Ayahs 5:90–93ربط آیات
گزشتہ درس میں حلت و حرمت کا قانون بیان ہوچکا ہے۔ اللہ نے فرمایا جن پاک چیزوں کو اس نے حلال قرار دیا ہے ان کو حرام نہ بنائو۔ نہ تو اعتقاداً انہیں حرام سمجھو اور نہ قسم اٹھا کر از خود اپنے لئے حرام قرار دو ، بلکہ ان سے استفادہ حاصل کرو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرو۔ اب آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے کچھ مزید محرمات کا ذکر کیا ہے اور حرام کردہ اشیاء سے بچنے کا حکم دیا ہے حرام کردہ اشیاء میں یقینا کوئی دینی ، دنیاوی ، جسمانی یا روحانی نقصان ہے جس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ جس طرح حلال چیز کو حرام کرلینے سے فساد پیدا ہوتا ہے اور اجتماعی مصلحت خراب ہوتی ہے۔ اسی طرح حرام چیز کو استعمال کرنے سے ملی اور اجتماعی مصلحت کو نقصان پہنچے گا۔
شراب اور جواء
ارشاد ہوتا ہے ۔ یا یھا الذین امنوا اے ایمان والو ! انما الخمر والمیسر بیشک شراب اور جوائ۔ یہاں ان چیزوں کا ذکر آ رہا ہے۔ جنہیں اللہ تعالیٰ نے قطعاً حرام دے کر ان سے بچنے کا حکم دیا ہے۔ شربا اور جوئے کا ذکر سورة بقرہ میں بھی ہوچکا ہے۔ ” لیسئلن نک عن الخمر والمیسر “ اے پیغمبر (علیہ السلام) لوگ آپ سے شربا اور جوئے کے متعلق دریافت کرتے ہیں کہ ان کے متعلق کیا حکم ہے۔ تو وہاں پر اللہ نے صرف اتنا حکم دیا قل فیھما اثم کبیر و منافع اللناس ان دو چیزوں میں بڑا گناہ ہے مگر ان میں لوگوں کے لئے بعض فوائد بھی ہیں۔ نقصانات اور گناہ کا ذکر تو ابھی اگلی آیت میں آ رہا ہے تاہم شراب کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ جسم میں حرارت پیدا کرتی ہے جس سے خون میں جوش پیدا ہوتا ہے اور انسانی جسم کے لئے سردی سے بچائو ایک ذریعہ بنتا ہے۔ اسی طرح جوئے میں بغیر مشقت اٹھائے مال حاصل ہوتا ہے اور اس سے صدقہ خیرات بھی کیا جاتا ہے۔ عرب لوگ جوئے کی کمائی سے صدقہ خیرات کو بڑا فضل جانتے تھے اسی لئے فرمایا کہ ان دو چیزوں میں گناہ بھی ہے اور کچھ فائدہ بھی ہے۔ ” واثمھما اکبر من نفعھما “ تاہم ان دونوں اشیاء میں نفع کی نسبت گناہ کا عنصر غالب ہے۔ بہرحال اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے شراب اور جوئے کے فوائد و نقصانات کا تذکرہ کیا مگر ان کی قطعی حرمت کا حکم نہیں دیا تھا۔
اس سے پہلے سورة نحل میں بعض پھلوں کا ذکر کر کے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” تتخذون منہ سکرا ورزقاً حسنا تم ان پھلوں سے نشہ آور اشیاء (شراب وغیرہ) اور اچھا رزق (چٹنی ، اچار ، مربہ ، وغیرہ) بنا لیتے ہو۔ یہاں پر اگرچہ حلت و حرمت کا ذکر تو نہیں کیا مگر نشہ آور اشیاء کو رزق احسناً سے علیحدہ کر کے ان کی حیثیت کو کم تر قرار دے دیا۔ شراب سے متعلق یہ سب سے پہلی آیت تھی اس کے بعد سورة بقرہ کی مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی جس میں شراب اور جوئے کے فائدے اور نقصان کا ذکر کیا گیا۔ تاہم اس کی حرمت کے متعلق قطعی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ اس دوران حضرت عمر دعا کیا کرتے تھے ۔ اللھم بین لنا فی الخمر بیاناً شافیاً ۔ اے اللہ ! ہمارے لئے شراب کے متعلق کوئی واضح حکم نازل فرما۔ لوگ ابھی تک شراب پی رہے تھے ۔ پھر سورة نساء کی یہ آیت نازل ہوئی یا یھا الذین امنوا لاتقربوا الصلوۃ و انتم سکری حتی تعلموا ما تقولون ۔ یعنی اے ایمان والو ! نشے کی حالت میں نماز کے قریب نہ جائو یہاں تک کہ تم جان سکو کہ کیا کہہ رہے ہو۔ اس آیت کریمہ کے پس منظر میں یہ واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ کسی شخص نے بعض صحابہ کرام کی دعوت کی۔ کھانے کے بعد شراب کا دور بھی چلا جس سے انہیں نشہ آ گیا اتنے میں نماز کا وقت ہوگیا ، نماز کے لئے کھڑے ہوئے تو امام غلط پڑھ گئے ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے نشے کی حالت میں نماز پڑھنے سے منع فرما دیا۔
چونکہ اس قبیح چیز کے متعلق ابھی واضح حکم نہیں آیا تھا۔ اس لئے حضرت عمر کسی اٹل حکم کے لئے دعائیں مانگتے رہے حتی کہ آج کی یہ آیت نازل ہوئی انما الخمر والمیسر … الخ اور شراب ، جوا ، بت اور تقسیم کے تیر ہمیشہ کے لئے حرام قرار دے دیئے گئے۔ گویا شراب کی حرمت بتدریج نازل ہوئی ۔ سب سے پہلے سورة نحل میں نشہ آور اشیاء کی تیاری کی طرف اشارہ کیا۔ پھر سورة بقرہ کی آیت کریمہ نازل ہوئی جس میں فرمایا گیا کہ شراب اور جوئے میں فائدہ اور نقصان دونوں عناصر پائے جاتے ہیں مگر ان کا نقصان ان کے فائدے سے بڑا ہے۔ پھر تیسرے نمبر پر سورة نساء کی آیت نازل ہوئی جس میں نشے کی حالت میں نماز کے قریب جانے سے منع کیا گیا اور آخر میں سورة مائدہ کی اس آیت نے شراب اور دیگر اشیاء کو قطعی حرام قرار دے دیا۔ اس آیت کے نزول پر حضور ﷺ نے اعلان فرمایا کہ شراب کا پینا ، بنانا ، خریدنا اور بیچنا بالکل ممنوع ہوگیا ہے۔ پھر آپ نے شراب کے برتنوں کو استعمال کرنے سے بھی منع فرما دیا اور صحابہ کرام نے شراب کشیدکر نے والے مٹکے اور پینے پلانے والے دیگر برتن توڑ ڈالے تاہم مزید کچھ عرصہ بعد شراب کے برتنوں کے استعمال کی اجازت دیدی البتہ فرمایا کل مسکر حرام۔ یعنی ہر نشہ آور چیز حرام ہے۔ حضور ﷺ کا یہ بھی فرمان ہے الخمر جماع الاثم یعنی شراب تما م گناہوں کی جامع ہے جو شخص شراب پئے گا وہ دنگا فساد کرے گا ، قتل اور زنا کا مرتکب ہوگا اور دیگر برائیاں انجام دے گا ، اسی لئے اس قبیح چیز کو جامع الاثم کہا گیا ہے شراب کے مختلف ناموں میں سے ایک کا نام اثم بھی ہے جس کا معنی گناہ ہے۔ اس آیت میں اللہ نے جو ابھی قطعی حرام قرار دیا ہے۔ عربوں میں تیروں کے ذریعے جواء کھیلا جاتا تھا مگر اب تاش ، شطرنج ، گھوڑ دوڑ ، لاٹری وغیرہ اس کی مختلف صورتیں ہیں جن کے ذریعے ہارجیت کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور یہ سب شکلیں حرام ہیں۔
بت پرستی اور تیر
فرمایا بیشک شراب اور جواء والانصاب والازلام اور بت اور تقسیم کے تیر ، طاہر ہے کہ بت اور بت پرستی تو اسلام میں قطعی حرام ہیں۔ بتوں کے نام پر ذبیحہ کو بھی حرام قرار دیا گیا ہے۔ تاہم مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ کے علاوہ جس چیز کی بھی عبادت کی جائے یا نذر و نیاز دی جائے وہ بھی اس حکم میں داخل ہو کر حرام ہے۔ یہاں پر دوسری چیز ازلام کا فرار ہے جو زلم کی جمع ہے اور اس کا معنی تقسیم اور جوئے کے تیر ہیں۔ ان کا ذکر اسی سورة کی ابتداء میں بھی ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہاں دیگر چیزوں کو حرار قرار دیا وہاں ان کے متعلق بھی فرمایا ان تستقسم موا بالا زلام ۔ کہ تم تیروں کے ذریعے کوئی چیز تقسیم کرو۔ تیروں کا استعمال دو طریقے سے ہوتا تھا۔ قسمت کا حال معلوم کرانے کے لئے کاہن لوگ یہی تیر استعمال کرتے تھے ، ان کے پاس بہت سے تیر ہوتے تھے جب کوئی غرض مند ، سفر ، تجارت یا شادی وغیرہ کے متعلق حال معلوم کرنا چاہتا تو وہ کاہن کے پاس جاتا جو تیر نکالتا۔ اس کام کے لئے عام طور پر تین تیر استعمال کئے جاتے تھے۔ ایک پر لفظ نعم لکھا ہوتا ، دوسرے پر لا اور تیسرا خالی ہوتا۔ حسب ضرورت ان میں سے کوئی ایک تیر نکالا جاتا۔ اگر نعم والا تیر نکلتا تو کاہن کہتا کہ جس کام کا ارادہ کیا ہے وہ کر ڈالو ، اس کا نتیجہ تمہارے حق میں نکلے گا۔ اگر لا والا تیر نکلنا تو اس شخص کو مسئولہ کام کرنے سے منع کردیا جاتا کہ اس کا نتیجہ تمہارے حق میں بہتر نہیں ہے اور اگر تیسرا خالی تیر نکل آتا تو پھر معاملہ ملتوی کردیتے اور پھر کسی آئندہ موقع پر دوبارہ تیر نکلواتے۔
تیروں کے استعمال کی ایک اور صورت یہ تھی کہ کل دس تیروں میں سے سات تیروں پر ایک سے لے کر سات تک نمبر لکھے ہوتے اور تین تیر خلای ہوتے۔ عام طور پر قحط کے زمانے میں ایسا ہوتا کہ کوئی دس آدمی مل کر اونٹ خریدتے ، پھر اس کو ذبح کر کے اس کے گوشت کے دس برابر حصے کرتے۔ اونٹ میں حصے دار ایک ایک کر کے تیر نکالتے جس کے نام پر جتنے نمبر کا تیر نکل آتا وہ گوشت کے اتنے حصے لے جاتا ، اس طرح محروم رہ جاتے۔ حصہ پانے والے گوشت خود بھی استعمال کرتے اور غربا میں بھی تقسمی کرتے۔ حصہ سے محروم رہنے والے ترغیب دیتے کہ چلو دوبارہ اونٹ خریدیں اور ذبح کریں ، پھر ایسا ہی کرتے۔ بعض کو حصہ مل جاتا اور بعض محروم رہ جاتے اور اس طرح یہ سلسلہ جاری رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس قسم کے جوئے کے تیروں کو بھی حرام قرار دیدیا۔
شیطان
اللہ تعالیٰ نے چار چیزوں یعنی شراب ، جواء بت اور تقسیم کے تیروں کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا رجس من عمل الشیطن۔ یہ گندہ اور شیطانی کام ہے فاجتنبوہ پس اس سے بچ جائو۔ لعلکم تفلحون تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ عربی زبان میں رجس اس گندی اور ناپاک چیز کو کہا جاتا ہے جس سے فطرت سلیمہ اور عقل سلیمہ نفرت کرے اس آیت میں جن چار چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ سب قابل نفرین امور ہیں اور شیطانی کام ہیں۔ بظاہر تو یہ سب کام انسان ہی انجام دیتے ہیں مگر ان میں موجود برائی کی وجہ سے مجازاً انہیں شیطانی کام کہا گیا ہے۔ شیطانی ہی کی وسوسہ اندازی کی وجہ سے ان قبیح امور کی طرف رغبت ہوتی ہے۔ اور پھر شیطان ایسے کاموں پر خوش بھی ہوتا ہے۔ لہٰذا انہیں شیطانی افعال سے تعبیر کیا گیا ہے۔
بت پرستی تو ویسے ہی حرام ہے۔ یہ شرک اور کفر ہے۔ اسی طرح قسمت آزمائی کے تیر بھی شرک میں داخل ہیں ۔ نسائی شریف کی روایت میں آتا ہے مدمن الخمر کعابد وثن ہمیشہ شراب نوشی کرنے والا بت پرستی کرنے والے کے برابر ہے۔ اگر کوئی شخص شراب اور جوئے کو اچھا سمجھتا ہے اور ان کی حرمت کا قائل نہیں ہے تو اس میں اور بت پوجنے والے میں کوئی فرق نہیں ، دونوں کافر ہیں۔ ہاں اگر اس کو حرام سمجھتے ہوئے پیتا ہے تو گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ بہرحال ان چاروں چیزوں کو اکٹھا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ان سے اجتناب کرو۔ تاکہ تمہیں فلاح حاصل ہو ائے شراب کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ شراب کی حد چالیس 40 کوڑے ہیں جب کہ امام ابوحنیفہ اسی 80 کوڑوں کے قائل ہیں۔ خود حضور ﷺ اور خلفائے راشدین کے زمانے میں شرابیوں پر یہ حد جاری ہوتی رہی۔
عداوت اور نفرت
فرمایا انما یرید الشیطن ان یوقع بینکم العداوۃ والبغضآء فی الخمر والمیسر شیطان چاہتا ہے کہ تمہارے درمیان شراب اور جوئے کے ذریعے عداوت اور نفرت ڈال دے جب انسان نشے میں ہوتا ہے تو گالی گلوچ بکتا ہے جس کی وج ہ سے دوسرے کے دل میں نفرت پیدا ہوجانا قدرتی امر ہے۔ جوئے میں بھی ایسا ہی ہے۔ ہارنے والے کو دل میں جیتنے والے کے خلاف ، نفرت پیدا ہوجاتی ہے اور وہ کوشش کرتا ہے کہ کس طرح اس سے بازی جیت لے۔ اس طرح عداوت اور دشمنی کا یہ سلسلہ جاری ہوجاتا ہے۔ پھر دنگا فساد ، لڑائی اور ایک دوسرے کی بےعزتی ہوتی ہے ، اسی لئے فرمایا کہ شراب اور جوئے کے ذریعے شیطان تمہارے درمیان عداوت اور نفرت پیدا کرنا چاہتا ہے اور اس کا دوسرا عمل یہ ہوتا ہے ویصدکم عن ذکر اللہ وعن الصلوۃ وہ چاہتا ہے کہ تمہیں اللہ کے ذکر اور نماز سے روک دے۔ شراب پینے والا تو ویسے ہی نماز کے قریب نہیں جاسکتا جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے اور جواء بھی ایسی بری لت ہے کہ اس میں مگن ہو کر انسان فرئاض تک کو بھول جاتا ہے۔ کھیلنے والے کھیل میں مگن رہتے ہیں حتیٰ کہ اذان ہوجاتی ہے ، نماز کا وقت گزر جاتا ہے اور وہ اپنے کھیل میں مشغول رہتے ہیں نہ انہیں اللہ کے ذکر کی فکر رہتی ہے اور نہ نماز کا خیال رہتا ہے اور شیطان کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ انسان کو اس کے فرائض سے روک دے فرمایا جب شراب نوشی اور جوئے کے شیطانی فعل ہونے میں کوئی شبہ نہ رہا فھل انتم منتھون ۔ پس کیا تم باز آ جائو گے۔ شراب اور جوئے کے متعلق اللہ نے اپنا آخری حکم صادر فرما دیا ہے لہٰذا اب ان کو جاری رکھنے کا کوئی بہانہ باقی نہیں رہا۔ جو شخص اب بھی باز نہیں آئے گا وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوگا۔
احکام کی بجا آوری
یہ احکام بیان کرنے کے بعد فرمایا واطیعوا اللہ واطیعوا الرسول فرمانبرداری کرو اور اللہ تعالیٰ کی اور فرمانبرداری کرو رسول کی واحذرئوا اور ان کی نافرمانی سے بچتے رہے ۔ ان احکام کی تعمیل میں کتواہی نہ کرنا فان تولیتم پس اگر تم روگردانی کرو گے ، احکام خداوندی کے خلاف کرو گے فاعلموا تو اچھی طرح جان لو کہ انما علی رسولنا البلغ المبین ۔ بیشک ہمارے رسول کے ذمے تو کھول کر پہنچا دینا ہے ہمارا رسول ہمارے احکام تم تک پہنچا دے گا پھر ان کی تعمیل کے متعلق ہم خود مواخذہ کرلیں گے۔
شراب اور جوئے کی تحریم کے بعد بعض اذہان میں یہ خیال آیا کہ ہم نے تو اسے ترک کردیا مگر جو لوگ اس حکم سے پہلے شراب نوشی کرتے تھے اور اب فوت ہوچکے ہیں ان کا کیا ہوگا۔ تو اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس شبہ کا ازالہ فرمایا ہے۔ اس سے پہلے سورة بقرہ میں تحویل قبلہ سے متعلق بھی اسی قسم کے شبہ کا ذکر ہوچکا ہے کہ جو لوگ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے رہے اور انہیں زندگی میں بیت اللہ شریف کی طرف رخ کرنے کا موقع ہی نہ ملا ، کیا ان کی نمازیں قبول ہوں گی یا نہیں۔ وہاں پر بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا ماکان اللہ لیضیع ایمانکم اللہ تعالیٰ تمہاری نمازوں کو ضائع نہیں کرتا۔ پہلا قبلہ بھی اسی کے حکم سے تھا اور جب وہ تبدیل ہوا تو اسی کے حکم سے لہٰذا سابقہ اعمال ضائع نہیں ہوں گے۔ اسی طرح یہاں پر بھی فرمایا کہ جو لوگ حرمت شراب کے حکم سے پہلے پیتے رہے ہیں ، ان سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا۔ لیس علی الذین امنوا وعملوا الصلحت جناح فیما طعموا ۔ جو لوگ اس سے پہلے ایمان لائے اور اچھے اعمال انجام دیئے انہیں ان کے کھانے یعنی اس حالت میں شراب نوشی پر کوئی گناہ نہیں ہے اذا ما اتقوا جب کہ وہ ڈرتے رہے اور کفر و شرک سے بچتے رہے۔ وامنو و عملوا اصلحت اور ایمان لائے اور اعمال صالح انجام دیئے۔ پھر فرمایا ثم اتقوا و امنوا پھر وہ ڈرتے رہے اور ایمان پر قائم رہے ثم اتقوا واحسنوا پھر وہ ڈرتے رہے اور ان کے دل پر احکام خداوندی کی خلاف ورزی کا خوف طاری رہا اور انہوں نے نیکی کے کام انجام دیئے۔ یہاں پر اتقی کا لفظ تین دفعہ استعمال ہوا ہے۔ پہلے تقویٰ کا مقصد یہ ہے کہ انسان عتقاد میں پختہ ہے۔ دوسرے تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ انسان محرمات کی پابندی اختایر کرے اور تیسرے تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ انسان تقویٰ پر مستقیم رہے۔ یہاں پر آخر میں احسنوا کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جو کہ ایمان اور اسلام کے بعد نیکی کا آخری درجہ ہے ۔ حدیث جبرئیل کے مطابق حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) نے احسان کا معنی یہ بتایا تھا۔ ان تعبد اللہ کانک تراہ کہ تم اللہ تعالیٰ کی عبادت اس خلوص و انہماک کے ساتھ کرو گویا کہ اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو فان لم تکن تراہ فانہ یراک اور اگر تم پر اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کی کیفیت طاری نہ ہو سکے تو کم از کم یہ تو سمجھ لو کہ وہ تمہیں ضرور دیکھ رہا ہے۔ گویا احسان سے مراد اعلیٰ درجے کی نیکی ہے جو پورے خلوص کے ساتھ انجام دی جائے ، تو اللہ نے فرمایا کہ جن لوگوں کو ایمان کی دولت نصیب ہوئی اور پھر انہوں نے نیکی کے کام نہایت خلوص کے ساتھ انجام دیئے اگر انہوں نے تحریم سے پہلے کوئی ایسا کام کیا ہے ، تو ان پر کوئی حرج نہیں ہے۔ واللہ یحب المحسنین اور اللہ تعالیٰ کو نیکی کے کام کرنے الے لوگ بہت محبوب ہیں۔ اللہ کی نگاہ میں اعلیٰ درجے کی نیکی کرنے والے پسندیدہ لوگ ہیں۔
Ayahs 5:94–96ربط آیات
اللہ تعالیٰ نے طیبات کا ذکر کر کے فرمایا کہ پاک اور حلال چیزوں کو از خود حرام نہ ٹھہرائو اور اس سلسلہ میں قسم بھی اٹھا لی ہے تو اسے توڑ کر اس کا کفارہ ادا کرو اور حلال چیزوں کو استعمال کرتے رہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے محرمات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ جن چیزوں کو دائمی حرام قرار دیا گیا ہے ان سے اجتناب کرو ، شراب جو ائ ، بت اور جوئے کے تیر گندی چیزیں ہیں۔ یہ سب شیطانی افعال ہیں لہٰذا ان سے بچتے رہو سورة کے ابتدائی حصہ میں بھی محرمات اور محاملات کا ذکر تھا اور گزشتہ دروس میں بھی موضوع سخن یہی رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تلقین فرمائی ہے کہ حلال چیزوں سے استفادہ حاصل کرتے رہو کیونکہ اسی میں تمہاری بہتری ہے اور حرام چیزوں سے پرہیز کرو۔ اگر حیت و حرمت کے اس قانون کو توڑو گے تو اجتماعیت انسانیہ میں خرابی واقع ہو جائیگی۔
اب آج کے درس میں بعض محرمات وقتیہ کا ذکر ہے۔ خون مردار خنزیر کا گوشت وغیرہ دائمی حرام چیزیں ہیں مگر بعض حلال چیزیں خاص وقت کے لئے حرام ہوجاتی ہیں جو کہ وقت گزرنے کے بعد پھر سے حلال ہوجاتی ہیں۔ مثلاً جب کوئی شخص تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز میں مشغول ہوجاتا ہے تو اس کے لئے بولنا ، کھانا پینا وغیرہ حرام ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی شخص حج یا عمرہ کا احرام باندھ لیتا ہے تو اس کے لئے حجامت بنانا ، خوشبو لگانا ، سلا ہوا کپڑا پہننا اور خشکی کا شکار کرنا حرام ہوجاتا ہے۔ چناچہ آج کے درس میں محرم کے لئے شکار کی ممانعت اور اس کے متعلقات کا ذکر ہے۔
شکار کی دلی حلت
اسلام میں حلال جانور کا شکار کرنے اور اسے کھانے کی عام اجازت ہے بلکہ عبر کے بعض خطوں میں تو ذریعہ معاش ہی یہ تھا۔ آج بھی دنیا میں کئی ایسے خطے ہیں جن کی گزران صرف شکار پر ہے۔ جنگلوں اور صحرائوں میں رہنے والے لوگ جنگلی جانوروں کے شکار سے پیٹ پالتے ہیں ، بعض برفانی علاقوں میں بھی شمار ہی ذریعہ معاش ہے۔ ساحل سمندر کے اکثر باشندے مچھلی کے شکار پر گزر بسر کرتے ہیں۔ چناچہ شکار کی عام اجازت دی گئی ہے۔ اسی سورة میں شکا رکے بعض مسائل پہلے بھی بیان ہوچکے ہیں۔ خودحضور ﷺ نے بھی شکار کے بعض مسائل بیان فرمائے ہیں چناچہ حدیث کی ہر کتاب میں باب الصید کے نام سے باب موجود ہے جس میں صرف شکار کے مسائل کا تذکرہ ہے البتہ ان میں زیادہ انہماک رکھنے سے منع کی اگیا ہے ، ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے من اتبع الصیہ لھی ومن اتی باب السھان اوتتن یعنی جو شکار کا پیچھا کریگا وہ غفلت میں مبتلا ہوجائے گا اور جو ہمیشہ حاکم کے دروازے پر جائیگا فتنہ میں ڈالا جائے گا۔
کھیل کود کی طرح شکار بھی غافل کردینے والی چیز ہے جس طرح تاش اور شطرنج اور آج کل کرکٹ وغیرہ بڑے ذقو و شوق سے کھیلا اور دیکھا جاتا ہے اسی طرح شکاری بھی ہر طرف سے بےنیاز ہو کر شکار کرنے میں محو جو جاتے ہیں۔ پھر نہ انہیں کھانا یاد رہتا ہے اور نہ نماز کی فکر باقی رہتی ہے کپڑے تپ جاتے ہیں بدن زخمی ہوجاتا ہے مگر وہ اپنے کام میں محو رہتے ہیں ، اسی لئے شکار میں زیادہ انہماک ناپسند کیا گیا ہے تاہم خشکی اور تری کے تمام حلال جانوروں کا شکار جائز ہے۔
احترام مرکز
حج وعمرہ کا احرام دراصل احترام مرکز ہے ۔ چونکہ یہ شخص حج یا عمرہ کے لئے بیت اللہ شریف کی طرف جا رہا ہے ، اس لئے اللہ کے اس گھر اور مرکز اسلام کے احترام کا تقاضا ہے کہ وہاں احرام کی حالت میں جائے جیسا کہ پہلے عرض کیا عازم حرم کے لئے بعض پابندیاں ہیں جو اس پر عائد ہوجاتی ہیں اور ان میں خشکی کے شکار کی ممانعت بھی ہے۔ احرام کی حالت میں شکار کرنا یا شکار کو بح کرنا حرام ہوجاتا ہے اور ایسے شخص کا ذبیحہ مردار کے موافق ہوتا ہے۔ بہرحال یہ احرام کی خصوصیات اور حرم کے احترام کی وجہ سے ہے۔
حرمت شکار آزمائش ہے
ارشاد باری تعالیٰ ہے یایھا الذین امنوا اے ایمان والو ! لیبلنکم اللہ بشیء من لصید ۔ البتہ آزمائے گا اللہ تعالیٰ تمہیں کسی چیز کے ساتھ شکار میں سے تنالہ یریکم ورماحکم جس تک تمہارے ہاتھ اور نیزے پہنچتے ہیں۔ شکار انسانی ہاتھ سے بھی ہوتا ہے اور نیزے یا دیگر اوزار کے ساتھ بھی۔
چونکہ نزول قرآن کے زمانے میں نیزہ ایک مئوثر ہتھیار کے طور پر استعمال ہوتا تھا ، اس لئے اس کا ذکر کیا گیا تھا ، مگر مراد یہ ہے کہ احرام کی حالت میں خشکی کے جانور کا شکار خواہ ہاتھ سے کیا جائے یا تیر ، تلوار یا بندوق وغیرہ سے۔ اہل ایمان کے لئے یہ آزمائش ہے کہ وہ احکام الٰہی کی کس حد تک پابندی کرتے ہیں۔ اگر وہ اس حالت میں شکار کرنے سے باز رہے تو آزمائش میں پورے اتریں گے اور اس کے خلاف کیا تو ناکام ہوجائیں گے۔ لیبلونکم کا یہی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں حج یا عمرہ کا موقع فراہم کرتا ہے اور اس کے ساتھ یہ حکم دیتا ہے کہ احرام کی حالت میں خشکی کا شکار نہیں کرنا ، اب آزمئاش یہ ہے کہ کون اس حکم کی تعمیل میں شکار سے باز رہتا ہے۔
اس قسم کی آزمائش سابقہ امتوں پر بھی آ چکی ہے بنی اسرائیل کے لئے ہفتہ کے دن کو اللہ تعالیٰ نے شکار کے لئے حرام قرار دیا تھا۔ مگر وہ اس حکم کی پابندی نہ کرسکے۔ انہوں نے حیلے بہانے سے ہفتے کے روز بھی شکار شروع کردیا ، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان پر اللہ کا غضب ہوا اور انکی شکلیں تبدیل کردی گئیں۔ پھر انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا غرضیکہ بنی اسرائیل امتناع شکار کی آزمائش پر پورے نہ اتر سکے۔ حضور ﷺ کے زمانے میں بھی اس طرح کی آزمائش آئی۔ حدیبیہ کے مقام پر جب صحابہ نے پڑائو کیا تو وہ احرام کی حالت میں تھے۔ شکار ان کے خیموں کے آس پاس دوڑتے پھرتے تھے مگر صحابہ کرام کے ہاتھ ان تک نہیں پہنچتے تھے کیونکہ اس حالت میں شکار ممنوع ہے ۔ چناچہ وہ اس آزمائش میں پورے اترے بہرحال فرمایا کہ احرام کی حالت میں شکار کا امتناع آزمائش کے لئے ہے ، وہ مالک الملک ہے ، جس طرح چاہے اپنے بندوں کی آزمائش کرتا ہے ” ونبلوکم بالشر والخیر فمتنۃ (الانبیائ) وہ خیر کے ساتھ بھی آزماتا ہے اور شر کے ساتھ بھی ، لہٰذا بندوں کا کام ہے کہ اس کی طرف سے آنے والی ہر آزمائش پر پورا اتریں۔
بعض لوگ شکار کے بڑے شوقین ہوتے ہیں اور وہ صبر نہیں کرسکتے ایسا آدمی اگر احرام کی حالت میں شکار کرے گا تو اسے تاوان ادا کرنا پڑیگا اور اگر پھر بھی باز نہیں آتا تو اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آئیگا ۔ آگے اس بات کی وضاحت فرما دی کہ تمہیں آزمائش میں اسلئے ڈالا جا رہا ہے لیعلم اللہ من یخافہ بالغیب تاکہ اللہ تعالیٰ جان لے کہ کو ن شخص اس سے بغیر دیکھے ڈرتا ہے۔ بعض اوقات علم کا اطلاق امتیاز پر بھی ہوتا ہے اور یہاں پر اللہ کے جان لینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ ڈرنے والے متقی اور غیر متقی میں امتیاز پیدا کر دے۔ بغیر دیکھے ڈرنا اس لئے کہ اللہ تعالیٰ ان ظاہری آنکھوں سے تو نظر نہیں آتا۔ مگر اپنی قدرت ، علم اور وجود سے ہر وقت اور ہر جگہ موجود ہے ، تاہم آزمائش یہ ہے کہ اللہ کو دیکھے بغیر اس کے احکام کی تعمیل کر کے آزمائش میں کون پورا ہوتا ہے۔ فرمایا فمن اعتدی بعد ذلک اس کے بعد جو کوئی تعدی کریگا اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کر کے آزمائش میں ناکام ہوجائے گا فلہ عذاب الیم وہ درد ناک عذاب کا مستحق ٹھہرے گا ، لہٰذا ہر شخص کو یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر شکار کی پابندی عائد کر کے اسے امتحان میں ڈالا ہے جس میں اسے پورا اترنا ہے۔
خشکی کا شکار
آزمائش کا تمہید اً ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے احرام کی حالت میں امتناع شکار کا واضح حکم دیا یا ایھا الذین امنوا اے ایمان والو لاتقتلوا الصیدوانتم حرم شکار کو قتل نہ کرو جب کہ تم احرام کی حالت میں ہو۔ فرمایا ومن قتلہ منکم متعمداً اور تم میں سے جو شخص جان بوجھ کر شکار کرے گا فجزآء مثل ماقتل من نعم تو اس کا بدلہ شکار کئے گئے جانور کی مثل ہے۔ یعنی جس قسم کا جانور شکار کیا ہے اسی قسم کا جانور خود خرید کر اللہ ک یراہ میں قربانی کرے ۔ مثل کی تشریح میں امام شافعی : فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے کبوتر کا شکار کیا ہے تو اس کے بدلے میں مرغی صدقہ کرے۔ اگر ہرن کو مار دیا ہے تو ایک بکری دے نیل گائے کا شکار کیا ہے تو اس کے تاوان میں گائے یا بیل ذبح کرے اور اگر شتر مرغ کو مار دیا ہے تو ایک اونٹ قربانی کرے۔ تاہم امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ جو جانور شکار میں مارا گیا ہے اس کی قیمت کا تعین کر کے اس قیمت کے برابر کوئی دوسرا جانور بطور تاوان ذبح کرنا ہوگا۔
باقی رہا یہ سوال کہ شکار شدہ جانور کی مثل یا اس کی قیمت کا تعین کون کریگا ، تو فرمایا یحکم بہ ذواعدل منکم۔ تم میں سے دو عادل شخص یعنی شکار کے مقام سے قریبی بستی کے دو معزز آدمی شکار کی مثل یا اس کی قیمت کا تعین کریں گے اور تاوان کے طور پر حاصل شدہ جانور کو ھدیاً بلغ الکعبۃ بطور ہدی یعنی قربانی کے جانور کو حرم شریف میں پہنچا دیا جائے گا۔ بکری ، مرغی ، گائے یا اونٹ جس جانور کا تعین بطور مثل شمار کیا گیا ہے۔ اسے حرم میں اللہ کی راہ میں ذبح کیا جائے گا اور اگر شکار شدہ جانور کی قیمت متعین کی گئی ہے اور اس کے بدلے میں جانور مہیا نہیں کیا گیا تو فرمایا اوکفارۃ طعام مسکین تو اس رقم میں سے مساکین کو کھانا کھلایا جائے۔ اور اس کی صورت یہ ہوگی کہ ہر مسکین کو دو سیر گندم دے دی جائے اب رہا یہ سوال کہ کتنے مسکینوں کو دوسیر گندم دی جائے گی تو اس کا انحصار تاوان کی کل رقم پر ہے۔ مثال کے طور پر اگر تاوان کی رقم سے ایک من گندم خریدی گئی ہے تو دو سیر فی کس کے حساب سے بیس مسکینوں میں تقسیم ہو جائیگی اور اگر اس رقم سے صرف بیس سیر گندم مہیا ہوئی ہے تو وہ دس مسکینوں کے لئے کافی ہوگی۔ علی ٰ ہذالقیاس۔
اور اگر حالات ایسے ہیں کہ شکار کے تاوان میں نہ تو جانور حرم میں ذبح کیا جاسکتا ہے اور نہ مسکینوں کو اناج فراہم کیا جاسکتا ہے۔ تو پھر کفارے کی تیسری صورت یہ ہے اوعدل ذلک صیاماً کہ ہر مسکین کے بدلے ایک ایک روزہ رکھے۔ مثال کے طور پر اگر تاوان بیس سیر گندم ہے جو دوسرے کے حساب سے دس مسکینوں کو قابل تقسیم ہے تو وہ گندم ادا کرنے کی بجائے دس روزے رکھے گا اور اس طرح شکار کر دو جانور کا کفارہ یا فدیہ اور ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ تین صورتیں بیان فرمائی ہیں جن کے ذریعے کفارہ ادا ہو سکتا ہے۔ پھر فرمایا یہ تاوان اس لئے ڈالا گیا ہے۔ لیذوق وبال امرہ تاکہ احرام کی حالت میں شکار کرنے والا آدمی اپنے فعل کے وبال کا مزہ چکھ لے اسے معلوم ہوجائے کہ اس نے حکم الٰہی کی خلاف ورزی کر کے حالت احرام میں شکار کیا ہے تو اب اسے اس کا تاوان بھی ادا کرنا ہوگا۔
فرمایا عفا اللہ عما سلف اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا ہے جو اس سے پہلے ہوچکا یعنی یہ احکام نازل ہونے سے پہلے اگر کسی شخص نے احرام کی حالت میں شکار کیا تھا ، تو اسے اللہ نے معاف کردیا ہے ، اس پر کوئی گرفت نہیں۔ البتہ اب آئندہ اگر کوئی شخص اس جنایت کا مرتکب ہوگا تو پھر اسے مقررہ تاوان ادا کرنا ہوگا۔ اسی لئے فرمایا ومن عاد جو پھر بھی ایسا کریگا فینتقم اللہ منموا للہ عزیز ذواتنقام تو اللہ اس سے اتنقام لیگا۔ اللہ تعالیٰ غالب ہے اور انتقام لینے پر قادر ہے وہ ایسے شخص کو ضرور اپنی گرفت میں لے گا اور اسے آخرت میں اس کا حساب چکانا ہوگا۔
دریائی شکار کی اجازت۔
خشکی کے شکار کی ممانعت اور اس کا فدیہ بیان کرنے کے بعد فرمایا احل لکم صید البحر و طعامہ حلال قرار دیا گیا ہے تمہارے لئے دریا کا شکار اور اس کا کھانا۔ اس آیت میں مطلق کفر کے لفظ سے بعض ائمہ کرام یہ مراد لیتے کہ پانی کا ہر قسم کا جانور حلال ہے۔ سوائے خنزیر کے تاہم امام ابو حنفیہ فرماتے ہیں کہ تمام جانور حلال نہیں بلکہ صرف مچھلی اپنی تمام اقسام کے ساتھ حلال ہے ایک شخص نے حضور ﷺ سے سمندر کے پانی کے متعلق دریافت کیا تو آپ نے فرمایا ھو الحل میتتہ و وطھور ماء ہ اس کا مردار حلال ہے اور اس کا پانی پاک ہے دوسری رضایت میں آتا ہے احل لنا میتتان ہمارے لئے دو قسم کے مردار حلال قرار دیئے گئے ہیں السمک والجراد یعنی مچھلی اور ٹڈی ، مچھلی کا خود شکار کیا جائے یا سمندر کا پانی اسے باہر پھینک دے اور وہ مر جائے تو وہ بہرحلال حلال ہے۔ اسی طرح ٹنڈی بھی بغیر ذبح کئے حلال قرار دی گئی ہے ۔ اسی طرح حضور نے فرمایا احل لنا دمان ہمارے لئے دو خون بھی حلال ہیں ۔ الکبد و ابطحال ۔ یعنی جگر اور تلی یہ دونوں اعضا منجمد خون ہیں مگر حلال ہیں البتہ دم مسفوح یعنی رگوں سے بہنے والا خون حرام ہے۔ بہرحال فرمایا کہ تمہارے لئے دریائی شکار کو حلال قرار دیا گیا ہے متاعاً لکم وللسیادۃ اس میں فائدہ ہے تمہارے لئے اور قافلے اور مسافروں کے لئے۔
اس مقام پر اغظ سیارۃ سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ احرام کی حالت میں سمندر کا سفر ہو تو اس دوران شکار کی کتنی اہمیت ہے خشکی کے سفر کے دوران اگر خوراک کا ذخیرہ ختم ہی ہوجائے تو انسان کسی نہ کسی طرح سے جان بچا سکتا ہے۔ اگر شکار نہ بھی کرے تو درختوں کے پتے اور جڑی بوٹیاں کھا کر بھی کچھ عرصہ تک جسم و روح کا تعلق قائم رکھا جاسکتا ہے۔ اور اگر یہی سورت آخری سفر کے دوران پیش آجائے تو وہاں سوائے دریائی جانوروں کے خوراک کا کوئی اور ذریعہ میسر نہیں ہوتا ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے احرام کے دوران دریائی شکار کی اجازت دے دی ہے مگر خشکی کے شکار سے منع فرما دیا ہے۔
خشکی کا شکار
فرمایا وحرم علیکم صید البر ما دمتم حرماً اور تمہارے لئے خشکی کا شکار حرام قرار دیا گیا ہے جب تک کہ تم احرام کی حالت میں ہو۔ یہ محرمات و قتیہ کا تذکرہ ہے۔ خشکی کا شکار صرف احرام تک کے لئے حرام ہوتا ہے ، جب انسان احرام سے باہر آجاتا ہے تو یہ شکار پھر حلال ہوجاتا ہے۔ یہ احکام بیان کرنے کے بعد فرمایا اتقوا اللہ اس اللہ تعالیٰ سے ڈر جائو الذی الیہ تحشرون جس کی طرف تم سب اکٹھے کئے جائو گے۔ جب قیامت کے دن سب لوگ اللہ رب العزت کی عدالت میں حاضر ہوں گے تو ہر ایک کو اپنے عمل کا بھگتان کرنا ہوگا۔ اللہ سے خوف دلانے کا مقصد یہ ہے کہ اس کے عام کردہ قانون کی پابندی کرو اس نے احرام کی حالت میں شکار کی ممانعت کر کے تمہیں آزمائش میں ڈالا ہے ، تمہیں اس آزمائش میں پورا اترنے کی کوشش کرنا ہوگی۔ کیونکہ آخرت میں اللہ کے سامنے جواب دینا ہے۔
Ayahs 5:97–100رابط آیات
پہلی آیات میں احرام کی حالت میں خشکی کے شکار کی ممانعت کا ذکر تھا اور اس کے ساتھ تاوان کا بیان تھا جو ایسی حالت میں شکاری کو ادا کرنا پڑتا ہے جیسا کہ گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے۔ شکار کی حرمت بیت اللہ شریف کی تکریم اور وہاں کے مقصد کے لئے احرام پہننے کی وجہ سے ہے۔ شکار کے یہ احکام بیان کرنے کے بعد اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ شریف کی فضیلت اور اس کی مرکزیت کا ذکر کیا ہے ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے بیت اللہ شریف کی حیثیت اور اس میں جہان بھر کے لئے جو مصلحت ہے اس کا ذکر بھی کیا ہے۔
اللہ بیت ذریعہ قیام ہے
ارشاد ہوتا ہے جعل اللہ لکعبۃ البیت الحرم قیمۃ للناس۔ اللہ تعالیٰ نے عزت اور بزرگی والے گھر کعبہ شریف کو قیام کا ذریعہ بنایا ہے عربی زبان میں کعبہ ابھری ہوئی جگہ اور چوکور گھر کو کہتے ہیں بیت اللہ شریف اگرچہ حجم کے لحاظ سے بہت بڑا نہیں ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اسے عزت و شرف کا بہت بڑا مقام عطا کیا ہے اور اسے ہی کعبہ کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کعبے کے تذکرہ کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تین مزید چیزوں کا بھی ذکر کیا ہے۔ یعنی والشھر الحرم حرمت کے مہینے والھدی کعبے کی طرف جانے والے اللہ کی نیاز کے جانور والسقائد اور پٹے ڈالے گئے جانور جو قربانی کی نشانی کے طور پر ہوتے ہیں کعبہ شریف کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان تین چیزوں کو بھی لوگوں کے قیام کا ذریعہ فرمایا ہے۔ اور یہ ذریعہ قیام دینی اور دنیاوی ہر دو لحاظ سے فرمایا گیا کیونکہ اس کا اطلاق دونوں طریق پر ہوتا ہے۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر نزول قرآن تک کے ہزاروں سالہ دور میں عرب کے خطہ میں کوئی منظم حکومت نہیں تھی۔ یہاں پر قبائلی نظام رائج تھا ، مصر ، شام ، روم ، ایران اور ہندوستان وغیرہ میں تو باقاعدہ حکومتیں تھیں مگر جزیرہ نمائے عرب میں کوئی مرکزی تنظیم نہیں تھی۔ اس افراتفری اور نفانفسی کے اعلم میں بھی اللہ تعالیٰ نے حرم پاک کو لوگوں کے قیام اور بقا کا ذریعہ بنا رکھا تھا۔ سال بھر میں چار حرمت والے مہینوں کے دوران لڑائی بند رہتی تھی۔ قافلے بلا روک ٹوک سفر کرسکتے تھے ، خوب تجارت ہوتی تھی اور لوگوں کو امن حاصل ہوتا تھا اور یہ سب کچھ بیت اللہ شریف کے احترام کی وجہ سے ہوتا تھا۔ یہاں پر لوگوں کے قیام سے مراد یہ ہے کہ اس محترم گھر کی وج ہ سے لوگ قائم ہو سکتے تھے یعنی اپنی زندگی بسر کرسکتے تھے۔ اگر امن وامان کے یہ چار مہینے بھی لوگوں کو میسر نہ ہوتے تو جنگ وجدال اور لوٹ مار کی وجہ ہر قسم کا کاروبار ، کھیتی باڑی اور تجارت ٹھپ ہو کر رہ جاتے اور لوگوں کو زندگی گزارنا محال ہوجاتا۔ قیام کا یہ لفظ انہی معانی میں سورة نساء میں بھی گزر چکا ہے۔ ” ولا توتوا السفھآء اموالکم التی جعل اللہ لکم قیماً “ اپنے مال بیوقوفوں کے سپرد نہ کرو ، اللہ نے تمہارے لئے یہ گزرن کا ذریعہ بنائے ہیں۔ بیت اللہ شریف بھی اسی لحاظ سے ذریعہ معاش ہے اور اس کی بدولت لوگ گزر اوقات کرتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا بھر کے لوگوں کو حکم ہے ” وللہ علی الناس حج …استطعاع الیہ سبیلاً “ کہ وہ صاحب استطاعت ہیں تو زندگی بھر میں کم از کم ایک دفعہ بیت اللہ شریف کا حج کریں جب لوگ وہاں جاتے ہیں تو کعبہ شریف کا طواف کرتے ہیں۔ نماز پڑھتے ہیں۔ تلاوت کرتے ہیں ، صفاومر وہ کی سعی کرتے ہیں اور قربانی کرتے ہیں اور یہی چیزیں ہیں جن کی بدولت عازمین حج وعمرہ کو جسمانی و روحانی ، علمی اور اخلاقی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔ اس کا تذکرہ اللہ تعالیٰ نے سورة حج میں بھی فرمایا ہے کہ حج کے موقع پر ” لیشھد وا منافع لھم “ لوگوں کو بہت سے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔ اس لحاظ سے بیت اللہ شریف کو لوگوں کے قائم یعنی گزران کے ذریعہ سے تعبیر کیا گیا ہے ، ظاہر ہے کہ جب تک وہاں عبادت ہوتی رہے گی طواف اور قربانی ہوتی رہے گی۔ نمازیں ادا ہوتی رہیں گی ، دنیا بھی قائم رہے گی اور جب یہ چیزیں ختم ہوجائیں گی تو دنیا بھی قائم نہیں رہے گی سورة آل عمران میں بھی گزر چکا ہے ” ان اول بیت وضع للناس للذی بیکۃ مبرکاً “ اللہ تعالیٰ کا اس سر زمین پر سب سے پہلا گھر یہی ہے جو لوگوں کی عبادت کے لئے مکہ معظمہ میں تعمیر کیا گیا اور یہ بڑی برکتوں وا لا گھر ہے۔ بعض احادیث میں آتا ہے کہ حرم شریف میں ہر روز اللہ تعالیٰ کی ایک سو بیس رحمتیں نازل ہوتی ہیں جن میں سے ساٹھ طواف کرنے والوں کے لئے اور باقی ساٹھ دیگر عبادت گزاروں کے لئے مخصوص ہیں۔ اللہ کی یہ خصوصی رحمتیں ہیں دیگر مہربانیوں کے علاوہ ہیں انہی کثرت فضائل کی وجہ سے دنیا بھر سے لوگ کھنچ کھنچ کر آتے ہیں اور گزران کا ذریعہ بنتے ہیں۔
شعائر اللہ کی تعظیم
بیت اللہ شریف کے علاوہ جن باقی تین چیزوں کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ یعنی حرمت کے مہینے ، بدی کے جانور اور پٹے والے جانور سب شعائر اللہ میں داخل ہیں۔ بیت اللہ شریف خود بھی شعائر اللہ میں داخل ہے اس کے علاوہ حج ، طواف ، زیارات ، صفا ومروہ ، منیٰ ، عرفات ، مزدلفہ وغیرہم شعائر اللہ میں ہی شمار ہوتے ہیں اور شعائر اللہ کی تعظیم ہمارے دین کا ایک اہم اصول ہے۔ سورة حج میں موجود ہے ومن یعظم شعآئر اللہ فانھا من تقویٰ المقلوب ” یعنی اللہ کے شعائر کی تعظیم دلوں کے تقویٰ کی نشانی ہے۔ حضرت امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ اعظم شعائر اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے چار بڑے شعائر ، قرآن کریم ، حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کی ذات مبارکہ ، بیت اللہ شریف اور نماز ہیں۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ دین کے باقی اہم اصولوں میں اللہ کی وحدانیت کو ماننا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی ایک اہم اصول ہے۔ ” فاذ کرنی اذکرک “ یعنی تم مجھے یاد کرو ، میں تمہیں یاد کروں گا۔ اس کے علاوہ اللہ کا شکر ادا کرنا بھی جزو دین ہے جیسا کہ ارشاد ہے ” واشکروالی ولا تکفرون “ یعنی میرا شکریہ ادا کرو اور ناشکری نہ کرو۔ اور پھر صبر بھی انہی اہم اصولوں میں سے ہے۔ اللہ مالک کا ارشاد ہے فاصبر کما صبر اولوا العزم من الوسیع (احقاف ) صاحب عزم رسولوں کی طرح صبر کرو۔ نیز فرمایا ” ان اللہ مع الف برین “ (بضرہ ، اللہ تعالیٰ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے غرضیکہ تعظیم شعائر اللہ دین اسلام کے اہم اصولوں میں سے ہے۔ جب تک شعائر اللہ کی تعظیم دنیا میں باقی ہے ، دنیا قائم ہے۔ جب یہ ختم ہو جائیگی تو دنیا بھی فنا ہوجائے گی حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب زمین پہ اللہ اللہ کرنے والا کوئی نہیں ہے ” تو پھر قیامت برپا ہوجائے گا۔ “
بیت اللہ بطور مرکز
بیت اللہ شریف ظاہری طور پر بھی پوری کائنات کا مرکز ہے ، اور روحانی طور پر بھی یہ اہل اسلام کا مرکز ہے۔ جب تک مسلمان اس کی مرکزیت کو قائم رکھیں گے ، خود انہیں دنیا میں مرکزی حیثیت حاصل رہے گی اور جب یہی مرکزیت ٹوٹ گئی تو مسلمان بھی دنیا میں ذلیل ہو کر رہ جائیں گے مقام افسوس ہے کہ اہل اسلام کی یہ مرکزیت ایک عرصہ سے ختم ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں مسلمان ہر مقام پر ذلت کی علامت بن رہے ہیں۔ بیت اللہ شریف کو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی اصلاح ، تکمیل اخلاق ، روحانیت اور علوم ہدایت کا مرکز بنایا ہے۔ اسی زمین میں پیغمبر آخر الزمان کی نشاۃ ہوئی ، قرآن کریم یہیں نازل ہوا ، اسی بیت اللہ کو ہمیشہ کے لئے نمازوں کا قبلہ مقرر کیا گیا ، اسے حج وعمرہ کا مرکز بنایا گیا لہٰذا یہ لوگوں کے قیام کا ذریعہ اور اللہ تعالیٰ کے شعائر میں سے ہے۔ اس کی شرف و عزت قرب قیامت تک قائم رہے گی۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ پھر حبشہ کا موٹی پنڈلیوں والا ایک ظالم انسان اس پر حملہ آور ہو کر اسے گرائے گا اور اس کے بعد جلد ہی قیامت برپا ہو جائیگی اسی لئے فرماتے ہیں کہ جب تک کعبہ شریف اور دیگر شعائر اللہ کی عزت و حرمت اور مرکزیت قائم ہے دنیا قائم ہے اور جب یہ نہ رہے گی تو ندیا بھی باقی نہیں رہے گی۔
فرمایا یہ ایسی بات ہے ذلک لتعلموا تاکہ تم جان لو کہ اللہ تعالیٰ نے یہ چیزیں اپنے علم و حکمت کے ساتھ مقرر کی ہیں ان اللہ یعلم مافی السموت وما فی الارض اللہ تعالیٰ زمین و آسمانوں کی ہر چیز کو جانتا ہے۔ وان اللہ بکل شیء علیم اور بیشک اللہ تعالیٰ ہر شے کو جاننے والا ہے وہ ان کی مصلحتوں نے بھی واقف ہے ، اسی لئے اس نے بیت اللہ کو مرکزیت عطا فرمائی ہے۔ جب تک مسلمان اس مرکز سے وابستہ رہیں گے۔ ان کو عزت حاصل رہیگی۔ جب اس مرکز کا تصور دلوں سے خارج ہوجائے گا ، تو خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی بندگی کا حقیقی تصور بھی جاتا رہے گا اور مسلمان ذلیل ہو کر رہ جائیں گے۔ غرضیکہ بیت اللہ شریف تمام جہان کے لوگوں کے لئے ذریعہ قیام ہے۔ اسے دنیا میں مرکزی حیثیت حاصل ہے اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کی روح ہے اور جب تک یہ روح قائم ہے ڈھانچہ بھی قائم ہے۔
اتمام حجت
فرمایا اعلموا ان اللہ شدید العقاب یہ بھی یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ
(1) بخاری ص 219 ج 1 (فیائض)
سخت گرفت کرنے والا ہے۔ اگر اس کے اصولوں کو توڑو گے تو اس کی پکڑ بھی آئے گی۔ جس طرح احرام کے قانون توڑنے پر تاوان عائد کیا گیا۔ اسی طرح کعبہ کی مرکزیت کو نظر انداز کرنے سے اللہ تعالیٰ کی گرفت آسکتی ہے۔ ہاں ! اگر اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرو گے ، اس کے احکام کی پیروی کرو گے۔ اس کی وحدانیت پر ایمان لائو گے تو پھر وان اللہ غفور رحیم۔ اللہ تعالیٰ چھوٹی موٹی غلطیوں کو معاف کرنے والا اور نہایت مہربان بھی ہے۔ گویا وہ دونوں صفات کا مالک ہے ، وہ شدید العقاب بھی ہے اور غفور و رحیم بھی ہے۔
اور فرمایا یہ بھی یاد رکھو۔ ما علی الرسول الا البلغ اللہ کے رسول کے ذمے تو پہنچا دینا ہے اور تمہارا کام عمل کرنا ہے اللہ کے رسول نے دین ، ہدایت ، قرآن ، وحی ، پاکیزہ اصول اور شرائع سب کچھ تمہارے پاس پہنچا دیا ہے ، اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے کہ ان پر عمل پیرا ہو جائو ، اگر ایسا نہیں کرو گے تو پھر خدا تعالیٰ خود تم سے باز پرس کرے گا کیونکہ واللہ یعلم ما تبدون وما تکتمون وہ تمہاری ہر ظاہر اور پوشیدہ چیز اور عمل کو خوب جانتا ہے۔ ظاہر و باطن کا پورا علم اس کے پاس ہے۔ اس نے انبیاء اور کتب کے ذریعے اپنے احکام تم تک پہنچا کر حجت تمام کردی ہے۔ اب نتائج کے تم خود ذمہ دار ہو۔
کثرت تعداد معیار حق نہیں
قلت و کثرت کا مسئلہ اکثر انسانی اذہان میں کھٹکتا رہتا ہے۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اس کی حقیقت کو بھی واضح کردیا ہے۔ ارشاد ہے قل اے پیغمبر ! آپ کہہ دیجیے لایستوی الخبیث والطیب جنیث اور طیب چیز برابر نہیں ہو سکتی۔ یعنی یہ ایک بڑی حقیقت ہے کہ پاک اور ناپاک چیز یکساں نہیں ولو ا عجبک کثرۃ الخبیث ۔ اگرچہ خبث کی کثرت تمہیں تعجب میں کیوں نہ ڈالے۔ اگر دنیا میں کفر ، شرک ، معاصی اور گندے نظام کا غلبہ ہو ، دنیا میں ملوکیت اور ڈکٹیٹر شپ کا دور دورہ ہو تو یہ نہ سمجھ لینا چاہئے کہ یہ اچھی اور خدا کی پسندیدہ چیزیں ہیں۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ کلمہ حق ہی اچھا ہے اگرچہ دنیا میں اس کی تعداد کتنی ہی قلیل کیوں نہ ہو مثال کے طور پر اگر دنیا کا بیشتر حصہ حرام سے بھرا ہوا ہے اور حلال کا حصہ بالکل کم ہے تو حرام کی کثرت اس کے جواز کی دلیل نہیں ہے۔ بلکہ اللہ کے نزدیک حلال ہی پسندیدہ ہے خواہ وہ کتنی قلت میں ہو۔ اگر ایک مومن آدمی اپنی محنت کے ذریعے پانچ روپے رزق حلال کماتا ہے تو وہ اس سو روپے سے زیادہ بہتر ہیں جو رشوت کے ذریعے حاصل کئے گئے ہوں۔ اسی طرح جائز کمائی کے دس روپے سود کے ایک لاکھ روپے سے اچھے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو یہ دس روپے ہی محبوب ہیں۔ اس طرح اگر دنیا میں اچھے اخلاق والے قلیل تعداد میں ہیں تو اکثریت کے مقابلے میں وہی کامیاب ہیں عقلمندوں کی قلیل تعداد بیوقوفوں کے جم غفیر سے بدرجہا بہتر ہے۔
یورپ کی جمہوریت کا بھی یہی حال ہے۔ اس میں انسانوں کی قابلیت کی بجائے ان کی تعداد کو معیار بنایا گیا ہے۔ جو زیادہ ووٹ حاصل کرے وہی کامیاب ہے اگرچہ خود ووٹر معیار سے گرے ہوئے لوگ کیوں نہ ہوں۔ علامہ اقبال مرحوم نے یہی تو کہا تھا۔
از مغز دو صد خو فکر انسانے نمی آید
یعنی دو سو گدھے ایک انسانی دماغ کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ اگرچہ وہ غائب اکثریت میں ہیں۔ ہاں اگر طیب اور پاک چیز کی کثرت ہے تو وہ نور علی نور ہے ۔ اور اگر گندگی چیز یا گندہ نظام اکثریت میں ہے تو اس سے گھبرانا نہیں چاہئے ، بری چیز بہرحال بری ہے ، محض اکثریت کی بناء پر اسے اچھائی کا سرٹیفکیٹ نہیں دیا جاسکتا۔ اس وقت پوری دنیا کی پانچ ارب آبادی میں سے سوا چار ارب کفر ، شرک اور معاصی میں مبتلا ہے۔ ہر طرف مبریلزم ، ملوکیت ، اور ڈکٹیٹر شپ کا دور دورہ ہے مگر کلمہ جامع نہیں ہے۔ ترکوں میں خلافت کے زمانے تک مسلمانوں میں کسی قدر اجتماعیت موجود تھی۔ مگر انگریز نے بالآخر اسے ختم کر کے چھوڑا۔ اب مسلمانوں کا اجتماعی نظام بالکل ناپید ہے ، حق مغلوب ہوچکا ہے اور باطل غالب ہے مگر یہ اس کی صداقت کی دلیل نہیں ہے۔ یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ کے ہاں کلمہ حق ، ایمان ، اسلام اور پاکیزہ اخلاق ہی صداقت کا معیار ہیں ، اسی لئے فرمایا کہ ناپاک چیز بہرحال ناپسندیدہ ہے اگرچہ وہ تمہیں کتنا بھی تعجب میں ڈال دے انجام انہی لوگوں کا اچھا ہوگا جو حق پر ہیں خواہ وہ کس قدر قلیل تعداد میں ہوں۔
معیار شرافت
صحیحین کی حدیث میں آتا ہے کہ حضور ﷺ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے قریب سے ایک اعلیٰ حیثیت کا آدمی گزرا۔ آپ نے صحابہ سے دریافت کیا ، یہ کیسا آدمی ہے۔ آپ کو بتایا گیا کہ یہ اشراف میں سے ہے۔ جہاں جائیگا ، ہر شخص اس کے لئے گھر کا دروازہ کھولے گا ، اگر کہیں نکاخ کا پیغام دے گا تو فوراً قبول کیا جائے گا۔ لوگ اس کے رشتہ پر فخر کریں گے اگر یہ شخص کسی کی سفارش کرے گا تو قبول کی جائیگی۔ اسکے تھوڑی دیر بعد ایک دوسرے شخص کا گزر ہوا۔ حضور ﷺ نے اس کے متعلق بھی دریافت فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا کہ یہ فقراء میں سے ہے ، اس کو کوئی پوچھتا نہیں اور نہ کوئی اس کا احترام کرتا ہے۔ اگر کہیں جاتا ہے تو لوگ گھر کا دروازہ نہیں کھولتے۔ اگر یہ کسی کو نکاح کا پیغام دے تو کوئی قبول نہیں کرے گا۔ کسی کی سفارش کرے تو کوئی پرواہ نہیں کرتا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا ، یاد رکھو ! پہلے آدمی جیسے لوگوں سے اگر پوری زمین بھری ہوئی ہو تو اللہ کے نزدیک یہ دوسرا آدمی ان سب سے بہتر ہے ، کیونکہ اس کے ہاں عزت و شرف کا معیار دنیاوی جاہ و جلال اور کثرت نہیں بلکہ ایمان اور تقویٰ ہے۔
بہر حال فرمایا کہ آپ کہہ دیجیے کہ خبیث اور طیب برابر نہیں اگرچہ کثرت کتنی ہی خوش کن کیوں نہ ہو۔ ایک چلو بھر پاک پانی مٹکا بھر پیشاب سے بہتر ہے۔ حلال و حرام کا بھی یہی اصول ہے۔ حلال اور طیب کی قلیل مقدار حرام کی کثیر مقدار سے بہر صورت بہتر ہے۔ اللہ کے ہاں پسندیدگی کا معیار حق و صداقت ہے نہ کہ کثرت تعداد یا کثرت مقدار فرمایا فاتقوا اللہ یا ولی الالباب اسے صاحب عقل و خرد لوگو ! اللہ سے ڈر جائو۔ اس کی وحدانیت کے خلاف کوئی بات نہ کرو۔ اس کے بتلائے ہوئے پاکیزہ اصولوں پر عمل کرو لعلکم تفلحون تاکہ تمہیں فلاح و کامیابی نصیب ہوجائے۔ ان اصولوں پر عمل کرنے سے دنیا میں بھی کامیابی حاصل ہوگی اور آخرت میں بھی نجات کا دار و مدار اسی پر ہے۔