5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsمعالم العرفان

Ayah 5:5

اَلْیَوْمَ اُحِلَّ لَكُمُ الطَّیِّبٰتُ١ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ حِلٌّ لَّكُمْ١۪ وَ طَعَامُكُمْ حِلٌّ لَّهُمْ١٘ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الْمُؤْمِنٰتِ وَ الْمُحْصَنٰتُ مِنَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ اِذَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اُجُوْرَهُنَّ مُحْصِنِیْنَ غَیْرَ مُسٰفِحِیْنَ وَ لَا مُتَّخِذِیْۤ اَخْدَانٍ١ؕ وَ مَنْ یَّكْفُرْ بِالْاِیْمَانِ فَقَدْ حَبِطَ عَمَلُهٗ١٘ وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ۠ Open ayah 5:5 in the Quran reader

آج حلال قرار دی گئی ہیں تمہارے لیے پاکیزہ چیزیں اور لوگوں جن کو کتاب دی گئی تمہارے لیے حلال قرار دیا گیا ہے اور ان کیلیے حلال ہے اور پاکدامن عورتیں ایمان والیوں میں سے پاکدامن عورتیں ان لوگوں میں سے جنہیں کتاب دی گئی تم سے پہلے وہ بھی تمہارے لیے حلال قرار دی گئی ہیں جب کہ تم ان کو ان کے مہر دے دو اس حال میں کہ تم قید نکاح میں لانے والے ہو نہ صرف نکالنے والے اور نہ پوشیدہ طور پر دوستی کرنے والے اور جو شخص کفر کرے گا ایمان کے ساتھ پس بیشک اس کا عمل ضائع ہوگیا اور وہ آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔

ربط آیات گزشتہ دو رس میں اہل ایمان کے لیے حرام شدہ کا ذکر وہا ۔۔۔ پھر اللہ تعالیٰ تکمیل دین اور تمام نعمت کا مثردہ سنایا ۔ اس کے ساتھ اپنی خالص مہر بانی کا ذکر فرمایا جس کے تحت اس نے حالت اضطراری میں حرام چیزوں کو بھی بقدر ضرورت استعمال کر نیکی اجازت مرحمت فرمائی۔ اللہ نے پاکیزہ چیزوں کی حلت کا حکم دیا۔ اور شکار سے متعلق جو سوالات تھے ان کا جواب دیا ۔ اور واضح کیا کہ مقررہ شرائط کے تحت کیا گیا شکار حلال ہے البتہ حرام وہ چیزیں ہیں جن میں کوئی نہ کوئی ظاہری یا باطنی خبائث پائی جاتی ہے البتہ حلت کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ محرمات کو چھوڑ کر باقی سب پاک چیزیں حلال قرار دے دی گئی ہیں۔ طیبات میں دو قسم کی پاکیزہ چیزیں شامل ہیں ایک قسم تو ان چیزوں کی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے محرمات کے مقابلے میں صراحتاً حلال فرمایا ہے اور دوسری قسم کی طیبات وہ اشیاء ہیں جن میں سے کسی قسم کی خبائث یا نجاست موجود نہ ہو ، سورة بقرہ میں حلال ار طیب دونوں الفاظ اکٹھے استعمال ہوئے ہیں کلو مما فی الارض حللا طیبا زمین میں سے حلال اور پاکیزہ چیزیں کھائو ۔ بظاہر تو ہر حلال چیز پاکیزہ ہی ہوگی مگر اس میں بھی ایک درجے کا فرق ہے ۔ بعض چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے۔ مگر وہ اپنی اندرونی خبائث کی بناء پر ایک مسلمان کے لیے روا نہیں ہوتیں۔ مثلاً ایک شخص نے اپنی بکری کو شرعی طور پر ذبح کیا ہے ، اب اس کے لیے تو یہ قطعاً حلال ہے ، مگر جو شخص وہی گوشت چوری کرکے لے جائے ، اس کے لیے وہ طیب چیز بھی ہوجائیگی اس میں غیر کا حق غضب کیا گیا ہے اور رتکاب سرقہ کی وجہ سے اس میں باطنی خبائث پیدا ہوگئی ہے ۔ اسی پر قیاس کرتے ہوئے ناجائز طریقے سے حاصل کی گئی ہر قسم کی چیز حرام ہوگی۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اسے حلال قرار دے رکھا ہو۔ بعض اوقات سالن یا کوئی دوسری چیز باسی ہوجاتی ہے ، اس سے بدبو آنے لگتی ہے۔ اگرچہ ایسی چیز فی حلال ہوتی ہے مگر اپنے اندر پیدا شدہ خرابی کی بنا پر مکروہ تحریمی میں داخل ہوجاتی گویا حلال اور طیب میں یہ خفیف سا فرق ہے۔ اہل کتاب کا ذبیحہ فرمایا تمام پاکیزہ چیزیں حلال ہیں اور ان کے علاوہ وطعام الذین اوتوا الکتب حل لکم اہل کتاب کا طعام بھی تمہارے حلال کیا گیا ہے۔ صحابہ کرام ؓ اور مفسرین عظام سے منقول ہے کہ یہاں پر طعام سے مراد عام کھانا نہیں ، کیونکہ عام کھانا تو غیر مسلم کے ہاتھ کا بھی جائز ہے ، اس میں اہل کتاب کی تخصیص کی کوئی ضرورت نہیں ، چناچہ یہاں پر طعام سے مراد ذبیحہ ہے ۔ یعنی اہل کتاب کا ذبیح جانور اہل ایمان پر حال ہے بشرطیلہ ذبح کرتے وقت اس پر اللہ کا نا م لیا گیا ہو کیونکہ واذکر واللہ علیہ کا قانون بنیادی ہے۔ اور اگر اہل کتاب نے بوقت ذبح حضرت مسیح (علیہ السلام) یا عزیر (علیہ السلام) یا کسی بھی غیر اللہ کا نام لیا ہے تو ایسا ذبیح حرام ہوگا۔ اہل کتاب ہی سے متعلق ایک مزید شرط یہ ہے کہ ذبح کرنیوالا شخص یا تو نسلی طور پر یہودی یا عیسائی ہو یا وہ کسی دوسرے مذہب ہندو ، سکھ وغیرہ سے عیسائی یا یہودی ہو ۔ البتہ اگر ذبح کرنے والا شخص اسلام کو ترک کرکے یہودی یا عیسائی ہو اسے تو وہ مر تد شمار ہوگا اور مرتد کا ذبیحہ حلال نہیں ہوسکتا۔ شیخ السلام حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی نے بھی اس آیت میں طعام سے مراد ذبیحہ لیا ہے بشرطیکہ وہ کسی مرتد شدہ کتابی کا ذبیحہ نہ ہو۔ کتابیہ سے نکاح اہل کتاب کے ذبیحہ کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک اور خصوصیت بھی دی ہے کہ ان کی عورتوں سے اہل ایمان کا نکاح بھی حلال ہے ۔ چناچہ آیت کے اگلے حصے میں ارشاد ہوا ہے والمحصنت بن الذین اوتو الکتب من قبلکم ان لوگوں کی پاکدامن عورتیں بھی تم پر حلال ہیں جنہیں تم سے پہلے کتاب دی گئی اہل کتاب میں یہود و نصاریٰ دونوں گروہ شامل ہیں۔ البتہ مشرکہ عورت سے مومن کا نکاح جائز نہیں جیسا کہ سورة بقرہ میں صریح حکم موجود ہے ولاتنکحو المشرکت حتی یومن یعنی مشرک عورتوں سے نہ کرو جب تک کہ وہ ایمان لے آئیں ، حضرت عمر ؓ کا قول بھی ہے کہ ایک مسلمان یہود یا نصرا سے نکاح کرسکتا ہے مگر کوئی یہودی یا نصرانی مسلمان عورت سے نکاح نہیں کرسکتا۔ بعض معتر ضین اعتراض کرتے ہیں کہ ایک وسیع تر مذہب ہونے کے باوجود اسلام نے اہل کتاب سے سے نکاح کے مسئلہ میں اختیار کیا ہے ۔ اگر مومن آدمی کتابیہ سے نکاح کرسکتا ہے تو مومنہ عورت سے کیوں نہیں کرسکتا ۔ اس ضمن میں جرمن یہودی لیو پولڈ کا واقعہ کا فی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے دولت ایمان نصیب فرمائی ار محمد نام رکھا بڑا پکا مسلمان ہے اور ابھی تک زندہ ہے ۔ بہت بڑا مصنف بھی ہے۔ اس نے پہلی جنگ عظیم کے بعد کا خود اپنا واقعہ نقل کیا ہے کہ وہ فلسطین اور شام کے علاقہ میں سفر کررہا تھا دوران سفر اس کا ایک بدو مسلمان کے ہم سفر کھان خرید کر لایا اور اسے بھی کھانے کی دعوت دی تم بھی کھائو۔ محمد اسد خود بیان کرتا ہے کہ میں نے کھانے میں شریک ہونے سے ہچکچاہٹ ظاہر کی مگر اس نے کہا بھئی تم بھی میری طرح مسافر ہو کھانہ کھانے میں کیا حرج ہے۔ الغرض اس نے ایک روٹی مجھے دی اور کھانا شروع کردیا ۔ کہتا ہے کہ پہلے تو میں اس بدو مسلمان کی سادہ معاشرت اور بےتکلفی سے متاثر ہوا ، پھر دوران گفتگو میں نے اس سے سوال کیا کہ جب ایک مسلمان کتابی عورت سے شادی کرسکتا ہے تو کتابی مرد کسی مسلمان عورت سے نکاح کیوں نہیں سکتا ۔ وہ دیہاتی آدمی اسلا م کا گہرا شعور رکھتا تھا ، کہنے لگا اس کی وجہ سے یہ ہے کہ اہل اسلام اللہ کے تمام نبیوں حتیٰ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر بھی اسی طرح ایمان رکھتے ہیں ۔ وہ سابقہ انبیا (علیہم السلام) کی اسی طرح تعظیم و تکریم کرتے ہیں جس طرح اپنے نبی کی ۔ چناچہ جب یہود یہ یا نصرانیہ عورت مسلمان کے گھر میں آئیگی تو وہ اپنے نبی کی تعظیم و تکریم ہی پائیگی اور اسے کسی قسم کی ذہنی کوفت نہیں ہوگی ۔ برخلاف اس کے یہودی نہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو مانتے ہیں اور نہ حضرت محمد ﷺ کو۔ اسی طرح بنی آخر الزمان پر ایمان نہیں رکھتے ۔ لہذا جب مسلمان عورت یہودی یا عیسائی کے گھر میں جائیگی تو وہ ہر وقت ذہنی کوفت میں مبتلا رہیگی کیونکہ اس کے سامنے حضور نبی کریم ﷺ کی تعظیم کی بجائے توہین کی جائیگی ، چناچہ مسلمان عورت کے لیے کتابی مرد کے نکاح میں جانا قرار نہیں دیا گیا ۔ موجودہ دور کے نصاری یہ بات قابل ذکر ہے کہ نصاریٰ برائے نام نصاری ہیں۔ ا ن کی اکثریت نہ کسی مذہب کی قائل ۔ نہ آسمانی کتاب کی اور نہ اللہ تععالیٰ کی ، یہ دہریہ قسم لوگ ہیں۔ لہذا یہ صحیح معنوں میں اہل کتاب کی تعریف میں نہیں آتے۔ اسی لیے نہ تو ان کا ذبیحہ مسلمانوں کے لیے حلال ہے اور نہ ان کی عورتوں سے نکاح جائز ہے۔ اہل اسلام کو اس معاملہ میں محتاط رہنا چاہیے ہاں اگر یقین ہوجائے کہ کوئی شخص واقعی کتابی ہے۔ اس کا تورات یا انجیل و ایمان ہے تو اس کی دونوں چیزیں اہل اسلام کے لیے روا ہیں ۔ حضرت مولا نا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) نے بھی بیان القرآن میں یہی لکھا ہے کہ موجودہ زمانے کے نصاریٰ کا کچھ اعتبار نہیں کیونکہ یہ اہل کتاب نہیں بلکہ ملحد ہیں ۔ حضرت مولانا شیخ الہند (رح) نے بھی سورة بقرہ کی تفسیر میں یہی بات لکھی ہے ۔ جب وہ مالٹا میں انگریزوں کے قیدی تھے تو انہوں نے عیسائیوں کا ذبیحہ کھا نے سے انکار کردیا تھا ۔ انہوں نے زندہ جانور کا مطالبہ کیا تاکہ وہ خود ذبح کرکے کھا سکے ۔ پانچ چھ ما ہ تک معاملہ لٹکتا رہا ، آخر برطانوی حکومت کو آپ کا مطالبہ تسلیم کرنا پڑا ۔ مقصد یہ ہے کہ آپ نے عملی طور پر ثابت کردیا کہ ان عیسائیوں کا ذبیحہ مسلمانوں کے لیے حلال نہیں ہے۔ کتابی کے لیے پاکیزہ کھانہ پہلے فرمایا کہ تمہارے اہل کتاب کا طعام (ذبیحہ) حلال ہے ، اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا وطعا مکم حل لھم یعنی تمہارا طعام ان کے لیے حلال ہے ، تمہارا طعام ویسے ہی پاک ہے ، تم حرام سے بچو ، پاکیزہ چیزوں کو اختیار کرتے ہو اور اللہ کا نام لے کر ذبح کرتے ہو ، لہذا اس کی حلت بیان کرنے کا کیا مقصد ہو سکتا ہے ؟ حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کا ارشاد مبارک ترمذی شریف میں مو جود ہے لا کا کل طعامک الا لقی یعنی تمہارا کھانا صرف متقی لوگ ہی کھائیں ، کیونکہ اگر تم نے فاسق فاجر کو کھانا کھلایا اور اس نے گناہ کار کیا تو اس گناہ میں تمہاراحصہ بھی شامل ہوگا۔ برخلاف اس کے اگر تمہارا کھانا متقی اور نیک لوگ کھائیں ، پھر وہ اللہ کی اطاعت کریں گے اور اس کی عبادت کریں گے تو ا س نیکی سے تمہیں بھی فائدہ حاصل ہوگا ۔ حضور ﷺ کے اس فرمان کے پیش نظر مناسب تو یہ تھا کہ اہل کتاب کو کھانا نہ کھلایا جاتا مگر اللہ تعالیٰ نے اسے حلال قرار دیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ حضور ﷺ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری محبت کا کھانا صرف متقی لوگ کھائیں۔ تم محبت کے ساتھ کسی دعوت کرتے تو اچھے نیک ، دیندار اور متقی لوگوں کی کیا کرو۔ ہاں اگر غیر مسلم مجبور ہوگیا ، بھوک سے مر رہا ہے تو پھر حسب ضرورت اس کو بھی کھلا سکتے ہو ، مگر خلوص و محبت کی دعوت مومن کے لیے ہی ہونی چاہیے۔ پاکدامن عورتوں سے نکاح اس کے بعد فرمایا والمحصنت من المومنت پاکدامن عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں ۔ محضہ سے مراد کبھی خاوند والی عورت ہوتی ہے ، ار کبھی پاکدامن ، یہاں عفت شعار عورت سے مراد ہے جو کہ بدکار نہ ہو۔ شرم حیا اور پاکدامن ہی کسی عورت کا اصل زیور ہے ۔ اس لیے ایک مومن کو ترغیب دی گئی ہے کہ نکاح کے معاملہ میں حسن و جمال یا مال و دولت پر پاکدامنی کو ترجیح دے جو عورت سے نکاح کرنا درست نہیں ۔ نظر ہمیشہ پاکدامنی پر ہی ہونی چاہیے ۔ کھانا اور نکاح دونوں انسان کی نوعی ضروریات ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انکی حلت و حرمت کا قانون بتا دیا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اہل کتاب کا کھانا بھی حلال قرار دیا ہے اور پھر مومنہ پاکدامنہ اور اہل کتاب کی عورت سے نکاح کی اجازت بھی دے دی ہے اور نکاح کے معاملہ میں یہ شرائط لگائی ہیں اذ اتیتمو ھن جور ھن کہ جب تم ان کے مہر ادا کردو۔ محصنین نکاح میں لانے والے ہو یعنی تمہارا نکاح کر کے پوری ذمہ داری کا بوجھ اٹھانا ہو ، انسان نکاح کے ذریعے ایک بہت بڑا عہد کرتا ہے ، ذمہ داری سر پر لیتا ہے ، خاندان کی بنیاد ڈالتا ہے ، فرائض کی ادائیگی کا ذمہ لیتا ہے یہ سب کچھ محصنین میں شامل ہے ۔ فرمایا پہلی شرط یہ ہے کہ تم ان کے مہر ادا کرو اور دوسری بات یہ کہ تم نکاح کرنے والے ہو غیر مسحین صرف شہوت رانی مقصود نہ ہو کہ کیونکہ یہ چیز تو حیوانات میں بھی پائی جاتی ہے نکاح سے تمہارا مقصود محض مستی نکا لنا ہو بلکہ تمام قانونی اور اخلاقی تقاضے پورا کرنا ہو ولا متحدی احد ین اور نہ خفیہ طور پر دوستانہ مقصود ہو مطلب یہ کہ تم نکاح کے ذریعے گھر آباد کرنا چاہتے ہو نہ کہ محض وقتی دوستانہ کہ جب چاہا کسی سے دوستی کرلی اور جب چاہا اس سے دست بردار ہوگے ، فرمایا ایسا نہیں ہوناچاہیے بلکہ اگر تمہارا مقصد نیک نیتی کے ساتھ نکاح کرنا ہے تو پھر تمہارے لیے پاکدامن مومنہ بھی حلال ہے اور اہل کتاب کی عورت بھی جائز ہے۔ مرتد کے لیے وعید فرمایا ومن یکفر بالایمان جو کوئی ایمان کا انکار کردے گا۔ یعنی ایمان کو ترک کرکے مرتد ہوجائے گا فقد حبط عملہ تو اسکا سارا علم ضائع ہوگیا۔ اس نے ایمان کی حالت میں بھی جو نیکی کی تھی وہ بھی برباد ہوگئی ، وھو فی الاخرۃ من الخسرین اور ایسا شخص آخرت میں سخت نقصان اٹھانے والا ہوگا ۔ اہل ایمان اپنے ایمان اور نیک اعمال کا دفتر لے کر آئیں گے اور انہیں کامیابی حاصل ہوگی ۔ مگر مرتد کے پاس کچھ نہیں ہوگا ۔ وہ خالی دامن اللہ کے حضور پیش ہوگا۔ اس دن حقیقی نقصان زدہ مرتد آدمی ہوگا۔ جو بالکل خالی ہاتھ ہوگا۔ جب کوئی شخص اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوجاتا ہے ، تو پھر خواہ وہ یہودی کہلائے یا نصرانی ، اس کا نہ تو ذبیحہ حلال ہوگا اور نہ ان کی عورتوں سے نکاح درست ہوگا۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے کتابی کے ذبیحہ اور ان کی عورتوں سے نکاح کو مباح قرار دیا ہے ۔ تاہم احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ اگر کوئی صحیح کتابی بھی وہ تو اس کے ساتھ ایسے مراسم قائن نہیں کرنا چاہئیں ۔ حضرت حذیفہ ؓ نے یہودیہ سے نکاح کرلیاتو حضرت عمر ؓ نے ان کو ڈانٹ دیا تھا ۔ عرض کیا ، کیا اللہ تعالیٰ نے کتابیہ سے نکا ح کی اجازت نہیں دی ، فرمایا بیشک دی ہے مگر اس میں خظرہ ہے کہ کہیں مسلمان بدکار عورتوں کے دامن میں گرفتار نہ ہوجائیں ۔ تمہارے پاس ایسی عورت کی عظمت کا کیا ثبوت ہے۔ ہوسکتا ہے وہ بدکار ہو اور تمہارے اخلاق کو بھی تباہ کر کے رکھ دے۔ لہذا میں اسے پسند نہیں کرتا۔ الغرض ! اللہ تعالیٰ نے اشارتاً یہ بھی بتلادیا کہ ایمان بہت بڑی دولت ہے ۔ اسے ہمیشہ محفوظ رکھنے کی کوشش کرو کیونکہ نجات کا دارومدار ایمان پر ہی ہے۔ دنیا میں نیکیاں وہی کام آئیں گی جو ایمان کے ساتھ مشروط ہوں اور آخرت کی فلاح و کامیابی بھی ایمان پر ہی موقوف ہے۔ لہذا اس دولت کو برباد ہونے سے بچانا ضروی ہے۔ ترجمہ : اے ایمان والو ! جب تم کھڑے ہو نماز کی طرپس دھولو اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک اور مسح کرو اپنے سروں پر اور اپنے پائوں کو بھی ٹخنوں تک دھو لو ۔ گذشتہ در دس میں اللہ تعالیٰ نے حلت و حرمت کا قانون بیان کیا عورتوں کا بھی تذکرہ ہوا۔ ان دونوں چیزوں سے مقصود پاکیزگی کا حصول ہے جب انسان محرمات سے اجتناب کرتے ہوئے پاکیزہ چیزیں کھائے گا تو اس کا پیٹ پاک رہیگا۔ اور اگر نکاح کے سلسلے میں محرمات سے بچ گیا تو اسے باطنی طہارت حاصل ہوگئی ہے اور اس کے اخلاق میں صفائی آگئی۔ اور اگر دونوں چیزوں میں محرمات کا ارتکاب کریگا۔ تو اسے نجاست کے سوا کچھ حاصل نہ ہوگا نجس غذا کھانے سے اس کے برے اثرات پورے جسم پر ظاہر ہوں گے اور تمام اعضا حتیٰ کہ خون بھی پلید ہوجائیگا۔ اسی طرح نکاح کے معاملہ میں اگر حدود کو توڑے گا تو قلب اور روح پلید ہوجائے گے۔ انسان کو باطنی طہارت عباد ت کرنے سے بھی حاصل ہوتی ہے مگر عبادت خصوصا نماز بھی اس وقت تک ادا نہیں ہوسکتی جب تک وہ ہر قسم کی ظاہری نجاست سے پاک نہ ہو ۔ چناچہ جنبی آدمی نماز ادا ہی نہیں کرسکتا ، جب تک وہ پاک صاف نہ ہوجائے ، حیض و نفاس والی عورت نجاست کی وجہ سے نماز ادا نہیں کرسکتی ۔ امام ترمذی (رح) نے حضور ﷺ کے اس فرمان کو سب سے پہلے بیان کیا ہے ان اللہ لا یقبل صلوۃ بغیر ظھور ، یعنی اللہ تعالیٰ طہارت کے بغیر نماز کو قبول نہیں فرماتا۔ اور طہارت میں جسم ، لباس ، مکان اور غذا وغیرہ سب کی طہارت ضروری ہے ۔ باطنی نجاست یعنی کفر ، شرک اور نفاق وغیرہ سے پاک ہونا بھی ضروری ہے اس کے بغیر نماز یا دیگر عبادات سے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ حضرت امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ چار بنیادی اور یہی اخلاق ہماری شریعت میں بھی قیامت تک موجود رہیں گے ۔ فرماتے ہیں ان میں سب سے پہلا نمبر طہارت کا ہے اس کے بعد اخبات یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے اظہار عاجزی ہے ، تیسرا خلق سماحت ہے کہ انسان خیس اشیاء مثلا خود غرضی اور لالچ وغیرہ سے بچتا رہے اور چوتھا خلق عدلت ہے۔ یعنی انسان عدل و انصاف کو قائم رکھے در ظلم زیادتی کے قریب نہ جائے بہر حال شاہ صاحب نے بھی طہارت کو پہلے نمبر رکھا ہے اور طہارت سے مراد ظاہری اور باطنی پاکیزگی ہے جس کے بغیر نماز بھی ادا نہیں ہوسکتی ۔ نماز ام العبادت المقربۃ ہے۔ اللہ کے قریب کرنے والی عبادت کی بنیاد نماز ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے یہاں ہر قسم کی طہارت کا ذکر فرمایا ہے حتی کہ پیٹ کی طہارت اور عضائے کی طہارت کا ذکر فرمایا ہے۔ طہارت ہی کے ضمن میں طہارت صغریٰ اور طہارت کبری ، غسل اور وضو کے مسائل بیان فرمائے ہیں اور پھر پانی کی عدم موجودگی میں اس کے نعم البدل تییم کا قانون بھی بیان فرمایا ہے ۔ بہرحال طہارت کے کچھ مسائل سورة نساء میں بیان ہوئے تھے ۔ در آپ انکی مزید تفصیل یہاں آرہی ہے ۔ چناچہ آج کے درس میں سب سے پہلے وضو کا مسئلہ بیان ہوا ہے ۔ نماز کی اہمیت جیسا کہ عرض کیا وضو کے بغیر انسان نماز ادا نہیں کرسکتا ، اور نماز ہی انسان کی تکمیل اور تعلق اللہ کی استواری کا ذریعہ ہے ۔ انسان نماز ہی کے ذریعے اپنے مالک کے سامنے عجز و نیاز مندی کا اظہار کرتا ہے پہلے بیان کردہ چار اصولوں میں سے دو یعنی طہارت اور خبات نماز ہی کا حصہ ہیں۔ نماز جامع العبادات ہے اسی کے ذریعے انسانی قلب و روح کی نیاز مندی پائی جاتی ہے ، زبان سے رب العزت کی ثناء بیان ہوتی ہے اور جو اح سے اس کی تعظیم بجا لائی جاتہ ہے۔ نماز کے ذریعے انسان کے دل میں خدا تعالیٰ کی عظمت جلوہ گر ہوتی ہے اور انسان تعلق باللہ کے لیے آمادہ رہتا ہے۔ ارشادہوتا ہے یایھالذین امنو اے ایمان والو ! اذ قمتم الی الص لوٰۃ جب تم کھڑے ہو نماز کی طرف ، تو پھر آگے بیان کردہ طریقے کے مطابق وضو کرلو۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وضو کے چار فرائض بیان کردیے ہیں ۔ وضو کی مزید تفصیلات اور تشریحات حضور نبی کریم ﷺ کے اقوال و اعمال میں موجود ہیں۔ وضو کی سنن اور مستحبات وغیرہ سب بنی (علیہ السلام) نے بیا ن فرمادی ہیں تاہم مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ نماز کے لیے وضو کی ضرورت اس وقت پیش آئے گی وانتم محد ثون جب کہ تم بےوضو ہو ۔ اگر پہلے سے طہارت اور وضو موجود ہے تو نماز کے لیے دوبارہ وضو کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ بعض فرماتے ہیں کہ نماز کے لیے کھڑے ہونے سے مراد یہ ہے کہ جب تم نماز کا ارادہ کرو ، تو مذکورہ طریقے سے وضو کرلو کیونکہ طہارت کے بغیر نماز ادا نہیں ہو سکتی۔ اور کھڑے ہونے سے یہ بھی مراد وہو سکتی ہے کہ تم سور ہے تھے۔ اب بیدار ہوئے ہو تو وضو کے ذریعے طہارت حاصل کرلو۔ اس کا مطلب یہ بھی ہو سکتا ہے اگر تم کسی کا میں مصروف ہو اور نماز کا وقت ہوگیا ہے اور اب اگر اس کے لیے کھڑے ہوتے ہو تو پہلے طہارت حاصل کرلو ۔ حضور نبی کریم علیہ السلاۃ والسلام کے متعلق رویات میں آیتا ہے کہ جب آپ کسی کام میں مشعول ہوتے اور نماز کے لیے اذان ہوجاتی تو سب کام چھوڑ کر نماز کی طرف متوجہ ہوجاتے۔ آپ کے لیے نماز کی فکر سب سے مقدم ہوتی۔ بہر حال جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو پہلے طہارت حاصل کرلو۔ وضو بطور شرط نماز وضو کے علاوہ اور کسی چیز کے لیے بطو ر شرط نہیں ہے ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ قضائے حاجت سے تشریف لائے اور صحا بہ ؓ نے آپ کو کھانا پیش کیا ، تو آپ نے قبول فرمالیا ایک صحابی نے عرض کیا حضور ! آپ نے وضو نہیں فرمایا ۔ آپ نے ارشاد فرمایا کیا میں نماز ارادہ کر رہا ہوں کہ وضو کروں ۔ وضو تو نماز کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے نہ کھانا کھانے کے لیے۔ کھانے سے پہلے اور بعد صرف ہاتھ دھو لینا کافی ہے ۔ مکمل وضو کی ضرورت نہیں۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ ہمیشہ با وضو رہنا ایک اچھی صفت ہے۔ لا حافظ علی الوضوء الامومن یعنی مومن آدمی ہی محافظت کرتا ہے یہ مومن کی خصوصی صفت ہے کہ وہ ہمیشہ با وضو رہتا ہے تاہم یہ ضروری نہیں ۔ البتہ قرآن پاک کو ہاتھ لگانے سے پہلے طہارت ضروری ہے ۔ کیونکہ قرآن پاک مو جود ہے ۔ لا یمسذ الا المطھرون یعنی اسے صرف پاک لوگ ہی چھوتے ہیں۔ ایک دوسری حدیث میں بھی یہ آتا ہے کہ جس نے طہارت پر طہارت کی یعنی وضو ہوتے ہوئے پھر وضو کیا ، اس کے نامہ اعمال میں دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ البتہ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ پہلے وضو کے ساتھ کوئی فرضی یا نفلی عبادت کرچکا ہو۔ اگر پہلے وضو کے ساتھ ابھی تک کوئی عبادت نہیں کی تو پھر دوبارہ وضو کرنے سے زائد فائدہ حاصل نہیں ہوگا ۔ بہر حال یہ ہوگا ۔ بہر حال یہ ایک ثواب کی بات ہے ۔ در وضو پر وضو ایک اچھی صفت ہے ۔ فرائض وضو فرمایا تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو وضو کے چار فرض پورے کرو۔ ان فرائض میں چہرہ دھونا ، کہنیوں تک ہاتھ دھونا ، سرکا مسح کرنا ، اور ٹخنوں تک پائوں دھونا شامل ہیں۔ باقی تشریحات حضور ﷺ کے قول اور عمل میں ملتی ہیں ، جن میں نیت کرنا ، ابتداء میں بسم اللہ پر ھنا وغیرہ اعضا سے فرائض میں مذکورہ ترتیب کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے مثلاً سرکا مسلح پہلے ہوگا اور پائوں اس کے بعد دھوئے جائیں گے ، ان میں سے کسی عضو کی از خود تقدیم تا خیر نہیں ہو سکتی ، پھر یہ بھی کہ ہر عضو کو کم از کم ایک دفعہ دھونا اتما م وضو کا ادنی درجہ ہے حضور ﷺ نے ہر عضو کو دو دو دفعہ بھی دھو یا ہے اور تین تین مرتبہ بھی ۔ یہ کمال درجہ ہے ۔ البتہ سر کے مسح میں تثیث نہیں بلکہ ایک ہی دفعہ سر پر ہاتھ پھیرلینا کافی ہے۔ بہر حال ایک ، دو یا تین دفعہ موقع کی مناسبت سے اعضاء ، کو دھویا جاسکتا ہے ۔ بعض اوقات پانی کی قلت ہوتی ہے تو ایک یا دو دفعہ دھو لینا بھی کافی ہوگا ، اسی طرح جلدی ہے ، کسی سواری کے نکل جانے کا خطرہ ہے تو کم از کم ایک دفعہ پانی بہا لینا بھی مکمل وضو ہے ، اس میں کوئی نقص نہیں رہتا ، البتہ شرط یہ ہے کہ کوئی جگہ خشک نہیں رہنی چاہئیے۔ ورنہ وضو مکمل نہیں ہوگا ۔ اور نہ اس کے بعد کی گئی عبادت صحیح ہوگی۔ منہ اور ہاتھ دھونا ارشاد ہوتا ہے ، اے ایمان والو ! جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو فاغسلو وجوھو کم اپنے چہروں کو دھو لو۔ یہ وضو کا فرض ہے اس سے پہلے بسم اللہ پڑھنا اور دونوں ہاتھ کو دھونا سنت ہے۔ حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ جب تم میں سے کوئی نیند سے بیدار ہو ، تو اس وقت تک برتن میں ہاتھ نہ ڈالے جب تک ہاتھوں کو تین دفعہ دھونے لے۔ پھر ان ہاتھوں سے پانی لے کر چہرہ دھولو۔ چہرے کے حدود دونوں کانوں کے درمیان اور سر کے بالوں سے لے کر ٹھوڑی تک ہیں۔ اس کے علاوہ اگر داڑھی گھنی ہے تو اس کا مسح کرنا مستحتب ہے۔ سارے بالوں کو بھگونا ضروری نہیں ہے ۔ اور اگر داڑھی گھنی نہیں ہے ، تو اس میں پانی ڈالنا چاہیئے۔ اس کے بعد فرمایا واید یکم الی المرافق اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھو لو۔ بعض فقہائے کا اس بات میں اختلاف ہے کہ آیا کہنیاں ہاتھوں میں داخل ہیں یا نہیں۔ تاہم صحیح بات یہ ہے کہ کہنیاں ہاتھوں میں داخل ہیں اور دونوں ہاتھ کہنیوں سمیت دھونا چاہیئے ورنہ وضو مکمل نہیں ہوگا ۔ ہاتھ دھوتے وقت انگلیوں کا خلال بھی ضروری ہے تاکہ کوئی جگہ خشک نہ رہ جائے دار قطنی کی روایت میں آتا ہے کہ جب تم وضو کرو تو انگلیوں کے درمیان خلال کرو ولا یخل اللہ تعالیٰ بینھا بالنار ایسانہ ہو کہ اللہ تعالیٰ ان کے درمیان آگ کے ساتھ حلال کرے۔ حضور ﷺ کا یہ بھی ارشادہ ہے ویل للا عقاب من النار اسبغو وضوھ ہلاکت ایڑیوں کے لیے دوزخ کی آگ سے ، وضو مکمل بنائو مقصد یہ ہے کہ ایڑیوں کی کوئی جگہ خشک نہ رہنے پائے ۔ کامل وضو کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب وضو کے پانی کا آخری قطرہ انسان کے اعضاء سے گرتا ہے تو اس کے تما م صغیرہ گناہ معاف ہوچکے ہوتے ہیں۔ سر کا مسح منہ اور ہاتھ دھونے کے بعد وضو کا تیسرا فرض مسح ہے ۔ فرمایا وامسحو برئو سکم اور اپنے سروں پر مسح کرو۔ اس بارے میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے کہ سر کے کتنے حصے کا مسح کرنا ضروری ہے ۔ شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ سر کے تھوڑے سے حصے یعنی دو چار بالوں پر بھی ہاتھ پھیر دیا تو مسح ہوجائے گا۔ امام مالک (رح) سارے سر کے مسح کے قائل ہیں اور امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ سر کے چوتھے حصے کا مسح فرض ہے اور پورے سر کا مستحب یہی مذہب زیادہ ادفق ہے ۔ اور یہ حکم مرد وزن ہر ایک کے لیے ہے۔ مرد اپنی ٹوپی یا پگڑی اور عورت اپنی اوڑھنی کم از کم چوتھے حصہ تک ہٹا کر مسح کرے ، اس سے آگے ۔ اگر ٹوپی یا دوپٹہ پر بھی ہاتھ پھیرلیا تو کافی ہے تاہم گر پورے سر پر مسح کرے تو زیادہ بہتر ہے ۔ حضور ﷺ اپنے ہاتھ مبارک پیشانی سے شروع کر کے پیچھے گدی تک سے جاتے تھے اور پھر اسی جگہ واپس لاتے جہاں سے مسح شروع کیا تھا۔ بہرحال سارے سر کا مسح استحب ہے ، ضروری نہیں کیونکہ حضرت مغیرہ ابن شعبہ ؓ کا روایت میں نا صیہ کا ذکر ہے یعنی نبی (علیہ السلام) نے چوتھے حصے سر کا مسح فرمایا اور اس کے ساتھ گدی تک گردن کا بھی ۔ بعض لوگ گردن کے مسح کو ناپسند کرتے ہیں ۔ حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں۔ مزید پانی لیے بغیر سر کے ساتھ گردن کا مسح بھی کرے۔ البتہ حلقوم کے مسح کو فقہائے کرام مکروہ بتا تے ہیں۔ صرف گردن کا مسح پیچھے تک جیسا کہ ابو دائود شریف اور مسلم شریف میں بلغ الی قھاہ کے الفاظ آتے ہیں ۔ پھر سر کے ساتھ گانوں کا مسح بھی ہے۔ شہادت کی انگلیاں کانوں کے اندر پھیرے اور انگوٹھے باہر پھیر دے۔ یہ بھی مستحب ہے۔ پائوں دھونا چوتھے فرض کے متعلق فرمایا وار جلکم الی الکعیین یہ اسی فاغسلو کے ساتھ ملحق ہے یعنی اپنے پائوں کو ٹخنوں تک دھو ارجلکم کی قرأت کی زیر کے ساتھ بھی پڑھی گئی ہے ۔ بعض فرماتے ہیں کہ قرأت تو یہ بھی درست ہے مگر صحابہ کرام ؓ نے ہمیشہ پائوں کو دھویا ہے صرف مسح پر اکتفا نہیں کیا۔ حضور ﷺ کا عمل مبارک بھی یہی ہے ۔ ہاں اگر کسی شخص نے موزے پہن رکھے ہیں تو ان پر مسح تمام اہل حق کے نزدیک درست ہے ۔ بعض افضی اس کو جائز نہیں سمجھتے ۔ مگر حضور ﷺ کے تقریباً ستر صحابی ؓ سے موزوں پر مسح ثابت ہے ۔ پھر یہ بھی ہے کہ گرمی سردی میں ضرورت کے علاوہ بغیر ضرورت بھی موزے پہنے جاسکتے ہیں۔ اور ان پر مسح کیا جاسکتا ہے ۔ مقیم آدمی ایک دن رات اور مسافر تین دن رات تک موزوں پر مسح کرسکتا ہے ۔ بول و براز کرتا ہے ، باقی وضو کریگا مگر موزوں پر مسح کافی ہے ۔ البتہ اگر جنابت لاحق ہوجائے تو پھر موزے اتار کر مکمل طہارت ضروری ہوگی۔ آیت کے اگلے حصے میں طہارت کبریٰ یعنی جنابت کی حالت میں غسل کا بیان اور طہارت ضرور یہ یعنی تیمم کی حکمت اور فلسفہ بھی آئے گا۔
Ayahs 5:6–7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَیْدِیَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَیْنِ١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ مِّنْهُ١ؕ مَا یُرِیْدُ اللّٰهُ لِیَجْعَلَ عَلَیْكُمْ مِّنْ حَرَجٍ وَّ لٰكِنْ یُّرِیْدُ لِیُطَهِّرَكُمْ وَ لِیُتِمَّ نِعْمَتَهٗ عَلَیْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ Open ayah 5:6 in the Quran reader

اور اگر جنابت کی حالت میں ہو تو اچھی طرح طہارت حاصل کرلو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو یا تم میں سے کوئی ضرورت سے آئے یا تم عورتوں کے پا س گئے ہو ، پھر تم نے پانی نہیں پایا ، پس قصد کرو پاک مٹی کا اور مل کو اپنے چہروں اور ہاتھوں پر اس مٹی سے ، اللہ نہیں چاہتا کہ تم پر تنگی دال دے بلکہ وہ چاہتا ہے کہ تم کو پاک کردے اور تاکہ تم پر اپنی نعمت پوری کردے۔ تاکہ تم شکر ادا کرو۔

وَ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَ مِیْثَاقَهُ الَّذِیْ وَاثَقَكُمْ بِهٖۤ١ۙ اِذْ قُلْتُمْ سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 5:7 in the Quran reader

اور یا د کرو اللہ کے احسان کو اور اس کے عہد کو جو اس نے تم سے پختہ طریقے سے ٹھرایا ہے ، جب تم نے کہا کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ اور ڈرتے رہو اللہ سے بیشک اللہ تعالیٰ جاننے والا ہے دلوں کے راز ۔

ربط آیات گذشتہ دردس میں اللہ تعالیٰ نے حلت و حرمت کا قانون بتایا۔ نکاح اور اکل و شرب میں حلال و حرام کو واضح کیا ، یہ دراصل طہارت ہی کا بیان ہے۔ انسان کے لیے ظاہری اور باطنی طہارت ضروری ہے ۔ عبادت سے بھی انسان کو باطنی طہارت حاصل ہوتی ہے اور عبادت کرنے سے پہلے ظاہری طہارت کی ضرورت ہوتی ہے ، کیونکہ اس کے بغیر نماز بھی ادا نہیں ہوسکتی۔ اور نماز کے ذریعے انسان اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے۔ چناچہ گذشتہ درس میں طہارت صغریٰ یعنی وضو کا مسئلہ بیان ہوچکا ہے ۔ اب آج کے درس میں طہارت کبریٰ کا بیان ہے یعنی جنابت کی حالت طاری ہوجائے تو کس طرح طہارت حاصل کرنی چاہیے۔ حدث اکبر بےوضو ہونا حدث اصغر ہے جب کہ جنابت کی حالت میں ہونا حدث اکبر ہے۔ جنابت کا معنی بعد یا دوری ہوتا ہے جب یہ حالت طاری ہوتی ہے تو انسان ملائکہ سے دور ہوجاتا ہے اور جب مکمل مہارت کرلیتا ہے تو اسے پھر ملائکہ سے مشابہت پیدا ہوجاتی ہے ۔ جنابت کا مذکورہ معنی زمانہ جاہلیت کے عربی شاعر کے شعر سے بھی واضح ہوتا ہے ۔ شاعر کہتا ہے مجھے میرے غریب الوطن یعنی گھر سے دور ہونے کی وجہ سے محروم نہ کرنا کیونکہ ان تمام خیموں میں ایک میں ہی غریب الوطن ہون۔ مقصد یہ کہ جنابت کا لفظی معنی دوری ہے کیونکہ جنابت کی حالت میں انسان پاکیزگی اور فرشتوں سے دور ہوجاتا ہے۔ جنابت اس حالت کو کہتے ہیں کہ جب انسانی جسم سے مادہ تولید شہوت کے ساتھ خارج ہو ۔ اخراج مادہ منویہ خواہ مباشرت کی وجہ سے ہو یا احتلام کی بنا پر آدمی ہر صورت میں جنبی ہوجاتا ہے طہارت کا ایک عام قاعدیہ ہے کہ انسانی جسم کے جو اعضا منکسف یعنی کھلے ہوتے ہیں انہیں دھونے کا حکم ہے ، جیسے منہ ، ہاتھ اور پائوں ۔ اور سر چونکہ اکثر پگڑی ، ٹوپی یا رومال سے ڈھکا رہتا ہے ، اس کے لیے صرف مسح کافی ہے ۔ برخلاف اس کے جنابت سے چونکہ سارا جسم اور اعصاب متاثر ہوتے ہیں۔ لہذا سارے جسم کے لیے نجاست حکمی لاحق ہوجاتی ہے ، جسکی وجہ سے پورے جسم کو پاک کرنا ضروری ہوجاتا ہے اس کی دوسری مثال حیض و نفاص ہے۔ ان دو حالتوں میں بھی عورت مکمل طور پر ناپاک ہوجاتی ہے ، لہذا اس کے لیے بھی مکمل طہارت لازم ہے۔ حیض کی حالت میں حکم ہے کہ عورتوں کے قریب نہ جائو حتیٰ یطھرون یہاں تک کہ وہ خوب اچھی طرح پاک صاف ہوجائیں ۔ یہاں جنابت کی صورت کے متعلق بھی فرمایا ، کہ جب جنبی ہو جائو فاطھرو تو مکمل طہارت حاصل کرو ۔ غرضیکہ جنابت سے پاکیزگی کے لیے مکمل غسل فرض ہوجاتا ہے ۔ جس طرح وضو کے بعد فرائض ہیں۔ اسی طرح غسل کے بھی فرائض ہیں جن کی ادائیگی کے بغیر نہ غسل مکمل ہوتا ہے اور نہ انسان پاک ہوتا ہے ۔ وضو کے دوران کلی کرنا سنت ہے جب کہ غسل جنابت میں فرض کا درجہ رکھتا ہے اسی طرح ناک میں پانی ڈالنا وضو میں سنت ہے جبکہ غسل جنابت میں ضروری ہے ، اس کے بغیر غسل مکمل نہیں ہوتا ۔ پھر اس کے بعد پورے جسم پر پانی بہانا فرض ہے حتٰی کہ کوئی جگہ خشک نہ رہ جائے کیونکہ تحت کل شعرۃ جنابۃ بر بال کے نیچے جنابت ہوتی ہے ۔ ْ اسی لیے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر پورے جسم میں ایک بال کے برابر بھی جگہ خشک رہ گئی تو غسل مکلمل نہ ہوگا ۔ اس طرح خطرے کے پیش نظر حضرت علی ؓ کا مقولہ ہے فمن ثم عادیت راسی اسی لیے میں نے اپنے سے کے ساتھ دشمنی کی ہے یعنی پورا سر منڈوا دیا ہے تاکہ غسل جنابت میں بال برابر جگہ بھی خشک نہ رہ جائے ، چناچہ حکم ہے کہ جنابت سے طہارت کے لیے خوب اچھی طرح طرح مل مل کر غسل کرو۔ پانی مطہر ہے پوری متمد دنیا پانی آلہ طہارت تسلیم کیا گیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشادہ ہے وانزلنا من السماء مآء طھور ا (الفرقان) ہم نے آسمان سے پاکیزہ پانی نازل فرمایا ہے۔ طہور مبالغے کا صیغہ ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ پانی خود پاک ہے اور دوسری چیزوں کو پاک کرتا ہے ۔ گویا پانی اولین آلہ مہارت ہے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ خوشبو بھی آلات طہارت میں داخل ہے مگر یہ دوسرے درجے پر ہے ، بہر حال اس آیت کریمہ میں ارشاد ہے۔ وان کنتم جنبا فاطھروا اگر تم جنابت کی حالت میں ہو تو اچھی طرح طہارت کرلو۔ طہارت کا طریقہ میں نے عرض کردیا ہے۔ پانی کی عدم موجودگی یہ تو واضح ہوگیا کہ طہارت کے بغیر نہ تو قرآن پاک کو ہاتھ لگایا جاسکتا ہے اور نہ نماز یا کوئی دیگر عبادت کی جاسکتی ہے۔ اب اگر نسان بےوضو ہوجائے یا حالت جنابت طاری ہوجائے اور آلہ طہارت یعنی پانی بھی میسر نہ ہو تو طہارت کیسے حاصل کی جائے ؟ اور عبادت کیسے ادا کی جائے ؟ ایسی صورت حال کے متعلق فرمایا وان کنتم مرضی اگر تم بیمار ہو جائو اور بیماری کی نوعیت ایسی ہو کہ پانی استعمال کرنے سے منع کردیا ہو او علی سفر یا تم سفر پر ہو اور دوران سفر پای میسر نہ ہو۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر پانی مسافر کے عارضٰ قیام سے کم از کم ایک میل کے فاصلے پر ہو۔ تو اس کے لیے تییم مباح ہوجاتا ہے ۔ تاہم حالت سفر ہو او جاء احد منکم من الغائط یا تم میں سے کوئی جائے ضرورت سے آیا ہو ۔ غائط دراصل پست جگہ کو کہتے ہیں ۔ رفع حاجت کے لیے عموماً لوگ پست اور نچلی جگہ کو تلاش کرتے ہیں تاکہ کسی کی نظر نہ پڑے ۔ اس لیے اصطلاحاً غائط بو ل ویراز کرنے کو کہتے ہیں ۔ فرمایا اگر تم رفع حاجت کے بعد آئے ہو۔ او لمستم النساء یا تم عورتوں کے پاس گئے ہو۔ لمس کے دو معانی دار ہوئے ہیں۔ امام شافعی (رح) لمس سے مراد ہاتھ لگانا لیتے ہیں ، گویا عورت کو ہاتھ لگانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے ۔ تاہم امام ابوحنیفہ ؓ اور دیگر ائمہ کرام لمس سے مراد مباشرت لیتے ہیں۔ لمستم باب مفاعلہ کا صیغہ ہے۔ اور اس باب کا تقاضا یہ ہے کہ فعل جانبین کی طرف سے ہو ، لہذا لمس کا معنی عورت سے قربت یا مباشرت ہی ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ ، حضرت علی ؓ اور دوسرے صحابہ ؓ نے یہی معنی لیا ہے کہ جب تم عورتوں سے مقاربت کرو۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے چا ر علل بیان فرمائے کہ اگر تم مریض ہو ، یا سفر پر ہو ، یا جائے ضرورت سے آئے ہو ، یا تم نے عورتوں سے مقاربت کی ہے۔ ان میں سے کوئی صورت حال پیدا ہوجائے ، فلم تجدو ماء پھر تم پانی نہ پائو۔ مذکورہ حالات میں وضو کی ضرورت ہے یا غسل کی اور پانی موجود نہیں ، یا تمہیں پانی پر قدرت نہیں یا پانی کے استعمال سے بیماری کے مہلک ہونے کا خطرہ ہے تو پھر کای کرو ؟ فرمایا فتیمعو صعیدا طیبا قصد کرو پاک مٹی کا ، یعنی پاک مٹی سے تییم کرلو ۔ یہ تمہارے لیے وضو اور غسل کے قائم مقام ہوگا ۔ تییم کا طریقہ تییم کا لفظی معنی قصد کرنا ہے ۔ فقہائے کرام تییم کا معنی قصدالصعید للتطھیر کرتے ہیں یعنی طہارت کے لیے پاک مٹی کا ارادہ کرنا۔ فرمایا جب پای میسر نہ ہو تو تتیم کرلو۔ مگر کیسے ؟ فا مسحو ابو جو مکم واید کم منہ یعنی اس مٹی کو اپنے مومنوں اور ہاتھوں پر مل لو۔ اس کی تشریح نبی (علیہ السلام) نے خود اپنے ارشاد مبارک سے فرمائی ۔ فرمایا دونوں ہاتھوں سے یک ضرب مٹی لگائو ۔ اگر مٹی زیادہ لگ جائے تو ہاتھوں کو جھاڑ دو ، تاکہ گرد و غبار قد سے کم ہوجائے پھر دونوں ہا تھ اپنے منہ پر مل لو ۔ پھر دوسری ضرب مٹی پر لگائو اور دونوں ہاتھ دونوں ہاتھوں پر کہنیوں سمیت مل لو۔ تمہارا تییم مکمل ہوگیا ضربات کی تعداد میں قضائے کرام کا اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک ایک ہی ضرب لگا کر منہ اور ہاتھوں پر پھیر لو۔ صحیح حدیث میں دو ضربوں کا ثبوت موجود ہے امام حنیفہ (رح) کا بھی یہی مسلک ہے ۔ ہاتھوں کی تعریف میں بھی کئی قول ہیں۔ امام زہری کے نزدیک ہاتھوں کی حد لعبلوں تک ہے۔ بعض کے نزدیک ہاتھ کلائی تک ہیں اور بعض کے نزدیک نصف ہاتھ تک ۔ مگر امام ابوحنیفہ (رح) کہنیاں بھی ہاتھوں میں داخل کرتے ہیں۔ تییم وضو کا نائب ہوتا ہے۔ اور وضو میں ہاتھ کہنیوں تک دھوئے جاتے ہیں لہذا تییم میں بھی مٹی پر ہاتھ مارکر مسح کیا جاتا ہے اور اس کے بعد پائوں دھونا فرض ہے مگر تییم میں دو فرائض پورے کئے جائیں گی اور ترک کردیئے گے۔ یعنی منہ اور ہاتھوں پر مسح ہوگا۔ اور سر اور پائوں کو چھوڑ دیا جائے گا ۔ پاک مٹی اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے صعیدا طیبا فرمایا ہے یعنی جس مٹی کے ساتھ تییم کیا جائے وہ پاک ہونی چاہیے ، نا پاک جگہ پر ہاتھ مارکر تییم کرنے سے تییم کیا جائے وہ پاک ہونی چاہیے ، ناپاک جگہ پر ہاتھ مار کر تییم کرنے سے تییم درست نہیں ہوگا ۔ بعض مقامات پر لوگ گندگی پھینکتے ہیں اگر خشک ہونے پر ایسی جگہ پر نماز پڑھی جاسکتی ہے مگر اس جگہ پر ہاتھ مار کر تییم نہیں کیا جاسکتا ، تییم کے لیے مٹی ، بالکل پاک صاف ہونی چاہیے۔ مٹی کے علاوہ زمین سے کوئی چیز ہو اس کے ساتھ تییم کیا جاسکتا ہے ، جیسے گردو غبار ، پتھر ، سیمنٹ ، چونا ، ہر تال ، اینٹ روڈ وغیرہ ان اشیا پر ضرب لگا کر تییم کیا جاسکتا ہے ، البتہ لکڑی کی راکھ درست نہیں کیونکہ جنس ارض سے تعلق نہیں رکھتی ۔ پہاڑی نمک کے ساتھ تییم کیا جاسکتا ہے ۔ بشرطیکہ ان میں نمی نہ ہو۔ دریائی نمک میں چونکہ نمی ہوتی ہے ، اس لیے اس سے تییم جائز نہیں ۔ پتھر چونکہ جنس زمین سے ہے اس لیے اس پر تییم جائز ہے اگرچہ اس پر گردوغبار نہ ہو ۔ دھات مثلاً لوہا ، تانبا ، سونا ، چاندی وغیرہ روا نہیں ہے ۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے التراب طھور الملم مسلمان کے لیے مٹی کا باعث طہارت ہے خواہ دس سال تک پانی میسر نہ ہو۔ اس دوران کوئی شخص تییم نہیں کرسکتا ، غرضیکہ وہ تمام امور انجام دے سکتا ہے جو وضو کرنے سے ادا ہوتے ہیں ۔ بہر حال یہاں پر وضو ، غسل اور تییم تینوں مسائل بیان کردیے گئے ہیں۔ احسانات الہٰی یہ تینوں مسائل بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا ما یرید اللہ لیجعل علیکم من حرج اللہ تعالیٰ تم پر کوئی تنگی نہیں ڈالنا چاہتا ۔ اللہ نے تمہارے لیے بڑی آسانیاں پیدا کی ہیں ولکن یرید لیطھر کم بلکہ وہ تو تمہیں پاک کرنا چاہتا ہے ، کیونکہ اس کا اپنا فرمان ہے و یحب المتطھر ین (بقرہ) کہ وہ پاکیزہ لوگوں کو پسند کرتا ہے ۔ اسی لے اس نے طہارت کے تمام طریقے تمہیں بتلا دیے ہیں ۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ یہ بھی چاہتا ہے ولیتم نعمتہ علیکم تا کہ تم پر اپنی نعمت پوری کردے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے احسانات اور اس کی مہربانیاں ہیں کہ اس نے تمہارے لیے حلت و حرمت کے احکام بیان فرمادیے ہیں۔ وضو ، غسل اور تییم کا طریقہ بتلایا ہے ، تمہارے لیے پاکیزہ چیزوں کو حلال اور جو چیزیں تمہارے جسم کی ساخت کے منافی اور روح کی طہارت کے خلاف انہیں حرام قراد دیا ہے اور خاص شروط کے تحت نکاح کی اجازت دی ہے ، اس سے پہلے اللہ تعالیٰ اپنے احسانات میں سے سلام کی دولت کا ذکر بھی کرچکے ہیں کہ اس کی طرف تمہاری راہنمائی فرمائی اور پھر تم اپنا دین مکمل کیا ، تمہیں خلافت ارضی ، غلبہ اور عزت عطا فرمائی ، قرآن جیسی عظیم کتاب کے علم سے تمہارے دلوں کو منور کیا اور بنی آخر الزماں کی سنت سے مستفید ہونے کی توفیق عطا فرمائی ۔ فرمایا یہ تم احسانات اس لیے کیے لعلکم تشکرون تا کہ تم میرے شکر گزار بندے بن جائو۔ نعمت کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری ہے ، ورنہ یہی نعمت تمہارے لیے وبال جان بھی بن سکتی ہے ۔ سورة سبا میں ارشاد ہے اعملو ال داو د شکرا واقلیل من عبادی الشکور اے آل دائود ! میرا شکر ادا کرو ، اور میرے شکر گزار بندے بہت تھوڑے ہیں۔ اکثر لوگوں کو بیشمار نعمتیں حاصل ہیں مگر وہ شکر نہیں کرتے۔ اسی لیے فرمایا واذکر و انعمتہ اللہ علیکم ان نعمتوں کو یاد کرو جو اللہ نے تمہیں عطا کی ہیں۔ اور ا س کا شکریہ ادا کرتے رہو۔ عہد خداوندی فرمایا کے علاوہ ومیثاقہ الذی واثقکم بہ اس عہد کو بھی یاد کرو جو اس نے تم سے پختہ طریقے پر ٹھہرایا ہے اذ قلتم سمعنا واطعنا جب تم نے کہا تھا کہ ہم نے سن لیا اور اطاعت کی اس قسم کا ذکر اس امت کے بارے میں سورة بقرہ کے آخری رکوع میں بھی موجود ہے وقالو سمعنا واطعنا غفرانک ربنا والیک المصیر۔ ایمان والوں نے یہی کہا کہ ہم نے تیرے احکام سن لیے اور ان کی اطاعت کا عہد کرتے ہیں اے مولا کریم ! ہمارے گناہ معاف فرمادے کہ ہمیں تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔ سابقہ سورة میں گز رچکا ہے کہ آخری امت سے پہلے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے بھی عہد لیے۔ مگر انہوں نے توڑ دیے ۔ سورة نساء میں فیما نقضھم میثاقھم کے الفاظ موجود ہیں۔ کہ ان کے عہد توڑنے کو جہ سے وہ لعنت کے ٹھہرے ۔ اس سورة کی ابتداء بھی ایفائے عہد کے موضوع سے ہی ہونی ہے ۔ ” یا ایھا الذین امنوا او فو بالعقود “ اے ایمان والو ! اپنے عہدوں کو پورا کرو ۔ عہد کا ایفا کرنا بہت بڑی ذمہ داری کی بات ہے جو شخص کلمہ توحید پڑھتا ہے ۔ اللہ کے احکام کی اطاعت کا عہد کرتا ہے۔ تو اسے چاہیئے کہ اپنے عہد کو پورا کرے۔ اسی لیے یہاں فرمایا کہ اپنے اس عہد کو یاد کرو عام طور پر اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ ہے کہ وہ قوانین یا احکام بیان کرنے کے بعد یا تو علم کا حوالہ دیتا ہے یا تقویٰ اختیار کرنے کا۔ چناچہ یہاں تییم کے احکام بیان کرنے اور اپنے احسانات کے ذکر کے بعد فرمایا واتقو اللہ اللہ تعالیٰ سے ڈر جائو ۔ کہیں اس کے عہد کی خلاف ورزی نہ کر بیٹھنا ۔ یہ نہ سمجھنا کہ تم اپنے ہم جنسوں کی طرح اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دے سکو گے ، بلکہ ان اللہ علیم بذات الصدور وہ تمہارے نیت اور اردے سے واقف ہے ۔ لہذا عہد شکنی کر کے تم اس کی سزا سے بچ نہیں سکتے۔
Ayahs 5:8–11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ لِلّٰهِ شُهَدَآءَ بِالْقِسْطِ١٘ وَ لَا یَجْرِمَنَّكُمْ شَنَاٰنُ قَوْمٍ عَلٰۤى اَلَّا تَعْدِلُوْا١ؕ اِعْدِلُوْا١۫ هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰى١٘ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:8 in the Quran reader

اے ایمان والوں ! ہو جائو تم قائم رہنے والے اللہ تعالیٰ کے لیے اس حال میں کہ تم گواہی دینے والے ہو انصاف کے ساتھ اور نہ آمادہ کرے تو کسی قوم کی دشمنی کہ تم انصاف کرنا چھوڑ دو ، انصاف کرو کہ یہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو ، بیشک اللہ تعالیٰ خوب خبر رکھتا ہے ان باتوں کی جو تم کرتے ہو۔

وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ۙ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ Open ayah 5:9 in the Quran reader

اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے ان لوگوں سے جو ایمان لاتے ہیں اور اچھے اعمال کیے ہیں کہ ان کے لیے بخشش ہے اور بڑا اجر ہے ۔

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ Open ayah 5:10 in the Quran reader

اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا یہ لوگ ہیں دوذخ والے ۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ هَمَّ قَوْمٌ اَنْ یَّبْسُطُوْۤا اِلَیْكُمْ اَیْدِیَهُمْ فَكَفَّ اَیْدِیَهُمْ عَنْكُمْ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۠ Open ayah 5:11 in the Quran reader

اے ایمان والو ! یاد کر اللہ کی نعمت کہ تم پر ۔ جب قصہ کیا ایک قوم نے کہ وہ بڑھائیں تمہاری طرف اپنے ہاتھوں کو تم پر۔ جب قصد کیا ایک قوم نے کہ وہ بڑھائیں تمہاری طرف اپنے ہاتھوں کو پس روک دیا اللہ نے ان کے ہاتھوں کو تم سے اور ڈرو اللہ تعالیٰ سے اور اللہ کی ذات پر ہی چاہیے کہ ایمان والے بھروسہ رکھیں ۔

ربط آیات پہلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے ایفائے عہد کا حکم دیا ہے ۔ انسانی سوسائٹی میں عہد و پیمان کو پورا کرنا بڑی قدروقیمت رکھتا ہے۔ عہد و پیمان مخلوق کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ بھی ۔ اللہ عہد میں اس کی وحدانیت کو ماننا ، جزائے عمل پر یقین رکھنا ۔ تمام احکام کی تعمیل کرنا اور حلت و حرمت کے ان قوانین پر عمل کرنا جو اس سورة تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔ ان میں محرمات نکاح اور محرمات اکل و شرب خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اللہ نے شعائر اللہ کی تعظیم کا حکم بھی دیا ہے ۔ طہارت کے اصول بیان فرمائے ہیں ان میں ظاہری اور باطنی ہر دو قسم کی طہارت شامل ہے۔ نماز کے لیے طہارت کو شرط قرار دیا اور پھر اس ضمن میں وضو کے فرائض بیان فرمائے ۔ طہارت کبریٰ یعنی غسل جنابت کا مسئلہ بیان فرمایا اور پھر پانی کی عدم دستیابی عدم قدرت کی بنا پر تییم کے ذریعے طہارت حاصل کرنے کا طریقہ بتلایا۔ اس کے ساتھ پھر عہد و پیمان کو پورا کرنے کا حکم دیا اور تقویٰ کی ضرورت پر زور دیا ۔ چناچہ اس سلسلہ میں واتقو اللہ کا لفظ بار بار آیا ہے جسیے وتقو اللہ ان اللہ شدید العقاب ، نیز واتقو اللہ ان اللہ سریع الحساب ۔ واتقو اللہ ان اللہ علیم لئذات الصدور۔ عدل کی اہمیت تقوے کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے عدل کا حکم بھی دیا کیونکہ تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ظلم سے بچ جائے اور عدل کو اختیار کرلے۔ امام شاہ ولی اللہ محدث فرماتے ہیں کہ اصول یا اخلاق چار ہیں جن کی پابندی از بس ضروری ہے ۔ اگر غو ر سے دیکھا جائے تو تما م قوانین اور شرائع انہی اصولوں کی تشریح معلوم ہوتے ہیں۔ ان اصولوں میں پہلا نمبر طہارت کا ہے ، دوسرا نمبر پر اخبات یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کا اظہار ہے تیسرے نمبر پر سماحت ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ انسان رزیل چیزوں سے بچ جائے اور چوتھی چیز عدالت ہے جس پر اجتماعی نظام قائم ہے جس طرح طہارت سے انسان کی مشابہت ملائکہ سے ہوتی ہے ، اسی طرح عدل و انصاف اختیار کرنے سے انسان کی مشابہت ملاء اعلیٰ سے ہوتی ہے ۔ لہذا جو لوگ عدل کے ذریعے اجتماعی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں ملاء اعلیٰ کے فرشتے ان کے حق میں بخشش کی دعائیں کرتے ہیں کہ یہ ان کے فرائض میں شامل ہے۔ اسی طرح جو لوگ اجتماعی حالات کو بگاڑنے کی کوشش کرتے ہیں ان پر ملا و اعلیٰ کی لعنت پڑتی ہے ۔ سچی گواہی عہدو پیمان کی پابندی ہی کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ کا ارشادہ ہے یایھالذین امنو کو نو قومین للہ اے ایمان والو ! تم اللہ کے لیے قائم ہونے والے بن جائو شھداء بالقسط جب کہ تم انصاف کے ساتھ گواہی دینے والے ہو۔ قومین کا معنی قائم رہنے والے ہو ، مگر کس کے لیے صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل میں انصاف کے ساتھ سچی گواہی دو اس گواہی میں صرف مقدمات سے متعلقہ گواہی ہی سامل نہیں ، بلکہ اس میں وہ تمام امور آجاتے ہیں جن کا تعلق شہادت سے ہو۔ ایسے ہر معاملہ میں طرفداری اقر با پروری یا خود غرضی وغیرہ مہلک ثابت ہوسکتی ہے ۔ کیونکہ شہادت کے متعلق صرف حکم موجود ہے اقیمو الشھادۃ للہ یعنی شہادت محض اللہ کی رضا کی خاطر قائم کرو۔ اگر سچی گواہی کو چھپاء گے تو گنہگار بنو گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا فیصلہ فر مادیا ہے ومن یک تمھا فانہ اثء قلبہ یعنی جو کوئی شہادت کو چھپائے گا اس کا دل گنہگار ہوگا۔ اور جھوٹی شہادت کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ کا ارشاد مبارک ہے یعنی جھوٹی گواہی کا جرم اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے کے برابر ہے اسی لیے شہادت زور کو اکبر الکبائر میں شمار کیا گیا ہے ۔ شہادت کی وسعت اس آیت کریمہ میں جس شہادت کا ذکر ہے۔ اس کے متعلق حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب (رح) اپنی تفسیر معارف القرآن بیان کرتے ہیں کہ اس میں ہر قسم کی وہ شہادتیں داخل ہیں جن سے ہمیں روز مرہ واسطہ رہتا ہے اور جن میں اکثر لوگ غلطیاں کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پر کسی بیمار کے حق میں ڈاکٹری سرٹیفکیٹ کو شہادت کی حیثیت حاصل ہے مگر عموماً ایسا سرٹیفکیٹ جھوٹا ہوتا ہے ۔ کوئی ملازم اپنی ڈیوٹی ادا کرنے کے اہل ہے یا نہیں ، اس کی تصدیق ڈاکٹر ہی کرسکتا ہے ، اگر وہ پیسے لے کر غلط سرٹیفکیٹ جاری کرتا ہے ، تو یہ چیز تقویٰ اور عدل کے منافی ہے۔ اسی طرح طلبا کی سند کامیابی کو بھی گواہی کی حیثیت حاصل ہے۔ ممتمن ارادہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ فلاں طالبعلمہ فلاں ڈگری کا اہل ہے اور اگر کسی حیلے بہانے سے غلط ڈگری جارہی ہوتی ہے تو یہ متعلقہ ادارے کی طرف سے شہادت تصور ہوگی۔ اگر نااہل آدمی کو رشوت یا سفارش کی بناء پر بغیر اہلیت کے ڈپلوما ، سرٹیفکیٹ یا ڈگری جاری ہوتی ہے ، تو اس کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں نکلے گا۔ جھوٹی ڈگری حاصل کرنے والا آدمی دنیا میں گمراہی کے سوا کیا پھیلائے گا۔ اسلامی نظام حکومت جمہوری نظام حکومت میں ووٹ بھی ایک امانت ہوتی ہے جو کسی اہل کے سپرد ہونی چاہیئے مگر غلط آدمی کے حق میں رائے دینا اس کے حق میں جھوٹی گواہی کے مترادف ہے۔ امید وار مقامی کونسل کا ہو ، صوبائی اسمبلی کا یا قومی اسمبلی کا شہادت کا تقاضا یہ ہے کہ ووٹ اہل آدمی کو دیا جائے ۔ مگر آج اہلیت کو کون کون جانتا ہے ؟ اب تو الیکشن پارٹی کی بنیاد پر یا برادری کی وجہ سے یا رشوت کے زور سے جیتے جاتے ہیں ۔ حالانکہ اہل آدمی کو ووٹ دینا صریح خیانت ہے۔ ہماری نامرادی کی بنیادی وجہ یہی ہے۔ کہ نہ ہمارا ووٹ صحیح آدمی کو جاتا ہے اور نہ کوئی امید کی کرن نظر آتی ہے ظاہر ہے کہ جو آدمی لاکھوں روپے خر چ کرکے ممبر بنا ہے ، وہ ممبر بن کی کئی گنا زیادہ حاصل کر نیکی کوشش کریگا ۔ اس طریقے سے ملک و قوم کی بہتری کی کیسے توقع کی جاسکتی ہے ؟ جب اسمبلیوں میں فاسق جاجر لوگ جائیں گے تو وہ اسلام کے نظام کو کیسے قائم کرینگے ، سرمایہ دارانہ یا ملحدانہ نظریات رکھنے والے لوگ اسلامی حکومت کبھی قائم نہیں کریں گے۔ بعض حلقوں میں برادری اور پارٹی بازی کی بنیاد پر بالکل جاہل آدمی ممبر بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگ قوم و ملت کے لیے کیا کرسکتے ہیں ؟ بہرحال ہمارے ملک میں اسلامی نظام نہ آنے کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ ہم ووٹ دیتے وقت سچی گواہی نہیں دیتے۔ اگر ہماری رائے ایماندار اور صائب الرائے لوگوں کے حق میں جائے تو کتاب و سنت کا اسلامی نظام جس پر خلفائے راشدین نے عمل کیا ، آج بھی جاری ہو سکتا ہے ۔ ہر حالت میں عدل عدل و انصاف کی اہمیت کے پیش نظر فرمایا ولا یجرمنکم شنان قوم علی الا تعد لو کو کسی قوم کی دشمنی تمہیں ناانصافی پر آمادہ نہ کرنے پائے بلکہ اعد لو ہمیشہ انصاف کا دامن پکڑے رکھو۔ عدل بری ضروری صفت ہے ، اجتماعی نظام کی کامیابی عدل پر موقوف ہے۔ عدل کرنے والوں کو ملاء اعلیٰ سے مشابہت ہوتی ہے ۔ عدل کے بغیر کوئی نظام درست نہیں ہوسکتا ۔ حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے ، کوئی اپنا ہو یا بیگانہ ، قریبی ہو یا اجنبی ، رشتہ دار ہو یا پڑوسی ہر ایک کے ساتھ یکساں سلوک کرو ، کسی کے ساتھ رو رعایت نہ کرو کہ یہ عدل کے خلاف ہے۔ فرمایا بر خلاف اس کے عدل کرو ھو اقرب للتقویٰ عدل کے ہی تقوے کے قریب تر ہے واتقو اللہ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو کیونکہ ان اللہ خبیر بماتعملون اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل سے باخبر ہے۔ پہلے علت و حرمیت کے انفرادی احکام بیان ہوئے۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا ذکر ہوا اور تلقین کی گئی ہے کہ دونوں حقوق احسن طریقے سے اداکرو۔ اب اجتماعی احکام بیان ہو رہے ہیں اور اس ضمن میں شہادت اور عدل و انصاف کا تذکرہ ہوا ہے۔ اہل ایمان سے وعدہ آگے فرمایا تعمیل حکم کرنے والے اور نافرمانی کرنے والے اپنا اپنا انجام بھی سن لیں فرمایا وعد اللہ الذین امنوا اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے وعدہ کیا ہے جو ایمان لائے ہیں وعملوا الصلحت اور انہوں نے اعمال صالحہ انجام دیے ہیں کامیابی کی بنیاد تو یہی دو چیزیں ہیں یعنی ایمان اور عمل صالح۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت ‘ اس کی کتابوں ‘ رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لانا اور پھر نماز ‘ روزہ ‘ حج ‘ زکوۃ اور جہاد جیسے نیک اعمال اختیار کرنا ‘ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا لھم مغفرۃ یقینا انہیں بخشش حاصل ہوگی۔ اللہ تعالیٰ چھوٹی موٹی کوتاہیاں معاف فرمادے گا کچھ ایمان کی بدولت اور کچھ اعمال صالحہ کی وجہ سے ۔ بہر حال ایسے لوگوں کے لیے بخشش کے علاوہ واجرعظیم کی بشارت بھی ہے اللہ تعالیٰ انہیں بہت بڑا اجر عطافرمائیں گے۔ کفار کا انجام برخلاف اس کے ولذین کفروا جن لوگوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا۔ توحید کی بجائے شرک کو اختیار کیا ‘ اخلاص کی بجائے نفاق میں آلودہ ہوگئے اور اعمال میں خلوص کی بجائے ریاکاری کا عنصر غالب آگیا۔ اس کے علاوہ وکذبوا بایتنا ان لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا۔ یا تو قول سے تکذیب کی یا پھر مانتے ہوئے بھی عمل نہ کرکے عمل سے تکذیب کی اور اس طرح منافقین کا شیوہ اختیار کیا ‘ فرمایا اولئٓک اصحب الجحیم یہی جہنم والے لوگ ہیں۔ دنیا میں یہ کتنی بھی عیش و عشرت کرلیں۔ ہر طرح کی آراء و راحت حاصل کرلیں مگر آخر میں ‘ یہ جہنم کے کندئہ ناتراش ہیں۔ ان کا حشر ویسا ہی ہوگا جیسے گذشتہ سورة میں آچکا ہے نولہ ما تولی ونصلہ جھنم وسآ ئت مصیرا جو کوئی اغیار کا طریقہ اختیار کریگا ‘ ہم اس کا رخ ادھر ہی پھیردیں گے جدھر وہ جانا چاہتا ہے ۔ اور بالآخر وہ جہنم میں پہنچ جائے گا جو بہت برا ٹھکانا ہے۔ انعام کا شکریہ س کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان سے خطاب کرکے اپنی عطا کردہ نعمتوں کا شکریہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ ان نعمتوں میں حلت و حرمت کی تعلیم۔ ایمان کی دولت ‘ اعمال صالحہ کی توفیق ‘ صفت عدل کا حصول وغیرہ ہیں۔ کوئی چھوٹا انعام ہے کوئی بڑا انعام ہے۔ ان سب پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ چانچہ ارشاد ہوتا ہے۔ یایھا الذین امنوا اذکروا نعمۃ اللہ علیکم اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو یادکرو جو اس نے تم پر کیں۔ یہاں پر ایک خاص واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ کہ دیکھو ! اللہ نے تم پر احسان کیا اذھم قوم ان یبسطوآ الیکم ۔۔ جب ایک قوم نے تمہاری طرف ہاتھ بڑھانے کا ارادہ کیا۔ لڑائی کا میدان تھا۔ حضور ﷺ اور صحابہ کرام ؓ میدان جنگ میں موجود تھے۔ اہل اسلام نے ظہر کی نماز میدان جنگ میں ہی ادا کی۔ بعد میں کفار کو بڑا افسوس ہوا کہ ان سے غلطی ہوگئی ‘ جب مسلمان نماز میں مصروف تھے تو ان پر یکبار گی حملہ کردینا چاہیے تھا۔ پھر سوچا ‘ کوئی بات نہیں۔ ابھی عصر کی نماز آنے والی ہے ‘ اور یہ نماز مسلمان کو اپنی اولاد سے بھی زیادہ عزیز ہے اور اسے وہ ضرور ادا کریں گے اور ہم ہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان پر حالت نماز میں ہی ٹوٹ پڑیں گے۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے خاص احسان فرمایا کہ وحی کے ذریعے صلوۃ خوف پڑھنے کی اجازت دے دی جس کی وجہ سے مسلمانوں نے نماز بھی ادا کرلی اور دشمن کا دفاع بھی کرتے رہے۔ چناچہ صلوۃ خوف کے طریقہ کے مطابق مجاہدین دوگروہوں میں تقسیم ہوگئے۔ ایک گروہ نے حضور ﷺ کی قیادت و امامت میں نصف نماز ادا کی اور اس دوران دوسرا گروہ محاذ پر کھڑا رہا۔ پھر پہلا گروہ محاذ پر چلا گیا اور دوسرے گروہ نے نصف نماز حضور ﷺ کے ساتھ ادا کی۔ اس طرح ہر دو گروہوں نے آدھی آدھی نماز جماعت کے ساتھ اور باقی آدھی آدھی انفرادی طور پر ادا کی۔ اس طرح نماز بھی ادا ہوگئی اور دشمن کو حملہ کرنیکا موقع بھی نہ ملا۔ اللہ نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کر کے احسان جتلایا ہے۔ کہ میری اس نعمت کو یاد کرو۔ کہ جب ایک قوم نے تمہیں نیست و نابود کردینے کا ارادہ کیا : فکف ایدیھم عنکم پس ہم نے ان کے ہاتھ تمہاری طرف بڑھنے سے روک دیے۔ اللہ پر بھروسہ فرمایا واتقوا اللہ اللہ سے ڈر جائو۔ وعلی اللہ فلیتوکل المئومنون اور مومنوں کو چاہیے کہ وہ خدا تعالیٰ کی ذات پر ہی بھروسہ رکھیں۔ بیشک ہتھیار اور دیگر ذرائع استعمال کرو۔ مگر نتائج کے لیے بھروسہ ہمیشہ اللہ پر ہی رکھو ‘ کیونکہ کسی چیز میں اثر پیدا کرنا اسی کے قبضے میں ہے۔ وہ جب چاہے گا تمہارے لیے اچھے نتائج پیدا کرنا اسی کے قبضے میں ہے۔ وہ جب چاہے گا تمہارے لیے اچھے نتائج پیدا فرمادے گا۔ اگر وہ نہیں چاہے گا ‘ تو کچھ نہیں ہو سکتا۔ لہذا تمام مسائل بروئے کار لانے کے بعد نتائج کے لیے بھروسہ اللہ پر ہی ہونا چاہیے۔ ہر چیز کا تصرف اسی کے پاس ہے ‘ وہ جس ذریعہ سے کام لینا چاہے گا از خو د لے لے گا۔ تم پورے خلوص کے ساتھ بقدر ہمت اپنا فرض ادا کرو اور اس کے بعد اسے اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دو کہ اہل ایمان کی یہی شان ہے۔