی مثال لے لیں تنکا تنکا اکٹھا کر کے خود ہی اپنا گھونسلہ بناتے ہیں پھر چڑی اور کبوتری اس میں انڈے دیتی ہے جنہیں نر اور مادہ باری باری سیتے ہیں۔ جب بچے نکلتے ہیں تو دونوں ان کی پرورش کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ نر اور مادہ اپنے اپنے منہ میں خوراک لاتے ہیں اور بچوں کے منہ میں ڈالتے ہیں۔ کیا یہ سب کچھ قدرت کے حیرت انگیز کر شمات نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرنے کے لئے یہ بہت بڑی نشانیاں ہیں۔
فرمایا مافرطنا فی الکتاب من شئی ہم نے کتاب میں کسی کمی کو نہیں رہنے دیا۔ اس میں ہر چیز درج ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ کتاب سے مراد لوح محفوظ بھی ہو سکتی ہے ‘ قرآن پاک بھی اور نامہ اعمال بھی۔ ظاہر ہے کہ ہر چیز لوح محفوظ میں درج ہے۔ اور قرآن پاک کے متعلق خود اس کا اپنا دعویٰ ہے۔ ولا رطب ولا یابس الا فی کتاب مبین (انعام) یعنی ہر خشک و تر چیز کا بیان اصولی طور پر قرآن میں موجود ہے۔ ہر شخص کا نامہ اعمال بھی تیار ہو رہا ہے جو محاسبہ کے وقت اس کے سامنے کردیا جائیگا۔ اس میں بھی انسان کا ہر عمل شامل ہوگا۔ تو فرمایا کہ ہم نے کتاب میں کسی چیز کی کمی نہیں چھوڑی ثم الی ربھم یحشرون پھر ان سب کو اپنے رب کی طرف اکٹھا کیا جائے گا۔ پھر اس کا حساب کتاب ہوگا۔
مکذبین کی حالت
فرمایا والذین کذبوا بایتنا جن لوگوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ان کی حالت یہ ہے صم و بکم وہ بہرے اور گونگے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جس نے آیات الٰہی سے فائدہ نہ اٹھایا ‘ جس نے حق کی بات سنی ہی نہیں وہ بہرہ ہے اور جس نے ایمان کا حکم زبان سے ادا ہی نہیں کیا وہ گونگا ہے۔ ایسے بہرے اور گونگے لوگ فی الظلمت اندھیروں میں بھٹک رہے ہیں۔ کفر ‘ شرک ‘ نفاق ‘ بدعات سب اندھیرے ہیں جن میں منکرین و مکذبین سرگرداں ہیں اور انہیں روشنی کی کوئی رمق نظر نہیں آتی۔ نزول قرآن کا ایک مقصد یہ بھی ہے ” لتخرج الناس من الظلمت الی النور “ (ابراہیم) تا کہ آپ اس کے ذریعے لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں۔ مگر بدقسمت ہیں وہ لوگ جو محروم رہتے ہیں۔
پھر فرمایا من یشاء اللہ یضللہ جسے اللہ چاہتا ہے۔ گمراہ کردیتا ہے اور اس کا اصول یہی ہے کہ جو شخص ضد اور عناد کو اختیار کرتا ہے ہٹ دھرمی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو ہدایت نہیں دیتا۔ قرآن پاک کا فیصلہ ہے ” واللہ لا یھدی القوم الظلمین “ (3 ‘ 52) اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو ہدایت سے نہیں نوازتا۔ جب ظلم کو ترک کر کے نیکی کو اختیار کرے گا کفر اور شرک کی بجائے ایمان اور توحید کو اپنا لے گا ‘ نیکی کی تڑپ اس میں پیدا ہوجائے گی تو پھر اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہدایت کا راستہ بھی واضح کر دے گا۔ وہ ہر شخص کی استعداد ‘ صلاحیت ‘ اور طلب کو جانتا ہے ‘ اس لئے ومن یشاء یجعلہ علی صراط مستقیم جس کو چاہتا ہے صراط مستقیم پر ڈال دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس راستے پر چلو ” ھذا صراط علی مستقیم “ (الحجر) یہی سیدھا راستہ ہے۔
موحد اور مشرک
فرمایا تم نشانیاں طلب کرتے ہو۔ حالانکہ تمہارے اردگرد لاکھوں نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں اگر ذرا بھی غور کرتے تو خدا تعالیٰ کی وحدانیت سمجھ میں آجاتی۔
قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے ارایتکم یہ بتلائو ان اتکم عذاب اللہ اگر اللہ کا عذاب تمہارے پاس آجائے او اتتکم الساعتہ یا وہ گھڑی تمہارے پاس آپہنچے یعنی کسی کو انفرادی طور پر موت آجائے یا مجموعی طور پر قیامت واقع ہوجائے اغیر اللہ تدعون تو کیا پھر اللہ کے سوا کسی غیر کو پکارو گے ان کنتم صدقین اگر تم سچے ہو تو بتلائو کہ کون ہے جو اس آمدہ گھڑی کو ٹال سکے۔ فرمایا حقیقت یہ ہے کہ ایسے کٹھن وقت پر بل ایاہ تدعون تم صرف اسی کو پکارتے ہو جب تمام ظاہری اسباب ختم ہوجاتے ہیں تو پھر اسی خدائے وحدہ لا شریک کے سامنے گڑگڑاتے ہو فیکشف ما تدعون الیہ ان شاء اگر وہ چاہتا ہے تو جس تکلیف کی طرف اسے بلاتے ہو اسے دور کردیتا ہے۔ یہ اس کی مشیت پر موقوف ہے۔ اگر پسند کرے تو تمہاری مشکل کو حل فرما دیتا ہے۔ تمہاری تاریکی کو کھول دیتا ہے اور پھر تمہیں راحت حاصل ہوجاتی ہے۔
فرمایا جب اللہ تعالیٰ تمہاری مدد فرما دیتا ہے و تنسون ما تشرکون تو اس وقت تم بھول جاتے ہو جو خدا کا شریک بناتے ہو۔ اس وقت تمہاری سمجھ میں آتا ہے کہ مشکل میں اللہ کے سوا کوئی کام نہیں آسکتا سارا اختیار اسی کے پاس ہے ‘ اسے کوئی مجبور نہیں کرسکتا۔ اسی لئے حضور ﷺ نے فرمایا کہ دعا ہمیشہ لجاجت اور پختہ طریقے سے مانگا کرو ‘ کیونکہ خدا کسی کا مجبور و محکوم تو نہیں ‘ اس کی مرضی ہے تو دعا قبول کرے گا۔ اور تمہاری تکلیف کو رفع فرما دے گا اور اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہیں ہو سکتا جن کو تم اللہ کا شریک ٹھہراتے ہو ‘ اس کا ساتھی بناتے ہو ‘ اس کی صفات میں شریک کرتے ہو ‘ کسی کے قبضے میں کچھ نہیں۔
Ayahs 6:42–45گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے احتمال کے طور پر مکذبین کو ڈرایا تھا کہ آپ ان لوگوں سے پوچھیں کہ اگر موت یا قیامت کی گھڑی آپہنچے تو خدا کے سوا تمہاری مصیبت کو کون دور کرسکتا ہے۔ یقینا کوئی نہیں۔ وہ صرف خدا کی ذات ہے جس کے قبضے میں اقتدار اور تصرف ہے۔ لہٰذا یہ اس کی مشیت پر موقوف ہے کہ تمہاری پکار یا دعا کو قبول کر کے عذاب کو ٹم سے ٹال دے۔ اب اللہ تعالیٰ نے بعض سابقہ امتوں کے واقعات کی طرف اشارہ کر کے فرمایا ہے کہ دیکھو ! ان پر خدا کا عذاب فی الواقع آ گیا اور وہ اس میں ہلاک ہوگئے۔ لہٰذا تمہیں بھی سمجھ لینا چاہئے کہ کہیں تم پر بھی ایسا عذاب نہ آجائے کیونکہ تمہارے افعال و کردار بھی ویسے ہی ہیں جیسے پہلی قوموں کے تھے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی سرکشی اور عناد کا فلسفہ بھی بیان فرمایا ہے کہ عام طور پر لوگ کس طرح کفر ‘ شرک اور معاصی میں مبتلا ہوتے ہیں پھر اللہ کی طرف سے مہلت دی جاتی ہے۔ اور جب لوگ قبیح حرکتوں سے باز نہیں آتے تو پھر اللہ تعالیٰ کی گرفت اچانک آجاتی ہے اور ان کا کام تمام کردیتی ہے۔
ارشاد ہوتا ہے ولقد ارسلنا الی ام امم من قبلک تحقیق آپ سے پہلے ہم نے تو ہت سی امتوں کی طرف اپنے رسول بھیجے امم امت کی جمع ہے اور مطلب یہ ہے کہ کسی ایک دو امت کی طرف نہیں بلکہ بہت سی امتوں کی طرف رسول مبعوث فرمائے۔ یہ خاطب حضور ﷺ کی ذات مبارکہ سے ہو رہا ہے کیونکہ آپ نبیوں اور رسولوں کے سلسلہ کی آخری کڑی ہیں ولکن رسول اللہ و خاتم النبین (احزاب ) آپ اللہ کے رسول اور سلسلہ نبو ت کو ختم کرنے والے ہیں۔ دوسری جگہ موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعض رسولوں کا ذکر قرآن پاک میں موجود ہے اور بعض کا حال وحی کے علاوہ بھی بتلا دیا ہے اور بعض ایسے رسول بھی ہیں۔ جن کا ذکر اللہ نے نہیں کیا۔ تاریخ سے بھی ان کے حالات کا پتہ نہیں چلتا۔ غرضیکہ بہت سے رسول ایسے ہیں جن کے حالات اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔
لا یعلمھم الا اللہ “
تنگی حالات
فرمایا آپ سے پہلے ہم نے بہت سی امتوں کی طرف رسول بھیجے فاخذنھم بالباساء والضراء پس پکڑا ہم نے ان کو سختی اور تکلیف کی صورت میں۔ باس سے مراد معاشی تنگدستی ہے اور ضرا سے مراد جسمانی تکلیف یا بیماری ہے۔ اللہ تعالیٰ کا یہ دستور ہے کہ ج لوگ سرکشی پر اتر آتے ہیں تو اولاً انہیں کسی سختی میں ڈال کر تنبیہ کی جاتی ہے تا کہ وہ سمجھ جائیں اور سرکشی کو چھوڑ کر اللہ کی طررجوع کریں۔ یہاں پر بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ہم نے بہت سی امتوں کی طرف رسول بھیجے ‘ پھر انہوں نے ان کی تکذیب کی اور احکام الٰہی سے اغراض کیا تو ہم نے انہیں جسمانی اور معاشی تکالیف میں ڈال دیا اور ان پر یہ سختی اس لئے کی للعھم یتضرعون تا کہ وہ گڑگڑائیں اور عاجزی کا اظہار کریں۔ مقصد یہ کہ ہم نے تکلیف میں مبتلا کر کے متنبہ کردیا کہ ابھی وقت ہے بغاوت کو چھوڑ کر اللہ کی طرف آجائیں۔ اگر ان میں انسانیت کی کچھ رمق باقی ہوگی تو وہ گناہوں سے توبہ کرلیں گے ‘ کفر اور شرک کو ترک کردیں گے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لے آئیں گے۔ یہاں پر باس یعنی معاشی تنگی سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص محتاج ہوجائے مالی لحاظ سے کمزور ہوجائے اور اس کی گزر بسر اچھے طریقے سے نہ ہو سکے اور ضرا یعنی جسمانی تکلیف کا مطلب یہ ہے کہ انسان کسی بیماری میں مبتلا ہو ہوجائے۔ مقصد یہ کہ اللہ تعالیٰ معاشی یا جسمانی تکلیف دے کر وارننگ دیتا ہے تا کہ لوگ معصیت سے باز آجائیں۔
فرمایا فلو لا اذجاء باسنا تضرعوا پھر جب ہماری طرف سے تکلیف آپہنچی تو ان لوگوں نے کیوں نہ گریہ وزاری کی۔ مناسب تو یہ تھا کہ جب ہماری چھوٹی سی گرفت آئی تو فوراً سنبھل جاتے اور اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر معافی طلب کرتے ‘ مگر انہوں نے ایسا نہ کیا ولکن قست قلوبھم بلکہ ان کے دل سخت ہوگئے۔ انہوں نے اس تنبیہ سے فائدہ نہ اٹھایا اور معاصی سے باز نہ آئے ‘ اس کے برخلاف ہوا یہ کہ وزین لھم الشیطین ماکانوا یعملون جو کچھ وہ کر رہے تھے شیطان نے اس کو مزین کر کے دکھا دیا کہ تم جو کچھ کر رہے ہو ‘ ٹھیک کر رہے ہو اور اس پر قائم رہو ‘ یہ تکلیفیں اور مصیبتیں تو آتی رہتی ہیں ‘ ان کی کچھ پروانہ کرو۔
اچانک گرفت
اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ توبہ استغفار کرنے کی بجائے وہ برائیوں میں پہلے سے زیادہ منہمک ہوگئے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا فلما نسوا ما ذکروا بہ پھر جب وہ ہماری تنبیہ اور نصیحت کو بھول گئے اس کا مثبت اثر قبول نہ کیا۔ بلکہ انہوں نے اس بات پر غور ہی نہ کیا کہ ہمیں یہ تکلیف کیوں پہنچی ہے تو فرمایا فتحنا علیھم ابواب کل شئی ہم نے ان پر ہر چیز کے دروازے کھول دیئے۔ ان کی معیشت کو وسیع کردیا اور دنیاوی عیش و آرام کے سامان مہیا کردیئے۔ حتیٰ اذا فرحوا بما اوتوا پھر جب وہ خوش ہوگئے اس چیز سے جو ان کو دی گئی۔ یعنی جب انہیں کھانے پینے ‘ اچھی رہائش ‘ اچھی سواری ‘ زن و فرزند اور دیگر ہر قسم کی سہولتیں میسر آگئیں اور وہ خیال کرنے لگے کہ جو کچھ کر رہے ہیں ٹھیک کر رہے ہیں۔
اخذنھم بغتتہ ہم نے انہیں اچانک پکڑ لیا۔ ہماری گرفت آئی اور وہ فوراً عذاب میں مبتلا ہوگئے۔ بسا اوقات ایسا ہوا ہے کہ جب کوئی قوم حد سے تجاوز کرگئی تو کوئی آسمانی یا زمینی آفت آئی اور قوم تباہ و برباد ہو کر رہ گئی۔ جب لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ آنے پر معافی نہیں مانگتے بلکہ معاصی میں اور زیادہ بڑھ جاتے ہیں تو پھر تباہی ان کا مقصدر بن جاتی ہے ۔ شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ گنہگاروں کو اللہ تعالیٰ پہلی دفعہ تھوڑی سی تکلیف دے کر رجوع کرنے کا موقع دیتا ہے۔ پھر اگر وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر توبہ کرلیتے ہیں اور اللہ کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتے ہیں تو بچ جاتے ہیں۔ بصورت دیگر اللہ تعالیٰ ان پر خوشحالی کے دروازے کھول دیتا ہے۔ پھر جب ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی بجائے گناہوں میں مزید ملوث ہوجاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دفعتاً پکڑ آجاتی ہے۔ اسی لئے فرماتے ہیں کہ جب کسی شخص کو تھوڑی سی تکلیف پہنچے تو فوراً توبہ کر لینی چاہئے۔ اسے کسی نشانی کے اظہار یا زیادہ مصیبت کا انتظار نہیں کرنا چاہئے بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلی تنبیہہ پر ہی سمجھ جانا چاہئے اور گڑ گڑا کر اس سے معافی طلب کر لینی چاہئے ‘ اسی میں اس کا فائدہ ہے۔
حضرت عقبہ بن عامر ؓ بڑے اونچے درجے کے صحابی رسول ہیں۔ ان سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم دیکھو کہ کوئی شخص گناہ میں مبتلا ہے اور اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلسل انعام و اکام بھی ہو رہے ہیں ‘ اس کو ہر طرح سے وسعت حاصل ہو رہی ہے تو اس سے دھوکا نہ کھانا ‘ اللہ تعالیٰ اس پر راضی نہیں ہے بلکہ یہ تو استدراج اور مہلت ہے ‘ اللہ تعالیٰ کسی وقت بھی گرفت کرنے پر قادر ہے ‘ حضرت عقبہ ؓ فرماتے ہیں کہ اس موقع پر حضور ﷺ نے یہی آیت تلاوت فرمائی فلما نسوا ما ذکروا بہ فتحنا علیھم ابواب کل شئی حتیٰ اذا فرحوا بما اوتوا اخذنھم بغتتہ فرمایا جب ہماری گرفت آجاتی ہے فاذا ھم مبلسون پھر وہ مایوس ہوجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حقیقی گرفت میں مبتلا ہو کر ان کے لئے بچائو کا کوئی راستہ باقی نہیں رہتا تو پھرنا امید ہوجاتے ہیں۔
میانہ روی اور پاکدامنی
حضرت عبادہ بن صامت ؓ انصار مدینہ میں سے تھے۔ دس فٹ قد کے کڑیل جوان ‘ دراز قامت ‘ سانولی رنگت ‘ حضور کے مخلص جانثاروں میں سے تھے۔ فتح مصر والے لشکر میں شامل تھے۔ وہ روایت کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ جب اللہ کسی قوم کو باقی رکھنا اور ترقی دینا چاہتا ہے تو اس قوم کو اقتصاد یعنی میانہ روی اور عفت یعنی پاکدامنی عطا فرماتا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ رسوم و رواج میں پڑ کر یا معیار زندگی کو حد سے زیادہ بلند کر کے میانہ روی کو ترک کر بیٹھتے ہیں۔ کھیل کود ‘ رسومات ‘ لباس اور رہائش اور دیگر مکروہ امور پر بےدریغ روپیہ خرچ کرتے ہیں۔ اس طرح عفت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان حرام اور مشکوک چیزوں سے بچ جائے ‘ خوراک ‘ لباس ‘ شہوات اور دیگر معاملات میں عفت کو ملحوظ خاطر رکھے۔ اگر کوئی شخص اقتاد اور عفت کی پروا نہیں کرتا تو اسے سمجھ لینا چاہئے کہ وہ تباہی کے راستے پر گامزن ہے جو بالآخر اس کی بربادی کا باعث ہوگا۔
خیانت کی لعنت
فرمایا جس کسی قوم کو اللہ تعالیٰ ہلاک کرنا چاہتا ہے تو اس پر خیانت کے دروازے کھول دیتا ہے۔ پھر وہ نماز اور روزے میں خیانت کرنے لگتے ہیں ‘ وضو اور طہارت میں خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں ‘ دکانداری اور ملازمت میں خیانت کرتے ہیں اپنے کاروباری ساتھی کو دھوکا دیتے ہیں ‘ غرض یہ کہ ان پر ہر طرف سے خیانت کے دروازے کھل جاتے ہیں ‘ جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو تباہ و برباد کرنا چاہتا ہے۔ اور پھر ایسا ہی ہوتا ہے۔ بظاہر اس قوم میں خوشحالی نظر آتی ہے لوگ کھیل تماشے میں مشغول ہوتے ہیں ‘ فیشن کی بہتات ہوتی ہے مگر یہ خوشحالی نہیں بلکہ استدراج ہوتا ہے۔ یہ ترقی کی بجائے تنزلی کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔
ترقی تو ایمان کی دولت اور اللہ اور اس کے رسول کے مقرر کردہ اصولوں کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ آج ہر گھر میں ٹیلی ویژن کے ذریعے کھیل تماشے کی فراوانی ہے۔ شادی بیاہ کی رسوم پر بےدریغ روپیہ خرچ کیا جا رہا ہے۔ بڑی بڑی پرتکلف دعوتیں ہوتی ہیں ‘ انتظامات پر دل کھول کر خرچ کیا جاتا ہے۔ ادھر موت کی رسوم پر بھی دیگیں پکتی ہیں۔ پھر قبروں کو پختہ بنایا جاتا ہے ان پر گنبد تعمیر ہوتے ہیں ‘ چادریں چڑھتی ہیں اور اس طرح لوگ فضول خرچی کر کے امانت کی بجائے خیانت کے مرتکب ہوتے ہیں۔
ظلم کا بدلہ
فرمایا جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے حجت تما م ہوجاتی ہے بگڑی ہوئی قوم کسی طریقے سے راہ راست پر آنے کے لئے تیار نہیں ہوتی ۔ فقطع دابر القوم الذین ظلموا پھر ظلم کرنے والی قوم کی جڑ کاٹ دی جاتی ہے۔ ظلم صرف انسانی برادری سے ہی نہیں کیا جاتا بلکہ لوگ کفر اور شرک جیسے ظلم عظیم کے بھی مرتکب ہوتے ہیں اور پھر اللہ کا عذاب انہیں اچانک آ پکڑتا ہے۔ پہلی امتوں میں بسا اوقات ایسا عذاب نازل ہوتا تھا کہ پوری کی پوری قوم صفحہ ہستی سے مٹ جاتی تھی ‘ مگر اس آخری امت کو حضور ﷺ کی برکت سے ایسے سخت عذاب میں مبتلا نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کے لئے عذاب کبھی زلزلے کی صورت میں آتا ہے اور کبھی طوفان کی شکل میں کبھی کثرت اموات عذاب کا ذریعہ بنتی ہیں اور کبھی ان پر دشمن کا تسلط قائم کر کے عذاب میں مبتلا کردیا جاتا ہے تو اللہ نے فرمایا کہ جنہوں نے ظلم کیا ان کی جڑ کاٹ دی گئی۔ والحمد للہ رب العالمین اور سب تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ ظالم لوگ چونکہ پوری انسانیت کے دشمن ہوتے ہیں ‘ لہٰذا ان کی جڑ کٹ جانے سے پوری دنیا کا بھلا ہوتا ہے اسی لئے فرمایا کہ سب تعریفیں اس مالک الملک کے لئے ہیں جو اپنی مخلوق کو ظالموں کے ظلم سے نجات دیتا ہے۔
امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ اسلام میں جہاد کو اسی لئے فرض قرار دیا گیا ہے تا کہ مفسدین کی سرکوبی ہو سکے ‘ مفسد لوگ معاشرے میں ایسے ہیں۔ جیسے انسانی جسم میں پھوڑا۔ جس طرح انسان کی بھلائی اس مہلک پھوڑے کو کاٹ پھینکنے میں ہی ہے اسی طرح پوری نسل انسانی کی بھلائی اور خیر خواہی مفسدین کے قلع قمع میں ہے۔ معاشرہ جبھی پاک صاف ہو سکتا ہے جب ظلم کے تمام ذرائع کو کاٹ دیا جائے۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ ان ظالموں کو ختم کرنے میں ہی انسانیت کی بھلائی ہے۔
موطا امام مالک (رح) کی حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا جب برا آدمی مرتا ہے تو درخت پتھر اور جانور الحمد للہ کہ کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ یہ موذی آدمی آدمی نابود ہوا۔ ایسا شخص نہ صرف انسانیت کا دشمن تھا بلکہ درختوں ‘ پتھروں اور جانوروں کے لئے بھی باعث وبال تھا اس کے برخلاف اگر کوئی نیک آدمی فوت ہوجاتا ہے تو اس پر ارض و سما روتے ہیں۔ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں۔ آسمان کے وہ دروازے رنجیدہ ہوجاتے ہیں جن کے راستے نیک آدمی کے اعمال اوپر جاتے تھے ‘ مگر ظالموں پر نہ آسمان روتا ہے اور نہ زمین ‘ بلکہ ہر چیز کہتی ہے الحمد للہ خس کم جہاں پاک۔
Ayahs 6:46–49ربط آیات
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے تنبیہات کا ذکر فرمایا کہ اگر کسی فرد یا قوم پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے گرفت آجائے تو اس کا فرض ہے کہ ابتدائی پکڑ پر ہی تو بہ کرلے اللہ تعالیٰ کے سامنے گڑ گڑائے ‘ عاجزی کرے اور اپنے گناہوں کی معافی طلب کرے نہ کہ کسی بڑی افتاد کا منتظر رہے۔ فرمایا معمولی تنبیہ پر ہی توبہ کر لینی چاہئے تا کہ اللہ کے بڑے عذاب سے بچ جائے۔ پھر جب اس کی سخت گرفت آجاتی ہے تو پھر کون ہے جو اس کے سوا مصیبت کو دور کرسکے ‘ اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے سابقہ قوموں کا حال بھی بیان فرمایا کہ ہم نے انہیں معاشی اور جسمانی تنگی میں مبتلا کیا تا کہ وہ گڑ گڑا کر اللہ تعالیٰ سے معافی مانگ لیں ‘ مگر انہوں نے ایسا نہ کیا۔ پھر ان پر خوشحالی کا دور ڈال دیا۔ ا پر عیش و عشرت کے دروازے کھول دیئے ‘ ان کے لئے ہر چیز کی فراوانی ہوگئی ‘ پھر جب وہ سرکشی میں بڑھتے چلے گئے تو ہماری گرفت اچانک آئی اور اس قوم کو نیست و نابود کر کے رکھ دیا۔
کان ‘ آنکھ اور دل
آج کے درس میں بھی تنبیہات کا ذکر ہی چل رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بعض مثالوں کے ذریعے انسانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ برے افعال سے باز آجائیں۔ ورنہ ہو سکتا ہے کہ وہ بھی کسی بڑے عذاب میں گرفتار ہوجائیں ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے ارمیتھم یہ بتلائو۔ عربی زبان میں یہ لفظ اخبرنی کا معنی دیتا ہے۔ یعنی اس بات سے آگاہ کرو ان اخذ اللہ سمعکم و ابصارکم اگر اللہ تعالیٰ چھین لے تمہارے کان اور تمہاری آنکھیں وختم علی قلوبکم اور مہریں لگا دے تمہارے دلوں پر من الہ غیر اللہ یاتیکم بہ تو اللہ کے سوا کون الہ ہے جو ان چیزوں کو واپس لاسکے۔ ان عظیم نعمتوں کا خالق اللہ تعالیٰ ہے۔ اسی نے تمہیں یہ عطا کی ہیں ‘ پھر اگر وہی ان کو واپس لے لے ‘ تو ایسی کون سی طاقت ہے جو تمہیں یہ چیزیں واپس دلا سکے۔
انسانی جسم میں حواس ظاہرہ کو بڑی اہمیت حاصل ہے آنکھیں اور کان انسان کے ذرائع علم ہیں ‘ ان کے بغیر انسان کی کوئی زندگی نہیں۔ آنکھوں کے ذریعے انسان دیکھتا ہے ‘ اور ظاہر ہے کہ جب تک کوئی چیز نظر نہیں آئے گی اس سے کماحقہ ‘ استفادہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ آنکھ ہے تو جہاں ہے۔ زندگی کا لطف بینائی کے ساتھ ہی ہے ‘ اگر آنکھیں نہیں ہیں تو پوری دنیا گھپ اندھیر ہے۔ اسی طرح کانوں کی بھی بڑی اہمیت ہے ۔ کان کے ذریعے ہی انسان معلومات حاصل کرتا ہے اور پھر انہیں قلب تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ کان اور آنکھ کے بعد تیسری چیز دل ہے۔ دل ہی انسان کا مرکز حیات اور مرکز اخلاق ہے۔ اچھے یا برے تمام اخلاق دل ہی میں راسخ ہوتے ہیں کسی چیز پر عمل کرنے کا عزم دل ہی سے پیدا ہوتا ہے ‘ اور پھر انسان وہ کام کر گزرتا ہے۔ غرضیکہ یہ تینوں چیزیں انسان کے لئے ذرائع علم و عمل ہیں اور ان کے متعلق ہر شخص جواب دہ ہے۔ سورة بنی اسرائیل اور دیگر مقامات پر آتا ہے۔ ” ان السمع والبصر والفواد کل اولئک کان عنہ مسئولا “ بیشک کان ‘ آنکھ اور دل کے بارے میں قیامت کے دن سوال کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہر انسان سے پوچھیں گے ہم نے تمہیں یہ گرانقدار نعمتیں عطا کی تھیں۔ تم نے ان سے کہاں تک فائدہ اٹھایا کان سے نیکی کی باتیں ‘ وعظ و نصیحت اور کلام الٰہی سنا یا فحش گانے اور باجے گانے ہی سنتے رہے تم نے آنکھ سے عجائبات قدرت کا نظارہ کیا ‘ والدین اور بزرگوں کو محبت کی نگاہ سے دیکھا ‘ قرآن پاک کی تلاوت کی یا گندی اور فحش فلمیں دیکھتے رہے ‘ تصویر سازی کا نظارہ کرتے رہے یا نا محرم عورتوں کے تعاقب میں رہے۔ فرمایا دل کے متعلق بھی بازپرس ہوگی کہ اس میں نیکی کو جگہ دی یا برائی کو۔ احکام الٰہی کی تعمیل ‘ غرباء و مساکین کی اعانت اعلائے کلمتہ اللہ کے منصوبے بنتے رہے یا لوٹ مار اور غارت گری ‘ عیاشی اور فحاشی پر مائل ہوتا رہا۔ ان سب باتوں کے متعلق سوال ہوگا۔
آنکھ کی پیچیدہ ساخت
انسانی آنکھ اللہ تعالیٰ کی بیش قیمت نعمت ہے۔ تمام رنگوں کا امتیاز آنکھ ہی کا مرہون منت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آنکھ کے ڈھیلے میں اپنی قدرت کے حیرت انگیز مناظر بند کردیئے ہیں۔ اس ڈھیلے میں رطوبت بھری رہتی ہے پتلی بالکل شفاف ہوتی ہے ‘ جب یہ گدلی ہوجاتی ہے تو موتیا بن جاتا ہے۔ جسے آپریشن کے ذریعے نکالنا پڑتا ہے۔ انسانی جسم کے اس نازک عضو پر بقراط کے زمانہ سے تحقیق ہو رہی ہے اور اب جدید سائنس نے تو اس کے تمام پوشیدہ گوشوں کو بےنقاب کردیا ہے۔ شیشے جیسا نازک اور شفاف ڈھیلہ ایک خول میں بند ہے اس کی حفاظت کے لئے قدرت نے چہرے پر دو گڑھے بنا دیئے ہیں جن کے اندر یہ دونوں ڈھیلے رکھ دیئے گئے ہیں تا کہ کسی بھی بیرونی چوٹ سے محفوظ رہ سکیں۔ سامنے جو سوراخ نظر آتا ہے اس کے پیچھے اللہ تعالیٰ نے حکمت کے عجیب و غریب کارخانے لگا رکھے ہیں۔ سامنے دیوار کے پیچھے اعصاب کا جال بچھا ہوا ہے ۔ آنکھ میں پڑنے والا ہر عکس ڈھیلے کی شفاف رطوبت سے گزر کر اعصاب کے جال سے جا ٹکراتا ہے۔ وہ اس عکس کو مجمع نور تک پہنچاتا ہے۔ یہ مجمع نور آنکھ کے اوپر صلیب نما شکل میں دائیں آنکھ کا بائیں طرف اور بائیں کا دائیں طرف بنا ہوا ہے جب کسی چیز کا عکس مجمع نور تک پہنچتا ہے تو وہ راستے پیچھے کی طرف حس مشترک کی سکرین پر ڈال دیتا ہے ‘ جو اسے قوت عاقلہ کے سامنے پیش کردیتی ہے۔ چناچہ عقل فوراً فیصلہ کرتی ہے کہ یہ رنگ سرخ ہے یا سبز ہے ‘ سفید یا نیلا ہے ‘ آنکھ جیسی قیمتی متاع کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ میں جس شخص کی دو پیاری پیاری آنکھیں لے جائوں ‘ اسے چاہئے کہ صبر کرے اور مجھ سے ثواب طلب کرے ۔ ایسے شخص کو میں جنت تک پہنچائے بغیر کسی چیز پر راضی نہیں ہوں گا۔ ایسے موقع پر صبر لازم ہے ورنہ کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
کان کی عجیب ساخت
انسانی کان کی ساخت بھی خد اتعالیٰ نے اپنی حکمت کے ساتھ نہایت عجیب و غریب بناتی ہے۔ کان کے بیرونی حصہ میں پیچ خم اور چینٹیں رکھ دی ہیں تا کہ باہر کی تیز ہوا کان میں براہ راست داخل ہو کر اس کے نازک نظام سماعت کو خراب نہ کر دے۔ اس کی پیچیدہ ساخت کی وجہ سے ہوا کی لہریں کان کے سوراخ میں گھومتی ہوئی آہستہ آہستہ داخل ہوتی ہیں۔ کان کے اندرونی حصے میں سوراخ کے اختتام پر ایک ڈھول سا بنا ہوا ہے جس کے اوپر ایک تختہ سا ہے۔ باہر سے آنے والی آواز اس تکتے کے ساتھ ٹکراتی ہے۔ تختے کے پیچھے رطوبت سے بھرا ہوا حوض ہے۔ آواز کے ٹکرانے سے رطوبت میں لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ جہاں حوض ختم ہوتا ہے وہاں ہر کان میں اعصاب کے کم و بیش تین ہزار ٹیلیفون ہیں۔ ہر ٹیلیفون اپنی استعداد کے مطابق بولی جانے والی آواز مثلاً نرم ‘ سخت ‘ کرخت ‘ آہستہ ‘ زور دار وغیرہ کو وصول کرتا ہے اور پھر اسے دماغ تک پہنچاتا ہے جو اسے بتاتا ہ کہ یہ کس قسم کی آواز آئی ہے اور پھر دماغ اس آواز کے جواب کے متعلق سوچتا ہے اور کسی فیصلے پر پہنچتا ہے۔
بائر استفادہ
غرضیکہ کان اور آنکھیں اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہیں۔ اسی لئے یہاں پر فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے کان اور آنکھیں واپس لے لے اور تمہارے دلوں پر مہریں لگا کر انہیں بند کر دے ‘ تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو ان کو واپس لاسکے۔ کان اور آنکھ کے ضائع ہونے کے کئی مشاہدات ہوتے رہتے ہیں۔ معمولی سی چوٹ سے ان نازک اعضا میں موجود اللہ کی حکمت کے کارخانے درہم برہم ہوجاتے ہیں اور انسان سماعت یا بینائی سے محروم ہوجاتے ہیں۔
چشم زون میں انسان سماعت کی رنگارنگ چاشنی کھو بیٹھتا ہے یا اس کے لئے دنیا اندھیر ہوجاتی ہے۔ یا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ بظاہر کان اور آنکھ میں کوئی خرابی واقع نہ ہو ‘ اس کے باوجود اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو کوئی شخص ان اعضاء کے استفادہ سے محروم ہو سکتا ہے بعض لوگ پیدائشی طور پر بہرے یا اندھے ہوتے ہیں وہ عمر بھر ان سے فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کو اس کے حکم کے مطابق ہی بروئے کار لانا چاہئے۔ اچھی چیزیں دیکھنی چاہئیں ‘ اچھی باتیں سننی چاہئیں اور اچھے خیالات کو دل میں جگہ دینی چاہئے۔ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر ان عظیم نعمتوں سے کماحقہ ‘ فائدہ نہ اٹھایا تو اللہ تعالیٰ ان کو واپس لینے پر بھی قادر ہے۔
تعلیم کے طریقے
فرمایا انظر دیکھو ! کیف نصرف الایت ہم اپنی نشانیاں کیسے پھیر پھیر کر بیان کرتے ہیں ثم ھم یصدفون پھر بھی یہ لوگ کنارہ کشی اختیار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اپنی وحدانیت کے کبھی عقلی دلائل پیش کئے اور کبھی نقلی کبھی نیکی کی طرف ترغیب دی ہے اور کبھی برائی سے ترہیب کے رنگ میں بات سمجھائی ہے کبھی کوئی بات مثال کے ذریعے بیان کی ہے اور کبھی گزشتہ قوموں کا حال بیان کر کے ڈرایا ہے مختلف انداز سے بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان کسی نہ کسی طریقے سے حقیقت کو پا لے فرمایا ” تلک الامثال نضربھا للناس “ (الحشر) یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے فہم کے لئے بیان کرتے ہیں۔ تاہم سمجھتے وہی لوگ ہیں جو عقل سے کام لیتے ہیں وگرنہ اکثر لوگ اعراض ہی کرتے ہیں تو یہاں پر اللہ تعالیٰ نے عقلی طور پر یہ بات سمجھائی ہے کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے تمہیں کان ‘ آنکھ اور دل جیسی عظیم نعمتیں عطا فرمائی ہیں ‘ لہٰذا ان سے فائدہ اٹھائو اگر خدا تعالیٰ ان کو چھین لے گا تو پھر کوئی واپس لوٹانے والا نہیں ہوگا۔
ظالموں کی ہلاکت
فرمایا قل اے پیغمبر (علیہ السلام) ! آپ ان سے کہہ دیں ارء یتکم ان اتکم عذاب اللہ بغتہ اگر ان کے پاس اللہ کا عذاب اچانک آجائے اور اچانک کا مطلب یہ ہے کہ پہلے سے اس کی کوئی نشانی نہ ظاہر کی گئی یا کوئی تنبیہ نہ آئی ہو ‘ فرمایا یکدم عذاب آجائے۔
او جھرۃ یا کھلے طور پر آئے یعنی عذاب کے آنے کی پہلے سے کوئی علامت ظاہر ہوچکی ہو۔ فرمایا دونوں صورتوں میں یعنی خواہ اللہ کا عذاب اچانک آجائے یا وارننگ دے کر آئے۔ ھل یھلک الا القوم الظلمون تو بتائو ظالموں کے علاوہ کون ہلاک ہوگا۔ مقصد یہ کہ عذاب بہرصورت ظالم لوگوں کے مقدر میں ہی ہوتا ہے وہی اس میں مبتلا ہوتے ہیں۔
بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ مجموعی طور پر عذاب آتا ہے تو اس میں نیک و بد سب گرفتار ہوجاتے ہیں جیسے سیلاب آجائے زلزلہ آجائے ‘ آسمانی بجلی گرے ‘ کوئی مہلک بیماری پھیل جائے تو اس کا نشانہ ہر قسم کے لوگ بن جاتے ہیں۔ اور اس میں اطاعت گزاروں اور نافرمانوں کی تمیز باقی نہیں رہتی حضور ﷺ نے اس اشکال کو اس طرح حل فرمایا ہے۔ ثم یبعثون علی اعمالھم او نیتھم فرمایا برزخ اور آخرت میں سب لوگ اپنے اعمال اور نیت کے مطابق اٹھائے جائیں گے۔ اگرچہ وہ دنیا میں کسی آفت کا شکار ہوچکے ہوں مگر ان کے ساتھ آخرت کا معاملہ ان کے عمل اور نیت کی بنیاد پر طے ہوگا۔ وہاں اچھے لوگ کسی سز ا میں مبتلا نہیں ہوں گے ‘ برخلاف اس کے ابدی عذاب کے مستحق ظالم لوگ ہی ہوں گے۔
قصد رسالت
باقی رہا مکذبین کا یہ مطالبہ ” لو لا نزل علیہ ایتہ من ربہ “ کہ پیغمبر خدا پر ان کی پسند کی نشانی کیوں نہیں نازل ہوتی۔ تو اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا وما نرسل الرسلین ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو الا مبشرین و منذرین مگر بشارت سنانے والے اور ڈرانے والے ‘ مطلب یہ کہ ہمارے انبیاء کی بعثت کا مقصد نشانیاں ظاہر کرنا نہیں بلکہ نیکی کرنے والوں کو خوشخبری سنانا ‘ کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے اجر عظیم تیار رکھا ہے اور نافرمانوں کو ان کی قبیح حرکات سے ڈرانا ہے تاہم جب کبھی اللہ تعالیٰ کی مشیت ہو ‘ وہ کوئی نشانی نبی کے ہاتھ پر ظاہر کردیتا ہے۔ یہ اس کی مصلحت پر موقوف ہے ‘ محض معجزات پیش کرنا نبی کا کام نہیں ہوتا۔ وہ تو اچھائی اور برائی کی تمیز سکھاتا ہے اور پھر اس کے مطابق لوگوں کی تربیت کرتا ہے۔
ایمان اور اصلاح نفس
فرمایا نبی کی تعلیم و تربیت سے فیض یاب ہو کر فمن امن جو شخص ایمان لے آیا۔ اس نے اللہ تعالیٰ کی ذات ‘ اس کی صفات ‘ اس کے انبیائ ‘ کتب اور یوم آخرت کو تسلیم کرلیا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ واصلح اپنے آپ کو سنوار لیا ‘ اپنی اصلاح کرلی ‘ اعمال خیر کو اختیار کرلیا اور اعمال شر سے بچ گیا ‘ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کیا ‘ دوسرے کے حقوق کو پہچان لیا۔ اگر کسی کا حق تلف ہوا ہے تو اس کو ادا کیا یا سعاف کرا لیا ‘ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا فلاخوف علیھم ولا ھم یحزنون نہ تو انہیں اللہ کی طرف سے بازپرس اور گرفت کا خوف ہوگا ‘ اور نہ وہ غمگین ہون گے۔ ظاہر ہے کہ جو شخص ایمان قبول کرنے کے بعد اپنی اصلاح بھی کرلے گا۔ اسے اطمینان حاصل ہوجائے گا اور وہ اپنے سابقہ اعمال پر نادم نہیں ہوگا۔ برخلاف اس کے جو نہ ایمان لایا اور نہ اپنی اصلاح کی اس کے متعلق تو سابقہ آیات میں گزر چکا ہے کہ وہ کہے گا۔ ” یحسرتنا علی مافرطنا “ افسوس میں نے اللہ کی دی ہوئی مہلت سے فائدہ نہ اٹھایا بلکہ الٹا جزائے عمل کو جھٹلاتا رہا اور اس کے ساتھ ٹھٹا کرتا رہا۔ بہرحال فرمایا کہ جو شخص ایمان لایا اور اس نے اصلاح نفس بھی کرلیا اسے نہ تو سابقہ اعمال پر افسوس ہوگا اور نہ مستقبل کی فکر ہوگی۔
مکذبین کے لئے سزا
فرمایا والذین کذبوا بایتنا جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔ آیات میں تکوینی ‘ تنزیلی اور تشریعی تمام آیات شامل ہیں۔ نبی کے ہاتھ پر ظاہر ہونے والے معجزات اور گرد و پیش میں پھیلی ہوئی دیگر نشانیوں کا انکار بھی اسی تکذیب میں آتا ہے۔ تو جس نے ہماری آیتوں خاص طور پر ہماری نازل کردہ آیات کو جھٹلایا یمسھم العذاب یقینا ان کو عذاب چھوٹے گا ‘ وہ سزا کے مستحق ہوں گے بما کانوا یفسقون اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔ اگر نافرمانی عقیدے میں ہو تو انسان کافر اور مشرک ہوجاتا ہے اور اعمال میں خرابی ہے تو وہ بھی فاسق ہے مگر کم درجے کا بہرحال چھوٹے سے چھوٹے اور بڑے سے بڑے گناہ پر فسق کا اطلاق کیا جاتا ہے۔ دراصل فسق کا لغوی معنی اطاعت سے باہر نکل جانا ہے۔ امام بیضاوی (رح) اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ جب کسی پھل وغیرہ کی گٹھلی اس سے باہر آجاتی ہے تو کہتے ہیں فسقت النویٰ اسی طرح جب کوئی شخص ایمان ‘ نیکی اور اطاعت سے باہر نکل جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ یہ شخص فاسق ہوگیا ہے یعنی فسق کا معنی خروج عن الاطاعتہ (اطاعت سے باہر نکل جانا) ہے ۔ تو فرمایا جنہوں نے ہماری آیات کو تکذیب کی وہ اپنے فسق کی وجہ سے عذاب کے مستحق ہوں گے۔