Ayah 4:5ربط آیات
انسان کی تخلیق اور اس کے اجتماعی حقوق کا ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے مال کھانے سے منع فرمایا نیز یہ کہ یتیم لڑکیوں کے ساتھ ناانصافی مت کرو اگر تم ان کے حقوق ادا نہ کرسکتے ، مقررمہر نہیں دے سکتے اور ان کے ساتھ معاشرتی سلوک بھی نہیں کرپاتے تو پھر ان کی ساتھ نکاح نہ کرو ، بلکہ ان کے بجائے دوسری عورتوں سے نکاح کروجو تم کو پسند ہوں۔ اس کے بعدتعدد ازواج کا مسئلہ بھی بیان فرمادیا اور یہ بھی واضح کردیا کہ زیادہ عورتوں کی صورت میں اگر تم ان کے درمیان انصاف نہ کر سوکو تو پھر ایک ہی نکاح کافی ہے اس سے زیادہ مت کرو ، البتہ تم اپنی مملوکہ لونڈیوں سے بغیر نکاح کے استفادہ حاصل کرسکتے ہو۔ اگلی آیت میں اللہ نے یہ تلقین فرمائی کہ عورتوں کے مہرخوش دلی سے اداکرو۔ یہ تمہارے ذمہ ان کا حق ہے۔ اگر وہ اپنی خوشی سے مہر کا کچھ حصہ یا پورے کا پورا معاف کردیں یاعطیہ دے دیں یا وصول ہی نہ کریں تو وہ تمہارے لیے حلال طیب ہے اسے کھا سکتے ہو استعمال میں لاسکتے ہو۔ ابتدائے سورة سے لے کر دس آیتوں تک یتیموں کے متعلق ہی احکام آرہے ہیں۔ اس کے بعد وراثت کے مسائل بیان ہوں گے۔
مال کی حفاظت
یتیموں کے اموال اور عورتوں کے صر کی ادائیگی کے سلسلے میں یہ سوال پیدا ہوتا تھا کہ کیا یہ رقوم ہر حالت میں متعلقین کی تحویل میں دے دی جائیں خواہ وہ اس کی حفاظت کے اہل ہوں یا نہ ہوں ؟ یتیموں کے مال کی ادائیگی کے وقت کا بیان تو اگلی آیت میں آرہا ہے ، تاہم درمیان میں اللہ تعالیٰ نے مطلقاً مال کے متعلق فرمایا ولا توتوا السفھا اموالکم بیوقوفوں کو اپنے مال نہ سپرد کرو۔ رضائے جمع ہے سفیہ کی اور سفیہ بےعقل یا بیوقوف شخص کو کہا جاتا ہے ۔ ایسا انسان جو اپنے نفع نقصان کو نہیں سمجھ سکتا۔ پہلے پارے کے آخری رکوع میں آتا ہے۔ ومن یرغب عن ملۃ ابراھیم الا من سفہ نفسہ یعنی ملت ابراہیمی س وہی شخص اعراض کرے گا جس نے اپنے آپ کو بےقوف بنالیا۔ کوئی دانا اور سمجھ دار آدمی ایسی غلط بات نہیں کرسکتا اور اب اس آیت میں ارشاد ہے کہ اپنے مال بےعقلوں یا بیوقوفوں کے سپردنہ کرو حضرت عبداللہ بن عباس ؓ مفسر قرآن فرماتے ہیں کہ یہاں پر بےقوفوں سے مراد عورتیں اور بچے ہیں۔ اور منشائے ایزدی یہ ہے کہ لوگو ! اپنی موجودگی میں اپنا مال ومتاع اپنے بیوی بچوں کے سپرد نہ کر بیٹھو۔ عورتیں فطر تاً کم عقل ہوتی ہیں اور بچے نادان ہوتے ہیں اگر تم اپنی زندگی میں مال تقسیم کرکے خود فارغ ہو کر بیٹھ جائو گے تو یہ تمہارے لیے نقصان کا باعث ہوگا۔ تم خود مالک تھے ، عورتوں اور بچوں کے کفیل تھے مگر اب مال تقسیم کرکے خود ان پر بوجھ بن جائو گے۔ اسی لیے وراثت یا مال کی تقسیم زندگی میں کردینا پسندیدہ فعل نہیں ہے۔ فقہائے کرام ، محدثین اور علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اس قسم کی تقسیم انسان کے مرنے کے بعد ہی ہونی چاہیے اور اس کا مفصل فکر آگے اسی سورة میں آرہا ہے۔
غرض یہ کہ فرمایا بےقوفوں کو اپنے مال نہ دو التی جعل اللہ لکم قیما وہ مال جسے اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے قیام اور گزر ان کا ذریعہ بنایا ہے مقصد یہ ہے کہ جو مال تمہارے پاس جائز ذرائع سے پہنچا ہے ، وراثت سے حصہ ملا ہے ، تجارت کی ہے ، مزدوری وغیرہ کی ہے اور تمہارے گزر اوقات کا انحصار اسی پر ہے تو اسے بیوقوفوں کے سپرد کرکے ضائع نہ کرلو۔ وہ اپنی کم عقلی کی وجہ سے اس کی حفاظت نہیں کرسکتے جس کا نتیجہ یہ ہوگا۔ کہ تم مال سے محروم ہو کر مشکلات کا شکار ہوجائو گے۔
مال کا حسن وقبح
قرآن پاک میں اس بات کا کثرت سے تذکرہ آتا ہے کہ اکثر مالدار لوگ سرکشی کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اور لوگوں کے حقوق ادا نہیں کرتے۔ جب مال کی محبت حد سے بڑھ جاتی ہے تو حلال و حرام کی تمیز اٹھ جاتی ہے اور پھر انسان وجمع فاوعی کا مصداق بن جاتا ہے۔ و ہ ہر وقت مال جمع کرنے کی فکر میں لگا رہتا ہے اور پھر جب بہت سا مال جمع ہوجاتا ہے تو اس پر فخر کرنے لگتا ہے۔ مشرکین اور دیگر فرمان لوگ یہی کہتے تھے۔ نحن اکثر اموالا واولادًہمارے پاس مال بھی بہت ہے اور ہمارے نوجوان بیٹے بھی ہیں ، ہمیں کس بات کی پرواہ ہے۔ اللہ کے باغی یہاں تک کہہ دیتے ہیں وما نحن بمعذبین ہم کچھ بھی کرتے رہیں ہم عذاب میں مبتلا نہیں ہوں گے۔ ہمیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ مقصد یہ کہ مال کی وجہ سے ہی بعض اوقات انسان خدا تعالیٰ کا باغی ہوجاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں مال کے ایک دوسرے پہلو کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے انما اموالکم واولادکم فتنۃ بیشک تمہارے مال اور اولاد تمہاری آزمائش کا ذریعہ ہیں۔ مال واولاد کے ذریعے انسان اور تقرب الٰہی حاصل نہیں کرسکتا ، اس کے لیے تو ایمان اور عمل صالح کی ضرورت ہے مگر مال واولاد کے ذریعہ اللہ تعالیٰ آزمائش کرتا ہے کہ ان نعمتوں کے حاصل ہونے پر وہ اللہ کا مزید شکر گزار بندہ بنتا ہے یا اس کا باغی بن جاتا ہے۔ جائز طریقے سے کمایا ہوا مال تو بلاشبہ نعمت الٰہی ہے مگر ناجائز طریقے سے حاصل کردہ یہی مال انسان کے لیے وبال جان ہے اگلے جہان میں اسے اس کا حساب چکانا ہوگا۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے نعم المال للرجل الصالح مال اچھی چیز ہے۔ لیکن نیک انسان کے لیے اور نیک وہی ہوگا۔ جو خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور قیامت پر ایمان رکھتے ہوئے سب سے پہلے اللہ کا حق اداکرے اور پھر اس کے عطا کردہ مال میں سے مخلوق کا حق ادا کرے ، وہی اچھا ساتھی ہے ۔
مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ مال اس شخص کے لیے اچھا ہے لمن ادی حق اللہ جو اللہ کا حق ادا کرتا ہے اور بندوں کا حق بھی ادا کرتا ہے۔ اگر ایسا نہیں کرتا ، تو وہی مال انسان کے لیے سرکشی اور اکڑ کا باعث بنے گا۔ حضرت ابوذرغفاری ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ ان سے کسی نے دریافت کیا کہ انہیں بیت المال سے کچھ وظیفہ ملتا ہے کیا وہ قبول کرلیں ؟ سائل کو شبہ تھا کہ بیت المال کے مال میں ایسا مال نہ ہو کہ کسی کے ساتھ زیادتی کرکے حاصل کیا گیا ہو۔ آپ نے فرمایا کہ یہ مال لے لیا کرو۔ جب کہ یہ تمہارے لیے زندگی میں باعث اعانت ہو۔ البتہ یاد رکھو اذاکان ثمناً لدینکجب یہی مال تمہارے دین کی قیمت بن جائے۔ یعنی بیت المال کے عمال اس وظیفے کے بدلے تم سے کوئی خلاف شروع کام لینا چاہئیں۔ فدعہ پھر اس کو چھوڑ دو ۔ یہ حرام ہے۔
ملکیت اور تصرف
حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کا یہ ارشاد ہے کہ عورتیں اور بچے بےسمجھ ہوتے ہیں اس لیے مال ان کے سپرد مت کرو۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انہیں مال کی ملکیت حاصل ہونے سے روک رکھو ، بلکہ مقصد یہ ہے کہ مال کے مالک تو وہی ہوں گے مگر انہیں اس میں تصرف سے روکو کہ کہیں غلط تصرف سے مال کو ضائع نہ کردیں۔ اگر عورتوں کو مال پر مکمل تصرف حاصل ہوگا تو وہ اسے فیشن اور دیگر فضول کاموں پر خرچ کریں گی۔ اور اگر مال بچوں کے ہاتھ میں آگیا تو وہ کھیل تماشے پتنگ بازی ، آتش بازی وغیرہ میں اڑادیں گے لہٰذا انہیں بھی مال پر مکمل کنٹرول نہ دو ۔ بعض لوگ قیمتی مال کو رسومات باطلہ پر ضائع کردیتے ہیں یا پھر بدعات پر خرچ کر ڈالتے ہیں ، قبروں کی پختگی ، ان پر گنبدوں کی تعمیر ، چادر پوشی ، قوالی اور چڑھاوے کی نذر کردیتے ہیں۔ یہ سب ب سمجھی کی باتیں ہیں۔ شادی اور غمی کی فضول رسومال مال کا خواہ مخواہ ضیاع ہے اور ایسے لوگوں کے ہاتھ میں نہیں آنا چاہیے جو اسراف کے مرتکب ہوں۔ مشکوۃ شریف میں حضرت سفیان ثوری (رح) کی روایت موجود ہے الحال لایحتمل سرفاً یعنی حلال مال اسراف کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد بھی لاتسرفواً فضول خرچی نہ کرو۔ دوسرے مقام پر فرمایا ان المیذ دین کانواخوان الشطین فضول خرچ شیطان کے بھائی ہیں۔ بلاوجہ تقریبات کا اہتمام چراغاں ، قمقمہ بازی ، جھنڈیاں بےتحاشا کھانے ، سب فضول خرچی میں داخل ہیں۔ جو کوئی مال کو غلط مقام پر خرچ کرے گا قیامت کے دن مواخذے میں آئے گا۔ اسی لیے فرمایا کہ مال کو بیوقوفوں کے حوالے نہ کرو۔ یہ تمہارے لیے ذریعہ گزران ہے ، غلط ہاتھوں میں دے کر اسے ضائع نہ کرو۔
فرمایا مال کو اپنے پاس رکھو ، اس پر اپنا تصرف قائم رکھو مگر کسی کا حق ضائع نہ کرو۔ بیوی بچے تمہاری کفالت میں ہیں تو ان کی جائز ضروریات پوری کرو وارزقوھم فیھا اس مال میں سے ان کی خوراک کا بندوبست کرو۔ واکسوھم انہیں بھی پہنائو۔ مگر فضول کاموں کے لیے مال مت دو ۔ مسلم شریف کی روایت میں حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے نھی عن اضاعۃ المال حضور نے مال کے ضیاع سے منع فرمایا ہے۔ لہٰذا مال کو ضائع نہ کرو بلکہ اس کی حفاظت کرو اور جائز امور پر خرچ کرو۔
دعا کی نامقبولیت
امام شافعی (رح) نے حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ کی روایت بیان کی ہے۔ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے تین قسم کے آدمی ایسے ہیں جن کی دعا قبول نہیں ہوتی۔ فرمایا پہلی قسم کا شخص وہ ہے جس کی عورت بدکار ہے نہ وہ اسے برائی سے رو سکتا ہے اور نہ علیحدہ کرتا ہے ایسے شخص کو چاہیے کہ ایسی عورت کو اپنے پاس نہ رکھے۔ اگر عورت تائب ہوجائے تو ٹھیک ہے ورنہ اسے طلاق دے۔ فرمایا جو ایسا نہیں کرتا وہ دیوث ہے اور اس کی دعا مستجاب نہیں ہوتی۔
حضور ﷺ نے فرمایا دوسرا شخص جس کی دعا قبول نہیں ہوتی ، وہ ہے جو اپنا مال بیوقوف کے سپرد کردیتا ہے جو اسے ضائع کردیتا ہے یہ شخص گنہگار ہوگا اور اس کی دعا بھی قبول نہیں ہوگی۔ فرمایا تیسرا آدمی وہ ہے جو قرض دیتا ہے مگر اس پر گواہ نہیں بناتا۔ اس کوتاہی کی وجہ سے اکثر جھگڑے پیدا ہوتے ہیں جن کی نوبت قتل وغارتگری تک پہنچتی ہے۔ مقدمات قائم ہوتے ہیں۔ اور لوگ سخت پریشان ہوتے ہیں فرمایا ایسے شخص کی دعا بھی مستجاب نہیں ہوتی۔
خوش کلامی
فرمایا عورتوں اور بچوں کو کھلائو اور پہنائو۔ ان کی ضروریات زندگی پوری کرو ، انہیں تنگ نہ کرو۔ ضرورت کے مطابق خرچہ بھی ادا کرو مگر مال ان کے تصرف میں نہ دوکر ضائع کردیں گے ، البتہ وقولوا لھم قولاً معروفاً انہیں دستور کے مطابق اچھی بات کہو۔ ان کو سمجھا دو کہ یہ مال تمہارا ہی ہے مگر ہم اس کی حفاظت کریں گے ، اسے ضیائع سے بچائیں گے ، تجارت میں لگا کر منافع حاصل کریں گے اور تمہیں اس سے فائدہ ہوگا۔ اگر تم مال کو کھیل تماشے میں ضائع کردو گے تو خالی ہاتھ رہ جائو گے۔ غرض یہ کہ ان سے اچھی بات کہو کہ ان کی دل شکنی بھی نہ ہو اور مال بھی بچ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے یہی تعلیم دی ہے ۔ اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے وہ مدت بیان فرمائی ہے جب یتامیٰ اس عمر کو پہنچ جائیں کہ ان کا مال ان کے حوالے کیا جاسکے۔ اس کی تفصیل آگے آرہی ہے۔
Ayah 4:6یتیموں کی تربیت اور امتحان
گزشتہ درس میں یہ بیان تھا کہ بےعقلوں کو مال کی سپرداری مت کرو کہیں وہ ناسمجھی میں نقصان نہ کربیٹھیں۔ مال کی نگرانی خود کرو ، اور انہیں حسب ضرورت کھلاتے پلاتے رہو۔ اور انہیں سمجھاتے بھی رہو کہ تم ان کے خیر خواہ اور جو کچھ کر رہے ہو ان کے بہترین مفاد میں ہے۔ اب آج کی آیت میں اس بات کا تذکرہ ہے کہ ناسمجھوں کو اپنے ساتھ کاروبار میں شریک کرکے ان کی تربیت کرو۔ اور گاہے بگاہے ان کا امتحان بھی لیتے رہو۔ جب وہ اہل ہوجائیں تو ان کے مال ان کے حوالے کردو۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے کہ وابتلوا الیتمی اور یتیموں کو آزماتے رہو۔ ان کا امتحان لیتے رہو۔ اور امتحان اسی صورت میں ہوگا جب ان کی تربیت کی جائے گی۔ تو مقصد یہ ہے کہ جب تک یتیم اپنی جائیداد کا انتظام خود چلانے کے قابل نہیں ہوجاتے۔ تم خود متولی کی حیثیت سے کام کرتے رہو اور ساتھ ساتھ ان کی مناسب تربیت بھی کرو تاکہ وہ اس قابل ہوجائیں کہ اپنا کاروبار خود سنبھال سکیں۔
فرمایا انہیں آزماتے رہو حتی اذا بلغوا النکاح
حتی کہ جب وہ نکاح کی عمر کو پہنچ جائیں یعنی بالغ ہوجائیں۔ فان انستم منھم رشدا اور پھر تم معلوم کرلو کہ اب وہ سمجھ بوجھ سے کام لینے لگے ہیں۔ ان میں اچھے برے اور نفع نقصان کی تمیز پیدا ہوگئی ہے وہ کاربوار چلاسکتے ، دکان چلاسکتے ہیں یا کارخانے کا انتظام اپنے ہاتھ میں لے سکتے ہیں یا کھیتی باڑی کرسکتے ہیں تو فادفعو الیھم اموالھمان کے مال ان کے سپرد کردو۔ تاکہ وہ اپنی ذمہ داری محسوس کریں اور اپنا کام آپ سنبھالیں۔
سن
اس آیت کریمہ میں سن بلوغت کے لیے ” نکاح کی عمر “ کے الفاظ آئے ہیں تاہم مراد بلوغت ہی ہے۔ اس ضمن میں فقہائے کرام میں معمولی سا اختلاف ہے کہ سن بلوغت ہی ہے اس ضمن میں فقہائے کرام میں معمولی سا اختلاف ہے کہ سن بلوغت کس عمر میں شروع ہوتا ہے۔ اکثر فقہاء کرام جن میں امام شافعی (رح) ، امام مالک (رح) ، امام محمد (رح) شامل ہیں نیز امام ابوحنیفہ (رح) کے دونوں شاگرد امام ابو یوسف (رح) اور امام محمد (رح) ان سب کا قول ہے کہ نکاح کی عم ریاسن بلوغت پندرہ سال ہے تاہم حقیقی بلوغ لڑکے کے لیے جب احتلام آجائے اور لڑکی کے لیے جب حیض آجائے۔ بلوغت کے لیے یہ قطعی علامات ہیں مگر ان میں کمی بیشی ہوسکتی ہے بعض اوقات لڑکے کو عرصہ تک احتلاف نہیں آتا یا لڑکی کو حیض نہیں آتا تو اس صورت میں بلوغ پندرہ سال سے شمار ہوگا۔ اس ضمن میں اما مابوحنیفہ (رح) کی دو روایات ہیں۔ ایک روایت کے مطابق سن بلوغت میں آپ بھی باقی آئمہ کے ساتھ متفق ہیں اور دوسری مشہور روایت کے مطابق آپ لڑکے کا بلوغ اٹھارہ سال سے اور لڑکی کا سترہ سال سے شمار کرتے ہیں۔ بہرحال فرمایا کہ جب وہ سن بلوغت کو پہنچ جائیں اور ان میں (………) سوجھ بوجھ پیدا ہوجائے تو انہیں ان کے مال کی سپرداری دے دو ۔ اب انہیں شرعی بالغ سمجھا جائے گا۔
ناجائز تصرف کی ممانعت
یتیموں کے متولیوں کو خاص طور پر ہدایت فرمائی کہ وہ سپرداری کے مال کو ناجائز طور پر استعمال نہ کریں۔ فرمایا ولا تاکلو ھا اسرافاً اور نہ کھائو یتیموں کے مال کو اسراف کرتے ہوئے۔ اسراف حد سے بڑھنے کو کہتے ہیں اور یہاں مقصد یہ ہے کہ جس مال کے متولی ہو اس کو جائز طریقے سے استعمال نہ کرو ، ایسے ناجائز طریقے استعمال نہ کرو جن سے یتیم کا مال ضائع ہوتا ہو۔ یہ اسراف ہے وبداراً اور جلدی کرتے ہوئے بھی مال کو خرچ نہ کرو اور اس خیال سے ان یکبروا کہ وہ بڑے ہوجائیں گے۔ لہٰذا یتیموں کے سن بلوغت سے پہلے پہلے خوب خرچ کرلو ، اس کے بعد تو مال ان کو واپس کرنا ہی ہے اور پھر ہمارا تصرف ختم ہوجائے گا۔ مبادرت جلدی کو کہتے ہیں اور انسان سے جو کام جلدی میں سرزد ہوجاتا ہے اسے بھی مبادرۃ کہتے ہیں فرمایا اس قسم کا غلط خیال دل میں لاکر یتیم کے مال کو بےدریغ اڑانا درست نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی ممانعت فرمائی ہے۔ حضرت شیخ الاسلام بھی یہی فرماتے ہیں کہ یتیم کے مال کی حفاظت کرنی چاہیے اور صرف بوقت ضرورت اور بقدر ضرورت ہی خرچ کرنا چاہیے۔
معاوضہ بمطابق حیثیت وضرورت
اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یتیم کا متولی اس کے مال میں سے اپنی ذات کے لیے کچھ لے سکتا ہے یا نہیں۔ جو شخص یتیم کے مال کی حفاظت کرتا ہے اسے کاروبار میں لگاتا ہے اس کی جائیداد کی دیکھ بھال کرتا ہے ، اپنا وقت اور استعداد لگاتا ہے ، اسے کس حد تک معاوضہ حاصل کرنے کی اجازت ہے اس سوال کے جواب میں اللہ رب العزت نے فرمایا ومن کان غنیا فلیستعففجو کوئی غنی یعنی مالدار ہے ، وہ یتیم کے مال سے اجتناب کرے ، اپنی پیش کردہ خدمات کا کچھ معاوضہ نہ لے۔ شرعی معیار کے مطابق غنی وہ شخص ہے جو صاحب نصاب ہے اور زکوۃ ادا کرتا ہے۔ قربانی دیتا ہے اور صدقہ فطر بھی ادا کرنے کا پابند ہے۔ مقصد یہ کہ اگر ایسا شخص اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی جائز ضرورت اپنے مال سے پوری کرسکتا ہے تو پھر وہ یتیم کی سرپرستی کا معاوضہ وصول نہ کرے۔ البتہ ومن کان فقیراً جو کوئی فقیر ہے۔ اس کا ذاتی اثاثہ اتنا نہیں ہے کہ وہ اپنے گھر کے اخراجات برداشت کرسکے اور اسے اپنا وقت اور استعداد یتیم کے مال کے انصرام میں لگانا پڑتا ہے۔ تو اس کو اجازت ہے فلیا کل بالمعروف کہ وہ دستو رکے مطابق یتیم کے مال سے اپنا معاوضہ لے سکتا ہے۔ بالمعروف سے مراد یہ ہے کہ وہ اپنی خدمات کا جائز اور بقدر ضرورت معاوضہ لے۔ محض یتیم کا مال سمجھ کر سے ناجائز طور پر ہضم کرنے کی کوشش نہ کرے۔ اگر ایسا کرے گا تو عنداللہ ماخوذ ہوگا۔
حضرت مولانا مفتی محمد شفیع صاحب (رح) اکابر علماء اور ہمارے اساتذہ میں سے ہیں۔ دارالعلوم دیوبند ہیں ہم نے ان سے طحاوی شریف پڑھی تھی اپنے زمانے کے فقیہہ تھے ، اللہ تعالیٰ نے فقاہت میں وافر حصہ عطا فرمایا تھا۔ آپ نے معارف القرآن کے نام سے قرآن پاک کی تفسیر بھی لکھی جو آج کل بہت متداول ہے۔ یہ تفسیر دراصل حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) کی تفسیر بیان القرآن کو سہل کرنے کی ایک کوشش ہے اور عام اردو دانوں کے استفادہ کے لیے بڑی مفید ہے۔ صحت کے لحاظ سے بھی یہ تفسیر اعلیٰ درجے کی ہے کیونکہ اس میں غلطیاں بہت شاذ ہیں۔ تو صاحب تفسیر مولانا مفتی صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت سے یہ عام قانون سھی سمجھ میں آتا ہے کہ یہ حکم صرف یتیم کے مال کے سلسلے میں ہی نہیں ہے۔ بلکہ اس کا اطلاق ہر قومی وملکی ادارے کی خدمات کے سلسلے میں بھی ہوتا ہے۔ اس حکم کے تحت حکومت کے ادارے خصوصاً محکمہ اوقاف ، تعلیمی اور انتظامی دفاتر ، مساجد اور مدارس آتے ہیں۔ ان اداروں میں کام کرنے والے لوگوں کو محض جذبہ خدمت کے تحت فرائض انجام دینے چاہیں۔ جن لوگوں کے پاس اپنا ذاتی اثاثہ موجود ہو ، جس سے وہ اپنی اور گھر بار کی جائز ضروریات پوری کرسکتے ہو ، انہیں ان اداروں میں کام کرنے کا کوئی معاوضہ وصول نہیں کرنا چاہیے۔ البتہ جن کارکنان کی گزراوقات کا اور کوئی ذریعہ نہ ہو۔ انہیں بیت المال میں سے مناسب معاوضہ حاصل کرنا جائز ہے اس میں حسب ضرورت کرایہ مکان ، سفر خرچ وغیرہ وصول کیا جاسکتا ہے۔ تاہم جائز ضرورت سے زیادہ کھیل تماشے ، ریڈیو ، ٹیلی ویژن ، فرنیچر ، فریج ، قالین وغیرہ فضول خرچی میں شامل ہوں گے۔
اسراف کی ممانعت
اسراف کی ممانعت محض یتیم کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ فضول خرچی پوری قوم اور ملت کے ساتھ خیانت کے مترادف ہے۔ اگر اس کا مواخذہ دنیا میں نہ بھی ہوسکے تو آخرت میں تو لامحالہ اس کا حساب دینا پڑے گا۔ جس طرح گزشتہ آیت میں بےعقلوں کو مال کی سپرداری سے منع فرمایا گیا ہے کہ وہ اس کے اہل نہیں ، اسی طرح یہ آیت کسی شخص کو ایسا عہدہ یا منصب دینے کی ممانعت کرتی ہے ، جو اس کام کا اہل نہیں نااہل کو کسی اہم عہدے پر فائز کرنا قوم وملت کے ساتھ خیانت ہوگی۔ کیونکہ ایسے شخص کی نااہلی کا اثر پورے معاشرے پر پڑے گا۔ اور سارا نظام درہم برہم ہوجائے گا ۔
حضرت مولانا عبیداللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص مال کے ضیاع کے سبب بن رہا ہے تو اسے فوراً روک دیا جائے۔ صرف حکومت ہی کی ذمہ داری نہیں بلکہ جماعتی یا انفرادی ہر سطح پر یہ ذمہ داری محسوس کی جانی چاہیے۔ جس کسی کے دائرہ اختیار میں کوئی نقصان ہورہا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ اپنی حیثیت کے مطابق اس کا سدباب کرے وگرنہ وہ بھی اس نقصان کے اسباب میں شمار ہوگا مگر بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ خود حکومت کے نمائندے فضول خرچی پر تلے ہوئے ہیں وہ دوسروں کو کیا روکیں گے۔ شیخ سعدی (رح) فرماتے ہیں ؎
مدبر کہ قانون بدمی وہد
ترامی برد تایہ آتش دہد
(برا قانون نافذ کرنے والا تجھے سیدھا جہنم کی طرف لے جاتا ہے)
مگر یہاں تو معاملہ ہی الٹ ہے ، ہر حکومتی اجتماعی اور انفرادی سطح پر اسراف وتبذیر کا بےدریغ ارتکاب کیا جارہا ہے۔ قبر پرستی ، عرس گنبد ، چڑھاوے ، پرتکلف ، دعوتیں ، بلاضرورت استقبال ایسی چیزیں ہیں جن پر لاکھوں روپیہ ضائع کیا جارہا ہے۔ شادی اور غمی کی رسومات میں کتنا روپیہ اور اناج ضائع کیا جاتا ہے مگر کوئی پوچھنے والا نہیں۔ ہر شخص دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش میں ہے۔ وہ نہیں سمجھتا کہ وہ رسم بدجاری کرکے ملک وملت کا کتنا نقصان کررہا ہے ہماری ملت جس قدر شدید انحطاط میں اس وقت ہے ، قدیم زمانے میں اس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا۔
حضرت عمر بن خطاب ؓ فرمایا کرتے تھے ، میں نے اپنے آپ کو بیت المال میں یتیم کے متولی کی طرح اتار رکھا ہے جب میرے پاس ضروریات کے لیے ذاتی اثاثہ ہوتا ہے ، تو بیت المال سے کچھ نہیں لیتا اور جب پاس کچھ نہیں ہوتا بیت المال سے قرض لے لیتا ہوں۔ جب کچھ آجاتا ہے تو قرض واپس کردیتا ہوں۔ حضرت عمر ؓ کا یہ فعل تو ان کی شان عای پر دلالت کرتا ہے وگرنہ ضرورت مند کو اپنی خدمات کا معاوضہ لینا بالکل جائز ہے۔
لین دین پر گواہی
یتیموں کے مال کی واپسی کے بارے میں فرمایا فاذا دفعتم الیھم اموالھم جب تم ان کے مال واپس کرو فاشھدوا علیھم تو ان پر گواہ بنالو۔ مقصد یہ ہے کہ لین دین فریقین صرف اپنے طور پر ہی انجام نہ دے لیں بلکہ ایسا کام گواہوں کے روبرو ہونا چاہیے تاکہ اگر کسی وقت کوئی تنازعہ پیدا ہوجائے تو اس سے نمٹنا آسان ہو۔ یہ معاملہ ہی ایسا ہے کہ اس سے اغماض نہیں برتنا چاہیے۔ سورة بقرہ کے آخر میں جہاں ادھار اور لین دین کے مسائل بیان ہوئے ہیں ، وہاں پر بھی گواہ بنانے کی تلقین کی گئی ہے اور یہاں پر بھی فرمایا کہ جب تم یتیموں کو ان کا مال واپس کرو ، تو اس پر گواہ قائم کرلو بلکہ یہ اس طرف بھی اشارہ ہے کہ جب یتیموں کے متولی کی حیثیت سے ان کے مال کو قبضہ میں لو ، تو اس وقت بھی یہ لین دین گواہوں کی موجودگی میں کرو اور پھر ان کے سن بلوغت کو پہنچنے پر جب واپس کرنے لگو تب گواہوں کے روبر ایسا کرو۔ تاکہ سب کو علم ہوجائے کہ کسی متولی یا سرپرست نے کس قدرمال حاصل کیا تھا اور اب کتنا واپس کررہا ہے۔ اس سے واضح ہوجائے گا کہ یتیم کے مال میں کس قدر کمی بیشی ہوئی ہے۔ اور یہی چیز سرپرست کی دیانتداری کی ضمانت ہوگی۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ لین دین گواہوں کی موجودگی میں کیا کرو۔
محاسبہ الٰہی
لین دین میں دیانت داری کا قانون بتلانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے توجہ دلائی اگر تم قانون کی پابندی سے گریز کروگے تو یہ نہ سمجھنا کہ تمہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔ تم کسی نہ کسی طرح دنیا کے قانون کی نظر سے تو بچ سکتے ہو مگر یاد رکھو وکفی باللہ حسیباً تمہارا حساب لینے کے لیے تمہارا اللہ کافی ہے۔ جب اس کے دربار میں حاضر ہوگے تو پھر وہاں کوئی حیلہ بہانہ نہیں چل سکے گا۔ وہاں پائی پائی کا حساب دینا ہوگا۔ عام طور پر مال و دولت انسان کی کمزوری ہے۔ اس کی چمک دمک دیکھ کر لوگ جائز وناجائز کی تمیز کھوبیٹھے ہیں۔ تنخواہ ، وظیفہ ، بھتہ ، الائونس وغیرہ کے مختلف ناموں سے روپیہ اکھٹا کیا جاتا ہے۔ معاملہ تعلیم کا ہو یا تبلیغ کا فتویٰ نکاح کا ہو یا طلاق کا ، جب انسان کے دل میں دولت کی ہوس پیدا ہوجاتی ہے تو تقویٰ کی پونجی ختم ہوجاتی ہے۔ پھر ایمان کا جنازہ نکل جاتا ہے ، دیانت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہتی اور انسان لالچ کا بندہ بن کر رہ جاتا ہے۔ اس وقت انسان بھول جاتا ہے کہ اس کا مواخذہ بھی ہونے والا ہے اور کسی نے اس کا حساب بھی لینا ہے وکفی باللہ حسیباً مگر یاد رکھو ! اللہ کافی ہے حساب لینے والا۔
Ayah 4:7ربط آیات
گزشتہ آیت میں یتیم لڑکوں کے بالغ ہونے پر ان کے مال ان کو واپس لوٹانے کا مسئلہ بیان ہوا۔ گزشتہ سے پیوستہ میں مال کی حفاظت کا قانون تھا اور اس سے پہلے عورتوں کے ساتھ انصاف کا برتائو کرنے اور ان کے مہر خوش دلی سے ادا کرنے کی تلقین تھی ، اس سے پہلے یہ مسئلہ بیان ہوا تھا کہ یتیموں کے مال کو ناجائز طریقے سے کھاجانا سخت گناہ ہے۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ نے وراثت کے قوانین کا آغاز فرمایا ہے۔ آج کی آیت میں تو قانون وراثت کا اجمالی تذکرہ ہے اور زمانہ جاہلیت میں عورتوں اور چھوٹے بچوں کے ساتھ وراثت کے معاملہ میں جو زیادتی ہوتی تھی اس کا رد کیا گیا ہے تاہم وراثت کے مفصل قوانین آگے آرہے ہیں۔
زمانہ جاہلیت میں قانون وراثت
زمانہ جاہلیتی میں دیگر معاشرتی قوانین کی طرح وراثت کے متعلق بھی کوئی مستقل قانون نہیں تھا ، جو طریقہ رائج ہوگیا ، اسی کے مطابق نسل درنسل عمل ہوتا رہتا تھا۔ وراثت کے متعلق مروجہ دستور یہ تھا کہ مرنے والے کے بیوی بچوں میں سے نہ تو بیوہ کو کچھ ملتا تھا اور نابالغ بچوں کو دیا جاتا تھا اگر مرنے والے کا کوئی جوان بیٹا ہوتا تو ساری وراثت کا حق دار وہی سمجھا جاتا اور باقی بیوی بچے محروم رہ جاتے ۔ وہ لوگ باپ کی وراثت کا حق دار اس بیٹے کو سمجھتے تھے جو لڑائی میں حصہ ینے کے قابل ہو ، تیر ، تلواریانیزہ چلاسکتا ہو دشمن پر حملہ آور ہوسکتا ہو اور اپنا دفاع بھی کرسکتا ہو۔ چھوٹے بچے اس معیار پر پورے نہیں اترتے تھے لہٰذا انہیں ترکے میں سے کچھ نہیں ملتا تھا۔ تقریباً اسی قسم کا قانون ہندوئوں میں بھی پایا جاتا ہے وہ بھی بڑے بیٹے کو ہی وارث بناتے ہیں۔ انگریزوں میں بھی کم وبیش یہی قانون رائج ہے۔ مگر ایسے تمام قوانین غلط اور ظالمانہ ہیں جن میں ساری اولاد کے ساتھ مساویانہ سلوک نہ کیا گیا ہو۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے وراثت کا وہ قانون نازل فرمایا جو حق و انصاف پر مبنی ہے اور انسانی فطرت کے عین مطابق ہے۔
شان نزول
آج کی آیت کریمہ کا شان نزول حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت سے ملتا ہے۔ حضور ﷺ کے زمانہ میں یہ واقعہ پیش آیا کہ ایک صحابی اوس ؓ بن ثابت فوت ہوگئے ، صاحب جائیداد تھے ، اپنے پیچھے بیوی ، دو بیٹیاں اور ایک کمسن بیٹا چھوڑا ، مروجہ قانون وراثت کے مطابق ان میں سے کوئی بھی وراثت کا حق دار نہیں تھا۔ چناچہ مرنے والے کے بھائیوں سوید اور عرفطہ نے ساری جائیداد پر قبضہ کرلیا۔ حقیقی اولاد کے وراثت سے محروم ہونے کی بناء پر بطور عصبہ وہی مالک تھے۔ اس صورت حال میں حضرت اوس ؓ کی بیوہ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا حضور ! اوس کے پس ماندگان میں سے ہم چار موجود ہیں مگر وراثت میں سے ہمیں کچھ بھی نہیں ملا اس لیے ہماری گزر اوقات کا کوئی ذریعہ باقی نہیں رہا۔
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اس پر اللہ تعالیٰ نے قانون وراثت کی یہ آیت نازل فرمائی۔
وراثت کا اجمالی قانون
وراثت کے تفصیلی احکام تو آگے آرہے ہیں تاہم یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اجمالی طور پر یہ بات سمجھائی ہے کہ وراثت کا جاہلانہ دستور جس میں وراثت صرف نوجوان بیٹوں کو ہی ملتی تھی اور عورتیں اور بچے محروم رہ جاتے تھے یہ بالکل غلط تھا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا للرجال نصیب مما ترک الوالدان والا قربونمرنے کے بعد والدین اور دیگر قرابت دار جو کچھ چھوڑ جائیں اس میں مردوں کا حصہ ہے اور اسی طرح وللنساء نصیب مما ترک الوالدن والا قربون والدین اور اقربا کے ترکہ میں سے عورتوں کا بھی حصہ ہے۔ جہالت کے قانون کے تحت عورتوں کو محروم رکھنا ہرگز قرین انصاف نہیں ، بلکہ ان کے ساتھ صریحاً ظلم ہے۔ اور پھر اس میں چھوٹے بڑے کا بھی کوئی فرق نہیں۔ بیوی کا حصہ موجود ہے۔ بیٹا خواہ بڑا ہو یا چھوٹا برابر کا حصے دار ہے۔ اسی طرح ہر عمر کی بیٹیاں بھی اپنا حصہ وصول کرنے کی حق دار ہیں۔ عمر میں چھوٹا بڑا ہونے کی بناء پر وراثت کے حصہ میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ باپ کی وفات کے وقت ایک دن کے بچے کو بھی برابر کا حصہ ملے گا ، بلکہ جو بچہ ابھی ماں کے پیٹ میں ہے وہ بھی وراثت میں برابر کا شریک ہے۔ شریعت اسلامیہ نے عورت مرد یا چھوٹے بڑے کی تمام تفریق ختم کردی ہے۔ ہر وارث اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ حصہ وصول کرنے کا حقدار ہے۔
قانون وراثت میں استثناء
البتہ بعض استثناء ہیں جن میں حقیقی اولاد بھی وراثت سے حصہ نہیں لے سکتی۔ سب سے پہلے پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات گرامی ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔ نحن معاشر الانبیاء لانورث ماترکنا صدقۃ یعنی ہم انبیاء کی جماعت مورث (جن کی وراثت تقسیم کی جائے) نہیں بنا کرتے ، یعنی ہماری وراثت کسی کو نہیں ملتی۔ ہم جو کچھ چھوڑ جاتے ہیں وہ غربا اور مساکین کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔ گویا ایک تو پیغمبر کی وراثت تقسیم نہیں ہوتی۔ ہاں پیغمبر اپنے باپ کی وراثت سے حصہ لے سکتا ہے بشرطیکہ باپ خود پیغمبر نہ ہو۔
وراثت میں دوسرا استثنایہ ہے کہ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان وراثت تقسیم نہیں ہوتی۔ لایرث المسلم للکافروالا الکافر السلم یعنی نہ مسلمان کافر کا وارث بن سکتا ہے اور نہ کافر مسلمان کی وراثت میں سے حصہ لے سکتا ہے۔ اگر باپ مسلمان ہے اور بیٹا عیسائی ، مرزائی یا کسی طرح مرقد ہوگیا ہے تو وہ باپ کی وراثت سے محروم ہوگیا ہے اسی طرح بیٹا مسلمان ہے اور باپ کا فر ہے تو پھر بیٹا کافر باپ کی وراثت نہیں لے سکتا۔ حضرت علی ؓ اور حضرت جعفر ؓ مسلمان تھے مگر ان کے دو دوسرے بھائی کافر تھے۔ باپ کی وفات پر حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ ہم کافر باپ کی جائیداد سے حصہ لینے کے مجاز نہیں لہٰذا باپ کا مکان کافر بھائیوں طالب اور عقیل نے لے لیا۔ اگرچہ بعد میں فتح مکہ کے موقع پر عقیل بھی مسلمان ہوگئے تھے تاہم یہ طے شدہ قانون شریعت ہے کہ مومن اور کافر کے درمیان وراثت نہیں چلتی۔ یہ دوسری استثنا ہے۔
فرمایا تیسری استثنا یہ ہے کہ قاتل مقتول کا وارث نہیں بن سکتا۔ بیٹا باپ کو قتل کردے یا بھتیجا ایسے چچا کو قتل کردے جس کی وراثت اس کو پہنچ سکتی تھی تو اس قتل کی وجہ سے وہ مقتول کی وراثت سے محروم ہوجائے گا اسی طرح آزاد اور غلام کے درمیان بھی وراثت نہیں چلتی۔ باپ بیٹے میں سے کوئی بھی غلام ہے۔ تو اس کی وراثت آزاد بیٹے یا آزاد باپ کو نہیں ملے گی۔ آزاد آدمی کی وراثت کا حقدار اس کا آزاد وارث ہی ہوسکتا ہے۔
ارتکاز دولت
اس آیت کریمہ سے یہ بات بھی اخذ ہوتی ہے کہ ترکہ کا مال بہرحال تقسیم ہونا چاہیے مماقل منہ اوکثر تھوڑا ہو یا زیادہ سب کا سب تقسیم ہوجاناچاہیے۔ ترکہ میں نقدی ہو یا سامان ، مکان ہو یا زمین ، برتن ہوں یا کپڑے ، کسی کمپنی کے حصص (SHARES) ہوں یا کارخانہ ہرچیزف ورثا میں بانٹ دینی چاہیے۔ اگر وراثت تمام وارثان میں بقدر حصہ تقسیم نہیں ہوگی ، تو ارتکاذ دولت پیدا ہوجائے گی اور یہ چیز اسلام کی روح کے منافی ہے سورة حشر میں جہاں مال فے کی تقسیم کا تذکرہ ہے وہاں فرمایا کہ اس میں فلاں فلاں کا حصہ ہے کی لایکون دولۃ بین الا غنیا منکم تاکہ دولت صرف دولت مندوں میں ہی مرتکز ہو کر نہ رہ جائے۔ اسے غرباء و مساکین سب تک پہنچنا چاہیے۔ معاشرے میں مال وزر کی مثال ایسے ہی ہے جیسے انسانی جسم میں خون ہے۔ جسم کے جس حصے میں خون کی گردش رک جائے گی وہ حصہ مردہ ہوجائے گا۔ اسی طرح معاشرے کے جس طبقہ میں مال کی گردش نہیں پہنچتی وہ حصہ بھی ناکارہ ہوجاتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ دولت کو پورے نہیں پہنچتی وہ حصہ بھی ناکارہ ہوجاتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ دولت کو پورے معاشرے میں گردش کرنا چاہیے کسی حصے میں بھی اس کی رکاوٹ پسندیدہ نہیں وراثت کی تقسیم بھی گردش زر کا ایک ذریعہ ہے لہذا وراثت تمام حقداروں میں تقسیم ہونی چاہیے۔ فرمایا اگر ایک گز کپڑا دس وارثوں میں قابل تقسیم ہے تو اسے تقسیم کرنا چاہیے۔ ہاں اگر ورثاء آپس میں طے کرلیں تو کوئی بھی ناقابل تقسیم چیز کسی ایک کے سپرد کرکے اس حصہ دار سے اپنے حصہ کے مطابق نقدی وصول کی جاسکی ہے۔ کارخانہ یا مکان ہے جسے عملی طور پر کئی حصے داروں میں تقسیم کرنے سے نقصان ہونے کا خطرہ ہے تو ایسی صورت میں اس چیز کی قیمت مقرر کرو۔ پھر وہ چیز کوئی ایک حصہ دار اپنے ذمہ لے کر باقیوں کو بقدر حصہ روپیہ ادا کردے یا پوری کی پوری جائیداد فروخت کرکے تمام حصہ دار اپنا اپنا حصہ نقدی کی صورت میں وصول کرلیں۔ بہرحال فرمایا ارتکاذ دولت (CONCENTRATION OF WEALTH) نہیں ہونی چاہیے۔ یہاں یہ چیز بھی یاد رہے کہ تقسیم وراثت صرف والدین اور اولاد کے درمیان ہی ضروری نہیں بلکہ شریعت کے مطابق جسے بھی حصہ پہنچتا ہے خواہ وہ چچا ہو یا تایا یا اس کے بیٹے یا بھائی یا دادا یا پوتا ترکہ کا مال لازماً تقسیم ہونا چاہیے کسی حصے دار کا حصہ ضائع نہیں ہونا چاہیے۔
وراثت کے حق دار
وراثت کا مقصل قانون آگے آرہا ہے تاہم اجمالاً یوں کہا جاسکتا ہے۔ میت کا ترکہ اس شخص کو پہنچے گا جو رشتہ میں باپ کی طرف سے اس کے زیادہ قریب ہوگا۔ پھر اس سے دور والا اور اس کے بعد اس سے دور کے رشتہ دار وراثت کے حقدار ہوتے ہیں قرآن وسنت کی رو سے تین قسم کے رشتہ دار وراثت کے حقدار ہوتے ہیں یعنی ذوی الفروض ، عصبات ، اور ذوی الارحام ، ذی الفروض وہ قریبی رشتہ دار ہیں جن کے حصص قرآن پاک نے مقرر فرمادئیے ہیں اور یہ مختلف صورتوں میں مختلف ہوتے ہیں۔ ان میں کل وراثت کا آٹھواں ، چوتھا ، نصف یا کل حصہ قابل تقسیم ہوتا ہے ۔ اس کے بعد دوسرے نمبر پر وہ اقربا آتے ہیں جو میت کے زیادہ قریب ہوں ، ان میں بیٹا ، چچا ، تایا ان کے بیٹے وغیرہ آتے ہیں۔ یہ عصبات کہلاتے ہیں۔ اور تیسرے نمبر کے رشتہ دار ذوی الارحام کہلاتے ہیں۔ جب باپ کی طرف سے میت کا کوئی وارث موجود نہ ہو تو پھر ماں کی طرف سے رشتہ دار بھی وراثت میں شامل ہوتے ہیں جیسے ماموں ، بھانجا وغیرہ۔
اس مسئلہ میں فقہائے کرام میں کچھ اختلاف بھی پایا جاتا ہے۔ امام شافعی (رح) صرف دو قسم کے اقربا یعنی ذوی الفروض اور عصبات کی وراثت کے قائل ہیں وہ فرماتے ہیں۔ اگر ان دو اقسام میں سے کوئی وارث نہ ہو ، تو ترکہ بیت المال میں جمع ہوجائے گا۔ البتہ امام ابوحنیفہ (رح) ذوی الارحام کو بھی وراثت میں حصہ دیتے ہیں۔ بشرطیکہ پہلی دو اقسام یعنی ذوی الفروض اور عصبات میں سے کوئی موجود نہ ہو۔ حضور ﷺ کا اپنا فرمان بھی ہے الخال وارث من الاوارث لہ جب اور کوئی وارث نہ ہو تو ماموں بھی وارث ہے۔
مقرر حصص
فرمایا وراثت کا مال تھوڑا ہو یا زیادہ اس کی تقسیم بہرحال ہونی چاہیے اور کم سے کم حصے دار کو بھی محروم نہیں کرنا چاہیے۔ منشائے ایزدی یہی ہے۔ آگے فرمایا نصیباً مفروضا اللہ تعالیٰ نے یہ حصے اپنی حکمت نامہ سے مقرر فرمادیے ہیں۔ ان میں نہ تو کوئی کمی بیشی ہوسکتی ہے اور نہ کسی کو بالکل محروم کیا جاسکتا ہے۔ آگے صراحتاً یہ بیان آتا ہے کہ وراثت کا قانون کسی انسان یا اور مخلوق کا قانون نہیں بلکہ یہ قانون اللہ تعالیٰ نے اپنی خاص حکمت سے وضع فرمایا ہے اس میں ترمیم وتنسیخ کا کسی کو حق نہیں پہنچتا۔ یہ تو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس وارث کو کتنا حصہ ملنا چاہیے نیز یہ کہ تمہارے حق میں کون سی چیز بہتر ہے بہرحال اس آیت میں اللہ نے وراثت کا اجمالی قانون بیان فرمادیا ہے ، آگے تفصیلات آرہی ہیں۔
Ayahs 4:8–10ربط آیات
سورة النساء کے پہلے رکو ع میں اللہ تعالیٰ نے زیادہ تر یتیموں کے حقوق بیان فرمائے ہیں۔ یتیموں کے ساتھ حسن سلوک ، ان کی رہائش کا بندوبست ، ان کے مال کی حفاظت وغیرہ کا تذکرہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ یتیم لڑکیوں کے ساتھ انصاف کرنے کی خاص طور پر تلقین فرمائی ہے۔ گزشتہ درس میں اللہ نے زمانہ جاہلیت کے اس دستور کا رد فرمایا جس کے ذریعے وہ لوگ عورتوں اور نابالغ بچوں کو وراثت سے محروم رکھتے تھے۔ اور اسلام کے قانون وراثت کا اجمالی تذکرہ فرمایا۔ اللہ تعالیٰ نے واضح فرمادیا کہ ہر مرد وزن ، چھوٹے بڑے ، جوان اور بوڑھے کے لیے وراثت میں حصہ مقرر کردیا گیا ہے کسی شخص کی موت کے وقت اس کے جو قربت دار موجود ہوں گے وہ اپنا حصہ حاصل کرنے کے حق دار ہوں گے۔ نیز اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ وراثت کی ہر چیز تقسیم ہونی چاہیے اور کسی حق دار کا حق ضائع نہیں ہونا چاہیے۔ اگر میت نے کسی سے قرضہ لینا ہے تو وصولی پر وہ بھی حصہ رسدی تقسیم ہوگا۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ اس کا مقرر کردہ قانون وراثت ہے۔
غیر ورثا سے حسن سلوک
آج کے درس میں اللہ جل شانہ نے ان غیر وارث اقربا اور دیگر غربا و مساکین سے حسن سلوک کا حکم دیا ہے جو تقسیم وراثت کے وقت موجود ہوں۔ ارشاد ہوتا ہے واذحضر القسمۃ الوا القربی تقسیم وراثت کے موقع پر اگر قرابتدار آجائیں۔ یعنی وہ عزیز و اقارب جو شرعاً اس وراثت کے حق دار نہیں۔ والیتمی والمسکین یا کوئی دیگر یتیم مسکین وغیرہ جمع ہوجائیں۔ جیسا کہ ایسے مواقع پر اکثر ہوتا ہے تو فرمایا فارزقوھم منہ اس میں سے یعنی وراثت کے مال میں ایسے حاضرہ آمدہ لوگوں کو ہی کھلا پلادو۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ حکم مشترک مال میں سے کھلاتے پلانے کا نہیں ، بلکہ یہ خطاب ان بالغ اور حاضر وارثوں سے ہے جو وراثت کا مال حاصل کریں۔ اپنا حصہ وصول کرنے کے بعد ان کے لیے حکم ہے کہ وہ اپنے حصہ میں سے غیر وارث اقربا یا غریب غربا کو بھی کچھ دے دیں۔ یہ حکم نابالغ وارثوں کے لیے نہیں ہے۔ کیونکہ سن بلوغت تک انہیں مال میں تصرف حاصل نہیں اور غیر حاضر وارثان کے حصہ سے کوئی دوسرا حصے دار کوئی چیز ادا نہیں کرسکتا کیونکہ یہ اصل حصے دار کا ہی حق ہے لہٰذا یہ حکم حاضر اور بالغ وارثان کے لیے ہے بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ حکم ابتدا میں اس وقت تک کے لیے تھا جب تک وراثت کے مفصل احکام نازل نہیں ہوئے تھے۔ جب یہ احکام نازل ہوگئے وراثت کے حصے اللہ نے مقرر کردئیے تو پھر یہ حکم منسوخ ہوگیا تاہم امام بیضاوی (رح) اور بعض دیگر مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت کی رو سے یہ حکم بطور استحباب اب بھی موجود ہے اگرچہ فرض واجب نہیں۔ لہٰذا اگر تقسیم وراثت کے وقت ایسے لوگ آجائیں تو انہیں دے دلا دینا مستحب ہوگا۔
نیز فرمایا وقولوالھم قولا معروفًا ان سے معقول بات کرو تاکہ ان کی دل شکنی نہ ہو۔ مقصد یہ کہ کچھ تھوڑا بہت دے کر انہیں نرمی سے بات سمجھائو کہ بھئی ! اس میں دوسروں کا بھی حق ہے اس لیے ہم زیادہ تو نہیں دے سکتے ، جو خدمت کرسکتے ہیں اس کو خوش دلی سے قبول کرلو۔ اس قسم کے امیدواروں کے ساتھ سخت کلامی سے پیش آنا ہرگز درست نہیں۔ وہ اگرچہ وراثت میں حصے دار نہیں مگر امداد کے مستحق ہیں۔ اللہ نے تمہیں کچھ مال بغیر محنت کے دیا ہے تو اس میں سے غریب مسکین کی مدد بھی کرو تاکہ اللہ تعالیٰ راضی ہوجائے۔
مشترک مال کے مسائل
فقہائے کرام نے مشترک مال کے بہت سے مسائل بیان فرمائے ہیں۔ جس کے کئی حصہ دار ہوں وہ مال تمام حصہ داروں کی رضا مندی کے بغیر خرچ نہیں کیا جاسکتا۔ کسی حصہ دار کی غیر حاضری میں کسی دوسرے کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ مال کی ادنیٰ سے ادنی مقدار میں بھی تصرف کرسکے۔ اسی لیے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ مشترک مال میں سے صدقہ خیرات بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اسی طرح چھوٹے بچے جنہیں اپنے مال پر ابھی تصرف حاصل نہیں ، ان کے مال کو کسی کے حوالے کردینا خواہ صدقہ خیرات ہی ہو جائز نہیں کیونکہ جس طرح یتیم کا مال خود کھانا حرام ہے ، کسی دوسرے کو کھلانا بھی حرام ہے ۔ لہٰذا صدقہ خیرات کیسے ہوسکتا ہے ، فوتیدگی کی رسومات منجملہ قل اور چالیسواں وغیرہ جو مرنے والے کے مشترکہ مال سے ادا کی جاتی ہیں بالکل جائز نہیں۔ اس میں یتیموں ، مسکینوں اور غیر حاضر وارثات کا حصہ ہے لہٰذا کسی شخص کو یہ حق نہیں پہنچتا ہے کہ تمام حق داران کی اجازت کے بغیر اس میں سے سوچ کرے خواہ وہ ایصال ثواب کے لیے کیوں نہ ہو۔ البتہ بالغ وارثان اپنے حصے کا سارا مال بھی صدقہ خیرات کردیں تو درست ہوگا۔
مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ میت کا کفن دفن تو اس کے ترکہ سے ہو سکتا ہے۔ مگر میت کی چارپائی کے اوپر ڈالی جانے والی چادر اس مال سے نہیں خریدی جاسکتی کیونکہ یہ کفن کا حصہ نہیں بعض اوقات میت کو غسل دینے کے لیے نئے برتن خریدے جاتے ہیں۔ ترکے کا مال اس پر بھی خرچ نہیں کیا جاسکتا ، کیونکہ ترکے کا مال تمام وارثان کا مشترکہ مال ہے۔ اول تو نئے برتن خریدنے ہی نہیں چاہئیں ، پرانے برتنوں میں غسل جائز ہے اور اگر ضرور خریدنا ہے تو کوئی وارث اپنے ذاتی مال سے خریدے ، مشترک مال استعمال نہیں کیا جاسکتا ، میت کے جسم پر جو کپڑے ہیں ، ان کا بھی یہی حکم ہے۔ کسی کو اختیار نہیں کہ وہ ان کپڑوں کو ازخود صدقہ کردے کیونکہ وہ ترکہ کے مشترک مال کا حصہ ہیں۔ جنازے کے لیے سواگز کپڑے کا جائے نماز بنایا جاتا ہے جو یا تو صدقہ کردیا جاتا ہے یا امام کو دے دیا جاتا ہے۔ یہ کپڑا بھی زاید ہے ، میت کے مال سے نہیں خریدا جاسکتا کیونکہ یہ بھی مشترک مال کے حکم میں آتا ہے۔
بچوں کے ساتھ خیر خواہی
یتیم بچوں کے حقوق کی حفاظت اور ان کے ساتھ خیر خواہی کے سلسلہ میں ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ذرا غور کرو اگر تمہارے بچے یتیم ہوجائیں تو تم ان کی خاطر جس قدر فکر مند ہوگے اسی قدر دیگر یتیم بچوں کے ساتھ حسن سلوک ، وہ بھی تمہاری ہمدردی کے مستحق ہیں ، ارشاد ہوتا ہے۔
ولیخش الذین تو ترکوا من خلفھم ذریۃ ضعفاً خافوا علیھم اور چاہیے کہ وہ لوگ اس بات سے ڈر جائیں کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے کمزور اولاد چھوڑ جاتے ، تو انہیں کتنا خوف ہوتا۔ وہ فکر مند ہوجاتے کہ ان کے بعد ان کے بچوں کے ساتھ لوگ کیسا سلوک کریں گے۔ اللہ تعالیٰ یہ بات سمجھا رہے ہیں کہ جو چیز تم اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ وہی دوسروں کے لیے پسند کرو۔ اگر تم چاہتے ہو کہ تمہارے بعد تمہارے چھوڑے بچوں کے ساتھ بہتر سلوک ہو ، تو تم خود بھی یتیموں اور ضعیفوں کے ساتھ ہمدردانہ اور خیر خواہانہ سلوک کرو۔ یہ اہل اسلام کا اخلاق ہے جس کی تعلیم دی جارہی ہے۔
حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد مبارک ہے 1 ؎ بخاری 6 ص ج ا ومسلم ص 50 ج ا وترمذی 361 (فیاض)
ان تحب لاخیک ماتحب لنفسک یعنی تم اس وقت تک کامل الایمان نہیں ہوسکتے جب تک تم اپنے بھائی کے لیے بھی وہی چیز پسند نہ کرو جو اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ اگر تم اپنے لیے آرام و راحت کے خواہش مند ہو ، اپنے بچوں کے ساتھ ہمدردی چاہتے ہو تو دوسروں کے ساتھ تم خود ایسا کرکے اپنے ایمان کی تکمیل کرو۔ اگر مسلمان میں یہ چیز پیدا نہیں ہوتی تو وہ اپنے دعویٰ ایمان میں سچا نہیں ہے۔ اگر نظام سرمایہ داری کی طرح لوٹ کھسوٹ ہی کرنا ہے تو دین سے کیا سیکھا۔ وہاں تو امیروں کے بچوں کے لیے تعلیم وتربیت کے اعلیٰ ادارے قائم ہیں مگر غریب کے بچے کو کسی ادنی سکول میں بھی داخلہ نہیں ملتا یہ کہاں کا انصاف ہے۔ اسلام کی تعلیم تو یہ ہے کہ جو اپنے لیے پسند کرتے ہو ، وہی اپنے بھائی کے لیے بھی خواہش کرو۔
معیار تقوی
الغرض ! فرمایا اپنے بچوں کی طرف دھیان کرکے دوسرے یتیم اور بیکس بچوں کا خیال کرو۔ فلیتقوا اللہ پس چاہیے کہ وہ لوگ اللہ سے ڈر جائیں تقویٰ کا معیار ہی یہ ہے خوف خدا اور حدود شریعت کی پابندی۔ اگر یہ معیار پیدا ہوجائے تو انسان کبھی کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرے گا ، کسی کا حق نہیں کھائے گا بلکہ دوسروں کے ساتھ ہمدردی اور خیر خواہی سے پیش آئے گا۔
اور اگر تقویٰ کا عنصر ہی موجود نہیں ہے ۔ خدا کا خوف نہیں آتا ظلم وجور کرکے پشیمان نہیں ہوتا۔ کفر ، شرک اور معاصی کو ترک نہیں کرتا تو وہ جو چاہے کرتا پھرے۔ کون پوچھنے والا ہے اس کا حساب تو قیامت کو رب العزت کی بارگاہ میں ہی ہوگا۔ اسیف لیے فرمایا اللہ سے ڈر جائو ولیقولو قولاً سدیداً اور سیدھی بات کرو۔ زیادتی والی کوئی بات نہ کرو ، خاص طور پر ضعیفوں کے ساتھ تندوتیز یا تلخ بات ہرگز نہ کرو ، بلکہ معقول بات کرو۔ ان کے ساتھ ہمدردی اور خیر سگالی کی بات کرو ، ان کی حوصلہ افزائی کرو۔ اس سے تمہیں بھی فائدہ ہوگا اور دوسرے مسلمانوں کے لیے بھی دنیا اور عاقبت میں فائدہ ہی فائدہ ہے۔
اکل حرام کی سزا
آگے اللہ تعالیٰ نے یتیموں کا مال ناجائز طریقے سے کھانے والوں کے لیے سزا کا تذکرہ کیا ہے۔ ان الذین یاکلون اموا الیتمی ظلماً بیشک جو لوگ یتیموں کا مال ناجائز طریقے سے کھاتے ہیں۔ ان کے کم خرچہ کو زیادہ ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے کاروبار میں ڈنڈی مارتے ہیں یا ان کا مال اپنے مال کے ساتھ ملاکر ہیراپھیری کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا انما یاکلون فی بطونھم ناراً وہ اپنے پیٹوں میں دوزخ کی آگ ڈال رہے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے ، حضور ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن بعض لوگ قبروں سے اس حالت میں نکلیں گے ، کہ ان کے منہ سے آگے کے شعلے اٹھ رہے ہوں گے۔ آپ نے یہ بیان کرنے کے بعد فرمایا کہ تم نے قرآن پاک میں یہ نہیں پڑھا انما یاکلون فی بطونھم ناراً یہ لوگ دنیا میں لوگوں کا مال ناجائز طریقے سے کھا کر اپنے پیٹوں میں آگ بھرتے رہے ، اب وہ ظاہر ہورہی ہے۔
ملی نقصان
اس آیت سے مفسرین کرام یہ بھی اخذ کرتے ہیں کہ یتیموں کے ساتھ ظلم و زیادتی ، ان کے حقوق کا ضیاع اور ان کی حفاظت و سرپرستی سے دست کشی ان کے لیے تو تکلیف دہ ضرور ہے مگر ایسا کرنا قومی اور ملی نقصان بھی ہے۔ اگر قوم کے یتیم بچوں کی حفاظت کا انتظام نہیں ہوگا تو لوگ اس خوف سے جہاد میں شریک نہیں ہوں گے کہ شہادت کی صورت میں ان کے بچے یتیم ہو کر دربدر کی ٹھوکریں کھاتے پھریں گے اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا۔ جب جذبہ جہاد ختم ہوجائے گا تو قوم غیروں کی مغلوب ہوجائے گی۔ اور اپنے پائوں پر کھڑا ہونے کے قابل نہیں رہے گی۔ اس طرح قوم کے نوجوان لوگ بزدلی کا شکار ہوجائیں گے جو کہ ایک بہت بڑا قومی نقصان ہوگا۔
جہنم میں داخلہ
فرمایا جو لوگ یتیموں کا مال ناجائز طریقے سے کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹوں میں آگ ڈال رہے ہیں۔ آج تو خوب مزے لے لے کر کھاتے ہیں۔ مگر قیامت کے دن یہی مال آگ کی صورت میں ان کے پیٹوں سے برآمد ہوگا۔ اور پھر وسیصلون سعیراً وہ لوگ جہنم میں داخل ہوجائیں۔ انہیں اس وقت معلوم ہوگا کہ دنیا کی چند روزہ زندگی میں آرام کی خاطر انہوں نے یتیم کا حق غصب کیا اور اب ہمیشہ کے لیے جہنم رسید ہو کر دائمی سزا میں مبتلا ہو رہے ہیں۔
پہلی دس آیات میں یتیموں سے حسن سلوک کا تذکرہ کرنے کے بعد آگے وراثت کے تفصیلی قوانین آرہے ہیں۔