Ayah 4:114گزشتہ رکوع میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کی کارگزاری بیان فرمائی کہ انہوں نے خود چوری کرکے مورد الزام دوسروں کو ٹھہرایا۔ اور حضور ﷺ کو بھی باور کرانے کی کوشش کی کہ وہ چور نہیں ہیں بلکہ ان پر الزام لگانے والے زیادتی کے مرتکب ہیں۔ انہوں نے برادری کے معززین کے ذریعے حضور نبی کریم ﷺ کے سامنے اپنی صفائی بھی پیش کی مگر اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے ان کی سازش کا پردہ چاک کردیا اور اپنے نبی کو تمام حالات سے آگاہ کردیا۔
اس کے بعد حضور ﷺ کی عصمت کا مسئلہ بھی آگیا کہ اللہ تعالیٰ کا فضل نہ ہوتا تو یہ لوگ آپ کو غلط بات کا طرف دار بنادیتے۔ اللہ نے فرمایا کہ خائن لوگوں کی حمایت نہیں کرنی چاہیے ، اللہ تعالیٰ خائنوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا ، اور جن مخلص مسلمانوں نے محض برادری کی وجہ سے حضور ﷺ کے پاس منافقوں کی سفارش کی تھی۔ اللہ نے ان کو سخت تنبیہہ فرمائی کہ اس دنیا میں تو تم نے ان کی وکالت کا حق اد ا کردیا مگر کل قیاتم کے دن وہ اللہ کی بارگاہ میں کونسا وکیل پیش کریں گے جو ان کی حمایت کرسکے بہرحال اللہ نے فرمایا کہ کسی بےگناہ پر الزام لگانا بہت بری بات ہے ، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
اسی ضمن میں اللہ تعالیٰ نے یہ واضح فرمایا کہ جس منافق نے چوری کا ارتکاب کیا تھا ، اس نے صحیح راستہ اختیار نہیں کیا تھا ، چوری کا راز کھل گیا ، پھر وہ ہتھیار بھی واپس ہوئے جو اصل مالکان نے اللہ کی راہ میں وقف کردئیے۔ چور کے متعلق فرمایا کہ اگر وہ اقرار جرم کرکے دنیا میں سزا پالیتا تو اس کی آخرت برباد نہ ہوتی مگر اس نے غلط راستہ اختیار کیا۔ مرتد ہو کر کافروں سے جاملا ، اور پھر ایک دیوار کے نیچے آکر مرگیا اور ہمیشہ کے لیے ناکام ہوگیا۔
خفیہ مشورے
اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے برادری کے لوگوں کی مذمت بیان فرمائی ہے جو اپنے آدمی کی بریت کے لیے خفیہ مشورے کرتے تھے ، اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے اسلام کے اجتماعی مسائل کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ اہل ایمان کی بہتری کے لیے پوشیدہ مشورے یا میٹنگیں کرنا بالکل درست ہے اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ان امور کی نشاندہی بھی کی ہے جن کے متعلق مشورہ کرنا برحق ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ لاخیر فی کثیرمن ناجوالھم ان کے بہت سے پوشیدہ مشوروں میں کوئی بہتری نہیں ہے۔ نجری سرگوشی یا کا ناپھوسی کو کہتے ہیں اور اس سے مراد خفیہ میٹنگ ہے جس میں صلاح مشورہ کیا جائے تو فرمایا کہ یہ لوگ بشیر منافق کی صفائی کے لیے اور دوسروں پر الزام لگانے کے لیے جو خفیہ میٹنگیں یا مشورے کرتے ہیں اور مشورے بھی ایسے کہ ” لایرضی من القول جو منشائے الٰہی کے خلاف ہیں ، فرمایا ایسے مشوروں کا کچھ فائدہ نہیں ہے۔
صدقہ کا حکم
فرمایا بعض خفیہ مشورے مفید بھی ہیں مثلاً الامن امر بصدقۃ یہ کوئی شخص صدقہ کرنے کا حکم دے ، تاکہ غریبوں اور محتاجوں کی ضروریات پوری ہوسکیں۔ اس قسم کا مشورہ کرنا تو بڑی خوبی کی بات ہے کہ کسی کی حاجت براری بھی ہوسکے اور اس کی عزت نفس بھی برقرار رہے۔ قرآن پاک میں صدقہ کی بڑی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ ارشاد خداوندی ہے یمحق اللہ الربوا ویربی الصدقت اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے تاکہ سوسائٹی کو امن و سکون حاصل ہو۔ محتاجوں کو اپنا بھائی سمجھنا اور اللہ کے عطا کردہ وسائل سے ان کی مدد کرنا ، اللہ تعالیٰ کی طرف سے عاید کردہ فرائض میں سے ہے۔ اور اس کی بڑی فضیلت آئی ہے ۔ صدقہ سے انسان میں تذکیہ نفس پیدا ہوتا ہے بخل ختم ہو کر فیاضی جیسی اعلی اقدار پیدا ہوتی ہیں۔
صدقہ کا مفہوم بہت وسیع ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کل معروف صدقۃ یعنی ہر نیکی صدقہ کے حکم میں آتی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ انسانی جسم کے تین سو ساٹھ اعضا (جوڑ) ہیں ۔ جب انسان صبح نیند سے صحیح سلامت بیدار ہوتا ہے۔ تو اس پر لازم ہوتا ہے کہ ہر عضو کے بدلے صدقہ کرے۔ عرض کیا گیا ، حضور ! یہ تو بہت بڑا بوجھ ہے۔ اگر کوئی شخص ہر جوڑ کے بدلے ایک ایک پیسہ بھی صدقہ کرے تو سارے جسم کے لیے کافی رقم کی ضرورت ہوگی۔ اور ہر ایک کے پاس اتنی گنجائش نہیں ہوتی۔ نبی (علیہ السلام) نے فرمایا کہ کوئی شخص جو بھی کلمہ اپنی زبان سے نکالتا ہے وہ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے ۔ مثلاً کوئی شخص سبحان اللہ یا الحمد اللہ یا لا الہ الا اللہ یا اللہ اکبر کہتا ہے۔ درود شریف پڑھتا ہے یا استغفار کے کلمات ادا کرتا ہے ، تو یہ سب اسن کے لیے صدقہ بن جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی کو نیکی کی بات بنادینا یا برائی سے روک دینا بھی صدقہ ہے ، حتی کہ اگر کوئی شخص راستے سے کانٹا یا پتھر ہٹادیتا ہے کہ کسی کو تکلیف نہ ہو ، تو وہ بھی اس کے لیے صدقہ ہوتا ہے۔ فرمایا اگر کسی کو کوئی چیز بھی میسر نہ ہو تو چاشت کے وقت دو رکعت نفل ادا کرے تو یہ سب اعضا کی طرف سے کفایت کرجائیں گے۔ بہرحال صدقے کا عام فہم معنی اللہ کے راستہ میں مال خرچ کرنا ہے۔ کسی حاجت مند کی مالی اعانت کردی جائے ، زکوۃ بھی اسی میں آتی ہے کہ یہ واجب ہے۔ اس کے علاوہ کسی کو کپڑا پہنادینا ، کھانا کھلادینا ، عیدالاضحیٰ پر قربانی کردینا اور عیدالفطر کو فطرانہ اداکرا سب صدقات میں آتے ہیں بشرطیکہ یہ سب کچھ خالص اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔
سود خوری
صدقہ کی ضد سود ہے جس سے سوسائٹی میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ کسی ضرورت مند کی اعانت کرنے کی بجائے اسے رقم دے کر اس پر سود وصول کرنا نہایت ہی قبیح حرکت ہے جس سوسائٹی میں سود کی لعنت آجاتی ہے وہ سوسائٹی پست سے پست تر ہوتی چلی جاتی ہے۔ سود حرص اور لالچ کو جنم دیتا ہے۔ انسان میں تنگ دلی پیدا ہوتی ہے ، انسانی ہمدردی کا جذبہ ختم ہو کر خود غرضی پیدا ہوتی ہے۔ دندیا میں سب سے زیادہ سود خور قوم یہودی ہیں۔ بنکاری کا پورا نظام سود کی بنیاد پر قائم ہے۔ یہودیوں کے بعد دوسرے نمبر پر سود خور ہندو مہاجن ہیں جن کی سنگ دلی کے واقعات مشاہدہ میں آتے رہتے ہیں۔ انہی کی دیکھا دیکھی سود خوری کی لعنت پٹھانوں اور عربوں میں بھی آگئی ہے اور پھر بعض دوسرے لوگ بھی سود خوری کرنے لگے ہیں۔ فرمایا مشورہ وہ اچھا ہے جو کہ صدقہ کی ترویج کی خاطر کیا جائے۔
نیک عمل
فرمایا اچھا مشورہ صدقہ کے حکم میں ہے یا پھر اومعروف نیکی کا حکم کرنے میں۔ کسی سوسائٹی میں نیکی پھیلانے اور برائی کو مٹانے کی خاطر جو مشورہ کیا جائے وہ بھی اللہ کے ہاں مقبول ہے ۔ نیکی کے صرف بڑے بڑے کام ہی قابل توجہ نہیں ہیں بلکہ معمولی سے معمولی نیکی پر بھی عندا اللہ ماجور ہوتا ہے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے لاتحقرن من المعروف کسی بھی نیک کام کو حقیر نہ سمجھو ولو ان تلقی اخاک بوجہ طلیقخواہ اتنی سی بات ہو کہ تم اپنے بھای کو ہنس مکھ چہرے کے ساتھ ملو یہ بھی نیکی ہے ۔ کسی بھائی کے برتن میں پانی ڈال دینا بھی نیکی ہے۔ غرض یہ کہ اس قسم کی چھوٹی چھوٹی نیکیاں اکٹھی ہو کر قیامت کو پہاڑ بن جائیں گی اور پھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر ثمرہ مرتب ہوگا۔ فرمایا زبانی نیکی یہ بھی ہے کہ کسی کو نیکی کی تلقین کردی یا برائی سے منع کردیا۔ اور فعل نیکی یہ ہے کہ کسی مظلوم کی مدد کری جائے اور کسی مصیبت زدہ کی مصیبت کو رفع کردیا جائے یہ قولی اور فعلی معروف باتیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر نیکی کے کاموں کے لیے مشورہ کیا جائے ، میٹنگ کی جائے یا کوئی اجلاس بلایا جائے تو یہ بہت اچھی بات ہے۔
اسی لیے فرمایا کہ منافقوں کی بہت سی پوشیدہ میٹنگوں کا کوئی فائدہ نہیں البتہ فائدہ اس خفیہ مشورے کا ہے جو صدقہ کے متعلق ہو یا نیکی کو پھیلانے کے لیے کیا جائے ، وگرنہ اکثر مشورے اور میٹنگیں فضول ہی ہوتی ہیں۔ جن کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ ابودائود شریف اور بعض دوسری کتابوں میں حضور ﷺ کا یہ فرمان موجود ہے من حسن اسلام المرء ترکہ مالا یعنیہ یعنی کسی انسان کی اسلام کی خوبی میں سے ہے۔ کہ وہ لایعنی اور فضول باتوں کو ترک کردے۔ اور اس کے بجائے اچھی باتوں کو اختیار کرے۔ تو اس سے انسان میں طہارت اور سماحت جیسی پاکیزہ چیزیں پیدا ہوں گی۔
اصلاح ذات البین
فرمایا تیسری چیز جس کے لیے مشاورت جائز ہے ۔ وہ ہے اواصلاح بین الناس لوگوں کے درمیان اصلاح کرنا۔ بعض افراد یا جماعتوں کے درمیان تنازعہ پیدا ہوجاتا ہے ان کی اصلاح کرنے کے لیے جھگڑے کو مٹانے کے لیے اگر میٹنگیں اور مشورے کیے جائیں تو بہت اچھی بات ہے اسے اصلاح ذات البین کہتے ہیں۔ دوسرے مقام پر ہے اصلحوا ذات بینکم اللہ تعالیٰ نے اپنے حالات اچھے رکھنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے برخلاف فساد ذات البین بہت بری بات ہے۔ مسلمانوں کا آپس میں جھگڑا و فساد مختلف وجوہات کی وجہ سے ہوتا ہے۔ جھگڑا معاملات میں ہوتا ہے اور اخلاق میں بھی ، حتی کہ بسا اوقات فساد وعقیدے کے بارے میں بھی ہوتا ہے۔ حضور ﷺ نے فساد ذات البین کے متعلق فرمایا ھی حالقہ یہ ہونڈنے والی چیز ہے ۔ پھر فرمایا کہ میں نہیں کہتا کہ فساد بالوں کو مونڈتا ہے بلکہ یہ دین کو مونڈ کر رکھ دیتا ہے آپس کا فساد دین کو ایسے برباد کردیتا ہے۔ جیسے استرابالوں کو بیخ کنی کردیتا ہے۔
جھگڑا پارٹیوں کے درمیان بھی ہوسکتا ہے اور ملکوں کے درمیان بھی ۔ لہٰذا جھگڑے کو مٹانے کے سلسلے میں جو کوشش ، محنت ، مشورہ اور میٹنگ کی جائے وہی بہتر ہے فضول کاموں کے لیے مشورہ کرنا لایعنی ہے اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا ، بلکہ برائی کو تقویت حاصل ہوگی۔ الغرض ! یہ تین چیزیں بیان کی گئی ہیں جن کے لیے باہمی مشاورت بالکل درست ہے یعنی صدقہ ، نیکی اور اصلاح ذات البین۔ اور ان تمام امور کا مقصد ایک ہی ہے۔ کہ لوگوں کے حالات اچھے ہوجائیں۔ برائی کا خاتمہ ہوجائے۔ فاسد رسومات سے جان چھوٹ جائے اور ان کی بجائے سنت رائج ہو۔ لوگوں میں اسلام اور شریعت کے لیے محبت پیدا ہوجائے۔ شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں جو اصلاح ذات البین کے لیے کوشش کرتا ہے۔ ملاء اعلیٰ کے فرشتے اس کے حق میں بہتری کی دعا کرتے ہیں۔ ایسا انسان اللہ کے ہاں پسندیدہ انسان ہوتا ہے کہ وہ فرشتوں کی دعائوں کا مستحق بنتا ہے۔
جائز اور ناجائز مشورے
مشورے افراد کے درمیان بھی ہوتے ہیں اور مقامی اور ملکی سطح پر جماعتوں کے درمیان بھی۔ میونسپل کمیٹی کے ممبران بھی میٹنگ کرتے ہیں اور شہر کی اصلاح کے لیے مشورے کرتے ہیں۔ اسی طرح صوبائی اور ملکی سطح پر ممبران صوبائی وقومی اسمبلی اجلاس کرکے صوبائی اور ملکی بہبود کے لیے مشورے کرتے ہیں اور پھر بڑے بڑے منصوبے معرض وجود میں آتے ہیں۔ مگر سوال تو یہ ہے کہ کیا یہ سب لوگ قوم وملت کی اصلاح احوال کے لیے مشورے کرتے ہیں یا کھیل تماشے اور دیگر فضول باتوں کو زیر بحث لاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں تین چیزوں کا ذکر کیا ہے یعنی صدقہ ، نیکی اور اصلاح ذات البین کیا ہمارے شہر ، صوبے ، یا ملک کے نمائندگان کو کبھی یہ توفیق حاصل ہوتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بیان کردہ مذکورہ بالا تین آئٹمز کو بھی زیر بحث لائیں ؟ کیا ان امور کی انجام دہی کے لیے بھی قانون سازی ہوتی ہے۔ ؟ کیا غریبوں کی بہبود کے لیے کبھی مشورہ ہوا ہے ؟ وہاں تو فضول چیزوں کے لیے قانون بنتے ہیں۔ وہاں تو فلموں اور ٹیلی ویژن کی ترقی کی باتیں ہوتی ہیں۔ کرکٹ اور ٹینس کے لیے مشورے ہوتے ہیں۔ چاہیے تو یہ تھا کہ لوگوں کی تعلیم وتربیت کی باتیں ہوتیں ؟ شریعت کے نفاذ کا مسئلہ پیش ہوتا محتاجوں کی عزت نفس کے لیے کوئی منصوبہ بنتا ، غربت دورہوکر لوگوں کی بنیادی ضروریات کا اہتمام ہوتا ۔ مگر ایسی چیزیں انہیں کہاں نصیب ہیں۔
یہاں پر اختلاف دور کرنے کی بجائے افراد اور پارٹیوں کے درمیان اختلاف بڑھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ انگریز کا پرانا اصول ہے کہ اختلاف بڑھائو اور حکومت کرو (DIVIDE AND RULE) کیونکہ اگر لوگ اچھی بات پر متفق ہوجائیں تو انہیں حکومت کرنے کا موقع کیسے مل سکتا ہے۔ یہاں تو سیاسی پارٹیوں میں رسہ کشی کی ہوا دی جاتی ہے۔ شیعہ سنی کا فساد کرایا جاتا ہے ۔ مقلد غیر مقلد کا مسئلہ پیدا کیا جاتا ہے ، دیو بندی اور بریلوی کو لڑایا جاتا ہے اور یہی ایک اصول ہے جس کے ذریعے اپنی حکومت کو طول دے سکتے ہیں۔ اقتدار پر قبضہ جماسکتے ہیں۔ بھائی تمہارے ذمے تو لازم تھا کہ نیکی کا نظام قائم کرتے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عمل کرتے برائی کا قلع قمع طاقت کے ساتھ کرتے عریانی اور فحاشی کے خلاف جہاد کرتے ، نظام صلوۃ قائم ہوتا ، ہر شخص کی عزت آبرو ، مال اور جان محفوظو ہوتی۔ اگر تم برائی ختم نہیں کرتے ، اللہ تعالیٰ کی پیش کردہ باتوں پر عمل نہیں کرتے تو تمہاری ممبریاں کسی کام کی نہیں۔ تم اپنے فرائض کو کماحقہ ادا نہیں کر رہے۔ اقتدار کی امانت اللہ تعالیٰ نے تمہارے سپرد کی ہے اسے محض تنخواہ اور بھتہ وصول کرنے تک محدود نہ رکھو بلکہ عوام کی خدمت کرکے نہ صرف دنیا میں سرخروئی حاصل کرو بلکہ آخرت کے لیے ذریعہ نجات بھی پیدا کرلو۔
اہل ایمان کی چار صفات
اما م شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ اہل ایمان یک تمام امتوں کے لیے چار صفات کا ہونا ضروری ہے۔ (1) طہارت (2) اخبات یعنی اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی (3) سماحت یعنی فیاضی اور رذیل چیزوں سے پرہیز اور (4) عدالت۔
عدل و انصاف کا تقاضا ہے کہ لوگوں کے جھگڑے مٹ جائیں۔ تمام لوگ صلح وصفائی سے رہیں۔ اختلاف اپنوں میں ہو یا بیگانوں میں ، افراد میں ہو یا پارٹیوں میں ، خاندان میں ہو یا ممالک میں ، صلح کرادینا بہت بڑی نیکی ہے۔ سورة حجرات میں بھی آتا ہے کہ مومنوں کے دوگروں کے درمیان اگر جھڑا ہوجائے۔ فاصلحوا بینھماتو ان کے درمیان صلح کرادو ، تو اللہ تعالیٰ نے تین چیزوں کا ایجنڈا دے کر فرمایا کہ اگر میٹنگ کرنی ہے ، کوئی مشورہ کرنا ہے تو ان چیزوں کے متعلق کرو۔ صدقہ کا حکم دو تاکہ محتاجوں کی ضروریات پوری ہوں۔ نیکی کا حکم دو تاکہ برائی کا خاتمہ ہوجائے اور لوگوں کے درمیان اصلاح کرو تاکہ تمام جھگڑے اور تنازعے مٹ جائیں۔ اگر تمہارے اپنے جھگڑے ختم ہوجائیں تو کوئی غیر تمہارے طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکے گا۔ برخلاف اس کے اگر تم آپس میں الجھتے رہے تو تمہاری ہوا اکھڑ جائے گی اور تم ذلیل و خوار ہو کر رہ جائو گے۔
رضائے الٰہی
فرمایا ومن یفعل ذلک ابتغاء مرضات اللہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی تلاش میں ایسا کرے گا ، صدقہ یا نیکی کا حکم کرے گا یا لوگوں کے درمیان صلح کرادے گا یا ان مقاصد کے حصول کے لیے مشورہ کرے گا اور اس کی مراد رضائے الٰہی ہو ، اپنی نیک نامی اریاکاری یا ووٹ حاصل کرنے کے لیے ایسا نہیں کرتا ، فرمایا مسوف نویتہ اجراً عظیماً عنقریب ہم اسے بہت بڑا اجر عطا کریں گے نیکی دراصل وہی ہے جو صرف خدا کی رضا کے لیے ہو۔ اور ہر اس شخص کے ساتھ کی جائے جو اس کا مستحق ہو۔ مگر آج حالت یہ ہے کہ زکوۃ و خیرات اس شخص کو دی جاتی ہے جو اپنی پارٹی کا آدمی ہو سفارش اس کی جاتی ہے ، جس نے ووٹ دیا تھا یا آئندہ دے گا یا پھر نیکی اس لیے کی جاتی ہے کہ اپنے فرقے کو عروج حاصل ہو۔ حکومت بھی انعامات سے اسی شخص کو نوازتی ہے جسے اپنے مقصد کے لیے استعمال کرنا مطلوب ہو۔ یہ تمام چیزیں نیکی کی روح کے خلاف ہیں۔ نیکی جب تک محض اللہ کی رضا کے لیے نہیں ہوگی۔ اس کا کچھ فائدہ نہیں ، ابتغاء مرضات اللہ سے یہی بات سمجھائی گئی ہے۔ اور اللہ کی خوشنودی کے لیے وہی نیکی کرے گا جس کا نظریہ یعنی (IDEOLOGY) صحیح ہوگی۔ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کا بھی محبوب ہوگا اور ملاء اعلیٰ کا دعائوں کا مستحق بھی۔
Ayah 4:115ربط آیات
گزشتہ آیات میں منافقین کی مذمت بیان ہوتی رہی ہے اللہ تعالیٰ نے ا ن کی خیانت ، برائی ، خفیہ مشوروں اور میٹنگوں کا ذکر فرمایا۔ گزشتہ اور اس سے پیوستہ دروس میں منافقین کے ایک خاندان بنوابیرق کا ذکر تھا کہ ان کے ایک آدمی بشیر ابن ابیرق نے چوری کا ارتکاب کیا۔ مگر خود کو اس سے بری الذمہ ثابت کرنے کے لیے چوری کا الزام ایک مخلص مسلمان لبید ابن سہیل ؓ پر اور پھر ایک یہودی پر لگایا اس کے علاوہ معززین قبیلہ کا ایک وفد بھی حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا ، جس میں مخلص مسلمان بھی شامل تھے۔ اس وفد نے حضور نبی کریم ﷺ کو باور کرانے کی کوشش کی کہ ان کا آدمی بےگناہ ہے ، اور رفاعہ ؓ اور قتادہ ؓ نے اس پر غلط الزا م لگایا ہے حضور ﷺ نے بھی ظاہری حالات کے مطابق بشیر منافق کو بےگناہ سمجھا اور حضرت قتادہ ؓ کو ڈانٹ دیا کہ انہوں نے غلط الزام لگایا ہے تاہم اللہ تعالیٰ نے آیات نازل فرما کر اس سازش کو بےنقاب کردیا چور پکڑا گیا اور اس سے مال بھی برآمد ہوگیا۔ پھر وہ منافق خفت کے مارے مدینہ سے بھاگ گیا اور مرتد ہو کر کفار مکہ سے جاملا حضرت حسان بن ثابت ؓ نے اس کی ہجوکہی ، جب اس کا چرچا ہوا۔ تو بدنامی کے ڈر سے اس عورت نے بھی بشیر کو گھر سے نکال دیا جس کے پاس وہ ٹھہرا ہوا تھا ، مفسرین بیان فرماتے ہیں کہ وہ کسی دیوار کے نیچے آکر مر گیا۔
بہرحال اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کے حوالہ سے منافقین کی مذمت بیان کی۔ کہ اگر اس شخص میں انصاف کا مادہ ہوتا تو اپنے جرم کا اقرار کرکے حد سرقہ قبول کرلیتا اور آخرت کے دائمی عذاب سے بچ جاتا ، مگر اس نے غلط راستہ اختیار کیا۔ اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے سفارشی مسلمانوں کو تنبیہ فرمائی کہ وہ ایسے غلط لوگوں کی حمایت نہ کیا کریں۔ خود حضور نبی کریم (علیہ السلام) کے متعلق فرمایا کہ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل شامل نہ ہوتا تو یہ لوگ غلط طور پر آپ کو بھی اپنا طرفدار بنالیے…… مگر اللہ تعالیٰ نے وحی نازل فرما کر منافقین کی شقاوت کو ظاہر فرمادیا تو اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کے بعد آج کی آیت میں مومنوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ منافقوں کی چالوں میں آنے کی بجائے مومنین کے راستہ پر چلیں اور مومنین کے راستہ کے خلاف نہ کریں۔
رسول کی مخالفت
چنانچہ اسی پس منظر میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ومن یشاقق الرسول جو کوئی اللہ کے رسول کی مخالفت کرتا ہے ۔ مشاققت دشمنی ضد ، عناد ، یا پارٹی بازی کو کہتے ہیں ، یہ تمام قبیح صفات بشیر بن ابیرق پر صادق آتی ہیں اور اسی کی طرف اشارہ ہے کہ اس شخص نے خود چوری کی ، پھر دوسروں پر اتہام لگایا اور آخر میں اللہ کے رسول کی نافرمانی کا مرتکب ہو کر کفار مکہ سے جاملا۔ اسی لیے فرمایا کہ جو شخص اللہ کے رسول کی نافرمانی کرتا ہے ، مخالفت کرتا ہے من بعدماتبین لہ الھدی بعد اس کے کہ اس پر ہدایت واضح ہوچکی تھی۔ اور ہدایت کا راستہ وہی ہے جس پر اللہ کا رسول اور اس کے متبعین چل رہے ہیں اور جس کی طرف دوسروں کو بھی دعوت دے رہے ہیں۔ یہ وہی ہدایت کا پروگرام ہے۔ جو اللہ جل شانہ ، نے اپنی آخری کتاب قرآن مجید میں نازل فرمایا ہے۔ اور حضور ﷺ جس کی تشریح و توضیح بیان فرماتے ہیں۔ اسی مضمون کو اللہ تعالیٰ نے سور ۃ بقرہ میں اس طرح بیان فرمایا قدتبین الرشد من الغی یعنی ہدایت کا راستہ گمراہی کے راستے سے بالکل واضح ہوگیا ہے ، اس کے باوجود اگر کوئی شخص اللہ کے رسول اور اس کے لائے ہوئے دین کی مخالفت کرتا ہے۔ تو پھر اس کی سزا وہی ہے جو آیت کے اگلے حصے میں بیان ہورہی ہے۔
سزا کی وجوہات
امام شاہ ولی اللہ (رح) فرماتے ہیں کہ نبی ہمیشہ اپنی قوم کی زبان میں ان کو دین کی دعوت دیتا ہے جیسے اللہ تعالیٰ کا قانون ہے ۔ وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ لیبین لھم ہم نے رسول کو اس کی قوم کی زبان کے ساتھ بھیجا تاکہ کسی کو کوئی اشتباہ نہ رہے کہ اللہ کا نبی کس چیز کی طرف دعوت دے رہا ہے ۔ لہٰذا جب کوئی نبی اپنی قوم کو انہی کی زبان میں سمجھائے ، پھر قوم کا کوئی آدمی دعوت کو سن کر اس کا انکار کرے ، تو وہ قطعی طور پر سزا کا مستحق ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ چار چیزیں انسان کو سزا کا مستحق بناتی ہیں۔ پہلی چیز پیدائشی فطرت ہے کہ اس اعتبار سے بھی کوئی انسان سزا یا جزا کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ دوسری چیز ملاء اعلیٰ کے فرشتے ہیں جو اچھا کام کرنے والوں کے لیے دعا اور برا کام کرنے والوں کے لیے بددعا کرتے ہیں لہٰذا یہ فرشتے بھی جزا وسزا کا سبب بنتے ہیں۔ فرمایا تیسری چیز شریعت مکتوبہ ہے۔ جب یہ نازل ہوتی ہے تو اس پر عمل کرنے والے جزا پاتے ہیں اور انکار کرنے والے سزا پاتے ہیں۔ پھر چوتھے درجے میں اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کو بھیج کر ہدایت کا راستہ واضح کرتا ہے اس حجت کے اتمام پر بھی اللہ تعالیٰ جزا وسزا کا فیصلہ کرتا ہے۔
اتباع کے درجات
فرمایا کہ جو شخص ہدایت واضح ہوجانے کے بعد اللہ کے رسول کی مخالفت کرے گا۔ ویتبع غیر سبیل المومنین اور مومنین کے راستے کے علاوہ کسی دوسرے راستے پر چلے گا۔ جیسا کہ بشیر منافق مومنوں کا راستہ چھوڑ کر مشرکوں کے ساتھ جاملا ، تو فرمایا ہم اس کو وہ سزا دیں گے جس کا ذکر آگے آرہا ہے اور یہ اس لیے کہ اس نے نبی کی اتباع چھوڑ کر دوسرا راتہ اختیار کیا ، حالانکہ نبی کا اتباع فرض ہے۔ اس سورة میں پہلے بیان ہوچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اس لحاظ سے فرض ہے کہ وہ خالق اور مالک ہے اور نبی کی اطاعت اس کی رسالت کی وجہ سے لاز م ہے اور اس آیت کی رو سے تیسری چیز یہ آگئی ہے کہ مومنین کے راستے پر چلنا بھی فرض ہے اور مومنین وہ جو اللہ اور اس کے رسول کے راستہ پرچلنے والے ہیں اور جن کا اعتقاد اور عمل بالکل صحیح ہے۔ یہ تینوں چیزیں درجہ بدرجہ آتی ہیں۔
دلائل شرعیہ
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ مومنین سے مراد حضور ﷺ کے صحابہ کرام ؓ ہیں ، جو آپ پر ایمان لائے ، آپ کی زیارت کی اور آپ کا اتباع کیا۔ پھر ان کا کسی بات پر اتفاق ہوجائے تو وہ دلیل شرعی بن جاتی ہے۔ گویا اجماع امت میں سب سے پہلے صحابہ ؓ کی جماعت آتی ہے اور جو کوئی ان کے طریقے کے خلاف کرے گا ، تو وہ قابل قبول نہیں ہوگا۔ صحیحین میں حضور ﷺ کے ارشاد مبارک کی شرح میں محدثین کرام فرماتے ہیں من عمل عملاً لیس علیہ امرنا فھورد جس شخص نے کوئی ایسا کام کیا جو ہمارے طریقے کے مطابق نہیں ہے تو وہ مردود ہے اس طریقے کے متعلق محدثین کرام فرماتے ہیں کہ دلائل شرعیہ چار ہیں اور کسی معاملہ کو سمجھنے کے لیے ان چارروں کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ سب سے پہلے کتاب اللہ ہے ، دوسرے نمبر پر سنت رسول اللہ تیسرا اجماع صحابہ ؓ اور چوتھا قیاس ہے۔ اگر کوئی چیز پہلے تین دلائل سے ثابت نہ ہو ، تو پھر چوتھی دلیل کو بروے کار لایا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ تمام چیزوں کی تفصیل قرآن پاک میں تو نہیں ہے ، وہاں تو اصول و ضوابط ہیں۔ پھر ان اصولوں کی بہت ، حد تک تشریح و تفسیر حضور ﷺ کے قول ، فعل یا تقریر سے ملے گی۔ مگر تمام مسائل وہاں سے بھی حل نہیں ہوں گے ، پھر اس مسئلہ کو امت کے بہترین لوگوں یعنی صحابہ ؓ پر پیش کیا جائے گا۔ اگر وہ کسی نتیجہ پر متفق ہیں تو وہ حل ساری امت کے لیے واجب العمل ہے ورنہ ایسی بات میں مجتہدین اجتہاد کرکے مسئلہ کا حل نکالیں گے ، چناچہ یہ اجتہاد یا قیاس بھی شرعی دلیل ہے ۔ دندیا میں ہر روز نئے نئے مسائل پیدا ہوتے ہیں جن کا حکم واضح طور پر قرآن ، سنت اور اجماع صحابہ ؓ میں نہیں ملتا ، تو پھر ایسے مسائل قیاس و اجتہاد کے ذریعے ہی حل کیے جائیں گے اور ان پر عمل کرنا عام لوگوں کے لیے ضروری ہوگا ، فرماتے ہیں کہ ان چار دلائل شرعیہ میں سے دو مثبت ہیں یعنی قرآن وسنت ایسے دلائل ہیں جن کے ذریعے مسائل ثابت ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہ مثبت دلائل ہیں اور دو دلائل مظہر ہیں کہ ان کے ذریعے مسائل کا حل ظاہر ہوتا ہے اور یہ ہیں اجماع اور قیاس ظاہر ہے کہ جس چیز پر صحابہ کرام ؓ کا اجماع اور قیاس۔ ظاہر ہے کہ جس چیز پر صحابہ کرام ؓ کا اجماع ہوگا اس کی ضرور کوئی نہ کوئی بنیاد ہوگی اور جو بات کوئی مجتہد بتلاتا ہے وہ بھی کسی دلیل کی بنیاد پر ہی ہوتی ہے۔ مجتہد مطلوبہ مسئلہ کے لیے پہلے علت (CAUSE) دریافت کرتا ہے اور پھر اس علت کی بنیاد پر مسئلہ کا حل پیش کرتا ہے ، لہٰذا یہ بھی شرعی دلیل کا درجہ رکھتی ہے۔
امام شافعی (رح) نے اس آیت سے اجماع کو ثابت کیا۔ بعض کتب میں لکھا ہے کہ امام شافعی (رح) کو اس معاملہ میں تردد تھا کہ اجماع کا ثبوت قرآن پاک کی کس آیت سے ہوتا ہے۔ چناچہ انہوں نے قرآن کریم کی تلاوت شروع کی آپ نے ایک دن میں تین دفعہ پورے قرآن پاک کی تلاوت کی مگر آپ کی تسلی نہ ہوئی۔ آپ متواتر تین دن تک تین تین مرتبہ اول سے آخر تک قرآن پاک کی تلاوت کرتے رہے اور آخر کار اسی آیت پر آکر اٹک گئیویتبع غیر سبیل المومنین اب آپ کی تشفی ہوگئی کہ اجماع بھی قطعی دلیل شرعی ہے۔
کثرت تلاوت قرآن
چوبیس گھنٹے میں دو مرتبہ قرآن پاک کی تلاوت کرنا تو بہت سے صالحین امت کا معمول رہا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) رمضان المبارک کے دوران ایک مرتبہ دن کو اور ایک مرتبہ رات کو مکمل قرآن پاک پڑھتے تھے۔ امام بخاری (رح) ، یحییٰ بن معین (رح) اور یحییٰ بن سعید قطعان (رح) بھی ایسا ہی کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی توفیق سے دن رات میں دو مرتبہ قرآن پاک ختم کرتے تھے ۔ بعض صاحب کرامت بزرگوں نے اس سے بھی کم وقت میں قرآن حکیم کی تلاوت مکمل کی ہے خواجہ نظام الدین (رح) نے اپنے ملفوظات میں لکھا ہے کہ خواجہ بہائوالدین زکریاملتانی (رح) کے ایک مرید حسن افغان (رح) ہر روز سات سو مرتبہ قرآن پاک کی تلاوت کرتے تھے۔ لوگوں نے خواجہ صاحب نظام الدین (رح) سے دریافت کیا کہ سات سو مرتبہ تو پھر تصور ہی میں کرتے ہوں گے۔ آپ نے فرمایا ایسا نہیں ہے بلکہ آپ پورے الفاظ کے ساتھ تلاوت قرآن پاک کرتے تھے۔ حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیری (رح) جو ہمارے اکابرین میں سے ہیں فرماتے ہیں کہ تلاوت ممکن ہے ۔ امام رازی (رح) نے اما م شافعی (رح) کے بارہ میں جو تین سو مرتبہ قرآن پاک کی تلاوت کی روایت بیان کی ہے۔ وہ درست معلوم نہیں ہوتی۔ تین دن تین تین مرتبہ والی روایت صحیح ہے۔
امام محمد (رح) کا معمول تھا کہ آپ ہر روز دس پارے تلاوت فرماتے تھے مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) اور مولانا شیخ الہند (رح) بھی دس پارے تلاوت فرمایا کرتے تھے۔ ہمارے استاد اور شیخ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی (رح) بہت مصروف آدمی تھے ، مگر سات پارے روزانہ آپ بھی پڑھ لیا کرتے تھے۔ امیر المومنین حضرت عثمان غنی ؓ وتر کی ایک رکعت میں پورا قرآن پاک پڑھ جاتے تھے۔ ترمذی شریف میں موجود ہے کہ حضرت سعید بن جبیر تابعی (رح) بھی ایک رکعت میں پورا قرآن تلاوت کرتے تھے۔
خواجہ قطب الدین بختیار کا کی (رح) دو رکعت میں پورا قرآن اور مزید چار پارے پڑھتے تھے حضرت مولانا شاہ اسماعیل شہید (رح) عصر اور مغرب کے درمیان پورا قرآن تلاوت کرلیتے یا پھر آپ صبح کی نماز کے بعد بیٹھتے اور طلوع شمس تک قرآن پاک پڑھ جاتے۔ یہ لوگ صاحب کرامت تھے۔ ہر آدمی کے بس کی یہ بات نہیں ہے۔ عام لوگوں کے لیے حضور ﷺ نے فرمایا کہ تین دن سے کم عرصہ میں تلاوت قرآن مکمل نہ کی جائے ایسا کروگے تو سمجھ نہیں سکوگے ، مگر خاص لوگوں کا معاملہ اور ہے ، وہ الفاظ اور مضامین کی تفہیم کے ساتھ کم سے کم عرصہ میں قرآن کریم کی تلاوت مکمل کرلیتے تھے۔
مسلک امام ابوحنیفہ (رح)
اجماع کے متعلق اما مابوحنیفہ (رح) کا مسلک بھی یہ ہے کہ جس مسئلہ پر امت کا پہلا طبقہ خصوصاً صحابہ کرام ؓ متفق ہوں ، اس کو مانناضروری ہے اور اس کے خلاف چلنا گمراہی۔ امام طحاوی (رح) نے اپنی کتاب کی ابتدا میں لکھا ہے کہ ہمارے امام ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ آپ سب سے پہلے اللہ کی کتاب قرآن پاک کو لیتے ہیں ، اس کے بعد نبی (علیہ السلام) کی سنت کی طرف رجوع کرتے ہیں پھر اجماع صحابہ ؓ میں سے متفق علیہ مسئلہ پر عمل کرتے ہیں۔ اور اگر صحابہ میں اختلاف پایا جائے۔ وہاں امام صاحب کسی قوم کو ترجیح دیتے ہیں اور اس کے مطابق عمل کرتے ہیں اور اس کے بعد جب تابعین کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو فرماتے ہیں۔ نحن رجال وھم رجال یعنی وہ تحقیق کے شاہسوار ہیں ، ہم بھی تحقیق کرتے ہیں اور جو بات ہیں ہمیں کتاب وسنت اور اجماع کے مطابق معلوم ہوگی ، اس کو اختیار کریں گے۔ آپ صحابہ ؓ کے اجماع تک ہر فیصلہ شدہ مسئلہ کو تسلیم کرتے ہیں ، اگر وہاں تک کوئی حکم معلوم نہ ہو تو پھر اجتہاد کرتے ہیں۔
شاہ ولی اللہ کا مسلک
شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) کی معرکۃ الاراء کتاب حجۃ اللہ البالغہ قوانین اسلام کی تشریح ہے اس کے دو حصے ہیں۔ ایک حصے میں حدیث کی شرح بیان کی گئی ہے اور دوسرے میں کلی قوانین بیان کیے گئے ہیں۔ اس میں اسلام کا مکمل نظام پیش کیا گیا ہے۔ گزشتہ بارہ سو سال میں ایسی بلند پایہ کتاب نہیں لکھی گئی۔ آپ بارہویں صدی کے مجدد ، محدث ہفسر اور صاحب طریقت بزرگ ہوئے ہیں۔ چار پانچ پشتوں تک آپ کا سارا خاندان اسی پایہ کا ہوا ہے۔ آپ کے والد ، بیٹے اور پوتے دین کے شیدائی ہوئے ہیں۔ انہوں نے اسلام کی خاطر پوری قوتیں صرف کردیں اور پوری دنیا خصوصاً برصغیر میں دین کی بےپایاں خدمت انجام دی۔ آپ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں کہ اگر ہماری تحریر کتاب اللہ کے خلاف ہو یا سنت رسول کے خلاف ہو ، یا اجماع قرون مشہوردلہا بالخیر کے خلاف ہوفانہ خطاء تو سمجھ لینا کہ یہ غلطی ہے رحم اللہ من ایقظنا من سنتنا اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو ہمیں ہماری غلطی سے آگاہ کرے گا۔
قرون مشہودلہا بخیر سے آپ کی مراد وہ زمانہ ہے جس کی بہتری کی گواہی دی گئی ہے حضور ﷺ کا ارشاد خیرالقرون قرنی ثمر الذین یلونھم ثم الذین یلونھم یعنی بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے پھر جو ان کے ساتھ ملنے والے ہیں اور پھر جو ان کے ساتھ ملنے والے ہیں۔ غرضیکہ آپ بھی اجماع صحابہ ؓ کو حجت تسلیم کرتے ہیں۔ اور فرماتے ہیں کہ ہمارا مذہب یہ ہے کہ سب سے پہلے کتاب اللہ ، پھر سنت رسول اللہ پھر اجماع اور پھر اجتہاد۔ اگر ہمارے اجتہاد میں کوئی غلطی ہوجائے تو وہ ہمارا مذہب نہیں ہوگا۔ بلکہ یہ ایک تحقیقی بات ہوگی۔ اس سے روشنی تو حاصل ہوتی رہے گی۔ مگر اسے بطور عقیدہ اور عمل نہیں اپنایا جاسکتا۔
فرقہ بندی کی وجہ۔
فرماتے ہیں کہ اجماع امت کا ماننا اس لیے ضروری ہے کہ یہ مومنین کا راستہ ہے۔ وہ مومنین جو اللہ کی وحدانیت پر یقین رکھتے ہیں اور اس کے رسول کا اتباع کرتے ہیں۔ جو شخص ان کے راستے کو چھوڑ دے گا وہ یقینا گمراہ ہوجائے گا۔ تمام فرقے اسی لیے وجود میں آئے ہیں کہ یہ قرآن وسنت کے مرکز سے ہٹ گئے۔ اگر یہ لوگ یتبع غیر سبیل المومنین کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے مرکز قائم رہتے تو گمراہ نہ ہوتے ، فکری عملی اور اخلاقی گمراہی مرکز سے ہٹنے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی اسی مرکز سے ہٹ کر گمراہ ہوا۔ سرسید نے من مانی تاویلیں کیں ، معجزات کا انکار کیا تو گمراہ ہوا۔ علامہ مشرقی نے بھی یہیں سے ٹھوکر کھائی۔ پرویز نے قرآن پاک کے نئے نئے معافی بنائے اور اسی وجہ سے گمراہ ہوا۔ غرض یہ کہ جتنے بھی فرقے ہیں وہ سب اسی نقطے پر آکر بھٹکتے ہیں۔
حضرت مولانا انور شاہ صاحب کشمیری (رح) فرماتے ہیں کہ میرے ذہن میں بہت سی باتیں آتی ہیں مگر جہاں عقیدے کا معاملہ آتا ہے ، میں کہتا ہوں کہ ان کو نہیں مانوں گا۔ میں تو وہی بات مانوں گا جو جمہور سے تسلیم کی ہے اور جس پر صحابہ کرام ؓ کا اتفاق ہے۔ حضرت جنید بغدادی (رح) فرماتے ہیں کہ ہمارے ذہن میں بڑے بڑے نکات آتے ہیں ، مگر جب تک کتاب وسنت کے دو گواہ موجود نہ ہوں ، میں کسی چیز کو نہیں مانوں گا۔ غرض یہ کہ دلائل شرعیہ میں تیسرا نمبر اجماع امت کا ہے اس میں صحابہ کرام ؓ کا اجماع اول درجہ میں ہے جس معاملہ میں ان کا اتفاق ہو ، اس کے خلاف چلنا گمراہی ہے۔
توفیق خدا وندی
فرمایا جو اللہ کے رسول کی مخالفت کرے گا اس کے بعد کہ اس کے لیے ہدایت واضح ہوگئی۔ اور مومنین کے راستے کے علاوہ کسی دوسرے طریقے کی پیروی کرے گا۔ نولہ ماتولی تو ہم پھیردیں گے اس کو اسی طرف جس طرف اس نے رخ کیا ہے اس سے معلوم ہوا کہ ہر نیک وبدکام کے لیے توفیق دینا خدا تعالیٰ کا کام ہے جب کوئی شخص برائی کرنا چاہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم تمہاری توفیق سلب نہیں کرتے اگر اسی راستے پر جانا چاہتے ہو تو جائو۔ اس معاملہ میں تم اپنے فعل میں مختار ہو۔ نیک کام کرنا چاہو تو اس کی توفیق بھی دیتے ہیں اور کفر شرک میں مبتلا ہونا چاہو تو اس سے بھی ہم روکتے نہیں۔ البتہ یہ ہے کہ ہم قیامت کے دن اس کا حساب کتاب تم لے سے لیں گے۔ اس وقت جدھر جانا چاہو ہم اسی طرف پھیر دیں گے۔
اجتماعیت کی اہمیت
حضور ﷺ کا ارشاد ہے علیکم بالجماعۃ یعنی جماعت کو لازم پکڑو۔ جماعت سے علیحدگی اختیار نہ کرو کیونکہ من شذ شذ فی النار ترمذی شریف کی روایت ہے کہ جو جماعت سے الگ ہوا وہ جہنم میں جاپڑا۔ فرمایا جب تک کوئی شخص جماعت کے ساتھ منسلک رہے گا شیطان کے حملہ سے محفوظ رہے گا جو بکری ریوڑ کے اندر رہتی ہے وہ بھیڑیے کے حملے سے بچ جاتی ہے اور جو ریوڑ سے الگ ہوجاتی ہے وہ درندوں کا شکار ہوجاتی ہے۔ اسی طرح شیطان بھی اس شخص پر مسلط ہوتا ہے جو جماعت سے علیحدہ ہوجاتا ہے۔ غرض یہ کہ مسلمانوں کی اجماعیت کے خلاف چلنے والا آدمی شیطان کا شکار ہو کر گمراہ ہوجائے گا۔ افسوس کا مقام ہے کہ اہل اسلام کی اجتماعیت ایک زمانہ سے بگڑچ کی ہے جس کی وجہ سے مسلمانوں کے عقیدے اور عمل بگڑ چکے ہیں۔
فرمایا ہم ایسے شخص کو اس کی خواہش کے مطابق پھیردیں گے اور اس کا نتیجہ یہ ہوگاونصلہ جھنم آخر کار ہم اسے جہنم میں داخل کرینگے کیونکہ ہدایت کے واضح ہونے کے بعد جماعت کے راستہ سے الگ ہوگیا اس نے اللہ کے رسول کی مخالفت کی۔ اور جو شخص جہنم میں پہنچ گیا وساء ت مصیراً وہ تو لوٹ کر جانے کی بہت ہی بری جگہ ہے ۔ ایسا شخص ہمیشہ کے لیے ناکام ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کی مذمت کے ساتھ ساتھ اجماع امت کا مسئلہ بھی سمجھادیا کہ ہمیشہ جماعت کو لازم پکڑو ، سلف صالحین کے مسلک پر قائم رہو ، اس کے خلاف چلنے والا گمراہ ہو کر جہنم میں داخل ہوگا۔
Ayahs 4:116–117ربط آیات
گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اجماع کے خلاف چلنے والے شخص کے متعلق فرمایا کہ جو شخص ہدایت کے واضح ہوجانے کے بعد اللہ کے رسول کی مخالفت کرے گا اور مومنین کے راستے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کرے گا ، بلکہ جس طرف وہ جانا چاہتا ہے ، اسے جانے دے گا ، اور پھر اس کا انجام جہنم ہوگا ، مومنین کے راستے کی مخالفت کا نتیجہ گمراہی ہوتا ہے ، اور انسان شرک میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ گزشتہ دروس میں جس منافق بشیر کا واقعہ بیان کیا گیا ہے وہ مومنین کا راستہ چھوڑ کر مشرکین کے راستے پر چل نکلا اور پھر وہاں جہنم رسید ہوگیا ، اس شخص نے چوری کی تھی ، اگر وہ تائب ہوجاتا تو اللہ تعالیٰ اسے معاف کردیتا ، مگر وہ مرتد ہو کر کفر ، شرک میں ملوث ہو کر مرگیا تو اس کی بخشش کا کوئی امکان باقی نہ رہا۔ شرک کے علاوہ باقی تمام گناہ قابل معافی ہیں۔ چناچہ آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہی بات بیان فرمائی ہے۔
شرک ناقابل معافی ہے
ارشاد ہوتا ہے ان اللہ لایغفران یشرک بہ بیشک اللہ تعالیٰ اس بات کو معاف نہیں کرتا کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے شرک اللہ تعالیٰ کے حق میں بغاوت ہے۔ اگر مرنے سے پہلے پہلے اس دنیا میں تائب ہوجائے تو اللہ تعالیٰ یقینا معاف فرمادے گا۔ ورنہ موت کے بعد شرک کی معافی کا کوئی قانون نہیں ۔ چناچہ سورة مائدہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی لوگوں کو یہی تبلیغ مذکور ہے۔ اعبدوا اللہ ربی وربکم لوگو ! اللہ کی عبادت کرو ، جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ انہ من یشرک باللہ فقد حرم اللہ علیہ الجنۃ وماوئہ النار یاد رکھو ! جس شخص نے اللہ کے ساتھ شرک کیا اور اسی حالت میں مرگیا ، اس پر اللہ نے جنت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہوگا ، ایسا شخص ابد الآباد تک جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔ وہ ہمیشہ کے لیے بدبختی میں مبتلا ہوگیا ۔ دوسرے مقام پر کفار کے متعلق فرمایا یاتفتح لھم ابواب السماء ولایدخلون الجنۃ حتی یلج الجمل فی سم الخیاط ایسے لوگوں کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھلتے حتی کہ اونٹ سوئی کے ناکے میں سے گزر جائے۔ جس طرح اونٹ کا سوئی کے ناکے میں گزرنا ناممکن ہے اسی طرح کافروں کے لیے رحمت کا دروازہ نہیں کھل سکتا۔ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ مشرک اور دہریہ کی مثال ایسی ہے جیسے کسی جانور کو ایسے پنجرے میں بند کردیا جائے جس میں سوئے کے ناکے جتنا بھی سوراخ نہ ہو۔ اور اسے کوئی چیز نظر نہ آتی ہو۔ اسی طرح کافروں کو بھی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ تو فرمایا بیشک اللہ تعالیٰ نہیں بخشتا اس بات کو کہ اس کے ساتھ شرک کیا جائے۔ ویغفرمادون ذلک لمن یشاء اور اس کے سوا ، اس کے درے یا نیچے جس کو چاہے بخشتا ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو بغیر توبہ کے بھی معاف کردے۔ مگر توبہ کرنے پر تو وہ بخش ہی دیتا ہے۔ مگر شرک کی معافی کا کوئی امکان نہیں۔ عام طور پر مشرک زندگی میں توبہ نہیں کرتا ، لہٰذا اس کی معافی بھی معدوم ہوتی ہے۔
حدیث شریف میں آتا ہے کہ گناہ کے تین دفتر ہیں۔ پہلا دفتر کفر وشرک کا ہے جس کی معافی کا کوئی امکان نہیں۔ دوسرا دفتر باقی کبائر کا ہے ، جن کی معافی ہوسکتی ہے ، اللہ تعالیٰ معاف کرنا چاہے تو بڑے سے بڑا گناہ ماسوائے شرک کے معاف کردے۔ اور گناہ کا تیسرا دفتر وہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کا بدلہ دیے بغیر نہیں چھوڑے گا۔ یہ حقوق العباد ہیں جس شخص نے کسی دوسرے کا حق تلف کیا ہوگا ، اللہ تعالیٰ اس کا حق ضرور دلائیں گے اور جب تک بندہ اپنا حق معاف نہیں کرے گا ، اللہ تعالیٰ بھی معافی نہیں دیں گے۔
شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ شرک صرف بتوں کی پوجا کا نا م نہیں بلکہ اللہ کے مقابلے میں کسی دوسرے کا حکم مان لینا یا کسی دوسرے دوسرے دین کو تسلیم کرلینا بھی شرک میں داخل ہے۔ بشیر منافق نے یہی کیا تھا کہ اللہ کا حکم ماننے کی بجائے مشرکین کی بات کو تسلیم کیا۔ یہ اللہ کے حکم میں شرک ہے چناچہ حضرت مولانا شیخ الہند (رح) فرماتے ہیں کہ جب منافق رسول کے حکم کے خلاف کرکے مشرکین سے جاملا تو اس کی مغفرت کا کوئی امکان باقی نہ رہا۔ یہاں شرک سے مراد شرک فی الحکم ہے۔
صفات میں شرک
مولانا شاہ عبدالقادر محدث دہلوی (رح) نے قرآن پاک کا پہلا بامحاورہ اردو ترجمہ آج سے تقریباً دو سو سال پہلے 1205 ء میں لکھا تھا۔ یہ ترجمہ آپ نے دہلی کی اکبری مسجد میں بارہ سالہ اعتکاف کے دوران کیا تھا۔ یہ اردو کا ابتدائی زمانہ تھا مگر اپنے بامحاورہ ترجمہ لکھ کر دین کی بہت بڑی خدمت انجام دی۔ اکبری مسجد دہلی میں کنگ ایڈورڈ روڈ پر واقع تھی جسے انگریزوں نے 1857 ء کی جنگ آزادی کے دوران گرادیا تھا۔ اب یہ مسجد نہیں ہے تو شاہ صاحب (رح) سورة بقرہ کی آیت ولاتنکحو المشرکت حتی یومن… ولا تنکحوا المشرکین حتلی یومنوا کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کی صفت مختصر کسی دوسری ذات میں مانی جائے تو یہ شرک ہوگیا۔ مثلاً کوئی شخص یہ اعتقاد رکھے کہ فلاح شخص ہماری ہر بات کو جانتا ہے تو وہ مشرک ہوگیا ، کیونکہ اس نے اللہ کی صفت غیر میں مانی۔ اس طرح قدرت تامہ خدا تعالیٰ کی صفت ہے۔ وہ قادر مطلق ہے جو چاہے سو کرے ، اس کے سامنے کوئی رکاوٹ نہیں۔ اگر یہی صفت کسی دوسرے میں مانے لگا تو شرک کا مرتک ہوگا۔ مختار مطلبق بھی اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے اگر کوئی شخص غیر اللہ کو مختار مطلق جان کر کچھ طلب کرتا ہے ، تو بھی مشرک ٹھہرا ، اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کو خالق سمجھنا بھی شرک کے مترادف ہے کیونکہ خالق کوئی دوسرا نہیں اور اس بات کو دہریوں کے سوا مشرک بھی تسلیم کرتے ہیں۔ غرض یہ کہ شرک کی مختلف قسمیں ہیں۔ جن کے ذریعے اس قبیح فعل کا ارتکاب ہوتا ہے۔
عبادت میں شرک
عبادت سے مراد انتہائی درجے کی تعظیم ہے اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختص ہے ۔ سجدہ اور رکوع وغیرہ عبادت ہی کے مظہر ہیں اگر کوئی شخص اللہ کے علاوہ کسی دوسری ہستی کے ساتھ یہی معاملہ کرے گا ، تو مشرک بن جائے گا غیر اللہ کو نافع اور رضا سمجھ کر نذر ونیازپیش کرنا بھی شرک ہے۔ کیونکہ نافع اور رضا بھی فقط خدا تعالیٰ کی ذات ہے ۔ اپنی مخلوقات کے نفع ونقصان کا مالک صرف خدا ہے۔ کسی نبی ، ولی ، فرشتہ یا بزرگ کے نام کی نیاز دے گا تو مشرک بن جائے گا۔
قسم میں شرک
شرک قسم میں بھی ہوتا ہے ، مسند احمد اور ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے من اقسم لغیر اللہ فقد اشرک جس نے غیر اللہ کے نام کی قسم اٹھائی ، اس نے شرک کا ارتکاب کیا ، محدثین کرام فرماتے ہیں کہ اگر ایسی بات رواروی میں نکل گئی تو شرک تو نہیں ہوگا مگر سخت مکروہ بات ہوگی ، اور ذہن میں وہی تعظیم ہے جو اللہ کے ساتھ مخصوص ہے تو قسم اٹھانے میں بھی شرک ہوگیا۔ کسی موقع پر حضرت عمر ؓ نے باپ کے نام کی قسم اٹھائی ، حضور نے سن کر فرمایا لاتحلفوا باباء کم ولا باطواغیت نہ باپ کے نام کی قسم اٹھائو اور نہ طاغوت کے نام کی ، حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ اس واقعہ کے بعد نہ میں نے خود کبھی ایسی قسم اٹھائی اور نہ کسی دوسرے کی نقل کی کہ فلاں شخص ایسی قسم اٹھاتا ہے ، مجھے اس سے ایسی نفرت ہوگئی۔
بعض اوقات بسم اللہ میں بھی شرک ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص جانور ذیح کرتے وقت اللہ تعالیٰ کے نام کے ساتھ غیر اللہ کا نام بھی لے گا ، تو شرک کا مرتکب ہوجائے گا۔ جیسے کوئی کہے بسم اللہ واسم محمد یا پیر دستگیر کا نام لے لے۔ ایسی صورت میں جانور مردار ہوگا اور کہنے والا مشرک ، صحیح ذبح صرف اللہ کا نام لینے سے ہوتا ہے۔
دیگر اقسام شرک
شاہ عبدالعزیز (رح) اور شاہ اسحاق (رح) کے شاگرد مولانا حافظ احمد الدین (رح) بگا کے رہنے والے انہوں نے دلیل المشرکین کے نام سے عربی زبان میں کتاب لکھی ہے جس کا اردو ترجمہ اس فقیر نے کیا ہے ، اور اسی ادارہ سے شائع ہوا ہے۔ اس کتاب میں مصنف نے شرک کی بیس قسمیں بیان کی ہیں۔ فرماتے ہیں کہ شرک تصرف میں بھی ہوتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ سے مخصوص تصرف کسی غیر میں مانے گا تو مشرک ہوجائے گا ، خواہ یہ تصرف کسی نبی یا ولی یا پیر میں مانا جائے۔ اسی طرح مشیت میں بھی شرک ہوتا ہے۔ ایک شخص نے حضور ﷺ کے سامنے عرض کیا ماشاء اللہ وشئت یعنی جو آپ چاہیں اور اللہ چاہے آپ ناراض ہوگئے۔ مبند احمد کی روایت میں موجود ہے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا اجعلتنی للہ ندا کیا تو نے مجھے اللہ کا شریک بنالیا ہے۔ یوں کہو ، ماشاء اللہ وحدہ جو صرف اللہ چاہے۔ ہر کام اللہ کی مشیت پر منحصر ہے۔ لہٰذا یوں مت کہو کہ اللہ چاہے اور فلاں چاہے ایسا کہنا شرک ہوگا۔
غیر اللہ کی رضا کے لیے جانور ذبح کرنے میں بھی شرک ہے ۔ بعض لوگ عمارت تعمیر کرتے وقت اس کی بنیادوں میں خون گراتے ہیں اور اس سے مقصود جنات کی بنیاد ہوتی ہے تاکہ وہ کسی قسم کا نقصان نہ پہنچائیں۔ آگے سورة انعام میں اللہ تعالیٰ نے شرک کی بہت سی قسمیں بیان فرمائی ہیں۔ مجوسی ذات میں شرک کرتے ہیں اور ایک کی بجائے دو خدا مانتے ہیں۔ یہ ثنوی فرقہ ہے بعض شرک قولی ہوتے ہیں کہ انسان زبان سے شرکیہ کلمات ادا کرتا ہے۔ اور بعض فعل شرک ہوتے ہیں۔ زبان سے تو کچھ نہیں کہا جاتا مگر عملاً نیازدی جاتی ہے۔ چڑھاوا چڑھایا جاتا ہے سجدہ کیا جاتا ہے۔ چادر پوشی ہوتی ہے رکوع و سجود ہوتا ہے یا طواف کیا جاتا ہے یہ سب فعلی شرک ہیں۔
شرک گمراہی ہے
فرمایا ومن یشرک باللہ جس شخص نے اللہ کے ساتھ شرک کیا خواہ یہ ذات میں ہو ، صفات میں ہو ، نذر ونیاز میں ہو یا عبادت میں ہو ، کسی طرح کا بھی شرک کیا فقد ضل ضلاً بعیداً تو ایسا شخص گمراہ ہو کر دور جاپڑا۔ اس کی معافی کا کوئی قانون نہیں۔ مولانا ابواکلام آزاد (رح) اس آیت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں ، اللہ تعالیٰ قادر مطلق ، سلطان محبت اور ودود ہے۔ وہ تو مخلوق سے محبت کرتا ہے ، مگر مخلوق ہی بگڑی ہوئی ہے ، جو اللہ تعالیٰ سے بیزار ہو کر شرک کا ارتکاب کرتی ہے اور محبت کے مقام والذین امنوا اشد حب اللہ کو ضائع کرتی ہے۔ مومن کی شان تو یہ ہے یحبھم وبحبونہ کو اللہ تعالیٰ ان سے محبت کرتا اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں ، مگر لوگ محبت کے تقاضے کو پورا نہیں کرتے ، مولانافرماتے ہیں کہ سلطان محبت سے امید ہے کہ وہ ہر جرم کو معاف کردے ، مگر اس کی عدالت میں دل کی تقسیم کا کوئی قانون موجود نہیں ، جب کوئی شخص شرک کا ارتکاب کرتا ہے ، تو اس کا دل تقسیم ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے ۔ ماجعل اللہ لرجل من قلبین فی جو فہ میں نے کسی سینے میں دو دل نہیں رکھے۔ عقیدہ ایک ہی ہوسکتا ہے۔ لہٰذا شرک کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں۔ یہ قبیح بیماری ہے۔
عورتوں کے نام کی دیویاں
فرمایا ان یدعون من دونہ الا اناثاً یہ لو گ نہیں پکارتے مگر عورتوں کو عرب کے مشرک لات ، منات اور عزیٰ کی پرستش کرتے تھے ، جو سب عورتوں کے نام ہیں۔ عزیٰ عزیز کی مونث ہے اور لات الٰہ کی مونث ہے ۔ اس طرح منات منان کی مونث ہے۔ انہوں نے اپنے معبودوں کے زمانہ نام رکھے ہوئے تھے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کے زمانہ میں سوانح نامی بت تھا۔ یہ بھی عورت کی شکل کا تھا اور اس کا معنی استقرار یا انتظام کی دیوی ہے ، جس طرح گھرکا انتظام عورت کے ہاتھ میں ہوتا ہے اسی طرح کائنات کے نظام کے لیے ہندوئوں نے دشنودیوی بنارکھی ہے ان کی اور بھی بہت سی دیویاں ہیں۔ ایک درگا دیوی ہے ، ایک کالی ماتا کلکتے والی ہے جو آفتوں اور مصیبتوں کی دیوی سمجھی جاتی ہے۔ اس کے سامنے بچوں کو ذبح کیا جاتا ہے تاکہ اس کا غصہ ٹھنڈا ہو۔ ان کے ہاں ایک سرسوتی دیوی ہے۔ اسی نام کی بہار میں ایک ندی بھی ہے۔ یہ طوفان اور سیلابوں کی دیوی ہے۔ لکشمی دیوی دھن دولت کی دولت ہے۔ مال و دولت میں اضافہ کے لیے اس کی پوجا کی جاتی ہے۔ یونانیوں کے ہاں زہرہ دیوی کے مندر تھے وہاں نیازیں دی جاتی تھیں۔ اس دیوی کی چوکھٹ پر دو قارورے یعنی شیشے کی بوتلیں رکھی ہوئی تلھیں جن میں سے ایک خیر کے لیے اور دوسری شر کی طرف منسوب تھی۔؎
فباعتاب زفث قارورتان
ذی لخیر وذی لشرالھوان
عربوں میں نائلہ نامی عورت کے نام کا بت تھا۔ محدثین فرماتے ہیں کہ اساف اور نائلہ مراد اور عورت تھے جنہوں نے کعبہ میں زنا کا ارتکاب کیا تو اللہ نے انہیں مسخ کرکے پتھر بنادیا ، لوگوں نے عبرت کے لیے انہیں بیت اللہ کے سامنے رکھ دیا ، پھر آہستہ آہستہ ان کی پوجا شروع ہوگئی ، فتح مکہ کے موقع پر نبی (علیہ السلام) نے حضرت خالد بن ولید ؓ کو مامور کیا کہ طائف والے جس عزیٰ دیوی کی پوجا کرتے ہیں۔ اس کو مٹادو۔ آپ گئے اور دیکھا کہ وہاں پر کچھ درخت ہیں جو آپ نے کاٹ دئیے ، ایک کو ٹھا تھا جسے آپ نے گرادیا۔ وہاں کچھ مجاور بیٹھے تھے جو بھاگ گئے۔ واپس آکر آپ نے اس کارروائی کی رپورٹ حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کی تو آپ نے فرمایا ، وہاں دیوی تو ابھی زندہ ہے۔ دوبارہ جاکر اسے ختم کرو۔ چناچہ آپ دوبارہ وہاں گئے۔ تلاش کرنے پر تہہ خانے سے ایک عورت برآمد ہوئی جس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ وہ حضرت خالد ؓ پر دہشت ڈالنے کے لیے ان پر حملہ آور بھی ہوئی مگر آپ نے اپنی تلوار سے اس کا کام تمام کردیا۔ واپس آکر حضور ﷺ کو صورت حال سے آگاہ کیا تو آپ نے فرمایا ، یہ عزیٰ تھی جس کی لوگ پرستش کرتے تھے ، اب آج کے بعد اس کی پوجا نہیں ہوگی۔ غرض یہ کہ عورتوں کے نام پر اس قسم کی دیویاں دنیا بھر میں موجود تھیں۔
شیطان کی پوجا
فرمایا حقیقت یہ ہے کہ وان یدعون الا شیطناً وہ نہیں پوجا کرتے مگر شیطان کی ، انسان کے وہم پر شیطان غالب آکر اسے غیر اللہ کی پرستش کروانے لگتا ہے۔ وہ انسان کے ذہن میں ایسی باتیں ڈالتا ہے جس سے وہ نذرونیاز دینے لگتا ہے ، کہیں ندا کرتا ہے یاعلی مددیا پیر دستگیر وغیرہ گاڑیوں پر اس قسم کے کلمات لکھ رہے ہیں۔ ” المدد یاغوث “ گویا اب گاڑی کی حفاظت غوث کے ذمے واجب ہوگئی حالانکہ لکھیں یا نہ لکھیں ، مدد تو ہر حالت میں اللہ ہی کرتا ہے بعض موحد لوگ یا اللہ مدد بھی لکھتے ہیں۔ مدد تو کسی غیر کے اختیار میں نہیں ہے۔ غرض یہ کہ شیطان انسان کے وہم پر چھا کر اس سے شرکیہ افعال کراتا ہے۔ اسی لیے حضور ﷺ نے دعا میں سکھایا اللھم انی اعوذبک من شی الشیطن وشرکہ اے پروردگار ! میں تیری ذات کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں شیطان سے اور اس کے شرک سے بہرحال یہ شرکیہ رسومات شیطان ہی سکھاتا ہے کہ چادر چڑھانا ، اس میں یہ فائدہ ہے بکرے چڑھائو ، سجدہ کرو ، غیر اللہ کی دہائی دو ، وغیرہ وغیرہ بعض مجسموں پر سرخ رنگ کی چادر چڑھاتے تھے جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ عورت کا مجسمہ ہے اور اسے سرخ رنگ پسند ہے۔
فرمایا نہیں پکارتے مگر شیطان کو جو مریداً سرکش ہے جو شخص غیر اللہ کی پوجا کرتے ہیں ، شرک جیسے قبیح فعل کا ارتکاب کرتا ہے وہ دراصل شیطان ہی کی پوجا کرتا ہے۔ اسی کے کہنے پر چلتا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں فرمایا لعنہ اللہ اللہ نے اس پر لعنت بھیجی ہے۔ شیطان کو اپنی رحمت سے دور کردیا ہے۔
یہاں تک شرک کی بنیادی حقیقت اور اس کی مذمت بیان کی گئی ہے اس کے بعد شیطان کی کارگزاری کا ذکر ہے کہ وہ کس کس طریق سے شرک کراتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی مختلف صورتیں بیان فرمائی ہیں۔