4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمعالم العرفان

Ayah 4:58

اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَا١ۙ وَ اِذَا حَكَمْتُمْ بَیْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ نِعِمَّا یَعِظُكُمْ بِهٖ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا Open ayah 4:58 in the Quran reader

بیشک اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم امانتوں کو ادا کرو ان کے اہل کی طرف اور جب تم لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو یہ فیصلہ کرو انصاف کے ساتھ بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں اچھی نصیحت کرتا ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ سننے والا اور دیکھنے والا ہے

ربط آیات سورۃ کی ابتداء سے اب تک عموماً حقوق کا تذکرہ تھا۔ خصوصاً حقوق العباد کے ضمن میں یتیموں کے حقوق ، وراثت ، نکاح اور حلت و حرمت وغیرہ کے مسائل بیان ہوئے اس کے علاوہ یہودیوں کی بہت سی قباحتوں کا تذکرہ ہوا۔ اب یہاں سے تقریباً بارہ آیات تک دوسرا مضمون بھی آ رہا ہے جس کا تعلق اجتماعیت سے ہے اور جس میں سیاسیات بھی آجاتی ہیں۔ دیگر خرابیوں کے علاوہ یہودیوں میں دو بُری خصلتیں یہ بھی تھیں کہ ایک تو امانت کو ادا نہیں کرتے تھے بلکہ اس میں خیانت کرتے تھے اور دوسرے یہ کہ جب وہ کسی معاملہ میں فیصلہ کرتے تھے تو عدل و انصاف کا دامن چھوڑ کر جانبداری اور رشوت کی بنیاد پر فیصلے کرتے تھے آج کے درس کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انہی دو چیزوں کا حکم دیا ہے کہ امانتدار کو اس کی امانت ادا کرو اور فیصلے حق و انصاف کی بناء پر کیا کرو۔ اس آیت میں اہل کتاب کو ان کی غلطیوں کا احساس دلایا گیا ہے ، اور اہل اسلام کو ان اصولوں کا کاربند رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ نظام حکومت کی ضروریات یہ ایک حقیقت ہے کہ اچھی حکومت یعنی صالح حکومت صالحہ جماعت سے ہی پیدا ہوتی ہے۔ اور صالحہ جماعت یا قوم وہ ہوتی ہے جس کے افراد کا اعتقاد ، عمل اور اخلاق صالح ہو۔ حکومت کی ضروریات کی دو بنیادی چیزیں امانت اور عدل ہیں اگر حکومت کے افسر ، حکام یا عمال امین اور عادل ہوں گے ، تو نظام حکومت صحیح رُخ پر گامزن ہوگا ، لوگوں کو ان کے حقوق اور عدل و انصاف حاصل ہوگا۔ ملک میں امن وامان قائم ہوگا اور لوگ چین کی زندگی بسر کریں گے۔ برخلاف اس کے اگر کار پردازانِ حکومت خائن اور ناانصاف ہوں گے تو حکومت کا نظام درست طریقے سے نہیں چل سکے گا ، ملک میں بدامنی کی فضا پیدا ہوگی لوگوں کے حقوق ضائع ہوں گے اور رعایا امن و چین کی زندگی سے محروم ہوجائے گی۔ صاحبِ تفسیر خازن فرماتے ہیں کہ اس آیت کا اطلاق حکومت اور عوام دونوں طبقوں پر ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس گاؤں ، قصبے یا شہر میں لوگ اکٹھے رہتے ہوں اور ان کے مفادات مشترکہ ہوں وہاں ان کے درمیان تنازعات کا پیدا ہوجانا بھی عین ممکن ہے اگر دو افراد کے درمیان لین دینکا معاملہ ہو تو انہیں بھی حکم دیا جارہا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے حقوق کی پاسداری کرتے ہوئے اپنے اپنے حقوق فرائض کی پابندی کریں اور جو فرد جس چیز کا اہل ہے ، اسے اس کی امانت ادا کی جائے۔ اور ایک دوسرے کے درمیان عدل و انصاف کی فضا قائم کی جائے۔ افراد سے بڑھ کر یہی چیزیں جب حکومت کی سطح پر پیدا ہوں تو صالحہ حکومت کا بھی فرض ہے کہ رعایا میں سے جو شخص جس کا م کا اہل ہے ، وہی کام اس کے سپرد کیا جائے۔ نیز یہ کہ جب افراد کے تنازعات فیصلہ کے لیے حکومت تک پہنچیں تو پھر حکام پر لازم آتا ہے کہ ہر شخص سے انصاف کیا جائے۔ رشوت ، سفارش ، اقربا پروری اور جانبداری کو بالکل ختم کردیا جائے۔ ادائے امانت اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ان اللہ یامرکم بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں کم دیتا ہے۔ ان تودوا الامنت الیٰ اھلھا کہ امانت اس شخص کے سپرد کرو ، جو اس کا اہل ہے۔ یہ عمومی حکم ہے اور اس میں کسی فرد یا جماعت کو خصوصیت حاصل نہیں ، لہٰذا جیسا کہ پہلے عرض کیا یہ آیت افراد اور حکومت دونوں کے لیے واجب التعمیل ہے۔ ادائے امانت کا عام فہم مفہوم تو یہ ہے کہ اگر کسی شخص نے دوسرے شخص کے پاس کوئی چیز بطور امانت (ودیعت) رکھی ہے تو وہ اسے معین وقت پر واپس ادا کرے۔ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے علی الیدما اخذت یعنی جو چیز بطور امانت یاودیعت وصول کی ہے اسے اسی طرح واپس کرو۔ الامنت مودتٌ امانت کا ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی امانت لے کر واپس نہیں کرتا تو اس نے خیانت کی حضور ﷺ نے فرمایا کہ منافق کی ایک نشانی یہ بھی ہے اذا اؤتمن خان یعنی جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو وہ اس میں خیانت کرے۔ حضور ﷺ کا یہ ارشاد ہے لا ایمان لمن لا امانۃ لہ جس شخص میں امانت نہیں وہ ایمان سے خالی ہے گویا امانت اتنی اہم چیز ہے۔ امانت میں صرف وہی چیز شامل نہیں جو بطور خاص امانت کے طور پر رکھی گئی ہو۔ بلکہ کوئی شخص کسی دوسرے سے کپڑا ، برتن یا کوئی دیگر چیز عاریتاً لیتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ استعمال کے بعد حسب وعدہ وہ چیز واپس کرے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص کو راستے میں کوئی گری پڑی چیز مل جائے تو اس پر بھی ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ چیز اس کے مالک تک پہنچائے۔ حضور ﷺ کے بتائے ہوئے طریقہ کے مطابق چیز پانے والا اس چیز کی تشہیر کرے تاکہ اس کے مالک کا پتہ لگایا جاسکے۔ اس کے باوجود اگر گمشدہ چیز کا مالک نہ مل سکے تو پھر حکم ہے کہ ایسی چیز کو صدقہ کر دیاجائے۔ اگر خود غریب اور مستحق ہے تو وہ بھی استعمال کرسکتا ہے یا اسے بیت المال میں جمع کرا سکتا ہے ، بہرحال یہ چیز اس کے پاس امانت ہے جس کی ادائیگی معروف طریقے سے ہونی چاہئے۔ اگر کسی شخص کے پاس کوئی چیز بطور رہن رکھی گءی ہے تو اس کی ادائیگی بھی ضروری ہے۔ اس طرح کوئی چیز کرائے پر حاصل کی ہے تو وہ بھی مقررہ وقت پر واپس پہنچنی چاہئے۔ کسی کے ذے وراثت کا حق ہے اس کو ادا کرو۔ یتیم کا مال اس کے حوالے کرو۔ قرضدار کا قرض ادا کرو۔ غرضیکہ جو شخص جس چیز کا حقدار ہے اس کے حق کا اعتراف کرو۔ یہ سب چیزیں امانت میں شامل ہیں۔ منصبی امانت کسی عہدے یا منصب پر تعیناتی کرنا متعلقہ حاکم کے ذمے بہت بڑی امانت ہے۔ ادائیگی امانت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص جس منصب کا اہل ہے وہ اس کے سپرد کرو۔ اگر کوئی عہدہ اہل کی بجائے نااہل کو دیا جائیگاتو وہ خیانت ہوگی اور ایسا کرنے والا شخص قابل مؤاخذہ ہوگا۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو حاکم کوئی عہدہ اس کے اہل کی بجائے اپنے کسی غیر مستحق دوست یا رشتہ دار کو دیتا ہے تو وہ آدمی اللہ کے ہاں ملعون ہے ، اس نے امانت میں خیانت کا ارتکاب کیا ہے۔ گویا تقسیم منصب بھی بہت بڑی امانت ہے۔ چار خوبیاں حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے اربع اذاکن فیک اگر تمہارے اندر یہ چار خوبیاں موجود ہوں فلا علیک فیمافات من الدنیا تو پھر دنیا میں کوئی چیز بھی تم سے فوت ہوجائے ، اس میں کوئی حرج نہیں۔ مطلب یہ کہ ان اعلیٰ خصلتوں کی موجودگی میں تو کسی دیگر چیز کی پرواہ نہ کر۔ فرمایا پہلی چیز حفظ امانت ہے۔ اگر کسی شخص کے پاس امانت کی دولت موجود ہے تو یہ بہت بڑی خوبی کی بات ہے۔ فقہا اور مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ امانت میں وضو ، غسل ، نماز ، روزہ وغیرہ سب شامل ہیں۔ ان امانتوں کی احسن طریقے سے مقررہ وقت پر ادائیگی کرنی چاہیے۔ فرمایا دوسری خوبی صدق حدیث ہے یعنی ہمیشہ سچی بات کرو ، خواہ اس کے لیے کتنی ہی تکلیف برداشت کرنی پڑے۔ تیسری چیز فرمایا حسن خلق ہے۔ انسان کو ہمیشہ اچھے اخلاق اور اعلیٰ اطوار کا حامل ہونا چاہیے۔ اور چوتھی خوبی عفت طمعہ ہے۔ انسان خوراک حلال ، طیب اور پاکیزہ بنادے۔ محنت کر کے جائز ذرائع سے روزی کمائے گا تو خوراک خود بخود پاک ہوگی اور کسب حلال نہیں ہے کسی کا حق ضائع کیا ، رشوت ، چوری اور خیانت کا مال ہے تو پھر ایسے شخص کو پاکیزہ خوراک کیسے نصیب ہو سکتی ہے۔ تین زریں اصول حضرت انس ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا لاتزال ہذہ الامۃ بخیرٍ یہ امت ہمیشہ بہتری میں رہیگی جب تکیہ تین زریں اصولوں پر کاربند رہیگی۔ فرمایا پہلا اصول یہ ہے کہ ما اذا قالت صدقت یعنی امت کے افراد بات جب بھی کریں سچی کریں ، اس میں جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو۔ دوسری بات یہ ہے اذا حکمت عدلت جب فیصلہ کریں تو حق و انصاف کے مطابق کریں کیونکہ انہیں حکم دیا جا چکا ہے کہ جب کوئی فیصلہ کرو واذا حکمتم بین الناس ان تحکموا بالعدل تو عدل کے ساتھ کرو۔ فرمایا تیسرا اصول یہ ہے کہ اذا استرحمت رحمت جب امت کے لوگوں سے رحم طلب کیا جائے تو وہ رحم کریں۔ فرمایا اگر یہ تین اصول امت سے خارج ہوگئے تو وہ فتنہ میں مبتلا ہو جائیگی۔ حضرت ابن عباس ؓ کے اوصاف امام ابوبکر حصاص (رح) نے اپنی تفسیر میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کا ایک واقعہ نقل کیا ہے کہ کسی شخص نے آپ کو گالی دے دی۔ اس کے جواب میں ابن عباس ؓ نے فرمایا انک لتشتم تو مجھے گالی دیتا ہے حالانکہ میں کسی مسلمان کا بدخواہ نہیں ہوں۔ گالی تو کسی بُرے آدمی کو بھی نہیں دینی چاہئے چہ جائیکہ تو مجھے گالی دیتا ہے جب کہ مجھ میں تین اوصاف پائے جاتے ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ انی لاتی علی الایۃ ، جب میں قرآن پاک سے کوئی آیت پڑھتا ہوں۔ اور اس کے ذریعہ معانی و مطالب کے جو اسرار مجھ پر منکشف ہوتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ وہ سب کچھ دوسرے لوگ بھی جان لیں۔ ظاہر ہے کہ اپنے بھائیوں کے ساتھ یہ انتہائی درجے کی خیرخواہی ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس ؓ امت میں سب سے بڑے مفسر قرآن ہیں۔ جب وہ کوئی آیت پڑھتے ہوں گے تو آپ کے ذہن میں کیسے کیسے مضامین آتے ہوں گے ، اور اللہ تعالیٰ ان کے قلب و ذہن پر کیسے کیسے رازف منکشف کرتا ہوگا ، فرماتے ہیں کہ میں چاہتا ہوں کہ یہ سب کچھ دوسرے لوگ بھی جان لیں۔ اس قسم کی مثال ہمیں قریبی زمانہ میں بھی ملتی ہے۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی کتاب فیوض الحرمین میں لکھتے ہیں کہ جب میں قرآن پاک کی کوئی آیت پڑھتا ہوں تو بعض اوقات اس کے تحت مجھ پر علم و عرفان کے اتنے دروازے کھل جاتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت ایسا وسیع سمندر ہے جس کا کوئی ساحل نہیں بہرحال حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن پاک کی جو تشریح اللہ کریم میرے قلب میں ڈال دیتا ہے ، میں چاہتا ہوں کہ سب لوگ اس سیواقف ہوجائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مجھ میں دوسری خوب یہی ہے کہ جب کسی مسلمان حاکم کے متعلق سنتا ہوں کہ وہ انصاف کے ساتھ فیصلہ کرتا ہے۔ تو مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے ، حالانکہ مجھے کبھی ذاتی طور پر اس کے سامنے مقدمہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ اور شاید آئندہ بھی تازیست ایسا موقع نہ آئے۔ تاہم اس کے انصاف پر مجھے خوشی ہوتی ہے آپ نے فرمایا کہ تیسری بات یہ ہے کہ جب میں سنتا ہوں کہ مسلمانوں کے کسی علاقے میں باران رحمت ہوتا ہے ، تو مجھے بڑی خوشی حاصل ہوتی ہے حالانکہ میرے پاس کوئی جانور نہیں جسے وہاں چرنے کی ضرورت ہو۔ تاہم مسلمانوں کی بھلائی سے مجھے دلی مسرت حاصل ہوتی ہے کہ بارش ہونے کی وجہ سے علاقے کے مسلمان خوشحال ہوں گے۔ میں بہرحال بنی نوع انسان کا خیرخواہ ہوں مگر ایک تم ہو کہ مجھے گالی دیتے ہو۔ حکام سے عہد امام حسن بصری (رح) سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حکام سے تین چیزوں کا عہد لیا ہے پہلی بات یہ ہے۔ ” ولا تتبع الھوی “ مسلمانوں کے حاکم یا امیر کے لیے لازم ہے کہ وہ رعایا کے حقوق کا خیال رکھے اور اپنی ذاتی خواہشات کی پیروی نہ کرے۔ عام طور پر آج کی دنیا میں حق کی پیروی کرنے ولاے بہت کم حاکم ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر نفسانی خواہشات کی بیماری میں مبتلا ہوتے ہیں۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے ان سے عہد لیا ہے ان یخشوا کہ وہ خدا سے ڈریں کیونکہ ” واللہ احق ان تخشہ “ یہ خدا تعالیٰ کا حق ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے۔ اگر حاکم میں خوفِ خدا پیدا ہوگیا تو پھر حق و انصاف کی حکومت ہوگی اور ظلم و جور کا خاتمہ وہ جائے گا۔ فرمایا تیسری بات جس کا اللہ تعالیٰ نے عہد لیا ہے ، وہ یہ ہے ” ان لاتشترو بایتی ثمناً قلیلاً “ کہ میری آیتوں کے بدلے حقیر مال حاصل نہیں کروگے۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ حکام رشوت لے کر اللہ کے احکام کو بیچ دیتے ہیں اور فیصلہ حق و انصاف کے خلاف کردیتے ہیں ، فرمایا اللہ نے عہد لے رکھا ہے کہ وہ ایسا کام نہیں کریں گے۔ یہ بیان کرنے کے بعد امام حسن بصری (رح) نے قرآن پاک کی تین آیات تلاوت فرمائیں۔ پہلے عہد کے متعلق سورة ص کی یہ آیت ” یدود انا جعلنک خلیفۃً فی الارض فاحکم بین الناس بالحق ولا تتبع الھویٰ “ اے داؤد (علیہ السلام) ! بیشک ہم نے آپ کو زمین میں اپنا خلیفہ بنایا ہے پس آپ لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کریں گے اور خواہش کی پیروی نہ کریں۔ اس کے بعد خوفِ خدا سے متعلق آپ نے یہ آیت تلاوت کی ” فلا تخشوا الناس واخشون “ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ مجھ سے ڈرو اور لوگوں سے نہ ڈرو۔ اگر خوفِ خدا دل سے نکل گیا تو پھر ظلم و جور کا بازار گرم ہوجائے گا اور رعایا کی نہ جان محفوظ ہوگی ، نہ عزت اور نہ ان کا مال۔ اور پھر حکام کی تیسری ذمہ ذداری کے متعلق یہ آیت پڑھی و من لم یحکم بما انزل اللہ فاولیک ہم الکفرون “ یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا ، تو ایسے لوگ کافروں میں سے ہیں۔ اگر اللہ کے احکام کے برحق ہونے سے انکار کرتا ہے تو بلاشبہ کافر ہے اور ایمان رکھنے کے باوجود غلط فیصلہ کرتا ہے تو ایسے شخص کو اللہ تعالیٰ نے فاسق اور ظالم تو بہرحال فرمایا ہے۔ حاکم کی ذمہ داریاں نظام حکومت چلانا بہت مشکل کام ہے۔ دنیادار اسے آسان سمجھ کر ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھانے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ بلکہ ہر جائز ناجائز طریقے سے حاکم بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ قیامت کے دن ہر صاحب اقتدار حاکم کو ندامت اور حسرت ہوگی۔ اس دن وہ تمنا کریگا ، کاش میں دنیا میں حاکم نہ بنتا۔ رعایا کے حقوق اور مظالم اس کی گردن پر ہوں گے۔ ناانصافیاں گلے میں لٹکتی ہوں گی۔ مظلوم جنت میں چلا جائے گا ، اور اس کے بدلے میں حاکم کو دوزخ میں پھینک دیا جائیگا ، آج تو دنیا میں بڑی شان و شوکت سے حکومت کی جاتی ہے مگر جب قیامت کے دن جزائے عمل کا وقت آئیگا تو حسر ت اور ندامت کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم امانتیں ان کے اہل کی طرف لوٹا دو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو ان اللہ نعما یعظکم بہ بیشک اللہ تعالیٰ تمہیں اچھی چیز کی نصیحت کرتا ہے۔ اس کے احکام پر عمل کرو گے تو تمہارا نظام درست ہوجائیگا۔ تمہاری سوسائٹی پاک ہو جائیگی اور تم بلاخوف و خطر خوشحالی کی زندگی بسر کرو گے۔ ان اللہ کان سمیعاً بصیراً بیشک اللہ تعالیٰ سمیع ہے وہ ہر ایک کے ظاہر و باطن قول کو سنتا ہے اور بصیر ہے کہ ہر شخص کا قول اور فعل اس کی نگاہ میں ہے۔ سورة فجر میں فرمایا ان ربک لبا لمرصاد بیشک تمہارا رب گھات میں ہے۔ وہ تمہارے افعال وکردار سے واقف ہے۔ وہ تمہارے اقوال کو سن رہا ہے اور اعمال کو دیکھ رہا ہے۔ ان کا نتیجہ وقت معین پر سامنے آجائیگا۔
Ayah 4:59

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِی الْاَمْرِ مِنْكُمْ١ۚ فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِیْ شَیْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ ذٰلِكَ خَیْرٌ وَّ اَحْسَنُ تَاْوِیْلًا۠ Open ayah 4:59 in the Quran reader

اے ایمان والوں ! اطاعت کرو اللہ تعالیٰ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور تم میں سے جو صاحب امر ہوں ان کی۔ پس اگر تم کسی چیز میں جھگڑپڑو ، پس لوٹاؤ اس کو اللہ کی طرف اور رسول کی طرف ، اگر تم ایمان رکھتے ہو اللہ پر اور پچھلے دن یعنی قیامت پر۔ یہ بات بہتر ہے اور اچھی ہے انجام کے اعتبار سے

ربط آیات گزشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے ادائے امانت اور عدل کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہی وہ اصول ہیں جن پر عمل پیرا ہونے سے مسلمانوں کے اجتماعی اور انفرادی نظام درست رہ سکتے ہیں۔ میں نے عرض کیا تھا کہ یہ حکم ہر اس شخص یا جماعت کے لیے ہے ، جو کسی نہ کسی طرح اصلاح معاشرہ کا ذمہ دار ہے۔ سب سے پہلے یہ ذمہ داری امیر یا حکام پر آتی ہے کیونکہ سوسائٹی میں نظم و نسق کے ذمہ دار وہی ہوتے ہیں ، کسی فرد یا جماعت کا حق دلانا اور فریقین میں جھگڑے کی صورت میں عدل قائم کرنا حکومتِ وقت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ دوسرے نمبر پر ہر شخص فرداً فرداً بھی اپنے حلقہ اثر میں ذمہ دار ہے اور اس محدود حلقہ میں ادائے امانت اور قیام عدل کی ذمہ داری اسی پر عائد ہوتی ہے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کلکم راعٍ و کلکم مسئولٌ عن رعیتہ تم میں سے ہر شخص راعی ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے متعلق سوال کیا جائیگا اس سے ملکی اور علاقائی سطح پر حاکم وقت بھی مراد ہے اور گھریلو سطح پر گھر کا سربراہ بھی اسی زمرہ میں آتا ہے۔ گھریلوے معاملات میں وہ بھی ذمہ دار ہوتا ہے۔ علاقے کا حکم ہو یا کسی ادارے کا سربراہ ، ہر شخص سے اس کی حیثیت کے مطابق بازپرس ہوگی کہ آیا اس کے ذمہ جو امانت تھی وہ اس نے اہل تک پہنچائی یا نہیں۔ اور تنازعے کی صورت میں اس نے کہاں تک عدل کیا۔ بیت اللہ شریف کی چابی ادائے امانت کے ضمن میں اکثر مفسرین نے فتح مکہ کے موقع پر بیت اللہ کی چابی کا واقعہ بیان کیا ہے۔ 8 ھ میں جب مکہ فتح ہوگیا تو حضور ﷺ نے بیت اللہ شریف کے اطراف کو بتوں سے پاک کیا۔ پھر خانہ کعبہ کے اندر جانے کا ارادہ فرمایا تو بنی شیبہ کے خاندان کے چابی بردار عثمان ابن طلحہ ؓ کو طلب کیا۔ چابی اس کی مشرکہ ماں کے پاس تھی جس نے چابی دینے سے اس لیے لیت و لعل کیا کہ اگر ایک دفعہ چابی اس خاندان سے چلی گئی تو واپس نہیں ملیگی حضرت عثمان ؓ نے ماں سے کہا کہ مسلمانوں کو غلبہ حاصل ہوچکا ہے اور اب اگر چابی نہ دی گئی تو اس کی اپنی جان خطرے میں ہے۔ چناچہ چابی آپ کی خدمت میں پیش کی گئی۔ حضور ﷺ نے بیت اللہ شریف کا دروازہ کھولا اندر تشریف لے گئے اور وہاں پر دعا کی۔ پھر جب باہر آئے تو خاندان بنی ہاظم میں سے حضرت عباس ؓ اور حضرت علی ؓ نے چابی اپنی تحویل میں رکھنے کی درخواست کی تو حضور ﷺ نے یہی آیت تلاوت فرمائی ان اللہ یامرکم تودو الامنت الی اہلھا یعنی اللہ حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے پاس پہنچیں ، چناچہ آپ نے بیت اللہ کی چابی اس کے حامل عثمان ؓ بن طلحہ کو واپس کردی ، جو آج تک اسی خاندان میں چلی آ رہی ہے۔ اللہ اور رسول کی اطاعت اب آج کی تلاوت کردہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے وہ قانون بتایا ہے اس کے نفاذ کے ذریعے ادائے امانت اور عدل کا فریضہ انجام دیا جاسکتا ہے ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین امنوا اے ایمان والو ! اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو واولی الامر منکم اور تم میں سے جو صاحب امر ہیں ان کی اطاعت کرو۔ یہاں پر اطاعت کے تین درجات بیان کیے گئے ہیں۔ پہلا درجہ اطاعت الٰہی کا ہے اور یہ اطاعت علی الاطلاق تمام انسانوں پر فرض ہے۔ یہ اطاعت مطلقہ اور بالذات ہے ، لہٰذا یہ ہر حالت میں ضرروی ہے ، اس میں کوئی استثناء نہیں ، اس سے سرتابی کرنے والا نافرمان ، مجرم اور جہنمی ہے ، وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ خالق ، مالک ، مربی اور محسن ہے۔ لہٰذا اس کی اطاعت بہرصورت لازم ہے۔ دوسرے نمبر پر اطاعت رسول ہے اور یہ بھی مطلق اطاعت ہے تاہم یہ اطاعت بالذات نہیں بلکہ رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے ، اس کے حکم کی تعمیل کرنے اور اس کی مرضیات اور نامرضیات تک پہنچنے کے لیے قطعی اور یقینی واسطہ رسول ہوتا ہے۔ لہٰذا رسول کی اطاعت بھی لازمی ہے۔ قرآن پاک میں موجود ہے ” من یطع الرسول فقد اطاع اللہ “ جس نے رسول کی اطاعت کی ، اس نے گویا اللہ ہی کی اطاعت کی ، کیونکہ رسول دنیا میں اپنا حکم نافذ نہیں کرتا بلکہ اللہ ہی کے حکم کو نافذ کرتا ہے اس لحاظ سے پیغمبر کی اطاعت اس امر کی قطعی علامت ہے کہ کوئی شخص واقعی اللہ تعالیٰ کا فرمانبردار ہے۔ اولی الامر کی اطاعت اب تیسری اطاعت صاحب امر کی ہے اور اس سے مراد حاکم وقت علماء و فقہاء اور ہر ذمہ دار شخص ہے۔ مسلمان حاکم کی اطاعت خدا اور رسول کی اطاعت کی شرط پر لازم ہے جب تک حاکم وقت اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر کار بند رہیگا ، اس وقت تک اس کی اطاعت بھی فرض ہے۔ اس کی ہر جائز بات ماننا ضروری ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے علیکم السمع والطاعۃ جب امیر حق بات کہتا ہے تو اس کا سننا اور اس کی اطاعت کرنا تم پر لازم ہے خواہ تمہیں یہ بات پسند ہو یا نہ ہو۔ نبی (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا من اطاع امیری فقد اطاعنی یعنی جس نے میرے امیر کی اطاعت کی ، اس نے گویا میری ہی اطاعت کی۔ مطلب یہ کہ جب تک امیر یا حاکم اللہ اور رسول کے حکم کے مطابق راہنمائی کرتا رہے ، اس کی اطاعت فرض ہے واذا امر بمعصیۃ فلا سمع ولاطاعۃ اور اگر وہ نافرمانی کا حکم دے تو نہ اس کی بات سننا ضروری ہے اور نہ اس پر عمل کرنا۔ کیونکہ انما الطاعۃ فی المعروف اطاعت اور فرمانبرداری نیک اور جائز امور میں ہی ہو سکتی ہے۔ آپ کا یہ بھی فرمان 1 ؎ ہے لاطاعۃ لمخلوقٍ فی معصیۃ الخالق یعنی اللہ کی ناراضگی کی صورت میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیں ہے بلکہ حرام ہے۔ حاکم کی اطاعت تو اس وقت تک ہی ہو سکتی ہے مادام یقودکم بکتب اللہ جب تک وہ اللہ کی کتاب ، اس کے دین اور شریعت کے مطابق راہنمائی کرتا ہے ایسا شخص خواہ بڑے خاندان سے تعلق رکھتا ہو یا چھوٹے سے ، اعلیٰ ہو یا ادنیٰ ، آقا ہو یا غلام ، ہر حالت میں اس کی اطاعت لازم ہوتی ہے۔ حاکم چونکہ ظاہری طور پر شریعت کا قانون نافذ کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں ، ان کے پاس اقتدار کی امانت ہوتی ہے ، اختیار ہوتا ہے ، لہٰذا کسی حاکم کا جھوٹ بولنا یا غداری کرنا بہت بڑا جرم تصور ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے اسے اختیار دیا ہے تو اس پر لازم ہے کہ تفویض شدہ امانت کے مطابق شرعی احکام نافذ کرتے۔ علماء کی اطاعت باقی رہی علماء اور فقہا کی اطاعت ، تو وہ اس وجہ سے ہوتی ہے کہ وہ حضرات جائز اور ناجائز امور کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کے پاس علم کی امانت ہوتی ہے جسے وہ عوام تک پہنچاتے ہیں ، اس ضمن میں علمائے سوء نے تو ہمیشہ غلط راستہ اختیار کیا مگر علمائے حق نے ادائے امانت کے فریضہ کو انجام دینے میں کبھی رو رعات نہیں کی۔ اس سلسلہ میں انہوں نے مار کھائی ، تکالیف برداشت کیں مگر حق کا دامن نہیں چھوڑا۔ امام ابوحنیفہ (رح) ، امام مالک (رح) ، امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) چاروں پر اپنے اپنے وقت میں آزمائش آئی ، انہوں نے قیدو بند کی صعوبتیں برداشت کیں ، جلاوطن ہوئے مگر صداقت سے روگردانی نہیں کی ، بلکہ ہمیشہ سچی بات کی۔ لہٰذا علماء فقہا کی اطاعت اس وجہ سے ہے کہ وہ جائز اور ناجائز میں تفریق کرتے ہیں۔ اس ضمن میں حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی (رح) تحریر فرماتے ہیں کہ اللہ کی اطاعت اس لیے ہے کہ وہ مالک ہے ، رسول کی اطاعت اس واسطے کہ خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانے والا ہے اور علماء کی اطاعت اس لیے کہ وہ تبلیغ رسالت کا فریضہ انجام دینے والے ہیں۔ بہرحال یہ تیسری اطاعت جس میں حکام ، فقہا اور علماء آتے ہیں مشروط ہے ، اگر وہ اچھی بات کا حکم دیں تو ان کی اطاعت کی جائیگی اور اگر کوئی غلط بات بتائیں تو اسے تسلیم نہیں کیا جائیگا۔ چناچہ علامہ قاضی ثناء اللہ پانی پتی (رح) فرماتے ہیں کہ اگر کوئی فقیہہ ایسا فتویٰ دے یا ایسا مسئلہ بتائے جو کتاب و سنت کے خلاف ہو تو اس کی بات ماننا گناہ کا ارتکاب ہوگا۔ اور اگر مسئلہ کتاب و سنت کے مطابق ہے تو پھر اس کا ماننا ضروری ہوگا۔ شرعی قوانین کا فقدان اس وقت میں باون مسلمان حکومتیں ہیں مگر ہر طرف ملوکیت ہے یا ڈکٹیٹر شپ کہیں سرمایہ دارانہ نظام جاری ہے اور کہیں اشتراکیت کا غلبہ ہے مارشل لاء جیسے طاغوتی قوانین تو بلاحیل و حجت نافذ کردیے جاتے ہیں مگر جب بھی شرعی قوانین کے نفاذ کا موقع آتا ہے تو ہیرا پھیری سے کام لیا جاتا ہے۔ اور طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں۔ ہمارے ملک میں اب اس بات پر بحث ہو رہی ہے کہ اسلام میں رجم یعنی سنگساری کی سزا ہے یا نہیں یہ اللہ اور اس کے رسول کے احکام کی کھلم کھلا خلافورزی ہے ، حال ہی میں ایک زانی کو تیس کوڑے اور بارہ سال قید کی سزا دی گئی ہے۔ یہ کہاں کا انصاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم تو یہ ہے کہ اگر زانی غیر شادی شدہ ہے تو اسے سرعام سو کوڑے لگاؤ ۔ اگر وہ کوڑوں کی تاب نہ لا کر مر گیا تو ٹھیک ہے ، ورنہ اسے آزاد کر دو ۔ ہاں حدیث شریف میں تغریب عام کے ا لفاظ بھی آئے ہیں۔ اسے ایک سال کے لیے جلاوطن کیا جاسکتا ہے ضلع بدر کر دو یا جیل میں ڈال دو ۔ بہرحال سورة نور میں سو کوڑوں کی سزا کا حکم موجود ہے۔ مگر افسوس کا مقام ہے کہ حکام اپنا فرض ادا کرنے سے قاصر ہیں اس سلسلہ میں علماء کی اکثریت بھی اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوتی نظر نہیں آتی ، کچھ ایسے لوگ خال خال ہی ہیں۔ جنہیں اپنی ذمہ داری کا احساس ہے۔ بصورت تنازعہ فرمایا فان تنازعتم فی شیٍ اگر کسی معاملہ میں تمہارا جھگڑا ہوجائے ، حکام وقت یا فقہاء اور علماء کے ساتھ اختلاف رئاے پیدا ہوجائے تو ایسے معاملے کے متعلق فرمایا فردوہ الی اللہ والرسول اسے اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو کیونکہ تمام معاملات میں آخری مرجع اور آخری سند (Final Authority) اللہ اور رسو ل ہے۔ حقیقت ہیں قطعی سند تو اللہ تعالیٰ کی ہے مگر رسول کی اس کی قطعی علامت ہے۔ اسی لیے فرمایا متنازعہ معاملہ اللہ اور اس کے رسول یعنی کتاب اللہ اور سنت رسول کے سامنے پیش کر کے حل معلوم کرلو۔ اگر یہ مسئلہ قرآن پاک یا سنت خیرالانام سے صراحتاً حل ہوگیا تو ٹھیک ہے اسے قبول کرلو۔ وگرنہ اجتہاد و استنباط کے لیے علماء اور فقہاء کے سپرد کر دو ۔ آج کل کی زبان میں پہلی صورت کو قانون (LAU) کہتے ہیں اور دوسری صورت میں ضمنی قواعد (BY LAWS) کا نام دیتے ہیں جب کوئی چیز قرآن و سنت سے صراحتاً مل گئی تو اس میں کسی تغیر و تبدل کی گنجائش نہیں ہوتی ، البتہ اجتہاد کے ذریعے اخذ کیے گئے (BY LAWS) تبدیل بھی ہو سکتے ہیں۔ ایسے معاملات میں فقہائے کرام کے اختلاف کی وجہ یہی ہے کہ ہر فقیہ مسئلہ کا حل بذریعہ استنباط نکالتا ہے جو کہ ایک طبعی بات ہے تاہم آخری سند اللہ اور اس کے رسول کی ہے۔ حتمی فصلہ وہیں سے ہوگا۔ خرفِ آخر فرمایا تمہیں اللہ اور رسول کی بات پر ہی سرتسلیم خم کرنا ہوگا ان کنتم تومنون باللہ والیوم الاخر بشرطیکہ تم اللہ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہو۔ اگر اللہ اور رسول کی اطاعت کو قبول کرلو گے تو معاشرہ بالکل درست ہوجائیگا ، انصاف کا بول بالا ہوگا ، کسی حقدار کا حق ضائع نہیں ہوگا۔ اور اگر اپنے معاملات دوسرے انسانوں کے سپرد کردیے تو پھر پورا نظام درہم برہم ہوجائے گا ، زمین میں فساد برپا ہوگا۔ اور کوئی کام درست طور پر انجام نہیں دیا جاسکے گا۔ اسی لیے فرمایا کہ اپنے تمام معاملات اللہ اور اس کے رسول کے تابع کرلو ، قیامت میں فیصلے کا مدار یہی چیزیں ہوں گی۔ ذلک خیرٌ واحسن تاویلاً یہی چیز انجام کے اعتبار سے بہتر ہے اس پر عمل پیرا رہو گے تو دنیا میں بھی امن و سکون حاصل ہوگا اور آخرت میں بھی فلاح نصیب ہوگی اور اگر ان اصولوں سے انحراف کیا تو نہ نیا میں چین نصیب ہوگا اور نہ آخرت کی کامیابی حاصل ہوگی۔
Ayahs 4:60–63

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ یَزْعُمُوْنَ اَنَّهُمْ اٰمَنُوْا بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَ مَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ یَّتَحَاكَمُوْۤا اِلَى الطَّاغُوْتِ وَ قَدْ اُمِرُوْۤا اَنْ یَّكْفُرُوْا بِهٖ١ؕ وَ یُرِیْدُ الشَّیْطٰنُ اَنْ یُّضِلَّهُمْ ضَلٰلًۢا بَعِیْدًا Open ayah 4:60 in the Quran reader

کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا۔ جو کہتے ہیں (دعویٰ کرتے ہیں) کہ وہ ایمان لائے ہیں اس چیز پر جو آپ کی طرف اتاری گئی ہے اور جو آپ سے پہلے اتاری گئی ہے۔ وہ ارادہ کرتے ہیں کہ اپنے فیصلے طاغوت کی طرف لے جائیں حالانکہ ان کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس کے ساتھ کفر کریں اور شیطان چاہتا ہے کہ ان کو گمراہ کرے اور گمراہی میں دور لے جائے

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمْ تَعَالَوْا اِلٰى مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ وَ اِلَى الرَّسُوْلِ رَاَیْتَ الْمُنٰفِقِیْنَ یَصُدُّوْنَ عَنْكَ صُدُوْدًاۚ Open ayah 4:61 in the Quran reader

اور جب ان لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ اس چیز کی طرف آؤ جو اللہ نے نازل کی ہے اور رسول کی طرف آؤ تو آپ دیکھیں گے کہ یہودی آپ سے اعراض کرتے ہیں۔ اعراض کرنا

فَكَیْفَ اِذَاۤ اَصَابَتْهُمْ مُّصِیْبَةٌۢ بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْهِمْ ثُمَّ جَآءُوْكَ یَحْلِفُوْنَ١ۖۗ بِاللّٰهِ اِنْ اَرَدْنَاۤ اِلَّاۤ اِحْسَانًا وَّ تَوْفِیْقًا Open ayah 4:62 in the Quran reader

پس کیا ہوگا جس وقت ان کو مصیب تہپنچے گی ان کے ہاتھوں کے کیے ہوئے کاموں کی وجہ سے ، پھر وہ آئیں گے آپ کے پاس ، قسمیں اٹھائیں گے اللہ تعالیٰ کے نام کی کہ نہیں ارادہ کیا انہوں نے مگر بھلائی کا اور آپس میں اتفاق کا

اُولٰٓئِكَ الَّذِیْنَ یَعْلَمُ اللّٰهُ مَا فِیْ قُلُوْبِهِمْ١ۗ فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ عِظْهُمْ وَ قُلْ لَّهُمْ فِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَوْلًۢا بَلِیْغًا Open ayah 4:63 in the Quran reader

یہی لوگ ہیں کہ جانتا ہے اللہ تعالیٰ جو کچھ انکے دلوں میں ہے۔ پس آپ ان سے اعراض کریں اور ان کو نصیحت کریں اور کہیں ان کو انکے نفسوں کے بارے میں اثر کرنے والی بات

ربط آیات گزشتہ سے پیوستہ درس میں اللہ تعالیٰ نے دو باتوں کا حکم دیا تھا۔ ایک یہ کہ امانت اس کے اہل تک پہنچاؤ اور دوسری یہ کہ لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو۔ ان دونوں احکام کے مخاطبین اولاً مسلمان حکام بنتے ہیں اور ثانیاً عام مسلمان ، پھر گزشتہ درس میں یہ ارشاد ہوا کہ مذکورہ دو احکام کی تعمیل اسی صورت میں ممکن ہو سکتی ہے جبکہ اہل ایمان اللہ کی اطاعت کریں رسول کی اطاعت کریں اور مسلمان حکام کی اطاعت کریں۔ جب کہ وہ نیکی کا حکم دیں۔ پھر فرمایا اگر کسی معاملہ میں جھگڑا پیدا ہوجائے ، حکام اور رعایا کے درمیان کسی مسئلہ میں اختلاف رائے ہوجائے تو فرمایا کہ ایسے معاملہ کو واپس اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو اور حتمی فیصلہ انہی سے لو۔ مقصد یہ کہ اہل اسلام اپنے اختلافات کتاب و سنت کے روبرو پیش کریں۔ اگر یہ معاملات کسی دوسری طرف لوٹائے گئے تو درست نہ ہوگا ، کیونکہ انجام کے اعتبار سے بھی قرآن و سنت کا فیصلہ ہی بہتر ہے۔ قیامت میں جزا و سزا کا مدار اس پر ہوگا۔ اب آج کی آیات میں اسی مسئلہ کا دوسرا پہلو بیان فرمایا گیا ہے۔ وہاں ارشاد تھا کہ اپنے معاملات قرآن و سنت کی طرف لے جاؤ ، اور یہیں یہ ہے کہ اپنے تنازعات اور فیصلے شریعت اسلامیہ کے علاوہ اور کسی طرف نہ لے جائیں ان آیات سے خاص طور پر منافقین کی سرزنش مقصود ہے جو اپنے تنازعات اللہ اور رسول کے علاوہ غیروں کی طرف لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ اللہ کی رسول اور عام مسلمانوں کو بھی خبردار کیا گیا ہے کہ وہ منافقین کی چالوں سے ہوشیار رہیں۔ وہ تمہیں اسلام سے وابستگی کا یقین دلائیں گے ، مگر اللہ تعالیٰ ان کے دلوں کی باتوں کو جانتا ہے ، ان کے ساتھ احسن طریقے سے پیش آئیں۔ منافقین کا دعویٰ ارشاد ہوتا ہے الم تر الی الذین یزعمون کیا آپ نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جو زعم کرتے ہیں ، دعویٰ کرتے ہیں اور زعم کا معنی قول بھی ہوتا ہے اور معنی یہ ہوگا جو زبان سے کہتے ہیں انہم امنوا کہ وہ ایمان لائے ہیں بما انزل الیک اس چیز پر جو حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلّم پر نازل ہوئی ہے یعنی قرآن کریم و ما انزل من قبلک اور وہ اس چیز پر بھی ایمان کے دعویدار ہیں جو آپ سے پہلے نازل ہوئی یعنی تورات ، انجیل وغیرہ۔ مدینے کے رہنے والے اکثر یہودی تھے اور پھر انہی میں سے کچھ لوگ بظاہر ایمان لے آئے مگر درپردہ مسلمانوں کے دشمن تھے۔ وہ مسلمانوں کو ناکام کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ یہ لوگ اپنی نسبت سابقہ آسمانی کتب کی طرف کرتے تھے اور قرآن پاک کے ساتھ ساتھ سابقہ کتب پر بھی ایمان لانے کے دعویدار تھے۔ مگر جب کوئی تنازعہ پیدا ہوجاتا تھا۔ تو اسے شریعت اسلامیہ کی بجائے دانستہ غیروں کی طرف لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس مذموم کوشش کے متعلق فرمایا کہ دعویٰ ایمان کے باوجود یریدون ان یتحاکموا الی الطاغوت یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اپنے تنازعات فیصلہ کے لیے طاغوت یعنی شیطان کے پاس لے جائیں۔ جیسا کہ گزشتہ درس میں بھی عرض کیا تھا کہ طاغوت کا لفظ شیطان کے علاوہ ہر گمراہ کرنے والی طاقت کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ شانِ نزول مفسرین کرام نے ان آیات کی شان نزول میں متعدد واقعات بیان کیے ہیں۔ مشہور واقعہ یہ ہے کہ ایک یہودی اور ایک کلمہ گو منافق کے درمیان جھگڑا پیدا ہوگیا۔ حضور ﷺ کے زمانہ مبارک میں آپ خود بھی معاملات کا تصفیہ فرماتے تھے اور بعض اکابر صحابہ جیسے عمر ؓ ، حضرت علی ؓ ، حضرت معاذ بن جبل ؓ کو بھی قاضی مقرر کیا ہوا تھا تو اس تنازعہ کے تصفیہ کے لیے یہودی حضور ﷺ کی خدمت میں یا حضرت عمر ؓ کے پاس جانا چاہتا تھا۔ مگر منافق اسے یہودیوں کے سرخیل کعب بن اشرف کے سامنے پیش کرنا چاہتا تھا۔ دراصل فریقین سمجھتے تھے کہ اس معاملہ میں یہودی حق پر ہے۔ لہٰذا یہودی اہل اسلام سے انصاف کی توقعرکھتا تھا اور اپنا مقدمہ انہی کی عدالت میں پیش کرنا چاہتا تھا۔ برخلاف اس کے منافق (کلمہ گو مسلمان) کا موقف چونکہ کمزور تھا ، وہ چاہتا تھا کہ یہ کعب بن اشرف پر اثر انداز ہو کر فیصلہ اپنے حق میں کرا لے۔ بہرحال مفسرین کرام بیان کرتے ہیں کہ اولاً یہ حضور ﷺ کے سامنے پیش ہوا اور آپ نے یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ منافق آخر منافق تھا۔ اس نے خیال کیا کہ حضرت عمر ؓ یہودیوں کے حق میں بڑے سخت ہیں ، اگر یہ مقدمہ ان کے پاس پیش ہوجائے تو وہ اس کے حق میں فیصلہ دے دیں گے۔ چناچہ اس نے یہودی کو پھر راضی کرلیا کہ اب حضرت عمر ؓ کے پاس چلتے ہیں۔ وہاں پہنچ کر یہودی نے مقدمہ کی روائیداد سنائی اور ساتھ یہ بھی بتایا کہ حضور ﷺ اس مقدمہ کا فیصلہ اس کے حق میں کرچکے ہیں ، مگر اس شخص کی خواہش پر اب آپ کے پاس بھی حاضر ہوگئے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عمر ؓ سخت برہم ہوئے اور فرمایا تم ٹھہرو ، میں ابھی آتا ہوں۔ آپ گھر سے تلوار لائے اور منافق کا سر قلم کردیا اور فرمایا جو شخص حضور نبی کریم ﷺ کے فیصلہ پر راضی نہیں ، اس کا فیصلہ یہی ہے۔ اب مقتول کے وارثان نے حضور ﷺ کی عدالت میں حضرت عمر ؓ کے خلاف قتل کا مقدمہ پیش کردیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ہمارا آدمی پکا سچا مسلمان تھا اور مقدمہ دوسری عدالت میں پیش کرنے سے کوئی مخالفت مقصود نہ تھی بلکہ اس سے مقصود فریقین میں اتفاق و اتحاد کرانا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان باتوں کی تردید فرمائی ہے۔ مفسرین یہ واقعہ اس مقام پر بیان کرتے ہیں مگر اس کا تعلق تفسیری روایتوں سے ہے۔ کسی صحیح حدیث میں ایسا کوئی ذکر نہیں ملتا۔ و سے بھی یہ واقعہ صحیح معلوم نہیں ہوتا کیونکہ طبرانی نے صحیح سند کے ساتھ یہ بات نقل کی ہے کہ ابو برزہ اسلمی ؓ ایک کاہن تھے جو بعد میں اسلام لے آئے۔ اکثر یہودی اپنے مقدمات انہی کے پاس لے جاتے تھے۔ یہودی اور منافق کا مقدمہ بھی اسی ابوبرزہ ؓ کے پاس گیا تھا جس پر یہ آئتیں نازل ہوئیں۔ منافقوں کے ساتھ سلوک حضرت عمر ؓ کا منافق کو یکدم قتل کردینا بھی کچھ صحیح نظر نہیں آتا کیونکہ صحیح احادیث میں بہت سے ایسے واقعات ملتے ہیں جن میں ایسے مواقع پر حضرت عمر ؓ اور حضرت خالد بن ولید ؓ نے بعض منافقین کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی۔ مگر حضور ﷺ نے اجازت نہ دی۔ بخاری اور ترمذی شریف میں روایت موجود ہے کہ جب حضرت حاطب ؓ ابن ابی بلتعہ سے غلطی ہوگئی تھی تو حضرت عمر ؓ نے عرض کیا تھا دعنی ان اضرب عنق ہذا المنافق۔ حضرت ! آپ مجھے چھوڑ دیں کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں ، مگر حضور ﷺ نے منع فرما دیا تھا۔ حضرت خالد بن ولید ؓ کا ذکر بھی آتا ہے کہ جب منافقین کی منافقت واضح طور پر ظاہر ہونے لگی تو آپ نے قتل کرنے کی اجازت طلب کی جو نہ مل سکی۔ رئیس المنافقین عبداللہ بن ابی کو قتل کرنے کی جب اجازت مانگی گئی تو نبی (علیہ السلام) نے فرمایا دعوا اس کو چھوڑ دو ۔ ان الناس یتحدثون ان محمداً یقتل اصحابہ لوگ پراپیگنڈا کریں گے کہ محمد خدا کے رسول نہیں بلکہ مطلق العنان بادشاہ ہیں جو اپنے ساتھیوں سے ناراض ہو کر انہیں قتل کروا دیتے ہیں۔ فرمایا یہ چیز تبلیغ اسلام کے راستے میں رکاوٹ بن جائیگی۔ جنگ حنین کے موقع پر ایک شخص نے کہا تھا ، اے محمد ! آپ انصاف کریں۔ اس پر آپ کو سخت کوفت ہوئی اور آپ نے فرمایا تو نامراد ہوگیا ، اگر میں دنیا میں انصاف نہیں کروں گا تو اور کون انصاف کرنے والا ہے۔ اس موقع پر بھی حضرت عمر ؓ یا حضرت خالد ؓ نے عرض کیا تھا کہ حضور ! اجازت دیں اس شخص کا کام تمام کردیں۔ آپ نے فرمایا ، اس کو چھوڑ دو ، یہ خارجیوں کا جد امجد ہے۔ اس کی نسل سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو اسلام سے بالکل اسی طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار کے آر پر نکل جاتا ہے اور اس کے ساتھ کوئی آلائش نہیں ہوتی۔ اس زمانے میں جب کسی شکاری جانور ہرن وغیرہ پر زور سے تیر چلاتے تھے تو وہ جانور کے پیٹ کے پار نکل جاتا تھا اور اس کے پچھلے کنارے پر معمولی سی آلائش ہوتی تھی باقی تیر بالکل صاف ہوتا تھا۔ بہرحال فرمایا کہ اس شخص سے ایسے لوگ پیدا ہوں گے جو قرآن پڑھیں گے ، مگر قرآن ان کے گلے سے نیچے نہیں جائیگا۔ یہ واقعات بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ حضرت عمر ؓ جلد بازی میں کوئی ایسا کام نہیں کرتے تھے جس کا ذکر ان تفسیری روایات میں ملتا ہے ، بلکہ وہ تو ہمیشہ حضور ﷺ کے اشارے کے منتظر رہتے تھے۔ دین کے معاملے میں بیشک سخت تھے مگر کوئی غلط قدم نہیں اٹھاتے تھے۔ اس قسم کی اجازت طلبی حضرت عمر ؓ کی اپنی بیٹی اور حضور ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت حفصہ ؓ کے متعلق بھی ملتی ہے۔ حضور ﷺ اپنی بیویوں سے ناراض ہوگئے اور ایک ماہ تک علیحدگی کی قسم کھاکر اوپر چوبارے میں چلے گئے۔ لوگ سمجھنے لگے کہ حضور نے اپنی تمام بیویوں کو طلاق دے دی ہے اس پر حضرت عمر ؓ نے حضور کی خدمت میں حاضری کے لیے دو تین دفعہ نیچے کھڑے ہو کر اجازت طلب کی۔ جب کوئی جواب نہ ملا تو عرض کیا کہ میں اپنی بیٹی کی سفارش کرنے کیلئے نہیں بلکہ حقیقت حال معلوم کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں کہ کیا واقعی حضور نے بیویوں کو طلاق دے دی ہے یا محض ناراضگی ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ خدا کی قسم اگر اللہ کا نبی مجھے حکم دے گا تو میں اپنی بیٹی کی گردن خود اڑا دوں گا۔ بعض روایات سے اس قدر معلوم ہوتا ہے کہ اکثر منافقین اپنے مقدمات حضور ﷺ کے پاس اس لیے نہیں لاتے تھے کہ آپ ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردیں گے۔ اس کے برخلاف وہ کعب بن اشرف جیسے طاغوتی شخص کے پاس جانا پسند کرتے تھے کیونکہ وہ اسے رشوت دیکر یا دیگر سفارشی ذرائع سے اپنے حق میں فیصلہ کرنے پر آمادہ کرسکتے تھے۔ بس اتنی بات ہے جس پر ان آیات کا نزول ہوا۔ طاغوتی نظام مولانا عبیداللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ طاغوت سے مراد شیطان اور کعب بن اشرف جیسے موذی اور غالی لوگ ہیں۔ وسیع تر مفہوم میں طاغوت ہر وہ سرکش قوت ہے جو لوگوں کو گمراہ کرتی ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس زمانے کے بڑے بڑے طاغوت قیصر اور کسریٰ تھے۔ انہوں نے دنیا بھر کے لوگوں کو غلام بنا رکھا تھا اور وہ انسانوں کو جانوروں کی طرح استعمال کرتے تھے۔ اللہ کے دین کے مخالف تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کے ذریعے اس طاغوتی نظام کا قلع قمع کردیا یہ تو اس زمانے کا ذکر ہے اور اب ہمارے زمانے میں روس اور امریکہ کے نظام طاغوتی نظام ہیں۔ ایک الحادی نظام ہے اور دوسرا سرمایہ دارانہ۔ دنیا کا ایک حصہ سرمایہ داری کی لپیٹ میں ہے اور دوسرا اشتراکیت کے چنگل میں پھنسا ہوا ہے۔ مگر ہیں دونوں طاغوتی اور باطل۔ دینِ اسلام نے ہمیشہ ان کے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ اللہ نے اپنے ہر نبی کی زبان سے کہلوایا ان اعبدوا اللہ و اجتنبوا الطاغوت یعنی عبادت صرف اللہ کی کرو اور ان طاغوتوں سے اجتناب کرو۔ مفسر قرآن شیخ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) طاغوت کا معنی ” ہڑدنگا “ کرتے ہیں۔ ہندی میں ہڑدنگا اس شخص کو کہتے ہیں جو خود ساختہ سردار ہوتا ہے۔ کسی طریقے سے اقتدار پر قبضہ کرلیتا ہے اور پھر اسے من مانے طریقے سے استعمال کرتا ہے۔ اب تو ریگن اور برزنیف قسم کے لوگ ہیں جو یہ کردار ادا کہہ رہے ہیں تاہم تقریباً دو سو سال تک انگریز کو بھی دنیا میں یہی حیثیت حاصل رہی جو اب کمزور ہوچکا ہے۔ بہرحال طاغوت ہر وہ طاقت ہے کلما اضل عن الحق جو راہ راست سے گمراہ کر دے شرائع الٰہیہ کے خلاف جو بھی فیصلہ ہوگا وہ طاغوتی ہوگا ، مارشل لاء کا نظام بھی اسی قلیل س ہے۔ جہاں انسانوں کے بنائے ہوئے باطل قواعد جبراً نافذ کیے جاتے ہیں۔ فرمایا ، وہ تو اپنے تنازعات طاغوت کے پاس لے جانا چاہتے ہیں و قد امروا ان یکفروا بلہ حالانکہ انہیں حکم یہ تھا کہ وہ طاغوت کا انکار کردیں۔ تمام طاغوتی نظاموں کی نفی کر کے اللہ وحدہٗ لاشریک پر ایمان لے آئیں۔ سورة بقرہ میں فرمایا ” فمن یکفر باالطاغوت و یومن باللہ فقد استمسک بالعروۃ الوثقی “ جس نے طاغوت کا انکار کردیا اور اللہ پر ایمان لے آیا ، اس نے مضبوط کڑے کو پکڑ لیا۔ ویرید الشیطن ان یضلہم ضللاً بعیداً اور ادھر شیطان یا طاغوت کی خواہش یہ ہے کہ لوگ دور کی گمراہی میں جا پڑیں ، اور شریعت الٰہی سے منہ موڑ بیٹھیں۔ شرائع الٰہیہ کی پیروی آگے فرمایا واذا قیل لہم جب منافقوں سے کہا جاتا ہے تعالوا الی ما انزل اللہ اس چیز کی طرف آؤ جسے اللہ نے نازل کیا ہے یعنی قرآن حکیم و الی الرسول اور رسول کی طرف آؤ تو پھر رایت المنفقین آپ ان منافقوں کو دیکھیں گے۔ مقصد یہ کہ ان منافقوں کا حال یہ ہوتا ہے۔ یصدون عنک صدوداً اعراض کرتے ہیں آپ سے اعراض کرنا صدوداً مفعول مطلق ہے اور اس کا معنی یہ ہے کہ ایک خاص طریقے سے اعراض کرتے ہیں تاکہ کسی کو پتہ نہ چل سکے کہ وہ درپردہ منکر ہیں۔ منافقین بظاہر کلمہ تو پڑھتے ہیں مگر شریعت الٰہی کو تسلیم نہیں کرتے اور حیلے بہانے سے اس کے احکام کو ٹالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مولانا شیخ الہند (رح) اپنے ترجمہ قرآن پاک کے حاشیے پر لکھتے ہیں کہ اگر مسلمانوں میں کوئی تنازعہ پیدا ہوجائے تو انہیں قرآن و سنت کی طرف رجوع کرنھا چاہئے۔ کیونکہ ان کا ملجا و ماویٰ یہی دو چیزیں ہیں فرماتے ہیں کہ تنازعہ کے دو فریقین میں سے اگر ایک شخص کہے کہ چلو بھائی اس کا فیصلہ شریعتِ الٰہی سے کرواتے ہیں اور دوسرا کہے کہ میں تو شریعت کو تسلیم نہیں کرتا۔ تو ایسا شخص کافر کہلائے گا کیونکہ اس نے اللہ اور رسول کا حکم تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے۔ سورة نور کے چھٹے رکوع میں آتا ہے کہ مومنین کی یہ شان یہ ہے کہ جب انہیں کہا جاتا ہے کہ اللہ اور رسول کی طرف آؤ تو وہ خوشی محسوس کرتے ہیں اور جو اس قسم کے بودے اور منافق لوگ ہوتے ہیں وہ حیلہ سازی کرتے ہیں تاکہ بچ جائیں۔ منافقین کی بےبسی ایسے ہی منافقین کے متعلق فکیف اذا اصابتہم مصیبۃٌ بما قدمت ایدیہم پس کیا حال ہوگا جب ان کو مصیبت پہنچے گی ان کے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے۔ یعنی اللہ اور رسول کو چھوڑ کر طاغوتی فیصلے حاصل کرنے والوں پر جب محاسبے کا وقت آئیگا ، ان کو تکلیف پہنچے گی تو ان کا کیا حشر ہوگا اس وقت یہ لوگ سخت مصیبت میں ہوں گے اور یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے شریعت الٰہی سے اعراض کیا۔ دنیا میں بھی جب قرآن پاک کی آیات ان کے جھوٹ کا پول کھول دیتی تھی تو انہیں سخت ندامت ہوتی تھی مگر اپنے مکروہ عزائم سے باز نہیں آتے تھے۔ سورة توبہ میں بھی موجود ہے ” انہم یفتنون فی کل عامٍ مرۃً او مرتین “ یعنی ہر سال میں یاک یا دو مرتبہ منافقوں کی قلعی ضرور کھلتی ہے اور وہ ذلیل ہوتے ہیں مگر پھر بھی توبہ نہیں کرتے اور نہ قبیح حرکتوں سے باز آتے ہیں۔ جھوٹی قسمیں فرمایا ان کا کیا حال ہوگا جب وہ اپنے کردہ گناہوں کی سزا میں مبتلا ہوں گے۔ فرمایا ثم جاء وک یحلفون پھر وہ آپ کے پاس قسمیں اٹھاتے ہوئے آئیں گے باللہ ان اردنا الا احساناً و توفیقاً اللہ کی قسم دوسری جگہ مقدمہ لے جانے کا مقصد نیکی اور اتفاق رائے کرانا تھا۔ جھوٹی قسمیں اٹھائیں گے کہ ہم اللہ اور رسول پر ایمان رکھتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے سورة منافقون میں ارشاد فرما دیا کہ ان کی قسموں کا اعتبار نہ کریں۔ واللہ یشھد ان المنفقین لکذبون اللہ خود گواہی دیتا ہے کہ یہ جھوٹے لوگ ہیں۔ اتخذو ایمانہم جنۃً انہوں نے بچاؤ کے لیے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے ، لہٰذا ان پر اعتبار نہ کریں۔ فرمایا اولیک الذین یعلم اللہ ما فی قلوبہم یہی لوگ ہیں کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے۔ ان کا روگ بھلا خدا تعالیٰ سے کیسے چھپ سکتا ہے وہ تو علیہٌ بذاتِ الصدور “ ہے۔ تمام ظاہر و باطن کو جانتا ہے۔ ” عالمُ الغیب “ ہے۔ اسے علم ہے کہ منافقین میں کھوٹ کی مقدار کیا ہے۔ فرمایا ان تمام تر حقائق کے باوجود اے پیغمبر (علیہ السلام) ! فاعرض عنہم آپ منافقین سے اعراض کریں انہیں اچھے طریقے سے چھوڑ دیں۔ سورة مزمل میں بھی فرمایا ہے۔ واھجرہم ہجراً جمیلاً آپ انہیں اچھے طریقے سے چھوڑ دی۔ مقصد یہ کہ کوی برابھلا نہ کہیں بلکہ ان کے ساتھ رابطہ کی گنجائش باقی رہنے دیں۔ وعظہم اور ان کو نصیحت کرتے رہیں اور خیر خواہی کا سلوک کرتے رہیں۔ وقل لہم فی انفسہم قولاً بلیغاً اور ان کے نفسوں کے بارے میں موثر بات کریں جو ان کے دلوں پر اثر انداز ہو۔ بعض فرماتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان کے جھوٹ کا پول ظاہر بھی ہوجائے پھر بھی فی انفسہم علیحدگی میں انکے ساتھ خیرخواہی کی موثر بات کریں ، کیونکہ اللہ کے نبیوں کا طریقہ تبلیغ یہی ہے کہ وہ مخالفین کے ساتھ بھی حسن سلوک سے پیش آتے ہیں اور ان کے ساتھ بہتر ، سچی اور موثر بات کرتے ہیں تاکہ ان کی مخالفت موافقت میں تبدیل ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ نے تبلیغ دین کے سلسلے میں یہ تعلیم بھی دے دی۔