Ayah 5:12ایفائے عہد
سورۃ کی پہلی آیت میں ہی ایفائے عہد کی تلقین کی گئی تھی یا یھا الذین امنوآ افوا بالعقود “ یعنی اے ایمان والو ! اپنے عہد و پیمان کو پورا کرو۔ اس کے بعد دیگر آیات میں بھی اللہ تعالیٰ نے پابندی عہد کا حکم دیا ہے اور پھر اہل اسلام کو فرمایا کہ یہ ایفائے عہد کا قانون صرف تمہارے لیے ہی نہیں ہے بلکہ یہ قانون بنی اسرائیل پر بھی نافذ تھا اور ان کو بھی عہد و پیمان کا پابند کیا گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” واو فو بالعھد ان العھد کان مسئولا عہد کو پورا کرو کیونکہ اس کے متعلق باز پرس ہوگی۔ ایفائے عہد انسانی سوسائٹی کی ترقی کے لیے ضروری ہے ۔ عہد و پیمان اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ ہو یعنی حقوق اللہ ہوں یا انسانوں کے حقوق العباد ان سب کی وفا بہر طور ضروری ہے۔
ہر مومن جو ایمان قبول کرتا ہے ‘ وہ اللہ تعالیٰ سے اپنے مومن ہونے اور اس کے احکام کی تعمیل کا وعدہ کرتا ہے۔ میاں بیوی میں نکاح کی صورت میں بعض شرائط پر عہد و پیمان کرتے ہیں اور دونوں اپنے اپنے حقوق و فرائض کی ادائیگی کا ذمہ لیتے ہیں دو افراد میں کسی معاملہ میں شراکت کا معاہد ہ ہو تو اسے بھی پورا کرنا لازم ہے ۔ اسی طرح دو ملکوں کے درمیان کوئی معاہدہ ہوجائے تو دو نوں کا فرض ہے کہ اس کی پابندی کریں۔ کیونکہ عہد شکنی منافق کی نشانی ہے اذا عہد غدر جب وہ کسی سے عہد کرتا ہے تو غداری کرتا ہے مگر مومن کی صفت یہ ہے کہ جب عہد کرے تو اسے پورا کرے
بنی اسرائیل سے عہد
گذشتہ آیات میں اہل اسلام کو ایفائے عہد کی تلقین ہوتی رہی ہے اب فرمایا ‘ دیکھو ! ولقد اخذنا میثاق بنی اسرآء یل بیشک ہم نے بنی اسرائیل سے بھی عہد و پیمان لیا اور ان عہدوں کی نوعیت مختلف ممتی۔ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل سے اس بات کا عہد لیا لاتعبدون الا للہ کہ تم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہیں کرو گے۔ اور والدین ‘ اقرباء یتیمیوں اور مسکینوں کے ساتھ احسان کرو گے اور نماز قائم کرو گے ‘ اور زکوۃ اداکرو گے۔ پھر یہ بھی ان سے عہد لیا ‘ لا تسفکون دمائکم “ کہ تم آپس میں خونریزی نہیں کرو گے۔ اور ایک دوسرے کو بےوطن نہیں کرو گے۔ سورة بقرہ میں طور پہاڑ ان کے سروں پر معلق کر کے اللہ کی کتاب پر عمل کرنے کے عہد کا ذکر آتا ہے پھر سورة آل عمران میں اللہ کی کتاب تورات کے متعلق عہد کا تذکرہ ہے۔ لتبیننہ للناس ولا تکتمونہ کہ تم اس کے احکام کو لوگوں کے سامنے بیا ن کرو گے اور انہیں چھپا ئو گے نہیں۔
بہر حال یہاں پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے عہد و کی مثال بیان کر کے اہل ایمان کو یاد دلایا ہے کہ جس طرح ان کے لیے عہد و پیمان کا ایفا ضروری تھا ‘ اسی طرح تمہارے لیے بھی ضرور ی ہے اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق سے کیے گئے عہد و پیمان کو پورا کرو۔
بارہ نقیب
ارشاد ہوتا ہے ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسراء یل اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا وبعثنا منھم۔۔۔ اور ہم نے ان میں سے بارہ نقیب مقرر کئے۔ چونکہ بنی اسرائیل بارہ خاندانوں پر مشتمل تھے ‘ لہذا ہر خاندان کے لیے ایک نقیب مقرر کیا گیا۔ نقب سوراخ کو کہتے ہیں اور تنصیب کا معنی کر دیدنا ‘ دیکھ بھال کرنا ‘ حفاظت اور نگرانی کرنا ہوتا ہے ‘ اسی لیے نقیب سردار یا سر کردہ آدمی کے لیے بولاجاتا ہے ‘ کیونکہ وہ اپنے خاندان ‘ قبیلے یا گروہ کا سربراہ محافظ یا نگران ہوتا ہے۔ طلبا کے مانیٹر کے لیے بھی نقیب کا لفظ بولا جاتا ہے کہ وہ جماعت کی دیکھ بھال یا نگرانی کرتا ہے ۔ یہاں جس عہد کا ذکر کیا جارہا ہے ‘ یہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وساطت سے لیا تھا اور اس کا خلاصہ آگے آرہا ہے۔
جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لیے بارہ نقیب مقرر کیے تھے اسی طرح حضور نبی کریم (علیہ السلام) نے بھی انصار مدینہ کے بارہ نقیب مقرر کیے تھے۔ ہجرت مدینہ سے پہلے مدینہ کے دو عظیم خاندانوں اوس درخزر ج نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ جب وہ لوگ اسلام قبول کرنے کے لیے مکہ مکرمہ حضور ﷺ کی خدمت میں آئے تو آپ نے ان کے معاملات کی دیکھ بھال اور مکہ سے رابطہ قائم رکھنے کے لیے بارہ نقیب مقرر کیے تھے اور قبیلہ اوس سے تین۔ یہ لوگ مدینہ میں اسلام کی تبلیغ کرتے تھے اور مسلمانوں کی طرف سے تعمیل احکام کی نگرانی کرتے تھے۔ جب کسی معاملہ میں ہدایات کی ضرورت محسوس کرتے تو نبی ﷺ سے حاصل کرتے۔
معیت خدا
بہرحال اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا اور بارہ نقیب مقرر فرمائے وقال اللہ انی معکم اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمہارے ساتھ ہوں یعنی اگر تم نے عہد کی پابندی اختیار کی تو میری شفقت اور مہربانی تمہارے شامل حال ہوگی۔ تمہیں بلند درجات نصیب ہوں گے اور تم فلاح پاجائو گے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان انی معکم بہت بڑی قدرو قیمت رکھتا ہے یہاں کوئی معمولی تھا نیدار کسی کو کہ دے کر فکر نہ کرنا میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تو اس کی بھی بڑی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ کسی کی پشت پر گورنر ہو یا صدر مملکت کسی کو امداد کی تسلی دے دے تو یہ متعلقہ شخص کے لیے بہت بڑی بات ہوتی ہے مگر یہی بات شہنشاہ مطلق اور مالک الملک فرمادے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں تو پھر کس چیز کی کمی رہ جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے اپنی معیست کا وعدہ کیا مگر یہ قوم اپنے عہد و پیمان پر قائم نہ رہ سکی ‘ جس کی وجہ سے اللہ کے ہاں مغضوب علیہ ٹھہری۔
اس قسم کی معیست کی کئی ایک مثالیں قرآن پاک میں ملتی ہیں۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر نکل کھڑے ہوئے تو آگے سمندر آگیا اور پیچھے فرعون کی فوج آرہی تھی۔ قوم سخت پریشان ہوگئی تو اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا گھبرائو نہیں ” ان معی ربی “ بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے۔ ہجرت کی ابتدا میں جب حضور ﷺ اور صدیق اکبر ؓ پر گھراہٹ کی کیفیت طاری ہوئی تو حضور ﷺ نے یہی فرمایا تھا لا تحزن ان اللہ معنا یعنی گھبرائو نہیں بیشک اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہے۔ ہم اسی کے حکم سے نکلے ہیں اور اس کی تائید و نصرت ہمارے شامل حال ہے وہ خود ہماری حفاظت فرمائیگا۔ حضور ﷺ کے صحابہ کرام ؓ جیسے باعمل لوگوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا واللہ مع المئومنین اللہ تعالیٰ مومنوں کے ساتھ ہے ۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے معسیت کا وعدہ اس وقت تھا جب لوگ اس پر خلوص دل سے ایمان رکھتے تھے اور خلوص نیت سے اس کے احکام پر عمل کرتے تھے ‘ مگر آج وہ چیز کہاں ہے جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی نصر ت شامل حا ل ہوتی ہے۔ جب مخلوق اپنے عہد پر قائم نہیں رہی تو اللہ کی تائید و حمایت کیسے حاصل ہوگی۔ وہ ہمارے تمام امور کو جانتا ہے ہمارے اعمال کو دیکھ رہا ہے اور ہماری نیت اور ارادے تک سے واقف ہے لہذا اس کی معسیت اسی وقت حاصل ہوگی جب ہم خلوص نیت کے ساتھ اس کے احکام کی تعمیل پر کمر بستہ ہوجائیں گے۔
نماز اور زکوۃ
آگے اللہ تعالیٰ وہ شرائط بیان فرما رہے ہیں جن کو پورا کرنے سے اللہ تعالیٰ کی معسیت نصیب ہو سکتی ہے ارشاد ہے۔ لئن اقمتم الصلوۃ اگر تم نے نماز اور زکوۃ اہم ترین ارکان اسلام ہیں۔ قرآن پاک میں ان دو چیزوں پر مداومت کی بار با تاکید کی گئی ہے ۔ مسلمانوں کے گروہ میں شامل ہو نیکی یہ دو ظاہری علامات ہیں۔ نماز بدنی عبادت ہے اور اس کا تعلق حقوق اللہ سے ہے۔ زکوۃ مالی عبادت ہے اور اس کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔ نماز میں طہارت اور اخبات کی صفات پائی جاتی ہیں کیونکہ طہارت کے بغیر نماز ادا نہیں ہو سکتی اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کے اظہار کا یہ بہترین ذریعہ ہے۔ زکوۃ کے عمل میں سماحت کی صفت پائی جاتی ہے۔ زکوۃ دینے والا شخص فیاض ‘ غریب پروری اور بنی نوع انسان سے ہمدردی کی صفات سے متصف ہوتا ہے ‘ امام شاہ ولی اللہ دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ زکوۃ کے ذریعے انسان میں دو اعلیٰ اخلاق پیدا ہوتے ہیں ایک بنی نوع انسان سے ہمدردی اور دوسرے اپنی ذات سے بخل کی بیخ کنی۔ مال خرچ کرنے والا شخص بخیل نہیں ہوگا۔ بخل بہت بری بیماری ہے جس کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد مبارک 1 ؎ ہے ای داع ادوء من البخل یعنی کنجوسی سے زیادہ بری بیماری کون سی ہو سکتی ہے۔
ایمان بالرسل
فرمایا اگر تم نماز ادا کرتے رہے اور زکوۃ دیتے رہے وامنتم برسلی اور میرے رسولوں پر ایمان لائے۔ اس آیت کریمہ میں نماز اور زکوۃ کو پہلے بیان کیا ہے اور ایمان کا تذکرہ بعد میں ‘ حالانکہ ایمان ہی ہر عمل کی بنیاد ہے اور اس کا تذکرہ پہلے ہونا چاہیے تھا۔ مگر یہاں پر بات یہ سمجھائی جارہی ہے کہ نماز اور زکوۃ کا اس وقت تک کچھ فائدہ نہیں جب تک ایمان درست نہیں ہے یہ بھی ایک طرز بیان ہے ۔ کہ ایمان میں زور پیدا کرنے کے لیے اس کو بعد میں ذکر کیا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے ۔ کہ نیکی کی قدرو قیمت ایمان کے ساتھ ہے۔ جو شخص صحیح ایمان سے محروم ہے اس کی لمبی لمبی نمازیں ‘ صدقہ و خیرات اور نیکی کے دیگر امور عبث محض ہیں۔ ایمان کے بغیر فلاح حاصل نہیں ہوسکتی ۔
فرمایا میرے رسولوں پر صرف زبانی ایمان لانا کافی نہیں۔ بلکہ ایمان کے ساتھ ساتھ اگر وعزرتموھم تم ان کی تائید کرو گے۔ رسولوں
اے مسند احمد 308/90 وکنزالعمال 357/ج 3 (فیاض)
کی لائی ہوئی شریعت کی تقویت کا باعث بنو گے تعزیر کا لفظ بھی اس سے ہے۔ مجرموں پر جو تعزیر لگائی جاتی ہے اس کا معنی بھی یہی ہے کہ اس کے ذریعے جرائم کی روک تھام کرنے والے ادارہ میں قوت پیدا ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے جرائم کے سد باب میں مدد ملتی ہے۔ تو فرمایا اگر تم دین کے احکام پر عمل پیرا رہے اور تمام امور نبی کے احکام کے مطابق انجام دیے تو پھر اس کا صلہ آگے بیان ہو رہا ہے۔
قرض حسن
فرمایا واقرضتم اللہ قرضا حسنا اور اگر تم اللہ کو قرض حسن دو گے۔ اللہ کو قرض دینے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی خوشنودی کے لیے غربا و مساکین پر خرچ کیا جائے ان کو صدقہ و خیرات دی جائے زکوۃ کا حکم چونکہ پہلے بیان ہوچکا ہے لہذا اس قرض حسن سے مراد نفلی صدقہ خیرات ہوگا جو خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر مستحقین میں تقسیم کیا جائے۔ قرض حسن وہ ہے جو خالص نیک نیتی کے ساتھ دیاجائے اور اس میں نہ کوئی ریاکاری ہو اور نہ اس سے کوئی دوسرا مفاد حاصل کرنا مقصود ہو جو شخص اللہ کے حکم کے مطابق قرض حسن دیتا ہے اسے یقین ہوتا ہے کہ اس کا مال محفوظ ہے اور اسے اللہ تعالیٰ آخرت میں ضرور لوٹا دیں گے ‘ لہذا اسے قرض حسن کہا گیا ہے قرضف حسن اسے بھی کہتے ہیں جو کوئی شخص کسی حاجت مند کو مقررہ مدت کے لیے کوئی رقم ادھار دے دے اور اس کے ساتھ کوئی سود یا دیگر مفاد حاصل نہ کرے۔ اس قرض کے لیے بھی طرفین کی طرف سے خلوص نیت کی ضرورت ہے۔ قرض دینے والا محض اللہ کی رضا کی خاطر اپنے بھائی کی مدد کرے تاکہ ضرورت پور ی کرنے کے بعد وہ رقم واپس کردے ۔ اگر قرض خواہ کی نیت میں ذرہ بھی فتور ہوگا اور وہ قرض دے کر احسان جتلائیگا یا کوئی چھوٹا موٹا مفاد حاصل کر نیکی کوشش کریگا تو وہ قرض حسن نہیں ہوگا اسی طرح مقروض کے لیے بھی لازم ہے کہ وہ قرض لیتے وقت خلوص نیت سے مقرر ہ مدت میں قرضہ کی واپسی کا ارادہ کرے اور پھر واپسی میں کسی قسم کا پس و پیش نہ کرے۔ اگر مقروض و اقعی مجبور ہے اور وقت مقررہ پر قرض واپس کرنے پر قادر نہیں تو قرض خواہ کو چاہیے کہ ” فنظرۃ الی میسرۃ “ کے مصداق اسے مزیدمہلت دے اور اگر مقروض زیادہ ہی نادار ہے تو قرض کا کچھ حصہ یا سارے کا سارا بھی معاف کردے تو اللہ تعالیٰ سے اجر عظیم کا مستحق قرار پائیگا۔
زمانہ حال میں تو قرض حسن کا تصور ہی ختم ہوچکا ہے۔ مادہ پرستی کے اس دور میں ہر شخص اپنے مفاد کو دیکھتا ہے اور ہر وقت دولت جمع کر نیکی فکر میں رہتا ہے وہ کسی کو قرض حسن کیسے اد اکرے گا ۔ اسی طرح جو شخص قرض تو حاصل کرتا ہے مگر اس کی نیت میں فتور ہے اور واپسی کا ارادہ نہیں رکھتا اور مقررہ وقت پر ٹال مٹول کرتا ہے تو یہ بہت بڑا ظلم ہے۔ اسی لیے کوئی آدمی قرض حسن دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ کیونکہ اسے واپسی کا یقین نہیں ہوتا۔ غرضیکہ دونوں طرف کی مفاد پرستی کی وجہ سے قرض حسن کا نظام ہی ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے اسے بہت بڑا عمل شمار کیا ہے۔ اور اسے نماز زکوۃ اور ایمان بالرسل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔
بہتر صلہ
فرمایا اگر تم متذکرہ امور پر عمل پیرا ہو گے اس کا صلہ یہ ہے لاکفرن عنکم سیا تکم میں تمہارے گناہوں کو مٹادوں گا ‘ تمہاری خطائوں سے در گذر کروں گا جس کا نتیجہ یہ ہوگا ولا دخلنکم جنت تمہیں جنتوں میں داخل کروں گا ‘ ایسے باغات تجری من تحتھا الا نھر جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ تمہارا ٹھکانا ایسے اعلیٰ مقامات میں ہوگا مگر یہ بھی یادرکھو فمن کفر بعد ذلک منکم ان احکام پر عملدرآمد کرنے کے عہد کے بعد جس شخص نے انکار کیا۔ فقد ضل سو آ ء السبیل وہ سیدھے راستے سے بہک گیا۔
اب انکار کی بھی مختلف شکلیں ہوتی ہیں۔ اگر متذکرہ احکام پر ایمان ہی باقی نہیں رہا۔ تو ایسا شخص بلاشبہ کافر ہوگیا۔ اور زبان سے تعمیل احکام کا اقرار کرتا ہے مگر عملاً انکار کرتا ہے ‘ تو پھر کفر کے درجے کو تو نہیں پہنچا مگر ناشکر گزاروں میں ضرور داخل ہوگیا۔ اسی لیے تو اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے فان الانسان کفور یعنی انسان عام طور پر ناشکر گزارہی ہوتے ہیں۔
بہر حال فرمایا کہ ایسا شخص سیدھے راستے سے بھٹک گیا ‘ کیونکہ سیدھا راستہ تو ایمان اور نیکی کا راستہ ہے ‘ صراط مستقیم اس شخص کو حاصل ہے جو انبیاء (علیہم السلام) پر ایمان رکھتا ہے۔ ان کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق عبادت کا التزام کرتا ہے۔ بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردانہ سلوک روا رکھتا ہے اور اپنے عہد کا پابند ہے۔ اسی کے متعلق فرمایا ان ھذا صراطی مستقیما “ میری رحمت کے مقام تک پہنچنے کا یہی صراط مستقیم ہے۔ جو اس راستے پر چلے گا ‘ وہ کامیاب ہوگا جو اس راستے سے بھٹک گیا وہ جہنم میں پہنچے گا۔ اللہ تعالیٰ نے عہد و پیمان کی بات بنی اسرائیل سے شروع کر کے یہی بات آخری امت کے لوگوں کو بھی سمجھائی ہے کہ جس طرح عہد و پیمان کی پابندی بنی اسرائیل پر لازم تھی ‘ اسی طرح تم بھی عہد و پیمان اور تمام احکام بجا لانے کے پابند ہو۔
Ayahs 5:13–14ربط آیات
ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو ایفائے عہد کی تلقین کی تھی وافو بالعقود اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ عہد صرف تمہیں سے نہیں لیا گیا بلکہ تم سے پہلے بنی اسرائیل سے بھی عہد لیے گئے پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے توسط سے ان میں سے بارہ نقیب مقرر کیے گئے بنی اسرائیل کے بارہ خاندانوں کے لیے ایک ایک نقیب تھا جو اپنے قبیلے کی نگرانی اور حفاظت کا ذمہ دار تھا۔ اللہ نے ان لوگوں سے فرمایا کہ میری مدد تمہارے ساتھ ہوگی اگر تم نماز قائم کرتے رہو کے زکوۃ ادا کرتے رہو گے رسولوں پر ایمان لائو گے اور ان کی تاکید کرتے رہو گے۔ پھر اللہ کو قرض حسن دو گے یعنی محتاجوں پر خرچ کرتے رہو گے اگر ایسا کرتے رہو گے تو میں تمہاری خطا میں معاف کر دوں گا اور تمہیں باغات میں داخل کردوں گا ‘ مگر جس نے کفر کا راستہ اختیار کیا تو یقین جانو کہ وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔ بہر حال اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا تذکرہ کر کے اہل ایمان کو سمجھا دیا کہ عہد و پیمان کو پورا کرنا لازمی ہے ۔ ورنہ انسان گمراہ ہوجاتے ہیں۔
نقض عہد پر لعنت
آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اس سزا کا ذکر کیا ہے جو بنی اسرائیل کو عہد توڑنے کی وجہ سے دی گئی ۔ اس جرم کی سزا نہ صردنیا میں دی گئی بلکہ انہیں آخرت میں بھی سزا ملیگی۔ ارشاد ہوتا ہے فبم نقضھم میثاقھم پس بوجہ ان لوگوں کے تو ڑ دینے اپنے پختہ عہد کو۔ یہاں مازائد ہے اور یہ تاکید کے لیے آتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو سخت تاکید کی گئی تھی کہ وہ اپنے عہد کو پورا کریں مگر بوجہ ان کے اس عہدکو توڑ ڈالنے کے لعنھم اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ہم نے ان پر لعنت کی حسنت کا معنی دھکیل دینا یا دور کردینا ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اپنی رحمت ومہربانی سے دور کردیا۔ یہ وہی دور ہی یا لعنت ہے جو شیستان کے حصے میں ہمیشہ کے لیے آگئی ہے۔ اس نے اللہ تعالیٰ کے سامنے تکبر کا اظہار کیا تو اللہ نے اسے دائمی طعون قرار دیا ‘ اسی طرح بنی اسرائیل نے عہد شکنی کی تو اللہ نے انہیں بھی مستحق لعنت ٹھہرایا۔
سنگ دلی
فرمایا لعنت کے علاوہ وجعلنا قلوبھم ۔۔ سزا کے طور پر ہم نے ان کے دل سخت کردیے۔ سنگدلی میں خدا تعالیٰ کی طرف سے عذاب ہے ‘ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے۔
خدا تعالیٰ سے دور ہونے والی چیزوں میں سب سے زیادہ دور سخت دل لوگ ہیں تو فرمایا کہ بنی اسرائیل کو سنگدل بنادیا گیا۔ جب دل سخت ہوجائیں ۔ تو فہم بھی معکوس ہوجاتے ہیں ‘ ایسے لوگوں کی سمجھ اور فکر حزاب ہوجاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے ۔ یحرفون الکلم عن مواضعہ وہ اللہ کے کلام کو اپنے مقام سے پھر دیتے ہیں۔ یعنی اصل احکام میں تحریف کردیتے ہیں ‘ دو بدل کے مرتکب ہوتے ہیں۔ گو یا عہد شکنی کی وجہ سے پہلے ان پر لعنت ہوئی ‘ پھر ان کے دل سخت ہوئے اور آخر میں انہوں نے اللہ کے کلام کو ہی بدل ڈالا یہ سب عہد شکنی کی سزا تھی۔
تحریف لفظی و معنوی
یہودی و نصاری کی کار گزاری کا تذکرہ اگلی آیات میں آرہا ہے ‘ تاہم یہودیوں نے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں بہت زیادہ تحریف کی۔ یہ ان کی عادت قدیمہ ہے کہ وہ اللہ کی کتاب میں تبدیلیاں کرکے اسے بگاڑ تے رہتے ہیں۔ اور اب صورت حال یہ ہوگئی ہے کہ اصل کتابوں کا حصہ بہت کم رہ گیا ہے۔ اور بگاڑ والی خو د ساختہ چیزیں ان میں داخل ہوچکی ہیں۔ ان کتابوں میں اب صریح کفر و شرک ‘ اور بےحیائی اور بد اخلاقی جیسی قبیح چیزیں موجود ہیں۔ انہوں نے انبیاء (علیہم السلام) کے متعلق نہایت ناروا باتیں درج کردی ہیں حالانکہ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ن ان انبیاء کی عصمت کا بار بار ذکر کیا ہے۔ ان بدبختوں نے تحریف کے ذریعے اللہ کے پاک نبیوں کے کردار کو بھی داغدار کرنے کی کوشش کی ہے۔
تحریف دو قسم کی ہوتی ہے یعنی لفظی اور معنوی انجیل میں تحریف لفظی کی گئی جس کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ سریانی انجیل میں فارقلیط کا لفظ موجود ہے اور اس کا معنی احمد ہے۔ یہ بنی آخر الزمان (علیہ السلام) کی آمد کی بشارت تھی مگر یہودیوں نے فارقلیط کی بجائے شیفع اور مدد گار کے الفاظ داخل کردیے یہی لفظی تحریف ہے۔ جو لفظ اللہ نے نازل کیا تھا اس کی جگہ دوسرا لفظ لگادیا گیا۔
حضور ﷺ کی آمد کی پیشین گوئیاں تورات میں بھی موجود تھیں۔ اصل تورات میں یہ الفاظ تھے کہ وہ آخری نبی ﷺ فاران کی چوٹیوں سے جلوہ گر ہوگا۔ دس ہزار قدسیوں کی جماعت کے ساتھ آئیگا۔ اس کے دائیں ہاتھ پر آتشیں شریعت ہوگی ‘ وہ دنیا کی قوموں سے محبت کرنے والا ہوگا اور قومیں اس کے قدموں میں جمع کی جائیں گی ‘ یہ تمام نشانیاں حضور ﷺ پر صادق آتی ہیں۔ فتح مکہ کے موقع پر آپ کے ہمراہ دس ہزار صحابہ ؓ موجود تھے۔ مگر یہودیوں نے تورات میں دس ہزار کی بجائے لاکھوں لکھ دیا تاکہ یہ پیش گوئی بنی آخرالزمان (علیہ السلام) پر ثابت نہ ہو سکے۔ امام شاہ ولی اللہ المحدث دہلوی اپنی کتاب فوزالکبیر میں لکھتے ہیں۔ کہ اہل کتاب نے لفظی تحریف سے زیادہ معنوی تحریف کی ہے۔ انہوں نے کلام الٰہی کے مطالب و معانی کو غلط رنگ میں پیش کیا اور اس طرح وہ ہدایت الٰہی سے مستقل طور پر محروم ہوگئے۔ انہیں تورات ‘ انجیل کے ذریعے نصیحت کی گئی تھی تاکہ ان کے احوال درست ہوجائیں مگر ونسواحظا مما ذکروا بہ اور اس نصحت سے مستفید ہونا بھلا بیٹھے اور اللہ کے کلام سے کچھ فائدہ حاصل نہ کیا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ ان کی سابقہ تحریف کے متعلق آپ کو بہت کچھ بتا یا جا چکا ہے تاہم ان کی آئندہ تحریف کے متعلق فرمایا ولاتزال تطلع علی خآ ئنۃ منھم ‘ آپ ان کی آئندہ خیانت یعنی تحریف سے بھی مطلع ہوتے رہیں گے۔ یہ لوگ جب بھی اللہ کے کلام میں تبدیلی کے مرتکب ہوں گے۔ آپ و قتافوقتا اس پر مطلع ہوتے رہیں گے۔ فرمایا سارے اہل کتاب ایک جیسے نہیں ہیں۔ الا قلیلا منھم ان کی ایک قلیل تعداد اللہ کی۔۔۔ کتابوں میں تحریف کی مرتکب نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم (علیہ السلام) کو فرمایا کہ اہل کتاب کی ان تمام تر خباثتوں کے باوجود فاعف عنھم آپ ان کو معاف کردیں واصفح اور در گزر فرمائیں نیکی پر قائم رہیں کیونکہ ان اللہ یحب المحسنین بیشک اللہ تعالیٰ نیکی کرنیوالوں کو پسند فرماتا ہے۔
میثاق نصاری
اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نصاری کے متعلق خصوصی طور پر فرمایا ومن الذین قالوا انا نصری اپنے آپ کو نصاری کہلانے والے لوگوں سے۔ نصاریٰ یا نصرانی انصار کے مادہ سے ہے جس کا معنی مدد گار ہے سورة صف میں موجود ہے۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے حواریوں سے کہا من انصاری الی اللہ “ اللہ کے دین کی خاطر میری کون مدد کرے گا ” قال الحواریون نحن انصار اللہ “ تو حواریوں نے کہا کہ ہم مطلوبہ مدد پر تیار ہیں اس وجہ سے انہیں نصرانی کہاجاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں۔ کہ نصاری کی نسبت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے گائوں ناصرہ کی طرف ہے۔ بہر حال جو لوگ اپنے آپ کو نصاری کہتے ہیں۔ وہ اپنے دعوی میں جھوٹے ہیں وہ عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان نہیں رکھتے۔ نہ انجیل پر ان کا صحیح ایمان ہے۔ بہرحال فرمایا کہ جن لوگوں نے نصاری ہونے کا دعوی کیا اخذنا میثاقھم ‘ ہم نے ان سے پختہ عہد لیا۔ ” فنسوا حظامما ذکروا بہ مگر وہ اس چیز سے فائدہ اٹھانا بھول گئے جس کی انہیں نصیحت کی گئی تھی۔ فرمایا اس کے نتیجہ میں فاغرینا بینھم العداوۃ والبغضآء ہم نے ان کے درمیان عداوت اور دشمنی اور کینہ ڈال دیا یہ دنیا میں ہی ان کو سزادے دی گئی کہ وہ ایک دوسرے سے کے دشمن بن گئے۔ یہ سب کچھ عہد شکنی کا نتیجہ تھا کہ ان پر لعنت کی گئی اور ان کے دلوں کو سخت بنادیا گیا۔ پھر انہوں نے اللہ کی کتاب میں تحریف کی اور اصل کتاب کے احکام کو بھول گئے نصاری کے متعلق خاص طور پر فرمایا کہ انہیں آپس کی دشمنی اور عداوت کی سزا دی گئی الی یوم القیمۃ جو ہمیشہ انہیں ملتی رہیگی۔ یہاں پر قیامت کے دن سے مراد یوم آخرت نہیں بلکہ اس سے لمبا عرصہ مراد ہے۔ ان معانی کی مثال زمانہ جاہلیت کے شاعر عبید ابن ابرص کے کلام سے ملتی ہے۔ یہ شخص اپنے زمانے کا عظیم شاعر تھا مگر حضور ﷺ کی ولادت سے اکیس سال پہلے مر گیا تھا۔ عرب کے کسی علاقے کا بادشاہ قبیلہ بنی اسد پر ناراض ہوگیا اور اس نے قتل عام کا حکم دے دیا ۔ شاعر نے کھڑے ہو کر بادشاہ کے سامنے قصیدہ پڑھا اور معافی کی درخواست ان الفاظ میں کی۔
انت الملیک علیھم وھم العبید الی القیمۃ
تم بادشاہ ہو خدا کے لیے ان پر رحم کرو ۔ یہ قیامت تک تمہارے غلام رہیں گے مطلب یہ کہ لوگ لمبے عرصے تک تمہارے مطیع و فرمانبردار رہیں گے۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے نصاری کے متعلق فرمایا کہ ان میں غیر محدود عرصہ کے لیے عداوت ڈال دی گئی۔
اہل کتاب مسلمان
جن خرابیوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے متعلق کیا ہے۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ سب خرابیاں خود اہل ایمان میں بھی پیدا ہوچکی ہیں۔ حضور کریم ﷺ نے اپنی امت کے متعلق فرمایا ” لتتبعن سنن من قبلکم حذ۔۔۔ تم بھی پہلے لوگوں کے نقش قدم پر ہی چلو گے۔ جس طرح جوتا جوتے کے ساتھ برابر ہوتا ہے۔ اسی طرح تم میں اور سابقہ امتوں میں کوئی فرق نہیں ہوگا۔ چناچہ جو جو خرابیاں اللہ نے اہل کتاب کی گنوائی ہیں وہی خرابیاں اس امت میں بھی موجود ہیں۔ نقض عہد مسلمان قوم کا شیوہ بن چکا ہے۔ عہد انفرادی ہو یا اجتماعی ملکی سطح کا ہو یا بین الاقوامی اس کی خلاف ورزی کی مثالیں زبان زد عام ہیں اسی طرح تمام مسلم اقوام میں سنگدلی کی بیماری بھی پیدا ہوچکی ہے ‘ کوئی کسی کے ساتھ
ا ؎ بخاری ص 491 402 ‘ 8801/ج 2 ‘ مسلم 329/ج 2 و مستدرک 129 ج 1 و ترمذی 37 (فیاض)
احسان و مروت کا سلوک کرنے کے لیے تیار نہیں۔ آج محسن لوگ مفقود ہیں جو قرآن پاک کے اس حکم کی تعمیل پر کمر بستہ ہوں ان اللہ یامر۔۔ بالعدل والاحسان “۔ اس کے بجائے خود مسلمانوں میں سنگدلی پیدا ہوچکی ہے ‘ افسوس کا مقام ہے کہ اب مسلمانوں سے طہارت ‘ سماحت ‘ اخبات اور عدل جیسے اصول منہ موڑ چکے ہیں۔
جہاں تک تحریف کا تعلق ہے مسلمان لفظی تحریف پر تر قادر نہیں ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کی حفاظت کا ذمہ خود لے رکھا ہے۔ تاہم مسلمانوں کے ہر فرقے میں کسی نہ کسی حد تک معنوی تحریف ضرور پائی جاتی ہے اپنے ذاتی مفاد یا اپنے فرقہ کو تقویت پہنچانے کے لیے قرآن پاک کے مطالب و معانی کو غلط رنگ میں پیش کرنا۔ اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی غلط تاویلات کرنا تحرایف معنوی ہی تو ہے۔
فرقہ پرستی
سید جمال الدین افغانی عالم اسلام کے بہت بڑے راہنما ہوئے ہیں۔ وہ مسلمانوں کی فرقہ پرستی سے سخت بیزار تھے۔ کہا کرتے تھے کہ اگر میرا بس چلے تو دس بارہ سال کے بچوں کو چھوڑ کر باقی سب آدمیوں کو موت کے گھاٹ اتاردوں۔ ان کا تجزیہ یہ تھا کہ موجودہ نسل فرقہ پرستی میں اس حد تک آگے نکل چکی ہے کہ اب ان کا واپس آنا ناممکن ہے۔ اہل اسلام کو راہ راست پر لانے کا ایک ہی طریقہ ہے کہ ان سب کو یکدم نیست و نابود کرکے نئی نسل کو بات سمجھانے کی کوشش کی جائے تو شاید وہ سمجھ جائیں۔ کیونکہ موجودہ نسل اپنی ڈگر سے ہٹنے کے لیے ہرگز تیار نہیں۔ آپ فرمایا کرتے تھے کہ اپنے دو سوسالہ دور حکومت میں انگریز نے تمہیں اس طرح پیس کر رکھ دیا ہے س طرح کوئی چیز کھرل میں پیسی جاتی ہے۔ انہوں نے اہل اسلام کی اجتماعیت اور خلافت کو ختم کرکے اس کی جگہ فرقہ بندی کی بیماری پیدا کردی ہے۔ اب تمہارے اندرونی خلفشار کی وجہ سے دنیا میں تمہاری کوئی حیثیت نہیں رہی۔ انگریز کا واحد مقصد یہ ہے کہ مسلمانوں کا اپنے دین کے ساتھ تعلق قائم نہ رہے۔ بلکہ ان کا متعلق اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ بھی منقطع کردیا جائے۔ فرماتے تھے کہ دنیا میں ہر جگہ مسلمان ان خرابیوں میں مبتلا ہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی نئی قوم کو اٹھائے جو ان سب کی سرکوبی کرے اور قرآن پاک کے پروگرام پر عمل پیرا ہو تو شاید حالات درست ہوجائیں۔ ورنہ اور کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ فرماتے تھے عربوں اور ترکوں کے تعلقات کا جائزہ لے لیں ان کی دشمنی ختم ہونے میں نہیں آتی۔ اسی طرح مذہبی فرقہ واری ہے۔ ہر فرقہ دوسرے کے خون کاپیاسا ہے۔ یہ وہی خرابی ہے جو اہل کتاب میں نقض عہد کی وجہ سے پیدا ہوئی اور آج مسلمانوں میں بھی موجود ہے ‘ ان میں سنگدلی پیدا ہوچکی ہے ‘ احسان ختم ہوگیا ہے ‘ اخبات ‘ سماحت اور عدل کہیں نظر نہیں آتے اور پھر سب سے بڑھ کر یہ تحریف کی لعنت ہے۔
مولانا عبید اللہ سندھی بھی عظیم مسلمان اور درد دل رکھنے والے انسان تھے۔ انگریزوں کے دور میں آپ پچیس سال تک برصغیر سے جلاوطن رہے۔ آپ نے ایک سال روس میں ‘ سات سال افغانستان میں ‘ چار سالو ترکی میں اور بارہ سال سے زیادہ عرصہ مکہ مکرمہ اور دوسری جگہ بسر کیا۔ آپ بھی انگریز کے سخت مخالف تھے۔ آخر میں جب واپس ہندوستان آئے تو فرمایا کہ میری خواہش تو یہ تھی کہ عمر کے آخری لمحات حرم شریف میں گذارتا مگر میں آپ لوگوں کو یہ بتانے کے لیے واپس آیا ہوں کہ بڑے طوفان برپا ہیں۔ انگریز تمہارے مذہبت کی جڑ اکھاڑ رہے ہیں مگر تم سمجھ رہے ہو کہ ہم ترقی کر رہے ہیں لہذا اپنے دین کو بچانے کے لیے قائم ہو جائو اپنے اندرونی اختلافات کو ختم کر کے دین حق کے مدد گار بن جائو ‘ ورنہ پوری دنیا میں تمہاری ہوا اکھڑ جائیگی اور تم اغیار کے دست نگر بن کر رہ جائو گے۔
عیسائی فرقے
الغرض ! فرمایا کہ ہم نے نصاری کے درمیان عداوت اور دشمنی ڈال دی اور وہ گروہوں میں تقسیم ہو کر رہ گئے۔ ہر فرقہ دوسرے کا دشمن بن گیا۔ آج بھی دیکھ لیں۔ رومن کیتھولک اور پر اٹسٹنٹ آپس میں کس طرح دست و گریباں ہیں ‘ برطانیہ اور سکاٹ لینڈ والوں کے تنازعہ کی بنیاد کیا ہے۔ مختلف اعتقاد رکھنے والے لوگ کبھی اکھٹے نہیں ہو سکتے۔ مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا بنانے والے یا تیسرا خدا تسلیم کرنے والے یا بالکل بعینہ خدا ماننے والے ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا ہیں۔ یہی عداوت اور اختلاف مختلف سلطنتوں کے درمیان دشمنی کی بنیاد بن چکے ہیں اللہ نے فرمایا کہ یہ سب کچھ ان کے لیے سزا کے طور پر ہے۔
یہ تو دنیا میں سزا مل رہی ہے۔ جب قیامت کا دن آئیگا اور حساب کتاب کی منزل آئے گی تو ان کا کیا دھرا ان کے سامنے کردیا جائے گا۔ اس دن بدبختوں کو بتایا جائے گا کہ تم اپنی بدکرداری کی وجہ سے سزا کے مستحق ٹھہرے ہو ۔ فرمایا وسوف ینبئھم اللہ بما کانوا یصنعون اور عنقریب اللہ تعالیٰ انہیں بتا دے گا کہ جو کچھ وہ دنیا میں کرتے تھے۔ بہر حال اہل کتاب کی خرابیاں بیان فرما کر مسلمانوں کو خبردار کردیا گیا ہے کہ تم بھی ا ن کے نقش قدم پر چل نکلنا۔
Ayahs 5:15–16ربط آیات
گذشتہ دروس میں اہل کتاب کے دونوں فرقوں کی نقض عہد کی خرابی بیان ہوچکی ہے۔ یہودیوں کے متعلق خصوصی طور پر بیان ہوچکا ہے کہ یہ لوگ توڑنے کی وجہ سے ملعون ٹھہرے اور ان کے دل سخت کردیے گیے ۔ پھر اس کے نتیجے میں انہوں نے کتاب اللہ میں تحریف کی اور دین میں بگاڑ پیدا کیا اور جو نصیحت ان کو کی گئی تھی ‘ اس کو فراموش کر بیٹھے پھر نصاری کے متعلق فرمایا کہ انہوں نے بھی عہد کا پاس نہ کیا اور جو نصیحت کی گئی تھی اس کو بھول گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ا س دنیا میں ان کے درمیان عداوت اور بغض ڈال دیا گیا ‘ وہ فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے کے دشمن بن گئے اور ان کے درمیان انفرادی عداوت بھی پیدا ہوگئی۔ بہرحال فرمایا کہ یہ تو دنیا کی سزا تھی ‘ اب آخرت میں ان کا سارا کیا دھرا ان کے سامنے رکھ دیا جائے گا اور پھر وہ دائمی سزا کے مستحق ہوں گے۔ ایک ایسا دور بھی آنے والا ہے۔
تبیین احکام
اب یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو نصیحت فرمائی ہے کہ اگر تم نقض عہد کی لغت اور سزا سے بچنا چاہتے ہو تو اس کا ایک ہی راستہ ہے کہ نبی آخرالزمان پر ایمان لے آئو۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے یا ھل الکتب قد جآء کم رسولنا اے اہل کتاب ! تمہارے پاس ہمارا رسول آگیا ہے یعنی اللہ کے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ مبعوث ہوچکے ہیں ۔ اگر دنیا کی ذلت اور آخرت کی رسوائی سے نجات حاصل کرنا چاہتے ہو تو ان کے دامن سے وابستہ ہو جائو۔ اس رسول اعظم کی ایک خاص نشانی یہ ہے یبین لکم کثیرا مما کنتم تخفون من الکتب وہ تمہارے سامنے بہت سی چیزیں ظاہر کرتا ہے جسے تم کتاب میں سے چھپاتے تھے۔
یہودیوں کی طرف سے کتمان حق کے سلسلے میں اسی سورة میں آگے آئے گا کہ وہ رجم کے حکم کو چھپاتے تھے۔ خود یہودیوں کے درمیان ان کا ایک واقعہ پیش آگیا۔ وہ لوگ مسئلہ دریافت کرنے کے لیے حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ‘ مگر آپ نے انہی کے علماء سے دریافت کیا کہ تمہاری کتاب کے مطابق زانی کی سزا کیا ہے۔ انہوں نے تورات کے حکم کو چھپانے کی کوشش کی مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت عبداللہ بن سلام ؓ کے ذریعے اسے ظاہر فرمادیا۔ کہ زنا کی سزا رجم ہے۔ آج بھی بائیبل کے ترجمے میں یہ آیت موجود ہے کہ جو کوئی پڑوسی کی بیوی سے زنا کریگا ‘ وہ جان سے مارا جائے گا ‘ گویا تورات میں بھی زانی سزائے موت کا مستحق ہے۔
اسی طرح عیسائیوں نے حضور ﷺ کے اسم مبارک اور آپ کی نشانیوں کو چھپانے کی کوشش کی۔ جیسا کہ کل عرض کیا تھا۔ انہوں نے کتاب سے غار قلیسط کا لفظ ہی نکال دیا جس کا معنی احمد ہوتا ہے۔ آپ کی نشانیوں میں سے دس ہزار قدسیوں کے الفاظ میں بھی تحریف کردی۔ آپ کی آمد کے متعلق پیش گوئیوں کو حذف کردیا۔ بلکہ اگر کوئی شخص ان سے پوچھتا کہ نبی آخرالزمان کی بعض نشانیوں کو ظاہر کرو تو یہ بد بخت ایسی نشانیاں بتلاتے۔ جو حضور ﷺ کے خلاف پڑتیں۔ گذشتہ سورة کی تفسیر میں یہ بات عیاں ہوچکی ہے۔ کہ جب مشرکین مکہ ان یہودیوں سے پوچھتے کہ بتائو ہمارا دین سچا ہے یا مسلمانوں کا ‘ تو یہ کہتے کہ تمہارا دین زیادہ بہتر ہے۔ حالانکہ اللہ نے فرمایا کہ یہ لوگ کتابوں سے واقف ہیں ‘ انبیاء کو جانتے ہیں۔ مگر کس قدر خائن ‘ متعصب اور بد دیانت ہیں کہ محض اسلام دشمنی کی وجہ سے مشرکین کے مذہب کو اچھا بتلاتے ہیں۔
تورات میں یہ آیت موجود تھی۔ کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کو چھ دن میں پیدا فرمایا ‘ مگر انہوں نے اس کے آگے ازخود یہ بڑھادیا کہ پھر ساتویں دن آرام کیا۔ حالانکہ یہ کفر کا کلمہ ہے۔ آرام کی ضرورت تو اسے ہوتی ہے۔ جو تھک جائے مگر اللہ تعالیٰ ان چیزوں سے پاک ہے انہوں نے اللہ تعالیٰ پر افترا باندھا۔ اس کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں سورة ق میں فرما دی ” ولقد خلقنا السموت والارض وما بینھما فی ستۃ ایام ق صلے وما مسنا من لغوب۔ “ ہم نے آسمان و زمین اور ان کے درمیان تمام چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا اور ہمیں کوئی تھکاوٹ راحق نہیں ہوئی۔ بہر حال یہ بھ یان کی طرف سے تحریف فی الکتاب کی ایک مثال ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہمارا نبی بہت سی ایسی چیزوں کو بیان کردیتا ہے جن کو تم چھپاتے تھے۔
ویعفوا عن کثیر اور کئی چیزوں سے در گزر کرتا ہے۔ بعض ضروری چیزوں کو ظاہر کردیتا ہے مگر بعض غیر اہم چیزوں سے تعرض ہی نہیں کرتا کہ ا ن کو ظاہر کردیتا ہے مگر بعض غیر اہم چیزوں سے تعرض ہی نہیں کرتا کہ ان کو ظاہر کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ‘ البتہ جنہیں مخفی رکھنے میں کوئی قباحت پائی جاتی ہے۔ اور جس سے مزید الجھنیں پیدا ہو سکتی ہیں انہیں ظاہر فرمادیتا ہے۔ اور یہ سب کچھ وحی کے ذریعے ہوتا ہے جیسا کہ گذشتہ درس میں بھی آچکا ہے۔ کہ یہ لوگ جس قدر خیانتیں کرتے ہیں آپ ان پہ وقتا فوقتاً مطلع ہوتے رہیں گے۔
نور اور کتاب
فرمایا دوسری بات یہ ہے قد جآء کم من اللہ نور و کتب مبین تحقیق آئی ہے تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک روشنی اور کھلی کتاب۔ یہاں پر الفاظ نور اور کتاب مبین خاص طور پر توجہ طلب ہیں۔ عام مفسرین کے نزدیک دونوں الفاظ کے درمیان ” عطف تفسیری ہے اور ان دونوں الفاظ سے ایک ہی چیز مراد ہے یعنی قرآن کریم۔ نور بھ یوہی ہے اور کتاب مبین بھی اسی کو کہا گیا ہے۔ گذشتہ سورة نساء کے آخر میں بھی نور کا لفظ انہی معانی میں استعمال ہوا ہے۔ ” یایھا الناس قد جآء کم برھان من ربکم و نزلنآ الیکم نور مبینا “ اے لوگو ! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے دلیل آچکی ہے اور ہم نے تمہاری طرف نور مبین بھی نازل فرمایا ہے۔ گویا نور مبین سے مراد قرآن کرمی ہی ہے۔ سورة اعراف میں بھی نور کا لفظ قرآن پاک کے لیے آیا ہے۔ واتبعوا النور الذی انزل معہ “ اور انہوں نے اس نور کی پیروی کی جو اس کے ساتھ اتارا گیا اور یہی لوگ کامیابی حاصل کرنے والے ہیں۔ مطلب یہ کہ نور اور کتاب سے مراد ایک ہی چیز ہے اور وہ ہے قرآن پاک۔ اور یہ اس لحاظ سے مبین ہے کہ ہر چیز کو کھو ل کھول کر یعنی واضح طور پر بیان کرتا ہے۔
ان معانی پر یہ قرینہ بھی موجود ہے کہ رسول کا ذکر تو آیت کے پہلے حصے میں آچکا ہے ” قد جآء کم رسولنا “ تحقیق تمہارے پاس ہمارا رسول آچکا ہے۔ لہذا اس دوسرے حصہ آیت میں نور سے مراد رسول نہیں بلکہ کتاب یعنی قرآن مجید ہے انہی معانی پر قرینہ اگلی آیت کے ابتدائی حصہ میں بھی پایاجاتا ہے وہاں ” یھدی بہ اللہ “ اللہ اس کے ذریعے ہدایت دیتا ہے۔ بہ کی ضمیر صیغہ واحد ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے ۔ کہ کسی ایک ہدایت دہندہ چیز کا ذکر ہو رہا ہے اور وہ ہے قرآن کریم جو نور بھی ہے اور واضح کتاب بھی۔ گریہ دو مختلف چیزیں ہو تیں تو ضمیر واحد کی بجائے تثنیہ استعمال ہوتی یعنی یھدی بہ اللہ کی بجائے یھدی بھما اللہ کے الفاظ آتے اور معنی یہ ہوتا کہ اللہ تعالیٰ ا ن دونوں چیزوں کے ذریعے ہدایت عطا کرتا ہے اور واقع میں بھی یہی ہے۔ کہ اللہ کا بنی اور قرآن پاک دونوں ہی ذرائع ہدایت ہیں مگر یہاں پر مستعملہ ضمیر واحد سے عیاں ہے۔ کہ نور اور کتاب ایک ہی چیز ہے۔
تاہم بعض مفسرین عظام مثلاً امام بیضاوی (رح) اور امام ابن جریر طبری (رح) نے ان دو الفاظ کو دو مختلف معانی پر محمول کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ نور سے مراد حضور ﷺ کی ذات مقدسہ ہے اور کتاب مبین سے مراد قرآن حکیم ہے مگر راجح تفسیر پہلے بیان کردہ ہی ہے۔ اور اگر ان حضرا ت کے مطابق نور سے حضور ﷺ کی ذات بھی لی جائے تو اس کا معنی نور ہدایت ہوگا یعنی آپ کے پاس نور ہدایت اور واضح کتاب آچکی ہے قرآن میں نور کے مختلف معنی بیان ہوئے ہیں۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے۔ خود قرآن کو بھی نور کہا گیا ہے۔ اسلام بھی نور ہے جیسے فرمایا افمن شرح اللہ صدرہ للاسلام فھو علی نور من ربہ “ (زمر) جس کا سینہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے لیے کھول دیا ‘ وہ اپنے رب کی طرف سے عطا کردہ نور پر ہے۔ ایمان کے متعلق سورة شوری میں موجود ہے۔ ” وماکنت تدری ما الکتب ولا الا یمان ولکن جعلنہ نورا نھدی بہ من نشآء من عبادنا “ آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب اور ایمان کیا چیز ہے مگر ہم نے اسے نور بنایا جس کے ذریعے ہم اپنے بندوں میں جسے چاہیں ہدایت دیتے ہیں۔
عربوں میں نور محاورہ کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور اس سے مراد فرد یا جماعت ہوتی ہے۔ اس ضمن میں شبیب بن برصاد کا یہ شعر حماسہ میں موجود ہے۔
الم تر انا نور قوم وانما یبین فی الظلمآء للناس نورھا
اے مخاطب کیا تم دیکھتے نہیں کہ ہم قوم کا نور ہیں۔ ہماری قوم کا نور لوگوں کے سامنے اندھیروں میں واضح ہوتا ہے ۔ مقصد یہ کہ ہم اس لحاظ سے نور ہیں کہ لوگ ہماری رائے کے مطابق عمل کرتے ہیں۔ چناچہ یہ لفظ ہادی اور راہنما کے لیے بھی استعمال ہوتا۔ اس لحاظ سے اگر نور کا لفظ حضور ﷺ کی ذات سے وابستہ کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ نورہدایت ہادی اور راہنما ہیں۔
ویسے نور کا اطلاق خود اللہ تعالیٰ کی ذات پر بھی کیا گیا ہے سورة نور میں موجود ہے ” اللہ نور السموت والارض “ یعنی اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ نور اللہ تعالیٰ کی صفت قدیمہ بھی ہے اور اس سے مراد ایسانور ہے جو خود ظاہر ہے اور دوسری چیزوں کو ظاہر کرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اس صفت میں بھی کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔ بہر حال حضور نبی کریم ﷺ اس لحاظ سے نور ہیں کہ آپ کے ذریعے سے ہدایت ‘ روشنی ‘ ایمان ‘ تقوی اور اطاعت حاصل ہوتی ہے۔ اس مفہوم سے کسی کو مجال انکار نہیں۔ اللہ کے سارے نبی نور ہدایت ہیں ‘ نبی کا اتباع باعث نجات اور توہین باعث کفر ہوتا ہے۔
نور اور بشر
البتہ اہل بدعت نے نور کے لفظ سے غلط مفہوم اخذ کیا ہے۔ اولاً انہوں نے نور سے مراد حضور ﷺ کی ذات مبارک لیا۔ اور پھر اس کا تق اس بشر کے ساتھ کر کے حضور ﷺ کی بشریت کا انکار کردیا حالانکہ قرآن پاک میں بیسیوں جگہ حضور ﷺ کی بشریت کا انکار کردیا حالانکہ قرآن پاک میں بیسیوں حضور ﷺ اور دوسرے انبیاء کی بشریت کا اعلان کیا گیا ہے۔ چناچہ سب سے پہلے بشر (انسان) اور نبی حضرت آدم (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا انی خالق بشر من طین “ یعنی میں مٹی سے ایک بشر پیدا کرنے والا ہوں۔ سورة بنی اسرائیل میں موجود ہے۔ کہ جب کفار نے نبی (علیہ السلام) سے کئی قسم کے معجزات طلب کیے تو اللہ نے فرمایا آپ کہہ دیجئے ھل کنت الا بشرارسولا “ میں تو بشر رسول ہوں سورة کہف میں بھی آپ کی زبان سے کہلوایا “ قل انمآ انا بشر مثلکم “ یعنی میں بھی تمہاری طرح انسان ہی ہوں۔ سورة ابراہیم میں اللہ تعالیٰ نے رسولوں کی زبان سے کہلوایا قالت لھم رسلھم ان نحن الا بشر مثلکم ولکن اللہ یمن علی من یشآء من عبادہ “ ان کے رسولوں نے کہا کہ ہم کچھ نہیں ہیں مگر تمہارے جیسے بشر ‘ مگر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے ‘ نوازتا ہے مقصد یہ کہ انبیاء کی بشریت کا انکار قص قطعی کا انکار ہے۔ مگر ہل بدعت ایک قدم اور آگے چلے اور نور من نور اللہ کا عقیدہ وضح کیا۔ گویا حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کے نور میں سے ایک ٹکڑا ہیں جو علیحدہ ہوگیا ہے (الیعاذباللہ) یہ تو وہی عیسائیوں کا تین خدائوں والا عقیدہ ہے جسے سورة زحرف میں یوں بیان کیا گیا ہے ” وجعلوا لہ من عبادہ جزء ا “ یعنی مشرکوں نے اللہ کے بندوں میں سے اس کا جزو بنا لیا۔ یہ تو انکار بشریت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورة انبیاء میں صاف فرمایا ہے “ ومآ ارسلنا قبلک الا رجالا نوحی الیھم “ یعنی اے نبی (علیہ السلام) آپ سے پہلے بھی ہم نے انسانوں ہی کو نبی بنا کر بھیجا جن کی طرف ہم نے وحی کی گویا تمام سابقہ انبیاء مرد اور انسان تھے۔ اللہ کے وہ گرگزیدہ بندے حضرت آدم (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے ‘ وہ کھاتے پیتے تھے اور تمام امور طبیعیہ انجام دیتے تھے۔ وہ بیویاں اور اولاد رکھتے تھے اور زندگی کے تمام تقاضے پورے کرتے تھے ان پر موت و حیلت طاری ہوتی۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ وحی الٰہی کے مورد تھے اور جس ہستی پر وحی نازل ہوتی ہے اس سے عالی مرتبت کوئی دوسرا انسان نہیں ہوتا۔
اس مقام پر بعض لوگوں کو مزید غلط فہمی ہوئی ہے وہ سمجھتے ہیں ‘ کہ حضور ﷺ کو انسان تسلیم کرنے سے العیاذ باللہ آپ کی توہین ہو جائیگی ان کے مطابق حضور ﷺ کو انسان ماننا اپنے ہم مرتبہ خیال کرنا ہے۔ ایسا ہرگز نہیں۔ مرتبے کے لحاظ سے کوئی شخص حتی کہ کوئی نبی بھی آپ کے برابر نہیں ہو سکتا۔ کوئی ذی شعور آدمی تو اپنے اساتذہ کو بھی اپنے سے اعلیٰ وارفع سمجھتا ہے چر جائیکہ وہ نبی کی ذات مقدسہ کو اپنے برابر قراردے۔ نبی (علیہ السلام) کو اپنے بھائی یا باپ کے ہم مرتبت سمجھنا تو کلمہ کفر ہے۔ نبی معصوم ہوتے ہیں۔ جب کہ عام انسان خطا کار ہیں۔ لہذا یہ محض پر اپگینڈہ ہے کہ فلاں شخص پیغمبر اسلام کو بڑے بھائی کے برابر سمجھتا ہے۔ اس کے باوجود انبیاء (علیہم السلام) کی انسانیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ وہ سب آدم (علیہ السلام) کی اولاد اور اپنے اپنے خاندان اور نسب میں سے ہیں۔ ان کی بشریت کا انکار سراسر گمراہی ہے ۔
ہدایت الٰہی
فرمایا تمہارے پاس اللہ کی جانب سے نور اور کتاب مبین آچکی ہے جس کی خصوصیت یہ ہے کہ یھدی بہ اللہ من اتبع رضوانہ ۔۔۔ السلام اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کو سلامتی کے راستے کی ہدایت دیتا ہے جو اس کی خوشنودی کی پیروی کرنا ہے۔ ویخرجھم من الظلمت الی النور باذنہ ‘ اور اپنے حکم سے انہیں کفر ‘ شرک ‘ بدعات اور معاصی کے اندھیروں سے اسلام ‘ ایمان ‘ نیکی ‘ تقوی کی روشنی کی طرف نکالتا ہے۔ انسان کے دل میں روشنی ‘ بصیرت اور یقین کامل پیدا ہوتا ہے۔ دوسرے مقام پر اللہ نے ایمان اور اسلام کو روشنی اور کفر کو اندھیرے سے تشبیہ دی ہے سورة انعام میں ارشاد ہوتا ہے۔ ” اومن کان میتا فاحیینہ وجعلنا لہ نورا یمشی بہ فی الناس کمن مثلہ فی الظلمت لیس بخارج منھا “ بھلا وہ شخص جو پہلے (کفر کی وجہ سے ‘ مردہ تھا ‘ ہم نے اس کو ( اسلام کی وجہ سے) زندہ کیا ‘ اور اس کے لیے (ایمان کی) روشنی کردی جس کے ذریعے وہ لوگوں میں چلتا پھرتا ہے ‘ کیا وہ اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو (کفر کے) اندھیروں میں پڑا ہوا ہو ‘ اور اس سے نکل ہی نہ سکے۔
بہرحال فرمایا کہ اللہ تعالیٰ خوشنودی کے مبتع کو اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالتا ہے ویھدیھم الی صراط مستقیم اور انہیں سیدھے راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ چناچہ اللہ کے نیک بندے اسی راستے پر چل کر جنت جیسے اعلیٰ مقام میں پہنچ جاتے ہیں برخلاف اس کے کفر کا راستہ اختیار کرنے والوں کے متعلق پہلے بیان ہوچکا ہے ” فمن کفر بعد ذلک منکم فقد ضل سو آ ء السبیل “ اس کے بعد جس نے کفر کا راستہ اختیار کیا تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔ اس نے جس پگڈنڈی پر سفر کا آغاز کیا ہے ‘ وہ بالآخر اسے جنم میں لے جائیگی۔ صراط مستقیم سے بھٹکنے والوں کا یہی انجام ہوگا۔