4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 4:17–18

اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ یَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِیْبٍ فَاُولٰٓئِكَ یَتُوْبُ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلِیْمًا حَكِیْمًا Open ayah 4:17 in the Quran reader

بیشک توبہ کی قبولیت اللہ کے ذمے ان لوگوں کے لیے ہے جو برائی نادانی کی وجہ سے کرتے ہیں۔ پھر توبہ کرلیتے ہیں جلدی ، یہی لوگ ہیں جن کے اوپر اللہ تعالیٰ (مہربانی) سے رجوع فرماتا ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ جاننے والا اور حکمت والا ہے

وَ لَیْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السَّیِّاٰتِ١ۚ حَتّٰۤى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّیْ تُبْتُ الْئٰنَ وَ لَا الَّذِیْنَ یَمُوْتُوْنَ وَ هُمْ كُفَّارٌ١ؕ اُولٰٓئِكَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا Open ayah 4:18 in the Quran reader

اور ان لوگوں کے لیے توبہ نہیں جو برائیاں کرتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کے سامنے موت آجاتی ہے تو کہتا ہے کہ بیشک میں اب تو بہ کرتا ہوں اور نہ ان لوگوں کے لیے توبہ ہوتی ہے جو اس حالت میں مر جاتے ہیں کہ وہ کفر کرنے والے ہوتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کیا ہے

ربط آیات پہلے وراثت کے مسائل بیان ہوئے۔ اس کے بعد معاشرے کی درستگی اور اس کی پاکیزگی کے احکام کا تذکرہ ہوا۔ اور زنا اور لواطت جیسی قبیح بیماری کی مذمت کی گئی اور بدکار عورتوں کو تازیست محبوس رکھنے اور مردوں کو اذیت پہنچانے کا حکم دیا گیا۔ البتہ اگر ایسے لوگ توبہ کرکے اپنی اصلاح کرلیں تو فرمایا کہ پھر انہیں ایذا نہ پہنچائو۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ کی صفات بیان ہوئیں کہ وہ توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔ اب یہاں درمیان میں جملہ معترضہ کے طور پر توبہ کی شرائط کا ذکر آگیا ہے اور اس بات کی وضاحت فرمادی گی ہے کہ زنا اور لواطت جیسے کبیرہ گناہ سے بھی توبہ کرلی جائے ، انسان سچے دل سے نادم ہوجائے تو اس کے لیے بھی قبولیت کا موقع موجود ہوتا ہے۔ معافی مل سکتی ہے مگر بعض شرائط کے ساتھ اس کے بعد پھر وہی معاشرتی احکام آرہے ہیں۔ نکاح اور عورتوں کے حقوق کا تذکرہ آئے گا۔ اور جیسا کہ یہ سلسلہ پیچھے سے چلا آرہا ہے بعض دیگر معاشرتی مسائل بھی بیان ہوں گے۔ گناہ بالجہالت ارشاد ہوتا ہے ان التوبۃ علی اللہ بیشک توبہ قبول کرنا اللہ تعالیٰ کے ذمے ان لوگوں کے لیے ہے للذین یعملون السوء بجھالۃ جو برائی جہالت اور نادانی کی وجہ سے کرتے ہیں۔ آیت کے ظاہری الفاظ سے محسوس ہوتا ہے کہ صرف اسی گناہ کی توبہ قابل قبول ہے جو بےسمجھی کی وجہ سے سرزد ہو ، جس کا مطلب یہ ہے کہ جو برائی جان بوجھ کر عمداً کی جائے اس کے لیے معافی کی کوئی گنجائش نہیں۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے بلکہ ہر گناہ خواہ وہ عمداً سرزد ہو یا خطاً ہر حالت میں قابل معافی ہے۔ کیونکہ یہاں پر جہالت سے مراد حماقت اور بےوقوفی ہے اور گناہ جب بھی کیا جائے وہ حماقت ہی کا نتیجہ ہوتا ہے اور حماقت اس لیے کہ گناہ کرنے والے کی نظر گناہ کے انجام تک نہیں پہنچتی جس کی وجہ سے وہ گناہ کا اقدام کرتا ہے۔ اگر گناہ کا انجام اس کے سامنے ہو تو کبھی گناہ پر اقدام نہ کرے مگر حقیقت یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص برائی کا ارتکاب کرتا ہے اس پر غفلت کے پردے پڑے ہوتے ہیں ۔ بہرحال جہالت سے مراد یہ ہے کہ گناہ کرتے وقت انسان کے ذہن وفہم پر پردے پڑے ہوئے ہیں۔ گناہ عمداً ہو یا بھول کر انسان اس کے انجام سے غافل ہوتا ہے اسی لیے فرمایا کہ توبہ ان لوگوں کے لیے ہے جو جہالت کی وجہ سے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اقدام گناہ کے درجات امام غزالی (رح) اپنی کتاب احیاء العلوم میں تحریر فرماتے ہیں کہ گناہ پر اقدام کا پہلا درجہ معصومین کا ہے اور یہ گروہ وہ ملائکہ اور انبیاء (علیہم السلام) کا ہے۔ جو گناہ پر اقدام کرتے ہی نہیں۔ انبیاء بڑے اعلیٰ مرتبے کے لوگ ہوتے ہیں ان سے جو معمولی سے معمولی لغزش بھی ہوجاتی ہے وہ اگرچہ عام لوگوں کے لیے گناہ بھی شمار نہیں ہوتا مگر انبیاء کے لیے قابل مواخذہ ہوتی ہے درحقیقت گناہ کا اقدام نہ ملائکہ سے سرزد ہوتا ہے اور نہ انبیاء کرام سے۔ گناہ کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ کسی انسان سے گناہ سرزد ہوجائے تو اس کے بعد اس کے دل میں ندامت بھی پیدا نہ ہو بلکہ وہ اس پر اصرار کرتا رہے۔ یہ شیاطین کا درجہ ہے دنیا میں ایسے انسان موجود ہیں جو اس روش پر چل رہے ہیں۔ گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں اور پھر کرتے چلے جاتے ہیں ان کے قلب وذہن میں کبھی ندامت پیدا نہیں ہوتی۔ گناہ کا تیسرا درجہ یہ ہے کہ بنی آدم گناہ کا ارتکاب کرتے ہیں مگر جلدی ہی اس پر نادم ہوجاتے ہیں اور گناہ کو ترک کردیتے ہیں یہ انسانوں کا درجہ ہے ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا کہ وہ جہالت کی وجہ سے گناہ کرتے ہیں جب ان کی جہالت دور ہوتی ہے ، وہ نادم ہو کر گناہ ترک کردیتے ہیں اللہ تعالیٰ سے معافی کے خواستگار ہوتے ہیں تو پھر ایسے لوگوں کی توبہ اللہ تعالیٰ قبول بھی فرما لیتے ہیں۔ توبہ کا دروازہ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے التائب حبیب اللہ یعنی گناہ سے صحیح طور پر توبہ کرنے والا اللہ کا محبوب ہوتا ہے۔ آپ نے یہ بھی ارشاد فرمایا 1 ؎ ابن ماجہ 313 (فیاض) التائب من الذنب کمن لاذنب لہ گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے گویا اس نے گناہ کیا ہی نہیں۔ اور توبہ کس وقت تک قبول ہوتی ہے فرمایا 1 ؎ ترمذی 005 (فیاض) مالم یغرغر جب تک انسان پر غرغرہ واقع نہ ہوجائے۔ جب اس پر حالت نزع طاری ہوجای ہے ، پردہ اٹھ جاتا ہے اور فرشتے نظر آنے لگتے ہیں اس وقت توبہ قبول نہیں ہوتی۔ جب تک انسان کے ہوش و حواس قائم رہتے ہیں توبہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ دوسری حدیث میں آتا ہے کہ انسانوں کی توبہ قبول ہوتی رہے گی۔ حتی کہ قیامت آجائے یعنی پورے عالم پر حالت نزع طاری ہوجائے۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ مغرب کی جانب ایک بڑا دروازہ ہے جب وہ دروازہ بند ہوگیا تو پھر کسی شخص کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔ مسند احمد شریف کی روایت میں یوں آتا ہے کہ انسان کی توبہ اس وقت تک قبول ہوتی رہتی ہے مالم یکنک حجاب جب تک کہ حجاب نہ واقع ہوجائے۔ اور حجاب کی تفسیر آپ نے یہ فرمائی کہ انسان کی جان اس حالت میں نکل جائے کہ وہ شرک میں مبتلا ہو۔ ایسے شخص پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حجاب پڑگیا۔ ایسی ہی حالت کے متعلق فرمایا انھم عن ربھم لمحجوبون ان پر ان کے اللہ کی طرف سے حجاب پڑچکا ہے۔ گناہ کے بعد توبہ کرکے انسان بلند مقام حاصل کرلیتا ہے۔ سورة توبہ میں اللہ تعالیٰ نے دوسرے لوگوں کے ساتھ ” التائبون “ یعنی توبہ کرنے والوں کو بھی خوشخبری سنائی ہے۔ سورة نور میں فرمایا ” وتوبو الی اللہ جمعیاً ایہ المومنون لعلکم تفلحون “ اے ایمان والو ! تم سارے کے سارے اللہ سے توبہ کرو تمہیں فلاح نصیب ہوجائے۔ غرضیکہ قرآن میں توبہ کی فضیلت کثرت سے آئی ہے۔ اس مقام پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ انسان کا ہر گناہ نادانی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اس پر غفلت کا پردہ ہوتا ہے اور وہ گناہ کے انجام سے ناواقف ہوتا ہے۔ آگے فرمایا ثم یتوبون من قریب گناہ کے سرزد ہونے کے بعد جلدی ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ کتنی جلدی ؟ اس کی تفصیل بھی احادیث میں موجود ہے۔ بعض روایات میں موت سے ایک سال پہلے یا ایک مہینہ یا ایک ہفتہ ایک ایک دن یا ایک گھڑی بھر پہلے بھی انسان توبہ کرلے تو وہ قابل قبول ہوتی ہے یہاں تک کہ جب غرغرہ کی حالت طاری ہوجاتی تو توبہ کا درواہ بند ہوجاتا ہے چونکہ انسان کی زندگی بالکل قلیل مدت کے لیے ہے اس لیے مذکورہ تمام حالتوں پر قریب ہی کا اطلاق ہوتا ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ زندگی میں بقائمی ہوش و حواس تائب ہوجائے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول فرمالیتا ہے۔ تائب اللہ تعالیٰ کی صفت ہے اور اس کا معنی رجوع کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ پنے بندے پر مہربانی سے رجوع فرماتا ہے اور بندہ گناہ ترک کرکے خدا کی طرف انابت کے ساتھ رجوع کرتا ہے ” انیبوا الی ربکم واسلموالہ “ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے۔ اپنے رب کی طرف فرمانبرداری ، اطاعت اور انابت کے ساتھ رجوع کرو۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا فائولک یتوب اللہ علیھم اللہ تعالیٰ ان پر رحمت کے ساتھ رجوع فرماتا اور ان کی توبہ قبول کرلیتا ہے وکان اللہ علیماً حکیماً اور بیشک اللہ تعالیٰ جاننے والا اور حکمت والا ہے وہ ہر انسان کی ہر بات کو جانتا ہے اور اس کا کوئی حکم حکمت سے خالی نہیں وہ اپنے بندوں کے حال سے خوب واقف ہے اور وہ انہیں معاف کردینا چاہتا ہے ضرورت صرف ا س بات کی ہے کہ انسان اس کی طرف رجوع کرے۔ توبہ کی عدم قبولیت آگے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جن کی توبہ قبول نہیں۔ ارشاد ہوتا ہے ولیست التوبۃ اور ان لوگوں کے لیے توبہ نہیں ہے۔ للذین یعملون السیاتجو برائیاں کرتے رہتے ہیں۔ حتی اذا حضر احدھم الموت یہاں تک کہ جب ان پر موت حاضر ہوجاتی ہے۔ قال انی تبت الن تو کہتے ہیں کہ میں نے اب توبہ کی۔ مگر اس وقت توبہ کی قبولیت کا دروازہ بند ہوچکا ہوتا ہے۔ فرعون نے بھی غرق ہوتے وقت یہی کہا تھا ” قال امنت انہ لا الہ الا الذی امنت بہ بنوا اسرائیل “ یعنی میں بھی اسی اللہ پر ایمان لایا جس پر بنی اسرائیل ایمان رکھتے ہیں وہاں یہ لفظ ہے الئن تو اب ایمان لاتا ہے مگر توبہ کا وقت گزرچکا تھا۔ اللہ نے فرمایا تو بڑا غنڈا تھا۔ مفسد تھا ، زمین میں فساد پھیلارکھا تھا۔ اب تو اپنے انجام کو پہنچ چکا ہے۔ بہرحال نزع کی حالت سے پہلے پہلے توبہ قبول ہوسکتی ہے اس کے بعد اس کا دروازہ بند ہوجاتا ہے۔ توبہ کی تین شرائط مفسرین نے توبہ کی تین شرائط کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلی شرط یہ ہے۔ کہ گناہ میں آلودہ ہونے کے بعد انسان ندامت محسوس کرے کہ اس نے یہ برا کام کیا ہے ایک حدیث میں التوبۃ الندم کے الفاظ آتے ہیں یعنی توبہ ندامت ہی کو کہا جاتا ہے۔ جب انسان کسی برے فعل پر شرمندگی محسوس کرے تو توبہ کی پہلی شرط پوری ہوتی ہے اور دوسری شرط یہ ہے کہ جو غلط کام ایک دفعہ یا بارہا کیا جارہا ہے اس کو تک کردے۔ اگر توبہ بھی کرتا ہے اور گناہ پر اصرار بھی جاری رکھے تو ایسی توبہ کا کچھ اعتبار نہیں جیسا کہ غالب نے کہا ہے مے بھی پئے جاتے ہیں ، توبہ بھی کرتے جاتے ہیں یہ بھی جاری ، وہ بھی جاری ، ایسی توبہ کا کوئی فائدہ نہیں اور توبہ کی تیسری شرط ہے کہ جو غلط کام کیا ہے اس کی تلافی بھی کرے۔ کسی کا حق غصب کیا ہے اس کو ادا کرے یا اس سے معافی چاہے۔ اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی حق ضائع کیا ہے ، نماز ، روزہ ، زکوۃ وغیرہ ہی کوتاہی ہوئی ہے اس کو پورا کرے۔ نمازوروزہ کی قضا دے۔ اگر معذور ہوگیا ہے تو اس کے بدلے فدیہ ادا کرے۔ قرآن پاک میں موجود ہے الا الذین تابوا واصلحوا یہاں پر اصلاح کا لفظ تلافی ہی کے معنی میں آیا ہے۔ بہرحال توبہ کی تین شرائط ہیں ۔ پہلی ندامت ، دوسری ترک گناہ اور تیسری تلافی جب ان شرائط کے ساتھ توبہ کی جائے گی تنو اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں گے۔ کفار کی توبہ نہیں فرمایا ایک تو نزع کی حالت کے وقت توبہ قبول نہیں ہوتی اور دوسرے ولا الذین یموتون وھم کفار ایسے لوگوں کی توبہ بھی نامقبول ہے جو کفر کی حالت میں ہی مرجائیں۔ ان پر حجاب پڑگیا۔ کفر کی حالت میں ہی خاتمہ ہوگیا۔ وہ ابدی طور پر توبہ سے محروم ہوگئے ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا اولئک اعتدنا لھم عذاباً الیماً ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔ وہ ہماری گرفت سے بچ نہیں سکتے۔
Ayahs 4:19–21

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَآءَ كَرْهًا١ؕ وَ لَا تَعْضُلُوْهُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَاۤ اٰتَیْتُمُوْهُنَّ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ۚ وَ عَاشِرُوْهُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ١ۚ فَاِنْ كَرِهْتُمُوْهُنَّ فَعَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْئًا وَّ یَجْعَلَ اللّٰهُ فِیْهِ خَیْرًا كَثِیْرًا Open ayah 4:19 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تمہارے لیے حلال نہیں ہے کہ تم وارث بن جائو عورتوں کے زبردستی اور نہ روکو ان کو تاکہ تم بعض وہ چیزیں لے جائو جو تم نے ان کو دی ہیں سوائے اس کے کہ وہ بےحیائی کی کھلی بات کریں اور ان عورتوں سے میل جو رکھو دستور کے مطابق پس اگر تم ان کو ناسند کرو اور شاید کہ سم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ اس میں بہت سی بہتری بنادے

وَ اِنْ اَرَدْتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ١ۙ وَّ اٰتَیْتُمْ اِحْدٰىهُنَّ قِنْطَارًا فَلَا تَاْخُذُوْا مِنْهُ شَیْئًا١ؕ اَتَاْخُذُوْنَهٗ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا مُّبِیْنًا Open ayah 4:20 in the Quran reader

اور اگر تم تبدیل کرنا چاہتے ہو ایک عورت کی جگہ دوسری عورت کو اور تم نے ان میں سے ایک کو ڈھیر مال دیا ہے تو اس میں سے کوئی چیز بھی نہ لو کیا تم لیتے ہو اس کو بہتان اور صریح گناہ کی شکل میں

وَ كَیْفَ تَاْخُذُوْنَهٗ وَ قَدْ اَفْضٰى بَعْضُكُمْ اِلٰى بَعْضٍ وَّ اَخَذْنَ مِنْكُمْ مِّیْثَاقًا غَلِیْظًا Open ayah 4:21 in the Quran reader

اور تم اس کو کیسے لوگے حالانکہ پہنچ چکے ہیں تمہارے بعض بعض کی طرف اور لیا ہے ان عورتوں نے تم سے پختہ عہد

ربط آیات گزشتہ سے پیوستہ درس میں مردوں اور عورتوں کی اخلاقی بےحیائی کا ذکر تھا ، اور اس کی سزا کا تعین بھی تھا پھر درمیان میں اللہ تعالیٰ نے توبہ کی قبولیت کا وقت تواب اور رحیم کا تذکرہ فرمایا۔ توبہ کی شرائط کا بیان آیا ، نیز یہ بھی کہ توبہ کی قبولیت کا وقت نزع کی حالت شروع ہونے سے پہلے پہلے ہے۔ جب دوسرے جہان کی چیزیں نظر آنے لگیں۔ انسان قریب المرگ ہوجائے تو اس وقت کی توبہ قبول نہیں ، اسی طرح جو لوگ کفر کی حالت پر ہی مرجائیں ان کی توبہ بھی قبول نہیں۔ البتہ ان حالات سے پہلے پہلے جو شخص سچے دل سے توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتے ہیں۔ مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ ابلیس نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کہا تھا کہ اے پروردگار ! میں انسانوں کو اس وقت تک گمراہ کرتا رہوں گا ، جب تک ان کے جسموں میں جان باقی ہے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے جواب میں فرمایا جب تک میرے بندے مجھ سے بخشش طلب کرتے رہیں گے۔ میں ان کو معاف کرتا رہوں گا۔ غرضیکہ اللہ تعالیٰ نے توبہ کو بندے کے لیے آخری وقت تک ذریعہ نجات بنادیا ہے۔ اب اگلی آیات میں پھر عورتوں کے مسائل آرہے ہیں۔ زمانہ جاہلیت میں عورتوں کے ساتھ جو بدسلوکی اور ناانصافی ہوتی تھی ، اس کا دوبارہ تذکرہ آرہا ہے یہاں پر بھی اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کے وقت مروجہ رسم و رواج کی تردید فرمائی ہے اور صحیح راستے کی طرف راہنمائی فرمائی ہے۔ اس کے بعد نکاح کے ضمن میں ان عورتوں کا ذکر ہے جو محرمات نکاح میں شمار ہوتی ہیں اور جن کے ساتھ کسی شخص کا نکاح جائز نہیں ہوتا۔ شان نزول صحیح احادیث میں آتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں فوت شدہ شخص کے پیچھے اگر اس کا سوتیلا بیٹا ہوتا تھا تو وہ اپنے باپ کی بیوہ یعنی سوتیلی ماں پر قبضہ کرلیتا تھا۔ بیوہ عورت کو بھی مرنے والے کا ترکہ سمجھ کر اس کے ساتھ وراثت جیسا سلوک ہی کیا جاتا تھا۔ پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اس زمانے میں وراثت کا کلی حقدار مرنے والے کا بڑا بیٹا یا بھائی یا بھتیجا وغیرہ ہوتے تھے۔ چھوٹے بچوں اور عورتوں کو وراثت سے محروم رکھا جاتا تھا۔ چونکہ بیوہ کو بھی وراثت ہی کا ایک حصہ تصور کیا جاتا تھا۔ لہٰذا مرنے والے کا وارث یا تو اس عورت سے خود نکاح کرلیتا تھا یا مہر اور مال وغیرہ حاصل کرکے اس کا نکاح کسی دوسری جگہ کردیتا تھا۔ اور اس کی بدترین صورت یہ تھی کہ اگر وارث مرنے والے کا دوسری بیوی سے سوتیلا بیٹا ہے تو وہ خود اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرلیا تھا۔ ایسی عورتوں کے ساتھ ایک اور بدترین سلوک یہ کیا جاتا تھا کہ بعض اوقات اگر بوجوہ وارث اس عورت کے ساتھ نکاح نہیں کرنا چاہتا تھا تو اسے دوسری جگہ نکاح کرنا ے کی اجازت بھی نہیں دیا تھا وہ جانتا تھا کہ اگر عورت نے دوسرا نکاح کرلیا تو وہ اپنے ساتھ اپنا مال بھی لے جائے گی اور مرنے والے کا وارث اس عورت کے علاوہ اس کے مال سے بھی محروم ہوجائے گا۔ حضور نبی کریم ﷺ کے زمانہ مبارک میں ایک ایسا واقعہ بھی پیش آیا کہ ایک عورت آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا حضور ! میرا خاوند مرچکا ہے اور دوسری بیوی سے اس کا جو بیٹا ہے اسنے مجھے گھر میں ڈال رکھا ہے نہ وہ مجھ سے اچھا سلوک کرتا ہے اور نہ مجھے آزاد کرتا ہے کہ دوسری جگہ نکاح کرلوں۔ ایسی حالت میں مجھے کیا کرنا چاہیے۔ اس کے جواب میں نبی (علیہ السلام) نے فرمایا تم گھر میں بیٹھو اللہ تعالیٰ تمہارے بارے میں یقینا کوئی حکم نازل فرمائیں گے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ آیات اسی ضمن میں نازل ہوئیں۔ عورت بطورمال وراثت ارشاد خداوندی ہییایھا الذین امنوا اے ایمان والو۔ لایحل لکم ان ترثوا النساء کرھاً تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ تم عورتوں کے زبردستی وارث بن بیھٹو ، جس بےچاری کا خاوند فوت ہوگیا ہے تم اس کو بھی مال وراثت کا حصہ سمجھ کر اس پر قبضہ کرلو۔ اور ان سے من مانا سلوک کرو۔ یہ بھی فرمایا ولا تعضلوھن اور نہ روک رکھو ان عورتوں کو لتذھبوا ببعض ما اتیتموھنمحض اس لیے کہ تم نے انہیں جو چیزیں بطور مال یا عطیہ دی تھیں ان میں سے کچھ چیزیں واپس لے سکو۔ فرمایا یہ بھی تمہارے لیے روا نہیں۔ کہ محض اس وجہ سے انہیں دوسرا نکاح کرنے کی اجازت نہ دو کہ ان کے ساتھ ان کا مال بھی جائے گا۔ فرمایا یہ بیوہ عورتوں کے ساتھ سخت ناانصافی ہے۔ ایسا مت کرو۔ بے حیائی کی صورت میں ہاں ان کو روک رکھنے کی صرف اس صورت میں اجازت ہیالا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ کہ وہ کسی صریح بےحیائی کا ارتکاب کربیٹھیں۔ اس کے متعلق گزشتہ دروس میں ذکر آچکا ہے کہ اگر کوئی عورت زنا کا ارتکاب کرتی ہے تو اس کی سزا یہ ہے کہ اسے گھر میں تازیست قید کردو۔ یہ ابتدائی حکم تھا ، بعد میں اللہ تعالیٰ نے سو کوڑوں اور رجم کی سزائیں نافذ کرکے قید وبند والا حکم منسوخ فرمادیا ، تو فرمایا ایسی صورت تم عورتوں کو روک سکتے ہو ، وگرنہ عدت کے بعد عورت آزاد ہے وہ جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔ سورة بقرہ میں بھی یہ احکام گزر چکے ہیں کہ ایسی عورتیں اپنے متعلق بہتر رائے قائم کرنے کی مجاز ہیں۔ اگر وہ نکاح کرنا چاہیں تو ان پر کوئی پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ غرضیکہ فرمایا بیوہ عورتوں پر کسی قسم کا جبر نہیں ہونا چاہیے۔ ہاں ایسی عورتوں سے گلوخلاصی کا ایک دوسرا طریقہ یہ ہے کہ ان کے لیے خلع کا موقع پیدا کردو۔ اگر کوئی عورت بےحیائی کا ارتکاب کرتی ہے۔ تو ایک نیک اور متدین آدمی کے لیے اس سے نباہ مشکل ہوجاتا ہے۔ تو ایسی صورت میں عورت کو خلع کے ذریعہ علیحدہ کیا جاسکتا ہے۔ خلع کے لیے تم ان کو ادا کرو وہ مہر ومال یا اس سے زیادہ کا مطالبہ بھی کرسکتے ہو کیونکہ قصور عورت کا ہے۔ البتہ یاد رکھو ! وعاشروھن بالمعروفان عورتوں کے ساتھ دستور کے مطابق گزران کرو۔ ان سے بہتر طریقہ پر میل جول رکھو۔ کسی قسم کی زیادتی نہ کرو۔ ان کے حقوق ان کو اد کرو۔ ان کی کسی بھی صورت میں حق تلفی نہیں ہونی چاہیے۔ پسند اور ناپسند فرمایا فن کرھتموھن اگر تم ان عورتوں کو ناپسند کرتے ہو فعسی ان تکرھواشیاً پس ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرتے ہو ویجعل اللہ فیہ خیراً کثیرا اور اللہ تعالیٰ اس (ناپسندیدہ چیز) میں بہت سی بہتری رکھ دے۔ ظاہر ہے کہ انسان خوبیوں اور خامیوں کا مجموعہ ہے۔ اگر کسی عورت میں کوئی خامی ہے جس کی وجہ سے تم اسے ناپسند کرتے ہو تو ہوسکتا ہے کہ اس میں بعض خوبیاں بھی ہوں۔ اگر عورت شکل و صورت کے لحاظ سے اچھی نہیں ہے تو ہوسکتا ہے اس کا اخلاق بہت اچھا ہو یا وہ ہنر مند اور سلیقہ شعار ہو۔ بعض اوقات عورتیں خود تو بظاہر کسی خوبی کی مالک نہیں ہوتیں مگر ان سے پیدا ہونے والی اولاد اعلیٰ اقدار کی حامل ہوتی ہے جو مرد کے لیے بیش قیمت سرمایہ بن جاتی ہے۔ بعض عورتیں صابر وشاکر اور دین دار ہوتی ہیں اور بعض خوبصورت مگر جھگڑالو قسم کی ہوتی ہیں اس لیے فرمایا کہ عورتوں کے بارے میں کوئی فیصلہ خوب سوچ سمجھ کر کرو کیونکہ ہوسکتا ہے کہ تم ایک چیز کو ناپسند کرتے ہو مگر اللہ نے اسی میں تمہارے لیے خیر کثیر کا پہلو رکھا ہو ایک شاعرنے خوب کہا ہے ؎ نعم الا لہ علی العباد کثیرۃ واجلھن نجابۃ الاولاد اللہ تعالیٰ کی بیشمار نعمتیں اس کے بندوں پر ہیں مگر اس کے لیے سب سے اعلیٰ نعمت یہ ہے کہ اسے اچھی اولاد میسر آجائے۔ بدشکل عورت سے خوبصورت اولاد کا پیدا ہوجانا بعیدازقیاس نہیں۔ اَن پڑھ اور بےسلیقہ عورت سے سلیقہ شعار اور ہنرمند اولاد بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ بہرحال فرمایا کہ عورت میں اگر کوئی خامی ہے تو اس میں کوئی دوسری خوبی بھی موجود ہوگی۔ لہٰذا پسند اور ناپسند کا فیصلہ اس کے تمام قبائح اور محاسن کو سامنے رکھ کر کرو۔ عورت کی تبدیلی اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے حقوق کے متعلق یہ بھی فرمایا وان اردتم استبدال زوج مکان زوج اگر تم ایک عورت کی جگہ پر دوسری عورت تبدیل کرنا چاہتے ہو۔ یعنی تمہاراپہلی بیوی کے ساتھ بطریق احسن نباہ نہیں ہوسکتا۔ اور تم اسے ڈھیر مال بطور مہر یا عطیہ ادا کرچکے ہو۔ یعنی مہر کی رقم ہی بہت زیادہ تھی یا اس کے علاوہ کوئی عطیہ دے چکے ہو اور اس کے بعد علیحدگی کی صورت پیدا ہوگئی ہے تو فرمایا فلاتاخذوامنہ شیاً اس ادا شدہ مال میں سے کچھ بھی واپس نہ لو خواہ وہ کتنا ہی زیادہ کیوں نہ ہو قنطار بہت سے مال کو کہتے ہیں۔ اس زمانہ میں دس ہزار درہم یا دینار کو ڈھیر مال تصور کیا جاتا تھا۔ قنطار کا لفظ سورة آل عمران میں بھی گزر چکا ہے انسان کی مرغوب چیزوں کی فہرست میں القناطیر المقنطرۃ من الذھب والفضۃ کے الفاظ آئے ہیں۔ یعنی سونے چاندی پر مشتمل ڈھیروں مال انسان کی مرغوب ومقصود اشاء میں سے ہے۔ تو یہاں بھی فرمایا کہ اگر تم اپنی عورتوں کو بہت زیادہ مال بھی دے چکے ہو تو بوقت طلاق ان سے کوئی چیز واپس نہ لو۔ یہ اخلاقی لحاظ سے نہایت بری بات ہے۔ طلاق کے مسائل سورة بقرہ میں بیان ہوچکے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض مسائل سورة احزاب اور سورة طلاق میں بھی آئیں گے۔ حضور ﷺ نے 1 ؎ جامع صغیر ص 241 ، ج 2 ومستدرک ص 691 ج 2 (فیاض) طلاق کو ابغض المباحات الی اللہ فرمایا ہے یعنی جائز چیزوں میں اللہ کے ہاں سب سے ناپسندیدہ چیز ہے۔ لہٰذا اس سے حتی الامکان بچنا چاہیے اور نباہ کی کوشش کرنا چاہیے۔ اور اگر ایسی کوئی صورت باقی نہ رہے تو پھر علیحدگی کی بھی اجازت ہے۔ ہندوازم اور عیسائیت میں ایسی کوئی گنجائش نہیں مگر اللہ تعالیٰ نے اہل اسلام کے لیے یہ صورت بھی پیدا فرمادی۔ کہ ساری عمر گھٹن کی زندگی بسر کرنے کی بجائے میاں بیوی میں علیحدگی کی ضرورت ہو تو اس کے لیے طلاق کی گنجائش بھی ہے جس کے اپنے احکام اور شرائط ہیں جنہیں پورا کرنا ضروری ہے۔ الغرض ! فرمایا کہ طلاق دینے کی صورت میں عورتوں کو ادا کردہ مال واپس مت لو۔ آگے تاکیداً فرمایا اتاخذونہ بھتانا واثمامبینا کیا تم یہ مال ان پر بہتان لگاکر اور صریح گناہ کی شکل میں لینا چاہتے ہو۔ فرمایا محض حیلے بہانے سے ان کو ادا کردو مال واپس لینے کی اجازت نہیں ہے یہ سخت گناہ کی بات ہے۔ مال کی واپسی کی ایک ہی جائز صورت خلع ہے اگر میاں بیوی میں نباہ نہیں ہوسکتا اور خاوند طلاق بھی نہیں دینا چاہتا تو ایسی صورت میں عورت خلع کا مطالبہ کرسکتی ہے اور اس کے لیے وہ خاوند کے مطالبہ پر مہر یا دیگر مال واپس کرسکتی ہے جو دونوں کے درمیان طے پاجائے اس کے علاوہ عورت پر جھوٹا الزام لگا کر اس سے مال کا مطالبہ کرنا بہت بری بات ہے اللہ تعالیٰ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ مہر اور خلوت صحیحہ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مہر کی ادائیگی سے متعلق ایک ضروری قانون بتایا ہے اور وہ یہ کہ زوجین کی خلوص صحیحہ کے بعد پورے کا پورا مہر ادا کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ فرمایا وکیف تاخذونہ اور تم اسے کیسے واپس لے سکتے ہو وقد افضی بعضکم الی بعض جب تم میں سے بعض کے ساتھ مل چکے ہیں۔ یعنی میاں بیوی مباثرت کرچکے ہیں۔ واخذن متکم میثاقاً غلیظا اور عورتیں تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں۔ مقصد یہ کہ جب ایجاب و قبول کے ذریعے تمہارا نکاح ہوچکا ہے ، مہر مقرر ہوا ہے تم نے ایک دوسرے سے فائدہ بھی اٹھالیا ہے یعنی ہم بستری کرلی ہے تو اب مہر کو روکنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہی۔ یہ تمہیں پورے کا پورا ادا کرنا ہوگا اب اگر تم بیوی کو طلاق دینا چاہو تو پورا مہر ادا کرو۔ کسی حیلے بہانے سے اسے مکمل طور پر روکنے یا اس میں کمی کرنے کی کوشش نہ کرو۔ اکثر آئمہ کرام فرماتے ہیں کہ مہر کی مکمل ادائیگی کے لیے میاں بیوی کے درمیان ہم بستری ضروری ہے۔ مگر امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ ہم بستری ہوجاتی ہے۔ اگر زوجین کو خلوت صحیحہ حاصل ہوگئی ہے تو مہر کی ادائیگی لازم ہوجاتی ہے۔ اور خلوص صحیحہ سے مراد یہ ہے کہ میاں بیوی کسی ایسی جگہ اکٹھے ہوجائیں کہ ان کے درمیان کوئی چیز ہم بستری میں مانع نہ رہے ، اگرچہ فی الحقیقت ہم بستری واقع نہ ہوئی ہو۔ میثاق غلیظ کے متعلق حضور ﷺ نے خطبہ حجتہ الوداع میں فرمایا تھا واوستحللتم فروجھن بکلمۃ اللہ یعنی اللہ کے حکم اور قانون سے عورتیں تم پر حلال ہوئی ہیں۔ تمہارے ساتھ ان کا عقد نکاح ہوا ہے لہٰذا تم عورتوں کے حقوق سے متعلق اللہ سے ڈرتے رہو اور ان کے ساتھ زیادتی نہ کرو۔ ان پر بہتان لگاکر ان کی حق تلفی نہ کرو جب وہ تمہارے عقد میں آچکیں اور تم نے ان سے پورا فائدہ ٹھالیا تو اب ان کے مہر ان کو لوٹادو۔ اس میں کسی قسم کی کمی نہ کرو کسی شاعر نے بھی اسے یوں بیان کیا ہے۔ بتنا وما بینی وبینک ثالث کزوج حمام اوکغضین ھذا (ہم آپس میں اکٹھے رہ چکے ہیں۔ جب کہ درمیان میں کوئی چیز باعث رکاوٹ نہ تھی۔ ہمارے درمیان ایسی محبت تھی جیسے کبوتر اور کبوتری کے درمیان ہوتی ہے) عرب شعراء کے نزدیک کبوتر کے جوڑے کی محبت ضرب المثل کے طور پر مشہور ہے جس کا ذکر ان کے اشعار میں اکثر ملتا ہے۔ متنبی نے اس محبت کو درخت کی دوٹہنیوں سے بھی تشبہیہ دی ہے جو اپس میں ملی ہوئی ہوتی ہیں وہ کہتا ہے ؎ یحید الحمام ولو وجید شجر الاراک مع الحمام تنوح (میرا غم اتنا بڑھا ہوا ہے کہ اگر کبوتر بھی میرے جتنا غم کرنے لگے جس درخت پر وہ بیٹھا ہے کبوتر کے ساتھ وہ درخت بھی رونے لگے) پھر کہتا ہے ؎ فمن بعد ھذا الوصل والود کلہ اکان جمیلا منک تحجر ھکذا (اس محبت اور میل ملاقات کے بعد تمہارے لیے یہ کس طرح روا ہوگا کہ تم اس طریقے سے قطع تعلقی کرلو ، جس میں ظلم اور زیادتی ہو اور دیا ہوا مال چھین لو) یہاں پر بھی اللہ تعالیٰ نے یہی بات فرمائی ہے کہ کیف تاخذونہ تم اسے کیسے واپس لوگے جب کہ تم ایک دوسرے کے ساتھ خلوت صحیحہ میں مل چکے ہو۔ ایک دوسرے سے واقف ہوچکے ہو اور پختہ عہد یعنی ایجاب و قبول بھی ہوچکا ہے تم ایک دوسرے کے حقوق کو تسلیم کرچکے ہو ، اب کسی قسم کی زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔ مقدار مہر مہر کا مسئلہ اس سورة کی ابتدا میں بھی تفصیل سے بیان ہوچکا ہے۔ اس آیت میں آمدہ لفظ قنطاراً سے مفسرین نے یہ بات اخذ کی ہے کہ عورت کے مہر کی زیادہ سے زیادہ مقدار پر کوئی پابندی نہیں۔ البتہ مہر کی کم ازکم مقدار میں ائمہ کرام کا اختلاف رائے ہے امام شافعی (رح) لوہے کی ایک انگوٹھی یا مٹھی بھر کھجوروں کو بھی مہر تسلیم کرتے ہیں جب کہ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک دس درہم سے کم مہر نہیں ہوتا۔ امام صاحب کا استدلال ضرت عبداللہ بن عباس ؓ اور حضرت علی ؓ کی روایت سے ہے لامھراقل من عشر دراھم دس درہم اڑھائی تولہ یا کچھ زیادہ چاندی کے برابر ہوتے ہیں اور موجودہ زمانے میں اتنی چاندی کی قیمت ڈیڑھ پونے دو سو روپے بنتی ہے۔ لہٰذا اس رقم سے کم مہر نہیں ہونا چاہیے۔ لوگ پرانے اور سستے زمانے کی چاندی کے حساب سے 32 روپے مہر مقرر کرتے ہیں جو درست نہیں۔ البتہ زیادہ سے زیادہ مہر کی کوئی حد مقرر نہیں ہزارروں اور لاکھوں روپے نقد یا جائیداد کی صورت میں مہر مقرر ہوسکتا ہے۔ البتہ مہر میں مبالغہ کرنا ناپسندیدہ نہیں۔ یعنی بہت زیادہ مہر لکھ کر پھرا دا نہ کرنا۔ یہ درست نہیں ۔ مہر ہمیشہ حیثیت کے مطابق ہونا چاہیے۔ حضور ﷺ کی اکثر نبات اور ازواج کا مہر پانچ سو درہم سے زیادہ نہیں تھا۔ البتہ ام حبیبہ ؓ کا مہرچار ہزار درہم تھا جو نجاشی بادشاہ حبشہ نے ادا کیا تھا۔ حضرت خدیجہ ؓ کا مہر بھی اسی مقدار کا تھا ، باقی سب بیویوں اور بیٹیوں کے مہر پانچ سو درہم تھے۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ لوگو ! مہر میں مبالغہ نہ کیا کرو ، اگر یہ پسندیدہ فعل ہوتا تو اللہ کا نبی ایسا کرتا مگر آپ نے نہیں کیا مہر جتنا کم رکھوگے ادائیگی میں اتنی ہی آسانی ہوگی۔ بہرحال اگر علیحدگی تک نوبت پہنچ جائے تو علیحدگی خوش اسلوبی سے انجام دو ۔ دیا ہوا مال واپس نہ لو۔ اگلی آات میں محرمات کا تذکرہ ہے۔ سوتیلی ماں کے علاوہ باقی محرمات کا بیان بھی آرہا ہے۔
Ayah 4:22

وَ لَا تَنْكِحُوْا مَا نَكَحَ اٰبَآؤُكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةً وَّ مَقْتًا١ؕ وَ سَآءَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 4:22 in the Quran reader

اور نہ نکاح میں لائو ان عورتوں کو جن کے ساتھ نکاح کیا ہے تمہارے باپوں نے مگر وہ بات جو پہلے ہوچکی۔ بیشک یہ بات بےحیائی اور غضب کی ہے اور برا راستہ ہے

ربط آیات گزشتہ دروس میں عورتوں کے ساتھ اس ناانصافی کا تذکرہ ہوچکا ہے جو زمانہ جاہلیت میں ان سے روا رکھی جاتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس قبیح رسم و رواج کی اصلاح کا قانون بیان فرمایا ، اور حکم دیا کہ عورتوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئو اور جبراً ان کو وراثت کا حصہ نہ بنالو۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ علیحدگی کی صورت میں عورتوں کے مقررہ مہر ہر حالت میں ادا کرو خواہ کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں اور حیلے بہانے سے انہیں واپس لینے کی کوشش مت کرو۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے نکاح ہی کے متعلق بعض دیگر قباحات کا تذکرہ فرمایا ہے ، جو نزول قرآن کے زمانہ میں عربوں میں اکثر پائی جاتی تھیں۔ محرکات نکاح قبل از اسلام عرب معاشرے میں ایک بڑی خرابی یہ پائی جاتی تھی کہ جن عورتوں سے نکاح حلال نہیں وہ لوگ اکثر ان سے نکاح کرلیتے تھے اور جو عورتیں ان کے لیے حلال تھیں ان میں سے بعض پر انہوں نے ازخود پابندی لگارکھی تھی جیسے لے پاک بیٹے کی مطلعقہ مثال کے طور پر جب کوئی شخص فوت ہوجاتا تو اس کا بڑا بیٹا دیگر مالی وراثت کے ساتھ اپنی سوتیلی ماں پر بھی قابض ہوجاتا اور اس سے نکاح بھی کرلیتا چناچہ آج کے درس میں یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلیی اسی مسئلہ کو واضح کیا ہے اور اس کے بعد دیگرمحرکات نکاح کا ذکر ہے اور بالوضاحت فرمادیا ہے کہ کئی مسلمان کے لیے کون کونسی عورتوں کے ساتھ نکاح جائز نہیں۔ اس سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے تین قسم کے رشتوں کا ذکر کیا ہے جو مانع نکاح ہیں۔ ان میں سے پہلا رشتہ نسبی ہے یعنی ان رشتوں کا ذکر ہے جو کہ نسب کے لحاظ سے نکاح میں رکاوٹ میں دوسری قسم رضاعی رشتوں کی ہے جو ایک ماں کا دودھ پینے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تفصیلات بیان فرمائی ہیں۔ سوتیلی ماں سب سے پہلے سوتیلی ماں کے ساتھ نکاح کا ذکر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ولاتنکحوا مانکح ابائوکم من النساء ان عورتوں کو نکاح میں مت لائو جن کے ساتھ تمہارے باپ نکاح کرچکے ہیں۔ ایسی عورتیں تمہارے لیے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہوچکی ہیں۔ مفسرین کرام اور محدثین کرام فرماتے ہیں کہ اس آیت میں مطلقاً نکاح کا ذکر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سوتیلی ماں کے حرام ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ باپ نے اس عورت کے ساتھ نکاح کیا تھا۔ حرمت نکاح کے لیے باپ کی طرف سے مباشرت ضروری نہیں جب کسی شخص کے باپ نے کسی عورت سے نکاح کرلیا تو وہ عورت اس شخص کے بیٹے کے لیے ابدی حرام ہوگئی۔ فقہ حنفی کی مشہور کتاب شامی میں یہ مسئلہ بالوضاحت موجود ہے کہ یہ حرمت اصول اور فروع دونوں طرف یکساں طور پر نافذ ہے یعنی جس عورت سے باپ نے نکاح کیا ہے وہ باپ کے لیے قطعی حرام ہے اور پھر مجامعت بھی ضروری نہیں۔ قط نکاح ہی حرمت کے لیے کافی ہے۔ یہاں اس امر کی وضاحت بھی ضروری ہے کہ آیت کریمہ میں ابائو کم یعنی باپ کا ذکر ہے۔ مگر باپ کا ذکر ہے مگر باپ سے مراد اوپر تک پوری نسل ہے۔ یعنی نہ صرف باپ کی منکوحہ حرام ہے بلکہ دادا اور پر دادا کی منظوحہ بھی اگر ہو تو اس کے ساتھ بھی نکاح حرام ہے۔ اسی طرح نیچے کی طرف بیٹے کے حکم میں پوتا اور پڑپوتا بھی شامل ہیں۔ جو عورت بیٹے کے لیے حرام ہے وہ پوتے اور پڑپوتے کے لیے بھی ویسے ہی حرام ہے۔ یاد رہے کہ سوتیلی ماں حقیقی ماں کی ہی طرح محرم ہے۔ بیٹا اپنی سوتیلی ماں کے ساتھ خلوٹ میں بیٹھ سکتا ہے اس کے ساتھ سفر کرسکتا ہے اور ماں کو اس سے پردہ کرنے کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ وہ حقیقی ماں ہی کی قائم مقام ہوتی ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم اپنے باپ کو منکوحہ کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتے ۔ الا ما قد سلف البتہ جو کچھ پہلے ہوچکا وہ جہالت اور نادانی کی وجہ سے تھا۔ اب آئندہ کے لیے ایسی عورتیں تم پر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی ہیں۔ تین خرابیاں اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس فعل کی دو تین خرابیاں بیان فرمائی ہیں جن کی وجہ سے یہ ابدی حرمت قائم کی گئی۔ فرمایا انہ کان فاحشۃ یعنی سوتیلی ماں کے ساتھ نکاح سخت بےحیائی کی بات ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی مشہور زمانہ کتاب حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ اگر انسان کی فطرت سلیم ہو تو نہ تو وہ اپنی بہن کی طرف رغبت کرے گا اور نہ ماں کی طرف۔ فرماتے ہیں اس چیز کا شعور تو جانوروں میں بھی پایا جاتا ہے چہ جائیکہ اشرف المخلوقات انسان اس امر سے لاپروا ہوجائے ۔ موجوزہ زمانے میں یورپ کی بےحیائی اسی قبیل سے ہے۔ جرمنی والوں نے تو ایوان فطرت تک بنارکھی ہے۔ ان کلبوں میں ممبرانصرف برہنہ شکل میں ہی شرکت کرسکتے ہیں۔ وہاں مرد وزن کی کوئی تخصیص نہیں ، سب برہنہ ہوتے ہیں مگر جس شخص کی فطرت سلیم ہوگی وہ کبھی برہنگی کو پسند نہیں کرے گا۔ قرآن پاک میں موجود ہے کہ جب ایک لغزش کی وجہ سے حضرت آدم اور حوا کا لباس جنت میں اتر گیا تو وہ درخت کے پتے توڑ توڑ کر اپنے ستر کو ڈھانپنے لگے کیونکہ برہنگی ان کی فطرت سلیمہ کے خلاف تھی۔ البتہ جو لوگ انسلاخ میں آجائیں یعنی فطرت سے باہر نکل آئیں برائیاں کرتے کرتے OUT OF NATURE ہوجائیں ان کی الگ بات ہے وہ ہر قسم کی اخلاقی اور قانونی پابندیوں سے آزاد جو چاہیں کرتے پھریں مگر فطرت سلیمہ کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اپنی بہن بیٹی یا ماں کے ساتھ بےحیائی کرنے پر تیار نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس قبیع فعل کی دوسری برائی کے متعلق فرمایا ومقتاً کہ بےحیائی کے علاوہ یہ فعل ذریعہ غضب بھی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی مول لینے کیے مترادف ہے۔ شرائع الٰہیہ یعنی خدا تعالیٰ کی شریعت بھی اس کو برا کہتی ہے ، مقت کے لفظ سے یہچیز واضح ہے۔ امام رازی (رح) فرماتے ہیں کہ انسانی عقل بھی اس کام کو تسلیم نہیں کرتی کہ کوئی شخص اپنے باپ کی منکوحہ کے ساتھ شادی کرے۔ یہ فحش بات ہے اللہ تعالیٰ نے تیسری خرابی کے متعلق فرمایا وساوسبیلا یہ بہت براراستہ ہے۔ انسانی سوسائٹی بھی اس کو اچھا نہیں سمجھتی۔ انسانوں کا عرف اور رواج بھی اس کے خلاف ہے گویا عقل ، شریعت اور رواج ہر لحاظ سے یہ فعل ناقابل قبول ہے۔ نسبی محرمات آگے اللہ تعالیٰ نے اس رشتوں کا ذکر کیا ہے جو نسبی طور پر کسی شخص کے لیے حرام ہیں فرمایا حرمت علیکم امھتکم تم پر تمہاری مائیں حرام کی گئی ہیں۔ ماں سگی ہو یا سوتیلی ہر حالت میں حرام ہے اور جو ماں کا حکم ہے وہی دادای اور پڑدادی کا حکم ہے۔ اس کے علاوہ نانی اور پڑنانی بھی اسی حکم میں آتی ہے۔ لہٰذا ان سب کے ساتھ نکاح حرام ہے آگے فرمایا وبنتکم تم پر تمہاری بیٹیاں بھی حرا م ہیں ، بیٹی میں آگے پوتی ، دوہتی وغیرہ سب آجاتی ہیں۔ پھر فرمایا واخواتکم تمہاری بہنیں تم پر حرام ہیں۔ بہن میں حقیقی ، اخیافی (ماں کی طرف سے) اور علاتی (باپ کی طرف سے) تمام بہنیں شامل ہیں۔ ان میں سے کسی کے ساتھ عقد نکاح نہیں ہوسکتا پھر فرمایا وعمتکم تمہاری پھوپھیاں یعنی باپ کی بہنیں بھی تم پر حرام کردی گئی ہیں۔ اس میں بھی وہی قانون ہے۔ باپ کی بہن حرام ہے خواہ وہ حققی بہن ہو۔ اخیافی لا علاتی ہو۔ آگے فرمایا وخلتکم تمہاری خالائیں یعنی ماں کی بہنیں بھی تم پر حرام ہیں۔ ماں کے ساتھ ان کا تعلق حقیقی ہو یا صرف مادری یا صرف پدری ، ہر حالت میں حرام ہیں وبنت الاخ بھائی کی بیٹیاں بھی حرام ہیں۔ ان کے ساتھ بھی نکاح نہیں ہوسکتا۔ بھائی حقیقی ہو یا پدری یا مادری ہر حالت میں بھتیجوں کے ساتھ نکاح حرام ہے۔ اسی طرح وبنت ، الاخت بہن کی بیٹیوں یعنی بھانجیوں سے بھی نکاح نہیں ہوسکتا۔ یہاں بھی بہن سے مراد ہر سہ اقسام کی بہنیں ہیں یعنی خواہ وہ حقیقی ہو ، صرف ماں کی طرف سے ہو یا صرف باپ کی طرف سے ان کی بیٹیوں کے ساتھ نکاح ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ اس کے بعد رضاعت اور مصاہرت کی بنا پر حرام ہونے والے رشتوں کا تذکرہ اگلے درس میں آئے گا انشاء اللہ۔
Ayah 4:23

حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآئِكُمْ وَ رَبَآئِبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآئِكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ١٘ فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ١٘ وَ حَلَآئِلُ اَبْنَآئِكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْ١ۙ وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًاۙ Open ayah 4:23 in the Quran reader

حرام قرار دی گئی ہیں تم پر تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں اور تمہاری بہنیں او تمہاری پھوپھیاں اور تمہاری خالائیں اور بھائی کی بیٹیاں اور بہن کی بیٹیاں اور حرام قرا ردی گئی ہیں تم پر تمہاری وہ مائیں۔ جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہے اور تمہاری دودھ کی بہنیں اور تمہاری بیویوں کی مائیں اور تمہاری وہ پروردہ بچیاں جو تمہاری پرورش میں ہیں تمہاری عورتیں میں سے جن کے ساتھ تم نے صحبت کی ہے اگر تم نے ان سے صحبت نہیں کی تو تم پر کوئی گناہ نہیں ہے (کہ تم ان کی لڑکیوں سے نکاح کرو) اور (تم پر حرام قرار دی گئی ہیں) تمہارے ان بیٹوں کی عورتیں جو تمہاری پشت سے ہیں۔ اور (تم پر حرام قرار دی گئی ہے یہ بات) کہ تم اکٹھا کرو دو بہنوں کو (بیک وقت) مگر وہ جو پہلے بات جو ہوچکی ہے ، بیشک اللہ تعالیٰ بخشش کرنے والا اور مہربان ہے

حرمت بوجہ رضاعت نسب کے لحاظ سے حرام عورتوں کا ذکر گزشتہ درس میں ہوچکا ہے۔ اب آج کے درس میں رضاعت اور مصاہرت کی بناء پر حرام ہونے والی عورتوں کا تذکرہ آئے گا تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا وامھتکم التی ارضعنکم اور تمہاری وہ مائیں تم پر حرام قرار دی گئی ہیں جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا ہے واخوتکم من الرضاعۃ اور تمہاری دودھ شریک بہنیں بھی تم پر حرام ہیں۔ آیت کریمہ میں رضاعت کے اعتبار سے صرف دورشتوں یعنی ماں اور بہن کا ذکر کیا گیا ہے۔ تاہم حضور نبی کریم (علیہ السلام) نے اس کی وضاحت میں فرمایا یحرم من الرضاعۃ ما یحرم من النسب یعنی جو رشتے نسب کی وجہ سے حرام ہیں وہ رضاعت کی وجہ سے بھی حرام ہیں۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ جس بچے نے جس عورت کا دودھ پیا وہ عورت بچے کی رضاعی ماں بن گئی۔ اس عورت کی بیٹیاں اس کی بہنیں ہوگئیں اور عورت کے بیٹے اس بچے کے رضاعی بھائی بن گئے۔ اسی طرح عورت کا خاوند دودھ پینے والے بچے کا رضاعی باپ ٹھہرا۔ اور اس رضاعی باپ کا بھائی بچے کا رضاعی چچا ہوا۔ لہٰذا جس طرح رضاعی ماں اور رضاعی بہن کے ساتھ نکاح حرام ہے اسی طرح رضاعی بھتیجی ، رضاعی بھانجی ، رضاعی پھوپھی اور رضاعی خالہ کے ساتھ بھی نکاح حرام ہوگیا۔ غرض یہ کہ جو رشتے نسب کے اعتبار سے حرام ہیں ، وہ رضاعت کے اعتبار سے بھی حرام ہیں۔ اور جب ماں حرام ہوگئی تو نانی ، پڑنانی وغیرہ بھی حرام ٹھہریں۔ مدت رضاعت رضاعت کی مدت کے تعین کے سلسلے میں فقہائے کرام کے دو گروہ ہیں۔ امام شافعی (رح) ، امام مالک (رح) ، امام احمد (رح) ، امام محمد (رح) اور امام ابو یوسف (رح) فرماتے ہیں۔ کہ رضاعت کی مدت زیادہ سے زیادہ دو سال ہے۔ اگر کسی بچے نے دو سال کے دوران کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو وہ عورت اس کی رضاعی ماں بن گئی اور اس لحاظ سے باقی تمام رضاعی رشتے بھی وجود میں آئے۔ اور ان رشتوں پر وہ تمام احکام نافذ ہوں گے جو حقیقی ماں کے رشتہ داروں پر عائد ہوتے ہیں۔ البتہ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں کہ رضاعت کی مدت اڑھائی سال ہے۔ اڑھائی سال کے اندر اندر دودھ پینے سے رضاعت کے تمام احکام نافذ العمل ہوں گے۔ مدت رضاعت کے بعد اگر کسی بچے یا بڑے نے کسی عورت کا دودھ پیا تو اس کی رضاعت الرضاعۃ من المجاعۃ یعنی رضاعت کا اعتبار اس مدت تک کے لیے ہے جب تک بچے کو بھوک لگتی ہے مگر وہ کھانا نہیں کھا سکتا اور صرف دودھ ہی اس کی خوراک ہوتا ہے۔ رضاعت کے دیگر مسائل رضاعی ماں حقیقی ماں کی مانند ہوتی ہے ، اس سے پردہ نہیں ہوتا انسان اس کے ساتھ تنہائی میں بیٹھ سکتا ہے ۔ البتہ بعض احکام حقیقی ماں سے مختلف بھی ہوتے ہیں مثلاً حقیقی ماں اگر محتاج ہے تو اس کا خرچہ بیٹے کے ذمہ ہے مگر رضاعی ماں کے لیے یہ ضروری نہیں ہے ۔ حقیقی ماں کی وراثت بیٹے کو اور بیٹے کی ماں کو پہنچتی ہے مگر رضاعی ماں بیٹے کے درمیان وراثت نہیں چلتی۔ رضاعت ثابت ہونے کے لیے دودھ کی مقدار سلسلہ میں فقہائے کرام کے درمیان اختلاف ہے۔ امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ بچہ کم ازکم تین گھونٹ دودھ پئے تو رضاعت ثابت ہوتی ہے۔ امام شافعی (رح) پانچ گھونٹ کے قابل ہیں۔ البتہ امام ابوحنیفہ (رح) اور اما م مالک (رح) فرماتے ہیں کہ اگر بچہ اتنی مقدار میں دودھ پی لے جس سے روزہ فاسد ہوجاتا ہے تو رضاعت ثابت ہوجاتی ہے۔ اور روزہ ٹوٹنے کے لیے ایک قطرہ کی مقدار بھی کافی ہے اگر حلق سے نیچے اتر گیا تو روزہ فاسد ہوگیا۔ اس لحاظ سے رضاعت ثابت ہونے کے لیے ایک قطرہ دودھ پی لینا بھی کافی ہے۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ رضاعت کے ثبوت کے لیے ضروری ہے کہ دودھ حلق یاناک کے ذریعے سے جسم میں داخل ہوا ہو۔ مولانا مفتی محمد شفیع صاحب (رح) فرماتے ہیں۔ کہ اگر کسی دیگر ذرائع مثلاً انجکشن وغیرہ کے ذریعہ دودھ داخل ہوا تو رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔ یہ مسئلہ بھی قابل ذکر ہے کہ رضاعت صرف عورت کا دودھ پینے سے بنتی ہے اگر دودھ بچے کسی ایک بکری یا گاڑے یا بھینس کا دودھ پی لیں تو وہ رضاعی بہن بھائی نہیں بنتے۔ البتہ اگر جانور کادودھ ملاکر پیا جائے تو مرکب میں جس دودھ کا غلبہ ہوگا اس کے مطابق حکم نافذ ہوگا۔ اگر عورت کا دودھ دوچھٹانک ہے اور بکری وغیرہ کا ایک چھٹانک تو رضاعت ثابت ہوجائے گی کیونکہ غلبہ عورت کے دودھ کو حاصل ہے اس کے برخلاف اگر گائے کا دودھ دوچھٹانک اور عورت کا ایک چھٹانک تو رضاعت قائم نہیں ہوگی۔ فقہائے کرام نے یہ بھی لکھا ہے کہ اگر کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے مرد کو دودھ اترا اور کوئی بچہ وہ دودھ پی لے تو اس سے بھی رضاعت ثابت نہیں ہوگی۔ کیونکہ رضاعت صرف عورت کا دودھ پینے سے بنتی ہے۔ رضاعت کے متعلق گواہی کا ایک قانونی مسئلہ بھی ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ اگر دو مرد اس بات کی گواہی دیں کہ فلاں فلاں نے عورت کا دودھ پیا تو رضاعت ثابت ہوگی۔ بعض اوقات نکاح ہوجاتا ہے مگر بعد میں معلوم ہوتا ہے کہ میاں بیوی دودھ شریک ہیں تو ایسی صورت میں کم ازکم دو مردوں کی گواہی ہونی چاہیے۔ البتہ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اگر ایک مرد اور ایک عورت بھی گواہی دے دیں تو مرد کو چاہیے کہ بیوی کو علیحدہ کردے۔ بہرحال قانونی لحاظ سے شہادت کی تکمیل لازم ہے بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ ایک جوڑے کا نکاح ہوگیا۔ بعد میں ایک عورت نے انکشاف کیا کہ اس نے ان دونوں میاں بیوی کو دودھ پلایا تھا۔ جب حضور ﷺ کے سامنے مسئلہ پیش ہوا تو آپ نے فرمایا کہ جب یہ بات کہہ دی گئی ہے تو بہتر ہے کہ ان میں تفریق کردو۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ رضاعی بھائی یا رضاعی بہن کی نسبی ماں سے نکاح جائز ہے۔ اسی طرح حقیقی بہن کی رضاعی ماں سے بھی نکاح ہوسکتا ہے۔ رضاعی بہن کی نسبی بہن کے ساتھ بھی نکاح درست ہے۔ یہ بعض استثناء ہیں اس کے علاوہ رضاعی بھتیجی یا بھانجی یا خلہ یا پھوپھی وغیرہ سے نکاح نہیں ہوسکتا۔ وہ حقیقی رشتوں کی طرح ہی حرام ہیں۔ اسی طرح رضاعی چچا حقیقی چچا کی طرح ہی ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ بھی نکاح نہیں ہوسکتا۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ ………… اور حضرت حفصہ ؓ کی روایت میں موجود ہے۔ کہ ان کے رضاعی چچا ملنے کے لیے آئے تو ام المومنین نے اندر آنے کی اجازت نہ دی۔ جب حضور ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا وہ تمہارے حقیقی چچا کی طرح ہے اس سے کوئی پردہ نہیں۔ رضاحت کی حکمت رضاعت کی بنا پر حرمت پیدا کرنے میں اللہ تعالیٰ نے بہت بڑی مصلحت رکھی ہے اور اس میں شریعت کی بہت بڑی حکمت ہے۔ یورپ اور دہریہ ممالک میں نامعلوم عورتیں نوزائیدہ بچوں کو دودھ پلا دیتی ہیں مگر بعد میں ان کی کوئی شناخت نہیں رہتی۔ بعض اوقات ہسپتالوں میں پیدا ہونے والے بچوں کو نرسیں دودھ پلادیتی ہیں مگر کون جانتا ہے کہ اسے کس نے دودھ پلایا تھا اور کون کون اس کی رضاعی بھائی یا رضاعی بہن ہے ، خود دودھ پلانے والی عورت نہ ماں بنتی ہے اور نہ دودھ پینے والا اس کا بیٹا بنتا ہے۔ یہ نہایت ہی قبیح چیز ہے۔ دودھ میں شرکت کی وجہ سے رضاعی بہن بھائیوں کا رشتہ قائم ہوجاتا ہے اور پینے اور پلانے والی کی حیثیت بیٹے اور ماں کی ہوتی ہے اور ان کے درمیان نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتا ہے۔ اس کے برخلاف اسلام نے رضاعت کا ایسا اصول قائم کردیا ہے جس سے انسانی سوسائٹی میں اتفاق و اتحاد کی فضا پیدا ہوتی ہے۔ ایک امیر کبیر آدمی حتی کہ بادشاہ کا بیٹا بھی اگر کسی غریب عورت کا دودھ پیتا ہے۔ تو اس عورت کے بچے بڑے آدمی کے بیٹے کے بھائی بہن بن جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ قانون نافذ کرکے کتنی بڑی مہربانی فرمائی ہے۔ اس طرح سوسائٹی میں محبت اور احترام پیدا ہوگا ، اور بہت حد تک مساوات قائم ہوگی ، خود حضور ﷺ نے جس عورت کا دودھ پیا تھا وہ عورت خود یا اس کی بیٹی غزوہ حنین کے موقع پر آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ تو حضور ﷺ نے اس کے لیے اپنی چادر مبارک اتار کر بچھادی۔ لوگوں نے پوچھا کہ یہ کون عورت ہے جس کو اتنا بڑا اعزاز حاصل ہوا ہے تو بتلایا کہ یہ حضور کی رضاعی والدہ یا رضاعی بہن ہے۔ دودھ پلانے والی ماں کے ساتھ حسن سلوک کا بھی حکم ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ جس عورت کا دودھ پیا ہے اس کے ساتھ کیا احسان کیا جائے۔ فرمایا اس کے ساتھ کافی احسان کیا جائے کہ یہ دودھ پینے والے کی ذمہ داری ہے۔ اپنی رضاعی ماں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ حسن سلوک کرکے ہی بیٹا اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوسکتا ہے۔ بہرحال رضاعت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حکمت رکھی ہے کہ اس کی وجہ سے جذبہ احسان ومروت پیدا ہوتا ہے اور آپس میں اخوت کا رشتہ قائم ہوتا ہے۔ حرمت بوجہ مصاہرت نسب کی بنا پر حرام ہونے والی عورتوں کے تذکرے کے بعد اللہ تعالیٰ نے مصاہرت کی وجہ سے حرام ہونے والی عورتوں کے متعلق فرمایا وامھت نساء کم اور تمہاری عورتوں کی مائیں بھی تم پر حرام قرار دی گئی ہیں۔ گویا ساس کے ساتھ نکاح بھی ہمیشہ کے لیے حرام ہوگیا۔ اس کے علاوہ فرمای اور بائبکم التی فی حجورکم من نسائکم التی دخلتم بھن اور تمہاری وہ پروردہ بچیاں جو تمہاری پرورش میں ہیں اور تمہاری ان عورتوں سے ہیں جن سے تم صحبت کرچکے ہو ، وہ بھی تمہارے لیے حرام قرار دی گئی ہیں۔ فان لم تکونو دخلتم بھن فلا جناح علیکمالبتہ اگر تم نے اپنی منکوحہ عورتوں سے صحبت نہیں کی تو ایسی صورت میں اس کی بیٹی کے ساتھ نکاح ہوسکتا ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں ۔ مثلاً کسی شخص کی بیوی فوت ہوگئی یا اس کو طلاق دے دی گئی تو اب اگر اس عورت سے ہم بستری نہیں ہوئی تو اس کی لڑکی سے نکاح درست ہے۔ اور اگر اس سے صحبت ہوچکی ہے تو پھر اس کی لڑکی ہمیشہ کے لیے حرام ہوگئی۔ یاد رہے کہ صحبت کی شرط کسی عورت کی بیٹی کے ساتھ نکاح کے لیے ہے ، البتہ اس عورت کی ماں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حرام ہوجاتی ہے خواہ اس عورت کے ساتھ صحبت ہوئی یا نہ ہوئی ہو۔ آگے فرمایا وحلائل ابنائکم الذین من اصلابکم اور تمہارے صلبی بیٹوں کی بیویاں بھی تمہارے لیے حرا م ہیں۔ یعنی حقیقی بیٹے کی بیوی اپنے سسر کے نکاح میں نہیں آسکتی یہ نکاح بھی ہمیشہ کے لیے حرام قرار دیا گیا ہے۔ البتہ لے پالک یا متنہ بولا بیٹا اس قانون کی زد میں نہیں آتا۔ اس سلسلہ میں حضور ﷺ کا اپنا عمل موجود ہے۔ آپ کے منہ بولے بیٹے زید ؓ نے جب اپنی بیوی کو طلاق دے دی تو خود حضور ﷺ نے اس سے نکاح کرلیا منافقوں نے اس سلسلے میں بڑا شوروغل کیا اور معاملے کو اچھالنے کی کوشش کی مگر اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کے ذریعے معاملے کی وضاحت فرمادی۔ فلما قضی زید منھا وطراً زوجنکھا لکیلا یکون علی المومنین حرج فی ازواج ادعیائھم یعنی جب زید نے اس سے اپنی حاجت پوری کرلی تو ہم نے اسے آپ کے نکاح میں دے دیا تاکہ مومنوں پر ان کے لے پالک بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے۔ دو بہنوں کا اجتماع اس کے بعد فرمایا وان تجمعوابین الاختین اور تم پر یہ چیز بھی حرام قرار دی گئی ہے کہ دو بہنوں کو بیک وقت اکٹھا کرو یعنی ان سے نکاح کرو۔ ایک وقت میں ایک ہی بہن سے نکاح ہو سکتا ہے۔ البتہ الاماقدسلف جو اس سے پہلے ہوچکا وہ جہالت اور نادانی کی وجہ سے تھا۔ اس پر کچھ مواخذہ نہیں ۔ اور اگر اس حکم کے نزول کے وقت کسی کے نکاح میں دوسگی بہنیں موجود تھیں تو ان میں سے ایک کو الگ کردیا گیا۔ جیسا کہ حضرت ضحاک ؓ ابن فیرز صحابی رسول اللہ ﷺ کا واقعہ ہے۔ آپ دیلم کے رہنے والے تھے اس لیے فیروز دیلمی ؓ کہلاتے تھے ۔ جب وہ مسلمان ہوئے تو ان کے نکاح میں دو سگی بہنیں تھیں آپ نے فرمایا کہ ایک کو طلاق دے دو ۔ چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ اسی طرح غیلان ؓ بن سلمہ ثقضی کے نکاح میں دس عورتیں تھیں۔ حضور ﷺ نے حکم دیا کہ ان میں سے چار کو رکھ لو باقیوں کو الگ کردو۔ اس مقام پر یہ مسئلہ بھی واضح کردینا ضروری ہے کہ جس طرح دو بہنوں کے ساتھ بیک وقت نکاح نہیں ہوسکتا اسی طرح ایک عورت اور اس کی پھوپھی یا اس کی خالہ یا اس کی بھتیجی یا اس کی بھانجی بھی ایک وقت میں نہیں رکھی جاسکتیں۔ ہاں ان میں سے کوئی ایک فوت ہوجائے یا طلاق واقع ہواجئے تو دوسری کے ساتھ نکاح ہوسکتا ہے۔ اسی لیے یہ حرمت ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ ایک کے بعد دوسری کے ساتھ نکاح درست ہے فرمایا پیچھے جو کچھ ہوچکا ، سو ہوچکا ، اس کی باز پرس نہیں ، کیونکہ فرمایا وامھت نساء کم اور تمہاری عورتوں کی مائیں بھی تم پر حرام قرار دی گئی ہیں۔ گویا ساس کے ساتھ نکاح بھی ہمیشہ کے لیے حرام ہوگیا۔ اس کے علاوہ فرمایا وربائبکم التی فی ان اللہ کان غفورا رحیما خدا تعالیٰ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ اس نے نادانی کی بنا پر ہونے والی خطا کو معاف فرمادیا۔ اب آئندہ اس کی اجازت نہیں۔ کل کے درس میں مانکح ابائوکم آیا تھا۔ یعنی تم پر تمہاری سوتیلی مائیں حرام ہیں وہاں پر بھی الا ما قد سلف کے الفاظ آئے کہ جو کچھ پہلے ہوچکا ، اس سے درگزر کیا گیا ہے ، اب آئندہ اس فعل کا اعادہ نہیں ہونا چاہیے۔ مسند احمد کی روایت میں آتا ہے کہ ایک شخص نے اپنی سوتیلی ماں سے نکاح کرلیا تھا۔ اس کو سمجھایا گیا مگر وہ باز نہ آیا تو حضور ﷺ نے ایک صحابی کو جھنڈا باندھ کردیا اور فرمایا کہ فلاں شخص کا سرقلم کردو یعنی اس کو تعزیراً قتل کردو کہ اس نے اپنی ماں کے ساتھ نکاح کررکھا ہے اور کہنے سے بھی باز نہیں آتا۔ یہ شخص انسانیت کا دشمن ہے۔ اسے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں۔ محرمات کا تذکرہ ہوچکا۔ اب اگلی آیت میں کسی دوسرے شخص کو منکوحہ عورت سے نکاح کی حرمت کا بیان آئے گا۔