Ayahs 6:118–121گذشتہ درس میں اللہ کے علاوہ دوسروں کو حکم تسلیم کرنے سے منع کیا گیا تھا ، نیز نبی علیہ اسلام کو خبر دار کیا گیا تھا کہ اگر آپ اکثریت کا کہا مانیں گے تو آپ سیدھے راستے سے بہک جائیں گے ، کیونکہ لوگوں کی اکثریت محج گمان پر چلتی ہے اور ان کے پاس حق بات نہیں ہوتی۔ اب آج کی آیات میں ایسے لوگوں کی ایک مثال بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ مشرک لوگ ایمان پر اعتراض کرتے تھے کہ یہ اپنے ہاتھ کا مارا ہوا جانور یعنی ذبح شدہ جانور حلال سمجھتے ہیں اور اس کا گوشت کھالیتے ہیں ، جب کہ خدا کا مارا ہوا یعنی طبی موت مرا ہوا جانور حرام جانتے ہیں۔ وہ لوگ اس بعید از قیاس خیال کرتے تھے۔ بعض مشرکین یہ بھی کہتے تھے کہ مسلمان جس جانور یا پرندے کو لوہے لکڑی ، پتھر وغیرہ سے مارلیتے ہیں ، اس کو تو کھالیتے ہیں مگر جس جانور کو خدا تعالیٰ سنہری تلوار سے مارتا ہے اس کو نہیں کھاتے ، بلکہ حرام سمجھتے ہیں۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے باطل خیالات کا رد فرمایا ہے کیونکہ کافر لوگ اس قسم کی باتیں کر کے مسلمانوں میں اشتباہ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اہل ایمان کو ان کے باطل نظریات کی طرف توجہ نہیں دینی چاہئے بلکہ اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو بخوشی استعمال کرنا چاہئے اور حرام کردہ اشیاء سے اجتناب کرنا چاہئے۔
مشرکین و کفار کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا فکلو مما ذکر اسم اللہ علیہ اے ایمان والو کھائو اس میں سے جس پر اللہ کا نام لیا ِگیا ہے یعنی ذبح کرتے وقت جس جانور پر بسم اللہ اللہ اکبر پڑھا گیا ہے اس کا گوشت کھائو جب کہ وہ حلال جانور ہو ۔ انکنتم بایتہ مومنین اگر اللہ کی نازل کردہ آیات پر تمہارا ایمان مکمل ہے۔ تو ایسے ذبیحہ کا گوشت کھانے میں جھجک محسوس ن کرو پھر اسی بات کو تاکید اً فرمایا وما لکم الا تاکلو مما ذکر اسم اللہ علیہ اور تمہیں کیا ہے کہ تم نہیں کھاتے وہ چیز جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہے۔ ایسی چیز تو حلال اور طیب ہے۔ اور تمہیں حلا ل و حرام کی تمیز کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آنی چاہیے ، کیونکہ وقد فصل لکم ما حرم علیکم تمہارے سامنے ان چیزوں کی تفصیل بیان ہوچکی ہے جو تم پر حرام ہیں۔ سورة بقرہ اور سورة نمل میں اللہ تعالیٰ نے حرام کردہ اشیاء کی تفصیل بیان کردی ہے لہٰذا اس کی روشنی میں شرعی طریقہ سے ذبح شدہ حلال جانور کا گوشت بصد شوق کھاسکتے ہو۔ اسی طرح تمہارے لیے حرام چیزوں سے پرہیز بھی لازمی ہے الا ماضطرتم الیہ سوائے اس کے کہ جس کی طرف تم مجبور کردیئے گئے ہو۔ مجبوری کی حالت میں حرام چیز کھانے کی بھی اجازت ہوتی ہے۔ جب جان جانے کا خطرہ ہو تو اس وقت شراب ، خنزیر اور نذر یغر اللہ بھی کھائی جاسکتی ہے اور ایسی حالت میں استعمال کنندہ پر کوئی جرم عائد نہیں ہوتا۔ البتہ اگر وہ مجبوری کی حالت میں کھائے بگیر مر جائے تو اللہ کی گرفت میں آجائے گا کیونکہ اس لیے جان کی حفاظت لازم تھی۔ مجبوری کی حالت میں حرام چیز کی حرمت اٹھ جاتی ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ جن جانوروں کو اللہ نے حرام قرار دیا ہے۔ ان کا گوشت انسانی صحت کے لیے مضر ہے۔ بعض حرام کردہ اشیاء سے جسمانی صحت خراب ہوتی ہے اور بعض اشیاء سے روحانی صحت ضائع ہوتی ہے حرام اشیاء کی حرمت میں یہی حکمت ہے کہ وہ کسی نہ کسی صورت میں انسان کے لیے مضر ہیں۔ اسی طرح جن جانوروں کا گوشت انسانی جسم کے لیے مفید ہے ان کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے۔ چناچہ آگے اسی سورة میں ان حلال مویشیوں کی تفصیل آرہی ہے۔ جو گھاس کھاتے ہیں۔ پالتو ہونے کی وجہ سے لوگوں کے قریب رہتے ہیں اور انسانوں سے مانوس ہوتے ہیں۔ لوگ ان کا دودھ پیتے ہیں ۔ اون استعمال کرتے ہیں اور گوشت بھی کھاتے ہیں۔ یہی جانور کھیتی باڑی اور باربرداری کے کام بھی آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو حلال قرار دیا ہے۔ البتہ گوشت استعمال کرنے کے لیے ایک ضروری شرط یہ ہے کہ جانور شرعی طریقے کے مطابق ذبح کیا گیا ہو۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ ملت ابراہمیہ کا یہ مسلمہ اصول ہے کہ حلال جانور کو حلق سے ذبح کیا جائے اور ذبح کے لیے لوہے ، پتھر یا شیشے وغیرہ کا تیز دھار آلہ استعمال کیا جائے ذبح کیلئے گلے کی چار رگیں ، مرئی ، سانس کی نالی اور دو خون کی رگیں کاٹی جاتی ہیں کم از کم تین رگوں کا کاٹنا ضروری ہے تاکہ جسم کا سارا خون بہہ جائے۔ گلے کے علاہ اگر کسی دوسرے جگہ سے ذبح کیا جائے تو جانور کا گوشت مکروہ تحریمی ہوگا۔ کیونکہ ایسا ذبح مسلمہ اصول کے خلاف ہوگا۔ برطانیہ میں مشینی ذبح کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے جانور کے ماتھے میں گولی مار کر اسے بےحس کردیا جاتا ہے پھر اوپر سے مشین چلا کر ذبح کردیا جاتا ہے۔ جو کہ درست نہیں ہے۔ بہر حال جب آدمی کو ذبح پر مکمل اختیار ہو تو مذکورہ طریقے سے ذبح کرنا لازمی ہوگا۔ ہاں مجبوری کی حالت میں جب کہ آدمی جانور تک پہنچنے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو ذبح کے مقررہ طریقے کے خلاف کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً اونٹ بھاگ گیا ہے اور اس کسی طرح قابو میں نہیں آرہا ہے ، کوئی جانور کنویں میں گرگیا ہے اور مرجانے کا خطرہ ہے۔ تو ایسی صورت میں اگر کسی چیز سے ران پر بھی زخم لگ گیا تو جانور حلال ہوگا ایسی صورت میں گلا کٹنا ضروری نہیں ہوتا۔ اس کے متعلق ترمذی شریف میں روایت موجود ہے کہ پوچھنے والے نے پوچھا کہ اس قسم کی اضطراری حالت میں ذبح کا کیا حکم ہے تو حضور علیہ اسلام نے فرمایا ولو طعنت فخذھا……اگر نیزہ یا کسی دوسرے تیز دھار آلہ سے زخم لگا دیا جائے جس سے خون نکل جائے تو جانور حلا ل ہوجائے گا۔ پرندوں کے شکار کا بھی یہی حکم ہے۔ ان کو پکڑ کر ذبح کرنا مشکل ہوتا ہے لہٰذا اگر تیر یا نیزہ چلاتے وقت اللہ کا نام لے لیا گیا تو جانور حلال ہوجائے گا۔ کبھی شکار کے پیچھے کتا یا باز یا شکرا وغیرہ چھوڑنا پڑتا ہے۔ ایسا کرتے وقت بھی اللہ کا نام لینا ضروری ہے۔ مقصدیہ کہ اضطراری حالت میں اگر ذبح کے مسلمہ اصول کو ترک کردیا جائے تو اس کی اجازت ہے۔ تاہم اختیار حالت میں حلق کاٹنا ضروری ہے۔ اس کے بغیر درست نہیں ہوگا۔
بہر حال شرعی ذبح کے لیے دو شرائط کا پایا جانا لازمی ہے۔ ایک ذبح اور دوسرا اللہ کا نام ، جب تک یہ دوشرائط پوری نہ ہوں ذبح درست نہیں ہوگا۔ امام ابو حنفیہ (رح) کا یہی مسلک ہے۔ اگر ذبح کرتے وقت اللہ کا نام جان بوجھ کر نہیں لیا تو جانور حرام ہوگا۔ البتہ اگر بسم اللہ اللہ اکبر کہنا بھول گیا تو معاف ہے کیونکہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ ہر مومن کے دل میں اللہ کا نام ہوتا ہے جس طرح بھول کر کھالینے سے روزہ نہیں ٹوٹتا اس طرح اگر بوقت ذبح اللہ کا نام لینا بھول جائے تو جانور کی حلت میں کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ ہا اگر دانستہ اللہ کا نام نہیں لیا تو شرط پوری نہ ہوئی اور جانور حرام ہوگیا۔ اس مسئلہ میں دوسرا پہلو یہ ہے کہ اگر اللہ کا نام لینے کی بجائے کسی پیر ، فقیر ، پیغمبر ، جن یا فرشتے کا نام لے لیا تو جانور مردار ہوگیا۔ امام غزالی (رح) اور امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ ذبح میں دم مسفوح کا نکل جانا بھی ضروری ہے ذبح کرتے وقت جو خون نکلتا ہے وہ حرام ہے فرماتے ہیں کہ اگر یہ خون جانور کے جسم میں ہی رہ جائے تو اس کا گوشت مضر ہوتا ہے کیونکہ اس میں ایسے جراثیم ہوتے ہیں جو انسانی صحت کیلئے مضرہوتے ہیں لہٰذا خون کا نکل جانا ہی صحت کے لیے مفید ہے۔ جب یہ خون جسم سے نکل جاتا ہے تو گوشت پاک اور قابل استعمال ہوجاتا ہے۔ اسی لیے شریعت نے مضر صحت اشیاء کو حلال قرار نہیں دیا۔
شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) موضح القرآن میں لکھتے ہیں کہ اس بارے میں کئی آیات نازل ہوئی ہیں کہ کفار اعتراض کرتے تھے کہ مسلمان اپنے ہاتھ سے مارے ہوئے جانور کا گوشت کھا جاتے ہیں مگر اللہ تعالیٰ کا مارا ہوا نہیں کھاتے فرماتے ہیں کہ اس قسم کی باتیں شیطان لوگوں میں اشتباہ پیدا کرنے کے لیے سکھاتے ہیں۔ لہٰذا یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ حلت و حرمت میں صرف اللہ تعالیٰ کا قانون چلتا ہے۔ اس میں محض عقلی ڈھکو سلے کا نام نہیں دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر بیان کردیا ہے کہ ہر جاندار کو مارنے والا اللہ ہی ہے مگر جو جانور اس کے نام پر ذبحہ کیا جاتا ہے اس میں برکت اور پاکیزگی آجاتی ہے ، اس میں طہارت اور پاکیزگی کا قانون بیھ کار فرما ہے اسی طرح جو جانور اللہ کا نام لیے بغیر ذبح ہوتا ہے۔ وہ طہارت سے خالی ہوتا ہے۔
فرمایا حلت و حرمت کا مسئلہ تمہیں تفصیل کے ساتھ سمجھا دیا گیا ہے وان کثیرالیضلون باھوائِ ھم بغیر علم بیشک بہت سے لوگ محض اپنی خواہشات کے ساتھ بغیر علم کے گمراہ کرتے ہیں ۔ مشرکین کا یہ پراپیگنڈا کہ مسلمان اپنا مارا ہوا کھاتے ہیں اور خدا کا مارا ہوا نہیں کھاتے اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ وہ ایسے اعتراضات کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ فرمایا ان ربک ھو اعلم بالمعتدین بیشک تیرا پروردگار زیادتی کرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔ جو اس قسم کی بیہودہ باتیں کرتے ہیں ، اللہ تعالیٰ ان کو ضرور گرفت کریگا۔ آگے اللہ تعالیٰ نے ہر ظاہر اور باطن گناہ کی ممانعت فرمائی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے وذروا ظاہر الاثم وباطغہ ظاہری اور باطنی گناہ کو ترک کر دو ۔ ظاہری گناہ تو وہ ہے جو سر عام کیا جائے اور باطنی وہ جو چھپ کر پوشیدہ طور پر کیا جائے۔ خدائی قانون اور انسان کے وضع کردہ قانون میں یہ بنیادی فرق ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ظاہر و پوشیدہ برائی سے منع فرماتا ہے جب کہ اس زمانے کا انگریزی قانون ظاہری طور پر کی جانیوالی برائی کو قابل مواخذہ گردانتا ہے اور پوشیدہ طور پر انجام دیے جانے والے گناہ کا کوئی نوٹس نہیں لیتا۔ چناچہ جب کوئی پبلک سکینڈل بن جاتا ہے تو قانون حرکت میں آجاتا ہے اور اگر زنا اور لواطت جیسے قبیح جرائم چوری چھپے باہمی رضا مندی سے کیے جائیں تو کوئی حرج نہیں ۔ زنا کے متعلق تو اللہ نے فرمایا ” انہ کان فحشۃ ومقتا وساء سبیلا “ (النسائ) یہ تو سخت بےحیائی کا کام ہے مگر انگریزی قانون میں اگر باہمی رضا مندی سے کیا جائے تو یہ بھی جائز ہے۔ یہ تو اللہ کے غضب کو دعوت دینے والی بات ہے۔ اسلام کا قانون ہے کہ گناہ ہر حالت میں گنا ہ اور قابل تعزیر ہے خواہ وہ ظاہراً کیا جائے یا چھپ کر اور با ہمی رضا مندی سے ایسے قبیح فعل سے اخلاق تباہ ہوجاتا ہے روحانیت بگڑ جاتی ہے اور انسان کا دین ضائع ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اسلام نے ہر ظاہری اور باطنی گناہ سے منع فرمایا ہے۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ظاہری گناہ وہ ہے جو اعضاء وجوارح یعنی آنکھ ، کان ، ہاتھ وغیرہ سے کیا جائے ، اور باطنی گناہ وہ ہے جس کا تعلق انسان کے دل کے ساتھ ہو۔ بُرا عقیدہ اور بری نیت دل میں پیدا ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے یہ باطنی گناہ بیشمار ہوتے ہیں۔ اسی طرح حسد ، کینہ ، بغض ، نفرت وغیرہ روحانی امراض ہیں جن کا تعلق باطن سے ہے۔ اللہ نے فرمایا ، ظاہری گناہ بھی چھوڑ دو اور باطنی گناہ سے بھی باز آجائو۔ ساتھی یہ بھی بتلادیا۔ ان الذین یکسبون الثم جو لوگ گناہ کماتے ہیں سیجزون بما کانوا یقترفون انہیں ان کی کمائی کے مطابق بدلہ دیا جائے۔ گناہ کا ارتکاب کر کے کوئی شخص اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکتا۔ اسے ضرور اس کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ آگے پھر مشرکین کے اسی اعتراض کا جواب دوسرے انداز میں دیا۔
پہلے فرمایا تھا کہ جس جانور پر اللہ کا نام لیا جائے اسے کھائو۔ اب ارشاد ہے ولا تاکلو مما لم یذکراسم اللہ علیہ جس پر اللہ کا نام ذکر نہیں کیا گیا ، اس کو مت کھائو ، وہ حرام ہے۔ جس طرح اللہ کا نام لینے سے ذبیحہ حلال ہوجاتا ہے اسی طرح غیر اللہ کا نام لینے سے حرام ہوجاتا ہے ” ما اہل بہ لغیر اللہ “ کی تفسیر مختلف سورتوں میں بیان ہوچکی ہے ، جو چیز اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کے تقریب کے لیے اس کے نام پر نامزد کی جائیگی ، وہ حرام ہوگی۔ اس میں صرف جانور ہی نہیں بلکہ دودھ ، مٹھائی ، فروٹ وغیرہ ہر چیز آجاتی ہے۔ بہر حال جس ذبیحہ پر عمداً اللہ کا نام نہیں لیا گیا وہ بھی حرام ہے اور جس چیز پر غیر اللہ کا نام لیا گیا وہ بھی حرام ہے۔ فرمایا وانہ لفسق ایسا جان بوجھ کر کرنا فسق ہے۔ فسق کا معنی اطاعت سے نکل جانا ہے اور اس میں کفر ، شرک ، بدعت اور چھوٹے موٹے سب گناہ آجاتے ہیں۔ گرمایا وان الشیطن لیوحون الی اولیھم شیاطین ایسی باتیں اپنے دوستوں کے دلوں میں ڈالتے ہیں تاکہ وہ بہک کر مردار کھانے لگیں یا غیر اللہ کی نذر ونیازدینے لگیں۔ شیطان لوگوں کو باور کراتے ہیں کہ ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے غیر اللہ کا نام لینے سے چیز کی پاکیزگی میں کوئی فرق نہیں پڑتا ، لہٰذا جو چاہو کرتے جائو ، حالن کہ اس سے چیزوں میں روحانی نجاست پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے حرام ہوجاتی ہیں۔
فرمایا شیطان اس لیے دسوسہ امذاذی کرتے ہیں لیجاد لوکم تاکہ وہ تمہارے ساتھ جھگڑا کریں۔ فرمایا وان اطع تمھم اگر تم ان شیاطین کی بات مان لو گے۔ ان کے بہکاوے میں آجائو گے انکم لمشرکون تو بیشک تم مشرک بن جائو گے۔ شرک صرف غیر اللہ کی پرستش کا نام ہی نہیں بلکہ اگر اللہ کے مقابلے میں دوسروں کا حکم بھی اسی طرح مانا جائے جس طرح اللہ کا حکم مانا جاتا ہے تو یہ بھی شرک میں داخل ہے۔ فرمایا خوب سمجھ لو کہ غیر اللہ کی اطاعت سے تمہارا شمار بھی مشرکین میں ہوگا۔
Ayahs 6:122–124گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید اور توحید رسالت کا ذکر فرمایا شیاطین کے اغوا سے خبردار کیا ، قرآن پاک کی حقانیت کا تذکرہ ، اکثریت اور اقلیت کا مسئلہ بیان کیا کہ انسانو کی اکثریت محض گمان پر چلتی ہے اور اٹکل پچو باتیں کرتی ہے۔ اس ضمن میں ایک مثال بھی بیان فرمائی کہ مشرک اہل ایمان پر اعتراض کرتے ہیں کہ مؤخر الذکر اپنے ہات کا مارا جانور تو کھالیتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کا مارا ہوا حرام سمجھتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اس کو محض شیطانی خیال اور غلط قسم کا پراپیگنڈہ قرار دیا اور فرمایا کہ جس جانور پر بوقت ذبح اللہ کا نام لے لیا جائے اس میں برکت اور پاکیزگی پیدا ہوجاتی ہے ، اور جو جانور شرعی طریقہ سے ذبح نہ کیا جائے وہ انِ چیزوں سے خالی ہوتا ہے لہٰذا جس جانور پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو وہ اہل اسلام کے نزدیک مردار کا حکم رکھتا ہے فرمایا شیاطین اللہ کے حکم کے خلاف اپنے دوستوں کے ذہن میں وسوسہ اندازی کرتے ہیں ، جس کی وجہ سے لوگ گمراہ ہو کر جھگڑے پر اترآتے ہیں اللہ نے خبردار کیا کہ اگر تم نے بھی ایسے لوگوں کا اتباع کیا تو مشرکین میں س ہ جائو گے۔
اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے نور اور ظلمت یعنی مردہ اور زندہ کا موازنہ کر کے سمجھایا کہ ہدایت یافتہ اور گمراہ شخص برابر نہیں ہو سکتے۔ پھر اللہ نے مجرمین کی حلیہ سازیوں اور ان کے انجام کا حال بیان فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے اومن کان میتا بھلا وہ شخص جو مردہ تھا۔ یہاں پر مردہ کا لفظ بطور استعارہ استعمال کیا گیا ہے ۔ اور اس سے حقیقی مردہ مراد نہیں بلکہ ایسا شخص ہے جو کفر ، شرک اور گمراہی میں مبتلا ہو۔ فرمایا بھلا وہ شخص جو گمراہی کے اندھیروں میں بھٹک رہا تھا فاحیینہ پھر ہم نے اس کو زندہ کیا یعنی گمراہ سے نکلنے اور ایمان قبول کرنے کی توفیق بخشی۔ ظاہر کہ کفر ، شرک کی وجہ سے انسان مردنی چھائی رہتی ہے جب کہ ایمان قبول کرنے سے روحانی حیات پیدا ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کو روح کا نام دیا ہے “ کذ لک اوحینا الیک روحامن امرن “ (الشوریٰ ) ہم نے اپنے حکم سے آپ کی طرف ایک روح نازل کی یعنی قرآن پاک۔ جس طرح انسانی جسم میں روح داخل ہوتی ہے تو انسان کو مادی حیات نصیب ہوتی ہے۔ اسی طرح اہل ایمان کے قلب و ذہن میں جب قرآن پاک داخل ہوتا ہے تو اسے روحانی حیات میسر آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی ہی مثال اپنے ذکر سے متعلق بھی دی ہے مثل الذی یذکر اللہ والذی لایذکر کمثل الحیی والمیت ( حدیث) اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے 1 اور ذکرنہ کرنے والے شخص کی مثال زندہ اور مردہ کی ہے۔ جو شخص خدا تعالیٰ کا ذکر نہیں کرتا وہ مردہ جسم کی طرح بالکل نکما اور بےسود ہے۔ ذکر الٰہی سے روحانی زندگی نصیب ہوتی ہے اور کفر و شرک سے مردنی چھائی رہتی ہے۔
فرمایا جو شخص مردہ یعنی گمراہ تھا ، اس کو ہم نے زندہ کردیا یعنی نور ایمان عطا فرمایا وجعلنا لہ نوراً ہم نے اس کے لیے روشنی کا انتظام کردیا۔ مفسرین کرام4 رماتے ہیں کہ ایمان ، اسلام اور قرآن مینارہ نور ہیں۔ ان کے ذریعے انسان کے قلب و دماغ میں شعور کی روشنی پیدا ہوتی ہے۔ برخلاف اس کے کفر شرک اور دوسرے درجے میں معاصی کے ذریعے قلب و ذہن میں تاریکی آتی ہے اور دل پر زند چڑھ جاتا ہے جس کی وجہ سے انسان حق و باطل میں تمیز نہیں کرسکتا ، اس سے صحیح اور غلط کی پہچان اٹھ جاتی ہے۔ اسی طرح سنت ایک روشنی ہے اور بد عت اندھیرا ہے جس کی وجہ سے انسان راہ راست سے بھٹک جاتا ہے علم اور جہالت کو بھی نور اور ظلمت سے تشبیہ دی گئی ہے علم منبع نور ہے جبکہ جہالت سراسر تاریکی۔ علم ہی انسان کو اچھائی اور برائی میں تمیز سکھاتا ہے۔ قرآن پاک اور ایمان بھی روشنی ہے جن سے مومن کا دل منور ہوتا ہے اور وہ صراط مستقیم کو پالیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نور اور ظلمت کو سورة بقرہ میں اس طرح بیان فرمایا ہے۔ ” اللہ ولی الذین امن ا یخدجھم من الظلمت الی النور “ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا کارساز اور رفیق ہے ، وہ ان کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے۔ اسی طرح قرآن پاک کے متعلق اللہ نے فرمایا کہ ہم نے آپ پر قرآن پاک نازل فرمایا “ لتخرج الناس منھ الظلمت الی النور “ ( سورة ابراہیم ) تاکہ آپ لوگوں کو تاریکی سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں۔
حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کا ارشاد مبارک ہے الظلم ظلمت یوم القیمت ہر ظلم یعنی شرک ، کفر ، قتل ناحق ، حق تلفی ، زیادتی قیامت کے دن اندھیروں کی شکل میں نمودار ہوں گے۔ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ انسان کے گناہ اور برائیاں اس کے لیے قبر میں تاریکی کا باعث ہوں گے۔ ایسے لوگوں کے لیے پل صراط پر بھی سخت اندھیرا ہوگا جب کہ اہل ایمان کے لیے وہاں روشنی ہوگی۔ اللہ نے فرمایا کہ اہل ایمان کو پل صراط سے گزرتے وقت ان کا ایمان روشنی عطا کرے گا اور وہ وہاں سے بخیر و خوبی گزر جائیں گے۔ سورة تحریم میں موجود ہے۔ نور ھم یسعی بین اید ھم وبایما نھم “ ان کا ان کے آگے اور دائیں طرف ہوگا۔ یہ نور ایمان اور نور ہدایت ہوگا جو ان کی راہنمائی کریگا۔ مومنین کا نور ایمان عالم برزخ میں بی ان کے لیے راحت کا ذریعہ ہوگا۔ جب کہ کافر اور مشرکین اندھیروں میں سرگردان ہوں گے فرمایا آدمی گمراہی میں مبتلا تھا ، اس کو ہم نے نور ہدایت عطا فرمایا یمشی بہ فی الناس جس کے ذریعے وہ لوگوں کے درمیان چلتا ہے۔ ایسا شخص لوگوں کے درمیان رہ کر کفر ، شرک اور معاصی سے بچتا ہے بد عت کے گڑھے میں نہیں گرتا ، مزاروں پر سجدہ ریز نہیں ہوتا۔ رسومات باطلہ میں ملوث نہیں ہوتا کیونکہ اس کے پاس ہدایت کی روشنی ہے۔ اس کے پاس نور ایمان ہے اور قرآن پاک کا سورج چمک رہا ہے جس کے پاس ایمان کی روشنی نہیں ہے اس کے پاس روشنی کا کوئی سامان نہیں ، نہ اس کے پاس علم ہے اور نہ کتاب ۔ وہ قومی اور خاندانی رسم و رواج میں پس رہا ہے۔ کھیل تماشے میں محور ہے اور معاضی کے اندھیروں میں بھٹک رہا ہے۔ کمن مثلہ فی الظلمت لیس بخارج منھا تو کیا وہ شخص اس کی طرح ہوگا جو اندھیروں میں ہوگا اور نہیں وہ نکلنے والا ان اندھیروں سے فرمایا کذلک زین للکفرین ما کانو ا یعملون اسی طرح مزین کیا گیا ہے کافروں کے لیے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔ ہر بُرے سے بُرا کام کرنے والا بھی اپنے فعل کو اچھا سمجھتا ہے۔ بت پر چڑھا وا چڑھوانے والا ہندو سمجھتا ہے کہ وہ بہترین کام کر رہا ہے۔ اسی طرح قبر پر سجدہ کرنے والا اپنے لیے بڑی سعادت سمجھتا ہے۔ شیطان نے ان کے بُرے افعال کو ایسا مزین کر کے دکھایا ہے کہ وہ اسی پر خوش ہیں۔ کھیل تماشہ ہو یا رسومات باطلہ ، ڈھول ڈھمکا ہو یا گنا بجانا۔ نذرو نیاز ہو یا چادر پوشی سارے کام اچھا سمجھ کر کیے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اگر کوئی شخص ان کو اچھا نہیں سمجھے گا تو کریگا کیوں ؟ یہ سب شیطانی بہکاوا ہے۔ شیطان ورغلاتا ہے کہ تمہاری عزت شادی کی رسوم پر بےدریغ روپیہ خرچ کرنے میں ہے۔ لوگ کہیں گے فلاں تاجر نے فلاں حاجی نے ، فلاں چوہدری نے بڑی دھوم دھام سے ولیمہ کیا ہے ، چاہے غریبوں اور پڑوسیوں کو پوچھا تک نہ ہو۔ کھیلوں میں حصہ لینے سے بڑی شہرت حاصل ہوتی ہے۔ فلمی ستارے بڑے مشہور ہوتے ہیں۔ یہ سب اندھیرے کے کام ہیں۔ جنہیں شیطان مزین کر کے دکھاتا ہے اور لوگ اسی میں لگے رہتے ہیں۔
اس کے برخلاف حضور علیہ اسلام نے ایمان کی علامت یہ بیان فرمائی ہے اذ سرتک حسنتک وساء تک سیئتک فانت مومن جب تمہیں نیکی اچھی لگے اور بُرائی سے نفرت پیدا ہو تو سمجھ لو کہ تمہارے دل میں ایمان کی روشنی موجود ہے۔ اگر کسی کو برائی کا کام اچھا معلوم ہوتا ہے تو وہ شخص ایمان سے خالی ہے مومن آدمی ہمیشہ ایمان اور نیکی بات سے محبت کرتا ہے اور برائی کی نفرت کرتا ہے۔ اور پھر اگلا قدم یہ ہے کہ مومن برائی کو مٹانے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر صاحب اختیار ہے تو اس کو طاقت سے مٹاتا ہے ، اگر مبلغ اور واعظ ہے تو اس کو زبان اور قلم سے روکتا ہے اور پھر اس کا آخری درج یہ ہے کہ دل میں ہی نفرت پیدا ہوتی ہے اگر برائی کے خلاف میں بھی نفرت پیدا نہ ہو تو پھر حجور نے فرمایا ولیس وراء ذلک حبۃ خردل من الایمان تو انسان میں رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان باقی نہیں رہتا ۔ وہ سراسر گمراہی میں چلا جاتا ہے جس طرح ایمان والا نیکی کی باتوں سے محبت کرتا ہے اسی طرح کا فر لوگ شیطان کے بہکاوے میں آکر کفر ، شرک اور رسومات باطلہ کو اچھا سمجھتے ہیں۔
فرمایا حق اور باطل ہمیشہ برسر پیکار رہے ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ وکذلک جعلنا فی کل قریۃ اکبر مجرمیھا اور اسی طرح ہم نے بنائے ہیں ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم۔ اکابر اکبر کی جمع ہے۔ لیمکروا فیھا تاکہ وہ اس بستی میں حلیہ سازیاں اور مکاریاں کرتے ہی 9 ں۔ ایسے مجرمن ہر گائوں ، شہر اور ملک میں پیدا ہوتے رہے ہیں اور پیدا ہوتے رہیں گے۔ یہ لوگ سب سے پہلے ایمان کے خلاف عیاری کرتے ہیں۔ مشرکین مکہ اہل اسلام اور پیغمبر اسلام کی مخالفت میں بڑی بڑی مخفی تدبیریں کرتے تھے کسی طرح اللہ کا رسول اپنے مشن میں ناکام ہوجائے اور ہماری سیادت اور رسم و رواج چلتے رہیں۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ موجود ہے کہ انبیاء کی مخالفت اکثر سرمایہ داروں اور جاگیرداروں ہی نے کی تاکہ ان کی چودھراہٹ قائم رہ سکے اللہ کا نبی تو حلا ل و حرام کی تمیز سکھاتا ہے اور کہتا ہے ” کلوا مما فی الرض حلاً طیبا زمین میں حلال اور پاکیزہ چیزیں کھائو۔ ” کلو امن طیبت مارزقنکم “ اُن پاک چیزوں میں سے کھائو جو ہم نے تمہیں بطور رزق عطا کی ہیں۔ ” واعلملوا صالحا “ اور نیک کام انجام دو سارے انبیا کی یہی تعلیم رہی ہے۔ یہ چیز ابو جہل ، عتبہ اور ولید جیسے اکابر مشرکین کی مزاج کے خلاف تھی لہٰذا وہ اللہ کے نبی کی مخالفت کرتے تھے اور آپ کے مشن کو ناکام بنانا چاہتے تھے۔ اور اپنی من مانیوں کو جاری رکھنا چاہتے تھے۔ آج بھی ہدایت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ یہی سرمایہ پرست لوگ ہیں ۔ حلت و حرمت اور حقوق العباد کے احکامات کارخانے داروں ، وڈیروں اور سرمایہ داروں کے راستے میں رکاوٹ ہوتے ہیں لہٰذا وہ ہمیشہ ان کی مخالفت کرتے کرتے ہیں۔ پھر جب بالاخر لوگ ان کی چکی میں پسرتے ہیں تو انقلاب آتے ہیں۔ روس میں ایسا ہوا۔ جب عوام سرمایہ داروں کے خلاف ہوگئے تو 1917 ئ کے انقلاب میں پونے دو کروڑ انسان مارے گئے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ضرور ت کے وقت غریب کی حمایت کی بجائے سرمایہ پرستوں کی پشت پناہی کی جاتی ہے ، حتی کہ مذہبی قائدین بھی دولتمندوں کی حمایت کرتے ہیں۔ مفتیان انہی کے حق میں فتوے دیتے ہیں اور اس طرح انہیں مزید ظلم و ستم کرنے اور غریبوں کا خون چوسنے کا موقع مل جاتا ہے۔ مولانا سندھی فرماتے ہیں کہ روس کے اشتراکی پروگرام میں ابتداً مذہب کو نہیں چھیڑا گیا تھا۔ بلکہ محض اقتصادی پروگرام تھا۔ مگر بعد میں انہوں نے یہ نظریہ قائم کرلیا کہ خدا تعالیٰ کا عقیدہ محض ایک وہم ہے ، دین ایک افیون ہے جسے سرمایہ دار لوگ افیون کے طور پر استعمال کر کے عوام الناس کو نشے کی حالت میں رکھتے ہیں اور اپنا کام چلاتے رہتے ہیں۔ چناچہ آج روس کے منشور میں دین کا کوئی تصور نہیں اور اس کی حمایت جرم سمجھا جاتا ہے۔ وہاں کوئی شخص یہودیت ، عسائیت ہندومت یا اسلام کی تبلیغ نہیں کرسکتا۔ البتہ کسی بھی دین کے خلاف جو چاہے زہر اگلتا رہے۔ وہ جائز ہے۔ بہر حال جب کمزور لوگ سرمایہ داروں کے ہاتھوں بالکل پس گئے تو پھر وہ اٹھ کھڑے ہوئے اور انہوں نے سرمایہ داروں کے پائوں میں رسیاں باندھ کر تین تین میل تک گھسیٹا اور انہیں کتوں کی طرح ہلاک کیا۔ مشرقی ممالک میں بھی اگر سرمایہ دروں نے اپنی ذمہ داری کو محسوس نہ کیا تو ایسا ہی رد عمل بعید از قیاس خیال نہیں کیا جاسکتا۔
اسلام ایسے ہی تظالم کو روکنا چاہتا ہے۔ اللہ کا فرمان ہے انی حرمت ظلم علی نفسی میں نے ظلم کو اپنے آپ پر حرام کرلیا ہے۔ اے لوگو ! تم بھی ایک دوسرے پر ظلم نہ کیا کرو۔ ایمان کے بعد غربا پروری اہم ترین فریضہ ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں ہے ” وات ذالقربیٰ حقہ والمسکین “ قرابتداروں اور مسکینوں کا حق ادا کرو ۔ مگر دولتمندیہ حق غصب کرلیتے ہیں جسکی وجہ سے بےچینی پیدا ہوتی ہے اور پھر انقلابات آتے ہیں ” بسما کسبت ایدیکم “ کے مصداق یہ ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے۔
فرمایا سرمایہ دارنہ ذہنیت کے لوگ بڑی بڑی تدبیریں کرتے ہیں کہ کس طرح غریبوں کے حق کو دبائے رکھیں۔ وما یمکرون الا باانفسھم اور وہ انہیں مکاری کرتے مگر اپنے ہی نفسوں کے ساتھ وما یشعرون اور سمجھتے بھی نہیں۔ ان کی تمام تدبیریں انہی کیخلاف باقی ہیں اور وہ اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوتے۔ ابوجہل کی تمام تدابیر اور منصوبے چند ہی سال میں ناکام ہوگئے اور بالا خرق ہی کامیاب ہوا۔ باطل ہمیشہ کے لیے نامراد ہوگیا۔ اس کے باوجود اہل باطل ہمیشہ اپنے طریقے کو ہی اچھا سمجھتے ہیں اور آخر کار اس کا نتیجہ پالیتے ہیں۔
فرمایا ایسے لوگ حق کو کبھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے وازا جاء تھم ایۃ اور جب ان کے پاس کوئی واضح نشانی آجاتی ہے قالو لن نومن تو کہتے ہیں ، ہم ہرگز ایمان نہیں لائیں گے حتی نوتی ما اوتی رسل اللہ یہاں تک کہ ہمیں بھی وہی چیز دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے۔ یعنی جس طرح اللہ کے رسولوں کے پاس وحی آتی ہے ، صحیفے آتے ہیں ، فرشتے نازل ہوتے ہیں ، اسی طرح ہمیں بھی ایسی چیزیں ملنی چاہئیں۔ ان کے بغیر ہم ایمان لانے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔ خالد ؓ کا باپ ولید بڑا امیر و کبیر آدمی تھا۔ دس بیٹے اور وسیع مال و دولت تھا سوسائٹی میں بڑا وقار حاصل تھا ، کہتا تھا ، یہ سب کچھ میر پاس ہے ، وحی تو مجھ پر آنی چاہئے تھی ، رسالت مجھے ملنی چاہئے تھی ، یہ محمد کو کیسے مل گئی۔ کہتے تھے لولا نزل ہذالقران علی رجلٍ من القریت این عظیم “ (الزخرف) یہ قرآن پاک مکہ اور طائف کے بڑے آدمیوں پر کیوں نہیں آیا۔ نبوت ایک غریب شخص کو کیسے مل گئی ، مگر اللہ تعالیٰ نے اس کا اجمالی جواب دیدیا اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ اللہ خوب جانتا ہے کہ اس نے پیغام رسالت کہاں رکھنا ہے۔ وہ خالق ہے اور باصلاحیت آدمی کو جانتا ہے جو اس کا بوجھ اٹھا سکے۔ رسالت کی تقسیم نہ مال و دولت پر ہے اور نہ قوم اور برادری پر یہ تو اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے جس پر کر دے۔ یہ کس تکبر میں مبتلا ہیں۔ ہر آدمی اس قابل نہیں ہے کہ اس پر وحی نازل کی جائے تو یہ اللہ تعالیٰ کے انتخاب پر منحصر ہے۔
فرمایا جو لوگ بڑا بننے کی کوشش کرتے ہیں سیصیب الذین اجرمو مغار عند اللہ مجرم لوگ عنقریب اللہ کے ہاں ذلت پائیں گے۔ اللہ فرمائے گا کیا تم پر جبرائیل نازل ہوا اور اسی لیے اللہ کے رسول کی بات کو ٹھکراتے تھے۔ خدا کی تدبیر کا مقابلہ کرتے تھے ’ کالو اشد منکم قوۃ و اکثر اموالاو اولاد “ (توبہ) ان کے پاس مال بھی بہت تھا اور اولاد بھی زیادہ تھی ، لہٰذا نبوت پر بھی اپنا حق جتاتے تھے ، اللہ نے فرمایا ان کے لیے ذلت ناک عذاب تیار کیا گیا ہے۔ حضور کا یہ بھی فرمان ہے کہ قیامت والے دن یحشر المتکبرون کا مثال ذر یوم القیمۃ قیامت والے دن متکبر لوگ چیونٹیوں کی شکل میں چھوٹے چھوٹے اٹھائے جائیں گے ، ان کو غرور کرنے کی وجہ سے ذلیل کیا جائے گا ۔ اللہ نے ان کو دولت کی نعمت عطاء کی مگر انہوں نے اس کا شکر کرنے کی بجائے تکبر کیا ۔ توحید و سالت کا انکار کیا اور انبیاء کی تعلیم کا مقابلہ کیا۔ دنیا میں اندھیروں میں بھٹکتے رہے۔ مگر اپنے آپ کو بڑا سمجھتے رہے ۔ انہیں اللہ کی بارگاہ میں ذلت اٹھانی پڑیگی و عذاب شدید سخت عذاب سے بھی دوچار ہوں گے بما کانوا یمکرون اس واسطے کہ حق کے خلاف سازشیں کرتے تھے بڑی چالیں چلتے تھے۔ اسلام کے خلاف منصوبے بناتے تھے۔ اس کی اشاعت میں روڑے اٹکاتے تھے۔ لہٰذا ان پر ذلت کی مارپڑیگی اور سخت عذاب کا شکار ہوں گے۔
Ayahs 6:125–127گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دو شخصوں کی مثال بیان فرمائی ایک وہ شخص جس کے پاس ایمان اور ہدایات کی روشنی ہے اور وہ اس روشنی کے ذریعے لوگوں میں چلتا پھرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی تعریف کی ہے۔ دوسرا وہ شخص ہے جس کے پاس ایمان ، قرآن اور ہدایت کی روشنی نہیں ہے وہ اندھیروں میں بھٹک رہا ہے ، ایسے لوگوں کی اللہ نے قباحت بیان فرمائی۔ اللہ نے ہر بستی اور شہر میں اکابر مجرمین کی موجودگی کا ذکر کیا ۔ اور فرمایا کہ ان میں سے اکثر و بیشتر سرمایہ دار اور صاحبت اقتدار لوگ ہوتے ہیں جو حق کی مخالفت پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ اس سلسلہ میں اللہ نے اپنے پیغمبر اور اس کی تبعین کو تسلی بھی دی ہے کہ اگر آج کے بڑے بڑے مجرم نیکی کے راستے کو روکنا چاہتے ہیں۔ تو ایسا تو پہلے بھی ہوتا رہا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا۔ اللہ نے بعض متکبرین کا ذکر بھی کیا جو کہتے ہیں کہ جس طرح نبیوں پر فرشتہ ، کتاب اور وحی آتی ہے اسی طرح ہم پر بھی آنی چاہئے۔ انہوں نے غرور میں آکر بہت بڑی بات کی اور اپنے آپ کو وحی الٰہی کا اہل سمجھا ۔ ایسے لوگ اللہ کے دربار میں پہنچ کر سخت ذلت اور عذاب شدید میں مبتلا ہوں گے۔ وجہ ظاہر ہے کہ وہ اس دنیاں میں مکاریاں اور حیلا سازیاں کرتے تھے ۔ حق تعالیٰ کی توحید اور نبی برحق کی رسالت کے خلاف منصوبے بناتے تھے لہٰذا دونوں طرح کی سزا کے مستحق ہوں گے۔
مشرکین کی طرف سے نشانیاں طلب کرنے کا ذکر گذشتہ کئی دروس میں ہوچکا ہے ، وہ زبان سے کہتے تھے ” لئِن جا ءتھم ایۃ لیومن بھا “ اگر کوئی نشانی ہماری مرضی کے مطابق آئے گی تو ایمان لے آئیں گے مگر۔ اللہ نے فرمایا کہ اے اہل ایمان ! ان سے یہ توقع نہ رکھنا کہ نشانی دیکھ کر ضرورہی ایمان لے آئیں گے ان کی نیت خراب ہے۔ ان کو ہدایت نصیب ہو سکتی۔ اللہ تعالیٰ ہدایت اس شخص کو عطا کرتا ہے جو اس کا طلبگار ہو فمن یرد اللہ ان لھد یہ پھر جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دینے کا ارادہ کرتا ہے یشرح صدرہ للاسلام اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے۔ شرح صدر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔ اگر کسی شخص کے دل میں اسلام ، دین اور ایمان کا فہم پیدا ہوجائے اور وہ اسلام کو قبول کرلے تو یہ اللہ کا بہت بڑا حسان ہے ، مگر اس کا انحصار بھی انسان کی طلب پر ہی ہے۔ فرمایا ” والذین جاھدو افینا لنھد ینھم سبلنا “ (ونکبوت) جو لوگ ہماری طرف آنا چاہتے ہیں ، ہم ان کے سامنے ہدایت کے راستے کھول دیتے ہیں اور جو لوگ اس جذبہ سے خالی ہوتے ہیں انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوتی اور وہ محروم ہی رہتے ہیں۔ ایسے لوگ اپنی صلاحیت اور عقل کو بروئے کار نہیں لاتے جسکی وجہ سے ان کے لیے ہدایت کا راستہ واضح نہیں ہوتا۔ دوسری جگہ یہ بھی موجود ہے ” انیبو الی ربکم واسلموالہ “ (النوم) اپنے رب کی طرف رجوع کرو۔ جو آدمی اللہ تعالیٰ سے صراط مستقیم کی بطل بھی کریگا۔ یقینا انکے راستہ واضح کردیا جائے گا۔ اس کے برخلاف جو شخص مغرور ہے۔ محاسبے کی فکر نہیں رکھتا ، اہل ایمان کو کمزور اور حقیر جانتا ہے ، دنیا کے جاہ و اقتدار کو پسند کرتا ہے ، ایسے لوگ ہدایت کے مستحق نہیں ہوتے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ جس شخص کا سینہ اللہ تعالیٰ کھول دے اس کی علامات کیا ہیں فرمایا الانابۃ الی وارلخولد والتجافی عن دار الغرور والا ستعداد للموت قبل ورودالموت یہ تین نشانیاں بیان فرمائیں کہ جس شخص کو شرح صدر حاصل ہوجائے وہ آخرت کی طرف رُخ کرتا ہے ، ہر وقت متفکر رہتا ہے کہ اسے بارگاہِ رب العزت میں پیش ہونا ہے اور دوسری نشانی کہ وہ دھوکے کے گھر یعنی اس دنیا سے حتی الامکان کنارہ کش رہتا ہے۔ دنیا میں زیادہ منہمک نہیں ہوتا۔ حضور علیہ اسلام نے زہد کی بھی ایسی ہی تعریف فرمائی ہے۔ لایکون مما فی یدیک اوثق مما فی ید اللہ یعنی زہد اس چیز کا نام ہے کہ تمہیں اس چیز پر اعتماد ن ہو جو تمہارے ہاتھ میں ہے اس چیز پر زیادہ اعتماد ہو۔ جو اللہ کے پاس یقینا وہی پائدار ہے اس دنیا میں ہمارے پاس جو وسائل ہیں وہ تو عارضی ہیں۔ ان پر کیسے بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔
کل نعیم لا محالۃ زائل وانت عن مقیلک عنقریب راحل
دنیا کی تمام نعمتیں زائل ہوجائیں گی اور تمہیں عنقریب یہاں سے کوچ کر جانا ہے۔
ارالغرور یعنی اس دنیا کو دارالا امتحان بھی کہا جاتا ہے۔ جو شخص اس عارضی قیامگاہ کو مستقل سمجھ لے اور دارالخلود یعنی ہمیشگی کے گھر کو فراموش کر دے تو وہ ناکام ہوجائیگا۔ جس کا سینہ اسلام کے لیے کھل جاتا ہے ، وہ آخرت کے گھر کی طرف رجوع رکھتا ہے اور حتی المقدور اس دھوکے والے گر سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے۔ حضور علیہ اسلام دعا میں فرمایا کرتے تھے الھم لاتجعل الدنیا اکبر ہمنا ولا مبلغ علمنا اے اللہ ! صرف دنیا کو ہماری منزل مقصود نہ بنا دے اور نہ ہی ہمارے علم کو اس دنیا تک محدود کر دے بلکہ ہما را رُخ آخرت کی طرف پھیر دے۔ کافر اور مشرک کا منتہائے مقصود صرف دنیا ہوتا ہے جب کہ مومن دنیا اور آخرت دونوں کا طلب گار ہوتا ہے چناچہ یہ دعا خود قرآن پاک نے سکھلائی ہے ” ربنا اتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃ “ (البقرہ) اے اللہ ہمیں دنیا میں بھی بھلائی عطا کر اور آخرت میں بھی بہتری عطا فرما۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) بیان القرآن میں فرماتے ہیں کہ حسنہ سے مراد محض دینا کیی خوش حالی نہیں کیونکہ یہ تو کفار و مشرکین اور ملحدوں کو بھی میسر ہے ، بلکہ حسنہ سے ایسی حالت مراد ہے جو اللہ کے نزدیک بہتر ہو ۔ ظاہر ہے کہ بہتر حالت وہی ہے جس میں نجات حاصل ہوجائے ، چناچہ ایک مومن اسی کا طالب ہوتا ہے۔
غرضیکہ مومن کے پیش نظر دو مقاصد ہوتے ہیں فرمایا ھم المعاش وھم المعاد یعنی دنیا میں اچھی گزران اور آخرت میں نجات ۔ دنیا کی زندگی میں اچھی معیشت ہر انسان کی بنیادی ضرورت ہے۔ ہر شخص حیات طیبہ کا خواہشمند ہوتا ہے۔ اللہ کے نزدیک محنت کرنے والا مزدور اور کسان اچھی معیشت کا حامل ہوتا ہے حضور علیہ اسلام نے فرمایا کہ اللہ کے نزدیک اس غلام کی حالت بہت اچھی ہے۔ جو اپنے مجازی مالک کا حق بھی ادا کرتا ہے اور حقیقی مالک کے حقوق کی بھی پاسداری کرتا ہے۔ یعنی اپنے آقا کی خدمت میں بھی کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا اور اللہ مالک الملک کی عبادت میں بھی منہمک رہتا ہے۔ ایسا غلام دہرے اجر کا مستحق ہوتا ہے ایک غریب مزدور کی حالت اس امیر کبیر کارخانے دار سے بد رحہا اچھی ہے۔ جسکی دولت عیاشی ، فحاشی اور رسومات باطلہ پر خرچ ہوتی ہے ۔ مقصد یہ کہ اچھی معیشت محض دنیوی آسودگی کا نام نہیں بلکہ اللہ کے ہاں پسندیدہ حالت مراد ہے۔ اور یہ کیفیت اسی وقت پید ہوگی ، جب انسان اپنے فرائض اور مخلوق خدا کے حقوق ادا کرے گا۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کے نزدیک ارتفاقات معاشیہ کو صحیح طور پر انجام دینا ایک مومن کے لیے لازمی ہے۔ ایسا شخص جائز وسائل آمدنی اختیار کرتا ہے اور حرام راستوں سے بچتا ہے مصارف کے معاملہ میں بھی وہ حد اعتدال کو قائم رکھتا ہے نہ کنجوسی کرتا ہے اور نہ اسراف کا مرتکب ہوتا ہے ، نہ تو ناجائز ذرائع سے مال حاصل کرتا ہے اور نہ ہی محنت ، مزدوری ، تجارت یا صنعت سے کمایا ہوا مال بینڈ باجے ، آتش بازی اور ولیمے کی پرتکلف دعوتوں پر اڑاتا ہے وہ نہ تو پختہ قبریں بناتا ہے اور نہ ان پر چادریں چڑھاتا ہے ، نہ وہ عرس اور قوالی کراتا ہے اور نہ ختم دلواتا ہے۔ یہ سب اضاعت مال ہے جس سے اللہ اور رسول نے منع فرمایا ہے۔ حرام کی کمائی کو ترقی کا نام دینا دھوکے کا سامان ہے۔ رشوت ، سود ، بیمہ ، کھیل تماشے کی آمدنی ناجائز ذرائع میں سے ہے۔ گانے بجانے ، تصویر سازی اور بلیک مارکیٹنگ کی کمائی پر خوش نہیں ہونا چاہئے۔ یہ آخرت میں وبال جان بن جائے گی۔ اس کی بجائے جائز ذرائع سے کمائو اور جائز مصارف پر خرچ کرو کیہ اسی میں عافیت ہے اور اسی میں نجات ہے۔
بہر حال شرح صدر کی دوسری علامت یہ ہے کہ حتی الامکان دنیا سے دل نہ لگایا جائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا کو باطل ہی ترک کردیا جائے۔ کیونکہ لا رھبنیۃ فی الاسلام اسلام میں ترک دنیا کا کوئی تصور نہیں تاہم دنیا سے بچنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ اس کو عارضی قیام گہا ہی سمجھنا چاہئے اور تو ہمیشہ دارخلود یعنی ہمیشہ رہنے والے گھر کی طرف ہی ہونی چاہئے۔ اور شرح صدر کی تیسری علامت یہ ہے کہ ایسا شخص موت کے وار د ہونے سے پہلے اس کی تیاری میں لگا رہتا ہے۔ حضور علیہ اسلام کا ارشاد مبارک ہے۔ اکثر واذکر ھازم الازات یعنی لذتوں کو ختم کردینے والی چیز موت کا کثرت سے ذکر کیا کرو۔ اس سے دل میں صفائی پیدا ہوتی ہے۔ جو شخص قرآن پاک تلاوت کرتا ہے اور موت کو کثرت سے یاد کرتا ہے ۔ اس کے دل پر زنگ نہیں چڑھے گا۔ اور اگر قرآن پاک کی بجائے ناول ہی پڑھتے رہو گے ، گانے سنو گے تو دل پر زنگ چڑھ جائے گا۔ اور وہ سیاہ ہوجائے گا ، اس کے نتیجے میں موت بھول جائے گی انگریزی اور یورپی تمدن اسی منج پر آکر آخرت اور خدا تعالیٰ کو فراموش کر بیٹھا ہے۔ نہ خدا کا تصور اور نہ آکرت کی فکر۔ ان کے پیش نظر ایک ہی چیز ہے۔
بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست
بہرحال فرمایا کہ شرح صدر کی تیسری علامت یہ ہے کہ انسان موت سے پہلے موت کی تیار کرتا ہے۔
دل کی کشادگی کے ذکر کے بعد اللہ نے دل کی تنگی کے متعلق فرمای ہے ومن یرد ان یضلہ اور جس کو اللہ گمراہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے یجعل صدرہ ضیقا حرجا اس کے سینے کو تنگ کردیتا ہے۔ تنگی والا حرج اس درخت کو کہتے ہیں جو بہت سے گھٹے درختوں کے جھنڈ کے اندر واقع ہو اور وہاں تک کوئی چیز آسانی سے نہ پہنچ سکے۔ سینے کی تنگی کا بھی یہی مطلب ہے کہ اس میں کوئی کارخیر ، ایمان یا ہدایت داخل نہیں ہو سکتی۔ اور اس کی مثال ایسی ہے کا نما یصعد فی اسلماء گویا وہ آسمان کی طرف چڑھنا چاہتا ہے۔ مگر چڑھ نہیں سکتا۔ اسی طرح تنگ دل میں نیکی کی کوئی بات داخل نہیں ہو سکتی۔
دل کا تنگ ہوجانا بلا وجہ نہیں ہوتا بلکہ اس کے بھی اسباب ہوتے ہیں۔ قدرت نے سوبب اور مسبب یا علت اور معلول کا سلسلہ قائم کر رکھا ہے جو لوگ اپنے دل کا شیشہ صاف رکھتے ہیں ، اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں اور ہدایت کے طلب گار ہوتے ہیں ، اللہ تعالیٰ یقینا ان کے سامنے راہ راست کو واضح کر دیگا اس کے برخلاف جو شخص اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع ہی نہیں کرتا ، جسے محاسبے کی فکر ہی نہیں ہے ، اللہ کے ہادیوں کو حقیر سمجھتا ہے۔ دنیا سے محبت کرتا ہے اور جا پسند ہے ، ایسے لوگوں کے دلوں کو اللہ تعالیٰ تنگ کردیتا ہے اور پھر ہدایت کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی کھو بیٹھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق اللہ نے فرمایا ” صم البکم الذین لایقلون “ (انفال) ایسے لوگ اندھے اور بہرے ہوجاتے ہیں ، ان کے دل تنگ ہوجاتے ہیں۔ پھر نہ وہ عقل کو صحیح طور پر استعمال کرتے ہیں اور نہ انہیں راہ راست میسر آتا ہے فرمایا کذلک یجعل اللہ الرجس علی الذین لا یوء منون اسی طرح اللہ ڈال دیتا ہے گندگی ان لوگوں پر جو ایمان نہیں لاتے ۔ رجس کے مختلف معنی آتے ہیں ۔ گندگی کے علاوہ اس لفظ کا معنی عذاب بھی ہے۔ یہ معنی بھی صادق آتا ہے کہ جس شخص کا سینہ تنگ ہوجاتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کو عذاب میں مبتلا کردیتا ہے۔ رجس شیطان پر بھی بولاجاتا ہے۔ یعنی ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ شیطان کو مسلط کردیتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ شیطان تو بذات خود گندا ہے ، اس کی فکر گندی ہے اور گندگی ہی کی تعلیم دیتا ہے۔ اسی لیے حضور علیہ اسلام نے تعلیم دی ہے کہ بیت الخلا میں جاتے وقت یہ دعا پڑھ لیا کرو۔ اعوذ باللہ من الخبث الخبائث یعنی میں نر اور مادہ شیاطین سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں۔ ایسا کہنے والا شیطان کے شر سے محفوظ رہتا ہے ، وگرنا حضور نے فرمایا کہ شیطان انسان کے اعضائے مستورہ کے ساتھ بیت الخلا میں کھیلتے رہتے ہیں۔
فرمایا وھذ صراط ربک مستقیماً ہے تیرے رب کا سیدھا راستہ جس پر اللہ کا آخری پیغمبر اور اس کے پیرو کار چل رہے ہیں اور جس کے اصول و ضوابط اللہ نے اس کتاب قرآن پاک میں نازل فرما دیئے ہیں۔ پھر جہاں ضرورت تھی ، اللہ کے نبی نے ان کی تشریح بھی بیان کردی ہے۔ دوسرے مقام پر فرمایا ھذا صراط علی مستقیم (الحجر) یہی میری طرف سیدھا راستہ ہے آگے فرمایا قد فصلنا الایت لقوم یذکورون ہم نے تفصیل کے ساتھ نشانیاں ، معجزات ، دلائل ، احکام اور اصول وغیرہ بیان کردیئے ہیں۔ یہ نشانیاں اللہ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ ہیں۔ اس کی وحدانیت ، قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کو واضح کرتی ہیں اور یہ اس قوم کے لیے ہیں جو نصیحت پکڑتے ہیں ۔ جو لوگ نصیحت کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے ان کے لیے کوئی دلیل اور نشانی مفید نہیں ہو سکتی۔ سورة غاشیہ میں ہے کہ ” فذکر انما آنت مذکر “ آپ لوگوں کو نصیحت کریں کیونکہ آپکا کام نصیحت کرنا ہی ہے۔ سورة اعلیٰ میں ہے ” سیذکرمن یخشیٰ “ نصیحت وہ آدمی پکڑتا ہے جس کے دل میں خوف ہو ، جس کے دل میں آخرت اور محاسبے کا خوف جاگزیں ہوگا۔ وہ اللہ کی بیان کردہ نشانیوں سے ضرور نصیحت پکڑے گا۔ سورة اعراف میں آتا ہے ” واذکر ربک فی نفسک “ اپنے دل میں رب کا ذکر کرو ” بالغدو والاصال “ یعنی صبح و شام “ ولا تکن من الغافلین “ اور غافلوں میں نہ ہوجانا۔ ورۃ یوسف میں ہے ” وکاین من آیۃ فی السموت الارض یمرون علیھا وھم عنھا معرضون “ زمین و آسمان میں اللہ کی قدرت کی کتنی ہی نشانیاں موجود ہیں۔ جن پر سے لوگ گزر جاتے ہیں مگر ان کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے بہر حال فرمایا کہ ہم نے نصیحت پکڑنے والوں کے لیے اپنی نشانیاں تفصیل کے ساتھ بیان کردی ہیں۔ صراط مستقیم کو واضح کردیا ہے۔ اب جو چاہے اس استے کو اختیار کر کے منزل مقصود تک پہنچ جائے اور جو چاہے اس سے اعراض کر کے گمراہی کے اندھیروں میں بھٹکتا پھرے۔
فرمایا جو لوگ ہماری نشانیوں سے نصیحت پکڑ لیتے ہیں لھم دارا عندربھم ان کے لیے سلامتی کا گھر ہے ان کے رب کے پاس دارالسلام سے مرا جنت ہے۔ جیسے دعا کی جاتی ہے اے مولا کریم ! اد خلنا فی دارلسلام ہم سب کو سلامتی کے گھر میں داخل فرما۔ جنت سلامتی کا گھر اس لیے ہے کہ وہاں کوئی دکھ تکلیف نہ ہوگی۔ نہ کوئی بیمار ہوگا اور نہ پریشان ہوگا ہر طرف سے سلامتی کی آوازیں آئیں گی۔ سورة زمر میں ہے کہ جب فرشتے جنتیوں کو گروہ درگروہ جنت کی طرف لے جائیں گے تو ان کے لیے دروازے کھول دیئے جائیں گے تو ان سے کہا جائیگا ” وسلم علیکم طبتم فارخلوھا خلدین “ (الزمر) تم پر سلامتی ہو۔ تم بہت اچھے رہے اب اس میں ہمیشہ کے لیے داخل ہو جائو خود اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام آئے گا۔ ” سلام قف قولا من رب رحیم “ (یٰسین) مومن بھی ایک دوسرے کو سلام کریں گے اور فرشتے بھی اہل جنت کو سلام کردیں گے۔ اسی کے متعلق فرمایا کہ صراط مستقیم پر چلنے والوں کے لیے ان کے رب کے پاس سلامتی کا گھر ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔
فرمایا وھو ولیھم اور وہی اللہ ان کا کارساز ہے جو لوگ اللہ کی رضا کے طالب ہیں۔ جن کا سینہ اللہ نے کھول دیا ہے۔ جو صراط مستقیم کے مسافر ہیں اور جو آخرت کے محاسب سے ڈرتے ہیں۔ اللہ ان کا کارساز اور نگہبان ہے۔ اور یہ انعام ان کو اس بدلے میں حاصل ہوگا بما کانوا یعملون جو کچھ وہ اس دنیا میں کرتے رہے۔ انہوں نے اس دنیا کی زندگی میں ایمان حاصل کیا اور نیک کام انجام دیئے ، اب اس کے بدلے میں اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہوجائے گا ، ان کا کار ساز ہوگا اور اس طرح وہ کامیابی کی منزل تک پہنچ جائیں گے۔