5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 5:41–43

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ لَا یَحْزُنْكَ الَّذِیْنَ یُسَارِعُوْنَ فِی الْكُفْرِ مِنَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِاَفْوَاهِهِمْ وَ لَمْ تُؤْمِنْ قُلُوْبُهُمْ١ۛۚ وَ مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا١ۛۚ سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ سَمّٰعُوْنَ لِقَوْمٍ اٰخَرِیْنَ١ۙ لَمْ یَاْتُوْكَ١ؕ یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ مِنْۢ بَعْدِ مَوَاضِعِهٖ١ۚ یَقُوْلُوْنَ اِنْ اُوْتِیْتُمْ هٰذَا فَخُذُوْهُ وَ اِنْ لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوْا١ؕ وَ مَنْ یُّرِدِ اللّٰهُ فِتْنَتَهٗ فَلَنْ تَمْلِكَ لَهٗ مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا١ؕ اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ لَمْ یُرِدِ اللّٰهُ اَنْ یُّطَهِّرَ قُلُوْبَهُمْ١ؕ لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ١ۖۚ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:41 in the Quran reader

اے رسول ! نہ غم میں ڈالیں آپ کو وہ لوگ جو دوڑتے ہیں کفر کی طرف۔ ان لوگوں میں سے جنہوں نے کہا ہے کہ ہم ایمان لائے ہیں اپنے منہ سے صرف ‘ اور ان کے دل ایمان نہیں لائے اور ان لوگوں میں سے جو یہودی ہیں۔ بہت سنتے ہیں وہ جھوٹ کو۔ وہ سنتے ہیں دوسری قوم کے لیے جو آپ کے پاس نہیں آئے وہ تحریف کرتے ہیں کلام کو اس کی جگہ سے اور کہتے ہیں کہ اگر دیے جائو تم وہ بات جو تمہاری مرضی کے مطابق ہے پس لے لو اس کو۔ اور اگر تم کو نہ دی جائے وہ بات تو بچتے رہو۔ اور جس شخص کے بارے میں اللہ چاہے فتنے میں ڈالنا پس ہرگز نہیں ‘ ۔۔ ہوں گے آپ اس کے لیے اللہ کے سامنے کسی چیز کے ۔ یہی لوگ ہیں کہ نہیں ارادہ کیا اللہ تعالیٰ نے کہ ’ ان کے دلوں کو پاک کرے۔ ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں عذاب عظیم

سَمّٰعُوْنَ لِلْكَذِبِ اَكّٰلُوْنَ لِلسُّحْتِ١ؕ فَاِنْ جَآءُوْكَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ اَوْ اَعْرِضْ عَنْهُمْ١ۚ وَ اِنْ تُعْرِضْ عَنْهُمْ فَلَنْ یَّضُرُّوْكَ شَیْئًا١ؕ وَ اِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَیْنَهُمْ بِالْقِسْطِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِیْنَ Open ayah 5:42 in the Quran reader

یہ بہت سنتے ہیں جھوٹ کو اور کھاتے ہیں حرام پس اگر یہ آئیں آپ کے پاس پس آپ فیصلہ کریں ان کے درمیان یا اعراض کریں ان سے۔ اور اگر آپ اعراض کریں گے ان سے تو آپ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ اور اگر آپ فیصلہ کریں تو فیصلہ کریں ان کے درمیان انصاف کے ساتھ ‘ بیشک اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے انصاف کرنے والوں کے ساتھ

وَ كَیْفَ یُحَكِّمُوْنَكَ وَ عِنْدَهُمُ التَّوْرٰىةُ فِیْهَا حُكْمُ اللّٰهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ١ؕ وَ مَاۤ اُولٰٓئِكَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ۠ Open ayah 5:43 in the Quran reader

اور یہ لوگ کس طرح آپ کو منصف بتائیں گے حالانکہ ان کے پاس تورات ہے جس میں اللہ کا حکم موجود ہے۔ پھر یہ روگردانی کرتے ہیں اس کے بعد اور نہیں ہیں یہ لوگ ایمان والے

ربط آیات گذشتہ رکوعات میں پہلے اہل کتاب کی طرف سے نقض عہد کا ذکر ہوا۔ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے فساد فی الارض کی قباحت بیان فرمائی آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا تذکرہ ہوا ‘ ا ن میں سے ایک نے فساد فی الارض کا ارتکاب کرتے ہوئے دوسرے کو قتل کردیا ‘ پھر بھائی کی لاش کو ٹھکانے لگانے کے سلسلے میں قاتل بھائی کی بیوقوفی کا ذکر بھی ہوا اور پھر اس کے آخرت کے انجام کی نشاندھی کی گئی۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو قتل نفس کی برائی سے آگاہ کیا اور تورات میں موجود انسانی جان کے تحفظ کا قانون ان کو یاد کرایا پھر ڈاکے اور چوری کے جرائم کا تذکرہ ہوا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی سزائیں بھی بیان فرمائیں۔ اہل کتاب میں سے خصوصاً یہود کی خباثتوں کا زیادہ ذکر ہے ‘ اور اب کچھ ذکر منافقین کی قباحتوں کا بھی آرہا ہے ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ پیغمبر اسلام کو تسلی بھی دی جارہی ہے۔ منافقوں کی دورخی ارشاد ہوتا ہے ۔ یایھا الرسول اے ۔ رسول مقبول ! لایحزنک الذین یسارعون فی الکفر آپ کو وہ لوگ غم زدہ نہ کردیں جو دوڑ دوڑ کر کفر میں جا رہے ہیں۔ من الذین قالوآ امنا بافوا ھھم اور وہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے محض زبانی طور پر کہا کہ ہم ایمان لائے ہیں ولم تئو من قلوبھم مگر ان کے دل مومن نہیں ہوئے۔ یہ ان منافقین کا ذکر ہے۔ جن کی اکثریت مدینے کے یہودیوں میں سے تھی۔ کفار کے ساتھ ان کا میل جول نبی (علیہ السلام) پر ساق گزرتا تھا ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ منافقین کی مذموم حرکات سے آپ رنجیدہ نہ ہوں ‘ بلکہ اہل حق کے مطابق اپنا فریضہ احسن طریقے سے انجام دیتے رہیں۔ اس کے باوجود اگر کوئی شخص برائی کی طرف رخ کرتا ہے تو اس کا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیں ‘ وہ خود ان سے نبٹ لے گا۔ بہر حال آیت کے اس حصہ میں اللہ جل شانہ نے ایک طرف یہود اور منافقین کی مذمت بیان فرمائی ہے تو دوسری طرف اپنے پیغمبر کی حوصلہ افزائی بھی کی ہے۔ دراصل منافقین نے دو رخی پالیسی اختیار کر رکھی تھی ذا الوجھین الذی یالی ھئو لآء بوجہ وھئو لآء بوجہ جب مسلمانوں کی مجالس میں آتے تو ان کی طرف داری کرتے اور جب یہود و کفار کے پاس جاتے تو ان سے وفاداری اور مسلمانوں سے غداری کا اظہار کرتے۔ ان کے ذہنوں میں استقرار نہیں تھا مگر وہ کفار کے قریب تر تھے ‘ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت بیان فرمائی ہے جاسوس یہودی منافقوں کے تذکرے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان یہودیوں کی نشاندہی بھی کی ہے جو اہل ایمان کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف تھے ‘ اور اسلام کو زک پہنچانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ فرمایا ومن الذین ھادوا اور یہودیوں میں سے بھی کچھ لوگ ایسے ہیں سمعون للکذب جو بہت زیادہ سننے والے ہیں جھوٹ کو ۔ مطلب یہ کہ اسلام کے خلاف جھوٹی باتوں میں بہت دلچسپی لیتے ہیں۔ سمعون لقوم اخرین دوسری قوم کے لیے بہت زیادہ سننے والے ہیں۔ سمعون کا عام فہم معنی تو سننے والے ہی ہیں۔ اللہ نے یہودیوں کی یہ خصلت بیان فرمائی ہے۔ کہ جو کوئی اسلام کی مخالفت میں جھوٹی موٹی بات کرتا تھا اسے بڑے غور سے سنتے تھے اور پھر ان کے ساتھ اسلام دشمن پر اپگنڈے میں شریک ہوجاتے تھے۔ سمعون کا دوسرا معنی جاسوسی کرنا ہے۔ یہ لوگ اغیار کے لیے اسلام کے خلاف جاسوسی کرتے تھے۔ یہودیوں کا ایک طبقہ ایسا بھی تھا جو پیغمبر اسلام ﷺ کی مجالس میں حاضر ہو کر آپ کی باتیں بھی سنتا تھا۔ ان کا مقصد یہ ہوتا تھا۔ کہ یہاں سے کوئی کمزور بات ہاتھ آئے تو اس میں جھوٹ ملا کر اپنے بڑوں کے پاس جا کر کریں اور اس طرح ان سے داد وصول کریں۔ اس طریقے سے یہ لوگ اسلام کے خلاف پر اپگینڈا میں معاون بنتے تھے۔ بہر حال فرمایا کہ ایسے یہودیوں کا مسلمانوں کی مجالس میں آنا دین میں رغبت کی وجہ سے نہیں ہوتا تھا بلکہ اس قوم کے لیے جاسوسی کرنا ہوتا تھا لم یاتوک جو آپ کے پاس نہیں آتے۔ یعنی آپ کے پاس آنیوالے لوگ آپ کی باتیں ان تک پہنچاتے ہیں۔ جو آپ کے پاس نہیں پہنچتے۔ تحریف فی الکتاب فرمایا ‘ یہ یہودی لوگ اسلام دشمنی میں تو پیش پیش ہیں مگر ان کی اخلاقی پستی کا یہ حال ہے کہ یحرفون الکلم من بعد مواضعہ کلام الہٰی کو اپنے موقع محل سے تبدیل کردیتے ہیں۔ چناچہ تورات میں مذکور جرائم کی سزائوں میں ازخود کمی بیشی کرلیتے تھے۔ اگر کوئی ذی اثر آدمی جرم کا ارتکاب کرتا ‘ تو اسے معمولی سزادے کر چھوڑ دیتے اور اگر کوئی غریب آدمی کسی جرم میں ملوث ہوجاتا ‘ تو اسے پوری سزا دی جاتی۔ آہستہ آہستہ انہوں نے زنا کے جرم میں رجم کی سز ا کو بالکل ختم کردیا اور اس کی بجائے مرتکبین کی تذلیل و تحقیر کرکے معاملے کو ختم کردیتے۔ اس سلسلے میں مفسرین کرام یہودیوں میں پیش آنے والے ایک زنا کے کیس کا ذکر بھی کرتے ہیں۔ یہودیوں میں ایک شادی شدہ جوڑے نے زنا کا ارتکاب کیا۔ وہ خود تو رجم کی سزا کو ختم کرچکے تھے۔ لہٰذا انہوں نے منصوبہ یہ بنایا کہ اس معاملہ کو مسلمانوں کے پیغمبر کے پاس لے چلیں۔ اگر وہ ہماری مرضی کی سزادیں تو اسے قبول کرلیا جائے اور اگر وہ رجم کی سزا تجویز کریں تو پھر انکار کردیا جائے۔ چناچہ یہودی یہ مقدمہ لے کر حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ اس معاملہ میں فیصلہ فرمادیجئے ‘ ان میں ایک یہودی عالم ابن صور یا بھی تھا۔ نبی (علیہ السلام) نے اس سے پوچھا کہ تورات میں زنا کی سزا کا کیا حکم ہے۔ آپ نے خاص طور پر دریافت کیا کہ کیا وہاں پر سنگساری کی سزا نہیں ہے۔ تو یہودی عالم نے انکار کردیا۔ اس پر آپ نے تورات کا نسخہ منگوا کر یہودی کو پڑھنے کے لیے کہا۔ جب وہ رجم کی آیت پر پہنچا تو اسے چھپانا چاہا۔ اس آیت پر انگلی رکھ کر اس کا اگلا پچھلا حصہ پڑھ دیا۔ وہاں پر حضرت عبد اللہ بن سلام ؓ بھی موجود تھے۔ جو تورات کے بہت بڑے عالم تھے ‘ انہیں اللہ نے ایمان کی دولت عطا کی تھی۔ انہوں نے رجم والی آیت کی نشاندہی کردی جس پر یہودی بہت نادم ہوئے اور ان کی خبائت کا راز کھل گیا۔ اسی واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہودی خود تو تحریف کے مرتکب ہوتے ہیں اور اگر کوئی معاملہ حضور ختم المرسلین کے پاس لے آتے ہیں تو ان کی سازش یہ ہوتی ہے یقولون ان اوتیتم ھذا فخذوہ یعنی اگر تمہاری مرضی کا فیصلہ مل جائے تو اسے قبول کرلو ‘ وان لم تئو توہ فاحذروا اور اگر تمہیں مطلب کا فیصلہ نہ ملے تو اس سے بچ جائو یعنی قبول نہ کرو۔ اسی پالیسی کے تحت ابن صور یا نے بھی رجم کے حکم کا انکار کیا ‘ مگر حضور ﷺ نے فرمایا میں تجھے اللہ وحدہ لاشریک کی قسم دیتا ہوں جس نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نجات دی اور فرعون کو غرق کیا اور جس نے تورات کو نازل فرمایا ‘ تم سچ سچ بتائو کیا تورات میں رجم کا حکم موجود نہیں ہے۔ بالاخر اس یہودی عالم کو اس بات کا اقرار کرنا پڑا۔ اس پر دوسرے یہودی اس کے خلاف ہوگئے اور اس سے الجھنے لگے۔ تاہم یہودیوں کی طرف سے تحریف فی الکتاب کا ثبوت مہیا ہوگیا ۔ قدرت میں تحریف کا ارتکاب یہودیوں کا پرانا مشغلہ ہے ہر نئے ایڈیشن میں کوئی نہ کوئی تبدیلی واقع ہوجاتی ہے ‘ مگر خدا کی قدرت وہ آیت آج بھی تورات میں موجود ہے۔ تورات کے اردو نسخوں میں یہ الفاظ موجود ہیں کہ جو شخص پڑوسی کی بیو ی کے ساتھ زنا کرے وہ جان سے مارا جائے گا گویا شادی شدہ زانی کے لیے سزائے موت ہے اور یہ وہی سزا ہے جو دین محمدی میں بھی بدستور قائم ہے۔ یہود کی طرف سے بائیبل میں تحریف لفظی کی کئی ایک مثالیں بھی موجود ہیں۔ جیسا کہ کسی گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے ۔ کہ بائیبل میں فارقلیط کا لفظ موجود تھا جس کے معنی احمد میں اور یہ لفظ حضور خاتم الانبیاء کی بعثت پر دلالت کرتا ہے ‘ مگر انہوں نے فار قلبط کی بجائے مدد گار یا وکیل کا لفظ داخل کردیا ۔ بحر حال تحریف فی الکتاب کے مختلف طریقے استعمال کرتے تھے ‘ کبھی کسی حکم کو بالکل چھپا جاتے ‘ کبھی الفاظ تبدیل کرتے اور کبھی الفاظ کا مطلب غلط بیان کرتے ‘ یہ سب تحریف ہی کی مختلف اقسام ہیں ۔ حضور کی تسلی اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ‘ آپ ان کے بارے میں غم زدہ نہ ہوں ‘ ان کی ہدایت کے لیے زیادہ فکر مند نہ ہوں ‘ کیونکہ ومن یرد اللہ فتنہ فلن تملک لہ من اللہ شیئاط جس کو اللہ فتنے میں ڈالنا چاہے یعنی گمراہ کرنے کا ارادہ کرے ‘ اس کے لیے آپ کسی چیز کے مالک نہیں ہیں۔ یعنی آپ ان کو راہ راست پر لانے پر قادر نہیں ہیں۔ فرمایا اولئک الذین لم یرد اللہ ان یطھر قلوبھم یہی لوگ ہیں کہ جن کے دلوں کو پاک کرنے کا اللہ تعالیٰ ارادہ نہیں رکھتا۔ یہ لوگ کفر ونفاق میں اتنے آگے بڑھ چکے ہیں کہ ان کی واپسی کی کوئی امید باقی نہیں رہی اور ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ اسی شخص کے دل کو پاک کرتا ہے جسے خود طلب ہو۔ جو شخص اپنی غلطی کا احساس کرکے اپنی۔۔ اصلاح کا خواہشمند ہو ‘ اللہ تعالیٰ اس کی راہنمائی فرماتا ہے اور اس کے دل کو کفر ‘ شرک اور نفاق سے پاک صاف کردیتا ہے ‘ برخلاف اس کے جو لوگ عنادی اور باطل پرست ہوتے ہیں۔ ان کے متعلق اللہ نے فرمایا ختم اللہ علی قلوبھم ان کے دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں کلا بل سکتہ ران علی قلوبھم ماکانوا یکسبون “ اپنی بدکرداری کی وجہ سے ان کے دل زنگ آلوہو چکے ہیں ‘ لہذا اب وہ حق کی طرف نہیں آسکتے۔ ہاں ! اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ اب بھی موجود ہے والذین جاھدوا فینا لنھدینھم سبلنا “ جو ہماری طرف آنا چاہتے ہیں ہم ضرور ان کی سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتے ہیں۔ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی طرآجاتے ہیں پھر اللہ ان کے دل پاک کردیتا ہے۔ بہرحال فرمایا کہ اللہ تعالیٰ باطل پرست لوگوں کے دل پاک نہیں کرتا لھم فی الدنیا خزی ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے ولھم فی الاخرۃ عذاب عظیم اور ان کے لیے آخرت میں بھی عذاب عظیم تیا ر کیا گیا ہے۔ اگر بغیر توبہ کیے ان کا خاتمہ یہودیت پر ہی ہوگیا تو بہت بڑی سزا کے مستحق ہوں گے۔ حرام خوری فرمایا سمعون للکذب یہ لوگ جھوٹی باتیں سننے کے بڑے عادی ہیں یا یہ کہ جھوٹوں کے لیے جاسوسی کرتے ہیں تاکہ لوگ اسلام سے متنفر ہوجائیں۔ اس کے علاوہ یہ لوگ اکلون للسحت حرام خور بھی ہیں۔ اور وہ اس طرح کہ احکام میں غلط فتویٰ دیکر لوگوں کا مال کھاتے ہیں ‘ مقدمات میں غلط فیصلے کر کے رشوت لیتے ہیں۔ سود کے موجد یہی لوگ ہیں اور اس کے ذریعے بھی حرام خوری کے مرتکب ہوتے ہیں۔ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے۔ کہ یہودی عربوں کا مال ناجائز طریقے سے کھاتے تھے اور ان کا فتویٰ تھا کہ امی لوگوں کا مال ا ن کے لیے حلال ہے۔ یہ سب ان کی حرام خوری کے ذرائع تھے۔ اس کے علاوہ سحت غیر اللہ کی نذر دنیاز پر بھی صادق آتا ہے۔ قرآن پاک میں موجود ہے۔ ” ان کثیرا من الاحبار والرھبان لیا کلون اموال الناس بالباطل “ یہودیوں کے اکثر علماء اور مشائخ لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے تھے غیر اللہ کی نذر ونیاز اسی قبیل سے ہے جو یہودی علماء بغیر ڈکار لیے کھا جاتے تھے۔ مگر حضور ﷺ کی پیشین گوئی کے مطابق یہ خصلت اب مسلمان مولویوں اور پیروں میں بھی پیدا ہوچکی ہیں۔ حلال و حرام کی تخصیص کیے بغیر ان کو بھی کھانے سے غرض ہے۔ خواہ کسی راستے سے آئے۔ آج گنڈے تعویز کا سلسلہ بھی بڑی ترقی کر گیا ہے۔ جاہل عورتیں خود ساختہ پیروں کے دام فریب میں گرفتار ہیں۔ ہر جائز و ناجائز مقصد کے لیے تعویزوں پر رق میں خرچ کرتی ہیں اور کھانے والے یہ حرام کمائی کو کھا رہے ہیں۔ یہ سب چیزیں سحت کا حصہ ہیں۔ یہودیوں کے مقدمات فرمایا یہ یہودی اپنے مقدمات کا فیصلہ آپ سے کرانا چاہتے ہیں فان جآءوک فاحکم بینھم اگر وہ آپ کے پاس تنازعہ لے کر آجائیں تو آپ ان کے درمیان فیصلہ کردیں او اعرض عنھم یا ان سے اعراض کریں یہ آپ کی صوابدید پر ہے فیصلہ کرنا پسند کریں تو کردیں ورنہ جواب دے دیں۔ وان تعرض عنھم اگر آپ ان سے اعراض کا فیصلہ کریں یعنی ان کے مقدمات کی سماعت کو پسند نہ کریں تو پھر تشویش کی کوئی بات نہیں ہے فلن یضرو کا شیئا یہ لوگ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ وان حکمت اور اگر ان کے مقدمات نمٹانا چاہیں فاحکم بینھم بالقسط تو آپ ان کے درمیان حق و انصاف کی بنیاد پر فیصلہ کریں اپنے دین اور شریعت کے احکام کی روشنی میں ان کی حق رسی کریں کیونکہ ان اللہ یحب المقسطین اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ آپ مکمل انصاف کے مطابق فیصلہ کریں۔ آگے اللہ تعالیٰ نے خود ہی استفسارانہ لہجے میں فرمایا وکیف یحکمونک وعندھم التورۃ وہ لوگ آپ کو کیسے منصف بنائیں گے جبکہ ان کے اپنے پاس تو رات موجود ہے۔ فیھا حکم اللہ جس میں اللہ تعالیٰ کے احکام موجود ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ اگر حق کا فیصلہ مطلوب ہو تو ان کے پاس تورات موجود ہے اس کے احکام کے مطابق فیصلہ خود کرسکتے ہیں مگر چونکہ یہ حیلے بہانے سے احکام الہٰی سے گریز کرتے ہیں لہذا آپ کے پاس آتے ہیں کہ شاید آپ ان کی مرضی کے مطابق فیصلہ کردیں مگر آپ کے لیے حکم یہی ہے کہ آپ حق و انصاف کے دامن کو مضبوطی سے تھامے رہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے پسند یدہ وہی لوگ ہیں جو انصاف پر قائم رہتے ہیں۔ فرمایا تورات میں واضح احکام کی موجود گی کے باوجود ثم یتولون من م بعد ذلک یہ لوگ ان احکام کو ٹال جاتے ہیں ‘ ان سے رو گردانی کرتے ہیں۔ تورات میں خود تحریف کی ہے ‘ اور اب اپنی پسند کے فیصلے کے لیے دوسروں کا سہارا ڈھونڈتے ہیں۔ چونکہ زنا کا کیس حضور ﷺ کی عدالت میں پیش ہوچکا تھا لہذا آپ نے تورات اور قرآن پاک کے حکم کے مطابق مرد و زن کے لیے سزائے موت کا حکم دیا صحیح احادیث میں موجود ہے کہ فیصلہ سنانے کے بعد حضور ﷺ نے فرمایا الحمد اللہ اللہ تعالیٰ نے میری وجہ سے اس حکم کو زندہ کردیا جسے یہودیوں نے چھپارکھا تھا۔ فرمایا ومآ اولئک بالمئومنین ان لوگوں میں ایمان کی کوئی رمق باقی نہیں۔ اگر ان میں کچھ بھی خوف خدا ہوتا تو خدا کی کتاب پر ایمان لاتے۔ اس کے احکام کو دوبارہ زندگی بخشتے اور دائرہ اسلام میں داخل ہوجاتے ‘ مگر یہ باطل پرست فرقہ کفر ‘ شرک اور معاصی میں غرق ہوچکا ہے۔
Ayah 5:44

اِنَّاۤ اَنْزَلْنَا التَّوْرٰىةَ فِیْهَا هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۚ یَحْكُمُ بِهَا النَّبِیُّوْنَ الَّذِیْنَ اَسْلَمُوْا لِلَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوْا مِنْ كِتٰبِ اللّٰهِ وَ كَانُوْا عَلَیْهِ شُهَدَآءَ١ۚ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَ اخْشَوْنِ وَ لَا تَشْتَرُوْا بِاٰیٰتِیْ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ Open ayah 5:44 in the Quran reader

بیشک ہم نے اتاری ہے تورات جس میں ہدایت اور روشنی ہے فیصلہ کرتے تھے اس کے ساتھ اللہ کے نبی جو فرمانبردار تھے ‘ (وہ ان لوگوں کے لیے فیصلہ کرتے تھے ‘ جو یہودی ہوئے ‘ اور اسی کے مطابق فیصلہ کرتے تھے درویش لوگ اور عالم لوگ اس وجہ سے کہ ان کو نگران بنایا گیا تھا اللہ کی کتاب پر اور وہ اس پر گواہ تھے۔ پس نہ ڈرو تم لوگوں سے اور ڈرو مجھ سے اور نہ خریدو میری آیتوں کے بدلے قیمت تھوڑی۔ اور جو فیصلہ نہ کرے اس کے مطابق جو اللہ نے نازل کیا ہے پس یہی لوگ ہیں کافر

ربط آیات گذشتہ درس میں اہل کتاب کی ندمت کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا کہ یہ لوگ آپ کے ساتھ کیسے متفق ہو سکتے ہیں حالانکہ ان کے پاس تورات ہے جس میں اللہ کا حکم موجود ہے اگر یہ تورات میں مذکور حکم الٰہی کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں تو ظاہر ہے۔ کہ یہ بددیانت ہیں۔ اور آپ کے پاس اپنا مقدمہ اس لیے لائے ہیں کہ یہ اپنا مفاد حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ معاملہ زنا کا تھا جس کی سزا موت ہزاروں تغیرات کے بعد بھی تورات میں موجود ہے۔ ان کا منصوبہ یہ تھا کہ اگر آپ کا فیصلہ ان کی مرضی کے مطابق ہوگا تو مان لیں گے ‘ ورنہ نہیں ۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر یہ لوگ آپ کے پاس آئیں تو آپ ان کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیں چناچہ حضور ﷺ نے انہی کے علماء سے تورات میں مذکور سزائے موت کو ثابت کیا اور پھر اس حکم کے مطابق زانی مرد زن کو سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ پھر حضور نے اللہ کا شکر ادا کیا اور فرمایا کہ اللہ نے میری وجہ سے تورات کے اس حکم کو زندہ کردیا جسے یہودی لوگ چھپا رہے تھے۔ اب آج کی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی نازل کردہ کتاب تورات کی حیثیت کو واضح کیا ہے۔ اس کے مناقب بیان بیان کیے ہیں اور لوگوں کو اس کے مطابق فیصلہ کرنے کی ہدایت فرمائی ہے اس کے بعد انجیل اور آخر میں قرآن پاک کے متعلق بیان آئیگا۔ نزول تورات یہاں تورات کے متعلق ارشاد ہے۔ انآ انزلنا التوراتہ ہم نے تورات کو نازل فرمایا۔ تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی گئی اور اس کا ذکر سورة اعراف میں یوں ہے۔ وکتبنا لہ فی الالواح من کل شیٔ موعظۃ و تفصیلا لکل شیٔ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تختیوں پر لکھی لکھائی کتاب عطا کی جس میں ہر قسم کی نصیحت اور قوانین موجود ہیں۔ اللہ کی نازل کردہ یہ کتاب زمانے کے دست برد سے محفوظ نہ رہ سکی اور نزول قرآن کے زمانہ تک اس میں بہت سا تغیر و تبدل ہوچکا تھا ‘ تاہم اس میں بعض اصل باتیں بھی موجود تھیں۔ مولانا عبید اللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ موجودہ تورات کی مثال بعض کتب احادیث کی طرح ہے کہ جس میں صحیح روایات بھی ہیں اور غلط بھی۔ ہر دور میں تورات تحریف کا شکار ہوتی رہی ہے۔ گذشتہ درس میں گزر چکا ہے ” یحرفون الکلم من بعد مواضعہ “ یہودی خود تورات کے احکام کو اپنے موقع محل سے بدل دیتے تھے یہ بڑے بددیانت لوگ تھے تاہم فی الجملہ تورات میں آج بھی بعض صحیح باتیں موجود ہیں۔ جو انبیاء (علیہم السلام) کی تعلیم کے مطابق ہیں۔ البتہ صحیح اور غلط کا امتیاز صاحب علم لوگ ہی کرسکتے ہیں ‘ یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہے چناچہ شاہ عبد العزیز (رح) فرماتے ہیں کہ تورات کا مطالعہ ہمارے خاندان کے نصاب تعلیم کا حصہ ہے۔ چونکہ یہود و نصاری سے اکثر و اسط رہتا ہے لہذا ہم نے تورات کو بھی اپنی تعلیم کا حصہ بنا رکھا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ہمارے سلسلہ ولی اللہ کے اکثر بزرگ تورات کا مطالعہ کرکے لوگوں کی۔۔ راہنمائی کرتے رہے ہیں۔ یہ صاحب علم ہی بتاسکتا ہے۔ کہ موجود تورات کی کون سی آیت قرآن و سنت کے مطابق ہے اور کونسی اس کے خلاف ہے۔ اس وقت تورات میں بعض ایسی فحش باتیں ہیں جو اللہ کے نبیوں سے منسوب کی گئی ہیں مگر اللہ کا کوئی نبی بھی ایسی بات نہیں کرسکتا ‘ بلکہ ان کا دہرانا بھی سوء ادب ہے۔ ایسی چیزیں کتاب الٰہی کی تحریف کا زندہ ثبوت ہیں۔ مشرکین نے بھی یہودیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ملت ابراہیمی میں بگاڑ پیدا کردیا تھا۔ انہوں نے دین ابراہیمی کو ایسا خراب کیا کہ بیت اللہ شریف کا طواف بالکل برہنگی کی حالت میں ہونے لگا۔ مرد اور عورتیں سب ننگا طواب کرتے تھے اور پھر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ اسے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی طرف منسوب کرتے تھے ‘ یا خدا کی طرف نسبت کرتے تھے کہ اللہ نے ایسا ہی حکم دیا ہے اللہ تعالیٰ نے اسکی تردید سورة اعراف میں فرمائی ہے۔ ” قل ان اللہ لایامر بالفحشآء ط اتقولون علی اللہ مالا تعلمون “ اے پیغمبر ! ﷺ آپ ا ن سے کہ دیں کہ بیشک اللہ تعالیٰ کبھی بےحیائی کی بات کا حکم نہیں دیتا۔ اس کے احکام تو صحیح اور حکیمانہ ہوتے ہیں۔ اللہ یا اس کا رسول ایسی بات نہیں کرسکتے۔ وجہ نزول تورات اللہ تعالیٰ نے تورات کو نازل فرمایا مگر بعد میں خود اس کے نزول تورات ماننے والوں نے تبدیلیاں پیدا کردیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل جب فرعون کی غلامی سے آزاد ہوگئے تو انہوں نے خود قانون الہی کا مطالبہ کیا کہنے لگے کہ ہم صدیوں سے فرعون کی غلامی میں جکڑے ہوئے تھے اور ہم اس کا قانون ماننے پر مجبور تھے۔ اب جبکہ ہم آزاد ہوچکے ہیں۔ ہمارا اپنا کوئی قانون ہونا چاہیے جس کی روشنی میں ہم اپنی زندگی بسر کرسکیں۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کی اس خواہش کا اظہار اللہ تعالیٰ سے کیا تو اللہ نے فرمایا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) آپ کوہ طور پر ایک ماہ کا اعتکاف کریں جس کے بعد ہم آپ کو کتاب دیں گے ‘ چناچہ آپ کوہ طور پر تشریف لے گئے ۔ اعتکاف کی مدت ایک ماہ سے بڑھ کر چالیس دن ہوگئی ‘ تاہم اس کی تکمیل پر اللہ تعالیٰ نے تختیوں پر لکھی لکھائی تورات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل فرمائی مگر جب قانون کی یہ کتاب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم پر پیش کی توہ اپچ پیچ کرنے لگے کہنے لگے اے موسیٰ (علیہ السلام) اس کتاب کے احکام بڑے سخت ہیں۔ لہذا سمعنا وعصینا “ ہم نے احکام سن تو لیے مگر ان پر عمل کرنے سے قاصر ہیں لہذا ہم ان کا انکار کرتے ہیں۔ اللہ نے حکم دیا ” خذوا مآ اتینکم بقوۃ “ جو کچھ ہم نے دیا ہے۔ اس کو مضبوطی سے پکڑو ” واذکروا مافیہ “ اور اس کو خوب یادکرو اور اس پر عمل کرو ‘ مگر اس قوم نے حیلے بہانوں سے تورات کے احکام ماننے سے نہ صرف انکارر کردیا بلکہ اس میں طرح طرح کی تحریف کرنے لگے ‘ جو آج تک جاری ہے۔ اور اس کتاب کا بیشتر حصہ تغیر وتبدل کا شکار ہوچکا ہے۔ آسمانی کتب کے لفظی معنی تورات کا لفظی معنی قانون (LAW) ہے۔ یہ عبرانی سریانی زبان کا لفظ ہے۔ اسی طرح انجیل کے معنی بشارت کے ہیں کیونکہ اس میں نبی آخرالزمان (علیہ السلام) کے متعلق بشارت دی گئی ہے۔ تیسری آسمانی کتاب زبور ہے جس کا معنی صحیفہ ہے ” واتینا داود زبورا “ اس کتاب میں اللہ کی حمد وثنا اور اخلاقی باتیں زیادہ ہیں اور قوانین و احکام کم تعداد میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی چوتھی اور آخری کتاب قرآن پاک ہے۔ جس کا لفظی معنی پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ اصل میں قرا کا معنی جمع کرنا ہے۔ پڑھنے میں چونکہ حروف جمع کیے جاتے ہیں ‘ اس لیے اسے قرآن یعنی پڑھی جانے والی کتاب کہا جاتا ہے۔ قرآن پاک کے متعلق انسائیکلو پیڈیا آف برٹیا نیکا والے لکھتے ہیں ENCYCLOPAEDIA OF BRITANNNICA; IT IS THE MOST WIDELY READ BOOK IN THE WORLD.ٍَیعنی قرآن پاک دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ ہدایت اور نور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کتاب تورات کو نازل کیا فیھا ھدی ونور اس میں ہدایت اور روشنی ہے۔ سورة نسآء میں موجود ہے ” وانزلنا الیکم نورامبینا “ ہم نے تمہاری طرف کھلا نور نازل فرمایا اس نور سے مراد چراغ یا بلب کی روشنی نہیں ہے بلکہ اس سے قلبی بصیرت مراد ہے۔ دوسرے مقام پر فرمایا ھذا بصآ ئر للناس “ قرآن پاک کی آیات لوگوں کے لیے بصیرت ہیں۔ جو کوئی ان کو پڑھے گا ‘ ایمان لائے گا ‘ اس کا دل روشن ہوجائے گا اور وہ حق و باطل میں امتیاز کرنے کا اہل ہو سکے گا۔ اس روشنی کی وجہ سے وہ حلال و حرام اور جائز و ناجائز میں تمیز کرسکے گا۔ بہر حال نور سے مراد قلبی روشنی ہے اور ہدایت سے وہ قوانین اور ضابطے مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائے ہیں۔ اسی لیے فرمایا کہ ہم نے تمہاری طرف تورات نازل فرمائی جس میں ہدایت اور نور ہے۔ قرآن پاک میں بینات کا ذکر بھی آتا ہے مآ انزلنا من البینت ولھدی “ جو کچھ ہم نے بینات اور ہدایت میں سے اتارا ہے مفسر قرآن مولانا عبید اللہ سندھی (رح) ہمارے زمانے میں قرآن پاک کا گہرا ادراک رکھنے والے بزرگ ہوئے ہیں۔ آپ بہت بڑے عالم اور تجربہ کار تھے۔ وہ فرماتے ہیں کہ بینات سے مراد وہ کھلی کھلی اور عام فہم باتیں ہیں جنہیں ہر شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ اس میں توحید ‘ ذکر ‘ شکر ‘ صبر اور نماز وغیرہ آتے ہیں۔ اور ہدایت سے مراد وہ باریک باتیں ہیں جو استاد کی تعلیم و تشریح کے ساتھ ہی سمجھ میں آسکتی ہیں ۔ الغرض فرمایا کہ تورات میں ہدایت اور روشنی ہے۔ تورات بطور حکم یحکم بھا النبیون الذین اسلموا اللہ کے نبی اس تورات کی روشنی میں فیصلے کرتے تھے اور وہ سارے انبیاء (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کے مطیع و فرمانبردار تھے۔ بنی اسرائیل میں اللہ نے ہزاروں انبیاء مبعوث فرمائے جن کو حکم دیا جاتا رہا کہ اس تورات کے احکام کی نشر و اشاعت کرو۔ اسلموا کے لفظ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اللہ کے سارے نبی اسلام والے لوگ تھے نہ کہ یہودیت یا نصرانیت والے۔ تمام انبیاء کا دین تو اصلاً ایک ہی رہا ہے اور وہ سارے اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری ہی کی دعوت دیتے رہے البتہ ان میں زما ن ومکان کی وجہ سے بعض فروعات میں اختلاف پایاجاتا تھا۔ مگر بنیادی طور پر دین ایک ہی تھا۔ تو فرمایا اللہ کے نبی اسی تورات کے مطابق فیصلے کرتے تھے للذین ھادوا ان لوگوں کے لیے جو یہودی ہوئے۔ چونکہ تورات بنی اسرائیل کے لیے ہی نازل ہوئی تھی اس لیے اللہ کے نبی یہ قانون اس قوم پر نافذ کرتے رہے اور پھر یہ ہے کہ انبیاء کے علاوہ والربنیون رب والے یعنی درویش لوگ بھی اسی تورات کے مطابق فیصلے کرتے رہے۔ ربی کا تذکرہ پہلے بھی ہوچکا ہے۔ اللہ کی مخلوق میں ہزاروں لاکھوں درویش گزرے ہیں جو اسی کتاب کے مطابق فیصلے کرتے رہے۔ والا حبار اور عالم لوگ یعنی تورات کو جاننے اور سمجھنے والے لوگ بھی تورات کے احکام پر عمل کرتے اور کراتے رہے۔ احبار حبر یا حَبر کی جمع ہے اور اس سے وہ علماء مراد ہیں جو تورات کے حاملین تھے ۔ وہ بھی لوگوں کے فیصلے تورات کے مطابق کرتے تھے بما استحفظوا من کتاب اللہ وکانوا علیہ شھدآء اس لیے کہ ان لوگوں کو تورات کا محافظ اور نگران بنایا گیا تھا۔ اور وہ اس پر گواہ تھے یہ ان کی ذمہ داری تھی کہ لوگوں کو تورات کی طرف دعوت دیں اور اس کے احکام پر عمل کرائیں۔ قرآن پاک اور تاریخ سے یہ بات ثابت ہے۔ کہ اہل کتاب کے علماء و مشائخ میں یقیناً تورات کے عامل موجود تھے۔ جنہوں نے تورات کو سینوں سے لگا رکھا تھا ‘ مگر بعد میں ایسے لوگ پیدا ہوگئے جن کے متعلق قرآن پاک نے بتایا ” ان کثیر ا من الاحبار والرھبان لیاکلون اموال الناس بالباطل ویصدون عن سبیل اللہ “ بہت سے عالم اور درویش ایسے ہیں جو لوگوں کا ماں ناحق طریقے سے کھاتے ہیں اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں۔ ان لوگوں نے تورات پر عمل کرنا چھوڑ دیا اور اس کی بجائے غیر اللہ کی نیازیں کھانا شروع کردیں۔ اور تعویز ‘ گنڈوں اور جادو کے ذریعے لوگوں کا مال ہڑپ کرنا شروع کردیا۔ اشاعت دین میں رکاوٹ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کی مختلف صورتیں ہیں کبھی اصل احکام میں تحریف کرکے اور ان کو غلط معانی پہنا کر صحیح بات پر عمل کرنے سے روک دیا جاتا ہے۔ اور کبھی احکام الٰہی کا صریحاً انکار کر کے اس پر عملدرآمد کے راستے میں رکاوٹ ڈالی جاتی ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ احکام الٰہی کے مکلف لوگ اپنی بےعملی کی وجہ سے دوسرے لوگوں کو دین سے بدظن کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ اللہ کی آخری کتاب قرآن اگر چہ تحریف سے پاک ہے اور دین اسلام محفوظ ہے۔ مگر مسلمان اپنی بےعملی کی وجہ سے دوسروں کے لیے کوئی اچھا نمونہ پیش نہیں کرتے جس کی وجہ سے غیر مسلم اسلام کے قریب آنے پر آمادہ نہیں ہوتے ‘ دنیا کے پڑھے لکھے لوگ ‘ ماہرین قانون ‘ دانشور ‘ انجینئر ڈاکٹر وغیرہ جب مسلمانوں کے عمل کی طرف دیکھتے ہیں تو اسلام سے بدظن ہوجاتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کو اسلام کا عملی نمونہ دیکھنا چاہتے ہیں ‘ مگر جب انہیں اسلامی اصولوں کا عملی نمونہ میسر نہیں آتا تو وہ اسلام کی طرف راغب نہیں ہوتے ‘ اس طرح گویا ہم خود لوگوں کو اسلام سے دور کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ اور یہی چیز دین کے راستے میں رکاوٹ ہے۔ یہاں ایک بات اور توجہ طلب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے علما و مشائخ کو تورات کا محافظ اور نگران بنایا مگر وہ کتاب الٰہی کی حفاظت کی ذمہ داری پوری نہ کرسکے جس کی وجہ سے تورات میں اس قدر تحریف ہوچکی ہے کہ ایک عمومی آدمی کے لیے اصل اور نقل میں امتیاز ممکن نہیں رہا۔ برخلاف اس کے قرآن پاک کی حفاظت کا ذمہ خود خدا تعالیٰ نے لیا ” انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحفظون “ بیشک اس ذکر ( قرآن پاک) کو ہم نے ہی نازل کیا اور ہم ہی اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں۔ چناچہ گذشتہ چودہ صدیوں کی تاریخ شاہد ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس کلام میں سر ہو بھی تبدیلی نہیں آئی۔ البتہ مسلمانوں کی بدقسمتی یہ ہے کہ یہ اس کتاب پر عمل پیرا نہیں رہ سکے بلکہ اس سے مسلسل اعراض برت رہے ہیں اہل اسلام کے پاس اللہ کا ایک قانون موجود ہے جو دنیا میں دیگر کسی قوم کے پاس نہیں۔ اس کے باوجود بےعملی کی وجہ سے یہ دنیا جہنم اور قید خانہ بنی ہوئی ہے جرائم کی بھر مار ہے۔ کفر وشرک کی کوئی انتہا نہیں رہی اگر اسلام کے ابتدائی دور میں مسلمان اس کتاب پر عمل کرکے دنیا کی کایا پلٹ سکتے ہیں ‘ تو آج مسلمان اپنا کھویا ہوا وقار بحال کیوں نہیں کرسکتے۔ کتاب اللہ سے اعراض آج مسلمان پوری دنیا میں سیاسی اقتدار سے محروم ہیں بعض اسلامی مملکتوں کے پاس سرمایہ کی کمی نہیں ‘ تمام وسائل بھی موجود ہیں مگر وہ خدا کی کتاب پر عمل کرنے سے گریزاں ہیں کہیں شخصی حکومت ہو یا جمہوریت ‘ سرمایہ دارانہ نظام ہو یا اشتراکی ‘ سب نے قرآن پاک کی تعلیمات کو پس پشت ڈال رکھا ہے۔ اسلامی نظام حکومت اپنانے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں ‘ یہودیوں کی بیماری مسلمانوں میں بھی پیدا ہوگئی ہے۔ یعنی جو حکم اپنی مرضی کے مطابق ہے اسے قبول کرلو اور جو اپنی خواہش کے خلاف ہے اسے چھوڑ دو ۔ آج مسلمانوں نے قرآن و سنت کو اپنی مرضی کے تابع کرلیا ہے ‘ ان حالات میں دنیا حقیقی ترقی کی منازل کیسے طے کرسکتی ہے ‘ یہ اہل کتاب والا نفاق ہے جس میں مسلمان بھی مبتلا ہوچکے ہیں۔ جس تک اس خطہ ارضی پر انگریز حکومت کرتارہا اس وقت تک ایک بہانہ موجود تھا مگر اب قرآن و سنت کا نظام اپنانے میں کونسا امر مانع ہے۔ ابھی تک دو سو سال پرانا انگریز کا بنایا ہوا عدالتی نظام رائج ہے ‘ ہم ابھی تک اسے نہیں بدل سکے۔ اصل بات یہ ہے کہ کتاب اللہ کی بالادستی کا جذبہ ہی ختم ہو کر رہ گیا ہے ‘ ہم ابھی تک خود ساختہ قوانین کے غلام بنے بیٹھے ہیں ۔ اس معاملہ میں نہ کوئی انفرادی کوشش ہورہی ہے اور نہ اجتماعی ‘ نہ کوئی حکومت اس طرف توجہ دیتی ہے نہ کوئی سیاسی پارٹی۔ ہر ایک کو اپنا ذاتی مفاد عزیز ہے ‘ اعلائے کلمۃ الحق کا جذبہ مفقود ہوچکا ہے۔ یہ سب کچھ کتاب اللہ سے اعراض کا نتیجہ ہے۔ غیر اللہ کا خوف فرمایا کتاب اللہ پر عمل کرنے کے خلاف کسی کو خاطر میں نہ لائو فلا تخشوا الناس اس معاملے میں لوگوں سے مت ڈرو کہ اگر کتاب اللہ پر عمل شروع کردیا تو وہ کیا کہیں گے۔ کسی فرد یا جماعت کی پروانہ کرو ‘ کسی بڑی سے بڑی حکومت کو خاطر میں نہ لائو کہ اسلامی نظام اپنانے سے وہ کیا کہیں گے۔ فرمایا باطل پرست لوگوں کی طرف سے آنکھیں بند کرلو واخشونی اور صرف مجھ ہی سے ڈرو۔ کہ کہیں میرے احکام کی خلاف ورزی نہ ہوجائے اگر تم دنیا کی سپر طاقتوں اور نام نہاد مہذب قوموں کی طرف دیکھتے رہے تو نہ تم اسلامی معاشرہ قائم کرسکو گے اور نہ دنیا کو امان و چین نصیب ہوگا۔ ایسی صورت میں تم اغیار کے غلام بن کر رہ جائو گے۔ نہ تمہارا ذہن اپنا ہوگا اور نہ سیاست۔ حضور ﷺ کے صحابہ کرام ؓ تو چھوٹی سے چھوٹی سنت پر عمل کرنے میں حجاب محسوس نہیں کرتے تھے ‘ مگر آج ہمارے اخلاق کا دیوالیہ ہی نکل چکا ہے ‘ ہم خدا تعالیٰ کی بجائے غیر اللہ سے خوفزدہ ہیں۔ حضرت حذیفہ ؓ کا واقعہ حدیث میں آتا ہے کہ کھانا کھاتے وقت ایک لقمہ ہاتھ سے گرپڑا۔ آپ نے اسے فوراً اٹھایا اور صاف کرکے کھالیا۔ کسی نے کہا کہ یہاں کے لوگ تو اسے معیوب سمجھتے ہیں ‘ حضرت حذیفہ ؓ نے عجیب جواب دیا۔ کہنے لگے اترک سنۃ حبیبی محمد لقول ھئولاء الحمنقآء کیا میں ان بیوقوفوں کے کہنے پر اپنے پیارے پیغمبر محمد ﷺ کی سنت کو ترک کردوں۔ آج یہ جذبہ ختم ہوچکا ہے ‘ ہم نے ہر کام کے لیے اغیار کی طرف دیکھنا شروع کردیا ہے جس کا خمیازہ بھگت رہے ہیں۔ کتاب اللہ پر عدم اعتقاد فرمایا مجھ سے ڈرو ولا تشتروا بایتی ثمنا قلیلا اور نہ خریدو میری آیتوں کے بدلے دنیا کا حقیر سامان یعنی تھوڑی قیمت۔ مقدمات کے غلط فیصلے ‘ رشوت لے کر غلط فتوی دینا۔ حکم کو تبدیل کرکے لوگوں کی مرضی کے مطابق ڈھا لنا یہ سب کچھ چنڈ ٹکوں کے لیے کیا جاتا ہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا۔ دنیا کے حقیر مال کے بدلے میری آیتوں کو نہ بیچ ڈالو ‘ یہ بالآخر ختم ہونے والی ہے اور پھر تمہیں اپنے کیے پر سخت ندامت ہوگی۔ یادرکھو اللہ کے احکام کی خلاف ورزی نہ کرو کیونکہ ومن لم یحکم بما انزل اللہ جس نے اللہ کے نازل کرد ہ احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کیا فاولئک ھم الکفرون پس یہی لوگ کافر ہیں۔ امام محمد (رح) حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ جس نے خدا کے نازل کردہ احکام پر دل سے یقین نہ کیا تو وہ صریح کافر ہے۔ اور اعتقاد ہے مگر اس پر عمل نہیں تو اس کا حکم اگلی آیتوں میں آرہا ہے ایسے لوگوں کو ظالم اور فاسق کہا گیا ہے۔ یہود کا حال یہ تھا کہ کتاب للہ پر ان کا اعتقاد ہی اٹھ چکا تھا ‘ وہ اللہ کے احکام کو اپنی خواہش کے مطابق چلانے لگے تھے۔ قرآن پاک کے بارے میں بھی یہی حکم ہے۔ جو اللہ کی کتاب اور اس کے احکام پر مکمل اعتقاد نہ رکھے ‘ انہیں غیر ضروری تصور کرے وہ قطعی کافر ہے۔ برطانیہ ‘ فرانس ‘ امریکہ اور روس کے نظام کو برتر سمجھنے والا صریح کافر ہے۔
Ayahs 5:45–47

وَ كَتَبْنَا عَلَیْهِمْ فِیْهَاۤ اَنَّ النَّفْسَ بِالنَّفْسِ١ۙ وَ الْعَیْنَ بِالْعَیْنِ وَ الْاَنْفَ بِالْاَنْفِ وَ الْاُذُنَ بِالْاُذُنِ وَ السِّنَّ بِالسِّنِّ١ۙ وَ الْجُرُوْحَ قِصَاصٌ١ؕ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهٖ فَهُوَ كَفَّارَةٌ لَّهٗ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 5:45 in the Quran reader

اور ہم نے لکھ دیا تھا ان (بنی اسرائیل) پر۔ اس (تورات میں کہ بیشک جان کے بدلے جان ( کو قتل کیا جائے گا ‘ اور آنکھ کے بدلے آنکھ ‘ اور ناک کے بدلے ناک ‘ اور کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت ‘ اور زخموں کا قصاص ہے۔ اپس جس شخص نے معاف کردیا ‘ پس وہ اس کے لیے کفارہ ہوگا ‘ اور جس نے حکم نہ کیا اس چیز کے ساتھ جس کو اللہ نے نازل کیا ہے۔ پس یہی لوگ ظالم ہیں

وَ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ١۪ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ فِیْهِ هُدًى وَّ نُوْرٌ١ۙ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَیْنَ یَدَیْهِ مِنَ التَّوْرٰىةِ وَ هُدًى وَّ مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِیْنَؕ Open ayah 5:46 in the Quran reader

اور پہلے انبیاء کے پیچھے ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا جو تصدیق کرنے والے تھے اس چیز کی جو ان سے پہلے تھی تورات اور ہم نے ان کو انجیل دی ‘ اس میں ہدایت اور روشنی تھی اور وہ تصدیق کرنے والی تھی اس کی جو اس سے پہلے تھی تورات۔ اور ہدایت اور نصیحت تھی متقیوں کے لیے

وَ لْیَحْكُمْ اَهْلُ الْاِنْجِیْلِ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فِیْهِ١ؕ وَ مَنْ لَّمْ یَحْكُمْ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْفٰسِقُوْنَ Open ayah 5:47 in the Quran reader

اور چاہیے کہ فیصلہ کریں انجیل والے بھی اس کے مطابق جو اللہ نے نازل فرمایا ہے اس میں اور جو کوئی اللہ کی نازل کردہ چیز کے مطابق فیصلہ نہیں کریگا پس یہی لوگ ہیں نافرمان

ربط آیات اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ ہم نے تورات کو موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل فرمایا ‘ اس میں ہدایت اور روشنی ہے اللہ کے نبی اس کے مطابق فیصلہ کرتے تھے ‘ مگر اس میں بنی اسرائیل نے گڑ بڑ پید ا کردی وہ تورات پر عمل نہیں کرتے تھے ‘ بلکہ اس میں انہوں نے لفظی اور معنوی اور دو طرح سے تحریف کردی۔ الفاظ کو بھی تبدیل کردیا اور معانی بھی الٹ پلٹ کردیے مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا جو لوگ اللہ کی نازل کردہ تورات کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے ‘ وہ کافر ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ احکام شریعت پر عدم اعتقاد اور اس کی تصدیق کفر کے مترادف ہے۔ اور اگر کوئی شخص کتاب اللہ کی تصدیق کرنے کے بعد اس پر عمل نہیں کرتا ‘ تو وہ کفر ان نعمت کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی یہی خرابی بیان فرمائی ۔ اسی تسلسل میں اللہ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے بیٹوں کا ذکر کرنے کے فعد فرمایا من اجل ذلک “ اس وجہ سے یعنی لوگوں کو ظلم سے بچانے اور قتل ناحق کو روکنے کے لیے اللہ نے بنی اسرائیل کو یہ تعلیم دی تھی کہ جو کوئی کسی کو ناحق قتل کرے گا یا کسی ایسے شخص کو قتل کرے گا جو زمین میں فساد کا مرتکب نہیں ہوا ‘ تو ایسا کرنا پوری نسل انسانی کو قتل کرنے کے برابر ہے۔ اور جو کوئی کسی ایک جان کی حفاظت کرتا ہے ‘ وہ گویا پوری نسل انسانی کی حفاظت کرتا ہے۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی طرف سے نقض عہد کا ذکر کیا تھا۔ یہود اور نصاریٰ دونوں گروہ اللہ کے ساتھ کیے گئے عہد و پیمان کو توڑ نے کے مرتکب ہوئے تھے۔ اسی عہد شکنی کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبیین ﷺ سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ” ولا تزال تطلع علی خآ ئنۃ منھم “ کہ آپ ان کی خیانتوں پر برابر مطلع ہوتے رہیں گے۔ چناچہ زنا کا جو واقعہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا اس میں تورات کے احکام کو چھپا کر یہودیوں نے مذہبی خیانت کا ارتکاب کیا۔ مگر اللہ نے اس کو ظاہر کردیا۔ دوسرا معاملہ یہودیوں کے دو قبیلوں بنو قریظہ اور بنو نضیر کے درمیان قصاص کا تھا۔ ان میں سے بنو نضیر اپنے آپ کو بنو قریظہ پر فوقیت دیتے تھے اگر بنو قریظہ کا کوئی آدمی بنو نضیر کے کسی شخص سے قتل ہوجاتا تو اس کا قصاص نہیں دلاتے تھے کیونکہ وہ بنو قریظہ کو حقیر سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ ایک معمولی آدمی کے بدلے معزز شخص کی جان نہیں لی جاسکتی۔ اللہ تعالیٰ نے تورات میں قانون قصاص سب کے لیے مساوی درجے کا نازل فرمایا تھا ‘ اس میں چھوٹے بڑے ‘ امیر غریب ‘ اعلیٰ و ادنی کی کوئی تفریق نہ تھی مگر انہوں نے مختلف خاندانوں کے درمیان تفریق پیدا کرکے اپنی خیانت کا ایک اور ثبوت فراہم کردیا تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے تو قصاص کا واضح قانون دیا تھا وکتبنا علیھم فیھا ہم نے ان پر اس تورات میں لکھ دیا تھا ان النفس بالنفس کہ بیشک جان کے بدلے جان ہے۔ اس میں کسی چھوٹے بڑے کا امتیاز نہیں۔ قاتل کو مقتول کے بدلے میں قتل کیا جائے گا۔ یہ قانون تو اللہ نے بنی اسرائیل کے لیے تورات میں بیان فرمایا ‘ تاہم شریعت محمدیہ میں بھی یہی قانون نافذ ہے۔ کہ کسی مسلمان کے قتل عمد میں قاتل کو بھی قتل کیا جائے گا۔ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کے فتویٰ کے مطابق ذمی آدمی کا مال وجان اور عزت و آبرو بھی اسی طرح محفوظ ہے جس طرح ایک مسلمان کا۔ ذمی کے بدلے میں مسلمان کو بھی قتل کیا جائیگا۔ بشرطیکہ ذمی کا قتل قتل عمد ہو۔ اگر قتل عمد نہیں بلکہ قتل خطا ہے یا قتل شبہ عمد ہے تو اس صورت میں قصاص کی بجائے دیت ادا کرنا ہوگی۔ جیسا کہ گزشتہ شورۃ میں بیان ہوچکا ہے ‘ قتل خطایہ ہے کہ ارادہ کسی جانور وغیرہ کو مارنے کا تھا مگر غلطی سے کوئی انسان زد میں آکر قتل ہوگیا۔ اور قتل شبہ عمد کی تعریف یہ ہے کہ موت کسی ایسے آلہ سے واقع ہوئی ہو جو عام طور پر قتل کے لیے استعمال نہیں ہوتا۔ غرضیکہ حنفی میں ذمی کا قتل۔ بھی مسلمان کے قتل کے برابر ہے۔ تاہم بعض دیگر ائمہ کرام فرماتے ہیں کہ ذمی اگرچہ مسلمانوں کی رعایا ہے مگر وہ کافر تو بہر حال ہے اور اس کے متعلق حضور ﷺ کا فرمان ہے لایقتل مئومن بکافر یعنی کافر کے بدلے مومن کو قتل نہیں کیا جائیگا ‘ لہذا ذمی کا فر کے قصاص میں مومن کی جان نہیں لی جاسکتی ہے۔ مگر امام صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ یہ حکم ذمی کا فر کے لیے نہیں بلکہ حربی کافر کے لیے ہے ‘ پر امن غیر مسلم شہر ی پر یہ حکم عاید نہیں ہوتا۔ امام صاحب (رح) کا قول عقلی طور پر بھی زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔ اس سے انسانیت کا احترام ظاہر ہوتا ہے اور یہ ایک ایسا اصول ہے جو غیر مسلموں کو اسلام کے قریب آنے میں مدد دیتا ہے۔ اعضاء کا قصاص جان کے بدلے جان کے بعد مختلف اعضاء تلفی کے متعلق فرمایا والعین بالعین آنکھ کے بدلے میں آنکھ ہے یعنی اگر کوئی شخص کسی دوسرے آدمی کی آنکھ پھوڑتا ہے تو قصاص میں اس کی آنکھ بھی پھوڑی جائیگی والانف بالانف اگر کسی کا ناک کاٹا ہے تو اس کے بدلے میں اس کی ناک کو کاٹا جائیگا۔ والاذن بالاذن اگر کسی کا کان ضائع ہوا ہے۔ تو اسے بھی کان کاٹنے کی اجازت ہے۔ والسن بالسن اور دانت کا قصاص دانت ہی ہے۔ اگر دانت ضائع ہوا ہے تو ضرب لگانے والے کا دانت بھی اکھاڑا جائیگا۔ والجروح قصاص اور تمام زخموں میں قصاص ہے جس قسم کا زخم کسی کو لگایا گیا ہے۔ اسی قسم کا زخم بدلے میں لگایا جائیگا۔ غرضیکہ قصاص کا قانون ایک ایسا قانون ہے جو فسادفی الارض کرنے والے کو مجبور کرتا کہ وہ کسی کو نقصان پہنچانے سے پہلے اس کے نتائج پر اچھی طرح غور کرے یہاں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ اعضا اور زخموں کا قصاص اسی صورت جائز ہے۔ جب کہ وہ لگائے گئے زخم کے عین مطابق ہو اور اس میں کمی بیشی ممکن نہ ہو۔ مثال کے طور پر اگر ناک نچلے حصے سے کٹی ہے جہاں پر ہڈی نہیں تو قصاص میں ناک کا اتنا حصہ کاٹ دینا تو ممکن ہے ‘ لکین اگر اوپر والے حصے میں ناک کی ہڈی بھی توڑی گئی ہے تو قصاص میں اسی جگہ بعینہ اتنی ہڈی توڑنا ممکن نہیں کیونکہ ایسا کرنے میں تھوڑی بہت کمی بیشی ضرور واقع ہوگی۔ اسی طرح اگر کسی شخص کی ٹانگ کی یا بازو کی ہڈی توڑی گئی ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ بعینہ اسی جگہ سے اتنی ہی ہڈی قصاص میں توڑی جائے ‘ تو ایسے حالات میں قصاص ممکن نہیں رہتا ‘ لہٰذا ہر ایسے زخم کے بدلے میں قصاص کی بجائے دیت لازم آئیگی۔ فرمایا فمن تصدق بہ فھو کفارۃ لہ جو کوئی لگائے گئے زخم کا صدقہ کردے یعنی جارح کو معاف کردے تو اس کا یہ فعل اس کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔ معانی کی صورت یہ ہے کہ زخم خوردہ نہ تو قصاص میں زخم لگانے والے کو زخم لگائے اور نہ اس سے ویت وصول کرے۔ تو یہ بہت بڑا کام ہے۔ اللہ اس سے اس شخص کے سابقہ گناہوں کا کفارہ بنادے گا۔ اگر مضروب پوری دیت معاف کردیتا ہے تو آخرت میں اس کے سارے گناہ معاف ہوجائیں گے۔ اور نصف دیت معاف کرتا ہے تو نصف گناہوں کی معانی کا حقدارہو جائیگا۔ بہر حال یہ متقیوں کا شیوہ ہے۔ معافی کا قانون یہ ہے کہ قتل کی صورت میں مقتول کا ولی معاف کرسکتا ہے ‘ اگر مقتول کے کئی وارث ہوں تو سب کی رائے لی جائیگی۔ البتہ اگر ان میں سے ایک وارث بھی قاتل کو معاف کرتا ہے تو اس سے قصاص ٹل جائے گا۔ البتہ ویت دینا پڑیگی۔ اور اگر مکمل معافی ہوجاتی ہے تو یہ مقتول کے گناہوں کا کفارہ بن جائیگا۔ زخم خوردگی کی صورت میں معافی کا اختیار خود مضروب کو حاصل ہوتا ہے۔ وہ چاہے تو قصاص یا ویت لے لے اور اگر وہ بالکل معاف ہی کردیتا ہے تو یہ بہت بڑی بات ہے اور اس کے لیے آخرت میں ذریعہ نجات ہے۔ آگے فرمایا کہ قصاص کا قانون تو یہ ہے۔ البتہ ومن لم یحکم بمآ انزل اللہ جو کوئی اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا ‘ فاولئک ھم الظلمون تو یہی لوگ ظلم کرنے والے ہیں گذشتہ درس میں ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا تھا کہ وہ کافر ہیں کیونکہ انہوں نے اللہ کے احکام کی تصدیق ہی نہیں کی ‘ اور جو شخص قانون الٰہی کو برحق تسلیم کرتے ہوئے اس کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا ہے وہ ظالم ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) بطور مصدق فرمایا کہ عیسائیوں کا حال بھی یہودیوں سے ملتا جلتا ہے۔ ان میں تعصب عناد ‘ ظلم و زیادتی اور سنگدلی اگرچہ یہودیوں سے قدرے کم ہے ‘ مگر خدا کی کتاب سے اعراض اور تاویل و تحریف کرنے میں عیسائی بھی یہودیوں سے کم نہیں۔ اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا وقفینا علی اثار ھم بعیسی ابن مریم ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو انبیاء کے نقش قدم پر بھیجا۔ آپ بنی اسرائیل کے سب سے آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد چھ سو سال تک دنیا میں کوئی نبی نہیں آیا اور سلسلہ نبوت کے آخری مرحلہ میں حضور خاتم النبیین ﷺ کی بعثت ہوئی۔ آپ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان کوئی نبی نہیں آیا۔ اسی لیے آپ کا ارشاد ہے انا اولی بعیسی ابن مریم یعنی میں عیسیٰ (علیہ السلام) سے زیادہ قریب ہوں۔ آپ کی کتاب کا نام انجیل ہے ‘ جس کا معنی بشارت ہے کیونکہ اس میں ختم المرسلین ﷺ کی بشارت دی گئی ہے۔ جیسا کہ سورة صف میں موجود ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل سے کہا ‘ کہ میں تمہاری طرف رسول بن کے آیا ہوں ‘ میں تمہارے پاس موجود کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں ” ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد “ میں اپنے بعد آنے والے رسول کی بشارت دینے والا ہوں جس کا نام احمد ہوگا۔ چناچہ گذشتہ صدی تک مختلف اناجیل میں فارقلیط کا لفظ موجود تھا جس کا عربی متبادل احمد ہے مگر یہ لفظ تحریف کی نذر ہوچکا ہے۔ انجیل بطور ہدایت اور روشنی یہاں بھی فرمایا کہ ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو پیچھے لگایا مصدقا لما بین یدیہ من التورۃ جو تصدیق کرنے والے تھے اس چیز کی جو ان کے پاس تھی یعنی تورات واتینہ الانجیل اور ہم نے ان کو انجیل عطا کی ‘ تورات کی طرح انجیل بھی ایسی کتاب تھی فیہ ھد و نور جس میں ہدایت اور روشنی تھی اس میں ایسے اصول و ضوابط تھے جن پر عمل پیرا ہونے سے انسان۔۔۔۔ کی اصلاح ہوتی ہے اور تورات کی طرح انجیل کی روشنی سے بھی شکوک و شبہات دور ہوتے تھے اور انسان کا ذہن بالکل صاف ہوجاتا تھا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے متعلق بھی فرمایا وانزلنآ الیکم نور مبینا “ ہم نے تم پر واضح نور نازل فرمایا ‘ جہاں کہیں شبہ پڑے ‘ قرآن پاک کی طرف رجوع کرو یہ تمہارے تمام مسائل حل کردے گا۔ البتہ فاسئلوا اھل الذکر ان کنتم لا تعلمون “ اگر تم خود مسائل کو اخذ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتے تو اہل علم لوگوں سے دریافت کرلو ‘ وہ قرآن پاک سے اسنباط کر کے بتائیں گے۔ کہ فلاں فلاں مسئلہ فلاں فلاں آیت سے حل ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے یہ عظیم کتاب اس لیے نازل فرمائی ہے ” لتخرج الناس من الظلمت الی النور “ تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لائیں ‘ کفر ‘ شرک ‘ نفاق ‘ بدعمنی ‘ فسق ‘ و فجور یہ سب ظلمت ہے۔ آپ ان سے نکال کر اطاعت ‘ اخلاص ‘ توحید اور نیکی کی روشنی کی طرف لائیں۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے۔ روشنی سے یہ ظاہری روشنی مراد نہیں ہے بلکہ اس سے دل کی بصیرت مراد ہے۔ قرآن پر ایمان لا کر اسے پڑھنے سے دل کی تاریکی دور ہوتی ہے ‘ انسان اچھے برے ‘ توحید ‘ شرک ‘ حلال حرام اور نیکی بدی میں امتیاز کرنے لگتا ہے ‘ وحی الٰہی زندگی کے ہر موڑ پر انسان کے لیے روشنی کا کام دیتی ہے۔ معاملہ انفرادی ہو یا اجتماعی ‘ مسئلہ سیاسی ہو یا معاشی ‘ دین کا ہو یا دنیا کا ‘ تنازعہ جنگ کا ہو یا صلح کا۔ تمام مواقع پر کتاب الٰہی روشنی مہیا کرے گی۔ بشرطیکہ اس کو صدق دل سے تسلیم کرلیا جائے ‘ جو شخص اس کی حقیقت کو تسلیم ہی نہ کرے وہ اس سے راہنمائی کیسے حاصل کرسکتا ہے۔ جو شخص دن میں آنکھیں بند کرکے بیٹھ جائے وہ روشنی سے کیسے استفادہ کرسکیگا ارور جو مکان کا دروازہ بند کرے اسے سورج کی روشنی اور گرمی کیسے حاصل ہوگی۔ بہرحال فرمایا کہ ہم نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو انجیل عطا کی جو پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والی تھی۔ جس طرح ہر آسمانی کتاب اپنے سے پہلے آنے والی کتاب کی تصدیق کرتی رہی ‘ اسی طرح ہر نبی اپنے سے پہلے انبیاء کی تصدیق کرتارہا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا ولا حل لکم بعض الذی حرم علیکم “ میرے آنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ بعض ایسی چیزوں کو حلال قرار دے دوں جو پہلے بنی اسرائیل پر حرام تھیں۔ یہ علت و حرمت بھی من جانب اللہ تھی۔ اس نے اپنی حکمت کے مطابق جب چا ہا کسی چیز کو حرام کردیا اور جب چاہا حلال قرار دیدیا۔ فرمایا انجیل کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے و مصدقا لما بین یدیہ من التورۃ جس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) تورات کی تصدیق کرنے والے تھے اسی طرح انجیل بھی تورات کی تصدیق کرنے والی تھی وھد ی وموعظۃ للمتقین یہ کتاب متقیوں کے لیے ہدایت اور نصیحت تھی۔ ظاہر ہے کہ یہ ہدایت اور نصیحت اسی کو مفید ہوسکتی ہے جو اس پر عمل پیرا ہو۔ حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص صراط مستقیم پر سفر کا آغاز کرتا ہے۔ اس کو پہلے ہی دن غیب سے آواز آتی ہے کہ اللہ کے بندے ! اس سیدھی سڑک پر چلتے جائو ‘ اور دائیں بائیں نظر آنے والی پگڈنڈیوں اور دروازوں کی طرف متوجہ نہ ہونا۔ فرمایا یہ ندا کنندہ اللہ کا قرآن ہے۔ جب کوئی شخص مسلمان ہوتا ہے تو یہ قرآن پاک اس کو صراط مستقیم پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ اور غلط راستوں پر پڑ کر گمراہ ہونے سے خبر دار کرتا ہے۔ سیدھا راستہ حظیرۃ القدس تک راہنمائی کرتا ہے جب کہ غلط راستہ جہنم تک لے جاتا ہے۔ عمل بالا نحیل فرمایا کہ بنی اسرائیل پر یہ فرض عاید ہوتا ہے ولحکم اھل الانجیل بمآ انزل اللہ فیہ اور چاہیے کہ فیصلہ کریں اہل انجیل اس کے مطابق جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر عیسائی انجیل پر ٹھیک ٹھیک ایمان لے آئیں اور اس پر عمل کریں تو پھر انہیں قرآن پاک اور حضور خاتم النبیین (علیہ السلام) کی تصدیق بھی کرنا پڑیگی اور وہ اسلام میں داخل ہوجائیں گے۔ بگڑی ہوئی عیسائیت پر قائم رہنا محض جہالت ہے۔ یہ تعصب اور عناد کی وجہ سے اب تک ہو رہا ہے فرمایا۔ یادرکھو ! ومن لم یحکم بمآ انزل اللہ جو کوئی اللہ کی نازل کردہ چیز کے مطابق فیصلہ نہیں کریگا فاولئک ھم الفسقون پس یہی لوگ نافرمان ہیں۔ اگر یہ لوگ کتاب اللہ کی دل سے تصدیق نہیں کرتے تو کامل درجے کے نافرمان اور دائرہ ملت سے خارج ہیں۔ اور اگر تصدیق کرنے کے باوجود عمل اس کے خلاف ہے تو پھر سخت مجرم ‘ فاسق اور ظالم ہیں۔ یہ ملت حنیفیت کے پیروکار نہیں ہیں ‘ بلکہ گمراہ ہیں۔ مسلمانوں کا حال بھی یہی ہے ‘ قرآن و سنت پر ایمان لانے کے باوجود تمام فیصلے اس کے خلاف کرتے ہیں ‘ ایسے لوگ فاسق اور ظالم ہیں۔ ممبران اسمبلی جج صاحبان اور قانون سے متعلقہ تمام لوگ اس کی زد میں ہیں۔ انہیں چاہیے کہ ایسے حالات پیدا کریں جن میں تمام فیصلے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب کے مطابق طے پائیں۔