6. Surah Al-An'aam

الأنعامThe Cattle · 165 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 6:50–51

قُلْ لَّاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ عِنْدِیْ خَزَآئِنُ اللّٰهِ وَ لَاۤ اَعْلَمُ الْغَیْبَ وَ لَاۤ اَقُوْلُ لَكُمْ اِنِّیْ مَلَكٌ١ۚ اِنْ اَتَّبِعُ اِلَّا مَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ١ؕ قُلْ هَلْ یَسْتَوِی الْاَعْمٰى وَ الْبَصِیْرُ١ؕ اَفَلَا تَتَفَكَّرُوْنَ۠ Open ayah 6:50 in the Quran reader

اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے ‘ اے لوگو ! میں نہیں کہتا تم سے کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ اور میں نہیں جانتا غیب ‘ اور میں نہیں کہتا تم سے کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں نہیں پیروی کرتا مگر اس چیز کی جو میری طرف وحی کی جاتی ہے۔ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے ‘ کیا برابر ہے اندھا اور دیکھنے والا ‘ کیا تم غور و فکر نہیں کرتے

وَ اَنْذِرْ بِهِ الَّذِیْنَ یَخَافُوْنَ اَنْ یُّحْشَرُوْۤا اِلٰى رَبِّهِمْ لَیْسَ لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ وَلِیٌّ وَّ لَا شَفِیْعٌ لَّعَلَّهُمْ یَتَّقُوْنَ Open ayah 6:51 in the Quran reader

ڈرا دیں آپ اس (قرآن) کے ذریعے ان لوگوں کو جو خوف کھاتے ہیں کہ ان کو اکٹھا کیا جائے گا ان کے رب کے پاس نہیں ہوگا ان کے لئے اس کے سوا کوئی کارساز اور نہ کوئی سفارش کرنے والا ‘ تا کہ یہ لوگ بچ جائیں۔

ربط آیات گزشتہ آیات میں بیان ہوچکا ہے کہ مشرکین حضور ﷺ سے نشانیاں طلب کرتے تھے اور کہتے تھے ” لو لا نزل علیہ ایتہ من ربہ “ یعنی مدعی رسالت کو ہماری مرضی کے مطابق نشانی طاہر کرنی چاہئے جس کو دیکھ کر ہم ایمان لائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس سوال کا جواب بھی دیا کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی نشانی ظاہر کرنے پر قادر ہے مگر یہی لوگ علم سے بےبہرہ ہیں۔ ان کو پتہ ہونا چاہئے کہ اگر اپنی فرمائش حاصل کرنے کے بعد بھی وہ ایمان نہ لائے تو اللہ تعالیٰ فوری طور پر سزا میں مبتلا کرسکتا ہے اور پھر ایسے لوگوں کو مہلت بھی نہیں ملا کرتی۔ تاہم یہ بات اللہ تعالیٰ کی حکمت کے خلاف ہے کہ ہر مطلوبہ نشانی کو نازل فرما دے۔ البتہ وہ اپنی حکمت کے مطابق جو نسی نشانی مناسب سمجھتا ہے اس کو ظاہر کردیتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء اور رسل کی حیثیت کو واضح فرمایا۔ ” وما نرسل المرسلین الا مبشرین و منذرین “ ہم نہیں بھیجتے رسولوں کو مگر خوشخبری سنانے والے اور ڈرانے والے۔ پھر یہ بھی واضح کیا کہ جو شخص ایمان لائے گا اور اپنی اصلاح کرلے گا نیکی کو اختیار کرے گا۔ برائی سے بچ جائے گا ‘ ایسے لوگو پر نہ خوف مسلط ہوگا اور نہ ہی وہ غمگین ہوں گے۔ اس کے برخلاف جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے ‘ انہیں ان کی نافرمانی کی وجہ سے عذاب پہنچے گا۔ بہرحال فرمایا کہ نشانیاں پیش کرنا رسولوں کے منصب میں داخل نہیں ‘ البتہ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے کسی رسول کے ہاتھ پر کوئی نشانی ظاہر فرما دیتا ہے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے منصب نبوت و رسالت کی مزید وضاحت فرمائی ہے کہ نبی اور رسول الوہیت کا دعویٰ نہیں کرتے اور نہ ہی فرمائش پوری کرنا ان کی ذمہ داری ہوتی ہے ‘ بلکہ ہر نبی وہی بات کہتا ہے جو حضرت خاتم النبین ﷺ کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں کہلوائی ہے ہر نبی اعلان کرتا ہے کہ نہ تو وہ الوہیت کا دعویدار ہے اور نہ ہی کسی خدائی صفت سے متصف ہے۔ ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے کہ اے لوگو ! لا اقول لکم عندی خزائن اللہ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں کہ جس کو چاہوں دے دوں اور جس کو چاہوں محروم کر دوں ‘ یہ میرے اختیار میں ہرگز نہیں کہ کسی کو دولت مند بنا دوں اور کسی کو قلاش کہہ دوں۔ ایسا کہنا تو صریحاً کفر اور شرک ہے ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان سے اس کی نفی کرا دی۔ دوسری جگہ پر موجود ہے کہ تمام قسم کے خزانے اللہ جل جلالہ کے پاس ہیں ‘ وہ جس کو چاہے عطا کر دے اور جس سے چاہے چھین لے سورة حجر میں فرمایا ” و ان من شئی الا عندنا خزائنہ وما نزلہ الا بقدر معلوم “۔ ہر چیز کے خزانے اس کے پاس ہیں۔ اور وہ اپنی حکمت ‘ مصلحت اور اندازے کے مطابق جتنا چاہتا ہے ‘ نازل فرماتا ہے ۔ خزانہ پانی کا ہو یا ہوائوں کا ‘ اس کی رحمت کا ہو زحمت کا ‘ سب اسی کے تصرف میں ہیں ‘ لہٰذا پیغمبر کو خزانوں کا مالک سمجھنا منصب نبوت کے خلاف ہے۔ اس آیت کریمہ میں جو دوسری چیز نبی (علیہ السلام) کی زبان سے کہلوائی گئی ہے۔ وہ ہے ولا اعلم الغیب اور میں غیب بھی نہیں جانتا یہ میرے علم میں نہیں ہے کہ کسی کی موت کب واقع ہوگی یا قیامت کب آئے گی غیب کیا ہے ؟ امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ عربی زبان میں غیب پست جگہ کو کہتے ہیں اور اس سے مراد مخفی یا پوشیدہ چیز ہوتی ہے۔ قرآن پاک میں یہ اللہ تعالیٰ کی صفت مختصر بیان کی گئی ہے کہ وہ ” علم الغیب والشھادۃ “ (الحشر) یعنی تمام پوشیدہ اور ظاہر چیزوں کو جاننے والا ہے۔ غیب اور شہادت کی یہ اصطلاح مخلوق کی نسبت سے ہے ‘ نہ کہ خالق کہ نسبت سے بعض چیزیں انسانوں کی نسبت سے اور بعض جنات کی نسبت سے غائب اور حاضر ہیں وگرنہ اللہ تعالیٰ کی نسبت سے کوئی چیز بھی غائب نہیں۔ امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ غائب وہ چیز ہے جسے نہ حواس سے ‘ نہ عقل سے اور نہ کسی واسطے سے معلوم کیا جاسکے جو چیزیں حواس ظاہرہ یا باطنہ ‘ غور و فکر کسی دوسرے ذریعے سے معلوم ہوں ‘ وہ غائب نہیں کہلاتیں ‘ بہت سی نامعلوم چیزیں غور و فکر کرنے سے سمجھ میں آجاتی ہیں۔ یہ علم غیب نہیں ہے بعض چیزوں کو انسان ٹٹول کر ‘ چکھ کر یا سونگھ کر معلوم کرلیتا ہے بعض چہرے دوسروں کی وساطت سے معلوم ہوجاتی ہیں تو انہیں غیب کا علم نہیں کرسکتے علم غیب صرف وہ ہے جو بغیر کسی واسطے کے حاصل ہو اور یہ صرف اللہ تعالیٰ کو حاصل ہے۔ انبیاء کے ذرائع علم باقی رہی یہ بات کہ انبیاء (علیہم السلام) کو جو وسیع علم حاصل ہوتا ہے ‘ اس کی کیا نوعیت ہے۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ انبیائے کرام کو جو علم حاصل ہوتا ہے وہ یا تو وحی کے ذریعے ہوتا ہے یا الہام کے ذریعے۔ اسی طرح بعض اوقات اولیاء اللہ کو بھی الہام کے ذریعے بعض چیزوں کا علم ہوجاتا ہے جیسا کہ پہلے عرض کیا ‘ چونکہ یہ چیزیں کسی واسطے کے ذریعے حاصل ہوتی ہیں اس لئے غیب کی تعریف میں نہیں آتیں بلکہ یہ چیزیں اخبار غیب یعنی غیب کی بن جاتی ہیں ۔ قرآن پاک میں اس کی کئی مثالیں موجود ہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے واقعہ موجود ہے جب انہوں نے بیٹے کیلئے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے کہا ……یہ تیرے اہل میں نہیں ‘ تو وہاں پر فرمایا ” تلک من ابناء الغیب نوحیھا الیک “ (ہود) یہ غیب کی خبریں ہیں جو اپنے نبیوں کو وحی کے ذریعے بتلا دیتے ہیں وگرنہ ” وما کنت تعلمھم آپ نہیں جانتے تھے آپ وہاں حاضر تو نہیں تھے۔ ہر مقام پر موجود تو اللہ تعالیٰ کی صفت ہے ‘ لہٰذا اس نے حضور ﷺ کی ہر جگہ موجودگی بھی نفی فرمائی ‘ غیب تو اللہ تعالیٰ کا خاصا ہے ” قل لا یعلم فی السموات والارض الغیب الا اللہ “ (النحل) زمین و آسمان کی کوئی مخلوق غیب نہیں جانتی سوائے اللہ تعالیٰ کے نہ کسی انسان کو علم غیب حاصل ہے اور نہ کسی مقرب فرشتے کو مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ بات بالکل متفق اور صحیح ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) غیب نہیں جانتے الا ما اعلھم اللہ سوائے اس کے کہ جتنا اللہ تعالیٰ ان کو سکھا دے ‘ اور اس حقیقت میں بھی کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ تمام مخلوق میں انبیاء (علیہم السلام) کو سب سے زیادہ علم دیتا ہے اور پھر انبیاء اور رسل میں تمام مخلوق میں انبیاء (علیہم السلام) کو سب سے زیادہ علم دیتا ہے اور پھر انبیاء اور رسلم میں حضرت خاتم النبین ﷺ کو سب سے زیادہ علم دیا ہے ‘ مگر وہ بھی علم محیط نہیں بلکہ خدا کے علم کی نسبت سے محدود ہے انبیاء اتنا ہی جانتے ہیں جتنا اللہ تعالیٰ بتلا دیتا ہے۔ ” علم الغیب فلا یظھر علیٰ فیبہ احدا الا من ارتضیٰ من رسول “ (الجن) عالم الغیب صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے وہ اپنے غیب کو کسی پر ظاہر نہیں کرتا مگر اپنے رسولوں میں سے جسے پسند کرتا ہے ان پر وحی کے ذریعے نازل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنا کلام اور احکام وحی کے ذریعے نازل فرماتا ہے۔ حظیرۃ القدس اور عالم بالا کی باتیں وحی کے ذریعے اپنے انبیاء کو بتاتا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی کتاب ” تفہیمات الٰہیہ “ میں لکھتے ہیں کہ جو صفات اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ مختص ہیں ‘ مخلوق سے ان کی نفی کرنا ضروری ہے۔ مثلاً قدرت تامہ ‘ علم محیط اور علم غیب صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے ‘ لہٰذا باقی تمام مخلوق میں یہ چیزیں نہیں پائی جاتیں۔ انبیاء (علیہم السلام) نے سینکڑوں گزشتہ اور آنے والی باتوں کی خبر دی جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو بتلا دیا ۔ حضور ﷺ نے کروڑوں جزیات بتلا دیں۔ مگر یہ سب کچھ وحی الٰہی کے ذریعے علم ہوا ‘ اس لئے اسے غیب نہیں کہا جاسکتا کیونکہ غیب وہ ہوتا ہے جو بغیر کسی واسطے کے حاصل ہو۔ شاہ عبدالقادر (رح) فرماتے ہیں کہ جو شخص اعتقاد رکھے کہ فلاں آدمی کو ہر چیز کا علم ہے ‘ اسے ہمارے حالات کا پتہ چل جاتا ہے ‘ تو یہ شرک ہے کیونکہ ہر چیز کا علم اللہ کے سوا کسی کو نہیں۔ وحی اور الہام نبیوں کو ہوتا ہے۔ کشف اور الہام اولیاء اللہ کو بھی ہوتا ہے۔ شاہ اسماعیل شہید (رح) طبقات میں لکھتے ہیں۔ کہ کشف اور الہام گیارہ اقسام سے ہے مگر بہرحال کسی نہ کسی واسطے سے ہوتا ہے ‘ لہٰذا اسے علم غیب پر محمول نہیں کیا جاسکتا۔ تو اللہ نے اپنے پیغمبر آخر الزمان کی زبان سے کہلوایا کہ آپ کہہ دیں کہ میں غیب نہیں جانتا۔ ولا اقوال لکم انی ملک اور میں نہیں کہتا تم سے کہ میں فرشتہ ہوں۔ اتباع وحی فرمایا آپ صاف صاف اعلان فرما دیں ان اتبع الا ما یوحی الی میں تو اسی چیز کی پیروی کرتا ہوں جو میری طرف وحی کی جاتی ہے یعنی میں بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کا پابند ہوں۔ میں نہ تو فرشتہ ہوں جو کھانے پینے اور لوازمات بشر یہ سے پاک ہوں اور نہ میں غیب دان ہوں بلکہ میں تو عبد ہوں اور اس حیثیت سے میرا فرض ہے کہ میں وحی الٰہی کا اتباع کروں۔ تو انبیاء (علیہم السلام) امتثال امر الٰہی میں کمال درجہ رکھتے ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں اور امتثال امر الٰہی بد ہیت وجہ تقصیر نہ کردہ اند یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں اس کے …… نبی کوئی کوتاہی نہیں کرتے۔ جو شخص یہ اعتقاد رکھے کہ کسی نبی نے حکم الٰہی کی تعمیل میں کوتاہی کی وہ گمراہ ہوگیا۔ البتہ بعض اوقات انبیاء سے اجتہادی خطا سرزد ہوجاتی ہے جب کوئی چیز وحی الٰہی کی عدم موجودگی میں اپنی صوابدید سے کرتے ہیں تو اس میں خطا کا احتمال ہوتا ہے اور اگر ایسا ہوجائے تو اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی فوراً اس کی اصلاح کردیتے ہیں۔ البتہ غیر نبی اگر کوئی اجتہادی غلطی کرے تو اس کے لئے یہ قانون نہیں ہے۔ اسی طرح خواب کی تعبیر میں بھی نبی سے غلطی ہو سکتی ہے ایک دفعہ حضور ﷺ نے خواب میں کچھ دیکھا اس کی تعبیر ایسی فرمائی جو حقیقت میں نہیں تھی۔ آپ نے اس طرح کا ذکر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے بھی کیا کہ جو کچھ میں نے دیکھا ہے اگر اسی طرح ہے تو پھر فلاں چیز یقینا ہو کر رہے گی۔ تو معلوم ہوا کہ خواب میں نظر آنے والی چیزیں بعض اوقات اصلیت کے مطابق نہیں ہوتیں اور تعبیر میں خطا ہو سکتی ہے بہرحال عصمت انبیاء کا مطلب یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) جان بوجھ کر حکم الٰہی میں کوتاہی نہیں کرتے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے نہیں ہیں اور نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ ہی میں اپنے آپ کو فرشتہ کہتا ہوں ‘ بلکہ میرا فرض منصبی تو یہ ہے کہ میں وحی الٰہی کا اتباع کرتا ہوں۔ اندھا اور بینا اس کے بعد فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں ھل یستوی الاعمی والبصیر کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتے ہیں۔ مومن بینا ہے اور کافر اندھا ‘ بھلا یہ دونوں کیسے برابر ہو سکتے ہیں۔ مومن کامل درجے کی بصیرت رکھتا ہے اور پھر نبی کو پوری نوع انسان میں کمال حاصل ہوتا ہے۔ اس کے برخلاف کفر و شرک کا مرتکب اندھا ہے جو اندھیرے میں سرگرداں پھر رہا ہے حضور ﷺ نے ذکر الٰہی کرنے والے اور نہ کرنے والے کو حی اور میت سے تعبیر کیا ہے۔ ” مثل الذی یذکر اللہ کمثل الحی “ جو آدمی اللہ کا ذکر کرتا ہے۔ اس کی مثال زندہ کی ہے اور جو ذکر نہیں کرتا وہ مردہ ہے۔ جو ہدایت کے راستے پر ہے وہ بصیر ہے اور جو گمراہی کے راستے پر ہے وہ اندھا ہے۔ اور اندھا اور بینا کبھی برابر نہیں ہو سکتے۔ افلا تتفکرون تم غور و فکر کیوں نہیں کرتے۔ یہ اتنی واضح اور غیر مبہم چیز ہے کہ ذرا سا غور کرنے پر ہی حقیقت منکشف ہوجاتی ہے۔ فرمایا اے پیغمبر ! وانذر بہ الذین یخافون ان یحشرو الی ربھم آپ ڈرائیں اس قرآن پاک کے ذریعے ان لوگوں کو جو اللہ کے سامنے اکٹھے کئے جانے سے خوف کھاتے ہیں جن کے دل میں معاد کا خوف ہوگا وہ فوراً ایمان لے آئیں گے اور اگلے جہان کی فکر میں لگ جائیں گے انہیں معلوم ہوجائے گا کہ انہیں آخرت میں محاسبے کے عمل میں سے گزرنا ہے اور وہاں لیس لھم من دونہ ولی اللہ کے سوا ان کا کوئی کارساز نہ ہوگا۔ وہاں ان کا کوئی حمایتی نہیں ہوگا جو انہیں عذاب الٰہی سے بچا سکے۔ دنیا میں لوگ کئی قسم کے سہارے ڈھونڈتے تا کہ کسی طرح افتاد سے بچ جائیں۔ بعض اوقات دھوکہ اور فریب بھی وقتی طور پر چل جاتا ہے مگر قیامت کے دن اللہ کے سوا کوئی سہارا نہیں ہوگا۔ اس کے علاوہ وہاں کوئی کارساز نہیں ہوگا۔ مسئلہ سفارش فرمایا اللہ کے سوا نہ کوئی کارساز ہوگا ولا شفیع اور نہ ہی کوئی سفارش کرنے والا ہوگا۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سفارش سے وہ سفارش مراد ہے جس کے قائل مشرکین ہیں جو کہتے ہیں کہ ہمارا پیر ‘ بزرگ یا معبو ہر حال میں ہمیں قہر الٰہی سے چھڑا لیں گے۔ یہاں پر اسی جبری اور قہری سفارش کی نفی کی گئی ہے۔ البتہ جو سفارش فرشتے ‘ انبیاء اور نیک لوگ کریں گے دوسری سفارش ہے اور وہ باذن اللہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے۔ ” من ذالذین یشفع عندہ الا باذنہ “ (البقرہ) اس کی اجازت کے بغیر اس کے سامنے کوئی بھی سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرسکے گا۔ مگر یہودیوں کا اعتقاد یہ ہے کہ ہم جو چاہیں کرتے رہیں ہمیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بچا لیں گے۔ وہ جنت کے دروازے پر کھڑے ہونگے اور ہر ختنہ شدہ اسرائیلی کو جہنم سے بچا کر جنت میں داخل کردیں گے۔ یہی اعتصقاد بعض لوگ اپنے پیروں کے متعلق رکھتے ہیں جو کہ قطعاً باطل ہے یہ شرکیہ سفارش ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ موجود ہے۔ ” ولا یشفعون الا لمن ارتضیٰ “ (الانبیائ) خدا تعالیٰ جس شخص پر راضی ہوگا ‘ جس کا عقیدہ خدا تعالیٰ کو پسند ہوگا۔ جس کا ایمان صحیح ہوگا ‘ سفارش کی اجازت اسی کو ملے گی ‘ انبیاء اولیاء اور اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ سفارش کی اجازت دیں گے کو کامل الایمان آدمی اللہ کی راہ میں شہید ہوتا ہے اس کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا کہ ستر آدمیوں کی سفارش کر کے اللہ تعالیٰ سے بخشوا لے گا یہی اصل سفارش ہے جس کی اللہ تعالیٰ خود اجازت مرحمت فرمائیں گے۔ فرمایا آپ ان لوگوں کو اس قرآن پاک کے ذریعے ڈرا دیں کہ محاسبے کا وقت آنے والا ہے ‘ اس سے پہلے پہلے اپنے ایمان کو درست کرلو اولھم یتقون تا کہ وہ اللہ کے عذاب سے بچ جائیں۔ اگر بات ان کی سمجھ میں آگئی تو پھر یہ برے اعتقاد اور معاصی سے بھی بچ جائیں گے۔ بلکہ شکوک و شبہات تک میں مبتلا نہیں ہوں گے ان کا ایمان بالکل راسخ ہوجائے گا اور وہ کامل درجے کے متقی بن جائیں گے۔ بہرحال موضوع یہی ہے کہ بنی نوع انسان کو برائی سے ہٹا کر نیکی پر لگایا جائے اور حد کمال تک پہنچایا جائے ان کی قوت فکر یہ اور قوت عملی درست ہوجائے تا کہ یہ جہنم کے دائمی عذاب سے بچ جائیں۔
Ayahs 6:52–55

وَ لَا تَطْرُدِ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ١ؕ مَا عَلَیْكَ مِنْ حِسَابِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ وَّ مَا مِنْ حِسَابِكَ عَلَیْهِمْ مِّنْ شَیْءٍ فَتَطْرُدَهُمْ فَتَكُوْنَ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ Open ayah 6:52 in the Quran reader

اور نہ دھکیلیں آپ ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں اپنے رب کو صبح اور شام ‘ وہ چاہتے ہیں اس کی رضا ‘ آپ پر ان کا حساب نہیں ہے اور نہیں ہے ……آپ کے حساب میں سے ان پر کچھ۔ پس آپ ان کو دھکیل دیں تو ہوجائیں گے آپ ناانصافوں میں سے

وَ كَذٰلِكَ فَتَنَّا بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لِّیَقُوْلُوْۤا اَهٰۤؤُلَآءِ مَنَّ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ مِّنْۢ بَیْنِنَا١ؕ اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَعْلَمَ بِالشّٰكِرِیْنَ Open ayah 6:53 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم نے آزمایا ان میں سے بعض کو بعض کے ساتھ۔ تا کہ یہ (آسودہ حال لوگ) کہیں کہ کیا یہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے احسان کیا ہے ہمارے درمیان سے کیا نہیں ہے اللہ تعالیٰ خوب جانتا……شکر گزاروں کو

وَ اِذَا جَآءَكَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِاٰیٰتِنَا فَقُلْ سَلٰمٌ عَلَیْكُمْ كَتَبَ رَبُّكُمْ عَلٰى نَفْسِهِ الرَّحْمَةَ١ۙ اَنَّهٗ مَنْ عَمِلَ مِنْكُمْ سُوْٓءًۢا بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابَ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاَنَّهٗ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 6:54 in the Quran reader

اور جب آئیں آپ کے پاس وہ لوگ جو ایمان رکھتے ہیں ہماری آیتوں پر ‘ پس آپ کہہ دیں ان سے سلامتی ہو تم پر۔ لکھ دیا ہے تمہارے رب نے اپنے اوپر رحمت کو۔ بیشک تم میں سے جو شخص کوئی برائی کرے گا نادانی کے ساتھ ‘ پھر وہ توبہ کرے گا اسی کے بعد اور اصلاح کرلے گا ‘ پس اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور مہربان ہے

وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ وَ لِتَسْتَبِیْنَ سَبِیْلُ الْمُجْرِمِیْنَ۠ Open ayah 6:55 in the Quran reader

اور اسی طرح ہم تفصیل سے بیان کرتے ہیں آیتیں ا کہ واضح ہوجائے مجرموں کا راستہ

ربط آیات پہلے اللہ تعالیٰ نے منصب نبوت و رسالت کو بیان فرمایا اور اپنی مرضی کی نشانیاں طلب کرنے والے لوگوں کا رد کیا۔ فرمایا اللہ تعالیٰ قادر ہے وہ ہر نشانی ظاہر کرسکتا ہے مگر ایسا بیہودہ مطالبہ کرنے والے ہی بےسمجھ ہیں۔ جو لوگ مطلوبہ نشانی دیکھ کر بھی ایمان نہ لائیں تو پھر اللہ تعالیٰ کا انتقام بھی بڑا سخت ہے وہ نافرمان قوم کو فوراً سزا میں مبتلا کردیتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نبی تو مبشر اور منذر ہوتے ہیں ‘ معجزات ظاہر کرنا ان کے فرائض میں داخل نہیں ہوتا۔ پھر اللہ نے سید المرسلین ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ لوگوں کے سامنے واضح کردیں کہ میرے پاس اللہ کے خزانے نہیں ہیں ‘ نہ میں غیب دان ہوں اور نہ میں فرستہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہوں۔ میں تو اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں۔ مجھ پر جو وحی نازل ہوتی ہے میں اسی کا اتباع کرتا ہوں۔ جب حضور ﷺ نے خود اپنے متعلق ان امور کی نفی فرما دی تو پھر دوسرے شخص کو یہ حق کیسے پہنچتا ہے کہ وہ خزانوں کا مالک ہو یا غیب کی باتیں جانتا ہو۔ غیب کا علم تو اللہ تعالیٰ کی صفات مختصر میں ہے ۔ اس کے علاوہ مشرکین حضور ﷺ کے انسانی تعلقات پر بھی اعتراض کرتے تھے کہ یہ کھاتا پیتا ہے ‘ اس کے بیوی بچے ہیں۔ بازار سے سودا سلف لاتا ہے تو حضور نے فرمایا کہ میں کوئی فرشتہ تو نہیں ہوں جو ان چیزوں سے مبرا ہوں میں تو انسان ہوں اور باقی انسانوں کی طرح تمام لوازمات بشریہ مجھ میں بھی پائے جاتے ہیں اور یہ چیز منصب نبوت و رسالت کے ہرگز منافی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں میں سے ہی انبیاء کو منتخب کرتا ہے ‘ ان کو اعلیٰ اخلاق عطا کرتا ہے اور پھر انہیں دوسروں کے لئے نمونہ بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے انبیاء معصوم ہوتے ہیں۔ انہیں اس بات کی گارنٹی حاصل ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے کوئی برائی سرزد نہیں ہونے دیتا۔ وہ پاک ہوتے ہیں اور وحی الٰہی کا پورے طریقے سے اتباع کرتے ہیں۔ امیر و غریب کا فرق مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ مکہ کے آسودہ حال مشرکین حضور ﷺ پر یہ اعتراض بھی کرتے تھے کہ آپ کے اردگرد غریب اور کمتر حیثیت کے لوگ جمع رہتے ہیں ‘ اس لئے ہم آپ کی مجلس میں شریک نہیں ہوتے۔ ان کے مطابق ایسی مجلس میں جانا ان کی توہین کے مترادف تھا ‘ لہٰذا ان کا مطالبہ یہ تھا کہ ہم آپ کی بات سننے کے لئے اس وقت آپ کے پاس آسکتے ہیں جب آپ صہیب ؓ ‘ عمار ؓ ‘ اور عبداللہ بن مسعود ؓ جیسے نادار لوگوں کو اپنی مجلس سے اٹھا دیا کریں۔ بڑے چھوٹے ‘ امیر غریب اور آقا غلام کی تفریق صرف مشرکین عرب میں ہی نہیں بلکہ پہلے انبیاء کے زمانہ میں بھی موجود تھی۔ چناچہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ بھی آپ سے یہی کہتے تھے کہ آپ کا اتباع کرنے والے اراذلنا بادی الرای ہم میں سے رذیل لوگ ہیں۔ حقیر اور معمولی حیثیت کے مالک ہیں اور ان کی رائے کی بھی کوئی حیثیت نہیں ‘ لہٰذا ہم ا ن کی ہم نشینی اختیار نہیں کرسکتے۔ ہم تو ان لوگوں کے ساتھ مل کر بیٹھنے کو تیار ہیں جو صاحب حیثیت ہوں ‘ اپنی قوم کے سردار ہوں ‘ جن کے پاس نوکر چاکر ہوں ‘ بڑی بڑی بلڈنگوں کے مالک ہوں ‘ تمہارے پیچھے لگنے والے تو سرسری رائے کے لوگ ہیں ‘ ہم ان کے ساتھ کیسے اکٹھے بیٹھ سکتے ہیں ‘ اسی طژرح ہود (علیہ السلام) اور صالح (علیہ السلام) کی قوموں نے بھی اپنے انبیاء کو یہی جواب دیا۔ پھر موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات تو زبان زدعام ہیں۔ فرعون اسقدر مغرور تھا کہ وہ خود موسیٰ (علیہ السلام) کو حقیر جانتا تھا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانے میں نمرود بھی اسی باطل زعم میں مبتلا تھا۔ بہرحال حضور ﷺ کے اپنے زمانہ میں اور اس سے پہلے بھی ہر دور میں امراء نے اپنے آپ کو اعلیٰ وارفع مخلوق سمجھ کر چھوٹے درجے کے لوگوں سے میل ملاپ ترک کر رکھا تھا۔ بہرحال مشرین مکہ کا ایک مطالبہ یہ بھی تھا جب ہم آپ کے پاس آئیں تو ان چھوٹے لوگوں کو مجلس سے اٹھا دیا کریں۔ اہل اللہ کی قدردانی مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے ایمان لانے پر بہت حریص تھے ‘ اس لئے کسی وقت آپ کے دل میں یہ خیال بھی آیا کہ اپنے تو اپنے ہی ہیں اگر دوسرے لوگوں کو تبلیغ کرنے کی خاطر ان کو تھوڑی دیر کے لئے مجلس سے علیحدہ بھی کردیا جائے تو ہو سکتا ہے کہ بڑے بڑے روئسا ایمان لے آئیں اور ان کے پیچھے اور بھی بہت سے لوگ آجائیں اور اس طرح دین کو تقویت حاصل ہوجائے ‘ مگر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو ایسا کرنے کی اجازت نہ دی اور فرمایا ولا تطرد الذین یدعون ربھم بالغداوہ والعشی۔ آپ ان لوگوں کو نہ دھکیلیں یعنی اپنے آپ سے دور نہ کریں جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ان کا مکمل ایمان ہے اور وہ نہایت خلوص کے ساتھ اپنے رب کی عبادت کرتے ہیں۔ اور ان کا مطمع نظر یہ ہوتا ہے یریدون وجھہ کہ وہ اپنے رب کے چہرے کے طالب ہوتے ہیں یعنی اس کی رضا چاہتے ہیں ‘ صبح شام پکارنے سے ان کی یہی مراد ہوتی ہے۔ بعض مفسرین نے وجہہ کو ظاہر پر محمول کیا ہے اور اس طرح مطلب یہ بنتا ہے کہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ کے دیدار کے طالب ہیں جو کہ سب سے اعلیٰ درجے کی بات ہے لہٰذا آپ ایسے لوگوں کو اپنی مجلس سے محروم نہ کریں۔ طرد کا معنی ہانک دینا یا دھکیل دینا ہوتا ہے اور طراد لڑائی کو بھی کہتے ہیں کہ اس کے ذریعے مدمقابل ایک دوسرے کو دھکیلتے ہیں۔ عربی شاعر کہتا ہے قالوا الطراد فقلنا تلک عادتنا او تنزلون فانا معشرنزل ۔ دشمنوں نے کہا ہم تو طراد یعنی جنگ کرنا چاہتے ہیں تو ہم نے کہا یہ تو ہماری عادت ہے۔ اگر نیچے اتر کر مقابلہ کرنا چاہتے ہو تو ہم بھی تلوار چلانا جانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو فرمایا کہ آپ اپنے سچے ساتھیوں کو دور ہٹانے کا نہ سوچیں کیونکہ ماعلیک من حسابھم من شئی آپ پر ان کے حساب کے متعلق کوئی ذمہ داری نہیں ہے ان کا حساب تو خود اللہ تعالیٰ لے گا کہ یہ لوگ اس کے ہاں کس حیثیت اور مرتبے کے لوگ ہیں فرمایا وما من حسابک علیھم من شئی اور نہ آپ کا حساب ان سے لیا جائے گا۔ ہر نفس کو اپنا حساب خود پیش کرنا ہوگا۔ یہ کسی دوسرے کی ذمہ داری نہیں ہوگی۔ یہ تو اللہ تعالیٰ خود فیصلہ کرے گا کہ کون کس قدر کامل الایمان ہے۔ لہٰذا آپ ان کو علیحدہ نہ کریں فتطردد ھم اور آپ نے ایسا کیا۔ ان ایمانداروں کو ہٹا دیا۔ فتکون من الظلمین تو یقینا آپ نا انصافوں میں سے ہوں گے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے سختی سے منع فرما دیا۔ کہ بڑے لوگ ایمان لائیں یا نہ لائیں آپ ان کم تر لوگوں کو اپنی مجلس سے محروم نہ کریں۔ مال و منصب سے محبت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے کہ حب مال اور حب منصب دو ایسی بیماریاں ہیں جو ایمان قبول کرنے میں ہمیشہ مانع رہی ہیں۔ جب جاہ و منصب اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی پر ایمان لا کر اپنی چودھراہٹ کو چھوڑنا پڑتا ہے۔ جو لوگ اپنی خود ساختہ بڑائی کو قربان کر کے مساوات کی سطح پر نہیں آنا چاہتے ہیں ‘ وہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ ہم سے کم تر حیثیت رکھتے ہیں لہٰذا ہمارے ساتھ کیسے اکٹھے بیٹھ سکتے ہیں۔ اس طرح بڑے اور چھوٹے میں فرق کیا رہ گیا۔ اسی طرح مال و دولت کی محبت بھی انسان کو خودغرضی کے راستے پر ڈال دیتی ہے۔ چناچہ مال و دولت کی حد سے زیادہ محبت کو شریعت میں ناجائز قرار دیا گیا ہے۔ سورة فجر میں موجود ہے۔ ” تحبون المال حبا جما “ تم جی بھر کر مال سے مہبت کرتے ہو۔ یہ محبت تمہیں تباہ کر کے چھوڑے گی۔ مساکین سے محبت حضور ﷺ کو غرباء و مساکین سے بڑی محبت تھی۔ آپ نے کبھی ان کو خود سے علیحدہ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ ان کے درمیان رہنے کو پسند فرمایا چناچہ آپ دعا کیا کرتے تھے۔ اللھم احینی مسکینا و امتنی مسکینا واحشرنی فی زمرۃ المسکین اے اللہ ! مجھے زندہ رکھ تو مساکین کے درمیان اور جب موت دے تو بھی مسکینی کی حالت میں اور میرا حشر بھی انہی کے ساتھ کر۔ آپ نے یہ بھی دعا کی وارزقنی حب المسکین اے اللہ مجھے مسکینوں کی محبت عطا کر۔ غرباء و مساکین اہل اللہ کے متعلق سورة کہف میں بھی ایسے ہی الفاظ آتے ہیں ۔ واصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم بالغداوۃ والعشی یریدون وجھہ “ جو لوگ صّہ و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں آپ ان کے ساتھ صبر کرتے رہیں۔ ” ولا تعد عینک عنھم “ اور آپ ان سے صرف نظر نہ کریں بلکہ ان پر شفقت کی نگاہ رکھیں۔ حضور ﷺ نے اسلام کی دعوت پر ہر قل قیصر روم کو بھی خط لکھا تھا۔ جب یہ خط قیصر کے پیش ہوا تو اس نے حکم دیا کہ اگر عرب کا کوئی شخص مل جائے تو حاضر کیا جائے۔ ان دنوں غزہ میں ابوسفیان کی قیادت میں قریش مکہ کا ایک تجارتی قافلہ مقیم تھا۔ چناچہ ابوسفیان کو ہر قل کے سامنے پیش کیا گیا۔ اور ہر قل نے ان سے حضور ﷺ ے متعلق مختلف سوال کئے۔ جن میں ایک سوال یہ تھا کہ جس مدعی نبوت کا خط مجھے پہنچا ہے اس کے اولین متبعین کمزور لوگ ہیں یا بااثر شخصیتیں۔ تو ابوسفیان نے کہا کہ نادار اور کمزور لوگ ہیں۔ اس پر ہر قل پکار اٹھا کہ ابتداء میں نبیوں کے پیروکار ہمیشہ ضعیف لوگ ہی ہوتے ہیں۔ بڑے لوگ اس وقت ایمان لاتے ہیں جب ان کے لئے کوئی دوسرا راستہ نہیں رہتا ‘ ہر قل کا یہ مقولہ سابقہ کتب کی تعلیم سے بھی معلوم ہوتا ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے یہاں پر یہ بات سمھجا دی ہے کہ مال و دولت یا جاہ و منصب پر اترانا غلط بات ہے۔ اصل میں مدار عزت ایمان ہے نہ کہ جاہ و حشمت ‘ اللہ کے ہاں باعزت وہ شخص ہے جو زیادہ متقی ہے ‘ جس کے اخلاق اچھے ہیں ۔ نیکی اور پرہیزگاری جس کا شیوہ ہے ۔ اور یہ صفات ان غرباء و مساکین میں پائی جاتی ہیں۔ مگر مالدار اور چوہدری قسم کے لوگ ان کو حقیر سمجھ رہے ہیں۔ فرمایا اگر آپ ان کو اپنے سے دور کردیں گے تو نا انصافوں میں شامل ہوجائیں گے۔ غربت و امارت بریعہ آزمائش ہے فرمایا و کذلک فتنا بعضم ببعض اور اسی طرح ہم نے آزمایا ہے بعض کو بعض سے۔ یعنی بعض آدمیوں کو ہم نے مال و دولت یا جاہ و حکومت دے کر آزمایا کہ یہ اپنے ماتحتوں یا کم تر لوگوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں ان کو حقیر سمجھ کر حقارت آمیز سلوک کرتے ہیں یا ان کا احترام کرتے ہیں اور خوشدلی سے پیش آتے ہیں۔ اسی طرح مساکین کو عسرت میں مبتلا کر کے آزمایا ہے۔ سورة فرقان میں موجود ہے۔ ” وجعلنا بعضکم لبعض فتنتہ “۔ ہم نے تمہارے بعض کو بعض کے لئے ازمائش بنایا ہے ‘ اور اس کا مقصد یہ ہے کہ ” التصبرون “ کیا تم صبر کرتے ہو ؟ مقصد یہ کہ غرباء کو غربت میں مبتلا کر کے آزمایا ہے کہ آیا یہ امراء کی امارت دیکھنے کے باوجود صبر کرتے ہیں ؟ ” وکان ربک بصیرا تیرا رب تو ہر چیز کو دیکھ رہا ہے ۔ وہ امیر کو دولت دیکر آزماتا ہے کہ یہ مساکین کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے اور غریب کو غربت دیکر آزماتا ہے کہ یہ کس حد تک صبر کرتا ہے مگر مقام افسوس ہے کہ اس آزمائش میں دونوں طبقے ناکام رہے ہیں ‘ نہ تو دولت مند غرباء کا خیال رکھتے ہیں اور نہ مساکین صبر سے کام لیتے ہیں۔ روس میں 7191 ء کا انقلاب اسی امیر غریب کے سوال پر ہی آیا تھا جس کی بھینٹ تین کروڑ آدمی چڑھ گئے۔ امراء نے غرباء پر مظالم توڑے ‘ ان کے حقوق ادا نہیں کئے ‘ نتیجہ یہ ہوا کہ غریبوں نے تحریک چلائی۔ دونوں گروہ بےدین تھے ‘ غریبوں نے امیروں کو مردار کتوں کی طرح گھسیٹا۔ یہ غریبوں کو حقیر سمجھنے کا شاخسانہ تھا ‘ نہ امیروں نے حقوق ادا کئے ‘ نہ غریبوں نے صبر کیا جس کا نتیجہ کشت و خون کی صورت میں نکلا۔ شیخ سعدی (رح) نے گلستان میں ایک ایسا عمدہ فقرہ کہا ہے جس کے متعلق لوگوں نے کہا کہ ہماری ساری کتابوں کے بدلے یہ ایک فقرہ ہمیں دے دیں۔ کہتے ہیں۔ ” خواہندہ مغربی درصف بزازان حلب میگفت اے خداوند نعمت اگر شمارا انصاف بود و مارا قناعت رسم سوال از جہاں برخاستے “ ملک کے مغرب میں ایک محتاج نے بزازوں کی صف میں کھڑے ہو کر کہا ‘ اے دولت کے مالکو ! اگر تم میں انصاف اور ہم میں قناعت ہوتی تو دنیا میں کوئی بھی سوال نہ کرتا یعنی سولا کی رسم ہی برخواست ہوجاتی۔ ہم دونوں مجرم ہیں۔ تم میں سخاوت نہیں ہے اور ہم قناعت سے محروم ہیں۔ دولت کے ہوتے ہوئے تم مسکینوں کا خیال نہیں رکھتے اور ہم صبر سے عاری ہوچکے ہیں ‘ یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا مصائب کا شکار بنی ہوئی ہے۔ اسلامی نظام معیشت یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام نے اعتدال اور میانہ روی کی تعلیم دی ہے۔ اسلام نے اس دولت کو لعنت کے برابر کہا ہے جس میں سے غریبوں کو حقوق نہ ادا کئے جائیں ‘ ایسی دولت مندی باعث وبا ل ہے۔ ہاں اگر کوئی اپنے مال سے تمام فرضی ‘ واجبی حقوق ادا کرتا ہے تو پھر یہ دولت جائز ہے اگر حلت و حرمت کا امتیاز ختم ہوچکا ہے تو پھر یہ سرمایہ داری ہے۔ اس کا حامی سرمایہ پرست ہے۔ اور دوسری طرف نفرت اور عداوت کا جذبہ پایا جاتا ہے کہ سرمایہ داروں کے پاس سرمایہ کیوں ہے خواہ اس نے جائز ذرائع سے ہی کیوں نہ حاصل کیا ہو اور وہ تمام حقوق بھی کیوں نہ ادا کرتا ہو مگر محض صاحب مال و دولت ہونا ہی گردن زدنی سمجھ لیا گیا ہے یہ بھی غلط ہے یہ لوگ صرف سرمایہ داری کے خلاف ہوتے ہیں بلکہ آگے چل کر مذہب کے بھی خلاف ہوجاتے ہیں کہتے ہیں کہ سرمایہ داروں نے لوگوں کو الو بنانے کے لئے مذہب کی آڑ لے رکھی ہے سوشلسٹ ملکوں میں یہی کچھ ہوا ہے پہلے سرمایہ داروں کے خلاف آواز اٹھائی اور پھر آہستہ آہستہ مذہب کو ہی خیر باد کردیا۔ ان کی بات کسی حد تک درست بھی ہے۔ اکثر و بیشتر اقتدار پسندوں ‘ سرمایہ داروں اور ملوک نے مذہب کو غلط استعمال کیا ہے۔ البتہ کچھ اللہ والے ایسے بھی ہیں جنہوں نے ایسا نہیں کیا اور نگ زیب عالمگیر (رح) بھی تو بادشاہ تھے ‘ سلطان ناصرالدین التمش (رح) بھی اسی سرزمین پر مسند اقتدار پر رہا ہے ‘ اس کے پاس کابل سے برما تک کی حکومت تھی مگر دل میں خوف خدا رکھتے تھے ‘ حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) جیسے بلند پایہ لوگ بھی تو ہوئے ہیں جن پر اقتدار کا نشہ غالب نہیں آیا اور جنہوں نے مستحقین کے حققوق ادا کرنے میں کبھی کوتاہی نہیں کی۔ لیکن یہ مذہب کا غلط استعمال تھا جس کی وجہ سے ملحدوں کو مذہب کے خلاف پراپیگنڈہ کرانے کا موقع ملا۔ غرضیکہ یہ دونوں گروہ لعنتی ہیں۔ اسلام ہی وہ مذہب ہے جو اعتدال کا راستہ دکھاتا ہے۔ اگر ملک میں صرف حلال و حرام کی پابندی پوری طرح نافذ کردی جائے تو لوگوں کو سکون حاصل ہوجائے۔ جو مال حرام ذرائع سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اس کا مصرف بھی حرام اور من مانے طریقے پر کیا جاتا ہے۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ دولت حاصل کیسے کی اور اسے خرچ کس چیز پر کر رہے ہو۔ فضول خرچی قطعاً حرام اور تباہی کا باعث ہے۔ ا س لئے سرمایہ داری اور اشتراکی نظام معیشت دونوں ملعون ہیں۔ صرف اسلام کا نظام ہی درست ہے جو دولتمندی کی حوصلہ افزائی اس وقت کرتا جب وہ جائز ذرائع سے حاصل کی گئی ہو۔ اور اس میں سے تمام حقوق ادا کئے گئے ہوں۔ اگر جائز ناجائز کی تمیز روا نہیں رکھی تو یہی سرمایہ داری ہے جو ملعون ہے۔ غریبوں پر طعن فرمایا ‘ اللہ تعالیٰ نے دولت مندوں کو دولت دے کر آزمایا ہے۔ لیقولوا تا کہ وہ غرور میں آ کر کہیں اھولاء من اللہ علیھم من بیننا کیا یہی وہ لوگ ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ اللہ نے ان پر احسان کیا ہی۔ کیا یہی مفلوک الحال لوگ جنت کے مالک ہیں جن کے پاس نہ رہنے کو مکان ‘ نہ کھانے کو خوراک اور نہ پہننے کو کپڑا ہے ؟ غریبوں کی ہنسی اڑاتے تھے کہ دیکھو یہ حوروں کے خاوند جا رہے ہیں وہ مال و دولت پر مغرور تھے لہٰذا غریبوں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک روا رکھتے تھے۔ ادھر غرباء و مساکین کی طرف اشارہ فرمایا الیس اللہ باعلم بالشکرین کیا اللہ تعالیٰ شکرگزاروں کو نہیں جانتا ؟ بیشک وہ جانتا ہے کہ ایک شخص غریب اور نادار ہونے کے باوجود صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتا بلکہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہے اور دوسری طرف بڑا سرمایہ دار اور جاگیردار ہے مگر پھر بھی شکر ادا نہیں کرتا بلکہ اس کی حرص بڑھتی چلی جا رہی ہے ۔ وہ مالک الملک ہر ایک کے ظاہر اور باطن حال اور اس کی نیت اور ارادے سے واقف ہے۔ غرباء کے لئے رحمت کی دعا اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خطاب فرمایا کہ آپ اہل ایمان مساکین کو اپنے آپ سے علیحدہ نہ کریں بلکہ واذاجاء ک الذین یومنون بایتنا جب ہماری آیتوں پر ایمان لانے والے یہ لوگ آپ کے پاس آئیں۔ فقل سلام علیکم ان سے کہیں کہ تم پر خدا تعالیٰ کی طرف سے سلامتی ہو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمت کے مقام تک پہنچائے ان کے حق میں رحمت کی دعا کریں۔ کیونکہ کتب ربکم علی نفسہ الرحمتہ تمہارے پروردگار نے اپنے ذمے رحمت کو لکھ لیا ہے جیسا کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ کائنات کو پیدا کرنے سے پہلے اللہ نے عرش پر لکھ رکھا تھا ان رحمتی سبقت غضبی بیشک میری رحمت میرے گصے سے سبقت کرنے والی ہے۔ میرا غصہ اسی پر وارد ہوتا ہے جو بالکل ہی سرکش ہوجائے ‘ وگرنہ میری رحمت عام ہے۔ پھر فرمایا میری رحمت عام اس قدر وسی ہے کہ انہ من عمل منکم سواء بجھالتہ جو کوئی تم میں سے نادانی کی وجہ سے کوئی برائی کا کام کر بیٹھے۔ ظاہر ہے کہ برا کام ہمیشہ جہالت اور نادانی کی وجہ سے ہی ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص صاحب عقل و علم بھی ہے تو برا کام اسی وقت کرے گا جب اس پر جہالت کا پردہ پڑجاتا ہے فرمایا جو کوئی جہالت کی بناء پر کوئی غلط کام کرتا ہے ‘ ثم تاب من بعدہ پھر اس کے بعد توبہ کرلی واصلح اور اصلاح بھی کرلی ‘ اپنے آپ کو سنوار لیا ‘ حقوق و فرائض ر کاربند ہوگیا ‘ آئندہ برائی سے باز رہنے کا عزم کرلیا۔ تو فرمایا فانہ غفور رحیم تو اللہ تعالیٰ بہت ہی بخشنے والا اور ازحد مہربان ہے۔ وہ خطائوں کو معاف بھی کردیتا ہے۔ فرمایا وکذلک نفصل الایت اسی طرح ہم آیتوں کو کھول کر بیان کرتے ہیں۔ توحید کے دلائل اور منصب رسالت کی تفصیل وغیرہ سب کچھ وضاحت کے ساتھ بیان کرتے ہیں ولتستبین سبیل المجرمین تا کہ مجرموں کا راستہ بالکل واضح ہوجائے۔ جب اہل ایمان کے راستے کی سمجھ آجائے گی تو اس کا مخالف ہر راستہ مجرموں کا راستہ ہوگا اور یہ راستہ کفر ‘ شرک اور بدعات کا راستہ ہے ‘ حب مال و جاہ کا راستہ ہے ‘ غرباء کو حقیر جاننے اور انسانیت کے خلاف کرنے والا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم نے اس راستے کو واضح کردیا ہے ‘ اب اس سے بچنا ہر شخص ہر شخص کی اپنی ذمہ داری ہے۔
Ayah 6:56

قُلْ اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَعْبُدَ الَّذِیْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَتَّبِعُ اَهْوَآءَكُمْ١ۙ قَدْ ضَلَلْتُ اِذًا وَّ مَاۤ اَنَا مِنَ الْمُهْتَدِیْنَ Open ayah 6:56 in the Quran reader

اے پیغمبر ! کہہ دیجئے ‘ بیشک مجھے روکا گیا ہے اس بات سے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کو تم پکارتے ہو اللہ کے سوا۔ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے میں نہیں پیروی کرتا تمہاری خواہشات کی میں تو اس وقت بہک جائوں گا ‘ اور نہیں رہوں گا میں ہدایت پانے والوں میں سے

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کا تذکرہ فرمایا تھا جن کا تعلق اہل ایمان کے ساتھ تھا ‘ مثلاً یہ کہ آپ ضعیف اور نادار اہل ایمان کو اپنے آپ سے دور نہ کریں بلکہ ان پر نگاہ شفقت رکھیں اور یہ بھی کہ اللہ تعالیٰ نے بعض کو بعض کے ساتھ آزمایا ہے تو عین ممکن ہے کہ کمزور لوگ با صلاحیت اور ایمان دار ہوں اور اعلیٰ صلاحیت کے مالک گمراہ ہوں اکثر و بیشتر ایسا ہی ہوتا ہے کہ غریب لوگ ہی ایمان قبول کرتے ہیں۔ جب کہ امراء اپنے غرور اور تکبر اور مال و دولت کے گھمنڈ میں ایمان سے محروم رہتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خطاب کر کے فرمایا کہ ان ناداروں کو مجلس سے دور نہ کریں بلکہ جب وہ آپ کے پاس حاضر ہوں تو انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلامتی کی بشارت سنائیں اللہ نے رحمت کو اپنے اوپر لازم کرلیا ہے اور اس کی رحمت بےپایاں ہے اس مالک الملک کا یہ بھی فرمان ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص نادانی کی وجہ سے غلطی کا ارتکاب کر بیٹھے ‘ پھر وہ توبہ کر کے اپنی اصلاح کرلے تو میں اسے معاف کر دوں گا۔ یہ سب باتیں اہل ایمان سے متعلق تھیں۔ اور اب آج کے درس میں ان باتوں کا ذکر ہے جن کے لئے مکذبین کو خطاب کرنا زیادہ مناسب ہے تا کہ ان مجرمین کو تنبیہ ہو سکے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے شرک کی تردید اور مقام توحید کی تشریح بھی بیان فرمائی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے انی نھیت مجھے منع کیا گیا ہے۔ نھیت مجہول کا صیغہ ہے یعنی مجھے روک دیا گیا ہے ان اعبد الذین تدعون من دون اللہ اس بات سے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو یعنی عبادت کرتے ہو اور یہی صریح شرک ہے اور اللہ تعالیٰ نے واضح طور پر فرما دیا ہے کہ جو میرے ساتھ کسی کو شریک کرے گا میں ایسے شخص کو معاف نہیں کروں گا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور اس کے علاوہ بھی اگر کسی انسان کا ضمیر بالکل مردہ نہیں ہوگیا ‘ تو وہ گواہی دیتا ہے کہ شرک بہت بری بات ہے ‘ اس کا ارتکاب نہیں کرنا چاہئے۔ شاعر نے خوب کہا ہے۔ ففی کل شئی لہ ایتہ تدل علی انہ واحد یعنی انسان کے لئے ہر چیز میں نشانیاں ہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے۔ اس کا کوئی شریک نہیں۔ شیخ سعدی (رح) فرماتے ہیں کہ صاحب عقل آدمی درختوں کے پتے دیکھ کر بھی اللہ تعالیٰ کی توحید کا اقرار کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ فرض کرو کوئی شخص کسی اونچے پہاڑ کی چوٹی پر اکیلا آباد ہے ‘ کوئی دوسرا انسان اس تک نہیں پہنچتا۔ اللہ کا پیغام پہنچانے کے لئے اس کے پاس نہ کوئی نبی آتا ہے نہ رسول اور نہ ہی کوئی دوسرا مبلغ تو ایسے شخص کے لئے حکم یہ ہوگا کہ فرائض دین یعنی نماز ‘ روزہ ‘ حج ‘ زکوٰۃ وغیرہ کے لئی تو اس سے بازپرس نہیں ہوگی۔ کیونکہ یہ چیزیں انبیاء اور پھر ان کے مبلغین کے ذریعے معلوم وہتی ہیں ‘ البتہ اگر اس نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اقرار نہیں کیا بلکہ شرک کا ارتکاب کیا ہے تو پکڑا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اسے عقل جیسی عظیم نعمت عطا کی۔ اس کے اردگرد اپنی قدرت کی ہزاروں نشانیاں بکھیر دیں جنہیں دیکھ کر اسے اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوجانی چاہئے تھی۔ اگر پھر بھی اس نے شرک کیا ہے تو اس کا یہ جرم ناقابل معافی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ انسان کا ضمیر اور عقل اور عقل سلیم بھی شرک کے خلاف شرک سے منع کرتا ہے مگر اس کے علاوہ بھی بیشمار چیزیں اور دلائل ہیں جو انسان کو شرک سے روکتے ہیں۔ تدعون کا معنی ہے جن کو تم پکارتے ہو۔ اور مطلب یہ ہے کہ اللہ کے سوا جن کو تم مصیبت میں پکارتے ہو ‘ ان سے حاجتیں طلب کرتے ہو ‘ انہیں مشکل کشا سمجھتے ہو ‘ میں ان کی پوجا کرنے کے لئے ہرگز تیار نہیں کیونکہ ہر چیز کا عطا کرنے والا اور ہر مصیبت کو دور کرنے والا فقط اللہ تعالیٰ ہے لہٰذا اس کے علاوہ میں کسی ہستی کی پرستش کرنے کے لئے تیار نہیں ‘ مجھے منع کردیا گیا ہے۔ یہاں پر لفظ من دون اللہ بھی توجہ طلب ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے بڑا خدا ماننے کے باوجود بعض چھوٹے چھوٹے خدائوں کی پرستش بھی کی جاتی ہے اور مشرکین قدیم زمانے سے ایسا ہی کرتے چلے آئے ہیں۔ ان کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ اصل خدا تعالیٰ تو وہی ہے مگر یہ چھوٹے چھوٹے خدا بھی کچھ نہ کچھ کام بناتے ہیں بڑے اللہ نے ان چھوٹوں کو بھی بعض اختیار دے رکھے ہیں لہٰذا ان کی پوجا بھی کی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی سختی سے تردید فرمائی ہے۔ ابتدائے سورة میں عرض کیا گیا تھا کہ اس سورة مبارکہ میں تمام قسم کے شرکوں کی تردید کی گئی ہے۔ شرک خواہ اعتقاد میں ہو۔ قول میں ہو یا فعل ہیں ‘ یہ بہرحال بدترین جرم ہے عملی شرک کی بعض صورتیں بھی آگے بیان ہوں گی کہ لوگ کس طرح غیر اللہ کی نذر و نیاز دے کر شرک کے مرتکب ہوتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی صفات مختصر میں کس کس طریقے سے شریک بنائے جاتے ہیں۔ ایک اور بات بھی پہلے بیان کی جا چکی ہے کہ سورة مبارکہ سے پہلی سورتوں میں ملت حنیفیہ والوں یعنی یہود ونصاریٰ وغیرہ اور مشرکین عرب کو زیادہ تر خطاب کیا گیا تھا اور اس سورة کے مخاطبین صابی قوموں کے لوگ ہیں جن میں ہندو ‘ بدھ ‘ چینی ‘ رومی اور یونانی وغیرہ شامل ہیں۔ وہ بھی اسی طرح مشرک ہیں جس طرح یہود و نصاریٰ اور مشرکین عرب تو فرمایا مجھ کو منع کیا گیا ہے اس بات سے کہ میں ان کی عبادت کروں جن کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو ‘ جن کی عبادت کرتے ہو ‘ ان کو الہ مانتے ہو ‘ مشکل کشا اور حاجت روا سمجھتے ہو۔ خواہشات نفایز سے اجتناب اس کے بعد ارشاد ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے لا اتبع اھواء کم میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کرسکتا۔ اس جملہ سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک خواہشات نفسانیہ پر مبنی ہوتا ہے۔ تمام شرکیہ رسوم اور بدعات اسی نفس کی پیداوار ہیں۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا کہ میں تمہاری بیہودہ خواہشات کے پیچھے نہیں لگ سکتا۔ سورة فرقان میں موجود ہے ” ارایت من اتخذ الھہ ھولہ “ کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے اپنی خواہش کو معبود بنا رکھا ہے کسی نے مسیح (علیہ السلام) کو معبو بنالیا ‘ کسی نے پتھر کو مان لیا ‘ کسی نے کسی قبر والے کو اور کسی نے جن بھوت ‘ پریت اور فرشتے کو اپنا معبود بنا لیا۔ توحید کی بنیاد فطرت سلیمہ عقل سلیم اور وحی الٰہی پر ہے جب کہ شرک کی بنیاد خواہشات نفسانیہ پر ہے اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ آپ کہہ دیں کہ میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کرسکتا۔ کیونکہ اگر میں نے ایسا کیا قد ضللت تو میں بہک جائوں گا۔ اگر میں تمہاری ان مشرکانہ رسوم اور بدعات پر عمل کرنے لگوں تو میں بہک جائوں گا اصل راستے سے ہٹ جائوں گا۔ اذا وما انا من المھتدین اور ایسی صورت میں میں ہدایت یافتہ لوگوں میں نہیں رہوں گا۔ اگر خدا کا معصوم نبی ہی مشرکانہ رسوم اور بدعات کو اپنانے لگے تو پھر ہدایت اور گمراہی میں کیا فرق رہ گیا۔ ہم تو ہدایت کے راستے پر ہیں جو وحی الٰہی پر مبنی اور جس کی گواہی خدا کی تعلیم ‘ فطرت سلیمہ اور عقل سلیم بھی دیتی ہے۔ ہم گمراہی کے راستے پر نہیں جاسکتے۔ فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں انی علی بینتہ من ربی تحقیق میں تو اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل پر ہوں۔ اس مقام پر کھلی دلیل سے مراد قرآن کریم ہے اور مطلب یہ ہے کہ میں تو قرآن پاک کے احکام کے تابع ہوں ‘ میرے لئے اللہ کا کلام ہی حجت ہے و کذبتم بہ اور تم نے اس کی تکذیب کردی ہے قرآن پاک کو اللہ کا کلام ماننے سے انکار کردیا ہے۔ یہاں پر بہ کی ضمیر بھی بتا رہی ہے کہ بینہ سے مراد قران پاک ہے ۔ اسی سورة میں آگے آئے گا قد جاء کم بصائر من ربکم اللہ کا یہ قرآن تمہارے دلوں میں بصیرت پیدا کرنے والی چیز ہے جو قرآن پاک کی تلاوت کرتا ہے اس کو سنتا ہے ‘ اس پر ایمان لاتا ہے اور پھر اس پر عمل کرتا ہے ‘ اس کا دل روسن ہوجاتا ہے ‘ تمام تاریکیاں دور ہ جاتی ہیں اور انسان کے اندر اخلاق حسنہ پیدا ہوجاتے ہیں۔ سورة ابراہیم میں نزول قرآن کا ایک مقصد یہ بھی بیان کیا گیا ہے لتخرج الناس من الظلمت الی النور کہ آپ اس کے ذریعے لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں۔ گناہ ‘ کفر ‘ شرک ‘ بدعات سب اندھیرے ہیں۔ اور ایمان ‘ اخلاص ‘ توحید اور نیکی روشنی ہے۔ بہرحال یہاں پر بینہ سے مراد قرآن حکیم ہے اور حضور ﷺ کو اللہ نے خطاب فرمایا ہے کہ آپ کہہ دیں میں اپنے رب کی طرف سے کھلی دلیل یعنی قرآن حکیم پر ہوں ‘ میرا نصب العین وہی ہے جو قرآن پاک نے متعین کیا ہے۔ ویسے بینہ معجزے اور نشانی کے لئے بھی بولا جاتا ہے ان فی ذلک لایت لقوم یعقلون (الروم) بیشک اس میں عقل والوں کے لئے واضح نشانیاں ہیں اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو کوئی نہ کوئی نشانی دی ہے۔ پہلے اسی سورة میں گزر چکا ہے لو لا نزل علیہ ایتہ من ربہ اس کے رب کی طرف سے اس پر کوئی نشانی کیوں نہیں نازل ہوتی۔ اسی طرح بینہ کا اطلاق ہدایت پر کیا گیا ہے۔ اور سورة بینہ میں موجود ہے اہل کتاب اور مشرکین کفر سے باز آنے والے نہ تھے۔ ” حتیٰ تاتیھم البینتہ رسول من اللہ “ جب تک کہ ان کے پاس کھلی دلیل یعنی اللہ کی طرف سے رسول نہ آجاتا۔ گویا بینہ کا اطلاق رسول پر بھی کیا گیا ہے اور یہ بالکل برحق ہے کیونکہ قرآن کریم میں وحی الٰہی کے ذریعے جو بھی تعلیم نازل ہوئی ہے۔ حضور ﷺ اس کے مجموعہ مجم ہیں۔ اگر علم دیکھنا ہو تو قرآن میں دیکھو اور عمل کا مشاہدہ کرنا ہے تو نبی کی ذات میں کرو۔ بایں ہمہ اس آیت کریمہ میں بینہ سے قرآن کریم ہی مراد ہے۔ مولانا عبیداللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ کوئی چیز بین ہوتی ہے اور کوئی غاض بین یعنی کھلی چیز کو ہر آدمی آسانی سے سمجھ سکتا ہے ۔ چناچہ توحید ‘ صبر ‘ شکر وغیرہ بینات میں داخل ہیں۔ اور غامض یعنی چھپی ہوئی چیز کی تعلیم نبی دیتے ہیں مثلاً تعظیم شعائر اللہ نبی کے بتلانے سے معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ ایک باریک بات ہے۔ الش پوری نے سے معذوری الغرض ! اللہ نے فرمایا آپ کہہ دیجئے ‘ میں اپنے رب کی طرف سے واضح دلیل یعنی قرآن پر ہوں وکذبت بہ اور تم اس کو جھٹلاتے ہو۔ تم قرآن پاک کو خدا تعالیٰ کی کتاب تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں اور کہتے ہو کہ یہ اللہ کا کلام نہیں ما انزل اللہ علی بشر من شئی یعنی اللہ نے کسی انسان پر کوئی چیز نہیں اتاری العیاذ باللہ۔ فرمایا جب تم اللہ کے سچے کلام پر ایمان نہیں لاتے تو ماعندی ماتستجعلون بہ میرے پاس وہ بات نہیں ہے جس کو تم جلدی طلب کرتے ہو مشرکین کہتے تھے کہ اگر تو سچا ہے تو ہم پر پتھروں کی بارش برسا دے یا کوئی اور عذاب لے آ۔ اللہ نے اپنے نبی کو فرمایا کہ آپ ان سے کہہ دیں کہ مجرمین کی گرفت کرنا اور ان پر عذاب لے آنا میرے اختیار میں نہیں ہے کیونکہ ان الحکم الا للہ تمام حکم تو اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے وہ جب چاہے اور جہاں چاہے مجرمین کو پکڑکر سزا میں مبتلا کر دے یا مہلت دیدے ‘ سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے۔ یقص الحق وہ حق بیان کرتا ہے ‘ اس کی ہر با ت سچی اور پکی ہوتی ہے۔ و ھو خیر الفصلین اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ‘ جب چاہے گا فیصلہ کر دے گا ۔ پھر فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں لو ان عندی ما تستعجلون بہ اگر میرے پاس وہ چیز ہوتی جسے تم جلدی طلب کرتے ہو یعنی اگر میں تمہاری مرضی کی نشانیاں ظاہر کرنے پر قادر ہوتا یا تمہاری خواہش کے مطابق تم پر عذاب لاسکتا لقضی الامر بینی و بینکم تو میرے اور تمہارے درمیان کب کا فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ میں تمہاری خواہش کے مطابق تمہیں مطمئن کردیتا اور معاملہ صاف ہوجاتا ‘ مگر ایسا نہیں ہے ‘ ہر چیز اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے ‘ وہ اپنی حکمت عملی کے مطابق جب چاہتا ہے کسی بات کا فیصلہ کردیتا ہے۔ ایک اشکال اور اس کا جواب امام ابن کثیر (رح) نے ایک اشکال پیدا کیا ہے کہ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ سے کہلوا دیا ہے کہ میرے پاس وہ بات نہیں ہے جسے تم طلب کرتے ہو مگر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی روایت میں ہے کہ انہوں نے کسی موقع پر حضور ﷺ سے عرض کیا حضور یہ بتائیں کہ احد والے دن سے بھی زیادہ تکلیف کبھی آپ کو پہنچی ہے تو حضور نے فرمایا کہ ہاں عقبہ والا دن میرے لئے اس سے بھی زیاد ہ مشکل تھا۔ فرمایا جب میں نے طائف میں ابن عبد یا لیل بن کلال اور دیگر سرداران کے سامنے اللہ کا پیغام بیان کیا تو انہوں نے نہ صرف تکذیبکر دی بلکہ شہر کے غنڈوں کو میرے پیچھے لگا دیا جنہوں نے سنگباری کر کے مجھے لہولہان کردیا حتیٰ کہ جسم کا خون جوتے میں آ کر جم گیا۔ آپ پر بیہوشی طاری ہوگئی حتیٰ کہ آپ قرن ثعالب کے مقام پر بیٹھ گئے وہاں پر جبرائیل (علیہ السلام) حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ آپ کی طرف سے تبلیغ اور اس قوم کا جواب اللہ نے سن لیا ہے اور مجھے پہاڑوں کے فرشتے کے ساتھ آپ کے لئے بھیجا ہے۔ اس فرشتے نے ……آپ کو سلام کیا اور عرض کیا کہ اگر آپ چاہیں تو میں ان دو پہاڑوں اخشبین کو ملا دوں تا کہ مکہ اور طائف کے تما م لوگ ہلاک ہوجائیں۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا ‘ میں یہ نہیں چاہتا کیونکہ مجھے امید ہے کہ اللہ انہی کی اولاد میں سے ایسے لوگ نکالے گا لا یشرک باللہ شیئا جو اللہ کے ساتھ شرک نہیں کریں گے ‘ اس کی وحدانیت کو مانیں گے ‘ لہٰذا میں ان کی طرف سے بدسلوکی پر بھی اپنا رویہ نرم ہی رکھتا ہوں آپ نے دعا فرمائی اللھم اھد قومی فانھم لا یعلمون اے اللہ ! میری قوم کو ہدایت دے۔ یہ بےسمجھ ہیں۔ امام ابن کثیر (رح) فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اختیار دے دیا تھا مگر اس آیت کریمہ میں یہ کہا گیا ہے کہ میرے اختیار میں کچھ نہیں۔ تو ان دونوں میں تطبیق کیسے ہو سکتی ہے ؟ امام صاحب اسکا جواب خود ہی دیتے ہیں کہ آپ نے اپنے اختیارات کی نفی اس وقت کی تھی جب کفار نے اپنی مرضی کی نشانیاں طلب کیں یا عذاب اور قیامت لانے کو کہا ‘ تو اس وقت آپ نے فرمایا کہ یہ چیز میرے اختیار میں نہیں ہے اس کے برخلاف طائف کے واقعہ میں خود اللہ تعالیٰ نے فرشتے کو بھیج کر آپ کی منشاء معلوم کی تھی مگر آپ نے کفار کی ہلاکت کی بات کو پسند نہ کیا ان دونوں واقعات میں یہ فرق ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ اہل طائف کے متعلق حضور ﷺ نے جو امید ظاہر کی تھی کہ شاید ان کی اولادیں ایمان لے ائیں۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے حقیقت میں بدل دیا۔ آپ کی دعا پوری ہوئی چناچہ فتح مکہ کے بعد جنگ حنین واقع ہوئی پھر طائف پر چڑھائی کی گئی ‘ مہینہ بھر شہر کا محاصرہ رہا آخر حضور ﷺ طائف کو اسی حالت پر چھوڑ کر واپس آگئے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں خود ہی ایسی بات ڈال دی کہ ان کا وفد مدینہ طیبہ آیا اور سب نے ایمان قبول کرلیا پورا طائف مطیع ہوگیا۔ اپ رحمت عالم ہیں اگر آپ غصے میں کہہ دیتے تو تمام طائف والے ہلاک ہوجاتے۔ مگر آپ نے ایسا نہیں کیا ‘ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ وہ لوگ مسلمان ہوگئے اور پھر ان کی آئندہ نسلیں اسلام پر قائم رہیں۔ جزا بمطابق عمل بہرحال فرمایا ‘ اگر تمہاری مطلوبہ چیز میرے پاس ہوتی یعنی میں تمہارے کہنے پر عذاب لاسکتا تو تمہارے اور میرے درمیان کب کا فیصلہ ہوچکا ہوتا اور تم اس وقت تک ہلاک ہوچکے ہوتے ‘ مگر یہ میرے بس کی بات نہیں اللہ تعالیٰ چاہے تو اس پر عذاب نازل کر دے اور چاہے تو کسی قوم کو مہلت دے دے۔ فرمایا ایک بات یاد رکھو واللہ اعلم بالظلمین اللہ تعالیٰ ظلم کرنے والوں کو خوب جانتا ہے۔ اگر انہیں مہلت مل رہی ہے تو یہ نہ سمجھیں کہ وہ عذاب سے ہمیشہ بچتے رہیں گے اور ان پر کوئی گرفت نہیں آئے گی ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ ان کو جانتا ہے اور اپنی مشیت کے مطابق مقررہ وقت پر ضرور ان کو پکڑ لی گا اور پھر وہ ابدی لعنت میں گرفتار ہوجائیں گے جن لوگوں نے کفر اور شرککا ارتکاب کیا ‘ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو تلف کیا ‘ فرائض کو ضائع کیا وہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ہیں۔ ان سے ان کے عقیدے اور عمل کے مطابق سلوک ہوگا۔