5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 5:112–113

اِذْ قَالَ الْحَوَارِیُّوْنَ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ هَلْ یَسْتَطِیْعُ رَبُّكَ اَنْ یُّنَزِّلَ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ١ؕ قَالَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:112 in the Quran reader

جب کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں نے ، اے عیسیٰ مریم کے فرزند ! کیا تیرا پروردگار ایسا کرسکتا ہے کہ وہ اتارے ہمارے اوپر دستر خوان آسمان کی طرف سے۔ کہا عیسیٰ (علیہ السلام) نے ڈرو اللہ سے اگر تم ایمان والے ہو

قَالُوْا نُرِیْدُ اَنْ نَّاْكُلَ مِنْهَا وَ تَطْمَئِنَّ قُلُوْبُنَا وَ نَعْلَمَ اَنْ قَدْ صَدَقْتَنَا وَ نَكُوْنَ عَلَیْهَا مِنَ الشّٰهِدِیْنَ Open ayah 5:113 in the Quran reader

انہوں نے کہا ہم چاہتے ہیں کہ کھائیں اس سے اور ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہم جان لیں کہ تو نے سچ کہا ہے ہم سے اور ہوجائیں ہم اس پر گواہی دینے والوں میں سے

ربط آیات گزشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے تمام ابنیاء کو اکٹھا کرنے کا ذکر فرمایا کہ اللہ ان سے سوال کریگا کہ تمہاری دعوت کے نتیجے میں تمہاری قوموں نے کیا جواب دیا۔ تو انبیاء عاجزی کا اظہار کریں گے کہ مولانا کریم ! ہمیں کچھ علم نہیں۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے تذکرے میں ان پر ہونے والے انعامات کا ذکر کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان معجزات کو بیان فرمایا جو ان کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے انعامات تھے جو آپ پر اور آپ کی والدہ پر ہوئے۔ ان احسانات میں سے ایک بڑا احسان یہ تھا کہ اللہ نے آپ کو بنی اسرائیل کے شر سے محفوظ رکھا اور ان کی ناپاک سازشوں کو کامیاب نہیں ہونے دیا۔ یہ بھی ایک بہت بڑا احسان تھا کہ اللہ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کے دل میں ایمان کی بات ڈال دی جس کی وجہ سے انہوں نے آپ کی تائید کی۔ سورة صف میں ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا من انصاری الی اللہ یعنی اللہ کے راستے میں میرے ساتھ کون تعاون کرے گا ، تو حواریوں نے کہا ” نحن انصار اللہ “ ہم اللہ کے راستے میں آپ کی مدد گار ہیں۔ ہم آپ کے ہر حکم کی تعمیل کریں گے۔ اللہ نے حواریوں کے انصار اللہ بن جائے کہ بھی بطور احسان شمار کیا۔ اب آ ج کے درس میں حواریوں کی طرف سے نزول مائدہ کی درخواست اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے ابتدائی جواب کا ذکر ہے نزول مائدہ کو بھی اللہ نے اپنا ایک احسان جتلایا ہے۔ نزول مائدہ کی درخواست ارشاد ہوتا ہے اذ قال الحواریون جب عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں نے کہا یعیسی ابن مریم اے عیسیٰ مریم کے بیٹے ! ھل یستطیع ربک کیا تیرا پروردگار طاقت رکھتا ہے۔ ان ینزل علینا مآئدۃ من السمآء کہ ہم پر نازل کر دے طعام کا چنا چنایا دستر خوان آسمان سے یہ ہے وہ درخواست جو عیسیٰ (علیہ السلام) کے مخلص متبعین نے آپ کی معرفت اللہ تعالیٰ سے کی۔ اس کے جواب میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا قال اتقوا اللہ ، اللہ سے ڈر جائو اور اس قسم کے سوال نہ کرو ان کنت مومنین اگر تم صحیح معنوں میں ایمان والے ہو۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کے حواریوں کے درمیان اس مکالمے میں کئی نکات پیدا ہوتے ہیں۔ جن کی تفصیل پیش کی جاتی ہے ۔ ابن اللہ یا ابن مریم عیسائیوں کا ایک فرقہ مسیح (علیہ السلام) کے ابن اللہ ہونے کا قابل ہے مگر اس آیت کریمہ میں یعیسی ابن مریم کے الفاظ سے واضح ہو رہا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے اصل پیروکاروں نے آپ کو عیسیٰ ابن مریم کہہ کر پکارا نہ کہ ابن اللہ اگلی آیات میں آ رہا ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بھی آپ کو اسی نام سے پکاریں گے۔ ” اذ قال اللہ یعسی ابن مریم “ جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا ، اے عیسیٰ ابن مریم۔ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح (علیہ السلام) کو ایک مقدس خاتون کے بطن سے باپ کے واسطہ کے بغیر اپنی قدرت کا ملہ اور حکمت بالغہ کے ساتھ پیدا کیا۔ لہٰذا یہ ہر صاحب عقل کا جزو ایمان ہے کہ آپ کی نسبت باپ کی طرف نہ کی جائے بلکہ آپ کو حضرت مریم کا بیٹا تسلیم کیا جائے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور میری نبوت کی گواہی دے گا اور اس بات کی بھی گواہی دے گا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بندے ، اس کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں جسے اللہ نے فرشتے کے ذریعے حضرت مریم کے گریبان میں ڈالا ، نیز جو شخص یہ بھی گواہی دے گا کہ جنت اور دوزخ برحق ہیں ، اللہ تعالیٰ اسے نجات عطا فرمائیں گے۔ اس کے برخلاف عیسائیوں کا عقیدہ ابنیت سینٹ پال جیسے پادریوں اور غلط کار عیسائیوں کا وضع کردہ ہے جو عیسیٰ (علیہ السلام) سے بہت بعد کی پیداوار ہے۔ عیسائیوں کے مختلف فرقوں کی تفصیل اسی سورة میں پہلے گذر چکی ہے۔ بعض لوگوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) سے بہت بعد کی پیداوار ہے۔ عیسائیوں کے مختلف فرقوں کی تفصیل اسی سورة میں پہلے گذر چکی ہے۔ بعض لوگوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو بعینہ خدا کہہ کر عینیت کا عقیدہ ایجاد کیا ، کسی نے ابن اللہ کہا۔ اس میں بھی کوئی فرقہ آپ کے خدا کا حقیقی بیٹا ہونے کا قائل ہے اور لوئی بناوٹی بیٹے کا۔ قرآن پاک کے الفاظ میں انہوں نے کہا ” اتخذ اللہ ولدا “ یعنی اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے پھر کسی فرقہ نے آپ کو تین خدائوں میں سے تیسرا تسلیم کیا ” ان اللہ ثالث ثلاثۃ “ غرضیکہ یہ سب باطل عقائد ہیں اور انہی کی بناء پر عیسیٰ (علیہ السلام) کو حاجت روا اور مشکل کشا سمجھا گیا ۔ یہ عقائد نہ صرف عقل و نقل کے خلاف ہیں بلکہ خود انجیل کی تعلیم کے بھی منافی ہیں۔ تمام انبیاء کا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ وحدئہ لاشریک ہے ، اس آیت سے بھی یہی بات واضح ہو رہی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) مریم کے بیٹے ہیں مگر عیسائیوں کی ہٹ دھرمی کی انتہا ہے کہ انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا بنا دیا ہے اور اسی عقیدے کی تبلیغ دنیا بھر میں کر رہے ہیں۔ بہرحال اس آیت سے ایک بات تو واضح ہوتی ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ابن مریم ہیں ، نہ کہ ابن اللہ لفظ یتطیع پر اشکال اس آیت کے الفاظ ھل یستطیع ربک کا عنی یہ ہے کہ اے عیسیٰ (علیہ السلام) کیا آپ کا پروردگار اس بات کی طاقت رکھتا ہے کہ ہم پر مائدہ نازل فرمائے۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ کی قدرت پر اشکال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کو شک تھا کہ اللہ تعالیٰ مائدہ کے نزول پر قادر ہے۔ حالانکہ ان اللہ علی کل شیء قدیر وہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ وہ متصرف فی الامور ہے مرید لما یشآء ہے ” فعال لما یرید “ ہے ، وہ جو چاہے کرسکتا ہے تو پھر اس کی ذات میں شک کرنے کا کیا مقصد ؟ اس کے جواب میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں پر تستطیع کو لازم بول کر ملزوم مراد لیا گیا ہے اور یستطیع کا مقصد یفعل ہے۔ اس طرح معنی یہ ہوگا کہ اے عیسیٰ (علیہ السلام) ! کیا تیرا پروردگار ایسا کرے گا کہ ہم پر آسمان سے مائدہ نازل فرما دے۔ یہ بالکل اس قسم کا محاورہ ہے جس طرح کوئی شخص کسی بڑے آدمی امیر ، حاکم یا وزیر کو یوں کہے کہ کیا آپ مجھے دو لاکھ روپیہ دینے کی استطاعت رکھتے ہیں یعنی کیا آپ مجھے اتنی رقم ادا کریں گے۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ اس لفظ سے اللہ تعالیٰ کی قدرت میں شک والی بات نہیں ہے بلکہ درخواست پیش کرنے کا ایک انداز ہے جس سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔ امام رازی فرماتے ہیں کہ اس لفظ کی دوسری قرأت بھی ہے۔ حضرت معاذ بیان کرتے ہیں کہ حضور علیہ الصلوۃ نے مجھے اس آیت کی تعلیم یوں دی ھل تستطیع ربک یعنی اس قرأت میں لفظ رب کو مفعول بنایا گیا ہے جب کہ پہلی قرأت میں فاعل ہے۔ اب اس کا معنی یہ ہے کہ اے عیسیٰ (علیہ السلام) ! کیا ت و استطاعت رکھتا ہے یعنی کیا تیرا یہ حوصلہ ہے کہ تو اپنے رب سے نزول مائدہ کی درخواست کرے۔ ظاہر ہے کہ اس قرأت سے اشکال باقی نہیں رہتا کیونکہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو مخاطب کر کے استطاعت کا اطلاق ان پر کیا گیا ہے۔ مائدۃ اور انجیل اس سورة مبارکہ کا نام اسی مائدۃ کے لفظ پر ہے۔ مائدہ ایسے دستر خوان کو کہا جاتا ہے جس پر کھانا چنا ہوا ہو اور وہ زمین پر بچھایا گیا ہو۔ اس کے برخلاف جس چھوٹی میز پر کھانا رکھ کر کھایا جاتا ہے اسے خوان کہتے ہیں۔ یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ جس مائدہ کا ذکر قرآن پاک میں اس آیت میں کیا گیا ہے ، اس کا ذکر انجیل میں نہیں ملتا۔ ظاہر ہے کہ جس طرح عیسائیوں نے انجیل میں تحریف کر کے دیگر بہت سے احکام کو خارج کردیا ہے اسی طرح نزول مائدہ کے اس واقعہ کو بھی اڑا دیا ہے۔ البتہ انجیل لوقا میں مسیح (علیہ السلام) کے ساتھ یہ معجزہ منسوب ہے۔ کہ آپ کسی جگہ پر موجود تھے وہاں پر پانچ ہزار آدمی جمع ہوگئے تو آپ کو تشویش ہوئی کہ اتنے آدمیوں کو کھانا کہاں سے کھلائیں گے۔ اس پر کسی شخص نے بتایا کہ یہاں پر ایک لڑکا ہے جس کے پاس جو کی پانچ روٹیاں اور دو تلی ہوئی مچھلیاں ہیں۔ آپ نے وہ روٹیاں حاصل کر کے سب لوگوں سے بیٹھ جانے کو کہا اور پھر روٹیاں اور مچھلی لوگوں میں تقسیم کرنا شروع کردیا۔ سب نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور اس کھانے سے اتنے ٹکڑے بھی بچ گئے ۔ جس سے بارہ ٹوکرے بھر گئے۔ عیسٰی (علیہ السلام) نے ان ٹکڑوں کو بھی محفوظ کرا لیا۔ بہرحال قرآن کے بیان کردہ مائدہ کا ذکر انجیل میں کہیں نہیں ملتا۔ روزی کے جائز ذرائع بہرحال حواریوں کی فرمائش کے جواب میں عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان سے دو باتیں کیں۔ ایک یہ کہ خدا تعالیٰ سے ڈرو اور دوسری یہ کہ اگر تم ایماندار ہو۔ خدا تعالیٰ سے ڈرانے سے مقصود یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے وہ جو چاہے کرسکتا ہے لہٰذا اس کی قدرت اور طاقت میں شک کرنے سے ڈرو کیونکہ یہ بالکل غلط بات ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے دوسری بات میں حواریوں کے ایمان کا جائزہ لیا کہ کسی ایماندار آدمی کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ غیر معمولی فرمائش کرے یا نبی سے معجزات طلب کرے۔ شاہ عبدالقادر محدث دہلوی اپنے ترجمہ قرآن کے حاشیے میں لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کتنا بھی مہربان کیوں نہ ہو ، بندے کو اس کی آزمائش نہیں کرنی چاہئے کہ آیا وہ میری بات مانتا ہے یا نہیں کیونکہ یہ چیز ادب کے سراسر خلاف ہے۔ شاہ صاحب دوسری بات یہ فرماتے ہیں کہ ہر انسان کو روزی ہمیشہ جائز ذرائع سے ہی طلب کرنی چاہئے ، نزول مائدہ کی فرمئاش جائز ار درست ذرائع روزی میں سے نہیں ہے ، یہ تو فرمائش اور امتحان کا راستہ ہے ، اللہ تعالیٰ نے تجارت ، زراعت ، ملازمت ، محنت مزدوری غیرہ کو جائزہ ذرائع روزی میں شمار کیا ہے۔ لہٰذا روزی انہی ذرائع سے حاصل کرنی چاہئے۔ فرمایا فاتقوا اللہ واجملوا فی الطلب اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور روزی کے لئے جائز ذرائع اختیار کرو۔ انسان کو یہ چیز اچھی طرح ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ روزی اتنی ہی میسر آئیگی جتنی اللہ کے علم میں مقدر ہے۔ انسان کتنی بھی کوشش کرے اسے اپنے مقدمہ سے ایک حبہ بھی زیادہ نہیں مل سکتا۔ فرمایا ان الرزق لیطلب الانسان کما یطلبہ اجلہ۔ ہر انسان کو روزی اسی طرح تلاش کرتی پھرتی ہے جس طرح موت اس کی تلاش میں رہتی ہے۔ جس طرح انسان کو موت ایسی جگہ پر آجاتی ہے جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتی ، اسی طرح اللہ تعالیٰ 1 ؎ کنز العمال ص 14 , 13 , 12 ج 4 (فیاض) اسے روزی بھی ایسے ذرائع سے دیتا ہے ” من حیث لا یحتسب “ جہاں اس کا گمان بھی نہیں ہوتا۔ کسی شخص کی روزی کا ایک دانہ بھی دوسرا شخص حاصل نہیں کرسکتا ، لہٰذا روزی حلال اور جائز ذرائع سے ہی تلاش کرنی چاہئے۔ یہ سب باتیں عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس فرمان میں آجاتی ہیں کہ اللہ سے ڈرو ، اگر تم ایماندار ہو۔ مائدہ بطور متبرک کھانا حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی اس تنبیہ کے بعد حواریوں نے اپنی فرمائش کی وضاحت کرتے ہوئے قالوا انہوں نے عرض کیا کہ حضرت ! ہماری یہ فرمائش کسی قسم کی آزمائش کے لئے نہیں بلکہ نرید ان تاکل منھا ہماری خواہش ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ معجزات کا اظہار فرماتا ہے ، تو ہم بھی اس قسم کا غیر معمولی کھانا چاہتے ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس وقت حواریوں کے پاس خوراک کا ذخیرہ ختم ہوچکا ہو اور کھانا حاصل کرنے کی بظاہر کوئی صورت بھی نظر نہ آتی ہو تو ان حالات میں انہوں نے آسمانی کھانے کی فرمائش کی ہو اور عیسیٰ (علیہ السلام) سے اس کے لئے دعا کی درخواست کی ہو۔ کھانے میں برکت کے بعض واقعات حضور ﷺ والسلام کے زمانہ میں بھی پیش آئے۔ دوران سفر بعض اوقات کھانا ختم ہوگیا اور صحابہ کرام کو سخت پریشانی لاحق ہوئی۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس کے پاس جس قدر توشہ ہے وہ سب لا کر ایک جگہ جمع کر دو ۔ ہر ایک کے پاس جو کچھ تھا کھجور کا دانہ یا روٹی کا ٹکڑا لایا گیا تو کل جمع شدہ اشیا کا ڈھیر ایک بکری کے وجود کے برابر بنا۔ حضور ﷺ نے دعا فرمائی تو اللہ نے اس کھانے میں اتنی برکت عطافرمائی کہ ہزاروں کے لشکر نے اپنے اپنے برتن بھر لئے ایسے ہی عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں نے بھی بابرکت کھانے کی درخواست کی اور یہ بھی کہا وتطمئن قلوبنا یہ کھانا کھا کر ہم اطمینان قلب کی دولت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو کھانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے براہ راست نازل ہوگا۔ اس کے کھانے سے انسان کس قدر مطمئن ہوں گے۔ اس کے علاوہ حواریوں نے اپنی فرمائش کے حق میں یہ بھی دلیل پیش کی۔ ونعلم ان قد صدقنا ایسا متبرک کھانا کھا کر ہم جان لیں گے کہ آپ ہم سے سچ فرماتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے جنت میں بیشمار نعمتیں تیار کر رکھی ہیں جن کا ایک نمونہ مائدہ کی صورت میں ہم استعمال کریں گے۔ اس طرح گویا آپ کی صداقت کا مشاہدہ بھی ہوجائے گا۔ اس قسم کے مشاہدہ کے لئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی رب العزت سے درخواست کی تھی رب ارنی کیف تحی الموتی “ اے اللہ ! مجھے مشاہدہ کرا دے کہ تو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے۔ اللہ نے فرمایا کیا تمہیں یقین نہیں ہے عرض کیا ، یقین تو ہے ولکن لیطمئن قلبی مگر میں آنکھوں سے مشاہدہ کر کے اطمینان قلب حاصل کرنا چاہتا ہوں تو یہاں پر حواریوں نے بھی طلب مائدہ کی علت یہ بیان کی کہ وہ اطمینان قلب حاصل کرنا چاہتے ہیں اور عیسیٰ (علیہ السلام) کی صداقت کا مشاہدہ کرنا چاہتے ہیں۔ حواریوں نے یہ بھی کہا کہ ہماری خواہش کے مطابق اگر اللہ تعالیٰ مائدہ نازل فرمادے گا وتکون علیھا من الشھدین تو ہم اس پر گواہی دینے والے بن جائیں گے گویا ہم اس بات کی شہادت دیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر ایسا غیر معمولی واقعہ ظاہر فرمایا ہے۔ حلال و حرام کی تمیز حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں نے نزول مائدہ کا مطالبہ کر کے حلال لیب اور بابرکت روزی حاصل کرنے کی خواہش کی تاکہ انہیں سکون قلب حاصل ہو۔ اس کے برخلاف مشکوک حرام اور ناجائز خوراک سے کسی کو سکون قلب حاصل نہیں ہو سکتا ، بلکہ اس کی خواہش میں اضافہ ہی ہوگا ایسے شخص کو برے وسوسے آئیں گے اور وہ ایمانی کاموں کی بجائے شیطانی امور پر توجہ مبذول کر دے گا۔ اکثر لوگ عبادت کی لذت سے محض اس لئے محروم ہوئے ہیں کہ ان کی خوراک درست نہیں ہوتی۔ عبادت کیسے مقبول ہو جب کہ پیٹ حرام مال سے بھرا ہوا ہو۔ جب خون میں حرام اجزا سرایت کرچکے ہوں گے تو دل کیسے لگے گا۔ شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ انسانی اخلاق پر غذا کا خاص اثر ہوتا ہے ، اسی لئے اللہ تعالیٰ نے مضر اخلاق چیزوں کو حرام قرار دیا ہے۔ نذر نعیر اللہ کا کھانا کھانے میں یہی خربای ہے ، بظاہر تو وہ چاول ، مٹھائی یا دودھی جیسی پاک چیز ہوتی ہے ۔ مگر اس میں ایسی روحانی خباثت اور بیماری ہے جس سے انسان کی روح پلید ہوجاتی ہے۔ پوری ملت ابراہیمیہ اس بات پر متفق ہے کہ نذر نعیر اللہ میں روحانی نجاست پائی جاتی ہے ، کتا بلی ، خنزیر وغیرہ اور بدبودار اور گندی چیزیں مضر اخلاق ہونے کی بناء پر ہی حرام ہیں اس کے برخلاف حلال اور طیب چیزیں کھانے سے اطمینان قلب حاصل ہوگا۔ عبادت میں دل لگے گا اور وہ مقبول ہوگی۔ نیکی کے کام انجام دینے کی طرف دل میں تڑپ پیدا ہوگی اور اس طرح انسان اخلاق کے بلند ترین مقام پر پہنچ جائے گا۔ الغرض ! اس گفتگو سے عیسیٰ (علیہ السلام) کو یقین ہوگیا کہ ان کے حواری نزول مائدہ کا مطالبہ کسی شک و شبہ کی بنا پر نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ اس کا مشاہدہ کر کے سکون قلب حاصل کرنا چاہتے ہیں اور یہ کوئی غلط مطالبہ نہیں ہے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مشاہدہ اور اطمینان قلب کی درخواست کو رد نہیں فرمایا تھا ، بلکہ آپ کی خواہش کو پورا کردیا تھا اب جب کہ عیسیٰ (علیہ السلام) اپنے حواریوں کے جائز مطالبہ سے مطمئن ہوگئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں نزول مائدہ کے لئے ہاتھ بلند کردیئے اس کا ذکر اگلی آیت میں آئے گا۔
Ayahs 5:114–115

قَالَ عِیْسَى ابْنُ مَرْیَمَ اللّٰهُمَّ رَبَّنَاۤ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآءِ تَكُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَوَّلِنَا وَ اٰخِرِنَا وَ اٰیَةً مِّنْكَ١ۚ وَ ارْزُقْنَا وَ اَنْتَ خَیْرُ الرّٰزِقِیْنَ Open ayah 5:114 in the Quran reader

عیسیٰ ابن مریم نے کہا اے اللہ ، اے ہمارے پروردگار ! اتار دے ہم پر ایک بھرا ہوا دستر خوان آسمان کی طرف سے کہ ہوجائے وہ ہمارے لئے عید ہمارے پہلوں کے لئے اور ہمارے پچھلوں کے لئے اور نشان ہو خاص تیری طرف سے اور رزق دے ہمیں اور بیشک تو بہتر روزی دینے والا ہے

قَالَ اللّٰهُ اِنِّیْ مُنَزِّلُهَا عَلَیْكُمْ١ۚ فَمَنْ یَّكْفُرْ بَعْدُ مِنْكُمْ فَاِنِّیْۤ اُعَذِّبُهٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُهٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ۠ Open ayah 5:115 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے فرمایا بیشک میں اتارنے والا ہوں اس کو تم پر ، پس جو شخص ناشکری کرے گا ، تم میں سے پس میں اس کو سزا دوں گا کہ نہیں سزا دوں گا میں ایسی کسی کو بھی جہاں والوں میں سے

ربط آیات مسیح (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کے ہونے والے انعامات کا ذکر ہو رہا ہے گزشتہ درس میں آپ کے حواریوں کا تذکرہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف پھیر دیا ، وہ ایمان لائے اور آپ کے معاون بن گئے۔ پھر انہوں نے آپ سے درخواست کی کہ آپ نزول مائدہ کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کریں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو سمجھایا اور تنبیہ کی کہ اہل ایمان کو اس قسم کی فرمائش نہیں کرنی چاہئے۔ حواریوں نے اپنے مطالبہ کی وضاحت کرتے ہوئے عرض کیا کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی قدرت میں کوئی شک و شبہ نہیں اور نہ ہی ہم اللہ تعالیٰ کو آزمانا چاہتے ہیں بلکہ ہم تو متبرک کھانا اس لئے کھانا چاہتے ہیں کہ ہمیں اطمینان قلب حاصل ہو۔ ہم آپ کی صداقت کا مشاہدہ کرلیں اور آپ کی نبوت و رسالت کے گواہ بن جائیں۔ دعائے مسیح جب مسیح (علیہ السلام) کو اطمینان ہوگیا کہ حواریوں کی فرمائش جائز ہے اور اس میں کوئی فاسد غرض کار فرما نہیں ہے تو انہوں نے بارگاہ رب العزت میں یوں دعا کی قال عیسیٰ ابن مریم عیسیٰ ابن مریم نے عرض کیا اللھم یہ لفظ یا اللہ کا ہم معنی ہے۔ عربی لغت کے مطابق اللہ سے پہلے یا کو اڑا کر بعد میں ھم بڑھا دیا جائے تو اللھم بن جاتا ہے ، تاہم معنی وہی ہے ، اے اللہ ! جب اللہ کا ذاتی نام لے کر اسے پکارا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ نہایت عاجزی کے ساتھ دعا کی جا ہی ہے اس کے ساتھ مسیح (علیہ السلام) نے ربنا بھی کہا ، یعنی اے ہمارے پروردگار ! ربوبیت اللہ ہی کی صفت ہے وہ رب المسلمین ہے وہ رب کل شیء ہے۔ رب کا معنی کسی چیز کو بتدریج حد کمال تک پہنچانا ہے۔ تو ہر چیز کا مربی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ یہاں پر خاسات کو دو ناموں یعنی اللہ اور رب کہہ کر پکارا گیا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس قسم کی تکرار نہایت عاجزی اور التجا کی علامت ہوتی ہے اور اس سے دعا کنندہ کو قبولیت دعا کی زیادہ امید ہوتی ہے۔ تو عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اے ہمارے پروردگار ! ہم تیرے سامنے درخواست کرتے ہیں کہ نزل علینا مآئدۃ من السمآء آسمان کی طرف سے ہم پر بھرا بھرا یا دستر خوان نازل فرما دے ، جس میں کھانا ہو ۔ اور نزول کا دن تکون لنا عیداً لا ولنا واخرنا ہمارے اگلوں اور پچھلوں کے لئے عید کا دن ہو۔ یعنی ہم بھی اسے خوشی کے دن کے طور پر منا سکیں اور ہمارے بعد آنے والے بھی اس کا تذکرہ عید کے دن کے طور پر کرسکیں۔ یوم عید عربی زبان میں خوشی کے ساتھ لوٹ کر آنے والی چیز کو عید کہتے ہیں۔ ہر سال لوٹ کر آنے والی عید کا یہی مفہوم ہے۔ چناچہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں نے بھی اسی خواہش کا اظہار کیا کہ ہم پر مائدہ نازل فرما اور یوم نزول کو ہمارے لئے عید کا دن بنا دے تاکہ اس دن کے پلٹ کر بار بار آنے پر ہمیں ہر بار خوشی اور سرور حاصل ہو۔ عید کا تصور تمام اقوام میں پایا جاتا ہے اور اس کے لئے زیادہ موزوں دن وہ ہوتا ہے جس دن کوئی نعمت میسر آئے۔ مسلمانوں کے لئے جمع کا دن بھی عید کا دن ہے کیونکہ اس روز اللہ تعالیٰ کے انعامات میں اضافہ ہوجاتا ہے اور اہل ایمان کی عبادت کی فضیلت بڑھ جاتی ہے اسی لئے جمعہ کو سید الایام یعنی تمام دنوں کا سردار دن کہا گیا ہے۔ اسی طرح سال بھر میں عید کے دو دن اللہ تعالیٰ کے انعام و اکرام کے دن ہی۔ عید الفطر مسلمانوں کے لئے تکمیل رمضان کا دن ہوتا ہے۔ پورے ایک مہینہ کے روزے رکھنے کے بعد روزہ دار کو لازماً خوشی حاصل ہوتی ہے ۔ لہٰذا یہ عید کا دن کہلاتا ہے اسی طرح عید الاضحی کے دن دنیا بھر کے مسلمانوں کو اللہ کی بارگاہ میں نہایت اخلاص کے ساتھ جانوروں کی قربانی پیش کرنے کا موقع ملتا ہے ، جو کہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔ حجاج کرام یہ قربانی وقوف عرفہ سے اگلے دن کرتے ہیں جو کہ تکمیل حج کی علامت ہے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔ بہرحال یہ دن اہل ایمان کے لئے خوشی کے دن یعنی عید کے دن ہوتے ہیں۔ البتہ حضرت علی سے یہ بات بھی منقول ہے کل یوم لا یعصی اللہ فید فھو عیدلنا ہمارے لئے ہر وہ دن عید کا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ ہو۔ لہٰذا عید کی خوشی مناتے وقت ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ کہیں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ ہوجائے۔ عید کے روز لہو و لعب ، نشہ آور اشیاء کا استعمال اور برائی کا ارتکاب عید کے شایان شان نہیں ہے بلکہ اس روز تو اللہ کی عبادت کرنی چاہئے اور وہ امور انجام دینے چاہئیں جن سے اللہ کی خوشنودی حاصل ہوجائے اور معصیت سے بچ جائیں۔ اہل ایمان کی عید کا یہی تصور ہے۔ عید کا دن عام طور پر خوشی کا دن ہوتا ہے مگر بعض اوقات اس میں غم بھی لاحق ہوجاتا ہے۔ جو شخص کسی تکلیف اور پریشانی میں مبتلا ہو اس کے لئے عید کا دن مزید پریشانی کا سبب بن جاتا ہے فارسی کا مقولہ ہے ” ماتم زدہ راعید بود ماتم دیگر “ خدانخواستہ کسی کے ہاں موت واقع ہوجائے تو ظاہر ہے کہ اس کے لئے یوم عید دگنی پریشانی کا باعث ہوگا۔ ایسا شخص کسی خوشی کے کام میں شریک ہونے کا جذبہ ہی کھو بیٹھتا ہے۔ ڈاکٹر اقبال مرحوم نے بھی کہا ہے۔ عید آزادداں شکوہ ملک و دین عید محکوماں ہجوم مومنین آزاد لوگوں کی عید ملک اور دین کے لئے باعث عزت و شرف ہوتی ہے جب کہ غلاموں کی عید تو محض ایک ہجوم ہوتا ہے کہ مل کر شور و غل برپا کرلیا ، ورگنہ غلامی کی زندگی میں عید کا وہ تصور قائم نہیں ہو سکتا جو آزادی کی فضا میں قائم ہوتا ہے۔ بہرحال عید کا مفہوم خوشی کے ساتھ وابستہ ہے جو دن خوشی کے ساتھ پلٹ کر آئے وہ عید کا دن ہوتا ہے اور وہ دن عید کا دن کہلانے کا زیادہ مستحق ہے جس دن کوئی نعمت نصیب ہو۔ مائدہ بطور عیسائی جس دن عیسیٰ (علیہ السلام) نے مائدہ کے لئے دعا کی تھی وہ اتوار کا دن تھا اسی لئے عیسائی اتوار کو ہمارے جمعہ کی طرح مقدس خیال کرتے ہیں۔ بہرحال اس دن انہوں نے یہی دعا کی کہ مولا کریم ! ہمارے لئے آسمان سے مائدہ نازل فرما جو ہمارے اور بعد میں آنے والوں کے لئے عید کا دن ہو وایۃ منک اور تیری جانب سے ایک خاص نشانی ہو۔ ظاہر ہے کہ آسمان کی طرف سے جو دستر خوان آجائے تو وہ معجزہ یا نشانی ہوگا۔ پھر مسیح (علیہ السلام) نے یہ بھی عرض کیا ، مولا کریم ! وارزقنا اور ہمیں روزی عطا فرما کہ ہم اس کے ضرورت مند اور خواہشمند ہیں وانت خیر الرزقین اور تو بہتری روزی عطا کرنے والا ہے۔ ہر جاندار کو تو ہی روزی بہم پہنچاتا ہے۔ ان اللہ ھو الرزق ذوالقوۃ المتین “ (الذاریت) خدا ہی روزی رساں اور مضبوط ہے۔ روزی کے تمام اسباب بھی اللہ تعالیٰ ہی کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ اس لئے مسیح (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ ہی سے روزی بہم پہنچانے کی دعا کی اور مائدہ کو بطور خاص نشانی ظاہر کرنے کی درخواست کی۔ نزول مائدہ اس کے جواب میں قال اللہ اللہ نے فرمایا انی منزلھا علیکم میں اسے اتارنے والا ہوں تم پر فمن یکفر بعد منکم پھر اگر اس کے بعد کسی نے ناشکرگزاری کی فانی اعذبہ عذاباً لا اعذبہ احداً من العلمین تو اسے ایسی سخت سزا دوں گا ، جو اور کسی کو نہ دوں گا۔ یہ اتوار کا دن تھا۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تو آسمان پر بادل نمودار ہوئے اور ان کے درمیان فرشتے دستر خوان اٹھائے ہوئے تھے ، وہ نازل ہوا۔ اس میں پانچ یا سات روٹیاں اور اتنی ہی تلی ہوئی مچھلیاں تھیں ، اس کے علاوہ سرکہ ، نمک مختلف سبزیاں اور زیتون کا تیل بھی تھا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کا نام لے کر دستر خوان کھولا اور لوگوں کو کھانے کی اجازت دی۔ تاہم اس کی لذت تو کھانے والے ہی جانتے ہوں گے۔ یہ دستر خوان ایک ایک دن کے وقفے سے چالیس دن تک نازل ہوتا رہا۔ بعض فرماتے ہیں کہ مائدہ صبح کے وقت نازل ہوتا تھا اور پچھلے پہر خود بخود اٹھ جاتا تھا۔ یہاں پر نزول مائدہ کے لئے دعا کا ذکر تو موجود ہے مگر اس کے فی الحقیقت نزول کا صریحاً ذکر نہیں ہے۔ مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ دعا کے نتیجے میں مائدہ نازل ہوا بھی تھا یا نہیں۔ حضرت عبداللہ بن عباس کے شاگرد حضرت مجاہد کہیت ہیں کہ مائدہ نازل نہیں ہوا تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس سخت سزا کی وعید سنائی تھی ، حواری اس سے ڈر کر خاموش ہوگئے۔ اور انہوں نے اس کے نزول پر اصرار نہ کیا۔ شاہ عبدالقادر اور دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ مائدہ فی الواقع نازل ہوا تھا۔ ان کے مطابق قرآن پاک کے الفاظ انی منزلھا علیکم حکمت سے خالی نہیں۔ لہٰذا مائدہ یقینا نازل ہوا ہے۔ ترمذی شریف میں سورة مائدۃ کی تفسیر میں حضرت عمار بن یاسر کی ایک ضعیف روایت موجود ہے جس کے مطابق دسترخ وان آسمان سے نازل ہوا اور اس میں گوشت اور روٹیاں تھیں یہ روایت منزلھا کے ساتھ کچھ مناسبت رکھتی ہے۔ امام بیضاوی بھی نزول مائدہ کے قائل ہیں۔ بہرحال نزول کے متعلق نہ تو قرآن کی کسی آیت میں صراحت ہے اور نہ ہی کسی صحیح حدیث میں ذکر ملتا ہے لہٰذا یقین سے نہیں بلکہ قرینے سے کہا جاتا ہے کہ مائدہ نازل ہوا تھا ، تاہم اللہ تعالیٰ قادر مطلق ہے وہ اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے جو چاہے کرسکتا ہے۔ شرائط مائدہ کی خلاف ورزی تفسیری روایت میں آتا ہے کہ نزول مائدہ کے ابتدائی ایام میں تو اس میں ہر شخص کو کھانے کی اجازت تھی اور اس غذا کا خاصہ یہ تھا کہ جو غریب آدمی کھاتا تھا ، وہ امیر ہوجاتا اور جو مریض کھاتا وہ شفایاب ہوجاتا پھر کچھ روز بعد اس کا حکم بدل گیا اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اعلان کردیا کہ اسے نہ تو غنی آدمی کھائے اور نہ ہی اس کا ذخیرہ بنا کر رکھا جائے مگر لوگوں نے اس حکم پر عمل نہ کیا اور محتاجوں کے ساتھ اغنیاء نے بھی کھانا شروع کردیا اور اسے بچا کر بھی رکھنے لگے۔ جس روز مائدہ نازل ہوتا اس میں سے کچھ کھالیتے اور کچھ اگلے دن کے لئے ذخیرہ کرلیتے۔ اس طرح یہ لوگ شرائط کی پابندی نہ کرسکے بلکہ اس بہت بڑی نعمت کی ناشکری کے مرتکب ہوئے اور پھر نتیجہ وہی نکلا جس کی خبر دی جا چکی تھی کہ جو کوئی ناشکری کریگا ۔ میں اس کو سخت سزا میں مبتلا کروں گا۔ چناچہ ان میں سے 80 یا 83 آدمی ایسے نکلے جنہوں نے مائدہ کی شرائط کو توڑا اور اس عظیم نعمت کی ناقدر دانی کے مرتکب ہوئے اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب بھڑکا ار ان لوگوں کو بندروں اور خنزیروں کی شکل میں تبدیل کردیا مسخو قردۃ وخنازیر اور پھر ایسے لوگوں کے لئے خدائی قانون یہ ہے کہ مسخ شدہ انسانوں کو تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رکھا جاتا حدیث شریف میں آتا ہے کہ تین دن کے بعد ان کو صفحہ ہستی سے ناپید کردیا گیا شاہ عبدالقادر فرماتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ اسلام کی قوم نے مائدہ کا خود مطالبہ کیا اور اس کے جواب میں مطلوبہ نعمت انہیں حاصل ہوگئی۔ فرماتے ہیں اس کے بعد جو شخص اس نعمت کی ناقدر دانی کرتا ہے ، وہ سزا کا مستحق ہوتا ہے ، چناچہ احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اس کی سزا بھگتنا پڑی۔ نعمت کی ناقدر دانی نعمت کی ناقدردانی کی پاداش میں ہم پاکستانی بھی سزا بھگت رہے ہیں۔ ہندو اور انگریز کی غلامی سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے اس برصغیر کے مسلمانوں نے ڈیڑھ دو سو سال تک جدوجہد کی اور اس کے لئے بڑی بڑی قربانیاں پیش کیں۔ مقصد یہ تھا کہ ہم اس خطہ اراضی میں اللہ کے احکام اور اس کے نبی کے فرمان کے مطابق زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔ خدا خدا کر کے ہمیں آزادی جیسی عظیم نعمت نصیب ہوئی مگر افسوس کا مقام ہے کہ ہم اس نعمت کی قدر نہیں کرسکے ، ملک پاکستان میں اسلامی نظام رائج کرنے کے کتنے وعدے ہوئے ہیں مگر کوئی بھی اس وعدے کو وفا نہ کرسکا اور یہاں پر یا تو انگریز کا طاغوتی نظام جاری رہا یا مارشل لاء کے جابرانہ احکام کو ماننا پڑا۔ حق تو یہ تھا کہ اس سر زمین پر فوراً اسلامی نظام جاری کردیا جاتا ۔ مگر ہر نئے آنے والے نے کمیٹیاں سر زمین پر فوراً اسلامی نظام جاری کردیا جاتا مگر ہر نئے آنے والے کمیٹیاں بنانے پر ہی اکتفا کیا اسلام کو نافذ کرنے کی کسی کو توفیق نہ ہوئی۔ اس وقت اس ملک میں تین متوازی نظام چل رہے ہیں۔ اصل قانون انگریز کا ہے جو ہمیں ورثے میں ملا ہے ، اس کے ساتھ مارشل لاء کے ضابطے ہیں اور پھر بعض معاملات میں برائے نام اسلامی قانون بھی رائج ہے مگر بالا دستی انگریزی قانونی ہی کو حاصل ہے۔ اگر کوئی جج اسلامی قانون کے مطابق فیصلہ کرتا ہے تو اس سے بڑا جج انگریزی قانون کی آڑ میں اسے کالعدم قرار دے دیتا ہے اور اس طرح اسلامی قانون عملی طور پر نہ ہونے کے برابر ہے۔ نتیجہ ظاہر ہے کہ آدھا ملک تو چھن چکا ہے اور باقی آدھے ملک میں جھگڑے فساد کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ کہیں سندھی اور پنجابی کا جھگڑا ہے ، کہیں افغان اور بلوچی کا تنازعہ ہے کہیں شیعہ سنی جھگڑے رہے ہیں تو کہیں دیو بندی بریلوی الجھ رہے ہیں ۔ کہیں مقلد اور غیر مقلد کی بحثیں چھڑی ہوئی ہیں ، کہیں سرمایہ داری نظام کو ہی وحی الٰہی سجھ لیا گیا ہے اور کہیں اشتراکیت کے لئے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ چاہئے تو یہ تھا کہ اللہ کی عطا کردہ نعمت آزادی کی قدر کرتے اور اس ملک میں اس کے احکام کو نفاذ کرنے کی جدوجہد کرتے مگر باہمی اختلافات کی وجہ سے ہم خود اسلام کے راستے میں رکاوٹ بن چکے ہیں۔ یہ تو اللہ کے غضب کو دعوت دینے والی بات ہے۔ اگر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی قوم مائدہ جیسی نعمت کی ناقدری کر کے اللہ کی ناراضگی کا شکار ہو سکتی ہے تو ہمیں بھی سوچنا چاہئے کہ آزادی جیسی عظیم نعمت کی قدر نہ کر کے ہم کس طرف جا رہے ہیں۔ بہرحال اللہ نے فرمایا کہ میں فرماش کو قبول کرتے ہوئے مائدہ اتارنے والا ہوں ، اب جو شخص ناشکری کا ارتکاب کرے گا تو میں ایسا عذاب دوں گا جو کسی دوسرے کو نہ دیا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اصول کے طور پر سمجھا دیا کہ خود کسی چیز کو طلب کر کے پھر اس پر کار بند نہ رہنا کتنا بڑا جرم ہے۔
Ayahs 5:116–117

وَ اِذْ قَالَ اللّٰهُ یٰعِیْسَى ابْنَ مَرْیَمَ ءَاَنْتَ قُلْتَ لِلنَّاسِ اتَّخِذُوْنِیْ وَ اُمِّیَ اِلٰهَیْنِ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ١ؕ قَالَ سُبْحٰنَكَ مَا یَكُوْنُ لِیْۤ اَنْ اَقُوْلَ مَا لَیْسَ لِیْ١ۗ بِحَقٍّ١ؐؕ اِنْ كُنْتُ قُلْتُهٗ فَقَدْ عَلِمْتَهٗ١ؕ تَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِیْ وَ لَاۤ اَعْلَمُ مَا فِیْ نَفْسِكَ١ؕ اِنَّكَ اَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ Open ayah 5:116 in the Quran reader

اور جب فرمائیگا اللہ تعالیٰ اے عیسیٰ ابن مریم کیا تم نے کہا تھا لوگوں کے لئے کہ مجھے اور میری ماں کو دو معبود ٹھہرالو اللہ کے سوا کہیں گے (عیسیٰ علیہ السلام) پاک ہے تیری ذات للہ ! نہیں لائق میرے لئے کہ میں کہوں یہی بات جس کا مجھے حق نہیں پہنچتا۔ اگر میں نے کہی ہو تو تو ضرور اس کو جانتا ہے ، تو جانتا ہے جو کچھ میرے جی میں ہے اور میں نہیں جانتا جو تیرے جی میں ہے۔ بیشک تو ہی سب غیبوں کا جاننے والا ہے

مَا قُلْتُ لَهُمْ اِلَّا مَاۤ اَمَرْتَنِیْ بِهٖۤ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ۚ وَ كُنْتُ عَلَیْهِمْ شَهِیْدًا مَّا دُمْتُ فِیْهِمْ١ۚ فَلَمَّا تَوَفَّیْتَنِیْ كُنْتَ اَنْتَ الرَّقِیْبَ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ اَنْتَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ شَهِیْدٌ Open ayah 5:117 in the Quran reader

میں نے نہیں کہی ان لوگوں سے مگر وہی بات جس کا تو نے مجھے حکم دیا کہ عبادت کرو اللہ کی جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی اور میں ان کی خبر رکھتا تھا جب تک میں ان کے اندر تھا ، جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو تو ہی ان پر نگران تھا ! بیشک تو ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔

ربط آیات گزشتہ رکوع قیامت کے دن محاسبے کے عمل کی تمہید پر مشتمل تھا ، اللہ تعالیٰ نے تمام رسولوں کو جمع کرنے کا ذکر فرمایا کہ ان سے پوچھا جائے گا کہ تمہاری امتوں نے تمہاری دعوت کا کیا جواب دیا ، تو تمام انبیاء اور رسل عاجزی کا اظہار کریں گے۔ پھر مثال کے طور پر مسیح (علیہ السلام) کا ذکر کیا جو دراصل ان کو معبود ماننے والوں کے لئے سخت ڈانٹ ہے کہ جب قیامت کو محاسبے کا وقت آئیلا تو مسیح (علیہ السلام) کو خدا کا بیٹا ماننے والے ذلیل و خوار ہو کر رہ جائیں گے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ یہ لوگ اسی دنیا میں اپنے عقیدہ کی درستگی کرلیں اور مسیح (علیہ السلام) کو ابن اللہ کہہ کر شرک میں مبتلا نہ ہوں۔ اسی سابقہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کا تذکرہ بھی کیا جو اس نے عیسیٰ (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ پر کیں۔ ان انعامات میں عیسیٰ (علیہ السلام) کو تحریر کا علم کتاب و حکمت کی تعلیم بنی اسرائیل سے آپ کی حفاظت ، حواریوں کی طرف سے آپ کی تائید وغیرہ شامل ہیں آپ کی والدہ پر بھی بڑے احسانات فرمائے۔ آپ کو جہاں بھر کی عورتوں میں اعلیٰ مقام عطا کیا۔ آپ کی پرورش غیر معمولی طریقہ سے ہوئی اور پھر بغیر خاوند کے آپ کے بطن سے عیسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا فرمایا ، بنی اسرائیل کے الزامات سے آپ کو پاک فرمایا وغیرہ وغیرہ انعامات ہی کے سلسلے کی آخری کڑی کے طور پر حواریوں کے مطالبہ پر نزول مائدہ کا ذکر فرمایا۔ اور اب اس تمہید کے بعد قیامت کے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے جو مثالی طور پر سوال و جواب ہوگا ، اس کا ذکر آ رہا ہے۔ ماضی بمعنی مستقبل ارشاد ہوتا ہے اس بات کو دھیان میں لائو اذ قال اللہ یعسی ابن مریم جب اللہ تعالیٰ فرمائے گا۔ اے عیسیٰ مریم کے فرزند ! یہاں پہ لفظ فال استعمال ہوا جس کا اطلاق زمانہ ماضی پر ہوتا ہے اور اس لحاظ سے معنی یہ ہوتا ہے جب اللہ نے فرمایا۔ حالانکہ بات محاسبے کی ہو رہی ہے جو آنے والا زمانہ ہے۔ اس ضمن میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ قرآن پکا کا یہ اسلوب بیان ہے کہ قیامت ، جنت ، دوزخ اور متعلقہ واقعات کو زمانہ مضای کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس طرح گزرا ہوا کوئی واقعہ شک و شبہ سے بالا ہوتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کا بتلایا ہوا محاسبے کا عملی قطعی اور یقینی ہے لہٰذا مستقبل میں پیش آنے والے واقعات کو ماضی میں بیان ک کے اس کی قطعیت پر مہر تصدیق ثبت کی گئی ہے اس کے علاوہ ایک اور توجیہہ یہ بھی ہے کہ ماضی حال اور مستقبل کا عتلق مخلوق کے ساتھ ہے ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام زمانے برابر میں لہٰذا اگر وہ کسی مستقبل کے واقعہ کو ماضی کے لفظ سے بیان فرماتا ہے تو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ اس کے لئے تو ہر چیز حاضر ہے اس کی ذات سے کوئی چیز غائب نہیں۔ سورة سبا میں موجود ہے ” علم الغیب لایعزب عنہ مث قال ذرۃ فی السموت ولا فی الارض “ وہ غیب کا جاننے والا ہے اس سے زمین و آسمان میں ذرہ کے برابر بھی کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ چناچہ اس لحاظ سے بھی مستقبل کا اطلاق ماضی پر کیا گیا ہے اس سے یہ بات بھی واضح ہوگئی کہ جس طرح اس دنیا میں اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ ابن مریم کہہ کر خطاب کیا۔ اسی طرح آخرت کی منزل میں بھی اسی نام سے خطاب کرے گا۔ لہٰذا مسیح (علیہ السلام) کو الہ ماننا یا آپ کا کوئی باپ ثابت کرنا دونوں باتیں غلط ہیں اور قرآن کی تعلیم کے خلاف ہے۔ مسیح (علیہ السلام) سے سوال اللہ تعالیٰ فرمائے گا ، اے عیسیٰ ابن مریم ! ء انت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو اللہ کے سوا دو معبود بنا لو ؟ ظاہر ہے کہ دنیا میں ماں بیٹا دونوں کی پرستش ہوتی رہی۔ امہات المومنین حضرت ام حبیبہ اور حضرت ام سلمہ نے حضور ﷺ کے سامنے بیان کیا کہ ہم نے حبشہ کے گرجا میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت مریم کی تصاویر دیکھیں ، وہ لوگ ان تصویروں کو سلام کرتے تھے اور ان کی تعظیم اور پوجا کرتیت ہے حضور ﷺ نے فرمایا اولئک شرار خلق اللہ یہ اللہ کی مخلوق میں بدترین لوگ ہیں۔ جب ان میں سے کوئی نیک آدمی فوت ہوجاتا تو یہ اس کی تصویر یا مجسمہ بنا کر رکھ لیتے ار پھر اس کی پوجا کرنے لگتے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ کفر کا راستہ ہموار کرنے والے بدترین لوگ ہیں عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ اتخذ اللہ ولداً اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے اور اسے اختیار دے دیا ہے کہ جو چاہے کرے ، جس کا چاہے بیڑا پا کر دے اور جس کو چاہے گرفتا کرلے۔ کہتے ہیں کہ وہ ہماری مرادیں پوری کرتا ہے اور ہماری بگڑی بناتا ہے۔ اسی طرح حضرت مریم کو مادر خدا کہا جاتا ہے۔ پھ ران کا باپ ، بیٹا اور روح القدس کا تثلیث والا عقیدہ بھی موجود ہے۔ یہ سب شرکیہ اور کفریہ عقائد میں۔ انہی عقائد کے ذریعے انہوں نے مسیح اور ان کی والدہ کو دوالہ بنا دیا ہے اور اسی کے متعلق قیامت کو عیسیٰ (علیہ السلام) سے سوال ہوگا کہ کیا تو نے ان لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو دوالہ بنا لو۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سوال ہونے پر حضرت مسیح (علیہ السلام) پر جو کیفیت طاری ہوگی اس کے متعلق مفسرین نے کئی باتیں لکھی ہیں۔ ان میں تفسیر کبیر تفسیر ابن جریر اور تفسیر روح المعانی قابل ذکر ہیں۔ تفسیری روایات میں سو فیصدی درست باتیں نہیں ہوتیں بلکہ ان میں اکثر قصے کہانیاں ہوتی ہیں۔ بعض اسرائیلی روایات بھی شامل کرلی جاتی ہیں مگر ان کی صحت کے متعلق یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ جس طرح وعظ یا تقریر میں کوئی چیز سمجھانے کے لئے کوئی قصہ ، کہانی ، مثال یا تشبیہ وغیرہ بیان کردی جاتی ہے اسی طرح تفسیر میں بھی ان چیزوں کو جگہ دے دی جاتی ہے مختلف تفاسیر میں سے شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی کی تفسیر عزیزی سب سے عمدہ ہے مگر مکمل نہیں۔ اس کے دو آخری پارے ہیں اور پھر ابتداء سے صرف ڈیڑھ پارہ ہے۔ یہ تفسیر آپ نے عمر کے آخری حصہ میں لکھوانا شروع کی مگر عمر نے وفا نہ کی۔ حضرت مولانا انور شاہ کشمیری فرماتے ہیں کہ اگر تفسیر عزیزی مکمل ہوجاتی تو کہا جاسکتا تھا کہ امت کے ذمے جو حق تفسیر تھا ، وہ کس حد تک ادا ہوگیا ہے۔ یہ اتنی عظیم تفسیر ہے۔ اللہ کے احکامات کو سمجھانے کے لئے شاہ صاحب نے جو حکیمانہ طریقہ اختیار کیا ہے۔ وہ اپنی مثال آپ ہے۔ اسی طرح آپ کے ہم عصر سید محمود الوسی شکری بغدادی نے روح المعانی جیسی عظیم تفسیر لکھی ہے۔ آپ بہت بڑے فقید اور عالم تھے صرف نحو ، علم کلام ، تاریخ اور جدید معلومات پر عبور حاصل تھا۔ آپ نے جوانی کے عالم میں ہر پارے کی علیحدہ علیحدہ تفسیر لکھ کر بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہے غرضیکہ تفسیری روایات میں بہت سی ایسی باتیں بھی آجاتی ہیں جن کی صحت کے متعلق مکمل ثبوت نہیں مہیا کیا جاسکتا ، تاہم ایسی روایات سے بات کو سمجھنے میں بہت مدد ملتی ہے۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی حالت بہرحال صاحب تفسیر روح المعانی نے لکھا ہے کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ مسیح (علیہ السلام) سے خطاب فرمائیگا۔ کیا تو نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو ، تو آپ پر کپکپی طاری ہو جائیگی۔ دہشت کی وجہ سے آپ کے بال کھڑے ہوجائیں گے اور ان کے نیچے سے خون نکلنے لگے گا ۔ علامہ آلوسی فرماتے ہیں کہ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ مسیح (علیہ السلام) پر یہ حالت پانچ سو سال تک طاری رہے گی اور وہ زبان سے کچھ نہیں بول سکیں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان کے دل میں القا کریں گے تو وہ سوال کا جواب دیں گے۔ قیامت کی سختیوں اور مشکل گھاٹیوں کو عبور کرنے کے لئے حضور ﷺ نے یہ تعلیم دی ہے کہ ایسے موقع پر یوں کہو حسبنا اللہ ونعم الوکیل ۔ یعنی ایسے مواقع پر ہمارے لئے اللہ ہی کافی ہے اور وہی بہترین کار ساز ہے۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر کوئی شخص زبان نہیں کھول سکے گا۔ سب اس کے عاجز بندے ہیں۔ قبر میں ، حشر میں ، میززن پر اور سوال و جواب کے وقت اللہ تعالیٰ کی امداد کے بغیر کچھ نہیں ہو سکے گا ، جب صورپھونکا جائے گا اور ہر طرف دہشت طاری ہو جائیگی تو فرمایا اس وقت یہی کہو حسبنا اللہ ونعم الوکیل فرمایا یہ بھی کہو علی اللہ توکلنا اللہ تعالیٰ پر ہی ہمارا بھروسہ ہے وہی ہمارا کار ساز ہے۔ تمام مشکلات کو وہی آسان کرنے والا ہے۔ پل صراط پر سے وہی گزر سکے گا جس کے لئے اللہ تعالیٰ یہ منزل آسان فرما دیگا۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کا … جب حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے دہشت کی کیفیت دور ہوگی تو اللہ تعالیٰ کے سوال کا نہایت عاجزی کے ساتھ جواب دیں گے قال سبحانک عرض کریں گے۔ اے مولا کریم ! تیری ذات پاک ہے۔ تو ہر عیب ، نقص اور کمزوری سے پاک ہے۔ یہ بڑا پاکیزہ کلمہ ہے اور اسی سے نماز کی ابتدا کی جاتی ہے سبحنک اللھم تو مسیح (علیہ السلام) اللہ کی پاکیزگی بیان کر کے عرض کریں گے مایکون کو میرے لئے یہ لائق نہیں ہے ان اقول ما لیس لی بحق کہ میں ایسی بات کروں جس کا مجھے کوئی حق نہیں پہنچتا۔ یعنی مجھے کیا حق ہے کہ میں لوگوں سے اپنی الوہیت کا اقرا ر کرائوں۔ مخلوق میں سے کسی کا یہ حق نہیں کہ وہ خدائی اختیارات اپنے لئے ثابت کرنے لگے۔ یہ تو بہت بڑی تکبر کی بات ہے جو اللہ تعالیٰ کو ہرگز پسند نہیں۔ صحیح حدیث میں آتا ہے کہ اللہ فرماتا ہے العظمۃ ازاری والکبریا روانی یعنی عظمت میرا تہ بند ہے اور تکبر میری چادر ہے۔ جو اس کو اوڑھنا چاہیگا میں اس کو ذلیل کر کے جہنم میں داخل کروں گا۔ سورة مومن میں موجود ہے ان الذین یستکبرون عن عبادتی “ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یاں عبادتی سے مراد دعائی ہے یعنی جو لوگ میرے سامنے دست دا اٹھانے سے تکبر کرتے ہیں ” سید خلون جھنم داخرین “ انہیں ذلیل کر کے جہنم میں داخل کروں گا۔ بہرحال مخلوق میں سے یہ کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے اوپر غرور وتکبر اور الوہیت کی چادر اوڑھے بلکہ اس کا فرض تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور بڑائی بیان کرے۔ سورة مدثر میں یہی تعلیم دی گئی ہے ” وربک فکبر “ اپنے رب کی بڑائی بیان کرو۔ تو فرمایا عیسیٰ (علیہ السلام) عرض کریں گے ، پروردگار ! تیری ذات پاک ہے میرے لئے یہ ہرگز لائق نہیں کہ میں ایسی بات کروں جس کا مجھے کوئی حق نہیں پہنچتا۔ اے مولا کریم ! ان کنت قلت ” وتد علمتہ ، اگر میں نے کوئی ایسی بات کی ہوگی تو تو اسے جانتا ہے۔ کیونکہ تعلم ما فی نفسی میرے جی کی بات کو تو جانتا ہے ولا اعلم مافی نفسک اور تیرے جی کی بات کو میں نہیں جانتا۔ مطلب یہ ہے کہ تو ہر چیز کو جانتا ہے اگر میں نے کوئی ایسی بات کی ہوگی تو تیرے علم سے تو باہر نہیں ہے ، میرا ظاہر باطن سب تیرے سامنے سے مگر خالق کا باطن مخلوق نہیں جانتی سوائے اس کے جو تو خود بتلا دے۔ یہاں پر لفظ نفس کا اطلاق کیا گیا ہے۔ نفس انسانی بھی ہوتا ہے اور حیوانی بھی ۔ یہ مخلوق تو عارضی چیز ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کے لئے قرآن پاک میں جہاں جہاں نفس کا لفظ استعمال ہوا اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے مثلاً کتب علی نفسہ الرحمۃ اس نے اپنی ذات پر جمت کو لکھ لیا ہے اس نے یہ بات اپنے ذمہ لے لی کہ وہ اپنی مخلوق پر رحم فرمائے گا۔ اسی طرح ” یحذرکم اللہ نفسہ “ اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی ذات سے ہوشیار کرتا ہے لہٰذا کوئی غلط کام نہ کر بیٹھنا۔ بہرحال نفس کا معنی ذات ہوتا ہے۔ اس کے بعد مسیح (علیہ السلام) نے عرض کیا۔ اے مولا کریم ! انک انت علام الغیوب تمام پوشیدہ باتوں کو جاننے والا تو ہی ہے۔ لہٰذا تو میرے کسی فعل سے غافل نہیں۔ یہ بیان پہلے بھی گزر چکا ہے کہ تمام انبیاء اس بات پر متفق ہیں کہ اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے۔ وہ علام الغیوب ہے وہ عالم الغیب والشہادت ہے۔ وہ مخلوق کی ہر حاضر اور غائب چیز کو جاننے والا ہے۔ علم غیب اس کی صفت مختصہ ہے اس کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں۔ امام شاہ ولی اللہ حدیث دہلوی فرماتے ہیں کہ انبیاء کے متعلق قدرت تامہ اور علم غیب کی نفی کرنا واجب ہے۔ کیونکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی خاص صفت ہے جو مخلوق میں سے کسی میں نہیں پائیج اتی۔ اسی لئے عیسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ اے اللہ ! تمام غیبوں کو جاننے والا تو ہی ہے۔ توحید کی دعوت عیسیٰ (علیہ السلام) نے دربار خداوندی میں مزید عرض کیا ماقلتلھم و الا ما امرتنی بہ ۔ میں نے اپنی قوم سے تیرے حکم کے سوا کچھ نہیں کہا اور وہ یہ ہے ان اعبدوا اللہ ربی وربکم کہ اس اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے حاجت روا مشکل کشا ، قادر مطلق ، نافع اور رضا سوائے خدا تعالیٰ کے اور کوئی نہیں ہے لہٰذا قولی ، فعلی ، اعتقادی ، عملی ہر قسم کی عبشادت کے لائق وہی ذات ہے میں بھی تمہاری طرح خدا کا عاجز بندہ ہوں پہلے گزر چکا ہے ” ما المسیح ابن مریم الا رسول قدخلت من قبلہ الرسل ۔ مسیح ابن مریم اس کے سوا کچھ نہیں کہ وہ اللہ کے رسول ہیں جس طرح کہ ان سے پہلے رسول گزر چکے ہیں۔ رسول نسل آدم سے ہونے کی بنا پر انسان ہوتے ہیں۔ وہ عالم الغیب ، حاجت روا اور مشکل کشا نہیں ہوتے۔ ان میں تو عاجزی اور انکساری پائی جاتی ہے۔ وہ اپنی الوہیت کا اعلان کیسے کرسکتے ہیں۔ فرمایا میں نے تو انہیں اسی بات کی تلقین کی تھی جس کا تو نے مجھے حکم دیا و کنتم علیھمء شھیداً ما دمت فیھم جب تک میں ان کے درمیان رہا اس وقت تک ان کی خبر رکھتا تھا۔ فلما توفیتنی پھر جب تو نے مجھے اٹھا لیا کنت نت تعیب علیھم تو تو ہی ان کا نگران تھا وانت علی کل شی شھید اور تو ہر چیز کی خبر رکھنے والا ہے۔ میرے آسمان پر اٹھائے جانے کے بعد مجھے معلوم نہیں کہ یہ لوگ کیا کرتے رہے ہیں۔ میں انہیں اپنی زندگی میں توحید ہی کی عوت دیتا رہا۔ مگر میرے بعد پھر تو ہی ان کا نگران تھا اور تو ہر چیز سے واقف ہے ۔ تفسیر کبیر الے توفیتنی کا معنی کرتے ہیں کہ مجھے آسمان کی طرف اٹھا لیا چناچہ معراج والی حدیث میں آتا ہے کہ دوسرے آسمان پر حضور ﷺ کی ملاقات حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) سے ہوئی۔ باقی سب لوگ تو اپنی دنیا کی زندگی پوری کرچکے ہیں مگر مسیح (علیہ السلام) دنیا کا دور ابھی کچھ باقی ہے۔ وہ زمین پر دوبارہ آئیں گے۔ دجال کو قتل کریں گے۔ حضور ﷺ کے نائب کی حیثیت سے آپ کی شریعت کو جاری کریں گے۔ اسی لئے مولانا شیخ الہندہ بھی یہاں پر توفی کا معنی اٹھا لینا ہی کرتے ہیں۔ توفی کا لغوی معنی اخذ الشی رافیاً یعنی کسی چیز کو مکمل طو ر پر قبض یا وصول کرلینا۔ یہ لفظ موت کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے اس مقام پر اس لفظ سے مراد موت نہیں بلکہ اٹھا لینا ہے۔ موت کا عام قانون یہ ہے اللہ یتوفی الا انس اللہ تعالیٰ موت کے وقت جانوں کا کھینچ لیتا ہے۔ مگر مسیح (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا ” انی متوفیک و رافع الی “ حضرت عبداللہ بن عباس نے اس کا معنی یہ کیا ہے کہ میں تجھے اٹھا لینے والا ہوں پھر اپنے وقت پر وفات دوں گا۔ یہ لوگ تمہیں آج سولی پر چڑھا کر موت سے ہمکنار کرنا چاہتے ہیں۔ ، مگر میں ایسا نہیں ہونے دوں گا ، بلکہ مقررہ وقت پر موت دوں گا ، قادیانیوں نے بھی اس لفظ سے غلط معنی لئے ہیں۔ وہ اس سے عیسیٰ (علیہ السلام) کی موت ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، حالانکہ حقیقت اس کے خلاف ہے۔