Ayahs 6:12–18گزشتہ آیات میں ان مشرکین کا رد فرمایا گیا تھا جو اللہ کی کتاب کا انکار کرتے تھے اور طعن کرتے تھے کہ کاغذ پر لکھی لکھائی کتاب کیوں نہیں آتی اور فرشتے اس کو لے کر کیوں نہیں آتے۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے بیہودہ سوالات کی تردید کی۔ پھر اللہ نے فرشتے کی اپنی اصل شکل میں عدم نزول کی حکمت بیان فرمائی کہ انسان قویٰ فرشتوں کو ان کی اصل شکل میں دیکھنے کی تاب نہیں لاسکتے اور اگر دیکھ لیں تو فوراً ہلاک ہوجائیں اور ان سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکیں اور ہم فرشتے کو انسانی شکل میں نازل کریں تو پھر یہ لوگ اسی التباس میں پڑے رہیں گے اور جس طرح انسان کو نبی ماننے کے لئے تیار نہیں ‘ اسی طرح انسانی شکل والے فرشتے کا بھی انکار کردیں۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم علیہ الصلوٰ ۃوالسلام کو تسلی بھی دی کہ اپ ان لوگوں کے ٹھٹا اور تمسخر سے گھبرائیں نہیں ‘ آپ سے پہلے انبیاء سے بھی لوگ یہی سلوک کرتے رہے ہیں اور پھر آخر میں ان لوگوں کو اسی چیز نے گھیر لیا جس چیز کے متعلق وہ ٹھٹا کیا کرتے تھے۔ پھر یہ بھی فرمایا کہ زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیسا عبرتناک انجام ہوا۔
توحید باری تعالیٰ
آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے توحید کے دلائل اور قیامت کے دن سب کو اکٹھا کئے جانے کا ذکر فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے قل لمن ما فی السموات ولارض ط اے پیغمبر ! آپ ان سے ذرا پوچھیں کہ بتلائو جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے ‘ یہ کس کا ہے ؟ ارض و سما کی تمام چیزوں کا موجد ‘ مالک اور متصرف کون ہے ؟ کس نے ان کو ظاہر کیا اور کون ان کو تمام کر رہا ہے ؟ پھر اس سوال کا جواب بھی خود ہی مرحمت فرمایا قل اللہ آپ کہہ دیجئے کہ مذکورہ ہر چیز اللہ ہی کی ہے ۔ ان کا موجد ‘ مالک اور متصرف بھی وہی ہے ‘ اور پھر اس کی مہربانی کا حال یہ ہے کہ کتب علی نفسہ الرحمتہ ط اس نے اپنے ذمے رحمت کو لکھ لیا ہے۔ اس نے اعلان فرما دیا ہے کہ اسکی رحمت بڑی وسیع ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ کائنات کی پیدائش سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے عرض عظیم پر لکھ دیا کہ ان رحمتی سبقت علیٰ غضبی یعنی میری رحمت میرے غضب پر سبقت رکھتی ہے ۔ میں تو چاہتا ہوں کہ میری تمام مخلوق میری رحمت سے حصہ پائے مگر پھر بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو میرے غضب کا نشانہ بنتے ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جن کی سرکشی حد سے بڑھ جاتی ہے۔
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور معاد کا تصور دو بنیادی چیزیں ہیں۔ اللہ کی وحدانیت کا انکار کرنا بہت بڑا جرم ہے ‘ اسی طرح معاد کا انکار بھی کفر ہے یہ دونوں چیزیں ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کا تصور پیش کرنے کے بعد معاذ کا ذکر فرمایا ہے۔ لیجمعنکم الی یوم القیمتہ لا ریب فیہ وہ تمہیں ضرور قیامت کے دن اکٹھا کرے گا کہ جس کے آنے میّں کوئی سک نہیں۔ اگر معاد پر یقین آجائے اور انسان جان لے کہ حساب کتاب کی منزل آنے والی ہے تو پھر وہ بغاوت اور سرکشی پر نیں اتر سکتا فرمایا الذین خسروا انفسھم فہم لا یومنون جن لوگوں نے اپنی جانوں کو خسارے میں ڈالا ‘ وہ ایمان نہیں لاتے۔ اپنی جانوں کو نقصان میں ڈالنے کا مطلب یہ ہے کہ اپنی فطرت سلیمہ اور عقل سلیم کو بگاڑ دیا کیونکہ جس شخص میں یہ دو چیزیں ہوں گی وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور معاد سے کبھی انکار نہیں کرسکتا۔ کل مولود یولد علیہ الفطرۃ ہر بچہ فطرت سلیمہ پر پیدا ہوتا ہے۔ فطرۃ اللہ التی فطر اناس علیھا اللہ تعالیٰ نے تو پیدائش ہی اس فطرت پر کی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچانے مگر لوگوں نے اس فطرت کو بگاڑ کر شرک کا راستہ اختیار کرلیا جو کہ بالکل غیر فطری اور بےعقلی کی بات ہے لہٰذا اس سے بڑھ کر خسارا کیا ہو سکتا ہے کہ انسان اپنی فطرت سلیمہ اور عقل سلیم کو ہی تباہ کرے ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا کہ وہ نہ تو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرتے ہیں۔ اور نہ ہی جزائے عمل پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی جانوں کو خسارے میں ڈال دیا ہے۔
ساکن اور متحرک اشیاء
آگے پھر اللہ تعالیٰ کی توحید کا بیان اور شرک کا رد ہے ارشاد ہوتا ہے ولہ ماسکن فی اللیل والنھم۔ دن اور رات اور دن میں جو چیز سکون پکڑ رہی ہے ‘ اسی کی ہے مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں پر ساکن اشیاء کا ذکر کیا ہے مگر متحرک چیزوں کو نظر انداز کردیا گیا ہے حالانکہ ساکن چیزوں ک طرح کائنات کی تمام متحرک اشیاء بھی اللہ تعالیٰ ہی کی ہیں۔ اس کے جواب میں امام محمد ابن ابی بکر (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت سے ساکن اور متحرک دونوں قسم کی چیزیں مراد ہیں مگر متحرک کا لفظ محض اختصار پیدا کرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا ہے گویا اس جملہ میں والنھار کے بعد وما تحرک کے الفاظ مخدوف ہیں اور مطلب یہی ہے کہ ہر ساکن اور متحرک ہر چیز کا مالک اللہ وحدہ ‘ لا شریک ہی ہے امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس قسم کی مثال سورة نحل میں بھی ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر بہت سے انعامات کا ذکر کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ” وجعل لکم قوسرابیل تقیکم الحد اللہ نے تمہارے لئے ایسی قمیضیں بنائیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں قمیض تو گرمی اور سردی دونوں سے بچاتی ہے مگر یہاں پر سردی کا ذکر UNDERSTOOD ہے یعنی خود بخو د سمجھا جاسکتا ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے آیت زیر درس میں ساکن اشیاء کا ذکر کر کے متحرک چیزوں کو چھوڑ دیا ہے کہ سمجھنے والے خود سمجھ جائیں کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا مالک ہے۔
مفسرین کرام صرف ساکن کے تذکرے کی یہ توجیہہ بیان کرتے ہیں کہ کائنات میں حرکت کی نسبت سکون کی مقدار زیادہ ہے ساکن چیز تو بہرحال ساکن ہے مگر متحرک چیز بھی بالآخر کسی نہ کسی مدت کے بعد ساکن ہوجاتی ہے۔ ہرجاندارچیز جو دنیا میں حرکت کر رہی ہے وہ آخر کار موت سے ہمکنار ہو کر ساکن ہوجائے گی ‘ جو گاڑی ‘ مشین ‘ دریا ‘ ہوائی جہاز ‘ کشتی حرکت میں آتی ہے ‘ وہ رک بھی جاتی ہے حتیٰ کہ سیاروں اور ستاروں جیسی بڑی بڑی متحرک چیزیں بھی ایک مقررہ مدت کے بعد ساکن ہوجائیں گی ‘ تو فرماتے ہیں کہ یہاں پرسکون کا ذکر اس لئے کیا گیا ہے کہ آخر کار ہر چیز کو ایک نہ ایک دن ساکن ہی بن جانا ہے تاہم ہر چیز خواہ ساکن ہے یا متحرک ‘ اس کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہی ہے ‘ ہر چیز اسی کے قبضہ قدرت میں ہے۔ نیز وھو السمیع العلیم وہ ہر چیز کو سننے والا اور ہر چیز کو جاننے والا ہے وہ لطیف سے لطیف چیز کی حرکت اور آواز کو سنتا ہے اور کوئی چیز اس کے احاطہ علم سے باہر نہیں۔
آگے شرک کی تردید میں فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں اغیر اللہ اتخذولیا کیا میں اللہ کے علاوہ کسی دوسرے کو اپنا ولی اور مددگار اور کارساز بنا لوں ؟ حالانکہ کائنات کے ذرے ذرے کا خالق اور مالک تو اللہ رب العزت ہے فاطر السموات ولارض زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا بھی وہی ہے ۔ کہیں بدیع کا لفظ آیا کہ ہر چیز کو بغیر نمونے کے ایاد کرنے والا وہی ہے ۔ اس نے اپنی صفات کے ذریعے تجلیات میں تغیر پیدا کر کے تمام چیزوں کو قائم کیا ہے۔ تاہم اس عمل کی کیفیت ا عالم الغیب کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ وہی فاطر اور بدیع ہے ‘ اس کو چھوڑ کر میں کسی دوسرے کو کیسے اپنا کارساز اور مددگار بنا لوں ‘ یہ تو بڑی ناانصافی اور بغاوت کی بات ہے۔
فرمایا اس مالک الملک کی یہ صفت بھی ہے و ھو یطعم کہ ہر وہ جاندار کو کھلاتا ہے۔ روزی پہنچاتا ہے ۔ اس کی مخلوق میں سے کوئی چیز اس کی نظروں سے اوجھل نہیں ولا یطعم اور اس کو نہیں کھلایا جاتا۔ وہ کھانے پینے سے بےنیاز ہے۔ مگر بعض مشرک اپنے معبودان باطلہ کے متعلق اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ ان کی پیش کردہ نذر و نیاز کھاتے ہیں ا س پر خوش ہوتے ہیں۔ وہ دوسروں کو کھلاتا ہے ‘ اسے خود کھانے کی حاجت نہیں۔ ان اللہ ھوالرزاق ذوالقوۃ المتین) (الذریت) وہی رازق ہے ‘ زور آور اور مضبوط ہے۔ روزی کے تمام ذرائع اسی کے قبضہ قدرت میں ہیں ‘ لہٰذا روزی بھی ہمیشہ اسی سے طلب کرنی چاہئے تو فرمایا کیا میں اللہ کو چھوڑ کر ان کو اپنا کارساز بنا لوں جو کھانے پینے اور بول و براز کے محتاج ہیں ‘ ایسا نہیں ہو سکتا۔ کارساز ‘ مددگار اور ولی وہی ہے جو ہر چیز کا مالک ہے ‘ ہر جاندار کے لئے روزی کے ذرائع پیدا کرتا ہے اور وہ خود نہ کھانے پینے کا محتاج ہے اور نہ کی دیگر چیز کا۔
اولین اطاعت گزار
فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ یہ بھی کہہ دیں انی امرت ان اکون اول من اسلم کہ مجھے تو میرے اللہ نے حکم یہ دیا ہے کہ میں ان لوگوں میں سے ہو جائوں جو اللہ تعالیٰ کے اولین اطاعت گزار ہیں ولا تکونن من المشرکین اور مجھے یہ بھی حکم دیا گیا ہے کہ تم مشرکوں میں سے نہ ہوجانا ‘ شرک روحانی بیماریوں میں سے مہلک بیماری ہے۔ لہٰذا اس سے بچتے رہنا۔ اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں ‘ کارساز نہیں ‘ تمام چیزوں کا مالک اور متصرف وہی ہے۔
فرمایا قل اے پیغمبر ! آپ یہ بھی کہہ دیں انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم۔ کہ میں اپنے رب کی نافرمانی کی صورت میں بڑے دن کے عذاب سے خوفزدہ ہوں۔ سارے نبی یہی کہتے رہے اور اپنے رب کی نافرمانی سے ڈرتے رہے اسی لئے ہم احتیاط کرتے ہیں کہ کہیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے مرتکب ہو کر اس کی گرفت میں نہ آجائیں اور پھر یہ ہے کہ سب سے بڑی نافرمانی کفر اور شرک ہے۔ اللہ کا ارشاد ہے۔ والکفرون ھم الظلمون کافر ہی ظالم ہیں جو اپنے رب کی نافرمانی کرتے تھے۔ نیز شرک کے متعلق فرمایا ” الشرک نظلم عظیم سب سے بڑی نافرمانی اللہ کی ساتھ شرک ہے۔ فرمایا کفر و شرک کی غلاظتوں سے بچ جائو اور اللہ کی رحمت کے امیدوار بن جائو کیونکہ من یصرف عنہ یومنذ فقد رحمتہ قیامت کی دن جس شخص سے عذاب ہٹا لیا گیا ‘ اس پر اللہ نے رحم فرما دیا۔ وذلک الفوز المبین اور یہ بہت بری کامیابی ہے۔ دوسری جگہ موجود ہے۔ فمن زحرج عن النار وادخل الجنتہ فقد فاز (آل عمران) جو دوزخ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کردیا گیا وہ کامیاب ہوگیا۔ تو فرمایا اس سے بڑھ کر کیا کامیابی ہے کہ انسان ذلت سے بچ جائے اور عزت کا مقام پا لے۔
مشکل کشا صرف اللہ ہے
فرمایا وان یمسک اللہ بضر اگر اللہ تعالیٰ تمہیں کوئی تکلیف پہنچائے فلا کاشف لا الا ھو تو اس کے سوا کوئی اسے ہٹانے والا نہیں۔ یعنی مافوق الاسباب نافع اور ضار اللہ تعالیٰ کی ذات ہی ہے۔ ہر چیز اسی کے قبضہ قدرت اور اختیار میں ہے۔ یاد رہے کہ یہاں مافوق الاسباب نفع نقصان کی بات ہو رہی ہے ورنہ اسباب کے دائرے میں رہتے ہوئے تو ہر شخص ایک دوسرے کے ساتھ لین دین کرتا ہے اور کسی کو فائدہ پہنچتا ہے اور کسی کو کی کے ہاتھوں نقصان ہوجاتا ہے مگر جس مقام پر تمام اسباب و علل ختم ہوجاتے ہیں اس مقام پر کسی کی تکلیف کو دور کرنے والا صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے وان یمسک بخیر اور اگر اللہ تعالیٰ تمہیں بھلائی پہنچائے فھو علی کل شی قدیر تو وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ کوئی دوسرا شخص اللہ تعالیٰ کی مشیت اور ارادے میں دخل نہیں دے سکتا ‘ وہ اپنی منشاء کے مطابق جسے چاہے نفع پہنچانے پر قادر ہے۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ غلط کار لوگ اللہ کی مخلوق کو نفع نقصان کا مالک سمجھنے لگتے ہیں۔ اسی لئے ان کے نا م کی دہائی دیتے ہیں ‘ ان کو نذرانہ پیش کرتے ہیں اور مصیبت کے وقت ان کو پکارتے ہیں جو کہ صریح شرک ہے ۔ اللہ کے سوا نہ کوئی قبر والا کسی کی مدد کرسکتا ہے اور نہ کوئی جن یا فرشتہ کی مشکل کشائی کرسکتا ہے۔
ویسلے کا تصور
بعض مشرکین ویسلے کا غلط تصور رکھتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم انبیاء اور اولیاء اللہ کا وسیلہ پکڑتے ہیں۔ جس طرح اس دنیا کے بادشاہ یا امیر ‘ وزیر تک رسائی کے لئے کی وسیلہ کی ضرورت ہوتی ہے ‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک پہنچنے کے لئے بھی انبیاء اولیاء کے وسیلہ کی ضرورت ہے۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ یاد رکھنا ‘ مشرکوں نے اللہ تعالیٰ کو ہمیشہ دنیا کے بادشاہوں اور امراء پر قیاس کیا ہے ‘ جو کہ سراسر غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ جو تمام مخلوق کا خالق اور مالک ہے ‘ اس کا ہر مخلوق کی ساتھ تعلق بھی قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے چوتھی صفت کا نام تدلی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی تجلیات کا عکس ہر انسان کی روح پر پڑتا ہے جس سے خدا تعالیٰ کا تعلق ہر شخص سے براہ راست قائم ہوتا ہے لہٰذا مشرکین کے بادشاہوں کے مماثل وسیلے کی یہاں قطعی گنجائش نہیں۔ ہاں ایک وسیلہ ضرور ہے اور وہ ہے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا وسیلہ۔ اطاعت بجا لائو تو بلا روک ٹوک اللہ کی بارگاہ تک رسائی حاصل کرلو ‘ درمیان میں کسی مزید وسیلے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مدد صرف اسی سے مانگو ‘ کیونکہ وہی مدد دینے والا ‘ مشکل کشا اور حاجت روا ہے۔
شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) اپنی کتاب فتوح الغیب میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت نقل کرتے ہیں ‘ جو کہ مسند احمد میں موجود ہے۔ ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں حضور ﷺ کے پیچھے سواری پر سوار تھا کہ آپ نے مجھ سے ارشاد فرمایا ‘ یا غلام یعنی اے لر کے ! احفظ اللہ یحفظک اللہ تم اللہ کے حقوق کی حفاظت کرو یعنی ان کا دھیان رکھو ‘ اللہ تمہاری حفاظت فرمائے گا ‘ پھر فرمایا تو اللہ کو حاضر ناظر جان ‘ تو اسے اپنے سامنے موجود پائے گا۔ واذا سالت فاسئل اللہ جب تو سوال کرے تو اللہ سے سوال کر واذا ستعنت فاستعن باللہ اور جب تو مدد طلب کرے تو اللہ سے طلب کر۔ اللہ نے اپنے بندوں کی قسمت میں جو کچھ لکھا ہے وہ ازل سے مقدر ہوچکا ہے اور اسے کوئی بدل نہیں سکتا ہر شخص کو جو فائدہ پہنچتا ہے۔ وہ پہنچ کر رہے گا اور جو نقصان پہنچتا ہے وہ بھی پہنچ کر رہے گا۔ پھر اگر تو اللہ پر توکل رکھے اور یقین محکم کے ساتھ معاملہ کرسکے تو وہ تجھے بہت بڑی جزاء عطا فرمائے گا۔ حدیث نقل کرنے کے بعد شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) لکھتے ہیں کہ ہر مومن کی اعتقادی اور عملی صحت و عافیت اسی میں ہے کہ اس حدیث پر ہمیشہ عمل کرے تا کہ وہ دنیا و عقبیٰ میں تمام آفات و مصائب سے محفوظ رہ سکے آپ کے ارشاد کا مقصد یہ ہے کہ ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اس حدیث شریف کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لے اور ہم یہ اس پر عمل پیرا رہے مگر آج ان کے نام لیوا کیا کر رہے ہیں ۔ کوئی حضرت علی ہجویری (رح) کا بکرا لے جا رہا ہے تو کوئی شیخ عبدالحق (رح) کا توشہ ‘ کہیں شاہ مدار (رح) کا ملیدہ مشہور ہے اور کہیں بو علی قلندر کا کچھڑ ‘ کہیں امام جعفر (رح) کے کو نڈے اور کہیں بی بی کی صحنک اور پھر شیخ عبدالقادر جیلانی (رح) کی گیارہویں تو بڑی مشہور ہے۔ یہ سب کیا ہے غیر اللہ کو نذریں پیش کی جارہی ہیں ان سے مدد طلب کی جا رہی ہے۔ مرادیں مانگی جا رہی ہیں شیخ عبدالقادر (رح) تو اس حدیث کو اوڑھنا بچھونا بنانے کی تلقین کر رہے ہیں اور تم انہیں سے مشکل کشائی کی امید لگائے بیٹھے ہو۔ یہ سب باطل باتیں ہیں مگر یار لوگ خوش ہیں کہ یہ بزرگ ہماری حاجت روائی کر رہے ہیں۔
ایصال ثواب
جب کہا جائے کہ بھئی ! غیر اللہ کی نذر و نیاز جائز نہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو ایصال ثواب کرتے ہیں۔ بھائی ! یہ ایصال ثواب نہیں بلکہ شرکیہ امور ہیں ‘ اگر ایصال ثواب مطلوب ہے تو غرباء اور محتاجوں کو ان کی ضروریات کی اشیاء بہم پہنچائو ‘ کھانا کھلائو ‘ کپڑا پہنائو ‘ کسی کو قرض سے نجات دلائو ‘ کسی کو اپنے پائوں پر کھڑا ہونے میں مدد دو اور نیت یہ رکھو کہ اس کا ثواب فلاں بزرگ کو پہنچے ‘ اناء اللہ پہنچے گا۔ اموات کیلئے استغفار ‘ ایصال ثواب ملت ابراہیمی کا مسلمہ اصول ہے ان کے لئے دعائیں کرو ‘ ایصال ثواب کرو مگر یہ کیسے نعرے ہیں ” یا علی مدد “ اور ” یا غوث اعظم المدد “ وغیرہ وغیرہ۔ یہ سب شرکیہ باتیں ہیں اللہ کے سوا کوئی غائبانہ مدد نہیں کرسکتا کوئی حاجت روائی اور مشکل کشائی پر قادر نہیں کوئی مددگار اور کارساز نہیں۔ اللہ تعالیٰ سمجھ کی توفیق عطا فرمائے۔
فرمایا وھو القاھر فوق عبادہ وہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر غالب ہے کنٹرول اس کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس طرح چاہے اپنے بندوں سے کام لے سکتا ہے ‘ اگر اکڑ جائیں تو انہیں دبا سکتا ہے۔ لہٰذا اسی سے دعا کرنی چاہئے کہ وہ اپنے دست قدرت سے اپنے بندوں کی اصلاح فرمائے کیونکہ قاہر تو وہی ہے ‘ سارا انتظام اسی کے ہاتھ میں ہے۔ وھوالحکیم الخبیر وہ حکیم ہے کہ اس کی کوئی چیز حکمت سے خالی نہیں اور وہ خبیر ہے کہ اسے ذرے ذرے کا لم ہے۔ اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں لہٰذا دست سوال بھی ہمیشہ اسی کے سامنے دراز کرنا چاہئے۔
Ayahs 6:19–21گواہی بحق رسالت
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ مشرکین حضور ﷺ کی نبوت و رسالت میں تردرد تھے اور فرشتہ اترنے اور لکھی لکھائی کتاب نازل ہونے کا مطالبہ کرتے تھے۔ مگر اللہ نے ان کے مطالبہ کو باطل قرار دیا اور فرمایا کہ اگر ان کی فرمائش پوری بھی کہہ دی جائے تب بھی یہ اسی شک میں پڑے رہیں گے اور ایمان نہیں لائیں گے۔ منجملہ دیگر اعتراضات کے مشرکین مکہ یہ بھی سوال کرتے تھے کہ حضور خاتم النبین ﷺ کی نبوت کی گواہی کون دیتا ہے ‘ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے ای ئی اکبر شھادۃ سب سے بڑی گواہی کس کی ہو سکتی ہے ؟ پھر خود ہی اس کا جواب دیا قل اللہ وقف آپ کہہ دیں کہ سب سے بڑی گواہی تو اللہ ہی کی ہے شید بینی و بینک وہی اللہ میرے اور تمہارے درمیان گواہ ہے۔ مطلب یہ کہ جب یہ چیز واضح ہوچکی ہے کہ نفع نقصان کا مالک اور تمام بندوں پر غلبہ رکھنے والا وہی ہے ‘ علم و حکمت والا ‘ خالق ‘ متصرف اور معبود برحق وہی ذات ہے ‘ تو پھر میری نبوت و رسالت کا گواہ بھی وہی ہو سکتا ہے۔ اس سے بڑھ کر کون سی شہادت ہو سکتی ہے یہ گویا مشرکین کے اعتراض کا جواب ہے۔
انداز و تبشیر
پھر فرمایا و اوحی الی ھذا القرآن اللہ تعالیٰ نے اس قرآن کو بذریعہ وحی میری طرف نازل کیا ہے ‘ لہٰذا میری نبوت اور رسالت کا سب سے بڑا گواہ وہی ہے اور اس قرآن پاک کے نزول کی غرض وغایت یہ ہے لا نذرکم بہ تا کہ میں اس کے ذریعے تمہیں ڈرائوں ‘ خبردار کر دوں ‘ قرآن پاک سرزمین عرب میں شہر مکہ میں نازل ہونا شروع ہوا ‘ لہٰذا اس کے اولین مخاطبین بھی مشرکین مکہ ہی ہیں۔ اور ہر نبی کا یہی مشن رہا ہے کہ سب سے پہلے اپنے اردگرد کے لوگوں کو ہی اللہ کا پیغام سناتے ہے ہیں۔ سورة یوسف میں ہے ” انا انزلنہ قرآن عربیا لعلک تعقلون “ ہم نے قرآن پاک کو عربی زبان میں نازل کیا تا کہ تم عرب لوگ اس کو سمجھ سکو۔ پھر حضور ﷺ کو یہ بھی حکم ہوا ‘ ” وانذر عشیرتاک الاتربین “ (الشعدائ) آپ اپنے بھائی بندوں کو خبردار کردیں غرضیکہ حضور ﷺ سے یہ بھی کہلوایا کہ یہ قرآن پاک میری طرف اس لئے وحی کیا گیا ہے تا کہ میں تم کو برے انجام سے خبردار کردوں۔ اگر خدا کی وحی پر ایمان نہیں لائو گے تو پھر اس کی گرفت میں آ جائو گے۔
انداز وتبشیر تمام انبیاء کی بعشت کا مقصد رہا ہے ۔ کہیں ترہیب اور ترغیب کے الفاظ بھی استعمال ہوئے ہیں یعنی برائیوں سے ڈرانا اور نیکیوں کی ترغیب دینا۔ ادھر تبشیر کا معنی بشارت سنانا ہے۔ جیسے فریاد رسلاً مبشرین و منذرین (النسائ) ہم نے بشارت سنانے والے اور ڈرانے والے رسول مبعوث کئے۔ جو شخص ایمان قبول کرتا ہے اور نیکی کا راستہ پکڑتا ہے اس کو بشارت دیتے ہیں ” بان لھم قدم صدق عند ربھم “ ۔ (یونس) کہ ان کے لئے اپنے رب کے ہاں سچا پایا ہے۔ فلاح اور کامیابی ہے۔ یہی تبسیر ہے اسی طرح انداز کے متعلق سورة مدثر میں فرمایا ” یایھا المدثر قم فانذر “۔ اے چادر اوڑھنے والے ! اٹھ کھڑے ہوں اور ان کو ڈرائیں۔ یہ آپ کے فرائض منصبی میں داخل ہے کہ لوگوں کو ان کے برے انجام سے خبردار کردیں۔ انہیں بتا دیں کہ کفر اور شرک کرنے والوں کا انجام ہم یہ برا ہوتا ہے
اسی سورة میں گزرچکا ہے کہ ان کو توجہ دلائیں۔ ” کم اھلکنا من قبلھم من قرن “ کہ ہم نے اس سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کردیا ‘ وہ بھی کفر اور شرک جیسی مہلک بیماریوں میں مبتلا تھے بہرحال یہاں پر فرمایا کہ اے پیغمبر ! آپ ان کو بتا دیں کہ میری طرف یہ قران اس لئے نازل کیا گیا ہے کہ میں تمہیں خبردار کر دوں۔
یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ قرآن پاک کے اولین مخاطبین عرب کے لوگ تھے جن کی زبان میں قرآن نازل ہوا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔
” وما ارسلنامن رسول الا بلسان قومہ “۔
(سورۃ ابراھیم) ہم نے ہر سول کو اس کی قوم کی زبان میں بھیجا۔
تا کہ اپنے اولین مخاطبین کو خبردار کرے۔ ومن بلغ اور ان لوگوں کو بھی خبردار کرے جن تک یہ قرآن پہنچے ‘ گویا حضور کی نبوت کے فراض میں داخل ہے کہ قرآن پاک کا پیغام دنیا میں جہاں کہیں پہنچے ‘ ان سب کو خبردار کردیں۔ اس لحاظ سے حضور خاتم النبین ﷺ کی نبوت و رسالت قومی نہیں بلکہ بین الاقوامی ہے۔ آپ تمام اقوام عالم کے انسانوں بلکہ جنات کے لئے بھی اللہ کے رسول بن کر آئے ہیں۔
مریضہ تبلیغ
تبلیغ دین کا کام حضور نبی کریم (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کیا ‘ پھر آپ کے بعد یہ کام صحابہ ؓ نے کیا ‘ پھر تابعین اور تبع تابعین یہ فریضہ انجام دیتے رہے اور جوں جوں فرزندان توحید کا حلقہ وسیع ہوتا چلا گیا قرآنی تعلیمات کو آگے پہنچانے کا کام طبقہ در طبقہ ہوتا رہا۔ چناچہ اب اس آخری امت کے ہر فرد پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دین کے احکام دوسروں تک پہنچائے ‘ چناچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” و کذلک جعلنکم امۃ وسطاً “ ہم نے تمہیں امت وسطیٰ (افضل امت) بنایا لتکونوا شھداء علی الناس “ تا کہ تم لوگوں پر گواہ بن جائو کہ ہم نے اللہ کے احکام ان تک پہنچا دیئے۔ مفسر قرآن محمد بن کعب قرظی (رح) فرماتے ہیں۔
من بلغہ القرآن فقد رامی محمدا۔ یعنی جس کے پاس قرآن پاک پہنچ گیا ‘ اس نے گویا خود حضور ﷺ کو دیکھ لیا کیونکہ آپ کا معجزہ اور آپ کا من اور آپ کی غرض وغایت یہی قرآن حکیم ہے۔ ہشام بن عامر نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے حضور ﷺ کے اخلاق کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے جواب دیا ‘ کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا ؟ عرض کیا ‘ قرآن تو میں پڑھتا ہوں ‘ فرمایا ‘ تو پھر یہی قرآن محمد ﷺ کا اخلاق ہے۔ مقصد یہ ہے کہ قرآن پاک کی تعلیمات کا عملی نمونہ حضور ﷺ کی ذات مبارکہ ہے۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا قرآن پاک کا پیغام ج شخص تک پہنچ جائے اس کا فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اسے آگے دوسروں تک پہنچائے ‘ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے پہلے خود حضور ﷺ کو تاکید فرمائی۔ ” بلغ ما انزل الیک من ربک “ (المائدہ) جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا گیا ‘ اسے آگے پہنچا دیں۔ اور پھر حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا بلغوا عنی ولو کان ایتہ مجھ سے لے کر دوسروں تک پہنچائو ‘ خواہ وہ ایک آیت ہی کیوں نہ ہو ‘ اس سے بھی خاطر خواہ فائدہ ہوگا اور پھر حجتہ الوداع کے موقع پر تقریباً سوا لاکھ صحابہ ؓ کو خطاب کرتے ہوئے آپ (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا تھا الا فلیبغ الشاھد الغائب فرب مبلغ اوعی من سامع سنو ! جو لوگ یہاں موجود ہیں انہیں چاہئے کہ یہ باتیں غیر حاضروں تک پہنچا دیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ کوئی غیر موجود شخص تم سے زیادہ سمجھنے اور محفوظ رکھنے والا ہو۔ بہرحال فرمایا کہ یہ امانت تم تک پہنچا دی ہے ‘ اس کو آگے پہنچانا اب تمہاری ذمہ داری ہے۔
1 ؎ سنن دارمی ص 111 ج 1 و ترمذی ص 283 ۔ 2 ؎ بخاری ص 61 ج 1 (فیاض)
تین اہم نصائح
حدیث شریف میں آتا ہے ‘ اللہ کے رسول نے فرمایا ‘ تین باتیں ایسی ہیں کہ مومن کا دل کبھی ان سے حسد اور کینہ نہیں کرسکتا۔ فرمایا پہلی بات اخلاص العمل للہ اللہ کی خاطر عمل میں اخلاص ہو۔ اگر اخلاص میں خرابی آگئی تو عمل برباد ہوجائے گا ‘ لہٰذا ایک مومن کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی ہے کہ اس کے عمل کا اخلاص ضائع نہ ہو ‘ مومن اس بارے میں اپنے دل میں کبھی کھوٹ نہیں رکھے گا۔ فرمایا دوسری بات والنصیحتہ للمسلمین ہے ہر مومن کو دوسرے مون کی خیر خواہی مطلوب ہوتی ہے۔ اگر اس ضمن میں بھی اس کے دل میں کوئی میل آگئی تو اس کے ایمان میں خرابی آجائے گی ‘ گویا ہر مسلمان کے حق میں خیرخواہی ضروری ہے۔ اس کے متعلق حضرت جریر بن عبداللہ بجلی ؓ کی روایت بھی صیحین میں موجود ہے ‘ وہ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے مجھ سے اس بات کی بھی بیعت لی والنصح لکل مسلم کہ میں ہر مسلمان کی خیر خواہی کروں بہرحال حضور ﷺ نے فرمایا تیسری اہم بات لزوم جماعتہ ہے۔ مسلمانوں کی جماعت کو مضبوط رکھنا یعنی اتفاق و اتحاد کی فضا کو برقرار رکھنا بھی مسلمان کے لئے ضروری ہے کیونکہ من شذ شذ جو جماعت سے الگ ہوگیا ‘ وہ علیحدہ فرقہ بن گیا ‘ پھر گمراہی آئی۔ اور جماعت المسلمین میں کمزوری آئی۔ اس تفریق کے نتائج بھی بہت برے نکلیں گے۔ الغرض ! تبلیغ دین بنی نوع انسان کے ساتھ خیر خواہی کی ایک صورت ہے جس کے متعلق سخت تاکید آئی ہے۔
دو اہم اصلاحات
اصل میں دو چیزیں بڑی ضروری ہیں۔ سورة بلد میں ہے ” ودھدینہ النجدین “ ہم نے انسان کی دو اونچی گھاٹیوں کی طرف راہنمائی کردی ہے عام تفسیر میں اسے خیر اور شر کی گھاٹیوں سے تعبیر کیا گیا ہے یعنی انسان کو اچھائی اور برائی کی تمیز سکھا دی گئی ہے تاہم علمی اصطلاح میں اسے یوں کہا جاسکتا ہے کہ ہر انسان کے لئے دو باتیں بڑی ضروری ہیں ‘ ایک انفرادی روحانی ترقی اور دوسری اصلاح عالم انسان خود اپنی اصلاح کرے تا کہ اسے روحانی ترقی ہو اور اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ درست رہے۔ جب اپنی اصلاح مکمل ہوجائے تو پھر اصلاح عالم کی ذمہ داری بھی اس پر عائد ہوتی ہے کہ پوری نسل انسانی سے خیرخواہی کا سلوک کرتے ہوئے اللہ کا پیغام ان تک پہنچائے اور ان کی اصلاح کی کوشش کرے۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ آج اس کے اپنے افکار بدل چکے ہیں ‘ اس کی حالت بھی یہود ‘ نصاریٰ ‘ ہنود ‘ مجوس اور دہریوں سے مختلف نہیں رہی۔ مسلمان آج اپنی اصلاح سے غافل ہے۔ یہ اقوام عالم کی اصلاح کیسے کرے گا۔ یہ کود گمراہ ہوچکا ہے ‘ دوسروں کو راستہ کیسے دکھائے گا۔ اصلاح عالم کا فریضہ اسلام کے ابتدائی دور میں بطریق احسن انجام دیا جاتا رہا ہے۔ مگر آج پورا عالم اسلام اس سے غافل ہوچکا ہے۔
تبلیغ دین میں مشکلات
اس وقت صرف تبلیغی جماعت ہے جو تبلیغ دین کے سلسلہ میں اپنی اصلاح کی کوشش کر رہی ہے۔ چونکہ خود اپنے بگڑ چکے ہیں۔ لہٰذا اولاً اصلاح کی کوشش کر رہی ہے۔ چونکہ خود اپنے بگڑ چکے ہیں۔ لہٰذا اولاً ان کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ مگر اس محاذ پر بھی جماعت کو بڑی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بڑے بڑے مصائب برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ گزشتہ سال کی بات ہے کہ تبلیغ کے لئے جماعت ادھر پہاڑی علاقے میں گئی کسی بستی میں رات کو قیام کرنا چاہا تو اہل بستی نے ٹھہرانے سے انکار کردیا ‘ بلکہ اسی وقت وہاں سے چلے جانے کے لئے کہا انہوں نے رات کے وقت تین چار میل دور دوسری بستی میں جا کر قیام کیا۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ جو جماعت تبلیغ دین کا اہم فریضہ انجام دے رہی ہے اس کے خلاف اہل بدعت ‘ شرک اور رسومی لوگ زہریلا پراپیگنڈاہ کرتے ہیں کہ یہ وہای ہیں بےدین ہیں جو تمہیں بھی بےدین بنادیں گے ۔ ایسے مراحل تو درمیان میں آتے رہتے ہیں ‘ ان سے گھبرانا نہیں چاہئے بلکہ اپنا پروگرام جاری رکھنا چاہئے ‘ جو لوگ نیکی کی طرف دعوت دینے والوں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں ‘ انہیں بھی اس ظلم کا بدلہ چکانا ہوگا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ خود کلمہ پڑھنے والوں کا حال یہ ہے کہ جو کام خود ان کے ذمہ تھا ‘ اس کو انجام دینے میں بھی رکاوٹ ڈالتے ہیں۔ جب یہ اپنی اصلاح کرنے کے لئے تیار نہیں تو دوسروں کی اصلاح کا بیڑا کون اٹھائے گا ؟ ذرائع مواصلات نے اب پوری دنیا کو سمیٹ کر رکھ دیا ہے ‘ لوگ ایک دوسرے کے ہاں کثرت سے آتے جاتے ہیں ‘ تبادلہ کیا ل ہوتا ہے ‘ تجربات ہوتے ہیں۔ تو ان سے پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں کتنی قومیں ایسی ہیں جنہیں سچے دین کی تلاش ہے مگر ان تک دین پہنچانے والا کوئی نہیں ‘ ان میں نیکی کرنے کی تڑپ موجود ہے۔ مگر ان کی راہنمائی کرنے والا کوئی نہیں۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ اثر بھی اسی بات کا ہوتا ہے جو کسی با عمل اور دین دار شخص کے منہ سے نکلی ہو۔ خالی خولی لیکچر دینے سے بات نہیں بنتی ‘ اللہ تعالیٰ نے اس ضمن میں خاص تنبیہ فرمائی۔
یایھا الذین امنوا لم تقولون مالا تفعلون (الصف) جو کہتے ہو وہ خود کیوں نہیں کرتے ‘ جو چیز دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہو اس پر پہلے خود عمل پیرا ہو جائو ‘ پھر بات بنے گی۔
مشن سے وابستگی
آج مسلمان اپنے اسلامی مشن کو فراموش کرچکا ہے اور اغیار کے رسم و رواج میں اپنی عزت سمجھتا ہے ۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اسلام کے زریں اصول دوسروں تک پہنچائے جاتے مگر آج ہم دوسروں کے لادینی نظریات اپنانے پر مجبور ہیں۔ ہمارے صدر صاحب نے ایک غیر ملکی شخصیت کو تحفہ ایک مجسمہ کی شکل میں دیا۔ بت تراشی اور بت فروشی تو اسلام میں ویسے ہی حرام ہے مگر ہمیں اس کے علاوہ اور کوئی تحفہ بھی نہ مل سکا۔
اسی طرح مسلمانوں اور کافروں کی قبروں پر پھول چڑھاتا ایک بین الاقوامی رواج بن چکا ہے ‘ سربراہان ملک ایک دوسرے کے ملک میں جاتے ہیں تو خیر سگالی کے طور پر وہاں کی مشہور ہستی کی قبر پر چادر چڑھاتے ہیں۔ غیر مسلموں کی دیکھا دیکھی مسلمانوں نے یہ بھی کام شروع کردیا ہے ۔ ہمارے ملک میں مسٹر جناح اور علامہ اقبال کی قبریں اس چیز کی آماجگاہ بن چکی ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ جب ہم اپنے مشن کو بھول گئے ہیں تو دوسروں کے نظریات اپنانے پر مجبور ہیں آج مملکت سعودیہ ایک واحد مثال ہے جو اپنے نظریات پر کسی حد تک قائم ہے۔ پچھلی دفعہ ابن سعود ہندوستان آیا تو حسب دستور گاندھی کی سمادھی پر پھولوں کی چادر چڑھانے کی اسے بھی پیشکش کی گئی مگر اس نے صاف انکار کردیا کہ وہ ایسی چیزوں کو روا نہیں سمجھتا۔ ظاہر ہے کہ اس نے اپنے نظریات پر قائم رہ کر اپنے ملک اور اسلام کی عزت افزائی کی۔ اس طرح مصر کا کرنل ناصر (رح) روس گیا تو خورو شیف کے ساتھ شراب پیش کی گئی مگر اس نے کہا کہ میں مسلمان ہوں شراب نہیں پیتا ‘ آخر انہیں وہ مے و ساغر اٹھانا ہی پڑا۔ ناصر کے ستھ خورو شیف نے بھی شراب نہیں پی۔ مسلمان کا کام تو یہ تھا کہ اپنے سچے اصول دوسروں کے سامنے پیش کرتا نہ کہ خود ان کی بد رو میں بہہ جاتا۔ بہرحال تبلیغ دین کے سلسلے کی پہلی منزل یہ ہے کہ خود مسلمانوں کی اصلاح کی جائے اور پھر نہایت خلوص کے ساتھ اسلام کی دعوت کو دوسروں تک پہنچایا جائے ایک سچے مسلمان کی اپنے مشن سے وابستگی کی یہی دلیل ہے۔
درس توحید
تبلیغ دین کی طرف توجہ دلانے کے بعد اسلام کے بنیادی اصول توحید کو ایک نئے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے ائنکم لتشھدون ان مع اللہ الھۃ اخری کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود بھی ہے ؟ فرمایا اگر یہ لوگ کسی غیر اللہ کو معبود مانتے ہوں تو قل لا اشھد آپ ان پر واضح کردیں کہ میں ایسی گواہی نہیں دیتا اس کے برخلاف میں تو یہی کہوں گا قل انما ھو اللہ واحد معبود برحق تو ایک ہی ہے۔ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں واننی بری مما تشرکون۔ اور میں بیزار ہوں ان چیزوں سے جن کو تم شریک بناتے ہو۔ میں غیر اللہ کو معبود تسلیم کرنے کے معاملے میں تم سے ہرگز اتفاق نہیں کرسکتا۔ اس معاملہ میں میرا اور تمہارا راستہ بالکل مختلف ہے۔
پیغمبر اور قرآن کی تصدیق
آگے اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کا بھی تذکرہ فرمایا جو اسلام کی حقانیت کو پہچاننے کے باوجود خسارے کا سودا کر رہے ہیں۔ ارشاد ہے الذی اتینھم المکتب یہ یہودی و نصاریٰ جن کو آسمانی کتب دی گئیں یعرفونہ کما یعرفون ابناء ھم یہ اس پیغمبرآخر الزمان کو اسی طرح پہچانتے ہیں جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں۔
………امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ یعرفونہ کی ضمیر قرآن پاک کی طرف بھی جاتی ہے۔ اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب جانتے ہیں کہ قرآن پاک وہی کلام ہے جس کے متعلق حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی کتاب تورات میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں تمہارے بھائی بندوں میں سے ایک شخص کو برپا کروں گا اور اس کے منہ میں اپنا کلام ڈالوں گا۔ قرآن پاک وہی کلام ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسرائیلیوں کے بھائی بند بنو اسماعیل میں سے حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر نازل کیا اور پیغمبر اسلا کو تو یہ اچھی طرح پہچانتے ہیں کیونکہ پہلی کتابوں میں موجود تمام علامات آپ پر صادق آتی ہیں۔ مگر اب جان بوجھ کر انکار کر رہے ہیں یہ لوگ مشرکین سے بھی بدتر ہیں۔ مشرک تو جہالت کی وجہ سے نبی آخر الزمان کا انکار کر رہے ہیں مگر یہ اپنی ضد ‘ ہٹ دھرمی اور تعصب کی بناء پر آپ پر ایمان لانے کو تیار نہیں ہیں اور ظاہر ہے تعصب جہالت سے زیادہ مہلک بیماری ہے۔ فرمایا الذی خسروا انفسم جن لوگوں نے اپنے آپ کو نقصان میں ڈال رکھا ہے۔ فھم لا یومنون وہ ایمان نہیں لاتے ‘ وہ لوگ محرومی کا شکار ہیں۔ انہوں نے فطرت سلیمہ کو بگاڑ دیا ہے اور تعصب کو اختیار کر رکھا ہے یہ ایمان سے محروم ہی رہیں گے۔
فرمایا دیکھو ! یہ لوگ آپ سے کہتے ہیں کہ آپ کی نبوت کا گواہ کون ہے تو اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ وہی سب سے بڑا گواہ ہے اور اگر پھر بھی تمہیں میری رسالت اور نبوت میں شک ہے تو سن لو ومن اظلم ممن افتری علی اللہ کذبا اس سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے جو خدا تعالیٰ پر جھوٹ باندھے دوسری آیت میں فرمایا ‘ کہ اس سے بڑا ظالم کون ہے جو یوں کہے کہ میری طرف وحی نازل ہوتی ہے حالانکہ وحی نازل نہ ہوتی ہو۔ مرزا قادیانی اور دیگر مدعیان نبوت یہی دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ ان پر وحی آتی ہے۔ یہ ب سے بڑا جھوٹ ہے اور ایسا دعویٰ کرنے والے سب سے بڑے ظالم ہیں اور فرمایا وہ شخص بھی بہت بڑا ظالم ہے او کذب بایتہ جو اس کی آیتوں کو جھٹلا دے وہ وحی الٰہی کی تکذیب کرتا ہے۔ ایسا کرنا بھی بہت بڑا ظلم ہے۔
یہ حضور ﷺ نے دوسرے پہلو کی وضاحت بھی فرما دی کہ میں تو اللہ کا سچا نبی ہوں اور نزول وحی کا میرا دعویٰ بھی سچا ہے مگر جو اس صداقت کو جھٹلاتا ہے اس سے بڑھ کر کون ظالم ہو سکتا ہے۔
فرمایا ‘ یادرکھو ! انہ لا یفلح الظلمون ظلم کرنے والے فلاح نہیں پاتے ‘ ظلم کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ اس چند روزہ زندگی میں تو بچ جائیں گے مگر آخرت کی کامیابی کے دروازے ان کے لئے بند ہیں حقیقی کامیابی اسی کو نصیب ہو سکتی ہے جو ظلم کو چھوڑ کر عدل کا راستہ پکڑے شرک کی بجائے توحید کو اختیار کرے اور نفاق کی بجائے اپنے اندر اخلاص پیدا کرے ‘ تب وہ فلاح کا منہ دیکھ سکتا ہے ‘ ورنہ ظالم تو اس سے محروم ہی رہیں گے۔
Ayahs 6:22–26ربط آیات
گزشتہ آیات میں مشرکین کا ذکر ہوا جنہوں نے اپنی فطری اور عقلی قوتوں کو ضائع کردیا۔ وہ شرک کے مرتکب ہو کر ابدالآباد تک نقصان ہی اٹھاتے رہیں گے۔ پھر اللہ نے اپنے پیغمبر کی زبان سے شرک سے بیزاری کا اعلان کروایا۔ جو لوگ آپ کی نبوت اور رسالت پر اعتراض کرتے تھے اور اس کا انکار کرتے تھے ان کو ان کے برے انجام سے خبردار کیا گیا۔ اللہ نے فرمایا کہ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر افتراء باندھتا ہے ‘ وہی الٰہی کا انکار کرتا ہے یا نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرتا ہے ۔ جو شخص اللہ کے بارے میں بیٹے کا اعتقاد رکھتا ہے۔ یا کسی کو اس کی ذات ‘ صفات یا عبادت میں شریک کرتا ہے ‘ وہ بھی سب سے بڑا طالم ہے۔ اسی طرح اللہ کی آیات کا انکار کرنے والے کو بھی اپنا انجام سوچ لینا چاہئے ‘ یہ وہ لوگ ہیں الذین خسروا انفسھم کہ انہوں نے اپنے نفسوں کو خسارے میں ڈال لیا۔
اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن مشرکین کے ساتھ پیش آنیوالے سلوک کا ذکر کیا ہے ان کی تھوڑی سی کیفیت بیان کی ہے اور پھر ارتکاب شرک پر ان کو ڈانٹ پلائی ہے۔
ارشاد ہوتا ہے ویوم نحشرھم جمیعاً اس دن کو اپنے دھیان میں لائو جب ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے۔ ظاہر ہے کہ وہ دن قیامت کا ہوگا جب تمام انسانوں کو بارگاہ رب العزت میں حاضر ہونا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ تمام اولین اور آخرین کو جمع فرمائیں گے۔ ثم نقول للذین اشرکو پھر ہم ان لوگوں کو فرمائیں گے جنہوں نے شرک کیا این شرکاء کم الذین کنتم ترعمون تمہارے وہ شریک کہاں ہیں جن کے متعلق تم گمان کرتے تھے کہ وہ تمہاری سفارش کریں گے اور تمہیں بچا لیں گے۔ یہ سوال ہر قسم کے شرک کرنے والوں سے ہوگا۔
انسانی سوسائٹی میں شرک کی جتنی بھی قسمیں پائی جاتی ہیں سب کے مرتکبین کو ڈانٹ پلائی جائے گی کہ لائو وہ تمہارے شریک آج کدھر گئے جن کے سہارے پر تم اللہ وحد ‘ لا شریک کو بھول کر ان کے پیچھے لگے رہے۔
قرآن پاک میں دوسرے مقام پر آتا ہے کہ قیامت والے دن تمام عابد اور معبود اکٹھے ہوں گے مگر یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ اللہ لوگوں سے پوچھے گا کہ تمہارے شرکاء کہاں ہیں ‘ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ وہاں موجود نہیں ہوں گے۔ اس اشکال کے جواب میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمیہ میں شریکوں کی موجودگی کی نفی نہیں بلکہ درصال ان کی سفارش کی نفی ہے کہ وہ موجود ہونے کے باوجود سفارش نہیں کرسکیں گے۔ اور اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ دنیا میں تو تم کہتے تھے ۔ ” ھو لاء شفعاء فاعنداللہ (یونس) اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ اب انہیں کہو کہ وہ تمہاری سفارش کریں اور تمہیں چھڑا لیں ‘ مگر وہاں کوئی دم نہیں مار سکے گا۔ ” من ذالذی یشفع عندہ الا باذنہ “ (بقرہ) کون ہے جو اللہ کی اجازت کے بغیر اس کے پاس سفارش کرسکے اور اللہ تعالیٰ سفارش کی اجازت اس کو دیں گے جو سفارش کی شرائط پوری کرے گا یہ محض ان کو ذلیل کرنے کے لئے کہا جائے گا کہ لائو ‘ کہاں ہیں تمہارے شرکاء جن کے بارے میں تم گمان کرتے تھے۔
فرمایا جب اللہ تعالیٰ مشرکین سے یہ سوال کریں گے ۔ لم لم تکن فتنتھم پھر نہیں ہوگی ان کی آزمائش۔ فتنہ کا معنی عام طور پر آزمائش ہوتا ہے اور بعض لوگ اس کا معنی شرارت بھی کرتے ہیں۔ بعض مفسرین نے اس کا معنی جواب کیا ہے۔ یعنی جب اللہ تعالیٰ پوچھیں گے ‘ ان سے سوال کریں گے ‘ تو ان کا کوئی جواب نہیں ہوگا۔ الا ان قالو سوائے اس کے کہ وہ کہیں گے واللہ ربنا ما کنا مشرکین اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے ‘ ہم شرک کرنے والے نہیں تھے اس وقت اللہ کے سامنے اپنے شرک کا انکار کردیں گے۔ معبو ان باطلہ کی سفارش کے معتقد مشرک اپنے شرک سے مکر جائیں گے کہ ہم تو شرک نہیں کرتے تھے۔
اس مقام پر بھی اشکال واقع ہوتا ہے۔ یہاں پر تو فرمایا ہے کہ مشرکین اپنے شرک کا انکار کردیں گے مگر دوسری جگہ آتا ہے کہ وہ اقرار کریں گے ۔ ” شاھدین علی انفسھم “ وہ خود اپنے آپ کے خلاف گواہی دیں گے کہ واقعی ہم نے گلطی کی اور کفر و شرک میں مبتلا ہوئے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ میدان حشر میں ہر شخص کے ہساب و کتاب کے لئے بڑا لمبا عرصہ درکار ہوگا۔
اور اس دوران لوگ مختلف کیفیتوں سے گزریں گے جس موقع پر یہاں انکار شرک کی بات ہو رہی ہے۔ وہ بڑا مشکل وقت ہوگا ‘ لوگوں پر دہشت طاری ہوگی اور وہ کسی چیز کا خیال کئے بغیر شرک سے انکار کردیں گے مگر ان کا یہ انکار بےسو ہوگا کیونکہ جو حقیقت واقع ہوچکی ہوگی ‘ وہ چھپائی نہیں جاسکے گی اور انہیں حقیقت کا سامنا کرنا ہی ہوگا ‘ پھر دوسرے موقع پر جب ان کی حالت سنبھلے گی ‘ ہوش و حواس قائم ہوں گے تو اپنے جرائم کا خود اقرار ریں گے اور اگر زبان سے اقرار نہیں کریں گے تو ان کے اعضا بول کر گواہی دیں گے ‘ ان کے اعمالنامے ان کے سامنے ہوں گے ‘ فرشتے گواہی دیں گے بلکہ وہ خطہ ارضی گواہی دے گا جس پر جرم کا ارتکاب کیا گیا ‘ لہٰذا انکار جرم کے ذریعے بچ نکلنے کی صورت ممکن نہ ہوگی۔
اللہ نے فرمایا انظر کیف کذبوا علی انفسھم دیکھو ! انہوں نے اپنے نفسوں پر کیا جھوٹ بولا۔ انہوں نے شرک کا انکار کر کے خود اپنے آپ پر افتراء کیا وضل عنھم ماکانوا یفترون اور ان سے وہ باتیں کھو گئیں ‘ جن کا وہ افتراء کیا کرتے تھے انہوں نے جو غلط عقیدے بنا رکھے تھے وہ سب ضائع ہوجائیں گے ‘ کوئی زعم باطل کام نہیں آئے گا۔ اور انہیں اس کے سوا کچھ نہیں سوجھے گا کہ وقتی طور پر شرک کا انکار ہی کردی۔
کان ‘ آنکھ اور دل
مشرکین کا حال بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے منافقین کا ذکر بھی کیا ہے۔ ومنھم من یستمع الیک اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو آپ کی طرکان لگاتے ہیں یعنی آپ کی بات کو بڑے غور سے سنتے ہیں مگر ان کا ارادہ اور نیت آپ کی اتباع کا نہیں ہے۔ اس لئے وجعلنا علی قلوبھم اکنۃ ان یفقھوہ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں اس بات سے کہ وہ اس کو سمجھیں۔ مطلب یہ کہ آپ کی بات سننے کے باوجود وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں کیونکہ ان کے دلوں پر پردے پڑچکے ہیں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کو اس حد تک بگاڑ دیا ہے کہ کوئی بات ان کے دلوں پر اثر ہی نہیں کرتی۔ جب کوئی انسان ضد ‘ عناد اور ہٹ دھرمی پر پختہ ہوجاتا ہے تو پھر اس کا دل اچھائی کو اخذ کرنے کی صلاحیت ہی کو کھو بیٹھتا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔ 1 ؎ تعرض الفتن علی القلوب الحصیر عودا عودا فتنے دلوں پر اس طرح وار دہوتے ہیں جس طرح ایک ایک تنکا مل کر چٹائی بن جاتا ہے۔ اور پھر وہ دل ہر قسم کی بھلائی کے لئے بند ہوجاتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی برائی کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے۔ پھر جوں جوں گناہ میں آگے بڑھتا جاتا ہے ‘ دل کی سیاہی میں اضافہ ہوتا جاتا ہے حتیٰ کہ پورا دل بالکل سیاہ ہوجاتا ہے ‘ اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا طبع اللہ علیھا بکفر ھم “۔
ان کے کفر کی وجہ سے اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپے لگا دیئے ہیں۔ اور یہاں فرمایا ان کے دلوں پر ہم نے پردے ڈال دیئے ہیں۔ و فی اذانھم وقرا اور ان کے کانوں میں بوجھ ہے جس کی وجہ سے کسی بات کو ٹھیک طور سے سن ہی نہیں سکتے۔ کان بھاری ہونا محاورے کے طور پر بھی بولا جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ کانوں سے کوئی فائدہ ہی نہیں اٹھا سکتا۔ فرمایا۔ وان یروا کل ایتہ لا یومنوا بھا اور وہ ہر قسم کی نشانیوں کو دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے ‘ گویا وہ لوگ اپنی آنکھوں سے بھی کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ ان کے سامنے بیشمار تکوینی اور تشریعی نشانیاں اور مستقل معجزات ہیں۔ اللہ کا کلام اپنی آنکھوں سے پڑھتے ہیں ‘ مگر ا س کے باوجود وہ ایمان لانے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔
اب یہاں پر تینوں چیزوں کا ذکر آ گیا یعنی ‘ کان ‘ دل اور آنکھیں ‘ یہ تینوں چیزیں اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہیں۔ ” ان السمع والبصر والفواد کل اولئک کان عنہ مسئولا “ (بنی اسرائیل بیشک کان ‘ آنکھ اور دل کے متعلق اللہ کے ہاں بازپرس ہوگی۔ اور اللہ تعالیٰ نے یہ بھی حکم دیا ولا تکونوا کالذین قالوا سمعنا و ھم لا یسمعون “ (انفال) ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو کہتے ہیں کہ ہم نے سن لیا مگر فی الحقیقت انہوں نے نہیں سنا۔ سننے کا فائدہ تو یہ ہے کہ انسان سن کر اسے دل میں جگہ دے ‘ اس پر اعتقاد رکھے اور پھر اس پر عمل پیرا ہوجائے ‘ جو ایسا نہیں کرتا ‘ اس کا سننا اور نہ سننا برابر ہے۔ امام احمد (رح) کی کتاب الصلوٰۃ میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ بہت سے لوگ ہیں یصلون ولا یصلون جو نماز تو پڑھتے ہیں لیکن حقیقت میں نہیں پڑھتے۔ یعنی نماز پڑھنے کا جو مسنون طریقہ ہے اس کو مدنظر نہیں رکھتے۔ نماز کے فرائض ‘ واجبات وغیرہ کا خیال نہیں رکھتے تو ان کا نماز پڑھنا یا نہ پڑھنا ایک برابر ہے۔ امام احمد صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ میں نے ایک سو مسجدوں میں نماز پڑھی اور دیکھا کہ اکثر لوگ نماز صحیح طور پر ادا نہیں کرتے ‘ چناچہ انہوں نے کتاب الصلوٰۃ کے نام سے ایک رسالہ بھی لکھا ہے تا کہ لوگ اپنی نمازیں درست کرلیں۔ غرضیکہ اللہ نے فرمایا کہ ان کے کان دل اور آنکھیں تینوں چیزیں برباد ہوچکی ہیں لہٰذا ان پر کوئی اثر نہیں کرتی۔
سبق آموز اور عبرتناک واقعات
فرمایا اللہ کے عطا کردہ حواس سے کام ہی نہیں لیتے حتیٰ اذا جائوئک یجادولنک یہاں تک کہ جب آپ کے پاس آتے ہیں تو آپ سے جھگڑا کرتے ہیں۔ یقول الذین کفروا اور کفر کرنے والے یوں کہتے ہیں ان ھذا الا اساطیر الاولین یہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ یہ مکہ کے مشرکین کی بات ہو رہی ہے کہ جب انہیں اللہ کا قرآن پیش کیا جاتا تو وہ اسے قصے کہانیوں کا نام دے کر منہ موڑ لیتے۔ ولید ابن مغیرہ جیسا متعصب اور عنادی مشرک کہتا کہ محمد تمہیں عاد اور ثمود کی قوموں کے قصے سناتا ہے ‘ آئو میں تمہیں بہمن اور اسفند یار کے قصے سناتا ہوں ‘ اور اس طرح دوسرے لوگوں کی گمراہی کا سبب بھی بنتا۔
اساطیر یونانی زبان کا لفظ ہے جس کا مفرد اسطورہ ہے اور اسے انگریزی زبان میں بطور سٹوری اپنا لیا گیا ہے۔ تو وہ لوگ کہتے کہ محمد ہمیں سٹوریاں سناتا ہے۔ حالانکہ قرآن پاک نے پرانی قوموں کے جو واقعات بیان کئے ہیں ‘ وہ ایام اللہ یعنی تاریخی اعتبار سے نہایت سبق آموز اور عبرتناک ہیں جہاں کہیں ایسا واقعہ بیان کیا ہے ‘ وہاں فرمایا ہے فاعتبروا یاولی الابصار “۔ اے عقلمندو ! اس سے عبرت حاصل کرو اور نصیحت پکڑو قرآن پاک نے محض افسانے کے طور پر کوئی واقعہ بیان نہیں کیا بلکہ یہ اللہ کا برحق کلام ہے ان واقعات کے بیان سے لوگوں کی اصلاح مقصود ہے۔
فرمایا خدا اور رسول کے یہ دشمن لوگوں کو وھم ینہون عنہ اس سے روکتے ہیں۔ لا کی ضمیر قرآن پاک کی طرف بھی جاتی ہے اور پیغمبر اسلام کی طرف بھی۔ یعنی مشرکین لوگوں کو قرآن پاک سننے سے بھی روکتے تھے اور نبی ﷺ کی مجلس میں جانے سے بھی منع کرتے تھے اور اس کے لئے غلط پراپیگنڈہ کرتے تھے۔ چناچہ مسلم شریف میں ضماد نامی کاہن اور حکیم کا ذکر آتا ہے ‘ جب وہ مکہ آیاتو مشرکین نے اس سے کہا کہ یہاں ایک پاگل آدمی ہے (العیاذ باللہ) اس کے پاس نہ جانا اور نہ اس کی بات سننا وہ خود بیان کرتا ہے کہ میرے دل میں خیال آیا میں طبیب ہوں اگر اس آدمی سے ملاقات ہوجائے تو اس کا علاج ہی کر دوں گا۔ چناچہ وہ بڑی مشکل سے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا یا محمد انی ارقی من ھذا الریح میں کئی قسم کی بیماریوں ‘ آسیب اور جنات و جنون وغیرہ کا علاج کرتا ہوں ‘ اللہ تعالیٰ میرے ہاتھ پر بہت سے لوگوں کو شفا دے دیتا ہے ‘ اگر آپ چاہیں تو میں آپ کا بھی علاج کروں۔ حضور ﷺ نے اس کو پاس بٹھایا اور الحمد للہ سے شروع کر کے ایک خطبہ ارشاد فرمایا۔ آپ نے خطبے کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کی اور پھر جب آپ نے اما بعد کہہ کر اس کی توجہ آگے آنے والی بات کی طرف دلائی تو وہ خطبہ کے ابتدائی حصہ سے ہی گھائل ہوچکا تھا اس نے وہی خطبہ تین دفعہ سنا اور پھر کہنے لگا۔ میں نے بڑے بڑے کاہنوں ‘ شاعروں اور خطیبوں کا کلام سنا ہے ‘ مگر مجھے یہ بات کہیں نہیں ملی جو آپ کے خطبہ میں پائی گئی ہے۔ عرض کیا۔ آپ ہاتھ بڑھائیں ‘ میں ایمان لاتا ہوں۔
مشرکین مکہ لوگوں کو حضور ﷺ کی مجلس میں جانے سے روکنے کے لئے رشوت تک دینے سے بھی گریز نہیں کرتے تھے۔ اعشیٰ اس 1 ؎ دور کا بہت بڑا شاعر تھا مکہ آ رہا تھا تو ابوجہل اور اس کی پارٹی کو خطرہ لاحق ہوا کہ اگر یہ مسلمان ہوگیا ۔ تو اسلام کو بڑی تقویت حاصل ہوجائے گی ‘ کیونکہ اگر اس نے دین اسلام کی تعریف میں کچھ اشعار کہہ دیئے تو لوگوں کی کثیر تعداد متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے گی چناچہ انہوں نے اس شاعر کو اناج کے بھرے بھرائے ایک سو اونٹ اس شرط پر دیئے کہ وہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر نہیں ہوگا۔ شعب ابی طالب میں تین سالہ محاصرے کے دوران مشرکین مکہ اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کرتے رہے۔
کہتے ہیں کہ اعشیٰ جسے صناجتہ العرب یعنی عرب کا باجا کہا جاتا تھا ‘ ایک دفعہ عکاظ کی منڈی میں آیا ‘ وہاں کسی شخص کی جوان بچیاں تھیں جنہیں کوئی شخص قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھا۔ اس غریب آدمی کو کسی نے مشورہ دیا کہ اعشیٰ شاعر کی دعوت کر دو ‘ اگر اس نے خوش ہو کر تمہاری تعریف میں کچھ کہہ دیا تو تمہارا مسئلہ فوراً حل ہوجائے گا۔ چناچہ اس شخص نے ایسا ہی کیا ‘ اونٹ ذبح کر کے اعشیٰ کی پرتکلف دعوت کی۔ اس نے اس شخص کی تعریف میں ایسا قصیدہ کہا کہ اس کی بچیوں کے لئے بڑے بڑے امراء کی طرف سے نکاح کے پیغامات آنے لگے ‘ اس کے کلام میں اتنا اثر تھا ‘ اعشیٰ کے اشعار اس کے دیوان میں موجود ہیں۔ بہرحال مشرکین مکہ نے ایسے شخص کو حضور ﷺ کی مجلس سے روکنے کے لئے ایک سو اونٹ بمع اناج کی رشوت دی۔ یہ شاعر یمامہ کی طرف کسی جگہ کا رہنے والا تھا ‘ جب اپنے وطن کی طرف روانہ ہوا تو راستے میں ہی اونٹنی سے گر کر ہلاک ہوگیا۔
اپنے ہاتھوں تباہی
فرمایا مشرکین ایک کام تو یہ کرتے ہیں کہ لوگوں کو آپ سے اور قرآن پاک سے روکتے ہیں اور دوسرا یہ کہ وینئون عنہ اور خود بھی پیغمبر اسلام کی ذات مبارکہ اور اللہ کے سچے کلام سے دور رہتے ہیں۔ اگر خود قریب نہ جاتے ‘ مگر دوسروں کو نہ روکتے تو پھر بھی کسی حد تک قابل برداشت تھا مگر ان بدبختوں نے دونوں محاذوں پر بیک وقت حملہ کیا اور دین اسلام اور پیغمبر خدا ﷺ کی مخالفت میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔
بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں پر ینئون عنہ سے وہ مشرکین مراد ہیں جو ایمان کی نعمت سے محروم رہنے کے باوجود آپ کی طرف داری کرتے تھے اور دشمنوں سے آپ کی حفاظت کرتے تھے۔ ان میں آپ کے چچا ابو طالب پیش پیش تھے۔ مشہور ہے کہ ابو طالب نے ہمیشہ آپ کا دفاع کیا مگر خود ایمان لانے سے قاصر رہا ‘ آپ کا دین قبول نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی بھی مذمت بیان فرمائی ہے۔
فرمایا یہ لوگ دوسروں کو قریب آنے سے روکتے ہیں اور خود اس سے دور ہٹتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے وان یھلکون الا انفسھم یہ لوگ نہیں ہلاک کرتے مگر اپنی ہی جانوں کو یعنی یہ بدبخت اسلام کو تو نقصان نہیں پہنچا سکتے ‘ البتہ اپنے ہاتھوں اپنی ہی تباہی ‘ بربادی اور ہلاکت کا سامان کر رہے ہیں وما یشعرون اور اتنی سمجھ بھی نہیں رکھتے کہ وہ کسی تباہی کی طرف جا رہے ہیں۔