5. Surah Al-Maaida

المائدةThe Table · 120 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 5:24–26

قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِنَّا لَنْ نَّدْخُلَهَاۤ اَبَدًا مَّا دَامُوْا فِیْهَا فَاذْهَبْ اَنْتَ وَ رَبُّكَ فَقَاتِلَاۤ اِنَّا هٰهُنَا قٰعِدُوْنَ Open ayah 5:24 in the Quran reader

ان لوگوں نے کہا ‘ اے موسیٰ ! بیشک ہم ہرگز داخل نہیں ہوں گے اس ملک میں کبھی بھی جب تک کہ وہ جبار لوگ اس میں ہوں گے ۔ پس جا تو اور تیرا پروردگار دونوں جا کر لڑو۔ بیشک ہم تو یہاں بیٹھنے والے ہیں

قَالَ رَبِّ اِنِّیْ لَاۤ اَمْلِكُ اِلَّا نَفْسِیْ وَ اَخِیْ فَافْرُقْ بَیْنَنَا وَ بَیْنَ الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ Open ayah 5:25 in the Quran reader

موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا ‘ اے میرے پروردگار ! میں نہیں اختیار رکھتا مگر اپنے نفس پر اور اپنے بھائی پر پس فیصلہ کردے ہمارے درمیان اور فاسق قوم کے درمیان

قَالَ فَاِنَّهَا مُحَرَّمَةٌ عَلَیْهِمْ اَرْبَعِیْنَ سَنَةً١ۚ یَتِیْهُوْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ فَلَا تَاْسَ عَلَى الْقَوْمِ الْفٰسِقِیْنَ۠ Open ayah 5:26 in the Quran reader

فرمایا اللہ تعالیٰ نے پس بیشک وہ سرزمین حرام قرار دی گئی ان پر چالیس برس تک۔ یہ سرگردان ہوں گے زمین میں پس نہ افسوس کر تو نافرمانی کرنیوالی قوم پر

ربطہ آیات : گذشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے ۔ کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کے انعامات یاد دلانے کہ اس نے تمہارے اندر انبیاء مبعوث فرمائے عظیم السطنت بادشاہ مقرر فرمائے اور تمہیں دنیا بھر میں فضیلت عطا کی۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے وعدہ کر رکھا ہے کہ ۔۔ مقدس میں تیری اولاد کو آباد کروں گا لہٰذا اس پر قبضہ کرنے کے لیے جہاد کرو ‘ مگر قوم نے کہا کہ وہاں بڑے جبار لوگ رہتے ہیں۔ جب تک وہ وہاں سے چلے نہ جائیں۔ ہم وہاں داخل نہیں ہوں گے۔ البتہ ان میں سے دو آدمی ایسے تھے جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان راسخ کیا تھا۔ اور ان میں انبیاء کی اطاعت و فرمانبرداری کا جذبہ موجود تھا۔ انہوں نے بھی قوم سے کہا کہ تم اس ملک کے دروازے میں داخل ہو جائو۔ اللہ تعالیٰ تمہیں فتح عطاکریں گے اور اس طرح اللہ کا وعدہ پورا ہوجائیگا۔ یہ دو حضرات کالب اور پوشع تھے۔ مئوخرالذکر کو اللہ تعالیٰ نے بعد میں نبوت بھی عطا فرمائی۔ قوم کا ۔۔۔۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بارہ آدمیوں کو دشمن کے حالات معلوم کرنے کے لیے بھیجا تھا۔ جن میں سے دو نے تو اللہ پر بھروسہ رکھتے ہوئے بنی اسرائیل کو جہاد کی ترغیب دی۔ البتہ باقی دس آدمیوں نے قوم عمالقہ کی شہ زوری کے قصے سنائے جس کی وجہ سے بنی اسرائیل میں بزدلی پیدا ہوئی اور انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا قالوا یموسی انا لن ندخلھآ ابد ما داموا فیھا اے موسیٰ (علیہ السلام) ! ہم اس سرزمین میں اس وقت تک داخل نہیں ہوں گے جب تک یہ جبار قوم وہاں موجود ہے۔ تورات کے باب گنتی میں اس طرح آتا ہے ۔ کہ جب دو ایمان والوں نے قوم کو جہاد کی ترغیب دی اور کہا کہ خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس سرزمین میں داخل ہو جائو تو وہ لوگ سخت غصے میں آگئے اور رونا چلانا شروع کردیا ‘ انہوں نے حضرت موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) سے سخت نارضگی کا اظہار کیا اور کہنے لگے کہ اس سے تو بہتر تھا کہ ہم مصر میں ہی مرجاتے یا صحرانوردی کے دوران ہی ہلاک ہوجاتے تاکہ اس وقت تلوار کی زد میں تو نہ آتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم قوم عمالقہ کے مقابلے میں گئے تو مارے جائیں گے۔ ہماری عورتیں بیوہ اور بچے یتیم ہو کر دشمن کے قبضے میں چلے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے دو نصیحت کنندگان پر سنگ بار ی کر نیکی بھی کوشش کی کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ یہی لوگ انہیں ہلاکت میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ مذکورہ دو آدمیوں کے علاوہ پوری قوم نے جہاد کرنے سے انکار کردیا جس کی وجہ سے اللہ کے انبیاء حضرات موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کو سخت کوفت ہوئی۔ وہ لوگ اپنے رسولوں کے ساتھ نہایت گستاخی سے پیش آنے اور کہنے لگے فاذھب انت وربک فقاتلا “ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تم اور تمہارا خدا جاکر لڑو۔ انا ھھنا قعدون ہم تو یہیں بیٹھیں گے۔ ہم تمہارے ساتھ لڑائی میں شریک نہیں ہو سکتے۔ مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے اس جواب کو مجازی اور حقیقی دونوں معنوں پر محمول کیا جاسکتا ہے۔ اگر اس جملے کو مجازی معنوں میں لیاجائے تو اس کا معنی یہ ہوگا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ہم میں تو لڑائی کرنے کی ہمت نہیں ہے ‘ لہٰذا آپ جانیں۔ خدا تعالیٰ آپ کا مدد گار ہوگا۔ فرماتے ہیں کہ یہ معانی تو کسی حدت ک قابل برداشت ہیں۔ اس سے کفر لازم نہیں آتا۔ اور اگر ان الفاظ کو حقیقی معنوں پر محمول کیا جائے تو مطلب یہ ہوگا کہ اے موسیٰ (علیہ السلام) ! تم خود جہاد پر نکلو اور اپنے رب کو بھی ساتھ لے لو جس طرح دوسرے لوگوں کو امداد کے لیے شریک کیا جاتا ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ نہایت بےادبی ‘ گستاخی اور کفر کا کلمہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو انسانی سطح پر لے آنا کفر کے مترادف ہے۔ بنی اسرائیل کی ایسی ہی گستاخی کا ذکر سورة بقرہ میں بھی ہوچکا ہے جب انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے صاف کردیا تھا ” لن نئو من لک حتی نری اللہ جھرۃ “ ہم تیری بات کو ہرگز نہیں مانیں گے جب تک اللہ تعالیٰ کو اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں۔ پس بےادبی کا نتیجہ یہ نکلا کہ ایک بجلی آئی اور سب کو جلا کر خاکستر کردیا۔ یہاں پر بھی بنی اسرائیل نے اسی قسم کی گستاخی کی ‘ خدا کی نعمتوں کی ناقدری کی اور اللہ کے عظیم المرتبت رسولوں کا کچھ لحاظ نہ رکھا اور ان کے حکم کا صاف انکار کردیا۔ صحابہ کرام ؓ کی جان نثاری برخلاف اس کے حضور خاتم النبیین ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کی جان نثاری کے واقعات زبان زد عام ہیں۔ منجملہ ان کے جنگ بدر کی تیاری کا واقعہ ہے۔ جب قریش مکہ کی طرف سے جنگی تیاری کی خبر پہنچی تو حضور ﷺ نے صحابہ کرام ؓ کو جمع فرمایا اور جنگ کی تیاری کے لیے ان کی رائے طلب کی چناچہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے دشمن سے ٹکراجانے کا مشورہ دیا ‘ اس پر آپ خاموش رہے۔ پھر حضرت عمر ؓ نے کھڑے ہو کر اپنی جاں نثاری کا یقین دلایا مگر آپ پھر بھی خاموش رہے۔ حضرت عمر ؓ سمجھ گئے کہ آپ انصار مدینہ کی طرف سے یقین دہانی چاہتے ہیں چناچہ آپ نے انصار کی طرف اشارہ کیا کہ اب تمہارے بولنے کا وقت ہے۔ چناچہ انصار میں سے حضرت سعد بن معاذ ؓ نے عرض کیا کہ حضور اگر آپ کا روئے سخن ہماری طرف ہے تو ہم آپ کو قسم اٹھا کر یقین دلاتے ہیں۔ کہ اگر آپ حکم دیں گے تو اپنے گھوڑوں کو برک الغماد تک لے جائیں گے اور انہیں سمندر میں دوڑانے سے بھی دریغ نہیں کریں گے ہم آپ کے اشارے پر ہر طرح کی قربانی دینے پر تیار ہیں۔ عرض کیا ‘ حضور ! آپ ہمیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کی مانند نہیں پائیں گے جنہوں نے اپنے نبی سے یوں کہا تھا کہ فاذھب انت وربک فقاتلا اس کے بعد مہاجرین میں سے حضرت مقداد بن اسود ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا ‘ حضور ! آپ یقین جانیں کہ ہم آپ کے دائیں ‘ بائیں ‘ آگے اور پیچھے غرضیکہ ہر طرف سے دشمن کا مقابلہ کریں گے ہم جان کی بازی لگادیں گے ‘ آپ ہمیں موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم جیسا نہیں پائیں گے۔ انصار و مہاجرین کے اس جوش و جذبہ سے حضور ﷺ بہت خوش ہوئے آپ کا چہرہ مبارک چمکنے لگا اور آپ نے اللہ کا نام لے کر کوچ کا حکم دے دیا۔ بہر حال حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضور خاتم النبیین کی اقوام کے نظر یات کا یہ ایک تقابلی جائزہ ہے۔ دعائے افتراق الغرض ! جب قوم موسیٰ نے جہاد سے صاف انکار کردیا تو اللہ کے نبیوں کے دل پریشان ہوگئے۔ چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے نہایت عاجزی کے ساتھ بار گاہ رب العزت میں دعا کی قال رب انی لا املک الا نفسی واخی “ اے پروردگار ! میں کچھ اختیار نہیں رکھتا سوائے اپنی اور اپنے بھائی کی جان کے یعنی میں تو ہر حالت میں تیرا فرمانبردار ہوں اور میرا بھائی بھی میری بات مانتا ہے۔ مگر اس قوم پر میرا کچھ بس نہیں چلتا یہ میری بات ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اب ان کے ساتھ میرانباہ نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا فافرق بیننا و بین القوم الفسقین ہمارے اور فاسق قوم کے درمیان تفریق ڈال دے۔ اے مولا کریم ! اس قوم نے تیرے حکم کو ٹھکرادیا ہے ‘ یہ فسق و معصیت میں مبتلا ہیں ‘ تیرے حکم کو ٹھکرا دیا ہے ‘ یہ فسق و معصیت میں مبتلا ہیں ‘ تیرے انعام کو قبول کرنے کی بجائے بزدلی کا مظاہرہ کر رہے ہیں ‘ اس لیے تو ہمارے درمیان اب اپنا فیصلہ ہی صادر فرمادے۔ چناچہ ایسا ہی ہوا۔ ان کو دنیاوی سزا بھی ملی کہ فی الوقت ایک نعمت سے محروم ہوگئے۔ اس واقعہ کے تین سال بعد حضرت ہارون (علیہ السلام) اللہ کو پیارے ہوگئے اور پھر مزید ایک سال بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بھی ان سے جاملے اور اس طرح اللہ کے نبیوں اور قوم کے درمیان جدائی پیدا ہوگئی جدائی کا یہ مطلب نہیں کہ دونوں انبیاء قوم کو چھوڑ کر کسی دوسرے علاقے میں چلے جاتے یہ بات ان کے شایان شان نہ تھی اور وہ اپنی قوم کے ساتھ رہنا بھی پسند نہ کرتے تھے ‘ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ان کی دعا قبول کی اور دونوں انبیاء کی فوئیدگی سے مطلوبہ افتراق عمل میں آگیا۔ یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے۔ کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا اور اپنے بھائی کا ذکر تو کیا ہے مگر ان دو کامل الایمان لوگوں حضرات کا لب اور یوشع کا ذکر اپنے ساتھ کیوں نہیں کیا۔ مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ قوم سے افتراق میں ان دوحضرات کو اپنے ساتھ شامل نہ کر نیکی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ دعا نہایت اضطراب اور تنگدلی کی عالت میں کی تھی۔ اور ایسی حالت میں بعض اوقات آدمی کلام کو مختصر کرنے کے لیے کسی چیز کو نظر انداز کردیتا ہے۔ اس کی دوسری وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ ہارون (علیہ السلام) تو آپ کے بھائی اور نبی تھے۔ ان کے متعلق آپ کو یقین تھا کہ یہ میرے ساتھ ہے لہٰذا اس کا نام اپنے ساتھ شامل کرلیا مگر باقی دو حضرات کے متعلق انہیں مکمل یقین نہیں تھا۔ آپ کا خیال تھا کہ ہو سکتا ہے آزمائش آنے پر وہ بھی ثابت قدم نہ رہ سکیں گے ‘ لہذا آپ نے قوم سے افتراق میں ان کو اپنے ساتھ شامل نہ کیا ‘ یاد رہے کہ حضرت یوشع (علیہ السلام) کو اس وقت نبوت نہیں ملی تھی جس کی وجہ سے موسیٰ (علیہ السلام) ان سے پوری طرح مطمئن نہیں تھے۔ ان کو نبوت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد عطا ہوئی۔ مفسرِ قرآن مولانا شاہ اشرف علی تھانوی اسی آیت سے متدلال کرتے ہیں۔ کہ جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو پورے وثوق کے ساتھ اپنے ساتھ شریک کرلیا۔ اسی طرح شیخ و بزرگ کو اپنے مرید شاگرد پر تصرف حاصل ہوتا ہے اور وہ یقین کے ساتھ کہ سکتا ہے کہ میرا فلاں شاگرد یا مرید فلاں کا م میں میرے ساتھ شریک ہوگا۔ گویا شیخ کو اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنے مرید کو اپنے ساتھ شامل کرے۔ چالیس سالہ۔۔۔ بنی اسرائیل کی بےادبی ‘ گستاخی اور حکم عدولی کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا قال فانھا محرمۃ علیھم اربعین سنۃ “ (صفحہ 166) ۔۔۔۔۔۔۔۔ دے دی گئی۔ اگر وہ لوگ جہاد پر آمادہ ہوجاتے تو اللہ تعالیٰ اسی وقت انہیں وہ نعمت عطا کردیتا مگر ان کی بزدلی کی وجہ سے انہیں یہ سزا ملی کہ وہ ارض مقدس سے چالیس سال تک کے لیے محروم ہوگئے۔ حدیث شریف میں آتا ہے ان انعبد یحرم من الرزق بالذنب یعنی بندہ اپنی معصیت کی وجہ سے رزق سے محروم ہوجاتا ہے۔ یعنی جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اسے ملنے والی نعمت بھی روک لی جاتی ہے چناچہ اللہ نے حکم دے دیا کہ اب یہ قوم چالیس سال تک اس مقدس میں میں داخل نہیں ہو سکتی۔ مفسرین کرام بیان فرماتے ہیں کہ اس چالیس سالہ دور میں تمام بوڑھے بنی اسرائیلی ختم ہوگئے اور ان میں سے کوئی بھی سرزمین مقدس میں نہ پہنچ سکا۔ اس دوران نئی نسل پیدا ہوئی۔ انہوں نے اپنے اندر تنظیم پیدا کی۔ پھر حضرت یوشع (علیہ السلام) کی قیادت میں انہوں نے جہاد کیا تو وہ ارض مقدس کو فتح کرنے میں کامیاب ہوئے وگرنہ چالیس سال تک ان کی حالت یہ رہی یتیھون فی الارض وہ سزا کے طور پر اسی صحرائے سینا (میدان تیہ میں دیوانوں کی طرح سرگردان پھرتے رہے۔ سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ کہ وہ اس میدان میں مارے مارے پھر تے رہے۔ ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں۔ مگر اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے بھی پر اپنی مہربانی جاری رکھی۔ جب ان کے خیمے پھٹ گئے تو فرمایا ۔۔ ضلک علیکم الغمام “ ہم نے تم پر بادلوں کے سایے کردیے اور جب بھوکوں مرنے لگے تو ونزلنا علیکم لمن وسلوی تو من وسلوی جیسی نذیر اور شیریں خوراک بہم پہنچائی۔ غلامی بہت بُری چیز ہے ۔ اس کی وجہ سے لوگوں میں قبیح صفات پید ہوتی ہیں۔ کمینگی اور بخلی جیسی بری خصلتیں جنم لیتی ہیں۔ ان سے دشمنی و غیروں سے وفادری کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ بنی اسرائیل بھی لمبے عرصہ تک غلامی میں رہنے کی وجہ سے اچھی خصلتوں سے محروم ہوچکے تھے لہذا انہوں نے اللہ کا حکم ماننے سے انکار کردیا ۔ پھر جب نئی نسل آئی غلامی کے اثرات ختم ہوئے تو ان میں ملی جوش و جذبہ عود کر آیا۔ پھر انہوں نے جہاد کر کے اپنا وطن حاصل کرلیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی چونکہ موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم سے سخت مایوس ہوچکے تھے۔ ان کی مسلسل نافرمانی اور معصیت کی وجہ سے آپ کو امید کی کوئی کرن نظر نہیں آرہی تھی ‘ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو تسلی دی فلا تاس علی القوم الفسقین آپ اس فاسق قوم پر افسوس کا اظہار نہ کریں۔ یہ نعمت خداوندی سے محروم ہوچکے ہیں اب ارض مقدس کی نعمت ان کی آئندہ نسل کو ملے گی۔ اس قسم کی تشقی کی مثالیں دیگر انبیاء کے پیغام اور نصیحت کو قبول نہ کیا تو فرمایا فکیف اسی علی قوم کفرین “ اس کافر قوم پر کس طرح اظہار افسوس کیا جائے۔ حضرت شعیب (علیہ السلام) کی قوم کو کافر کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے مگر یہاں پر بنی اسرائیل کے متعلق ایسا نہیں کہا گیا کیونکہ وہ لوگ نافرمان اور گنہگار تھے مگر نبی کی ملت میں ہی تھے۔ حضرات موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کو اللہ کے نبی تسلیم کرتے تھے مگر اپنی گستاخی ‘ بےادبی اور بد اعمالیوں کی وجہ سے سزا بھی پاتے تھے۔
Ayahs 5:27–29

وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّ١ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِ١ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَ١ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ Open ayah 5:27 in the Quran reader

(اے پیغمبر) آپ ان کو پڑھ کر سنائیں جہاں (آدم علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا حق کے ساتھ جب کہ ان دونوں نے قربانی پیش کی پس ان میں سے ایک سے قبول کی گئی اور دوسرے سے قبول نہ کی گئی دوسرے نے کہا کہ میں تمہیں قتل کر ڈالوں گا اس نے کہا بیشک اللہ تعالیٰ قبول کرتا ہے متقیوں سے

لَئِنْۢ بَسَطْتَّ اِلَیَّ یَدَكَ لِتَقْتُلَنِیْ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیْكَ لِاَقْتُلَكَ١ۚ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ Open ayah 5:28 in the Quran reader

اگر تو بڑھانے والا اپنا ہاتھ تیری طرف تجھے قتل کرنے کے لیے۔ بیشک میں خوف کھاتا ہوں اللہ تعالیٰ سے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے

اِنِّیْۤ اُرِیْدُ اَنْ تَبُوْٓءَاۡ بِاِثْمِیْ وَ اِثْمِكَ فَتَكُوْنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ١ۚ وَ ذٰلِكَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَۚ Open ayah 5:29 in the Quran reader

میں چاہتا ہوں کہ لوٹے تو میرا گناہ لے کر اور اپنا گناہ ‘ پس ہوجائے گا تو دوزخ والوں سے اور یہی سزا ہے ان لوگوں کی جو ظلم کرنے والے ہوتے ہیں

ربط آیات پچھلے رکوع میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کی بزدلی کا حال ذکر کیا تھا۔ کہ وہ دشمن سے مقابلہ کے لیے تیار نہ ہوئے جس کی پاداش میں چالیس سال تک سرزمین مقدس سے محروم رہے۔ جس طرح دشمن کے مقابلے میں بزدلی دکھائی بہت بری بات ہے اسی طرح قتل ناحق پر دلیر ہو ابھی قبیح خصلت ہے۔ اسی مناسبت سے اللہ تعالیٰ نے آج کے درس کی آیات میں آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا حال ذکر کیا ہے۔ اس سے پہلے آیات میں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کے دونوں فرقوں کے نقض عہد کا تذکرہ فرمایا تھا۔ یہودی شکنی کی وجہ سے ملعون ٹھہرے ‘ پھر سنگدل ہوئے اور اللہ کی کتاب میں تحریف کے مرتکب۔ اسی عہد شکنی کی وجہ سے گروہ نصاریٰ باہمی جنگ و جدل میں مبتلا ہوئے۔ چناچہ ابتدائے سورة میں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو بھی ایفائے عہد کی تلقین کی یایھا الذین امنوا اوفو بالعقود “ یعنی اے اہل ایمان اپنے عہد و پیمان کو پورا کرو۔ آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹے آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا تذکرہ فرمایا ہے جن میں سے ایک نے دوسرے کو قتل کردیا تھا ‘ یہ بھی قاتل کی طرف سے عہد شکنی کی وجہ سے ہی ہوا تھا۔ ارشاد ہوتا ہے واتل علیھم نبا ابنی ادم بالحق اے پیغمبر ! (ﷺ) آپ ان کو آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا حال پڑھ کر سنا دیں حق کے ساتھ نبا کا معنی خبر ‘ حال یا واقعہ ہوتا ہے ۔ اور ابن آدم سے عام طور پر انسان مراد لیا جاتا ہے۔ کیونکہ ہر انسان آدم (علیہ السلام) کا ہی بیٹا ہے ۔ “ ہم حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ ‘ عبد اللہ بن عمر ؓ ‘ مجاہد و قتادہ وغیرہ ہم فرماتے ہیں کہ اس آیت کریمہ میں مذکور دو بیٹوں سے حضرت آدم (علیہ السلام) کے صلبی بیٹے مراد ہیں ‘ ان دو بیٹوں یعنی ہابیل اور قابیل کا تذکرہ تورات میں بھی موجود ہے تاہم۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہے۔ دو بیٹوں کا واقعہ حضور ﷺ کی بعثت سے ہزاروں سال پہلے پیش کیا اور اس کا ٹھیک طور پر علم خیر وحی الٰہی کے نہیں ہو سکتا تھا۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے وحی ہی کے ذریعے اپنے پیغمبر کو فرمایا کہ آپ بنی اسرائیل اور دوسرے لوگوں کو اس واقعہ کی ٹھیک ٹھیک تفصیلات سنادیں تاکہ ان کو علم ہو سکے کہ عہد شکنی کے کس قدر قبیح نتائج برمد ہوتے ہیں۔ پیدائش اور نکاح مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ سب کے جدا مجد حضرت آدم (علیہ السلام) کے ہاں ہر حمل سے دو جڑواں بچے پیدا ہوتے تھے جن میں ایک لڑکا ہوا اور دوسری لڑکی۔ چناچہ جب آدم (علیہ السلام) اپنی زندگی کے ایک ہزار برس مکمل کرکے اس دنیا سے رخصت ہوئے تو آپ ایک ہزار سے زیادہ اولاد یعنی لڑکے لڑکیاں پیچھے چھوڑ گئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کو ایسا ہی منظور تھا۔ نسل انسانی کی ابتداء تھی اور اسے پوری دنیا میں پھیلا نا مقصود تھا۔ لہٰذا حضرت آدم (علیہ السلام) کے ہاں کثرت سے بچے پیدا ہوئے۔ جب بچے جوان ہوتے اور ان کے نکاح کا مسئلہ پیدا ہوتا تو آپ کی شریعت کے مطابق ایک حمل کے لڑکے اور دوسرے حمل کی لڑکی کا آپس میں نکا ح کردیا جاتا اور اس طرح نسل انسانی در پھیلنے لگی۔ وجہ تنازعہ اور قربانی آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹے ہا بیل اور قابیل دو مختلف ۔۔۔ (حملوں) سے تھے مگر اتفاق کی بات کہ ہابیل کے ساتھ پیدا ہونیوالی لڑکی اچھی شکل و صورت کی نہ تھی جب کہ قابیل کی جڑواں بہن خوبصورت تھی اب اس وقت کی شریعت کے مطابق قابیل کا نکاح ہابیل کے ساتھ پیدا ہونے والی لڑکی کے ساتھ ہونا چاہیے تھا مگر وہ اسے پسند نہیں کرتا تھا اور اس کی بجائے اپنے ساتھ جنم لینے والی خوبرو لڑکی سے نکاح کا خواہشمند تھا۔ حضرت آدم (علیہ السلام) نے انہیں سمجھا یا کہ ایسا کرنا درست نہیں ہے کیونکہ یہ حکم خدا وندی کی خلاف ورزی ہوگی ‘ مگر قابیل اپنی ضد پر مصررہا ادھر ہابیل بھی اسی لڑکی کے ساتھ نکاح کرنا چاہتا تھا کیونکہ شریعت کے مطابق اس کے نکاح میں وہی آنی چاہیے تھی۔ آخر کار آدم (علیہ السلام) نے یہ تدبیر پیش کی کہ دونوں بھائی اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نیاز قربانی پیش کریں اور جس بھائی کی قربانی قبول ہوجائے گی۔ اس کا موقف درست تسلیم کیا جائے گا۔ چناچہ دونوں بھائی اس تجویز پر رضا مند ہوگئے۔ ہا بیل کا پیشہ گلہ بانی تھا ‘ اس نے ریوڑپال رکھے تھے اور قابیل کا شتکاری کرتا تھا۔ چناچہ ہابیل نے اپنے جانوروں میں سے ایک اچھا اور عمدہ جانور منتخب کیا اور اسے اللہ کی راہ میں ذبح کردیا۔ دوسرے بھائی قابیل نے اپنے محلے کی پیداوار میں سے ردی مال قربانی کے لیے پیش کیا۔ جیسا کہ سورة آل عمران میں بیان ہوچکا ہے ‘ قربانی کی قبولیت کی نشانی یہ تھی کہ متعلقہ چیز کو ایک خاص مقام پر رکھ دیا جاتا تھا ‘ آسمان سے آگ نازل ہوتی تھی اور قبولیت کی صورت میں قربانی کی چیز کو جلاکر راکھ کردیتی تھی اسی طریقے کے مطابق دونوں بھائیوں نے اپنی اپنی قربانی اللہ کی بار گاہ میں پیش کی اس آیت کریمہ میں اسی چیز کو یہاں بیان کیا گیا ہے۔ اذ قربا قربانا جب دونوں نے قربانی پیش کی فتقبل من احد ھما تو ان میں سے ایک یعنی ہابیل کی قربانی قبول کرلی گئی۔ ولم یتقبل من الا خر اور دوسرے یعنی قابیل کی قربانی قبول نہ کی گئی۔ قابیل کا ارادہ قتل اس پر قابیل حسد کی آگ میں جل گیا اور اس نے غصے میں آکر دوسرے بھائی ہابیل سے کہا قال لا قتلنک میں تجھے مارڈالوں گا کیونکہ تو میری خواہش کے راستے میں حائل ہے۔ تیرا کام تمام کرکے ہی میں اپنے لیے راستہ صاف کرسکتا ہوں اس کے جواب میں ہا بیل نے کہا کہ بھائی ! طیش میں نہ آئو۔ قربانی کی قبولیت یا عدم قبولیت تو اس مالک الملک کے ہاتھ میں ہے جس کے حضور قربانی پیش کی جاتی ہے۔ اور اس کا قانون یہ ہے 173 قال ان ما یتقبل اللہ من المتقین کہ خدا تعالیٰ متقیوں کی قربانی قبول فرماتا ہے ۔ اگر تیری قربانی قبول نہیں ہوئی تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے تقویٰ کی صفت سے متصف کیا ہے اور میری قربانی قبول فرمائی ہے۔ اگر تجھ میں بھی یہ صفت پائی جاتی تو اللہ تعالیٰ تمہاری قربانی بھی قبول کرلیتا۔ حضرت ابو دردا ؓ بڑے اور اونچے درجے کے صحابی رسول ہیں۔ آپ حکیم الامت کہلاتے تھے ۔ ان کا قول ہے کہ بخدا اگر مجھے یقین ہو کہ میری یہ دور رکعت نماز قبول ہوگئی ہے تو یہ میرے لیے دنیا و ما فیہا سے زیادہ بہتر ہے۔ کیونکہ اس آیت کریمہ کی رو سے کہ ان ما یتقبل اللہ من المتقین میں سمجھو گا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے متقین کی صف میں شامل کرلیا ہے۔ ہابیل کی فراخدلی بہر حال ہابیل نے قابیل کی قتل کی دہمکی کے جواب میں ایک تو اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ اس کی قربانی کی عدم قبولیت میں میرا کوئی قصور نہیں کیونکہ اللہ متقیوں کی قربانی قبول فرماتا ہے۔ اور دوسری بات یہ کی کہ اے بھائی ! لئن بسطت الی یدک لتقتلنی اگر دہمکی کے مطابق تو مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ بڑھا ئیگا تو اس کے جواب میں مآ انا ببا سط یدی الیک لاقتلک میں تمہاری طرف ارادہ قتل سے اپنا ہاتھ نہیں بڑھائوں گا۔ کیونکہ انی اخاف اللہ رب العلمین میں اللہ رب العلمین سے ڈرتا ہوں کہ کہیں اس کی گرفت میں نہ آجائوں ‘ لہٰذا میں تیرے ساتھ کوئی زیادتی کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں ۔ ہابیل کی طرف سے بھائی کے خلاف ہاتھ نہ اٹھانے کا عزم اس وجہ سے تھا۔ کہ اگر اپنے دفاع کے لیے بھی ہاتھ اٹھایا تو اسے جارحیت کا ہاتھ نہ سمجھا جائے۔ اور جب دو اشخاص ایک دوسرے پر حملہ آور ہوں تو دونوں مجرم ہوتے ہیں خواہ ابتدا کسی طرف سے ہو۔ اسی لیے حضور ﷺ کا فرمان ہے صفحہ 174 پر قاتل اور مقتول دونوں دوزخی ہیں۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا۔ حضور ! قاتل تو جہنمی ٹھہرا کہ وہ قتل ناحق کا مرتکب ہوا مگر مقتول کو کیسی سزا ؟ فرمایا انہ کان حریصا علی قتل صاحبہ وہ بھی اپنے ساتھی کو قتل کرنے پر حریص تھا ‘ یعنی ارادہ تو دونوں کا یہی تھا کہ ایک دوسرے کو قتل کردیں مگر ایک کا قتل ہوا اور دوسرا مقتول ‘ تاہم اپنے ارادہ کے اعتبار سے دونوں جہنمی ہیں۔ اس مقام پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے ‘ کہ ان احکام کی روشنی میں کیا کسی مظلوم کو اپنے دفاع کا حق بھی حاصل نہیں ؟ تو بعض مفسرین کرم فرماتے ہیں۔ کہ مظلوم کے لیے اپنا دفاع نہ کرنا صرف حضرت آدم (علیہ السلام) کی شریعت میں جائز تھا ‘ ہماری شریعت میں ایسا حکم نہیں ہے۔ بلکہ یہاں تو حکم یہ ہے فاعتدوا علیہ بمثل ماعتدی علیکم “ (البقرہ) جو کوئی تم پر زیادتی کرے تم بھی اسی طرح جواب دو ۔ ہماری شریعت میں مظلوم کو بدلہ لینے کی اجازت ہے اور اگر صبر کیا جائے اور شہادت حاصل ہوجائے تو یہ مقام عزت ہے۔ حضرت عثمان ؓ نے اپنے آخری دور میں نہ خود محاصرین پر ہاتھ اٹھایا اور نہ اپنی فوج کو ان کا مقابلہ کرنے کی اجازت دی یہ بہت اونچا درجہ ہے جسے حاصل ہوجائے۔ تاہم انتقام لینے کی رخصت ہے۔ گناہوں کا بار بہرحال ہا بیل نے عزمیت کا راستہ اختیار کیا اور کہا کہ اے میرے بھائی ! میں تیرے خلاف ہاتھ نہیں اٹھائوں گا۔ انی ارید ان تبوء باثمی واثمک میں چاہتا ہوں کہ تو میرا گناہ اور اپنا گناہ بھی لے کر لوٹے۔ یہاں اشکال پیدا ہوتا ہے ۔ کہ قاتل اپنے گناہ تو ساتھ لے جائیگا مگر مقتول کے گناہوں کا بوجھ کیسے اٹھائیگا جب کہ قرآن پاک کا عام ضابطہ یہ ہے۔ ولا تذر وزرۃ وزر اخری ۔۔۔۔ ابراہیمی کا بھی یہ اصول ہے کہ کسی ایک کے گناہ کا بوجھ دوسرا نہیں اٹھاتا۔ تو مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہاں باثمی کا مطلب ہابیل کے سارے گناہ نہیں بلکہ صرف اس کے قتل کا گناہ مراد ہے ‘ جسے قابیل اٹھا کرلے جائیگا۔ حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیری (رح) فرماتے ہیں کہ ان الفاظ سے ایک لطیف مطلب بھی اخذ کیا جاسکتا ہے حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے السیف محاء الذنوب یعنی تلوار گناہوں کو ہٹا دیتی ہے۔ اسی لیے شہید کے تمام گناہ معاف ہوجاتے ہیں الا الذین سوائے قرض کے کہ وہ معاف نہیں ہوتا جب تک کہ قرض خواہ خود معاف نہ کرے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ ہابیل کے کلام کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے۔ کہ مجھے قتل کرکے میرے گناہوں کے مٹانے کا بھی تو ہی سبب بنے گا۔ گویا میرے گناہ بھی لے جائیگا اور تیرے اپنے گناہ تو تیرے ساتھ ہی ہوں گا۔ گویا میرے گناہ بھی لے جائیگا اور تیرے اپنے گناہ تو تیرے ساتھ ہی ہوں گے۔ فرماتے ہیں اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مقتول سے تمام گناہ قاتل کے سر پر ڈال دیے جائیں گے۔ قاتل کا انجام فرما یا جب تو ایک قتل ناحق کا ارتکاب کر ہی بیٹھے گا فتکون من اصحب النار پس تو جہنمیوں میں سے ہوجائے گا۔ یعنی تیرے لیے دوزخ واجب کردی جائیگی۔ قتل چند اکبر الکبائر یعنی بڑے گناہوں میں سے ایک ہے۔ دوسرے مقام پر فرمایا ومن یقتل مئو منا متعمد فجزا ئو ہ جھنم خلدا فیھا “ (النسآء) جو کسی مومن کو عمدہ قتل کریگا۔ تو اس کی سزا دائمی جہنم ہے۔ اگر قتل کریگا۔ تو اس کی سزا دائمی جہنم ہے۔ اگر قتل کو حلال سمجھ کر کیا ہے۔ تو قاتل کا فر اور مرتد سمجھا جائے گا اور ہمیشہ دوزخ میں جلتا رہے گا۔ اور اگر حلال نہیں سمجھتا مگر قتل کا مرتکب ہوا ہے تو لمبے عرصے تک سزا پانے کے بعد ایمان کی بدولت رہائی حاصل کرے گا۔ فرمایا وذلک جزآء الظلمین ظلم کرنے والوں کی یہی جزا ہوا کرتی ہے۔ کہ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ بہرحال جب قابیل نے ہابیل کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ‘ تو ہابیل نے اسے ہر چند سمجھانے کی کوشش کی کہ ایسا کرنے سے تو قانون خداوندی کو توڑے گا جس کی بدولت تو خدا تعالیٰ کی ابدی گرفت میں مبتلا ہوگا۔
Ayahs 5:30–31

فَطَوَّعَتْ لَهٗ نَفْسُهٗ قَتْلَ اَخِیْهِ فَقَتَلَهٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ Open ayah 5:30 in the Quran reader

پس آمادہ کیا اس کو اس کے نفس نے اپنے بھائی کے قتل پر ‘ پھر اس نے اس کو قتل کرڈالا ‘ پس ہوگیا وہ نقصان اٹھانے والوں میں

فَبَعَثَ اللّٰهُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الْاَرْضِ لِیُرِیَهٗ كَیْفَ یُوَارِیْ سَوْءَةَ اَخِیْهِ١ؕ قَالَ یٰوَیْلَتٰۤى اَعَجَزْتُ اَنْ اَكُوْنَ مِثْلَ هٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْءَةَ اَخِیْ١ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیْنَ٤ۚۛۙ Open ayah 5:31 in the Quran reader

پھر بھیجا اللہ نے کوے کو ‘ وہ زمین کو کر یدتا تھا تاکہ دکھائے اس کو کہ کس طرح چھپائے وہ اپنے بھائی کی لاش کو۔ وہ کہنے لگا۔ ہائے افسوس ! کیا میں عاجز ہوگیا ہوں اس بات سے کہ میں ہو جائوں اس کوئے جیسا کہ میں اپنے بھائی کی لاش کو چھپا لوں۔ پھر ہوگیا وہ پچھتانے والوں میں

ربط آیات آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کے درمیان تنازعہ کا ابتدائی حصہ گزشتہ درس میں بیان ہوا تھا۔ دونوں نے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں اپنی اپنی قربانی پیش کی ۔ ہابیل کی قربانی قبول ہوگی جب کہ قابیل کی نہ ہوئی۔ اس نے غصے میں آکر اپنے بھائی کو قتل کی دہمکی دی مگر ہابیل نے کہا کہ اس میں میرا کیا قصور ہے۔ اللہ کے ہاں قربانی کی قبولیت کا معیار یہ ہے کہ وہ متقیوں سے قبول کرتا ہے۔ اگر تم بھی تقوے کی صفت متصف ہوتے تو اللہ تعالیٰ تمہاری قربانی بھی قبول فرما لیتا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھا ئیگا۔ تو میں تیرے قتل کے لیے اپنا ہاتھ نہیں اٹھائوں گا ‘ کیونکہ میں اس اللہ سے ڈرتا ہوں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ اور اگر تم نے مجھے قتل کر ہی دیا۔ تو پھر تمہیں میرے قتل کا گناہ اور خود اپنے گناہ بھی اٹھانا ہوں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تم جہنمی بن جائو گے۔ بھائی کا قتل باوجود اس کے کہ ہابیل نے بڑی مئوثر بات کی مگر قابیل اپنے ارادے سے باز نہ آیا۔ اللہ جل شانہ نے اس کیفیت کو یوں بیان فرمایا ہے فطوعت لہ نفسہ قتل اخیہ اس کے نفس نے اسے بھائی کے قتل پر آمادہ کردیا۔ طوعت کے کئی ایک معنی آتے ہیں جیسے آمادہ کردینا ‘ آسان کردینا ‘ مزین کردینا ‘ ہموار کردینا وغیرہ۔ بہر حال قابیل کے نفس نے اسے اس بات پر آمادہ کرلیا کہ وہ ہابیل کو اپنے راستے سے ہٹا دے ‘ فقتلہ پھر اس نے اس کو قتل کردیا۔ نفس کی آمادگی کے متعلق خود قرآن میں موجود ہے۔ ” ان النفس لامارۃ بالسوء “ نفس کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ انسان کو برائی پر آمادہ کرتا ہے۔ کوئی بھی گناہ کرتے وقت ابتدا میں جھجک محسوس ہوتی ہے پھر آہستہ آہستہ انسان کا نفس اور شیطان اس کو برائی پر آمادہ کرلیتا ہے پھر جب وہ ایک دفعہ گناہ میں ملوث ہوجاتا ہے۔ تو اس کے لیے راہ ہموار ہوجاتی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔ واعظ اللہ فی قلب کل مئومن ہر مومن کے دل میں خدا کی جانب سے ایک واعظ ہوتا ہے۔ اور اس سے مراد انسان کا ضمیر ہے جو بیدار ہوتا ہے اور ہر برائی پر اسے خبردار کرتا ہے۔ انسان جب اس نصیحت کو نظر انداز کرکے پہلی مرتبہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔ تو اس کے دل پر سیاہ داغ لگ جاتا ہے۔ پھر بھی اس کے لیے موقع ہوتا ہے کہ توبہ کرلے اور آئندہ اس سے باز آجائے۔ اگر ایسا کرلے تو سیا ہ دہبہ صاف ہوجاتا ہے اور اگر گناہ پر اصرار کرتا ہے تو دل کی سیاہی بڑھتی جاتی ہے حتی کہ سارا دل سیاہ ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ” کلا بل سکتہ ران علی قلوبھم ماکانوا یکسبون “ لوگو ! سن لو ‘ ان لوگوں کی برائیوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر زنگ چڑھ گیا ہے اور ان کے دل سیاہ ہوچکے ہیں۔ بہرحال فرمایا کہ قابیل کے نفس نے اسے اپنے بھائی کے قتل پر آمادہ کرلیا اور اس نے اسے قتل کردیا۔ دوہر نقصان طریقہ قتل کے متعلق تفسیر ی روایات میں آتا ہے کہ ہا بیل کہیں سو رہا تھا۔ قابیل کو موقع مل گیا اور اس نے اوپر سے پتھر مار کر بھائی کا سر کچل دیا۔ قتل کی جو بھی صورت ہو ‘ اللہ نے فرمایا کہ اس فعل کے ارتکاب کے بعد فاصبح من الخسرین وہ نقصان اٹھانے والوں میں ہوگیا قاتل کو ظاہری نقصان تو یہ ہوا کہ اس کے ماں باپ سخت ناراض ہوگئے۔ گویا بھائی سے محرومی اور والدین کی ناراضگی بذات خود بہت بڑا نقصان ہے۔ عرب لوگ کہا کرتے ہیں ” المرء کثیر باخیہ بھائیوں کی وجہ سے آدمیوں کی اکثریت ہوتی ہے۔ فارسی کا مقولہ بھی ہے ” ہر کہ برادر ندارو قوت بازو ندار و “ جس کا بھائی نہیں ہے ‘ اس کے پاس قوت بازو نہیں ہے۔ بھائیوں کی تائید انسان کی طاقت کا ذریعہ ہوتا ہے مصیبت کے قوت بھائیوں کے تعاون کی ضرورت پڑتی ہے۔ تو بھائی کو قتل کر کے دوسرا بھائی قوت بازو سے محروم ہوگیا۔ یہ بہت بڑا نقصان ہے فارسی والے کہتے ہیں “ ہر کہ وہ درندار و شفقت ندارو ‘ جس کی ماں نہیں ہے وہ شفقت سے محروم ہے۔ اور ہر کہ زن ندارو آسائش تن ندارو “ جس کی بیوی نہیں ہے اسے جسم کا آرام میسر نہیں ہے۔ اللہ نے بھی فرمایا کہ تمہارے لیے بیویاں پیدا کی ہیں لتسکنوا الیھا “ تاکہ تمہیں راحت نصیب ہو ۔ اسی طرح ایک بھائی کے لیے دوسرا بھائی بھی بہت بڑی نعمت ہے۔ خاص طور پر نیک اور متقی بھائی سے محرومی نقصان عظیم ہے۔ اس دنیوی اور فوری نقصان کے علاوہ آخرت کا شدید ترین اور دائمی نقصان بھی پیش آنے والا ہے ‘ بھائی کا قتل انتہائی ظلم اور قطع رحمی کی بدترین مثال ہے۔ دنیا میں خونریزی کی ابتداء اسی قتل سے ہوئی اس سے پہلے کوئی خون نہیں بہا تھا۔ اس اولین قتل کا اثر نہ صرف والدین اور بھائی پر ہوا بلکہ پورے ماحول پر ہوا۔ مفسرین فرماتے ہیں کہ قاتل کا بدن سیاہ ہوگیا ‘ خارجی دنیا میں پھل کڑوے ہوگئے ‘ درختوں کے ساتھ کانٹے لگ گئے اور اسی طرح کئی دیگر ناگوار تغیرات پیش آئے۔ یہ سب تفسیری روایات میں آتا ہے۔ اخروی نقصانات میں سے ایک عظیم ترین نقصان یہ ہے۔ کہ اس قتل ناحق کا وبال قاتل پر ہمیشہ کے لیے قائم ہوگیا۔ اب قیامت تک جتنے بھی قتل ناحق ہوتے رہیں گے ان کا گناہ متعلقہ قاتل کے علاوہ اولین قاتل قابیل کے نامہ اعمال میں بھی درج ہوتا رہے گا کیونکہ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے لانہ اول من من القتل اس لیے کہ قابیل نے دنیا پر پہلا قتل کر کے اس جرم کو رائج کیا۔ اب ہر ایسے فعل کی برائی اس کو بھی ملتی رہے گی۔ اسی طرح جو شخص کسی نیکی کا دستور قائم کرے گا۔ اس پر عمل کرنے والے ہر شخص کے علاوہ اس کا ثواب اس کے اولین جاری کنندہ کو بھی پہنچتا رہے گا۔ غرضیکہ اس لحاظ سے بھی قابیل کے لیے یہ بہت بڑا نقصان ہے کہ دنیا کے ہر قتل میں سے اس کو حصہ ملتا رہے گا۔ تدفین میت چونکہ اس سے پہلے کسی انسان کی موت واقع نہیں ہوئی تھی۔ اس لیے قابیل کی سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی تھی کہ بھائی کے بےجان لاش کو کیسے ٹھکانے لگائے۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ وہ لاش کو کندھے پر اٹھائے پھرتا رہا اور جب وہ گلنے سڑنے لگی تو دماغ چکرانا شروع ہوگیا ‘ اس سے اسے مزید پریشانی لاحق ہوگئی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے اس کی راہنمائی فرمائی فبعث اللہ غرابا اللہ نے کوے کو بھیجا یبحث فی الارض تو زمین میں کریدتا تھا۔ اس کا ذکر کر بائببل میں بھی موجود ہے مگر وہاں کوے کی بجائے جنگلی فاختہ کے الفاظ ہیں۔ بائیبل تو تحریف سے پاک نہیں رہی اور یہاں اللہ تعالیٰ نے صراحتا کوے کا ذکر فرمایا ہے۔ لہٰذا یہی بات درست ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کام کوئے سے لیا۔ کوے کے ذریعے راہنمائی کے متعلق مفسرین نے کئی واقعات لکھے ہیں۔ مثلاً یہ کہ دو کوئے آپس میں لڑپڑے ‘ پھر ایک نے دوسرے کے پر وغیرہ نوچ ڈالے حتی کہ اسے مارڈالا۔ اس کے بعد زمین کو کرید کر گڑھا بنایا اور مردہ کوے کو اس میں دفن کردیا۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں۔ کہ کسی مردہ جانور کے دفن کرنے کا واقعہ پیش نہیں آیا تھا بلکہ کوئی بھی ایسی چیز جسے فوری استعمال کرنا مطلوب نہ ہو اسے آئندہ استعمال کے لیے زمین میں دبا دیا جاتا ہے تو ایسا ہی کوئی واقعہ قابیل کے سامنے پیش آیا تھا۔ اس سلسلہ میں اللہ کی طرف سے کوئے کا انتخاب بڑا معنی خیز ہے کرے کی فطرت میں یہ چیز پائی جاتی ہے کہ وہ اپنے ہم جنس کی لاش پر بڑا شور مچاتے ہیں اور سب کوے اکٹھے ہوجاتے ہیں۔ پھر جب تک وہ لاش کسی ٹھکانے نہ لگ جائے کو وں کی بےچینی اور شوروغل جاری رہتا ہے۔ چناچہ ہابیل کی لاش کی تدفین کے لیے بھی اللہ نے کوئے سے کام لیا اس نے اپنی چونچ اور پنجوں سے زمین کو کریدا اور مردہ کوے یا کسی دوسری چیز کو اس گڑھے میں دفن کیا۔ مقصد یہ تھا لیر یہ کیف یواری سوء ۃ اخیہ کہ قابیل کو دکھادیا جائے کہ وہ اپنے بھائی کی لاش کو کیسے چھپائے۔ سوء ۃ لاش پر بھی بولاجاتا ہے اور اعضائے مستورہ پر بھی ‘ اور اس کا اطلاق مطلق جسم پر بھی ہوتا ہے ۔ بہر حال اس پہلی میت کے تدفین کا طریقہ اللہ نے ایک کوے کے ذریعے سمجھا دیا۔ میت کی تدفین ایک فطری عمل ہے ‘ اس سے جسم انسانی کی حفاظت بھی ہوجاتی ہے اور اس کی توہین و تذلیل بھی نہیں ہوتی ‘ اس کے علاوہ میت کو ٹھکانے لگانے کے سارے طریقے غیر فطری ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے زمین کا یہ بھی ایک خاصہ بیان فرمایا ہے الم نجعل الارض کفاتا احیآء وامواتا ( مرسلات) یہ زمین زندوں کو بھی اپنے اوپر تھامتی ہے اور مردوں کو بھی سمیٹ لیتی ہے۔ سورة عبس میں فرمایا کہ ہم نے انسان کو نطفہ سے پیدا کیا۔ پھر اس نے زندگی کی تمام منازل طے کیں ثم اماتہ فاقبرۃ “ پھر ہم نے اسے موت دی اور اسے قبر کے سپرد کردیا۔ گویا مردے کو قبر میں دفن کرنا ایک فطری عمل ہے ہندو اپنے مردوں کو جلا ڈالتے ہیں ۔ جو کہ اشرف المخلوقات کی سخت توہین ہے مجوسی لاش کو اونچی جگہ پر کھلے عام رکھ دیتے ہیں ۔ چپلیں آکر اس کا گوشت نوچ لیتی ہیں۔ اس کی ہڈیاں نیچے گر پڑتی ہیں جنہیں بعد میں ٹھکانے لگادیا جاتا ہے۔ یہ سب غیر فطری طریقے ہیں۔ انسان کی عزت و احترام کا تقاضا یہی ہے کہ اس کے مردہ کو ادب و احترام کے ساتھ زمین میں دفن کردیا جائے۔ اظہار تاسف بہر حال جب قابیل نے ایک کوئے کو دیکھا کہ اس نے زمین کرید کر مردہ کوے کو دفن کیا ہے تو اپنے آپ پر افسوس کرنے لگا قال یویلتی اعجزت ہائے افسوس کیا میں اتنا عاجز آگیا ہوں ان اکون مثل ھذا الغراب کہ میں اس کوے جیسا بن جائوں۔ مطلب یہ تھا کہ افسوس میں ایک کوئے جتنی عقل بھی نہیں رکھتا۔ ایک پرندے نے تو لاش کو دفن کردیا مگر مجھ سے اتنا بھی نہ ہوسکا۔ یہ قابیل کی طرف سے اظہار تاسف کے الفاظ تھے۔ اپنی کم عقلی اور کمزوری کو ظاہر کرنے کے بعد اس نے کوے سے سبق سیکھا فاواری سوء ۃ اخی مجھ سے تو اتنا بھی نہ ہوا کہ میں اپنے بھائی کی میت کو چھپا دیتا یعنی زمین میں دفن کردیتا۔ قانون ایفائے عہد اس سورة مبارکہ کی ابتداء میں اہل ایمان کو خطاب کر کے فرمایا گیا ہے ۔ ” اوفو ا بالعقود “ یعنی اپنے عہد و پیمان کو پورا کرو اور نقض عہد کا ارتکاب مت کرو۔ اگر عہد کو پورا کرو گے تو تمہیں ترقی نصیب ہوگی اور عہد شکنی کے مرتکب ہوگئے تو برے نتائج سامنے آئیں گے۔ یہودی عہد شکنی کی وجہ سے ہی سنگدل اور طعون ٹھہرے اور نصاریٰ باہمی جنگ و جدل میں مبتلا ہوئے اہل ایمان کو سمجھایا گیا ہے۔ کہ اگر تم بھی اہل کتاب کی روش پر چلو گے تو یہ بیماریاں تمہارے اندر بھی پیدا ہوجائیں گی ‘ انسان قانون کا مکلف ہے اور اس کی پابندی میں ہی اس کا عروج ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں ملکیت اور بہیمیت کی باہمی کش مکش رکھ دی ہے۔ اب یہ اس کی فطرت کا تقاضا ہے ۔ وہ صفت ملکیت کو غالب لاکر قانون خداوندی کی پابندی کرے۔ اگر اس کی خلاف ورزی کرے گا تو انسانیت کے دائرہ سے نکل کر بہیمیت والوں کے گروہ میں شامل ہوجائے گا ‘ بلکہ ان سے بھی کم تر درجے میں چلا جائیگا۔ اللہ نے فرمایا ہے ” ثم رددنہ اسفل سفلین “ جب وہ قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو درندوں ‘ پرندوں اور کیڑے مکوڑوں سے بھی ذلیل تر ہوجاتا ہے۔ اور قابیل کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ اس نے قانون خداوندی کے خلاف کیا تو اللہ نے اسے دکھا دیا کہ وہ کوے جیسے جانور سے بھی ذلیل ہوگیا ہے۔ احساس ندامت بہرحال قابیل نے اللہ تعالیٰ کے قانون کو توڑا ‘ بھائی کو قتل کیا ‘ پھر لاش کو ٹھکانے لگانے سے بھی عاجزرہا ‘ ان سب باتوں کا نتیجہ یہ نکلا فاصبح من الندمین وہ ندامت اٹھانے والوں یعنی پچھتا نے والوں میں ہوگیا۔ اسے اپنی عاجزی اور بےعقلی پر افسوس ہوا جس کی وجہ سے اسے احساس ندامت ہوا۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے التوبۃ الندم یعنی توبہ ندامت ہی کا نام ہے۔ جب کوئی شخص غلط کا م کر بیٹھتا ہے ۔ پھر اسے ندامت ہوتی ہے اور وہ اس کام سے باز آجاتا ہے۔ وہ آئندہ کے لیے بھی عزم کرتا ہے کہ ایسے کام کا اعادہ نہیں کریگا ‘ تو یہی توبہ ہے۔ مگر قابیل کا معاملہ مختلف ہے۔ وہ اپنی بےعقلی پر اظہار ندامت کررہا تھا۔ کہ اسے ایک کوئے جیسی عقل بھی حاصل نہیں ‘ مگر وہ اپنے فعل قتل پر نادم نہیں ہوا اور نہ اس نے توبہ کی ‘ لہذا وقتی طور پر تو اس کی پریشانی دور ہوگئی۔ مگر جرم قتل عمد میں ہمیشہ کے لیے عذاب کا مستحق بن گیا۔
Ayah 5:32

مِنْ اَجْلِ ذٰلِكَ١ؔۛۚ كَتَبْنَا عَلٰى بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اَنَّهٗ مَنْ قَتَلَ نَفْسًۢا بِغَیْرِ نَفْسٍ اَوْ فَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَكَاَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ مَنْ اَحْیَاهَا فَكَاَنَّمَاۤ اَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعًا١ؕ وَ لَقَدْ جَآءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَیِّنٰتِ١٘ ثُمَّ اِنَّ كَثِیْرًا مِّنْهُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ فِی الْاَرْضِ لَمُسْرِفُوْنَ Open ayah 5:32 in the Quran reader

اس وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل پر لکھدیا کہ بیشک شان یہ ہے کہ جس نے قتل کیا کسی نفس کو بغیر کسی جان کے بدلے کے یا بغیر زمین میں فساد کرنے کے تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کردیا۔ اور جس نے زندہ رکھا اس ایک جان کو ‘ پس گویا کہ اس نے زندہ رکھا سب لوگوں کو ۔ اور البتہ تحقیق آئے ہیں ان لوگوں کے پاس ہمارے رسول واضح باتیں کر ‘ پھر بہت سے ان میں سے اس کے بعد زمین میں البتہ اسراف کرنے والے ہیں

ربط آیات گذشتہ دروس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کے دو بیٹوں کا تذکرہ فرمایا تھا۔ ان میں سے ایک نے دوسرے کو تعدی اور ظلم کے ساتھ قتل کردیا چونکہ اس سے پہلے روئے زمین پر کوئی موت واقع نہیں ہوئی تھی ‘ اس لیے قاتل اپنے بھائی کی لاش کو ٹھکانے لگانے سے متعلق پریشان ہوگیا۔ اس عظیم گناہ کی وجہ سے اس کی عقل اس حد تک جواب دے چکی تھی کہ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اس لاش کو کیا کرے آخر کار اللہ تعالیٰ نے ایک کوے کو بھیج کر مردہ کو دفن کر نیکی تدبیر بتلائی۔ قاتل بھائی اس فعل پر نادم ضرور ہوا مگر یہ ندامت توبہ کی ندامت نہ تھی بلکہ یہ اس کی کمزوری اور کم عقلی کی بنا پر تھی کہ وہ ایک پرندے جتنا شعور بھی نہ رکھتا تھا۔ کوے نے تو مردہ کوے کو زمین میں دفن کردیا مگر وہ اتنا بھی نہ کرسکا۔ اب آج کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسانی جان کے احترام کا ذکر فرمایا ہے اور اس ضمن میں روئے سخن بنی اسرائیل کی طرف ہی ہے کیونکہ پہلے سے انہی کا ذکر آرہا ہے۔ بنی اسرائیل جہاد کے معاملے میں نہایت بزدل واقع ہوئے تھے۔ گذشتہ رکوع میں بیان ہوچکا ہے۔ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی انتہائی تلقین و ترغیب کے باوجود یہ قوم جہاد کے لیے آمادہ نہ ہوئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ چالیس سال تک ارض مقدس سے محروم رہے۔۔ پھر نئی نسل نے قربانی پیش کی دشمن قوم سے جہاد کیا تو اللہ نے انہیں وہ نعمت عطا کردی۔ بنی اسرائیل ایک طرف تو جنگ کے معاملہ میں اس قدر بزدل تھے ‘ مگر دوسری طرف قتل ناحق میں بڑے تیز تھے۔ انہوں نے بہت سے بےگناہ لوگوں کو قتل کیا ‘ جیسا کہ گذشتہ سورتوں میں گزر چکا ہے اللہ کے نیک بندے بھی ان کے ظلم سے محفوظ نہ رہ سکے۔ سورة بقرہ شاہد ہے ” ویقتلون النبین بغیر الحق “ وہ اللہ کے نبیوں کو ناحق قتل کدیتے تھے چونکہ ان کا یہ فعل آدم (علیہ السلام) کے بیٹے کے فعل قتل کے مشابہ تھا ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے قتل ناحق کی قباحت کے متعلق انہی کو بات سمجھائی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے من اجل ذلک اسی وجہ سے۔ دراصل اجل کا معنی ہوتا ہے شر کو کھینچ کر لانا۔ اس کو مطلق علت کے معنوں میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ چونکہ آدم (علیہ السلام) کے بیٹے نے ناحق قتل کرکے ظلم وتعدی کا ثبوت دیا۔ اس علت کی بناء پر یعنی اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انسداد قتل کے لیے بنی اسرائیل پر یہ قانون نازل کیا ہے۔ جیسا کہ گذشتہ دروس میں بیان ہوچکا ہے قتل ناحق بہت قبیح حرکت ہے۔ یہ انسان کے لیے تباہ کن ہے اسی کی پاداش میں ” فتکون من اصحب النار “ انسان جہنمی بنتا ہے۔ قتل ناحق کے و با ل کے متعلق گذشتہ سورة میں بھی گزر چکا ہے۔ ” ومن یقتل مئو منا متعمدا فجزآ ئو ہ جھنم “ جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرے گا اس کے لیے جہنم واجب ہوگئی۔ اس کے علاوہ ” ولعنہ “ کے الفاظ بھی آئے ہیں کہ ایسے شخص پر اللہ کا غضب اور ناراضگی نازل ہوتی ہے۔ غرضیکہ قاتل کی دنیا اور عاقبت دونوں خراب ہوجاتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس قبیح جرم کے انسداد کے لیے یہاں پر قانون بیان فرمایا ہے۔ قصاص کی برکات سورۃ بقرہ میں قصاص کا قانون بیان ہوچکا ہے ” ولکم فی القصاص حیوۃ یا ولی الالباب “ اے عقلمندو ! تمہارے لیے قصاص کے قانون میں زندگی ہے۔ اگر اس قانون کو ٹھیک طور پر جاری کرو گے تو تمہاری زندگیاں محفوظ ہوجائیں گی اور قتل کی وارداتیں رک جائیں گی ‘ بصورت دیگر قتل ہوتے رہیں گے اور تمہاری جانیں ہمیشہ غیر محفوظ رہیں گی۔ ہمارے اپنے ملک میں ابھی تک انگریز کا تعزیراتی قانون نافذ ہے۔ جس کے نتیجے میں دن رات دھڑا دھڑ قتل ہو رہے ہیں اگر اسلام کا قانون قصاص نافذ ہوتا تو قتل کی واردتیں رک جاتیں۔ اس کے برخلاف سعودی عرب میں اسلامی تعزیر ات نافذ ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ پوری دنیا کے مقابلے میں اس خطہ ارضی پر قتل کے کیس نہ ہونے کے برابر ہیں۔ قتل کی واردات شاذو نادر ہی ہوتی ہے اور وہ بھی ایسے لوگوں سے جو غیر ممالک سے آکر سعودیہ میں ملازمت کرتے ہیں۔ عربوں میں تو قتل بہت شاز ہوتا ہے۔ کیونکہ وہاں قصاص کا اسلامی قانون نافذ ہے۔ وہاں پر جرم قتل کا فیصلہ چند دن میں ہوجاتا ہے اور مجرم کی گردن تن سے جدا کردی جاتی ہے۔ قتل جیسے گھنائو نے جر م کے متعلق اللہ نے فرمایا کتبنا علی بنی اسرآء یل ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا۔ انہ بیشک شان یہ ہے۔ من قتل نفسا بغیر نفس جس کسی نے کسی جان کو قتل کیا بغیر جان کے عوض کے ۔ مطلب یہ ہے کہ کسی کو جان کے بدلے میں قصاص کے طور پر قتل نہیں کیا۔ بلکہ جس نے کسی کو ناحق قتل کردیا اس قاتل کو مقتول کے بدلے میں قتل کرنا بالکل جائز ہے۔ کیونکہ قانون خداوندی یہ ہے ” ان النفس بالنفس “ جان کے بدلے میں جان ماری جائیگی۔ ہر عضو کے بدلے میں قصاص ہے یعنی آنکھ کے بدلے آنکھ ‘ کان کے بدلے کان اور دانت کے بدلے دانت حتی کہ والجروح قصاص “ زخموں کا بھی فصاص ہے مقصد یہ ہے کہ اسلام نے مظلوم کی ہر لحاظ سے مدد کی ہے جس طرح کا اسے نقصان پہنچا ہے اتنی قسم کا بدلہ لینے کی اجازت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قانون قصاص قتل کے واقعات کی روک تھام کے لیے ایک مئوثر قانون ہے۔ فرمایا ‘ ہم نے بنی اسرائیل پر لکھ دیا تھا کہ جو کسی شخص کو ناحق قتل کریگا او فساد فی الارض یا کسی ایسے شخص کو قتل کریگا۔ جو زمین میں فساد کا مرتکب نہیں ہوا۔ مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص فساد برپا کرے تو اس کو مار ڈالنا تو ردا ہے مثلاً کفار کے ساتھ جہاد کرنا جائز ہے کیونکہ وہ اہل حق کو حق کے راستے سے روکتے ہیں۔ سورة بقرہ کی ابتدا میں منافقوں کے متعلق آتا ہے “ واذ قیل لھم لا تفسدو فی الارض “ جب ا ن سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو یعنی اسلام کے راستے میں رکاوٹ نہ بنو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم مفسد نہیں ” انما نحن مصلحون “ بلکہ ہم تو مصلح ہیں۔ فساد کیا ہے اخلال بالشرائع یعنی قوانین خداوندی کی خلاف ورزی کرنا۔ ان میں بگاڑ پیدا کرنا۔ چناچہ ایسے لوگ واجب القتل ہوتے ہیں کیونکہ یہ لوگ اللہ کے دین میں فساد پیدا کرتے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف شرارتیں کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ چوری کرنا ‘ ڈاکہ ڈالنا لوگوں کو تنگ کرنا سب فساد ہی کی مختلف صورتیں ہیں اللہ کے راستے سے روکنا جیسے فرمایا ” ویصدون عن سبیل اللہ “ ان سب لوگوں کے خلاف جہاد کرنا اور ان کو مارنا بالکل درست ہے۔ قتل عام بہر حال فرمایا کہ جس نے کسی شخص کو نہ تو جان کے بدلے میں قتل کیا اور زمین میں فساد برپا کر نیکی وجہ سے۔ بلکہ بلاوجہ کسی کی جان لینے کا مرتکب ہو فکانما قتل الناس جمیعا تو اس نے ایک شخص کو قتل نہیں کیا بلکہ یوں سمجھو کہ اس نے تمام لوگوں کو قتل کرڈالا۔ ایک جان کا اتلاف پوری نسل انسانی کے اتلاف کے برابر ہے۔ یہ بات حضور ﷺ نے یوں سمجھائی کہ دنیا میں جب بھی کوئی قتل ناحق ہوتا ہے الا۔۔ ان کفل علی ادم تو ایک حصہ گناہ آدم (علیہ السلام) کے اس بیٹے پر بھی ڈالا جاتا ہے جس نے دنیا میں لسانی قتل کی ابتداء کی تھی لانہ اولی من سن القتل کیونکہ جرم قتل کا وہی موجد ہے۔ کام اچھا ہو یا برا ‘ موجد کو اس کا حصہ ملتا رہتا ہے۔ اگر کسی نے اچھا طریقہ جاری کیا ہے ‘ اپنے نبی کی سنت کا اجرا کیا ہے تو اس کا عمل کرنے والوں کے ساتھ ساتھ ایسے کام کی ابتداء کرنے والے کو بھی برابر اجر ملتا رہیگا۔ اسی طرح اگر کسی نے برے کام کی بنیاد رکھی ہے۔ کسی بدعت کا اجر کیا ہے تو اس برے کام کے ہر عامل کے گناہ کے ساتھ ایک ایک گناہ اس کے جاری کنندہ پر بھی ڈالا جاتا رہے گا۔ الغرض ! یہاں پر فرمایا کہ جس نے ایک آدمی کو قتل کیا ‘ اس نے سب لوگوں کو قتل کیا ‘ کیونکہ ہر قتل کا گناہ اس کے موجد کے نامہ اعمال میں بھی درج ہوتا رہے گا۔ حفاظت جان جس طرح ایک آدمی کا قتل سب آدمیوں کا قتل ہے اسی طرح فرمایا۔ ومن احیا ھا جس نے ایک آدمی کو زندہ رکھا فکانمآ احیا الناس جمیعا اس نے گویا سب آدمیوں کو زندہ رکھا۔ مطلب یہ ہے۔ کہ جس شخص نے شرو و فساد کے خلاف کسی ایک انسانی جان کی حفاظت کی ۔ اس نے گویا تمام نسل انسانی کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا۔ اللہ تعالیٰ کے ہاں انسانی جان کی قدرو قیمت بہت زیادہ ہے اور اس نے ایک جان کی حفاظت کو پوری نوع انسانی کی حفاظت کے برابر قرار دیا ہے۔ ابن ماجہ شریف میں سند حسن کے ساتھ حضور الصلوۃ والسلام کا فرمان ہے لن وال الدنیا اھون علی اللہ من قتل رجل مئومن اللہ تعالیٰ کے نزدیک کسی ایک مومن آدمی کا قتل پوری دنیا کی تباہی سے بھی بڑا ہے۔ بیہقی شریف کی روایت میں یہ بھی آتا ہے ولو ان اھل السموت والارض اشترکوا فی قتل رجل لا دخلھم اللہ النار اگر زمین وآسمان کی ساری مخلوق مشترکہ طور پر کسی قتل میں شریک ہو تو اللہ تعالیٰ سب کو جنم میں ڈال دے گا ‘ ایک انسانی جان کا اتنا بڑا احترام اور اتنی قدروقیمت ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے بیت اللہ شریف کو خطاب کرکے فرمایا مآ اعظمک و اعظم حرمتک واطیبک یعنی اے اللہ کے گھر ! تو کتنا پاک ہے اور تیری حرمت کتنی عظیم ہے مگر میں کہتا ہوں کہ اللہ کے ہاں ایک مومن کی جان کی حرمت تجھ سے بھی زیادہ ہے۔ بہرحال احترام اور حفاظت جان کا یہ قانون بنی اسرائیل کو خطاب کرکے سمجھایا کیونکہ اس معاملہ میں وہ حد سے تجاوز کرچکے تھے۔ قتل کی فراوانی حضور ﷺ نے اہل ایمان کو بھی فرمایا تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب تم بھی یہود و نصاریٰ ک نقش قدم پر چل نکلو گے ‘ جو جو قباحتیں ان میں پائی جاتی تھیں وہ تم میں بھی عود کر آئیں گی۔ اگر وہ قتل ناحق کے عادی بن چکے تھے تو تم بھی ان سے پیچھے نہیں رہو گے۔ چناچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اہل ایمان میں سب سے پہلا قتل ناحق حضرت عثمان ؓ کا ہوا۔ مسلمانوں کے درمیان تلوار چلنے کی ابتداء ہوئی جواب تک جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گی۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا کہ ہمارے ملک میں انگریزی تعزیراتی قانون کی بدولت قتلوں کی بھر مار ہے۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق پاکستان کے ایک ضلع میں ایک سال کے اندر ایک ہزار قتل ہوئے۔ صدر ایوب کے زمانہ میں متعلقہ سیکرٹری نے اسمبلی میں یہ رپورٹ پیش کی تھی کہ غالباً تین سال کے عرصہ میں اس ملک عزیز میں سولہ ہزار قتل ہوئے۔ قتل کی فراوانی کا انداز یہ ہے کہ میں نے خود اخبار میں پڑھا کہ ایک سگریٹ کے تنازعہ میں ایک آدمی نے دوسرے کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ معمولی باتوں پر قتل ناحق کی یہ واردتیں انسانی خون کی ارزانی پر گواہ ہیں حالانکہ اسی چیز کو روکنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسداد قتل کا قانون بنی اسرائیل کو سمجھایا ہے۔ مسرفین کی کثرت فرمایا ولقد جآء تھم رسلنا بالبینت ہمارے رسول بنی اسرائیل کے پاس واضح باتیں لے کر آتے رہے۔ بنیات سے مراد محض معجزات نہیں بلکہ احکام اور دلائل بھی مراد ہیں ‘ گویا ہمارے رسول واضح تعلیم اور اصول لے کر آتے رہے۔ انہوں نے اللہ کے عابد کردہ ہمدو د وقیود ان پر واضح کردیے اس کے باوجود ثم ان کثیر ا منھم بعد ذلک فی الارض لمسرفون “ پھر اس کے بعد ان میں اکثر لوگ زمین میں اسراف کرنے والے ہیں سابقہ انبیائے نے بھی بالو ضاحت حلت و حرمت اور جائز و ناجائز کے قوانین بیان فرمائے اور پھر سب سے آخر میں آنے والے ختم المرسلین ﷺ نے بھی واضح کردیا کہ مامن شیٔ یقربکم الی الجنۃ و یبا عدکم من النار یعنی جنت کے قریب اور دوزخ سے بعید کرنیوالی تمام چیزیں تمہیں بتادی گئی ہیں تاکہ کل کو کوئی یہ نہ کہ سکے کہ ہمیں علم نہیں ہوا۔ اب ان کے پاس کوئی حجت باقی نہیں رہی۔ یہ لوگ اپنی غفلت ‘ جہالت ‘ اور نادانی پر پکڑے جائیں گے۔ قتل ناحق اور دیگر عیوب سے بچنے کی تدابیر بتلادی ہیں ‘ گناہ اور ان کے درجات واضح کردیے ہیں۔ گناہوں سے بچنے کی تدابیر واضح کردی ہیں ‘ سوسائٹی میں امن وامان کے قیام کے اصول سمجھادیے ہیں اور معاشرے کے افراد کی عزت و احترام کا طریقہ بتادیا ہے لہٰذا اب یہ ان کا کام ہے کہ پوری دنیا سے فتنہ و فساد کا قلع قمع کر کے معاشرے کو امن کا گہوارہ بنادیں۔ اسراف کا لفظی معنی حد اعتدال سے آگے بڑھنا ہے معاملہ کھانے پینے کا ہو یا لباس کا مسئلہ سیاسی ہو یا معاشی کسی بھی موقع پر حد سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ اگر ایک روپے کا کھانا کفایت کرسکتا ہے تو دس ورپے خرچ کرنا لازماً اسراف ہوگا۔ حدود شریعت کو توڑ کر حرام چیزوں کی طرف رغبت کرنا اسراف ہی تو ہے۔ اللہ نے فرمایا ” کلوا واشرابو ولا تسرفوا “ مگر حد اعتدال سے آگے نہ بڑھو۔ بےجا خرچ نہ کرو۔ یہاں پر یہی بات سمجھائی گئی ہے۔ کہ ہمارے رسول واضح احکام اور دلائل لے کر آئے ہیں مگر اس کے باوجود لوگوں کی اکثریت اسراف و تبذیر کا شکار ہے انہیں سوا اعتدال سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ اسی سلسلہ میں اب اگلی آیات میں اللہ تعالیٰ نے چوری اور ڈاکے کا قانون بتایا ہے اور مرتکبین کی سزا کا ذکر کیا ہے۔