Ayahs 5:82–86ربط آیات
گزشتہ درس میں اہل کتاب کے دو گروہوں کے متعلق ذکر آ چکا ہے کہ ان کی نافرمانیوں ، عصیان اور تعدی کی وجہ سے اللہ نے اپنے دو نبیوں کی زبان سے ان پر لعنت بھیجی۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے زمانے میں یہودیوں نے مچھلی کے شکار سے متعلق اللہ کے احکام کی خلاف ورزی کی اور حیلے بہانے سے ہفتے کے دن بھی شکار کرنے لگے۔ اس نافرمانی کی پاداش میں اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوا اور وہ لوگ خنزیروں اور بندروں کی شکلوں میں تبدیل ہوگئے دوسرا گروہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے کا ہے جن کو منع کیا گیا تھا کہ آسمان سے نازل ہونے والے مائدہ کو کھائو پیو مگر اس کا ذخیرہ نہ کرو۔ انہوں نے اس حکم کی خلاف ورزی کی اور ذخیرہ اندوزوں کو شروع کردی۔ پھر جن لوگوں کو مائدہ کھانے سے منع کیا گیا تھا ، انہوں نے بھی اللہ کے حکم کی پرواہ نہ کی اور کھانا شروع کردیا۔ ان پر بھی اللہ کا غضب نازل ہوا ان کی شکلیں بھی مسخ ہوگئیں اور انہیں صفحہ ہستی سے نیست و نابود کردیا گیا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے عقائد باطلہ ان کے غلو اور تعصب کو بیان کر کے ان کی مذمت فرمائی۔
یہودی اسلام دشمنی
اب آج کی آیات میں یہود کی پھر سخت مذمت بیان کی گئی ہے۔ البتہ نصاریٰ کے حق میں کلمات خیر بھی کہے گئے ہیں۔ ان آیات کی روشنی میں بعض مفسرین نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اسلام دشمنی میں یہودی نصاری کی نسبت زیادہ شدید ہیں اور عیسائی اسلام سے قریب تر ہیں۔ برخلاف اس کے مفسر قرآن حضرت عبداللہ بن عباس آپ کے شاگرد حضرت سعید بن جبیر اور حضرت قتادہ وغیرہم فرماتے ہیں کہ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے تمام عیسائیوں کی مدح نہیں فرمائی بلکہ یہاں ایک خاص گروہ کی طرف اشارہ کر کے ان کی تعریف کی گئی ہے وگرنہ حقیقت یہ ہے کہ بحیثیت مجموعی یہود و نصاریٰ کی اسلام دشمنی میں کوئی فرق نہیں جس طرح یہودی اسلام کو مٹانے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں اسی طرح نصاریٰ نے بھی ہر دور میں اسلام دشمنی میں ایڑی چوٹی کا زور لگایا ہے چناچہ یہود کی عداوت کے متعلق ارشاد ہوتا ہے لتجدن اشد الناس عداوۃ للذین امنوا الیھود مومنوں کے حق میں شدید ترین عداوت رکھنے والے تم یہود کو پائو گے ، ان کی اسلام دشمنی کا حال تاریخ میں محفوظ ہے ، حضور ﷺ کے اپنے زمانہ مبارک میں وہ کمینگی کا اظہار کرتے رہتے تھے۔ چناچہ ان بدبختوں نے پتھر گرا کر حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کو ہلاک کرنے کی کوشش کی مگر اللہ نے ان کی اس کوشش کو ناکام بنا دیا پھر انہوں نے آپ کو کھانے میں زہر دے دیا مگر اللہ نے وہاں بھی آپ کی حفاظت فرمائی انہوں نے پیغمبر اسلام اور اہل اسلام کو نقصان پہنچانے میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑی۔ جب اعلانیہ اسلام کے ساتھ ٹکر لینے میں ناکام ہوئے تو اندرونی سازشیں شروع کردیں کچھ براہ راست مشرکین سے مل گئے اور بعض دوسروں نے زبان سے کلم ہپڑھ لیا مگر در پردہ منافقین کا کردار ادا کرتے رہے۔
مشرکین کی اسلام دشمنی
ایک تو یہود اسلام دشمنی میں شدید ہیں۔ دوسرے نمبر پر فرمایا والذین اشرکوا اور مشرکین بھی اسلام کے خلاف ریشہ دوانیوں میں پیش پیش ہیں مشرکین میں سے مکہ کے مشرک خاص طور پر قابل ذکر ہیں مکی زندگی میں حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) اور آپ کے صحابہ کرام کے ساتھ مشرکین کی عداوت کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان مکہ مکرمہ سے ہجرت کرنے پر مجبوکر ہوگئے۔ اہل اسلام کو دو دفعہ حبشہ کی طرف ہجرت کرنا پڑی مگر مشرکین نے وہاں بھی پیچھا نہ چھوڑا بالآخر مسلمان مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کر گئے۔ وہاں بھی مکہ والوں نے انہیں چین سے نہ بیٹھنے دیا اور پے در پے لڑائیاں ہوئیں جن میں بدر اور احد کے معرکے تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں حدیبیہ کا واقعہ بھی مشرکین مکہ کی اسلام دشمنی کا نتجیہ تھا۔ آخر جب مکہ فتح ہوگیا تو مسلمانوں کو چین نصیب ہوا۔ کچھ مشرکین ایمان لائے ، کچھ مارے گئے اور کچھ بھا گ گئے۔
نصاریٰ کا کردار
جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے اس آیت میں نصاریٰ کے جس گروہ کی تعریف کی گئی ہے وہ حبشہ کا وفد تھا جوحضور ﷺ کی خدمت میں مدینہ طیبہ حاضر ہوا۔ اس وفد میں ستر آدمی تھے جن میں درویش اور عالم بھی تھے۔ حضور ﷺ نے ان کے سامنے سورة یٰسین کی تلاوت فرمائی ، ایمان تو پہلے ہی قبول کرچکے تھے ، قرآن پاک کی آیات سن کر انہوں نے حقانیت کو پہچان لیا اور وہ خوب روئے۔ انہی لوگوں کے متعلق یہاں فرمایا ولتجدن اقربھم مودۃ للذین امنوا الذین قالوآ انا نصریٰ ۔ اور البتہ پائیں گے آپ اہل ایمان سے دوستی میں زیادہ قریب ان لوگوں کو جنہوں نے کہا کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ وفد حبشہ کا یہی وہ خاص گروہ ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے تعریف بیان کی ہے۔ آگے اس کی وجہ بھی بیان فرمائی ذلک بان منھم قسیسین ورھباناً یہ اس وجہ سے کہ اس وفد میں کچھ عالم لوگ اور کچھ تارک الدنیا لوگ بھی تھے۔ ان میں یہودیوں کی نسبت فروتنی تھی کسی قوم میں صاحب علم لوگوں کا ہونا نیک فال ہے اور عجز و انکساری اور درویشی بھی ایک اچھی صنعت ہے اور ان لوگوں کی تعریف کی دوسری وجہ یہ تھی وانھم لایستکبرون کہ وہ تکبر نہیں کرتے تھے بلکہ یہودیوں کی اکڑ کے برخلاف یہ لوگ عجز و انکساری کے حامل تھے۔ چوتھی صدی کے عظیم مفسر قرآن امام ابوبکر حصاص اور مولانا شاہ اشرف ع لی تھانوی بھی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں جن نصاریٰ کی مدح بیان کی گئی وہ یہی گروہ تھا اس تعریف کے مستوجب تمام نصاریٰ نہیں ہیں۔
اس وفد کے بعد نجاشی والی حبشہ نے ایک دوسرا وفد بھی حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا تھا۔ جس میں اسی 80 یا ایک سو تیس 130 آدمی تھے۔ جن میں نجاشی کا بیٹا بھی شامل تھا۔ مگر خدا کی قدرت راستے میں بحری سفر کے دوران یہ پورا قافلہ طوفان کی زد میں آ گیا اور ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچ سکا لہٰذا یہ وفد حضور ﷺ کی خدمت میں نہ پہنچ سکا۔
حبشہ کی طرف ہجرت
اس سے پہلے خود مسلمان حبشہ کی طرف دو دفعہ ہجرت کرچکے تھے جس کا خاطر خواہ اثر ہوا اور وہاں کا بادشاہ اصممہ نجاشی اپنے دیگر رفقا کے ہمراہ ایمان لے آیا۔ جب مکہ کے مسلمانوں کو کافروں نے بہت زیادہ تکالیف دینا شروع کردیں۔ تو حضور ﷺ نے ان کو حبشہ کی طرف ہجرت کر جانے کی اجازت دے دی۔ نجاشی عیسائی مذہب رکھتا تھا اور قیصر رومی کے تحت تھا۔ جب مسلمانوں کا دوسرا گروہ ہجرت کر کے حبشہ پہنچا تو نجاشی ا ن کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آیا جب کفار مکہ کو علم ہوا کہ مسلمانوں کو حبشہ میں پناہ مل گئی ہے تو انہوں نے اپنا ایک وفد نجاشی کے پاس بھیجا تاکہ اسے اس بات پر آمادہ کیا جاسکے کہ وہ مسلمان کو پناہ نہ دے۔ وفد کے ارکان نے نجاشی کو ورغلانے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے اور یہاں تک اس کے کان سرے کہ مسلمان حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی نعوذ باللہ توہین کرتے ہیں اور انہیں غلام کہتے ہیں نیز یہ کہ مسلمان عیسائی مذہت کے سخت مخالف ہیں۔ اگرچہ نجاشی یہ اس بات کا خاطرہ خواہ اثر نہ ہوا۔ تاہم اس نے مسلمانوں کو طلب کر کے ان کے دین اور عقائد کے متعلق دریافت کیا اس کے جواب میں قائد وفد اسلامی حضرت جعفر طیار نے دربار نجاشی میں جو پر اثر تقریر کی وہ تاریخ میں محفوظ ہے آپ نے فرمایا بادشاہ ! ہم ایک سخت جاہل قوم تھے ، خود ساختہ بتوں کی پوجا کرتے تھے ۔ مردار کھاتے تھے ، بدکاری اور بےرحمی ہمارے معاشرت کا جزو بن گا تھا۔ ہم نہ ہمسایہ کے حقوق سے واقف تھے اور نہ اخوت و ہمدردی سے واقف۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے ہم میں ایک ایسا عظیم الشان پیغمبر مبعوث فرمایا جس کے حسب و نسب سے ہم واقف تھے اور جس کی عصمت و پاکدامنی ہمارے سامنے تھی۔ اس نے ہمیں جہالت کی تاریکی سے نکال کر ہدایت کی روشنی عطا کی ، ہم اس پر ایمان لائے ، شرک سے توبہ کی۔ حلال و حرام میں تمیز سیکھی۔ یہ ہمارا حرم ہے جس کی پاداش میں ہمیں آپ کے ملک میں پناہ لینے پر مجبور کیا گیا۔ شاہ حبش پر اس کا بہت زیادہ اثر ہوا اور اس نے قریش کے وفد کو بتا دیا کہ وہ ایسے نیکو کار لوگوں کو واپس کر کے ظلم و ستم کا نشانہ نہیں بنانا چاہتا۔ نجاشی نے حضرت جعفر سے پوچھا کہ جو کلام تمہارے نبی پر نازل ہوتا ہے ، وہ کیسا ہے ؟ اس پر حضرت جعفر نے سورة مریم تلاوت کی جس کو سن کر نجاشی اور اس کے دربار کے علماء آبدیدہ ہوگئے۔ نجاشی نے کہا کہ یہ لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی توہین نہیں کرتے بلکہ اسی قسم کی بات کہتے ہیں جو خود عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہی تھی۔ سورة مریم میں صاف طور پر موجود ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے رسول ہیں۔ بہرحال نجاشی نے فریقین کی بات سننے کے بعد کہا کہ جائو انتم سیوم یعنی تمہیں میرے ملک میں امن حاصل ہے اور تم اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے جو مال چاہو سکونت اختیار کرسکتے ہو اس پر مشرکین مکہ ناکام واپس لوٹ آئے۔
نصاریٰ کی اسلام دشمنی
جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ جن نصاریٰ کی یہاں تعریف کی گئی ہے وہ حبشہ کا وفد تھا ، تاہم عام عیسائیوں کی اسلام دشمنی یہودیوں سے کسی طرح کم نہیں یہ لوگ بھی ابتداء سے لے کر نزول مسیح تک اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے یہدیوں کے پاس تو اقتدار نہیں تھا مگر عیسائی ہمیشہ صاحب اقتدار رہے ہیں لہٰذا انہوں نے ہر دور میں عظیم عداوت کا مظاہرہ کیا ہے۔ ترکوں نے چار سو سال تک عیسائیوں کا مقابلہ کیا۔ زار روس بھی عیسائی تھا۔ اس کے ساتھ بھی مسلمانوں کی ٹکر ہوتی رہی۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کے دور میں دو سو سال تک عیسائیوں اور مسلمانوں میں جنگیں ہوتی رہیں جب عیسائیوں نے بیت المقدس پر قبضہ کیا تو چالیس ہزار بےگناہ انسانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ان میں بچے بوڑھے اور عورتیں بھی شامل تھیں۔ پھر جب صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس پر دوبارہ قبضہ کیا تو کسی عیسائی کو ناحق قتل نہیں کیا گیا۔ یہ بات تاریخ میں محفوظ ہے۔ اس وقت سے لیکر آج تک نصاریٰ مسلمانوں کے خلاف اپنی پوری قوت استعمال کرتے رہے ہیں۔ لبنان میں فلانک پارٹی کے لوگ سب عیسائی ہیں جنہوں نے مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے جب یہاں پر ایوب کی حکومت تھی اس وقت قبرص میں وہاں کے میکار یوس نے چالیس ہزار ترکوں کو ہلاک کیا۔ ادھر فلپائن میں مارکوس نے وہاں کے پچاس لاکھ مسلمانوں کو تنگ کر رکھا ہے انہیں صور و یعنی قزاق مسلمان کہا جاتا ہے اور ان پر طرح طرح کی مصیبتوں کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں۔ وہاں پر بھی ہزاروں مسلمان عیسائیوں کے ہاتھوں قتل ہوچکے ہیں۔
انگریزوں کی اسلام دشمنی کی پوری تاریخ گواہ ہے۔ انہوں نے ایک ایک کر کے مسلمانوں کی کتنی حکومتیں ختم کیں۔ زار روس کے زمانے میں مسلمانوں کی ساتھ کیا سلوک کیا وہ بھی عیسائی تھے صلیبی جنگوں کے دو سو سالہ دور میں مسلمانوں کو جس طرح تباہ و برباد کیا گیا وہ عیسائیوں کی سفاکی کی منہ بولتی تصویر ہے امام شاہ و لی اللہ اپنی کتاب تفہیمات الہیہ میں لکھتے ہیں کہ مسیح (علیہ السلام) کے نزول کا زمانہ جس قدر قریب آتا جائے گا ، مسلمانوں پر عیسائیوں کے مظالم بڑھتے جائیں گے۔ یہ اس بات کی دلیل ہوگی کہ نزول مسیح کا زمانہ قریب آ گیا ہے۔ پھر جب آپ تشریف لے آئیں گے تو نہ کوئی یہودی باقی رہے گا اور نہ عیسائی ، ہر طرف اسلام ہی کا کلمہ بلند ہوگا۔
بعض انگریز پرست مسلمان بھی کہتے ہیں کہ انگریزوں کا دامن صاف ہے حالانکہ یہ قوم مسلمانوں کی عظیم دشمن ہے جتنا نقصان اسلام کو اس قوم نے پہنچایا ہے کسی دوسری قوم سے سر زد نہیں ہوا۔ انگریز نے گزشتہ چار صدیوں میں مسلمانوں کی تہذیب و ثقافت کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کی خلافت اور اس کے ساتھ اجتماعیت کو ختم کیا ، ان سے کئی ممالک چھین لئے اور انہیں غلام بنا لیا ، امریکہ تو ابھی کل کا بچہ ہے ، یہ پرانے انگریز ہیں جنہوں نے اسلام دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیا۔ بہر حال اس آیت کریمہ میں عیسائیوں کی جو تعریف کی گئی ہے وہ حبشہ کے وفد کے ارکان کی ہے ، نہ کہ بحیثیت مجموعی عام عیسائیوں کی۔
آبدیدہ آنکھوں والے
سب لوگ ایک سے بھی نہیں ہوتے ، سورة آل عمران میں گزر چکا ہے ” لیسوا سوآئ “ یعنی سارے یہود و نصاریٰ برابر نہیں۔ گزشتہ سورة میں بھی دو دفعہ اللہ کا یہ فرمان آ چاک ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں میں بعض با صلاحیت لوگ بھی ہوتے ہیں مگر ان کی تعداد بہت قلیل ہے ، البتہ ان کی اکثریت نافرمانوں پر مشتمل ہے۔ یہاں بھی جن لوگوں کی تعریف بیان کی گئی ہے وہ با صلاحیت ، متوازن ، سادہ لباس اور عاجزی والے لوگ تھے۔ ان میں کتب آسمانی کے عالم اور درویش منش لوگ تھے ان کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا واذا سمعوا ما انزل الی الرسول جس وقت وہ سنتے ہیں اس چیز کو جو اتاری گئی ہے رسول کی طرف تری اعینھم تفیض من الدمع آپ ان کی آنکھوں سے آنسو بہتے ہوتے دیکھتے ہیں۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ وفد کے ارکان نے جب … سورة یٰسین سنی تو آبدیدہ ہوگئے ، حدیث شریف میں حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کا ارشاد مبارک ہے کہ دو قسم کی آنکھیں ایسی ہیں جن پر دوزخ کی آگ حرام ہے ایک وہ آنکھ جو اللہ کے خوف سے روتی ہے اور دوسری وہ جو اللہ کے راستے میں حفاظت کے لئے پہرہ دیتی ہے۔ فرمایا ایسی آنکھوں والے کبھی دوزخ میں نہیں جائیں گے حتی کہ اونٹنی کا دودھ اس کے تھنوں میں واپس آجائے۔ جس طرح دو ہے ۔
ہوئے دودھ کا تھنوں میں واپس جانا ناممکن ہے۔ اسی طرح چشم تر کا دوزخ میں جانا محال ہے۔ خدا کے خوف سے آبدیدہ ہوجانا اللہ نے نبیوں کی صفت بیان کی ہے۔
حق کی پہچان
فرمایا اللہ کا کلام سن کر آبدیدہ ہوجانا اس وجہ سے تھا مما عرفوا من الحق کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا تھا۔ سورة یٰسین میں اسلام کے من الحق کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا تھا۔ سورة یٰسین میں اسلام کے تمام بنیادی عقائد کا بیان ہے اس میں توحید ، رسالت ، قیامت ، قرآن کی حقانیت اور دیگر تمام اہم موضوعات اس سورة میں موجود ہیں ، چناچہ ارکان وفد یہ سچا کلام سن کر رو دیئے۔ انہوں نے حق کو پہچان لیا یقولون کہنے لگے ربنا امنا اے ہمارے پروردگار ! ہم ایمان لائے ہیں فاکتبنا مع الشھدین پس ہمیں لکھ لے تو گواہی دینے والوں میں اور یہ گواہی دینے والے حضور خاتم المرسلین کی امت کے لوگ ہیں جو اپنے نبی کے حق میں گواہی دیں گے۔ حجتہ الوداع کے موقع پر حضور ﷺ نے تمام لوگوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قیامت کے دن میرے متعلق تم سے سوال کیا جائے گا تو تم کیا جواب دو گے ، سب نے کہا کہ ہم گواہی دیں گے۔ ادیت الا مانۃ و بلغت الرسالۃ و نصحت الامۃ آپ نے امانت کو پہنچا دیا اور حق رسالت ادا کردیا اور امت کے لوگ باقی ابنیاء وعلیہم الصلوۃ والسلام کے حق میں بھی گواہی دیں گے کہ تمام انبیائے نے اللہ کے احکام اپنی اپنی امتوں تک پہنچا دیئے۔ سورة بقرہ میں بھی اس آخری امت کو شاہدین کی امت کہا گیا ہے۔ بہرحال ارکان وفد نے کلام الٰہی سن کر کہا کہ اے مولا کریم ! ہمیں بھی گواہی دینے والوں کی فہرست میں شامل کرے۔
نیکی اور بدی کی جزا
وفد حبشہ کے ارکان نے یہ بھی کہا کہ وما لسا لا نومن باللہ کیا وجہ ہے کہ ہم اللہ پر ایمان نہ لائیں وما جآء نا من الحق اور اس چیز پر ایمان نہ لائیں جو آئی ہے ہمارے پاس حق سے۔ گویا انہوں نے کہا کہ ایمان باللہ اور ایمان بالکتاب کے لئے ہماری ہر طرح سے تسلی ہوچکی ہے اور ایسا کرنے میں اب کوئی چیز مانع نہیں ہے ونطمع ان یدخلنا ربنا مع القوم الصلحین اور ہم کیوں نہ امید رکھیں کہ ہمارا پروردگار ہمیں بھی نیک لوگوں کے ساتھ داخل کر دے گا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا فاثا بھم اللہ بما قالوا پس دے دیا اللہ تعالیٰ نے ان کو بدلہ اس چیز کا جو انہوں نے کہی۔ یعنی ان کی طرف سے اعتراف حق کے نتیجہ میں اللہ نے ان سے وعدہ کرلیا جنت تجری من تحتھا الانھار ایسے باغات کا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ وہ لگو اللہ کے بہشت میں داخل ہوجائیں گے مگر کسی عارضی مدت کے لئے نہیں بلکہ خلدین فیھا اس میں ہمیشہ رہنے والے ہوں گے اور وہاں سے نکالے نہیں جائیں گے وذلک جزآء المحسنین اور یہ بدلہ ہوگا نیکی کرنے والوں کا یعنی جو شخص ایمان لاتا ہے ، حق کو پہچانتا ہے اور نیکی کرتا ہے ، اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایسا ہی بدلہ دیا کرتا ہے۔
اور اس کے برخلاف والذین کفروا جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے بھیجے ہوئے پروگرام پر ایمان لانے سے انکار کردیا وکذبوا باتینا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ۔ شریعت الہیہ کی بات کو قبول ہی نہ کیا۔ ہمارے احکام کی تکذیب کی ، ہمارے دلائل کو پہچانہ سمجھا ، ہمارے بھیجے ہوئے رسولوں کا اور نازل کی گئی کتابوں کا انکار کردیا ، فرمایا اولئک اصحب الجحیم یہی لوگ جہنم والے ہیں ۔ یہ ہمیشہ اسی میں جلتے رہیں گے۔ انکار کرنے والوں اور آیات الٰہی کو جھٹلانے والوں کا یہی انجام ہوتا ہے۔
Ayahs 5:87–88ربط آیات
پہلے اہل کتاب کی مذمت بیان ہوئی ، پھر اللہ تعالیٰ نے ایک خاص گروہ کی تعریف بھی بیان فرمائی جنہوں نے ایمان قبول کیا اور وہ باصلاحیت لوگ تھے۔ اللہ نے یہ بھی سمجھا دیا کہ اہل ایمان کے ساتھ شدید ترین عداوت رکھنے والے یہودی اور مشرک ہیں البتہ نصاریٰ اس ضمن میں کہ عداوت رکھتے ہیں پھر اللہ نے اس کی دو وجوہات بھی بیان فرمائیں کہ ان میں اہل علم ، تارک دنیا اور متواضع لوگ بھی ہیں جس قوم میں یہ صفات پائی جائیں وہ ایک اچھی سوسائٹی سمجھی جاتی ہے۔
یہاں پر رہبانیت کی مدح سے یہ شبہ گزرتا تھا کہ شاید یہ کوئی اچھی چیز ہے مگر اگلی آیات میں اس شبہ کا ازالہ کردیا گیا ہے اور اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خبردار کردیا ہے کہ رہبانیت کوئی اچھی چیز نہیں ، بلکہ دین حق کے خلاف ہے گزشتہ آیات سے رہبانیت کا جو تعریفی پہلو نکلنا ہے وہ ایک ذیلی بات ہے اور اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ لوگ رہبانیت … کو بطور قانون تسلیم کر کے ترک دنیا کا شیوہ اختیار کرلیں۔ آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے طیبات یعنی پاکیزہ چیزوں کا تذکرہ کر کے ان کے اسعتمال کا حکم دیا ہے ، اگر ان حلال اور پاکیزہ چیزوں کو چھوڑ دیا جائے تو یہی رہبانیت اور ترک دنیا ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ امر نہیں ہے۔
آ ج کی آیات کا ربط اسی سورة کی ابتداء میں متذکرہ قانون حلت و حرمت کے ساتھ ہے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ گزشتہ سورة نساء میں محرکات نکاح کا قانون تھا اور سورة مائدہ میں حلال و حرام چیزوں کا قانون بیان کیا گیا ہے۔ بنی اسرائیل نے اسی قانون حلت و حرمت کو توڑا تو اللہ نے ان کی مذمت بیان فرمائی۔ یہودیوں میں یہ بری خصلت خاص طور پر پائی جاتی تھی کہ وہ حیلے بہانے سے حرام چیزوں کو کھانے کی کوشش کرتے تھے اور نصاریٰ نے رہبانیت کا راستہ اختیار کرلیا تھا ، یہ دونوں طریقے غلط تھے ، دونوں گروہ افراط وتفریط کا شکار ہوچکے ہیں ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہاں پر درست سمت کی طرف راہنمائی فرمائی ہے۔
قانون حلت و حرمت
ارشاد ہوتا ہے۔ یا یھا الذین امنوا اے ایمان والو ! لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم مت حرام ٹھہرائو ، پاک چیزیں جو اللہ نے تم پر حلال قرار دی ہیں ولا تعتدوا اور تعدی اختیار نہ کرو کیونکہ ان اللہ لا یحب المعتدین اللہ تعالیٰ تعدی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ لہٰذا افراط وتفریط سے بچ جائو اور غلو نہ کرو ، بلکہ اللہ کی حلال کردہ اشیاء سے استفادہ حاصل کرو۔ طیبات کا اطلاق حلال یعنی جائز اشیاء پر بھی ہوتا ہے اور لذیذ یعنی مرغوب اشیاء پر بھی جو چیزیں عام طور پر طبائع انسانیہ کے ساتھ موافقت رکھتی ہیں۔ وہ پاکیزہ اور حلال ہیں اور جن کے طبائع انسانیہ متنفر ہیں وہ حرام اور ناجائز کی فہرست میں آتی ہیں بہرحال اللہ تعالیٰ نے پاک اور حلال چیزوں کو حرام قرار دینے سے منع فرمایا ہے۔
مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ کسی حلال چیز کو حرام قرار دینے کی تین مختلف صورتیں ہیں اور ان کے احکام بھی مختلف ہیں۔ پہلی صورت یہ ہے کہ جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے کوئی شخص اگر اعتقاداً اس کو حرام سمجھنے لگے تو وہ کافر ہوگیا۔ کسی قطعی حلال چیز کو حرام سمجھنے والا آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اللہ کی حرام کردہ چیز کو حلال سمجھتا ہے تو وہ بھی کفر کا مرتکب ہوتا ہے۔ حلت و حرمت کی دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص عقیدے کے طور پر تو حرام کو حلال یا حلال کو حرام نہیں سمجھتا مگر اپنی زبان سے اس چیز کا اقرار کرلیتا ہے۔ جیسے قسم اٹھا لے کہ اگر میں نے فلاں چیز کھائی تو وہ میرے لئے خنزیر جیسی حرام ہے۔ یہ چیز قسم کے دائرہ میں آتی ہے اور اس کا ذکر اگلی آیت میں آ رہا ہے بہرحال اگر کسی شخص نے کسی حلال چیز کو استعمال نہ کرنے کی قسم اٹھائی ہے تو اسے چاہئے کہ وہ اپنی قسم توڑ دے اور اس کا کفارہ ادا کرے اور اگر قسم نہیں اٹھائی ویسے ہی کوئی بیہودہ بات کہ دی ہے تو اسے توبہ کرنے کا حکم دیا جائے گا ، کفارہ نہیں ادا کرنا پڑے گا ، قسم کے الفاظ صریح ہوں یا ان سے قسم کا مطلب نکلتا ہو ، تب بھی کفارہ ادا کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ سورة تحریم میں اس کی مثال موجود ہے ، حضور ﷺ نے شہد کے متعلق فرمایا دیا تھا کہ میں اسے استعمال نہیں کروں گا۔ تو اللہ تعالیٰ کا حکم آ گیا ” یا یھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک “ آپ ایسی چیز کو اپنے اوپر کیوں حرام قرار دیتے ہیں جو اللہ نے آپ کے لئے حلال قرار دی ہے اور پھر ساتھ ہی فرمایا قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم ۔ اللہ نے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کردیا ہے۔ لہٰذا طیب چیزوں کو استعمال کر اور قسم کا کفارہ ادا کرو۔
رہبانیت یا بدعت
حلت و حرمت کی تیسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی حلال چیز کو کار ثواب سمجھ کر ترک کر دے اور سمجھے کہ ایسا کرنے سے تقرب الٰہی حاصل ہوگا تو اس کو رہبانیت اور بدعت کہا جاتا ہے اور اس کا خلاف کرنا ضروری ہوجاتا ہے کیونکہ لا رہبانیۃ فی الاسلام اسلام میں رہبانیت کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ رہبانیت کی مثالی صورت یہ ہے کہ کوئی کار ثواب سمجھ کر یا اللہ کا قرب حاصل کرنے کی خاطر نکاح کرنے سے انکار کر دے یا کھانا پینا چھوڑ دے یا اچھا لباس پہننے سے انکار کر دے ، یہ سب رہبانیت کے دائرہ میں آتا ہے اور اسلام نے اس کی اجازت نہیں دی۔ بلکہ مکی مذمت آئی ہے۔
ہاں ترک حلال کی جائز صورت یہ ہے کہ انسان کسی چیز کے ترک کو ثواب سمجھے بغیر کسی جسمانی یا روحانی بیماری کے علاج کے لئے ایسا کرے۔ بعض آدمی بعض سبزیاں نہیں کھاتے کہ جسمانی طور پر ان کے لئے مضر ہوتی ہیں بعض لوگوں کو گائے کا گوشت موافق نہیں آتا۔ بعض بیماریوں میں گھی اور دودھ کا استعمال مضر صح ہوتا ہے ، لہٰذا ان چیزوں کو ترک کردیا جاتا ہے مگر ثواب یا تقرب الی اللہ کے لئے نہیں بلکہ طبی نقطہ نظر سے ایسا کیا جاتا ہے اسی طرح بعض روحانی بیماریوں کے لئے بھی بعض حلال چیزوں کو ترک کردیا جاتا ہے۔ بزرگان دین جو اس قسم کے علاج تجویز کرتے ہیں۔ وہ جائز ہے اور اس سے قسم لازم نہیں آتی۔ بعض اوقات بزرگ عبادت میں انہماک کے لئے قلت طعام تجویز کرتے ہیں مگر نہ تو وہ طعام کو حرام سمجھتے ہیں اور نہ کم کھانے کو کار ثواب میں داخل کرتے ہیں۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ اس معاملہ میں بزرگان دین نے جو طریقہ اختیار کیا۔ اسے اس تیسری صورت پر محمول کرنا چاہئے ۔ یہ بدعت نہیں بلکہ روحانی علاج ہے کہ انسان کھانا کم کر دے یا سادہ لباس پہننے لگے۔
سادہ اور عمدہ لباس
شیخ عبدالقادر جیلانی کا معمول تھا کہ وہ سادہ لباس پہنتے تھے۔ خواجہ معین الدین اجمیری بھی سادہ لباس کو پسند کرتے تھے۔ خلیفۃ المسلمین حضرت عمر بن عبدالعزیز شہزادگی کے زمانے میں پانچ پانچ سو درہم کا کرتہ یا چادر استعمال کرتے تھے مگر جب مسند خلافت پر متمکن ہوئے تو آپ کا لباس صرف دو درہم مالیت کا ہوتا تھا۔ لباس کے متعلق بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے البسوا ما شئتم تم جیسا چاہو لباس پہنو مالم یکن فحیلۃ ولا سرف ۔ مگر وہ تکبر اور اسراف والا نہیں ہونا چاہئے۔ بعض صحابہ کرام پشمینہ جیسا قیمتی لباس زیب تن کرتے تھے ، پشمینہ ریشم سے ملتا جلتا کپڑا ہے مگر ریشم نہیں ۔ ریشم مردوں کے لئے قطعی حرام ہے امام ابوحنیفہ اور آپ کے شاگرد امام محمد بہت قیمتی لباس پہنتے تھے۔ ہمارے بزرگوں میں مولانا اشرفعلی تھانوی عمدہ لباس پہنتے تھے ، البتہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی اور مولانا حسین احمد مدنی اسدہ اور معمولی لباس کو پسند فرماتے تھے۔ اچھا اور عمدہ لباس اگر حلال کمائی کا ہو اور اس میں تکبر اور اسراف نہ پایا جائے تو بالکل جائز ہے قرآن پاک میں موجود ہے۔ قل من حرم زینۃ اللہ التی اخرج لعبادہ و الطیبت من الرزق۔ “ (اعراف) اے پیغمبر آپ کہہ دیجیے کہ کس نے حرام کردیا ہے اللہ کی زینت کو جس کو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالا ہے۔ جائز زینت اختایر کرنا جائز ہے ، البتہ ناجائز زینت مکروہ اور حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جائز زینت اور پاکیزہ چیزوں کو حلال قرار دیا ہے۔ انہیں کھائو اور اس کا شکریہ ادا کرو۔ حد سے آگے نہ بڑھو۔ اسراف اور تبذیر سے پرہیز کرو۔
زہد کی تعریف
کسی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام قرار دے لینا زہد کی تعریف میں نہیں آتا۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے۔ لیست الزھادۃ فی الدین بتحریم الحلال ولا اضاعتی المال دنیا میں زہد اس چیز کا نام نہیں کہ کسی حلال چیز کو حرام قرار دیدیا جائے اور نہ مال کو ضائع کرنے کا نام ہے۔ ولکن الزھادۃیالدنیا ان لاتکون مما فی یدیک وثق ما فی ید اللہ زہد تو یہ ہے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ میں ہے اس پر زیادہ اعتماد نہ ہو اس چیز کی نسبت جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اپنی چیز کو فانی سمجھو۔ کوئی چیز پائیدار نہیں۔ جو چیز اللہ کے پاس ہے وہی مستقل ہے۔ اسی نظریے کا نام زہد ہے۔ بہرحال فرمایا اے ایمان والو ! نہ حرام کرو وہ پاکیزہ چیزیں جو اللہ نے تمہارے لئے حلال قرار دی ہیں اور نہ حد سے بڑھو کیونکہ یہ چیز اللہ کو ہرگز پسند نہیں۔
حلال اور پاک روزی
آگے فرمایا وکالوا مما رزقکم اللہ حلا طیب ۔ اور کھائو اللہ نے تمہیں جو روزی دی ہے بشرطیکہ وہ حلال بھی ہو اور پاک بھی ہو۔ حلال چیز وہ ہے جسے شریعت نے حرام قرار نہیں دیا اور طیب اس لحاظ سے کہ طبع انسانی اس کی طرف مائل ہوتی ہے ، کھانا عمدہ لذیذ اور مرغوب ہو تو انسانی طبیعت خود بخود اس کی طرف مائل ہوجاتی ہے ، یہی اس کی پاکیزگی کی علامت ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ایسی چیز میں کسی کا حق متعلق نہ ہو بکری کا گوشت حلال اور طیب ہے اگر یہی گوشت کسی چوری یا غضب شدہ بکری کا ہے تو وہ پاک نہیں ہوگا۔ بکری کا گوشت صحیح ذبح کے ساتھ بالکل حلال ہے مگر جب تک حقدار کو اس کا حق یا اس کا بدلہ نہیں ادا ہوگا ایسا گوشت ناپاک رہے گا اور اس کا کھانا درست نہیں ہوگا۔
طیب چیز میں ظاہری پاکیزگی کا ہونا بھی لازم ہے۔ گندی اور خبیث چیز کا استعمال جائز نہیں۔ قرآن پاک میں سورة اعراف میں نبی کی ایک تعریف یہ بھی بیان کی گئی ہے۔ ” تحدلھم م المیت ویحد م علیھم و الخبئث “ وہ طیب چیزوں کو حلال اور خبیث چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے۔ اسی لئے محدثین اور فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ پکا ہوا سالن حلال اور طیب ہے لیکن اگر وہ گل سڑ جائے اور اس میں بدبو پیدا ہوجائے تو وہی سالن مکروہ تحریمی بن جائے گا کیونکہ وہ جسمانی صحت کے لئے مضر اور بیماری کا باعث ہوگا۔ اسی طرح سنکھیا یا زہر کے بارے میں فرمایا لھی عن الدوار الخبیث خبیث دوا کے استعمال سے منع فرمایا گیا ہے زہر ناپاک نہیں ہے مگر اپنے اثر کے اعتبار سے مہلک ہونے کی وجہ سے خبیث ہے اس کا استعمال جائز نہیں ینکھیا زہر اسی صورت میں استعمال ہو سکتا ہے جب کہ اس کا کشتہ کردیا ہو اور اس کی نہایت قلیل مقدار استعمال کی جائے۔
تقویٰ اختیار کرو
شریعت نے جو چیزیں حرام قرار دی ہیں ان میں کوئی نہ کوئی جسمانی خرابی ہے یا روحانی ، حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھنا ملت ابراہیمی کا اہم اصول ہے۔ اگر حلال کو حرام قرار دے دیا جائے تو مصلحت عامہ خراب ہو جائیگی۔ سوسائٹی پر اس کے برے اثرات مرتب ہوں گے۔ لہٰذا حلال چیزوں سے استفادہ کرنا چاہئے اور حرام چیزوں سے پرہیز لازم ہے اسی چیز کا نام تقویٰ ہے اور اس کے متعلق اللہ نے فرمایا واتقوا اللہ الذی انتم بہ مومنون اللہ سے ڈرتے رہو۔ اس اللہ سے جس کے متعلق ایمان رکھتے ہو کہ وہ ہمارا خالق اور مالک ہے۔ حلت و حرمت کا قانون اسی کے دائرہ اختیار میں ہے اس کے قانون کی پابندی میں تمہار ترقی کا راز مضمر ہے اور قانون کی خلاف ورزی تمہاری تنزلی کا پیش خیمہ ہے اس سے تمہاری دنیا اور عاقبت دونوں ضائع ہوجائیں گی۔
Ayah 5:89ملت و حزمت کا قانون
یہود و نصاریٰ کی مذمت بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے تحلیل و تحریم کا ذکر فرمایا۔ سورة کی ابتداء میں بھی کھانے پینے کی محرمات کا بیان تھا کسی حلال چیز کو حرار قرار دے لینے کی کئی ایک صورتیں ہیں۔ پہلی صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی حلال چیز کو اعتقاد اً حرام سمجھے۔ ایسی صورت میں وہ اسلام سے خارج ہو کر کفر میں چلا جائے گا۔ کیونکہ اس نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو از خود حرام قرار دے لیا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی حلال چیز کو دل سے تو حرام نہیں سمجھتا مگر زبان سے اسے حرام کہتا ہے آگے اس کی بھی دو شکلیں ہیں۔ اگر حلال چیز کو نیکی سمجھ کر حرام کہتا ہے یا تقرب الی اللہ کے لئے زبان سے حرام کہتا ہے تو یہ بدعت اور رہبانیت ہے ، اس کا ترک واجب ہے اور اگر ایسی چیز کو زبان سے اس طور پر حرام کہتا ہے کہ اس میں قسم کا معنی پایا جاتا ہے وہ قسم بلا ضروتر ہے تو یہ گناہ کی بات ہے ، چناچہ آج کے درس میں ایسی ہی قسم کے ازالے کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔ حلت و حرمت کی تیسری قسم بھی پہلے بیان ہوچکی ہے کہ اگر کوئی شخص جسمانی یا روحانی بیماری کے پرہیز کے طور پر کسی حلال چیز کو استعمال نہیں کرتا ، تو اس میں کوئی برئای نہیں اس کی اجازت ہے۔
جائز اور ناجائز قسم
بہرحال کسی حلال چیز کو از خود حرام قرار دے لینا درست نہیں ہے اگر اس میں قسم کا معنی پایا جاتا ہے تو ایسی قسم کا توڑنا ضروری ہوجاتا ہے اور اس کا کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے جس کا ذکر اس آیت کریمہ میں کہا گیا ہے ویسے بھی حضور ﷺ والسلام نے قسم کے متعلق یہ بات سمجھائی ہے کہ من حلف علی یومین فری غیر ھا خیراً منھا فلیات الذی ھو خیر ولب کفی عن یمینہ ۔ جو شخص کسی بات پر قسم اٹھا لیتا ہے پھر دیکھتا ہے کہ یہ بات تو اچھی نہیں ہے اس کے علاوہ دوسری بات اچھی ہے تو اسے وہ کام کرنا چاہئے جو بہتر ہے اور قسم توڑنے کا کفارہ ادا کردینا چاہئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں خود بھی کسی چیز پر قسم اٹھا لیتا ہوں مگر دیکھتا ہوں کہ دوسری بات بہتر ہے وکفات عن یمینی ۔ تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کردیتا ہوں یعنی ایسی قسم کو توڑ دیتا ہوں حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ کسی شخص کا قسم پر اصرار کرنا بہتر نہیں ہے اسے قسم توڑ کر اس کا کفارہ ادا کردینا چاہئے۔ ہاں اگر قسم کسی ایسی چیز پر اٹھائی ہے جس میں کوئی قباحت نہیں تو پھر قسم کو پورا کرنا چاہئے اور اگر وہ قسم معصیت سے متعلق ہے تو اسے فوراً توڑ کر کفارہ ادا کرے ایسی ہی معصیت کی قسم کے متعلق امام مالک اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ اسے توڑ دینے پر کفارہ ادا کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے مگر امام ابوحنیفہ اور امام احمد فرماتے ہیں کہ ایسی قسم کو توڑنا ضروری ہے کیونکہ وہ معصیت کی بات ہے البتہ اس کا کفارہ ادا کرنا پڑے گا۔ قسم اور اس کے متعلقات کا تذکرہ سورة بقرہ میں بھی ہوچکا ہے۔ تاہم یہاں پر اس کے کفارے کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔
قسم کی تین اقسام
قسم تین اقسام پر ہوتی ہے یعنی لغو ، غموس اور منعقدہ لغو کا معنی بیہودہ ہوتا ہے یعنی ایسی قسم جو بغیر ارادہ اور نیت کے زبان سے نکل جائے۔ عربوں کے ہاں یہ عام محاورہ تھا کہ وہ بات بات پر قسم اٹھاتے تھے لا واللہ بلی وللہ۔ حالانکہ ان کا دلی ارادہ قسم اٹھانے کا نہیں ہوتا تھا ، محض ان پر قسم کے الفاظ جاری ہوجاتے تھے۔ ایسی قسم پر نہ کوئی گرفت ہے اور نہ اس کا کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے۔ البتہ لغو ہی کی دوسری قسم عموس قابل مواخذہ ہے۔ البتہ اس پر کفارہ نہیں۔ اس قسم کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی گزرے ہوئے واقعہ کے متعلق جھوٹی قسم اٹھا جانے کہ زید آیا تھا۔ مگر فی الحقیقت وہ نہ آیا ہو۔ ایسی قسم میں جھوٹ کی وجہ سے گناہ سر زد ہوتا ہے اس لئے اسے یمین غموس کہتے ہیں کیونکہ غمس کا معنی گناہ میں غوطہ مارنے کا ہے۔
امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ اگر کسی نے شبہ کی بنا پر کوئی غلط قسم اٹھا لی تو وہ بھی لغو ہی شمار ہوگی۔ مثلاً کوئی شخص دور سے کوئی کالی چیز دیکھ کر کہتا ہے واللہ یہ تو انجن ہے مگر کچھ دیر بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ انجن نہیں بلکہ بھینس ہے۔ تو یہ بھی لغو ہے ، اشتباہ کی وج ہ سے ایسا ہوا ہے لہٰذا ایسی قسم پر بھی کوئی کفارہ نہیں۔ البتہ گزری ہوئی بات پر اگر کوئی شخص عمداً قسم اٹھا لے ، تو ایسا شخص گنہگار ہوگا مگر اس پر بھی کفارہ نہیں۔
لغو قسم کے متعلق سورة بقرہ میں بھی آیت گزر چکی ہے۔ ” لایواختکم اللہ بالغو فی ایمانکم ۔ اللہ تعالیٰ نہیں مواخذہ کرتا تمہاری لغوقسموں پر ” ولکن یواخذکم بما کسبت قلوبکم ۔ مگر ان قسموں پر مواخذہ ہے جو تم دل کے ارادے سے اٹھاتے ہو مواخذہ میں دنیاوی اور اخروی دونوں مواخذے شامل ہیں دنیاوی مواخذہ یہ ہے کہ قسم اٹھانے والے کو کفارہ ادا کرنا پڑتا ہے اور اخروی مواخذہ میں انسان گنہگار ہوجاتا ہے۔ بہرحال اس آیت میں بھی قسم کے متعلق ویسے ہی الفاظ ہیں لا یوا خذ کم اللہ باللغو فی ایمانکم ۔ یعنی اللہ تعالیٰ تم سے تمہاری بیہودہ قسموں کے متعلق مواخذہ نہیں کرتا۔ ولکن یواخذکم بما عقدتم الایمان۔ بلکہ ان قسموں پر مواخذہ کرتا ہے جو پختہ طریقے یعنی دل کے ارادے سے اٹھاتے ہو۔ قسم کی یہی قسم تیسری ہے جسے قسم منعقدہ کہا جاتا ہے۔ اس قسم کا تعلق مستقبل سے ہوتا ہے کہ کوئی شخص یوں قسم اٹھائے کہ میں آنے والے زمانہ میں فلاں کام کروں گا یا نہ کروں گا اگر ایسی قسم کسی جائز کام کے لئے ہے اور اس شخص نے قسم کو پورا کردیا تو اس پر کوئی گناہ نہیں اور اگر اس جائز قسم کو از خود توڑ دیا ہے تو اس کا کفارہ ادا کرن اہو گا ، جس کا ذکر آگے آ رہا ہے اور اگر یہی قسم کسی ناجائز کام کے لئے ہے تو اس کا توڑنا واجب ہوجاتا ہے۔ ایسی قسم کے کفارے کے متعلق امام مالک اور امام شافعی فرماتے ہیں کہ ضرورت نہیں ہے۔ البتہ امام ابوحنیفہ اور امام احمد فرماتے ہیں کہ قسم توڑنے کے ساتھ کفارہ بھی واجب ہوگا۔
کفارہ اطعام مساکین
ایسی ہی قسم کے کفارے کے متعلق ارشاد ہوتا ہے فکفارتہ اطعام عشرۃ مسکین۔ اس کا کفارہ دس مسکینوں اور محتاجوں کو کھانا کھلانا ہے ۔ من اوسط ما تطعمون اھلیکم ۔ درمیانے درجے کا کھانا جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو۔ مقصد یہ ہے کہ کھانا اوسط درجے کا ہو۔ نہ ایسا کم ترکہ بالکل خشک روٹی ہے اور نہ بہت اعلیٰ درجے کا جس میں کئی قسم کے کھانے ہوں۔ اوسط درجے میں عام روٹی سالن آسکتا ہے جو عام طور پر لوگ گھروں میں کھتاے ہیں۔ تاہم دس مسکینوں کو دو وقت کھانا کھلانا ہوگا خواہ گھر بلا کر کھلا دے یا ان کے ٹھکانے پر پہنچا دے ۔ اور مسکین میں وہ لوگ شمار ہوں گے جو زکواۃ کے مستحق ہوں۔ ان میں بلوغت کی شرط نہیں ہے۔ بالغ ہوں یا قریب البلوغ ان کو کھلانے سے کفارہ ادا ہوجائے گا۔ البتہ بہت چھوٹے بچے جو پورا کھانا نہیں کھا سکتے وہ ان میں شامل نہیں ہوں گے۔ کفارہ کی دوسری صورت یہ بھی ہے کہ کھانا پکاکر کھلانے کی بجائے ہر مسکین کو روزے کے فدیہ کے برابر اناج دے دے۔ اس لئے نصف صاع گندم یا ایک صاع کوئی دوسرا اناج دینا ہوگا۔ یعنی ا گر گندم دے تو دوسیر اور اگر کوئی دوسری جنس ہو تو چار سیر ادا کرے۔ حضور ﷺ کے فرمان کے مطابق اناج یا اس کی قیمت بھی ادا کی جاسکتی ہے یہ کفارے کی پہلی صورت ہے ۔
کپڑا پہنانا
کفارہ ادا کرنے کا دوسرا طریقہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا او کمسو تھم یا ان دس مساکین کو کپڑا پہنا دے۔ کپڑے کی مقدار کے متعلق فقہائے کرام اور محمد ثین عظام فرماتے ہیں کہ ہر مسکین کو اتنا کپڑا دینا چاہئے جس سے اس کا پورا جسم ڈھک جائے۔ مثلاً ایک بڑا کر نہ یا بڑی چادر دے دے تو کفارہ ادا ہوجائے گا۔ ایک بڑی شلوار سے بھی جسم کا اکثر حصہ ڈھک جاتا ہے ، لہٰذا یہ بھی دی جاسکتی ہے تاہم بہتر یہ ہے کہ ہر ایک کو ایک ایک جوڑا کپڑے دے دے جسے پہن کر آدمی با سہولت نماز ادا کرسکے۔
غلام کی آزادی
فرمایا قسم کے کفارے کی تیسری صورت یہ ہے او تحریم رقبۃ یا غلام آزاد کرنا ، دنیا میں غلامی کا رواج صدیوں پرانا ہے نزول قرآن کے زمانے میں بھی پوری دنیا میں موجود تھا۔ یہ شخصی غلامی ابھی گزشتہ صدی میں ختم ہوئی ہے البتہ اس کی جگہ اب اجتماعی غلامی نے لے لی ہے ۔ اب دنیا کی بڑی طاقتوں امریکہ روس اور انگریزوں نے پوری پوری قوموں اور ملکوں کو غلام بنا رکھا ہے۔ کافر قوموں نے بڑے بڑے ملکوں پر بزور قبضہ کر کے انہیں اپنی کالونیاں بنا لیا اور وہاں کے باشندوں کو اقتصادی لحاظ سے یا انسانی حقوق کی نسبت سے غلام بنا لیا ، نو آبادیات کے بادل اب بہت حد تک چھٹتے جا رہے ہیں تاہم کچھ عرصہ قبل تک حالت یہ تھی کہ ریل کے ڈبے میں گورا اور کالا اکٹھے سفر نہیں کرسکتے تھے۔ یہاں ہندوستان میں ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ اس غلامی کا دوسرا بڑا نشانہ جنوبی افریقہ ہے۔ جس میں گاندھی نے اس غی لامی کے خلاف بہت تحریک چلائی ۔ جب انگریزوں کے ڈبے میں بیٹھنا تھا تو وہ اس کا سامان باہر پھینک دیتے تھے اور وہ کئی کئی دن تک ریلوے سٹیشن پر پڑا رہتا تھا۔ آخر بڑی جدوجہد کے بعد اس نے انگریزوں سے کچھ حقوق منوائے اور کالے لوگ بھی انگریزوں کے ساتھ گاڑی میں سفر کرنے لگے۔
جب اسلام کا ظہور ہوا تو اس انٹرنیشنل رواج کی اصلاح کا حکم دیا گیا۔ غلاموں پر ظلم و ستم کو حرام قرار دیا گیا۔ فرمایا یہ بھی تمہارے بھائی ہیں ، کسی وجہ سے تمہارے زیر اثر آگئے ہیں۔ ان سے ہمدردی کا سلوک کرو جو خود کھاتے ہو انہیں بھی کھلائو اور جو خود پہنتے ہو انہیں بھی پہنائو۔
غلاموں سے زیادہ مشقت نہ لو۔ اگر کام مشکل ہو تو خود بھی ان کے ساتھ ہاتھ بٹائو یہ حضور ﷺ کی تعلیم کا اثر تھا کہ اسلام میں داخل ہو کر غلاموں نے بڑی بڑی خدمات انجام دیں۔ ان میں بڑے بڑے فقیہہ اور محدث پیدا ہوئے جنہیں نہایت احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا اسلام نے غلاموں کو نہ صرف ان کے حقوق دلانے بلکہ کما حقہ ، ان کی عزت افزائی بھی کی۔
چونکہ اسلام کی نظر میں غلامی ایک غیر فطری چیز ہے اس لئے اسلام نے مختلف طریقوں سے غلاموں کو آزاد کرنے کی ترغیب بھی دی۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ کسی غلام کو آزاد کرنے والے شخص کا ہر ہر عضو اس آزادی کے بدلے میں جہنم کی آگ سے آزاد ہوجائے گا۔ مختلف جنایات میں غلام کی آزادی کو کفارہ قرار دیا۔ چناچہ روزہ کھا جانے کا کفارہ ، قتل کے کفارہ میں مومن غلام کی آزادی کی شرط ہے ، دیگر جنایات میں مومن یا کافر ، بچہ یا بڑا ، عورت یا مرد کوئی بھی کفارہ کے طور پر آزاد کیا جاسکتا ہے۔ غرضیکہ قسم کے کفارہ کے متعلق فرمایا کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلائے یا انہیں کپا پہنائے یا ایک غلام آزاد کرے۔
تین روزے
کفارے کی تین صورتیں بیان کرنے کے بعد فرمایا فمن لم یجد جو شخص ان تین میں سے کوئی صورت نہ پائے ۔ یعنی نہ تو وہ کھانا کھلانے کی استطاعت رکھتا ہو اور نہ کپڑاپہنانے کی اور سا کے پاس غلام بھی نہ ہو جسے آزاد کرسکے تو فرمایا فمیام ثلثۃ ایام ۔ تو تین دن کے روزے رکھے۔ کفارہ ک یہ چوتھی صورت ہوئی۔ بشرطیکہ پہلی تین صورتوں میں سے کسی پر بھی قادر نہ ہو۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ، حضرت ابی ابن کعب اور عبداللہ بن مسعود کی روایت میں آتا ہے فصیام ثلثۃ ایام متابعہ اب یعنی یہ تین روزے متواتر رکھتا ہوں کے ان کے درمیان وقفہ نہیں ہونا چاہئے۔ رمضان کے روزوں کی قضا میں تو ایسی پابندی نہیں ہے۔ قضا روزے آمدہ سال تک کسی وقت بھی رکھے جاسکتے ہیں۔ رمضان کے روزے بعض اوقات سفر یا بیماری کی وجہ سے فضا ہوجاتے ہیں یا عورتوں کے حیض و نفاس کے دوران چھوٹ جاتے ہیں ، وہ پورے سال میں کسی بھی وقت رکھے جاسکتے ہیں۔ تاہم قسم کے کفارے کے روزے پے در پے رکھنا ضروری ہے فقہائے کرام یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے کفارے کے دو روزے رکھے اور اس کے بعد اس کے پاس اتنا مال آگیا جس سے وہ دس مسکینوں کو کھانا کھلا سکتا ہے یا کپڑا پہنا سکتا ہے یا ایک غلام آزاد کرسکتا ہے۔ تو روزوں سے کفارہ ادا نہیں ہوگا بلکہ اسے پہلی تین صورتوں میں سے کوئی ایک پوری کرنا ہوئی۔
قسموں کی حفاظت
فرمایا ذلک کفارۃ ایمانکم۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ البتہ یہ سوال باقی رہتا ہے کہ کفارہ قسم توڑنے سے پہلے ادا کرنا چاہئے۔ بعد میں امام شافعی فرماتے ہیں کہ کفارہ قسم توڑنے سے پہلے بھی ادا کیا جاسکتا ہے مگر امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ پہلے قسم توڑے اس کے بعد کفارہ ادا کرے۔ تو فرمایا یہ کفارہ ہے تمہاری قسموں کا ازالہ اذا خلقتء جب تم قسم اٹھا بیٹھو۔ واحفظوا ایمانکم اور اپنی قسموں کی حفاظت کرو۔ یعنی قسم اٹھانا کوئی اچھی بات نہیں ہے ، اس سے بچنے کی کوشش کرو اور اگر کسی معاملہ میں گواہ موجود نہ ہوں اور قسم کے بغیر چارہ نہ ہو تو پھر اس کی اجازت بھی ہے اور اس کا پورا کرنا بھی ضروری ہے۔ اگر قسم اٹھا کر توڑ دی جائے تو اس کو کفارہ کی ادائیگی لازم ہو جئاے گی۔ قسم کی حفاظت کا یہ مطلب ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی خیال رہے کہ قسم صرف اللہ کے نام کی کھائی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ کسی دوسرے کے نام کی قسم درست نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو آدمی قسم اٹھاتا۔ اس کے پاس دلیل نہیں ہوتی اور نہ دو گواہ پیش کرسکتا ہے۔ لہٰذا فریق ثانی کو یقین دلانے کے لئے قسم اٹھاتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب و الشہادت کا نام لے کر یا اس کی کوئی صفت بیان کر کے بات کرتا ہے کہ اگر وہ غلط بیانی کرتا ہے تو اس اللہ تعالیٰ کی سزا سے نہیں بچ سکے گا جو ہر چیز کو جانتا ہے۔
فرمایا کذلک یبین اللہ لکم ایت ۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ بیان کرتا ہے تمہارے لئے اپنی آیتیں۔ آیت کا معنی ، دلیل نشانی معجزہ یا حکم ہوتا ہے۔ یہاں پر حلت و حرمت کے احکام مراد ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں واضح طور پر بیان فرما دیا ہے کہ کون کون سی چیز حلال ہے اور کونسی حرام ہے۔ لعلکم تشکرون۔ تاکہ تم اللہ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرسکو ، اس نے تمہیں جہالت سے نکال کر واضح راستہ بنا دیا ہے کہ فلاں فلاں مشکل کا فلاں فلاں حل ہے۔ ان احکام کے ذریعے تم گناہ سے بچ سکتے ہو اور اپنے آپ کو پاک کرسکتے ہو لہٰذا ان احکام پر عمل کر کے اللہ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو۔
کھانے پینے کی چیزوں کی حلت و حرمت کا ذکر اس سورة میں خاص طور پر کیا گیا ہے۔ سابقہ سورتوں میں خون ، مردار ، خنزیر کے گوشت اور نذر بغر اللہ کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ تحلیل و تحریم کی بعض چیزوں کا ذکر یہاں بھی آ گیا ہے۔ اس کے بعد اگلی آیت میں بعض دیگر محرمات کا ذکر آ رہا ہے۔