Ayahs 5:48–50ربط آیات
اس سے پہلے تورات اور انجیل کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ اللہ نے فرمایا جب تورات نازل ہوئی تو اس کے دور میں اس کو ماننا اور اس پر عمل کرنا ضروری تھا ‘ پھر جب انجیل نازل ہوئی ‘ تو اس پر ایمان لاکر اس کے احکام کی تعمیل لازم تھی۔ مگر ان دونوں گروہوں نے اپنی اپنی کتابوں کو پس پشت ڈال کر معاملات کے فیصلہ جات اپنی مرضی سے کرنے شروع کردیے بلکہ الٹا ان مقدس کتابوں میں تحریف کے مرتکب ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں پر دل سے یقین نہیں رکھتا ‘ وہ قطعی کافر ہے اور جو ان پر ایمان لانے کے باوجود ان کے احکام پر عمل پیرا نہیں ہوتا وہ ظالم اور فاسق ہے۔ تورات و انجیل کا ذکر کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک یک حقانیت کا تذکرہ کیا ہے اور اہل ایمان کو تاکید ہے۔ کہ وہ سابقہ کتب کے حاملین والا رویہ اختیار نہ کریں بلکہ اللہ کی اس آخری کتاب پر صدق دل سے ایمان لائیں اور اس کے احکام پر عمل کریں۔ یہودونصاری کی طرح تحریف جیسی قبیح چیز سے پرہیز کریں۔
نزول قرآن
ارشاد ہوتا ہے وانزلنا الیک الکتب بالحق اور ہم نے آپ پر حق کے ساتھ کتاب نازل فرمائی ہے۔ اس کتاب سے مراد قرآن پاک ہے کیونکہ یہ حضور خاتم النبیین ﷺ کو خطاب ہو رہا ہے اور آپ پر اللہ کی اس آخری کتاب قرآن پاک کا نزول ہوا ہے۔ اس کتاب کے نزول کے ساتھ ہی سابقہ تمام کتب کا زمانہ ختم ہوا اور قرآن پاک کا دور شروع ہوگیا۔ اب تمام لوگوں کا فرض ہے۔ کہ وہ اس کتاب پر ایمان لائیں ‘ اس کے احکام کا اتباع کریں اور اپنے تمام فیصلے اسی کے مطابق کریں۔
فرمایا اس کتاب کی حیثیت یہ ہے مصدقا لما بین یدیہ من الکتب کہ یہ تصدیق کرنے والی ہے ان کتابوں کی جو اس سے پہلے نازل ہوچکی ہیں۔ یہ ایک اصولی بات ہے۔ کہ ہر بعد میں آنے والی کتاب پہلے آمدہ کتاب کی تصدیق کرتی ہے۔ اور اللہ کا ہر نبی اپنے سے پہلے ہوے والے نبی کی تصدیق کرتا ہے۔ چناچہ جو صحیفے حضرت دائود (علیہ السلام) حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) وغیر ہم پر نازل ہوئے اور کتابیں ‘ زبور ‘ تورات اور انجیل ہوئیں۔ قرآن پاک ان سب یک تصدیق کرتا ہے کہ اللہ نے ان تمام صحائف اور کتب کو حق کے ساتھ نازل فرمایا من الکتب سے جنس کتاب مراد ہے ‘ اور اس میں تمام آسمانی کتابیں شامل ہیں۔
قرآن جامع المضامین ہے
فرمایا کہ اس آخری کتاب کی دوسری صفت یہ ہے ومھیمنا علیہ کہ یہ تمام سابقہ کتب کا نگران ‘ محافظ ‘ امین اور نگہبان ہے ۔ قرآن اس لحاظ سے بھی مہیمن ہے۔ کہ یہ تمام آسمانی کتب کی منجانب اللہ ہونے کی تصدیق کرتا ہے۔ اس کے علاوہ جو مضامین تمام سابقہ کتب میں نازل ہونے ‘ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کا خلاصہ قرآن پاک میں بیان فرمادیا ہے بلکہ ان کے علاوہ بھی ہزاروں لاکھوں مضامین اس میں موجود ہیں ۔ اس لحاظ سے یہ سابقہ کتب کا امین اور محافظ ہے۔ قرآن پاک کا حجم تو زیادہ نہیں ہے مگر یہ ایسی جامع کتاب ہے۔ جس میں تمام علوم سما گئے ہیں۔
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی طرف یہ قول منسوب ہے۔ وہ فرماتے ہیں
جمیع العلم فی القران لکن
تقاصر عنہ افھام الرجال
تمام علوم کا ذخیرہ قرآن پاک میں موجود ہے مگر عام لوگوں کے ذہن اس تک رسائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں۔
قرآن پاک اللہ تعالیٰ کا کلام اور اس کی صفت ہے ‘ جس طرح اللہ تعالیٰ کی ذات لامحدود ہے اسی طرح اس کی صفات بھی غیر محدود ہیں۔ کوئی شخص اللہ کی صفات کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ تاہم وہ جس قدر محنت اور کوشش کریگا۔ اتنا ہی فیض حاصل کرسکے گا ‘ جب یہ ایسی عظیم المرتبت کتاب ہے فاحکم بینھم بمآ انزل اللہ تو آپ لوگوں کے درمیان اسی منزل من اللہ کتاب کے ذریعے فیصلہ کریں قرآن حکیم کی صداقت و حقانیت بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی بدیانتی اور خیانت کا ذکر بھی کیا ہے۔ پہلے صراحت کے ساتھ گذر چکا ہے کہ اہل کتاب نے احکام الٰہی کو تبدیل کردیا تھا۔ چناچہ زنا کا جو کیس حضور ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا تھا اس میں بھی یہودیوں کی خیانت کا فرما تھی۔ انہوں نے اللہ کی طف سے مقرر کردہ زنا کی سزا کو چھپا دیا تھا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے ذریعے اس کو واضح کردیا۔ قصاص اور دیت کے معاملات میں بھی ان لوگوں نے خرابیاں پیدا کر رکھی تھیں انہوں نے امیر اور غریب کے لیے مختلف سزائیں مقرر کرلی تھیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک قانون سب کے لیے یکساں ہے اس میں ادنی اور اعلیٰ کی کوئی تفریق نہیں۔ جو کوئی کسی کو زخمی کریگا یا قتل ناحق کا مرتکب ہوگا ‘ اس کو قانون کے مطابق سزادی جائیگی۔
عمل بالقرآن
اب جب کہ قرآن پاک کا دور ہے تو سب کا فرض ہے کہ اسی کا اتباع کریں۔ اسی لیے اللہ نے حضور ﷺ سے فرمایا کہ آپ اسی کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں ولا تتبع اھوآء ھم اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کریں عما جآء ک من الحق اس حق کو چھوڑ کر جو آپ کے پاس آچکا ہے ‘ اس حصہ آیت کا شان نزول یہ ہے کہ اہل کتاب کے بعض علماء حضور ﷺ کی خدمت میں اپنا کوئی معاملہ تصفیہ کے لیے لائے اور عرض کیا کہ ہم اپنی قوم کے مقتداء ہیں اگر آپ اس تنازعہ کا فیصلہ ہماری مرضی کے مطابق کردیں تو ہم لوگ آپ کا اتباع کرلیں گے اور یہودیوں کی کثری تعداد اسلام لے آئے گی۔ ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کو اسلام سے بڑھ کر کوئی چیز عزیز نہ تھی۔ آپ کی ہمیشہ یہ خواہش ہوتی تھی کہ زیادہ سے زیادہ لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں۔ اب یہودیوں نے قبول اسلام کے لیے ایسی شرط پیش کردی جو خود اسلامی اصولوں کے منافی تھی ‘ لہذا حضور ﷺ نے یہودی علماء سے فرمایا کہ میں تمہاری اس پیش کش کے بدلے میں کوئی غلط فیصلہ کرنے پر تیار نہیں۔ اگر تم نے اس طریقے سے اسلام قبول کیا تو یہ رشوتی اسلام ہوگا لہذا ہمیں ایسے اسلام کی ضرورت نہیں ہے۔ اسلام وہی قابل قبول ہے جو اس کی صداقت اور حقانیت کی بنا پر اختیار کیا جائے اس کے بغیر نجات کی کوئی صورت نہیں ” ان الدین عند اللہ الاسلام “ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے جو اس کو اختیار کریگا وہی کامیاب ہوگا۔ ” ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ “ جو کوئی اسلام کے علاوہ دین اختیار کریگا ‘ تو وہ ناقابل قبول ہوگا ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والا ہوگا۔ بہرحال فرمایا کہ اب جبکہ قرآن پاک کا دور ہے تو اب قابل عمل بھی یہی کتاب ہے ہر معاملہ میں اسی کے مطابق فیصلہ ہوگا۔
آخری شریعت
اللہ تعالیٰ نے آخری کتاب قرآن پاک اور آخری شریعت محمدی نازل فرمائی۔ اب قیامت تک تمام معاملات کے فیصلے کتاب اللہ اور شریعت محمدی کے مطابق ہی ہوں گے ‘ پہلی شریعت اور موجودہ شریعت میں قدرے اختلاف ہے مگر وہ پہلی تمام شرائع منسوخ ہوچکی ہیں اور اب صرف یہی قابل عمل ہے۔ سورة جاثیہ میں موجود ہے ” ثم جعلنک علی شریعۃ من الامر فاتبعھا ولا تتبع اھوآء الذین لایعلمون سب سے آخر میں ہم نے آپ کو ایک شریعت پر مقرر کیا ہے ‘ لہذا اب اس کا اتباع کریں اور جاہل لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ لگیں۔ اسی طرح یہاں پر بھی فرمایا لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھا جا ط ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور واضح راستہ مقرر کیا۔ بنیادی دین تو تمام انبیاء کا ایک ہی رہا ہے تاہم دین کی فرع یعنی شریعت مختلف انبیاء کے لیے مختلف تھی۔ سورة شوری میں موجود ہے شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا “ یعنی تمہارے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے دین کے قطعی ضابطے اور قوانین وہی مقرر فرمائے ہیں۔ جو نوح (علیہ السلام) ‘ ابراہیم (علیہ السلام) موسیٰ (علیہ السلام) اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے لیے مقرر فرمائے تھے۔ تاہم ہر ایک کی شریعت جدا جدا تھی۔ خود حضور نبی کریم ﷺ کا بھی یہی فرمان ہے نحن معاشر الانبیاء بنو علات دیننا واحد ہم سارے نبی علاتی بھائی ہیں یعنی ہمارا دین ایک ہے ‘ البتہ شرائع علیحدہ علیحدہ ہیں۔ علاتی بھائی وہ ہوتے ہیں جن کا باپ ایک ہو مگر مائیں جدا جدا ہوں۔ تو حضور ﷺ نے مختلف انبیاء کے درمیان دین اور شریعت کو اس مثال کے ذریعے سمجھایا۔ بعض چیزیں ایک شریعت میں حرام ہوتی ہیں تو دوسری میں حلال تاہم دین کے بنیادی اصول ہمیشہ یکساں رہے ہیں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے یہی فرمایا تھا ولا حل لکم بعض الذی حرم علیکم میری بعثت کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ تم پر بعض وہ چیزیں حلال قرار دے دوں جو تم پر حرام تھیں۔ مقصد یہ ہے کہ شریعت میں حلت و حرمت اور دیگر فروعی احکام بدلتے رہتے ہیں۔
مریق بین شرائع
اب آگے اللہ تعالیٰ نے مختلف شرائع میں تفریق کی حکمت بھی بیان فرمائی ہے۔ ولو شآء اللہ اور اگر اللہ تعالیٰ چاہتا لجعلکم امۃ واحدۃ “ تو تمہیں ایک ہی امت بنادیتا یعنی پوری نسل انسانی کے لیے ایک یہ شریعت مقرر کردیتا۔ مگر یہ اللہ کی حکمت کے خلاف ہے۔ زمان ومکان کا اختلاف انسانی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔ ان کے فرائض اور ضروریات مختلف ہوتی ہیں لہذا ہر مقام
1 من لثیر صلا 18 (فیاض)
اور ہر زمانے کے لیے یکساں احکام نازل کرنا خلاف فطرت ہے۔ کسی ایک انسانی زندگی پر بھی مختلف دور گزرتے ہیں۔ اس کے بچپن کے حالات اور اس کی ضروریات اس کی جوانی کی عمر سے مختلف ہوتی ہیں۔ اکثر غذائیں صحت کی حالت میں مفید ہوتی ہیں مگر بیماری کی حالت میں وہی چیزیں نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ اسی طرح مختلف ادوار و اقوام کے اجتماعی حالات بھی مختلف ہوتے ہیں اور ان کے فرائض و ضروریات بھی جدا ہوتی ہیں۔ چناچہ تمام انسانی تقاضوں کی تکمیل کے لیے مختلف زبانوں اور مختلف اقوام کے لیے اللہ نے علیحدہ علیحدہ شرائع نازل فرمائیں۔
شریعت کا لفظی معنی گھاٹ ہے۔ جس طرح گھاٹ سے انسان اور جانور اپنی ضروریات کے مطابق پانی حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح اور جانور اپنی ضروریات کے مطابق پانی حاصل کرتے ہیں۔ اسی طرح تشنگان علم و عمل شریعت سے احکام اور ہدایات حاصل کرتے ہیں۔ چونکہ شریعت دین کی فرع ہے۔ اس لیے اس کا ایک حالت میں قائم رہنا غیر فطری عمل ہے۔ دین کے معاملہ میں اختلاف کیا جائے تو وہ گمراہی ہوگا البتہ شریعت میں اجتہاد کے ذریعے مسائل کے حل دریافت کرنا فطرت کے عین مطابق ہے فروعات میں اختلاف کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا کرنے سے تو اجتہاد کا دروازہ بند کرنا پڑے گا جس کی وجہ سے قوم و ملت کی ترقی کسی ایک نہج پر پہنچ کر رک جائیگی۔ یہی چیز خلاف فطرت ہے۔ انسانی نشو و ارتقا کا تقاضا ہے کہ ہر زمانے اور ہر خیطے کی ضروریات شریعت کے احکام کی روشنی میں پوری۔۔ کی جائیں۔ لہذا شریعت کا ختلاف بالکل درست ہے ‘ البتہ دین میں اختلاف مہلک رہے۔ یہودو نصاریٰ اسی بنیادی اختلاف کی وجہ سے گمراہ ہوئے۔
فرمایا اگر اللہ چاہے تو تمام لوگوں کو ایک ہی شریعت کا پابند کردے مگر وہ ایسا نہیں کرتا ولکن لیبلو کم فی مآ اتکم بلکہ اختلاف شریعت سے اس کا مقصود یہ ہے۔ کہ تمہیں اس چیز میں آزمائے جو اس نے تمہیں دی ہے۔ اللہ تعالیٰ مختلف احکام شریعت نازل فرما کر آزمائش کرنا چاہتا ہے کہ کیا اس کے بندے انہیں قبول کرنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ کسی سے جبراً کوئی چیز نہیں منوانا چاہتا بلکہ وہ موقع فراہم کرتا ہے اور پھر دیکھتا ہے کہ اس کے احکام پر کون عمل پیرا ہوتا ہے۔
نیکی میں سبقت
فرمایا جب یہ بات ہے فاستبقوا الخیرات تو نیکیوں کی طرف سبقت کریں۔ نیکی میں ایک دوسرے سے سبقت حاصل کر نیکی کوشش کریں اور شریعت کے ہر حکم پر عمل کرنے کے لیے تیار رہیں۔ آخرت کی گھاٹیاں عبور کرنے کے لیے نیکی کو بنیادی حیثیت حاصل ہے۔ الی اللہ مرجعکم جمیعا بالآخر تم سب کو خدا کی طرف لوٹ کر جانا ہے فینبئکم بما کنتم فیہ تختلفون پھر اللہ تعالیٰ وہ تمام چیزیں تمہارے سامنے رکھ دیگا جن میں تم اختلاف کرتے تھے۔ وہاں پر حق و باطل کا قطعی اور اٹل فیصلہ ہوجائے گا۔ نیز فرمایا کہ جب یہ احکام من جانب اللہ ہیں وان احکم بینھم بمآ انزل اللہ تو آپ ان کے درمیان اسی منزل من اللہ احکام کے مطابق فیصلہ کریں۔ ولا تتبع اھوآء ھم آپ ان یہودی علما کی خواہشات کی پیروی نہ کریں۔ وہ جو بھی مقدمہ لائیں اس کا فیصلہ احکام الٰہی کے عین مطابق کردیں۔ واحذر ھم آپ ان سے چوکنا رہیں ان یفتنوک عن م بعض مآ انزل اللہ الیک ط کہ کہیں وہ آپ کو بعض ان چیزوں کے بارے میں فتنے میں نہ ڈال دیں جن کو اللہ نے آپ پہ نازل کیا ۔ یہودیوں نے یہ سازش کی تھی کہ اسلام لانے کا وعدہ کرکے حضور نبی کریم ﷺ سے اپنی مرضی کا فیصلہ کرالیں اور پھر اسی چیز کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بطور پر اپگینڈا ہتھیار استعمال کریں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو خبردار کردیا کہ آپ سے غلط فیصلہ لے کر آپ کو کہیں یہ فتنے میں مبتلا نہ کردیں ‘ آپ ان سے ہوشیار رہیں۔ آپ پہلے بھی ان کی سازشوں سے بچتے رہے ہیں اور آئندہ بھی محتاط رہیں۔
جرم و سزا
فرمایا فان تولوا پس اگر یہ یہودی روگردانی کریں۔ آپ کے فیصلے کو تسلیم نہ کریں فاعلم تو آپ اچھی طرح جان لیں انما یرید اللہ ان یصیبھم ببعض ذنوبھم اللہ تعالیٰ ان کو ان کے بعض گناہوں کی وجہ سے سزادینا چاہتا ہے۔ حق واضح ہوجانے کے باوجود اگر کوئی شخص ہٹ دھرمی ‘ ضد اور عناد پر قائم رہتا ہے ‘ تو پھر وہ قابل رحم نہیں ہے۔ اسے لازماً سزا ملنی چاہیے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک سزا ہے کہ انسان کا عقیدہ خراب ہوجائے۔ نیکی کی توفیق سلب کرلی جائے اور برائی میں مبتلا کردیاجائے ‘ لہذا انسان کو ہر وقت محتاط رہنا چاہیے اور دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ فتنے اور گمراہی سے محفوظ رکھے۔ انسان بعض ایسی غلطیاں کرتا ہے جن کا انہیں احساس تک نہیں ہوتا مگر ان کے نتائج اسی زندگی میں نکلنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اور اسی دنیا میں سزا ملنے لگتی ہے لہذا اگر یہ لوگ اپنی ضد پر اڑے ہوئے ہیں ‘ حق کو قبول کرنے سے مسلسل انکاری ہیں تو سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ ان کو سزا دیناچاہتا ہے فرمایا وان کثیر ا من الناس لفسقون لوگوں کی اکثریت نافرمان ہے ‘ وہ احکام الہی کو تسلیم کرنے اور ان پر عمل کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اللہ کے نافرمان ہر دور میں اکثریت میں رہے ہیں ۔ حضور ﷺ کے اپنے زمانہ مبارک میں بھی یہی حال تھا اور اس کے بعد بھی مسلسل اکثریت بےدینوں کی ہے آج بھی دنیا کی کل پانچ ارب کی آبادی میں سے چار ارب سے زیادہ لوگ قطعی طور پر کفر ‘ شرک اور گمراہی میں مبتلا ہیں۔ پانچویں حصے کے لوگ ہدایت یافتہ ہونے کے دعویدار ہیں ان میں بھی۔ بہت سی خرابیاں پائی جاتی ہیں ۔ بالکل صحیح اعتقاد رکھنے والے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کرنے والے بہت کم ہیں۔ ان میں اکثریت نافرمانوں اور ناشکر گزاروں کی ہے۔ سورة مومن میں موجود ہے ولکن اکثر الناس لایشکرون اکثر لوگ ناشکر گزار ہی ہوتے ہیں اسی طرح سورة سبا میں بھی آتا ہے ” وقلیل من عبادی الشکور “ یعنی میرے شکر گزار بندے بہت کم تعداد میں ہیں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے یہاں پر یہودو نصاری کی سازش کو واضح کرکے ان کی مذمت بیان فرمائی ہے۔
جاہلیت کا فیصلہ
فرمایا افحکم الجاھلیۃ یبتغون کیا جاہلیت کے زمانے کا فیصلہ چاہتے ہو۔ جاہلیت کا قانون تو یہ تھا کہ احکام الٰہی کو پس پشت ڈال کر اپنی مرضی کا فیصلہ کیا جائے۔ تو اب جب کہ قرآن پاک نازل ہوچکا ہے۔ اسلام کی روشنی پھیل چکی ہے تو اب واپس ظلمت کی طرف جانا چاہتے ہو ‘ یہ تو بہت ہی بری بات ہے۔ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ تین شخص سخت مبغوض ہیں۔ پہلا شخص ملحد فی الحرم ہے یعنی وہ شخص جو پاک خطے حرم میں گناہ کا ارتکاب کرتا ہے وہ اللہ کی سخت ترین ناراضگی کو دعوت دیتا ہے۔ دوسرا شخص فرمایا متیع فی الاسلام سنۃ الجاھلیۃ جو اسلام میں جاہلیت کے دستور کا اتباع کرتا ہے۔ اور تیسرا مبغوض شخص وہ ہے جو بےگناہ کا خون بہاتا ہے۔ خون ناحق کے لیے کوشش کرتا ہے اس کے حق میں گواہی دیتا ہے ‘ ناحق شکایت کرتا ہے کہ اس کا خون بہے۔ یہود کا بھی یہی حال ہے ۔ وہ اپنی کتاب کے فیصلہ کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ وہ نبی آخرالزمان سے صحیح فیصلہ چاہتے ہیں بلکہ اسلام کے روشن زمانے میں بھی جاہلیت کے ظلمت والے فیصلے کے متلاشی ہیں۔ فرمایا یاد رکھو ! ومن احسن من اللہ حکما لقوم یوقنون ایمان و یقین رکھنے والی قوم کے لیے اللہ کے فیصلے سے بڑھ کر کس کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ خدا تعالیٰ کا فیصلہ وہی ہے جو اس کی نازل کردہ کتاب و شریعت کا فیصلہ ہے لہذا ان کے مطابق کیا گیا فیصلہ ہی بہترین فیصلہ ہے۔ اللہ کے فیصلے کو چھوڑ کر زمانہ جاہلیت کے فیصلے کی طرف رجوع کرنا نہایت ہی بد بختی اور اللہ کے غضب کا نشانہ بننا ہے۔
Ayahs 5:51–53ربط آیات
گذشتہ آیا ت میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی مذمت بیان فرمائی ہے۔ اور ان کی خباثتوں کا ذکر کیا۔ دین کی تحریف۔ کتمان حق ‘ نقض عہد اور تغیر احکام ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ منافقین کے متعلق بھی پہلے گزر چکا ہے کہ اللہ نے فرمایا ‘ وہ اپنی زبانوں سے ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر درپردہ اسلام کے دشمنوں کے ساتھ رابط ہے۔ اب آج کی آیات میں یہودو نصاری کے ساتھ دوستی قائم کرنے کی ممانعت کی گئی ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ ان کی واضح خباثتوں کے بعد یہ لوگ دوستانے کے قابل نہیں رہے اسی طرح ان منافقین کے ساتھ بھی دوستانہ روابط سے منع فرمایا گیا ہے۔
اہل کتاب سے دوستی کی ممانعت
ارشاد ہوتا ہے یا یھا الذین امنوا اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو۔ لا تتخذوا الیھود والنصری أولیآء یہود اور نصاری کو اپنا دوست نہ بنائو۔ اولیا جمع ہے ولی کی اور اس کا معنی دوست ‘ رفیق ‘ ساتھی قریبی رشتہ دار معاون ‘ مدد گار ‘ سرپرست اور آقا ہوتا ہے۔ اس مقام پر ولایت سے مراد دوستی اور رفاقت ہے۔ سورة بقرہ میں آتا ہے اللہ ولی الذین امنوا ‘ یعنی اللہ ایمان والوں کا ولی ہے۔ وہاں پر متولی اور سرپرست مراد ہے۔ فرمایا یہود و نصاری سے دوستی نہ رکھو۔ یہ بڑے بد دیانت خائن اور اسلام دشمن ہیں۔ علاوہ ازیں جملہ کفار کی دوستی سے بھی منع کیا گیا ہے۔ سورة ہذا۔ سورة ال عمران۔ سورة نسائ۔ اور بعض دیگر سورتوں میں اس قسم کے احکام موجود ہیں۔ خاص طور پر من دون المئومنین “ کے الفاظ ہیں کہ مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کی دوستی کسی صورت میں بھی درست نہیں۔
اخلاقی روداری
البتہ اللہ تعالیٰ نے بعض حدود و قواعد کا ذکر فرما دیا ہے جن کے تحت میل ملاپ ‘ تجارت اور دیگر لین دین جائز ہے۔ ظاہری طور پر خوش اخلاقی اور اچھی روش اختیار کی جاسکتی ہے مگر ولی دلی دوستی نہ اہل کتاب سے ہو سکتی ہے۔ نہ منافقین سے اور نہ کفار سے جو غیر مسلم اقوا م مسلمانوں سے آمادہ بر جنگ ہوں ان سے ظاہری روادری کی بھی اجازت نہیں۔ سورة ممتحنہ میں یہ مسئلہ بیان ہوا ہے۔ کہ جو کفار اہل اسلام سے برسر پیکار نہیں اور نہ ہی ان کی مخالفت کرتے ہیں ‘ ان کے ساتھ حسن سلوک کی اجازت ہے۔ اسی سورة میں پہلے گزر چکا ہے۔ کہ انصاف کے معاملہ میں سب برابر ہیں۔ اپنا ہو یا غیر سب کے ساتھ انصاف کرو۔ کیونکہ ناانصافی دشمن کے ساتھ بھی روا نہیں البتہ جو شخص اللہ اور رسول پر ایمان رکھتا ہے اور قرآن کو اللہ کا آخری پیغام سمجھتا ہے ‘ اس کے لیے کفار کے ساتھ دلی دوستی کی اجازت ہرگز نہیں ہے۔
البتہ ہر اپنے اور بیگانے کے ساتھ کیے گئے عہد و پیمان کا پورا کرنا ضروری ہے ۔ اس کے علاوہ کافروں سے صلح کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ ” وان جنحوا للسلم فاجنح لھا “ اگر وہ صلح پر مائل ہوں تو ان سے صلح کرلیں۔ اور جو لوگ مسلمانوں سے لڑائی نہیں کرتے۔ ان کے ساتھ حسن سلوک اور مروت سے پیش آنے کی اجازت ہے ان کے ساتھ نیکی کا سلوک کرو گے تو اس سے بھی اسلام کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص مسلمانوں کے حسن سلوک کو دیکھ کر ایمان لے آئے۔ البتہ سوالات یعنی پکی دوستی کسی بھی صورت میں روا نہیں ہے۔ کوئی یہودی ہو یا نصرانی مجوسی ہو یا دہریہ ‘ ہندو ہو یا سکھ اس کا دوستانہ اہل ایمان کے ساتھ ممکن نہیں ہے کیونکہ دونوں فریقوں کی منزل جدا جدا ہے۔ دوستی اور مصلحت کے لیے کوئی بنیاد ہونی چاہیے مگر یہ بنیاد موجود نہیں ‘ ایک فریق اللہ تعالیٰ کافرمانبردار ہے اور دوسرا غیر للہ کا پجاری ‘ دونوں کے نظریات میں زمین و آسمان کا فرق ہے ‘ لہٰذا ولی دوستی ممکن نہیں۔
سورۃ آل عمران میں گزر چکا ہے۔ کہ اگر کسی مقام پر مسلمان مجبور ہوجائیں کفار اس قدر غالب ہوں کہ مسلمانوں میں اپنے دفاع کی قوت بھی نہیں ہے تو ظاہری طور پر کفار سے دوستی کا اظہار کرنا بھی جائز ہے ” الا ان تتقوا منھم تقتا “ ان س بچائو کے لیے وقتی طور پر ایسا کیا جاسکتا ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے۔ کہ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ نے اپنا کاتب (سکریٹری : کسی یہودی یا عیسائی کو رکھ لیا۔ حضرت عمر ؓ کو خبر ہوئی تو آپ نے سخت ڈانٹ پلائی اور کہا خدا کے بندے ! تمہیں کوئی مسلمان کاتب میسر نہ آسکا۔ کاتب تو رازداں ہوتے ہیں۔ اس لیے غیر مسلم کو ایسی ذمہ دار ی نہیں سونپی جاسکتی۔
یہودو نصاری کا گٹھ جوڑ
فرمایا ‘ اے ایمان والو ! یہودو نصاریٰ کو اپنا دوست نہ بنائو بعضھم اولیاء بعض ان میں سے بعض دوست ہیں بعض کے ۔ یہود و نصاری کے دوست ہیں اور نصاری یہود کے ۔ انہوں نے اسلام کے خلاف آپس میں گٹھ جوڑ کر رکھا ہے حالانکہ یہ آپس میں بھی ایک دوسرے کے دشمن ہیں۔ عیسائیوں کے اصل عقیدہ کے مطابق حضرت مسیح (علیہ السلام) کو سولی پر لٹکانے والے یہودی ہیں۔ مگر اب مشترکہ مفاد کی خاطر یہودیوں کو اس الزام سے بری کردیا گیا ہے۔ جب فلسطین کا مسئلہ پیدا ہوا تو عیسائیوں نے عدالتی بیان کے ذریعے یہودیوں کو قتل مسیح کے الزام سے بری قرار دے دیا ۔ مگر یہ دونوں گروہ اہل اسلام کے خلاف اکٹھے ہیں۔ الکفر ملۃ واحدہ پوری دنیا سے کفر ایک ہی ملت کے افراد ہیں۔ تاریخ عالم سے پتہ چلتا ہے کہ یہودیوں کی نسبت اسلام کو نقصان پہنچانے میں عیسائیوں کا زیادہ ہاتھ ہے یہودی تو عرصہ دراز تک غریبی الوطنی کی زندگی بسر کرتے رہے مگر نصاری کی بڑی جلیل القدر سلطنتیں تھیں جن کے بل بوتے پر یہ مسلمانوں کو ہمیشہ نقصان پہنچاتے رہے ‘ یہودیوں کو تو اب آکر ٹھکانا میسر آیا ہے ‘ وہ بھی عیسائیوں اور دنیا کی چار خبیث طاقتوں کی وجہ سے ‘ یہودی ان بین الاقوامی طاقتوں کے سائے میں پروان چڑھے ہیں مگر نصاری کا معاملہ شروع سے معاندانہ رہا ہے ۔ حضور ﷺ نے اہل ایمان سے فرمایا تھا کہ تمہاری ٹکر رومی یعنی عیسائی طاقتوں کے ساتھ ہمیشہ رہیگی ‘ کبھی ان کو غلبہ حاصل ہوگا اور کبھی تمہیں۔ یہانتک کہ مسیح (علیہ السلام) کا دور آجائے گا۔ اور پھر یہ تمام فتنے ختم ہوجائیں گے۔ اس وقت یہود و نصاری بالکل ختم ہوجائیں گے اور اسلام اور اہل اسلام ہی باقی رہ جائیں گے۔
موجودہ زمانے میں بیھ پوری دنیا کے مسلمان عیسائیوں کے ہاتھ نقصان اٹھا رہے ہیں۔ فلسطین کا قصہ ‘ قبرص اور فلپائن کے معاملات ‘ کشمیر کا قضیہ یہ سب انگریزوں کے پید ا کردہ مسائل ہیں ‘ کہیں برطانوی عیسائی ملوث ہیں۔ اور کہیں امریکی عیسائی۔ قبرص میں چالیس ہزار ترک مسلمان شہید ہوئے ‘ فلپائن میں ہزاروں مسلمانوں کا قتل عام سب انگریز عیسائیوں کی کارروائی ہے ‘ مسلمانوں کے دشمن عیسائی اور یہودی ہیں یا بگڑے ہوئے یہود و نصاری ۔ زار روس نصرانی تھا مگر روسی بگڑ کر اشتراکی یا ملحدبن گئے اور پھر یہ لوگ مزید سنگدل ہوتے چلے گئے۔ بہر حال مسلمانوں کو خبر دار کیا گیا ہے کہ ان لوگوں سے کبھی خیر خواہی کی امید نہیں رکھنی چاہیے۔ یہ ہمیشہ اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کریں گے ‘ لہذا ان سے بچنے کی کوشش کریں ‘ نہ کہ دوستانہ قائم کرنے کی۔
امریکہ کی ثی دوستی
امریکہ اور پاکستان کے سیاسی روابط ہیں جن کی وجہ سے امریکہ کو پاکستان کا خیر خواہ سمجھا جاتا ہے ‘ حالانکہ ایسی بات نہیں ہے۔ غیر مسلم اقوام مسلمانوں کے ساتھ جتنے بھی معاہدے کرتی ہیں وہ سب اپنے مقصد کے حصول کے لیے کرتی ہیں۔ جب تک ان کا مقصد پورا ہوتا رہے گا۔ معاہدہ قائم رہیگا۔ اور جب انہیں فائدہ نہیں ہوگا معاہدہ ختم ہوجائے گا۔ امریکہ کی پاکستان سے دوستی اور ہمدردی کا مظاہرہ پاک بھارت جنگوں ک دوران ہوچکا ہے۔ 1965 ء میں ہندوستان نے پاکستان پر صریحا جارحیت کا ارتکاب کرتے ہوئے شب خون مارا مگر امریکہ تماشادیکھتا رہ گیا۔ اس نے پاکستان کی کیا امداد کی ‘ یہ تو اللہ تعالیٰ کا خاص فضل تھا کہ اپنے سے چھ گنا بڑی طاقت کے سامنے پاکستان ڈٹا رہا اور معاملہ برابر سرابرہی چھوٹ گیا۔ ورنہ امریکہ کی دوستی کس کام آئی۔ 1971 ء میں پھر موقع آیا جس میں پاکستان دولخت ہوگیا ‘ تیس لاکھ بنگالی قتل ہوئے ‘ ہندوستان براہ راست دخیل ہوا مگر امریکہ خلیج بنگال میں بحری بیڑے دوڑاتارہا۔ اس نے پاکستان کی کوئی مدد نہ کی حالانکہ اس کے ساتھ مدد کا معاہد موجود تھا۔ اہل کتاب اور کفار اسلام کے ازلی دشمن ہیں ‘ ان پر بھروسہ کرنا بجائے خود دھوکا ہے یہ لوگ قرآن پاک کے پروگرام کی مخالفت میں کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے مسلمانوں کو کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں۔ عربوں کو بےدین بنانے میں عیسائیوں اور یہودیوں کی سازش ہے۔ انہیں عیش و عشرت کا سامان فراہم کرکے دین سے غافل کر رہے ہیں۔ بڑی بڑی عمارات کے ڈیزائن بڑی بڑی کاروں کی درامد۔ ٹیلیویژن اور وی سی آر کی بھر مار ‘ یورپ کی فحش فلمیں عریوں سے دینی لگا ئو ختم کر رہی ہیں مگر مسلمان ہیں کہ انہیں اس سازش کا احساس تک نہیں ہے۔
اسلامی اور غیر اسلامی فلسفہ
فرمایا ومن یتولھم منکم فانہ منھم جو اغیار سے دوستی کرے گا ۔ وہ انہیں میں ہوگا۔ جو شخص جس قوم کا فلسفہ اختیار کرے گا ‘ جن کے نظریات اپنائے گا۔ انہی کے سانچے میں ڈھل جائے گا۔ آج پورے عالم اسلام کی حالت یہ ہوچکی ہے کہ انہیں خلفائے راشدین ؓ کا فلسفہ پسند نہیں ‘ وہ امام ابوحنیفہ کا شافعی (رح) ‘ مالک (رح) اور احمد (رح) کا فلسفہ پڑھنے کے لیے تیا ر نہیں ‘ نہ انہیں امام بخاری اور امام مسلم کے فلسفہ سے کچھ تعلق ہے بلکہ وہ تو کانٹ ‘ فرائیڈ اور ہیگل کا فلسفہ پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ یہودو نصاری کے فلسفے اور دہریوں کے نظریات کو اپنانے والے قرآن کے پروگرام کو کیسے پا سکتے ہیں۔ جو قوم اپنے قومی نظریہ کو چھوڑ دیتی ہے وہ اپنے مرکز سے علیحدہ ہوجاتی ہے۔ آج مسلمان قوم اس طرف جارہی۔ اس کی مرکزیت انگریز نے ختم کردی ہے۔ یہ مسلمان ممالک کو آپس میں لڑا کر ان کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں مگر مسلمان غفلت کی نیند سو رہے ہیں۔ ایران و عراق جنگ یہودیوں کی سازش ہے دونوں طرف مسلمان کمزور ہو رہے اور غیر اقوام ان میں دخیل ہو رہے ہیں۔ امریکہ اور روس ایک طرف اپنا اسلحہ فروخت کر رہے ہیں اور دوسری طرف مسلمانوں کو کمزور کرنے کے پروگرام پر عمل پیرا ہیں۔ ان سے دوستانہ کرنے کا یہی نتیجہ ممکن ہے۔ اسی لیے اللہ نے فرمایا کہ ا ن کو دوست نہ بنائو ‘ جو ایسا کرے گا ‘ انہی جیسا ہوجائے گا۔
گردش زمانہ کا خوف
فرمایا ان اللہ لایھدی القوم الظلمین اللہ تعالیٰ ظالموں کی راہنمائی نہیں کرتا۔ نصاری کافر اور مشرک ہونے کی وجہ سے ظالم ہیں ۔ مگر مسلمان ان کے ساتھ دوستانہ کرکے اپنی مرکزیت کو بھول چکے ہیں۔ یہود و نصاری کی سازشوں کا سلسلہ اس سورة میں ابھی مزید بیان ہوگا۔ فرمایا فتری الذین فی قلوبھم مرض اے مخاطب تو دیکھے گا ان لوگوں کو جن کے دلوں میں بیماری ہے یسارعون فیھم وہ اغیار کی طرف دوڑ دوڑ کرجاتے ہیں اور ان سے دوستی کرتے ہیں مدینہ کے منافقین کا بھی یہی شیوہ تھا یقولون نخشی ان تصیبنا دآ ئرۃ وہ کہتے تھے کہ ہم یہودیوں کے ساتھ میل ملاپ اس لیے رکھتے ہیں کہ کہیں ہم تک زمانے کی گردش نہ پہنچ جائے عبد اللہ بن ابی کہتا تھا انی رجل اخاف الدوا می میں زمانے کی گردش سے ڈرتے ہوئے ان سے تعلق رکھتا ہوں کہ اگر کسی وقت مسلمان مغلوب ہوگئے۔ یا قحط پڑگیا تو ہمیں تکلیف پہنچے گی۔ لہذا یہودیوں کے ساتھ بھی تعلقات قائم رہنے چاہیں۔ یہاں ہمارے ملک میں بھی ایسا ہی ہوا تھا 1953 ء میں جب قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی تو خواجہ ناظم الدین نے کہا تھا۔ کہ ان کو غیر مسلم قرار دیکر ہم امریکہ کو ناراض نہیں کرنا چاہیے۔ اگر امریکہ خفا ہوگیا تو مشکل وقت میں ہماری مدد کون کریگا۔ یہی بات منافقین مدینہ کہتے تھے ‘ جسے اس حصہ آیت میں بیان کیا گیا ہے۔
فتح کی امید
اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ خواہ مخواہ حوادث زمانہ سے خوف کھا رہے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے فعسی اللہ ان یاتی بالفتح پس امید ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لیے فتح لائے گا اور یہود و کفار ذلیل ہو کر رہ جائیں گے پھر ایسا ہی ہوا ‘ اللہ نے مکہ والوں کو مغلوب کردیا۔ مدینے کے یہودی ذلیل و خوار ہو کر رہ گئے ‘ ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہ رہی۔ اس لیے اللہ نے فرمایا کہ یہ خواہ مخواہ خوف کھاتے ہیں۔ امید ہے کہ عنقریب فتح کی خوشخبری آئیگی او امر من عندہ یا اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے کوئی اور معاملہ لائیں گے فیصبحو ا علی مآ اسروا فی انفسھم ندمین پس منافقین اپنے دلوں میں پوشیدہ بات پر نادم ہوجائیں گے یعنی اہل اسلام کی پے درپے کامیابیوں کو دیکھ کر ان کے تمام منصوبے ناکام ہوجائیں گے یعنی اہل اسلام کی پے درپے کامیابیوں کو دیکھ کر ان کے تمام منصوبے ناکام ہوجائیں گے اور وہ پشیمان وہ کر رہ جائیں گے۔ چناچہ فتح مکہ کے بعد ان کی رہی سہی امید بھی ختم ہوگئی۔ مدینہ کے یہود مغلوب ہوگئے ‘ کچھ جلاوطن کردیے گیے حتی کہ حضرت عمر ؓ کے زمانے تک پورا عرب یہودیوں سے پاک ہوگیا۔
منافقین کا انجام
اللہ نے فرمایا کہ یہودو منافقین کا بر انجام دیکھ کر ویقول الذین امنوا اہل ایمان کہیں گے اھئولآء الذین اقسموا باللہ جھد ایما نھم کیا یہی وہ لوگ ہیں جو اللہ کے نام کی پختہ قسمیں اٹھاتے تھے انھم لمعکم کہ وہ تمہارے ساتھ ہیں۔ حالانکہ وہ دوسروں سے ساز باز رکھتے تھے۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا حبطت اعمالھم ان کے اعمال ضائع ہوچکے ہیں۔ کفر شرک اور نفاق اعمال کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح گھن غلے کو کھا جاتا ہے۔ فاصبحوا خسرین ۔ پس ہوگئے وہ نقصان اٹھانے والوں میں اس سے دنیا اور آخرت کے دونوں نقصان مراد ہیں۔ منافقین نے جن لوگوں سے اس دنیا میں ساز باز کیا ‘ وہ مغلوب ہوگئے اور ان کی دوستی کچھ کام نہ آئی بلکہ الٹا رسوائی کا باعث بنی۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو کامیابی سے ہمکنار کیا اور ان کی طاقت دنیا میں پھیل گئی ‘ لہذا اس دنیا میں بھی منافقین نقصان میں رہے اور آخرت میں نقصان تو بہر حال ہے۔ ان کے نفاق کی وجہ سے اللہ نے ان کے لیے دائمی عذاب مقرر کردیا۔ ان کی طاہری طور پر ادا کردہ نمازیں ‘ روزے اور دوسری نیکیاں برباد ہوگئیں۔ اور وہ سراسر نقصان میں رہے۔
الغرض ! اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو یہ بات سمجھا دی کہ یہودو نصاری یا کفار کے ساتھ تمہاری دوستی کچھ کام نہ آئیگی۔ ان کے اعمال دنیا و آخرت دونوں جگہ برباد ہوجائیں گے۔
Ayahs 5:54–56ربط آیات
پہلے منافقین اور اہل کتاب کی برائیوں کا ذکر ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے لقسن عہد ‘ احکامات الٰہی کی خلاف ورزی اور برے امور کی انجام دہی کی وجہ سے ان کی مذمت بیان فرمائی۔ پھر گذشتہ آیات میں ان کے ساتھ دوستانہ کرنے سے منع فرمایا۔ اللہ نے فرمایا کہ یہود ونصاری اور مشرکین ایک دوسرے کے دوست تو ہو سکتے ہیں مگر اہل ایمان کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے۔ اللہ نے واضح فرمایا کہ ان میں اسلام کے خلاف شدید نفرت پائی جاتی ہے اور ہمیشہ اسلام اور اہل اسلام کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں لہذا ان کے ساتھ دوستی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
اب آج کی آیات میں اہل ایمان کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ دین حق کو مانا اور اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلنا انسان کے لیے باعث سعادت ہے۔ اور اس کی صلاحیت کا ثبوت ہے فرمایا۔۔ اگر بالفرض تم بھی دین اسلام کو چھوڑ دو ۔ یعنی تم میں سے کوئی شخص اگر مرتد ہوجائے تو اس سے اللہ اور اس کے دین کو نقصان نہیں ہوگا بلکہ اس میں تمہارا اپنا ہی نقصان ہے۔۔ سابقہ آیت کے ساتھ اس آیت کا ربط اس طرح ہے کہ منافقین کی طرح تم بھی دل میں یہ خیال نہ لانا کہ اسلام کی مفروضہ مغلوبیت سے شاید تم گردش زمانہ کا شکار ہو جائو۔ لہذا اہل کتاب اور مشرکین سے روابط قائم رکھنا چاہیے ‘ فرمایا ایسی بات نہیں ہے۔ اگر تم نے خدا کی ذات پر توکل نہ کیا اور ایمان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے تب بھی اللہ کے دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت کا کوئی اور بندو بست فرمادے گا۔
دین سے برگشتہ ہونا
ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین امنوا اے ایمان والو ! من یرتد منکم عن دینہ تم میں سے جو شخص برگشتہ ہوگ یا ہے دین سے ‘ یعنی اس نے اپنا رخ دین اسلام سے دوسری طرف پھیرلیا۔ تو اس دین کو کچھ نقصان نہیں پہنچے گا ‘ نہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نقصان ہوگا ‘ بلکہ نقصان دین سے پھرجانے والے مرتد کا ہی ہوگا۔ مرتد اس شخص کو کہا جاتا ہے جو ایک دفعہ دین اسلام کو قبول کر کے پھر اس سے منحرف ہوجائے۔ کوئی دوسرا دین اختیار کرے یا محض دہریہ اور بےدین رہے۔ وہ بہر حال مرتد کی تعریف میں آئے گا۔ جس طرح قرآن و سنت میں کافر ‘ مشرک ‘ منافق وغیرہ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے ‘ اسی طرح مرتد کا لفظ بھی بطور اصطلاح استعمال ہوتا ہے۔
بہرحال فرمایا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اسلام کو چھوڑ دے تو اس نے دین کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا ‘ بلکہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی تائید و حفاظت اس طرح فرمائے گا۔ فسوف یاتی اللہ بقوم کہ وہ تمہاری جگہ ایسی قوم کو لے آئے گا یحبھم جن سے وہ محبت کرتا ہے ویحبونہ اور وہ لوگ اس سے محبت کرتے ہیں۔ اور پھر آگے ان لوگوں کے اوصاف بھی بیان فرمائے ہیں۔
فتنہ مردین
حضور علیہ الصلوۃ السلام کی وفات کے بعد مرتدین کا ایک فنہ کھڑا ہوگیا۔ عرب کے بہت سے قبائل مرتد ہوگئے مگر ان کے مقابلے میں مہاجرین ؓ اور انصار مدینہ ؓ دین کی حمایت و حفاظت پر ثابت قدم تھے۔ مرتدین میں یمن کے لوگ پیش پیش تھے چناچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے ان کے خلاف جہاد کیا۔ ان میں سے کچھ پلٹ کر اسلام میں دوبارہ داخل ہوگئے اور باقیوں کو قتل کردیا گیا اسی زمانے میں بعض لوگوں نے نبوت کا دعویٰ بھی کردیا ‘ ان میں صنعا کار بنے والا اسود بن کعب عنسی بڑا بد اخلاق آدمی تھا ۔ اس کو حضور ﷺ کے ایک صحابی فیروز ولمیی ؓ نے قتل کیا تھا ۔ رات کو قتل ہوا تو حضور ﷺ نے فرمادیا تھا کہ رات اسود قتل ہوگیا ہے آپ نے فیروز ؓ کے متعلق فرمایا فاز فیروز یعین فیروز کامیاب ہوگیا۔ کیونکہ اس نے دشمن رسول اور دشمن انسانیت کو قت کردیا۔ جس رات آپ نے خبر دی اس سے اگلے دن چاشت کے وقت حضور ﷺ کا وصال ہوگیا۔ پھر مہینہ کے آخر میں کچھ لوگ یمن سے آئے تو انہوں نے حضور ﷺ کی خبر کی تصدیق کی کہ فلاں تاریخ کو اسود عنسی قتل ہوگیا تھا۔
مسلیمہ کذاب بھی مشہور مدعی نبوت تھا۔ اہل ایمان نے اس کے خلاف بھی جہاد کیا اور اسے شکست دی ‘ وہ خود مارا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی بیوی نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا ‘ مگر بعد میں وہ تائب ہوگئی۔ اس کے علاوہ طلیحہ اسدی نامی شخص نے بھی نبوت کا دعوے کیا مگر تائب ہوگیا۔ ان کے علاوہ کچھ دوسرے لوگوں نے بھی ایسے دعوے کیے۔ بعض مارے گئے اور بعض دوبارہ ایمان لے آئے۔ بہر حال انصار و مہاجرین اور دیگر مخلص قبائل نے فتنہ ارتداو کا خوب مقابلہ کیا ‘ بالآخر یہ فتنہ ختم ہوگیا۔
محبان خدا کے اوصاف
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت کا مصداق حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ ۔۔۔۔۔۔ میں حضور ﷺ نے آپ کی طرف اشارہ کر کے فرمایا تھا کہ یہ اور اس کی قوم کے لوگ مرتدین کا مقابلہ کریں گے۔ ابو موسیٰ اشعری ؓ یمن کے رہنے والے تھے اور فتنہ ارتداد بھی زیادہ تر وہیں ابھرا اور پھر وہیں ان کا صفایا بھی ہوا۔ لہذا حضور ﷺ کی پیشن گوئی سچی ثابت ہوئی اور یمن ہی کے لوگوں نے اس فتنہ کو ختم کرنے میں مدد دی۔ چناچہ یہی وہ لوگ ہیں جن کے متعلق فرمایا کہ اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں ان کے دلوں میں خدا تعالیٰ کی محبت کا جذبہ ہو جزن ہے ‘ ان کی دوسری صفت یہ ہے اذلۃ علی المئو منین وہ ایمان والوں کے سامنے بڑے نرم ہیں۔ اذلہ یا ذلیل کا معنی حقیر بھی ہوتا ہے اور نرم اور ہموار بھی۔ چناچہ ناقۃ ذلول کا معنی ہموار اونٹنی کیا جاتا ہے جو اپنے سوار کو تکلیف نہ پہنچائے تو یہاں پر یہی معنی ہے اللہ تعالیٰ کی محبت سے سرشار لوگ ایمان والوں کے ساتھ نرم ہیں اور ان کے ساتھ شفقت سے پیش آتے ہیں۔ نیزاعزۃ علی الکفرین کفر کرنے والوں پر غالب اور زبردست ہیں۔ یعین کفار پر اس طرح جھپٹتے ہیں جس طرح شاہین یا باز شکار پر جھپٹتا ہے اور پھر ان پر غالب آتے ہیں۔ اعزۃ کا یہ معنی ہے۔
فرمایا ان لوگوں کی ایک صفت یہ بھی ہے یجاھدون فی سبیل اللہ وہ اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں۔ ان کا واحد مقصد اللہ کی خوشنودی اور ان کے دین کی سربلندی ہوتا ہے ۔ غرضیکہ محبوبان خدا جان و مال کی قربانی دینے کے لیے ہر وقت تیار ہتے ہیں قربانی تو دوسرے لوگ بھی کرتے ہیں ‘ قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کرتے ہیں اور بعض اوقاتختہ دار پر بھی لٹک جاتے ہیں مگر ان کے پیش نظر و طنیت ‘ ملوکیت زبان ‘ نسل یا پارٹی بازی ہوتی ہے وہ محض اقتدار حاصل کرنے کے لیے مالی اور جانی قربانی کرتے ہیں۔ مگر اہل ایمان اور دیگر اقوام کے درمیان طرہ امتیاز یہ ہے کہ ایمان والوں کے پیش نظر رضائے الہٰی کے علاوہ کوئی ذاتی غرض نہیں ہوتی۔ تو فرمایا کہ یہ لوگ اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہیں۔
فرمایا ‘ ان کی ایک صفت یہ بھی ہے ولا یخافون لومۃ لآئم وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہیں ڈرتے۔ یعنی اگر کوئی شخص ان کے دین پر طعن کرے تو وہ اس کی پرواہ نہیں کرتے بلکہ دین کا کام جاری رکھتے ہیں۔ غرضیکہ کسی باطل پرست کا طعن وشینع ان پر کسی طرح اثر انداز نہیں ہوتا اور وہ خلوص دل کے ساتھ اپنے دین پر قائم رہتے ہیں۔ ابن عربی (رح) نے کہا ہے ؎
اذالعترعلی الرشاد لنفسہ ھانت علیہ ملامۃ العذال
انسان اپنے نفس کی ہدایت کو خوب پہچانتا ہے ۔ ملامت کرنے والوں کی ملامت اسے معمولی چیز معلوم ہوتی ہے اور وہ اس کی کچھ پرواہ نہیں کرتا۔ غرضیکہ اگر کوئی شخص خلوص نیت سے دین کا کام کرتا ہے تو اغیار کا طعن و ملامت اس پر کچھ اثر نہیں کرتا ‘ وہ اپنے کام میں محورہتا ہے ۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص حضور ﷺ کی کسی سنت پر عمل کرتا ہے اور لوگ اسے استنہ کا نشانہ بناتے ہیں۔ اس کو ملامت کرتے ہیں تو وہ ان چیزوں سے لاپروا ہو کر سنت پر عمل جاری رکھتا ہے۔ اسی چیز کو فرمایا کہ محبان خدا کی ایک صفت یہ بھی ہے۔ کہ وہ کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی کچھ پرواہ نہیں کرتے۔
سات زریں اصول
مسند احمد اور بیہقی میں حضرت ابو ذر غفاری ؓ سے روایت ہے جسے امام ابن کثیر (رح) نے بھی نقل کیا ہے۔ حضرت ابو ذر غفاری ؓ فرماتے ہیں۔ امرنی خلیلی میرے پیارے دوست اور پیارے رسول ﷺ نے مجھے سات چیزوں کا حکم دیا۔ پہلا حکم یہ تھا بحب المساکین وزلفا منھم یعنی میں مساکین کے ساتھ محبت کروں اور ان کے قریب رہوں حضور ﷺ کو خود بھی غربا و مساکین سے بڑی محبت تھی اور آپ کو ان کی رفاقت محبوب تھی چناچہ دعا میں فرمایا کرتے تھے اللھم ارزقنی حب المساکین اے اللہ مجھے مساکین کی محبت عطا فرما ‘ ان سے نفرت نہ ہوے آپ یہ بھی فرماتے تھے واحشرنی فی زمرۃ المساکین مولا کریم ! میرا حشر بھی مساکین کے ساتھ ہی کرنا۔ آپ دنیا میں بھی غربا و مساکین کے پاس بیٹھتے اور وہ اس بات پر فخر کرتے تھے کہ سرور دو عالم ﷺ ہمارے پاس بیٹھتے ہیں اور ہم سے محبت کرتے ہیں۔
صحابی رسول فرماتے ہیں کہ محبوب خدا نے مجھے دوسری نصیحت یہ فرمائی۔۔ ان انظر علی مادونی ولا انظر من ھو فوقی یعنی میں اپنے سے نیچے والے کی طردیکھوں اور اوپر والے کی طرف نہ دیکھوں ‘ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے ۔ جو شخص اس نصیحت پر عمل کرے گا وہ خدا تعالیٰ کی کسی نعمت کو حقیر نہیں جانے کا۔ ظاہر ہے کہ جو شخص اپنے سے امیر آدمی کو دیکھے گا۔ وہ اپنے آپ کو غریب سمجھ کر ناشکری کا مرتکب ہوگا۔ اور جو شخص اپنے سے کمزور آدمی کی طرف دیکھے گا۔ وہ خود کو بہتر پاکر اللہ کا شکر ادا کرے گا اور اللہ کی عطا کردہ کسی نعمت کو حقیر نہیں سمجھے گا۔
تیسری چیز فرمایا 1 ؎ ان اصل الرحم وان ۔۔۔ یہ کہ میں صلہ رحمی کروں چاہے میرے قرابتدار مجھ سے دوری اختیار کریں۔ حضرت ابو ذر ؓ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے چو تھی بات یہ فرمائی ان لا اسئل احدا “ یہ کہ میں کسی سے سوال نہ کروں واذا سئلت فاسئل اللہ اور جب بھی سوال کروں تو خدا تعالیٰ سے کروں۔ چونکہ ہر چیز کا داتا وہی ہے۔ سب کچھ اسی کے اختیار میں ہے لہذا سوال بھی اسی سے کرنا چاہیے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے پانچواں حکم یہ دیا ان اقول الحق وان کان مر “ یہ کہ میں سچی بات کہوں اگرچہ یہ تلخ ہی کیوں نہ ہو۔ حضرت عمر ؓ کا بھی یہ خاص و صف تھا کہ وہ بالکل سچی بات کرتے تھے اگر چہ لوگ گھبرا جاتے تھے۔ فرمایا چھٹی بات یہ ہے الا اخاف فی اللہ لومۃ لائم یعنی میں اللہ اور اس کے دین کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے خوف نہ کھائو یا اور اپنی بات پر قائم رہوں۔ حضور ﷺ نے ساتویں اور آخری بات یہ فرمائی کہ میں کثرت سے لاحول ولاقوۃ الا باللہ کا ورد کرتا رہوں۔ یہ توحید کا حکم ہے اور نیکی بجا لانے اور برائی سے بچنے کی توفیق کو اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے ۔ یہ کلمات اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہیں حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا انھن کنز من کنز تحت العرش یہ کلمات عرش کے خزانوں سے ایک خزانہ ہے۔ اگر یہ عقیدہ راسخ ہوجائے تو بہت بڑی بات ہے۔ ایسا شخص کامل الایمان جاتا ہے۔
1 ؎ بن کثیر ص 76 (فیاض)
الغرض ! فرمایا کہ وہ لوگ اللہ کے دین کے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا خوف نہیں کھاتے ذلک فضل اللہ یئو تیہ من یشآء یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے ‘ وہ جسے چاہے عطاکردے۔ عقیدے کی پختگی ‘ اللہ سے محبت ‘ ایمان والوں کے لیے نرمی ‘ کفار کے لیے سختی ‘ اللہ کے راستے میں جہاد اور ملامت کرنے والوں سے لاپرواہی ‘ یہ سب اللہ کے فضل میں داخل ہیں۔ وللہ واسع علیم اور اللہ تعالیٰ وسعت والا اور سب کچھ جاننے والا ہے۔ وہ ہر شخص کی صلاحیت اور استعداد کو جانتا ہے۔ اسی استعداد کے مطابق وہ عطا کرتا ہے۔
سچے دوست
فرمایا انما ولیکم اللہ ورسولہ بیشک تمہارا دوست اور رفیق حقیقت میں اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ والذین امنوا اور اہل ایمان بھی تمہارے دوست ہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دوستی اللہ ‘ اس کے رسول اور اہل ایمان سے ہونی چاہیے۔ اگر تم اس معیار پر پورے اترے تو اللہ تعالیٰ غلبے کی صورت بھی پیدا کر دے گا اور یہود و نصاریٰ اور مرتدین تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے۔ تمہارا کام یہی ہے کہ تعلق باللہ قائم رکھو ‘ اسی کے مطیع و فرمانبردار بن جائو ‘ خدا وند تعالیٰ کو اپنا کار ساز ‘ متولی اور مالک سمجھتے ہوئے تمام کام اسی کی رضا کے مطابق انجام دو ۔ اللہ کے رسول کے ساتھ محبت کرنا بھی جزو ایمان ہے۔۔۔۔ اور اس کی بہترین صورت یہ ہے کہ آپ کے بتلائے ہوئے طریقہ کو اپنا لو اور آپ کی سنت کو زندہ رکھو۔ اسی طرح ادندرونی طور پر ربط و ضبط اور دوستی ایمان والوں کے ساتھ ہونی چاہیے۔ ان کے ساتھ اتحاد و اتفاق ہی کے ذریعے دشمن کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے اگر ان امور کی انجام دہی کرتے رہو گے تو دشمن کبھی غالب نہیں آسکتا ” انتم الا علون ان کنتم مئومنین “ اگر تم مومن ہو گے ‘ تو غلبہ تمہارا ہی ہوگا۔
اہل ایمان کی صفات
آگے اللہ نے ان مومنین کی صفات بیان فرمائی ہیں جن کی دوستی کی ترغیب دی گئی ہے۔ فرمایا تمہارے دوست وہ ہونے چاہئیں۔ الذین یقیمون الصلوۃ جو نما ز قائم کرتے ہیں۔ نماز تعلق باللہ کا بہترین ذریعہ ہے۔ یہ خدا تعالیٰ کا قرب دلانے والی عبادتوں میں سے بہترین عباد ہے۔ فرمایا تمہارے مومن دوست وہ ہوں ویئو تون الذکوۃ جو زکوۃ ادا کرتے ہوں۔ ظاہر ہے کہ زکوۃ کے دو فائدے ہیں۔ اس کی وجہ سے انسان کے ذہن سے حرص و بخل کا مادہ خارج ہوتا ہے یعنی انسان کو مہذب بنانے والی چیز یہی زکوۃ ہے۔ زکوۃ کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس سے غرباء و مساکین کی حاجات پوری ہوتی ہیں۔ یہ انسان کو پاکیزگی دلانے والی چیز ہے۔ نماز بدنی عبادت ہے اور زکوۃ مالی عبادت دونوں چیزوں کا آپس میں ربط ہے۔ سورة توبہ میں کفار و مشرکین کے متعلق فرمایا کہ اگر وہ توبہ کرلیں ” وقاموا الصلوۃ واتوالزکوۃ فاخوانکم فی الدین “ اور وہ نماز ادا کرنے لگیں اور زکوۃ دینے لگیں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ غرضیکہ ایمان لانے کے بعد نماز و زکوۃ کی ادائیگی اولین عمل ہے جس کے بغیر ایمان کا اعتبار نہیں کیا جاسکتا۔
فرمایا اہل ایمان کی ایک صفت یہ بھی ہے وھم راکعون وہ رکوع کرنے والے ہیں۔ صاحب روح المعانی (رح) امام بیضاوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہاں رکوع سے مراد صرف نماز والا رکوع نہیں بلکہ اس سے مراد عاجزی اور انکساری ہے۔ بعض دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں پر رکوع کا خصوصی تذکرہ یہودیوں کے ساتھ امتیاز کی وجہ سے ہے۔ یہودیوں کی نماز میں رکوع نہیں ہوتا ‘ اس لیے یہاں خاص طور پر فرمایا کہ انکے ایمان لانے کی ایک نشانی یہ بھی ہے کہ وہ رکوع کرنے لگیں رکوع و سجود دونوں رکن عاجزی کی علامت ہیں مگر رکوع کی نسبت سجدے میں اعلیٰ درجے کی عاجزی پائی جاتی ہے۔ اسی لیے ہر رکعت میں رکوع ایک ہے مگر سجدے دو ہیں رکوع و سجود دونوں چیزیں فرض ہیں ان کے بغیر نماز نہیں ہوتی ‘ لہذا یہاں پر رکوع کا خصوصی ذکر فرمایا۔
حزب اللہ
فرمایا ومن یتول اللہ ورسولہ ‘ جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ دوستانہ کرے گا والذین امنوا اور ان اہل ایمان سے دوستی کرے گا۔ جن کی صفات بیان ہوچکی ہیں یعنی جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کو لازم پکڑتے ہیں اور پھر اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی کا سلوک کرتے ہیں فرمایا فان حزب اللہ ھم الغالمون تو یہی اللہ کی پارٹی اور اس کے گروہ کے ممبر ان ہیں۔ اور یہی غالب ہوں گے۔ آخری کامیابی انہی کے مقدر میں ہے۔ سورة مومن میں فرمایا ہے ” انا لننصر رسلنا والذین امنوا فی الحیوۃ الدنیا ویوم یقو م الاشھاد “ ہم اپنے انبیاء اور اہل ایمان کی دنیا میں بھی مدد کریں گے اور قیامت والے دن بھی مدد کریں گے جب کہ مدد کی سب سے زیادہ ضرورت ہوگی۔ اس طرح اللہ کے دوستوں کو دنیا و آخرت ہر دو مقامات پر کامیابی حاصل ہوگی اور انہی کا مشن غالب رہیگا۔ آخرت میں خاص طور پر ان کے حق میں گواہیاں ہوں گی ‘ ان کے درجات بلند ہوں گے اور وہ عذاب سے بچ جائیں گے۔ غرضیکہ اللہ کا گروہ ہی غالب رہیگا۔
اگر دنیا میں کبھی مسلمانوں کو شکست آجائے۔ یا کسی معاملہ میں کمزوری واقع ہوجائے تو سمجھ لینا چاہیے۔ کہ اس آیت میں بیان کردہ صفات میں کمی واقع ہوگئی ہے۔ مومن اپنے معیار پر وپرے نہیں اتر رہے ہیں۔ مثلاً نماز زکوۃ میں کوتاہی واقع ہوگئی ہے یا دوسرے اہل ایمان کیلئے جذبہ محبت کو ٹھیس پہنچی ہے یا جہاد فی سبیل اللہ سے جی چرایا ہے ۔ اگر مومنین کی تمام شرائط پوری کی جائینگی “ تو پھر اللہ تعالیٰ کی نصرت ضرور شامل حال ہوگی اور دنیا و آخرت میں اہل ایمان ہی غالب ہوں گے۔
بعض اوقات اہل ایمان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آزمائش بھی آجاتی ہے اور کامل الایمان لوگوں کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے ‘ مگر وہ مغلوب نہیں کہلاتے کیونکہ ان کا ایمان بہر حال قائم ہوتا ہے۔ وہ ایسی آزمائشوں میں کندن بن کر نکلتے ہیں اور پھر نئے جوش اور جذبہ کے ساتھ اللہ کے دین کی سر بلندی کے لیے ہمہ تن مصروف ہوجاتے ہیں۔ انہیں اللہ کی توحید اور اس کے وعدے پر پختہ یقین ہوتا ہے۔ امام محمد بن ابی بکر عبد القادر رازی بھی فرماتے ہیں ‘ کہ بعض اوقات اہل ایمان مادی لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں مگر حقیقت میں وہ مغلوب نہیں ہوتے کیونکہ دلیل ‘ برہان ‘ اور عقیدے کو ہمیشہ غلبہ حاصل ہوتا ہے۔