5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 5:67–68

یٰۤاَیُّهَا الرَّسُوْلُ بَلِّغْ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:67 in the Quran reader

اے رسول ! پہنچا دیں وہ چیز جو نازل کی گئی ہے آپ کی طرف آپ کے پروردگار کی جانب سے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا ، تو گویا آپ نے اس کی رسالت کا حق ادا نہیں کیا اور اللہ تعالیٰ آپ کو بچائے گا لوگوں سے ، بیشک اللہ تعالیٰ نہیں راہ دکھاتا کفر کرنیوالی قوم کو

قُلْ یٰۤاَهْلَ الْكِتٰبِ لَسْتُمْ عَلٰى شَیْءٍ حَتّٰى تُقِیْمُوا التَّوْرٰىةَ وَ الْاِنْجِیْلَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ١ؕ وَ لَیَزِیْدَنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ مَّاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ مِنْ رَّبِّكَ طُغْیَانًا وَّ كُفْرًا١ۚ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 5:68 in the Quran reader

اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجیے اے اہل کتاب ! نہیں ہو تم کسی چیز پر حتی کہ تم قائم کرو تورات اور انجیل کو اور اس چیز کو جو نازل کی گئی ہے تمہاری طرف تمہارے رب کی جانب سے اور البتہ زیادہ کریگی ان میں سے اکثریت کے لئے جو چیز اتاری گئی ہے آپ کی طرف آپ کے سب کی جانب سے سرکشی اور کفر پس نہ افسوس کریں آپ ان لوگوں پر جو کفر کرنیوالے ہیں۔

ربط آیات گزشتہ آیات میں اہل کتاب کی مذمت بیان ہوئی تھی ان کی سرکشی ، کفر اور فساد فی الارض کا ذکر تھا۔ وہ لڑائی کی آگ بھڑکانا چاہتے تھے ، مگر اللہ نے انہیں ناکام بنا دیا اور بطور نصیحت فرمایا کہ اگر تم تورات و انجیل کو قائم کرتے اور نازل شدہ ہدایت پر عمل کرتے تو آسمان و زمین کی برکات تمہارے شامل حال ہوتیں مگر یہود و نصاریٰ کی اکثریت نافرمان تھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ ان میں کچھ باصلاحیت لوگ بھی موجود ہیں جو میانہ روی اختیار کرتے ہیں ، ان کو ہدایت نصیب ہوجاتی ہے اور اہل ایمان کا بھی فرض ہے کہ وہ ہدایت کی بات محنت اور کوشش سے ان تک پہنچائیں۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو مخاطب کر کے فرمایا کہ وہ اپنا فریضہ تبلیغ دین انجام دیتے رہیں اور مخالفین کی پروا نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ خود دشمنوں سے آپ کی حفاظت کرے گا۔ فریضہ تبلیغ دیں ارشاد ہوتا ہے یایھا الرسول ۔ اے رسول ! بلغ ما انزل الیک من ربک ۔ آپ پہنچا دیں وہ چیز جو آپ کی طرف آپ کے رب کی جانب سے نازل کی گئی ہے۔ اور وہ قرآن پاک اور اس کی تشریح ہے تشریح میں احادیث کا پورا ذخیرہ آجاتا ہے جو حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کا قول اور عمل ہے۔ امام بیضاوی فرماتے ہیں کہ اس چیز سے مراد وہ تمام احکام ہیں جو انسانوں کی مصلحت اور بہتری سے تعلق رکھتے ہیں۔ چناچہ حضور ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ تمام چیزیں جن کا تعلق انسان کے عقیدے اور عمل کے ساتھ ہے ، وہ لوگ کے سامنے بیان کردیں۔ البتہ بعض بہت باریک نکات جو اسرار الٰہیہ کہلاتے ہیں انہیں ظاہر کرنے کا حکم نہیں ہے۔ کیونکہ ایسی چیزوں کا بندوں کی مصلحت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ایسے رموز و نکات کو خواص تو سمجھ لیتے ہیں مگر ان کا سمجھنا عوام کے بس میں نہیں ہوتا۔ لہٰذا انہیں تمام لوگوں تک پہنچانا مناسب نہیں ہوتا۔ مسلم شریف میں حضرت عبداللہ بن مسعود کا قول موجود ہے۔ ” ما انت بمحدث قوما حدیثاً لاتبلغہ ، عقولھم الا کان لبعضھم فتنۃ ۔ جس بات کو عام لوگوں کی عقلیں سمجھنے سے قاصر ہوتی ہیں ، ان کا بیان کرنا بعض لوگوں کے لئے فتنے اور گمراہی کا ذریعہ بن جائے گا۔ لہٰذا ان کا عام بیان درست نہیں ہے۔ اس کی ممانعت فرمائی گئی ہے۔ البتہ جو باتیں انسانوں کی صلاح کے لئے ضروری ہیں ان میں سے کسی ایک کو بھی ترک کرنے کی اجازت نہیں وہ سب کی سب لوگوں تک پہنچانا ہوں گی۔ اس بات کی وضاحت اس حدیث شریف سے ہوتی ہے جسے امام بیہقی نے نقل کیا ہے۔حضور ﷺ نے فرمایا ما من شی یقربکم الی الجنۃ ویباعدکم من النار الا انبتکم بی جنت سے قریب کرنے والی اور دوزخ سے دور کرنے والی کوئی ایسی چیز نہیں جو میں نے تمہیں نہ بتائی ہو۔ میں نے ہر چیز تمہیں ٹھیک ٹھیک پہنچا دی ہے۔ ما انزل الیک کا یہی مفہوم ہے۔ اس حدیث سے ان لوگوں کا رد ہوتا ہے ، جن کا عقیدہ یہ ہے کہ نبی (علیہ السلام) نے ساری کی ساری باتیں امت کو نہیں بتلائیں ، بعض چیزیں بعض خاص آدمیوں کو بتائیں۔ رافضی کہتے ہیں کہ یہ خاص با میں حضور ﷺ نے صرف حضرت علی کو بتائیں۔ یہ باطل عقیدہ ہے۔ اللہ کا رسول اس بات کا پابند ہے کہ وہ انسانی اصلاح کی تمام باتیں لوگوں کے سامنے بیان کر دے۔ ” وما ھو علی الغیب بضنین “ عالم غیب سے اللہ تعالیٰ کے دین کے جو احکام اور خاص اصول آتے ہیں ، اللہ کا نبی انہیں ظاہر کرنے میں بخل نہیں کرتا ، وہ سب باتیں پہنچا دیتا ہے۔ لوگ تو یہاں تک لیتے ہیں کہ قرآن پاک کی بعض آیات بھی حضور ﷺ نے حضرت علی کو بتائیں اور باقی لوگوں کے سامنے پش نہیں کیں۔ بہرحال یہ غلط عقیدہ ہے۔ نبی کے فرائض منصبی میں داخل ہے کہ وہ تمام احکام و قوانین لوگوں تک بےکم وکاست پہنچا دے۔ حق رسالت اللہ تعالیٰ نے فرمایا وان لم تفعل اگر آپ نے ایسا نہ کیا ، تمام احکام لوگوں تک نہ پہنچائے فما بلغت رسالتی ، تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی رسالت کو نہیں پہنچایا ، گویا آپ نے حق رسالت ادا نہیں کیا۔ امام بیضاوی فرماتے ہیں ، احکام الٰہی میں سے اگر کسی ایک چیز کو بھی آگے نہیں پہنچایا تو گویا کہ سب باتوں کو ترک کردیا۔ کسی ایک حکم کو چھپانا ، تمام احکام کو چھپانے کے مترادف ہے۔ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی شخص نماز میں سے کوئی ایک رکن ترک کر دے تو پوری نماز ترک کرنے کے برابر ہے امام صاحب فرماتے ہیں کہ اللہ کا نبی فریضہ رسالت پورے طریقے سے ادا کرتا ہے اور اس میں بال برابر بھی کوتاہی نہیں کرتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس معاملہ میں لخت و عید فرمائی ہے۔ ہر نبی نے قوم کو یہی کہا ” ابلغکم رسلت ربی “ میں پیغام خداوندی پورے طریقے سے تم تک پہنچاتا ہوں اور اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کرتا غرضیکہ اللہ کے احکام امت تک بلاکم وکاست پہنچانا نبی کے فرائض منصبی میں داخل ہے۔ اب اگر کوئی شخص یہ کہے کہ نبی اپنے فرائض ابلاغ میں کوتاہی کرتا ہے۔ تو وہ شخص گمراہ ہوگا۔ مولانا مودودی مرحوم نے اپنی تفسیر میں لکھا تھا کہ حضرت یونس (علیہ السلام) سے فریضہ رسالت میں کچھ کوتاہیاں ہوگئی تھیں ، یہ نظریہ درست نہیں ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ نے فرض منصبی میں بال برابر بھی کوتاہی نہیں کی۔ ان کی لغزش فریضہ رسالت کی کوتاہی نہ تھی۔ انہیں توقع تھی کہ اللہ کا حکم آنے والا ہے ، چناچہ انہوں نے قدرے بےصبری کا اظہار کیا اور اللہ کا حکم آنے سے پہلے ہی اپنی بستی سے نکل گئے یہ ان کی لغزش ضرور تھی جہاں تک ابلاغ رسالت کا تعلق ہے۔ آپ عرصہ دراز تک قوم کو سمجھاتے رہے اور عذاب الٰہی سے ڈراتے رہے اور اپنا فرض منصبی ادا کرتے رہے اللہ تعالیٰ تمام انبیاء کو صفائر اور کبائر سے خود بچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں گارنٹی حاصل ہوتی ہے۔ البتہ چھوٹی موٹی بھلو یا لغزش ہوجاتی ہے جیسے حضرت آدم (علیہ السلام) اور حضرت مسویٰ (علیہ السلام) سے بھی ہوئی مگر یہ گناہ نہیں ہوتے۔ چونکہ انبیاء (علیہم السلام) بڑی حیثیت کے مالک ہوتے ہیں۔ لہٰذا ان کی طرف سے معمولی چیزیں بھی برداشت نہیں ہوتیں اور انہیں ہر لغزش پر متنبہ کردیا جاتا ہے۔ مسلم شریف اور دیگرکتب احادیث میں موجود ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر کم و بیش ایک لاکھ چالیس ہزار کے جم غفیر کے سامنے آپ نے فرمایا تھا۔ وانتم تسالون عنی تم سے میرے بارے قیامت کو پوچھا جائے گا۔ فما ذا انتم قائلون تو بتائو تم کیا جواب دو گے تو صحابہ نے عرض کیا قالوا نشھدانک قد بلغت وادیت و نصحت حضور آپ نے امامت پور کے طریقے ۔ ادا کردہ ، پیغام خدا وندی کو پورے طریقے پر پہنچا دیا اور امت کی خیر خواہی کا حق ادا کردیا۔ یہ تین الفاظ آپ نے فرمائے۔ اس کے بعد آپ تنی بار آسمان کی طرف انگلی اٹھا کر کہتے تھے اللھم اشھد ، اللھم اشھد اللھم اشھد اے اللہ ! گواہ ہوجا ، اے اللہ ! گواہ ہوجا ، اے اللہ گواہ ہوجا۔ غرضیکہ حضور ﷺ نے فریضہ رسالت پورے طریقہ پر ادا کردیا اور اپنی امت کو اس پر گواہ بنا لیا۔ قرآن پا کو حی جلی ہے جس کے الفاظ منجانب اللہ ہیں۔ اس کی تشریح اللہ تعالیٰ نے وحی خفی یعنی حضور ﷺ کے ارشادات کے ذریعے کردی۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے دل میں وہ باتیں ڈال دیں جن کے ذریعے آپ نے قرآن پاک کی توضیح و تشریک کی۔ اس کام کے لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کو پابند کردیا تھا۔ لتبینن للناس آپ لوگوں پر واضح کردیں مانزل الیھم (سورۃ نحل) جو کچھ بھی ان کی طرف نازل کیا گیا ہے۔ اور اس طرح حضور ﷺ نے اپنے فرض منصبی کو بطریق احسن انجام دیا۔ جاں تک قرآن کے الفاظ کی حفاظت کا تعلق ہے۔ اللہ نے فرمایا وانا لہ لحفظون ہم ہی اس کے محافظ ہیں اور ان الفاظ کی تشریح کے متعلق بھی فرمایا ثم ان علینا بیانہ ، اس کا بیان بھی ہمارے ذمہ ہے۔ یہ کام آپ نے اپنی نبی کی زبان سے کرایا اور یہی نبی کے فرض منصبی کی ادائیگی ہے۔ حفاظت جان کی ذمہ داری باقی یہ بات کہ حضور ﷺ کے دشمن بہت زیادہ تھے اور وہ ہر وقت آپ کو ایذا پہنچانے کے دیئے ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ اپنا کام جاری رکھیں اور کفار ، مشرکین ، یہود و نصاریٰ سے خوفزدہ نہ ہوں واللہ یعصمک من الناس اللہ تعالیٰ آپ کو لوگوں سے بچائے گا۔ وہ آپ کو بلاک نہیں کرسکتے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ابتدائے اسلام کے زمانہ میں آپ پر ایمان لانے والے قلیل تعداد میں تھے جب کہ دشمنوں کی اکثریت تھی۔ ایک روز آپ نے صحابہ کرام سے فرمایا لیت رجلا صالحاً یحرمنی اللیلۃ کاش میرے صحابہ میں سے کوئی ہوتا جو میری حفاظت کے لئے پہرہ دیتا آپ نے ابھی یہ بات زبان سے نکالی تھی کہ ادھر سے حضرت سعد بن ابی وقاص ہتھیار بند ہو کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔ حضرت سعد عشرہ مبشرہ میں سے ہیں اور ساتویں نمبر پر ایمان لانے والے ہیں آپ برادری میں حضور ﷺ کے ماموں ہوتے ہیں۔ غرض ! حضور ﷺ نے حضرت سعد سے فرمایا ، کیسے آنا ہوا ؟ عرض کیا۔ میرے دل میں یہ بات آئی کہ دین کے دشمن چاروں طرف موجود ہیں۔ لہٰذا بہتر ہو کہ میں آپ کے گھر پر پہرہ دوں۔ چناچہ آپ نے اس پر بڑی مسرت کا اظہار کیا۔ کبھی حضرت سعد اور کبھی حضرت حذیفہ حضور ﷺ کی پاسبانی کا فریضہ انجام دیتے رہے پھر ایک دن حضور ﷺ گھر میں تشریف رکھتے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی واللہ یعصمک من الناس تو حضور ﷺ باہر تشریف لائے اور پہریداروں سے کہہ دیا کہ اللہ تعالیٰ نے میری ان کی حفاظت کا ذمہ لے لیا ہے اور اب پہرے نام ضرورت نہیں لہٰذا تم جاسکتے ہو۔ حفاظت جان کی ذمہ داری صرف حضور ﷺ کے لئے تھی ایک عام مبلغ کو یہ گارنٹی حاصل نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی لائید ہر نیکی کرنے والے کے شامل حال ضرور ہوتی ہے۔ مگر اللہ نے حفاظت جان کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ چناچہ اللہ کے دین کے کتنے مبلغ ہوئے جنہیں شہید کردیا گیا۔ حتیٰ کہ بنی اسرائیل کے ہزاروں انبیاء کو بھی شہید کیا گیا۔ یہاں لوگ ایک اعتراض بھی اٹھاتے ہیں کہ اگر پیغمبر آخر الزماں (علیہ السلام) کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے اٹھائیتھی تو آپ کو تکالیف کیوں آئیں ، آپ زخمی ہوئے دانت مبارک شہید ہوئے اور بیشمار ذہنی و جسمانی پریشانیاں لاحق ہوئیں اس لئے جواب میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی جان کی حفاظت کا ذمہ اٹھایا تھا ، تاہم دیگر تکالیف ، بیماری ، زخم وغیرہ تو معمول کی چیزیں ہیں جو ہر انسان کا لازمی حصہ ہیں۔ نیک بندوں کو تکالیف پہنچنے میں بھی حکمت ہوتی ہے ان کے ذریعے اللہ ان کی لغزشیں معاص فرماتے ہیں اور انہیں اعلیٰ درجے عطا کرتا ہے۔ روایت سے محرومی فرمایا آپ بےخوف ہو کر تبلیغ دین کا کام کرتے رہیں۔ انکار کرنے والوں کی وجہ سے آپ رنجیدہ خاطر نہ ہوں ان اللہ لایھدی لقوم الکفرین اللہ تعالیٰ کافروں کے لئے اپنی ہدایت کے دروازے نہیں کھولتا۔ مسلسل انکار کی وجہ سے ختم اللہ علی قلوبھم اللہ ان کے دلوں پر پھنسے لگا دیتا ہے۔ دوست مقام پر ” بل طبع اللہ علیھا بکفرھم کے الفاظ بھی آتے ہیں۔ ایسے لوگ ہدایت سے قطعی طور پر محروم ہوجاتے ہیں۔ البتہ معتدل لوگ جو حق نے طلبگار ہوتے ہیں اور ان کے دل میں صحیح بات معلوم کرنے کی خواہش موجود ہوتی ہے اللہ تعالیٰ ان کے لئے ہدایت کی کوئی سبیل پیدا فرما دیتا ہے اور وہ راہ راست پر آجاتے ہیں۔ فرمایا یہود و نصاری مصر علی الکفر ہیں۔ آپ ان سے کوئی توقع نہ رکھیں کیونکہ انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوگی۔ ظالموں کے متعلق بھی اللہ نے فرمایا کہ انہیں ہدایت نہیں حاصل ہوگی۔ دوسرے مقام پر فاسقوں کے متعلق بھی ہدایت سے محرومی کی خبر دی۔ قومی اور بین الاقوامی نبی بہرحال فرمایا کہ اے نبی کریم ! آپ اپنا حق رسالت ادا کرتے ہیں اور اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچاتے رہیں۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کی نبوت و رسالت دو حیثیت سے آپ نے اپنی تبلیغ کا آغاز اپنے خاندان قریش سے کیا اور پھر اس کا دائرہ باقی عرب قوم تک وسیع کیا۔ اس لحاظ سے آپ قومی نبی میں کہ قریش کی سعادت آپ کے ساتھ وابستہ ہے اور پھر باقی عرب بھی اس میں شامل ہوجاتے ہیں۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ آپ کی نبوت کا دوسرا مرحلہ یہ ہے کہ آپ تمام عالم کے لئے ہادی اور راہنما بنا کر بھیجے گئے اور اس لحاظ سے آپ بین الاقوامی نبی میں آپ نے اپنی زندگی میں جہاں تک ممکن ہوا اللہ کا پیغام لوگوں تک پہنچایا۔ اب باقی دنیا تک یہ پیغام پہنچانے کی فرمودات آپ کے صحابہ کے واسطہ سے ہر اس فرد اور جماعت پر ہے جو اللہ کی وحدانیت اور حضور ﷺ کی رسالت پر ایمان لایا۔ چناچہ یہ فریضہ محمدیہ کے افراد تاقیام قیامت انجام دیتے میں سے اور پوری دنیا کو اللہ کے اس آخری پروگرام سے روشناس کراتے رہیں گے تبلیغ دین کا کام ہونے والی جماعتیں اور افراد اگر خلوص نیت کے ساتھ اس مشن کو آگے بڑھائیں تو اللہ ان کی بھی اسی طرح مدد فرمائے گا جس طرح حضور نبی کریم ﷺ اور آپ کے صحابہ اور بعد میں آنے والے لوگوں کی مدد فرمائی۔ ملوکیت اور ڈکٹیٹر شپ اس وقت تبلیغ دین کے سامنے ملوکیت اور ڈکٹیٹر شپ دو بڑی رکاوٹیں ہیں۔ یہ ہمیشہ سے رہی ہیں اور آج بھی موجود ہیں۔ پہلے زمانے میں اسلام کا مقابلہ قیصر اور کسریٰ کی ملوکیت سے تھا اور آج امریکہ اور روس جیسی بڑی طاقتیں ان کی جانشین ہیں آج اہل حق کو ان طاقتوں کے ظلم و استبداد کا مقابلہ کرتا ہے۔ مگر جب تک جماعت حصہ کا کردار مضبوط نہ ہو اور ارادے میں پختگی موجود نہ ہو دشمن کا مقابلہ نہیں کیا جاسکتا۔ اب مسلمانوں میں نہ اپنے مشن سے دلی لگائو ہے۔ نہ یہ علم سے روشناس میں اور نہ کردار بلند ہے ، تو دشمنان دین کا مقابلہ کیسے کیا جاسکتا ہے ؟ فکر بلند ، اعتقاد درست اور عمل صحیح ہو تو ان طاغوتی طاقتوں کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے مگر آ ج ان علاقوں کے مسلمان سانس بھی نہیں لے سکتے ، ان کے دم گھٹ چکے ہیں روس نے کتنے مسلم اکثریت کے علاقوں پر قبضہ کر کے مسلمانوں کو اقلیت میں بدل دیا۔ چین کے ایک صوبہ میں مسلمانوں کی آبادی سات کروڑ تھی مگر اب ایک کروڑ سے بھی کم رہ گئے ہیں کچھ ختم کردیئے گئے باقی تتر بتر ہوگئے۔ مسلمانوں کی آبادی پر کنٹرول کیا جاتا ہے اور انہیں بڑھنے سے روکا جاتا ہے۔ ان حالات میں وہ تبلیغ دین کا فریضہ کیسے انجام دے سکتے ہیں۔ ملوکیت اس سے بھی بڑی لعنت ہے۔ عیسائی اور یہودی کہلانے والے اگرچہ خدا تعالیٰ کا تصور بھی رکھتے ہیں مگر حقیقت میں یہ کچھ بھی نہیں۔ یہ بدترین قسم کے دہریے ہیں ، خود غرضی ، عیاشی اور ظلم انکا وطیرہ ہے۔ اسلام کے ساتھ نفرت جس قدر روس کو ہے اسی قدر امریکہ کو ہے۔ جس طرح روس مسلمانوں کو ترقی کرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا ، اسی طرح امریکہ بھی مسلمان کو پنپتا ہوا نہیں دیکھ سکتا۔ امریکہ کو عربوں ، مصریوں یا لبانیوں کی ترقی سے کوئی دلچسپی نہیں ، وہ جس دوستی کا دم بھرتا ہے محض اپنے مفاد کے لئے۔ یہ لوگ انسانیت کے دشمن اور جہنم کے کندہ تراش ہیں۔ ان کا مقابلہ کرنے کے لئے بڑے وسائل اور بڑی تیاری کی ضرورت ہے بہرحال اللہ نے اپنے نبی کو تسلی دی کہ کفر پر اڑنے وال ہدایت سے فیضیاب نہیں ہو سکتے آپ انکی زیادہ فکر ن ہکریں بلکہ اپنے مشن پر رواں دواں رہیں۔ کتب کا ویہ سے روگردانی آگے اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب سے خصوصی خطاب فرمایا ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیا یا ھل الکتب لستم علی شیء ۔ اے اہل کتاب تم کسی صحیح نظریے پر نہیں ہو۔ نہ تمہارا عقیدہ درست ہے اور نہ کردار حتی تقیموا التورئۃ والانجیل وما انزل الیکم من ربکم۔ جب تک تم تورات و انجیل کو قائم نہیں کرو گے اور اس چیز کو قائم نہیں کرو گے جو تمہاری طرف تمہارے پروردگار کی جانب سے نازل کی گئی ہے تب تک تم راہ راست پر نہیں آسکتے ظاہر ہے کہ اگر تورات و انجیل کو صدق دل سے تسلیم کرلیں تو ان کتب میں تو نبی آخر الزمان (علیہ السلام) اور اللہ کی آخری کتاب اور آخری امت کی پیش گوئیاں موجود ہیں لہٰذا ان سب کو ماننا پڑے گا وہ تو موجود ہے کہ بنی اسرائیل کی طرح بنی اسماعیل کو بھی دنیا میں عروج حاصل ہوگا۔ اگر اس چیز کو تسلیم کرلیں تو انہیں اپنی فوقیت ختم کرنا پڑتی ہے اور یہی ان کے اقتدار کی موت ہے لہٰذا وہ جان بوجھ کر دین حق کو تسلیم کرنے پر تیار نہیں اسی لئے اللہ نے فرمایا کہ اے اہل کتاب تم کسی چیز پر نہیں ہو جب تک کہ تمام کتب سماویہ پر ایمان نہ لے آئو۔ اہل کتاب کی یہی خامی آج مسلمانوں پر بھی صادق آتی ہے یہ بھی اسلام کے دعوے دار ہیں مگر حقیقت میں یہودیوں اور عیسائیوں کی طرح لستم علی شئی کی منہ بولتی تصویر ہیں۔ آج مسلمانوں نے قرآن کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیا ہے۔ کفر کے شعائر اور بد دعات کو دین کا درجہ دے دیا ہے ، رسم و رواج ، قبر پرستی اور بد عات کو دین بنا لیا ہے۔ ان کا حال بھی یہ ہے کہ جب تک قرآن پاک کے احکام پر من و عن عمل نہیں کریں گے اسے اپنا راہنما تسلیم نہیں کریں گے۔ یہ کسی چیز پر نہیں ہیں ، اہل کتاب اور مسلمانوں میں کوئی فرق نہیں۔ سرکشی اور کفر میں اضافہ اللہ نے فرمایا ولیزیدن کثیراً منھم ما انزل الیک من ربک طغیانا و کفراً ۔ اہل کتاب کا حال یہ ہے ک ہجب قرآن پاک کی آیات نازل ہوتی ہیں تو ان میں سے اکثریت کی سرکشی اور کفر میں اضافہ کا باعث بنتی ہیں۔ وہ اللہ کے کلام سے نصیحت پکڑنے کی بجائے مزید سرکش اور باغی ہوجاتے ہیں۔ یہ ان کی بدبختی کی علامت ہے۔ اگر انسان صاحب صلاحیت ہو تو اسے حق کی پہچان میں کوئی دقت پیش نہیں آنی چاہئے۔ مگر اللہ کی طرف سے نازل ہنے والی ہدایت سے یہ لوگ الٹا اثر قبول کرتے ہیں اور مزید سرکشی اور کفر میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ فرمایا فلا تاس علی القوم الکفرین ۔ اے پیغمبر (علیہ السلام ! ) اہل کتاب کی اس روگردانی پر افسوس نہ کریں۔ آپ اپنا فریضہ ادا کرتے رہیں اور ان کی ہدایت کے لئے پریشان نہ ہوں۔ نبی (علیہ السلام) کو خطاب کر کے عام مبلغین اسلام کو بھی تسلی دی گئی ہے کہ آپ اپنا کام کرتے رہیں اور جو شخص کفر پر مصر ہے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیں۔ اللہ تعالیٰ خود اس کی گرفت کرے گا اور پھر وہ اس کی سزا سے بچ نہیں سکے گا۔
Ayahs 5:69–71

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ الَّذِیْنَ هَادُوْا وَ الصّٰبِئُوْنَ وَ النَّصٰرٰى مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَلَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ Open ayah 5:69 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے اور جو یہودی ہوئے اور صابی فرقے والے اور نصرانی جو شخص ان میں سے ایمان لایا اللہ پر اور قایمت کے دن پر اور اس نے اچھا عمل کیا پس نہ خوف ہوگا ان پر اور نہ وہ غمگین ہوں گے

لَقَدْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ وَ اَرْسَلْنَاۤ اِلَیْهِمْ رُسُلًا١ؕ كُلَّمَا جَآءَهُمْ رَسُوْلٌۢ بِمَا لَا تَهْوٰۤى اَنْفُسُهُمْ١ۙ فَرِیْقًا كَذَّبُوْا وَ فَرِیْقًا یَّقْتُلُوْنَۗ Open ayah 5:70 in the Quran reader

البتہ تحقیق ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ہم نے ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے جب بھی ان کے پاس کوئی رسول آیا ایسی چیز کو لے کر جس کو ان کے نفس نہیں چاہتے تھے تو انہوں نے ایک گروہ کو بھلایا اور ایک گروہ کو قتل کر ڈالا

وَ حَسِبُوْۤا اَلَّا تَكُوْنَ فِتْنَةٌ فَعَمُوْا وَ صَمُّوْا ثُمَّ تَابَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ ثُمَّ عَمُوْا وَ صَمُّوْا كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:71 in the Quran reader

اور انہوں نے یہ خیال کیا کہ کوئی فتنہ نہیں ہوگا ، پھر وہ اندھے اور بہرے اور پھر توبہ قبول کی اللہ نے ان کی پھر اندھے اور بہرے ہوئے بہت سے ان میں سے اور اللہ دیکھتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔

ربط آیات گزشتہ درس میں پیغمبر (علیہ السلام) کو تاکید اً فرمایا گیا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احکام لوگوں تک پہنچائیں اور لوگوں کی طرف سے خوف نہ کھائیں ، اللہ خود آپ کو دشمنوں سے محفوظ رکھے گا۔ پھر اہل کتاب کے متعلق فرمایا کہ ان سے کہ دین کہ تمہارا دین اور مذہب کچھ نہیں۔ جب تک تم کتب سماویہ کو قائم نہ کرو مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرآن پاک کا جو حصہ نازل ہوتا ہے وہ ان اہل کتاب کے لئے مزید سرکشی اور کفر کا باعث بنتا ہے۔ نیز فرمایا کہ آپ ان کی حالت پر افسوس نہ کریں ، بلکہ اپنا فریضہ تبلیغ دین ادا کرتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ خود ان لوگوں کو سزا دے گا۔ اب آج کے دس میں اہل کتاب اور دیگر فرقوں کے لئے ترغیب ہے کہ ان کی فلاح صرف ایمان اور نیک اعمال پر ہے ، کامیابی کا مدار کوئی فرقہ یا پارٹی نہیں ، تمام لوگوں کا فرض ہے کہ وہ ایمان اختیار کرنے کے بعد اعمال صالحہ پر کار بند ہوجائیں ، اسی میں سب کی نجات ہے اس کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کی مذمت بھی بیان کی گئی ہے کہ جب بھی ان کے پاس اللہ کے رسول آئے انہوں نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی ، ان کو جھٹلایا اور بعض کو قتل کردیا۔ اہل ایمان ارشاد ہوتا ہے ان الذین امنوا بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے یعنی حضور لعیہ السلام والسلام کی بعثت کے بعد جو اللہ تعالیٰ اور آپ کی رسالت پر ایمان لائے اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی وحدانیت کو مانے ، اس کی صفات کمال پر یقین اور اس کے اسمائے مبارکہ کی تصدیق کرے۔ یہاں پر ایمان کا اجمالاً ذکر کیا گیا ہے جب کوئی شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے ، تو اسے اس کے رسولوں پر بھی ایمان لانا ہوگا کیونکہ رسولوں کو بھیجنا اللہ تعالیٰ کی صفات میں شامل ہے اور جو اللہ کی وحدانیت پر ایمان لائے گا وہ اس کی صفات کو بھی مانے گا ، لہٰذا اللہ پر ایمان لانے میں رسولوں پر ایمان لانا بھی شامل ہے۔ سورة بقرہ کی آخری سے پہلی آیت میں موجود ہے کل امن باللہ وملٓئکتہ و کتبہ و رسلہ گویا ایمان باللہ میں اس کے ملائکہ ، کتب اور رسولوں پر ایمان لانا بھی شامل ہے۔ رسولوں کی بعثت کے متعلق خاص طور پر فرمایا رسلاً مبشرین و منذرین (النسائ) ہم نے رسولوں کو بھیجا جو کہ بشارت دینے والے اور ڈرانے والے ہیں۔ بعض لوگ تقدیر کا انکار کرتے ہیں ۔ مگر یہ بھی اللہ کی صفات میں شامل ہے۔ جیسے فرمایا ” خلق کل شیء فقدرہ تقدیراً “ (فرقان) اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اس کا اندازہ ٹھہرایا۔ جو شخص تقدیر کا انکار کرے گا۔ وہ بھی ایمان سے خالی سمجھا جائے گا۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ جو شخص جزائے عمل کا انکار کرے۔ وہ بھی کافر ہے اور اگر کسی کا اعتقاد یہ ہو کہ اللہ نے پیدا تو کیا ہے مگر اس نے انسانوں کی راہنمائی کے لئے نہ کوئی رسول بھیجا اور نہ کتاب نازل کی ہے اور نہ وہ انسانوں پر گرفت کرتا ہے تو پھر بھی کافر ہوگا ، کیونکہ قرآن پاک میں صریحاً موجود ہے ” ومن یکفر باللہ وملٓئکتہ وکتبہ و رسلہ والیوم الاخر فقد ضل ضلاً بعیداً (النسائ) یعنی جو اللہ تعالیٰ ، اس کے ملائکہ ، کتابوں ، رسولوں اور یوم جزاء کا انکار کرتا ہے۔ وہ گمراہی میں دور جا پڑا۔ ملائکہ اللہ کے سفیر ہیں۔ وہ خلاق اور مخلوق کے درمیان پیغام رسانی کا ذریعہ ہی۔ لہٰذا ان پر ایمان لانا بھی لازم ہے۔ یہ سب چیزیں اجزائے ایمان ہیں۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے کہیں بدن کا اجمالاً ذکر کیا ہے اور کہیں تفصیلاً ایمان کی جزیات میں سے کسی ایک جزو کا انکار بھی مکمل انکار کے مترادف ہے تو یہاں پر فرمایا کہ بیشک وہ لوگ جو ایمان لائے۔ اور اس سے مراد خالی دعویٰ ایمان نہیں ب ل کہ جو صحیح طور پر تمام اجزاء پر ایمان لائے گا اور پھر آگے اعمال صالحہ کا ذکر ہے۔ یہودی فرقہ۔ فرمایا جو لوگ ایمان لائے والذین ھادوا ۔ اور وہ لوگ جو یہودی ہوئے یعنی جو لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے دور میں ان کی شریعت پر ایمان لائے۔ آپ کی قوم کا نام یہودی دو وجوہات کی بناء پر ہے پہلی اور زیادہ صحیح وجہ یہ ہے ک ہجب امت کے لوگوں سے غلطی ہوگئی۔ انہوں نے کوہ طور پر اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو اللہ تعالیٰ نے ستر آدمیوں کو ہلاک کردیا ، پھر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور عرض کیا ” انا ھدنا الیک “ (اعراف) اے اللہ ہم تیری طرف رجوع کرتے ہیں ت و ہماری توبہ قبول فرما لے۔ چناچہ لفظ ھدنا سے ان کا لقب یہودی مشہور ہوگیا بعض دور سے مفسرین فرماتے ہیں کہ یہودی چونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے بڑے بیٹے یہوداہ کی اولاد سے ہیں اس لئے انہیں یہودی کہ جاتا ہے۔ بہرحال فرمایا کہ خواہ وہ اہل ایمان ہوں یا یہود ہوں۔ صابی فرقہ۔ والصبون اور جو صابی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں اس فرقے کا نام قرآن پاک میں متعدد بار آیا ہے ۔ مگر اس گروہ کے ٹھیک ٹھیک تعین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ ستاروں میں کرشمہ ماننے والے اور ان کی پرستش کرنے والے صابی ہیں اور بعض کی تحقیق یہ ہے کہ یہ فرقہ ہندوستان کے برہمو سماج فرقہ سے ملتا جلتا فرقہ ہے۔ انہوں نے مختلف مذاہب سے اچھی اچھی چیزوں کا انتخاب کر کے ایک نیا مذہب ایجاد کرلیا ہے۔ اس مذہب کی اپنی بنیاد کچھ نہیں۔ بنگال کا نوبل انعام یافتہ فلسفی ٹیگور اس فرقے سے تعلق رکھتا تھا۔ ہندوئوں میں بہت سے فرقے ہیں۔ جیسے جین ، سناتن دھرمی ، آریہ سماجی وغیرہ مگر یہ سب کے سب مشرک ہیں۔ آریہ سماجیوں نے شرک سے بچنے کی بہت کوشش کی مگر پھر بھی وہ تین معبودوں پر آ کر ٹھہر گئے۔ عیسائیوں کی طرح وہ بھی تثلیث کے چکر میں پھنس گئے ہیں۔ ان کے تین خدائوں میں سے مادہ اور روح قدیم ہیں اور تیسرے خدا بر ہماجی مہاراج ہیں۔ بہرحال صابی فرقہ بھی ان سے ملتا جلتا ہے۔ امام جلال الدین سیوطی نے بھی لفظ صافی کی تحقیق کی ہے وہ اپنی کتاب ” حسن المحاضرۃ فی احوال المصر والقاھرہ “ میں رقمطراز ہیں کہ حضرت شیث (علیہ السلام) کی اولاد میں سے چوتھے پانچویں درجے پر ان کا پڑپوتا برد نامی تھا۔ اس کے ہاں اخنوخ پیدا ہوئے۔ جنہیں ہر مس بھی کہا جاتا ہے۔ قرآن پاک نے ان کا نام ادریس (علیہ السلام) بتایا ہے۔ آپ کو چالیس سال کی عمر میں نبوت ملی اور ان پر کئی صحیفے بھی نازل ہوئے۔ آگے ان کی اولاد میں صابی نامی ایک شخص ہوا جس کے نام پر صابی مذہب جاری ہوا۔ ابتداً یہ مذہب صحیح تھا مگر دیگر مذاہب کی طرح بعد میں اس میں بھی بگاڑ پیدا ہوگیا۔ اس وقت کے صابی مذہب کے چار بنیادی اصول تھے یعنی توحید ، طہارت ، نماز اور روزہ ، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے دور تک بگڑتے پگڑتے اس مذہب کے لوگ ستارہ پرستی میں ڈوب چکے تھے اصل توحید غائب ہوچکی تھی اور شرک کا دور دورہ تھا۔ پھر جب حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا زمانہ آیا تو صابی دور ختم ہو کر دور حقیقت کا آغاز ہوا۔ ” قل بل ملۃ ابراہیم حنیفاً ط و ما کان من المشرکین “ (بقرہ) بعض لوگ کہتے ہیں کہ صابی زبور کی تلاوت کرتے تھے اور بعض کہتے ہیں کہ ان کا تلبس ستارہ پرستی کے ساتھ تھا ، اسی لئے بعض لوگ صابی کا ترجمہ ستارہ پرست کردیتے ہیں بہرحال یہ بھی ایک باقاعدہ فرقہ تھا جس کا ذکر یہاں پر اللہ تعالیٰ نے کیا ہے۔ یہاں پر امام جلال الدین سیوطی کا ذکر خالی از دلچسپی نہ ہوگا۔ آپ نویں اور دسویں صدی ہجری کے حافظ الحدیث میں آپ کو ایک لاکھ حدیثیں سند اور متن کے ساتھ زبانی یاد تھیں آپ سے پہلے ہر دور میں ہزاروں حافظ الحدیث ہوئے ہیں مگر آپ کے بعد کوئی حافظ الحدیث دنیا میں نہیں ملا ، جسے ایک لاکھ حیدثیں ازبر ہوں۔ البتہ شاہ اسماعیل شہید کو تیس ہزار حدیثیں زبانی یاد تھیں۔ ہمارے دارالعلوم دیوبند کے سابق صدر مدرس مولانا انور شاہ کشمیری کو مکمل بخاری شریف نوک زبان تھی مگر حافظ الحدیث وہ بھی نہ تھے۔ آپ (امام جلال الدین سیوطی) کی عمر تو ساٹھ پینسٹھ سال سے زیادہ نہیں مگر آپ نے پانچ سو سے زیادہ ضخیم کتابیں لکھی ہیں۔ اللہ نے بےپناہ صلاحیت سے نواز تھا حضرت مولانا شاہ اشراف علی تھانوی بھی ہمارے اسی دور میں ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو عمر بھی اسی یا چوراسی سال عطا کی۔ آپ کی چھوٹی موٹی تمام تصانیف پندرہ سو کے قریب ہیں جن میں تفسیر ، حدیث ، قرأت ، تجوید ، تصوف ، سلوک وغیرہ کے مضامین شامل ہیں آپ نے کئی شر میں بھی لکھی ہیں یہ اللہ کی خاص توفیق ہے جسے عطا کر دے۔ آپ ہر روز دس پاروں کی تلاوت بھی فرماتے تھے۔ حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن کا بھی یہی معمول تھا۔ یہی دستور امام محمد کا بھی تھا۔ آپ بھی ہر روز دس پارے تلاوت کرتے تھے۔ عیسائی فرقہ : - اہل ایمان ، یہودی اور صابی فرقہ کے بعد فرمایا و النصری اور نصرانی فرقہ والے بھی۔ نصاریٰ ، نصرانی کی جمع ہے اور اس کی بھی دو وجوہات تسمیہ بیان کی جاتی ہیں۔ نصرانی نصرت سے ہے جس کے معنی مدد کرنے کے ہیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جب لوگ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو تکلیف پہنچاتے تو آپ لوگوں کو مخاطب فرما کر کہتے ” من انصاری الی اللہ “ (سورۃ صف) اللہ کے راستے میں کون میری مدد کرے گا ” قال الحواریون نحن انصار اللہ تو حواریوں نے کہا کہ ہم اللہ کے راستے میں مدد کے لئے تیار ہیں۔ چناچہ اسی لفظ سے ان کو نصاریٰ کا نام دیا گیا یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مدد کرنے والے۔ مفسرین اس نام کی دوسری وجہ یہ بیان کرتے ہیں کہ جس بستی میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) رہتے تھے اس بستی کا نام ناصرہ تھا۔ چناچہ اس بستی کی نسبت سے اس گروہ کو نصرانی کا لقب دیا گیا بالکل اسی طرح جس طرح شام کے رہنے والے کو شامی یا مدینے کے رہنے والے کو مدنی کہا جاتا ہے۔ مذاہب کا بگاڑ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان یہودی اصابی اور نصرانی فرقے کا ذکر کیا ہے ، البتہ سورة حج میں اللہ تعالیٰ نے بعض دیگر فرقوں کا تذکرہ بھی کیا ہے اور مجوسیوں اور مشرکوں کو بھی اس فہرست میں شامل کیا ہے۔ اہل ایمان کے علاوہ باقی فرقے اپنے اپنے ابتدائی دور میں صحیح دین پر تھے مگر بعد میں ان میں بگاڑ پیدا ہوتا چلا گیا اور یہ اپنے اصل دین سے ہٹ کر کفر ، شرک اور گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور تورات پر ایمان لانے والے اولین لوگ بالکل صحیح تھے مگر بعد میں آنے والوں نے تورات میں تحریف کر کے اصل چیزیں نکال دیں اور گمراہی کی باتیں داخل کردیں اسی طرح انجیل بھی اللہ کی نازل کردہ کتاب تھی مگر حضرت عیسیٰ السلام کے بعد یہ کتاب بھی تحریف کا شکار ہوگئی اور اس کے ماننے والے کفر اور شرک میں مبتلا ہوگئے اس کا تذکرہ قرآن میں موجود ہے۔ ان بگڑے ہوئے ادیان کو ماننے والے یہودی اور نصرانی کہلاتے ہیں۔ صابی فرقہ کے متعلق بھی عرض کردیا ہے کہ اس کے اصل چار اصول دین حق پر مبنی تھے مگر بعد کے آنے والوں نے اس میں طرح طرح کی خرابیاں داخل کردیں اور اس میں ستارہ پرستی آگئی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کی بجائے دین حنیف نازل فرمایا۔ نزول قرآن کے زمانہ میں شرک شرک تو پوری دنیا میں پھیلا ہوا تھا۔ عرب اور ہندوستان شرک میں یکساں طور پر ملوث تھے۔ مجوسی یعنی آتش پرست بھی ہزاروں سال سے چل آ رہے تھے اور آج بھی موجود ہیں۔ یہ لوگ آگ میں کرشمہ مانتے ہیں اور اس کی پوجا کرتے ہیں۔ ا ن کو پارسی بھی کہا جاتا ہے۔ بمبئی اور کراچی میں آج بھی پائے جاتے ہیں۔ تاہم ان کے اصل مذاہب کا کچھ پتہ نہیں چلتا کہ یہ کیا تھا اور پھر بگڑ کہ کس طرح موجودہ مجوسی فرقہ بن گیا۔ ہندوستان سے پیدا ہونے والے بدھ مذہب کی بھی اصل تاریخ نامعلوم ہے تین ہزار سال پرانا یہ مذہب شرق الہند ، چین ، ویت نام ، تبت وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔ اسی طرح کرشن بھی مہاراج کے اصل مذہب کے متعلق بھی کچھ علم نہیں کیونکہ ہندوستان کی تاریخ تو بالکل نایاب ہے ، حالانکہ یہودیوں ، ایرانیوں اور پارسیوں کی تاریخ کا کچھ حصہ ملتا ہے جس سے ان کے اصل مذہب کا کچھ نہ کچھ پتہ چلتا ہے۔ مگر ہندو مذاہب اس معاملہ میں بالکل تاریکی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ کرشن جی مہاراج اور رام چندر پانچ ہزار سال پہلے ہوئے ہیں مگر ان کی اصل تعلیمات کے متعلق کوئی سند نہیں ملتی۔ ان کی طرف منسوب کئے جانے والا ہندو مذہب تو بالکل شرک ہے مگر یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ کرشن اور رام چندر کا بھی یہی مذہب تھا یا کچھ اور تھا۔ اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان الغرض ! اللہ نے ان تما م فرقوں کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا من امن باللہ والیوم الاخر ان میں سے جو بھی اللہ تعالیٰ اور یوم جزاء پر ایمان لایا۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی ذات ، اس کی صفات ، اس کے اسماء پر ایمان لایا جائے۔ پھر اس کے رسولوں اور کتابوں کو برحق تسلیم کیا جائے اور سا کے فرشتوں پر ایمان لایا جائے جو پیغام رسانی کے لئے سفیر ہیں۔ گویا ایمان کے تمام اجزاء پر مکمل یقین کیا جائے اور پھر سب سے آخر میں جزائے عمل یعنی قیامت کے دن پر مکمل ایمان ہو کر ایک وقت آنے والا ہے جب اللہ کی بارگاہ میں ہر عمل کا محاسبہ ہوگا۔ گویا ایمان اور جزائے عمل لازم و ملزوم ہیں اس کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ حدیث جبرائیل میں اسی بات کی طرف اشارہ ہے۔ ایمان ، اسلام اور احسان کے متعلق سوال کے بعد جبرائیل (علیہ السلام) کا اگلا سوال ہی تھا۔ متی الساعتہ حضرت ! یہ بتائیے قیامت کب آئے گی ، یعنی جزائے عمل کب واقع ہوگی۔ حضور ﷺ نے یہی جواب دیا تھا کہ قیامت کے آنے کے وقت کے متعلق جس طرح تجھے معلوم نہیں اسی طرح مجھے بھی معلوم نہیں۔ اللہ ہی کو اس کا علم ہے کہ قیامت کب آئے گی۔ مگر آئے گی یقینا حضور ﷺ نے اس کی بعض نشانیاں بیان فرما دیں۔ محمد ثین کرام فرماتے ہیں کہ پورے دین کا خلاصہ ایمان ، اسلام اور احسان میں ہے اور ان سب کا نتیجہ جزائے عمل ہے لہٰذا قیامت کے دن پر ایمان لانا بھی جز و ایمان ہے۔ جزائے عمل فرمایا ان تمام جزیات پر محض زبانی ایمان لے آناہی کافی نہیں بلکہ و عمل صالحاً اس کے ساتھ نیک عمل کرنے کی شرط بھی موجود ہے ۔ ایمان لانے کے بعد جو شخص اچھا عمل کرے گا ، نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ ، جہاد ، صدقہ خیرات وغیرہ اعمال حسنہ بھی انجام دے گا اور اس کے ساتھ ساتھ اعمال قبیحہ یعنی کفر ، شرک ، نفاق ، بدعت ، ریا کاری ، ظلم تعدی ، زنا ، چوری وغیرہ سے اجتناب کرے گا ، اس کے لئے جزا کا ذکر آگے کیا گیا ہے۔ غرضیکہ ہر وہ عمل ، عمل صالح ہے جس کو عقل سلیم بھی اچھا سمجھتی ہے اور ہر وہ عمل عمل قبیح ہے جو عقل سلیم کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔ غرضیکہ ! فرمایا اہل ایمان ہوں یا یہودی۔ صابی ہوں یا نصاریٰ ان میں سے ، جو بھی اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لا کر صحیح راستے پر گامزن رہا فلا خوف علیھم ان پر کوئی خوف علیھم ان پر کوئی خوف نہیں ہوگا ولا ھم یحزنون اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔ جس شخص کی فکر پاک ہے اور وہ اعمال صالحہ انجام دے رہا ہے اس کو آنے والے واقعات سے کوئی خطرہ نہیں ہوگا اور نہ وہ گزشتہ واقعات پر غمگین ہوگا۔ غمگین تو وہ ہوگا جو ایمان سے (1 ؎ بخاری صفحہ 12 , 13 (فیاض) خالی ہوگا اور جس نے برے اعمال انجام دیئے ہوں گے۔ وہ اس وقت کف فسوس ملے گا کہ اللہ تعالیٰ نیزندگی میں موقع دیا ، صحت و تندرسی جیسی عظیم نعمت دی عقل و شعور بخشا ، ہدایت کے تمام سامان مہیا کئے مگر وہ ان ذرائع سے کچھ فائدہ نہ اٹھا سکا ، ایسے لوگ فی الواقغ غمگین ہوں گے۔ معیار نجات : - اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ کوئی شخص کسی بھی مذہب اور فرقہ سے تعلق رکھتا ہو اصل چیز ایمان اور عمل صالح ہے۔ جس کا ایمان درست ہے اور وہ اعمال صالحہ بھی انجام دیتا ہے ، نجات اسی کا حق ہے۔ محض کسی فرقے کے ساتھ نسبت ہونا نجات کا معیار نہیں ہے یہودی اور نصرانی کہتے تھے۔ ” لن یدخل الجنۃ الا من کان ھوداً او نصری (بقرۃ) یعنی یہودیوں اور نصرانیوں کے علاوہ کوئی شخص جنت میں نہیں جائے گا۔ مگر اللہ نے فرمایا ” بلی من اسلم وجھہ للہ وھو محسن (بقرہ) نجات اس کو نصیب ہوگی جس نے اللہ تعالیٰ کی مکمل فرمانبرداری اختیار کی اور وہ نیک اعمال انجام دینے والا ہو۔ خود ساختہ اور باطل معیار نجات اب اس آخری امت میں بھی رائج ہوچکا ہے۔ آج بھی لوگوں کا ایمان ہے کہ امام حسنی کا نام لے لو اور تعزبہ نکال لو ، تو جنت تمہارے مقدر میں ہے دوسرے لوگ کہتے ہیں کہ محض محفل میلاد منعقد کرنے سے ہی بیڑا پار ہوجائے گا ، کوئی کہتا ہے فلاں بزرگ کے ہاتھ میں ہاتھ دو یا فلاں بزرگ کا دامن پکڑ لو تو سیدھے جنت میں چلے جائو گے۔ کوئی عرس کرانے اور قوالی کرانے کو ہی نجات کا معیار سمجھتا ہے۔ مگر اللہ نے فرمایا یہ کامیابی کے نہیں بلکہ ناکامی کے اسباب ہیں۔ جب تک صحیح ایمان اور عمل صالح نہیں ہوگا ، نجات کی امید محض سراب ہوگا۔ خواہشات نفسانی اصول نجات بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کردار کو بطور مثال پیش کیا ہے کہ دیکھو ! لقد اخذنا میثاق بنی اسرآئیل ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا و ارسلنا الیھم رسلاً اور ان کی طرف رسول بھیجے۔ کلما جآء ھم رسول بما لا تھوی انفسھم جب بھی ان کے پاس کوئی رسول ایسی چیز لے کر آیا جن کو ان کے نفس پسند نہیں کرتے تھے فریقہ اکذبوا و فریقاً یقتلون تو انہوں نے انبیاء کے ایک گروہ کو جھٹلایا اور ایک گروہ کو قتل کردیا۔ حضرت یحییٰ (علیہ السلام) اور زکریا (علیہ السلام) انہی بنی اسرائیلوں کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ اس سے پہلے وہ سینکڑوں نبیوں کو قتل کرچکے تھے مولانا اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ اصل بیماری خواہشات نفسایز ہے اگر یہ پوری ہوگئی تو مان لیا ورنہ انبیاء (علیہم السلام) کو قتل کرنے سے بھی دریغ نہ کیا۔ خواہش نفسانی بد ترین معبود ہے جس کی جگہ جگہ پوجا ہو رہی ۔ تمام اقوام عالم اور خود مسلمان اس بیماری میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ اللہ نے فرمایا کہ اس کا نبی تو پاکیز ہ چیز لے کر آیا ہے لہٰذا اپنی خواہشات کو ترک کر کے اس کے دامن سے وابستہ ہو جائو۔ اس کے لائے ہوئے دین کی اتباع کرو گے تو نجات حاصل ہوگی ، ورنہ نہیں۔ فرمایا حسبوا الا تکون فتنۃ یہ بدعقیدہ اور بد کردار لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ جو چاہیں کرتے پھریں ، کوئی فتنہ نہیں ہوگا ، اور پھر اسی زعم میں فعموا و صموا و ہاندھے اور بہرے ہوگئے۔ نہ ان کی آنکھیں حق بات دیکھنے کے لئے تیار ہوئیں اور نہ ان کے کان حق کا پیغام سننے کے لئے وا ہوئے۔ پھر اس کے بعد پے در پے اللہ کے نبی آتے رہے اور انہیں حق کا راستہ دکھانے کی کوشش کرتے رہے حتی کہ مسیح (علیہ السلام) کا دور آ گیا لم تاب اللہ علیھم اللہ تعالیٰ انہیں بار بار توبہ کا موقع دیتا رہا لم عموا وصموا کثیر منھم پھر بھی ان میں سے اکثر اندھے اور بہرے ہی رہے۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے سورة حج میں یوں بیان فرمایا ہے ” فانھا لا تعمی الابصار ولکن تعمی القلوب التی فی الصدور “ فرمایا اکثر و بیشتر ان کی ظاہری آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ ان کے دل کی آنکھیں بند ہوجاتی ہیں۔ درصال ان کی بصیرت ہی خراب ہوجاتی ہے۔ انسان حق کو قبول ہی نہیں کرتا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ انسان پھر نہ معروف کو معروف سمجھتا ہے اور نہ منکر کو منکر سمجھتا ہے۔ اس کو وہی چیز اچھی معلوم ہوتی ہے جو اس کی خواہش کے مطابق ہو۔ اس کے نزدیک نیتی اور بدی کا معیار نفسانی خواہش کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ اندھا اور بہرہ ہونے کا یہی مطلب ہے۔ فرمایا واللہ بصیر بما یعملون اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔ وہ ہر فرقے اور پارٹی کا محاسبہ خود کریگا اور ان سے دریافت کریگا کہ حق بات کو چھوڑ کر تم نے خواہشات نفسانیہ کا اتباع کیوں کیا اور میری ارسال کردہ ہدایت کو کیوں تسلیم نہ کیا میں نے تو پہلے دن تمہیں آگاہ کردیا تھا کہ میری نبی آئیں گے اور وہ ہدایت کا پیغام تمہیں پہنچائیں گے اور پھر ” فمن تبع ھدی فلا خوف علیھم ولا ھم تحزنون “ (البقرہ) جو میری ہدایت پر عمل کریں گے وہی خوف و خطر سے مامون ہوں گے اور وہی فلاح پانے والے ہوں گے مگر تم نے دوسرا راستہ اختیار کیا تو تمہارے تمام اعمال اللہ کی نگاہ میں ہیں ، وہ خود وقت آنے پر محاسبہ کرلے گا۔
Ayahs 5:72–74

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ١ؕ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اعْبُدُوا اللّٰهَ رَبِّیْ وَ رَبَّكُمْ١ؕ اِنَّهٗ مَنْ یُّشْرِكْ بِاللّٰهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰهُ عَلَیْهِ الْجَنَّةَ وَ مَاْوٰىهُ النَّارُ١ؕ وَ مَا لِلظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ Open ayah 5:72 in the Quran reader

البتہ تحقیق کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ بیشک اللہ تعالیٰ وہ مسیح ابن مریم ہی ہے ، حالانکہ مسیح (علیہ السلام) نے کہا ، اے بنی اسرائیل ! اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ بیشک جس شخص نے شرک کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ تحقیق حرام کردی۔ اللہ نے اس پر جنت اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے اور نہیں ہے ظلم کرنے والوں کا کوئی مددگار

لَقَدْ كَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْۤا اِنَّ اللّٰهَ ثَالِثُ ثَلٰثَةٍ١ۘ وَ مَا مِنْ اِلٰهٍ اِلَّاۤ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ؕ وَ اِنْ لَّمْ یَنْتَهُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:73 in the Quran reader

البتہ تحقیق کافر ہوئے وہ لوگ جنہوں نے کہا کہ بیشک اللہ تیسرا ہے تینوں میں حالانکہ نہیں ہے کوئی الہ مگر ایک ہی الہ اور اگر یہ باز نہ آئیں گے اس چیز سے جو کہتے ہیں تو البتہ ضرور چھوٹے گا ان لوگوں کو جنہوں نے کفر کیا ان میں سے عذاب الیم

اَفَلَا یَتُوْبُوْنَ اِلَى اللّٰهِ وَ یَسْتَغْفِرُوْنَهٗ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:74 in the Quran reader

یہ توبہ کیوں نہیں کرتے اللہ کے سامنے اور کیوں نہیں اس سے بخشش طلب کرتے حالانکہ اللہ تعالیٰ بہت بخشش کرنے والا اور از حد مہربان ہے۔

ربط آیات اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی خرابیاں بیان کرتے ہوئے ان کے تعصب عماد ، سرکشی ، تحریف ، انبیاء کی مخالفت ، حق پرستوں سے مخاصمت اور فساد فی الارض کا ذکر کیا۔ پھر پیغمبر عل یہ السلام ، حق پرستوں سے مخاصمت اور فساد فی الارض کا ذکر کیا۔ پھر پیغمبر (علیہ السلام) اور آپ کے متبعین کو تسلی بھی دی کہ آپ تبلیغ دین کا کام کرتے ہیں اور کوئی خطرہ محسوس نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ خود تمہاری حفاظت کریگا۔ اللہ جل جلالہ نے یہ بھی حکم دیا کہ اہل کتاب کو برملا کہہ دیں کہ جب تک وہ تورات ، انجیل اور اللہ کی نازل کردہ ہدایت کو قائم نہیں کرتے ان کا عقیدہ باطل ہے اور ان کے دین کی کچھ حیثیت نہیں اللہ نے یہ بھی بتلا دیا کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے آنے والا یہ حکم اہل کتاب کی سرکشی اور کفر میں مزید اضافہ کر دے گا ، لہٰذا آپ ان پر زیادہ افسوس کرنے کی بجائے اپنے فریضہ منصبی کو بجا لانے کی طرف زیادہ توجہ دیں۔ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے اس باطل زعم کا بھی ذکر کیا کہ یہ لوگ اخروی نجات کو کسی خاص فرقے کے لئے مخصوص قرار دیتے ہیں۔ اس کی تردید کرتے ہوئے اللہ نے واضح کیا کہ کوئی مسلمان ہو۔ یہودی ہو یا نصرانی ہو۔ جب تک اللہ تعالیٰ پر صحیح طریقے سے ایمان نہیں لائے گا اور آخرت پر پوری طرح یقین نہیں رکھے گا۔ اس کو فلاح نصیب نہیں ہو سکے گی۔ فرمایا یہ لوگ خواہشات نفسانیہ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں مگر انسان کو گمراہ کرنے والے عناصر میں سے سب سے بڑا عنصر یہی ہے جب تک کوئی نفسانی خواہش کی پیروی کرتا رہے گا اسے ہدایت نصیب نہیں ہو سکتی۔ یہ لوگ اسی بیماری میں مبتلا ہیں۔ اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے نصاریٰ کا باطل عقیدہ بیان کیا ہے اور پھر اس کا رد بھی فرمایا ہے۔ تبلیغ دین کے سلسلے میں یہ بات بھی آجاتی ہے کہ اہل ایمان کا فرض ہے کہ وہ عیسائیوں کے مختلف فرقوں اور ان کے باطل عقیدے سے لوگوں کو خبردار کریں اور انہیں بتلایا جائے کہ ان کا عقیدہ بالکل کافرانہ ہے ، یہ عقل کے بھی خلاف ہے اور فطرت انسانی کے بھی خلاف ہے۔ یہ عقیدہ حضرت مسیح (علیہ السلام) کی تعلیمات سے بھی بالکل متعارض ہے ۔ عقیدہ عینیت کا ابطال چنانچہ ارشاد ہوتا ہے ۔ لقد کفر الذین البتہ تحقیق کافر ہوئے وہ لوگ ، عربی زبان میں ل تاکید کے لئے آتا اور قد بھی ماضی پر داخل ہو کر تاکید پیدا کرتا ہے ۔ گویا یہ بات طے ہوچکی ہے کہ وہ لوگ یقینا کافر ہوئے قالوا جنہوں نے کہا یعنی جنہوں نے اپنے اعتقاد کا اظہار اس طرح کیا ان اللہ ھو المسیح ابن مریم کہ بیشک اللہ تعالیٰ بعینیہ مسیح ابن مریم ہے ، اس کے علاوہ کوئی اور ہستی یا ذات خدا نہیں ہے بلکہ یہی خدا ہے یہ ہندوئوں والا اوتاری یا حلولی عقیدہ ہے کہ خدا تعالیٰ کسی بھی روپ میں جلوہ گر ہو سکتا ہے۔ عیسائیوں نے بھی یہی کہ اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم کی صورت میں ظاہر ہوا ہے اللہ نے فرمایا یہ لوگ پکے کافر ہیں انہوں نے خلاق اور مخلوق کو ایک ہی چیز بنا دیا۔ حالانکہ خلا کا کسی مخلوق کے روپ میں ظاہر ہونا اس کی تنزیہہ کے خلاف ہے ، لہٰذا ان لوگوں کے کفر میں کوئی کسر باقی نہیں رہی۔ عیسائیوں کے دو پرانے فرقے ملکانیہ اور یعقوبیہ بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں البتہ تیسرے فرقہ نسطور یہ کا ذکر آئے گا۔ یہ دونوں گروہ حلولی عقیدہ کے قائل ہیں۔ اس وقت بھی عیسائی دنیا میں دو بڑے فرقے رومن کیتھولک اور پر اٹسٹنٹ موجود ہیں۔ مسلمانوں میں بھی وحدۃ الوجود اور وحوۃ الشہود کا عقیدہ موجود ہے مگر یہ عقیدہ حلولی سے بالکل مختلف ہے۔ وحدۃ الوجود کا مطلب یہ ہے کہ وجوہ حقیقت میں صرف اللہ تعالیٰ کا ہے ، ازلی ابدی اور مستقل وجود صرف ایک ہے ، باقی سب عارضی اور فانی ہیں۔ ” کل شیء ھالک الا وجھہ (القصص) اللہ تعالیٰ کی ذات کے سوا باقی ہر چیز فانی ہے ، کسی کو بقاء حاصل نہیں اکثر بزرگان دین اس عقیدے کے قائل ہیں ، چناچہ حضرت جنید ، شبلی سے لے کر شاہ ولی اللہ ، شاہ اسماعیل شہید ، مولانا محمد قاسم نانوتوی ، حاجی امداد اللہ وغیرہ اس کو مانتے ہیں۔ مگر یہ حلولی اور اتحادی عقیدہ نہیں ہے۔ مسلمانوں کی بدعقیدگی حلولی طرز کے باطل عقائد بعض مسلمانوں میں بھی ائے جاتے ہیں۔ یہ بھی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کسی بنے کے روپ میں ظاہر ہوجاتا ہے۔ چناچہ آپ نے اکثر سنا ہوگا۔ وہی مستوی عرش ہے خدا ہو کر اتر پڑا ہے مدینے میں مصطفیٰ ہو کر یہ بالکل عیسائیوں اور ہندوئوں والا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ حضور ﷺ کے روپ میں ظاہر ہوا ہے۔ خواجہ غلام فرید مٹھن کوٹ سے چاچراں منتقل ہوگئے تھے۔ ان کے مریدین بھی کہتے ہیں۔ چاچڑ وانگ مدینہ ، کوٹ مٹھن بیت اللہ ظاہر دے وچ پیر فریدن ، باطن دے وچ اللہ یہ بھی وہی عقیدہ ہے ۔ خواجہ غلام فرید بڑے اچھے بزرگ ہوئے ہیں مگر بعد میں لوگوں نے کیا ہے کیا بنا دیا ، ان کے پہلے مقام کو مکہ سے تشبیہ دی اور دوسرے کو مدینہ سے اور یہ بھی کہ دیا بظاہر تو یہ پیر صاحب تھے مگر حقیقت میں اللہ تعالیٰ آپ کے روپ میں آ گیا تھا۔ اب غور فرمایئے ان اللہ ھو المسیح ابن مریم اور اس عقیدے میں کیا فرق رہ گیا ہے۔ پھر ایک غلویہ کیا کہ پیر صاحب کے چہرے کو ام الکتاب سے تشبیہ دی۔ ام الکتاب سورة فاتحہ کا دوسرا نام ہے یا پھر لوح محفوظ کو بھی اس نام سے پکارا جاتا ہے لوح محفوظ اللہ تعالیٰ کا اجمالی یا تفصیلی علم ہے جسے خواجہ فرید کا چہرہ بنا دیا۔ ام الکتاب ہے چہرہ فرید کا عقیدہ توحید اور فطرت انسانی انہوں نے صریحا ً کفر کا ارتکاب کیا۔ ایسا عقیدہ عقل کے بھی خلاف ہے اور انسانی فطرت سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔ خدا کی وحدانیت انسانی فطرت میں داخل ہے۔ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی انسان پیدا ہوتے ہی کسی پہاڑ کی چوٹی پر یا کسی ایسے جزیرے پر پہنچ جائے جہاں کسی دوسرے انسان کا گزر نہ ہو۔ پھر وہ جوان ہو کر عقل و شعور کی عمر کو پہنچ جائے تو باوجود اس کے کہ اس کے پاس کوئی مبلغ دین نہیں آیا خود اس کی عقل سلیم کا تقاضا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر یقین رکھنے پر آمادہ کرے۔ ایسے شخص سے نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ وغیرہ کی باز پرس نہیں ہوگی ، تاہم اگر وہ کفر اور شرک کا ارتکاب کرے گا تو عند اللہ ماخوذ ہوگا۔ کیونکہ اللہ نے اسے عقل سلیم دیکر اس دنیا میں بھیجا تھا اور اس عقل کا تقاضا ہے کہ وہ نشانات قدرت دیکھ کر اپنے مالک کو پہچانے اور اس کی یگانگت پر ایمان لائے۔ فرمایا وقال المسیح اور مسیح (علیہ السلام) نے کہا یابنی اسرآئیل اعبدوا اللہ ربی و ربکم اے بنی اسرائیل اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ مسیح (علیہ السلام) جب تک اس دنیا میں موجود رہے وہ اپنی قوم کو توحید باری تعالیٰ ہی کی تعلیم دیتے رہے۔ مگر آپ کے بعد انہوں نے خود مسیح (علیہ السلام) کو ہی خدا بنا دیا۔ مسیح (علیہ السلام) کی تعلیم تو یہ تھی کہ تم بھی اسی خدا کی عبادت کرو جس کی میں کرتا ہوں میں بھی اسی کا بندہ اور تمہاری طرف بھیجا ہوا رسول ہوں۔ ” ورسولاً الی بنی اسرآئیل (آل عمران) یہاں یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) قومی نبی تھے جو صرف بنی اسرائیل کی طرف منسوب ہوئے۔ آپ ساری دنیا کے لئے بین الاقوامی نبی بن کر نہیں آئے۔ لہٰذا آج عیسائیوں کا پوری دنیا کو عیسائیت کی دعوت دینا خود مسیح (علیہ السلام) کے مشن کے خلاف ہے۔ پوری دنیا کے لئے دعوت صرف خاتم النبین ﷺ کی ہے جن کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آئے گا۔ الغرض مسیح (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل پر واضح کردیا کہ پوری کائنات کا پروردگار صرف اللہ ہے اور وہی عبادت کے لائق ہے ، اسی لئے صرف اسی کی عبادت کرو۔ شرک ناقابل ہانی ہے فرمایا یہ بات اچھی طرح سن لو ، انہ من یشرک باللہ بیشک جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا اور یہی عقیدہ لے کر اس دنیا سے چلا گیا فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ پس تحقیق اللہ تعالیٰ نے اس پر جنت حرام کردی وما و ئہ النار اور اس کا ٹھکانا دوزخ بن گیا۔ ایسا شخص اللہ کی رحمت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محروم ہوگیا۔ دوسرے مقام پر آتا ہے کہ ایسے شخص کے لئے رحمت کے دروازے نہیں کھلتے حتی یلج الجمل فی سم الخیاط یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے گزر جائے ، مقصد یہ کہ جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے میں سے گزرنا ممکن ہے اسی طرح کافر کے لئے جنت جانا ناممکن ہے بہرحال یہاں پر اللہ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کا قول نقل کیا ہے کہ مشرک کبھی جنت میں نہیں جاسکتا اس قسم کی آیات آج بھی انجیل میں موجود ہیں کہ سجدہ صرف خداوند کے سامنے ہی کر ۔ بعض آیات میں شرک کا صریحاً رو بھی کیا گیا ہے۔ شرک کی بہت سی قسمیں ہیں مگر اکثر لوگ عبادت میں شرک کرتے ہیں یا پھر خدا تعالیٰ کی صفات مختصہ اس کی مخلوق میں مان کر شرک کے مرتکب ہوتے ہیں مسیح (علیہ السلام) کے متعلق بھی پرانے فرقے یہی کہتے تھے کہ انہیں تصرف حاصل ہے وہ جو چاہیں کرسکتے ہیں حالانکہ تصرف صرف اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے یا یہ کہ مسیح (علیہ السلام) عالم الغیب ہیں وہ سب کچھ جانتے ہیں یہ صفت بھی اللہ کے ساتھ مخصوص ہے اور اگر عیسیٰ (علیہ السلام) یا کسی اور ذات میں مانی جائے گی تو اللہ کے ساتھ شرک ہوگا۔ یہودیوں کا عقیدہ بھی ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) قیامت کے دن ہمیں چھڑا لیں گے اور دوزخ میں نہیں جانے دیں گے یہ سب باطل عقائد ہیں اور ان کے معتقدین کا فر ہیں ۔ فرمایا یاد رکھو ! وما للظلمین من انصار ظلم کرنے والوں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا اور اللہ نے فرمایا ہے کہ سب سے بڑا ظلم شرک باللہ ہے ” ان الشرک لظلم عظیم “ لقمان دوسری جگہ فرمایا ” والکفرون ھم الظلمون (البقرہ) یعنی کافر ظالم میں مطلب یہ ہوا کہ کفر اور شرک کرنے والے بدعقیدہ لوگ جنت سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوجائیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں عقیدہ عینیت یا ملولی عقیدہ کی تردید فرمائی ہے۔ عقیدئہ تثلیث اب اگلی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے عقیدہ تثلیث کی تردید فرمائی یہ بھی عیسائیوں کا عقیدہ ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ لقد کفر الذین البتہ تحقیق کافر ہوئے وہ لوگ قالوا جنہوں نے کہا ان اللہ ثالث ثلثۃ بیشک اللہ تعالیٰ تینوں میں تیسرا ہے عیسائیوں کے دونوں بڑے فرقے رومن کیتھولک اور پر انسٹنٹ یہی عقیدہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے خدا کے تنی حصے بنا دیئے۔ باپ ، بیٹا اور روح القدس یا ذات ، علم اور حیات اس عقیدہ میں ذات سے مراد خدا تعالیٰ مسیح (علیہ السلام) کو علم کا مظہر اور جبرائیل (علیہ السلام) کو حیات کا مظہر قرار دیا ہے ایک عقیدہ کے لحاظ سے تین اجزا باپ ، بیٹا اور مریم ہیں۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ ، مسیح (علیہ السلام) اور ان کی والدہ ہیں۔ اس طرح انہوں نے مریم (علیہا السلام) کو مادر خدا تسلیم کیا۔ نصاریٰ کے ان باطل عقائد کے متعلق اسی سورة کے آخری رکوع میں آئیگا کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے پوچھیں گے۔ ءانت قلت للناس اتخذونی وامی الھین من دون اللہ کیا تم نے لوگوں سے کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو۔ اس وقت حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نہایت ادب کے ساتھ عرض کریں گے ، اے مولا کریم ! تیری ذات پاک ہے۔ بھلا میں ایسی گندی بات کیسے کرسکتا ہوں۔ اگر میں نے کوئی ایسی بات کی ہے تو تو میرے دل کی بات جانتا ہے مگر میں تیرے دل کی بات نہیں جا ن سکتا۔ علام الغیوب تو ہی ہے۔ پھر جب تثلیث کے ماننے والوں کو کہا جاتا ہے کہ تمہارا عقیدہ تو توحید کے خلاف ہے تو کہتے ہیں کہ نہیں خدا تو ایک ہی ہے۔ کبھی تنی ہوجاتے ہیں ، کبھی ایک بن جاتا ہے۔ عجیب گورکھ دھندا بنا رکھا ہے۔ ہر صاحب عقل جانتا ہے کہ تنی ایک کیسے ہو سکتے ہیں اور ایک تنی کیسے بن سکتا ہے یہ سب ان کی ذہنی اختراعات ہیں۔ اگر کسی سے تنی روپے قرض لے کر اسے ایک روپیہ واپس کیا جائے کہ لو بھائی تمہارے تین روپے ایک بن گئے ہیں ، تو کیا کوئی صاحب عقل اس بات کو تسلیم کرے گا۔ مگر یہ لوگ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے تثلیث کے باطل عقیدے پر اڑے ہوئے ہیں۔ فرمایا ایسا عقیدہ رکھنے والے پکے کافر ہیں۔ معبود صرف اللہ ہے فرمایا وما من الہ الا الہ واحد نہیں ہے کوئی معبود مگر صرف اللہ۔ مستحق عبادت ، متصرف فی الامور۔ مشکل کشا ، حاجت روا ہمہ دان ہمہ بین ، خالق کل اور رب صرف وہی ایک ذات ہے۔ ایاک نعبد کا یہی مطلب ہے کہ عبادت کے لائق صرف اور صرف وہی ذات خداوندی ہے دوسرے مقام پر فرمایا ” لیعبد وا اللہ مخلصین لہ الدین (البنیۃ) صرف اسی کی عبادت کرو ، نذر و نیاز اسی کے نام کی دو ، دہائی بھی اسی کے نام کی دو ، اسی کو پکارو ، اسی کے سامنے رکوع و سجود بجا لائو۔ نافع اور ضار وہی ہے۔ وہ جو چاہے کہ گزرنے پر حق بجانب ہے اس کے علاوہ نہ کوئی علیم کل اور نہ کوئی نفع نقصان کا مالک۔ تمام اختیارات اسی کے قبضہ قدرت ہیں۔ بیماری اور شفاء ترقی اور تنزل سب کچھ اسی کے ہاتھ میں ہے مسبب الاسباب بھی وہی ہے وہ جب تک چاہے کسی کو زندہ رکھے اور جب چاہے حیات چھین لے ، اس کے کاموں میں کسی کی دخل اندازی کی مجال نہیں لہٰذا تثلیث کا عقیدہ رکھنے والے پکے کافر ہیں۔ سزا اور معافی فرمایا وان لم ینتھزا عما یقولون اور اگر یہ اس باطل عقیدہ سے باز نہ آئے ۔ جو کچھ یہ کہتے ہیں اور اس سے توبہ نہ کی ، لیمسن الذین کفروا منھمء عذاب الیم ۔ تو ضرور پہنچے گا ان میں سے کفر کرنے والوں کو درد ناک عذاب ، جو لوگ اپنے خلاق مالک اور معبود حقیقی کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔ وہ بلاشبہ سزا کے مستحق ہیں۔ فرمایا افلا یتوبون الی اللہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کیوں نہیں کرتے جب تک کوئی اس دنیا میں زندہ ہے اس کے لئے موقع ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو پہچانے اور اس پر ایمان لائے اور مسیح (علیہ السلام) کو اس کا بندہ تسلیم کرے ویستغفرونہ اور پھر اللہ تعالیٰ سے سابقہ گناہوں کی معافی بھی مانگ لے۔ اپنی نادانی اور کوتاہی پر نادام ہوجائے تو فرمایا واللہ غفور رحیم اللہ تعالیٰ تو بہت ہی بخشنے والا اور از حد مہربان سے جو کوئی سچے دل سے توبہ کر کے اس کے دروازے پر آجاتا ہے تو بڑے سے بڑا مجرم بھی اس کی رحمت سے محروم نہیں رہتا ، اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آ کر اس کی تمام خطائیں معاف کردیتی ہے اور ایسا شخص اللہ کا مقرب بندہ بن جاتا ہے اسی لئے فرمایا کہ یہ لوگ کیوں توبہ نہیں کرسکتے اور کیوں اس سے معافی نہیں مانگتے ، وہ مالک الملک تو بڑا ہی بخشنے والا اور نہایت ہی مہربان ہے اب بھی موقع ہے کہ وہ راہ راست پر آجائے۔