Ayahs 6:128–129ربط آیات
گذشتہ دورس میں یہ بیان آچکا ہے۔ کہ جسے اللہ تعالیٰ راہ راست کی طرف ہدیت دینا چاہتا ہے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جس کو گمراہی میں رکھنا چاہتا ہے اس کے سینے کو تنگ کردیتا ہے اور اس میں ایمان اور اسلام جیسی اعلیٰ چیز داخل نہیں ہو سکتی اور پھر اس شخص کی حالت ایسی ہوجاتی ہے جیسے اس کو آسمان پر چڑھنا پڑے۔ جس طرح کوئی شخص اس مادی جسم کے ساتھ آسمان پر نہیں چڑھ سکتا اسی طرح تنگدل شخص ہدایت کے راستے پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ کفر شرک کرنے والے لوگوں پر اللہ تعالیٰ نجاست ڈال دیتا ہے۔ جو ایمان سے محروم ہوتے ہیں ، ضد اور عناد کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان پر شیطان مسلط کردیتا ہے جو کہ بجائے خود ایک گندگی ہے۔ وہ انسان کے دل و دماغ میں ناپاک خیالات ڈالتا ہے جسکی بناء پر ایسا شخص صراط مستقیم سے مزید دور ہوجاتا ہے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالٰ نے شیطان اور انسان کے باہمی تعلق کو بیان فرمایا ہے۔ جب محاسبے کا وقت آئیگا تو انسان اقرار کریں گے کہ ہم نے شیطان سے اور شیطان نے ہم سے فائدہ اٹھایا۔ اس پر اللہ تعالیٰ جنوں اور انسانوں کو جہنم کی سزا کا حکم سنائیں گے۔
ارشاد ہوتا یوم یحشر ھم جمیعاً اس دن کو دھیان میں لائو جس دن اللہ رب العزت ، پروردگار عالم اور معبود برحق سب کو اکٹھا کریگا۔ اور محاسبے کا عمل شروع کریگا۔ جنات سے خطاب ہوگا۔ یمعشر الجن اے جنات کے گروہ ! قد استکثرتم من الانس تم نے انسانوں میں سے بہت سے لوگ اپنے پیچھے لگا لیے یعنی ان کو گمراہ کردیا ۔ وقال اولیو ھم من الانس اور انسانو میں سے ان کے دوست کہیں گے یعنی اقرار کریں گے کہ بیشک جنوں نے ہم میں سے کثیر تعداد کو بہکا کر راہ راست سے گمراہ کردیا ۔ جس طرح یہاں پر جنات سے خطاب ہے اسی طرح سورة یٰسین میں انسانوں سے بھی اللہ نے خطاب فرمایا ” الم اعھدالیکم یبنی ادم ان لا تعبد والشیطن “ اے بنی آدم ! کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ شیطان کی پرستش نہ کرنا۔ اللہ کے علاوہ کسی بھی غیر کی پرستش شیطان ہی کی پوجا ہے۔ غیر اللہ کی عبادت شیطان ہی کے اغوائ ، اضلال اور وسوسہ اندازی سے ہوتی ہے۔ بہر حال اس آیت میں جنات کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ انسان اور جن دونوں مکلف ہیں اور قیامت کے دن محاسبے کے عمل سے گزریں گے۔ انسانوں کی آبادی سے پہلے اس زمین میں جن آباد تھے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ اسلام کی پیدائش سے دوہزار سال پہلے جن یہاں آباد تھے۔ پھر جب انہوں نے فتنہ و فساد کا بازار گرم کیا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں یہاں سے بھگا دیا اور یہ خوفناک جنگلوں پہاڑوں اور جزیروں کی طرف چلے گئے۔ اس طرح زمین ان سے پاک ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ اسلام کی تخلیق کر کے آپ کی نسل کو چلایا۔ مفسرین کرام یہ بھی فرماتے ہیں ۔ کہ انسانوں کی طرح جنوں میں بھی نیک اور بد ہوتے ہیں۔ بعض کافر ، بعض مشرک ، بعض منافق اور بعض مومن اور مؤحد ہوتے ہیں۔ جس طرح انسانوں میں مختلف فرقے پائے جاتے ہیں اسی طرح جن بھی مختلف فرقوں میں تسیم ہیں۔ بہر حال جن اور انسان اللہ کے قانون کے پابند ہیں۔ اگلے رکوع میں اسکی مزید تفصیل آئیگی۔ فرمایا جس دن اللہ تعالیٰ جنوں اور انسانوں کو اکٹھا کریگا اور جنوں سے فرمائیگا کہ تم نے بہت سے انسانوں کو گمراہ کیا ، تو شیطان کے دوست انسان کہیں گے پروردگار ! تیرا فرمان برحق ہے۔ ہم واقعی شیطان کا اتباع کرتے رہے اور سیدھے راستے سے بہک گئے۔ اور یہ بھی عرض کریں گے ربنا استمتع بعضنا ببعض ہم میں سے بعض نے بعض کے ساتھ فائدہ اٹھایا یعنی جنات انسانوں سے مستفید ہوتے رہے اور انسان جنات سے استفادہ کرتے رہے۔ جنات کا انسان سے فائدہ اٹھانا اس طرح ہے کہ جنات نے انسانوں کے دلوں میں وسوسہ اندازی کر کے ان کو گمراہ کیا۔ جیسا کہ سورة جن میں موجود ہے ” فزادو ھم رھقا “ جب جنات نے دیکھا کہ انسان ان سے ڈتے ہیں ان کی نذر نیاز کرتے ہیں ، ان کی پنا میں آتے ہیں تو ان کے غرور وتکبر اور اکڑ میں اضافہ ہوگیا۔ اور اس طرح انہوں نے انسنوں سے فائدہ اٹھایا۔ انسانوں کے مستفید ہونے کی صورت یہ ہے کہ انہیں شیطان کے بتائے ہوئے عقائد باطلہ میں لطف و سرور حاصل ہونے لگا۔ طرح طرح کی مشرکانہ رسوم سے لطف اندوز ہونے لگے۔ اہل بدعت کو بدعات کے کاموں میں لطف آنے لگا اور وہ ان میں مزید منہمک ہوگئے۔ کسی کو قربانی پر حاضری سے اطمینان قلب حاصل ہوگیا۔ اور کسی کو نذر بغیر اللہ سے کامیابی ہوگئی۔ کسی نے جھنڈیاں لگا کر اور کسی نے جلوس نکال کر اور کسی نے نعرے بازی کر کے اپنے دل کو مطمئن کرلیا۔ اُدھر شیطان بھی خوش ہوگیا کہ اس کا حربہ کامیاب رہا اور لوگ گمراہی کی طرف چل نکلے ہیں ، اس طرح گویا جنوں اور انسانوں نے ایک دوسرے سے استفادہ حاصل کیا جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں ہوا ہے۔
اللہ کے دربار میں انسان بھی اس حقیقت کا اعتراف کریں گے کہ وہ قیامت کے منکر تھے ، توحید کا انکار اور شرک میں مگن رہے مگر ہمارا خیال غلط نکلا ، ہمارا عقیدہ باطل ثابت ہوا وبلغنا اجلنا الذی اجلت لنا اور تو نے ہمارے لیے جو وقت مقرر کر رکھا تھا ہم اس تک پہنچ گئے اور قیامت آگئی۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انس و جن کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جب اس کی موت واقع ہوجاتی ہے اور پھر پوری کائنات کے لیے بحیثیت مجموعی بھی ایک وقت معین ہے جب قیامت برپا ہو جائیگی ۔ تو انسان کہیں گے مولا کریم ! ہم نے اس دن کا انکار کیا ، شیطان کا اتباع کرتے رہے ، اس نے ہم سے اپنی باتیں منوائیں ، ہم کفر اور شرک میں مبتلا رہے ، بد عات کو ہی دین سمجھتے رہے اور اور اصل دین سے غافل ہوگئے اور آکر کار اس وقت تک پہنچ گئے جو تو نے ہمارے لیے مقرر کر رکھا تھا۔
اس اعتراف حقیقت یا اقبالی باین کے بعد اللہ تعالیٰ فرمائیگا قال النار مثو لکم اب جہنم کی آگ تمہارا ٹھکانا ہے۔ انسان ہو یا جن جس نے بھی غرور وتکبر کیا ، شرک ، کفر اور بدعات میں مبتلا رہا ، رسومات باطلہ کے پیچھے لگا رہا ، اللہ کی وحدانیت سے انکار کیا ، اس کا ٹھکانا جہنم کی آغ کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ اور پھر بھی کہ جہنم کی سزا عارضی نہیں ہوگی کہ مدت پوری ہونے پر وہاں سے نکال لیے جائیں گے بلکہ خلدین فھا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اسی میں رہیں گے الا ماشاء اللہ مگر یہ کہ جو اللہ چاہے۔ مشیت الٰہی کی صورت یہ ہے کہ وہ کس کو توبہ کی توفیق دے دے ، حقیقت اس کی سمجھ میں آجائے تو وہ توحید کا اقرار کر کے دروزخ سے بچ جائے۔ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا ایک اور مطلب بھی ہو سکتا ہے۔ قرآن پاک میں مذکور ہے کہ جہنمی جب جہنم میں جلیں گے تو پانی طلب کریں گے۔ پھر ان کو پانی کی طرف لے جایا جائیگا جو کہ کھولتا ہوا ہوگا۔ اگرچہ اس سے دوزخیوں کو کوئی خاص فائدہ تو نہ ہوگا مگر اتنی دیرت آگ میں جلنے سے تو افاقہ رہے گا۔ الا ماشاء اللہ کا یہ بھی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ یہ سزا اپنی مشیت اور ادارے سے دیگا ، وہ چاہے تو کسی سے سزا موقف کر دے۔ وہ تو خود مختار ہے ، وہ سزا دیینے پر مجبور تو نہیں ہے ، لہٰذا جس کی چاہے سزا معاف بھی کرسکتا ہے اعمال انسانی کا طبعی تقاضا تو یہی ہے کہ اسے اعمال کے مطابق سزا یا جرزادی جائے مگر اللہ تعالیٰ اس کے لیے پابند بھی نہیں ، کہ وہ کسی کو ضروری سزا دے یا کسی کو ضرور ہی معاف کر دے۔ اگرچہ اس کا اپنا فیصلہ ہے کہ وہ کسی کافر اور مشرک کو نہیں چھوڑے گا مگر وہ ایسا کرنے پر قادر ہے۔ اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ فرمایا ان ربک حکیم علیم تیرا رب حکیم ہے ، وہ ہر کام اپنی حکمت تامہ کے ساتھ انجام دیتا ہے۔ اس کا سزا اور جزا کا ہر فیصلہ حکمت پر مبنی ہوتا ہے کیونکہ وہ علیم بھی ہے اور کوئی چیز اس کے احاطہ علم سے باہر نہیں۔ اس کا ہر فیصلہ شک و شبہ سے بالا کامل علم پر ہوتا ہے۔
جنوں او انسانوں کے محاسبے کے تذکرے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آخرت میں مختلف لوگوں کی آپس میں رفاقت کا ذکر کیا ہے ۔ جن لوگوں کی سزا کا بیان ہوا ہے ، ان کے متعلق فرمایا وکذلک نولی بعض الظلمین بعضا اور اسی طرح ہم ملا دیں گے ، بعض ظالموں کو بعض کے ساتھ یعنی دوزخ میں جانے والے ایک دوسرے کے ساتھی ہوں گے۔ نولی کے معنی قریب کرنے کے بھی ہوتے ہیں۔ چناچہ حضرت سعید ابن جبیر (رح) ، حضرت قتادہ (رح) اور حضرت عمر فاروق ؓ اور بعض دیگر مفسرین نے اس آیت میں قریب کا معنی ہی لیا ہے۔ اور پورا مطلب اس طرح بیان کیا ہے۔ کہ اس طر ہم بعض ظالموں کو بعض دوسرے ظالموں کے قریب کردیں گے۔ یعنی ان کو ایک دوسرے کی رفاقت حاصل ہوگی۔ سورة تکویر میں آخرت میں تمام لوگوں کے متعلق فرمایا ہے ” وازا النفوس زوجت “ جب ہر قسم کے لوگوں کو ملا دیا جائے گا مفسرین اس سے یہی مراد لیتے ہیں کہ ہر قسم کے لوگوں کی علیحدہ علیحدہ گورہ بنا دیئے جائیں گے۔ حشر کے میدا میں نیکوں کی قطاریں الگ ہوں گی اور بڑوں کی الگ ہونگی۔ پھر یہ بھی ہے کہ اعمال اور جرائم کے اعتبار سے بھی الگ الگ قطاریں ہوں گی ، سب س اچھے اعمال انجام دینے والے اور سو فیصد نمبر حاصل کرنیوالے ایک قطار میں ہوں گے اور اس سے کم نوے نمبر والے اور پھر پچاس نمبر حاصل کرنے والے علیحدہ علیحدہ قطاروں میں کھڑے ہوں گے۔ جس درجے کی کسی نے نیکی یا برائی کی ہے ۔ وہ اسی گروپ میں شامل ہوگا۔ اسی طرح ظالم ظالموں کی ساتھ مل جائیں گے ، شرک کرنے والے مشرکوں کے ساتھ ہوں گے اور توحید پرست مئوحدین کے گروہ میں شامل ہوں گے ، جس طرح دنیا میں
” کند ہم جنس باہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر باز باباز
کامقولہ ہے ، اس طرح آخرت بھی ایک دوسرے کی رفاقت حاصل ہوگی۔ حتیٰ کہ چورچوروں کے ساتھ ہوں گے اور عبادت گزار عبادت گزاروں کے ساتھ ۔ جس طرح دنیا میں لوگ اچھی سوسائٹی کی تلاش میں رہتے ہیں ، اسی طرح آخرت میں بھی ان کو بہتر سوسائٹی نصیب ہوگی اور جو لوگ اس دنا میں بُری سوسائٹی میں رہتے تھے ، آخرت میں بھی انہیں ویسی ہی رفاقت میسر آئیگی۔ وہ سزا کے دوران بھی ایک دوسرے کے قریب ہی ہوں گے اور ایک دوسرے کو دیکھتے ہی ہوں گے۔ آیت کریمہ کا یہ مفہو م بھی قرآن و حدیث سے ثابت ہے۔
تولی کا ایک معنی مسلط کردینا بھی ہے۔ اس کے علاوہ ولایت معنی مد د اور نصرت کے بھی آتا ہے۔ اس سے حکومت اور سلطنت بھی مراد ہوتا ہے اسی لیے متولی وہ ہوتا ہے جو نگرنای اور حفاظت کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ اگر نولی کا معنی مسلط کردینا لیا جائے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ ہم بعض ظالموں کو بعض پر مسلط کردیتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو لوگ ایمان نہیں لاتے توحید کی بجائے شرک کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور قرآن پاک سے اعراض کرتے ہیں ان کی گردنوں پر شیطان مسلط ہوجاتا ہے ، ان کا ساتھی بن جاتا ہے اور پھر ان کو گمراہ کر کے چھوڑتا ہے۔
سورۃ زخرف میں ارشاد ہوتا ہے ” ومن یعش عن ذکر الرحمن نقیض لہ شیطنا فھو لہ قرین “ جو شخص قرآن سے اعراض کرتا ہے اس کی گردن پر شیطان مسلط ہوجاتا ہے۔ اور اس کا ساتھی بن جاتا ہے اللہ کے دین سے منہ موڑنے والے ظالم ہیں اور ان پر شیطان ظالم کو مسلط کردیا جاتا ہے ۔ بما کانو ایکسبون یہ اس وجہ سے کہ جو کچھ وہ عمل کرتے ہیں اور کماتے ہیں۔ اس تسلط سے ایک دوسرا عام فہم معنی بھی لیا جاسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے قانون کے مطابق ایک ظالم پر دوسرے بڑے ظالم کو مسلط کردیتا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کما تکونون یومی علیکم اوکذلک یولی علیکم یعنی اے لوگو ! جس طرح کے تم خود ہو گے اسی طرح کے تم پر حاکم مقرر کردیئے جائیں گے۔ اگر تم اچھے عادات و خصائل کے مالک ہو ، اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرتے ہو ۔ نیکی کا حکم کرتے ہو اور برائی سے روکتے ہو تو تمہارے حاکم بھی رحم دل اور خدمت کا جذبہ رکھنے والے ہوں گے۔ اور اگر تم ظلم وجود کے عادی ہوں گے ، کمزوروں پر ظلم کر دے گے ، غریبوں کی حق تلفی کرو گے تو اللہ تعالیٰ تم پر حاکم بھی ایسے مسلط کر دیگا جو تمہیں ظلم کا نشانہ بنائیں گے اور تمہیں ذلیل و خوار کر کے رکھ دیں گے۔ ایک دوسری حدیث میں ؤتا ہے من اعان ظالما سلط اللہ علیہ ظالما جو شخص ظالم کی اعانت کریگا ، اللہ اُ پر ایک بڑا ظالم مسلط کر دیگا جو اسے ذلیل کریگا۔ دنیاں میں جہاں کہیں لوگوں میں ظلم و ستم کا دور دورہ ہو ، ان پر حاکم بھی ایسے ہی مسلط ہوتے ہیں جو انکی سرکوبی کرتے رہیں۔ اور یہ سب کچھ ان کی اپنی کمائی کا بدلہ ہوتا ہے۔ جو سلوک وہ اپنے سے کم ترلوگوں کے ساتھ کرتے ہیں۔ وہی سلوک ان کے ساتھ بھی کیا جاتا ہے۔ جب کوئی قوم عدل و انصاف کی بجائے ظلم کو پسند کرتی ہے تو خدا تعالیٰ ان پر کسی ظالم کو ہی مسلط کردیتا ہے تو بہر حال اسی طرح ہم بعض کو بعض پر مسلط کردیتے ہیں اور انسانوں پر شیطانوں کا مسلط ہونا انسانوں کے اپنے اعمال کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اصل میں یہ بیان تو کفر و شرک اور شیطان کے تسلط کا تھا تاہم اس کا اطلاق ایک انسان کا دوسرے انسان پر بھی ہوتا ہے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا قانون ہے ۔ کہ وہ ایک ظال کو دوسرے ظالم کے ذریعے دفع کردیتا ہے اور پھر یہ بھی بیان ہوگیا کہ جس طرح دنیا میں ایک طرح کی سوجھ بوجھ کے آدمی ایک گروہ میں شامل ہوتے ہیں ۔ اسی طرح آخرت میں ہر شخص اپنے اپنے اعمال اور عقیدے کے مطابق اپنے اپنے گروہ میں شامل ہوگا۔
Ayahs 6:130–135گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے جنوں اور انسانوں کے ملف ہونے کا ذکر کیا اور قیامت کو جزائے عمل کا حال بیان کیا۔ اور اس سلسلے میں قیامت میں پیش آنے والے سوال و جواب کا تذکرہ کیا۔ قرآن کریم میں ایسے واقعات سے مشرکوں اور کافروں کی تنبیہ مراد ہے تاکہ اگر وہ بچنا چاہیں تو بچ سکیں۔ گذشتہ آیات میں جنوں سے خطاب تھا کہ سب کو اکٹھا کر کے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم نے بہت سے لوگوں کو گمراہ کر کے اپنے ساتھ ملالیا ہے ، تو انسان بھی اس کے جواب میں کہیں گے کہ ہم میں سے بعض نے بعض سے فائدہ اٹھایا۔ جنات نے اپنی سیادت قائم رکھی اور اپنی بات انسانوں سے منوائی جب کہ انسان نے باطل عقائد اور باطل اعمال پر خوشی کا اظہار کیا اور انہی سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ پھر جب وہ اپنی مدت تک پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا ، اب تمہارا ٹھکانا جہنم میں ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ ظالموں کو ایک دوسرے کے قریب کر دے گا۔ اور جو لوگ اس دنیا میں ظلم وتعدی کرتے ہیں ان کی سرکوبی کے لیے اللہ تعالیٰ دوسرے ظالموں کو ان پر مسلط کردیتا ہے۔
جب قیامت کا دن آئے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا یمعشر الجن والانس اے جنوں اور انسانوں کے گروہ الم یاتکم رسل منکم کیا نہیں آئے تھے تمہارے پاس رسول تم میں سے یقصون علیکم ایتہی جو تم پر میری آیتیں بیان کرت تھے وینذر ونکم لقاء یو مکم ھذا اور اس دن کی ملاقات سے تمہیں ڈراتے تھے اللہ تعالیٰ کا یہ خطاب جنات اور انسانوں دونوں گروہوں سے ہوگا کیونکہ دونوں ہیں اللہ تعالیٰ کے احکام کے پابند یعنی مکلف ہیں۔ اللہ فرمائیگا کیا میرے رسولوں نے تمہیں نہیں بتایا کہ ایک دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش ہونا ہے اور وہاں پر اعمال کی باز پُرس بھی ہوگی۔ اس کے جواب میں تمام جن اور انسان کہیں گے قالو شھد نا علی انفسنا ہم اپنے نفسوں پر گواہی دیتے ہیں ، کہ اے مولا کریم ! بلا شبہ تیرے رسول ہماریپ اس آئے۔ انہوں نے ہمیں سمجھایا ، تبلیغ کی ، مگر ہم ہی قصور وار ہیں کہ ہم نے ان کی باتوں پر دھیان نہ دیا جسکی وجہ سے آج مجرموں کے کٹہرے میں کھڑے ہیں۔
مفسرین کرام اس بارے میں اختلاف رکھتے ہیں کہ جنات کے پاس بھی اللہ کے رسول آئے ہیں انہیں۔ انسانوں میں رسولوں کی آمد تو یقینی ہے کہ حجرت آدم علیہ اسلام سے لے کر حضور خاتم النبیین ﷺ تک ہزاروں انبیاء اور رسل اللہ نے بھیجے۔ ان پر کتابیں اور صحیفے بھی نازل فرمائے ، بعض کو مستقل شریعت دی اور بعض کو مستقل کتاب و شریعت عطا نہیں کی۔ البتہ جنات کے بارے میں بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں پر منکم کی ضمیر اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جنوں میں بھی رسول آتے رہے ہیں۔ بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ جنات میں رسول نہیں آتے رہے بلکہ صرف منذر آتے رہے ہیں جو ان کو آخرت کے انجام سے ڈراتے تھے اور خبر دار کرتے تھے۔ اور یہ انسانی دور سے قبل کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ ملائکہ کے توسط سے جنوں کی طرف اپنے منذر بھیجتا رہا۔ مگر مستقل رسول نہیں بھیجے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ اسلام کے واقعہ میں زکر فرمایا ہے کہ آپ ایک مقام پر نماز میں تلاوت قرآن پاک کر رہے تھے تو وہاں جنات کا ایک گروہ آیا ، انہوں نے قرآن سُنا اور ایمان لائے ” ولوا الی قومھم منذرین “ (احقاف) پھر وہ اپنی قم کی طرف منذر یعنی ڈرانے والے بن کر گئے۔ انہوں نے جو کچھ سنا تھا ، اپنی قوم جنات میں اس کی تبلیغ کی۔
بعض مفسرین یہ بھی فرماتے ہیں کہ جنوں میں بھی رول آتے رہے ہیں ، ان کا استدلال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا وما کنا معذبین حتی نبعث رسولا “ (بنی اسرائیل) ہم کسی قوم کو اس وقت تک سزا نہیں دیتے۔ جب تک ان میں رسول نہ بھیج لیں۔ جنات کے لیے یہی اصول ہے لہٰذا اگر جنات میں بھی رسول آئے ہوں تو یہ بعید از قیاس نہیں ہے۔ البتہ یہ ہے کہ انسانی دور سے پہلے جنات میں رسولوں کا آنا زیادہ قرین قیاس ہے اس کے بعد مستقل رسول نہیں آئے۔ اب جنات انسانوں کے تابع ہیں۔ ان میں بھی کافر ، مشرک اور مومن ہیں۔ جس طرح انسانوں میں مختلف فرقے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی پائے جاتے ہیں۔
تفسیر مظہری مولانا قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) کی دس جلدوں میں مشہور تفسیر ہے جو کہ آپ نے اپنے پیر و مرشد خواجہ مظہر جان جانان شہید (رح) کے نام پر منسوب کی۔ آپ عالم گیر (رح) کے خالہ زاد بھائی اور اپنے زمانے کے بڑے بزرگ اور اولیاء اللہ میں سے تے ، آپ کو شیعوں نے شہید کیا تھا۔ تو حضرت پانی پتی (رح) فرماتے ہیں۔ کہ ہندومت میں نبوت و رسالت کا کوئی تصور نہیں ، البتہ ان کا نظریہ یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے دنیا کو پیدا کیا تو چار آدمیوں کو منتخب کر کے ان کو چار کتابیں عطا کردیں۔ یہ کتابیں رہتی دنیا تک لوگوں کے لیے کار آمد رہیں گی۔ ان کتابوں کے علاوہ کوئی اور کتاب نہیں آئیگی۔ یہ کتابیں ان کے چار مشہور وید ہیں مگر انکی صحیح تاریخ معلوم نہیں ہوسکی کہ یہ کب نازل ہوئیں ، بعض ان کا نزول ہزاروں سال پہلے بتاتے ہیں اور بعض اس مدت کو لاکھوں سال پر محمول کرتے ہیں۔ قاضی ثناء اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ یہ چار کتابیں جنات کے صحیفے ہوں جو انسانی دور سے پہلے جنات کی طرف نازل کیے گئے اور جنات کے ذریعے یہ انسانوں تک بھی پہنچے۔ فرماتے ہیں کہ بعض انسان جنوں کے ساتھ نسل میں بھی وابستہ ہیں۔ بعض جنیوں کا نکاح انسانوں کے ساتھ ہوا ، ان سے اولاد بھی پیدا ہوئی اور اس طرح یہ چار کتابیں جنوں سے انسانوں تک پہنچیں۔ یہ محض خیال ہے ، اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ بہر حال ان کتابوں میں جو باتیں قرآن و سنت کے مطابق ہیں۔ وہ قابل قبول ہیں ، اور جو قرآن و سنت سے مطابقت نہیں رکھتیں ، انہیں شیطانی عمل دخل سمجھا جائے گا۔ تو رات و انجیل کے متعلق بھی یہی نظریہ ہے۔ قاضی صاحب نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ ہو سکتا ہے ایسی بات ہوتا ہم یقین کے ساتھ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
جب لوگ اپنے گنہگار ہونے کا اقرار کریں گے تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے وغرتھم الحیۃ الدنیا اُن ک دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا انکار کیا ، قیامت کا انکار کیا۔ غلط کاروں کے پیچھے چلتے رہے۔ سچے لوگوں کی بات کو تسلیم نہ کیا ، ایمان سے محروم رہے ، دنیا کی ظاہری شان و شوکت میں محور رہے اور اسی کو اول و آکر سمجھ لیا ، چناچہ زندگی کے انہی لوازمات نے انہیں دھوکے میں ڈال دیا۔ اکثر لوگ اسی طرح دنیا کے دھوکے میں آتے رہے ہیں حالانکہ انبیاء علیہ اسلام انہیں بار بار تنبیہ کرتے رہے ہیں۔ لاتغرنکم الحیۃ الدنیا (فاطر) دیکھنا تمہیں دنیا کی زندگی کہیں د ھوکے میں نہ ڈال دے۔ بہر حال اللہ رب العزت کے دربار میں لوگ اپنی غلطی کا اعتراف کریں گے وشھدواعلی انفسھم اور اپنے خلاف جو گواہی دیں گے انھم کانو ا کفرین کہ بیشک وہ کفر کیا کرتے تھے۔ انبیاء کی تعلیم کا انکار کیا ، دنیا کی لذت و شہوات میں مگن رہے وار احکم الحاکمین کے حکم کی پروانہ کی۔
حشر کا دن بہت لمبا دن ہوگا اور اس میں مختلف قسم کے مواقع آئیں گے بعض مواقع ایسے بھی آئیں گے کہ جب کفار و مشرکین سے باز پرس ہوگی کہ تم نے ایسا کام کیوں کیا تو وہ انکار کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔ مگر بعض مواقع پر اپنے جرموں کا صاف طور پر اقرار بھی کریں گے اور عرض کریں گے کہ باری تعالیٰ اگر ہمیں ایک دفعہ دنیا میں واپس بھیج دیا جائے تو ہم تیرے فرمانبردار بندے بن کر رہیں گے اور کوئی غلط کام نہیں کریں گے مگر اللہ فرمائیگا کہ اب کسی کو موقع نہیں دیا جائے گا۔ اس آیت میں جس بات کی طرف اشارہ ہے۔ اس میں بھی مجرم لوگ اپنے جرم کا اعتراف کریں گے کہ بیشک وہ دنیاں میں کفر ہی کرتے رہے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ قانون ہے کہ پہلے و ہ انسان کی راہنمائی کے لئے پورے وسائل مہیا کرتا ہے ، انبیاء کو معبوث فرماتا ہے ، کتاب اور شریعت نازل فرماتا ہے اور پھر اس پر ایمان لانے اور عمل کر نیکی مہلت دیتا ہے اس کے بعد اگر کوئی قوم اس کے احکام کی خلاف ورزی کرتی ہے تو پھر وہ ان کو سزا میں مبتلا کرتا ہے۔ اس مقام پر بھی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” ذلک ان لم یکن ربک مھلک القری بظلم واھلھا غفلون “ تیرا پروردگار بستیوں کے رہنے والوں کو ظلم کے ساتھ تو ہلاک نہیں کرتا جب کہ وہ غافل ہوں۔ مقصد یہ کہ اللہ تعالیٰ کسی قوم کو بلا اطلاع اور پہلے سے تنبیہ کیے بغیر سزا میں مبتلا نہیں کرتا۔ پہلے وہ تبلیغ و انذا کے تمام تقاضے پورے کرتا ہے ۔ رسولوں کو بھیجتا ہے ، مبلغین خبردار کرتے ہیں ل اس کے باوجود اگر وہ راہ راست پر نہیں آتے تو پھر ان کو ہلاکت میں ڈال دیتا ہے۔
فرمایا ولکل درجت مما عملو ہر شخص کے اعمال کے مطابق اس کا درجہ ہے۔ عمل جتنا اچھا اور زیادہ ہوگا ، اسی کے مطابق اعلیٰ سے اعلیٰ جزأ ملے گی۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ جنت کے سو درجات ہیں اور ان میں سے ہر درجہ دوسرے درجے سے اتنا بلند ہے جتنا زمین سے آسمان بلند ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان اور اعمال صالحہ اختیار کرنیوالوں کو اعلیٰ درجات عطا کرتا ہے اس کے برخلاف جس شخص کا جتنا بڑا جرم ہوگا۔ اس کو اسی کے مطابق کم یا زیادہ سزا دی جائیگی۔ اسی لیے فرمایا کہ ہر ایک کے لیے اس کے اعمال کے مطابق درجات ہیں۔ وما ربک بغافل عما یعملون اور آپ کا رب غافل نہیں ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ ہر ایک کے اعمال سے خوب واقف ہے اور ان اعمال کے مطابق ہی جزا یا سزا کے درجات مقرر کریگا ۔ فرمایا انبیاء کی بعث ار کتب کے نزول کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہاری عبادت و ریاضت کا محتاج ہے وربک الغنی بلکہ تیرا رب تو بےنیاز ہے ، اسے کسی کی عبادت کی ضرورت نہیں ، کوئی نیکی کرتا ہے یا نہیں اللہ تعالیٰ اس سے بےپروا ہے۔ وہ تو ذوالرحمۃ رحمت والا ہے وہ اپنی رحمت اور مہربانی سے انسانوں کی راہنمائی کے لیے اپنے رسول بھیجتا ہے اور کتابیں نازل فرماتا ہے تاکہ لوگ ہدایت کے راستے پر گامزن ہو کر اپنے نفع اور نقصان کو پہنچا لیں اور نقصان سے بچ جائیں۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہے کہ اس نے انسانوں کی ہدایت کا سامان مہیا کردیا ہے وگرنہ وہ کسی کی نیکی کا محتاج نہیں ہے ، نہ ہی کسی کی برائی کرنے سے اس پر کوئی اثر پڑتا ہے۔ وہ تو بےنیاز ہے۔
فرمایا ان یشا یذھبکم اگر وہ چاہے تو تم کو لے جئے یعنی تمہیں اس دنیا سے نابود کر دے ویستخلف من م بعد کم مایشاء اور تمہارے بعد تمہاری جگہ جس کو چاہے قائم کر دے۔ اور یہ اسی طرح ممکن ہے کما انشا کم من ذریۃ قوم اخرین جس طرح تمہیں پہلی قوم کی اولاد سے پیدا کیا۔ دیکھو ! تمہارے آبائو اجداد جن کی تم اولاد ہو ، اب اس زمین پر موجود نہیں ہیں۔ ان کا دور ختم ہوچکا ہے اور اب تمہارا دور ہے تمہارے بعد تمہاری اولادوں کا زمانہ آئے گا۔ حضور علیہ اسلام نے اس دنیا سے رخصت ہونے سے ایک ماہ قبل فرمایا تھا کہ آج کے دن روئے زمین پر جتنے انسان ہیں سو سال بعد ان میں سے کوئی نہیں رہیگا ، یہ قرن ختم ہو کر دوسر ا قرن آجائے گا۔ فرمایا یادرکھو ! انما تو عد و ن لات جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ، یعنی قیامت اور جزائے عمل کا تو وہ آنے والی ہے۔ اگر تم نافرمانی اور سرکشی اختیار کرو گے وما انتم بمعجزین تو تم عاجز نہیں کرسکتے یعنی خدا تعالیٰ کی تدبیر کو ناکام نہیں بنا سکتے۔ اور نہ ہی محاسبے کے عمل سے بچ سکتے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ فرمایا ہے وہ بالکل برحق ہے اور ہو کر رہیگا۔
فرمایا۔ قل اے پیغمبر ! آپ واضع طور پر فرما دیں یقوم اعملواعلی مکا نکم اے میر قوم کے لوگو ! جو کچھ تم نے کرنا ہے اپنی جگہ پر کرتے چلے جائو انی عامل میں بھی عمل کررہا ہوں مطلب یہ ہے کہ اگر تم ایمان کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے اپنی من مانی کارروائی ہی کرنا چاہتے ہو تو کرتے رہو۔ تم اپنی مرضی اور طریقے کے مطابق چلو اور میں اس راستے پر چل رہا ہوں جس پر مجھے اللہ تعالیٰ نے چلایا ہے۔ ہمارے اور تمہارے راستے جدا جدا ہیں۔ مگر فسوف تعلمون تمہیں عنقریب پتہ چل جائے گا ۔ من تکون لہ عاقبۃ الدار کہ آخرت کا گھر کس کے حصے میں آتا ہے۔ یہ دنیا کی زندگی تو عارضی اور قلیل ہے مگر آخرت کا گھر دائمی ہے۔ آخرت کی بہتر ہی اصل کامیابی ہے بس موت آنے کی دیر ہے ، پھر پتہ چل جائے گا کہ تمہارا انجام اچھا ہے یا ہمارا انجام۔ اہل ایمان کا میاب ہونگے یا کفر اور شرک کرنے والے۔
فرمایا اصول کے طور پر بات یادرکھ لو انہ لا یفلح الظلمون ظلم کرنے والے کبھی فلاح نہیں پاتے۔ ظلم میں پہلے نمبر پر کفر اور شرک ہے جس نے ان جرائم کا ارتکاب کیا وہ سب سے بڑا ظالم ہے اس کے بعد بدعات ، اعمال سسیہ ، حقوق اللہ اور حقوق العباد کا اتلاف سب ظلم کی تعریف میں آتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کا یہ واضع قانون ہے کہ ظلم کرنے والے کبھی کامیابی سے ہم کنار نہیں ہونگے۔ انبیا علہم السلام کا بھی یہی اصول رہا ہے سورة یوسف میں موجود ہے ، جب اس عورت نے حضرت یوسف علیہ اسلام کو برائی پر آمادہ کرنا چاہا اور دروازے بند کرلیے تو یوسف علیہ اسلام نے یہی کہا تھا کہ میں ایسا ظلم نہیں کرسکتا ، کیو ن کہ انہ لا یفلح الظلمون اللہ تعالیٰ ظالموں کو کبھی فلاح نصیب نہیں کرتا بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ محاسبے کی منزل آنیوالی ہے پھر تمہیں معلوم ہوجائیگا کہ جس قیادت کا تم انکار کرتے رہے اور اس کے متعلق شہبات کا اظہار کرتے رہے وہ آکررہی۔
Ayahs 6:136–137گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کا رد اور قیامت کے محاسبے کا ذکر فرمایا تھا اور یہ کہ جنوں اور انسانوں سے باز پُرس ہوگی اور انہیں جواب دینا پڑے گا۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ اچھا انجام ایمان اور نیک اعمال پر منحصر ہوتا ہے ، اور ظالم لوگ کبھی فلاح نہیں پا سکتے ۔ چونکہ ظلم میں سر فہرست کفر اور شرک ہے ، اس لیے اللہ نے اس سورة مبارک میں کفر و شرک کی خاص طور پر تردید فرمائی ہے گذشتہ درس میں اعتقدی شرک کی تردید کی گئی تھی اور اب اس درس میں عملی شرک کی مذمت بیان کی گئی ہے زمانہ جاہلیت میں مشرکوں نے بہت سے شرکیہ اعمال و عقائد وضع کرلیے تھے جن پر وہ عمل پیرا تھے ان میں سے بعض رسمات جاہلیت کی تردید کی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وجعلو اللہ اور ٹھہرایا ہے ان مشرکین نے اللہ کے لیے مما ذرا من الحرچ والا انعام اس میں سے جس کو اللہ نے پیدا کیا ہے کھیتی اور مویشیوں میں سے ۔ نصیبا ایک حصہ کھیتی بھی اللہ کی پیدا کی ہوئی ہے اور مویشی بھی اس نے پیدا کیے ہیں۔ تخلیق صرف اللہ جل جلالا ، کا کام ہے۔ اناج ، پھل ، سبزیاں ، ہر قسم کے نبا تات پیدا کرنے والی وہی ذات ہے امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انسانی معاشز اور اتفاق کی یہ صورت عام ہے اور اللہ نے اس کی مثالیں قرآن پاک میں بکثر ت بیان فرمائی ہیں۔ مثلا ” و انزلنا من السماء مائ “ اور ہم نے آسمان سے پانی نازل فرمایاّ (مومنون) سورة عبس میں ہے ” انا صبینا السماء صبا ثم شققناالارض شقاہ فانبتنا فیھا حبا و عنبا وقضبا وزیتونا ونخلا وحدائق غلبا “ وفاکھۃ وابا “ ہم نے کس طرح آسمان سے پانی بہایا پھر زمین کو ہم نے پھاڑا ، پھر ہم نے اس میں اناج اگایا ، اور انگور اور تر کاریاں اور زیتون اور کھجوریں ، گھنے باغ اور میوے اور چارا پیدا کیا۔ یہ سب چیزیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں۔ اور آگے اسی سورة میں انعام یعنی مویشیوں کا ذکر بھی آگیا کہ وہ بھی اللہ نے پیدا فرمائے ہیں۔ فرمایا اللہ کی پیدا کردہ ان اشیاء میں سے مشرک لوگ ایک حصہ اللہ کے لیے ٹھہراتے ہیں یعنی اس کی نیاز کے طور پر الگ کرتے ہیں فقا لوا اور زبان سے یہ کہتے ہیں ھذا اللہ بزعمھم یہ حصہ اللہ کے لیے ہے۔ یہاں پر لفظ بزعمھم خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے خیال سے ایسا کہتے ہیں یہ اللہ کا حصہ ہے۔ کسی حکم خداوندی یا باقاعدے قانون کی رو سے نہیں بلکہ محض اپنے پروہتوں اور کاہنوں کے بنائے ہوئے تخیل کی بنا پر اللہ کا حصہ الگ کرتے ہیں اور اللہ کی نیاز اس لیے نکالتے تھے کہ مشرک لوگ بھی اللہ تعالیٰ ہی کو بڑا مانتے تھے۔ تاہم وہ مخلوق میں سے بھی بض کو معبود مانتے تھے کہ یہ خدائے برحق کی ماتحت ہوتے ہوئے یہ بھی ہماری حاجت رائی اور مشکل کشائی کرتے ہیں۔ اور اسی مقام پر آکر شرک کی دلدل میں پھنس جاتے ہیں جس سے نکلنا محال ہوجاتا ہے۔ بہر حال اپنی کھیتی اور مویشیوں کی پیداوار میں سے اور دوسرے حصے کے متعلق کہتے وحذ الشرکا ئِنا یہ ہمارے شریکوں یعنی دوسرے معبودوں کا حصہ ہے۔ اور ان شرکاء میں کسی کا لات تھا اور کسی کا مناۃ ، کسی کا سبل تھا اور کسی کا غریٰ تھا۔ ہر مشرک اپنے معبود باطل کی نیاز کا حصہ علیحدہ کرتا تھا۔ غرضیکہ مشرکین اللہ کی نیاز بھی دیتے تھے اور شرکاء کی نیاز بھی مگر وہ لوگ اللہ کی نیاز کی نسبت غیر اللہ کی نیاز کا زیادہ خیال رکھتے تھے۔ اور اس کے لیے زیادہ اہتمام کرتے تھے اور پھر اس نیاز کی تقسیم اس طرح تھی کہ جو حصہ اللہ تعالٰ کی نیاز کا ہوتا تھا ، وہ غریبوں مسکینوں اور محتاجوں میں تقسیم کردیتے تھے اور جو حصہ غیر اللہ کا ہوتا تھا وہ ان بتوں اور استھانوں پر موجود کاہنوں اور پروہتوں کے سپرد کردیتے تھے۔
انعام سے مراد وہ جانور ہیں جنہیں عام طور پر لوگ پالتے ہیں اور وہ انسانوں سے مانوس ہوتے ہیں۔ یہ آٹھ جوڑے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے حلال فرمائے ہیں ۔ یعنی اونٹ ، گائے ، بھیڑ ، بکری ، یہ تمام جانور نر اور مادہ ہر دو حلال ہیں۔ بھینس بھی گائے ہی کی ایک قسم ہے تاہم یہ مرطوب جگہوں پر پائی جاتی ہے۔ عرب چونکہ خشک خطہ ہے ، اس لیے وہاں بھینس نہیں ہوتی اور باقی جانور پائے جاتے ہیں۔ یہ مویشی اللہ نے خاص طور پر انسان کی خدمت کے لیے پیدا فرمائے ہیں لوگ ان کا دودھ ، گوشت ، گھی ، کھال اور اون استعمال کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ خاص انعام ہے کہ اپس نے انہیں انسان کا مطیع بنا دیا ہے بڑے طاقتور ہونے کے باوجود یہ انسان کے اشارے پر چلتے ہیں اور انہیں ہر قسم کی خدمت مہیا کرتے ہیں۔ ان جانوروں کو خوراک کے طور پر استعمال کرنے کے علاوہ اونٹ سے سواری اور بار برداری کا کام لیا جاتا ہے عرب کے خشک اور وسیع ریگستانوں میں اونٹ ہی سواری اور باربرداری کا کام دیتا ہے۔ اس کے علاوہ میدانی علاقوں میں اونٹ ہی سواری اور باربرادری کا کام دیتا ہے۔ اس کے علاوہ میدانی علاقوں میں اونٹ اور بھینس سے کھیتی باڑی کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ ان کے ذریعے کنویں سے پانی نکالا جاتا ہے اور ہل میں بھی جو تتے ہیں۔ غرضیکہ یہ جانور انسان کے قریبی دوست اور اعلیٰ قسوم کے خدام ہیں۔ اللہ نے انہیں انسانوں کے لیے مسخر کردیا ہے۔ ان کے دلوں میں یہ ڈال دیا ہے کہ تمہیں ہر صورت می انسان کی خدمت کرنا ہے سو اونٹ کی قطار ہو تو ایک دس سال کا بچہ نکیل پکڑ کر سب کو اپنے پیچھے چلا لیتا ہے۔ وگرنہ جنگلی جانور بڑے خطرناک ہوتے ہیں اور ایک ہی وار میں آدمی کا کام تمام کردیتے ہیں۔ جنگلی جانوروں کے شکار کے لیے انسان کو بڑی محنت کرنی پڑتی ہے۔ جب جا کر وہ قابو میں آتے ہیں اور پھر انہیں باندھ کر یا پنجرے میں بند کرکے رکھنا پڑتا ہے ۔ مگر یہ انعام ایسے جانور ہیں جو اللہ نے انسان کی محض خدمت کے لیے مامور کردیئے ہیں۔
بہر حال مشرکین عرب اپنی پیدا وار میں سے اللہ کا حصہ بھی نکالتے تھے اور شرکاء کا حصہ بھی۔ البتہ وہ شرکاء کے حصے کو اللہ کے حصے کی نسبت زیادہ اہمیت دیتے تھے اور اس کا زیادہ خیال رکھتے تھے۔ ارشاد ہے فما کان لشرکاء ھم فلا یصل الی اللہ جو حصہ ان کے معبودوں کا ہوتا تھا ، وہ اللہ کی طرف نہیں پہنچتا تھا۔ وما کان للہ فھو یصل الیٰ شرکاء ھم اور جو حصہ اللہ کا ہوتا تھا وہ اگر ان کے معبودوں کی طرف پہنچ جاتا تو کہتے کوئی بات نہٰں۔ اللہ کو کس چیز کی کمی ہے۔ وہ غنی ہے ۔ برخلاف اس کے معبود ان باطلہ کے حصہ میں سے اگر ایک دانہ بھی دوسری طرف چلاجاتا تو فورا واپس کردیتے۔ اس طرح وہ غیر اللہ کے حصے کو اللہ کے حصے کی نسبت زیادہ اہمیت دیتے ۔ یہاں بھی وہ حماقت کا اظہار کرتے تھے جب وہ اپنے معبودوں کو بےنیاز نہیں سمجھتے تھے ، تو پھر ان کے نام کی نیاز کیوں دیتے تھے نیاز تو صرف اس کو سزا وار ہے جو بےنیاز ہے۔ ادھر اللہ کو بےنیاز سمجھتے ہیں مگر اس کو اہمیت نہیں دیتے ۔ فرمایا ساء ما یحکمون کتنا برا فیصلہ جو وہ کرتے ہیں۔ وہ رب العزت جس نے کھیتی اگائی اور مویشی پیدا کیے اس کی نیاز کو کچھ اہمیت نہیں دیتیھ اور معبودان باطلہ جو عاجز اور مھتاج ہیں ان کے لیے بہت زیادہ اہتمام کرتے ہیں۔ آج بھی رسومات کے پجاری پرانے مشرکین کے نقش قد پر ہی چل رہے ہیں نماز اور زکوٰۃ کی تو چنداں فکر نہیں ہوتی مگر پیران پیر کی گیارہویں کے لیے بڑا اہتمام کرتے ہیں کہ کہیں وہ نہ رہ جائے۔ ہر سال عرس کے لیے فکر مند رہتے ہیں۔ عید میلاد کے لیے جھنڈیاں اور بلب لگانے کے لئے سار ا سال پیسے جمع کرتے ہیں۔ امام جعفر (رح) کو نڈے خاص شرائط کے تحت بھرے جاتے ہیں کہ گھر سے باہر نہیں نکالنا ، چھت کے نیچے ہو اور پھر طلوع آفتاب سے پہلے پہلے کام ختم ہوجانا چاہئے ، مزاروں پر چادریں چڑھانے اور عرس منانے کے لیے بڑی تگ و دود ہوتی ہے۔ بڑے بڑے پروگرام بنتے ہیں ، خوب سجاوٹ ہوتی ہے۔ قبروں کو عرق گلاب سے غسل دیا جاتا ہے۔ سونے کا دروازہ لگایا جاتا ہے۔ آخر یہ سب کچھ کس حکم خداوندی کے تحت کیا جاتا ہے ؟ افسوس کا مقام ہے کہ اب حکومت بھی ایسی بدعات میں شامل ہوگئی ہے۔ عرس کا افتتاح اور رسم چادر پوشی کسی وزیر یا مشیر سے کرائی جاتی ہے قیمتی چادریں زیب قبر کی جاتی ہیں۔ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری (رح) نے ساری عمر اپنے لیے جھونپڑی تک بنانا پسندنہ کیا مگر آج ہماری حکومت دو لاکھ روپے مالیت کی چادر ان کی قبر پر چڑھانے کے لیے سینکڑوں افراد پر مشتمل سرکاری وفد کے ذریعے بھتیجی ہے۔ کیا دین اور اسلام کا یہی کام رہ گیا ہے ؟ آخر وہ فرائض واجبات ، سنن اور مستحبات کہاں گئے جن کو ان بزرگوں نے زندگی بھر سینے سے لائے رکھا۔ آج ہم سب کچھ بھول کر ان کی محبت میں بدعات کو رواج دے رہے ہیں اور پھر ان سے محبت کے دعوے بھی کر رہے ہیں۔ بہر حال اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے ، کہ وہ لوگ اللہ کے حصے یعنی اس کے احکام کی تو کچھ پروا نہیں رکتے تھے۔ مگر غیر اللہ کی نیاز کا بڑا اہتمام کرتے تھے وہ بھی خودساختہ بدعات کے عاشق اور احکام الٰہی سے روگردان تھے۔
ہمارے ہاں فوتیدگی کی رسومات کا بھی یہی حال ہے۔ شریعت کے احکام کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی ، بدعات کی بھرمار ہے۔ تیسرا ، ساتواں اور چالیسواں بڑے اہتمام سے ادا کیا جاتا ہے۔ برادری اکٹھی ہوتی ہے اور مرنے والے کا مال کا خوب اڑایا جاتا ہے پوچھو تو کہیں گے کہ ایصال ثواب ہو رہا ہے اللہ کے بندو ! اگر میت کے ساتھ واقعی ہمدردی ہے اور ایصال ثوابمطلوب ہے تو وہی طریقہ اختیار کرو جو اللہ کے رسول نے بتایا ہے ۔ اس کے لیے کسی دن اور تاریخ کی قید نہیں۔ حلا مال سے غریبوں اور محتاجوں کو کھانا کھلائو۔ کپڑے پہنائو ان کی دوسری حاجت براری کرو تو مرنے والے کو بھی فائدہ ہوگا۔ محض رسم کی شکل میں صرف رشتے داروں اور دوستوں کو کھلا دینے سے کتنا ثواب ہوگا ؟ ان بدعات کی ترویج اور رسومات باطلہ کو اختیار کرنے سے ثواب کی بجائے گناہ کا زیادہ احتمال ہے۔
اہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ مشرک لوگ اپنے مویشیوں کے بچوں میں سے معبود ان باطلہ نیاز نکالتے تھے۔ انہوں نے تعداد مقر ر کر رکھی تھی کہ جس مادہ کے اتنے بچے پیدا ہوجائیں گے تو ان میں سے ایک بچہ بتوں کے نام پر قربان کردیا جائے گا۔ انہیں قربانی کا محتاج بھی سمجھتے تھے اور پھر ان سے مدد کے طالب بھی ہوتے تھے ، کتنی جہالت کی بات ہے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کی اسی غلط تقسیم کا رد فرمایا ہے۔ مشرکین ایک اور حماقت یہ بھی کرتے تھے کہ معبودان باطلہ کے نام پر اچھی چیز وقف کرتے تھے جب کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر کم تو چیز پر اکتفا کرلیتے تھے ان کے اس عملی شرک کا بیان آگے بھی اسی سورة میں آئے گا۔
فرمایا وکذلک زین لکثیرمن المشرکین قتل اولادھم شرکا ئوھم اسی طرح ان کے شرکاء نے بہت سے مشرکین کے لیے ان کی اولادوں کے قتل کو مزین کر رکھتا تھا ۔ یہاں یہاں پر شرکاء سے مراد وہ پروہت کا ہن اور مولوی ہیں جو انسانی بچوں کی قربانی کو ان کے سامنے بڑا خوبصورت بنا کر پیش کرتے تھے۔ انہیں بتا تے تھے کہ بتوں کے نام پر بچوں کو قربان کرنے کا کتنا بڑا فائدہ حاصل ہوگا ، اور وہ جاہل لوگ ان کا کہا مان کر اپنے بچوں جیسی غریز متاع کو معبودان باطلہ کے نامر پر قربان کردیتے تھے۔ گرمایا ان کے پروہتوں کا مقصدیہ ہوتا تھا لیردوھم تاکہ وہ اپنے پیرو کاروں کو ہلاک کرسکیں انہیں پھیلنے پھولنے کا موقع نہ مل سکے اور وہ اس طرح ان کے دست نگر بن کر رہیں۔ اور دوسری وجہ یہ تھی ولیلبسوا علیھم دینھم اور تاکہ ان پر ان کی دین کو متلبس کردیں ، یعنی دین کے معاملات کو اس قدرخلط ملط کردیا جائے کہ انہیں حق و باطل کی پہچان ہی نہ ہو سکے اور وہ لوگ اس طرح اندھیرے میں بھٹکتے رہیں اور ہر معاملہ میں انہی کے محتاج بن کر رہیں۔ قتل اولاد کی کئی صورتیں قرآن پاک میں مذکور ہیں۔ مشرکین عرب اور بعض دوسری قومیں بھی بچی کو پیدا ہوتے ہی قتل کردیتی تھی لڑکی کی پیدائش کو وہ باعث ننگ تصور کرتے تھے کہ بڑی ہوگی تو اس کا نکاح کرنا پڑے گا ، پھر ہمارا داماد بنے گا وغیرہ وغیرہ ، وہ ظالم نہیں سمجھتے تھے۔ کہ آخر وہ بھی تو کسی ماں ہی کے بطن سے پیدا ہوئے ہیں اور کسی کے داماد بنے ہیں۔ اگر بچیوں کو زندہ نہ چھوڑا ہوتا تو خود وہ کیسے پیدا ہوتے اور آئندہ نسل انسانی کیسے بڑھے گی ۔ اس کے علاوہ وہ اقتصادی مسئلہ کا سہارا بھی لیتے تھے کہ بچی جو ان ہو جائیگی تو اس کی شادی کے لیے جہیز کہاں سے لائیں گے۔ اگر خرچ کریں گے تو مال میں کمی آجائیگی۔ وہ بچوں کی پیدائش کو اپنے آرام و راحت میں مخل بھی سمجھتے تھے۔ مطلقا قتل اولاد اسی فلسفے پر مبنی تھا۔ کہ اولاد ہوگی تو ان کی پرورش کا کیا بندوبست ہوگا ۔ ان کے لوازمات زندگی کے حصول کے لیے سخت محنت کرنی پڑیگی ، لہٰذا ان کا ابتداء میں ہی خاتمہ کردیا جاتا۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا نسل کشی کا ایک طریقہ بچوں کی قربانی بھی تھا۔ بتوں کو خوش کرنے کے لیے بچوں کو ان کی بھینٹ چڑھایا جاتا تھا۔ شیطان نے یہ سبق پڑھا دیا تھا۔ کہ آخر حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے بھی تو اپنے لخت جگر کو قربانی کے لیے پیش کردیا تھا۔ لہٰذا یہ بہت بڑا عمل اور فوز و فلاح کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔ اس قسم کا زعم ہندوستان کے ہندوئوں میں بھی پایا جاتا تھا۔ کلکتے والی کالی دیوی کے نام پر انسانی بچوں کو قربان کیا جاتا تھا۔ ہزاروں لاکھوں بچے اس بہت کی بھینٹ چڑھ گئے۔ مثال کے طور پر جس شخص کے دس بچے پیدا ہوجاتے وہ ایک بچے کو بت کے نام پر قتل کردیتا یا پانی میں غرق کردیتا اور اسے بہت بڑی عبادت سمجھتا تھا۔ اس زمانے میں بھی اس قسم کے اکاد کا واقعات پیش آتے ہیں کہ کسی شخص نے کہا کہ مجھے خواب آیا ہے کہ بچے کو قربان کر دوں اور پھر اس نے ایسا کردیا۔ فرمایا کہ ان کے نام نہاد متبوع ان کو پٹی پڑھاتے ہیں کہ ایسا کرنے میں بہت بڑا فائدہ ہے۔ لہٰذا سادہ لوگ ان کے جھانسے میں آکر گزرتے ہیں۔ یہ نہایت قبیح اور ظالمانہ عقیدہ ہے ۔ ایسا کرنے والے اللہ کے ہاں صریح قتل ناحق کے مجرم ہیں۔ ان کا بچہ بھی ضائع ہوجاتا ہے اور وہ اخلاقی طور پر بھی تباہ ہوجاتے ہیں۔ اگلی آیات میں اللہ نے اس مسئلہ کی مزید وضاحت فرمائی ہے۔
رسومات باطلہ کی ترویج کے لیے وسیع پراپیگنڈا کیا جاتا ہے جھوٹی کہانیاں سنا کر لوگوں کو شرک ، کفر اور بدعات پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ لالچی پیر اور مولوی لوگوں کو باطل رسومات میں الجھائے رکھتے ہیں تاکہ صحیح دین ان تک نہ پہنچ سکے کیو ن کہ اگر صحیح بات واضح ہو جائیگی تو باطل کے اندھیرے چھٹ جائیں گے جاء الحق وزھق الباطل ایک مسلمہ اصول ہے۔ جب حق آجاتا ہے تو باطل اس کے مقابلے میں قدم نہیں جما سکتا۔ لہٰذا پیٹ پرست دین کے ٹھیکیدار لوگوں کو غلط باتیں مزین کر کے دکھاتے ہیں ، انہیں اپنے مکرو فریب کے جال میں پھنسائے رکھتے ہیں۔ اور دین کو خلط مط کر کے پیش کرتے ہیں۔ اللہ تعالٰ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو تسلی دی ہے اور فرمایا ہے ولو شاء اللہ مافعلوہ اگر اللہ چاہتا تو وہ ایسا نہ کرتے ۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ برائی اور مکروفریب کی قوت ہی سب کرسکتا ہے مگر یہ بات اس کی حکمت کے خلاف ہے وہ ہر شخص کے سامنے حق و باطل کے راستے واضح کر کے انہیں ان کی اپنی صوابدید پر چھوڑ دیتا ہے اور کسی پر جبر نہیں کرتا کیونکہ اسے جبری ایمان قبول نہیں ہے۔
فرمایا اے پیغمبر ! ﷺ فذرھم وما یفترون آپ ان کو بھی چھوڑدیں اور جو کچھ یہ افتراء کرتے ہیں اس کو بھی چھوڑدیں۔ آپ ا ن کی اسلام دشمنی اور بےدینی کی وجہ سے زیادہ فکر مند نہ ہوں۔ جو کچھ غلط عقائد رکھتے ہیں اور باطل رسومات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ انہیں من مانی کرنے دیں۔ ایک وقت آنے والا ہے جب ان کا محاسبہ ہوگا اور پھر یہ خود اپنے جرموں کا اقرار کریں گے ، اس وقت ہم خود ان سے نپٹ لیں گے ، آپ دل برداشتہ نہ ہوں۔