Ayah 5:1کوائف اس سورت کا نام سورة المائدۃ ہے ۔ اسکی ایک سو بیس آیات اور سولہ رکوع ہیں ۔ یہ سورة 48425 کلمات اور 12464 حروف پر مشتمل ہے ۔ سورة آل عمران اور سورة نساء کی طرح کی طرح یہ بھی مدنی سورة ہے اس کا اکثر حصہ مدینہ طیبہ میں نازل ہوا تاہم اس کی تیسری آیت کا حصہ حجہ الوداع کے موقع پر مکہ معظمہ میں نازل ہوا۔ (1)
مائدۃ کے علاوہ اس سورة کے اور بھی کئی نام ہیں اسے سورة العقود بھی کہا گیا ہے کیونکہ اس کی پہلی آیت میں عق کا لفظ آیا ہے جس کا معنی عہد پیمان ہے اور جس کی پابندی کا حکم دیا گیا ہے ۔ ا س کا نام بھی ہے کیونکہ انسانوں کو عذاب الہٰی سے بچانے والی سورة ہے ۔ تاہم اس کا زیادہ معروف نام مائدۃ ہی ہے۔
وجہ تسمیہ اس سورة کا نام مائدہ دو وجوہات سے ہے ۔ پہلی وجہ دیہ ہے کہ اس کے پندرھویں رکوع میں حضرت مسیح (علیہ السلام) کی دعا کا ذکر ہے ، جس میں آپ نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی تھی اے اللہ ! ہمارے لیے آسمان سے دستر خوان نازل فرمادے مائدہ اس دستر خوان وکو کہتے ہیں جس پر کھانا چنا ہوا ہو۔ اگر محض دستر خوان ہو اور اس پر اشیائے اکل و شرب موجود نہ ہوں تو اسے عربی زبان میں خوان کہتے ہیں ترمذی شریف میں آتا ہے کہ حضور نبی اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کھانا کبھی چھوٹے یا بڑے میز پر نہیں کھایا ۔ پوچنے والا پوچھتا ہے کہ حضور کس چیز پر کھانا تناول فرماتے تھے ، تو بتایا گیا کہ آپ چٹائی ، کپڑے یا چمڑے کے دستر خوان پر کھانا رکھ کر تناول فرماتے تھے۔
بہر حال سورة مائدہ کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان سے دستر خوان نازل فرمایا اور دوسری وجہ یہ ہے کہ اس سورة میں کھانے پینے کی اشیاء سے متعلق حلت و حرمت کے احکام ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کی طہارت ، سماحت ، عدالت اور اخبات پر پڑتا ہے ۔ اگر کھانا حلال ہو تو انسان میں یہ اخلاق حسنہ پیدا ہوتے ہیں ۔ ا سی لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اکل حلال کا پابند کیا ہے ۔ ا و ر جو چیزیں اس کے اخلاق کے لیے مضر ہیں انہیں حرام قرار دیکر ان کے استعمال سے منع فرمادیا ہے ۔ چونکہ اس سورة میں حلال و حرام جانوروں کی تفصیل بیان کی گئی ہے ، لہذا یہ اس سورة کی دوسری وجہ تسمیہ ہے۔
یہ ایک اصولی بات ہے کہ مکی سورتوں میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر بنیادی عقائد کی اصلاح کا پروگرام نازل فرمایا ہے ۔ ا ن میں اخلاق اور عقائد کی درستگی کے اصول بیان کئے گئے ہیں۔ مدینہ منورہ پہنچ کر مسلمان ایک اسلامی معاشرہ قائم کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے لہذا وہاں پر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے اجتماعی احکامات نازل فرمائے ۔ چناچہ مدنی سورتوں میں بنیادی عقائد کے علاوہ معاشرے میں پیش آنے والے روز مرہ کے مسائل اور ان کا حل ہے۔ سورة مائدہ میں بھی عہدو پیمان کے مسائل ، منافقین کی بری خصلتیں ، مسلمہ قسم اور شہادت اور اور شہادت علی وغیرہ کے قوانین بیان ہوئے ہیں ۔ بنیادی عقیدہ توحید کا ذکر آیا ہے اور شرک سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے ۔ قیامت اور محاسبے کا تذکرہ ہے۔ اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کے متعلق تفصیلی بیان ہے۔ ایک مسلمان کی روز مرہ زندگی میں پیش آنے والے مسائل متعلقہ طہارت ، تیمم اور غسل وغیرہ کے مسائل بھی بیان ہوئے ہیں اور پھر جیسا کہ سورة کے نام سے واضح ہے ۔ اس میں ماکو لات و مشروبات کی حلت اور حرست کا قانون بتایا گیا ہے۔
سابقہ سورتوں کے ساتھ ربط
مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ سورة بقرہ میں روئے سخن یہودیوں کی طرف تھا ، ان کی خرابیاں بیان فرما کر انکی اصلاح کا پروگرام دیا گیا تھا۔ چناچہ اسے لے کر کئی رکوع تک یہودیوں کا تذکرہ ہے ۔ اس کے بعد سورة آل عمران میں زیادہ تر روئے سخن نصارٰی کی طرف تذکرہ ہے۔ اس میں عیسائیوں کے عقیدہ انبیت کا ہے مسیح (علیہ السلام) کی شخصیت اور ان کی تعلیمات کا ذکر کرکے نصاریٰ کو قبول حق کی دعوت دی گئی ہے ۔ پھر بحران کی آمد اور ان کے ساتھ مباطہ کا تذکرہ ہے۔ اس کے علاوہ اہل ایمان کے لیے ضروری احکام بھی نازل فرمائے گئے ہیں۔ اس سے اگلی سورة نساء کا بنیادی موضوع کمزور طبقات کے حقوق کا تحفظ ہے ۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ سورة نساء اور مائدہ میں تو عرب کے باشندوں کی اصلاح پیش نظر ہے تاہم دوسرے مذاہب کے ساتھ بحث و مباحثہ کا تذکرہ بھی ہے ۔ اہل کتاب اور منافقین کا تذکرہ حسب سابق اس سورة میں بھی موجود ہے ۔ کفر اور شرک کی برابر مذمت بیان ہورہی ہے ، اس کے علاوہ بہت سے دیگر احکام بھی نازل ہوئے ہیں۔ اس کے اگلی سورة انعام میں عرب سے باہر بسنے والے محسوس کا تذکرہ بھی آئے گا۔ اللہ نے ان کے باطل عقیدہ نور و ظلمت اور نیکی اور بدی کے دو خدائوں ہر من اور یزدان کا رد فرمایا ہے ۔
سورۃ نساء کا ایک خصوصی موضوع مجرمات نکاح ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حرم رسوں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ان کے علاوہ باقی تمام عورتوں سے نکاح جائز ہے بشر طی کہ ان کا مہر اور دیگر حقوق ادا کرو۔ نکاح انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ہے۔ اور نسل انسانی کی بقا کا انحصار اسی پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نکاح کے علاوہ شہوت رانی کے تمام ذرائع کو حرام قرار دیا ہے ۔ ہاں البتہ لونڈیوں سے استختاع جائز ہے لیکن آج کی دنیا میں یہ ذرایعہ بلکل ختم ہوچکا ہے۔
الغرض ! گذشتہ سورة میں اللہ تعالیٰ نے نکاح اور محرمات نکاح کا قانون بتلا کر بقائے نوع انسانی کا سامان مہیا کیا اور اب اس سورة میں انسانی خوراک کے متعلق حلت و حرمت کا اصول بتا کر بقائے شخصی کا انتظام فرمایا ہے ۔ ان دوصورتوں میں یہ خصوصی ربط پایا جاتا ہے جس طرح انسان کھانے پینے کا محتاج ہے۔ اسی طرح نکا ح بھی اس کی بنیادی ضروریات میں سے ہے۔ پہلی سورة میں اللہ نے محرمات نکاح کا ذکر کیا اور اب اس سورة میں محرمات اکل و شرب کا خصوصی بیان ہے ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ ایک انسانی جسم میں دو چیزیں بڑی خطرناک ہیں یعنی منہ اور شرمگاہ ۔ سبابقہ سورة میں شرمگاہ کی حفاظت کا قانون تھا اور اب اس سورة میں یعنی اشیائے خورد نوش کی حفاظت کا قانون ہے ۔ ا س طرح ان دو ملحقہ سورتوں میں حفاظت فرج اور حفاظت بطن کے اصول و قوانین بتائے گئے ہیں۔
اس سورة کا ربط اگلی سورة انعام کے ساتھ بھی ہے جیسا کہ اس سورة کے نام سے ظاہر ہے ، وہاں بھی مویشیوں اور ان کی حلت و حرمت کا تذکرہ ہے۔ حرام جانوروں کا گوشت اور دودھ وغیرہ استعمال کرنے سے ان کا منفی اثر انسانی کی روحانیت پر پڑتا ہے ۔ اس لیے شریعت نے ہر ایسی غذا پر پابندی لگائی ہے جو جسمانی ، اخلاقی یا روحانی طور پر مضر ہو۔ اس طرح اس سورة کا ربط اگلی سورة کے ساتھ بھی ہے۔
زمانہ نزول
کل عرض کیا تھا کہ یہ سورة مدنی ہے کیونکہ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں نازل ہوئی تاہم تیسری آیت کا ایک حصہ الیوم ۔۔۔ دیئنا تک حجتہ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں نازل ہوا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس سورة کی تکمیل کئی سالوں میں ہوئی بعض مفسرین سورة کے بیک وقت نزول کے بھی قائل ہیں مگر یہ درست نہیں ہے حقیقت یہی ہے کہ یہ سورة 6 ء اور 9 ء کے درمیانی عرصہ میں نازل ہوئی ۔ تاہم مذکورہ بالا حصہ آیت 10 ھ میں میدان عرفات میں نازل ہوا ۔
کیفیت نزول
وحی الہٰی بڑی بوجھل ہوتی ہے اس کا ذکر سورة مزمل میں موجود ہے انا سنلقی علیل قولاثقیلا ہم آپ پر ایک بوجھل بات ڈال ہیں بخاری شریف کی روایت 1 ؎ میں آتا ہے کہ سخت سردی کے موسم میں بھی وحی نازل ہوتی تو اس کی حرارت سے حضور ﷺ کی پیشانی مبارک سے پسینے کے قطرے گرنے لگتے ۔ امام شافی ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ نزوحی کے وقت انخلاع (یا اسنلاخ ) ہوتا تھا یعنی آپ بشریت سے ملکیت کی طرف
ٍ 1 ؎ بخاری 2 و ترمذی 523
منتقل ہوجاتے تھے کیونکہ عام انسان وحی کو برداشت نہیں کرسکتا ۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ نزول وحی کے وقت حضور ﷺ کا چہرہ مبارک سرخ ہوجاتا اور آپ کی سانس تیز چلنے لگتی۔ عام طور پر نزول وحی کی کیفیت ظاہر ہونے کے پر صحابہ کرام ؓ آپ پر چادر تان دیتے جیسا کہ جعرانہ کے مقام پر ہوا تھا۔ بہرحال مذکورہ حصہ آیت کے متعلق آتا ہے کہ نزول وحی کے وقت حضور نبی کریم (علیہ السلام) بڑی طاقتور اونٹنی عصباء پر سوار تھے ۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ وحی کے بوجھ سے اونٹنی کی ٹانگیں اور گردن ٹوٹی پڑتی ہے ۔ مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ اونٹنی کی قوت برداشت جواب دے گئی لہذا حضور ﷺ اونٹنی سے نیچے اتر آئے۔
ایفائے عہد سورة کی ابتدا ایفائے عہد سے ہوتی ہے یا ایھا الذین امونو اوفو بالعقود اے ایمان والو ! عہد و پیمان کو پورا کرو ۔ مفسر قرآن مولانا شاہ اشرف علی تھانوی ــ (رح) فرماتے ہیں کہ سورة نساء کی آخری آیت میں اللہ نے فرمایا تھا ” یمبین اللہ لکم ان تضلو “ اے لوگو ! اللہ تعالیٰ تمہارے لیے احکام کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ گمراہی سے بچ جائو۔ اب اس کے ساتھ ہی اس سورة میں فرمایا ہے ۔ اے لوگو ! عہد و پیمان کو پورا کرو۔ دونوں آیات آپس میں مربوط ہیں ۔ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ واضح طور پر بیان کرتا ہے ان کی تفصیلات آرہی ہے اس لیے شروع میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی تکمیل کے معاملہ میں اپنے عہد و پیمان کو لازماً پورا کرو۔ اور یہ اہل ایمان سے خطاب خاص ہے۔ کیونکہ احکام الہٰی کی تعمیل کے لیے وہ اولین مکلف ہیں۔
عقود ، عقد کی جمع ہے جس کا معنی عہدو پیمان کیا گیا ہے ۔ حضرت عبداللہ عباس ؓ اور دیگر مفسرین کرام فرماتے ہیں ۔ کہ عہد و پیمان میں ہر قسم کے عہد شامل ہیں۔ عہد و پیمان خواہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو یا اس کے نبی کے ساتھ ، عبادت کا عہد ہو یا مخلوق کے ساتھ معاملات کا ، اپنی جماعت کے ساتھ کوئی معاہدہ ہو یا کسی بیرونی جماعت کے ساتھ عہد اپنی ملکی رعایا کے ساتھ ہو یا غیر ممالک کے ساتھ ، ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ اسے ہر صورت میں پورا کیا جائے ۔ اوفوا بالعقود کا یہی مطلب ہے۔
اجتماعی زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ مختلف معاملات میں اکثر عہدو پیمان ہوتے رہتے ہیں جن کا پورا کرنا نہایت ضروری ہے۔ عہد سے صرف نظر کرنے والوصرف نظر کرنے والوں کو حضور علیہ الصلوٰ ۃ والسلام نے منافق قرار دیا ہے یعنی منافقوں کی ایک خصلت یہ ہے اذ عا ھد غدر کہ معاہدہ کرکے اس کی وفا نہیں کرتے بلکہ غداری کے مرتکب ہوتے ہیں ۔ بہرحال ایفائے عہد میں دینی ، دنیادی ، انفرادی ، اجتماعی ، ملکی ، غیر ملکی ہر قسم کے عہد شامل ہیں۔ جن کو پورا کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔
قانون کی پابندی شاہ ولی محدث دہلوی (رح) نے اپنی مختلف کتابوں میں یہ بات سمجھائی ہے کہ انسان کے لیے ترقی کا زینہ قانون کی پابندی ہے۔ اسی کے ذریعے انسان اعلیٰ مقام حاصل کرتا ہے ۔ حظیرۃ القدس کا ممبر بنتا ہے ، اور علیین یا جنت کے مقام پر پہنچتا ہے ۔ قانون کے خلاف کرنا گر یا شیطان کی پیروی کرنا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے تتبعو خطوٰت الشیطن یعنی شیطان کے نقش قدم پر نہ چلو۔ کیونکہ انہ لکم عدو مبین وہ تمہارا کھلا دشمن ہے وہ تمہاری ہلاکت ، ناکامی اور شکست پر خوش ہوتا ہے ۔ لہذا تم شیطان کے اتباع کے بجائے احکام کی تعمیل کرو۔
مولانا عبید اللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ قانون کی پابندی کے لیے اجتماعیت کا ہونا ضروری ہے کیونکہ فرد واحد کسی پابندی کا مکلف نہیں ہوتا۔ قوانین اسی وقت معرض وجود میں آتے ہیں جب اجتماعیت پیدا ہوجائے اور پھر اس اجتماعیت کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کا حل مطلوب ہو۔ چناچہ قانون کا ابتدائی درجہ نکاح ہے۔ ایک مرد اور ایک عورت جب اکٹھے زندگی گزانے کا عہد و پیمان یعنی نکاح کرتے ہیں تو پھر اس عہد کی تکمیل کے لیے انہیں قانون کی ضرورت ہوتی ہے جس کی پابندی کو بڑی اہمیت حاصل ہے ۔ حضور نبی کریم (علیہ السلام) کا فرمان بھی ہے کہ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ آپس میں جو بھی عہد و پیمان کریں ، اسے بہر صورت پورا کریں اس کے بغیر انسان ترقی نہیں کرسکتے۔ اسی لیے اس قانون کو سب سے پہلے بیان کیا گیا ہے ۔ اس کی باقی جزیات آگے آرہی ہیں۔ بہرحال شریعت مطہرہ نے ایفائے عہد کی سخت تاکید فرمائی ہے۔ دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ۔ اوفو بالعھد ان العھد کان مسئولا ( سورة بنی اسرائیل ) عہد کو پورا کرو ، کہ اس کے متعلق لازماً باز پر س ہوگی۔
بیمتہ الا انعام ایفائے عہد کی ابتدائی تلقین کے بعد وہ احکام نازل فرمائے گئے ہیں۔ جن پر عمل درآمد ایفائے عہد کا حصہ ہے ۔ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایمان کا عہد کرتا ہے تو اس کے لیے اس عہد کو پورا کرنا ضروری ہوجاتا ہے ۔ حلال و حرام کا امتیاز بھی عہد پیمان کا ایک حصہ ہے۔ چناچہ بعض جانوروں کی حلت و حرمت کا احکام نازل فرما کر ان کی پابندی کا حکم دیا جارہا ہے ارشاد ہوتا ہے احلت لکم بھیمۃ الانعام تمہارے لیے حلال کیے گئے ہیں چرنے والے جانور ۔ چو پائے ، مویشی بیہمہ چرنے والے جانور کو کہتے ہیں جو گھاس یا پتے وغیرہ کھاتے ہیں اور انعام وہ جانور ہوتے ہیں جو عام طور پر پالے جاتے ہیں۔ یہ چار قسم کے جانور ہیں اونٹ ، گائے ، بھیڑ اور بکری ۔ فرمایا ان کو بعض شرائط کے ساتھ ذبح کرو تو ان کا گوشت تمہارے لیے حلال ہوگا۔ جو چیز اللہ نے تمہارے لیے حلال قرار دی ہے اس کھائو پیئو اور جو حرام کی ہے اس سے رک جائو یہی ایفائے عہد ہے۔
امام شعرانی (رح) فرماتے ہیں ۔ کہ ان جانوروں کو بیہمہ اس لیے کہتے ہیں کہ انکی عقل بالکل مبہم ہوتی ہے انسانوں کے مقابلے میں مویشیوں کی عقل بلکل معمولی ہوتی ہے اور پھر ان کا تکلم بھی انسان کی سمجھ سے باہر ہے۔ اس لیے انہیں مویشی یا جانور کہتے ہیں ۔ بعض کہتے ہیں کہ ان جانوروں کے علاوہ بعض دوسرے جانور بھی حلال جانور کی فہرست میں آتے ہیں جو مذکورہ جانوروں کی خصوصیات کے حامل ہوتے ہیں۔ ان میں ہرن ، گورخر اور شتر مرغ وغیرہ ہیں ، وہ چار پائے ہیں اور گھاس چرتے ہیں ۔ ان کا گوشت بھی انسانی ساخت سے مطابقت رکھتا ہے لہذا یہ بھی حلال جانور ہیں۔
حرام جانور بعض جانور مویشیوں کی طرح چار پائے ہیں مگر ان میں کسی نہ کسی طرح کی خرابی پائی جاتی ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ ان کا گوشت انسانوں کے لیے حرام قراد دے دیا ہے ۔ گدھا بھی انہی جانوروں میں سے ہے۔ گھاس چرتا ہے ، چار پائوں بھی رکھتا ہے مگر اس کا گوشت حرام ہے امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ زمانہ جاہلیت میں بھی سمجھدار لوگ گھریلو گدھے کا گوشت نہیں کھاتے تھے ، اس میں یقینا کوئی ایسی قباحت ہے جو جسمانی یاروحانی لحاظ سے مضر ہے ۔ البتہ اس زمانے میں لوگ جنگلی گدھوں کا گوشت کھالیتے تھے ۔ ا س کے برخلاف گھوڑا پاکیزہ جانور ہے ، اس کا گوشت مباح ہے مگر گدھا اور خچر جائز نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں ان جانوروں کا ذکر کیا ہے ، وہاں ان کی خدمات کو بھی سراہا ہے جیسے فرمایا والخیل والبغال والحمیر لستر کبوھا وزینۃ اللہ تعالیٰ نے گھوڑے ، گدھے ، خچر کو بھی پیدا کیا ہے جو تمہاری سواری کے کام آتے ہیں اور تمہارے لیے زینت کا باعث بھی ہیں برخلاف ان کے جہاں مویشیوں کا ذکر فرمایا ہے وہاں انکے تمام جسم سے مستفید ہونے کا ذکر ہے انکے گوشت اور دودھ کے استعمال کی اجازت دی گئی ہے اور انکی سواری سے مستفید ہو نیکی اجازت دی گئی ہے ۔ انکی حلت کو بطور احسان ذکر کیا ہے ۔
اب درندے بھی چار پائوں رکھتے ہیں ۔ چونکہ ان میں درندگی کی صفت پائی جاتی ہے اس لیے ان کے گوشت حرام قرار دیئے گئے ہیں۔ شیر ، چیتا ، گیڈر ، لومڑی ، لنگور ، کتا وغیرہ حرامہ ہیں۔ ان کا گوشت کھانے سے روحانیت میں فساد آئیگا ۔ جسم میں خرابی پیدا ہوگی ، اسی طرح خنزیر کا گوشت کھانے سے بےغیرتی جیسی قبیح خصلت پیدا ہوتی ہے اس لیے اسے قطعا ً حرام قرار دیا گیا ہے ۔ غذا کا اثر انسان کے جسم اور ساخت پر براہ راست ہوتا ہے۔ اس لیے حرام جانوروں کا گوشت کھانے سے منع کردیا گیا ہے اور حلال جانوروں کے گوشت ، دودھ ، کھال اور اون تک استعمال کر نیکی اجازت ہے ۔
حشرات الارض یعنی کیڑے مکوڑے بھی کھانے کی قابل نہیں ، ان میں ایک قسم کی نجاست پائی جاتی ہے ۔ انہیں کھانے والوں کے دماغ میں نجاست پیدا ہوتی ہے ۔ گدھا بیوقوف جانور ہے اس کا گوشت کھانے سے انسان پلید ہوجاتا ہے ۔ بعض ایسے پرندے ہیں جو نوچ کر شکار کھاتے ہیں۔ بعض پنجہ مار کر شکار کرتے ہیں۔ ان میں چیل ، شکرا ، گدھ وغیرہ ہیں۔ یہ سب حرام ہیں ، مردار کھانے والے پرندے ہیں ۔ یہ انسان کے لیے قطعی حرام ہیں ان کے کھانے سے انسانی جسم و روح میں خرابی آتی ہے ۔
احرام کی حالت میں شکار فرمایا تمہارے لیے چوپائے حالا کئے گئے الا مسا یتلی علیکم سوائے ان جانوروں کے جن کا ذکر آگے آرہا ہے یعنی اس سورة کی آیت نمبر 3 میں اور اس سے آگے ۔ وہاں پر مختلف قسم کے حرام جانور اور حرام اشیاء کا تفصیل سے ذکر کردیا گیا ہے ۔ فرمایا ان مذکورہ جانوروں کے علاوہ باقی تمام مویشی تم پر حلال ہیں غیر محلی الصید وانتم حرم البتہ احرام کی حالت میں تم خشکی کے شکار حلال سمجھنے والے نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم نے حج یا عمرہ کا احرام باندھ لیا ہو تو پھر خشکی کا ہر قسم کا حلال شکار بھی حرام ہوجاتا ہے۔ یہ وقتی حرمت ہے ، دائمی نہیں۔ جو نہی کوئی شخص احرام سے باہر آجاتا ہے ، اس سے شکار کی پابندی دور ہوجاتی ہے۔ احرام کی حالت میں نہ خود شکار کرسکتا ہے اور نہ جانور ذبح کرسکتا ہے ۔ ا لبتہ پانی کا شکار احرام میں بھی جائز ہے۔
فرمایا ان اللہ یحکم ما یرید بیشک اللہ تعالیٰ فیصلہ کرتا ہے جو چاہتا ہے ۔ اللہ نے احرام کی حالت میں خشکی کے شکار کی ممانعت کردی ہے اور تری کا شکار حلال قرار دیا ہے ۔ یہ اس کا حکم ہے اور اسمیں کسی چران و چرا کی گنجائش نہیں ، انسان کا کام محض تعمیل حکم ہے۔ س قسم کے احکام میں ضروری کوئی مصلحت ہے جسے مالک الملک ہی جانتا ہے ۔ یہاں پر یہ اشارہ بھی ملتا ہے ۔ کہ مومن کہ یہ شان نہیں ہے کہ وہ ہر وقت علت کی تلاش میں رہے بلکہ اسے ہر حکم الہٰی کے سامنے سرتسلیم خم کردینا چاہئیے۔ اگرچہ بہت سے اہل علم کو اللہ نے یہ بصیرت عطا فرمائی ہے کہ وہ حلت و حرمت کی علت کو بھی سمجھتے ہیں ، تاہم یہ ہر شخص کے لیے ضروری بھی نہیں ہے ۔ عام انسان کے لیے مالک علی الاطلاق کے حکم کی تعمیل ضروری ہے ۔ اسی میں اس کی ترقی اور فلاح کا راز ہے۔
Ayah 5:2سورة بقرہ کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے ایفائے عہد کا ذکر فرمایا ہے کیونکہ اجتماعی زندگی میں انسانیت کی فلاح کا مدارسی پر ہے۔ شریعت کے تما احکام اللہ تعالیٰ کے ساتھ عہدو پیمان ہیں جن کی پابندی لازمی ہے۔ چناچہ اللہ نے حلت و حرمت کے مسائل بیان فرمائے ہیں کہ تمہارے لیے بہیمتہ الانعام کو حلال قرار دیا گیا ہے اور ان کے علاوہ وہ جانور حرام ہیں جن کا ذکر آگے آرہا ہے ۔ البتہ احرام کی حالت میں حلال جانور کا شکار بھی نہیں کرسکتے جب تک کہ احرام سے باہر نہ نکل جائو۔ اس تمہید کے بعد آگے حرام جانوروں اور اشیاء کا ترتیب وار بیان آرہا ہے اہل ایمان کے لیے حلت و حرمت کی پابندی نہایت ضروری ہے اور اسی کو ایفائے عہد سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ (2)
شائر اللہ کی تعظیم ارشاد ہوتا ہے یا ایھالذین امنو اے ایمان والو ! لا تحلو شعائر اللہ اللہ کے شعائعر کی بےحرمتی نہ کرو۔ شعائر ، شعیرہ کی جمع ہے اور اس سے مراد وہ چیزیں ہیں جو اللہ تعالیٰ کی عظمت ار معمبودیت کا نشان ہیں۔ فرمایا ان کے بےحرمتی نہ کرو ، شعائر اللہ کا احترام ملت ابراہیمی کا ایک ضروری حکم اور ہمارے دین کا ضروری جزو ہے ۔ دین کے دیگر اہم اصولوں مثلاً اللہ کی وحدانیت پر ایمان ، اقامت صلوٰۃ ، مصیبت میں صبر ، اللہ کی نعمتوں کا شکر وغیرہ کی طرح تعظیم شعائر اللہ بھی ایک اہم اصول ہے ۔ شعائر اللہ میں حرم شریف ، بیت اللہ شریف ، جمرات ، صفاو مروہ ، قربانی ، احرام ، اذان ، نماز اور تما م احکام شریعیت داخل ہیں۔ صفا ومروہ کے متعلق خصوصاً فرمایا ان الصفا و المروۃ من شعائر اللہ یعنی صفا ومروہ پہاڑیاں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سب کی تعظیم کا حکم دیا ہے۔ امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ یہ چار چیزیں اعظم شعائر اللہ میں ہیں یعنی حضور ﷺ کی ذات مبارکہ ، قرآن کریم ، بیت اللہ شریف اور نماز ، یہ سب سب بڑے نشانات قدرت ہیں۔ ان کی تعظیم بہت ضروری ہے۔ سورة حج میں اللہ کا فرمان ہے ومن یعظم شعائر اللہ فانھا من تقوی القلوجو شخص شعائر اللہ کی تعظیم کرلے گا تو اس کا مطلب ہے کہ اس کے دل میں تقویٰ موجود ہے جو آدمی تقویٰ سے خالی ہے اس سے تعظیم شعائر اللہ کی توقع نہیں کی جاسکتی ۔
فرمایا اللہ کے شعائر کی بےحرمتی نہ کرو ولا السھر الحرام اور نہ حرمت والے مہینوں کی بےحرمتی کرو۔ حرمت یا ادب والے مہینے چار ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے سورة توبہ میں فرمایا ہے کہ جس دن سے اللہ تعالیٰ نے آسمان زمین کو پیدا کیا ہے ان عدۃ الشھور عنداللہ اثنا عشر شھرا اس کے نزدیک مہینوں کی تعداد بارہ ہے منھا اربعۃ حرم جن میں سے چار حرمت والے ہیں ، جن میں لڑائی کرنا جائز نہیں۔ محمرم مہینوں کے نام تو قرآن پاک میں موجود نہیں ہیں تاہم حضور نبی کریم ﷺ نے ان کی وضاحت فرمائی ہے کہ ان میں سے ایک علیحدہ ہے اور تین اکٹھے یعنی رجب ، ذی قعدہ ، ذی الحجہ اور محرم ملت ابراہیمی میں بھی یہی حکم ہے کہ ان متبرک مہینوں میں لڑائی کی ابتدا نہیں کرنی چاہیے اگر کفارہ کی طرف سے ابتدا ہو تو پھر دفاع کی اجازت ہے ۔ اس کے متعلق سورة بقرہ میں موجود ہے ۔
یسئلونک عن الشھر الحرام قتال فیہ آپ سے حرمت والے مہینوں میں لڑائی کرنا سخت گناہ کی بات ہے ۔ مگر کافروں نے چونکہ اس بھی بڑے گناہ کا ارتکاب کیا لہذا ان سے لڑائی کی اجازت ہے۔ تاہم حتی الامکان ان مہینوں میں جنگ سے گریز کی جائے گی ۔ زمانہ جاہلیت میں ان مہینوں کا احترام خود کفارہ بھی کرتے تھے ، ہتھیاراتار کر رکھ دیتے تھے ، کسی سے تعرض یا چھیڑ چھاڑ نہیں کرتے تھے ۔ البتہ بعض اوقات ایک اور قباحت کا ارتکاب کرتے تھے جسے نسئی کہا گیا ہے اور جس کا ذکر سورة توبہ میں موجود ہے انما النسئیء زیادۃ فی الکفر کفار کے لیے نسی کا ارتکاب بری بات ہے۔ وہ کرتے یہ تھی کہ اگر جنگ کہ دوران کوئی حرمت والا مہینہ آجاتا تو جنگ بند کرنے کی بجائے جاری رکھتے اور اس مہینے کی بجائے کوئی دوسرا مہینہ از خود حرمت والا مقرر کرلینے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس بات کی مذمت بیان فرمائی ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ ادب والے مہینوں کا احترام ضروری ہے۔
قربانی کے جانور فرمایا بےحرمتی نہ کرو اللہ کے شعائر کی اور حرمت والے مہینوں کی ولا لھدی اور نہ قربانی کے جانوروں کی۔ عام قربانی کے جانوروں کو تواضیحہ کہا جاتا ہے مگر جو جانور اللہ تعالیٰ کی نیاز کے لیے حرم شریف کی طرف لے جائے جاتے ہیں ان کو ہدی کہتے ہیں۔ فرمایا اللہ کے ہاں یہ بھی محترم ہیں ان کے بےحرمتی بھی نہ کرو۔ پھر یہ ہے کہ قربانی کے ایسے جانوروں کے گلے میں پٹہ یا ہار ڈال دیا جاتا تھا جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہوتا تھا کہ یہ قربانی کے جانور ہیں جو حرم شریف جا رہے ہیں ، لہذا راستے میں کوئی ان سے تعرض نہ کرے۔ فرمایا ولا القلائد اور پٹے والے جانور کی بھی حرمتی نہ کرو ، کیونکہ اللہ کے راستے میں قربانی کے لیے جا رہے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں بھی عام طور پر ایسے جانوروں کا احترام کیا جاتا تھا۔
عازمین حج وعمرہ فرمایا ولا امین البیت الحرام بیت اللہ شریف کی طرف قصد کر کے جانے والے لوگ بھی محترم ہیں۔ جو لوگ حج یا عمرہ کے ارادے سے سفر کر رہے ہیں ان سے کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ یا لڑائی بھڑائی نہیں ہونی چاہیے۔ وہ اللہ کے مہمان ہیں اور اس کے گھر کی طرف جا رہے ہیں۔ ہوسکے تو ان کی خدمت کرو ، ورنہ انہیں ایزانہ پہنچائو۔
حضور ﷺ اپنے چودہ سو صحابہ ؓ کے ہمراہ 6ھ میں عمرہ کے ارادہ سے نکلے تھے لیکن مشرکین نے ان کو حدیبہ کے مقام پر روک دیا۔ قربانی جانور ان کے ہمراہ تھے مگر کفار نے انہیں عمرہ کرنے کی اجازت نہ دی اور اس بات پر صلح ہوگئی کہ اس سال مسلمان عمرہ کیے بغیر واپس چلے جائیں گے البتہ اگلے سال عمرہ ادا کرسکیں گے ۔ چناچہ صلح کی شرائط کے مطابق صحابہ کرام ؓ نے جانور وہیں ذبح کردیے اور مدینہ طیبہ واپس آگئے پھر آپ نے 7ھ میں عمرہ قضا کیا ۔ اس قسم کے واقعات کے سدباب کے لیے فرمایا کہ حج وعمرہ قضا کیا۔ اس قسم کے واقعات کے سدباب کے لیے فرمایا کہ حج وعمرہ کے ارادہ سے حرم شریف جانے والے لوگوں کے ساتھ بھی کسی قسم کا تعرض نہیں کرنا چاہیے ، ان کی بےحرمتی کرو بلکہ ان کا ادب و احترام ملحوظ رکھو۔
یہ ایسے لوگ ہیں جو یبتغون فضلا من ربھم و رضوانا اپنے رب کا فضل اور اس کی خوشنودی تلاش کرتے ہیں۔ سورة فتح میں اللہ تعالیٰ نے یہی دو صفات حضور ﷺ کے صحابہ کی بیان فرمائی ہیں ۔ محمد رسول اللہ والذین معہ یعنی حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ تر ھم سجدا یتبتعون فضلا من اللہ ورضوانا آپ ان کو رکوع و سجود کرتے ہوئے اور اللہ کے فضل اور خوشنودی کی تلاش میں دیکھتے ہیں ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ فضل سے مراد ارتفاق ہے اور رضوان سے مراد اقتراب ہے۔ آپ نے اپنی حکمت میں یہ دو الفاظ استعمال کیے ہیں۔ ارتفاق زندگی خوش اسلوبی سے بسر کرنے کو کہتے ہیں اور اس کا دارومدار رزق حلال پر ہے۔ لہذا فضل کو رزق حلال سے بھی تعبیر کیا گیا ہے ۔ سورة جمعہ میں آتا ہے ۔ کہ جب نماز جمعہ ادا کرلو تو زمین میں پھیل جائو وابتغو من فضل اللہ اور اللہ کا فضل یعنی رزق تلاش کرو۔ رزق حلال فضل میں سر فہرست ہے اور اسلام میں اس کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ جائز ذرائع سے روزی تلاش کرو اس پر کوئی پابندی نہیں۔ آپ جمعہ کو بھی کاروبار کرسکتے ہیں۔ اس دن مکمل طور پر کام کاج بند کردینا ضروری نہیں ، ہاں اگر مصلحت کی خاطر مکمل تعطیل بھی کردی جائے تو کوئی حرج نہیں۔ غرضیکہ فضل سے مراد یہ ہے کہ زندگی کو خوش اسلوبی سے بسر کرنے کے لیے اپنے اور اپنے لواحقین کے لیے رزق حلال حاصل کیا جائے۔
حضرت اما م شاہ ولی اللہ نے رضوان کا معنی اقتراب کیا ہے ۔ یعنی اللہ کا قرب۔ اور یہ چیز نیکی ، عبادت اور احکام الہٰی کی تعمیل سے حاصل ہوتی ہے ۔ جیسا کہ اس آیت میں فرمایا شعائر اللہ کی تعظیم بھی اقتراب الہٰی کا ایک ذریعہ ہے۔ بہر حال فرمایا کہ ان عازمین حج وعمرہ کا بھی احترام کرو جو اللہ کا فضل اور اسکی خوشنودی کی تلاش میں نکلے ہیں۔
حج اور تجارت اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سفر حج یا عمرہ کے دروان اگر جائز ذرائع سے اکتساب رزق کیا جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ نیت محض تجارت کی نہ ہو۔ نیت خالص حج کے لیے کرکے اگر تجارت یعنی اللہ کا فضل بھی تلاش کرتا ہے ، تو اس کی معمانت نہیں ہے ۔
سورۃ بقرہ میں بھی موجود ہے ۔ لیس علیکم جناح ان تبتغو فضلا من ربکم تم پر کوئی حرج نہیں ہے ۔ کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرو یعنی تجارت وغیرہ کرو۔ بعض لوگوں کی ابتداء نیت ہی محض مال لے جانے اور وہاں سے مال لانے کی ہوتی ہے۔ اس قسم کی حج درست نہیں ہوتا ، بلکہ یہ تجارت ہوتی ہے ۔ بعض لوگ صرف سیرو تفریح کے لیے حج کا سفر اختیار کرتے ہیں ، یورب اور امریکی کی سیر نہ کی ، مکہ اور مدینہ کی کرلی۔ یہ بھی درست نہیں ہے۔ نیت خالص حج یا عمرہ کی ہونی چاہیے کیونکہ یہ بہت بڑی عبادت ہے اس سفر میں مال خرچ کرنے کے علاوہ جسمانی مشقت بھی اٹھانی پڑتی ہے۔ اس میں بڑی پابندیاں ہیں اور یہ اعلیٰ درجے کی عبادے ہے۔ جسے خلوص کے ساتھ ہی ادا کرنا چاہیے ۔ تاہم ضمناً تجارت بھی مباح ہے۔
شکار کی اباحت اس سورة کی پہلی آیت میں فرمایا تھا کہ بعض جانوروں کو چھوڑ کر تم پر مویشی حلال کیے گئے ہیں غیر خلی الصید وانتم حرم البتہ احرام کی حالت میں شکار کر نیکی منانعت ہے۔ جب کوئی شخص حج یا عمرہ کی ادائیگی کے لیے میقات سے احرام باندھ لیتا ہے ، تو اس پر بعض پابندیاں عاید ہوجاتی ہیں ۔ مثلاً مر د سلا ہوا کپڑا نہیں بن سکتا ، پورا جوتا اور جراب نہیں پہن سکتا ، خوشبو استعمال نہیں کرسکتا ، چہرہ نہیں ڈھانپ سکتا خشکی کا شکار نہیں کرسکتا حتیٰ کہ کسی سے لڑائی جھگڑا گالی گلوچ نہیں کرسکتا ، خشکی کا شکار نہیں کرسکتا حتیٰ کہ کسی جاندار کو ایذا نہیں پہنچا سکتا ۔ یہ سب عارضی پابندیاں ہوتی ہیں جو احرام کھلنے کے ساتھ ہی ختم ہوجاتی ہیں۔ پہلی آیت میں شکار پر جو پابندی عائد کی تھی ، یہاں اس کے متعلق فرمایا واذ حللتم فاصطارہ۔ جب تم حلال ہو جائو یعنی احرام کھول دو تو تمہیں شکار کی اجازت ہے۔ احرام کی حالت میں ممنوع ہوگیا تھا ، اب یہ تمہارے کے لیے مباح ہے۔
تعدی کی ممانعت فتح مکہ سے پہلے مسلمانوں کو حج ، عمرہ اور طواف یعنی زیارت بیت اللہ کی اجازت نہیں تھی ۔ کفار مکہ نے مسلمانوں کا یہ حق سلب کرلیا تھا۔ چناچہ 6ھ میں جب صحابہ کی ایک جماعت حضور ﷺ کی میعت میں عمرہ کے لیے آئی تو مشرکین نے ان کو ایسا کرنے سے روک دیا تھا ، لہذا مسلمانوں کو عمرہ کیے بغیر واپس لوٹنا پڑا۔ آیت کے اگلے حصہ میں کفار کی طرف سے اسی قسم کی اسلام دشمنی کی طرف اشارہ ہے ارشاد ہے ولا یجر منکم شغان قوم ان صدوکم عن المسجد الحرام جس قوم نے تمہیں مسجد سے روکا ، اس قوم کی دشمنی تمہیں آمادہ نہ کردے۔ ان تعتدو ا کم تم بھی ان پر تعدی کرو۔ اسلام کی کمزوری کے دوران جو کچھ ہوگیا ، اس پر درگزر کرو اور جب کہ اللہ نے تمہیں غلبہ دے دیا ہے ۔ تو اب تم بھی ان پر اسی طرح زیادتی نہ شروع کردو جس طرح مشرکین تم پر کرتے رہے ہیں ۔ مقصد یہ ہے کہ یہ مسلمان کی شان کے خلاف ہے کہ وہ برائی کا بدلہ برائی سے دے۔ مفسر قرآن مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ جس طرح الحب فی اللہ میں حد سے بڑھنا خرابی کا باعث ہے ، اسی طرح البغض فی اللہ بھی ایک حد تک ہونا چاہیے مشرکین سے نفرت ضرور ہے اور یہ ہے بھی محض رضائے الہٰی کی خاطر مگر یہ نفرت ان کے خلاف دشمنی کا رنگ نہ اختیار کر جائے۔ انہوں نے بلا شبہ تم پر زیادتی کی ، تمہیں تکالیف پہنچائیں مگر تمہیں ان پر زیادتی کر نیکی اجازت نہیں ہے ۔
تعاون اور عدم تعاون اور دوسری بات یہ فرمائی وتعاونو علی البر التقوی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو ولا تعانو علی الاثم والعد وان نیز گناہ اور زیادتی کے کاموں میں ایک دوسرے تعاون نہ کرو۔ اچھائی سے تعاون اور برائی سے عدم تعاون ایک اہم اصول ہے جو اللہ تعالیٰ نے یہاں پر بیان فرمایا ہے ۔ یہ قرآن اور اسلام کا موضوع ہے کہ اقوام عالم میں جہاں بھی کوئی مسلمان موجود ہے ، نیکی میں اس کے لیے دست تعاون بڑھا جائے۔ مگر اس زمانے میں اس چیز کا فقدان ہے۔ اب نیکی بجائے برائی کے کام میں تعاون کیا جاتا ہے ، اب موضوع ہی بدل گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس کے نتائج بھی ایسے ہی نکلیں گے۔ شیخ عبدالقادر جیلانی ، فرماتے ہیں کہ عدل و انصاف تقویٰ کی روح ہے اور مومنوں کا عالمی پروگرام ہے اللہ نے یہی حکم دیا ہے ان اللہ یا مر بالعد وا لا حسان یعنی عدل و انصاف پر قائم رہو اور احسان کرو۔ مگر اب انصاف کی جگہ ظلم نے لے لی ہے ۔ اسی لیے قرآن پاک نے اس مقام پر یاد دلایا ہے کہ نیکی اور تقویٰ کے معاملات میں تعاون کرو ، اور برائی خواہ عقیدے میں ہو یا عمل میں ، اس کے ساتھ ہرگز تعاون نہ کرو۔
فرمایا واتقو اللہ اللہ سے ڈر جائو۔ اللہ نے ایفائے عہد کا حکم دیا ہے اس کو پورا کرو ۔ اگر اس کے حکم کی خلاف ورزی کرو گے تو یادرکھو ان اللہ شدید العقاب بیشک اللہ سخت عذاب والا ہے ۔ جب وہ مجرمین کی گرفت کریگا ، تو پھر ان کو چھوڑے گا نہیں اس کی پکڑ بڑی سخت ہے ۔ کوئی شخص جو اللہ کے قوانین کے خلاف کرتا ہے حلال و حرام سے بےنیاز ہے۔ شعائر اللہ کی بےحرمتی کرتا ہے ، برائی میں تعاون کرنے والا ہے ، وہ اسکی گرفت سے بچ نہیں سکتا ۔ اسی لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈر جائو۔