6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 6:91–92

وَ مَا قَدَرُوا اللّٰهَ حَقَّ قَدْرِهٖۤ اِذْ قَالُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ عَلٰى بَشَرٍ مِّنْ شَیْءٍ١ؕ قُلْ مَنْ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ الَّذِیْ جَآءَ بِهٖ مُوْسٰى نُوْرًا وَّ هُدًى لِّلنَّاسِ تَجْعَلُوْنَهٗ قَرَاطِیْسَ تُبْدُوْنَهَا وَ تُخْفُوْنَ كَثِیْرًا١ۚ وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ١ؕ قُلِ اللّٰهُ١ۙ ثُمَّ ذَرْهُمْ فِیْ خَوْضِهِمْ یَلْعَبُوْنَ Open ayah 6:91 in the Quran reader

اور نہیں قدر کیا ان لوگوں نے اللہ کا جیسا کہ اس کا حق ہے قدر کرنے کا ‘ جب کہ انہوں نے کہا اللہ تعالیٰ نے انسان پر کوئی چیز نہیں اتاری۔ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے ‘ کس نے اتاری ہے وہ کتاب جس کو لائے تھے موسیٰ (علیہ السلام) جس میں نور اور ہدایت تھی لوگوں کے لئے تم اس کو ورق ورق کرتے ہو۔ تم اس کے کچھ حصہ کو ظاہر کرتے ہو اور چھپاتے ہو بہت سا حصہ اور تم کو سکھلائی گئی وہ چیز جو تم نہیں جانتے تھے اور نہ تمہارے آبائو اجداد ۔ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے کہ اللہ ہی نے اتاری ہے وہ کتاب پھر چھوڑ دیں آپ ان کو ‘ انے باطل خیالات ہی میں وہ کھیلتے رہیں گے۔

وَ هٰذَا كِتٰبٌ اَنْزَلْنٰهُ مُبٰرَكٌ مُّصَدِّقُ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْهِ وَ لِتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا١ؕ وَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ یُؤْمِنُوْنَ بِهٖ وَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ یُحَافِظُوْنَ Open ayah 6:92 in the Quran reader

اور یہ کتاب (قرآن) جس کو ہم نے نازل کیا ہے۔ برکت والی ہے اور تصدیق کرنیوالی ہے اس چیز کو جو اس سے پہلے ہے۔ اور تا کہ آپ ڈرا دیں ‘ امام القریٰ والوں کو اور اس کے اردگرد والوں کو اور وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں آخرت پر ‘ وہ ایمان لاتے ہیں اس کتاب پر وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے رد میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دلیل کا ذکر کیا اور بطور احسان فرمایا کہ ہم نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دلیل سمجھا دی ان کی قوم کے مقابلے میں۔ پھر اللہ نے آپ کی اور آپ کی اولاد کی فضیلت کا تذکرہ کیا۔ بہت سے انبیاء کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ یہ سب ہدایت یافتہ لوگ تھے۔ اللہ نے ابراہیم (علیہ السلام) کے اسلاف میں سے حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر بھی کیا اور پھر آپ کے آبائو اجداد اور بھائیوں میں سے اللہ کے منتخب بندوں کا ذکر کیا جنہیں ہدایت سے نوازا گیا۔ فرمایا اگر یہ لوگ بھی شرک کے مرتکب ہوتے تو ان کے اعمال بھی ضائع ہوجاتے۔ شرک ایسا کبیرہ گناہ ہے جسے اللہ تعالیٰ بغیر توبہ کئے معاف نہیں کرتا۔ اگر موت سے پہلے پہلے کوئی شخص تائب نہیں ہوا تو پھر اس کی بخشش کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔ گزشتہ آیات میں اٹھارہ انبیاء کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا کہ ہم نے انہیں کتاب ‘ حکم اور نبوت عطا فرمائی اور اگ رم کے والے ان کا انکار کرتے ہیں تو کوئی بات نہین ‘ ہم ان کی جگہ دوسرے لوگوں کو کھڑا کردیں گے جو ان پر ایمان والے ہوں گے۔ چناچہ اللہ نے ہر دور میں ایسا ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو بھی فرمایا کہ آپ بھی اللہ کے ہدایت یافتہ انبیاء کے نقش قدم پر چلیں۔ جس طرح وہ توحید کی دعوت دیتے رہے ‘ آپ بھی ایسا ہی کریں۔ نیز آپ ان کے سامنے یہ بھی اعلان کردیں کہ میں دین کی بات تم کو خیر خواہی کے جذبے سے پہنچا رہا ہوں مگر میں تم سے اس تبلیغ کا کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ گزشتہ درس میں انبیاء کا نام لے کر تذکرہ کرنے کے بعد اب اس رکوع میں رسالت کا ذکر ہے۔ یہاں پر حضور خاتم النبین ﷺ کی رسالت و نبوت کا خصوصی تذکرہ ہے۔ اس سے پہلے توحید کا ذکر اور شرک کی تردید کا بیان ہے اور پھر ایمان ہی کے سلسلے میں رسالت کا تذکرہ ہے۔ شان نزول ان آیات کی شان نزول میں دو اقوال ہیں۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ یہ آیات یہود کے حق میں نازل ہوئیں کیونکہ یہاں پر موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہونے والی تورات کا ذکر ہے اور وہ قرآن حکیم کو اللہ کی کتاب تسلیم نہیں کرتے تھے۔ چناچہ اس ضمن میں ایک یہودی عالم ملک ابن صیف یا فخاص ابن عازوا کا نام لیا جاتا ہے کہ وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ‘ آپ سے گفتگو کی تو حضور ﷺ نے اسے لا جواب کردیا اس کا دعویٰ تھا کہ اللہ نے نہ کوئی رسول بھیجا ہے اور نہ کوئی کتاب۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں یہ آیات نازل فرمائیں کہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی کماحقہ ‘ قدر با تعظیم نہیں کی۔ بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں۔ کہ یہودیوں اور حضور ﷺ کے درمیان مباحثے مدنی زندگی میں شروع ہوئے تھے جب کہ یہ سورة مکی دور میں نازل ہوئی تھی لہٰذا یہودیوں کے حق میں ان آیات کا نزول خارج از بحث ہے۔ اس کے برخلاف حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ یہ آیات قریش مکہ کے بارے میں نازل ہوئیں وہ بھی حضور ﷺ کی رسالت کے منکر تھے اور کہتے تھے کہ انسان رسول نہیں ہو سکتا۔ اسی سورة کے پہلے رکوع میں گزر چکا ہے ” وقالوا لو لا انزل علیہ ملک “ یعنی ان کے پاس کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیجا گیا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے آیات زیر درس میں ان مشرکوں کا ہی رد فرمایا ہے۔ ان آیات کے روئے سخن کے متعلق ایک تیسری توجیہہ بھی بیان کی جاتی ہے اور وہ یہ ہے کہ مشرکین چونکہ عام طور پر علم سے بےبہرہ تھے ‘ اس لئے وہ حضور ﷺ سے بحث مباحثہ کرنے سے پہلے یہودیوں کو اہل علم سمجھ کر ان سے مشورہ کرلیا کرتے تھے۔ چناچہ مشرکین نے اسلام اور پیغمبر اسلام پر جتنی اعتراضات کئے وہ سب یہودیوں سے پوچھ کر کئے۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ آتا ہے۔ یسئلونک یعنی اے پیغمبر ! یہ لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں۔ تو سوال کرنے والے بظاہر تو مشرکین مکہ ہوتے تھے مگر درپردہ وہ یہودیوں سے سیکھ کر اعتراض کرتے تھے۔ تو اس لحاظ سے ان آیات کے مخاطبین مشرکین اور یہودی دونوں گروہ ہو سکتے ہیں تاہم حضرت ابن عباس ؓ کی رائے یادہ قوی ہے کہ یہ مشرکین کو خطاب ہے۔ جہاں تک یہود و نصاریٰ کا تعلق ہے ‘ وہ مشرکین کے برخلاف سلسلہ نبوت کے تو قائل تھے کیونکہ وہ حضرات موسیٰ اور ہارون (علیہا السلام) اور دیگر انبیاء کو مانتے تھے مگر حضور ﷺ کی رسالت کا انکار کرتے تھے۔ خاص طور پر یہودی تو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی اللہ کا نبی نہیں مانتے تھے بلکہ نعوذ باللہ آپ کو دجال کہتے تھے۔ انہوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو قتل کرنے کی سازش بھی کی اسی طرح انہوں نے حضور خاتم النبیین کی رسالت کا بھی انکار کیا۔ عیسائیوں کا بھی یہی حال تھا وہ پہلے انبیاء کو تو مانتے تھے مگر آخری نبوت حضرت محمد ﷺ کا انکار کرتے تھے۔ لہٰذا یہ بھی کافر ٹھہرے۔ ان دونوں گروہوں کے علی الرغم مشرکین مکہ سلسلہ نبوت ہی کے منکر تھے ‘ لہٰذا ان آیات کا مصداق زیادہ تر وہی ہیں۔ انکار وحی و رسالت ارشاد ہوتا ہے وما قدروا اللہ حق قدرہ اور ان لوگوں نے اللہ کی ایسی قدر نہیں کی جیسا اس کا حق تھا۔ بعض قدر کا معنی عزت کرتے ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی کماحقہ عزت نہیں کی ‘ اجلال نہیں کیا۔ اور قدر کا معنی پہچان بھی کرسکتے ہیں کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کو پہچانا ہی نہیں جیسا کہ اس کے پہچاننے کا حق تھا۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے پہچانا تو سہی مگر غلط طریقے سے۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی ٹھیک طور سے معرفت نہیں ہوگی۔ ایمان صحیح نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح مشرکین بھی خدا تعالیٰ کا تصور تو رکھتے تھے مگر وہ بھی لط طریقے سے ‘ صحیح معرفت وہی ہے جو اللہ کے انبیاء نے بیان کی ہے کہ خدا تعالیٰ وحدہ لا سریک اور ہر عیب سے پاک ہی ‘ اس کے اسماء پاک اور صفات برحق ہیں۔ صحیح طریقے پر ایمان لانا ہی اللہ کی قدر کرنا ہے۔ فرمایا کہ ناقدری کا سبب یہ ہے اذقالوا ما انزل اللہ علی بشر من شئی وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان پر کوئی چیز نہیں اتاری ‘ گویا وحی الٰہی کا سرے سے انکار کردیا۔ یہودیوں کے انکار کی وجہ تو واضح ہے کہ وہ محض ضد اور عناد کی وجہ سے انکار کرتے تھے وہ سمجھتے تھے کہ اگر ہم نے حضور ﷺ کی لائی کتاب کو تسلیم کرلیا تو لا مہالہ آپ کو نبی بھی تسلیم کرنا پڑے گا اور یہی چیز ان کے مفادات کے اخلاف جاتی تھی ‘ لہٰذا انہوں نے دونوں چیزوں کا انکار ہی کردیا۔ باقی رہے مشرکین عرب ‘ تو وہ کسی انسان کو رسول ماننے کے لئے قطعاً تیار نہیں تھے۔ ان کی توجیہات قرآن پاک نے مختلف مقامات پر بیان کی ہیں۔ مثلاً وہ کہتے تھے مال ھذا الرسول یا کل الطعام و یمشی فی الاسواق (الفرقان) یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ہم ایسے شخص کو اللہ کا رسول ماننے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اسی لئے وہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان کو نہ رسول بنایا ہے اور نہ اس پر وحی کتاب ‘ شریعت یا احکام نازل کئے ہیں اور یہی چیز واضح کرتی ہے کہ فی الحقیقت انہوں نے اللہ کو پہچانا ہی نہیں ہے انبیاء کی بعثت اللہ تعالیٰ کی رحمت کی علامت ہے۔ اس نے مخلوق پر اپنی رحمت اور مہربانی کی کہ ان کی ہدایت کے لئے پے درپے نبی اور رسول بھیجے۔ انسان کو پیدا کیا ‘ اسے عقل و فہم اور قوائے ظاہرہ و باطنہ سے نوازا اور پھر اس کو بالکل مہمل نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس کی ہدایت کے لئے رسول بھی بھیجے ۔ رسول مبعوث کرنا۔ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ جو رسولوں کا انکار کرتا ہے ‘ وہ اللہ کی صفت ‘ اس کی قدرت ‘ رئوفیت اور مہربانی کا انکار کرتا ہے۔ ایسا انسان خدا تعالیٰ کو کیسے پہچان سکتا ہے اور اس کی قدر کیسے کرسکتا ہے ؟ حضرت امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ جو شخص یہ کہے کہ اللہ نے کوئی رسول نہیں بھیجا ‘ وہ کافر ہے کیونکہ اس نے اللہ کی صفت کا انکار کیا ہے۔ اسی طرح جو شخص جزائے عمل کا منکر ہے ‘ وہ بھی کافر ہے۔ قیامت کے دن محاسبہ کرنا بھی اللہ کی ایک صفت ہے اور جیسا کہ پہلے عرض کیا ‘ کسی ایک صفت کا انکار بھی کفر کے مترادف ہے اللہ تعالیٰ نے تو واضح طور پر ارشاد فرمایا ہے۔ ” ومانرسل المرسلین الا مبشرین و منذرین “ (کہف) ہم رسولوں کو انداز وتبشیر کے لئے دنیا میں بھیجتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ سلسلہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت خاتم النبین ﷺ تک برابر جاری رکھا اس نے قران پاک کی شکل میں جامع پروگرام نازل فرما کر رہتی دنیا تک کے لئے ہدایت کا سامان کردیا۔ مقصد یہ ہے کہ انبیاء کی بعثت اور وحی کا نزول اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے ‘ لہٰذا جو شخص ان کا انکار کرتا ہے ‘ اس نے اللہ تعالیٰ کو پہچانا ہی نہیں اور نہ اس کی کماحقہ قدردانی کی ہے۔ نزول تورات کی مثال غرضیکہ جب منکرین نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے کسی انسان پر کوئی چیز نہیں اتاری ‘ تو اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے من انزل الکتب الذی جاء بہ موسیٰ بھلا یہ تو بتائو کہ جو کتاب موسیٰ (علیہ السلام) لے کر آئے ‘ وہ کس نے اتاری تھی۔ کیا موسیٰ (علیہ السلام) انسان نہیں تھے ؟ کیا وہ خدا کے رسول نہ تھے ؟ اور کیا ان پر تورات نازل نہیں ہوئی تھی ؟ جب ان سب سوالوں کا جواب مثبت میں ہے تو پھر تم حضور خاتم النبیین کی نبوت و رسالت اور آپ پر نازل ہونے والی کتاب قرآن پاک کا کس منہ سے انکار کرتے ہو۔ یہاں پر تورات کی مثال پیش کر کے اللہ تعالیٰ نے یہودیوں اور مشرکین دونوں گروہوں کے منہ بند کردیئے ہیں۔ یہودی تو خود موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا رسول اور ان کی لائی ہوئی تورات پر ایمان رکھتے تھے۔ مگر مشرکین بھی یہودیوں کے متعلق خوب جانتے تھے کہ ان لوگوں کا پیغمبر کون ہے اور یہ اپنی نسبت کس آسمانی کتاب کی طرف کرتے ہیں۔ پھر جس کتاب کو موسیٰ (علیہ السلام) لائے تھے نور وہ تو نور ہدایت تھی قرآن میں انجیل کے متعلق بھی نور کا لفظ آیا ہے۔ فرمایا ‘ وہ کتاب تو لوگوں کے لئے واضح روشنی تھی وھدی للناس اور ہدایت بھی لوگوں کے لئے۔ کہیں بصائر للناس کے الفاظ بھی آتے ہیں۔ یعنی تم کتب سماویہ لوگوں کی راہنمائی کے لئے بصیرت ہیں۔ اور روشنی سے مراد محض ظاہری روشنی نہیں بلکہ ایسی باطنی روشنی مراد ہے جس سے جہالت کی تمام تاریکیاں دور ہو کر دل و دماغ میں ایمان کی روشنی پیدا ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ کی کتابوں کے ذریعے انسانوں پر علم کے دروازے کھلتے ہیں اور ان کو حقائق معلوم ہوتے ہیں۔ قرآن پاک علم اور عمل دونوں کو اصلاح کرتا ہے مگر یہودیوں نے ان دونوں چیزوں کو برباد کرلیا۔ ان کے پاس نہ حقیقی علم رہا اور نہ عمل۔ یہی حال عیسائیوں کا ہے اسی لئے اللہ نے عیسائیوں کو ضال اور یہودیوں کو مغضوب علیہم کے القاب دیئے ہیں۔ انہوں نے اللہ کی کتابوں میں تحریف کر کے علم و عمل دونوں کو بگاڑ دیا اور اپنی کتابوں کے نور اور ہدایت سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا۔ علم و عمل میں خیانت رافضیوں نے بھی اسی طرح کی ہے جس طرح یہود و نصاریٰ نے مسلم شریف کے مقدمہ میں آتا ہے کہ رافضیوں نے حضرت علی ؓ کے بارے میں بہت سی غلط باتیں منسوب کردی ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک بزرگ فرماتے ہیں فاتلھم اللہ تعالیٰ ان کو تباہ و برباد کرے ‘ حضرت علی ؓ کو اللہ نے کیسا اعلیٰ علم عطا کیا تھا ‘ ان کے فیصلے کتنے اچھے تھے ‘ ان کے پاس ہدایت کی روشنی تھی ‘ مگر ان لوگوں نے اسے بگاڑ کر رکھ دیا۔ اس میں غلط باتوں کی ملاوٹ کر کے انہیں حضرت علی ؓ کی طرف منسوب کیا اور اس طرح غلطیوں کا ایک طومار بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کردیا۔ چناچہ موجودہ فقہ جعفریہ کی یہی حقیقت ہے۔ اگرچہ اس میں صحیح باتیں بھی ہیں۔ مگر جھوٹ اور کذب بیانی بھی بہت زیادہ ہے ‘ مقصد یہ کہ علم کے بگاڑ میں اہل کتاب اور رافضی ایک جیسے ہیں۔ ہدایت کی ضرورت فرمایا اللہ کی کتاب تو وہ نور ہدایت ہے جو دل میں بصیرت پیدا کرتی ہے اور زندگی کے ہر موڑ پر انسان کی راہنمائی کرتی ہے۔ اس دنیا میں انسان کو جس چیز کی ب سے زیادہ ضرورت ہے ‘ وہ ہدایت ہی ‘ اسی لئے ہم ہر نماز میں کئی کئی بار رب العزت سے درخواست کرتے ہیں۔ ” اھدنا الصراط المستقیم “ ہمیں سیدھے راستے کی طرف راہنمائی فرمانا تا کہ ہم بھٹک کر اپنے علم ‘ اعتقاد ‘ عمل اور اخلاق کو خراب نہ کر بیٹھیں۔ اور پھر یہ بھی عرض کرتے ہیں کہ ” صراط الذین انعمت علیھم “ ہمیں اپنے انعام یافتہ لوگوں کے راستے پر چلا یہ نمونہ بھی پیش کرتے ہیں ‘ اللہ کی کتاب میں تو لوگوں کے لئے واضح ہدایت ہے مگر تمہارا حال یہ ہے تجعلونہ قراطیس کہ تم اسے ورق ورق کرتے ہو۔ قرطاس کاغذ کو کہتے ہیں ‘ یعنی تم نے اس کتاب کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا ہے اور پھر کرتے یہ ہو کہ تبدونھا اس کے بعض حصے کو ظاہر کرتے ہو ‘ جو چیزیں تمہاری خواہش کے مطابق ہوتی ہیں ان کو تو لوگوں کے سامنے پیش کردیتے اور اس طرح اپنی سیادت کو تحفظ دینے کی کوشش کرتے ہو ‘ اور جو چیزیں تمہاری خواہشات نفسانیہ کی خلاف ہوتی ہیں۔ و تخفونھا کثیرا ان کو چھپا دیتے ہو۔ یہاں پر کثیرا کا لفظ لا کر واضح کردیا کہ کتاب الٰہی کے بیشتر حصے کو چھپا دیتے ہو اور تھوڑے حصے کو ظاہر کرتے ہو۔ یہود ونصاریٰ یہی کچھ کرتے تھے۔ جن آیات سے حضور خاتم النبیین کی تصدیق ہوتی تھی ان کو چھپا جاتے تھے حالانکہ یعرفونہ کما یعرفون ابناء ھم وہ آپ کو اسی طرح پہچانتے تھے جس طرح اپنی اولادوں کو پہچانتے تھے مگر جان بوجھ کر انکار کردیتے تھے۔ جس کی وجہ خود قرآن پاک کے بیان کے مطابق حسدا من عندانفسھم تھی وہ حسد ‘ بغض ‘ عناد اور اپنے مالی مفادات کی خاطر حضور ﷺ کو نبی تسلیم نہیں کرتے تھے۔ بہرحال فرمایا کہ اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات نازل فرمائی جس کے اکثر حصے کو یہودی چھپا جاتے تھے۔ اللہ نے فرمایا کہ اس تورات کے ذریعے تمہیں نور ہدایت عطا کی اور اس کے ساتھ ساتھ وعلمتم مالم تعلموا انتم ولا ابائوکم تمہیں وہ چیزیں بتلائی گئیں جنہیں نہ تم جانتے تھے اور نہ تمہارے آبائو اجداد مثلاً حرمت و علت کے قوانین ‘ جائز اور ناجائز امور وغیرہ اللہ نے اس کتاب کے ذریعے تمہیں سمجھائے وگرنہ تم ان چیزوں سے بالکل بےبہرہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کے ذریعے علم کی روشنی اور ہدایت کی بصیرت عطا فرمائی۔ تو یہ تو بتائو کہ یہ کتاب کس نے نازل کی تھی۔ تم اس بات کا انکار نہیں کرسکتے کہ یہ کتاب اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل فرمائی تھی ‘ تو اللہ کی اس آخری کتاب کا کیسے انکار کرتے ہو ‘ جو اللہ نے اپنے آخری رسول محمد ﷺ پر نازل فرما کر دین کو مکمل کردیا۔ نزول قرآن کی دلیل نزول تورات کے متعلق جب منکرین سے کچھ جواب نہ بن پڑا ‘ تو پھر اللہ نے خود فرمایا قل اللہ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ اسے اللہ ہی نے نازل کیا ہے تورات کا لفظی معنی قانون ہے بنی اسرائیل نے خود حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی قانون لائیں تو اللہ تعالیٰ نے تورات نازل فرمائی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ انسانوں ہی پر وحی نازل فرماتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) انسان تھے اور اللہ کے رسول تھے ‘ جس طرح ان پر تورات نازل ہوئی ‘ اسی طرح حضور خاتم النبین ﷺ پر قرآن پاک نازل ہوا فرمایا اگر اس دلیل کے بعد بھی یہودیوں یا مشرکین پر اس کا اثر نہ ہو اور وہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہیں تو آپ کے لئے حکم یہ ہے ثم ذرھم آپ ان کو اپنی حالت پر چھوڑ دیں فی خوضھم یلعبون وہ اپنے باطل تخلیات میں ہی کھیلتے رہیں گے اور بیہودہ باتیں کرتے رہیں گے ‘ آپ ان کی پرواہ نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ خود ان کی گرفت کرلے گا۔ فرمایا جس طرح اللہ تعالیٰ نے تورات کو نور اور ہدایت بنا کر نازل کیا ‘ اسی طرح و ھذا کتب انزلنہ یہ کتاب یعنی قرآن حکیم کو بھی ہم نے ہی نازل کیا ہے۔ آپ بھی اسی طرح انسان ہیں جس طرح گزشتہ درس میں مذکورہ تمام انبیاء انسان تھے۔ اللہ نے ان کو منصب رسالت و نبوت کے لئے منتخب فرمایا اور پھر حضور ﷺ کا درجہ سب سے بلند فرمایا ‘ تو اس آخری کتاب کو بھی ہم نے نازل کیا ہے ‘ تم کیسے انکار کرسکتے ہو اور کہتے ہو کہ اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نازل نہیں کی۔ یہ تو بڑی برکتوں والی کتاب ہے اور اس سے وہی شخص مستفید ہو سکتا ہے جو اس پر ایمان لائے اور اس کے احکام پر عمل کرے۔ سلف نے ایسا کیا تو اس کی برکات سے نوازے گئے مگر آج ہم ہیں کہ اس سے معرض ہو کر طرح طرح کے مصائب میں مبتلا ہیں۔ فرمایا یہ کتاب مبرک بڑی ہی بابرکت ہے مصدق الذی بین یدیہ اور اپنے سے پہلی کتابوں کی تصدیق کرنے والی ہے لہٰذا تمہارے لئے لازم ہے کہ اس پر ایمان لے آئو اور دنیاو آخرت میں فلاح حاصل کرلو۔ ام القریٰ کے لئے انداز فرمایا قرآن پاک کے نزول کا ایک اہم مقصد یہ ہے ولتنذر ام القریٰ ومن حولھا تا کہ آپ ڈرائیں ام القریٰ والوں کو اس سے گرد و پیش والوں کو۔ ام القریٰ کا لفظی معنی بستیوں کی ماں ہے اور اس کے مراد مکہ مکرمہ ہے ۔ سورة آل عمران میں موجود ہے۔ ” ان اول بیت وضع للناس للذی ببکۃ مبرکا و ھدی للعلمین “ الہ کا سب سے پہلا گھر یعنی عبادت خانہ اسی مکہ مکرمہ میں بنایا گیا جو لوگوں کے لئے باعث برکت اور ہدایت کا ذریعہ ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے بھی مکہ مکرمہ دنیا کے وسط میں واقع ہے۔ امریکہ اس کی بالکل دوسری طرف ہے۔ یہ سرزمین تخلیق کے لحاظ سے بھی کرہ ارض کا مرکز ہے اور پھر اسے مرکز اسلام ہونے کا شرف بھی حاصل ہوا۔ یہ اس کی برکات اور مرکز ہدایت ہونے کا اثر ہے کہ ہر مومن کا دل اس بستی کی طرف راغب رہتا ہے اور اسے وہاں پہنچنے کی تڑپ رہتی ہے۔ وہاں اللہ تعالیٰ کا گھر بیت اللہ شریف ہے جس کی برکات سے کوئی دل خالی نہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مکہ کے ساتھ مدینہ طیبہ کو بھی شرف عطا کیا۔ اسی لئے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ آخری دور میں اسلام ان دو مسجدوں یعنی مسجد الحرام اور مسجد نبوی کے درمیان سمٹ کر رہ جائے گا۔ پھر دجال کے زمانے تک پوری زمین بےدینی سے پر ہوجائے گی ‘ مگر اللہ تعالیٰ اس خطہ کو محفوظ رکھے گا ‘ فرمایا کہ آپ ام القریٰ اور اس کے اردگرد یعنی پورے عالم عرب کو ان کے آخرت کے انجام سے ڈرائیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ چونکہ اس سرزمین کو پوری دنیا کی مرکزیت کا شرف حاصل ہے لہٰذا و من حولھا سے پوری دنیا مراد ہے۔ کہ آپ پوری نوع انسانی تک اللہ کا پیغام پہنچا دیں اور ان کو برے انجام سے ڈرائیں۔ ایمان بالآخرت فرمایا ‘ بات یہ ہے والذین یومنون بالآخرۃ جو لوگ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔ جن کو یقین ہے کہ محاسبے کا ایک دن آنے والا ہے یومنون بہ وہی لوگ اس قرآن عظیم پر بھی ایمان رکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ فلاں و کامیابی کا پروگرام اللہ کی اسی آخری کتاب میں موجود ہے اور اس پر عملدرآمد سے آخرت کے محاسبے میں سرخرو ہو سکتے ہیں برخلاف اس کے جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ‘ وہ قرآن پاک کو بھی نہیں مانتے اور اس کا نتیجہ لازماً ناکامی کی صورت میں نکلے گا۔ البتہ آخرت اور قرآن پاک پر ایمان لانے والے پاکیزہ زندگی بسر کرتے ہیں جس کی ایک علامت یہ ہے وھم علی صلاتھم یحافظون وہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ انہیں ہمیشہ یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ ان کی کوئی نماز ضائع نہ ہوجائے۔ نماز تقرب الٰہی اللہ کا قوی ترین ذریعہ ہے ‘ لہٰذا آخرت اور قرآن پر یقین رکھنے والے لوگ نمازوں کی سختی سے محافظت کرتے ہیں۔
Ayahs 6:93–94

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِیَ اِلَیَّ وَ لَمْ یُوْحَ اِلَیْهِ شَیْءٌ وَّ مَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ تَرٰۤى اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِیْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَاسِطُوْۤا اَیْدِیْهِمْ١ۚ اَخْرِجُوْۤا اَنْفُسَكُمْ١ؕ اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَى اللّٰهِ غَیْرَ الْحَقِّ وَ كُنْتُمْ عَنْ اٰیٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ Open ayah 6:93 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جس نے افتراء باندھا اللہ پر جھوٹ دیا اس نے کہا کہ میری طرف وحی کی گئی ہے ‘ حالانکہ اس کی طرف کوئی چیز وحی نہ کی گئی ہو۔ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جس نے کہا کہ میں اتارتا ہوں اس کی مثل جس کو اللہ نے اتارا ہے اور اے مخاطب اگر آپ دیکھتے جب کہ ظالم موت کی سختیوں میں مبتلا ہوں گے اور فرشتے اپنے ہاتھ ان کی طرف پھیلائے ہوئے ہوں گے اور ان سے کہیں گے نکالو اپنی جانوں کو ‘ آج تمہیں بدلہ دیا جائے گا ذلت کے عذاب کا ‘ اس وجہ سے کہ تم کہتے تھے اللہ پر جھوٹی بات اور تھے تم اس کی آیتوں سے تکبر کرتے

وَ لَقَدْ جِئْتُمُوْنَا فُرَادٰى كَمَا خَلَقْنٰكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ وَّ تَرَكْتُمْ مَّا خَوَّلْنٰكُمْ وَرَآءَ ظُهُوْرِكُمْ١ۚ وَ مَا نَرٰى مَعَكُمْ شُفَعَآءَكُمُ الَّذِیْنَ زَعَمْتُمْ اَنَّهُمْ فِیْكُمْ شُرَكٰٓؤُا١ؕ لَقَدْ تَّقَطَّعَ بَیْنَكُمْ وَ ضَلَّ عَنْكُمْ مَّا كُنْتُمْ تَزْعُمُوْنَ۠ Open ayah 6:94 in the Quran reader

البتہ تحقیق آئے ہو تم ہمارے پاس تنہا جیسا کہ ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور چھوڑ دیا تم نے جو کچھ ہم نے تمہیں دیا تھا پشتوں کے پیچھے اور ہم نہیں دیکھتے تمہارے ساتھ تمہارے وہ سفارشی جن کے متعلق تم گمان کرتے تھے کہ وہ تمہارے شریک ہیں۔ تحقیق منقطع ہوجائے گی وہ بات جو تمہارے درمیان ہے اور گم ہوجائے گی تم سے وہ بات جس کو تم گمان کرتے تھے

ربط آیات پہلے شرک اور مشرکین کا رد ہوا ‘ اور پھر توحید کے اثبات میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان ہوا۔ پھر آپ کے ساتھ دوسرے اٹھارہ انبیاء (علیہم السلام) کا ذکر بھی آیا اور توحید کے راستے کو صراط مستقیم بنایا گیا۔ شرک کی قباحت ہی کے ضمن میں فرمایا کہ اللہ کے یہ مقربین بندے بھی شرک میں ملوث ہوتے تو ان کے اعمال بھی ضائع ہوجاتے۔ پھر اللہ نے ان لوگوں کا بھی رد یا جو کہتے تھے کہ اللہ نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی جانے والی کتاب تورات کی مثال پیش کی اور آخر میں قرآن کریم کا ذکر کیا جس اللہ نے تورات نازل کی تھی اس نے قرآن پاک نازل فرمایا ہے جو کہ بڑی بابرکت کتاب ہے ‘ اس کے نزول کا ایک مقصد یہ ہے کہ اہل مکہ اور اس کے اردگرد رہنے والے لوگوں کو خبردار کردیا جائے ‘ پھر رسالت کے ضمن میں ایک طرف پیغمبر آخر الزمان کی تصدیق کی اور دوسری طرف نبوت کا انکار کرنے والوں کے برے انجام سے آگاہ کیا۔ اب آج کی آیات میں نبوت و رسالت ہی کے سلسلے میں مکذبین کے دعوے کو افتراء علی اللہ فرمایا گیا ہے ‘ وحی الٰہی کی حقیقت اور اسکے بےمثل ہونے کا بیان ہے۔ نیز جھوٹے مدعیان نبوت اور ان کے آخرت میں برے انجام کی نشاندہی کی گئی ہے۔ جھوٹے مدعیان نبوت ارشاد ہوتا ہے ومن اظلم اس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا ممن افتری علی اللہ کذبا جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے۔ مفسر قرآن قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں جھوٹے مدعیان نبوت کی طرف اشارہ ہے جنہوں نے خود حضور ﷺ کی زندگی میں ہی نبوت کا دعویٰ کردیا تھا۔ ان میں سے ایک شخص مسلیمہ کذاب تھا جو قبیلہ بنی حنیفہ کا لیڈر تھا۔ یہ قبیلہ عربوں کا لمبا چوڑا قبیلہ تھا جس کے افراد کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ ان کا سردار مسلیمہ اگرچہ معمر آدمی تھا مگر سخت شرپسند تھا دوسرا مدعی نبوت اسود عنی تھا ‘ جو صنعا کا رہنے والا سیاہ رنگ اور موٹے نقش و نگار کا آدمی تھا۔ وہ ہمیشہ سر پر اوڑھنی ڈالے رکھتا تھا۔ اس لئے اسے ذوالخمار بھی کہتے تھے۔ صحاح ستہ میں یہ حدیث موجود ہے کہ ایک دفعہ حضور ﷺ نے خواب دیکھا کہ آپ کے ہاتھ میں دو کنگن پہنائے گئے فرمایا کہ مجھے انہوں نے پریشان کردیا۔ پھر مجھے ارشاد ہوا کہ ان کو ہاتھ سے جھٹک دیں تو میں نے ایسا ہی کیا۔ اس خواب کی تعبیر حضور ﷺ نے خود ہی یہ بیان فرمائی کہ دو کذاب ہیں جو میرے دنیا میں آنے کے بعد ظاہر ہوئے ہیں اور میں ان کے درمیان ہوں۔ ان میں سے ایک صنعا میں رہتا ہے اور دوسرا بنی حنیفہ کا سردار ہے (جو یمامہ میں رہتا ہے) ان دونوں نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا ہے۔ مسلیمہ کا یہ بھی دعویٰ تھا کہ محمد ﷺ قریش کے نبی ہیں اور میں بنی حنیفہ کا نبی ہوں ‘ اس نے حضور ﷺ کی خدمت میں وفد بھی بھیجا تھا۔ مسلیمہ خود بھی حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ آپ نے اس کے ساتھ مختصر سی گفتگو کے بعد ہی اس کی موجودگی میں اسے کذاب کردیا تھا۔ مسلیمہ کا مطالبہ تھا کہ اگر آپ اپنے بعد مجھے اپنا نائب بنا دیں تو میں ایمان لانے کے لئے تیار ہوں۔ حضور ﷺ کے ہاتھ میں کھجور کی ایک چھڑی تھی۔ آپ نے چھڑی کے ایک تنکے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اس تنکے کے برابر بھی تمہیں کوئی چیز دینے کے لئے تیار نہیں۔ بہرحال مختصر گفتگو کے بعد آپ تشریف لے گئے اور اس کی بات کا مزید کوئی جواب دینے کے لئے حضرت ثابت بن قیس انصاریٰ کو مقرر کر گئے۔ اسود عنسی بھی بڑا شرپسند آدمی تھا۔ حضور ﷺ کی وفات سے دو دن پہلے حضرت فیروز ولیمی نے اسے قتل کردیا ۔ آپ کو وحی کے ذریعے خبر ہوئی تو آپ نے لوگوں کو بشارت سنائی کہ آج رات اسود عنسی کو ختم کردیا گیا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس حصہ آیت کا مفہوم نہ صرف خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھنا ہے بلکہ اس کی طرف غلط بات منسوب کرنا بھی ہے۔ اگر کوئی شخص خدا کی اولاد ثابت کرتا ہے یا شرک کی کوئی بات اس کی طرف منسوب کرتا ہے تو وہ بھی اس آیت کی وعید کی زد میں آتا ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ‘ صفات یا عبادت میں کسی کو شریک کرنا افترا علی اللہ کے مترادف ہے۔ اور ایسا شخص بہت بڑا ظالم تصور ہوگا۔ جو اللہ تعالیٰ پر جھوٹ باندھے۔ نزول وحی کا دعویٰ پھر فرمایا اس سے بڑا ظالم کون ہوگا۔ اوقال اوحی الی جو کہتا ہے کہ میری طرف وحی کی گی ہے۔ ولم یوح الیہ شئی حالانکہ اس کی طرف کوئی وحی نہ کی گئی ہو۔ مسلیمہ کذاب اور اسود عنسی کا یہی دعویٰ تھا۔ یہاں غلام احمد قادیانی بھی اپنے آپ پر نزول وحی کا دعویٰ کرتا تھا۔ حالانکہ ختم نبوت کے ساتھ وحی الفہی کا سلسلہ مستقلاً بند ہوچکا ہے۔ البتہ شیطانی وحی کا امکان ہو سکتا ہے۔ ” ان الشیطین لیوحون الی اولیاء بھم “ شیطان اپنے دوستوں کی طرف باتیں القا کرتے ہیں ‘ قیامت تک جتنے بھی مدعیان نبوت ہوں گے وہ شیطان کے دوست ہوں گے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ قیامت سے پہلے پہلے تیس بڑے بڑے فتنہ پرور پیدا ہوں گے ‘ جو نبوت کا دعویٰ کریں گے۔ مگر یاد رکھو ! میں خاتم النبین ہوں۔ اللہ نے مجھ پر نبوت ختم کردی ہے بہرحال فرمایا کہ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو کہتا ہے کہ مجھ پر وحی الٰہی نازل ہوتی ہے۔ قرآن کی نظر لانے کا دعویٰ پھر فرمایا ‘ اس شخص سے بڑا ظالم بھی کوئی نہیں ومن قال سانزل مثل ما امنزل اللہ جو کہتا ہے کہ میں بھی اس قسم کی چیز نازل کرسکتا ہوں جیسی اللہ تعالیٰ نازل کرتا ہے۔ قریش میں ایک شخص نضر ابن حارث تھا جو ایسا دعویٰ کرتا ہے کہ میں بھی قرآن پاک جیسا قرآن پیش کرسکتا ہوں۔ کہتا تھا کہ محمد عادو ثمود کے قصے کہانیاں بیان کرتا ہے میں بھی تمہارے پاس (بہمن) اسفند یار کے واقعات پیش کرسکتا ہوں ‘ یہ کون سی بات ہے ‘ جس طرح یہ اساطیر الاولین یعنی پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں۔ اسی طرح میں بھی کہانیاں گھڑ سکتا ہوں۔ قرآن پاک ایک ایسا اعلیٰ ‘ ارفع اور جامع کلام ہے جس کی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔ قرآن پاک نے خود چیلنج کیا ہے۔ ” فاتو بسورۃ من مثلہ “ اس جیسی ایک سورة ہی لا کر پیش کر دو ‘ مگر یہ چیلنج آج تک تشنہ قبولیت ہے۔ قرآن پاک خدا تعالیٰ کی صفت ہے۔ ” انزلہ بعلم “ اللہ نے اپنے علم سے اسے نازل کیا ہے۔ سورة نبی اسرائیل میں موجود ہے اگر تمام انسان اور جن مل کر بھی کوشش کریں ” ان یاتوابمثل ھذا القران کہ اس جیسا قرآن لے آئیں تو وہ ہرگز ایسا نہیں کرسکیں گے بھلا یہ مسلمیہ کذاب کہاں سے قرآن کی نظر پیش کرتا۔ اس نے کچھ عربی عبارتیں بنائی تھیں مگر لوگوں نے اس کے منہ پر تھوک دیا کہ یہ اس کے مقابلے کی چیز لائے ہو۔ پوری دنیا کے زباندان ‘ شعرائ ‘ ادیب ‘ خطبا اور فصیح وبلیغ لوگ قرآن پاک کے سامنے ہتھیار ڈال چکے ہیں ۔ لہٰذا قرآن کی نظیر پیش کرنے کا دعویٰ باطل ہے فرمایا ایسا دعویٰ کرنے والا بھی سب سے بڑا ظالم ہے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں انسانوں کی بہتری کے لئے جو حکمتیں رکھی ہیں ‘ تمام دنیا کے لوگ مل کر بھی ان میں سے کسی ایک حکمت کی گرد پاتک کو نہیں پہنچ سکتے ‘ چہ جائیکہ اس جیسا قرآن پیش کرنے کا دعویٰ کریں جو شخص دعویٰ کرتا ہے کہ وہ خدائی قانون اور شریعت جیسا کوئی دوسرا قانون بنا سکتا ہے ‘ وہ بہت بڑا ظالم ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قوانین کے مقابلے جو لوگ خود ساختہ قوانین نافذ کرتے ہیں ‘ وہ اللہ تعالیٰ کی حکمت میں دخل اندازی کے مرتکب ہوتے ہیں اور یہی ان کی سب سے بڑی بدبختی ہے۔ قرآنی قانون کا اجراء بنی نوع انسان کا فرض تھا کہ اللہ کی زمین پر اسی کا نزل کردہ قانون نافذ کرتے ‘ مگر انہوں نے خلیفتہ اللہ ہونے کا حق ادا نہیں کیا۔ یہ خدائی قانون کی بجائے رومن لا ‘ جرمن لاء اور برٹش لاء کی طرف دیکھتے ہیں کوئی امریکہ کے نئے اور پرانے قوانین پر نظر لگائے بیٹھا ہے کوئی کارل مارکس کی پیش کردہ شریعت کا گروہ ہے اور کوئی لینن (ماوزے تنگ) کی لال کتاب پر فریفتہ ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اللہ کے نازل کردہ قوانین کو چھوڑ کر خود ساختہ قوانین سے امید لگائی جا رہی ہے۔ مسلمان ممالک کا بھی یہی حال ہے کسی ملک نے امریکہ کا قانون اپنا رکھا ہے تو کسی نے برطانیہ کا اور کسی نے فرانس کا۔ کوئی جرمن قانون سے راہنمائی حاصل کرتا ہے تو کوئی روسی قانون سے ‘ خود ہمارے ملک میں تین مختلف قوانین نافذ ہیں۔ تعزیزی قانون انگریز کا بنایا ہوا انیسویں صدی کا قانون ہے ‘ جسے تعزیرات پاکستان کا نام دیکر اختیار کرلیا گیا ہے اس وقت مارشل لاء کے اپنے ضابطے بھی موجود ہیں اور ان پر بھی حسب ضرورت عملدرآمد ہو رہا ہے۔ تیسرا قانون اسلامی کہلاتا ہے۔ بعض معاملات میں اس کا سہارا بھی لیا جاتا ہے یہ ک قدر عجب تقسیم ہے۔ اگر اسلام کے مکمل ضابطہ حیات ہونے پر یقین ہے تو پھر باقی تمام لعنتوں کو چھوڑ کر صرف احکام الٰہی کا نفاذ ہونا چاہئے۔ جب مارشل لاء کے ذریعے ہر قسم کی سختی جائز ہے تو اسلامی قوانین کو بیک قلم کیوں نہیں نافذ کیا جاتا ؟ اگر کوئی دقت پیش آئی گی تو تجربہ کے ساتھ آہستہ آہستہ رفع ہوجائے گی ‘ اس کو جاری تو کرو۔ اب تک تو وعدے وعید ہی ہوتے آ رہے ہیں ‘ مگر عملدرآمد کچھ نہیں۔ قران پاک تو کہتا ہے کہ جو شخص اللہ کی نازل کردہ چیز کے برابر کوئی چیز پیش کرنے کا دعویٰ کرتا ہے ‘ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے ؟ قرآن پاک بےمثال چیز ہے تمام دنیا مل کر بھی کسی آیت کی مصلحت کو نہیں پہنچ سکتی۔ اشتراکیوں کا ایک گروہ یہ بھی کہتا ہے کہ قرون وسطیٰ میں تو یہ قرآن واقعی قابل عمل تھا مگر یہ موجودہ زمانے کے تقاضوں کو پورا نہیں کرسکتا۔ آج کا دور صنعتی ‘ سائنسی اور ایٹمی دور ہے ‘ اس زمانے میں چودہ صدیاں پرانے قوانین نافذ نہیں ہوسکتے ‘ مگر قرآن کہتا ہے ” فبای حدیث بعدہ یومنون (المرسلت) اگر اس قرآن پر ایمان نہیں لاتے تو پھر اس کے بعد کس چیز پر ایمان لائو گے ‘ یہ تو اللہ کا آخری قانون ہے اس کے بعد نزول وحی کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے ‘ اب کون سے قوانین پر عمل کرو گے ؟ حضور ﷺ کے بعد ہر زمان و مکان کے لئے یہی کرے گا ‘ اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل و خوار کر دے گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا جو اس سے ہدایت کا طالب ہوگا ‘ وہ ہدایت کو پا لے گا اور جو کوئی کسی دوسری طرف دیکھے گا ‘ ذلیل و خوار ہو کر رہ جائے گا۔ موت کی سختیاں اللہ نے تین قسم کے آدمیوں کے متعلق فرمایا کہ اس سے بڑھ کر کون ظالم ہوگا ‘ پہلا شخص وہ ہے جو اللہ پر جھوٹ کا افترا ‘ باندھے دوسرا وہ ہے جو کہے کہ مجھ پر وحی آتی ہے حالانکہ اس کی طرف کوئی وحی نہ آتی ہو اور تیسرا ظالم شخص وہ ہے جو کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وحی کے مقابلے میں میں بھی ایسی چیز لاسکتا ہوں۔ اب اللہ نے ایسے لوگوں کے انجام کا ذکر فرمایا ہے۔ ولوتری اذالظلمون فی غمرات الموت اے مخاطب اگر تم دیکھتے ایسے ظالم لوگوں کو جب وہ موت کی سختیوں میں مبتلا ہوں گے۔ والملئکتہ باسطوا ایدھیم۔ اور فرشتے اپنے ہاتھ ان کی طرف پھیلائے ہوئے ہوں گے۔ اور ان سے کہیں گے اخرجوا انفسکم نکالو اپنی جانوں کو صحیح معنوں میں کوئی شخص اپنی خود تو نہیں نکالتا۔ مگر یہ مجرمین کو وعید سنائی جا رہی ہے ‘ ان کو ڈرایا جا رہا ہے کہ اپنی جانوں کو خود نکالو۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ نکلو اب خدا کے غضب کی طرف اور پھر فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور اسے غضب کے مقام کی طرف لے جاتے ہیں۔ امام رازی (رح) اور بض دیگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ فرشتے بدبخت انسانوں سے کہتے ہیں کہ لائو اپنی جان نکالو اور اس سکتی سے بچ جائو مگر وہ اس دن کی سختی سے بچ نہیں سکتے۔ فرشتے کہتے ہیں الیوم تجزون عذاب الھون آج تمہیں ذلت کی مار دی جائے گی۔ ہون خواری کو کہتے ہیں یعنی تمہیں ذلیل و خوار کردینے والا عذاب دیا جائے گا۔ بما کنتم تقولون علی اللہ غیرالحق اس وجہ سے کہ تم اللہ تعالیٰ کے متعلق جھوٹی اور ناجائز باتیں کہتے تھے۔ خدا کا شریک بناتے تھے ‘ اس کا بیٹا بنا لیا ‘ کبھی اس کی عبادت میں کسی کو شامل کرلیا ‘ کبھی کہتے تھے کہ خدا نے کوئی چیز نازل نہیں کی اور اس طرح خدا تعالیٰ پر افترا باندھتے تھے وکنتم عن ایتہ تستکبرون اور تم اس کی آیات کے ساتھ تکبر کرتے تھے۔ اپنی چودھراہٹ قائم رکھتے تھے اور اللہ کی آیات کو پس پشت ڈالتے تھے ‘ لہٰذا آج تمہیں ذلت ناک عذاب دیا جائے گا۔ خالی ہاتھ پیشی ہو گی فرمایا ‘ دیکھو ! ولقد جئتمونا فردیٰ کما خلقنکم اول مرۃ آج تم ہمارے پاس بالکل اکیلے چلے آ رہے ہو۔ جس طرح کہ ہم نے تمہیں پہلی دفعہ اکیلے پیدا کیا جس طرح بچے کی پیدائش کے وقت اس کے ساتھ کوئی محافظ نہیں آتا۔ اسی طرح آج تم ہمارے پاس کسی فوج ‘ پولیس ‘ باڈی گارڈ ‘ قبیلہ برادری ‘ اولاد یا دوستوں کے بغیر اکیلے ہی چلے آ رہے ہو۔ وترکتم ماخولنکم وراء ظھور کم اور جو کچھ ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا۔ وہ سب کچھ پیچھے ہی چھوڑ کر ائے ہو ‘ نہ کوئی خزانہ ہے نہ مال و دولت ہے ‘ نہ کوٹھی کار ہے اور نہ کوئی کارخانہ ہے۔ آج بالکل خالی ہاتھ ہو۔ انسان دنیا میں کہتا ہے مالی مالی یہ میرا مال ہے۔ یہ میرا مال ہے۔ کوئی کہتا ہے ‘ یہ میری دکان ہے ‘ یہ میری زمین ہے ‘ یہ میرا باغ ہے ‘ حالانکہ تیرا مال تو وہی ہے جو تو نے کھالیا ‘ یا پہن کر بوسیدہ کرلیا یا آگے پہنچا دیا جو بچ گیا وہ تیرا مال نہیں ہے۔ وہ تو تیرے وارثوں کا مال ہے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ پوچھے گا ‘ اے ابن آدم ! میں نے تمہیں مال دیا تھا ‘ وہ کدھر گیا ‘ بندہ عرض کرے گا ‘ مولا کریم ! میں اسے اچھی حالت میں چھوڑ کر چلا آیا تھا ‘ اگر اجازت ہو تو لا کر پیش کر دوں۔ مگر اللہ تعالیٰ فرمائیں گے تم جھوٹے ہو ‘ تم نے وہاں کچھ نہ کیا ‘ آج کیا چیز لانے کی اجازت طلب کرتے ہو۔ اس مال کے بل بوتے پر تو نے دنیا میں جو خرابیاں کیں ‘ ان کے متعلق آج باز پرس ہوگی۔ اور پھر اس پر سزا ملے گی۔ سفارشی نظر نہیں آئیں گے فرمایا وماتریٰ معکم شفعاء و کم شرکوا الذین زعمتم انھم فیک شرکوا اور ہم نہیں دیکھتے تمہارے ساتھ سفارشی جن کے بارے میں تم گمان کرتے تھے کہ وہ تمہارے شریک ہیں۔ آج وہ تمہارے سفارشی کہاں گئے ہیں جن کو نذر و نیاز پیش کیا کرتے تھے اور جو تمہاری مشکل کشائی اور حاجت روائی کا دم بھرتے تھے اور جن کے متعلق تم گمان کرتے تھے کہ وہ تمہیں چھڑا لیں گے یا تمہاری کشتی پار لگا دیں گے۔ کارساز ‘ مشکل کشا اور حاجت روا تو اللہ تعالیٰ ہے۔ تم کن کو اس کے شریک بناتے تھے۔ لقد نقطع بینکم آج تمہارے درمیان تمام تعلقات منقطع ہوچکے ہیں۔ تمام رشتہ داریاں ختم ہوچکی ہیں جو رشتہ معبودان باطلہ کے ساتھ جوڑا تھا ‘ وہ بھی ختم ہوگیا ہے وضل عنکم ما کنتم تزعمون اور گم ہوجائے گی وہ چیز جس کے متعلق تم گمان کرتے تھے کہ فلاں چیز ہمیں مفید ہوگی ‘ فلاں حضرت صاحب دستگیری فرمائیں گے ‘ فلاں بزرگ بگڑی بنائیں گے ‘ فلاں نذر و نیاز رنگ لائے گی۔ اس دن وہاں کچھ نظر نہیں آئے گا۔ سب کچھ گم ہو کر رہ جائے گا۔ اس دن جھٹلانے والوں کو پتہ چلے گا کہ وہ دنیا میں کچھ کرتے رہے۔
Ayahs 6:95–98

اِنَّ اللّٰهَ فَالِقُ الْحَبِّ وَ النَّوٰى١ؕ یُخْرِجُ الْحَیَّ مِنَ الْمَیِّتِ وَ مُخْرِجُ الْمَیِّتِ مِنَ الْحَیِّ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ فَاَنّٰى تُؤْفَكُوْنَ Open ayah 6:95 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ پھاڑ کر نکالتا ہے دانے اور گھٹلیوں سے نکالتا ہے وہ جاندار چیز کو بےجان سے۔ اور نکالتا ہے وہ مردہ کو زندہ سے یہی ہے اللہ تعالیٰ ‘ تم کدھر پھرے جاتے ہو

فَالِقُ الْاِصْبَاحِ١ۚ وَ جَعَلَ الَّیْلَ سَكَنًا وَّ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَ حُسْبَانًا١ؕ ذٰلِكَ تَقْدِیْرُ الْعَزِیْزِ الْعَلِیْمِ Open ayah 6:96 in the Quran reader

وہ پھاڑ کر نکالنے والا ہے صبح کا اور اس نے بنایا رات کو سکون کا ذریعہ ‘ اور سورج اور چاند کو حساب کے لئے یہ اندازہ رکھا ہوا ہے اس کا جو غالب اور سب کچھ جاننے والا ہے

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ النُّجُوْمَ لِتَهْتَدُوْا بِهَا فِیْ ظُلُمٰتِ الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ Open ayah 6:97 in the Quran reader

اور وہ وہی ہے جس نے بنایا تمہارے لئے ستاروں کو تا کہ تم راہ پائو ان کے ذریعے جنگل اور دریا کی تاریکیوں میں۔ تحقیق ہم نے تفصیل سے بیان کردی ہیں آیتیں ان لوگوں کے لئے جو جانتے ہیں

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ فَمُسْتَقَرٌّ وَّ مُسْتَوْدَعٌ١ؕ قَدْ فَصَّلْنَا الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّفْقَهُوْنَ Open ayah 6:98 in the Quran reader

اور وہ وہی ذات ہے جس نے پیدا کیا ہے تم کو ایک ہی جان سے ‘ پس تمہارے لئے ایک فرار گاہ ہے اور دوسری امانت سپرد کرنے کی جگہ۔ تحقیق ہم نے تفصیل سے بیان کی ہیں آیتیں ان لوگوں کے لئے جو سمجھ رکھتے ہیں۔

ربط آیات پہلے اللہ تعالیٰ نے توحید کے اثبات وار شرک کی تردید میں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا واقعہ بیان کیا۔ پھر دیگر اٹھارہ انبیاء کا ذکر کر کے توحید کے مئلے کی وضاحت فرمائی اس کے ساتھ منصب رسالت اور انبیاء کے فرائض کا ذکر ہوا ‘ منکرین رسالت کا رد ہوا اور تورات کو بطور مثال پیش کیا ۔ پھر آخر میں قرآن حکیم جیسی بابرکت کتاب کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد اللہ نے فرمایا کہ اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے ج اللہ پر افتراء باندھتا ہے اور جو اپنی طرف وحی آنے کا جھوٹا دعویٰ کرتا یا جو شخص قرآن پاک کی مثل لانے کا دعویٰ کرتا ہے۔ ایسے ظالموں کی موت کے وقت سختیوں کا بھی ذکر ہوا اور ان کے لئے بری جزاء کو بیان کیا گیا۔ پھر انسان کو سمجھایا گیا کہ تمہیں اللہ کے پاس اکیلے حاضر ہونا ہے ‘ یہاں کی جمع کی گئی مال و دولت وہاں کچھ کام نہ آئے گی اور نہ ہی کوئی سفارشی موجود ہوں گے کہ جن کے متعلق تم گمان کرتے تھے کہ وہ تمہیں چھڑا لیں گے۔ افضل حکمت ان آیات کا تعلق بھی سابقہ مضمون اثبات توحید اور رد شرک کے ساتھ ہی ہے تاہم یہاں پر اللہ تعالیٰ نے یہ بات عقلی دلائل کے ساتھ سمجھائی ہے یہاں پر اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کا ذکر کر کے انسان کی توجہ اس طرف دلائی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کرنے سے اس کی توحید سمجھ میں آجائے گی حکماء کہتے ہیں کہ حکمت حقیقت میں یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی ذات اور اس کے افعال کو سمجھنے لگے اور حکمت کا مطلب یہ ہے۔ معرفۃ الحقائق بقدر طاقۃ البشریۃ انسان اپنی طاقت کے مطابق حقائق کو سمجھنے لگے۔ یہ حکمت کا افضل حصہ ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے رائس الحکمہ مخافۃ اللہ حکمت کی جڑ بنیاد اللہ تعالیٰ کا خوف ہے۔ اور خدا کی ذات ‘ صفات اور اس کے افعال کو سمجھنا افضل حکمت ہے۔ اسی واسطے بزرگان دین کی دعا میں یہ الفاظ بھی آتے ہیں اللھم ارنا الاشیاء کما ھی اے اللہ ! ہمیں اشیاء کو دکھا دے جیسا کہ وہ واقع کے اندر ہیں۔ انسان کی غلطیوں کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ حقائق کو صحیح طریقے سے نہیں سمجھتا۔ کسی چیز کا صحیح علم ہی حکمت ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی معرفت سب سے افضل حکمت ہے۔ دانہ اور گٹھلی بہرحال یہاں پر اللہ تعالیٰ کی بعض صفات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ان اللہ فالق الحب والنویٰ بیشک اللہ تعالیٰ پھاڑنے والا ہے دانے اور گٹھلی کو۔ اناج اور پھلوں کی پیداوار کے لئے عام طور پر دو چیزیں بطور بیج استعمال کی جاتی ہیں۔ ایک دانہ اور دوسری گٹھلی ‘ اناج کی پیداوار کے لئے گندم ‘ جو ‘ چاول ‘ مکئی ‘ باجرہ وغیرہ کے دانے ہی بطور بیج زمین میں ڈالے جاتے ہیں اور اس بیج سے یہی دانے بیشمار تعدا دمیں پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح پھلوں کی پیداوار کے لئے آم ‘ جامن ‘ آڑو وغیرہ کی گٹھلی لگائی جاتی ہے تو تناور درخت پیدا ہوتے ہیں جن سے متعلقہ پھل پیدا ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان اشیاء کو کمال علم اور کمال حکمت کے ساتھ پیدا کر کے انسانوں کی خوراک کا بندوبست کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان اشیاء کا ذکر کر کے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔ کہ ایک ایک دانے اور گٹھلی سے سینکڑوں اور ہزاروں دانے اور گھٹلیاں پیدا کرنے والا وہی وحدہ لا شریک ہے تو اس کو چھوڑ کر تم کدھر بھٹک رہے ہو۔ جو اللہ انسان کی خوراک کے لئے اناج ‘ پھل اور سبزیاں پیدا کرتا ہے ‘ عبادت کے لائق بھی وہی ہے اگر انسان اللہ تعالیٰ کی اسی صفت پر غور کرلے تو اس پر واضح ہوجائے گا کہ مشکل کشائی اور حاجت براری بھی وہی کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جس کی طرف رجو ع کیا جاسکے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی یہ ایک دلیل قائم کی ہے۔ جڑ اور شاخ جب دانہ یا گٹھلی کچھ عرصہ زمین کے اندر گزارنے کے بعد پھٹی ہے تو اللہ تعالیٰ کی کمال قدرت ہے کہ اس کا ایک سرا اوپر کی طرف نکلتا ہے جو تنا اور شاخ بنتا ہے اور دوسرا حصہ نیچے کی طرف زمین کے اندر جاتا ہے جو اس پودے یا درخت کی جڑ بنتا ہے۔ زمین سے اوپر کی طرف نکلنے والی پتی نہایت ہی نرم و نازک ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی قدرت سے سخت زمین کو پھاڑ کر اس کے لئے راستہ بناتا ہے۔ اسی طرح نیچے جانے والا حصہ دور دور تک زمین میں پھیل جاتا ہے جو ایک طرف پودے یا درخت کے لئے زمین سے خوراک حاصل کرتا ہے اور دوسری طرف اسے گرنے سے بچاتا ہے کیا یہ سب کچھ خود بخود پودے کے اپنے مزاج سے ہو رہا ہے یا اس کو کرنے والی کوئی ذات موجود ہے ؟ انسان تھوڑا سا بھی غور کرے گا تو سمجھ جائے گا کہ یہ سب کچھ کرنے والا خداوند تعالیٰ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تفصیل سورة عبس میں بیان فرمائی کہ انسان اپنے کھانے کی طرف غور کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ اس کے پیدا کرنے میں خداوند تعالیٰ کی قدرت کا کتنا بڑا کرشمہ کارفرما ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ‘ اے انسان ! ذرا غور کر انا صببنا الماء صبا “ ہم نے کس طرح بارش کے ذریعے پانی کا انتظام کیا ” ثم شققنا الارض شقا “ پھر ہم نے زمین کو پھاڑا اور پھر اس میں سے اناج اور پھل پیدا کئے۔ تو یہاں بھی فرمایا کہ وہ اللہ ہی ہے جو دانے اور گٹھلی کو پھاڑ کر زمین کے اندر سے اس کی شاخ نکالتا ہے اور پھر وہ اناج کا پودا یا پھل کا درخت بن جاتا ہے۔ مختلف مزاج ظاہر طور پر مختلف اقسام کا غلہ اور پھل اپنی اپنی نوعیت کے اعتبار سے رنگ و بو اور ذائقہ میں مختلف ہوتا ہے اسی طرح باطنی طور پر ان کے مزاج بھی مختلف ہوتے ہیں۔ بعض پھل ایک مزاج کے ہوتے ہیں اور بعض میں کئی کئی قسم کے مزاج اکٹھے پائے جاتے ہیں ‘ حکماء کہتے ہیں کہ ترنج کے پھل میں چاروں مزاج یعنی سرد ‘ گرم ‘ خشک اور تربیک وقت موجود ہوتے ہیں۔ دانے ‘ مغز ‘ چھلکے اور گورے کے مختلف مزاج ہوتے ہیں۔ انگور میں بھی مختلف مزاج کی خاصیتیں پائی جاتی ہیں۔ اس کی گٹھلی اور چھلکا سرد خشک ہے۔ جب کہ مغز اور پانی گرم تر ہے۔ کیا یہ اس کی اپنی طبیعت کا کام ہے ؟ نہیں ‘ بلکہ یہ خاصیتیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہیں۔ وہ وحدہ لاء شریک ہے۔ نہ اس کی ذات میں کوئی شریک ہے اور نہ اس کی صفات میں کوئی ساجھی ہے۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ طبیب کسی آدمی کے خلاف ہوگئے وہ اسے ختم کرنا چاہتے تھے مگر کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔ آخر انہوں نے شراب میں افیون کی بہت زیادہ مقدار ملا کر اسے پلا دی اور ایک کوٹھڑی میں ڈال دیا کہ اب یہ مرجائے گا۔ خدا کی قدرت اس کوٹھڑی میں کہیں سے ایک بڑا اژدھا داخل ہوگیا۔ جس نے اس شخص کو ڈس لیا۔ پہلے اس کے جسم میں افیون کی سردخشک تاثیر تھی ‘ اب سانپ کے زہر کی تاثیر سخت گرم بھی داخل ہوگئی۔ چناچہ جب سرد اور گرم مزاج اکھٹے ہوگئے تو دونوں کا اثر زائل ہوگیا اور آدمی بچ گیا۔ نہ اس پر افیون نے اثر کیا اور نہ سانپ کے زہر نے ۔ یہ متضاد مزاجوں کا کرشمہ تھا زندہ اور مردہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی ایک صفت تو یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ دانے اور گٹھلی سے پودے کو نکالتا ہے اور دوسری یہ کہ یخرج الحی من المیت و مخرج المیت من الحی وہ اللہ تعالیٰ مردہ سے زندہ کو نکالتا ہے اور زندہ سے مردہ کو نکالتا ہے۔ مردہ کی مثال انڈا کی ہے جس سے زندہ چوزا نکلتا ہے۔ اور مرغی زندہ ہے جس سے مردہ انڈا پیدا ہوتا ہے۔ مجازی معنی میں نیک انسان سے بعض اوقات برا آدمی پیدا ہوتا ہے اور بعض …………اوقات بدترین آدمی سے صالح اولاد پیدا ہوتی ہے۔ یہ تو خدا تعالیٰ کی قدرت ہے ‘ وہ چاہے تو کافر سے مومن پیدا کر دے اور مومن سے کافر پیدا فرما دے یا نیک آدمی کی اولاد بد ہو اور برے آدمی کی اولاد نیک ہو۔ زندہ اور مردہ کا یہ معنی بھی کیا جاسکتا ہے۔ فرمایا ذلک اللہ یہی اللہ تعالیٰ ہے جو یہ سب کام کرتا ہے۔ وہی ان صفات کا مالک ہے فانی توفکون مگر تم کدھر پھرے جاتے ہو ‘ تم کن چیزوں کو معبود بنا رہے ہو۔ عبادت کے لائق تو وہ اللہ ہے جو اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کے ساتھ یہ محیر العقول کام انجام دیتا ہے۔ رات اور دن پھر اللہ تعالیٰ کی ایک صفت بیان کی گئی ہے ۔ فالق الاصباح وہ اندھیرے کو پھاڑنے والا ہے جس سے روشنی پیدا ہوتی ہے۔ رات کے اندھیروں کو دور کرنے والی بھی وہی ذات ہے۔ دوسری جگہ فرمایا۔ ” ان جعل اللہ علیکم الیل سرمدا الی یوم القیمۃ من الہ غیر اللہ یاتیکم بضیاء “۔ اگر اللہ تعالیٰ رات کو قیامت تک لمبی کردے تو کون ہے جو دن چڑھا دے اس کی یہ بھی صفت ہے وجعل الیل سکنا اس نے رات کو سکون کا ذریعہ بنایا۔ رات کے وقت ہر چیز تھم جاتی ہے ‘ انسان ‘ چرند پرند ‘ کیڑے مکوڑے سب رات کو آرام کرتے ہیں۔ آرام کرنے سے تھکاوٹ دور ہو کر قوتیں بحال ہوجاتی ہیں اور انسان تازہ دم ہو کر پھر سے کام میں لگ جاتا ہے۔ اگر انسان کو آرام میسر نہ ہو تو اس کی تمام توانیاں ختم ہوجائیں اور وہ جلد ہی فنا ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ نے کام اور آرام کے لئے الگ اوقات مقرر کئے ہیں اور رات کو آرام و سکون کا ذریعہ بنایا ہے۔ فرمایا والشمس والقمر حسبانا سورج اور چاند کو حساب کا ذریعہ بنایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سیاروں کو ایسی رفتار مقرر کردی ہے جس سے دن ‘ رات ‘ سرما ‘ گرماوغیرہ ایک مقررہ وقت پر آتے ہیں اور پھر چلے جاتے ہیں۔ دوسری جگہ فرمایا ان کا ایک فائدہ یہ ہے ” لتعلموا عد دا السنین والحساب (یونس) تاکہ تم سال و ماہ کی گنتی معلوم کرسکو رات اور دن کے تغیر تبدیل سے ایام ، ہفتے ، مہینے اور پھر سال پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح صدیاں گزر جاتی ہیں۔ تو چاند سورج اللہ نے زمانے کے حساب کے لیے پیدا کیے ہیں۔ فرمایا ذٰلیکا تقدیر العزیز العلیم یہ اس خدا تعالیٰ کا اندازہ مقرر کیا ہوا ہے جو غالب اور ہر چیز کو جاننے والا ہے وہ کمال قدرت کا مالک ہے اس کے حکم کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا مگر تم کدھرسرگردان پھر رہے ہو ؟ یہ سب عقلی دلائل بیان کیے جا رہے ہیں ۔ کہ ان چیزوں کا روزمرہ مشاہدہ کرتے ہو۔ ان میں غور کرو گے تو سمجھ جائو گے کہ اس سارے نظام کو چلانے والی ایک ہی ذات ہے ، خداوند قدوس ہے کسی جن ، فرشتے یا انسان کے اختیار میں نہیں ہے کہ ایسا کوئی نظام پیش کرے۔ آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک اور احسان کا تذکرہ فرمایا ہے۔ وھو (ستاروں کے فوائد) الذی جعل لکم النجوم وہ ہی خدا ہے جس نے تمہارے لیے ستاروں کا نظام قائم کیا ہے لتھتدو بھا فی ظلمت البر والجد تاکہ ان کے ذریعے تم خشکی اور تری میں راہ پائو۔ اور یہ راہ برا راست بھی ہو سکتی ہے اور بالواسطہ بھی۔ جب قافلے جنگلوں اور صحرائوں میں بھٹک جاتے ہیں پیا کشتیاں اور جہاز سمندروں میں راستہ گم کر بیٹھتے ہیں تو پھر ان ستاروں کی مدد سے ہی تمہیں منزل مقصود کی طرف راہنمائی حاصل ہوتی ہے اس لیے اللہ نے ستاروں کا نظام قائم کر کے انسان پر بہت بڑا انعام کیا ہے۔ اب متضاطیسی آلے قطب نماز وغیرہ بھی موجود ہیں جن کی مدد سے سمت معلوم کی جاتی ہے ، یہ آلے بھی ستاروں کی حرکتوں کے مطابق ہی بنائے ہیں۔ راہنمائی کے علاوہ اللہ نے ستاروں کے بعض دیگر فوائد بھی گنوائے ہیں مثلاً ” ولقد زینا السماٗ الدنیا بماصابیح “ ہم نے آسمان کو ستاروں کے ذریعے زینت بخشی وجعلنھا رجو ماً للشیطین (سورۃ ملک) شیاطین کو رجم کرنے کا ذریعہ بھی ستارے ہی ہیں۔ فرمایا قد فصلنا الایٰتِ لقومِ یعلمون ہم نے ان لوگوں کے لیے تفصیل کے ساتھ آئیتیں بیان کردی ہیں جو سمجھتے ہیں اور علم کی روشنی رکھتے ہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت کے یہ کرشمے اہل علم و فہم کے لیے بہت بڑی نشانیاں ہیں جن کے ذریعے معرفتِ الٰہی حاصل ہوتی ہے۔ نفس واحد سے پیدائش فرمایا وھوالذی انشا کم من نفس واحدۃ اور وہ ہی اللہ ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا۔ نفس واحدہ سے مراد حضرت آدم علیہ اسلام ہیں جن کے وجود سے اللہ نے تمام بنی نو انسان کو پیدا فرمایا۔ سورة نساء میں بھی موجود ہے ” خلق منھا زوجھا “ آپ ہی کے جسم سے آپ کا جوڑا پیدا کیا۔ غرضیکہ تمام انسانوں کے جد امجد آدم علیہ اسلام ہیں اور ان کو مٹی سے پیدا کیا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کلکم ابناء آدم و آدم من تواب یعنی ہر رنگ نسل ، شکل و صورت اور معاشرے کے لوگ آدم علیہ اسلام ہی کی اولاد ہیں ۔ نیلے ‘ پیلے ‘ چھوٹی ‘ چپٹی ‘ اور بڑی ناک والے کالے اور گورے سب اولاد آدم ہیں۔ لہٰذا ایک دوسرے کو رنگ و نسل کی بنیاد پر حقیر جاننا بہت بری بات ہے۔ دنیا میں ایسے گورے رنگ والے بھی موجود ہیں جو سیاہ رنگ والوں کو اپنے ہوتلوں میں داخل نہیں ہونے دیتے اور کالے بچوں کو گورے بچوں کے سکولوں میں داخلے پر پابندی ہے یہ انتہا درجے کی بد تہذیبی اور انسانی کی توہین ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کالے اور گورے سب ہمارے بھائی ہیں ، سب ایک شخص کی اولاد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آب و ہوا کی وجہ سے کسی کو گورا بنادیا ہے اور کسی کو کالا ، مگر ساری کی ساری مخلوق خدا تعالیٰ کی ہے ، ستجر بات بتاتے ہیں کہ چار سو سال تک گرم یا سرد علاقے میں رہنے کی وجہ سے وہاں کی آب و ہوا نسل میں شامل ہوجاتی ہے اور سرد علاقومیں رہنے والے سفید اور گرم مرطوب علاقوں کے باشندے سیاہ رنگ اختیار کرلیتے ہیں۔ ہر حال تمام انسان ایک جان سے پیدا ہونے کی بناء پر برابر ہیں اور رنگ و نسل کی وجہ سے کسی کو برتری حاصل نہیں۔ فرمایا تمہیں ایک جان سے پیدا کیا فمستقد و مستور ع پس تمہارے لیے ایک امانت کے طور پر رکھنے کی عارضی جگہ ہے اور ایک ٹھکانہ ہے۔ شاہ عبدالقلور محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ باپ کی پشت سے نکل کر جب مادہ ماں کے رحم میں پہنچتا ہے تو یہ انسان کا مستقر یعنی عارضی قیام گاہ ہوتی ہے۔ یہاں مقررہ مدت تک قیام کے دوران وہ آہستہ آہستہ دنیا کے اثرات قبول کرتا ہے اور پھر ماں کے پیٹ سے مستودع یعنی دنیا کے ٹھکانے میں آجاتا ہے لیکن یہ جگہ بھی انسان کے لیے مستقل قیام گاہ نہیں ‘ بلکہ پچاس ‘ ساٹھ ‘ سو سال تک اس دنیا میں رہنے کے بعد پھر عارضی مستقر قبر کے سپرد کردیا جاتا ہے۔ اب وہ قبر کے قیام کے دوران آخرت کے اثرات قبول کرتا ہے۔ اور آخر کار قیامت کو وہ حشر میں پہنچ جائے گا۔ محاسبے کے بعد اس کا مستقل ٹھکانا جنت میں ہوگیا یا جہنم میں آخری قرار گاہ وہی ہے ۔ قبروں پر آخری آرام گاہ کی تختی لگانا درست نہیں۔ کیونکہ قبر کی زندگی تو عارضی اور برزخی زندگی ہے ، اس کی آخری آرام گاہ جنت یا دوزخ ہے۔ مقصد یہ کہ آخرت سے پہلے پہلے انسان عارضی قیام گاہ سے گزرتا ہے۔ ماں کا پیٹ ، دنیاوی زندگی یا عالم برزخ حقیقت میں عارضی قیام گاہیں ہیں ۔ انسان کا مستقل ٹھکانا آخرت ہے۔ فرمایا قد فصلنا الایت لقوم یفقھون ہم نے تمام آیات احکام اور دلائل کھول کر بیان کردیئے ہیں تاکہ سمجھ رکھنے والے لوگ ان میں غور و فکر کریں اور اللہ کی معرفت حاصل کریں۔ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ان کے لیئے یہ چیزیں کچھ مفید نہیں۔