Ayah 5:75ربط آیات
گزشتہ کئی دروس سے اہل کتاب کے عقائد باطلہ کی تردید ہو رہی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ نقض عہد کی وج ہ سے یہ معلون ٹھہرے۔ انہوں نے اللہ کی کتابوں میں تحریف کی۔ ان کی اکثریت نافرمانوں کی تھی مگر ان میں بعض باصلاحیت لوگ بھی موجود تھے۔ وہ حق بات کو قبول کر کے ایمان کا راستہ اختیار کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نصاری کے مختلف فرقوں کے عقائد بطلہ کا رد فرمایا اور حضور خاتم النبین ﷺ اور آپ کے رفقاء کو یہ بات سمجھا دی کہ وہ اہل کتاب کی مخالفت سے خوفزدہ نہ ہوں بلکہ اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہیں۔ گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ وہ لوگ پکے کافر ہوئے جنہوں نے کہا ” ان اللہ ھو المسیح ابن مریم یعنی مسیح (علیہ السلام) بعینہ خدا ہیں۔ یہ بات تو عقل کے بھی خلاف ہے اور نقل کے بھی خلاہے بلکہ خود مسیح (علیہ السلام) کی تعلیمات کے بھی مناف ہے۔ آپ کی تبلیغ کا ذکر تو ہوچکا ہے کہ انہوں نے کہا اے بنی اسرائیل ” اعبدواللہ “ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا ، اس پر جنت حرام ہوگئی اور اس کا ٹھکانا دوزخ میں ہوگا اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار بھی نہیں ہوگا۔ فرمایا یہ اتحادی عقیدہ رکھنے والے بھی کافر ہیں اور وہ بھی کافر ہیں جنہوں نے کہا ” ان اللہ ثالث ثلثۃ “ یعنی اللہ تین میں سے تیسرا ہے یہ عقیدہ تثلیث بھی کفریہ عقیدہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ صرف ایک وحدئہ لاشریک ہے۔ فرمایا اب بھی موقع ہے کہ یہ لوگ توبہ کرلیں اور سابقہ گناہوں کی معاف طلب کرلیں تو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا ، بصورت دیگر درد ناک عذاب کے مستحق ٹھہریں گے۔
مسیح (علیہ السلام) بحیثیت رسول
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے نہایت مختصر الفاظ میں نصاریٰ کے اس عقیدے کا رد فرمایا ہے جس کے مطابق وہ عیسیٰ (علیہ السلام) کو متصرف فی الامور اور خود مختار مانتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس ضمن میں ایسے دلائل کی طرف اشارہ کیا جنہیں دنیا کا کوئی صاحب شعور آدمی رد نہیں کرسکتا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے ما المسیح ابن مریم الا رسول نہیں ہیں مسیح ابن مریم مگر اللہ کے کے رسول۔ یہ ما اور الا یعنی نفی اور اثبات کے درمیان بات کی گئی ہے اور مطلب یہ ہے کہ مسیح (علیہ السلام) اللہ کے رسول ہونے کے سوا کچھ نہیں ہیں نہ وہ خدا ہیں نہ اوتار اور نہ خدا کے بیٹے اور نہ متصرف ۔ اللہ کے فرستادہ ہونے کے علاوہ ان کی اور کوئی حیثیت نہیں ہے۔ یہ رسول کا لفظ واضح کر رہا ہے کہ اس کو بھیجنے والی کوئی دوسری ہستی ہے جو بلاشبہ بھیجے جانے والے سے اعلیٰ وارفع ہے اور وہ خدا تعالیٰ ہے جس نے مسیح (علیہ السلام) کو اپنا پیغام پہنچانے کے لئے مبعوث فرمایا ، لہٰذا وہ خود خدا کیسے ہو سکتا ہے۔
مسیح ابن مریم کے الفاظ بھی بتا رہے ہیں کہ عیسیٰ (علیہ السلام) حضرت مریم کے بیٹے ہیں۔ جو پیدائش کے لئے ماں کا محتاج ہے اور اس کے پیٹ … پیدا ہوا ہے ، خود الہ کیسے ہوا۔ اب مسیح کے نام پر بھی غور کیجیے۔ یہ مرکب ہے روح اور جسم کا ، اور جو خود مرکب ہو یعنی روح اور جسم کا محتاج ہو ، اس پر الومیت صادق نہیں آتی کیونکہ الہ تو ہو سکتا ہے جو ہر چیز سے بےنیاز ہو اور کسی کا محتاج نہ ہو بلکہ ہر چیز اس کی محتاج ہو ۔ گزشتہ سورة میں بل رفعہ اللہ الیہ کا تذکرہ بھی ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مسیح (علیہ السلام) کا روح مع الجسم اپنی طرف اٹھا لیا۔ اس سے بھی آپ کا مرکب ہونا ثابت ہوتا ہے جو صفت الوہیت کے منافی ہے۔ پھر یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ اسلام کو بپا کے توسط کے بغیر پیدا کیا۔ مگر ماں کا توسط تو موجود ہے مسیح (علیہ السلام) مریم کے بیٹے ہیں اور اللہ کے رسول ہیں ، اس کے فرستادہ ہیں وہ نہ خود خدا ہیں اور نہ تینوں میں تیسرا ہیں۔ نصاریٰ کا حلولی اور اوتاری دونوں عقائد باطل ہیں۔
اللہ تعالیٰ کا یہ قانون بھی اپنی جگہ اٹل ہے کہ انسانیت کی اصلاح اور فلاح کے لئے اس نے ہمیشہ اپنے رسول بھیجے ہیں ، وہ نہ خود آیا ہے اور نہ اس کا کوئی اوتار نازل ہوا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر سمیح (علیہ السلام) تک ودخلت من قبلہ الرسل اس سے پہلے رسول ہی گزرے ہیں۔ اور رسول انسان ہوتے ہیں کیونکہ انہیں انسانوں کی طرف مبعوث کیا جاتا ہے۔ مسیح (علیہ السلام) کے بعد صرف ایک رسول کی ضرورت تھی جس کے متعلق حضرت مسیح (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو رفع الی السما تک بشارت سناتے رہے و مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمر احمد (سورۃ صف میرے بعد ایک رسول آنے والے ہیں جس کا نام احمد ہوگا۔ انجیل میں احمد کا متبادل لفظ فارقلیط گزشتہ صدی تک موجود رہا ہے مگر اب انہوں نے کتاب اللہ میں تحریف کر کے اس کی جگہ مددگار کا لفظ دیا ہے۔ کیونکہ فار قلیط کے لفظ سے حضور ﷺ کی آمد کی بشارت ظاہر ہوتی تھی اور نصاریٰ آپ کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔
بہرحال فرمایا کہ مسیح (علیہ السلام) سے پہلے بھی اللہ کے رسول آتے رہے ہیں جو سب اللہ کے بندے اور انسان تھے الا رجالاً نوحی الیھم اور پھر یہ بھی ہے کہ یہ رسول سارے کے سارے مرد تھے اور من اھل القری “ متمدن بستیوں سے آتے ہیں ، دیہاتی لوگوں میں سے رسول نہیں آئے اللہ تعالیٰ ہمیشہ اعلیٰ اور متمدن انسانوں میں سے رسول کا انتخاب فرمات ارہا ہے تو فرمایا کہ مسیح (علیہ السلام) سے پہلے بہت سے رسول گزر چکے ہیں ، آپ نہ تو خدا ہیں نہ خدا زادے اور نہ تینوں میں سے تیسرے ، وہ تو مریم کے بیٹے اور اللہ کے رسول ہیں ، وہ الہ ہرگز نہیں ہیں۔
ممنات الوہیت
کسی ذات میں صفت الوہیت ماننے سے پہلے یہ دیکھنا بھی ضروری ہے کہ آیا وہ ہستی ان صفات پر پورا اترتی ہے جو سابقہ کتب اور اہل خرد کے نزد مسلم ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ الہ وہ ہوتا ہے جو واجب الوجود ہو یعنی جس کا وجود خود بخود ہو ، کسی دوسری ذات کا پیدا کردہ نہ ہو۔ مکر مسیح (علیہ السلام) میں یہ صفت نہیں پائی جاتی۔ ان کا وجود تو پیدا شدہ اور مربوب ہے ، وہ نہ خالق ہیں اور نہ رب ، لہٰذا وہ الہ نہیں ہو سکتے۔
الہ کی ایک صفت قادر مطلق ہونا بھی ہے۔ الہ وہ ہو سکتا ہے جسے بہ چیز پر تصرف حاصل ہو ، مگر مسیح (علیہ السلام) میں یہ صفت بھی مفقود ہے وہ تو اللہ کے عاجز بندے ہیں …… انجیل میں موجود ہے کہ مسیح علیہ السالم اپنی عاجزی کی وجہ سے تختہ دار پر چڑھے اور جو عاجز ہو وہ الہ نہیں ہو سکتا۔ انجیل میں مسیح (علیہ السلام) کا یہ قول بھی موجود ہے کہ بیٹا یعنی مسیح اپنے آپ کچھ نہیں کرسکتا یہ بھی آپ کے عجز پر دلالت کرتا ہے اور صفت الوہیت کے منافی ہے حقیقی معبود کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ علیم کل ہو کوئی چیز اس سے مخفی نہ ہو۔ قیامت کے وقت کے متعلق انجیل میں مسیح (علیہ السلام) کا فرمان موجود ہے کہ قیامت کی گھڑی کے متعلق نہ فرشتے جاتے ہیں اور نہ بیٹا یعنی خود مسیح اس کا علم صرف باپ یعنی خدا تعالیٰ کو ہے اور کسی کو نہیں اس طرح مسیح (علیہ السلام) کے علیم کل ہونے کی بھی نفی ہوگئی۔ الٰہ کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ غیر محدود اور غیر مرنی ہوگا۔ نہ تو اس کا احاطہ ہو سکتا ہے اور نہ وہ ان آکھوں سے نفر آتا ہے مگر ، مسیح (علیہ السلام) چلتے پھرتے دکھائی دیتے تھے اور درمیانے قد کے محدود انسان تھے ، لہٰذا وہ ان صفات کے حامل تبی نہ تھے اس لئے بھی انہیں الوہیت سے متصف نہیں کیا جاسکتا۔ پھر یہ بھی ہے کہ الہ وہ ہے جس میں معبودیت کی صفت پائی جائے مگر مسیح (علیہ السلام) تو عابد ہیں معبود نہیں۔ جیسا کہ گزشتہ دروس میں گزر چکا ہے ان کی تو اپنی تعلیم یہ تھی۔ عبد واللہ اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی پروردگار ہے اور تمہارا بھی لہٰذا آب الہ نہیں تسلیم کئے جاسکتے ہیں۔
حضرت مریم صدیقہ ہیں
یہودی حضرت مریم پر بدکاری کا الزام لگاتے تھے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی صداقت کی خود گواہی دی اور فرمایا کہ حضرت مسیح (علیہ السلام) اللہ کے رسول تھے فامہ صدیقۃ اور آپ کی والدہ صدیقہ یعنی راست باز تھیں اسلامی اصطلاح میں انبیاء (علیہم السلام) کے بعد صدیقین کا درجہ ہے اور اس سے مراد خدا کی عبادت گزار ، اس کا ذکر کرنے والی ، پاکیزہ اخلاق ، برائی سے دور رہنے والی ، ہر لحاظ سے سچائی پر کاربند ، اطاعت گزار اور عقیدے اور عمل میں راست باز ہے۔ جب حضرت مریم حضرت مسیح (علیہ السلام) کو گود میں اٹھا کر آئیں تو یہودیوں نے فوراً ان پر الزام لگایا لقد جئت شیئاً فریاً “ (مریم ، لویہ بدکاری کا بچہ لے کر آئی ہے ، تیرے والدین تو ایسے نہیں تھے۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ حضرت مریم راست باز خاتون تھیں۔
ضروریات زندگی کا احتیاج
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کے ذکر کے بعد آگے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں حیثیت کی مزید وضاحت فرمائی ہے کانا یاکلن الطعام وہ دونوں (ماں بیٹا) کھانا کھاتے تھے ، مطلب یہ ہے کہ حضرت مسیح اور ان کی والدہ کوئی عجیب و غریب مخلوق نہیں تھے بلکہ عام انسانوں کی طرح وہ بھی کھانے کے محتاج تھے ، انہیں بھی بھوک پیاس لگتی تھی اور الہ وہ ہو سکتا ہے جو ان چیزوں سے پاک ہو۔ امام رازق فرماتے ہیں کہ جو شخص بھوک پیاس کے ازالے کے لئے کھانے پینے کا محتاج ہو۔ پائوں رکھنے کے لئے زمین کا محتاج ہو جسے جسم و روح کا تعلق قائم رکھنے کے لئے سانس کا احتیاج ہو اور جسے بول و براز کی حاجت لاحق ہو۔ وہ بھلا الہ کیسے ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ایسے ٹھوس دلائل بیان فرمائے ہیں کہ کوئی شخص ان کی تردید نہیں کرسکتا یہاں کھانا کھانے کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے ان کے احتیاج کو واضح فرما دیا بلکہ یہ دلیل تو اللہ تعالیٰ نے تمام ابنیاء کے حق میں دی ” وما جعلنھم جسداً لا یاکلون الطعام “ اللہ تعالیٰ کے کسی نبی کا جسم ایسا نہیں بنایا جو کھانے کا محتاج نہو کسی نبی کا وجود ازلی ابدی بھی نہیں ہے۔ ازلی ابدی اور تمام ضروریات سے مبرا اور منزہ ذات تو صرف اللہ تعالیٰ کی ہے فرشتے اگرچہ کھانا نہیں کھاتے مگر بقائے حیات کے وہ بھی محتاج ہیں وہ چلنے پھرنے کے محتاج ہیں اور صرف امر الٰہی سے ہی چلتے پھرتے ہیں اور حکم الٰہی کی تعمیل کرتے ہیں۔ اس طرح وہ رفع درجات کے محتاج ہیں اور انعام و اکرام کے بھی خواہشمند ہوتے ہیں۔ غرضیکہ جبرائیل ، میکائیل ، اسرافیل ، عزرائیل (علیہم السلام) اور تمام فرشتے اور اللہ تعالیٰ کی باقی تمام مخلوق کسی نہ کسی چیز کی محتاج ہے حتی کہ ہر ذی جان چیز سانس تک لینے کی محتاج ہے انبیاء اولیا اور بزرگ سب اللہ تعالیٰ کے عاجز بندے اور اسی کے عابد ہیں۔ معبود صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس کے علاوہ نہ کوئی علیم کل ہے۔ نہ قدر مطلق ہے اور نہ واجب الوجود ، سب کے سب مرئی یعنی دکھائی دینے والے اور محدود ہیں۔ لامحدود اور غیر مرئی صرف ذات خداوندی ہے۔ لہٰذا معبود بھی وہی ہے اس کے علاوہ بشمول مسیح (علیہ السلام) کوئی الہ نہیں ہے مسیح (علیہ السلام) اس کے سوا نہیں کہ وہ اللہ کے برگزیدہ رسول ہیں۔ بنی نوع انسان میں یہ سب سے بڑا شرف ہے مگر وہ الہ بہرحال نہیں ہیں۔
دعوت غور و فکر
یہ دلائل بیان کرنے کے بعد اللہ جل جلالہ نے فرمایا انظر کیف نبی ن لھم الایت دیکھو ! ہم کس طرح واضح دلائب بیان کرتے ہیں ہر ہر لفظ میں توحید کے اثبات اور شرک کے ابطال کی دلیل موجود ہے۔ تثلیث اور اتحادی عقیدے کی تردید ہے اگر اور کوئی دلیل بھی سمجھ میں نہ آئے تو اتنی بات تو بالکل سیدھی سادھی ہے کہ جو کھانے پینے کا محتاج ہے وہ الہ نہیں ہو سکتا۔ انسان تمام ضروریات زندگی کا محتاج ہے اور عیسیٰ (علیہ السلام) بھی ایک انسان ہیں …وہ معبود نہیں ہو سکتے۔ فرمایا ثم انظر انی یوفکون ۔ پھر دیکھو ! یہ کدھر الٹے پھرے جا رہے ہیں۔ یہ اسی اتحادی اور تثلیث کے گندے عقیدے پر مصر ہیں۔ انہوں نے خالق اور مخلوق کو ایک کردیا ہے۔ اسی گمراہ میں مبتلا ہو ک رکفر اور شرک کا ارتکاب کر رہے ہیں اتنے واضح دلائل آنے کے باوجود یہ اس باطل عقیدے کو ترک کرنے کے لئے تایر نہیں ہیں۔ اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے تصرف میں شرک کرنے کا خصوصی رد فرمایا ہے۔
Ayahs 5:76–77ربط آیات
گزشتہ دروس میں اہل کتاب کے باطل عقائد اور ان کی خرابیوں کا ذکر ہوتا رہا ہے اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کے مختلف فرقوں کی تکفیر کا ذکر کیا جو یا تو عیسیٰ (علیہ السلام) کو بعینیہ خدا مانتے ہیں یا پھر تین خدائوں میں سے تیسرا تسلیم کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ کف یہ عقیدہ ہے۔ یہ عقیدہ عقل اور نقل دونوں کے خلاف ہے بلکہ خود انبیاء کی تعلیم کے بھی منافی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کو تلقین کی کہ وہ اس باطل عقیدہ سے باز آجائیں ورنہ عذاب الیم کے مستحق ٹھہریں گے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا کہ آپ اس کے سوا کچھ نہیں کہ اللہ کے رسول ہیں۔ آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول گزرے ہیں اور حضرت مسیح (علیہ السلام) کی والدہ حضرت مریم صدیقہ تھیں یعنی نہایت ہی راست باز خاتون تھیں اور یہودیوں کی طرف سے لگائے گئے الزامات سے بالکل مبرا تھیں اور عیسائیوں کے عقیدے کے مطابق مادر خدا بھی نہ تھیں۔ حضرت مسیح (علیہ السلام) اور آپ کی والدہ دونوں کھانا کھاتے تھے کیونکہ اپنی زندگی کو قائم رکھنے کے لئے وہ کھانے کے محتاج تھے۔ انہیں حوائج بشریہ بھی لاحق ہوتی تھیں اور وہ کمزوری کی حالت میں بھی مبتلا ہوتے تھے۔ ظاہر ہے کہ جن ہستیوں کی زندگی کا انحصار دوسری اشیاء پر ہو وہ معبود کیسے ہو سکتی ہیں وہ تو خود محتاج تھے اور معبود وہ ہستی ہے جو کسی کی محتاج نہیں بلکہ سب اس کے محتاج ہیں۔ معبود وہ ذات خداوندی ہے جو تمام نقائص ، احتیاج اور کمزوریوں سے پاک ہے۔
غیر اللہ کی عبادت
اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ اور دیگر مشرکین کے عقائد کا رد فرمایا ہے اور نہایت لطیف پیرائے میں معبودان باطلہ کی پرستش سے روکا ہے۔ نیز دین میں غلو کرنے سے منع فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجیے اتعبدون من دون اللہ کیا تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان کی مالا یملک لکم ضراً ولا نفعاً ” جو تمہارے لئے کسی نقصان اور نفع کے مالک نہیں ہیں سمجھانا یہ مطلوب ہے کہ جو ہستی نفع و نقصان پر قادر نہیں ہے وہ معبود کیسے ہو سکتی ہے ؟ نافع اور رضا تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور وہی معبود برحق ہے ، مسیح (علیہ السلام) نہ نفع و نقصان پر قادر ہیں اور نہ وہ عبادت کے لائق ہیں۔ انجیل میں بھی موجود ہے ” بیٹا (مسیح علیہ السلام) آپ سے کچھ نہیں کرسکتا ، جو کچھ اختیار ہے ، اس باپ (خدا) کے پاس ہے “ بہرحال معبود وہ ہو سکتا ہے جو احتیاج سے پاک ہو ، ہر قسم کے اختیار کا مالک ہو ، قدرت نامہ رکھتا ہو ، واجب الوجود اور خالق ہو اور وہ علم محیط رکھتا ہو۔ یہ نصاری کے عقائد باطلہ کی تردید ہوگئی۔
مشرکین بھی جن کی پرستش کرتے ہیں انہیں نفع و نقصان کا مالک سمجھ کر ہی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ ملائکہ ہوں یا انبیاء اور اولیا یا جنات وغیرہ اللہ نے کسی کو کوئی اختیار نہیں دیا۔ تمام اختیارات مالک الملک کے پاس ہیں ہر چیز کا تصرف بھی اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے۔ سورة الم سجدہ میں وضاحت کے ساتھ موجود ید بر الامر من السمآء الی الارض “ بلندیوں سے لے کر پستیوں تک ہر چیز کی تدبیر اللہ تعالیٰ ہی کرتا ہے ہر چیز اسی کے قبضہ اور تصرف میں ہے۔ یہی بات اللہ تعالیٰ نے حضور نبی کریم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے کہلوائی قل لا املک لنفسی نفعاً ولا ضحاً الا ما شآء اللہ “ (اعراف) میں اپنے لئے کسی نفع و نقصان کا مالک نہیں ہوں۔ تمام تصرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے ، وہ جو چاہے کرے ساری مخلوق اس کی محتاج ہے۔ وہ اکیلا معبود ہے باقی سب عابد ہیں۔ مگر نصاریٰ کی عقل پر پردہ پڑگیا ہے جو مسیح (علیہ السلام) کو معبود بنائے بیٹھے ہیں حالانکہ آپ کو نفع نقصان کا کچھ اختیار نہیں۔
صفات الوہیت
فرمایا یاد رکھو ! واللہ ہو السمیع العلیم ہر ایک کی بات ، دعا ، اور فرماد کو سننے والا اللہ تعالیٰ ہے اور ہر چیز کو جاننے والا بھی وہی ہے وہی ذات بکل شیء محیط ہے “ اور ویہ ذات بکل شیء علیم “ ہے نہ کوئی چیز اس کے احاطہ قدرت سے باہر ہے اور نہ کوئی اس کے علم سے باہر ہے یہ دونوں صفات صفات الوہیت میں سے ہیں۔ پرسوں بھی عرض کیا تھا کہ واجب الوجود ہونا ، کمال صفات کا مالک ہونا ، مختار کل اور علیم کل ہونا ، قدرت نامہ کا مالک ہونا۔ غیر محدود اور غیر مرئی ہونا ، سب صفات الوہیت ہیں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) میں ان میں سے کوئی بھی صفت نہیں پائی جاتی ، وہ تو نظر آتے تھے اور محدود جسم رکھتے تھے لہٰذا وہ الہ کیسے ہو سکتے ہیں۔ چونکہ وہ الہ نہیں ہیں لہٰذا ان کی عبادت بھی نہیں ہو سکتی۔ عبادت کے لائق صرف وہ ذات ہے۔ مگر تم ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہو ، جن میں یہ صفات نہیں پائی جاتیں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کو نہ تو کوئی اختیار ہے ، نہ ہر چیز پر ان کی نگاہ ہے اور نہ وہ ہر چیز کا علم رکھتے ہیں۔ لہٰذا ان کی طرف الوہیت کی نسبت کرنا بالکل حماقت کی بات ہے جو عقل سے بالکل بعید ہے۔
غلوفی الدین
غلوفی الدین یعنی دین کے معاملہ میں افراط وتفریط کا پیدا ہوجانا ایک قدیم بیماری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو اس سے باز رہنے کی تلقین کی اور فرمایا قل یا ھل الکتب لا تغلوا فی دینکم غیر الحق اے پیغمبر ! آپ فرما دیں کہ اے اہل کتاب ! اپنے دین میں ناحق غلونہ کرو۔ غلو کا معنی تجاوز کرنا یا حد سے بڑھنا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ غلو دونوں صورتوں میں واقع ہوتا ہے یعنی افراط اور تفریط میں اگر کسی چیز یا ہستی کو اس کے مرتبے سے بڑھا دیا جائے تو افراط یا زیادتی ہوتی اور اگر اس کے منصب میں کمی کردی جائے تو تفریط کہلائی ہے۔ مقصد یہ کہ دین اور شریعت میں کسی معاملہ کے متعلق جو حد مقرر کی گئی ہے۔ اس میں کمی بیشی کرنا افراط وتفریط ہے جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے یہودی تفریط کا شکار تھے۔ اللہ نے تو اپنے انبیاء کی اتباع کا حکم دیا تھا ” وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن للہ “ (النسائ) ہم نے تو ابنیاء کی اطاعت کا حکم دیا کیونکہ وہ اللہ کے معصوم بندے ہوتے ہیں اور انہیں مبعوث ہی اس لئے کیا جانا ہے کہ ان کی فرمانبرداری کی جائے۔ مگر یہودی اپنے انبیاء کی توہین و تذلیل کے مرتکب ہوئے اور انہیں قتل کرنے سے بھی دریغ کیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات میں بنی اسرائیل کی طرف سے بےادبی اور گستاخی کے لئے ہی امور کا ذکر ہوچکا ہے۔ اللہ کا نبی نو پوری مخلوق میں منتخب اور برگزیدہ بندہ ہوتا ہے اس کے ذمہ بنی نوع انسان کی ہدایت اور راہنمائی کا فریضہ ہوتا ہے ۔ مگر یہودی اپنے نبیوں کو عام انسانوں کا درجہ بھی نہ دے سکے اور اس طرح وہ تفریط کے مرتکب ہوئے۔ برخلاف اس کے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تعظیم و تکریم میں اس حد تک غلو کیا کہ انہیں نبوت کے مقام سے اٹھا کر الوہیت کی کرسی پر بٹھا دیا۔ اللہ کی صفات مخصہ کو مسیح (علیہ السلام) میں ثابت کرنے کی کوشش کی اور اس طرح افراط کے مرتکب ہوئے ، حالانکہ دین کے معاملہ میں افراط اور تفریط دونوں ناپسندیدہ ہیں اور دونوں قمراہی کا باعث ہیں دین میں جس چیز کے متعلق جو حد مقرر کی گئی ہے اور س پر قائم رہنا ہی صحیح دینداری ہے انسان کو انسان کے مرتبے پر ہی رکھنا صحیح ایمان ہے۔ اگر کسی شخص کو الوہیت کی چادر اوڑھا دی گئی تو ہی غلو یعنی حد سے تجاوز ہے۔
بڑھانا نہ حد سے زیادہ مجھے تم
افراط یعنی حد سے تجاوز کرنے کی بیماری ہماری امت میں بھی پا لی جاتی ہے۔ حضور ﷺ نے خود اپنے متعلق فرمایا تھا لا تطرونی کما اطرت النصاری ابن مریم ۔ میری تعریف میں مبالغہ نہ کرنا جس طرح عیسائیوں نے مسیح ابن مریم کی تعریف میں کیا اور نہیں بندے سے الہ بنا دیا۔ ایسا محبت ، عقیدت اور تعظیم میں تجاوز کی وجہ سے ہوا۔ فرمایا انما انا عبدہ و رسولہ ۔ میں تو اس کا بندہ اور اس کا رسول ہوں لہٰذا مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہی کہو۔ میری تعریف میں مبالغہ آرائی کرنا یہی افراط ہے اور یہی چیز انسان کو کفر تک پہنچاتی ہے۔ ہمارے ہاں اہل بدعت ایسا ہی کرتے ہیں۔ حضور نبی کریم (علیہ الصلوۃ والسلام) کی تعریف و توصیف میں اس حد تک مبالغہ آرائی کی کہ آپ کو خدا کے درجے تک پہنچا دیا۔ بزرگوں کے لئے ایسے ایسے تعریفی کلمات اور القابات وضع کئے جو افراط کی تعریف میں آتے ہیں۔ کہیں امام الاولیا بنا دیا اور کہیں امام المتقین کا خطاب دے دیا ، حضرت اقدس اور نامعلوم کیا کیا القابات دے کر ان کو شریعت کی مقررہ حد سے بہت آگے لے گئے۔ حضور ﷺ کے سامنے جب کسی شخص نے دوسرے شخص کی تعریف میں مبالغہ کیا تو آپ نے فرمایا ویحک قطعت عنقہ افسوس ہے تو نے تعریف میں مبالغہ کر کے اس کی گردن توڑ دی۔ فرمایا جب کسی کی تعریف مطلوب ہو تو یوں کہا کرو واللہ حسیب اللہ تعالیٰ ہی حساب لینے والا ہے۔ وہ صورت حال کو جانتا ہے۔ آپ نے فرمایا بزرگوں پر رحم کرو یعنی یوں کہو رحمھم اللہ اللہ تعالیٰ ان پر رحم کرے۔ اسی طرح صحابہ کرام کا نام آئے تو ؓ کہو یعنی اللہ تعالیٰ ان پر راضی ہوگیا۔ مقصد یہ کہ افراط وتفریط کسی صورت میں بھی روا نہیں۔ یہ چیز کفر اور شرک تک لے جاتی ہے۔ اس سے اجتناب کرنا چاہئے۔
مولانا ثناء اللہ پانی پتی اپنی تفسیر مظہری میں لکھتے ہیں کہ غلو کبھی افراط سے ہوتا ہے اور کبھی تفریط سے عیسائی تفریط میں مبتلا تھے۔ انہوں نے عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ کو الوہیت کے درجے تک پہنچا دیا۔ یعنی مولود بشری کو الہ بنا دیا۔ غرضیکہ اعمال میں نہ افراط گوارا ہے اور نہ تفریط پسندیدہ یہودیوں نے اعمال شرع کی کچھ پروانہ کی ۔ ادھر نصاریٰ کے اعمال میں تفریط ہوئی اور انہوں نے اصل اعمال کی بجائے رہبانیت کو ایجاد کیا ، اور بدعات کے مرتکب ہوئے ، بدعات کے تمام کام خود ساختہ ہوتے ہیں اور تفریط کے حکم میں داخل ہیں۔ دین میں اسی ایجاد بندہ کے متعلق آتا ہے رہبانیۃ ابتدعوھا یہ رہبانیت ہے جسے نکالا گیا اور جو انسان کو کفر اور شرک تک لے جاتی ہے۔
صلو و اصلواۃ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ولا تتبعوا اھوآء قوم نہ پیروی کرو ان لوگوں کی خواہشات کی قد ضلوا من قبل جو خود پہلے گمراہ ہوچکے ہیں واضلوا کثیراً اور انہوں نے بہت سے دوسروں کو بھی گمراہ کردیا ہے۔ یہود و نصاریٰ نے یہی کیا کہ وہ تو گمراہ ہوئے مگر انہوں نے دوسرے لوگوں کو بھی گمراہی کے گڑھے میں پھینک دیا۔ یہودیوں میں شرک کی بیماری صابیوں سے آنی اور نصاریٰ نے اسے یونانیوں رومیوں اور پرانے مصریوں سے اخذ کیا۔ ہمارے اس برصغیر میں بھی شرک اور بدعت کی لعنت ہندومت اور بدھ مت سے آئی ہے۔ یہ سوئم ، چالیسواں ، قبروں پر پھول چڑھانا وغیرہ سب ہندوئوں سے اخذ شذہ رسوم ہیں۔ یہ اسلام کا طریقہ نہیں ہے بلکہ خلاص بدعات ہیں مگر اللہ نے فرمایا کہ دوسری اقوام کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ بدعات میں خواہشات سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا ان میں کوئی دلیل نہیں ہوتی بلکہ محض ذاتی پسند ہوتی ہے کہ ہمارے ہاں یہ رواج ہے ، ہمارا یہ دستور ہے۔ ہمارے بڑے ایسا کرتے تھے۔ ایسی چیزیں نہ تو کتاب و سنت میں ملتی ہیں اور نہ صحابہ کرام کے عمل اور ائمہ دین کے اجتہاد سے ثابت ہیں۔ ہمارے ہاں خوشی اور غمی کی تمام رسوم محض خواہشات کی پیروی کا نام ہیں جس سے اللہ نے منع فرمایا ہے۔ بدعات میں محض اپنی پسند کی تکمیل مطلوب ہوتی ہے نہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی رضا۔
آج مسلمان بھی بدعات کا شکار ہوچکے ہیں۔ انہوں نے آسمانی کتابوں وحی الٰہی اور انبیاء کا طریقہ چھوڑ دیا ہے۔ وضلوا عن سوآء السبیل اور سیدھے راستے سے بہک چکے ہیں۔ آج یہ بھی انہی لوگوں کا اتباع کر رہے ہیں جو خود بھی گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھی گمراہ کیا۔ وہ لوگ بھی سندرات اور بدعات کے عمل سے گمراہ ہوئے اور آج یہ بھی انہی کے نقش قدم پر چل کر ضلالت کے گڑھے میں گر چکے ہیں۔
بدعات کی حوصلہ افزائی
بدعات کو جاری کرنے والے اکثر فاسق اور فاجر لوگ ہوتے ہیں یا پھر ملوک اور سلاطین انہی لوگوں کی حوصلہ افزائی سے بدعات پروان چڑھتی ہیں ہمارے ملک میں بھی بدعات کی حوصلہ افزائی اوپر سے ہوتی ہے ، قبروں کا غسل اور ان پر چادریں چڑھانا ، بہشتی دروازے کی کشادگی وغیرہ امراء اور وزراء اور اعلیٰ حکام ہی کرتے ہیں۔ جب بڑا آدمی خود قبروں پر پھول چڑھاتا ہے و چھوٹے آدمی بھی انہی کا اتباع کرتے ہیں۔ وہ خود بھی گمراہ ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی کرتے ہیں یہ تمام چیزیں غلوفی الدین میں داخل ہیں۔ ذرا غور فرمائیں کہ قبروں کے ساتھ جو معاملہ آج ہو رہا ہے کیا حضور ﷺ نے ایسا کیا تھا یا صحابہ کرام نے کیا تھا یا سلف صالحین میں سے کسی نے ترغیب دی تھی کیا ان لوگوں کا دین مکمل نہیں تھا ، جو ان چیزوں سے محروم رہ گئے۔ قبروں کی پختگی تو حضور ﷺ کے فرمان کے بالکل خلاف ہے۔ آپ نے تو فرمایا تھا لاتجصصوا قبروں پر پکی اینٹ نہ لگائو۔ مگر اب بڑی عالیشان عمارتیں تعمیر ہو رہی ہیں ، چپس لگ رہے ہیں۔ قبروں پر پنکھے چل رہے ہیں۔ بڑے بڑے گنبد بن رہے ہیں۔ یہ سب غیر اقوام کا اتباع اور غلوفی الدین ہے ۔
ہندوستان میں قبروں پر گنبد بنانے کی بدعت بدھوں سے آئی سے ہندوستان ، چین ، جاپان اور مشرق بعید کے بعض دیگر ممالک میں ایسا ہی ہے بڑی بڑی یادگاریں بنائی جاتی ہیں۔ یہ دیوہیکل اہرام مصر کیا ہیں ؟ یہ قبرستان ہی تو ہیں۔ آج سے ساڑھے چھ ہزار سال قبل بننے والے یہ فرعونوں کے مزار میں ۔ جس طرح مصری اور یونانی گمراہ ہوئے اسی طرح اب مسلمان بھی ہو رہے ہیں۔ جو بدعات صابی اور زر تشتی مذاہب میں تھیں۔ وہی اب مسلمانوں میں بھی آ چکی ہیں جو چیزیں یہود و نصاریٰ نے اختیار کیں وہی مسلمان بھی اپنا رہے ہیں۔ اسی لئے تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ میری امت کے لوگ بھی اہل کتاب سے اسی طرح مشابہت اختیار کریں گے جس طرح ایک جوتا دوسرے جوتے کے مشابہ ہوتا ہے۔ غرضیکہ کہ اللہ نے فرمایا کہ سابقہ قومیں بھی دین میں افراط و تفرط کی وجہ سے ہی گمراہ ہوئیں اور وہ بہت سے دوسرے لوگوں کی گمراہی کا باعث بھی بنیں۔
Ayahs 5:78–81ربط آیات
گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی خرابیوں اور ان کے باطل اعتقادات کا تذکرہ ہوتا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کے مختلف فرقوں کے عقائد باطلہ کی تردید فرمائی۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ مسیح (علیہ السلام) کو بعینہ خدا ماننا یا ان کو تین خدائوں میں سے تیسرا تسلیمہ کرنا یا انہیں متصرف فی الامور خیال کرنا ، سب گمراہ کن عقائد ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ مسیح (علیہ السلام) تو خلاص توحید کی تبلیغ کرتے تھے کفر اور شرک سے روکتے تھے کیونکہ مشرک ابدی جہنمی ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم کی پوزیشن بھی صاف کی کہ وہ تو اللہ تعالیٰ کی ایک نیک اور راست باز خاتون تھی اور وہ یہود کی طرف سے تفریط اور انصاری کی افراط سے مبرا تھی۔ اس کے بعد اللہ نے دین میں غلو کرنے سے منع فرمایا۔ اللہ نے بنی اسرائیل پر جو ناراضگی کی اور جو دنیا میں ان کو سزا دی۔ اس کا تذکرہ بھی کیا اور عام لوگوں کو تنبیہ کہ وہ برائی سے باز آجائیں ورنہ انہیں بھی اسی قسم کی سزا دی جائیگی جیسی بنی اسرائیل کے دو گروہوں کو دی گئی۔
بنی اسرائیل پر منت
آج کی آیات میں بنی اسرائیل کے دو گروہوں کا تذکرہ کیا گیا ہے جنہوں نے اپنے انبیاء کی بار بار وعید کے باوجود اللہ کے احکام کی نافرمانی کی اور انہیں اسی دنیا میں سزا دی گئی جس سے ان کی شکلیں تبدیل ہوگئیں ارشاد وہتا ہے سعن الذین کفروا من بنی اسرآئیل بنی اسرائیل میں ان لوگوں پر لعنت کی گئی جنہوں نے کفر کیا یہ بنی اسرائیل اپنے انبیاء کے امتی ہونے کے دعویدار تھے مگر انہوں نے نہ تو شرائع الہیہ کو مانا اور نہ انبیاء کے کہنے پر برائیوں سے باز آئے ، بلکہ اللہ کے احکام کی صریح خلاف ورزی کی۔ فرمایا ایسے لوگوں پر لعنت کی گئی یعنی انہیں خدا کی رحمت سے دور کردیا گیا ۔ وہ پھٹکار اور ذلت کا شکار ہوگئے۔ مگر یہ لعنت یکدم نہیں آئی بلکہ یہ سزا انہیں بار بار کی نافرمانیوں اور سمجھانے کے باوجود نافرمانی پر اصرار کرنے کی وجہ دی گئی۔ دوسرے مقامات پر موجود ہے کہ اللہ کے نبی انہیں برے کاموں سے منع کرتے تھے مگر وہ لوگ باز نہیں آتے تھے ، نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر اللہ کی پھٹکار پڑی اور وہ ملعون ٹھہرے۔
حضرت دائود (علیہ السلام) کے زمانہ میں
اللہ تعالیٰ نے یہاں پر جس لعنت کا تذکرہ کیا وہ دو مختلف زمانوں میں دو مختلف انبیاء کی نافرمانی کی وجہ سے وارد کی گئی۔ پہلا واقعہ حضرت دائود (علیہ السلام) کے زمانہ کا ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر لعنت بھیجی علی لسان دائود و عیسیٰ ابن مریم یعنی حضرت دائود (علیہ السلام) کی زبان سے اور عیسیٰ کی زبان سے اس گروہ کا تذکرہ سورة اعراف میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت دائود (علیہ السلام) کے ذریعے ان لوگوں کو حکم دیا تھا کہ وہ ہفتے کے دن مچھلی کا شکار نہ کریں مگر یہ لوگ بار نہ آئے اور حیلے بہانے سے مچھلی کا شکار کرتے رہے۔ ان کی حیلہ سازی یہ تھی کہ بظاہر تو ہفتہ کے دن مچھلیوں کو نہیں پکڑتے تھے۔ مگر اس دن انہیں حوض میں جمع کرلیتے تھے اور پھر اگلے دن سب کا شکار کرلیتے تھے۔ حضرت دائود (علیہ السلام) کے بار بار منع کرنے کے باوجود وہ لوگ باز نہ آئے ، آخر کار ان پر اللہ کا غضب نازل ہوا اور وہ اسی دنیا میں معتوب ٹھہر۔ اللہ نے ان کی شکلیں تبدیل کر کے انہیں بندر اور خنزیر بنا دیا اور پھر تین دن کے بعد انہیں صفحہ ہستی سے بالکل ناپید کردیا اور یہ مسخ شدہ شکلوں والے بنی اسرائیل ہلاک ہوگئے۔ اگرچہ ان کی تعداد کا ذکر قرآن و حدیث میں نہیں ہے ، تاہم تفسیری روایات کے مطابق ان کی تعداد ہزاروں میں تھی۔ اس واقعہ کے مقام تورات میں ایلات کا ذکر آتا ہے۔ اور یہ وہی جگہ ہے جو خلیج عقبہ کے پاس ہے اور آج کل اسرائیل کے قبضہ میں ہے اس مقام کے متعلق سورة اعراف میں حاضرۃ البحر کا ذکر آتا ہے۔ ” واسئلھم عن القریۃ التی کانت حاضرۃ البھر۔ اور ان سے اس بستی کا حال پوچھو جو لب دریا واقع تھی۔
حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں
دوسرا واقعہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کا ہے قوم کے کہنے پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے درخواست کی تو اللہ نے آسمان سے مائدہ یعنی دستر خوان اتارا۔ آپ نے بار بار تاکید کی کہ وقت … پر جتنا کھانا آئے وہ سب میں تقسیم کر دو اور اسے ذخیرہ بنانا مگر لوگ باز نہ آئے اور ذخیرہ اندوزی شروع کردی۔ بعض لوگوں کو یہ کھانا کھانے سے منع کیا گیا تھا مگر وہ بھی کھانے سے باز نہ آئے نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر اللہ کی لعنت نازل ہوئی۔ اس واقعہ کا تذکرہ اسی سورة کے آخری حصے میں آئے گا۔ امام بیضاوی فرماتے ہیں کہ جو لوگ بار بار منع کرنے کے باوجود باز نہ آئے اللہ نے ان کی شکلیں بگاڑ کر انہیں خنزیروں کی شکل میں تبدیل کردیا گیا ان لوگوں کی تعداد کا ذکر بھی قرآن و حدیث میں نہیں ہے۔ تاہم تفسیری روایات کے مطابق ان کی تعداد پانچ ہزار تھی۔
لعنت کی
فرمایا ذلک بما عصوا یہ اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے جس کے نتیجے میں اللہ کی ناراضگی نازل ہوئی اطاعت کے نتیجے میں اللہ کی خوشنودی حاصل ہوتی ہے اور نافرمانی کی صورت میں اللہ کا غضب ہوتا ہے۔ وکانوا یعتدون وہ صرف نافرمانی ہی میں کرتے تھے بلکہ حد سے تجاوز ہی کرتے تھے اور پھر ان کا حال یہ تھا کانوا لایتناھون عن منکر فعلوہ ۔ وہ لوگ ایسے تھے جو ایک دوسرے کو اس برائی سے نہیں روکتے جس کو وہ انجام دیتے تھے۔ تناھی یتناھی باب تفاعل سے ہے یعنی ایک دوسرے کو منع کرنا۔ لوگوں کے سامنے برائی کا ارتکاب ہوتا تھا مگر وہ اسے روکتے نہیں تھے۔
غرضیکہ بنی اسرائیل پر لعنت دو وجوہات کی بنا پر ہوئی۔ پہلی یہ ہے کہ وہ لوگ نافرمانی کا ارتکاب کرتے تھے۔ ابتداء میں جب کوئی شخص برائی کا ارتکاب کرتا تو دوسرا کہتا اتق اللہ اللہ سے ڈر جائو اور یہ فعل قبیح انجام نہ دو ۔ پھر جب دوسرے دن وہی شخص برائی پر اصرار کرتا تو منع کرنے والا بھی اس کے ساتھ شریک ہوجاتا ، وہ اکٹھے اٹھتے بیٹھنے اور اکٹھے کھاتے پیتے۔ چناچہ برائی کرنے والا اور نہ کرنے والا اکیلہ وشی یبہ و قعیدہ کے مصداق ہم نوالہ وہم پیالہ ہوجاتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا غضب آیا اور ان کی شکلیں مسخ ہو کر بندروں اور خنزیروں کی بن گئیں اور وہ اس دنیا سے نیست و نابود ہوگئے۔
آخری امت کے لئے تنبیہ
بنی اسرائیل کی یہ خصلت بیان کرنے کے بعد حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) نے اپنی امت کو بھی خطاب فرمایا اور کہا بخدا لوگوں کو برائی سے منع کیا کرو اور حق پر قائم رہنے کی سخت تاکید کیا کرو ، ورنہ تمہارا حشر بھی وہی ہوگا۔ جو بنی اسرائیل کا ہوا۔ تم پر بھی لعنت برسے گی اور بعض کے دل بعض کے ساتھ ٹکرائیں گے اور خرابیاں پیدا ہوں گی ۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے آخری نبی سے وعدہ کیا ہے کہ آپ کی امت کے لوگوں کی شکلیں مسخ نہیں ہوں گی ، ان پر عمومی عذاب نازل نہیں کیا جائے گا۔ تاہم ان میں بنی اسرائیل والی ساری خرابیاں پیدا ہوجائیں گی۔
تفسیر مدارک والے ابوالبرکات نسقی فرماتے ہیں کہ اس آیت میں اہل ایمان کے لئے سخت و عید ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیتے ہیں ورنہ وہ بھی خدا کے معتوب ، مغضوب اور ملعون ٹھہریں گے ۔ نیکی کا حکم اور برائی سے ممانعت کا کام بہت ضروری ہے اگر منع کرنے کے باوجود لوگ برائی سے باز نہیں آتے تو پھر ناصحین کا فرض ہے کہ ان سے علیحدگی اختیار کرلیں ورنہ خطرہ ہے کہ وہ بھی مغضوب علیہم میں شامل ہوجائیں گے اور ان پر بھی اللہ کا عتاب نازل ہوگا۔ حضور ﷺ نے اس بارے میں سخت تاکید فرمائی ہے ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر نہایت ضروری ہے حسب استطاعت برائی کو طاقت سے روکے یا زبان سے اور اس کا ادنیٰ درجہ یہ ہے کہ برئای کو دل سے ہی برا جانے اور برے لوگوں کے ساتھ شامل نہ ہو۔ ابو دائو دو شریف کی روایت میں آتا ہے کہ جو شخص برائی تو نہیں کرتا مگر برائی کو برا بھی نہیں سمجھتا ، وہ ایسا ہی ہے جیسا خود برائی میں شریک ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص بالفعل نیکی کرنے پر قدرت نہیں رکھتا۔ مگر نیکی کو پسند کرتا ہے تو وہ بھی نیکی کرنے والوں کی مجلس میں حاضر سمجھا جائیگا۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر
ایک حدیث کے الفاظ اس طرح ہیں جسے امام ابن کثیر نے بھی نقل کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اس امت کا خاصہ ہے اور یہ ترک ہوجائے اور برائی کرنے والوں کے ساتھ شرکت ہوجائے تو معتوب اور مغضوب ہونے والی بات ہے۔ صحابہ نے عرض کیا حضور ! امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کب چھوڑ دی جائے گی۔ فرمایا جب تم میں وہی برائیاں پیدا ہوجائیں جو پہلی امتوں میں تھیں۔ صحابہ نے پھر عرض کیا وہ پہلی امتوں والی باتیں کب پیدا ہوں ی فرمایا جب تمہاری بادشاہی اور حکومت ذیل لوگوں کے پاس چلی جائے گی اور بڑے لوگ فحاشی کا شار ہوجائیں گے اور علم فاسق لوگوں کے پاس چلا جائے گا۔ فرمایا جب یہ حالات پیدا ہوجائیں گے تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ترک ہوجائے گا۔
حضور ﷺ کو پیش گوئی کے مطابق آج وہی حالات پیدا ہوچکے ہیں آج امرا اور حکام میں ذاتی اغراض اور تعیش پیدا ہوچکا ہے۔ سرکاری خزانے کو باپ دادا کی جاندار سمجھ کر برائی کے کاموں پر صرف کیا جا رہا ہے۔ کھیل تماشے فحش اور فضول باتوں کا دور دورہ ہے۔ آج امر بالمعروف اور نہی المنکر کا فریضہ کو نادا کرسکتا ہے ! ہم سب مسلمان ہیں ، ہم سب کا فرض تھا کہ ایک دوسرے کو برائی سے روکتے۔ امرا ، نجار اور حکام کو برائی سے روکتے اگر یہ روک ٹوک ہوتی تو وہ برائیوں میں مبتلا نہ ہوتے مگر ان کا خوف ایک آدمی کو ترف شکایت بھی زبان پر لانے سے روکتا ہے چہ جائیکہ انہیں علی الاعلان برے اموں سے روکا جائے۔ اب اس برائی کی کشتی میں سب سوار ہیں پوری قوم معتوب اور مغضوب ہو کر رہ گئی ہے۔ اس کی خصوصیات ختم ہوگئی ہیں اور مسلمانوں کا شمار ذیل قوموں میں ہونے لگا ہے۔ حالانکہ یہ ان کا امتیاز تھا کہ لوگوں کو برائی سے روکتے اور نیکی کی تلقین کرتے مگر برائی سے منع تو وہ کرے گا جو خود اس برائی میں ملوث نہ ہو۔ مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہوچکا ہے آج برائی سے روکنے والا کون ہے ؟ فرمایا جو لوگ برائی سے نہیں روکتے لبئس ما کانوا یفعلون کہتے ہی برا ہے وہ کام جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ انہوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک کردیا اور برے لوگوں کی ہم نشینی اختیار کی ، برائیوں میں شریک ہوئے جبکہ نتیجہ یہ ہوا کہ خدا کا غضب نازل ہوا اور نبیوں کی زبان سے ان پر لعنت بھیجی گئی۔
کفار سے دوستی
فرمایا آج بھی اہل کتاب کا حال یہ ہے ترکی کثیراً منھم یتولون الذین کفروا ۔ آپ ان میں سے بتوں کو دیکھیں گے وہ کافروں سے دوستی رکھتے ہیں حضور ﷺ اور اہل ایمان سے و سمی رکھتے ہیں حالانکہ یہ اپنے آپ کو اہل کتاب کہلاتے ہیں ان کی کفار مکہ سے تو دوستی ہے مگر پاک دین والوں کے ساتھ نفرت ہے مدینے کے یہودیوں میں سے کعب بن اشرف سخت دشمن اسلام تھا۔ وہ بہت بڑا
تاجر تھا اور اس کی اپنی گڑھی تھی واقعہ بدر کے بعد مکہ گیا اور مشرکوں کو مسلمانوں کے خلاف حمایت کا یقین دلایا ، مشرکوں کی حوصلہ افزائی کی کہ ان مٹھی بھر مسلمانوں کا ایک ہی حملے میں صفایا کردیا جائے گا۔ اس آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔
بعض فرماتے ہیں کہ اس آیت کے مصداق منافقین مدینہ ہیں جو کافروں کے ساتھ دوستانہ رکھتے تھے اور ان تک مسلمانوں کے راز پہنچاتے تھے فرمایا لبئس ما قدمت لھم انفسھم ۔ بہت برا ہے جو ان کے نفسوں نے آگے بھیجا ہے اور وہ بری چیز کیا ہے ؟ ان سخط اللہ علیھم یہ کہ اللہ تعالیٰ ان پر غضبناک ہوگیا ، انہوں نے حق کو ترک کر کے باطل کی حمایت کی تو ان پر خدا تعالیٰ کی ناراضگی اور اس کا غضب نازل ہوا۔ وفی العذاب ھم خلدون اور وہ ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہیں گے یہ ان کی کارگزاری کی سزا ہے کہ وہ ابدی جہنمی بن گئے۔
ایمان کا تقاضا
فرمایا ولو کانوا یومنون باللہ اور اگر یہ لوگ اللہ تعالیٰ پر صحیح طریقے سے ایمان لاتے ۔ یعنی بظاہر تو کہتے ہیں کہ ہم مومن ہیں اور ہم موسیٰ (علیہ السلام) ، عیسیٰ (علیہ السلام) اور تورات اور انجیل پر ایمان رکھتے ہیں مگر فرمایا یہ صحیح ایماندار نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے عقیدے خراب کردیئے ہیں ، دین میں کفر اور شرک کی رسومات داخل کردی ہیں اور جیسا کہ کل عرض کیا تھا برے لوگوں سے بری چیزیں اخذ کی ہیں۔ مجوسیوں ، صابیوں ، یونانیوں اور مصریوں سے کفر ش ک کی باتیں سیکھی ہیں۔ غیر اللہ کی نیاز دی ہے۔ ان کی پرستش کی ہے ، فال گیری اور جادو پر یقین رکھا ہے۔ رسومات باطلہ کو اختیار کیا ہے ، بدعات کو جز و دین بنایا ہے اور اس لعنت میں گرفتار ہوئے ہیں ۔ فرمایا اگر یہ صحیح طریقے سے اللہ پر ایمان لاتے والنبی اور نبی آخر الزمان پر بھی ایمان لاتے کیونکہ اس کے بعد کوئی نبی اور کوئی نیا پروگرام نہیں آئے گا اور پھر اس چیز پر بھی ایمان لاتے وما انزل الیہ جو اس نبی کی طرف نازل کی گئی ہے ما اتخذوھم اولیآء تو ان کافروں کو دوست نہ بناتے۔ ایک سچا مومن ایمان والوں کو چھوڑ کر کافروں کے ساتھ دوستانہ نہیں کرسکتا۔
نافرمانوں کی کثرت
فرمایا ولکن کثیر منھم فسقون۔ حقیقت یہ ہے کہ اہل کتاب کی اکثریت فاسق ہیں۔ ان میں بہت کم لوگ باصلاحیت ہیں جو ایمان کو قبول کرتے ہیں وگرنہ اکثریت نافرمانوں کی ہے۔ حضور ﷺ کے زمانہ میں مدینہ کے گرد و نواح میں دس بڑے یہودی عالم تھے۔ ایک موقع پر حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ اگر یہ آدمی ایمان لے آئیں تو دنیا میں کوئی یہودی باقی نہ ہے۔ مگر ان میں سے صرف عبداللہ بن سلام ایمان کی دولت سے مشرف ہوئے باقی سب باطل دین پر ہی مرے۔ اسی لئے فرمایا کہ ان میں بہت کم لوگ ہیں جنہوں نے ایمان قبول کیا ، ان میں عدی بن حاتم طائی اور تمیم داری وغیرہ ہیں ، جن کو اللہ نے توفیق بخشی اور وہ ایمان سے مشرف ہوئے تاہم نصاریٰ اور یہود کی اکثریت باطل پر قائم رہی اور چودہ صدیاں گزرنے کے باوجود یہ لوگ باطل پر ڈٹے ہوئے ہیں تو فرمایا ان میں اکثریت نافرمانوں کی ہے جو حق کی مخالفت کرتے ہیں جس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ ابدی طور پر جہنم کے مستحق ٹھہرے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی لعنت کے مستوجب ہیں۔
یہود و نصاریٰ کا تذکرہ کر کے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بھی یہ بات سمجھا دی ہے کہ اگر تم میں بھی اہل کتاب والی برائیاں پائی گئیں۔ تو تم بھی اسی طرح معتوب و ملعون ٹھہرو گے جس طرح اہل کتاب اس لعنت میں گرفتار ہوئے۔