5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 5:101–103

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَسْئَلُوْا عَنْ اَشْیَآءَ اِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ١ۚ وَ اِنْ تَسْئَلُوْا عَنْهَا حِیْنَ یُنَزَّلُ الْقُرْاٰنُ تُبْدَ لَكُمْ١ؕ عَفَا اللّٰهُ عَنْهَا١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ حَلِیْمٌ Open ayah 5:101 in the Quran reader

اے ایمان والو : - نہ سوال کرو ایسی چیزوں کے بارے میں کہ اگر وہ ظاہر کردی جائیں تمہارے لئے تو تم کو ناگوار گزریں اور اگر تم سوال کرو گے ان کے بارے میں جب کہ قرآن نازل کیا جا رہا ہے تو وہ تمہارے لئے ظاہر کردی جائیں گی۔ اللہ نے معاف کردیا ہے جو اس سے پہلے گذر چکا اور اللہ تعالیٰ بہت بخشش کرنے والا اور تحمل والا ہے

قَدْ سَاَلَهَا قَوْمٌ مِّنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ اَصْبَحُوْا بِهَا كٰفِرِیْنَ Open ayah 5:102 in the Quran reader

بیشک پوچھا ہے ایسی باتوں کے بارے میں ان لوگوں نے جو تم سے پہلے گزرے ۔ پھر ہوگئے وہ ان کے ساتھ کفر کرنے والے

مَا جَعَلَ اللّٰهُ مِنْۢ بَحِیْرَةٍ وَّ لَا سَآئِبَةٍ وَّ لَا وَصِیْلَةٍ وَّ لَا حَامٍ١ۙ وَّ لٰكِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا یَفْتَرُوْنَ عَلَى اللّٰهِ الْكَذِبَ١ؕ وَ اَكْثَرُهُمْ لَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 5:103 in the Quran reader

نہیں ٹھہرایا اللہ تعالیٰ نے کوئی بحیرہ اور نہ کوئی سائبہ اور نہ کوئی وصیلہ اور نہ کوئی حام۔ لیکن وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا وہ افتراء باندھتے ہیں اللہ پر جھوٹ اور ان میں سے اکثر ایسے ہیں جو عقل نہیں رکھتے ۔

ربط آیات گزشتہ دروس میں بہت سے دینی احکام کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ دین میں غلو اختیار کرنے سے منع فرمایا گیا۔ یہود و نصاریٰ نے حد سے تجاوز کیا تو وہ گمراہی میں مبتلا ہوگئے۔ پھر فرمایا طیبات اور محرمات میں تغیر و تبدل نہ کرو۔ اللہ نے جن چیزوں کو حلال قرار دیا ہے انہیں حرام نہ بنائو اور جو چیزیں ناپاک اور خبیث ہیں ان سے بچنے کی کوشش کرو کیونکہ اسی میں دنیوی اور اخروی فائدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کعبتہ اللہ کی مرکزیت ، اس کے عز و شرف اور اس کے احکام بیان فرمائے پھر قلت و کثرت کا مسئلہ واضح کیا اور فرمایا کہ پاک اور خبیث برابر نہیں ہو سکتے۔ خباثت کی کثرت اس کے مفید ہونے کی دلیل نہیں بلکہ پاک اور طیب چیز ہی انسان کے لئے مفید ہے۔ اب آج کی آیات میں فضول سوال کرنے سے منع فرمایا گیا ہے اس بات سے خاص طور پر مطلع کیا گیا ہے کہ اگر تم نزول قرآن کے زمانہ میں لا یعنی سوالات پوچھو گے تو اللہ تعالیٰ ان کا جواب وحی الٰہی سے دے دیگا اور پھر ہو سکتا ہے کہ وہ جواب تمہیں برا محسوس ہو ، تمہیں ناگوار گزرے اور تمہاری بد نامی کا باعث ہو ، لہٰذا بےمعنی سوالات کرنے سے گریز کرو۔ اشارتاً یہ بھی بتلا دیا گیا ہے کہ تم سے پہلے لوگوں نے کثرت سے سوال کئے تھے ، پھر جب ان کے جواب آئے تو وہ ان کی تعمیل نہ کرسکے اور اس کا نتیجہ خسران اور ضلالت کی صورت میں برآمد ہوا۔ پھر آج ہی کی اگلی آیت میں اللہ نے تحریمات العباد یعنی انسانوں کی از خود حرام کردہ چیزوں کا ذکر کر کے ان کا رد فرمایا ہے۔ فضول رسومات کی ممانعت ارشاد ہوتا ہے یا یھا الذین امنوا اے ایمان والو : - لاتسئلو عن اشیاء ان تبدلکم تسوکم ، ایسی چیزوں کے بارے میں نہ پوچھو کہ اگر وہ تمہارے لئے ظاہر کردی جائیں تو تمہیں بری لگیں وان تئلوا عنھا حین ینزل القرآن اور اگر یہ ایسے دور میں پوچھی جائیں جب کہ قرآن پاک نازل ہو رہا ہے تبدک لکم تو تمہارے لئے ظاہر کردی جائیں گی اور اس طرح تمہارے لئے مشکل پیدا ہو جائیگی ۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں پر ہر سوال پوچھنے سے منع نہیں فرمایا گیا بلکہ صرف فضول اور لایعنی سوالات کی ممانعت کی گئی ہے۔ اس کی مثال حدیث شریف میں اس طرح آئی ہے کہ ایک مرتبہ حضور ﷺ غصے کی حالت میں مسجد میں تشریف لائے ، منبر پر بیٹھے اور فرمایا ، جب تک میں یہاں بیٹھا ہوں ، مجھ سے جو سوال کرو گے اس کا جواب دوں گا اس پر ایک شخص نے سوال کیا من ابی یعنی میرا باپ کون ہے ؟ اس نے یہ سوال اس لئے کیا تھا کہ لوگ اسے نسب کے معاملے میں بدنام کرتے تھے۔ حضور ﷺ نے غصے کی حالت میں فرمایا تیرا باپ فلاں ہے۔ اسی طرح ایک اور شخص نے ایسا ہی فضول سوال کیا تو حضور ﷺ کا غصہ مزید بڑھ گیا۔ اس پر حضرت عمر نے آگے بڑھ کر کہا رضینا باللہ رباً وبالا سلام دینا و بمحمد نبیاً تو آپ کا غصہ فرد ہوا۔ بہرحال نسب کے متعلق یہ سوال نہایت بیہودہ تھا۔ کیونکہ شریعت کا ایک عام ضابطہ یہ ہے الولہ للفسراش یعنی بچہ اس کا سمجھا جائیگا جس کے بستر پر پیدا ہوا۔ بچہ جننے والی عورت جس مرد کی منکوحہ ہے ، اولاد اسی کی تصور ہوگی خواہ حقیقت اس کے خلاف ہو کسی اولاد کو زانی کی طرف منسوب نہیں کیا جاتا۔ اس سوال کے متعلق جب سائل کی والدہ کو علم ہوا تو وہ بھی سخت ناراض ہوئی کہ تم نے ایسا سوال کیوں پوچھا۔ کہنے لگی ہم جاہلیت کے دور سے گزر کر آئے ہیں ، اگر تیرا نسب درست نہ ہوتا تو یہ بات میرے لئے کس قدر بدنامی کا باعث بنتی۔ بہرحال اس قسم کے فضول سوال کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ حضور ﷺ سے ایک منافق شخص نے بھی سوال کیا۔ کہ میری اونٹنی گم ہوگئی ہے ، و ہ کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا لا ادری میں نہیں جانتا کہ وہ کہاں ہے۔ اس پر اس شخص نے پراپیگنڈا شروع کردیا کہ دیکھو جی ! اس نبی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے ، آسمن تک کی خبریں دیتا ہے۔ مگر میری اونٹنی کا علم نہیں رکھتا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے وحی فرمائی۔ اس شخص کو بلایا گیا وہ آیا تو حضور ﷺ نے فرمایا ، مجھے واقعی علم نہیں تھا۔ اب جبرائیل نے آ کر بتایا ہے کہ تمہاری اونٹنی ، فلاں درخت کے ساتھ لٹک رہی ہے۔ اس کے کلے کا قلاوہ کہیں اٹک گیا ہے اور وہ درخت کی ٹہنیوں میں منہ مار رہی ہے ایک اور شخص نے سوال کیا این انا یعنی میں مرنے کے بعد کہاں ہوں گا۔ آپ نے فرمایا فی النار یعنی جہنم میں اس پر حضرت عمر نے پھر رضینا باللہ پڑھا تو حضور ﷺ کا غصہ فرو ہوا۔ کثرت سوال کی ممانعت جس طرح فضول سوالات سے منع کیا گیا ہے ، اسی طرح کثرت سوال سے بھی منع کی گیا ہے۔ ذرا ذرا سی بات پر بال کی کھال اتارنا ، باریکیاں دریافت کرنا عام فہم مسائل کی جزیات کے متعلق پوچھنا کبھی سود مند نہیں ہوتا۔ اس قسم کے سوال کرنے والے اکثر بےعمل لوگ ہوتے ہیں۔ وہ مسائل تو بہت زیادہ دریافت کرتے ہیں مگر عمل کسی پر نہیں کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سیدھے سادھے معاملہ میں بھی پابندیاں لگ جاتی ہیں اور پھر ان سے عہدہ برا ہونا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس کی مثال بنی اسرائیل کی گائے والا واقعہ ہے جسے سورة بقرہ میں بیان کیا گیا ہے کہ ایک آدمی کے قتل پر اللہ نے حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کر کے گوشت کا ایک ٹکڑا مقتول کو لگائو تو وہ اپنے قاتل کی نشاندہی کر دیگا۔ تاکہ متعلقہ لوگوں نے طرح طرح کے سوال کرنے شروع کردیئے یعنی اس کا رنگ کیا ہو ، عمر کیا ہو ، اس کی صفت کیسی ہونی چاہئے۔ وغیرہ وغیرہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ایک عام گائے ذبح کر نیکی بجائے انہیں مسئولہ صفات کی حامل گائے تلاش کرنا پڑی۔ اور تفسیری روایات کے مطابق اس گائے کی قیمتوں اس کی کھال ، عصر دینار ادا کرنے پڑے۔ یہ ساری مشقت انہیں کثرت سوال کی وجہ سے اٹھانا پڑی۔ مسلم شریف میں حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) کا یہ ارشاد بھی موجود ہے۔ نھی عن قلیل وقال وکثرۃ السوال و عن اضاعۃ المال یعنی حضور نبی کریم ﷺ نے فضول قیل قال اور کثرت سوال سے منع فرمایا۔ اس کا کیا فائدہ ؟ بات تو وہ ہونی چاہئے جس سے دنیا میں بھی فائدہ ہو اور آخرت میں بھی فائدہ ہو۔ اسی طرح مال کے ضیاع سے بھی منع فرمایا گیا ہے ۔ حلال مال کو بےبنیاد رسوم کی نذر کردینا ، تعیش اور زیب وزینت میں اڑا دینا نہایت ناپسندیدہ بات ہے۔ کثرت سوال کے ضمن میں حضور ﷺ کا یہ ارشاد بھی موجود ہے کہ مسلمانوں میں بڑا مجرم وہ ہے جس کے سوال کی وجہ سے غیر حرام چیز پر بنائے وضاحت حرام قرار دیدی گئی ہو اور اس پر لوگوں پر تنگی پیدا ہوگئی ہو۔ مسلم شریف کی روایات میں آتا ہے کہ جب حج کا حکم نازل ہوا تو ایک شخص نے کھڑے ہو کر سوال کیا ، کیا حج ہر سال فرض کیا گیا ہے ؟ حضور ﷺ بہت ناراض ہوئے اور فرمایا اگر میں کہہ دیتا کہ ہاں حج ہر سال کرنا ہے ، تو تمہیں کرنا پڑتا ، اور پھر کتنی دشواری پیش آتی۔ لہذا تعمیل حکم کیا کرو۔ اس قسم کے سوال مت کیا کرو۔ دوسری اصولی بات اس میں یہ ہے کہ جب کسی کام کے کرنے کا مطلق حکم ہوتا ہے تو وہ تکرار نہیں چاہتا۔ اگر ایک دفعہ تعمیل حکم کرلی جائے تو کافی ہے ۔ جب کسی عمل کا تکرار آتا ہے تو وہ اس کے اسباب کی وجہ سے آتا ہے۔ جیسے نماز بار بار اس لئے ادا کی جاتی ہے کہ اس کے اوقات بار بار آجاتے ہیں۔ وگرنہ درود شریف کے مسئلہ میں غور فرمائیے اللہ تعالیٰ کا مطلق ارشاد ہے یا یھا الذین امنوا صلوا علیہ وسلم وا تسلیماً “ (احزاب) یعنی اے ایمان والو ! حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) پر درود سلام پڑھو۔ اس حکم کی تعمیل میں اگر کوئی مسلمان زندگی بھر میں ایک دفعہ بھی درود پاک پڑھ لیتا ہے تو اس کا فریضہ ادا ہوجاتا ہے۔ چناچہ حضرت عبداللہ بن عباس کہتے ہیں کہ میں نے اصحاب محمد ﷺ سے بہتر کسی قوم کو نہیں دیکھا کہ وہ زیادہ سوال نہیں کیا کرتے تھے۔ قرآن پاک میں یسئلونک (اے پیغمبر ! لوگ آپ سے سوال کرتے ہیں) کا لفظ تقریباً 3 ۃ مقامات پر آیا ہے۔ ان میں زیادہ تر یہود اور مشرکین کے سوالات ہیں اور مسلمانوں کی طرف سے بہت کم سوال کئے گئے۔ صحابہ کرام سوال کرنے کی بجائے آپ کے ارشادات سنتے تھے اور پھر جو کچھ سنتے تھے اس پر عمل شروع کردیتے تھے۔ حضور ﷺ کے حاضر باش صحابہ کی تو یہ حالت تھی ، البتہ دیہات کے رہنے والے صحابہ چونکہ حضور کی اکثر مجالس میں شریک نہیں ہو سکتے تھے ، اس لئے ان کی تعلیم کے لئے ہر قسم کے سوالات پوچھنے کی اجازت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب تک جو سوال ہوچکے ہیں عفا اللہ عنہا اللہ تعالیٰ نے انہیں معاف کردیا ہے واللہ غفور حلیم اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور برد بار ہے۔ پھر فرمایا قد سالھا قوم من قبلکم اس قسم کے سوالات تم سے پہلی قوموں نے بھی کیے۔ وہ لوگ اپنے انبیاء (علیہم السلام) سے صرف سوال کرتے تھے ان کے احکام کی تعمیل نہیں کرتے تھے۔ قرآن پاک میں بنی اسرائیل کے کثرت سوال کا ذکر موجود ہے۔ وہ لوگ سوالات دریافت کرنے کے باوجود اپنے انبیاء کی مخالفت کرتے تھے اور اس کثرت سوال کا نتیجہ یہ نکلا ثماصبحوا بھا کفرین کہ وہ لوگ کافر ہوگئے۔ جب حکم معلوم ہوجانے کے بعد اس پر عمل نہ کیا تو گویا عملی طور پر اس حکم کا انکار کردیا پھر یا تو صریحاً انار کر کے کافر ہوئے یا عمل سے گریز کر کے عملی منافق ٹھہرے۔ بحیریہ اور سائبہ اس سورة میں تحریمات الٰہیہ کا بہت حد تک ذکر ہوچکا ہے جن جن چیزوں کو اللہ نے حرار قرار دیا ہے۔ ان سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے اب اگلی آیت میں تحریمات العباد یعنی ان محرمات کا ذکر ہ جو بندوں نے از خود اسے اوپر حرام قرار دے لی ہیں۔ چنبانچہ یہاں پر ان چیزوں کا تذکر ہے جو مشرکین نے نزول قرآن کے زمانہ میں اپنے اوپر حرام کر رکھی تھیں۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ما جعل اللہ من بحیرۃ ۔ اللہ تعالیٰ نے کوئی بحیرہ نہیں بنایا دو طریق پر کرتے ہیں۔ امام بخاری نے کتاب التفسیر میں نقل کیا ہے کہ مشرکین جس جانور کا دودھ اپنے معبود ان باطلہ کے نام پر واقف کردیتے تھے ، اس کا دودھ اپنے اوپر حرام کر یتے پھر ایسے جانور کا کام بھی چھید دیتے تھے جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ اس جانور کا دودھ کوئی شخص استعمال نہیں کرسکتا ایسے جانور کو بحیرہ کہتے تھے۔ بحیرہ کی دوسری تفسیر یہ ہے کہ یہ نام اس مادہ جانور کو دیا جاتا تھا جو مسلسل دس مادہ بچے جنے اور اس کا آخری بچہ نر ہو۔ اسے بھی معبود ان باطلہ کے نام پر وقف کردیتے تھے اور اس کا دودھ استعمال نہیں کرتے تھے۔ فرمایا ولا سآئبۃ اور سائبہ بھی اللہ نے نہیں بنایا۔ سائبہ اس جانور کو کہتے تھے جو کسی مست کے پورا ہنے پر بتوں کے نام پر چھوڑ دیا جاتا ، نہ اس کا دودھ استعمال کیا جاتا ، نہ اس پر سواری کی جاتی اور نہ اس سے بار برداری یا کوئی دوسرا کام لیا جاتا۔ جیسے برصغیر میں ہندو گائے کو چھوڑ دیتے ہیں۔ وصیلہ اور حام فرمایا : ولا وصب یلۃ اللہ تعالیٰ نے کسی کو وصیلہ بھی نہیں بنایا بلکہ یہ بھی مشرکین کی اپنی اختراع ہے۔ وصیلہ اس اونٹنی کو کہتے تھے جو مسلسل مادہ بچے جنتی اور درمیان میں کوئی نر بھی پیدا ہوجاتا تو کہتے یہ وصیلہ ہے کہ اس نے نر اور مادہ کو ملا دیا ہے مشرکین اس کا استعمال بھی درست نہیں سمجھتے تھے مسلسل مادہ بچے جننے والی اونٹنی کو بھی وصیلہ بنا کر بتوں کے نام پر وقف کردیتے تھے اور پھر ن ہ اس کا دودھ پیتے تھے اور نہ اس سے کوئی دیگر کام لیتے تھے ولا حام اور اللہ نے کوئی حام بھی مقرر نہیں کیا۔ حام کا معنی بچا لینے والا ہے۔ جس اونٹ کی جفتی سے دس بچے پیدا ہوجائیں اسے حام بنا دیتے تھے۔ پھر نہ اس سے بار برداری کا کام لیتے تھے اور اسے کسی دوسرے کام میں استعمال کرتے تھے۔ بہرحال مشرکین نے جاہلیت کے زمانہ میں اقسم کی رسومات جاری کر کے بعض جانوروں کو اپنے اوپر حرام کر رکھا تھا۔ اللہ نے فرمایا کہ ہم نے تو ایسا کوئی حکم نہیں دیا ، یہ ان کی اپنی اختراع ہے اور پھر بتوں کے نام پر جانوروں کو وقف کردیتا تو ویسے ہی شرک ہے جس کے ذمہ دار یہ لوگ خود ہیں اللہ تعالیٰ نے ایسی تمام رسومات کا رد فرمایا ہے۔ بت پرستی کی ابتداء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے زمانہ سے لے کر تقریباً ڈیڑھ ہزار سال تک عرب کے لوگ صحیح دین ابراہیمی پر قائم تھے۔ بت پرستی کی ابتداء حضور ﷺ کی بعثت سے تقریباً چار سو سال قبل ہوئی۔ ایک شخص عمر و ابن الحی کسی دوسرے ملک میں گای۔ وہاں اس نے بت اور مجسمے دیکھے جو اسے پسند آئے وہ ان میں سے کچھ اپنے ساتھ بھی لے آیا اور اس طرح اس نے عرب میں بت پرستی کی ابتدا کی۔ معبود ان باطلہ کے نام پر جانور وقف کرنے کا کام بھی اسی شخص نے شروع کیا تھا۔ حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) نے فرمایا کہ میں نے عمرو ابن لحی کو جہنم میں اس حالت میں دیکھا ہے کہ وہ اپنی آنتوں کو اس طرح زمین پر گھسٹتا جا رہا تھا جس طرح خراس کا جانور خراس کو کھینچتا ہے آپ نے اپنے ایک صحابی حضرت اکثم کو فرمایا کہ عمرو ابن لحی کی شکل تمہارے ساتھ ملتی جلتی ہے۔ اس شخص نے عرض کیا ، کیا میرا اس بدبخت کے ساتھ ہم شکل ہونا میرے لئے باعث و بال تو نہیں ؟ حضور نے فرمایا ، یہ کوئی عیب کی بات نہیں۔ فرمایا تم مومن ہو۔ اور کافر اور مومن ہم شکل تو ہو سکتے ہیں مگر ان دونوں کا انجام الگ الگ ہے۔ بہرحال بت پرستی شروع ہونے کے بعد اس کا رواج اس قدر بڑھا کہ حضور ﷺ کئے زمانہ مبارک میں فتح مکہ کے دن خانہ کعبہ کے اندر ، اس کی دیواروں پر اور اس کے قریب تین سو ساٹھ بت موجود تھے جنہیں توڑ کر باہر پھینک دیا گیا اور اس طرح بیت اللہ شریف کو بتوں کی نجاست سے پاک کردیا گیا۔ افترا علی اللہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے نہ کوئی بحیرہ بنایا ہے ، نہ سائبہ ، نہ وصیلہ اور نہ حام ولکن الذین کفروا یفترون علی اللہ الکذب بلکہ یہ کافر لوگ اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھتے ہیں جھوٹ ، انہوں نے غیر اللہ کی نذر و نیاز کی سب جھوٹی کہانیاں بنا رکھی ہیں کہ ایسا کرنے کا اللہ نے حکم دیا ہے یہ سب غلط اور اللہ تعالیٰ پر بہتان ہے انہوں نے خود اپنے اوپر بعض جانور حرام قرار دے دیئے ہیں حالانکہ اللہ نے انہیں حلال قرار دیا ہے۔ فرمایا واک ترھم لا یعقلون ۔ ان میں سے اکثر لوگ بےعقل ہیں انہوں نے اپنی بےوقوفی اور حماقت کی وجہ سے خود ساختہ عقیدے اور رسمیں جاری کر رکھی ہیں یہ تو عقل سلیم کے بھی خلاف ہے اللہ تعالیٰ کا ان بیہودہ باتوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ محرت کی کچھ تفصیل اگلی سورة انعام میں بھی آ رہی ہے۔ وہاں پر شرک کی تمام قسمیں تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں۔
Ayah 5:104

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ قَالُوْا حَسْبُنَا مَا وَجَدْنَا عَلَیْهِ اٰبَآءَنَا١ؕ اَوَ لَوْ كَانَ اٰبَآؤُهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ شَیْئًا وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ Open ayah 5:104 in the Quran reader

اور جب کہا جاتا ہے ان لوگوں سے کہ آئو اس چیز کی طرف جس کو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے اور آئو رسول کی طرف وہ کہتے ہیں ہمارے لئے کافی ہے وہ چیز جس پر پایا ہے ہم نے اپنے آبائو اجداد کو اگرچہ ان کے آبائو اجداد نہ جانتے ہوں کسی چیز کو اور نہ ہدایت پاتے ہو۔

ربط آیات گزشتہ آیات میں فضول اور لایعنی باتوں کے متعلق سوال کرنے سے منع فرمایا گیا تھا ، کیونکہ اگر نزول قرآن کے زمانے میں ایسی باتوں کے متعلق پوچھا جائے تو ہو سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کا جواب قرآن پاک میں نازل کر دے اور پھر وہ تمہیں ناگوار گزرے اور تم اس پر عمل نہ کرسکو۔ اگر ایسا ہی ہوا تو تمہارے لئے سخت بدنامی کا باعث ہوگا۔ فرمایا تم سے پہلی قوموں نے بھی بعض بیہودہ سوالات کئے اور پھر ان پر عمل نہ کرسکے اور سخت مشکل میں مبتلا ہوئے ، لہٰذا تم بھی کہیں ان کی روش پر نہ چل نکلنا پھر اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے خود ساختہ محرمات کی تردید بھی فرمائی کہ انہوں نے اپنے باطل خیالات کے ذریعے بعض حلال جانوروں کو اپنے اوپر حرام …ٹھہرا لیا تھا اور ان کو معبود ان باطلہ کے نام پر چھوڑ دیتے تھے فرمایا کہ اللہ نے حرمت کا ایسا کوئی حکم انہیں نہیں دیا بلکہ وہ خود اللہ پر افتراء باندھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے بحیرہ ، سائبہ ، وصیط اور حام کا تذکرہ کر کے فرمایا کہ ان بدبختوں نے از خود اپنے اوپر ان جانوروں کا دودھ سواری اور دیگر خدمات حرام کر رکھے تھے اور اسے اللہ کی طرف منسوب کرتے تھے کہ اس نے ایسا حکم دیا ہے فرمایا یہ محض جھوٹ اور شرکیہ باتیں ہیں ان میں سے اکثر عقل سے خالی لوگ ہیں کیونکہ ان کے باطل عقائد کو تو عقل بھی تسلیم نہیں کرتی۔ دعوت الی القرآن : - اب آج کی آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ … نے مشرکین کے بعض دیگر باطل عقائد کا ذکر کیا ہے اور ان مشرکانہ رسوم کا رد فرمایا ہے جو انہوں نے خود وضع کر رکھی تھیں مگر انہیں اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ارشاد ہوتا ہے واذا قیل ل ھم جب ان سے کہا جاتا ہے۔ تعالوا الی ما انزل اللہ آئو اس چیز کی طرف جس کو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا ہے اور وہ ہے قرآن پاک جیسی عظیم الشان کتاب جو منجانب اللہ نازل ہوئی ہے اور جس میں ہدایت روشنی اور بصیرت کی باتیں ہیں۔ اس میں اول سے آخری تک حق کے سوا کچھ نہیں۔ لہٰذا اس کی طرف رجوع کریں۔ تمہارے تمام دنیاوی اور اخروی مسائل کا حل اسی کتاب میں موجود ہے۔ اس کے برخلاف تم نے جو بحیرہ ، سائبہ وغیرہ محرمات ٹھہرا رکھے ہیں۔ انکی حقیقت کچھ نہیں ہے۔ بلکہ قرآن پاک سے پوچھو کہ کون سی چیز حلال ہے اور کون سی حرام ہے۔ ” ونزلنا علیک الکتب تبیاناً لکل شی ئً یہ اللہ کی نازل کردہ کتاب ہے اور اس میں ہر چیز کی وضاحت ہے لہٰذا اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قانون حلت و حرمت میں از خود دخل اندازی نہ کرو کیونکہ حضرت عبداللہ ابن عباس فرماتے ہیں کہ قرآن پاک تبیاناً لکل شیء من الحلال و الحرام اس میں حلت و حرمت کی مکمل وضاحت موجود ہے ، لہٰذا اسی کے احکام پر عمل کرنے میں تمہاری نجات ہے اس میں جنت تک پہنچنے اور دوزخ سے بچنے کے لئے مکمل لائحہ عمل موجود ہے۔ رسول بحیثیت شارح قرآن فرمایا پہلی بات تو یہ ہے کہ قرآن پاک کی طرف آئو اور دوسری یہ کہ والی الرسول اور رسول کی طرف آئو۔ رسول حامل قرآن ہونے کی حیثیت سے خود اس پر عمل کرتا ہے ، اس کی وضاحت کرتا ہے اور اس کی جزیات (Bye Laws) بتلاتا ہے۔ لہٰذا رسول کی طرف رجوع بھی ضروری ہے۔ رسول کی وضاحت کے بغیر قرآن پاک پر من و عن عمل کرنا تمہارے لئے ممکن نہیں ہے لہٰذا تم پہلے قرآن کو تسلیم کرو اور پھر اس کی تشریح حامل قرآن سے پوچھو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ چیز رسول کے فرئاض منصبی میں داخل کردی ہے۔ ” لتبین للناس ما نزل الیھم (نحل) کہ آپ لوگوں کے سامنے نازل شدہ چیز کو واضح طور پر بیان کردیں۔ قرآن پاک کا خود اپنے متعلق بیان ہے ” کتب احکمت ایتہ “ اس کی آیات محکم ہیں ثم فضیلت من لدن حکیم خبیر “ (ہود) پھر ان کی تشریح بھی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبان سے کردی ہے۔ فرمایا ” ثم ان علینا بیانہ (تیمہ) “ یعنی قرآن کا نازل کرنا بھی ہمارے ذمے ہے اور پھر اس کی تشریح و توضیح بھی ہمارے ذمہ ہے ۔ اس کی حفاظت کے بھی ہم خود ذمہ دار ہیں۔ لہٰذا فرمایا آئو قرآن پاک کی طرف اور اللہ کے رسول کی طرف خدا اور رسول کی اطاعت مخلوق میں سے ہر چیز پر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اس لحاظ سے فرض عین ہے کہ وہ خلاق ، مالک ، آقا ، رب اور الہ ہے۔ ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے تحب اللہ تم اللہ سے اس لئے محبت رکھو کہ وہ تمہیں انعام دیتا ہے۔ وہ تمہارا منعم حقیقی اور محسن حقیقی ہے لہٰذا تمام مخلوق خصوصاً انسان پر لازم ہے کہ وہ اس کا شکریہ ادا کرے اور اس کی اطاعت بجا لائے اور اس کے احکام سے سرتابی نہ کرے۔ اسی طرح رسول کی اطاعت اس کی رسالت کی وجہ سے ہر انسان پر فرض ہے ۔ خود قرآن نے فرمایا ہے ” من یطع الرسول فقد اطع اللہ (نسائ) جس شخص نے رسول کی اطاعت کی ، اس نے گویا خدا تعالیٰ کی اطاعت کی۔ رسول کے لفظ میں یہ ساری حقیقت پوشیدہ ہے کہ رسول کی اطاعت مرسل کی اطاعت کی مانند ہے۔ اسی سورة میں پہلے گزر چکا ہے ” یا یھا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک “ اے رسول اپنے رب کی طرف سے نازل کردہ ہر چیز کو آگے پہنچا دیں۔ مطلب یہ کہ رسول اللہ ہی کا پیغام مخلوق تک پہنچاتا ہے لہٰذا اس کی اطاعت اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے مترادف ہی ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام کی وضاحت اولاً اپنے نبی کی زبان سے کرائی ہے اسی لئے امام شافعی ، شاہ ولی اللہ ، مولانا رشید احمد گنگوہی اور یدگر علماء و محققین اور مفسرین فرماتے ہیں کہ صحیح سند کے ساتھ ثابت ہونے والی تمام احادیث قرآن کی شرح ہیں اور خود قرآن ان کا متن ہے۔ بہرحال فرمایا کہ قرآن پاک کی طرف آئو اور اللہ کے رسول کی طرف آئو۔ دوسرے مقام پر فرمایا قل اطیعوا اللہ والرسول کہہ دیجیے خدا اور رسول کی اطاعت کرو فان لولوا فان اللہ لا یحب الکفرین (آل عمران) اگر تم روگردانی کرو گے تو اللہ تعالیٰ کفر کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ گویا اللہ اور رسول سے روگردانی کفر ہے۔ دوسرے مقام پر فرمایا و ان تطیعوہ تھتدوا (سورۃ نور) اگر رسول کی اطاعت کرو گے تو ہدایت پا جائو گے۔ وہ ہادی برحق ہے۔ قرآن پاک کی تشریح کرتا ہے ، لہٰذا اس کی بات کو مانو اور خود ساختہ رسوم کو ترک کر دو ۔ یہ سب کفر ، شرک ، بدعت اور معصیت کی باتیں ہیں۔ فتنہ انکار حدیث اب یہ بات واضح ہوچکی کہ رسول کی اطاعت بھی اسی طرح فرض ہے جس طرح اللہ کی اطاعت کیونکہ رسول کی تشریح کے بغیر احکام الٰہی کا سمجھنا اور ان پر عمل کرنا مشکل ہے ۔ اور رسول کی اطاعت کے لئے رسول کی حدیث پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اب جو کوئی حدیث کا انکار کرتا ہے ، وہ دماغ نے فتور میں مبتلا ہے۔ ایسا خص منکر حدیث ہی نہیں ، منکر قرآن بھی ہے پرویزی ، چکڑالوی وغیرہم کا انکار حدیث سے مقصد بہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ آپ کے صحابہ کرام اور ائمہ دین کی بیان کردہ تشریح کو قرآن سے الگ کردیا جائے اور اس کی جگہ اپنی من مانی تو ضیح کو رائج کردیا جائے۔ اسی مذموم مقصد کے تحت پرویز نے اللہ کا معنی قانون کیا ہے۔ گویا اللہ کی اطاعت سے مراد قانون کی اطاعت ہے ۔ یہ تو کفر اور الحاد ہے جو اس کے دماغ میں بھرا ہوا ہے۔ اللہ کا معنی اگر قانون کیا جائے تو پھر اللہ کی ذات کہاں گئی شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ ایک ادنیٰ سے ادنیٰ مسلمان بھی یہ تصور رکھتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی ایک ذات ہے۔ اس کا وجود ہے اور اس کی صفات ہیں اسی لئے ہر مسلمان جب سبحان اللہ کہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اللہ کی ذات تمام عیوب و نقائص سے پاک ہے۔ بہرحال یہ حدیث کے انکار کی وجہ ہے کہ ذات خداوندی کا تصور بھی مٹانے کی کوشش ہو رہی ہے اور پھر یہیں پر بس نہیں کی بلکہ خود ساختہ معنوں کو رواج دینے کے لئے لغات قرآن کے نام سے خود ساختہ لغت بھی بنا دی ہے تاکہ اپنی مرضی سے کانٹ چھانٹ کر جو معنی اپنی دماغی اختراع کے مطابق ہو ، اسے لغت میں لکھ دیا جائے اور پھر اسے قرآن پاک پر چسپاں کردیا جائے۔ اولی اللہ یا مشروط یہاں پر قرآن اور حدیث کی طرف دعوت دی گئی ہے۔ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی دعوت دی گئی ہے۔ اور سورة نساء ہیں اولی الامر کی اطاعت کا بھی حکم موجود ہے۔ امام ابوبکر جصاص فرماتے ہیں کہ اولی الامر میں مسلمان حکام بھی آتے ہیں اور علماء اور فقہاء بھی۔ ان کی اطاعت تبلیغ سات کی وجہ سے ضروری ہے۔ اور مسلمان حکام کی اطاعت اسی لئے ضروری ہے کہ وہ اللہ کے دین کو نافذ کرنے والے ہیں۔ البتہ حکام وقت ہوں یا علما و فقہاء بزرگ ہوں یا پیرو مرشد ان سب کی اطاعت مطلق نہیں بلکہ خدا اور اس کے رسول کے حکم کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر ان کی بات خدا اور رسول کے حکم کے مطابق ہوگی تو تسلیم کی جائے گی ورنہ ٹھکرا دی جائے گی۔ کیونکہ ان سے غلطی کا امکان ہے برخلاف اس کے اللہ کی مطلق اطاعت اس لئے ہے کہ وہاں غلطی کا کوئی امکان نہیں اور رسول کی مطلق اطاعت اس لئے کہ وہ کوئی غلط حکم نہیں دیتا۔ اگر کسی معاملہ کے سمجھنے میں غلطی ہوجائے یا کوئی خط یا لغزش ہوجائے تو اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے فوراً اصلاح کردیتا ہے۔ لہٰذا نبی کا ہر حکم بھی واجب التعمیل ہے۔ آبائو اجداد کی اندھی تقلید فرمایا کہ جب مشرکین کو کہا اجتا ہے کہ اس چیز کی طرف آئو جو اللہ نے نازل کی ہے اور رسول کی طرف آئو قالوا حسبنا ما وجدنا ملید آبائونا تو وہ جواب میں کہتے ہیں کہ ہمارے لئے وہی کچھ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے آبائو اجداد کو پایا۔ دوسرے لفظوں میں ہمیں کسی کتاب یا شریعت کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم تو اپنے باپ دادا کے مذہب پر قائم رہیں گے۔ ان کا استدلال یہ ہوتا ہے کہ ہمارے آبائو اجداد بڑے بڑے چوہدری ، داتا اور پنچ تھے۔ ان کی مجلسوں میں اہم فیصلے ہوتے تھے وہ کیا نالائق اور بیوقوف تھے جو ہم ان کے رسم و رواج اور طور طریقے کو ترک کردیں ؟ ہمارے لئے تو ان کا اتباع ہی کافی ہے اور یہی وہ دلیل ہے جو اکثر مشرکین اپنے جاہلانہ تصور کے حق میں دیتے رہے ہیں۔ امام شاہ ولی اللہ فرماتے ہیں کہ انسان اکثر تین قسم کے حجابات میں مبتلا ہوتے ہیں۔ یعنی حجاب طبع ، حجاب رسم اور حجاب سوء معرفت فرماتے ہیں کہ حجاب طبع سے مراد یہ ہے کہ انسان خواہشات نفسانیہ کے پیچھے لگ جائے اور وہی کرے جو اس کا دل چاہے۔ نیز کھانے پینے اور آرام طلبی میں مصروف رہے۔ حجاب رسم یہ ہے کہ انسان اپنے آبائو اجداد برادری اور قبیلہ کے رسم و رواج میں مبتلا رہے۔ ایسا شخص اپنی زندگی جیسی قیمتی پونجی انہی رسومات باطلہ کی نذر کر دیات ہے اور حق کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتا۔ پھر جب اس دنیا سے جاتا ہے تو آنکھ کھلتی ہے۔ اس وقت وہ اپنے آپ کو بالکل خالی دامن پاتا ہے۔ پھر اسے احساس ہوتا ہے کہ جس چیز پر ناجت کا دار و مدار تھا ، اس کی طرف تو اس نے اپنی زندگی میں توجہ نہ دی۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں حجاب سوء معرفت یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کو مانے مگر غلط طریقے سے ۔ یہود و نصاریٰ بدھہ ہندو وغیرہ سب خدا تعالیٰ کو کسی نہ کسی طریقے پر مانتے ہیں مگر ماننے کا وہ طریقہ غلط ہے جس کی وجہ سے ان کا ماننا بھی انکار کے مترادف ہے۔ بعض لوگ شرک یا تشبیہ میں مبتلا ہوتے ہیں شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ یہ مہلک بیماریاں ہیں۔ شرک تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کی صفات میں غیر اللہ کو بھی شامل کرلیتے ہیں۔ یعنی اللہ کی صفات مختصہ غیروں میں بھی تسلیم کرتے ہیں اور تشبیہ یہ ہے کہ انسانوں کی صفات اللہ تعالیٰ میں ثابت کرتے ہیں۔ جیسے یہ عقیدہ رکھنا کہ اتخذ اللہ ولدا العیاذ باللہ اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے۔ گویا اس بیماری میں مبتلا لوگ اللہ تعالیٰ کا مثیل یا ندیا مقابل یا بیٹا بنا لیتے ہیں۔ فرماتے ہیں کہ ان تینوں حجابوں سے بہت کم لوگ بچ کر نکلتے ہیں۔ بہرحال کسی بھی کام کو دین کی طرف لوٹانے کی بجائے اپنے آبائو اجداد ہی کو معیار بنا لینا جاہلانہ تقلید ہے۔ یہ انسان کو معصیت سے بڑھ کر شرک تک لے جاتی ہے۔ فرمایا یہ مشرک اور بدعتی لوگ اپنے خود ساختہ افعال کی دلیل صرف یہ پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے بڑوں کو اسی طریقے پر پایا ہے۔ ان کے پاس نہ کوئی عقلی دلیل ہوتی ہے نہ نفلی اور نہ ہی وہ مشاہدہ کی بنیاد پر کوئی جواز پیش کرسکتے ہیں۔ اللہ نے فرمایا یہ لوگ اپنے باپ دادا کو دلیل بناتے ہیں اولم کان آبائو ھم ولا یعلمون شیئاً ۔ اگرچہ ان کے آبائو اجداد کچھ نہ جانتے ہوں یعنی جاہل مطلق ہوں ولا یھتدون اور نہ ہی وہ ہدایت کے راستے پر ہوں۔ فرمایا کہ اس سے بڑھ کر گمراہی کیا ہو سکتی ہے کہ جاہل اور غیر ہدایت یافتہ آبائو اجداد کی تقلید میں خود بھی اسی گڑھے میں جا گرے۔ شاہ عبدالقادر محدث فرماتے ہیں کہ اگر باپ دادا کے متعلق وثوق سے علم ہو کہ وہ حق کے تابع اور صاحب علم تھے تو پھر ان کی راہ پکڑے اگر ایسا نہیں ہے تو سراسر گمراہی میں مبتلا ہونیوالی بات ہے۔ یہی اندھی تقلید ہے جو انسان کو بالآخر شرک اور کفر میں مبتلا کر کے جہنم میں جانے کا ذریعہ بن جائے گی آج بھی لوگ اپنی متبد عانہ رسوم کے جواز میں خاندانی رسم و رواج اور بڑوں کے عمل کو پیش کرتے ہیں ، وہ گمراہی میں مبتلا ہیں کسی بھی عمل کے لئے کتاب و سنت سے دلیل کی ضرورت ہے صحابہ کرام کے عمل کو پیش کرو۔ اگر وہاں بھی نہ ملے تو ائمہ دین سے دریافت کرو۔ امام ابوحنیفہ کا فتویٰ لائو۔ محمد ثین کا قول پیش کرو ، امام شافعی ، مالک اور احمد کیا کہتے ہیں۔ امام بخاری ، مسلم ، ترمذی اور نسائی کی کیا تحقیق ہے۔ اگر ان میں سے کوئی دلیل بھی نہیں ہے اور محض بڑوں کی دیکھا دیکھی کر رہے ہو تو سمجھ لو کہ صریح گمراہی میں مبتلا ہو۔ اگر فلاح چاہتے ہو تو اللہ اور اس کے رسول کے بتائے ہوئے راستے پر گامزن ہو جائو۔ یہی وہ شاہراہ ہے جو تمہیں جنت تک لے جائیگی۔ جائز تقلید آبائو اجداد کی اندھی تقلید کے برخلاف اگر اہل علم کی تقلید اس بناء پر کی جائے کہ وہ قرآن پاک اور شریعت مطہرہ کو بہتر طور پر جانتے ہیں تو ایسی تقلید کی اجازت ہے ، ائمہ دین اور علماء و فقہاء کی تقلید محض اس لئے کی جاتی ہے کہ وہ قرآن و سنت کو بہتر جاننے والے ہیں۔ لہٰذا امام ابوحنیفہ کی تقلید مشرکانہ تقلید نہیں ہے بلکہ بالکل جائز ہے۔ وہ ہم سے زیادہ صاحب علم تھے اور مسائل شرعیہ کا حل بہتر طور پر پیش کرتے تھے۔ مولانا شاہ اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ جاہلانہ تقلید میں بعض غلط کار صوفیوں کا بھی حصہ ہے جب انہیں قرآن و سنت کی بات بتائی جاتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اپنے بزرگوں کے طریقے پر چلیں گے۔ ہم تو مشائخ کے کہنے پر عمل کریں گے۔ یہ بھی مشرکانہ تقلید میں آتا ہے۔ صحیح تقلید یہ ہے کہ اللہ اور رسول کی بات کو مقدم رکھا جائے۔ جو چیز اس کے مطابق ہے اسے قبول کرلیا جائے اور اگر کوئی شیخ قرآن و سنت کے خلاف کہتا ہے تو وہ شیطانی اور گمراہی کی بات ہوگی۔ اسے رد کردیا جائے گا۔ شاہ اسماعیل شہید فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دیکھے کہ اس کا پیر غلط بات کرتا ہے تو اس کی بیعت سے تو الگ نہ ہو بلکہ اس کی اصلاح کی کوشش کرے اور اس کی صورت یہ ہے کہ دوسرے سے کہلوائے کہ یہ بات غلط ہو رہی ہے اور اپنے پیر کے حق میں دعا بھی کرے کہ صراط مستقیم پر قائم ہے اور پیر صاحب نے کہنے پر غلط بات کو خود اختیار نہ کرے ، ایک صاحب نے بتایا کہ ایک پیر زادہ صاحب گلے کی بیماری میں مبتلا ہوگئے حکیم صاحب نے مشورہ دیا کہ خضاب لگانے سے آپ کی بیماری میں اضافہ ہوا ہے لہٰذا لست ترک کردیں کہنے لگے یہ تو میں نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ میرے حضرت صاحب نے حکم دے رکھا ہے کہ خضاب لگایا کروں۔ اب اگر شریعت بھی کالا خضاب لگانے سے منع کرے تو یہ صاحب اپنے شیخ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔ یہی جاہلانہ تقلید ہے جس سے منع کیا گیا ہے۔ تاہم آئمہ دین ، علماء و فقہاء کی تقلید اس لحاظ سے جائز ہے کہ انہیں قرآن و سنت پر بہت دسترس حاصل ہے اور وہ بہتر طریقے پر راہنمائی کرنے کے اہل ہیں۔
Ayah 5:105

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا عَلَیْكُمْ اَنْفُسَكُمْ١ۚ لَا یَضُرُّكُمْ مَّنْ ضَلَّ اِذَا اهْتَدَیْتُمْ١ؕ اِلَى اللّٰهِ مَرْجِعُكُمْ جَمِیْعًا فَیُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 5:105 in the Quran reader

اے ایمان والو ! لازم پکڑو اپنے اوپر اپنے نفسوں کو ، تم کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا وہ جو گمراہ ہوا جبکہ تم ہدایت کی راہ پر قائم رہے۔ اللہ ہی کی طرف تم سب کا لوٹ کر جانا ہے پھر وہ تم کو بتلا دے گا جو کام تم کیا کرتے تھے۔

ربط آیات گزشتہ سے پیوستہ درس میں ان جاہل مشرکوں کا رد فرمایا تھا جنہوں نے محض رسم و رواج کی بناء پر بعض جانوروں کو خود پر حرام قرار دے رکھا تھا اور الٹا اللہ پر افترا باندھتے تھے اس کے بعد گزشتہ درس میں اس بات کا ذکر ہوچکا ہے کہ جب ان لوگوں کو قرآن پاک اور پیغمبر (علیہ السلام) کی طرف دعوت دی جاتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہمارے لئے ہمارے آبائو اجداد کا طریقہ ہی کافی ہے ہم اسی پر قائم رہیں گے۔ اللہ نے فرمایا کیا وہ اپنے اجداد ہی کی اتباع کرتے رہیں گے خواہ وہ بےعلم اور گمراہ ہی کیوں نہ ہوں ؟ یہ بڑی بےسمجھی کی بات ہے اور اس سے ایمان والوں کو یقینا صدمہ پہنچتا ہے وہ یہ ہے کہ ایک تو وہ کفر و شرک کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور دوسرا اس پر اصرار کرتے ہیں۔ پھر جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف دعوت دی جاتی ہے۔ حق کی طرف بلایا جاتا ہے تو وہ انکار کردیتے ہیں۔ اہل ایمان کے لئے یہ بھی تکلیف وہ بات ہے۔ اب اگلی آیت میں ایمان والوں کو تسلی دی گئی ہے کہ اگر لوگ شرک ، کفر اور گمراہی پر اصرار کرتے ہیں اور حق کا راستہ قبول نہیں کرتے تو آپ ان پر زیادہ افسوس نہ کریں بلکہ اپنا فریضہ ادا کرتے ہیں ایسا کرنے سے کفار و مشرکین تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے بلکہ وہ خود اپنے منطقی نتیجہ کو پہنچ جائیں گے۔ اصلاح نفس ارشاد ہوتا ہے یا یھا الذین امنوا اے ایمان والو ! علیکم انفسکم لازم پکڑو اپنے اوپر اپنی جانوں کو یعنی اگر دوسرے لوگ تمہاری تبلیغ کا اثر قبول نہیں کرتے تو اس کی زیادہ فکر نہ کرو بلکہ اپنی اصلاح کی فکر کرو اور پھر اصلاح نفس کے ساتھ ساتھ بقدر ضرورت و ہمت دوسروں کی اصلاح کی بھی کوشش کرو۔ تاہم تمہارے حق میں زیادہ ضروری یہ بات ہے کہ اپنی اصلاح کو ملحوظ خاطر رکھو اگر ایسا کرو گے۔ تو لایضربکم من ضل گمراہ ہونے والا شخص تمہیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ بعض اوقات اہل ایمان یہ خطرہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر دوسرے لوگ ہدایت قبول نہیں کریں گے تو شاید ہم بھی گمراہ ہو کر انہی میں شامل ہوجائیں ، تو اللہ نے فرمایا جو شخص خود گمراہ ہوچکا ہے وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکے گا۔ مگر شرط یہ ہے اذا اھتدیتء کہ تم خود ہدایت کے راستے پر قائم رہو۔ امام ابوبکر جصاص فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے اس تسلی کا یہ مطلب نہیں کہ غیر ہدایت یافتہ لوگوں کو تبلیغ کرنا ہی چھوڑ دیا جائے۔ بلکہ تمہارا فرض یہ ہے کہ حق کی بات دوسروں تک پہنچاتے رہو۔ ہاں ۔ اگر ایسے حالات پیدا ہوجائیں کہ تمہاری بات بالکل غیر مئوثر ثابت ہو رہی ہے ، لوگ حق بات کو سننے تک کے لئے تیار نہیں اور تشدد پر اتر آئے ہیں ، تو پھر ان کے زیادہ در پے نہ ہوں اور اصلاح نفس کی طرف توجہ دیں۔ تاہم ان سے بالکل ہی کٹ کر نہ رہ جائیں بلکہ ان کے ساتھ اس حد تک رابطہ رہنا چاہئے کہ جب بھی مناسب موقع ملے۔ تبلیغ دین کا کام پھر سے شروع کیا جاسکے۔ فریضہ تبلیغ دین اصلاح نفس سے مراد محض اپنی واحد ذات نہیں بلکہ اس سے تمام ہم قوم اور ہم مذہب لوگ مراد ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ جب تم اس قدر مجبور ہو جائو کہ اغیار تک تمہاری بات نہیں پہنچ جاتی تو پھر کلمہ حق کو اپنوں تک ہی پہنچاتے رہو تاکہ تم سب بات نہیں پہنچ جاتی تو پھر کلمہ حق کو اپنوں تک ہی پہنچاتے رہو تاکہ تم سب ہدایت کے راستے پر قائم رہ سکو ، اور اغیار کی کسی سازش کا شکار نہ ہو جائو۔ دین کی بات کا آپس میں اعادہ کرنا دین پر پختگی کی ضمانت ہوگا اور اس طرح تم دوسروں کے مقابلہ میں اپنے آپ کو مزید مستحکم کرسکو گے۔ اذا اھتدیتم کا یہی مطلب ہے کہ جب تم خود اپنے دین پر مستحکم ہو گے تو دوسرے تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے۔ گویا ہدایت پر قائم رہنے میں دونوں باتیں آتی ہیں۔ ایک اپنی اصلاح اور دوسرے پیغام خداوندی کی دوسروں تک تبلیغ چناچہ تبلیغ دین پر ہر مسلمان کا ایک اہم فریضہ ہے۔ پہلے بھی گزر چکا ہے اے رسول ! ” بلغ ما انزل الیک من ربک “ جو کچھ آپ کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اسے دوسروں تک پہنچا دیں۔ اسی طرح ملت ، دین حق پر قائم رہ سکتی ہے۔ اگر تبلیغ دین کا فریضہ فراموش کردیا جائے تو قوم و ملت کی بنیادیں کمزور ہوجائیں گی اور وہ روبہ زوال ہو کر اغیار کا شکار ہو سکتی ہے۔ امر بالمعروف اللہ تعالیٰ نے سورة لقمان میں حضرت لقمان کی نصیحت نقل کی ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کو کی ” وامر بالمعروف وانہ عن المنکر “ اے بیٹے ! نیکی کا حکم کرتے رہو اور برائی سے روکت رہو تبلیغ دین ایک ایماندار کا فرض منصبی ہے۔ سورة توبہ میں اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کی سات صفات بیان فرمائی ہیں ، ان میں ایک یہ بھی ہے الا مرون بالمعروف والناھون عن المنکر “ کہ وہ ہمیشہ نیکی کا حکم کرتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں۔ اسی سورة میں بھی پہلے گزر چکا ہے۔ اللہ نے سابقہ اقوام خصوصاً یہود کے متعلق فرمایا کانوا لا یتنا ھرن عن منکر فعلوہ لبئس ماکانوا یفعلون “ کہ وہ برائی سے منع نہیں کرتے تھے اور اس طرح وہ بہت بری بات کے مرتکب ہوتے تھے برائی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس سے منع نہ کرنا بہت بری کارگزاری تھی۔ مروان کی گورنری کا زمانہ تھا ، عید کے دن وہ نماز عید کے لئے آیا تو نماز پڑھانے سے پہلے خطبہ شروع کردیا۔ ایک مسلمان نے اٹھ کر کہا کہ پہلے نماز پڑھائو پھر خطبہ دینا۔ کیونکہ حضور نبی کریم ﷺ کا یہی طریقہ ہے۔ جمعہ اور عیدین کے خطبے ان ہی نمازوں سے متعلق ہیں مگر جمعہ کا خطبہ پہلے اور نماز بعد میں ہے جب کہ عیدین کی نماز میں نماز پہلے اور خطبہ بعد میں ہے۔ بہرحال اس مسلمان کے ٹوکنے پر صحابی رسول حضرت ابو سعید خدری نے فرمایا کہ بیشک اس مسلمان نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ ادا کردیا۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جہاں برائی کا ارتکاب ہو رہا ہے ، تم میں سے صاحب طاقت کو چاہئے کہ وہ اس برائی کو بزور طاقت ہٹا دے۔ اگر ہاتھ سے ہٹانے کی طاقت نہیں رکھتا تو زبان سے روکے۔ اگر اتنی طاقت بھی نہیں پاتا فبقلبہ تو اس کو لد سے ہی برا سمرجھے۔ فرمایا ذلک اضعف الایمان یہ ایمان کا کمزور درجہ ہے۔ دوسری روایت میں آتا ہے کہ اس کے بعد تو ایک رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان کا درجہ نہیں ہے۔ حضرت جریر ابن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ کوئی شخص ایسے لوگوں میں رہتا ہو یعمل فیھم بالمعاصی جن میں گناہ کا ارتکاب ہوتا ہے ، پھر جو لوگ اس کو روکنے پر قادر ہیں ، وہ اس کو روکنے کی کوشش بھی نہیں کرتے ، ان کے متعلق فرمایا اصابھم اللہ بعذاب قبل ان یموتوا۔ یہ لوگ مرنے سے پہلے خدا کی طرف سے عذاب میں مبتلا ہوں گے۔ اس سے عمومی عذاب مراد نہیں ہے تاہم کوئی کسی سزا میں مبتلا ہوجائے گا ، کوئی کسی تکلیف میں ۔ ہو سکتا ہے کہ غلام بنا لئے جائیں یا ان سے دین چھین لیا جائے یا ان پر غربت طاری کردی جائے یا وہ طوفان اور زلزلے کی زد میں آجائیں۔ بہرحال وہ کسی نہ کسی سزا میں ضرور مبتلا ہوں گے۔ حضرت ابوبکر صدیق نے بھی منبر پر یہ بات فرمائی تھی ، اے لوگو ! تم علیکم نفسکم والی آیت پڑھتے ہو مگر اس سے غلط مطلب نہ اخذ کرلینا۔ اسا نہ ہو کہ تم تبلیغ دین کا کام چھوڑ بیٹھو اور صرف اپنی فکر میں لگے رہو۔ کیونکہ ان الناس اذا عمل فیھم بالمعاصی ولم یغین و اوشداء ان یعمھمء اللہ بعقاب ۔ جب لوگوں میں گناہ کئے جا رہے ہوں اور وہ اس کو تبدیل نہ کریں۔ تو قریب ہے کہ خدا تعالیٰ سب کو سزا میں مبتلا کر دے۔ تبلیغ کب ساقط ہے ایک مسلمان سے تبلیغ صرف اس وقت ساقط ہوتی ہے جب اس کو ادا کرنے کا کوئی طریقہ باقی نہ ہے حالات اس قدر دگرگوں ہوجائیں کہ تبلیغ بالکل مئوثر نہ ہو رہی ہو یا ایسا کرنے سے کسی تکلیف میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو تو ایسی صورت میں تبلیغ کو مئوخر کردے اور اصلاح نفس کی طرف زیادہ توجہ دے۔ حضور ﷺ کے صحابی ابو ثعلبہ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا بل ائنتمروا بالمعروف وتناھوا عن المنکر ۔ یعنی نیکی کی باتوں کی ہمیشہ تلقین کرتے رہو اور برائی سے روکتے رہو۔ ہاں جب دیکھو کہ ایسے حالات پیدا ہوگئے میں کہ بخل کی اطاعت کی جاتی ہے یعنی لوگوں میں بخل پیدا ہوگیا ہے اور فیاضی ختم ہوگئی ہے اور خواہشات کی پیروی کی جا رہی ہے ، قرآن و سنت اور دین کو کوئی پوچھتا نہیں۔ ہر طرف آخرت کے مقابلے میں دنیا کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ ہر آدمی اپنی ہی رائے کو حتمی سمجھتا ہے اور دوسرے کی بات کو سننے کے لئے تیار نہیں ہوتا خواہ وہ کتنی ہی اچھی کیوں نہ ہو۔ فرمایا اگر ایسا وقت آجائے فملیک نفسک پھر اپنی فکر کر اور دوسروں کی فکر چھوڑ دے ، ایسے حالات میں اپنے آپ کو بچانا بھی غنیمت ہے کہ کہیں گمراہی میں م بتلا نہ ہو جائو۔ کیونکہ آگے ایسے دن بھی آنے والے ہیں کہ صبر کرنا اتنا دشوار ہوجائیگا جیسے جلتے ہوئے کوئلے کو ہاتھ میں پکڑنا۔ فرمایا اس دور میں تم میں سے جو شخص نیک اعمال انجام دے گا اس کو پچسا آدمیوں کے عمل کے برابر اجر دیا جائیگا۔ کیونکہ یہ فتنہ و خلفشار کا زمانہ ہوگا۔ ظلم کی داستانیں فرمایا جب ظلم و ستم بڑھ جائے تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر ساقط ہوجاتا ہے۔ مثلاً حجاج بن یوسف کے زمانے کے ظلم و جور تاریخ میں محفوظ ہیں۔ یہ ظلم شخص مردانیوں کے تحت بیس سال تک عراق کا گورنر رہا۔ حضرت امیر معاویہ تو صحابی رسول تھے ، آپ کے بعد حضرت عمر بن عبدالعزیز کے سوا سب مشتبہ لوگ تھے اچھے کام بھی کرتے تھے مگر ظلم و ستم اور دیگر برائیاں بھی انجام دیتے تھے جب حجاج مر اتو حسن بصری نے کہا تھا ، اے اللہ ! تو نے اس کو مارا ہے تو اس کی سنت کو مٹا دے ، یہ اتنا ظالم شخص تھا۔ چھوٹی چھوٹی اور خراب آنکھوں والا آدمی اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو پھیلاتا رہتا تھا۔ بخدا اگر جہاد میں جاتا تھا تو گھوڑے کی باگ پکڑنے سے کبھی اس کے ہاتھوں میں پسینہ نہیں آیا ہوگا یعنی اسے کبھی جہاد میں حصہ لینے کا موقع نہیں ملا۔ کنگھی پھیرتا تھا ، اکڑ کر چلتا تھا اور پھر بکواس شروع کردیتا تھا ، کبھی کوئی بات کبھی کوئی بات ، یہاں تک کہ حسن کہتے ہیں کہ کوئی آدمی اٹھ کر یہ نہیں کہہ سکتا تھا کہ حضرت ! وقت جا رہا ہے نماز ادا کرلیں ۔ اگر کوئی ایسی جرأت کرتا تو اس پر کوڑے برستے یا تلوار سے سر قلم کردیا جاتا۔ ایک دفعہ تقریر کر رہا تھا کہ کسی شخص نے کہہ دیا ایھا الامیر اے امیر ! وقت تنگ ہو رہا ہے الصلوۃ نماز پڑھا لیں کہنے لگا تم کون ہو ، اس نے کہا ، ایک مسلمان ہوں۔ کسی قبیلے سے تعلق ہے ، عرض کیا ، فلاں سے ، کہا تم بڑے نیک آدمی ہو ، بڑی نیکی کی بات کرتے ہو۔ ادھر اپنے فوجی سے کہا کہ اسے فوراً جنت میں پہنچا دو ۔ بس اتنی سی بات پر اس کا سر قلم کروا دیا۔ ایک بزرگ فرماتے ہیں عبدالملک بن عمیر جمعہ کے دن دوپہر کے وقت آ کر منبر پر بیٹھ گیا ۔ کبھی کسی کی مدح بیان کی ، کسی کی مذمت کی یہاں تک کہ مسجد کے میناروں پر سورج کی ہلکی سی سرخی باقی رہ گئی۔ پھر اس نے اذان کہلوائی اور جمعہ کی نماز پڑھی ، پھر عصر کی اذان کہلوائی اور عصر کی نماز پڑھی گئی اس کے ساتھ ہی مغرب کا وقت ہوگیا۔ پھر مغرب کی اذان ہوئی اور نماز ادا کی گئی کہتے ہیں کہ ان حالات میں بھی کوئی شخص زبان کھولنے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا ، ورنہ جان جاتی تھی اگر اس قسم کا دور آجائے تو پھر آدمی تبلیغ دین کے معاملہ میں مجبور سمجھا جائے گا۔ ملوکیت کی تاریخ میں ظلم و ستم کی بڑی بڑی داستانیں ملتی ہیں مگر اہل حق پھر بھی وقتاً فوقتاً قائم ہوتے رہے ہیں ہندوستان میں بھی بعض بڑے جابر بادشاہ گزرے ہیں ایسے واقعات بھی ملتے ہیں کہ تغلق کے زمانے میں کسی بزرگ نے امر بالمعروف کیا تو بادشاہ نے حکم دیا کہ اس کے دانت اکھاڑ کر اس کے سر میں میخوں کی طرح ٹھونک دیئے جائیں۔ اس کے باوجود حق پرست لوگ شہادت قبول کرلیتے تھے مگر اعلائے کلمہ حق سے باز نہیں آتے تھے۔ البتہ اس قسم کے حالات میں جب انسان کو جان کا خطرہ ہو تو وہ امر بالمعروف کے فریضہ سے معذور سمجھا جائے گا ، ورنہ عام حالات میں اپنی اصلاح بھی ضروری ہے اور دوسروں کی اصلاح بھی لازم ہے روحانی ترقی کے لئے اصلاح نفس بھی ضروری ہے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ حق کی حمایت میں سعی کرتا ہے۔ انا اھتدیت و ۔ میں یہ بات بھی پائی جاتی ہے کہ اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ جہان کی اصلاح بھی مدنظر ہو۔ عدم ادائیگی فریضہ کا دبائو حضرت حذیفہ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور (علیہ الصلوۃ والسلام) نے فرمایا ولذی نفسی بیدہ اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ لتامرن بالمعروف ولتنھون عن المنکر۔ اے لوگو نیکی کا حکم ضرور کرتے رہو اور برائی سے ضرور روکتے رہو اور نہ لیعمکم اللہ بعقاب من عندہ اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے تمہیں کسی عذاب میں مبتلا کر دے گا۔ لم لتدعن فلا یستجیب لکم ۔ پھر تم دعائیں مانگتے رہو گے مگر قبول نہیں ہوں گی کیونکہ تم اپنے فریضہ کو ترک کرچکے ہو گے۔ ایک شخص حضرت عمر کے پاس آیا اور عرض کیا ، امیر المومنین ! اعمل بالاعمال الخیر الاخصلتین میں سارے نیکی کے کام کرتا ہوں مگر دو کام کرنے سے عاجز ہوں۔ فرمایا ، وہ دو کام کون سے ہیں کہنے لگا الامر بالمعروف والنھی عن المنکر۔ یعنی نیکی کا حکم برائی کی ممانعت ، یہ دو کام میں نہیں کرتا۔ اس پر حضرت عمر نے فرمایا لقد طمست سھمین من سہام الاسلام تو نے اسلام کے دو حصے مٹا دیئے ہیں اور خدا کی گرفت میں آگئے ہو۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اتنے ضروری امور ہیں کہ ان کو ترک کرنے سے خود اسلام کو نقصان پہنچانے والی بات ہے۔ قرآن بطور مرکز فکر بہرحال اجتماعی طور پر اصلاح نفس اور اصلاح ناس کا فریضہ اسی صورت میں کامیاب ہو سکتا ہے جب قرآن پاک کو اپنی فکر کامرکز بنا لیا جائے۔ جب لوگ قرآن حکیم کی باریکیوں کو سمجھنے لگیں گے تو پھر اپنی اصلاح بھی کرسکیں گے اور دوسرے لوگوں کی اصلاح کرنے میں کامیاب ہو سکیں گے۔ اسی سورة میں پہلے آ چکا ہے ” فاتقون یا ولی الالباب لعلکم تفلحون۔ “ اے عقل مند لوگو ! اگر مجھ سے ڈرتے رہو گے تو تمہیں فلاح نصیب ہو جائیگی ، پھر دوسری قومیں تمہارا مقابلہ نہیں کرسکیں گی۔ جب تمہاری عقلوں کو اتنی ترقی نصیب ہوجائے کہ قرآن پاک کی باریکیاں سمجھنے لگو تو پھر کامیابی تمہارے قدم چوم لے گی۔ فرمایا ، یاد رکھو ! الی اللہ مرجعکم جمیعاً تم سب کو لوٹ کر خدا کے ہاں جانا ہے فبنبئکم بما کنتم تعملون۔ پھر وہ تمہیں بتا دے گا جو کچھ تم کرتے رہے اس کے پاس تمہاری زندگی کا پورا ریکارڈ موجود ہے۔ وہ ظاہر کر دے گا کہ فلاں فلاں وقت میں تم فلاں فلاں کام انجام دیتے رہے۔ اچھا یا برا جو کچھ بھی اس دنیا میں کیا میں تم فلاں فلاں کام انجام دیتے رہے۔ اچھا یا برا جو کچھ بھی اس دنیا میں کیا ہے ، سب کچھ سامنے آجائیگا۔ پھر یا تو اچھے کام کی جزا پا لو گے یا برے کام کی سزا بھگتنا ہوگی ، کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے محاسبے سے بچ نہیں سکے گا لہٰذا تمہاری کوشش یہ ہونی چاہئے کہ نامساعد حالات میں بھی اپنی اصلاح کرو اور ہدایت کے راستے پر قائم رہو۔ اگر ایسا کرو گے تو دوسروں کا کفر ، شرک اور اغلاط تم پر اثر انداز نہیں ہو سکے گا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمان کا فریضہ بھی سمجھا دیا ار پھر اسے تسلی بھی دے دی ۔