5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 5:33–34

اِنَّمَا جَزٰٓؤُا الَّذِیْنَ یُحَارِبُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ یَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا اَنْ یُّقَتَّلُوْۤا اَوْ یُصَلَّبُوْۤا اَوْ تُقَطَّعَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ مِّنْ خِلَافٍ اَوْ یُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ١ؕ ذٰلِكَ لَهُمْ خِزْیٌ فِی الدُّنْیَا وَ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌۙ Open ayah 5:33 in the Quran reader

بیشک جزاء ان لوگوں کی جو لڑتے ہیں اللہ اور اس کے رسول سے ‘ اور کوشش کرتے ہیں زمین میں فساد کی یہ ہے کہ ان کو قتل کیا جائے یا انہیں سولی پر لٹکایا جائے یا کاٹے جائیں ان کے ہاتھ اور پائوں الٹے سیدھے ‘ یا ان کو دور کردیا جائے زمین سے ۔ یہ ان کے لیے رسوائی ہے دنیا میں اور ان کے لیے آخرت میں عذاب عظیم ہے

اِلَّا الَّذِیْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَیْهِمْ١ۚ فَاعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۠ Open ayah 5:34 in the Quran reader

مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کرلی پیشتر اس کے کہ تم ان پر قابو پالو ‘ تو جان لو کہ بیشک اللہ تعالیٰ بخشش کرنے والا اور مہربان ہے

ربط آیات گذشتہ آیات میں اللہ نے آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا ذکر کیا تھا جن میں سے ایک نے ظلم وتعدی کے ساتھ دوسرے کو قتل کردیا اور اس ضمن میں اللہ تعالیٰ نے قتل ناحق کی مذمت بیان فرمائی ۔ چونکہ بنی اسرائیل میں یہ بیماری بکثرت موجود تھی اس لیے اللہ نے فرمایا کہ ہم نے بنی اسرائیل کی تعلیم کے لیے یہ بات لکھدی کہ جو کوئی کسی شخص کو بغیر قتل نفس اور بغیر فساد فی الارض کے قتل کرتا ہے وہ گویا تمام انسانوں کا قاتل ہے کیونکہ دنیا میں جس قدر قتل ناحق ہوتے ہیں ان سب کا ایک ایک و بال سب سے پہلے قاتل پر بھی پڑتا ہے۔ ایک شخص کا قاتل پوری دنیا کے انسانوں کے قتل کی راہ ہموار کرتا ہے۔ اس کے برخلاف فرمایا کہ جو شخص کسی ایک انسانی جان کی حفاظت کرتا ہے ‘ وہ گو یا تمام نسل انسانی کی حفاظت میں شریک ہوتا ہے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے فساد کی ایک اور قسم کا ذکر کرکے مفسد کو دی جانے والی سزا کو بیان فرمایا ہے۔ لفظ فساد اپنے اندر بہت وسیع معانی رکھتا ہے۔ ویسے تو کفر ‘ شرک اور قتل ناحق فساد ہی کی اقسام ہیں۔ کسی کے مال وجان کو نقصان پہنچانا ‘ کسی کی عزت و آبرو سے کھیلنا فساد ہی کے حصے ہیں مگر اس آیت کریمہ میں فساد کی ایک قسم حرابہ ۔۔۔ یا ڈکیتی کا ذکر کرکے اس کی سزا کو بیان فرمایا ہے۔ اس سے اگلی آیات میں جہاد فی سبیل اللہ اور تقویٰ کا بیان ہے اور اس کے بعد پھر فساد ہی کی ایک قسم چوری اور اس کی سزا کا ذکر ہے۔ ڈاکہ کی تعریف چوری اور ڈاکہ میں فرق ہے۔ چوری کی صورت میں تو خفیہ طریقے سے کسی کا مال حاصل کیا جاتا ہے۔ مگر ڈاکے میں علی الاعلان بزورقوت مال حاصل کیا جاتا ہے اور اگر ضرورت پڑے تو جان کو مارنے سے بھی دریغ نہیں کیا جاتا۔ ڈاکو جب ڈاکہ کے ارادہ سے نکلتے ہیں تو وہ مطلوبہ کام کے لیے افراد ی قوت جمع کرتے ہیں اسلحہ مہیا کرتے ہیں ‘ اپنی جان کی حفاظت کا بندو بست کرتے ہیں اور پھر اس ظلم وتعدی کا آغاز کرتے ہیں۔ چونکہ ڈاکو پوری تیاری کے ساتھ اپنے کام کا آغاز کرتے ہیں اس لیے وہ حملہ آور ہو کر مال و آسباب چھین لیتے ہیں اور بعض اوقات عورتوں کو بھی اغواء کرلیتے ہیں ‘ چونکہ مخالف فریق اس ناگہانی آفت کے لیے پہلے سے تیار نہیں ہوتا اس لیے بسا اوقات ڈاکوئوں سے تعرض کرتا ہے تو وہ ا س کی جان تلف کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ لہٰذا عام طور پر دیکھا گیا ہے۔ کہ اس قسم کے حالات میں لوگ خود ہی سب کچھ ڈاکوئوں کو پیش کردیتے ہیں اور اگر کوئی حیل و حجت کرتا ہے تو اسے مال کے ساتھ جان سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے ہیں۔ ڈاکے کی بیماری قدیم زمانے سے چلی آرہی ہے اور ساری دنیا اس میں مبتلا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ متمدن اور ترقی یافتہ کہلانے والے ممالک میں ڈاکے کی شرح ترقی پذیر ممالک کی نسبت بہت زیادہ ہے مشرقی ممالک میں تو یہ وبا موجود ہے مگر امریکہ اور برطانیہ جیسے صف اول کے ملک بھی اس سے محفوظ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تو صاف فرمادیا ہے۔ ” واللہ لا یحب الفساد “ کہ وہ فتنہ و فساد کو بالکل پسند نہیں کرتا ‘ مگر دنیا کا شاید ہی کوئی خطہ ڈاکے جیسے قبیح جرم سے مامون ہے۔ اسلامی تعزیرات قرآن پاک میں حدود کا ذکر بہت مختصر ہے البتہ تعزیرات کا وسیع بیان موجود ہے۔ حدود میں چوری ‘ شراب نوشی ‘ قذف ‘ زنا ‘ ارتداو ‘ بغاوت اور ڈاکہ شامل ہیں۔ جرائم کی نوعیت کے اعتبار سے اسلام نے تین قسم کی سزائیں مقرر کی ہیں۔ حدود مقررہ تعزیرات ہیں اور ان میں کمی بیشی نہیں کی جاسکتی۔ دوسری قسم تعزیرات ہیں جن کا باب بہت وسیع ہے ۔ اسلامی نظام میں تعزیرات کو بہت اہمیت حاصل ہے ۔ البتہ مختلف جرائم کی سزا تجویز کرنا مسلمان حاکم کی صوابدید پر ہے۔ وہ جرم کی نوعیت کے اعتبار سے جو سزا مناسب سمجھے ‘ عائد کردے۔ تاہم اصولی بات یہ ہے کہ ظلم کسی صورت میں بھی قابل برداشت نہیں ہے۔ اللہ اور رسول سے جنگ ارشاد باری تعالیٰ ہے انما جزآ ئوا الذین یحاربون اللہ ورسولہ بیشک سزا ان لوگوں کی جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کرتے ہیں ویسعون فی الارض فسادا اور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے یہاں پر دو جرائم کا تذکرہ کر کے پھر ان کی سزا بیان فرمائی ہے۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ اور فساد فی الارض۔ امام ابوبکر حصاص ؓ فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ لڑائی تو پھر بھی کسی حد تک قابل فہم ہے مگر اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ جنگ کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔ وہ تو قادر مطلق ہے جب چاہے کسی کو فی الفور فنا کردے ‘ اس کے ساتھ مقابلہ کی کون جرأت کرسکتا ہے۔ اسی لیے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں پر اللہ کے ساتھ لڑائی کو حقیقی معنی کی بجائے مجازی معنوں پر محمول کیا جاتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے۔ کہ اللہ کے نزدیک مامون لوگوں کے ساتھ لڑائی کرنا خود اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کرنے کے مترادف ہے۔ مسلمان کی جان و مال محفوظ ہے۔ اسی طرح مسلمان ملک میں خدا کے قانون کی بالا دستی کو تسلیم کرنے والے غیر مسلم ذمی بھی ‘ مون ہیں۔ ان کے مال ‘ جان ‘ عزت ‘ آبرو کی حفاظت اسلامی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اگر کوئی فرد یا گروہ مامون لوگوں کے ساتھ تعرض کرتا ہے ‘ ان کے مال چھینتا ہے ‘ جان کے ساتھ کھیلتا ہے یا ان کی عزت و آبرو کے درپے ہوتا ہے ‘ تو وہ گویا اللہ کے قائم کردہ امن کو تباہ کرتا ہے۔ اللہ سے جنگ کی مثال دوسرے مقام پر بھی ملتی ہے فرمایا اگر سود خوری سے باز نہیں آتے فاذنوا بحرب من اللہ ورسولہ “ تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے جنگ کے لیے تیار ہو جائو۔ یہاں پر بھی اللہ اور رسول کے ساتھ جنگ کو انہی معانی میں لیا گیا ہے۔ امام ابوبکر حصاص ؓ نے روایت بیان کی ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے حضرت معاذ ؓ سے فرمایا ‘ اے معاذ ؓ ! تھوڑی سی ریا کاری بھی شرک میں داخل ہے۔ ریاکاری عملی شرک ہے اور اس سے بچنا چاہیے۔ دوسری بات یہ فرمائی من اذی ولیا فقد بارزنی بالحرب یعنی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ جس نے میرے ولی کو ایذا پہنچائی اس نے مجھے جنگ کا چیلنج دیا۔ یہاں بھی مجازی معنی مراد ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کے ساتھ آمنے سامنے جنگ تو نہیں کرتا گویا خدا تعالیٰ سے لڑائی کرنا ہے۔ کسی ہستی کے نافذ کردہ قانون کی خلاف ورزی خود اس ہستی کے ساتھ دشمنی کے برابر ہے۔ اللہ اور اس کے رسول نے تو امن قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اب جو ان کے اس قانون کو توڑتا ہے گویا خدا کے ساتھ جنگ کرتا ہے۔ بہر حال یہاں پر حقیقی جنگ مراد نہیں ہے بلکہ اللہ نے یہ لفظ مبالغہ کے طور پر فرمایا ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جنگ کرنے سے مراد اس کے بندوں سے جنگ کرنا ہے۔ ” یخدعون اللہ “ کی یہی توجیہ کی جاتی ہے کہ منافقین اللہ تعالیٰ کو دھوکہ تو نہیں دے سکتے ‘ یہ لفظ مجازاً اس کے بندوں کے لیے استعمال کیا گیا کہ وہ مومنوں کو دھوکا دیتے ہیں اسی طرح ” یحاربون اللہ “ سے مراد اللہ سے جنگ نہیں بلکہ اس کے بندوں کے ساتھ جنگ مراد ہے۔ اس طرح یہ مجاز مرسل ہوجائیگا جس میں اولیاء کو مضاف مخدوف مانا پڑے گا اور مطلب یہ ہوگا یحاربون اولیآء اللہ یعنی جو اللہ اور رسول کے دوستوں سے لڑتے ہیں ان کی سزا یہ ہے جہاں تک اس آیت میں بیان کردہ دوسرے جرم فساد فی الارض کا تعلق ہے تو کفر اور شرک سے بڑھ کر اور کیا فساد ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے قانون کی خلاف ورزی اور گناہ کا ارتکاب زمین میں فساد ہی تو ہے۔ جو شخص دوسرے شخص پر ظلم وتعدی کرتا ہے ‘ وہ فساد فی الارض کا مرتکب ہوتا ہے اور ایسے ہی لوگوں کے متعلق اس آیت میں سزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ امن وامان کی ذمہ داری ملک میں امن وامان قائم کرنے کی ذمہ داری اسلامی حکومت اور جماعت المسلمین پر عائد ہوتی ہے ‘ ظاہر ہے کہ حکومت جماعت ہی کی فرع ہے۔ لہذا یہ جماعت اور حکومت دونوں کا فرض ہے۔ کہ وہ خود قانون کی پابندی کرے اور امن وامان کے مسئلہ سے عہدہ براء ہونے کے لیے ایسی انتظامیہ وجود میں لائے جو عوام الناس کو اسلامی قانون پر عملدرآمد پر مجبور کرسکے ‘ اللہ نے فرمایا ہے کہ جہاد کی ضرورت اس وقت تک ہے جب تک فتنہ مکمل طور پر ختم ہو کر ” ویکون الدین للہ “ دین خالصتاً اللہ کا قائم نہ ہوجائے ‘ لوگ خدا کے قانون کی پابندی کرنے لگیں ‘ معاشرے ک ہر فرد کو امن وامان اور اس کا جائز حق حاصل ہو اور ہر شخص ظلم و زیادتی سے محفوظ ہو۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی معرکتہ الآ را کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں فرماتے 1 ؎ ہیں کہ بعثت انبیاء کے مقاصد میں ایک یہ مقصد بھی شامل ہے رفع التظالمہ من بین الناس لوگوں کے درمیان ظلم کو رفع کرنا۔ انبیائے کرام کی بعثت کا اولین مقصد تو اصلاح عقیدہ ہوتا ہے تاکہ انسان کی فکر کو درست کیا جائے تاہم ایک دسرے پر ظلم کا قلع قمع بھی انبیاء کے مشن میں داخل ہے۔ چناچہ تمام انبیاء اس فرض کو انجام دیتے آئے ہیں اور ظلم کے خلاف آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا اس ملک میں ابھی تک انگریزی قانون رائج ہے جو بلاشبہ امن وامان کے قیام میں ناکام ہوچکا ہے۔ بلکہ ہماری انتظامیہ کی حالت یہ ہے کہ یہ خود بڑے بڑے جرائم میں ملوث ہوتی ہے اور مجرموں کو ان کی پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔ جن لوگوں کے فرائض میں امان وامان کی نگرانی ہو اور وہ اس کام کے لیے باقعدہ تنخواہ وصول کرتے ہوں ‘ اگر وہی لوگ مجرموں 1 ؎ حجۃ اللہ البالغہ ص 337 (فیاض) کی حوصلہ افزائی کرنے لگیں تو امن کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ ہماری پولیس سے کون واقف نہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ شاید ہی ڈکیتی کی کوئی واردات ایسی ہو جس میں خود پولیس کو دخل حاصل نہ ہو ‘ نظام سرمایہ دارانہ ہو یا اشتراکی ‘ ملوکیت ہو یا جمہوریت ‘ جب تک قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنے فرض کو کماحقہ ادا نہیں کریں گے۔ لوگ ظلم و جور کی چکی میں پستے رہیں گے۔ جرم اور سزا الغرض اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں جرم ڈاکہ کی مختلف نوعیتوں اور ان کی سزا کا ذکر کیا ہے۔ اس جرم میں واردات کی نوعیت چار اقسام سے ہو سکتی ہے۔ پہلی صورت یہ ہے ۔ کہ ڈاکہ کا ارتکاب ہوا ہے مگر مجرمین مال حاصل نہیں کرسکے بلکہ صرف قتل ناحق کے مرتکب ہوئے ہیں۔ تو فرمایا ایسے مجر میں کی سزا یہ ہے ان یقتلوا کہ ان کو بھی سزا کے طور پر قتل کیا جائے اور دوسری صورت یہ ہے کہ ڈاکو مال بھی لے گئے ہیں اور کسی جان کو بھی تلف کیا ہے۔ ایسے مجرمین کے متعلق فرمایا او یصلبوا یا ان کو سولی پر لٹکا دیا جائے۔ چونکہ اس واردات میں دو جرائم کا ارتکاب ہوا ہے۔ لہٰذا اس کے لیے سزائیں بھی دو تجویز کی گئی ہیں۔ پہلے مجرم کو زندہ سولی پر لٹکا دیا جائے گا پھر نیزے مار مار کر اس کو ہلاک کردیا جائیگا۔ یہ حاکم صوابدید پر منحصر ہے۔ کہ مجرم کو کھلے عام سولی پر لٹکائے اور پھر عبرت کے لیے دو یا تین دن جس قدر مناسب سمجھے لٹکتا رہنے دے۔ ڈاکہ کی واردات کی تیسری قسم یہ ہو سکتی ہے۔ کہ ڈاکو مال حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں ‘ البتہ کسی جان کا ضیاع نہیں ہوا ۔ ایسی صورت میں فرمایا اوتقطع ایدیھم وارجلھم من خلاف ڈاکو کا ایک ہاتھ اور ایک پائوں کاٹ دیا جائے۔ من خلاف کا مطلب یہ ہے ۔ کہ اگر ہاتھ دائیاں کاٹا ہے تو پائوں بایاں کٹے گا اور اگر ہاتھ بایاں ہے تو پائوں دائیاں ہوگا۔ اب چوتھی صورت یہ رہ گئی ہے کہ ڈاکہ تو ڈالا گیا ہے مگر ڈاکو اپنے مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے۔ نہ تو کوئی مال و متاع حاصل کرسکے ہیں اور نہ کسی جان کو نقصان پہنچا ہے۔ مثال کے طور پر فریق ثانی کو بروقت اطلاع مل گئی ہے اور وہ چوکس ہوگئے ہیں۔ یا آگے سے مقابلہ ہوگیا ہے اور ڈاکو ناکام واپس لوٹ گئے ہیں ۔ تو ایسی صورت میں مجرمین کی تعزیر کے متعلق فرمایا او ینفوا من الارض یعنی جرم کے مرتکبین کو زمین سے ہٹا دیا جائے۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک زمین سے ہٹا دینے کا مطلب یہ ہے کہ مجرم کو ملک بدر کردیا جائے۔ یہ بھی اچھی خاصی سزا ہے کہ کسی کو گھر بار اور وطن سے دور کردیا جائے۔ مگر امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں۔ کہ اگر ایسے شخص کو ملک بدر کیا گیا تو جہاں جائیگا ہوسکتا ہے وہاں اس جرم کا پھر ارتکاب کرے ‘ لہذا آپ کی رائے میں ینفوا من الارض کا مطلب یہ ہے کہ اسے قید میں ڈال دیاجائے۔ ڈاکہ کے مقام کے ضمن میں بھی فقہائے کرام کے درمیان قدرے اختلاف پایا جاتا ہے امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدی شہری آبادی میں ڈاکہ ڈالنے کی نوبت نہیں آتی کیونکہ وہاں پر پولیس اور دیگر حفاظتی انتظام ہوتے ہیں لہذا ڈاکہ کا اطلاق کسی شہر میں کی گئی واردات پر نہیں ہوتا۔ اس کے برخلاف امام شافعی (رح) اور امام ابو یوسف (رح) فرماتے ہیں کہ ڈاکے کی واردات خواہ کسی بھی مقام پر ہو ‘ وہ ڈاکہ ہی کہلائے گی اور جرم کی نوعیت کے مطابق سزادی جائیگی ڈاکہ ڈالنے کے لیے جن لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً افرادی قوت ‘ اسلحہ ‘ سواری ‘ (گھوڑا ‘ موٹر سائیکل ‘ کار) وغیرہ کے ساتھ اگر ڈاکہ ڈالا گیا ہے تو ایسی واردات خواہ شہر ‘ دیہات ‘ یا قصبہ میں ہو بہرحال ڈاکہ تصور ہوگی اور مجرموں کو مناسب سزادی جائیگی۔ دنیا اور آخرت کی رسوائی ان چاروں اقسام کی سزا کے متعلق فرمایا ذلک لھم خزی فی الدنیا یہ ان کے لیے دنیا کی رسوائی ہے۔ جب سولی پر لٹکائے جائیں ‘ ہاتھ پائوں کٹیں گے یا قید و بند کی سزا ہوگئی تو دنیا میں بد نامی کا باعث ہوگی۔ ولھم فی الاخرۃ عذاب عظیم ایسے لوگوں کو آخرت میں بھی بہت بڑا عذاب ہوگا۔ گویا دنیا اور آخرت ہر دو مقامات پر مجرمین کے یے ذلت اور رسوائی کا سامان ہوگا۔ اس آیت سے امام ابوحنیفہ (رح) استدلال کرتے ہیں کہ کسی جرم میں حد کا قیام اس جرم کا کفارہ نہیں بن جاتا بلکہ یہ تو زجر یعنی تنبیہ ہوتی ہے البتہ بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے۔ کہ جب کسی شخص پر حد جاری ہوگئی تو وہ اس کے لیے کفارہ بن گئی۔ امام صاحب فرماتے ہیں۔ کہ یہ سزا آخرت کے لیے کفارہ بن جاتی تو پھر اس آیت کریمہ میں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب کا علیحدہ علیحدہ وکر نہ کیا جاتا۔۔ معلوم ہوا ہے کہ حد یا تعزیر دنیا کے نظام کو درست رکھنے کے لیے ضروری ہے اور توبہ آخرت کے عذاب سے بچنے کے لیے ہے۔ عام وطر پر جب کوئی مسلمان کسی جرم میں سزا پاتا ہے تو وہ تو بہ کرلیتا ہے اور وہ آخرت کے عذاب عظیم سے بچ جاتا ہے۔ البتہ اگر کوئی آدمی جرم کو جائز سمجھتا ہے تو ایسے شخص کے لیے حد یا تعزیر دنیا کی رسوائی ہے اور آخرت میں بہت بڑا عذاب بھی ہے۔ توبہ قبل از گرفتاری فرمایا الا الذین تابوا من قبل ا ن تقدروا علیھم ہاں جس شخص نے اس پر قابو پائے جانے سے قبل توبہ کرلی۔ وہ اپنے جرم پر نادم ہوگیا ‘ تو پھر اس پر حد جاری نہیں ہوگی ‘ اسے صرف حق تلفی کا ازالہ کرنا ہوگا۔ اگر کوئی حق تلفی ہوئی ہے ۔ کسی سے کوئی چیز چھینی ہے تو واپس کرے اس پر حد جاری نہیں ہوگی۔ فاعلموا ان اللہ غفور رحیم اللہ تعالیٰ غفور اور رحیم ہے۔ اگر اس نے سچے دل سے توبہ کرلی ہے تو وہ معافی کا مستحق ہے۔ یاد رہے کہ معافی کا قانون صرف چوری کے جرم میں ہے۔ باقی قابل حد جرائم زنا ‘ قذف ‘ شراب نوشی ‘ ارتداد ‘ وغیرہ میں جرم ثابت ہونے پر حد لازماً جاری ہوگی۔
Ayahs 5:35–37

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ وَ جَاهِدُوْا فِیْ سَبِیْلِهٖ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ Open ayah 5:35 in the Quran reader

اے ایمان والو ڈرو اللہ تعالیٰ سے اور تلاش کرو اس کی طرف وسیلہ اور جہاد کرو اس کے راستے میں تاکہ تم فلاح پاجائو

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ اَنَّ لَهُمْ مَّا فِی الْاَرْضِ جَمِیْعًا وَّ مِثْلَهٗ مَعَهٗ لِیَفْتَدُوْا بِهٖ مِنْ عَذَابِ یَوْمِ الْقِیٰمَةِ مَا تُقُبِّلَ مِنْهُمْ١ۚ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 5:36 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا ‘ اگر ان کے لیے ہو جو کچھ زمین میں ہے سب کا سب اور اس جیسا اور بھی ہو اس کے ساتھ تاکہ وہ فدیہ دیں اس کا قیامت کے دن عذاب سے تو نہیں قبول کیا جائے گا ان سے اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے

یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنَ النَّارِ وَ مَا هُمْ بِخٰرِجِیْنَ مِنْهَا١٘ وَ لَهُمْ عَذَابٌ مُّقِیْمٌ Open ayah 5:37 in the Quran reader

وہ چاہیں گے کہ نکل جائیں دوزخ کی آگ سے اور نہیں ہوں گے وہ نکلنے والے اس سے اور ان کے لیے عذاب ہوگا دائمی

ربط آیات بنی اسرائیل کے نقض عہد کا تذکرہ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا ذکر کیا۔ ایک بیٹے نے ظلم وتعدی کی اور دوسرے کو ناحق قتل کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حفاظت جان کی تعلیم دی اور فرمایا کہ ایک انسانی جان کا قتل پوری نسل انسانی کے قتل کے برابر ہے اور ایک جان کی حفاظت تمام انسانی سوسائٹی کی حفاظت کے مترادف ہے ۔ پھر اللہ نے فساد فی الارض کی مذمت بیان فرمائی اور اس کی ایک قسم ڈکیتی کی سزا کا ذکر کیا۔ اس دورس کے بعد فساد فی الارض کی دوسری قسم سرقہ کا بیان ہوگا تاہم درمیان میں اہل ایمان سے خطاب کرکے بعض چیزوں کا مطالبہ کیا گیا ہے کیونکہ بنی اسرائیل میں پائی جانے والی خرابیوں سے بچنے کے لیے مطلوبہ چیزوں کی پابندی ضروری ہے۔ بنی اسرائیل چونکہ جہاد سے گریز کرتے تھے ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو جہاد کا حکم دیا ہے۔ وہ قوم فسق و فجور میں مبتلاتھی ‘ اہل ایمان کو اس سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ بنی اسرائیل ظلم و زیادتی کے مرتکب ہوتے تھے۔ قتل ناحق اور ڈکیتی جیسی قبیح حرکات کرتے تھے ‘ اللہ نے اہل ایمان کو تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ۔ اس کے ساتھ ساتھ آج کے درس میں کفار کے برے انجام سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔ پھر اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ قیامت کے دن کفار کی طرف سے زمین بھر مال و دولت بھی فدیہ میں قبول نہیں کیا جائے گا ‘ بلکہ وہ سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ آخرت میں کام آنے والی چیزیں تقوی ‘ اطاعت عدل و انصاف اور جہاد فی سبیل اللہ وغیرہ ہیں۔ خوف خدا ارشاد ہوتا ہے۔ یا یھا الذین امنوا اتقوا اللہ یعنی اے ایمان ولو ! اللہ سے ڈرتے رہو۔ تقوے یا خوف خدا کی اولین علامت یہ ہے کہ انسان بد عقیدگی سے بچ جائے ‘ شرک اور کفر کو قریب نہ آنے دے۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر معاصی ہیں ‘ انہیں ترک کرنا ہوگا ‘ کافر ‘ مشرک اور منافق متقی نہیں ہوسکتا۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں ۔ کہ تقویٰ کا مفہوم ہے ” حفاظت بر حدود شرعیہ “ یعنی شریعت کی قائم کردہ حدوں کی حفاظت کرنا۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا قول ہے۔ کہ متقی وہ لوگ ہیں جو کفر ‘ شرک ‘ نفاق اور معاصی سے بچتے ہیں اور نیکی پر عمل کرتے ہیں ‘ عدل و انصاف ان کا خاصہ اور لازمہ ہوتا ہے۔ خوف خدا سے مراد ایسا ڈر نہیں جیسا کہ سانپ یا بچھو سے آتا ہے۔ بلکہ اس خوف سے مراد یہ ہے کہ انسان کہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی خوشنودی سے دور نہ جا پڑے۔ انسان کے دل میں یہ خوف ہمیشہ موجود رہنا چاہیے کہ کوئی کام اللہ تعالیٰ کی مرضی کے خلاف نہ ہوجائے۔ وسیلہ کی تلاش فرمایا اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو وابتغوآ الیہ الوسیلۃ اور اللہ کی طرف وسیلہ تلاش کرو۔ لفظ وسیلہ متعدد معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ وسیلہ کا معنی قرب ہوتا ہے۔ اس کا دوسرا معنی مرتبہ اور پھر حاجت پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ تاہم مفسرین قرآن حضرت عبداللہ بن عباس ؓ حسن بصری (رح) اور دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ یہاں پر وسیلہ تلاش کرنے کا مطلب ہے تقربوا الیہ بطاعتہ والعمل بما یرضیہ یعنی اللہ تعالیٰ کا تقرب حاصل کرو۔ اس کی اطاعت کے ساتھ اور اس چیز کے ساتھ جو اللہ کو راضی کرتی ہے۔ لفظ وسیلہ س اور ص دونوں کے ساتھ آتا ہے اور اس کا معنی قرب اور اتصال ہے۔ عربی شاعر کہتا ہے ؎ اذا غفر الواشون عدنا الوصلنا وعادت التصافی بیننا والوسائل جب چغل خور غافل ہوتے ہیں تو ہم اپنے قرب کی طرف لوٹ آتے ہیں اور ہماری محبت اور قرب کے تمام وسائل پلٹ آتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ عربی زبان میں وسیلہ قرب کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ وسیلہ جنت میں ایک اعلیٰ مقام کا نام بھی ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ وسیلہ ایک بلند ترین مقام ہے اور وہ اللہ کی مخلوق میں سے صرف ایک شخص کو ملیگا۔ میں امید کرتا ہوں کہ وہ ہی ہوں گا ‘ لہذا اذان کے بعد مجھ پر درود پڑھا کرو اور میرے لیے وسیلے کی دعا کیا کرو 1 ؎ اللھم رب ھذہ الدعوۃ التآ مۃ والصلوۃ القآ ئمۃ ات محمد ن الوسیلۃ۔۔ الخ اس دعا سے امت کے حق میں بھی بہتری ہوگی۔ گویا اس منزلت کا نام وسیلہ ہے جسے ہم اذان کے بعد دعا میں طلب کرتے ہیں حضرت مولانا شیخ الاسلام (رح) فرماتے ہیں کہ وسیلہ حق تعالیٰ کے مقامات قرب میں سے بلند تر مقام ہے۔ عربی میں وسیلہ کا معنی حاجت بھی آتا ہے۔ زمانہ جاہلیت کا شاعر کہتا ہے ؎ ان الرجال لھم الیک وسیلۃ ان یأ خذوک تکحلی وتخضبی عورت کو مخاطب کرکے کہتا ہے ۔ کہ مردوں کو تیری ضرورت یعنی حاجت ہے۔ لہذا تم آنکھوں سر مہ لگالو۔ اور ہاتھوں کو مہندی سے رنگ لو۔ بہرحال اللہ کی طرف وسیلہ تلاش کرنے کا مطلب یہ بھی ہے کہ اس کی طرف متوجہ ہو اپنی حاجتیں اسی سے طلب کرو۔ حاصل کلام یہ کہ تقرب الی اللہ کے جتنے بھی ذرائع ہیں وہ سب وسیلہ کہلاسکتے ہیں۔ تو فرمایا اللہ تعالیٰ کی ناخوشی ‘ بعد اور ہجر سے ڈر کر اس کا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرو۔ اور یہ جبھی ہو سکتا ہے جب درمیان کے تمام راستے طے ہوجائیں جن پر چل کر اس تک پہنچ سکتے ہیں۔ 1 ؎ بخاری ص 86 ج 1 (فیاض) توسل بالذات جیسا کہ عرض کیا وسیلہ کا معنی اگرچہ تقرب ‘ اطاعت ‘ حاجت یا منزلہ و مرتبہ ہے مگر تقرب الی اللہ کے ذرائع میں ہر ایسی چیز داخل ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی محبت اور اس کی خوشنودی مدنظر ہو۔ چناچہ تقرب الی اللہ کے ذرائع میں انبیاء اولیاء اللہ اور صالحین کی محبت ورفاقت بھی شامل ہے۔ اسی لیے اگر دعا میں کسی نیک آدمی کا توسل پیش کیا جائے تو یہ ضروری تو نہیں مگر مباح ہے اور اس معنی یہ ہوگا کہ ہمیں جو محبت اور الفت اس بزرگ کے ساتھ ہے اس کے وسیلے سے ہم خدا کی بارگاہ میں دعا کرتے ہیں ۔ کہ وہ ہمارے مقصد کو پورا فرمادے۔ کسی کی ذات کے توسل کا یہی مطلب ہے ‘ نہ یہ کہ ہم اس بزرگ کو حاضر و ناظر جانتے ہیں اور یہ کہ وہ ہماری ہر بات کو جانتا ہے اور خدا خواہ راضی ہو یا ناراض وہ ہر صورت میں ہمارا کام کروا دیگا۔ تو سل کا یہ مطلب تو مشرکین کا عقیدہ ہے۔ یہ تو وہ جبری شفاعت والا مسئلہ آگیا۔ حالانکہ خداوند تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے ” من ذا الذی یشفع عندہ الا باذنہ “ اور سورة بقرہ میں یہ بھی ہے ” ولا تنفعھا شفاعۃ “ یعنی نہ تو اللہ کی اجازت کے بغیر کسی کو شفاعت کی اجازت ہوگی اور نہ ایسی شفارش کوئی فائدہ دیگی۔ باطل پرست یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہم جو چاہیں کرتے رہیں ہمارے بزرگ ہمیں چھڑا لیں گے ‘ یہ بالکل مشرکانہ اور جبری شفاعت کا عقیدہ ہے۔ حضرت مجدد الف ثانی (رح) فرماتے ہیں کہ ہم دعا کرتے ہیں بحرمۃ النبی والہ حضور نبی کریم اور آپ کی آل کے واسطہ کے ساتھ۔ یعنی اے اللہ ! اپنے بنی کی حرمت اور عزت کے ساتھ ہماری داعا قبو فرما ‘ حرمت ‘ طفیل ‘ وسیلہ اور حق کا یہی معنی ہے ؎ خدایا بحق بنی فاطمہ کہ برقول ِ ایماں کنی خاتمہ اے خدایا ! حضرت فاطمہ کی اولاد کے طفیل ہمارا خاتمہ بالایمان فرما کہیں وجاہت کا ذکر ہے اور کہیں الفت اور محبت کا تذکرہ ہے اولیاء اللہ سے محبت رکھنا بھی نیک عمل ہے۔ ہر نیک آدمی سے اتصال اور الفت ایمان کی نشانی ہے۔ اس لیے ان کے توسل سے دعا کرنا نیک عمل ہی کا واسطہ ہے۔ اس صفت کے بغیر کسی کی ذات کا توسل مراد نہیں ہے۔ بزرگان دین انہی معنوں میں توسل کو جائز قراردیتے ہیں۔ اس کے برخلاف مشرکین جبری شفاعت کے قائل ہیں کہ خدا راضی ہو یا نہ ہو۔ ہمارے بزرگ ہر حالت میں ہماری مراد پوری کرادیں گے۔ وہ کہتے تھے ” مانعبدھم الا لیقربوا نآ الی اللہ زلفی “ ہم ان کی عبادت اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ کا قرب دلادیں گے۔ ہم تو براہ راست خدا کی بارگاہ میں نہیں پہنچ سکتے لہذا یہ ہمیں اللہ کے قریب کردیتے ہیں ۔ چونکہ یہ عقیدہ معبود ان باطلہ کی عبادت کے مترادف ہے ‘ اس لیے شرک ہے بہر حال حاجت ہر حالت میں اللہ تعالیٰ سے ہی طلب کی جاتی ہے اور نبی یا ولی کی حیثیت محض وسیلہ کی ہوتی ہے۔ کہ دعا مانگنے والا ان سے محبت رکھتا ہے۔ وظیفہ شیئ اللہ اس لحاظ سے اللہ تعالیٰ سے یوں دعا مانگنا کہ اے اللہ شیخ عبدالقادر جیلانی کے وسیلے سے ہماری دعا قبول کر ‘ درست ہے مگر لوگ الٹا وظیفہ پڑھتے ہیں یا شیخ بعدالقادر جیلانی شیئا للہ اس جملے میں شیخ عبدالقادر کو مقصود بنا کر ان سے حاجت طلب کی جاتی ہے اور درمیان میں اللہ کو وسیلہ بنایاجاتا ہے۔ یعنی اے عبدالقادر ! خدا کے وسیلے سے ہمیں کوئی چیز عطا کردے۔ یہی تو شرک ہے۔ شاہ اسماعیل شہید (رح) اپنی کتاب تقویتۃ الایمان میں شرک کی تردید میں لکھتے ہیں کہ اگر اس کا یوں الٹ کردیا جائے۔ یا اللہ شیئا للشیخ عبد القادر جیلانی تو درست ہے ‘ یعنی اے مولا کریم ‘ شیخ عبدالقادر (رح) کے وسیلہ سے میری حاجت پوری کردے۔ اس میں مقصود اور حاجت روا خدا تعالیٰ کو تسلیم کیا جائے گا اور شیخ عبدالقادر (رح) کو محبت کا وسیلہ پیش ہوگا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ وسیلہ ‘ طفیل یا حرمت کہنا درست نہیں ہے ‘ مگر جیسا کہ عرض کیا کہ یہ کوئی لازمی نہیں ہے بلکہ صرف مباح ہے اگر کوئی ایسا وسیلہ استعمال نہیں کرتا تو ظاہر ہے کہ دعا میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی اور اگر یہ چیز بزرگوں سے ثابت ہے ‘ تو اسے مباح کی حیثیت حاصل ہے ‘ بہرحال اس سے ایسا وسیلہ مراد نہیں جو مشرک سمجھتے ہیں۔ توسل بالاعمال البتہ اعمال کا تو سل سب کے نزدیک جائز ہے۔ امام ابن تیمیہ (رح) اور دیگر بزرگلن دین اس پر متفق ہیں۔ بخاری شریف میں تین آدمیوں کا ذکر آتا ہے جو پہاڑ کی ایک غار میں پھنس گئے تھے۔ انہوں نے اپنے اپنے نیک اعمال کے توسل سے دعا مانگی تو اللہ نے ان کو مصیت سے نجات دے دی تھی۔ لہذا سید علی ہجویری (رح) کے توسل سے دعا کرنا۔ ان کے نیک اعمال ہی کا توسل پکڑنا ہے نہ کہ محض ان کی ذات کا ۔ آپ ایک صالح آدمی تھے۔ آپ ہزاروں آدمیوں کی ہدایت کا ذریعہ ہے۔ لوگ کفر اور شرک سے نکل کر ایمان اور توحید کی روشنی میں آئے ‘ ہم ان کے پیروکار ہیں ‘ ہمیں ان سے محبت ہے ۔ اے اللہ ! ان کی برکت اور طفیل سے ہماری حاجت پوری کردے اس طرح تو جائز ہے۔ اور اگر ان بزرگوں کو حاضر وناظر اور عالم الغیب سمجھے گا اور جبری شفاعت کا عقیدہ رکھے گا کہ یہ ضرور ہی ہمیں چھڑا لیں گے۔ یا خود ہماری حاجت پوری کردیں گے تو یہ سو فیصدی صریح اور جلی شرک ہے۔ جو کہ قطعی طور پر حرام ہے۔ بہرحال وسیلہ کے لفظ کی تشریح میں نے عرض کردی۔ جہاد فی سبیل اللہ فرمایا اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ تلاش کرو۔ تیسری چیز فرمایا وجاھدوا فی سبیلہ لعلکم تفلحون اور جہاد کرو اس کے راستے میں ‘ تاکہ تم فلا ح پا جائو ‘ جہاد میں ہر قسم کا جہاد یعنی مالی ‘ جانی ‘ قلمی اور زبانی شامل ہے جس طرح کفر کو مٹانے اور ظلم کی بیچ کنی کے لیے جانی اور مالی جہاد کیا جاتا ہے۔ اس طرح قلمی جہاد بھی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ جن لوگوں نے قرآن پاک کے تراجم کیے ہیں ‘ بڑی بڑی تفسیریں لکھی ہیں ‘ حدیث کی کتابیں مرتب کی ہیں۔ انہوں نے اپنے قلم سے جہاد کیا ہے۔ قرآن پاک میں جگہ جگہ موجود ہے ” جاھدوا باموالکم وانفسکم “ یعنی مال اور جان کے ذریعے جہاد کرو۔ دین کی اقامت اور اس کی تقویت کے لیے جو شخص مال خرچ کرتا ہے بلاشبہ وہ جہاد میں حصہ لیتا ہے۔ نظام اسلام کی سر بلندی کے لیے روپیہ خرچ کرنا جہاد ہے۔ اس کے برخلاف کھیل تماشے پر خرچ کرنا۔ فضول عمارات بنانا ‘ عیاشی اور فحاشی پر خرچ کرنا شیطان کے راستے پر خرچ کرنا ہے ‘ اگر مسجد یا مدرسے کی تعمیر پر خرچ کیا جائے گا ‘ کتاب کی اشاعت میں تعاون کیا جائیگا تو یہی مال تو شہ آخرت بن جائے گا۔ ابو دائود شریف کی حدیث میں موجود ہے جاھدوا الکفار و المشرکین باموالکم وانفسکم والسنتکم یعنی کفار و مشرکین کے ساتھ ‘ مالوں ‘ جانوں اور زبانوں کے ساتھ جہاد کرو کفر وشرک اور برائی کی تردید میں تبلیغ کرنا جہاد باللسان ہے۔ اسی طرح خدا اور رسول کا پیغام غیر مسلموں تک پہنچانا بھی زبان کے ذریعے سے جہاد ہے۔ مگر کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ دین کا پیغام غیر مسلم اقوام تک پہنچانے کی بجائے آجکل مسلمانوں کی زبانیں آپس کی طعن وتشنیع پر ہی لگی ہوئی ہیں ایک دوسرے فرقے کے خلاف زہر اگلا جارہا ہے ‘ مگر اصل کام کی طرف بہت کم توجہ دی جارہی ہے۔ جہاد باللسان تو یہ ہے کہ جن لوگوں تک دین کی روشنی نہیں پہنچ پاتی انہیں اس سے روشناس کرو۔ زبان تقریر اور بیان سے دین کا پیغام گھر گھر پہنچائو۔ مگر آج کے فرصت ہے کہ وہ غیر مسلموں تک اسلام کی روشنی پھیلانے ‘ تبلیغی جماعت والے جو تھوڑے بہت کوشش کر رہے ہیں اس کا دائرہ کا ر بھی زیادہ تر مسلمانوں تک ہی محدود ہے۔ غیر مسلموں کیطرف رخ کر نیکی کسی کو ہمت ہی نہیں پڑتی۔ جب ان سے اسلام کی بات کی جاتی ہے تو وہ جواباً کہتے ہیں کہ دین کی خوبیاں گنوانے سے پہلے انہیں اپنے آپ پر نافذ کرکے تو دکھائو۔ پہلے اپنے آپ کو درست کرو پھر ہماری طرف رخ کرنا۔ مسلمان کا کردار ہمارے ایک دوست ٹریننگ کے لیے سویڈن گئے۔ واپسی پر میں نے پوچھا کہ وہاں کسی کو دین کی دعوت بھی دی ہے کہنے لگے ہاں۔ میں نے بعض لوگوں کو اسلام کی دعوت دی تھی مگر انہوں نے عجیب و غریب جواب دیا۔ کہنے لگے اسلام میں داخل کرکے کیا تم ہمیں بھی اپنی طرح چور اور غلام بنانا چاہتے ہو۔ انہوں نے اپنا تجربہ بیان کیا کہ وہ جس اسلامی ملک میں گئے ہیں وہاں کے لوگوں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑا پایا ہے کوئی۔ دس کا غلام ہے اور کوئی امریکہ کا ۔ مسلمانوں کے ملکوں میں چوری عام ہے ‘ دھوکہ اور فریب ہے کیا تم ہمیں بھی ویسا ہی بنانا چاہتے ہو۔ ہمارے دوست کہنے لگے کہ میں ان کے اس جواب سے سخت شرمسار ہوا۔ حقیقت یہی ہے کہ مسلمانوں جیسے چوروں اور غلاموں کا دین کون اختیار کریگا ‘ دنیا بھر کے اغوا ‘ ڈاکے زنا اور فتنہ و فساد مسلمانوں میں پائے جاتے ہیں۔ فرقہ واریت کی کوئی شکل و صورت شیطان نے ایجاد نہیں کی جو مسلمانوں میں نہ پائی جاتی ہو۔ مسلمانوں کا کردار دیکھ کر اسلام کی طرف لوگ کیسے رغبت کریں گے۔ جاپان کے پروفیسر ہشام کا اسلام آباد میں انٹرویو لیا گیا تھا۔ اس سے پوچھا گیا کہ تم مسلمان کیسے ہوئے۔ کہنے لگا میں مسلمانوں کو دیکھ کر مسلمان نہیں ہوا۔ بلکہ خوش قسمتی سے قرآن پاک کا جاپانی زبان میں ترجمہ مجھے میسر آگیا۔ یہ کتاب پڑھ کر مجھے یقین ہوگیا کہ یہ واقعی اللہ کی سچی کتاب ہے۔ لہٰذا میں نے اسلام قبول کرلیا۔ پہلے زمانے میں لوگ مسلمانوں کا کردار اور عمل دیکھ کر اسلام لاتے تھے مگر اب وہ عملی اور اخلاقی کشش مسلمانوں میں باقی نہیں رہی۔ جہاد کے لیے جماعت کی تنظیم ضروری ہے۔ اسلامی معاشرہ میں صائب الرائے لوگوں کی ایسی جماعت ہونی چاہیے ‘ جو داخلی اور خارجی معاملات کے لیے مناسب منصوبہ بندی کرسکے۔ اندرون ملک امن وامان کا قیام اور لوگوں کے مال و جان کی حفاظت داخلی مسئلہ ہے اور کفار کے ساتھ جہاد خارجی معاملہ ہے۔ ان دونوں امور کی انجام دہی کے لیے ایک اچھی سوسائٹی کی ضرورت ہے۔ جو اچھے افراد سے معرض وجود میں آسکتی ہے۔ کفر کا انجام آگے اللہ تعالیٰ نے آخرت میں کفار کی بسے بسی کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ان الذین کفروا بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا۔ لو ان لھم ما فی الارض جمیعا و مثلہ معہ ‘ جو کچھ زمین میں ہے اگر سب کا سب ان کا ہوجائے اور اس جیسا مزید بھی۔ یعنی اگر پوری زمین سونے چاندی اور مال و دولت سے بھر ی ان کی ملکیت ہو اور اس سے ڈبل کے مالک بھی وہ ہوجائیں اور پھر وہ اس پورے مال کو لیفتدوا بہ من عذاب یوم القیمۃ قیامت کے دن کے عذاب کے بدلے میں فدیہ دینا چاہیں ما تقبل منھم تو ان سے یہ فدیہ قبول نہیں کیا جائیگا۔ اول تو قیامت کے دن اس بات کا امکان ہی نہیں کہ کوئی شخص زمین بھر مال و دولت کا مالک ہو ‘ تاہم اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فرض کرو ایسا ہوجائے اور وہ شخص یہ سب کچھ بلکہ اس سے دگنا بھی فدیہ ادا کرکے عذاب سے بچنا چاہیے تو بچ نہیں سکے گا ایسے لوگ اپنے انجام کو لازماً پہنچیں گے ولھم عذاب الیم “ اور انہیں دائمی عذاب کا مزہ چکھنا ہوگا۔ مطلب یہ ہے کہ آخرت کی فلاح اس مال و دولت پر نہیں بلکہ اس کا انحصار تقویٰ ‘ جہاد ‘ تقرب الی اللہ ‘ ایفائے عہد ‘ احترام شریعت جیسے اعمال صالحہ پر ہے۔ فرمایا کفار لوگ آگ کے عذاب میں مبتلا ہونے کے بعد یریدون انیخرجوا من النار اس دوزخ سے نکلنا چاہیں گے وما ھم بخارجین منھا مگر وہ اس سے نکل نہیں سکیں گے ۔ جہنم کے شعلے ان لوگوں کو جہنم کے کنارے تک لائیں گے اور وہ کوشش کریں گے کہ چھلانگ لگا کر باہر کود جائیں مگر انہیں دوبارہ جہنم کی گہرائیوں میں پھینک دیا جائے گا۔ سورة الم سجدہ میں بھی ایسے لوگوں کے متعلق آتا ہے کلمآ ارادوا ان یخرجوا منھآ اعیدوا فیھا “ جب بھی وہ باہر نکلنے کی کوشش کریں گے انہیں دوبارہ اس میں جھونک دیا جائے گا۔ جہنم سے آزادی کا واحد ذریعہ ایمان اور تقوی ہے۔ جو لوگ ان اوصاف سے خالی ہوں گے ان کے لیے وہاں سے نکلنے کی کوئی صورت نہ ہوگی اور وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے۔ ولھم عذاب مقیم اور ان کے لیے عذاب ہوگا دائمی۔
Ayahs 5:38–40

وَ السَّارِقُ وَ السَّارِقَةُ فَاقْطَعُوْۤا اَیْدِیَهُمَا جَزَآءًۢ بِمَا كَسَبَا نَكَالًا مِّنَ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْمٌ Open ayah 5:38 in the Quran reader

اور چوری کرنے والا مرد اور چوری کرنے والی عورت ‘ پس کاٹ ڈالو ان کے ہاتھ یہ سزا ہے اس کی جو انہوں نے کمایا۔ یہ عبرت ناک سزا ہے اللہ تعالیٰ کی جانب سے اور اللہ تعالیٰ غالب ہے اور حکمت والا ہے

فَمَنْ تَابَ مِنْۢ بَعْدِ ظُلْمِهٖ وَ اَصْلَحَ فَاِنَّ اللّٰهَ یَتُوْبُ عَلَیْهِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 5:39 in the Quran reader

پھر جس شخص نے توبہ کرلی اپنے ظلم کرنے کے بعد اور اس نے اصلاح کرلی تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے ۔ بیشک اللہ تعالیٰ بخشش کرنے والا مہربان ہے

اَلَمْ تَعْلَمْ اَنَّ اللّٰهَ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ یُعَذِّبُ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَغْفِرُ لِمَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 5:40 in the Quran reader

اے مخاطب ! کیا تم نہیں جانتے کہ بیشک اللہ ہی کے لیے ہے بادشاہی آسمانوں کی اور زمین کی۔ سزا دیتا ہے جس کو چاہے اور بخشتا ہے جس کو چاہے اور اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز پر قدرت رکھنے والا ہے

ربط آیات گذشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے فساد الارض کی ایک اہم شکل ڈکیتی کا ذکر کیا تھا کہ اس میں جان ‘ مال ‘ عزت اور آبرو کا ضیاع ہونا ہے ۔ پھر ڈکیتی کی چار اقسام اور ہر ایک قسم کے لیے مقررہ سزا کا بیان ہوچکا ہے۔ اس کے بعد گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو تقوی اور جہاد کی ترغیب دی۔ پھر اللہ نے کافروں کے برے انجام سے آگاہ فرمایا۔ اب آج کے درس میں فساد فی الارض کی ایک دوسری قسم سر قہ کا بیان ہے۔ ڈاکہ اور چوری ایک ہی قبیل سے ہیں۔ تاہم ڈاکے کی صورت میں بیگانے مال پر بزور قوت قبضہ کیا جاتا ہے اور بعض اوقات جان کا اتلاف بھی ہوتا ہے۔ اسے سرقہ کبری بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں چوری سرقہ صغری ہے ‘ اور اس میں محفوظ مقام سے خفیہ طور پر مال حاصل کیا جاتا ہے ۔ چوری کبیرہ گناہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے اس پر حد مقرر کی ہے۔ کہ چور خواہ مرد ہو یا عورت اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے اس کے ساتھ ساتھ خیانت بھی کبیرہ گناہ تصور ہوتا ہے ‘ مگر اس کے لیے اللہ نے حد مقرر نہیں کی۔ مردوزن میں تقدم و تاخر حضرت مولانا اشرف علی تھانوی (رح) نے اس مقام پر اپنی تفسیر میں ایک نہایت لطیف نکتہ بیان کیا ہے۔ اور پھر اس کا جواب بھی لکھا ہے فرماتے ہیں۔ کہ اس آیت کریمہ میں السارق ( چوری کرنے والا مرد) کا ذکر پہلے کیا ہے اور السارقۃ ( چوری کرنے والی عورت) کا ذکر بعد میں۔ اس کے برخلاف سورة نور میں جہاں جرم زنا کی سزا کا ذکر ہے۔ وہاں زانیہ عورت کا ذکر پہلے ہے اور زانی مراد کا بعد میں ” الزانیۃ والزانی “ فرماتے ہیں کہ اس تقدم و تاخر کی حکمت کے متعلق میں نے اپنے استاد محترم حضرت مولانا محمد یعقوب نانوتوی (رح) سے استفسار کیا ‘ آپ حضرت مولامحمد قاسم نانوتوی (رح) کے شاگردوں میں سے ہیں۔ آپ دارالعلوم دیوبند کے پہلے صدر مدرس تھے ۔ مولانا تھانوی (رح) فرماتے ہیں کہ استاد مکرم نے اس کی تشریح اس طرح بیان فرمائی کہ چوری کے معاملے میں عورت کی نسبت مرد طاقتور اور باہمت ہوتا ہے ‘ کام کاج اور محنت مشقت کرنے کے قابل ہوتا ہے لہذا اگر وہ چوری کا ارتکاب کرے تو عورت کی نسبت زیادہ ذمہ دار اور زیادہ گناہ گار ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے چوری کے معاملہ میں اس کا پہلے ذکر کیا ہے السارق۔ اور عورت چونکہ مرد کے مقابلہ میں کمزور واقع ہوئی ہے۔ زیادہ محنت مشقت بھی نہیں کرسکتی ‘ اس لیے اس میں سرقہ کا گناہ کم نوعیت کا ہوتا ہے یہی وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا ذکر مرد کے ذکر کے بعد کیا ہے۔ جہاں تک فعل زنا کا تعلق ہے۔ اس میں عورت اس فعل شینع کی زیادہ ذمہ دار ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں شرم وحیا کا زیادہ مادہ رکھا ہے اس لیے اگر عورت اس فعل کا ارتکاب کرتی تو مرد کی نسبت زیادہ ذمہ دار اور زیادہ گنہگار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ زنا کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ نے عورت کو مقدم رکھا ہے اور مرد کو موخر کیا ہے۔ سرقہ کا نصاب ارشاد ہوتا ہے والسارق والسارقۃ فاقطعوآ ایدیھما چور مرد اور چور عورت کے ہاتھ کاٹ ڈالو۔ اس آیت کریمہ میں صرف قطع ید کا حکم ہے ‘ مگر اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ چور کا ایک ہاتھ کاٹا جائے گا یادونوں۔ تاہم تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ چوری کا جرم ثابت ہونے پر صرف ایک ہاتھ کاٹا جائے گا ‘ نہ کہ دونوں البتہ چوری کے نصاب کے متعلق فقہائے کرام میں اختلاف پایاجاتا ہے ‘ حسن بصری (رح) ‘ فرقہ خوارج کے لوگ اور بعض دیگر حضرات فرماتے ہیں کہ یہاں پر مطلق چوری کا ذکر ہے لہذا اس کا کوئی نصاب نہیں ‘ کم سے کم مالیت کی چوری پر بھی ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ تاہم جمہور علماء و فقہا ‘ صحابہ کرام ؓ ‘ تابعین عظام (رح) اور سلف صالحین سرقہ کے نصاب کے قائل ہیں۔ احادیث سے بھی چوری کا نصاب ثابت ہوتا ہے۔ چناچہ امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ چوری کا نصاب ایک چوتھائی دینار یا تین درہم کی مالیت کے برابر ہے۔ اس سے کم مالیت کی چوری پر قطع ید کی سزا نہیں ہے۔ یاد رہے کہ دینار سونے کا سکہ ہوتا تھا اور اس کا وزن چار ماشے ہوتا تھا۔ درہم چاندی کا سکہ تھا اور اس کا وزن تقریباً سوا تین ماشے ہوتا تھا۔ امام شافعی (رح) کے نزدیک بھی چوری کا نصاب تین درہم ہی ہے ‘ بعض علما پانچ درہم کے بھی قائل ہیں۔ البتہ امام ابوحنیفہ (رح) ‘ اور ان کے شاگرد ان رسید امام ابو یوسف (رح) اور امام محمد (رح) اور امام سفیان ثوری (رح) فرماتے ہیں کہ چوری کا نصاب دس درہم ہے اس سے کم ‘ مالیت کے سرقہ پر حد جاری نہیں ہوگی۔ دراصل روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کے زمانہ مبارک میں ایک ڈھال کی چوری پر چور کا ہاتھ کاٹا گیا۔ اس وقت تک ڈھال کی قیمت تین درہم یا پانچ درہم تھی۔ بعض روایات میں دس درہم کا ذکر بھی آتا ہے اس لیے مختلف فقہائے کرام کے نزدیک چوری کا نصاب تین پانچ یا دس درہم ہے۔ بہرحال دس درہم پر کسی کا اختلاف نہیں اور احتیاط بھی اسی میں ہے کہ دس درہم سے کم مالیت کی چوری پر ہاتھ نہ کاٹا جائے۔ قابل حد سرقہ حد سرقہ جاری کرنے کے لیے بعض دیگر چیزوں کا لحاظ رکھنا بھی ضروری ہے ۔ مثلاً یہ کہ چوری محفوظ جگہ سے کی گئی ہو۔ محفوظ جگہ سے مراد یہ ہے کہ جس مکان سے چوری کا ارتکاب ہوا اس میں قفل پڑا ہو یا جس صندوق سے چیز نکالی گئی ہے ‘ اس میں تالا لگا ہوا ہو ‘ یا مال کی حفاظت کے لیے پہریدا ر مقرر ہے مگر اس کے باوجود چوری کا ارتکاب ہوگیا تو ایسا سرقہ قابل حد ہوگا۔ اور اگر ایسا مال چوری کیا گیا ہے جس کی حفاظت کا کوئی بندوبست نہیں کیا گیا تھا ‘ تو اس پر حد جاری نہیں ہوگی۔ شراکت کے مال میں سے اگر حصے دار کوئی چوری کرلے تو اس پر بھی حد نہیں لگے گی۔ اسی لیے صحابہ کرام ؓ سے منقول ہے۔ کہ بیت المال کی چوری پر حد نہیں کیونکہ بیت المال میں ملکی باشندہ ہونے کی حیثیت سے چور کا بھی حق شامل ہے بعض معمولی چیزوں پر بھی حد جاری نہیں کی جاتی مثلاً جلد خراب ہو جانیوالی اشیاء منجملہ سبزی ‘ تر کاری ‘ پکا ہوا گوشت ‘ ہنڈیا وغیرہ یا روٹی وغیرہ کا سرقہ حد سے مستثنیٰ ہے۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ باغ سے پھل توڑ نے یا کھجور کے درخت کے تنے سے گودانکالنے پر بھی نہیں لگتی۔ اس کے علاوہ بعض رعایتیں بھی حاصل ہیں مثلاً قحطہ سالی کے زمانہ میں اگر کوئی شخص فاقہ کشی سے مجبور ہو کر چوری کرتا ہے تو اس کو ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ قطع ید چونکہ سخت سزا ہے۔ اس لیے شریعت نے اس معاملہ میں بعض رعایات بھی دی ہیں۔ ایک عام قانون یہ ہے کہ اذرء وا الحدود بالشبھات یعنی اگر کسی معاملہ میں شک پڑجائے تو بھی حد کو ساقط کردو۔ حد جاری کرنے کے لیے قطعی ثبوت ہونا لازمی ہے 1 ؎ ۔ اگر کسی پر حد سرقہ جاری ہوگئی تو مسروقہ مال اگر موجود ہے ت واپس کیا جائیگا اور اگر ضائع ہوگیا تو ملزم پر تاوان نہیں ڈالا جائے گا البتہ اگر حد جاری نہیں ہوسکی تو پھر مسروقہ مال یا اس کا بدل واپس کرنا لازمی ہوگا۔ کیفیت قسطع ید ہاتھ کی تعریف میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے کہ ثبوت جرم پر کتنا ہاتھ کا ٹا جائے گا۔ ایک شاذ قول یہ بھی ہے کہ کندھے تک ہاتھ تصور ہوتا ہے۔ لہذا کندھے تک کاٹا جائے گا مگر راجح قول یہ ہے۔ کہ ہاتھ کلائی سے قطع ہوگا پہلی دفعہ چوری ثابت ہونے پر دائیاں ہاتھ کاٹا جائیگا اور دوسری مرتبہ ارتکاب جرم پر بائیاں پائوں ٹخنے سے نیچے کاٹ دیا جائیگا۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ تیسری دفعہ چوری ثابت ہونے پر ہاتھ یا پائوں نہیں کاٹا جائیگا بلکہ ملزم کو قید میں 1 ؎ البتہ ‘ اگر عالم مناسب سے تو اس پر تعزیر لگا سکتا ہے ۔ سواتی ڈال دیا جائیگا تاوقتیکہ یقین ہوجائے کہ وہ اس فعل شنیع سے تائب ہوچکا ہے ‘ البتہ یہ حاکم کی صوابدید پر ہے ‘ اگر وہ مناسب سمجھے تو دوسرا ہاتھ پائوں کا ٹنے کا حکم بھی دے سکتا ہے۔ یہ تعزیر آ ہوگا اور تعزیر میں تو سزائے موت بھی دی جاسکتی ہے ‘ یہ حالات کے مطابق فیصلہ ہوتا ہے۔ جیسا کہ شرابی کے متعلق بھی آتا ہے۔ کہ تین دفعہ حد جاری کرنے کے باوجود اگر کوئی شخص شراب نوشی سے باز نہیں آتا تو حاکم وقت تعزیرا اس کے قتل کا حکم دے سکتا ہے ۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اس قسم کے عادی مجرم کے متعلق فرماتے ہیں۔ اعدامہ او فق من وجودہ یعنی اس کے وجود سے اس کا معدو م کردیا جانا بہتر ہے تاکہ سوسائٹی ایسے گندے شخص سے پاک ہوجائے بہر حال ایسی سزا تعزیر ا ہوگی ‘ یہ حد میں شامل نہیں ہے۔ کہ چوری وغیرہ کے معاملات آپس میں رفع دفع کرلیا کرو۔ حضور نے فرمایا جب معاملہ کسی عدالت کیروبرو پیش ہوجائے تو پھر معافی کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ اس سے پہلے اگر فریقین ازخود کسی نتیجہ پر پہنچ جائیں۔ تو اس کی اجازت ہے۔ قطع ید کا حکم دینے کے بعد فرمایا جزآء بما کسبا یہ جزا ہے۔ اس چیز کی جو انہوں نے کمائی۔ انہوں ( مرد یا عورت) نے سرقہ جیسے قبیح فعل کا ارتکاب کیا جو کہ کبیرہ گناہوں میں شمار ہوتا ہے لہذا ان کے لیے ہاتھ کاٹنے کی سزا ہی مناسب ہے۔ ان کے جرم کا تقاضا ہے کہ انہیں یہ سخت سز ا دی جائے۔ فرمایا نکالا من اللہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عبرتناک سزا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے تنبیہ کی گئی ہے ‘ کہ کوئی شخص سرقہ جیسے کبیرہ گناہ کا ارتکاب نہ کرے۔ ایک اعتراض اور اس کا جواب بعض ملحد قسم کے لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ایک انگلی کٹ جانے کی ریٹ پانچ اونٹ ہیں۔ اور یہ مجرم کو ادا کرنی پڑتی ہے اس کے برخلاف صرف دس درہم کی چوری پر وپورا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے ‘ یہ شرعی احکام میں بہت بڑا تفاوت ہے۔ تفسیر روح المعانی والے ‘ امام رازی (رح) اور امام ابن کثیر (رح) اور دو سرے مفسرین عظام فرماتے ہیں کہ اصل بات یہ ہے کہ انسانی ہاتھ لما کانت امینۃ کانت ثمینۃ جب امانت دار تھا تو بڑا قیمتی تھا۔ جب کسی نے اس کی ایک انگلی بھی کاٹ دی تو اسے پانچ اونٹ بطور ویت دینے پڑے۔ مگر یہی ہاتھ ولما خانت جب خائن ہوگیا۔ اس نے چوری کا ارتکاب کرکے امانت میں خیانت کی فھانت تو یہی ہاتھ ذلیل و خوار ہوگیا ‘ اب اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں رہی ‘ لہذا سرقہ کے جرم میں اس کا کٹ جاناہی بہتر ہے۔ سفارش کی ممانعت حدود کے نفاذ بلکہ ہر عدالتی کاروائی میں سفارش کی سخت ممانعت آئی ہے۔ قبیلہ بنی مخذوم کی ایک عورت فاطمہ کا چوری کا معاملہ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش ہوا۔ یہ اونچا خاندان تھا ‘ انہوں نے سوچا اگر اس پر حد جاری ہوگئی تو سخت بےعزتی ہوگی ‘ لہذا انہوں نے اس عورت کی سفارش کے لیے حضرت اسامہ بن زید ؓ کو حضور کی خدمت میں بھیجا۔ حضرت اسامہ ؓ حضور کے متنبی زید ؓ کے بیٹے تھے اور آپ کو دونوں سے بڑی محبت تھی۔ جب اسامہ ؓ نے سفارش پیش کی تو غصے سے آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا ‘ آپ نے فرمایا اتشفع فی حد من حدود اللہ کیا تم اللہ کی مقرر ہ حدود میں سفارش کرتے ہو۔ فرمایا اس ذات پاک کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے لوان فاطمۃ بنت محمد سی قت لقطمعت یدھا اگر محمد کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کا ارتکاب کرتی تو اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیا جاتا۔ اس پر وہ بڑے نادم ہوئے۔ حد جاری ہوگئی اس کے بعد فاطمہ نے حضور سے توبہ کی قبولیت کی درخواست کی آپ نے فرمایا تب الی اللہ یعنی اللہ کے سامنے توبہ کرو۔ اس نے پھر توبہ کی تو فرمایا تمہاری توبہ قبو ل ہوگئی۔ ایک اور حدیث میں آتا ہے ‘ جس کسی کو اس قسم کی سزا ملے اس پر لعنت نہ کرو ‘ اسے برا بھلا مت کہو ‘ بلکہ یوں کہو کہ اللہ تعالیٰ تمہاری توبہ قبول کرے۔ بنی اسرائیل کے قانون میں بھی اسلامی قانون کی طرح چوری اور زنا کے ارتکاب پر حد تھی اور قتل میں قصاص بھی تھا ‘ مگر انہوں نے کتاب اللہ میں تحریف کر کے احکام کو بگاڑ دیا تھا۔ اگر چور کوئی معمولی آدمی ہوتا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے اور اگر کوئی صاحبِ حیثیت ایسا کام کر گزرتا تو اسے چھوڑ دیا جاتا۔ زیادہ سے زیادہ منہ کالا کر کے گدھے پر بٹھاتے اور اس طرح تذلیل و توہین ہی کو کافی سمجھتے ‘ حالانکہ اللہ کے قانون میں بڑے چھوٹے کی کوئی تخصیص نہیں۔ مجرم کو اپنے جرم کی سزا لازماً بھگتنا ہوتی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے لعن اللہ من اوی محدثاً جو گنہگار مجرم کو پناہ دیتا ہے اس پر خدا کی لعنت ہو۔ بہر حال مجرم کو بچانے کی کوشش کرنا بذات خود ایک قبیح فعل ہے۔ جب تک مجرم کو قرار واقعی سزا نہ دی جائے معاشرے میں امن وامان قائم نہیں ہوسکتا۔ لوگوں کے مال و جان اور عزت و آبرو کی حفاظت کے لیے گندے عنصر کا قلع قمع ضروری ہے۔ سخت سزا کی حکمت فرمایا حد کا اجراء اللہ تعالیٰ کی طرف سے تنبیہ ہے واللہ عزیز حکیم اللہ تعالیٰ غالب اور صاحب حکمت ہے۔ اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں۔ اگر چہ اس نے سزائیں سخت مقرر کی ہیں مگر انسانوں کی مصلحت اسی میں ہے اور امن وامان کا قیام اور انسانی جانوں کی حفاظت ایسے ہی قانون سے ممکن ہے۔ فرمایا فمن تاب بعد ظلمہ جس نے ظلم یعنی چوری کرنے کے بعد توبہ کرلی واصلح اور اپنے آپ کی اصلاح کرلی۔ یعنی خدا سے سابقہ گناہ کی معافی مانگی اور آئندہ اس سے باز آگیا تو فرمایا فان اللہ یتوب علیہ تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے کیونکہ ان اللہ غفور رحیم اللہ تعالیٰ بخشش کرنے والا اور مہربان ہے۔ پھر فرمایا اے مخاطب الم تعلم ان اللہ لہ ملک السموت والارض کیا تو نہیں جانتا کہ آسمان اور زمین کی ساری بادشاہت اللہ تعالیٰ کی ہے وہ مالک الملک اور قادر مطلق ہے یعذب من یشآء وہ جسے چاہے سزا دے دے۔ وہاں چون وچرا کی کوئی گنجائش نہیں۔ وہ اپنی حکمت کے ساتھ احکام نازل کرتا ہے۔ کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اس کی طرف سے مقرر کردہ سخت سزائوں پر اعتراض اٹھاسکے۔ اس کے تمام قوانین مبنی برحکمت ہیں ویغفر لمن یشآء وہ جسے چاہے معاف کردے وہ معاف کرنے پر بھی قادر ہے۔ کسی چھوٹے بڑے ‘ انس ‘ جن یا ملائکہ کو کائنات میں تصرف حاصل نہیں۔ ‘ ہر قسم کا تصرف قانون عاید کرنے والے کو ہی حاصل ہوتا ہے ۔ وہ مالک ہے شہنشاہ مطلق ہے ‘ وہ جس طریقے سے چاہے تصرف کر۔ ‘ بندوں کا کام صرف اطاعت کرنا ہے ان کی بہتری اسی میں ہے واللہ علی کل شیء قدیر اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اسے معافی اور سزا کا کلی اختیار ہے۔ اس کی مخلوق میں سے کسی کو اعتراض کا حق حاصل نہیں۔