Ayah 4:1نام اور کوائف
اس سورة مبارکہ کا نام سورة النساء ہے۔ یہ سورة ہجرت کے بعد مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ سورة بقرہ اور آل عمران کی طرح یہ بھی لمبی سورتوں میں شمار ہوتی ہے۔ ترتیب کے لحاظ سے طویل ترین سورة بقرہ ہے ، پھر آل عمران اور اس کے بعد سورة نساء کا نمبر ہے اس کا ایک صد 177 آتیں ، 24 رکوع ، 3940 کلمات اور 16030 حروف ہیں۔
نساء جمع کا صیغہ ہے اور اس کا واحد المراۃ ہے تنثنیہ المراتن ہے یعنی ایک عورت ، دو عورتیں اور نساء یا نسوۃ سب عورتوں کے معنی میں آتا ہے اسی طرح مرد کے لیے بھی المراء المران اور رجال آتا ہے۔ یعنی ایک مرد ، دو مرد اور سب مرد۔
مضامین سورة
جیسا کہ اس سورة مبارکہ کے نام سے ظاہر ہے ، اس میں عورتوں کے متعلق بہت سے احکام ہیں۔ تاہم اس سورة میں اس کے علاوہ بھی بہت سے احکام اور حکمتیں بیان ہوئی ہیں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کا ذکر گزشتہ سورة میں بھی گزر چکا ہے اور اس سورة میں بھی موجود ہے۔ چناچہ عورتوں کے مسائل ان کے حقوق ہی کے ضمن میں آتے ہیں۔ عیسائی اور ہندو عورت کو وراثت کا حق دا ر نہیں مانتے۔ برخلاف اس کے اسلام نے عورت کو وراثت میں حصہ دیا ہے۔ چناچہ اس سورة مبارکہ میں وراثت کے بہت سے احکام بیان ہوئے ہیں۔
سورة بقرہ میں گزر چکا ہے کہ مومن مرد یا عورت کا نکاح مشرک عورت یا مرد کے ساتھ جائز نہیں۔ اب اس سورة میں ان تمام رشتوں کی تفصیل بیان ہوئی ہے ، جن کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ پھر حقوق ہی کے ضمن میں ایک مسلمان کے لیے اس کے اقربا کے حق کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے رشتہ داروں میں والدین ، بہن بھائی ، اولاد کی تفصیل ہے ، پھر یتموں ، مسکینوں مسافروں اور پڑوسیوں کے حقوق ہیں۔ خاص طور پر یتیموں کے حقوق کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔
اس سورة مبارکہ میں معاشرتی احکام بھی تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں عالمی قوانین کا ذکر بھی ہے۔ شاہ ولی اللہ (رح) کی اصطلاح کے مطابق اس سورة میں تدبر منزل کے تمام احکام بیان ہوئے ہیں اور اجتماعی احکام میں احکام سلطانیہ یعنی حکومت اور رعیت سے تعلق رکھنے والے احکام بھی آئے ہیں ، گویا اللہ تعالیٰ نے نظام حکومت کے احکام بھی نازل فرمائے ہیں۔ اجتماعی احکام کے سلسلے میں جہاد کا تذکرہ ہے اور پھر مسلمانوں کے تین حریف گروہوں یعنی یہود ، نصاری اور مشرکین کے ساتھ بحث وتمحیص کا ذکر بھی ہے ، منافقین کی منافقت کی تفصیلات بھی بیان کردی گئی ہیں۔ اور ان سے بچائو کے طریقے بھی بتائے گئے ہیں۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے عبادات کی تفصیلات بھی بیان فرمائی ہیں چناچہ مبادی عبادت سے لے کر تمیم ، جنابت ، غسل ، نماز وغیرہ کے مسائل بیان ہوئے ہیں۔
سورۃ بقرہ میں کلام کا زیادہ تر رخ تقویٰ کے حصول اور یہود کی اصلاح کی طرف تھا۔ پھر سورة آل عمرن
میں اہل ایمان کے لیے ضروری مسائل بیان ہوئے اور روئے سخن زیادہ تر نصاریٰ کی اصلاح کی طرف رہا۔ تاہم ضمناً یہودیوں کی تذکرہ بھی تھا۔ اور اب اس سورة میں اور اگلی سورة مائدہ میں اہل عرب کی اصلاح کا پہلو اجاگر ہے۔ اس سے آگے سورة انعام میں مجوسیوں کی طرف اشارہ موجود ہے اور شرک کی مختلف قباحتوں کا تذکرہ ہے۔
خوف خدا
سورة کی ابتداء اللہ تعالیٰ نے اجتماعی احکام سے کی ہے۔ اور اجتماعی احکام میں اہم ترین حکم تقویٰ ہے ، چناچہ ارشاد ہوتا ہے یایھا الناس اتقوا ربکم الذی خلقکم من نفس واحدۃ اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرو جس نے تمہیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا۔ تقویٰ کے مسائل سورة بقرہ اور سورة آل عمران کے مختلف مقامات پر بیان ہوچکے ہیں۔ تقویٰ اسلام کے اہم ترین اصولوں میں سے ہے اور اس کے ساتھ عدل ، احسان تعظیم شعائر اللہ اور تنظیم شعائر اللہ بھی آتے ہیں۔ اس کا مفصل بیان سابقہ سورة کے آخر میں ہوچکا ہے۔ سورة کا اختتام ہی اس پر ہوتا ہے واتقو اللہ لعلکم تفلحون اے اہل ایمانٖ ! اللہ سے ڈرجائو تاکہ تمہیں فلاح نصیب ہو۔ تقویٰ اختیار کرنے سے تمہارے اندر حقوق کی ادائیگی کا جذبہ پیدا ہوگا۔ اور پھر تم عدل و احسان پر کاربند ہوجائو گے۔ شرعی حدود کی پابندی کرنے لگو گے اور یہ سب کچھ خوف خدا کا ثمرہ ہوگا جس کے متعلق فرمایا کہ اے لوگو ! اپنے پروردگار سے ڈرجائو۔
تخلیق انسانی
فرمایا اس رب نے ڈرجائو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا۔ ایک جان یا نفس سے مراد حضرت آدم (علیہ السلام) ہیں۔ تقریباً چار ہزارزبانیں بولنے والے کالے گورے ، شرعی غربی ، سرخ ، گندمی غرضیکہ اس دنیا میں جتنے بھی انسان موجود ہیں۔ ان سب کی ابتدا حضرت آدم (علیہ السلام) سے ہوئی۔ سورة حجرات میں بھی آتا۔ انا خلقنکم من ذکر وانثی ہم نے تم سب کو ایک مرد اور عورت سے پیدا کیا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کی حکمت اور فلسفے کے مطابق آدم (علیہ السلام) انسان کامل کا مظہر ہیں اور انسان کامل حظیرۃ القدس میں تمام انسانیت کا مجموعہ اور نمونہ ہے۔ اس کو روح اعظم بھی کہا جاتا ہے ، انسان اکبر اور امام نوع انسانی بھی اسی کے نام ہیں۔ انسانی روح اسی انسان کامل کا عکس ہوتی ہے اور اسی کے واسطے سے تمام نوع انسانی کا تعلق اللہ تعالیً کی تجلی و اعظم کے ساتھ ہوتا ہے گویا عرش الٰہی کے نیچے امام نوع انسان موجود ہے جس کانمونہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں آدم (علیہ السلام) کو مقرر فرمایا۔ چناچہ پوری نسل انسانی میں سے سعادت مند وہی شخص ہوگا جو اس نمونہ کے مطابق ہوگا۔ جو شخص اس نمونہ سے جس قدر ہٹ جائے گا اسی قدر وہ شقاوت میں حصے دار بن جائے گا۔
عناصر ارضی
حضرت آدم (علیہ السلام) کی تخلیق کے متعلق حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کو تمام روئے زمین کی مٹی سے پیدا کیا۔ فرشتے کو حکم ہوا کہ روئے زمین کی مٹی کو سمیٹ لو۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ پھر اس سے خمیر بنایا گیا ، اسے گوندھا گیا اور اس سے آدم (علیہ السلام) کا مجسمہ تیار کیا گیا۔ پھر اس میں اللہ نے روح پھونکی جس کی تفصیل قرآن پاک میں موجود ہے۔ جس طرح زمین کے مختلف حصوں کی مٹی مختلف ہے ، کوئی سخت ، کوئی نرم ، کوئی سرخ ، کوئی سفید کوئی ریتلی اور کوئی چکنی اسی طرح نسل انسانی کے افراد کے مزاج بھی مختلف ہیں ، کوئی نرم مزاج ، کوئی سخت مزاج ، کوئی طیب اور کوئی خبیث غرض یہ کہ مٹی کا اثر کسی نہ کسی صورت میں ہر انسان میں ظاہر ہوتا ہے۔
حضرت حوا کی پیدائش
فرمایا وخلق منھا زوجھا اور اس سے اس کا جوڑا پیدا کیا۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کا جوڑا حضرت حوا ؓ کو ان کی پسلی سے پیدا کیا۔ آدم (علیہ السلام) کی ایک پسلی کو ان سے الگ کیا گیا جس کی کیفیت اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کی ایک پسلی کم ہوگئی یا ویسی کی ویسی ہی رہی پسلی کا بالکل علیحدہ ہوجانا بھی ضروری نہیں کیونکہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے زمین کی مٹی لے کر آدم (علیہ السلام) کا پتلا بنایا اور زمین میں کوئی چیز کم نہیں ہوئی ، اسی طرح ہوسکتا ہے کہ حضرت حوا ؓ کو آدم (علیہ السلام) کی پسلی سے نکالنے کے باوجود اس پسلی میں کوئی کمی واقع نہ ہوئی ہو۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے ایک ہی جان یعنی آدم (علیہ السلام) سے ان کا جوڑا یعنی صنعف نازک کو تیار کرکے ان میں خاوند بیوی کا رشتہ قائم کردیا۔
حضور ﷺ نے فرمایا کہ انسان کی پسلیاں ٹیڑھی ہوتی ہیں۔ اور خصوصاً بالائی حصے کی پسلیاں زیادہ ٹیڑھی ہوتی ہیں۔ چونکہ حضرت حوا ؓ پسلی سے نکالی گئیں اس لیے ہر عورت میں ایک قسم کی فطری کمی پائی جاتی ہے۔ آپ نے فرمایا اس ٹیڑھا پن کو ذہن میں رکھتے ہوئے عورت کے ساتھ نباہ کرو۔ تمہارے لیے بہتر یہی ہے کہ عورت کے اس ٹیڑھا پن کو کسی حد تک برداشت کرو فرمایا کسی ھاطلا قھا اگر تم اس کے ٹیڑھا پن کو سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو وہ ٹوٹ جائے گی یعنی تم سے طلاق دے کر علیحدہ کردو گے ، لہٰذا اس کی کجی کو برداشت کرتے ہوئے اس سے نباہ کرو۔
نسل
فرمایا اس رب سے ڈرتے رہو ، جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا کیا پھر اسی سے اسی کا جوڑا پیدا کیا وبث منھا رجالا کیثرا ونساء اور ان دونوں سے بہت سے مردوں اور عورتوں کو پھیلادیا۔ آج دنیا کی آبادی کم وبیش پانچ ارب ہے مگر ان کی پوری پوری اقدار سوائے اللہ کے کوئی نہیں جانتا۔ اور ان میں سے کتنے مرد اور کتنی عورتیں ہیں ، یہ بھی رب ذوالجلال ہی جانتا ہے اور پھر آگے قیامت تک مزید کتنی تعداد میں پیدا ہونے والے ہیں ، صرف اللہ ہی کے علم میں ہے ، وہ اخلاق عظیم ہے۔
چونکہ پوری بنی نوعی انسان ایک ہی باپ اور ایک ہی ماں کی اولاد ہیں لہٰذا ایک دوسرے کے حقوق کی پہچان بھی ضروری ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ڈرتے رہنے کی تلقین کی۔ تخلیق کا مسئلہ بیان کیا تاکہ باہمی حقوق کا مسئلہ سمج میں آجائے۔ سب سے پہلے اللہ کا حق ہے ہم سب کے سب اللہ ہی کی طرف محتاج ہیں کیونکہ خلاق عظیم وہ ہے۔ اس کے بعد چونکہ ہماری سب کی تخلیق ایک جوڑے سے ہوئی ہے اس لیے ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری ضروری ہے۔ قریبی عزیزوں کے حقوق کو اولیت حاصل ہوگی اور پھر درجہ بدرجہ تمام بنی نوع انسان کا حق ہے۔ حضرت علی ؓ سے مروی ہے الناس من جھت التمثال اکفاء ابوھم اٰدم ولاحوائ۔ یعنی ہم کفو ہونے کی وجہ سے تمام انسان ایک جیسے ہیں۔ سب آدم اور حوا کی اولاد ہیں اور آدم ہی سب کا ملجا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس ایک ذات سے تمام مردوں اور عورتوں کو پھیلایا ہے۔
صلہ رحمی
فرمایا واتقوا اللہ الذی تشاء لون بہ والارحام اور اس اللہ سے ڈرتے رہو کہ جس کے واسطے سے تم سوال کرتے ہو نیز ارحام یعنی رشتوں اور قرابتوں سے ڈرتے رہو۔ رشتہ داری کا پاس نہایت ضروری ہے۔ بخاری شریف کی روایت 1 ؎ میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا الرحم شجنۃ من الرحمن قرابت داری رحمان کی رحمت کی ایک شاخ ہے۔ رشتے نے پیدا ہونے پر رحمان کا پہلو پکڑلیا اور عرض کیا اے پروردگار یہ تیری پناہ پکڑنے والا مقام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا من وصلک وصلتہ جو تجھے توڑے گا میں اسے توڑوں گا۔
فرمایا مسئلہ انفرادی ہو یا اجتماعی احکام کا ہو ، عبادت یا معاشرت کا معاملہ ہو ، ہر صورت میں ان اللہ کان علیکم رقیباً بیشک اللہ تعالیٰ تمہارا نگران ہے۔ وہ ہر چیز کو دیکھ رہا ہے کوئی اچھا کام کرو یا برا اس کی نگرانی ہر حالت میں قائم ہے۔ لہٰذا محتاط رہو۔ حقوق کو ادا کرتے رہو۔ تقویٰ اختیار اور برائی سے بچتے رہو تاکہ آخرت کی ندامت سے بچ جائو۔
Ayah 4:2ربط آیات
گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا کہ اس اللہ سے ڈر جائو جس کے واسطے سے تم سوال کرتے ہو۔ اس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا ، پھر جوڑے جوڑے بناکر لاتعداد مردوں اور عوتوں کو پھیلادیا۔ نیز یہ بھی تاکید فرمائی کہ قرابت داروں کے حقوق سے متعلق ڈر جائو۔ انسانی حقوق کی ادائیگی میں رشتہ داروں کے حقوق کو اولیت حاصل ہے۔ نہیں لازم طور پر ادا کرو غرض یہ کہ اجتماعی حقوق کے سلسلے میں اللہ نے تقویٰ کو سب سے پہلے بیان فرمایا۔
یتموں کے حقوق
اب حقوق کی تفصیل بیان ہورہی ہے اور حقوق کے سلسلے میں یتیموں کے حقوق کو مقدم رکھا گیا ہے۔ چناچہ اگلی 10 آیتوں تک یتامی کے حقوق کی بات آرہی ہے۔ یتیم چونکہ بےبس اور کمزور ہوتے ہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے انہی کا تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ واتوالیتمی اموالھم یتیموں کو ان کے مال دے دو ۔ یتامیٰ یتیم کی جمع ہے۔ اور اس کا معنی ہے الگ ہونے والا صاحب روح المعانی فرماتے ہیں کہ عربی محاورہ ہے ، اصطلاح اور زبان کے مطابق جس کا باپ مرجائے وہ سن بلوغت تک یتیم کہلاتا ہے جب لڑکا ، لڑکی بالغ ہوجائیں تو وہ یتیم کی فہرست سے نکل جاتے ہیں۔ بالغ ہونے پر وہ مکلف یا ذمہ دار ہوجاتے ہیں اور ان پر قانون کی پابندی لازم آجاتی ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے لایتم بعد احتلام یعنی احتلام وارد ہونے کے بعد ، یتیمی وارد نہیں رہتی۔ لایتم بعد بلوغ یہ بھی فرمایا کہ بالغ ہونے پر یتیمی زائل ہوجاتی ہے بہرحال یتیم وہ ہے جس کا باپ اس کی کم سنی میں فوت ہوجائے۔ البتہ دیگر انواع یعنی حیوانات ، پرندوں وغیرہ میں یتیم بچہ وہ سمجھا جاتا ہے جس کی ماں اس کی کم سنی میں فوت ہوجائے۔ عام اصول یہی ہے۔
البتہ جو شخص بالغ ہوجائے وہ بلوغت کے ابتدائی زمانے میں بھی یتیم ہی کہلاتا ہے۔ جیسا کہ اس آیت میں مذکور ہے واتو الیتمی یتیموں کو دے دو ۔ اس سے مراد وہ ییم ہے جو نئے نئے سن بلوغت کو پہنچے ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ جب یتیم سن بلوغت کو پہنچ جائیں تو ان کے مال ان کے حوالے کردو۔ اب وہ سمجھ دار ہوگئے ہیں۔ اچھے برے میں تمیز کرسکتے ہیں۔ لہٰذا ان کے حقوق ان کو لوٹادو۔ اس سورة کی چھٹی آیت میں بھی اسی طرح آتا ہے۔ حتی اذا بلغوا النکاح یعنی جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں ، بالغ ہوجائیں تو ان کے مال ان کو لوٹادو۔
جیسا کہ گزشتہ دور میں بیان ہوچکا ہے نزول قرآن کے زمانے میں عورتوں کے ساتھ بڑی زیادتی ہوتی تھی۔ ان کی حق تلفی ہوتی تھی اسلام نے ان لوگوں کو سمجھایا کہ قانون کی نگاہ میں مردوزن یکساں ہیں البتہ مردوں کو ایک درجہ عورتوں پر فوقیت حاصل ہے مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ مرد عوتوں کو ذلیل سمجھنے لگیں۔ ان کے حقوق ضائع کریں یا ان پر کسی قسم کی زیادتی کریں۔ عرب لوگ عورتوں کی طرح یتیموں کے ساتھ بھی بڑی زیادتی کرتے تھے۔ یتیم کو وراثت کا جائز حصہ نہیں دیتے تھے۔ بلکہ ان کا حصہ ان کے متولی کھا جاتے تھے۔ یتیموں کے سرپرست عام طور پر بھائی چچا ، یا تایا وغیرہ ہوتے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں یہ لوگ یتیموں کا مال ہڑپ کرجاتے تھے اور وہ بےچارے دردر کی ٹھوکریں کھانے کے لیے رہ جاتے تھے۔
ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور کے صحافی سعد ؓ جنگ احد میں شریک ہو کر شہید ہوئے اس کی بچیاں یتیم رہ گئی ہیں۔ مگر مرحوم کے مال پر اس کے بھائی نے قبضہ کرلیا ہے۔ اب ان بچیوں کی گزراوقات اور ان کے نکاح کا بندوبست کیسے ہوگا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورة ہذا کی آیت یوصیکم اللہ فی اولادکم… نازل فرمائی۔
چنانچہ یتیموں کی حق رسی کے متعلق سورة بقرہ ، سورة ہذا اور دیگر بہت سے مقامات پر سخت تاکید آئی ہے ، یہاں پر بھی آپ دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ نے یتیموں کی حفاظت ، نگرانی ، تربیت اور ان کے مال کی حفاظت کے متعلق بڑی سخت تاکید کی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے انا وکافل الیتیم کھاتین یعنی میں اور یتیم کی پرورش کرنے والا قیامت کے دن اس طرح ہوں گے جس طرح انگشت شہادت اور درمیانی انگلی قریب قریب ہیں۔ ایک عورت نے عرض کیا ! حضور ! میرا خاوند فوت ہوگیا ہے میں اس کی تین یتیم بچیوں کی پرورش کررہی ہوں۔ آپ نے فرمایا لقد حظرت بحظار شدید دون النار تو نے دوزخ کی آگ کے سامنے بڑی سخت بڑھ لگادی ہے ، وہ باڑھ تجھے جہنم میں جانے تے روک دے گی۔
بہرحال یتیموں کی پرورش شخصی فرض بھی ہے اور اجتماعی بھی۔ معاشرے کے کمزور طبقات اسی مد میں آتے ہیں۔ غریبوں ، مسکینوں اور کمزوروں کو ان کا حق ادا کرنا اجتماعی ذمہ داری ہے کسی مزدور یا کسان کا حق غصب کرنا قطعی حرام ہے۔ ہر کارخانے دار اور زمیندار پر لازم ہے کہ وہ اپنے کارندوں کے حقوق کی حفاظت کرے۔ حضور ﷺ نے فرمایا اعط کل ذی حق حقہ ہر حق دار کو اس کا حق ادا کرو۔ یہ ہمارے دین کا اہم اصول ہے۔ آج کل بڑے بڑے ادارے یتیموں اور مسکینوں کے نام پر فنڈ اکھٹا کرکے کھاجاتے ہیں الاماشاء اللہ ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ ہر حق دار کو اس کا حق ملنا چاہیے جو رقم جس مقصد کے لیے اکٹھی ہوئی ہے۔ اسی پر خرچ ہونی چاہیے۔
حلال میں حرام کی ملاوٹ
آگے فرمایا ولا تتبدلوالخبیث بالطیب نہ تبدیل کرو گندے مال کو پاک مال کے ساتھ ، یہاں پر خبیث وطیب سے مراد حلال و حرام ہیں۔ یتیم کا مال تمہارے حق میں خبیث ہے اسے اپنے پاک مال کے ساتھ مت تبدیل کرو۔ یتیم کا مال اپنے مال میں ملاکرکھانے کی کوشش کروگے تو تمہارے پاک میں خباثت کی ملاوٹ ہوجائے گی۔ ایسا نہ کرو۔ سورة بقرہ میں اللہ نے عام قانون کے طور پر فرمایا لاتاکلو اموالکم بینکم بالباطل ایک دوسرے کا مال ناجائز طریقے سے مت کھائو۔ فرمایا یایحل لامر مسلم ان یا کل مال اخیہ الا بطیب نفسہ کسی مسلمان کے لیے حلال نہیں کہ وہ کسی دوسرے مسلمان کا مال ناجائز طریقے سے کھائے سوائے خوشی اور رضا کے۔ غرض یہ کہ تمہارے حق میں یتیم کا مال حرام ہے۔ اسے پاک مال کے ساتھ مت ملائو۔ غصب شدہ مال چوری اور دھوکہ فریب سے حاصل کردہ مال حرام ہے ، اس سے بچو۔
حرمت کی حکمت
اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے حرام قرا ردی ہے وہ لازماً تمہارے حق میں مضر ہے۔ اسی طرح جس چیز کو خبیث فرمایا ہے۔ وہ بھی انسانی جسم کے لیے مہلک ہوسکتی ہے جیسے نھی عن الدوا الخبیث حضور ﷺ نے خبیث دوائی استعمال کرنے سے منع فرمایا۔ زہر خبیث ہے اور یہ لازماً مہلک ہے ، اسی طرح دم مسفوح میں خباثت ہے اور اللہ نے اسے حرام قرار دیا ہے۔ نذر بغیر اللہ میں روحانی خباثت پائی جاتی ہے اس لیے یہ بھی ما اھل بہ لغیر اللہ کے تحت حرام ہے۔ مردار اسی لیے حرام ہے کہ وہ مضر صحت ہے۔ سور کا گوشت بھی اسی قبیل سے ہے اور حرام ہے۔ غرض یہ کہ ہر حرام چیز میں کوئی نہ کوئی ظاہری یا باطنی خباثت ہے جس کی بناء پر وہ چیز ممنوع قرار دی گئی ہے۔ چوری ، جوئے ، رشوت یا غبن کا مال بظاہر تو ویسے ہی ہے جیسا حلال مال ہوتا ہے مگر خبیث ہونے کی بنا پر ناپاک ہے اس کے استعمال سے انسان میں نجاست ہی پیدا ہوگی۔ جو جسمانی اور روحانی ہر دو لحاظ سے مضر ہے۔
اکل حرام
آگے فرمایا ولا تاکلو اموالھم الی اموالکم اور ان کے مالوں کو اپنے مالوں کے ساتھ ملاکر مت کھائو۔ مقصد یہ ہے کہ اگر تم یتیم کے مال کو اپنے مال کے ساتھ اس لیے ملاتے ہو تاکہ مشترکہ کھانے میں یتیم کا حصہ نسبتاً کم آئے گا اور اس طرح اس کا مال محفوظ رہے گا۔ پھر تو یہ درست ہے کیونکہ تمہاری نیت صحیح ہے ۔ تم یتیم کے مال کی زیادہ سے زیادہ حفاظت کرنا چاہتے ہو۔ اسی طرح اگر تم یتیم کا مال اپنے مال کے ساتھ ملاکر مشترکہ کاروبار کرتے ہو ، کسی صنعت میں لگاتے ہو مشترکہ کھیتی باڑی کرتے ہو تاکہ یتیم کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے تو اس میں کوئی حرج نہیں بلکہ یہ بہتر ہے برخلاف اس کے اگر تم اپنا مال اور یتیم کا مال اس لیے ملاتے ہو کہ بدنیتی سے اس کا مال ہضم کیا جائے۔ کھانے میں شامل کرکے اس کے حصے میں زیادہ خرچہ ڈال دیا۔ یا تجارت میں لگایا جائے تو اس کو نفع تھوڑا دیا خود حصد رسدی سے زیادہ لے لیا جائے تو ہی اشتراک جائز نہیں ہوگا ، اسی کے متعلق فرمایا لاتاکلو اموالھم الی اموالکم بدنیتی سے اس کا مال کھانے کی کوشش نہ کرو۔
اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ مفسد کون ہے اور مصلح کون ہے۔ سورة بقرہ میں اسی بات کے متعلق فرمایا کہ اگر تم یتیموں کو اپنے ساتھ ملالو ، تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ بشرطیکہ نیک نیت ہو کیونکہ والا یعلم المفسد من المصلح
حوب کبیر
فرمایا اگر ناجائز طریقے سے یتیموں کا مال کھائو گے تو انہ کان حوباً کبیرا بیشک یہ بہت بڑا گنا ہے لفظ حوب اور حوب دونوں گناہ کے معنی میں آتے ہیں۔ اور یہ الفاظ ظلم کا معنی بھی دیتے ہیں۔ جیسے عربی شاعر نے کہا ؎
انی وماکلفتمون من مزکم
لیعلم من اھسی واعق واحویا
یعنی تم نے جو مجھے تکلیف دی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر شب گزار جان لے کہ تم نافرمان اور ظالم قوم ہو۔ دعا میں بھی اس قسم کے الفاظ آتے ہیں۔ اللھم اقبل توبتی واغفر حوبتی اے اللہ میری توبہ قبول کرلے اور میرے گناہ معاف فرمادے۔ حضرت ابو ایوب انصاری ؓ نے اپنی بیوی کو طلاق دینے کا ارادہ یا اور اس کا تذکرہ حضور ﷺ کے سامنے بھی کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا ان طلاق ام ایوب لحوب ام ایوب کو طلاق دینا بڑے ہی گناہ کی بات ہے یا ظلم کی بات ہے۔ چناچہ حضرت ابو ایوب نے اپنا ارادہ پوراہ نہ کیا بلکہ طلاق دینے سے باز رہے۔
الغرض ! فرمایا یتیموں کے مال کو بدنیتی سے کھانا بہت بڑا گنا ہے تمہارے لیے یہ خبیث مال ہے اور قطعی حرام ہے یتیموں کے مال کی حفاظت کا قانون بیان کرنے کے بعد اگلی آیت میں یتیم لڑکیوں کے نکاح کا تذکرہ آرہا ہے۔ دس آیات تک یتیموں کے مال اور ان کے متعلق دیگر مسائل آئیں گے۔
Ayah 4:3رابطہ آیات
سورۃ کی ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ، اور تمام انسانوں کا ایک ہی نفس سے پیدا کرنے کا ذکر فرمایا۔ پھر اسی ایک نفس سے اسکا جوڑا پیدا کیا اور پھر تمام نسل انسانی کو پھیلایا۔ اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے اور قرابت داروں سے حسن سلوک کی وصویت فرمائی۔ انسانی حقوق کی ادائیگی کا حکم فرمایا اور خاص طور پر یتیموں کے حقوق کی حفاظت کی اور تلقی کی کہ ان کے مال حیلے بہانے سے مت کھائو بلکہ بالغ ہونے پر ان کے مال ان کو واپس کردو۔
اور یتیم لڑکیوں سے نکاح
یتیموں کے مال حق کو بیان کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یتیم لڑکیوں کے نکاح کا مسئلہ بیان فرمایا ہے۔ بخاری ، مسلم ، نسائی ، مستدرک حاکم اور حدیث کی بعض دوسری کتابوں میں یہ روایت آئی ہے کہ ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے ان کے بھانجے عروہ (رح) بن زبیر ؓ نے اس آیت وان خفتم الا تفسطو فی الیتمی کے متعلق دریافت کیا ، تو آپ نے فرمایا یا ابن اختی یعنی اے میرے بھانجے ! اللہ تعالیٰ نے یہ آیت یتیم لڑکیوں کے بارے میں نازل فرمائی ہے اور اس کے ذریعے ان کے حقوق کو تحفظ دیا ہے۔ نزول قرآن کے زمانے میں بعض اوقات ایسا ہوتا تھا۔ کہ کوئی لڑکی یتیم ہوگئی ہے ، وہ خود بھی صاحب جمال ہے اور لڑکے میں مال بھی ملا ہے۔ اس پر مستزاویہ ہے کہ اس لڑکی کا سرپرست یا متولی اس کا قریبی رشتہ دار چچا زاد یا تایا زادہ وغیرہ بن گیا ہے۔ تو ایسی صورت میں سرپرست کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ وہ یتیم لڑکی سے خودہی نکاح کرلے تاکہ خوبصورت لڑکی بھی حاصل ہوجائے اور اس کا مال بھی قبضے میں رہے۔ وہ لوگ ان چیزوں کا لالچ تو کرلیتے تھے مگر نہ تو وہ ان کی حیثیت کے مطابق مہر دیتے تھے اور نہ ان سے حسن معاشرت رکھتے تھے۔ اس قباحت کے سدباب کے لیے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا کہ اگر تم ایسی لڑکیوں کو پورا مہر ادا نہیں کرسکتے ، اور ان سے بہتر سلوک کے روادار نہیں ہوسکتے تو پھر ان سے نکاح بھی کرو۔ یہ ناجائز ہے۔
اس زمانے میں یتیم لڑکیوں سے ایک دوسری زیادتی بھی بسا اوقات کی جاتی تھی۔ لڑکی اگرچہ صاحب مال ہے مگر صاحب جمال نہیں۔ سرپرست خود تو اس سے نکاح کی خواہش نہیں رکھتا۔ مگر دوسری جگہ بھی نکاح کرنے سے پس وپیش کرتا ہے کہ لڑکی کے ساتھ اسے مال بھی محروم ہونا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ایسی قبیح حرکت سے بھی منع فرمایا کیونکہ اس سے یتیم لڑکیوں کو حق تلفی ہوتی تھی۔
چارعورتوں سے نکاح
ارشاد باری تعالیٰ ہے وان خفتم الا تقسطو فی الیتمی اگر تمہیں اس بات کا خوف ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرسکو گے۔ یعنی تم ان کو پورا (…………) نہیں کرسکو گے یا ان سے حسن سلوک نہیں رکھوگے تو پھر ان سے خود نکاح مت کرو۔ بلکہ دستور کے مطابق ان کے نکاح دوسری جگہ کردو اور ان کا مال بھی ان کی تحویل میں دے دو ۔ اس میں کسی قسم کی خیانت نہ کرو اور اگر تم خود نکاح کرنا ہی چاہتے ہو تو ان یتیم لڑکیوں کی بجائے فانکھو ماطاب لکم من النساء نکاح کرو دیگر ایسی عورتوں سے جو تم کو پسند ہوں۔ اور پھر یہ بھی کہ تمہیں صرف ایک عورت کے لیے پابند نہیں کیا گیا بلکہ تمہیں توفیق ہے تو مثنی وثلث وربع دو دو تین تین اور چار چارعورتوں سے بھی بیک وقت نکاح کرسکتے ہو۔ مقصد یہ کہ یتیم لڑکیوں سے زیادتی نہ کرو بلکہ اس کے بدلے میں اگر تم مالی اور جسمانی لحاظ سے مضبوط ہو تو چار عورتوں تک نکاح میں رکھ سکے ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اجازت فرمادی ہے۔
فطرت کے اعتبار سے انسان تین قسم کے ہوتے ہیں۔ ادنی درجے کے لوگ جن کی قوت باہ معمولی قسم کی ہوتی ہے۔ وہ ہمیشہ ایک بیوی پر اکتفا کرتے ہیں۔ درمیانی قوت کے مالک لوگ دوسری بیوی کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ اگر وہ دوسرا نکاح نہ کریں تو گناہ میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے لہٰذا ایسے لوگوں کو دوسرا نکاح کرنے کی اجازت ہے اور اگر کوئی شخص جسمانی اور مالی اعلیٰ درجے کی طاقت رکھتا ہے حق و انصاف کے تقاضے پورے کرسکتا ہے تو پھر اسے چارعورتوں تک سے نکاح کی اجازت ہے تاکہ وہ اپنی فطری خواہش کی تکمیل شریعت کی حدود میں رہتے ہوئے کرسکے۔
نکاح کی شرط
بیک وقت چارعورتوں سے نکاح کی اجازت کو اللہ تعالیٰ نے انصاف کے ساتھ مشروط فرمایا ہے۔ فان خفتم الا تعدلو اگر تمہیں اس بات کا ڈر ہو کہ ایک سے زیادہ نکاح کرنے کی صورت میں تم تمام بیویوں سے انصاف نہ کرسکو گے ۔ فواجدۃ تو پھر تمہارے لیے ایک بیوی ہی کافی ہے ، دوسرا نکاح کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اگر نکاح کرنا ہے تو پھر اس کے تمام تقاضے منجلہ انصاف ، مہر اور حسن معاشرت وغیرہ پورے کرنا ہوں گے۔ اور ایک بیوی کی صورت میں تم بیوی کے علاوہ اپنی نفسانی خواہش اوما ملکت ایمانکم ان لونڈیوں سے بھی پوری کہہ سکتے ہو جو تمہاری ملکیت میں ہیں۔ لونڈیوں سے نکاح کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ تمہاری ملکیت ہونا ضروری ہے۔ اگر ایسا ہے تو تم ان سے بھی فائدہ اٹھا سکتے ہو اور اگر اس کا نکا ح دوسرا جگہ کردو تو خود بھی فائدہ نہیں اٹھاسکتے۔ صرف خدمت لینے کے مجاز ہو۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان امتی کے لیے بیک وقت چارعورتوں سے نکاح کی اجازت فرمادی بشرطیکہ ایسا شخص بیویوں کے درمیان انصاف کرسکے۔ انصاف کی تفصیل آگے آئے گی اور اس سے مراد مکان ، لباس ، خوراک ، مہر ، لین دین ، شب باشی وغیرہ میں مساوات کا قیام ضروری ہے۔ البتہ دلی رغبت کسی ایک طرف ہونا یہ غیر اختیاری چیز ہے۔ اور مباح ہے۔ اور اگر کوئی شخص ایک سے زیادہ بیویاں رکھ کر ان کے ساتھ انصاف نہیں کریگا ۔ تو حضور ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ایسے شخص کا آدھا جسم فالج زدہ ہوگا اور وہ سخت عذاب میں مبتلا ہوگا۔
تحدید نکاح
اسلام نے چار عورتوں سے نکاح کی اجازت دے کر اس اباحت کو چار تک گویا محدود کردیا ہے۔ کوئی مومن بیک وقت چار سے زیادہ نکاح نہیں کرسکتا۔ ہاں اگر کوئی بیوی فوت ہوگئی یا طلاق واقع ہوگئی تو اس کی بجائے اور نکاح کرسکتا ہے مگر بیک وقت چار سے زیادہ بیویاں نہیں رکھ سکتا۔ یہ حرام ہے۔ زمانہ جاہلیت میں تو بیویوں کی کوئی حد مقرر نہ تھی ، ہر شخص جتنی چاہتا بیاہ لاتا ، مگر اسلام نے اس کو چار تک محدود کردیا۔ قبیلہ ثقیف کا عنیلان ثقفی ؓ جب مسلمان ہوا تو اس کے نکاح میں دس عورتیں تھیں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا ان میں سے اپنی پسند کی چار عورتیں رکھ لو اور باقیوں کو آزاد کردو۔ چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اسی طرح قبیلہ اسد کے عمیر اسدی ؓ اسلام لائے تو ان کی آٹھ بیویاں تھیں۔ انہوں نے بھی چار کو فارغ کردیا اور چار اپنے پاس رکھ لیں۔ اسی طرح ایک اور صحابی کے متعلق آتا ہے کہ ان کے نکاح میں پانچ عورتیں تھیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا اختر اربعاً منھن ان میں سے چار کو اختیار کرلو اور ایک کو چھوڑ دو ۔ چناچہ ایسا ہی کیا گیا۔
یہاں یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ چار تک تحدید نکاح صرف امتی مسلمان کے لیے ہے۔ پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات اس تحدید سے متثنیٰ ہے یہ نبی کی خصوصیت ہے جسے اللہ نے سورة احزاب میں واضح فرمادیا ہے۔ نبی ایک وقت میں زیادہ سے زیادہ بیویاں رکھ سکتا ہے ، اس پر کوئی پابندی نہیں۔ اور یہ اجازت ہر نبی کی شریعت میں موجود رہی ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دو بیویاں تھیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت سلیمان (علیہ السلام) ، حضرت دائود (علیہ السلام) وغیرہ کی متعدد بیویاں تھیں اور اسی طرح نبی آخر الزمان نے اپنی زندگی میں کل پندرہ نکاح کیے۔ ان میں سے تیرہ بیویوں کے ساتھ آپ کی مقاربت بھی ہوئی اور وہ ایسے ہی الگ ہوگئیں۔ تاہم ایک وقت میں آپ کی زیادہ سے زیادہ نوبیویاں تھیں۔ مقصد یہ کہ نبی پرچار نکاح کی پابندی نہیں ہے۔
اسلام کے خلاف پراپیگنڈا
مفسر قرآن مولانا عبیدا للہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ مغربی اقوام نے مسلمانوں اور اسلام کے خلاف پراپیگنڈا کے ہتھیار کو موثرطور پر استعمال کیا ہے۔ جب انہوں نے دیکھا کہ اسلام کی ترقی کو روکنے کے لیے اور حربہ کارگز ثابت نہیں ہورہا ہے تو انہوں نے اسلام کے مختلف مسائل کو بہانہ بناکر اس کے خلاف پراپیگنڈا کی مہم کو تیز تر کردیا اور دوسوسال تک مسلسل پراپیگنڈا کرنے کے بعد مسلمانوں کی صفوں میں انتشارپیدا کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے اسلام کے مسئلہ تعداد ازواج کو سب سے زیادہ اچھالا۔ اور یہ پراپیگنڈا کیا کہ مسلمان عیاش رہیں ، رشوت پر ست ہیں ان کا اسلام ایک سے زیادہ بیویاں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ حالانکہ بات سیدھی سادھی ہے ، اسلام نے تعداد ازواج کو کوئی فرض واجب قرار نہیں دیا بلکہ محض اجازت دی ہے اور وہ بھی مشروط یعنی اگر کوئی شخص جسمانی اور مالی لحاظ سے اس قدر مضبوط ہے کہ وہ ایک سے زیادہ بیویاں رکھ سکتا ہے اور پھر ان کے درمیان انصاف بھی کرسکتا ہے تو اسے اجازت ہے ، لازم نہیں ہے۔ انگریز جرمن اور فرانسیسی اور دنیا بھر کے یہودیوں نے تعدد ازواج کے مسئلہ میں پیغمبر آخر الزمان ﷺ کی ذات کو خاص طور پر اپنے طعن کا نشانہ بنایا۔ اور یہاں تک پراپیگنڈا کیا کہ مسلمانوں کا پیغمبر (نعوذ باللہ) عیاش تھا۔ اس نے اپنے حرم میں بہت سی بیویاں رکھی ہوئی تھیں۔ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ تمام سابقہ انبیاء کی شرائع میں تعدد ازواج روا تھا۔ اور ہمارے نبی اکرم کو اللہ تعالیٰ نے خود قرآن پاک میں تحدید نکاح سے مستثنیٰ قرار دیدیا۔ جہاں تک (نعوذ باللہ) عیاشی کا تعلق ہے آپ کی پوری زندگی اس الزام کے خلاف بطور شہادت موجود ہے آپ (علیہ السلام) کی تمام بیویوں میں سے ایک کے سوا کوئی بھی دوشیزہ نہیں تھی۔ ساری بیویاں معمر اور بیوہ تھیں۔ کسی کا ایک خاوند فوت ہوچکا تھا اور کسی کے دوخاوند پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنی زندگی کا پچیس سے پچاس سالہ دور جو شباب کا دورکہلاتا ہے اپنے سے پندرہ سال بڑی ایک بیوہ عورت کے ساتھ گزار دیا۔ جب تک آپ کی پہلی بیوی حضرت خدیجہ ؓ زندہ رہیں آپ نے دوسرا نکاح نہیں کیا۔ تو کیا آپ کو بڑھاپے میں زیادہ بیویاں کرکے نفسانی خواہش کی تکمیل مقصود تھی ؟ ہرگز نہیں۔ آپ کا تعدد ازواج محض اسلام کی ترویج و ترقی کی خاطر تھا۔ اسلام کو گھر گھر پہنچانا تھا۔ لہٰذا آپ نے مختلف قبائل سے رشتہ ازواج قائم کرکے تبلیغ اسلام کا اہم فریضہ ادا کیا۔
قرآن پر حملہ
مولانا سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ غیر مسلم اقوام نے پراپیگنڈا کے طور پر دوسرا حملہ اللہ کی آخری کتاب قرآن پاک پر کیا اور یہ مشہور کیا کہ قرآن پاک اپنے ماننے والو کو غیر مہذب بناتا ہے۔ چناچہ وزیراعظم برطانیہ گلیڈ سٹون نے برطانوی پارلیمنت میں قرآن ہاتھ میں لے کر کہا تھا کہ جب تک یہ کتاب دنیا میں موجود ہے ، انسان مہذب اور شائستہ نہیں بن سکتا۔ فحاشی ، عیاشی ، زنا ، شراب نوشی ان کے فیش میں داخل ہے مگر قرآن ان چیزوں کو حرام قرار دیتا ہے لہٰذا یہ کتاب دنیا کو تہذیب یافتہ بنانے میں رکاوٹ ہے۔ اُدھر ہندوستان میں یوپی کے انگریز گورنر سرولیم مورنے حضور نبی کریم ﷺ کی سوانح حیات (محمد کی زندگی) لکھی جسے سرسید جیسا جدت پسند بھی پڑھ کر تڑپ اٹھا۔ اس کتاب میں مصنف نے لکھا تھا کہ انسانیت کی دشمن دو چیزیں ہیں اور وہ ہیں محمد کا قرآن اور اس کی تلوار۔
جبری مسلمان
مولانا فرماتے ہیں کہ اسلام کا تیسرا مسئلہ جسے ان لوگوں نے تختہ مشق بنایا ، وہ یہ تھا کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا ہے اور اس دین میں لوگوں کو جبراً مسلمان بنانا روا ہے۔ یہ اتنا بڑا جھوٹ ہے جسے کوئی سلیم الفطرت آدمی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوسکتا۔ خود قرآن پاک میں موجود ہے لا اکراہ فی الدین دین میں کوئی جبر نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے کبھی کسی کو جبراً مسلمان نہیں بنایا۔ دنیا کے بڑے حصے میں مسلمان ایک عرصہ تک غالب رہے مگر کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کی۔ ہمیشہ اسلام کی تعلیمات اور اپنا اخلاق وکردار پیش کرکے اسلام کی دعوت دی گئی ہے۔ مگر کسی کو مجبور نہیں کیا گیا۔ برصغیر میں کابل سے لے کر برما تک مسلمانوں کو آٹھ سو سال تک اقتدار حاصل رہا۔ مگر تاریخ سے ثابت نہیں کیا جاسکتا کوئی ایک شخص بھی جبر واکراہ کی بناء پر حلقہ بگوش اسلام ہوا ہو۔ حضور ﷺ کے زمانہ مبارک ، خلافت راشدہ اور عاجلم اسلام کی پوری تاریخ اٹھا کر دیکھ لیجیے مسلمانوں کی طرف سے جبر کا شائبہ تک نہیں ملے گا۔ برخلاف اس کے عیسایوں کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ انہوں نے سپین ، روس ، چین اور دیگر بہت سے ممالک میں مسلمانوں کو یا تو بالکل ختم کردیا یا انہیں اپنا دین چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔
لونڈی غلام کا مسئلہ
اسلام میں لونڈی غلام کا مسئلہ بھی ہمیشہ سے غیر مسلم اقوام کی طعن وتشنیع کا ہدف رہا ہے۔ اور یہ پراپیگنڈا یہ کیا جاتا ہے کہ اس کو اوسلام نے جائز قرار دیا ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ نزول قرآن کے دور میں لونڈی غلام پوری دنیا میں موجود تھے یہ ایک بین الاقوامی رواج تھا جو ساری دنیا میں پایا جاتا تھا مسلمانوں نے اسے ایجاد نہیں کیا جنگ ہوتی مردوزن قیدی بنالیے جاتے ، پھر یا تو انہیں قتل کردیا جاتا یا فدیہ لے کر چھوڑ دیا جاتا یا پھر غلام اور لونڈی بتائے جاتے ۔ ان سے مشقت لی جاتی اور حسب ضرورت ان کی خرید وفروخت بھی ہوتی۔ اسلام نے لونڈی غلام کو فرض واجب قرار نہیں دیا بلکہ اس کی اجازت جاری رکھی۔ اگر دنیا بھر کے لوگ اس کاروبار کو ترک کردیں تو اسلام کو اس پر کوئی اصرار نہیں۔ چناچہ آج پوری دنیا میں لونڈی غلام کا کوئی تصور نہیں پایا جاتا۔ اب اہل اسلام بھی اسے ترک کرچکے ہیں۔ روم اور ایران میں ہزاروں سال تک لونڈی غلام کی خریدوفروخت ہوتی رہی تاہم اسلام نے اس رواج کو ختم کرنے کی متعدد بھر کوشش کی۔ لونڈی غلام کو آزاد کرانے والے کو بہت بڑے اجر وثواب کا مستحق ٹھہرایا گیا۔ چناچہ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ کتنے ہی صحابہ کرام ؓ نے کتنی بڑی تعداد میں غلام خرید خرید کر آزاد کیے۔ اس کے علاوہ اسلام نے لونڈی غلام کی آزادی کو تعزیرات میں شامل کردیا۔ چناچہ بلا عذرفرض روزہ توڑنے کا کفارہ دوسری تعزیرات کے ساتھ ایک غلام کی آزادی بھی رکھا۔ اسی طرح ظہار کے مسئلہ میں بھی اس کا کفارہ غلا مکی آزادی ہے تو بہرحال مقصد یہ کہ اسلام نیتو لونڈی غلام کو دنیا میں ختم کرنے کے لیے عملی قدم اٹھایا ، اور آج یہ بات بلا خوف تردید کی جاسکتی ہے کہ اس قبیح رواج کے خاتمے کی ابتدا اسلام نے ہی کی۔
بہرحال فرمایا کہ اگر تم زیادہ بیویوں میں انصاف قائم رکھنے کی پوزیشن میں نہ ہو تو ایک بیوی پر اکتفا کردیا اپنی مملوکہ لونڈیوں سے استفادہ حاصل کرو۔ ذلک اونی الا تعولو یہ چیز زیادہ قریب ہے کہ تم ایک طرف نہ جھک پڑوگے بلکہ انصاف پر قائم رہو۔ یتیم لڑکیوں سے یا ایک سے زیادہ نکاح کرکے ان سے ناانصافی نہ کرو۔ اس سے بہتر ہے کہ ایک بیوی اور اگر میسر ہے تو لونڈی پر اکتفا کرو۔
Ayah 4:4رابطہ آیات
ابتدا میں اللہ تعالیٰ نے انسانی حقوق خصوصاً رشتہ داروں کے حقوق کی حفاظت کا حکم دیا۔ پھر یتیموں کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ان کے مال مت کھائو ، یتیم لڑکیوں کے ساتھ ناانصافی سے منع فرمایا۔ اور ارشاد فرمایا کہ اگر تم یتیم لڑکیوں کے ساتھ نکاح کرنے کی صورت میں ان سے حق و انصاف نہ کرسکو تو پھر ان کی بجائے دوسری عورتوں سے نکاح کرو اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے کسی ایک مرد کے لیے نکاح کی چار عورتوں تک تحدید کردی اور وہ بھی اس شرط کے ساتھ کہ تم سب بیویوں سے یکساں سلوک کرسکو۔ تعدد ازواج کی محض اجازت دی ہ کے اسے لازم قرار نہیں دیا نیز یہ بھی فرمایا کہ اگر انصاف کو قائم نہ کر سوک تو پھر صرف ایک نکاح پر اکتفا کرو۔ البتہ لونڈیوں سے بغیر نکاح کے مستفید ہونے کا تذکرہ فرمایا۔
مہر کی اہمیت
آج کی آیت بھی نکاح ہی سے متعلق ایک اہم مسئلہ مہر کے بارے میں ہے اللہ تعالیٰ نے نکاح میں مقرر کردہ مہر کو خوشظ دلی سے ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ اور یہ حکم ہر نکاح کے ضمن میں ہے۔ خواہ یتیم لڑکی سے ہوا ہو یا عام عورت سے ، مہر سے متعلق بعض مسائل سورة بقرہ میں بھی بیان ہوچکے ہیں۔ اور کچھ ارشادات سورة احزاب میں بھی آئیں گے۔ اس سورة میں اس آیت کے علاوہ آگے جہاں محرمات نکاح کا ذکر آتا ہے۔ وہاں بھی مہر کا تذکرہ ہے۔ محرمات میں مائوں ، بیٹیوں ، بہنوں ، پھوپھیوں ، خالائوں ، بھتیجوں اور بھانجیوں وغیرہ کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ ان کے علاوہ تمہیں دوسری عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت ہے مگر ان تبتغوا باموالکم یعنی نکاح میں مال ضرورخرچ کرنا ہوگا اور اس سے مراد خاص طور پر حق مہر کی ادائیگی ہے ایک اور جگہ پر فرمایا قد علمنا ما فرضنا علیھم ہم جانتے ہیں دو چیزیں جو ہم نے مردوں پر فرض قرار دی ہیں اور فرائض میں سے مہر بھی ایک فرض ہے۔
مہرکانصاب
مہر کے نصاب کے متعلق فقہائے کرام میں تھوڑا سا اختلاف پایاجاتا ہے امام شافعی (رح) اور بعض دیگر ائمہ کرام فرماتے ہیں کہ قلیل تر چیز بھی مہربن سکتی ہے۔ حتی کہ مٹھی بھر کھجوریں ، لوہے کی انگوٹھی ، ایک آنہ ، دو پیسے وغیرہ بھی مہر مقرر ہوسکتا ہے بشرطیکہ عورت اس پر رضا مند ہو۔ تاہم امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ مہر کی کم ازکم مقدار دس درہم کے برابر ہونی چاہیے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ مہر کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے مال کا ذکر کیا ہے۔ ان تبتغوا باموالکم اور مال میں کچھ تو ہونا چاہیے۔ کم ازکم دس درہم کی چوریر ہو تو چورکو قطع ید کی سزا دی جاتی ہے۔ نیز ایک روایت میں صراحتاً بھی آتا ہے لامھر اقل من عشرۃ دراھم یعنی دس درہم سے کم مہر نہیں۔ لہٰذا مہر کی کم ازکم مقدار دس درہم ہے۔
نکاح میں مہر اگرچہ فرض ہے مگر بوقت نکاح اس کا تذکرہ ضروری نہیں۔ نکاح ایجاب و قبول کا نام ہے ، لہٰذا جابنین کی رضا مندی سے مہر کے بغیر بھی نکاح ہوجاتا ہے ، تاہم اسے یہاں میاں بیوی بعد میں بھی مقرر کرکے لے دے سکتے ہیں۔ مقررہ مہر میں کمی بیشی کی بھی اجازت ہے اگر زیادہ مقرر کای ہے تو باہمی رضا مندی سے کم بھی کیا جاسکتا ہے۔ یا کم ہے تو اسے زیادہ بھی کیا جاسکتا ہے تاہم احناب کے مطابق مہر کی کم ازکم مقدار دس درہم ہونی چاہیے۔ یہ بات اچھی طرح سمجھ لینی چاہیے کہ وزن کے حساب سے ایک درہم تین ماشہ ایک رتی کی برابر ہوتا ہے ، اس لحاظ سے دس درہم ساڑھے اکتیس ماشے بنتے ہیں۔ ایک توبہ بارہ ماشے کا ہے۔ لہٰذا مہر کی کم ازکم مقدار دو تولے ساڑھے سات ماشے چاندی کے برابر ہوئی۔ چاندی کے موجودہ بازاری نرخ کے مطابق اتنی چاندی کی قیمت ایک سو ساٹھ پینسٹھ روپے بنتی ہے۔ لہٰذا فقہ حنفی کے مطابق کم ازکم مہر کی مقدار یہ ہے البتہ زیادہ سے زیادہ کی کوئی حد مقرر نہیں۔ اس زمانے میں بتیس روپے کو شرعی حق مہر سمجھا جاتا ہے جو کہ درست نہیں۔ ہر زمانے میں چاندی کے نرخ میں کمی بیشی سے مہر کا تعین سکہ رائج الوقت کے مطابق کیا جاسکتا ہے جو کہ ساڑھے اکتیس ماشے چاندی کی قیمت کے برابر ہونا چاہیے۔ اگر کسی نکاح میں اس سے کم مہر مقرر ہوا ہو تو اسے بعد میں پورا کرلینا چاہیے۔
صدقہ کا معنی
اس آیت کریمہ میں مہر کے لیے صدقتھن کا لفظ استعمال ہوا ہے صدقات جمع کا صیغہ ہے اور اس کا واحد صدقۃ ہے جس کا معنی حق مہر ہے۔ محض اعراب کے فرق سے ایک لفظ صدقۃ ہے جس کا معنی صدقہ خیرات ہے اس کی جمع صدقات آتی ہے جو شخص صدقہ خیرات کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے بری موت سے بچاتا ہے۔ صدقہ سے اچھی عاقبت کی امید ہوتی ہے اگر صدقۃ کی دال پرسکون آجائے تو اس کا معنی سختی ہوتا ہے عربی شاعر نے اپنے شاعر میں اس لفظ کو یوں استمال کیا ہے ؎
ولنا قناۃ من ردینۃ صدقۃ
زوارہ کذلک حاملھا ازور
ہمارے ردینی نیزے بڑے مضبوط اور ٹیڑھے ہی جو کسی کے قابو میں نہیں آتے۔ ان کے اٹھانے والے بھی بڑے ٹیڑھے لوگ ہیں۔
تحفہ کا معنی
یہاں پر تحفظ کا لفظ بھی استعمال ہوا ہے جس کا لغوی معنی عطیہ ہے عطیہ چونکہ اپنی خوشی سے دیا جاتا ہے ، اس لیے اس آیت میں انہی معنوں میں استعمال ہوا ہے کہ عورتوں کے مہر خوشی خاطر سے ادا کردو وحدیث شریف میں آتا ہے مانحل والد والدہ کسی باپ نے اپنے بیٹے کو اس سے اچھا عطیہ نہیں دیا کہ وہ اسے اچھا ادب سکھادے۔ حضرت نعمان بن بشیر ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ بشیر ؓ کی دو بیویاں تھیں دونوں سے الگ الگ اولاد تھی۔ ان میں سینعمان کی ماں نے اپنے خاوند سے فرمائش کی کہ وہ فلاں غلام اس کے بیٹے نعمان کو دے دے۔ اور اس ہبہ کا گواہ حضور ﷺ کو بنائے۔ چناچہ بشیر ؓ نے یہ قصہ نبی (علیہ السلام) کی خدمت میں بیان کیا اور کہا کہ میں نے یہ غلام نعمان کو دے دے ہے آپ گواہ بن جائیں تاکہ میری بیوی کو اطمینان حاصل ہوجائے۔ آپ نے پوچھا اکل ولدک نحلسہ مثل ھذا کیا تو نے باقی اولاد کو بھی ایسا ہی عطہ دیا ہے۔ جیسا کہ نعمان کو دیا ہے تو اس نے عرض کیا ، حضور ! ایسا تو نہیں ہے ، اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا ، جائو کسی اور کو گواہ بنائو میں اس ظلم پر گواہ نہیں بن سکتا۔ آپ نے مزید فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ تمہاری ساری اولاد نیکی میں برابر رہے۔ عرض کیا ہاں فرمایا ساری اولاد میں صرف ایک بیٹے کو دینا زیادتی ہے یا تو دونوں بیویوں کی ساری اولاد کو ایسا غلام دو یا اس کو بھی واپس لے لو۔ غرض یہ پر نحلہ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
مہرکی ادائیگی
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے واتو النساء وصدقتھن بحلۃ اور دے ڈالو عورتوں کو ان کے مہر خوشی خاطر سے یعنی جو مہر مقرر ہوگیا ہے اسے خوش دلی سے ادا کرو اسے بوجھ نہ سمجھو۔ جیسا کہ حضور ﷺ نے زکوۃ اور قربانی کے متعلق بھی فرمایا کہ ان کو تاوان نہ سمجھو۔ یہ عبادت ہے اور قرب الٰہی کا ذریعہ ہے لہٰذا طیبوا بھا نفسا یہ تمہارے ذمہ لازم ہے۔ اسے خوشی سے ادا کیا کرو ، مہر بھی ایک قسم کا عطیہ ہے جو کسی چیز کا معاوضہ نہیں ہوتا۔ نہ ہی یہ کسی چیز کی بیع ہے بلکہ بیوی کے ساتھ دب کوئی اور احسان کا معاملہ ہے۔ مہر ادا کرنے سے انسان عورت کے اعضائے مستورہ کا مالک نہیں بن جاتا۔ البتہ عقد نکاح کی وجہ سے اسے فائدہ اٹھانے کی اجازت ہوتی ہے۔ بہرحال اللہ نے عورتوں کے حق میں یہ مہر مقرر کیا ہے۔ اسے خوش دلی سے ادا کرنا چاہیے یہ معاشرت کے اعتبار سے بھی ضروری ہے۔
مہر کی ادائیگی کے لیے معجل اور موجل دونوں صورتیں روا ہیں۔ یہ فوراً بھی ادا ہوسکتا ہے اور موخر بھی کیا جاسکتا ہے۔ مہرکا کچھ حصہ فوری اور کچھ حصہ بعد میں عندالطلب بھی ادا ہوسکتا ہے تاہم بہتر یہی ہے کہ پورا مہر فوراً ادا کردیا جائے۔ بہت بڑا مہر مقرر کرکے زندگی بھر ادا نہ کرنا بڑی غلط بات ہے۔ یہ حقوق العباد کا مسئلہ ہے اور مقرر مہر ادا نہ کرنے کی صورت میں قیامت کے دن مواخذہ ہوگا۔
مہر بمطابق حیثیت
مہر کے تقرر میں مبالغہ آرائی سے منع فرمایا گیا ہے۔ حضرت عمر ؓ کا قول ہے لاتقالو فی الصدقات لوگو ! مہر کے معاملہ میں مبالغہ آرائی نہ کرو۔ اگر مہر کی زیادتی عزت کا باعث ہوتی تو اللہ تعالیٰ یقینا پیغمبر (علیہ السلام) کو حکم دیتا کہ وہ زیادہ سے زیادہ مہر مقرر کریں۔ مگر صورتحال یہ ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی بیویوں اور بیٹیوں کا حق مہر پانچ سو درہم سے زیادہ مقرر نہیں کیا۔ ماسوائے ام المومنین ام حبیبہ ؓ کے کہ ان کا نکاح حبشہ میں نجاشی نے کرایا تھا اور چار ہزار درہم مہر اپنی طرف سے ادا کیا تھا۔ بہرحال اگرچہ شریعت میں اس کی تحدید نہیں کی گئی مگر حد سے زیادہ مہر مقرر نہیں کرنا چاہیے بلکہ یہ بانبین کی حیثیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ مہر زیادہ مقرر کرکے ادا نہ کرنا قیامت کو قابل مواخذہ ہے مہر بھی ایک قرض ہے لہٰذا اگر کوئی شخص بغیر ادا کیے مرگیا تو اس کے ترکہ میں سے دیگر قرض کی طرح ادا کیا جائے گا۔ وصیت پوری کی جائیگی اور پھر باقی مال حصہ داروں میں تقسیم ہوگا۔ مہر عورت کا مالی حق ہے اسی لیے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ اگر عورت مہر کی وصولی سے قبل مرد کی قربت سے انکارکردے ، تو اس کو اختیار ہے بہرحال مہر حیثیت کے مطابق ہوناچاہیے۔ دس ، بیس یا پچاس ہزار روپے مہرمقرر کرنا جب کہ خاوند کی حثیت دو ہزار روپے کی بھی نہ ہو ، مناسب نہیں اور مرد پر خواہ مخواہ بوجھ ڈالنے والی بات ہے اس سے اعراض کرنا چاہیے۔
مہر کی معافی
ہاںٖ ! اگر عورت خود برض اور غبت معاف کردے تو اس کو اجازت ہے فرمایا فان طبن لکم عن شیئی منہ نفسا یعنی اگر عورتیں تمہیں کسی چیز سے خوش کردیں۔ اپنی خوشی سے مقرر مہر میں سے آدھا ، چوتھائی دوتہائی یا کم وبیش معاف کردیں تو یہ تمہارے لیے جائز ہے۔ عورت کو حق حاصل ہے کہ چاہے تو سارے کا سارا مہر بھی خاوند کو ہبہ کردے اس کو ابراء کہتے ہیں۔ مگر عورت کو معاف کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔ اس طرح آپ دنیوی قانون سے تو بچ سکتے ہیں مگر اللہ کے ہاں معاف نہیں ہوگا اس معاملہ میں عورت پر نہ دبائو ڈالنا چاہیے اور نہ اسے الجھانا چاہیے وہ ازخود سارا یا کچھ حصہ معاف کردے تو اس صورت میں فرمایا فلکوہ پس اس کو کھائو ، کھانے سے مراد محض کھانا ہی نہیں بلکہ استعمال کرنا ہے۔
کیونکہ عورت نے جو چیز معاف کی ہے وہ ضروری نہیں کہ کھانے والی چیز ہی ہو۔ مثلاً زیور ، مکان زمین یا کارخانہ ہے تو وہ استعمال میں ہی آئے گا۔ اکل کا لفظ ان معنوں میں بیشتر مقامات پر استعمال ہوا ہے جیسے لاتاکلو الربو سود نہ کھائو لاتاکلو اموالکم بینکم بالباطل آپس میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے مست کھائو۔ الغرض فرمایا کہ اگر عورت مہر معاف کردے تو پھر تم وہ چیز اپنے تصرف میں لاسکتے ہو۔
ہمارے ملک میں بعض احکام شریعت رواج کی نذر ہوجاتے ہیں ۔ عام طور پر عورتوں کو مکان یا زمین میں سے وراثت کا حصہ نہیں دیا جاتا۔ ان سے رسمی طور پر کہہ دیا جاتا ہے کہ اگر وہ باپ کی وراثت کے مکان یا زمین وغیرہ سے حصہ لینا چاہیں تو لے سکتی ہیں۔ وہ بھیرواج کے مطابق کہتی ہیں کہ نہیں بھائیوں کے پاس رہنے دو ۔ مہر کا مسئلہ کچھ ایسا ہی ہے۔ عورت سے کہہ دیا لینا ہے یا معاف کرنا ہے ، وہ بھی خاندان کے روبرو کہہ دیتی ہے کہ معاف کیا اگرچہ وہ دل سے راضی نہ ہو۔ یہ درست نہیں ہے۔ عورت کا حصہ وراثت سے ہو یا مہر ہو ، اسے پہلے ادا کرنا چاہیے اگر کوئی غیرمنقولہ جائیداد ہے اس کے نام رجسٹری کراناچاہیے۔ وہ اپنی ملکیت میں آنے کے بعد اگر خوشی سے واپس کرنا چاہے تو کردے۔ مگر بغیر ادا کیے ہی معاف کرالینا اس پر دبائو ڈالنے کے مترادف ہے۔
مہر کا تصرف
جب مہر ادا کردیاجائے تو عورت اس کی مالک بن جاتی ہے لہٰذ اسے اس مال میں مکمل تصرف حاصل ہوتا ہے۔ اس کی مرضی کے بغیر اس کے سرپرست بھی تصرف نہیں کرسکتے بعض آئمہ کرام تو یہ فرماتے ہیں کہ کم سن یا دوشیزہ لڑکی کا ولی اس کی ملکیت میں تصرف کرسکتا ہے مگر یہ بات درست نہیں۔ مہر کی مالکہ خواہ باکرہ ہو ثیبہ کم سن ہو یا عمر رسیدہ اسے مہررپ مکمل تصرف حاصل ہے اور اس کا یہ حق ضائع نہیں ہوناچاہیے۔ عورت مہرکیرقم کسی دوسرے رشتہ دار کو دے سکتی ہے۔ صدقہ خیرات کرسکتی ، اپنی ذات پر استعمال کرسکتی ہے اور اس کا کل یا جزو معاف بھی کرسکتی ہے۔
خوشگوار خوش ہضم
فرمایا پس کھائو ھنیا خوشگوار مریا خوش ہضم مقصد یہ ہے کہ جو چیز تمہیں معاف کردی گئی ہے۔ اسے خوب مزے سیکھاسکتے ہو یا بلا جھجک استعمال کرسکتے ہو۔ چونکہ پہلے فلکوا آیا ہے لہٰذا اس نسبت سے ھنیاً مریاً آیا ہے ۔ شاہ عبدالقادر دہلوی (رح) اس کا ترجمہ کرتے ہیں۔ کھائو اس کو رچتا بچتا عربی میں مرد الطعام اس کھانے کو کہتے ہیں جو ہضم ہو کر جزو بدن بن جائے۔ خوراک بننے اور ہضم ہونے میں کسی قسم کی دقت نہ ہو۔ الغرض فرمایا کہ معافی کی صورت میں تم مہر کا مال استعمال کرسکتے ہو۔