Ayahs 5:106–108ربط آیات
پہلی آیت اللہ نے کثرت سوال سے منع فرمایا۔ پھر مشرکین کے عقائد باطلہ کا رد فرمایا کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ اور رسول کی طرف آئو تو وہ اپنے آبائو اجداد کے راستے کو ہی پسند کرتے ہیں ، اللہ نے راستے گمراہی سے تعبیر فرمایا ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو نصیحت فرمائی اور تسلی بھی دی کہ ایسی باتوں سے یقینا ایمان والوں کو تکلیف ہوتی ہے ظاہر ہے کہ شرکیہ اور جہالت والی باتوں کو سن کر ایمان والوں کا دل دکھتا ہے۔ اس ضمن میں اللہ نے تسلی دی کہ اگر تم ہدایت کے راستے پر قائم رہے تو کفار و مشرکین تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے ، پھر فرمایا جب دوسرے لوگ تمہاری دعوت کی طرف توجہ ہی نہ کریں تو پھر ان کے در پے ہونے کی بجائے اصلاح نفس کی طرف متوجہ ہو۔ ہدایت کے راستے کو لازم پکڑو اور اپنا فریضہ ادا کرتے رہو ، پھر فرمایا کہ سب نے اللہ کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ وہ ان سب کے اعمال نامے ان کے سامنے رکھ دے گا اور ان کے مطابق جزا اور سزا دیگا۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کی دینی اور اعتقادی مصلحت بیان فرمائی ہے کہ ہمیں ہدایت کے راستے پر صحیح طریقے سے قائم رہنا چاہئے اور بےدین اور غلط کار لوگوں کا طریقہ نہیں اپنانا چاہئے اور اب آج کی آیات میں دنیاوی مصلحت کا تذکرہ فرمایا ہے کہ اگر اس قسم کے حالات پیدا ہوجائیں تو ان احکام پر عمل پیرا ہو جائو گزشتہ آیات کے ساتھ یہی ربط ہے۔
شان نزول
ان آیات کی شان نزول میں مفسرین کرام یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کے زمانہ مبارک میں مکہ مدینے کے لوگ تجارت کے لئے شام کا سفر اختیار کرتے تھے۔ یہ بڑے بڑے تجارتی مراکز تھے درمیان میں ایک ہزار میل فاصلہ تھا مگر موجودہ زمانے کی طرح رسل و رسائل کی سہولت حاصل نہ تھی ، لوگ اونٹوں پر تجارتی مال لاد کر قافلوں کی شکل میں سفر کرتے تھے بعض اوقات سواری کے لئے گھوڑے اور بار برداری کے لئے خچر اور گدھے بھی اسعتمال ہوتے تھے کہتے ہیں کہ حضرت عمرو بن عاص کا آزاد کردہ غلام بدیل ابن ورقا سہمی جو کہ مسلمان تھے۔ تجارت کی غرض سے ملک شام گیا۔ راستے میں دو غیر مسلم بھی اس کے ہم سفر بن گئے جو اسی علاقہ کے باشندے تھے ، ان میں ایک آدمی تمیم داری تھا جو اس وقت عیسائی تھا۔ مگر بعد میں مسلمان ہوگیا اور دوسرا شخص عدی بن بو بھی عیاسئی یا مشرک تھا۔ جب شام میں پہنچے تو اتفاق ایسا ہوا کہ بدیل سہمی بیمار و گیا۔ جب اس میں زندگی کی امید باقی نہ رہی تو اس نے اپنا سامان باندھا اور سارے سامان کی فہرست بھی اسی سامان میں خفیہ طور پر رکھ دی ، پھر اپنا سامان اپنے غیر مسلم ساتھیوں کے سپرد کردیا کہ وہ اس کے وارثوں تک پہنچا دیں۔ مسلمان فوت ہوگیا اور اس کے ساتھی اس کا سامان لے کر واپس آگئے۔
اس سامان میں چاندی کا ایک قیمتی پیالہ بھی تھا جس پر سنہری کام کیا گیا تھا۔ ایسے ظروف بڑے حکام ، امراء یا بادشاہی ہی اسعتمال کرتے ہیں۔ کیونکہ اس پیالے کی قیمت ایک ہزار درہم سے کم نہ تھی۔ واپس پہنچ کر ان دونوں ساتھیوں نے پیالہ نکال کر بیچ لیا اور اس کی رقم باہم تقسیم کرلی اور باقی سامان متوفی کے وارثوں تک پہنچا دیا جب انہوں نے سامان کھولا تو اس میں سے سامان کی فہرست بھی برآمد ہوئی۔ پھر جب انہوں نے فہرست کے ساتھ سامان کا موازنہ کیا تو وہ قیمتی پیالہ نہ پایا۔ ان دو آدمیوں سے دریافت کیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ متوفی کے ورثا کی تسلی نہ ہوئی۔ چناچہ معاملہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کردیا گیا۔ سامان لانے والے دونوں آدمیوں کو طلب کیا گیا تو انہوں نے قسم اٹھا لی کہ ان کے پاس متوفی کا کوئی سامان نہیں ہے چناچہ انہیں چھوڑ دیا گیا۔
پیالہ مکہ کے ایک سنار کے پاس فروخت کیا گیا تھا وہ برآمد ہوگیا اور اس نے بتایا کہ یہ پیالہ اس نے تمیم اور عدی سے خریدا تھا اس پر وہی مقدمہ نظرثانی کے لئے دوبارہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ ملزمان کو دوبارہ طلب کیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ متنازعہ پیالا فلاں سنار سے ملا ہے جس کے پاس تم نے بیچا تھا تو ان دونوں نے اپنا بیان یوں بدل لیا کہ یہ پیالہ انہوں نے متوفی بدیل سے زر نقد کے عوض خرید لیا تھا پھر اپنی مرضی سے آگے فروخت کردی ، کہنے لگے چونکہ اس خریدو فروخت پر کوئی گواہ نہیں تھا اس لئے ہم نے پہلی مرتبہ اسے ظاہر کرنے سے احتراز کیا۔
معاملہ واضح ہوچکا تھا۔ بدیل کے ورثا کا شک یقین میں بدل گیا اور ان میں سے دو آدمیوں نے اٹھ کر قسم اٹھائی کہ یہ پیالہ متوفی نے ان کے پاس فروخت نہیں کیا تھ۔ یہ غلط بیانی کر رہے ۔ لہٰذا یہ پیالہ انہیں ملنا چاہئے۔ اس پر فیصلہ ورثاء کے حق میں ہوگیا۔ یہ آیات اسی واقعہ کے حق میں نازل ہوئیں اور اس طرح ایک شہادت کو رد کر کے دوسری شہادت کو قبول کرنے کا قانون بھی ثابت ہوگیا۔
وصی کا تقرر
ارشاد ہوتا ہے۔ یا یھا الذین امنوا اے ایمان والو ! شھادۃ بینکم اذا حضر احد کم الموت حین الوصیۃ اثنن ذواعدل منکم شہدت قائم کرو۔ جب تم میں سے کسی کو موت آجائے وصیت کے وقت تم میں سے دو عادل گواہ۔ آئو اخران من غیر کم یا دو دوسرے گواہ غیروں میں سے ان انتم ضربتم فی الارض جب کہ تم زمین میں سفر کرو فاصا بتکم مصیبۃ الموت اور تمہیں موت کی مصیبت آپہنچے۔ جیسا کہ شان نزول کے واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے ، اس آیت کریمہ کا مطلب یہ یہ کہ جب کوئی مسلمان سفر پر ہو اور اس کی موت کا وقت قریب آجائے تو اپنے میں سے دو عادل گواہ بنائے یعنی دو وصی مقرر کرے جن کے سامنے مرنے سے پہلے وصیت کرے تاکہ وہ گواہان اس کی وصیت کے متعلق متوفی کے وارثان کو مطلع کرسکیں۔
گواہوں کے تقرر کے متعلق ایک عام قانون سورة بقرہ میں گزر چکا ہے ، واستشھدوا اشھیدین من رجالکم “ کہ تم میں سے دو مرد گواہ ہونے چاہئیں۔ اور اگر دو مرد موجود نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہونی چاہئیں۔ مگر یہ چونکہ سفر کا معاملہ ہے ، یہاں پر قدرے آسانی پیدا کی گئی ہے کہ ذو اعدل منکم تم میں سے دو صاحب عدل ہوں۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ یہاں پر منکم سے مراد اقربا ہیں جو مسلمان ہوں اور غیرکم سے مراد غیر رشتہ دار ہیں ، ان کی دلیل یہ ہے کہ کسی مسلمان کے حق میں یا اس کے خلاف کسی غیر مسلم کی گواہی معتبر نہیں ہوتی۔ مگر امام ابوحنیفہ اور دیگر فقہاء فرماتے ہیں کہ سفر کے دوران مسلمان گواہوں کا ہونا لازمی نہیں ہے۔ اگر مسلمان گواہ موجود نہ ہوں تو ایسے مواقع پر غیر مسلموں کی شہادت اور حلفیہ بیان بھی قابل قبول ہے آپ کا استدلال یہ ہے کہ غیرک کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے ہم مذہب نہ ہوں تب بھی ان کی شہادت پر مقدمہ کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ جیسا کہ مذکورہ واقعہ میں ہوا ، دو گواہوں میں سے ایک عیسائی اور دوسرا مشرک تھا ، مگر ان کی شہادت پر حضور ﷺ نے مقدمہ کا فیصلہ صادر فرمایا ، بہرحال یہاں پر گواہ بنانے سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص مرنے سے قبل انہیں اپنا وصی بنائے جو اس کی وصیت کی گواہی دیں۔
وصی کی شہادت
فرمایا جب تمہیں سفر کے دوران موت کی مصیبت آپہنچے۔ ظاہر ہے کہ موت انسان کے حق میں اس دنیا میں سب سے آخری مصیبت ہے زندگی میں انسان کے حق میں اس دنیا میں سب سے آخری مصیبت ہے زندگی میں انسان کو کئی طرح کی مصیبتیں پیش آتی رہتی ہیں مگر موت ایک ایسی مصیبت ہے جس کے بعد اور کوئی مصیبت نہیں آتی۔ جیسے غالب نے کہا ہے ۔
” ہوچکے قصے تمام ایک مرگ ناگہانی اور ہے “
اس مصیبت سے کسی کو مضر نہیں ، یہ بہرصورت آ کر رہے گی ، تو ایسی صورت میں دو گواہ مقرر کرلو اور پھر تحبسو نھما من بعد الصلوۃ انہیں روک لو نماز کے بعد یہاں پر نماز سے مراد نماز عصر ہے جسے صلوۃ وسطی بھی کہا جاتا ہے یہ وقت سود و زیاں کا وقت ہوتا ہے اور تاجر لوگ اپنا حساب کتاب عموماً اسی وقت میں کیا کرتے ہیں۔ اسی وقت انہیں اپنے نفع نقصان کے متعلق علم ہوتا ہے ، اس لحاظ سے یہ بڑا نازک اور اہم وقت ہوتا ہے ، اس لئے ایسے وقت میں شہادت لینے کا حکم دیا گیا ہے۔ نماز عصر کی ویسے بھی بڑی تاکید آئی ہے ۔ حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کا ارشاد مبارک ہے من فاتہ صلوۃ العصر فکانما وتر اھلہ ومالہ جس کی عصر کی نماز ضائع ہوگئی اس کی مثال ایسی ہے جیسے کسی کا سارا مال اور اولاد تباہ ہوجائے اور وہ شخص دنیا میں تنہا رہ جائے ، نماز عصر کی فوتیدگی کا اتنا بڑا نقصان ہے۔
فرمایا نماز عصر کے بعد ان دو گواہوں کو روک لو فیقسمن باللہ پھر وہ اللہ کی قسم اٹھائیں ان ارتبتم اگر تمہیں شک ہو مقصد یہ کہ اگر گواہان کے بیان میں شک پڑجائے کہ یہ جھوٹ کہہ رہے ہیں تو نماز عصر کے بعد ان سے حلفیہ بیان لو کہ لاتستری بہ ثمنا کہ اس گواہی کے بدلے ہم کوئی مالی مفاد نہیں حاصل کرنا چاہتے۔ بلکہ ہم ٹھیک ٹھیک حقیقت حال واضح کرنا چاہتے ہیں ولرکان ذا قربی ۔ اگرچہ اس گواہی سے متعلق ہمارے اقربا ہی کیوں نہ ہوں ، ہم اپنے کسی رشتہ دار کا لحاظ کئے بغیر ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے ولانکتم شھادۃ اللہ اور ہم اللہ کی گواہی کو چھپائیں گے بھی نہیں۔ بعض اوقات جتنی گواہی دی جاتی ہے وہ بالکل ٹھیک ہوتی ہے مگر کسی اہم معاملہ کو چھپا لیا جاتا ہے جس سے مقدمہ پر غلط اثر مرتب ہو سکتا ہے ، لہٰذا گواہ یہ بھی حلفاً کہیں کہ وہ شہادت میں سے کسی بات کو نہیں چھپائیں گے اور مکمل گواہی دیں گے اور اگر ہم ایسا کریں گے تو انا اذ لمن الا ثمین ہم گنہگاروں میں ہوجائیں گے۔ مقصد یہ ہے کہ ایسے معاملات میں اس بناء پر شہادت لی جائے گی۔
متبادل شہادت
اب اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایسے معاملہ میں دوسری صورت بھی بیان فرمائی ہے فان عثر علی الھما استحقا اثماً اگر یہ ظاہر ہوجائے کہ مذکورہ گواہ گناہ کے مستحق ہوئے ہیں یعنی انہوں نے جھوٹی گواہی دی ہے جیسا کہ شان نزول کے واقعہ میں ہوا۔ متنازعہ پیالہ برآمد ہونے پر گواہان کی شادت جھوٹی ثابت ہوگئی۔ فرمایا اگر وارثان کو یقین ہو کہ گواہوں نے جھوٹی گواہی دی ہے فاخرن یقومن مقامھما تو ان کی جگہ پر دو دوسیر آدمی کھڑے ہوجائیں من الذین استحق علیھم الاولین اور وہ ایسے آدمی ہونے چاہئیں جن پر پہلے گواہوں نے گناہ کا استحقاق حاصل کیا ہے۔ یعنی متوفی کے وارثان سے دو آدمی پہلی شہادت کے مقابل دوسری شہادت پیش کریں فیقسمین باللہ وہ بھی اللہ کی قسم اٹھا کر کہیں لشھادتنا احق من شھادتھما کہ ہماری شہادت پہلوں کی شہادت سے زیادہ مبنی برتحقیق ہے وما اعتدینا اور ہم نے کوئی زیادتی نہیں کی۔ ہمارا مقصد کسی کو نقصان پہنچانا نہیں اور اگر ہم کسی شخص کی حق تلفی کریں گے انا اذا لمن الظلمین تو ہم ظالموں میں سے ہوجائیں گے۔ گویا دوسرے گواہ بھی اپنی گواہی کا اسی طرح یقین دلائیں جس طرح پہلے گواہوں نے دلایا تھا۔
متبادل گواہی کی حکمت
متبادل شہادت کے متعلق فرمایا ذلک ادنی ان یا توا بالشھادۃ علی وجھما یہ اس بات کے زیادہ قریب ہے کہ گواہ ٹھیک ٹھیک گواہی دیں۔ او خافوآ ان ترد ایمان بعد ایمانھم یا پھر انہیں خوف ہوگا کہ ان کی قسمیں دوسرے آدمیوں کی قسموں کے بعد رد کردی جائیں گی۔ یعنی وہ اس خوف سے غلط بیانی نہیں کرسکیں گے کہ ان کی گواہی بھی غلط ثابت ہو سکتی ہے اور اس کی بجائے متبادل شہادت پر فیصلہ ہو سکتا ہے۔ اس طرح انہیں لوگوں کے سامنے رسوا ہونا پڑے گا اور سوسائٹی میں ان کا وقار گر جائے گا۔
قانون پر عملدرآمد
ٓخر میں خلاصہ کلام یہ ہے واتقوا اللہ واسمعوا اللہ سے ڈرتے رہو اور قانون خداوندی اور ارشادات نبوی کو سنو ، ان باتوں کو سمجھو اور پھر ان پر عمل پیرا ہو جائو۔ اگر اس کے خلاف کرو گے تو فسق میں مبتلا ہو جاو گے اور اگر انکار کرو گے تو کفر میں قدم رکھو گے اللہ نے یہ بات صاف صاف بتلا دی کہ کفر ، فسق یا نفاق سے بچ جائو اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی پیروی کرو اور جو شخص فسق پر اصرار کرتا ہے واللہ لایھدی القوم الفسقین اللہ تعالیٰ فسق کرنے والوں کو ہدایت نہیں دیتا ، ہدایت کے لئے شرط یہ ہے کہ انسان حق کی طرف رجوع کرے اور اس کا طلبگار بنے پہلے سے اختیار کرو “ فسق و فجور کو ترک کر دے اور صحیح بات حاصل کر نیکی تڑپ پیدا کرے۔ ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ ہدایت کا راستہ واضح کردیتا ہے اور فسق کرنیوالوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔
Ayah 5:109ربط آیات
گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے وصیت کے متعلق احکام صادر فرمائے اور اس سے پہلے اہل کتاب اور مشرکین کی خود ساختہ نیازوں کا رد تھا۔ قسم کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے ارشادات اور احرام کی حالت میں شکار کی ممانعت کا بیان بھی ہوچکا ہے۔ اب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اور محاسبے کے عمل کے متعلق ارشاد فرما رہا ہے۔ اس ضمن میں یہ پہلا رکوع تمہیدی ہے اور اگلے رکوع میں اس بات چیت کا ذکر ہے جو قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اور عیسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان ہوگی۔ یہاں پر مسیح (علیہ السلام) کا خاص طور پر اس لئے ذکر ہے کہ دنیا میں لوگ آپ کو الہ تسلیم کرتے تھے۔ بہرحال یہاں پر اللہ تعالیٰ نے رسولوں کا اجمالی طور پر ذکر فرمایا ہے ، قیامت کے محاسبے سے خبردار کیا ہے اور اس دن کی کیفیت کو ظاہر کیا ہے۔
تمام انبیاء سے سوال
ارشاد ہوتا ہے یوم یجمع اللہ الرسل اس دن کو تصور میں لائو جس دن اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو اکٹھا کرے گا اور محاسبہ ہوگا رسل رسول کی جمع ہے اور مطلب یہ ہے کہ اللہ نے جتنے بھی نبی اور رسول انسانوں کی راہنمائی کے لئے اپنا حکم اور شریعت دے کر مبعوث فرمائے ، سب کو جمع فرما کر محاسبے کا عمل شروع کریگا فیقول ماذا اجبتم اور کہے گا تم کو کیا جواب دیا گیا ، یعنی جس قوم کی طرف تمہیں مبعوث کیا گیا تھا اور جس کو تم نے دین کی دعوت دی تھی ، اس قوم نے اس دعوت کا کیا جواب دیا۔ قالولا علم لنا رسول جواب دیں گے ہمیں کچھ علم نہیں انک انت علام الغیوب تمام پوشیدہ باتوں کو جاننے والا تو ہی ہے۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کے دریافت کرنے پر انبیاء کا مطلق لاعلمی کا اظہار قابل توجہ ہے ، کیونکہ دور سے مقام پر قرآن پاک میں موجود ہے کہ اللہ تعالیٰ ہراست میں سے رسول کو اٹھائے گا اور وہ اپنی اپنی امت کے حق میں گواہی بھی دینگے مگر یہاں پر کسی چیز کے علم سے مطلقاً انکار کردیا گیا ہے۔ اس کی توجیہہ میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ میدان محشر کی کارروائی بڑی وسیع ہوگی اور اس کی مختلف کیفیتیں ہوں گی ، وہاں پر ایک وقت ایسا بھی ہوگا جب ہر طرف دہشت طاری ہوگی اور جیسا کہ مسلم شریف کی روایت میں موجود ہے دعویٰ الرسل یومئذ نفسی نفسی رب مسلم اس وقت تما م انبیاء بھی نفسی نفسی پکار رہے ہوں گا اور کہیں گے۔
اے پروردگار ! آج بچا لے۔ اس آیت میں جس لاعلمی کا ذکر کیا گیا ہے وہ ایسے ہی موقع کی بات ہے کہ کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا۔ ہر شخص خوف میں مبتلا ہوگا حتی کہ جب انبیاء سے اللہ تعالیٰ ان کی امتوں کے متعلق سوال کریں گے تو وہ لاعلمی کا اظہار کردیں گے۔ پھر جب سکون ہوجائے گا۔ تو انبیا (علیہم السلام) اللہ تعالیٰ کے سوالات کا جواب بھی دیں گے اور اپنی اپنی امت کے حق میں گواہی بھی دیں گے اور عرض معروض بھی کریں گے۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس اظہار لاعلمی کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مولا کریم ! تیرے علم کے مقابلے میں ہمارا علم تو محدود ہے اور نہ ہونے کے برابر ہے۔ تمام پوشیدہ باتوں کو تو ہی جاننے والا ہے۔ اسی بنا پر وہ کہیں گے کہ لاعلم لنا ہمیں کچھ علم نہیں یعنی بہت ہی قلیل علم ہے ، گویا اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جلال کے سامنے اپنے علم کو نفی پر محمول کریں گے اور اس لاعلمی کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ہم جب تک دنیا میں رہے ہمارا علم تو ظاہری چیزوں تک ہی محدود تھا پوشیدہ باتوں تک تو ہماری علمی رسائی نہیں تھی۔ ہم نہیں جانتے تھے کہ کس شخص کے دل میں صحیح ایمان اور سچی تصدیق موجود ہے اور کون شخص حقیقی ایمان سے محروم ہے۔
علم غیب خاصہ خداوندی ہے
علم غیب خاصہ خداوندی ہے اور یہ مخلوق میں سے کسی دوسری ہستی کو حاصل نہیں۔ حتی کہ انبیاء (علیہم السلام) بھی ہر چیز کو نہیں جانتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ الہام کشف یا وحی کے ذریعے ظاہر نہ کر دے۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کی خدمت میں ایک مقدمہ پیش ہوا آپ نے فرمایا عالم الغیب اللہ تعالیٰ کی ذات ہے انما انا بشر
1 ؎ مسلم ص 101 ج 1 (فیاض)
میں ایک انسان ہوں اور انسان عالم الغیب نہیں ہوا کرتے میں تو فریقین کے ظاہری بیانات اور گواہان کی شہادت پر فیصلہ کرتا ہوں ہو سکتا ہے کہ کوئی آدمی چرب زبان ہو اور اپنے معاملے کو اچھے طریقے سے پیش کرسکتا ہو جب کہ دوسرا آدمی اپنا موقف بہتر طور پر پیش نہ کرسکے ، ظاہری حالات کے مطابق اگر میرا فیصلہ غیر مستحق آدمی کے حق میں ہوجائے تو فرمایا اس شخص کو وہ چیز نہیں لینی چاہئے اگر ایسا کریگا تو وہ چیز اس کے حق میں جہنم کا ٹکڑا ہوگی۔
احادیث میں یہ بھی آتا ہے کہ قیامت کے دن کچھ لوگ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوں گے ، آپ ان کی نشانیوں سے سمجھیں گے کہ آپ کی امت کے لوگ ہیں مگر فرشتے ان کو ہانک کر دور لے جائیں گے۔ آپ فرمائیں گے کہ فرشتو ! یہ تو میرے ساتھی معلوم ہوتے ہیں ، تو فرشتے جواب دیں گے انک لا تدری ما احدثوا بعدک حضور ! بیشک آپ نہیں جانتے کہ ان لوگوں نے آپ کے بعد کون کونسی نئی باتیں دین میں نکال لی تھیں۔ انہوں نے بدعات ایجاد کیں اور نئے نئے شوشے چھوڑے۔ اس پر نبی (علیہ السلام) فرمائیں گے سحق سحقا لمن غیر بعدی ان کو دور لے جائو جنہوں نے میرے بعد دین کو تبدیل کردیا گویا جب تک آپ دنیا میں تشریف فرما ہے معلوم تھا کہ یہ لوگ کیا کرتے تھے مگر بعد میں ان لوگوں نے دین کے چشمہ کو صاف نہیں رہنے دیا۔
اگلے رکوع میں مسیح (علیہ السلام) کے متعلق بھی آ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کو سوال کریں گے اے عیسیٰ ابن مریم کیا تم نے لوگوں کو کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو ، تو عیسیٰ (علیہ السلام) یہی جواب دیں گے۔ مولا کریم ! مجھے ایسی ناحق بات کرنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا ، اگر میں نے کوئی ایسی بات کی ہے تو تو اسے جانتا ہے کیونکہ تو علام الغیوب ہے۔ میں تو اپنی زندگی میں انہیں تیری توحید کی طرف ہی دعوت دیتا رہا ہوں۔ ” فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیھم “ جب تو نے مجھے اٹھا لیا تو پھر تو ہی ان کا نگران تھا ، مجھے کیا علم کہ انہوں نے میرے بعد کیا کیا۔
بہرحال جب اللہ تعالیٰ تمام ابنیاء سے دریافت کریں گے کہ تمہاری امتوں نے میری دعوت کا کیا جواب دیا تو سب متفقہ طور پر اپنی عاجزی کا اظہار کریں گے اور اپنے محدود علم کے پیش نظر عرض کریں گے کہ مولا کریم ! تمام مخفی چیزوں کا علم تیرے پاس ہے۔ تیرے سوا کوئی غیب دان نہیں۔ یہ تو ہی جانتا ہے کہ ہماری امتوں کے لوگوں نے ہمارے بعد کیا کیا گل کھلائے یہ تو ہی جانتا ہے کہ ان لوگوں کے دلوں میں ایمان کس حد تک راسخ تھا ان میں سے کون صحیح معنوں میں ایماندار تھا اور کون منافق تھا۔ غرضیکہ علم غیب کے خاصہ خداوندی ہنے کی تصریح قرآن پاک میں تین سو سے زیادہ آیات میں موجود ہے۔ جو شخص علم غیب کی صفت کسی مخلوق میں مانے گا وہ مشرک ہوجائے گا۔
ہر شخص کا محاسبہ
انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ سوال و جواب کا تذکرہ کر کے اللہ تعالیٰ نے تمام امتوں کو بھی بات سمجھائی ہے کہ ہر شخص کا فر داً فرداً محاسبہ ہونے والا ہے سورة اعراف میں موجود ہے ” فلنسئلن الذین ارسل الیھم ولنسئلن الرسلین “ ہم ان لوگوں سے بھی باز پرس کریں گے جن کی طرف رسول بھیجے گئے اور خود رسولوں سے پوچھ گچھ ہوگی بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ وہ وقت آ رہا ہے جب اللہ تعالیٰ ہر شخص سے براہ راست سوال کریگا اور درمیان میں کوئی ترجمان نہیں ہوگا۔ سورة نحل میں ہے ” یوم تاتی کل نفس تجادل عن نفسھا “ ہر شخص خود آ کر اپنے معاملات کا جواب دیگا۔ وہاں کوئی وکیل پیش ہو کر جواب دعویٰ داخل نہیں کرے گا ، بلکہ ہر بات کا خود ہی جواب دینا ہوگا۔ صحیح حدیث میں یہ بھی آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ کسی انسان کا قدم نہیں ہلنے پائے گا جب تک کہ چند باتوں کے متعلق اس سے پوچھ گچھ نہ کرلی جائے گی انسان سے اس کے وجود کے متعلق سوال ہوگا کہ تجھے وجود جیسی نعمت دے کر دنیا میں بھیجا گیا تھا تو نے اس کا کیا کیا۔ پھر عمر جیسی قیمتی نعمت کے متعلق پوچھا جائے گا ، خاص طور پر جوانی کی عمر کے متعلق سوال ہوگا کہ اسے کہاں خرچ کیا۔ شباب کا زمانہ بڑا قیمتی زمانہ ہوتا ہے۔ بچپن اور بڑھاپا تو ناقص ہوتے ہیں مگر جوانی کے دوران انسان سب کچھ کرسکتا ہے زندگی کا لطف بھی اسی دور میں حاصل ہوتا ہے۔ اسی لئے روایت میں آتا ہے کہ جنتی لوگ ہمیشہ شباب کی حالت میں رہیں گے کیونکہ یہ بہترین زمانہ ہوتا ہے ، تو شباب کے متعلق پوچھا جائے گا کہ اسے کہاں بوسیدہ کیا۔ اسی طرح مال کے متعلق بھی سوال ہوگا کہ دنیا میں تو نے اسے کہاں سے حاصل کیا تھا اور کہاں خرچ کیا تھا۔ ان سب باتوں کے متعلق فرداً فرداً اور براہ راست سوالات ہوں گے۔
مسیح (علیہ السلام) کی بشریت
اب اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا تذکرہ کیا ہے۔ جو اس نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر کئے۔ چونکہ دنیا میں بہت سے لوگ عیسیٰ (علیہ السلام) کی الوہیت کے قائل ہیں اس لئے انہیں یہ بتلانا مقصود ہے کہ مسیح (علیہ السلام) بھی اللہ کے عاجز بندے ہیں۔ انہیں بھی اللہ تعالیٰ کے انعامات کی ضرورت ہے اور وہ خودالہ نہیں ہے ارشاد ہوتا ہے۔ اذ قال اللہ یعیسی ابن مریم جب اللہ تعالیٰ مسیح (علیہ السلام) سے خطاب کریں گے اے عیسیٰ مریم کے فرزند ! یعنی اللہ تعالیٰ آپ کو ابن مریم کو کہہ پکاریں گے اور آگے انہی آیات میں جہاں آپ کے حواریوں نے مائدہ کے نزول کی درخواست کی تو وہاں بھی انہوں نے آپ کو مریم کے فرزند ہی کہہ کر پکارا مریم عورت ہے ، پہلے اسی سورة میں گزر چکا ہے ۔ ” وامہ صدیقۃ آپ کی والدہ بڑی راست ساز خاتون تھیں۔ سورة آل عمران میں گذر چکا ہے۔ ” واصطفک علی نسآء العلمین “ یعنی فرشتوں نے حضرت مریم سے کہا کہ اللہ نے تمہیں جہاں بھر کی عورتوں میں منتخب کیا ہے اور تمہیں فضیلت بخشی مقصد یہ کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ابن اللہ نہیں بلکہ ابن مریم میں مگر عیسائیوں نے کس قدر ظلم کیا ہے جو عیسیٰ (علیہ السلام) کو الوہیت کے درجے تک پہنچا دیا ہے۔ زیادتی کی حد یہ ہے کہ عیسائیوں نے اپنی لغات میں عیسیٰ کا معنی ابن اللہ کیا ہے۔ حالانکہ ایسا کہنا خالصاً شرکیہ بات ہے۔ عیسیٰ (علیہ السلام) ایک خاتون کے بطن سے پیدا ہوئے۔ آپ حوائج البصری رکھتے تھے ، کھاتے پیتے تھے ، موت اور زندگی آپ کے ساتھ ساتھ ہے مگر اس کے باوجود لوگوں نے آپ کو انسانیت کی صف سے نکال کر الوہیت کی مسند پر بٹھا دیا۔ امام بخاری نے لکھا ہے کہ قیامت کے دن تمام لوگوں کو ان کے باپ کی نسبت سے پکارا جائے گا۔ صرف مسیح (علیہ السلام) کو ماں کی نسبت سے پکارا جائے گا مسیح ابن مریم اور پھر سب کے اعمال نامے ان کے سامنے رکھ کر محاسبے کا عمل شروع ہوگا۔ ویسے عام قانون بھی یہی ہے ادعوھم لا بآء ھم تاکہ لوگوں کو باپوں کی نسبت سے پکارو ، فلاں ابن فلاں۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو مسیح ابن مریم کہہ کر ان کی الوہیت کی نفی فرما دی ہے۔
انعامات الٰہی
فرمایا اے عیسیٰ ابن مریم اذکرو نعمتی علیک وعلی والد تک میری ان نعمتوں کو یاد کرو جو میں نے تم پر اور تمہاری والدہ پر کیں۔ یہ بھی فرمایا ان ھو عبد انعمنا علیہ مسیح (علیہ السلام) خدا کے بندے اور رسول ہیں ان پر ہم نے اپنے احسانات کئے۔ سب سے بڑا احسان یہ ہے کہ ان کو اپنا منتخب بندہ یعنی رسول بنایا۔ معجزانہ طور پر بغیر باپ کے پیدا کرنا بھی اللہ کا احسان ہے۔ آپ کو بچپن میں ہی نبوت عطا کی گئی ، دیگر معجزات دیئے گئے اور پھر سب سے آخر میں دشمنان جان کے ہاتھوں سے محفوظ رکھا گیا ۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کے انعام اور احسانات ہیں۔
فرمایا تیری والدہ پر یہ احسان کیا کہ اسے برگزیدہ بنایا اور بغیر خاوند کے بچہ عطا کیا۔ لوگوں کی تذلیل و توہین سے محفوظ رکھا ، اس کی عزت اور عصمت کو وحی کے ذریعے کتابوں میں نازل فرمایا۔ تیری والدہ پر یہ بھی احسان کیا کہ اس کی پرورش غیر معمولی طریقے سے ہوئی۔ بےموسم پھل اور خوردو نوش کی دیگر چیزیں غیر معمولی طریقے سے مہیا کیں ، یہ سب کچھ قرآن پاک میں موجود ہے۔
آگے عیسیٰ (علیہ السلام) پر کئے گئے احسانتا کی مزید تفصیل بیان فرمائی۔ اذایذتک بروح القدس جب میں نے تیری تائید پاک روح کے ساتھ کی۔ روح القدس کا عام معنی جبرائیل (علیہ السلام) کیا جاتا ہے۔ اللہ نے اسے تائید کے لئے مقرر کیا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کی پیدائش کے لئے بھی جبرئایل ہی نے حضرت مریم کے گریبان میں پھونک ماری تھی۔ بشیا سویاً جبرائیل ہی بن کر آئے تھے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو ہر موقع پر جبرائیل (علیہ السلام) کی تائید حاصل رہی۔ البتہ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی روح القدس کی تائید سے مراد ملاء اعلیٰ کی مسلسل توجہ اور دعا لیتے ہیں۔ ملاء اعلیٰ کے فرئاض میں سے یہ بھی ہے کہ وہ بعض اچھی چیزوں کی اچھائی پر اتفاق کرتے ہیں اور اچھے کام انجام دینے والوں کے حق میں دعائیں کرتے ہیں۔ اسی طرح برے کاموں کو بھی اپنے پیش نظر رکھتے ہیں اور ان کے مرتکبین کے لئے بد دعا کرتے ہیں تو شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ملا د اعلیٰ کی دعا یا بدعا کو روح القدس کی تائید سے تعبیر کیا گیا ہے۔
بچپن اور ادھیڑ عمر میں کلام
فرمایا۔ اے مسیح (علیہ السلام) تکلم الناس فی المھد وکھلا آپ لوگوں سے کالم کرتے تھے۔ گہوارے میں اور ادھیڑ عمر میں۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے بچپن کے کلام کا ذکر تو سورة مریم میں موجود ہے۔ قال انی عبداللہ اتنی الکتب وجعلین نبیاً آپ نے پیدائش کے پہلے دن ہی اعلان کردیا کہ میں اللہ کا بندہ ہوں ، مجھے کتاب دی گئی ہے اور نبی بنایا گیا ہے۔ یہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا پہلا معجزہ تھا جو ان کے ہاتھ پر ظاہر ہوا ۔ وگرنہ چند گھنٹے عمر کا بچہ کیسے کلام کرسکتا ہے۔ تاہم معجزانہ طور پر کلام کرنے والے دنیا میں چند اور بچے بھی ہوئے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے بچپن میں قوت گویائی عطا فرمائی۔ مسیح (علیہ السلام) بھی انہیں میں شامل ہیں۔
ادھیڑ عمر میں کلام کرنے سے متعلق اشکال پیدا ہوتا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) تو ابھی ادھیڑ عمر کو پہنچے بھی نہیں تھے کہ عین شباب کے عالم میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو آسمان پر اٹھا لیا۔ بعض فرماتے ہیں کہ ادھیڑ عمر تیس سال بعد شروع ہوجاتی ہے جب کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کا رفع الی السماء 33 سال کی عمر میں ہوا۔ لہٰذا ادھیڑ عمر کا کلام بھی ثابت ہوتا ہے۔ بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ادھیڑ عمر چالیس سال کے بعد شروع ہوتی ہے اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو اس عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی اٹھا لیا گیا۔ لہٰذا ادھیڑ عمر میں ان کا کلام ثابت نہیں ہوتا ، البتہ یہ آپ کے دوبارہ نزول کی طرف اشارہ ہے کہ جب آپ دوبارہ زمین پر آئیں گے تو نکاح بھی کریں گے ، بچے بھی ہوں گے اور اس دوران آپ ادھیڑ عمر کو بھی پہنچیں گے اور اس عمر میں آپ کا کلام دوبارہ نزول کے بعد ہوگا۔ بہرحال مفسرین فرماتے ہیں کہ جس طرح آپ ادھیڑ عمر میں نبوت و رسالت کا کلام کرتے تھے اسی طرح اللہ نے گہوارے میں بھی اعلان نبوت فرما دیا۔ لہٰذا یہاں پر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں زمانوں کا اکٹھا ذکر کیا ہے۔
کتاب و حکمت کی تعلیم
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، اے عیسیٰ (علیہ السلام) میرا یہ انعام بھی یاد کرو۔ واذ علمتک الکتب والحکمۃ جب میں نے تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دی مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ کتاب سے مراد لکھنا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے بغیر استاد کے عیسیٰ (علیہ السلام) کو تحریر کرنا سکھایا اور بعض فرماتے ہیں کہ کتاب سے مراد تمام کتب سماویہ ہیں جن کا علم اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کردیا اور ان کتابوں میں قرآن پاک بھی آتا ہے۔ جب عیسیٰ (علیہ السلام) کا نزول ہوگا تو وہ قرآن کی تعلیم کسی استاذ سے حاصل نہیں کریں گے بلکہ اللہ تعالیٰ خود انہیں سکھا دے گا اور حکمت سے مراد حضور ﷺ کی سنت ہے۔ دوبارہ نزول پر عیسیٰ (علیہ السلام) حضور نبی کریم ﷺ کے نائب کی حیثیت سے آپ کی سنت اور قرآن پاک کے مطابق فیصلے کریں گے اور قرآن کے علاوہ سنت کا علم بھی اللہ تعالیٰ براہ راست عیسیٰ (علیہ السلام) کو سکھائیں گے بہرحال بعض مفسرین کی رائے یہ ہے کہ کتاب سے مراد مطلقاً لکھنا ہے اور حکمت سے مراد دانشمندی کی باتیں ہیں۔ ان دونوں چیزوں کا ذکر اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) پر احسان کے طور پر کیا ہے۔
فرمایا تمہیں کتاب و حکمت کی تعلیم دی والتورئۃ والا نجیل اور تورات اور انجیل کی تعلیم بھی دی۔ تورات تو عیسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی ۔ تاہم آپ کا فرمان ہے کہ میں تورات کے بعض احکام منسوخ کرتا ہوں اور تورات کی بعض حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دیتا ہوں۔ مقصد یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تورات کا مکمل علم عطا فرمایا تھا۔ جہاں تک انجیل کا تعلق ہے ، وہ تو خود حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی۔ اس کی اصل زبان آراہی سریانی یا عبرانی تھی مگر اب وہ اصل انجیل موجود نہیں ، البتہ اس کے تراجم دنیا کی ہر زبان میں دستیاب ہیں۔ انجیل میں تغیر و تبدیل کا اندازہ اس حقیقت سے ہوتا ہے کہ اللہ کی نازل کردہ ایک کاتب کو ایک سو بیس انجیلوں میں تقسیم کردیا گیا ہے۔ اب بھی پانچ مشہور انجیلیں تو دنیا میں موجود ہیں۔ اگرچہ ان میں اصل انجیل کے کچھ احکام بھی موجود ہیں تاہم اس کا اکثر حصہ تحریف و تغیر کا شکار ہوچکا ہے۔
انجیل معنی بشارت
تورات کا معنی قانون ہے جب کہ انجیل کا معنی بشارت ہے۔ اسی طرح زبور کا معنی صحیفہ اور قرآن کا معنی پڑھی جانے والی کتاب ہے انجیل اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) پر نازل فرمائی اور اس کا نام بشارت اس لحاظ سے ہے کہ آپ کے فرائض میں داخل تھا کہ آپ بنی اسرائیل کو دین اور شریعت کی تعلیم دیں۔ نیز جاں بھی جائیں نبی آخر الزمان (علیہ السلام) کی بشارت لوگوں کو سنائیں ، چناچہ سورة صف میں آپ کا اعلان موجود ہے ” ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد “ میں اپنے بعد آنے والے عظیم ال شان رسول کی بشارت دینے والا ہوں جس کا نام احمد ہوگا۔ انجیل میں اسے فار قلیط کے لفظ سے تعبیر کیا گیا اور سریانی زبان میں اس کا معنی ستو وہ جاں ہے جو کہ احمد کا ہم معنی لفظ ہے۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ سینٹ پال کی اولاد عیسائیوں نے انجیل سے فار قلیط کا لفظ بھی تبدیل کردیا تاکہ آخری رسول اور آخری امت کے متعلق انجیل میں موجود پیش گوئیوں کو چھپایا جاسکے۔
بہرحال اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) پر کئے گئے بعض احسانات کا تذکرہ کیا ہے۔ آگے آپ کے بعض معجزات کا تذکرہ آ رہا ہے ، وہ بھی اللہ کا انعام ہے۔ اس کے بعد اگلے رکوع میں عیسیٰ (علیہ السلام) سے سوال و جواب کا ذکر آئیگا۔
Ayahs 5:110–111ربطہ آیات
اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا ہے ، اسے ایک مدت تک دنیا میں بھیج کر اپنے احکام کی تعمیل کا حکم دیا ہے۔ اب یہ ایک فطری امر ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان سے ان اعمال کی باز پرس بھی کرے جو وہ دنیا میں انجام دیتا رہا۔ یہی محاسبہ ہے جو اللہ جل جلالہ قیامت کے دن ہر شخص کے بارے میں کریں گے ، جس طرح کسی انسان کا اس دنیا میں آنا ایک قطعی امر ہے۔ اسی طرح اس کا محاسبہ بھی لازمی ہے۔ چناچہ گزشتہ درس میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام رسولوں کو جمع فرمائے گا پھر ان سے پوچھا جائے گا کہ جس قوم کی طرف تمہیں مبعوث کیا گیا ، انہوں نے تمہاری دعوت کا کیا جواب دیا۔ رسولوں کے اس اجمالی ذکر کے بعد اللہ تعالیٰ نے بطور مثال حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر فرمایا ہے اور سورة کے آخر تک یہی مضمون چلے گا۔ مسیح (علیہ السلام) سے امت کے متعلق خصوصی سوال ہوگا مگر اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے مسیح (علیہ السلام) کو اپنے انعامات یاد دلائے ہیں کہ اے ابن مریم ! میں نے تم پر کتنے بڑے بڑے انعامات کئے اور تمہاری والدہ پر۔ جس ک جبرائی اور ملاء اعلیٰ کی تائید حاصل ہوجائے کس قدر مرتبے والا شخص ہو سکتا ہے۔ آپ کا گہوارے اور ادھیڑ عمر میں یکساں پیغمبرانہ کلام کرنا بھی غیر معمولی انعام تھا۔ پھر تحریر کا علم ، کتاب و حکمت کی تعلیم ، قرآن و سنت کا علم خود بخود دے دینا کتنا بڑا انعام ہے۔ ان سب کا ذکر گزشتہ درس میں ہوچکا ہے۔
معجزات انبیاء
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے مسیح (علیہ السلام) کو عطا کئے گئے بعض نمایاں معجزات کا ذکر کیا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا خاص انعام ہے۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی اور رسول کو کوئی نہ کوئی معجزہ عطا کیا ہے۔ معجزہ سے مراد خلاف عادت ایسا فعل ہے جو بنی نوع انسان کو عاجز کر دے ۔ چونکہ معجزہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے۔ اس لئے کوئی حکیم ، فلاسفر ، سائنس دان یا ساحر اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے جو خصوصی معجزہ عطا فرمایا ہے وہ قرآن کریم ہے۔ اس لئے مجھے امید ہے کہ قیامت والے دن میرے پیرو کار سب سے زیادہ ہوں گے آپ نے یہ بھی فرمایا کہ باقی انبیاء کے معجزات عارضی ہیں۔ معجزہ ظاہر ہوا دیکھنے والے لوگوں نے دیکھ لیا اور سا کے بعد ختم ہوگیا۔ مگر میرا معجزہ قرآن پاک دائمی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ خاص نشانی مجھے وحی کے ذریعے عطا فرمائی ہے۔ مفسر قرآن امام بیضاوی اور دوسرے محققین فرماتے ہیں کہ کسی نبی کے لئے معجزہ نبوت کی علت نہیں ہوتا بلکہ یہ نبوت کی محض ایک علامت ہوتی ہے لہٰذا ضروری نہیں کہ ہر نبی لازماً معجزہ پیش کرے۔ بہرحال انبیاء کے معجزات اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی عزت افزائی ہوتی ہے۔ بلکہ رومی صاحب تو فرماتے ہیں۔ روئے و آواز پیغمبر معجزاست ، یعنی پیغمبر (علیہ السلام) کی آواز اور اس کا رخ مبارک بھی معجزہ ہوتا ہے۔ صداقت شعار لوگ پیغمبر کا چہرہ مبارک دیکھ کر ہی ایمان قبول کرلیتے ہیں ۔ چناچہ حضرت عبداللہ بن سلام کے متعلق آتا ہے کہ حضور ﷺ کا چہرہ انور دیکھا تو کہنے لگے واللہ ماھذا الوجہ بوجہ کذاب بخدا یہ چہرہ کسی جھوٹے انسان کا چہرہ نہیں ہو سکتا ۔ آپ نے پہلی ہی مجلس میں ایمان قبول کرلیا۔
تکمیل و تہذیب نفس
جیسا کہ عرض کیا معجزات پیش کرنا انبیاء کے فرائض منصبی میں شامل نہیں البتہ جو چیز ان کے ذمے ہے وہ نفوس انسانیہ کی تکمیل و تہذیب ہے قرآن پاک نے اس کو ” یرکیھم “ سے تعبیر فرمایا ہے۔ یعنی لوگوں کا تزکیہ کرتا ہے اور اس کی تکمیل اس وقت ہوتی ہے جب انسان سے تمام رذیل خصائل گندے اخلاق اور برے عقیدے نکل جائیں اور ان کی جگہ پاکیزہ اخلاق و عقائد پیدا ہوجائیں۔ جب یہ چیز پیدا ہوجائے تو انسان مہذب بن جاتا ہے آج کل کی اصلاح میں تو مہذب (Cultured) وہ آدمی ہوتا ہے جو بالکل نئی وضع قطع اور انگریزی تہذیب کا دلددہ ہو ، مگر اسلام کی نظر میں مہذب وہ شخص ہے جس کے قلب و ذہن کا تذکیہ ہوجائے بہرحال نبوت کا موضوع (Subject) نفوس انسانیہ کی تکمیل و تہذیب ہے۔
معجزہ کیا ہے
معجزے کا ظہور بنی کا ذاتی فعل نہیں ہوتا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا فعل ہوتا ہے امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ اکثر لوگ اس مقام پر آ کر گمراہ ہوجاتے ہیں۔ وہ معجزہ کرامت کو نبی یا ولی کا ذاتی فعل سمجھ بیٹھتے ہیں حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ سورة مومن میں موجود ہے ” وما کان لرسول ان یاتی بایۃ الا باذن اللہ کسی نبی یا رسول کے اختیار میں نہیں کہ وہ کوئی نشانی یا معجزہ پیش کرسکے جب تک کہ اللہ کا حکم نہ ہو۔ اسی طرح کسی مومن کے ہاتھ پر خرق عادت چیز کا ظہور اس مومن کے لئے اعزاز ہوتا ہے اور اسے کرامت کہتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ نے اپنی کتاب فقہ اکبر میں اس عقیدے کا اظہار کیا ہے کہ انبیاء کے معجزات اور اولیاء اللہ کی کرامات برحق ہیں ، جو ان کو صحیح نہیں مانتا ، وہ اہل سنت کی جماعت سے خاج ہے۔ میرے بڑے فلاسفر معنزلہ نیچری ، سرسید ، بروزی چکرالوی وغیرہ اسی لکھتے پر آ کر گمراہ ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ عقل کے خلاف ہے ۔ ہر چیز کو عقل کی کسوٹی پر پرکھنا ہی ان کی بےعقلی کی دلیل ہے۔
بعض اوقات اللہ تعالیٰ آزمائش کے طور پر کسی خرق عادت چیز کو کسی کافر کے ہاتھ پر بھی ظاہر فرما دیتا ہے ، یہ معجزہ یا کرامت نہیں ، بلکہ استدراج ہوتا ہے۔ یہ خدا کی عطا کردہ مہلت ہوتی ہے۔ جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ آزمائش میں مبتلا کردیتا ہے۔ جیسے دجال کے ہاتھ پر بہت سے کرشمے ظاہر ہوں گے۔ بہرحال معجزہ یا کرامت کے لئے ایمان کا ہونا شرط ہے اور پھر یہ کہ معجزہ یا کرامت نبی یا ولی کا ذاتی فعل نہیں ہوتا۔ اسے ذاتی فعل سمجھ کر ہی لوگ انہیں حاجت روا اور مشکل کشا سمجھنے لگتے ہیں اور پھر شرک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔
خالق صرف خدا ہے
ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر ظاہر ہونے والے بعض معجزات کا ذکر فرمایا ہے ارشاد ہوتا ہے وا ذلخلق اور جب تم بناتے تھے خلق کا معنی بنانا ، پیدا کرنا گھڑنا وغیرہ آتا ہے۔ تاہم اصطلاحی طور پر خلاق کا اطلاق صرف خدا تعالیٰ پر ہوتا ہے۔ کیونکہ حقیقت میں ہر چیز کو پیدا کرنے والا اور بنانے والا وہی ہے۔ ” اللہ خالق کل شیء “ قرآن میں صراحت موجود ہے۔ مگر ہمارے اں اس معاملہ میں احتیاط سے کام نہیں لیا جاتا اور مخلوق کو بھی خالق کہا جانے لگتا ہے مثلاً مسٹر جناح پاکستان کہا جاتا ہے۔ حالانکہ صرف خدا کی ذات ہے۔ آپ ان کو بانی پاکستان یا معمار پاکستان تو کہہ سکتے ہیں۔ خالق نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی صفت خاصہ ہے ، اسی طرح ایک دوسرے کا نام بلانے میں بھی بےاحتیاطی کا مظاہر کیا جاتا ہے۔ بعض لوگ غنی ، صمد ، رشید یا مجید وغیرہ کہہ کر پکارتے ہیں حالانکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کے نام ہیں۔ بھائی ! اپنے ساتھیوں کو بلانا ہے۔ تو عبدالغنی ، عبدالصمد ، عبدالرشید یا عبدالمجید کہہ کر ٓواز دو ، کیونکہ یہ سب اس مالک الملک کے عاجز بندے ہیں ان کو اللہ کا صفاتی نام لے کر پکارنا سو ادب ہے۔ اسی طرح کسی ملک ، پارٹی ، بلڈنگ ، کارخانے وغیرہ کا بانی تو ہو سکتا ہے خالق نہیں ہو سکتا خالق صرف ذات خداوندی ہے۔
معجزات عیسیٰ (علیہ السلام)
اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے عیسیٰ (علیہ السلام) جب آپ بناتے تھے۔ من الطین کھی ئۃ الطیر مٹی سے پرندے کی شکل بائونی میرے حکم سے فتنفخ فیھا پھر اس میں پھونک مارے تھے تھے فتکون طیراً باذنی پھر وہ ہوجانا تھا اڑنے والا پرندہ میرے حکم سے حضرت عیسیٰ کو یہ معجزہ عطا ہوا کہ وہ مٹی کا پرندہ بناتے تھے پھر اس میں پھونک مارتے تھے اور وہ جاندار پرندہ بن کر اڑ جاتا تھا۔ یہاں پر دو دفعہ باذنی کا لفظ آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ مٹی کے بنے ہوئے پرندے کو جاندار بنا دینا عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذاتی فعل نہیں تھا بلکہ یہ سب کچھ میرے حکم سے ہوتا تھا۔ سورة ٓل عمران میں باذن اللہ کا لفظ گزر چکا ہے۔ مقصد بہ ہے کہ معجزہ یا کرامت کا ظہور اللہ کے حکم سے ہوتا ہے نہ کہ بنی یا ولی کے ذاتی فعل سے۔
پھر فرمایا ۔ اے عیسیٰ (علیہ السلام) وتبری الا کمہ والابرص باذنی آپ مادر زاد اندھے کو اچھا کردیتے تھے حالانکہ عام حالات میں اس کی بینئای کا لوٹنا نہایت مشکل ہوتا ہے۔ مگر اللہ کے حکم سے عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر ایسا ہوجاتا تھا آپ آنکھوں پر ہاتھ پھیرتے تھے تو وہ روشن ہوجاتی تھیں۔ اسی طرح کوڑھی مریض پر ہاتھ پھیرتے تو وہ شفایاب ہوجاتا۔ یہ بھی اللہ کے حکم سے ہوتا تھا۔ پھر چوتھا معجزہ یہ فرمایا واذتخرج الموتی باذنی جب آپ مردہ کو (قبر سے) نکا لیتے تھے میرے حکم سے۔ آپ کہتے قم باذن اللہ یعنی اللہ کے حکم سے اٹھ بیٹھو تو وہ مردہ زندہ ہو کر نکل آتا۔ آپ اس سے بات چیت کرتے اور کچھ عرصہ بعد وہ پھر ختم ہوجاتا۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات میں اس قسم کے چار واقعات کا تذکرہ ملتا ہے جن میں آپ نے مردوں کو زندہ کیا۔ یہ سب آپ کے نمایاں معجزات تھے۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ مسیح (علیہ السلام) کے زمانے میں طبابت کا بڑا چرچا تھا۔ بڑے بڑے اطبا موجود تھے جو مہلک سے مہلک بیماریوں کا علاج کرتے تھے۔ بقراط جسے اطبا کا جد امجد مانا جاتا ہے۔ اسی زمانہ میں ہوا ہے ارسطو اور فیثا غورث اسی دور کے حکما ہیں۔ ذی مقراطیس جس نے سب سے پہلے ایٹمی ذرات پر تحقیق کی تھی ، اسی دور کا ہے یہ لوگ اپنے اپنے زمانے میں سائنسی ایجادات کے ذریعے علاج معالجے کے حیرت انگیز کارنایم انجام دیتے تھے مگر یونان کے قابل ترین ڈاکٹر بھی نہ مادر زاد اندھے کو بینائی دلا سکتے تھے اور نہ کوڑھی کو شفا دلا سکتے تھے اور نہ مردے کو زندہ کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ اس زمانے میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ نے یہ تینوں معجزات ظاہر کردیئے جس کی وجہ سے ان لوگوں کے تمام کارنامے ہیچ ہوگئے۔
معجزات بمطابق ضرورت
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں جادوگروں کا بڑا زور تھا۔ وہ جادو کے زور سے عجیب و غریب کارنامے انجام دیتے تھے۔ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو عصا کا معجزہ عطا کیا۔ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے مقابلے کے لئے پندرہ ہزار جادوگروں کو جمع کیا۔ جب انہوں نے اپنی رسیاں ڈالیں تو وہ سانپ بن گئے۔ اللہ نے فرمایا ، موسیٰ گھبرائو نہیں ، تم اپنی لاٹھی پھینک دو ۔ پھر وہ اژدھا بن گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے جادوگروں کے تمام سانپوں کو نگل گیا۔ اس کے نتیجے میں جادوگر تو ایمان لے آئے مگر فرعون نے پھر بھی تسلیم نہ کیا۔ وہ بدبخت ہی رہا شقی لوگ معجزات کو دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے۔
اسی طرح حضور خاتم النبین ﷺ کے زمانہ میں فصاحت و بلاغت کو بڑا عروج حاصل تھا۔ عربی زبان ترقی کی اعلیٰ منازل پر تھی۔ عربوں کا فصیح و بلغی اور بلند پایہ کلام آج بھی محفوظ ہے۔ اپنی اسی زبان دانی کی وجہ سے وہ دوسری قوموں کو عجمی یعنی کو نگا کہتے تھے۔ عرب بڑے بڑے اعلیٰ قصیدے اور خطبے پڑھتے تھے جن کو سن کر لوگ دنگ رہ جاتے تھے۔ فصاحت و بلاغت کے اس دور میں اللہ تعالیٰ نے حضور ختم المرسلین ﷺ کو قرآن پاک کا معجزہ عطا فرمایا اور پوری دنیا کو چیلنج کردیا کہ قرآن کی ایک آیت کے برابر کلام بنا کر لائو مگر کوئی عرب اس چیلنج کو قبول نہ کرسکا کیونکہ یہ کسی انسان کا فعل نہیں تھا بلکہ اللہ کی طرف سے معجزہ تھا۔
آگے پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح (علیہ السلام) پر کئے گئے احسان کا ذکر فرمایا ہے واذ کففت بنی اسرائیل عنک اور جب میں نے بنی اسرائیل کو تم سے روک دیا۔ انہوں نے آپ کا انکار کیا ، مخالف ہوگئے ، تذلیل و توہین کی ، آپ کو دجال کہا ، آپ کی والدہ پر زنا کی تہمت لگائی اور آپ کی جان کے در پے ہوگئے۔ کہتے تھے یہ شخص ہمارے آبائو اجداد کی رسوم کو ختم کرنا چاہتا ہے اور ہمیں ہمارے ذرائع آمدن سے محروم کرنا چاہتا ہے۔ اللہ نے فرمایا یہ اس وقت کی بات ہے۔ اذ جئتھم بالبینت جب آپ ان کے پاس کھلی اور واضح نشانیاں اور معجزات لے کر آئے ۔ مگر ان کی کوئی تدبیر کار گر نہ ہوئی ، میں نے آپ کی ان بدبختوں سے حافظت کی اور ان کے ناپاک ہاتھوں کو آپ تک نہیں پہنچنے دیا۔ سورة آل عمران میں گزر چکا ہے کہ اللہ نے فرمایا ، اے عیسیٰ (علیہ السلام ) گھبرائو نہیں ، میں ان کے ناپاک ہاتھ تم تک نہیں پہنچے دوں گا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو بحفاظت آسمان اٹھا لیا۔
فرمایا اتنی واضح نشانیاں دیکھنے کے باوجود فقفال الذین کفروا منھم ان میں سے کفر کرنے والوں نے کہا ان ھذا الا سحرمبین یہ تو کھلا جادو ہے۔ ان لوگوں نے اپنی آنکھوں سے مٹی کے بنائے ہوئے پرندوں کو اڑتے دیکھا ، مادر زاد اندھوں اور کوڑھیوں کو شفایاب ہوتے پایا اور مردوں کو زندہ ہوتے دیکھا مگر پکار اٹھے یہ تو صریح جادو ہے اور کافروں نے ہمیشہ ایسا ہی کیا ہے۔ حضور ﷺ کا شق القمر کا معجزہ دیکھ کر کہہ دیا۔ ” سحر مستمر “ یہ تو چلات ہوا جادو ہے۔ پہلے بھی ہوتا تھا اور اب بھی موجود ہے۔
حواریوں کا قبول ایمان
اللہ نے فرمایا ، ذرا اس بات کو بھی یاد کرو واذ او حیت الی الحوارین جب میں نے حواریوں کی طرف وحی کی حواریوں کی طرف وحی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دل میں یہ بات ڈال دی او حیت کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی یہ بات اپنے حواریوں تک پہنچا دیں۔ حواری مخلص ساتھی کو کہا جاتا ہے۔ حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) نے فرمایا ہر نبی کا کوئی نہ کوئی حواری ہوتا ہے اور میرا حواری زبیر ہے جو جنت میں بھی میرا پڑوسی ہوگا۔ تو فرمایا میں نے عیسیٰ (علیہ السلام) کے حواریوں کے دلوں میں ڈال دی ان امنوا بی و برسولی کہ مجھ پر ایمان لائو اور میرے رسول پر ایمان لائو۔ اس کے جواب میں حواریوں نے کہا قالوا امنا اے اللہ ! ہم ایمان لے آئے ، تیری وحدانیت اور مسیح (علیہ السلام) کی رسالت کو قبول کرلیا اور ساتھ یہ بھی عرض کیا واشھد باننا مسلمون کہ اے عیسیٰ (علیہ السلام) ، آپ گواہ ہوجائیں کہ ہم اللہ کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے والے ہیں۔ ہم اللہ تعالیٰ پر اور آپ کے رسالت پر ایمان لے آئے ہیں لہٰذا آپ ہمارے ایمان کے گواہ بن جائیں۔
بہرحال حواریوں کے دلوں میں اچھی بات ڈال دینا ، ان کا ایمان قبول کرنا ، مسیح (علیہ السلام) کی رفاقت اختیار کرنا اور آپ کے حکم کے مطابق تبلیغ کا فریضہ انجام دینا ، یہ سب اللہ کا احسان اور انعام تھا جو عیسیٰ (علیہ السلام) کو عطا کیا گیا۔ اس کے بعد کچھ مزید معجزات کا تذکرہ ہوگا اور پھر محاسبے کے ضمن میں سوال و جواب کا بیان آئے گا۔