5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 5:57–59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوا الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا دِیْنَكُمْ هُزُوًا وَّ لَعِبًا مِّنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ الْكُفَّارَ اَوْلِیَآءَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَ Open ayah 5:57 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نہ بنالو ان لوگوں کو جنہوں نے ٹھہرایا ہے تمہارے دین کو ٹھٹا اور کھیل ‘ ان لوگوں میں سے جن کو کتاب دی گئی تم سے پہلے ‘ اور کافروں کو ( بھی نہ بنائو ‘ دوست۔ اور اللہ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو

وَ اِذَا نَادَیْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ اتَّخَذُوْهَا هُزُوًا وَّ لَعِبًا١ؕ ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَوْمٌ لَّا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:58 in the Quran reader

ورنہ جب تم پکارتے ہو نماز کی طرف تو ٹھہراتے ہیں اس کو ٹھٹا اور کھیل۔ یہ اس وجہ سے کہ بیشک یہ بےعقل لوگ ہیں

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ هَلْ تَنْقِمُوْنَ مِنَّاۤ اِلَّاۤ اَنْ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْنَا وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلُ١ۙ وَ اَنَّ اَكْثَرَكُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 5:59 in the Quran reader

اے پیغمبر ! (ﷺ) آپ کہہ دیجئے کہ اے اہل کتاب ! تم ہم میں کیا عیب پاتے ہو سوائے اس کے کہ ہم ایمان لائے ہیں اللہ پر ‘ اور جو چیز اتاری گئی ہے ہماری طرف اور جو نازل کی گئی ہے اس سے پہلے اور بیشک تم میں سے اکثر لوگ نافرمان ہیں

ربط آیات گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہودو نصاری کی دوستی سے منع فرمایا تھا اور اس کے ساتھ منافقین کی مذمت بیان کی تھی۔ اس کے بعد مرتدین کے بارے میں فرمایا کہ اگر وہ دین سے برگشتہ ہوجائیں تو اس میں ان کا اپنا ہی نقصان ہوگا ‘ اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ پھر ایمان والوں کو تلقین کی گئی کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی کار سازی پر اعتماد ہونا چاہیے اور اس کے رسول اور مسلمانوں سے حقیقی دوستانہ اور محبت ہونی چاہیے۔ اہل ایمان کی صفات بھی بیان فرمائیں کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں ‘ زکوۃ ادا کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور انکساری کا اظہار کرتے ہیں۔ فرمایا ایسے لوگ اللہ کے گروہ میں شامل ہیں ‘ اس کی پارٹی کے ممبر ہیں اور بالآخر انہیں کو غلبہ حاصل ہوگا۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہود ‘ نصاری ‘ کفار اور مشرکین کے ساتھ دوستی کرنے سے منع فرمایا ہے اور وہ وجہ بھی بیان فرمائی ہے جس یک بنا ‘ پر ایک حقیقی مومن ایسے لوگوں کے ساتھ دوستانہ روابط قائم نہیں کرسکتا۔ دین کی حفاظت ارشاد ہوتا ہے یا یھا الذین امنوا اے ایمان والو ! لا تتخذوا الذین التخذوا دینکم ھزوا ولعبا “ نہ بنائو (دوست) ان لوگوں کو جنہوں نے تمہارے دین کو ٹھٹا اور کھیل بنارکھا ہے ۔ یعنی جو لوگ تمہارے دین کا تمسخراڑاتے ہیں اشعائر اللہ کو کھیل کود سے زیادہ حیثیت نہیں دیتے ‘ ان لوگوں کے ساتھ تمہارا دوستانہ کیسے ہو سکتا ہے ۔ اگر دین کے مخالفین سے گٹھ جوڑ قائم رہا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دراصل تمہارا دین کے ساتھ تعلق کمزور پڑگیا ہے اور تمہارے دل میں دین کی وقعت باقی نہیں رہی ‘ حالانکہ دین کی حفاظت سب سے اہم معاملہ ہے اللہ کے رسول نے دین کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے آپ دعا فرمایا کرتے تھے اللھم لا تجعل الدنیا اکبر ھمنا ولا مبلغ علمنا 1 ؎ ترمذی 504 (فیاض) ولاغایۃ رغبتنا ولا تجعل مصیبتنا فی دیننا اے اللہ ! دنیا کو ہی ہمارا مقصود اور منتہائے علم نہ بنانا کہ ہم دنیا کی خاطر ہی تمام توانائیاں صرف کردیں اور عقبی سے بالکل غافل رہ جائیں ‘ اے اللہ ! ہمارے دین میں ہمارے لیے مصیبت نہ بنانا کیونکہ دنیا کی مصیبت تو ختم ہو سکتی ہے مگر دین کی مصیبت آگے چل کر سخت نقصان دہ ثابت ہوگی مومن دین کو ہر چیز پر ترجیح دیتا ہے وہ دین کی حفاظت کے لیے تمام قوتیں بروے کار لاتا ہے ۔ من قتل دون دینہ فھو شھید جو دین وفاع کرتے ہوئے قتل ہوا ‘ وہ شہادت کا مرتبہ پا گیا غرضیہ ایک مومن کے لیے دین کو ہر چیز پر فوقیت حاصل ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے کافر و مشرک اور یہودونصاری کے ساتھ دوستی نہ کر نیکی وجہ یہ بیان فرمائی کہ وہ شاعائر دین کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ اور وہ کون ہیں ؟ من الذین اوتوالکتب من قبلکم وہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی ‘ اس سے مراد یہودو نصاری ہیں جنہیں عام اصطلاح میں اہل کتاب کہا جاتا ہے۔ والکفار اولیآء اور کفار کو بھی اپنا دوست نہ بنائو ‘ وہ بھی اسلام دشمنی میں اہل کتاب کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔ واتقوا اللہ ان کنتم مئومنین اور خد ا تعالیٰ سے ڈرو اگر تم ایمان والے ہو۔ گویا ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ دین کے ساتھ ٹھٹا کرنے والوں کو ہرگز دوست نہ بنایا جائے۔ اذان کے ساتھ استہزاء آگے اللہ تعالیٰ نے اذان کے ساتھ استہزاء کی خاص طور پر نشاندہی فرمائی ہے۔ واذا نادیتم الی الصلوۃ جب تم نمازوں کے لیے پکارتے ہو یعنی اذان دیتے ہو اتخذو ھا ھزوا ولعباً “ تو یہ لوگ اسے ٹھٹا اور کھیل بناتے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے ‘ کہ مدینے کے ایک نصرانی کو اذان سے بہت چڑ تھی۔ جس وقت مئوذن کہتا اشھد ان محمد الرسول اللہ تو وہ بد بخت بدعا کرتا احرق اللہ الکاذب (جھوٹا جل جائے) جھوٹا تو وہ خود ہی تھا اللہ نے اس کی دعا اس طرح قبول کی کہ ایک دن اس کی لونڈی گھر میں آگ لائی۔ اس کی چنگاری کسی چیز پر گر گئی جس سے سارے مکان کو آگ لگ گئی اور وہ عیسائی وہیں جل کر راکھ ہوگیا۔ اللہ نے اسے گستاخی کی سزاد یدی۔ ابو محذورہ ؓ کی اذان ابو محذورہ ؓ کے متعلق بھی اذان کے ساتھ استہزاء کرنے کی روایت آتی ہے۔ جب اذان ہوتی تو یہ دوسرے لڑکوں کے ساتھ مل کر اذان کی نقلیں اتارتے اور چیخ و پکار کرتے۔ اتفاق سے ایک دن حضور ﷺ کا ان پر گزر ہوا۔ آپ نے حکم دیا کہ ان لڑکوں کو پکڑ کرلے آئو ‘ باقی سب لڑکے بھاگ گئے مگر ابو محذورہ ؓ قابو آگئے۔ حضور ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا۔ آپ نے فرمایا اب میرے سامنے اذان کے الفاظ بلند آواز سے دہرائو۔ مگر وہ ہچکچایا ۔ شہادت کے کلمات تو کفار و مشرکین پر بہت گراں گزرتے تھے۔ اشھد ان لا الہ الا اللہ تو ا ن کے لیے موت تھی اپنی زبان سے اشھد ان محمد رسول اللہ کہنے سے بھی ان کے عقیدے پر زد پڑتی تھی۔ اس لیے وہ یہ کلمات کہنے سے گریز کررہا تھا۔ جب حضور ﷺ نے سختی سے حکم دیا تو انہوں نے یہ کلمات آہستہ آواز سے کہ دیے مگر آپ نے فرمایا بلند آواز سے کہو۔ جب انہوں نے پوری آواز کے ساتھ شہادتیں کے کلمے کہے تو اللہ نے ان کا دل نور ایمان سے منور کردیا۔ اور وہ اسی وقت مسلمان ہوگئے۔ اس کے بعد آپ نے ابو مخدورہ ؓ کو مکہ میں مئوذن مقرر فرما دیا۔ آپ شہادتین کے کلمات اسی طرح کہتے تھے جس طرح حضور ﷺ نے خود ان سے کہلوائے تھے یعنی دو دفعہ آہستہ آواز سے اور دو دفعہ بلند آواز سے۔ یہیں سے اذان میں ترجیع کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے جو فقہاء شہادتین کے کلمات مکرر کہنے کے حق میں ہیں وہ اسی ابو مخدورہ ؓ کی اذان سے استدلال کرتے ہیں جو ساری عمر اسی طریقے سے اذان دیتے رہے۔ البتہ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ اذان میں ترجیع جائز ہے مگر اسے سنت کا درجہ حاصل نہیں کیونکہ حضور ﷺ نے محض ہچکچانے کی وجہ سے شہادتین کے کلمات دوبارہ کہلائے تھے ‘ لہذا یہ عام حکم نہیں ہے۔ استہزاء کی ممانعت اذان شعائر اللہ میں سے ہے۔ اس کے کلمات میں عقیدہ توحید و رسات اور اللہ کی عظمت کا اقرار ہے ‘ ایسی بےمثال عبادت کا تمسخر اڑانا بہت بری بات ہے۔ استہزاء تو کسی انسان کے ساتھ بھی کرنا شریعت میں قطعی حرام ہے۔ سورة حجرات میں موجود ہے ” لا یسخر قوم من قوم “ ایک دوسرے کو ٹھٹا مت کرو۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعہ میں آتا ہے کہ جب آپ نے بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو وہ کہنے لگے اتتخذونا ھزوا “ کیا تو ہم سے ٹھٹا کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا اعوذ باللہ ان اکون من الجہلین “ پناہ بخدا اس بات سے کہ میں جاہلوں میں سے ہو جائوں۔ مطلب یہ کہ ٹھٹا کرنا جاہلوں اور بیوقوفوں کا کام ہے کوئی شریف آدمی کسی سے استہزا نہیں کرتا جب انسان ایک دوسرے سے تمسخر نہیں کرسکتے تو اذان یا کسی دیگر شعائر اللہ سے تمسخر کرنا تو بطریق اولی حرام ہے۔ استہزا کی بیماری اب یہود و نصاری سے نکل کر مسلمانوں میں بھی آچکی ہے ۔ مختلف موضوعات پر کارٹون بنانا ‘ ڈرامے پیش کرنا ‘ نمازیوں کا تمسخر اڑانا اور عبادت کو کھیل کے طور پر پیش کرنا اس کے سوا کیا ہے کہ دین کے ساتھ استہزا ہے۔ صدر ایوب کے زمانے میں روزنامہ مشرق میں پڑھا تھا کہ مظفر نرالا نامی فلم ایکڑ کے ہاں لڑکا پیدا ہوا تو اس نے اس بچے کے کان میں مرغ کی اذان دلوائی۔ نو مولود کے کان میں اذان کرنا سنت ہے مگر اس شخص نے اس سنت کا مذاق اڑایا۔ اسی طرح لافنگ گیلری والوں نے داڑھی کو استہزا کا نشانہ بنایا ہے۔ حالانکہ داڑھی سنت انبیاء ہے۔ جو خود تارک سنت ہے اسے خود کمازکم سنت کا مذاق تو نہیں اڑانا چاہیے۔ پہلی صدی ہجری کا واقعہ ہے کہ گور نر عباد خراسان کے سفر پر روانہ ہوا تو اس کے ساتھ ایک منہ پھٹ شاعر بھی تھا۔ چلتے وقت عباد کی لمبی داڑھی خوب ہلتی تھی ‘ اس پر شاعر نے مزاحیہ شعر کہہ دیا۔ گورنر کو علم ہوا تو اس نے شاعر کی سخت سرزنش کی اور اسے پانچ ماہ تک پنجرے میں بند رکھنے کی سزادی گورنر اگر چہ خود زیادہ عادل تو نہیں تھا۔ مگر اس نے داڑھی کی توہین کو برداشت نہ کیا۔ وہ شعریہ تھا ؎ الالیت اللحی کانت حثیثآ فنعلفھا خیول المسلمین کاش یہ داڑھیاں گھاس ہو تیں تو ہم انہیں مسلمانوں کے گھوڑوں کو کھلاتے یہودیوں کا یہ خاص شیوہ ہے کہ وہ اسلام اور اہل اسلام کی تضحیک کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ انہوں نے سمین اینڈ ڈیلائلہ کے نام سے پیغمبروں کی فلم بنادی ‘ کہیں حضرت سلیمان (علیہ السلام) کو فلم میں پیش کردیا یہ اللہ کے برگزیدہ بندوں کے ساتھ استہزاء ہے جو کہ بہت ہی قبیح حرکت ہے بدر کی جنگ کو فلم کے ذریعہ پیش کیا ‘ ارکان حج فلمائے گئے اور لوگ خوش ہیں کہ یہ بہت اچھی چیز ہے ‘ اس سے ٹریننگ ہوتی ہے ‘ اہل اسلام کے لیے رغبت پیدا ہوتی ہے مگر یہ سب یہودو نصاریٰ کے نقش قدم پر شعائر اللہ کے ساتھ کھیلنے کے مترادف ہے۔ یہ کام خود مسلمان انجام دے رہے ہیں جو کہ دین کے ساتھ ٹھٹا ر کرنے والی بات ہے۔ تو فرمایا ‘ جب تم نماز کی طرف بلاتے ہو ‘ تو یہ اس کو ٹھٹا اور کھیل بناتے ہیں۔ ذلک بانھم قوم لایعقلون یہ اس وجہ سے کہ یہ بےعقل لوگ ہیں۔ یہ اچھے اور برے میں تمیز کرنے کی اہلیت ہی نہیں رکھتے ‘ وگرنہ دنیا کا کوئی مذہب ایسا نہیں جو شعائر اللہ کی تعظیم نہ کرتا ہو اذان ‘ نماز ‘ حج وغیرہ تو شعائر اللہ ہیں ‘ ان کی بےحرمتی تو احمق لوگ ہی کرسکتے ہیں۔ دوسرے مقام پر فرمایا من یعظم شعآ ئر اللہ فانما من تقوی القلوب “ جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے اس کا دل تقویٰ سے لبریز ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جو تمسخر کرے گا۔ وہ تقویٰ سے بالکل عاری ہوگا۔ امریکہ اور کینیڈا کے یہودیوں نے اسلامی شعائر کو بہت حدتک تضحیک کا نشانہ بنانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کپڑے پر یہ کلمہ طیبہ پرنٹ کردیا ‘ ماچس کی ڈبیہ پر لکھدیا تاکہ اس کی بےحرمتی ہو۔ قمیض کے پچھلے حصے پر آیت الکرسی لکھ دی جو بیٹھنے کے وقت نیچے آجائے۔ ایک بدبخت نے اونٹ کا نام محمد رکھ دیا۔ ایک انگریز نے حضرت علی ؓ کو لنگور کے نام سے موسم کیا ۔ غرضیکہ یہ لوگ اسلام اور اہل اسلام کی توہین ‘ تمسخر اور ٹھٹا کرنے سے باز نہیں آتے۔ اور مسلمان بھی ان کے دیکھا دیکھی اسی روش پر چل نکلے ہیں۔ یہ بےعقل لوگ ہیں۔ مسلمانوں کی عیب جوئی ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر (علیہ السلام) آپ ان سے کہہ دیں یاھل الکتب اے اہل کتاب یعنی یہود و نصاری ھل تنقمون منا تم ہم میں کیا عیب پاتے ہو۔ تنقمون دراصل انتقام سے ہے جس کا معنی بدلہ لینا ہوتا ہے۔ مگر یہاں پر اس سے مراد عیب جوئی ہے۔ یعنی ہمارا عیب صرف یہ ہے الا ان امنا باللہ کہ ہم اللہ پر ایمان لائے ہیں۔ ومآ انزل الینا اور اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو ہماری طرف نازل کی گئی ومآ انزل من قبل اور اس چیز پر ایمان لائے جو پہلے اتاری گئی۔ یعنی زبور۔ تورات ‘ انجیل اور صحائف انبیاء ۔ اللہ نے حضور ﷺ سے فرمایا ‘ ذرا آپ ان بدبختوں سے یہ تو پوچھیں کہ کیا ہمارا ایمان باللہ اور ایمان بالکتب تمہارے نزدیک عیب کی بات ہے حالانکہ یہ تو کمال کی بات ہے جسے نصیب ہوجائے۔ تم ہمیں کس قصور کی بنا پر طعن و ملامت کرتے ہو۔ تمہارے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں ہے اور تمہاری اپنی حقیقت یہ ہے کہ وان اکثر کم فسقون تمہاری اکثریت نافرمانوں کی ہے۔ تم بےایمان ہو ‘ نقض عہد کرتے ہو ‘ دین کا تمسخر اڑاتے ہو ‘ دین حق کے خلاف سازشیں کرتے ہو ‘ تم اپنی خفت کو مٹانے کے لیے اہل حق پر طعن کرتے ہو۔ سورة توبہ میں موجود ہے اگر یہ لوگ بد عہد ی کریں اور تمہارے دین میں طعن کریں ” فقاتلوآ ائمۃ الکفر لا انھم لا ایمان لھم “ تو ان اکابر ین کفر کی سرکوبی کریں یہ بےایمان لوگ ہیں۔ جب تک ان کے ساتھ سختی نہیں کی جائیگی یہ سازشوں سے باز نہیں آئیں گے۔ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے اور انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ تو یہ اہل کتاب کی بات ہے ‘ آج مسلمانوں کی حالت بھی ان سے مختلف نہیں۔ ان میں بھی ہر طرح کی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔ وعظ و نصیحت کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ لہذا ان کا علاج بھی تعزیر کے ذریعے ہی ممکن ہے جب تک ان کا محاسبہ نہیں ہوگا ان کی قبیح حرکات میں اضافہ ہی ہوتا رہیگا امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ اخلاقی تعلیم اور تعزیر دونوں چیزیں ہمارے دین کا جزو ہیں ۔ اگر تعلیم و تربیت کے ذریعے اصلاح احوال نہیں ہوتی تو پھر تعزیر ضروری ہوجاتی ہے کیونکہ اس کے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک معاندین کی سرکوبی نہیں ہوگی دین کے ساتھ استنرار بند نہیں ہوگا اور دین کے تحفظ کے لیے مسلمانوں اور کافروں سے بیک وقت نبرد آزما ہونا پڑے گا۔ دین اسلام کو استہزا اور کھیل کود سے بچانے کے لیے دونوں محاذوں پر جدوجہد کرنا ہوگی۔
Ayahs 5:60–63

قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ بِشَرٍّ مِّنْ ذٰلِكَ مَثُوْبَةً عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ مَنْ لَّعَنَهُ اللّٰهُ وَ غَضِبَ عَلَیْهِ وَ جَعَلَ مِنْهُمُ الْقِرَدَةَ وَ الْخَنَازِیْرَ وَ عَبَدَ الطَّاغُوْتَ١ؕ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ عَنْ سَوَآءِ السَّبِیْلِ Open ayah 5:60 in the Quran reader

اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے ‘ کیا میں بتائوں تم کو کہ اس سے زیادہ بد تر ۔۔۔۔۔ اللہ کے نزدیک وہ ہے جس پر اللہ نے لعنت کی ہے اور اس پر غضب کیا ہے اور بنایا ہے ان میں سے بعض کو بندر اور خنزیر اور وہ جنہوں نے شیطان کی پوجا کی یہی لوگ ہیں بدترین درجے کے اعتبار سے اور زیادہ بہکے ہوئے ہیں سیدھے راستے سے

وَ اِذَا جَآءُوْكُمْ قَالُوْۤا اٰمَنَّا وَ قَدْ دَّخَلُوْا بِالْكُفْرِ وَ هُمْ قَدْ خَرَجُوْا بِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا كَانُوْا یَكْتُمُوْنَ Open ayah 5:61 in the Quran reader

اور جب آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں حالانکہ وہ کفر کے ساتھ داخل ہوئے ہیں اور وہ کفر کے ساتھ نکلے ہیں۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے جو کچھ وہ چھپاتے ہیں

وَ تَرٰى كَثِیْرًا مِّنْهُمْ یُسَارِعُوْنَ فِی الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:62 in the Quran reader

اور دیکھے گا تو بہتوں کو ان میں سے کہ وہ دوڑتے ہیں گناہ اور تعدی کی طرف اور حرام کھانے کی طرف بہت برا ہے جو کچھ وہ کر رہے ہیں

لَوْ لَا یَنْهٰىهُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَ الْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِهِمُ الْاِثْمَ وَ اَكْلِهِمُ السُّحْتَ١ؕ لَبِئْسَ مَا كَانُوْا یَصْنَعُوْنَ Open ayah 5:63 in the Quran reader

کیوں نہیں۔۔ منع کرتے ان کو درویش اور عالم ان کی گناہ کی بات کہنے سے اور ان کے حرام کھانے سے ‘ البتہ بہت بری ہے وہ کار گزای جو وہ کرتے ہیں

ربط آیات گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب اور مشرکین کے ساتھ دوستانہ کرنے سے منع فرمایا اور پھر اس کی وجہ بھی بیان فرمائی کہ جو لوگ تمہارے دین اور شعائر اللہ کو ہنسی مذاق اور کھیل کود کا نشانہ بناتے ہیں تم ان کو دوست کیسے بنا سکتے ہو۔ پختہ ایمان کا حامل آدمی تو ایسا نہیں کرسکتا۔ اور اگر ایمان ہی کمزور پر جائے یا بالکل ضائع ہوجائے تو پھر اغیار کے ساتھ دوستی بھی ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر اذن کا ذکر کیا کہ یہ لوگ دین کے اس شعار کو استہزاء کا نشانہ بناتے ہیں ۔ یہ کام بےعقل لوگ ہی کرسکتے ہیں ۔ کوئی سمجھدار آدمی ایسی حرکت نہیں کرسکتا۔ اذان ایک اچھی چیز ہے۔ اس میں توحید و رسالت کا اقرار اور دعوت الی الخیر پائی جاتی ہے۔ اس میں تمسخر والی کوئی چیز موجود نہیں ‘ لہذا اذان کی توہین کرنا نہایت بےوقوفی کا کام ہے۔ پھر اہل کتاب یعنی یہود و نصاری کو خصوصی خطاب فرمایا کیونکہ یہ لوگ انبیاء کی تعلیمات کے وارث تھے ‘ حاملین ‘ کتب سماویہ تھے ‘ شرائع الہیہ سے واقف تھے ‘ برخلاف اس کے مشرکین کے پاس نہ کوئی آسمانی کتاب تھی اور نہ ی ہدایت کا کوئی دوسرا ذریعہ تھا ۔ لہذا اہل کتاب کے مقابلہ میں وہ کسی حد تک معذور تھے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب ہی کو فرمایا کہ تم اہل ایمان کی محض اس لیے عیب جوئی کرتے ہو کہ وہ اللہ اور اس کی نازل کردہ کتاب قرآن حکیم پر ایمان لائے ہیں۔ تمہاری یہ قبیح حرکت تمہاے فسق کی وجہ سے ہے کیونکہ تمہاری اکثریت نافرمانوں پر مشتمل ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی ایک مزید قباحت بیان فرمائی کہ وہ اہل حق پر طعن کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کی اپنی اصلیت یہ ہے کہ یہ دنیا کے بدترین لوگ ہیں۔ بدترین لوگ ارشاد ہوتا ہے قل ھل انبئکم بشر من ذلک مثوبۃ عند اللہ اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجئے کیا میں بتلائوں تمہیں اس سے زیادہ برائی بلحاظ جزا کے اللہ کے نزدیک ۔ امام بیضاوی (رح) ‘ امام رازی (رح) اور بعض دیگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں پر ذلک سے پہلے اھل محذوف ہے۔ یعنی پوری عبارت اس طرح ہے بشر من اھل ذلک اور مطلب یہ ہے۔ کہ کیا میں تمہیں ان لوگوں کے متعلق نہ بتائوں جو برائی میں فاسقوں یعنی اہل کتاب سے بھی بڑھے ہوئے ہیں بعض مفسرین یہاں پر دین محذوف مانتے ہیں اور معنی یہ کرتے ہیں ‘ کیا میں تمہیں ان لوگوں کے متعلق نہ بتائوں جن کا دین فساق سے بھی زیادہ برا ہے۔ گذشتہ درس میں اہل کتاب اور کفار کا ذکر ہوا تھا کہ اہل ایمان کو ان کے ساتھ روشنی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ وہ شعائر اللہ سے استہزاء کرتے ہیں۔ پھر انہیں بےعقل اور فاسق بھی کہا گیا۔ تو اب نبی (علیہ السلام) کو حکم ہو رہا ہے کہ آپ کہ دیں کہ کیا میں تمہیں ان بیوقوفوں اور فاسقوں سے بھی بدتر لوگوں کے متعلق نہ بتائوں۔ وہ کون ہیں ؟ اللہ تعالیٰ نے خود ہی ان کے برے خصائل کا ذکر کردیا ہے کہ بد تر لوگ وہ ہیں من لعنہ اللہ جن پر اللہ نے لعنت کی وغضب علیہ اور غضب کیا وجعل منھم القردۃ والخنازیر اور ان میں سے بندر اور خنزیر بنادیے وعبد الطاغوت اور وہ بھی بدترین ہیں جو شیطان کے بچاری بن گئے۔ یہ تمام برے خصائل بنی اسرائیل پر ہی صادق آتے ہیں وہی ان اوصاف کے حاملین ہیں۔ پہلے گزر چکا ہے۔ کہ اللہ نے فرمایا فبما نقضھم میثاقھم لعنھم “ ان کے نقض عہد کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کردیے۔ پھر ان پر خدا تعالیٰ کا غضب ہوا یہ یہودی تھے اور نصاری کے متعلق فرمایا کہ یہ بھٹکے ہوئے لوگ ہیں ‘ انہوں نے توحید کو چھوڑ کر شرک کو اختیار کیا۔ فرمایا یہ لوگ اہل ایمان کے ساتھ استہزاء کرتے ہیں۔ حالانکہ یہ اللہ کے نزدیک بدترین لوگ ہیں۔ یہاں بھی فرمایا کہ بدترین لوگ وہی ہیں جن پر اللہ کی لعنت اور غضب ہوا اور بندر اور سور بنادیا اور وہ جو شیطان کے پجاری بن گئے۔ سورة اعراف اور دوسرے مقامات پر موجود ہے کہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے زمانے میں تعدی و تجاوز کرنے والے بنی اسرائیل ہی تھے۔ اللہ نے ان کی نافرمانیوں پر انہیں بار بار تنبیہ کی مگر جب وہ باز نہ آئے تو اللہ نے ان کی شکلیں تبدیل کرکے بعض کو بندر بنادیا اور بعض کو خنزیر۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) کے زمانے میں بھی ایسا ہی ہوا تھا ‘ ان کو کہا گیا تھا کہ مائدہ آسمانی کو ذخیرہ بنا کر نہ رکھنا مگر یہ لوگ باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی شکلیں تبدیل کردیں۔ اور فرمایا کہ بدترین لوگوں میں وہ بھی ہیں جنہوں نے توحید کو چھوڑ کر شیطان کی پرستش شروع کردی ۔ شیطان کے نقش قدم پر چلنا اور اس کی بات کو ماننا یہی شیطان کی پوجا ہے۔ یہ پرستش محض سجدہ کرنے سے ہی عبارت نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر کسی کی فرمانبرداری کرنا اس کی عبادت میں ہی شامل ہے۔ تو ان لوگوں نے اللہ کے احکام کو نظر انداز کردیا اور شیطان کی باتوں پر عمل کرنے لگے۔ فرمایا اولئک شر مکانا یہ لوگ مرتبے کے لحاظ سے بھی بدترین ہیں واضل عن سو آ ء السبیل اور سیدھے راستے سے بالکل بہکے ہوئے ہیں۔ اہل کتاب خاص طور پر یہودیوں میں کچھ منافق قسم کے لوگ بھی تھے ! جو ایمان کا باطل دعویٰ بظاہر کلمہ بھی پڑھتے تھے مگر درپردہ ان کے تعلقات یہودیوں کے ساتھ بھی تھے۔ آگے ان کے متعلق ارشاد ہوتا ہے واذا جآء وکم قالوآ امنا جب وہ تمہارے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لاچکے ہیں حالانکہ یہ محض زبانی دعویٰ ہے اور حقیقت یہ ہے ” وما ھم بمئومنین “ کہ وہ ایمان والے نہیں ہیں۔ ان کا دعویٰ غلط ہے۔ ” یخدعون اللہ والذین امنوا “ یہ اللہ اور اہل ایمان کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ دل میں کفر بھرا ہوا ہے اور زبان سے ایمان کا اظہار کرتے ہیں۔ فرمایا یہ اپنے دعوے میں بالکل جھوٹے ہیں۔ ان کی اصلیت یہ ہے وقد دخلوا بالکفر کہ وہ کفر کے ساتھ آپ کے پاس آتے ہیں وھم قد خرجوا بہ اور اسی کفر کے ساتھ ہی واپس چلے جاتے ہیں۔ یہ اپنے کفر پر بدستور قائم ہیں ان کے دلوں میں ایمان داخل نہیں ہوسکا۔ فرمایا واللہ اعلم بماکانوا یکتمون “ اللہ تعالیٰ اس چیز کو خوب جانتا ہے ‘ جس کو یہ چھپاتے ہیں۔ وہ علیم کل ہے ‘ اس کی نظروں سے کوئی چیز مخفی نہیں۔ جب منافق اہل ایمان کی مجلس میں آکر ایمان کا جھوٹا دعوی کرتے ہیں تو اللہ کو علم ہوتا ہے کہ یہ محض اپنے مفاد کی خاطر ایمان کا زبانی دعویٰ کر رہے ہیں حقیقت میں ان کے دل کفر سے لبریز ہیں۔ برائی کی طرف رغبت فرمایا وتری کثیرا منھم یسارعون فی الاثم ‘ اے مخاطب ! تو ان میں سے بہتوں کو دیکھے گا کہ وہ گناہ کی طرف دوڑ کرجاتے ہیں۔ ان کی رغبت نیکی کی بجائے گناہ کی طرف ہے والعدوان اور یہ تعدی کی طرف بھی دوڑتے ہیں واکلھم السحت اور حرام کھانے میں بھی جلدی کرتے ہیں۔ یعنی ان تین چیزوں کی طرف راغب ہیں۔ یہ بری خصلتیں بھی اہل کتاب میں پائی جاتی ہیں ۔ گناہ سے مراد وہ برائی ہے جس کا وبال انسان کی اپنی ذات تک محدود ہوتا ہے۔ عدوان وہ برائی ہے جس کا اثر دوسروں پر پڑتا ہے جن کے ساتھ ظلم و زیادتی کی جائے اور اکل حرام ایسی چیز ہے۔ جس سے انسان کی روح ناپاک ہوجاتی ہے۔ ماہرین نفسیات اور محققین کہتے ہیں کہ جب انسان کی قوت نطقیہ یعنی گومالی جیسی پاکیزہ طاقت خراب ہوجاتی ہے تو وہ گناہ کی طرف دوڑتا ہے ‘ جھوٹ ‘ بولتا ہے ‘ وعدہ خلافی کا ارتکاب کرتا ہے۔ اور جب انسان کی قوت غضبیہ میں فتور آجائے ‘ کسی کا مال ہضم کرتا ہے اور کسی کو بےآبرو کردیتا ہے ‘ یہ عدوان ہے اگر انسان اس قوت کو برمحل استعمال کرے تو وہ مظلوم کی مد د کرسکتا ہے کفر کے خلاف جہاد کرسکتا ہے۔۔ اس کی قوت عدل و انصاف کے قیام میں مدد دے سکتی ہے اور وہ کمال درجے کا بااخلاق آدمی بن سکتا ہے۔ فرماتے ہیں کہ جب انسان کی قوت شہوانیہ میں فساد آتا ہے تو وہ حرام کاری کرنے لگتا ہے۔ یہ تمام بری خصلتیں یہودیوں میں پائی جاتی ہیں۔ وہ جھوٹے بولتے ہیں۔ عہد شکنی کے مرتکب ہوتے ہیں ‘ تعدی اور تجاوز کرتے ہیں ‘ حرام خور ہیں ‘ دھوکہ باز اور سود خور ہیں۔ رشوت ‘ نیاز بغیر اللہ ‘ سحر اور تعویز گنڈوں کی کمائی کھاجاتے ہیں۔ فرمایا لبئس ماکانوا یعملون بہت ہی برا ہے جو کچھ یہ کرتے ہیں۔ نتیجہ کے اعتبار سے ان لوگوں کے مذکورہ افعال ان کے لیے نہایت ہی نقصان دہ ثابت ہوں گے۔ علماء مشائخ کی ذمہ داری یہودیوں کے پیرو علماء بھی اکل حرام میں ملوث ہوچکے تھے۔ سورة توبہ میں موجود ہے ان کثیرا من الاحبار والرھبان لیا کلون اموال الناس بالباطل “ یہ لوگوں کا مال باطل طریقے سے کھاتے تھے ‘ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ حرام خوری ان کی قوت شہوانیہ کے فتور کا نتیجہ تھی۔ جب وہ خود حرام خوری اور کذب بیانی کے مرتکب ہوتے تھے تو وہ اپنے متعبین کو ان قبیح حرکات سے کیسے روک سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے یہاں پر فرمایا لو لا ینھھم الربنیون والا حبار عن قولھم الاثم واکلھم السحت “ انکے درویش اور عالم ان کو کذب بیانی اور اکل حرام سے کیوں نہیں روکتے وہ جانتے ہیں کہ ان کی قوم فلاں فلاں جرم میں ملوث ہے ‘ سب کچھ ان کی آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے مگر وہ انہیں روکنے کی ہمت نہیں پاتے کیونکہ وہ خود بھی انہی گناہوں میں ملوث ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ علماء اور مشائخ کا فرض تھا کہ وہ گناہ کی باتوں اور حرام خوری سے قوم کو منع کرتے مگر وہ ایسا نہیں کرتے ‘ لہذا قوم کے راہ راست پر آنے کا کوئی امکان نہیں۔ سید علی ہجویری (رح) اور بعض دوسرے بزرگان دین فرماتے ہیں کہ کسی قوم کے اکابرین ہی اس قوم کے لیے اچھائی یا برائی کی بنیاد ہوتے ہیں۔ انہی کے عمل پر سوسائٹی کا طرز عمل مرتب ہوتا ہے۔ اگر امراء اور حکام درست ہو نگے تو سوسائٹی۔ صحیح سمت میں رواں دواں ہوگی اور اگر وہی بگڑ گئے تو ساری معیشت ہی تباہ ہو جائیگی کیونکہ الناس علی دین ملوکھم کے مصداق لوگ بھی اپنے امراء کی پیروی میں برے راستے پر ہی چلیں گے۔ فرماتے ہیں اگر پیر اور درویش لوگ ٹھیک ہوں گو سوسائٹی میں اعلیٰ اخلاق پیدا ہوں گے جتنے بھی بزرگان دین اور نیک لوگ گزرے ہیں انہوں نے عوام کی اعلیٰ تربیت کی ہے اور لوگ ان کی تعلیم سے فیضیاب ہوئے ہیں۔ اور یہی لوگ حرام خوری کرنے لگیں اچھائی اور برائی کی تمیز اٹھ جائے تو سوسائٹی کیسے درست ہو سکتی ہے۔ حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی تشریح تو علمائے امت کے ذمہ ہے ‘ اگر وہی ان برائیوں میں ملوث ہوجائیں تو پھر قوم کی تربیت کو ن کریگا ؟ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب یہود و نصاری کی خرابیوں کا تذکرہ فرمایا ہے اور ان کی مذمت بیان کی ہے۔ مگر جب ہم اپنے آپ کی طرف دیکھتے ہیں تو اپنے آپ کو اہل کتاب سے کم تر نہیں پاتے۔ یہودیوں کے علماء ومشائخ کی طرح امت مسلمہ کے علماء و مشائخ بھی اسی ڈگر پر چل نکلے ہیں امراء اور حکام بگڑ گئے ہیں۔ قوم کی نہ تو معیشت اچھی ہے اور نہ اخلاق بہتر ہے۔ کوئی چیز اپنے ٹھکانے پر قائم نہیں رہی۔ چناچہ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت میں علماء مشائخ کو سخت تنبیہ کی گئی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں ان کا فرض ہے کہ وہ خود بھی احکام الٰہی پر عمل پیرا ہوں اور لوگوں کو بھی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا درس دیں۔ انہیں لازم ہے کہ وہ جائز ناجائز اور حلال و حرام سے عوام کو روشناس کرائیں انہیں نیکی کی طرف راغب کریں اور برے اعمال کے نتائج سے خبردار کریں۔ کذب بیانی اور حرام خوری کے خلاف جہاد کریں مگر افسوس کہ وہ اپنا فرض بھول چکے ہیں اور خود بھی ان خرابیوں کا شکار ہوچکے ہیں۔ فرمایا لبئس ماکانوا یصنعون بہت برا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔ برائی کے مرتکب خواہ اہل کتاب اور ان کے علماء ہوں یا امت مسلمہ کے لوگ اور ان کے علما و مشائخ ، برائی بہرحال برائی ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس کی مذمت بیان فرمائی ہے اور ساتھ ساتھ سخت تنبیہ بھی کی ہے۔
Ayahs 5:64–66

وَ قَالَتِ الْیَهُوْدُ یَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ١ؕ غُلَّتْ اَیْدِیْهِمْ وَ لُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا١ۘ بَلْ یَدٰهُ مَبْسُوْطَتٰنِ١ۙ یُنْفِقُ كَیْفَ یَشَآءُ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ؕ وَ اَلْقَیْنَا بَیْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَ الْبَغْضَآءَ اِلٰى یَوْمِ الْقِیٰمَةِ١ؕ كُلَّمَاۤ اَوْقَدُوْا نَارًا لِّلْحَرْبِ اَطْفَاَهَا اللّٰهُ١ۙ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ الْمُفْسِدِیْنَ Open ayah 5:64 in the Quran reader

اور یہودیوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں۔ ان (یہودیوں کے ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں ، اور ان پر لعنت کی گئی ہے اس وجہ سے جو انہوں نے کہا بلکہ اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں ، وہ خر چ کرتا ہے جس طرح چاہے اور البتہ ان میں سے بہتوں کے لئے زیادہ کریگی وہ چیز جو اتاری گئی ہے آپ کی طرف آپ کے رب کی طرف سے اور ان کے لئے سرکشی اور کفر کو اور ہم نے ڈال دی ہے ان کے درمیان عداوت اور دشمنی قیامت تک جب بھی یہ لڑائی کی آگ بھڑکاتے ہیں ، اللہ اس کو بجھا دیتا ہے اور یہ کوشش کرتے ہیں زمین میں فساد کی اور اللہ تعالیٰ نہیں پسند کرتا فساد کرنے والوں کو

وَ لَوْ اَنَّ اَهْلَ الْكِتٰبِ اٰمَنُوْا وَ اتَّقَوْا لَكَفَّرْنَا عَنْهُمْ سَیِّاٰتِهِمْ وَ لَاَدْخَلْنٰهُمْ جَنّٰتِ النَّعِیْمِ Open ayah 5:65 in the Quran reader

اور اگر اہل کتاب اہل کتاب ایمان لاتے اور ڈرتے ۔ البتہ جو ان کو معاف کردیتے ان کی برائیاں اور ہم ضرور داخل کرنے ان کو نعمتوں کے باغوں میں

وَ لَوْ اَنَّهُمْ اَقَامُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ مِّنْ رَّبِّهِمْ لَاَكَلُوْا مِنْ فَوْقِهِمْ وَ مِنْ تَحْتِ اَرْجُلِهِمْ١ؕ مِنْهُمْ اُمَّةٌ مُّقْتَصِدَةٌ١ؕ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ سَآءَ مَا یَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 5:66 in the Quran reader

اور اگر یہ لوگ قائم کرتے تورات اور انجیل کو اور جو چیز نازل کی گئی ہے ان کی طرف ان کے رب کی طرف سے البتہ کھاتے وہ اوپر سے اور پائوں کے نیچے سے ان میں سے ایک امت میانہ روی والی ہے اور بہت سے ان میں سے وہ ہیں جو بہت برے کام کرتے ہیں۔

بارگاہ الٰہی میں بےادبی یہود اور منافقین کی بہت سی بری خصلتوں کا تذکرہ گزشتہ دروس میں ہوچکا ہے ان کی شرارتیں ، سرکشی ، حرام خوری اور حق کی مخالفت وغیرہ کے متعلق سیر حاصل بحث ہوچکی ہے ، ان کی طرف سے اللہ کے نبیوں اور ایمان والوں کی ایذاء رسانی ان کا عام معمول ہے اور اب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کی گستاخی اور بےادبی کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وقالت الیھود یداللہ مغولۃ یہودیوں نے کہا کہ اللہ کے ہاتھ بند کردیئے گئے ہیں یعنی خدا تعالیٰ اب معاذ اللہ بخیل ہوگیا ہے۔ کیونکہ وہ ہمیں ہماری ضروریات مبہم نہیں پہنچاتا۔ ان کا کام یہ تھا کہ جب ذرا تنگی آتی تو اللہ تعالیٰ کا گلہ شکوہ کرنے لگتے اور اس طرح اس کی شان میں گستاخی کے کلمات کہتے۔ اس سے پہلے سورة آل عمران میں گزر چکا ہے کہ جب یہودیوں کو کہا گیا کہ اللہ کے راستے میں خرچ کرو ، تو کہنے لگے ” ان اللہ فقیر و نحن اغنیاء “ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ محتاج ہوگیا اور پھر ہم غنی ہیں کیونکہ وہ ہم سے مانگتا ہے۔ اسی طرح جب قرض حسنہ کا ذکر آیا واقرضوا اللہ قرضا حسناً یعنی اللہ کو قرض حسنہ دو ، تو کہنے لگے نعوذ باللہ خدا محتاج ہوگیا ہے جو قرض مانگتا ہے۔ ابتدا میں یہودی پورے علاقے میں تجارت رپ چھائے ہوئے تھے اور آسودہ حال تھے۔ جب مسلمانوں کو عروج حاصل ہوا اور یہود کی مالی حالت کچھ کمزور ہوئی تو گستاخی کے کلمات کہنے لگے کہ اللہ کے ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں ، اب وہ اپنے بندوں کے لئے وسعت رزق پر قادر نہیں رہا۔ یہودیوں کی اس گستاخی اور بےادبی کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : غلت ایدیھم انہی کے ہاتھ جکڑ دیئے گئے ہیں کیونکہ تمام بری خصلتوں ، بخل ، کمینگی ، کذب بیانی وغیرہ میں وہی مبتلا ہیں ولعنوا بما قالوا اور اس طرح کہنے کی وجہ سے ان پر لعنت کی گئی ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کی ہے ، کبھی اس کو فقیر کہا ہے اور کبھی کنجوس ، لہٰذا اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی رحمت سے دور کردیا ہے۔ فرمایا حقیقت یہ ہے بل یدہ مبسوطتن اللہ کے دونوں ہاتھ کشادہ ہیں۔ ینفق کیف یشآء وہ خرچ کرتا ہے جیسے چاہتا ہے۔ وہ مالک اور مختار ہے جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے روک لیتا ہے اس کی حکمت میں کوئی دخل اندازی نہیں کرسکتا۔ اللہ کے ہاتھ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں کا ذکر آیا ہے ، دوسرے مقامات پر اللہ کے چہرے اور پنڈلی کا ذکر بھی آتا ہے ، یہاں پر یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ یہ چیزیں متشابہات میں آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے چہرے ہاتھ یا پنڈلی کا اطلاق انسانی اعضا پر نہیں کیا جاسکتا۔ خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں مگر انسان یا کسی دوسری مخلوق کے ہاتھوں کی طرح نہیں بلکہ اس طرح کے ہاتھ مراد ہیں جیسے اس کی شان کے مناسب ہیں۔ اللہ کے ہاتھوں کے متعلق ہماری طرح دائیں بائیں کا تصور بھی نہیں رکھنا چاہئے بلکہ بےکیف ہاتھوں پر ایمان ہونا چاہئے۔ شاہ عبدالقادر محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ دونوں ہاتھوں سے مراد اللہ کی مہر اور قہر کے ہاتھ ہیں۔ فرمانبرداروں اور اطاعت گزاروں کے لئے مہر کا ہاتھ ہے اور نافرمانوں کو سزا دینے کے لئے قہر کا ہاتھ ہے بہرحال شاہ صاحب نے مہر اور قہر کے یہ مجازی معنی بیان کئے میں اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے مہر اور قہر کے دونوں ہاتھ پھیلے ہوئے ہیں اور وہ اپنی مشیت کے مطابق جیسے چاہتا ہے ویسے ہی کرتا ہے۔ اور اگر ہاتھ کا معنی بعینہ ہاتھ ہی لیا جائے تو پھر وہ بےکیف ہے اللہ تعالیٰ عرش پر مستوی ہے مگر بےکیف۔ ہم اس کیفیت کو نہیں سمجھ سکتے۔ صرف ایمان لانا ضروری ہے۔ ” لیس کمثلہ شیء “ مخلوق میں کوئی چیز اس سے مشابہت نہیں رکھتی لہٰذا ہم اللہ تعالیٰ کے ہاتھوں ، چہرے ، پنڈلی ، آنکھوں اور کانوں وغیرہ کو اپنے تصور میں نہیں لاسکتے کیونکہ خدا تعالیٰ بےمثل ہے جب ہم سبحان اللہ کہتے ہیں تو اس کا مطلب ہوتا ہے اس کی ذات ہر نقص اور عیب سے پاک ہے اس کے ہاتھ کشادہ ہیں اور وہ جس طرح چاہے خرچ کرتا ہے۔ سرکشی اور کفر میں اضافہ سرکشی اور کفر میں اضافہ فرمایا یہودیوں کا حال تو یہ ہے ولئن یدن کثیراً منھم ما انزل الیک من ربک طغیاناً و کفر ان میں سے بہتوں کے لئے آپ کے رب کی طرف سے آپ کی طرف نازل کردہ چیز سرکشی اور کفر میں اضافے کا باعث بنتی ہے جب بھی قرآن پاک کا کوئی حصہ نازل ہوتا ہے تو وہ یہودیوں پر گراں گزرتا ہے ، وہ اس سے چڑتے ہیں اور اس کی مخالفت کرنے لگتے ہیں کیونکہ وہ ان کی کذب بیانی اور تحریف فی الکتاب کا پردہ چاک کرتا ہے۔ منافقین کے متعلق بھی آتا ہے کہ جب قرآن پاک کی آیات نازل ہوتی ہیں فزادتھم رحبساً الی رجسھم تو ان کی گندگی میں اضافہ ہوجاتا ہے ، ان کے دلوں میں کفر ، شرک اور نفاق کی نجاست پہلے ہی موجود ہوتی ہے ، جب مزید آیتیں نازل ہوتی ہیں تو ان کی نجاست میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس کے برعکس قامت الذین امنوا فزادتھم عرز یماناً جو ایمان والے ہیں ، قرآن کی نازل ہونے والی آیات ان کے ایمان میں مزید اضافہ کردیتی ہیں۔ اسی طرح یہاں پر فرمایا کہ یہودیوں کے دلوں میں سرکشی اور کفر تو پہلے ہی موجود ہے نئی نازل ہونے والی آیات کی وجہ سے ان کی نجاست مزید بڑھ جاتی ہے ۔ آپس کی عداوت آگے اللہ تعالیٰ نے اس سزا کا ذکر کیا ہے جو بنی اسرائیل پر مسلط کی گئی ہے ارشاد ہے القینا بینھم العداوۃ والبغضآء الی یوم القیمۃ او ۔ ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لئے عداوت اور دشمنی ڈال دی ہے۔ یہ لوگ اندرونی طور پر ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریبان رہیں گے۔ ان میں کبھی فرقہ وارانہ منافرت پیدا ہوگی ، کبھی ذاتی مفاد پیش نظر ہوگا اور کبھی سیاسی امور ان میں اختلاف کا باعث ہوں گے ، اللہ نے فرمایا قیامت تک ان میں اتحاد و اتفاق کی فضا قائم نہیں ہو سکے گی۔ فرمایا کلما او قدوا ناراً للحرب اطفاھا اللہ۔ جب ابھی یہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں ، اللہ تعالیٰ اسے بجھا دیتا ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں انہوں نے مسلمانوں کا راستہ روکنے کی بڑی کوششیں کیں ، مشرکین مکہ کو بار بار لڑائی کے لئے میدان میں لائے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ہر بار انہیں ناکام کیا اور اسلام کی شمع کو گل کرنے کی ان کی خواہش پوری نہ ہوسکی اس زمانے میں مسلمان میں جذبہ ایمان موجزن تھا ، ان پر بڑی بڑی آزمائشیں بھی آئیں مگر ان کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی اور یہودیوں کی تمام تر سازشوں کے باوجود وہ کامیاب ہی ہوتے چلے گئے اور دنیا نے دیکھ لیا کہ ان اللہ مع المئومنین اللہ تعالیٰ مومنوں کے ساتھ ہے ، یہود و نصاریٰ اور کفار و مشرکین کی کوئی چال کامیاب نہ ہوسکی۔ فساد فی الارض فرمایا ان کا حال یہ ہے کہ ویسعون فی الارض فساداً ۔ یہ زمین میں فساد برپا کرتے ہیں لوگوں کو گمراہ کرنا ، اسلام سے بدظن کرنا۔ پیغمبر خدا ﷺ کے خلاف پراپیگنڈا کرنا ، قرآن کے متعلق غلط بیانی کرنا اور اپنی کتابوں میں تحریف کرنا ان کا کام ہے اور یہی فساد فی الارض ہے اس طرح کفر و شرک کا ارتکاب کرنا ، اکل حرام ، بدعات کی ترویج وغیرہ بھی زمین میں فساد پیدا کرنے کے مترادف ہے۔ جب تک شرائع الہیہ پر کما حقہ ، عمل نہیں ہوتا ، بنی نوع انسان کو امن نصیب نہیں ہو سکتا۔ امام بیضاوی فرماتے ہیں کہ شرائع الٰہیہ کے خلاف کام کرنا دین الٰہی کو توڑنا اور اس کے برخلاف چلنا فساد فی الارض ہے۔ آج کل فساد فی الارض کی بیماری میں خود مسلمان بھی ملوث ہوچکے ہیں۔ شرائع الہیہ کو مختل کر رکھا ہے ، نہ حدود اللہ جاری ہیں اور نہ حقوق العباد کا تحفظ ہے ، انگریز کا مرتب کردہ قانون ابھی تک نافذ ہے۔ اس سر زمین سے انگریز کی جڑ تو چالیس سال ہوئے اکھڑ چکی ہے لیکن اس کا لایا ہوا قانون ابھی تک ہمارے سروں پر مسلط ہے۔ آج ہائی کورٹ کا چیف جسٹس کہتا ہے کہ موجودہ انگریزی قانون عدل کے خلاف نہیں۔ ایک ریٹائرڈ جج نے بھی انہی خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اگر یہی بات ہے تو مسلمانوں نے اسلام کے نام پر علیحدہ ملک حاصل کرنے کی کیوں جدوجہد کی اور اس کے لئے لاکھوں جانوں کی قربانی کیوں پیش کی۔ انگریزی قانون کی بنیاد سراسر ظلم و زیادتی پر ہے خود یورپ کے انگریزوں نے تسلیم کیا ہے کہ اس قانون کے ذریعے عدل نصیب نہیں ہو سکتا۔ یہ تو شیطان کا جال ہے کمزوروں کو پھانستا ہے اور طاقتوروں کو چھوڑ دیتا ہے اس کے ذریعے انصاف کیسے حاصل ہو سکتا ہے آج مسلمان اخلال بالشرائع کر رہے ہیں۔ فرمایا و للہ لا حب المفسدین ۔ اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔ بلکہ ایسا آدمی اللہ کی نگاہ میں برا ہے۔ جو شخص بدعقیدگی اور بدعت کو رواج دیتا ہے ، کفر اور شرک کو پھیلاتا ہے ، اسلام کے راستے میں رکاوٹ بنتا ہے قوانین الٰہیہ کے سامنے دیوار بن گیا ہے ، وہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ کیسے ہو سکتا یہ۔ اللہ کو نبوب وہ شخص ہے جو کفر کی بجائے ایمان والا ہے۔ جو نفاق کی بجائے اخلاص کا حامل ہے اور زمین میں فساد کی بجائے اصلاح کی کوشش کرتا ہے۔ یہی اللہ کا پسندیدہ بندہ ہے۔ ملا ، اعلیٰ اس کے حق میں دعائیں کرتے ہیں۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے ک ہجب تک انگریز کا دودھ پینے والا نوکر شاہی بقہ برسر اقتدار ہے ، انگریزی قانون سے نجات مل سکتی ہے اور نہ اسلامی قانون آسکتا ہے۔ اسلامی قانون کے نفاذ سے انگریزی ذہنیت کے لوگوں کے مفاد پر زد پڑتی ہے ، لہٰذا یہ حتی الامکان اس کی مخالفت کریں گے۔ یہودیوں کا مسئلہ بھی یہی تھا۔ اگر وہ پیغمبر خدا ﷺ کی اطاعت قبول کرلیتے تو ان کے ذاتی مفاد کو نقصان پہنچتا تھا ، انہیں حلال و حرام کی تمیز کرنا پڑتی ہے۔ حقوق اللہ اور حقوق اعلباد کا خیال کرنا پڑتا ، ان کی جائیدادیں ، جاگیریں اور وظیفے ختم ہوجاتے لہٰذا انہوں نے ہمیشہ اسلام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی اور فساد الارض کے مرتکب ہوئے جنہیں اللہ پسند نہیں کرتا۔ بان کی رکات۔ فرمایا ونو ان اھل الکتب امنوا واتقوا اور اگر اہل کتاب ایمان لاتے اور کفر ، شرک اور معاصی سے ڈر جاتے لکفرنا عنھم سیاتھم ۔ ہم ان کی برائیوں اور غلطیوں کو معاف کردیتے ، بالکل اسی طرح جس طرح مخلص مومنوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ ولا دخلنھم جنت النعیم اور اللہ تعالیٰ انہیں نعمت کے باغوں میں داخل کرتے اور وہ فلاح پا جاتے۔ فرمایا فلوانھم اقاموا التوربۃ والانجیل ۔ اور اگر وہ تورات اور انجیل کو قائم کرتے۔ مگر اپنے دور میں تو انہوں نے اسے قائم نہیں کیا۔ بلکہ اس میں تحریف کے مرتکب ہوئے اور اس کے احکام کو چھپانے کی کوشش کرتے رہے اگر یہ اپنی کتابوں پر عملدرآمد کرتے ۔ وما انزل الیھم من بینھم اور اس چیز کو بھی قائم کرتے جو ان کے رب کی طرسے ان پر اتاری گئی ہے۔ یعنی قرآن پاک تو اللہ تعالیٰ کی مہربانیاں ان کے شامل ہوتیں اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا لاکلوا من فوقھم ۔ تو وہ کھاتے اپنے اوپر سے۔ یعنی ان کے لئے آسمانوں سے رحمت کے دروازے کھول دیئے جاتے۔ آسمانی برکات میں نفع بخش بارش اور اچھی آب و ہوا شامل ہے جس سے ان کی کھیتیاں اور باغ لہلہانے اور یہ خوب خوشحال ہوتے۔ پیداوار وافر ہوتی۔ خوب کھاتے پیتے اور ان کی صحت بھی اچھی ہوجاتی ۔ ومن تحت ازجلھم ۔ اور اپنے پائوں کے نیچے سے بھی کھاتے یعنی ان کے لئے زمینی اسباب بھی مہیا ہوتے۔ انسانی ضروریات کی تمام چیزیں زمین سے پیدا ہونے لگتیں اور انہیں کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہوتی۔ ۔ اس طرح گویا یہ لوگ آسمانی اور زمینی ہر قسم کی برکات سے فیضیاب ہوتے مگر ان کا حال یہ ہے کہ معمولی سی تکلیف آگئی تو اللہ رب العزت کی شان میں بےادبی اور گستاخی کے کلمات بولنے لگے ، جو ان کے لئے کسی طرح بھی روا نہیں تھا اور اس طرح یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی برکات سے محروم ہوگئے۔ امت متقصدہ یہ تمام خرابیاں بیان کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ سارے یہودی ایک جیسے نہیں۔ سورة آل عمران میں بھی گزر چکا ہے ” لیسوا سوآء ۔ کہ یہ سب برابر نہیں۔ یہاں پر بھی فرمایا منھم امۃ مقتصدۃ ان میں کچھ میانہ روی والے لوگ بھی موجود ہیں۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں میں حضور ﷺ کے زمانے میں بھی بعض اچھے لوگ موجود تھے اور ایسے آدمی ہر زمانہ میں ہوتے رہے ہیں۔ عدی ابن حاتم طائیحضور ﷺ کے زمانہ میں عیسائیت کو چھوڑ کر اسلام لائے۔ تمیم داری بھی پہلے عیسائی مذہب رکھتے تھے۔ مگر مسلمان ہوگئے۔ یہودی عالم عبداللہ بن سلام ایمان لائے تو حضور ﷺ نے عشرہ مبشرہ کی طرح انہیں بھی قطعی جنتی قرار دیا۔ ملکہ وکٹوریہ کے زمانے میں عبداللہ کو یلم اسلام سے مشرف ہوئے ان کے ساتھ ان کے خاندان کے چالیس آدمی مسلمان ہوئے۔ آپ پر انگریزوں نے مقدمہ قائم کیا اور بڑی اذیت پہنچائی مگر آپ کے پائے استقلال میں لغزش نہ آئی۔ جرمنی کا یہودی لیو پولڈ اسلام لایا جس کا اسلام نام محمد اسد رکھا ہے۔ اب بھی زندہ سلامت ہے۔ اسی سال سے زیادہ عمر ہوچکی ہے۔ اب تک اچھی کتابیں لکھ رہا ہے۔ مقصد یہ کہ ہر دور میں صاحب فہم و فراست لوگ موجود رہے ہیں جنہوں نے اسلام کی حقانیت کو تسلیم کیا ہے۔ انہی کو امت مقتصدۃ فرمایا گیا ہے۔ فرمایا وکثیر منھم سآء مایعملون ۔ البتہ ان کی اکثریت ایسی ہے جو بہت برے کام کرتے ہیں۔ وہ بلاشبہ مذمت کے قابل ہیں ، تاہم اچھے لوگوں کی قدر کرنی چاہئے۔ مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ان کو ساتھ لے کر چلیں۔ ان کی حوصلہ افزائی کریں۔ قرآن کریم کا پروگرام ان تک پہنچائیں۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ مسلمان خود صراط مستقیم سے ہٹ چکے ہیں۔ آج قرون اولیٰ کے مسلمان کہاں سے آئیں جو دین کے پورے کی آبیاری کریں۔ آج تو خود مسلمان کفر ، شرک اور بدعات میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ ان کا منتہائے مقصود کھیل تماشہ بن چکا ہے ، آرام طلبی ، عیش و عشرت ، بدمعاشی ، فحاشی کے دلدادہ ہیں ان میں پہلے سا جوش و جذبہ کہاں سے آئے گا۔ اللہ تعالیٰ ہم پر رحم کرے اور ہمیں قرون اولیٰ کے مسلمان بننے کی توفیق عطا فرمائے۔