4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 4:97–100

اِنَّ الَّذِیْنَ تَوَفّٰىهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِیْۤ اَنْفُسِهِمْ قَالُوْا فِیْمَ كُنْتُمْ١ؕ قَالُوْا كُنَّا مُسْتَضْعَفِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ؕ قَالُوْۤا اَلَمْ تَكُنْ اَرْضُ اللّٰهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوْا فِیْهَا١ؕ فَاُولٰٓئِكَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ سَآءَتْ مَصِیْرًاۙ Open ayah 4:97 in the Quran reader

بیشک وہ لوگ جن کو فرشتے وفات دیتے ہیں اس حال میں کہ وہ اپنی جانوں پر زیادتی کرتے ہیں (فرشتے) کہتے ہیں کہ تم کس بات میں تھے۔ وہ کہتے ہیں ، ہم زمین میں کمزور تھے (فرشتے) کہتے ہیں کیا اللہ کی زمین کشادہ نہیں تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے۔ پس یہی لوگ ہیں کہ جن کا ٹھکانا جہنم ہے اور بہت بُری جگہ ہے لوٹنے کی

اِلَّا الْمُسْتَضْعَفِیْنَ مِنَ الرِّجَالِ وَ النِّسَآءِ وَ الْوِلْدَانِ لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ حِیْلَةً وَّ لَا یَهْتَدُوْنَ سَبِیْلًاۙ Open ayah 4:98 in the Quran reader

مگر وہ لوگ جو کمزور ہیں مردوں ، عورتوں اور بچوں میں سے ، جو نہیں طاقت رکھتے کسی تدبیر کی اور وہ نہیں راہ پاتے

فَاُولٰٓئِكَ عَسَى اللّٰهُ اَنْ یَّعْفُوَ عَنْهُمْ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:99 in the Quran reader

پس یہ لوگ ہیں۔ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کو معاف کر دے گا ، اور اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنے والا اور بخشش کرنے والا ہے

وَ مَنْ یُّهَاجِرْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ یَجِدْ فِی الْاَرْضِ مُرٰغَمًا كَثِیْرًا وَّسَعَةً١ؕ وَ مَنْ یَّخْرُجْ مِنْۢ بَیْتِهٖ مُهَاجِرًا اِلَى اللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ یُدْرِكْهُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَ قَعَ اَجْرُهٗ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۠ Open ayah 4:100 in the Quran reader

اور جو شخص ہجرت کریگا اللہ کی راہ میں ، وہ پائے گا زمین میں بہت سی جگہ اور وسعت۔ اور جو شخص نکلے گا اپنے گھر سے ہجرت کرتے ہوئے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ، پھر پا لے اس کو موت پس بیشک واقع ہوگیا اللہ پر اس کا اَجر۔ اور اللہ تعالیٰ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے

ہجرت کی فرضیت گزشتہ درس میں مجاہدین اور قاعدین کا تقابلی جائزہ پیش کیا گیا تھا اور مجاہدین کی فضیلت اور اجر عظیم کا ذکر تھا۔ اب جہاد کے ساتھ ساتھ ہجرت کی ضرورت اور اس کی فرضیت کا تذکرہ ہے۔ اور بوقت ضرورت ہجرت نہ کرنے والوں کی سزا کا بیان ہے جس طرح بعض حالات میں جہاد فرض کفایہ سیفرض عین بن جاتا ہے اسی طرح بعض اوقات ہجرت بھی فرض عین کے درجہ کو پہنچ جاتی ہے جب کسی مقام میں کفار کو اس قدر غلبہ حاصل ہوجائے کہ مومن اپنے دین کے شعار پر عمل نہ کرسکے ، تو مومن پر فرض ہوجاتا ہے کہ وہ اپنے گھر بار ، کاروبار ، وطن ، عزیز و اقارب وغیرہ کو اللہ کی رضا کی خاطر چھوڑ کر دوسری جگہ چلا جائے جہاں وہ دین کے احکام پر آسانی سے عمل پیرا ہو سکے۔ چناچہ مکہ مکرمہ میں ایسے حالات پیدا ہوچکے تھے کہ کفار نہ تو مسلمان کو نماز پڑھنے دیتے تھے۔ اور نہ ہی اسلام کے کسی دیگر شعار کو انجام دینے کی اجازت دیتے ۔ اس کے علاوہ پیغمبرِ خدا صلی اللہ علیہ وسلّم اور آپ کے متبعین کو طرح طرح کی اذیتیں دیتے تھے۔ ان حالات میں اہل اسلام نے مکہ سے ہجرت کر جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ چناچہ نبوت کے چھٹے سال مسلمانوں کا ایک گروہ حبشہ کی طرف ہجرت کر گیا۔ وہ سنتے تھے کہ حبشہ کا بادشاہ رحم دل ہے اور وہ تعرض نہیں کرے گا اس لیے امید کرتے تھے کہ وہاں جا کر مسلمان سکھ کا سانس لے سکیں گے۔ اس کے بعد پھر دوسرا قافلہ بھی حبشہ چلا گیا ، مگر وہاں جا کر بھی اسلام کی پوری طرح آبیاری نہ ہوسکی۔ آخر مکی دور کے تقریباً تیرہ سال پورے ہونے پر اللہ عتالیٰ کا حکم آ گیا کہ پیغمبر (علیہ السلام) اور آپ کے ماننے والے مدینہ کی طرف ہجرت کر جائیں۔ اس حکم کی تعمیل میں کئی جماعتیں مدینہ منورہ روانہ ہوئیں اور پھر خود حضور ﷺ بھی حضرت صدیق اکبر ؓ کی معیت میں مدینہ پہنچ گئے آپ کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور وقتاً فوقتاً چھوٹی چھوٹی جماعتیں مکہ سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچتی رہیں۔ اس طرح جس آدمی کو موقع ملتا وہ کفار کے حصار کو توڑ کر مدینہ منورہ پہنچ جاتا۔ اور اس طرح کفار کے ظلم و ستم سے بچ جاتا۔ حضرت عمر ؓ نے حضو ر (علیہ السلام) سے پہلے بیس آدمیوں کی جماعت کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ کوتاہی کی سزا جب ہجرت فرض ہوجاتی ہے تو پھر صاحب استطاعت کو دارالکفر میں ٹھہرے رہنے کی اجازت نہیں ہوتی اور اگر وہ جان بوجھ کر بلاعذر ہجرت نہیں کرتا تو جہنم کا مستحق ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس ضمن میں سخت وعید فرمائی ہے۔ البتہ بعض کمزور طبقوں کو ہجرت سے اس بناء پر مستثناء قرار دیا گیا ہے۔ کہ سفرہ جرت ان کے بس میں نہیں ہوتا بعض جسمانی طور پر اتنے کمزور ہوتے ہیں کہ سواری پر بھی سفر نہیں کرسکتے۔ بعض کے پاس زاد راہ نہیں ہوتا اور بعض راستے سے ناواقف ہوتے ہیں اور اس معاملہ میں انہیں کسی کا تعاون بھی حاصل نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ معذور سمجھے جاتے ہیں اور عنداللہ ماخوذ نہیں ہوتے بہرحال بلاعذر ہجرت سے گریز کرنے والوں کو سخت وعید سنائی گئی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ ان الذین توفہم الملئکۃ بیشک وہ لوگ جن کی جان فرشتے نکالتے ہیں ان حالات میں ظالمی انفسہم کہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے ہوں۔ توفی کا معنی کسی چیز کو پورے طریقے سے قبض کرلینا ہوتا ہے۔ یہ لفظ موت پر بھی بولا جاتا ہے اور اس کے بعض دیگر معانی بھی ہیں۔ اپنی جانوں پر ظلم کا مطلب یہ ہے کہ ان پر ہجرت فرض ہوچکی تھی۔ مگر وہ اس پر آمادہ نہ ہوئے جو شخص بھی اللہ تعالیٰ کے عاید کردہ فرائض مثلاً نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ وغیرہ ادا نہیں کرتا ، وہ اپنے آپ پر ظلم کرتا ہے۔ اسی طرح ہجرت بھی فرض تھی مگر اس فرض کو انجام نہ دینے والا ظالموں کی فہرست میں آ گیا۔ تو فرمایا اس قسم کے مجرم لوگوں کی جب فرشتے روح قبض کرتے ہیں قالوا فیم کنتم تو ان سے کہتی ہیں ، تم کس حال میں تھے۔ تم پر ہجرت فرض ہوچکی تھی ، مگر تم نے دارالکفر کو کیوں نہ چھوڑا۔ تو وہ لوگ جواب دیتے ہیں قالوا کنا مستضعفین فی الارض ہم زمین میں کمزور خیال کیے جاتے تھے۔ فرشتے پھر سوال کرتے ہیں قالوا الم تکن ارض اللہ و اسعۃً گیا اللہ کی زمین وسیع نہیں تھی فتھاجروا فیھا کہ تم اس میں ہجرت کرجاتے۔ یہ درست ہے کہ تم کفار کے مقابلے میں کمزور تھے مگر کیا چلنے پھرنے سے بھی معذور تھے۔ تم میں اتنی ہمت تو تھی کہ اس مقام سے چلے جاتے ، پھر تم نے اللہ کے حکم کے مطابق ہجرت کیوں نہ کی۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کے متعلق فرمایا فاولیک ماوہم جہنم کہ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے وساء ت مصیراً اور وہ لوٹ کر جانے کی بہت بُری جگہ ہے غرضیکہ فرض عین کے ہر تارک کے لیے یہی حکم ہے۔ معذوروں کے لیے رعایت فرمایا اس حکم سے یہ لوگ مستثنا ہیں الا المستضعفین من الرجال والنساء والولدان مردوں ، عورتوں اور بچوں میں سے کمزور طبقہ ، بعض اتنے معمر ہوتے ہیں کہ چلنے پھرنے سے معذور ہوتے ہیں اور بعض عورتوں بچوں کے ساتھ جانے والا کوئی نہیں ہوتا یا راستے کا علم نہیں ہوتا فرمایا لایسطیعون حیلۃً ایسے کمزور لوگ ہجرت کر جانے کی کوئی تدبیر نہیں پاتے۔ ان کے پاس ہجرت کرنے کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا ولایھتدون سبیلاً انہیں راستے کا علم بھی نہیں ہوتا۔ ایسے لوگ اللہ کے ہاں معذور تصور ہوں گے اور ان پر ہجرت نہ کرنے کی صورت میں کوئی گناہ نہیں ہوگا البتہ استطاعت رکھنے کے باوجود ہجرت سے گریز کرنے والا کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوگا اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ ان معذور اور کمزور لوگوں کے متعلق فرمایا فاولیک عیسیٰ اللہ ان یعفو عنہم امید ہے کہ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ معاف فرما دے گا کیونکہ وہ مجبور ہیں۔ و کان اللہ عفواً غفوراً ۔ اللہ تعالیٰ بہت زیادہ معاف کرنے والا اور بہت زیادہ بخشش کرنے والا ہے۔ ہجرت کی برکات فرمایا و من یھاجر فی سبیل اللہ جو شخص اللہ کے راستے میں ہجرت کرے گا یجد فی الارض مرغماً کثیراً وہ زمین میں بہت جگہ پائے گا۔ مرغماً اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں کوئی بھاگ کرچلا جائے اور رغام مٹی کو بھی کہتے ہیں اور رغم کہتے ہیں کہ کوئی شخص اپنے مخالف کی ناک پر مٹی مل کر چلا جائے بہرحال مراغم کا معنی جائے ہجرت ہے کہ جو شخص ہجرت کے ارادے سے نکلے گا وہ ضرور مناسب جگہ تلاش کرلے گا۔ اس کے علاوہ وسعۃً اسے وسعت بھی میسر آجائے گی۔ یعنی اللہ تعالیٰ اس کے رزق میں کشادگی پیدا فرما دیں گے ، گویا اللہ تعالیٰ ہجرت کے نتیجہ میں ممکنہ تکالیف کو دور فرمادیگا۔ ہجرت کا معاملہ بڑا دشوار ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔ شان الھجرۃ لشدیدٌ جب آدمی اپنا کاروبار ، زمین ، مکان وغیرہ چھوڑ کر چلا جاتا ہے تو بعض اوقات نئی جگہ پر اسے آب وہوا موافق نہیں آتی اور انسان طرح طرح کی بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ مکہ سے مدینے جانے والے بہت سے مہاجرین بخار میں مبتلا ہوگئے تھے۔ بعض اوقات غذا موافق نہیں آتی ، زبان کا مسئلہ پیدا ہوتا ہے اور دیگر کئی قسم کی پریشانیاں لاحق ہوتی ہیں اس لیے ہجرت کا معاملہ بڑا دشوار ہے۔ مگر اس کا اجر بھی بہت بڑا ہے۔ مقاصد ہجرت ہجرت دو مقاصد کے لیے ہوتی ہے۔ پہلا مقصد یہ ہے کہ مسلمان ایسے دارالکفر میں ہیں جہاں وہ دین کے شعار پورے نہیں کرسکتے ، اس لیے انہیں ایسی جگہ پر ہجرت کرنا فرض عین ہوجاتا ہے۔ جہاں مسلمانوں کی مرکزی قوت موجود ہو اور وہ اپنے دینی فرائض آزادی کے ساتھ پورے کرسکیں۔ حضور ﷺ کے مدینہ طیبہ پہنچنے پر وہاں مرکزی قوت میسر آگئی تھی وہ دارالحجرت قرار پایا۔ چناچہ اس دور میں مسلمانوں کا مرکزی مقام پر پہنچنا ضروری ہوگیا تھا۔ اسی مشن کے تحت صحابہ کرام ؓ اور خود حضور ﷺ نے بھی ہجرت کی۔ اس سے پہلے جدالانبیاء حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی عراق سے ہجرت کی تھی۔ اگر کسی مقام پر اسلام کی مرکزی قوت ضائع ہوجائے تو اس کی بحالی کے لیے بھی ہجرت ناگزیر ہوجاتی ہے ، یہ ہجرت کا دوسرا مقصد ہے۔ قریبی زمانہ میں اس کی مثال حضرت سید احمد بریلوی (رح) اور شاہ اسماعیل شہید (رح) کی ہجرت ہے۔ یہ بزرگ دہلی سے ہجرت کر کے سرحد پہنچے تاکہ وہاں مرکز اسلام قائم کر کے ہندوستان میں اپنی کھوئی ہوئی طاقت بحال کرسکیں۔ انہوں نے ہجرت کے لیے بڑا طویل اور کٹھن راستہ اختیار کیا۔ رائے بریلی سے دہلی پہنچے وہاں سے کلکتہ ، پھر مدارس اور پھر سندھ سے ہوتے ہوئے قندھار گئے ، قندھار سے پشاور آئے اور اس طرح انہوں نے تقریباً اڑھائی تین ہزار میل کا سفر طے کیا ، یہاں سے وہ کشمیر جاکر اسے مرکز بنانا چاہتے تھے مگر ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔ انہوں نے چار سال تک انتھک جدوجہد کی مگر مسلمانوں کی بدبختی اور ان کی نالائقی اور جاسوسی کی وجہ سے کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکے اور جام شہادت نوش فرما گئے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی (رح) کے زمانے میں جب انگریز نے ہندوستان میں غلبہ حاصل کرلیا تو شاہ صاحب نے اپنے فتویٰ کے ذریعے ہندوستان کو دارالحرب قرار دے دیا تھا۔ بہرحال یہ وہ مقاصد ہیں جن کے حصول کے لیے ہجرت ضروری ہوجاتی ہے۔ مہاجر کے لیے اجر و ثواب آیت کے اگلے حصے میں مہاجر کی فضیلت اور اس کے لیے اجرو ثواب کا ذکر ہے۔ و من یخرج من بیتہ مھاجراً الی اللہ ورسولہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی طرف اپنے گھر سے مہاجرین کر نکلا ثم یدری کہ الموت پھر راستے میں اس کو موت نے پا لای۔ فقد وقع اجرہ علی اللہ پس اس کا اجر اللہ پر واقع ہوگیا۔ یعنی مہاجر گھر سے چل کر اگر جائے ہجرت پر نہ بھی پہنچ سکے تو اسے ہر ہجرت کا ثواب حاصل ہوجائے گا۔ مکی دور میں جب ہجرت کا اعلان ہوا تو ایک ضعیف اور بیمارش خص بھی ہجرت کے لیے تیار ہوگیا۔ وہ خود تو چل پھر نہیں سکتا تھا ، اس نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ مجھے کسی طرح یہاں سے نکال کرلے چلو۔ انہوں نے ہر چند کہا کہ تم سفر کے قابل نہیں ہو ، لہٰذا تم ہجرت سے مستثنیٰ ہو ، مگر بوڑھا بضد تھا کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف ضرور ہجرت کریگا۔ بالآخر اس کے بیٹے اسے اٹھا کر چل پڑے۔ ابھی مکہ سے چند میل دور تنعیم کے مقام پر آئے تھے کہ بوڑھے کا انتقال ہوگیا۔ کافروں نے خوب تمسخر اڑایا مگر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرما دی کہ جو کوئی ہجرت کے لیے چل نکلے ، پھر اسے راستے میں موت آجائے ، تو اس کا اجر وثواب اللہ پر واقع ہوگیا۔ یعنی خداوند کریم اسے ہجرت کا پورا پورا بدلہ عطا فرما دیں گے۔ البتہ یہ بات یاد رہے کہ ہجرت کے ثواب کا حقدار وہی شخص ہے ، جو خالص نیت سے اللہ کی رضا ، اس کے رسول کے اتباع اور دین کی بلندی کے لیے ہجرت کرتا ہے جو شخص کسی دیگر نیت سے ہجرت کریگا ، اللہ تعالیٰ اس کی کوئی ذمہ دار قبول نہیں کریگا۔ بخاری شریف کی روایت میں آتا ہے کہ مکہ سے ایک شخص عورت کی خاطر ہجرت کر کے گیا ، حضور ﷺ نے فرمایا جو شخص دنیا یا عورت کی خاطر ہجرت کے جائے گا اسے وہی کچھ ملیگا۔ وہ آخرت میں اجر وثواب کا مستحق نہیں ہوگا۔ ہجرت وسیع معنوں میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ ہر مقدس سفر کا حکم ہجرت کے سفر کا ہی ہے جو شخص خالص نیت سے حج کے سفر پر روانہ ہوتا ہے ، جہاد کے لیے نکلتا ہے یا دین کی تعلیم کی خاطر گھر سے چلتا ہے ، پھر راستے میں اس کی موت واقع ہوجاتی ہے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ واقع ہوگیا۔ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ ہجرت بعض دیگر وجوہات سے بھی فرض ہوجاتی ہے۔ مثلاً کوئی مسلمان کسی مقام میں گناہ میں مبتلا ہے اور اس سے بچ نہیں سکتا۔ تو اس کے لیے لازم ہے کہ اس جگہ کو چھوڑ جائے تاکہ وہ گناہ سے بچ جائے یا کسی جگہ مسلمان کو رزق حلال نصیب نہیں ، وہ ایسی جگہ پھنسا ہوا ہے۔ جہاں اسے سو فیصدی حرام رزق حاصل ہوتا ہے تو ایسے شخص کے لیے بھی ہجرت فرض ہوجاتی ہے آپ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص دنیاوی اشغال میں اس قدر منہمک ہو کہ خدا کی طرف توجہ دینا نصیب نہیں ہوتا ، تو اسے چاہئے کہ مسجد میں اعتکاف بیٹھے تاکہ اپنے رب سے تعلق پیدا کرسکے۔ بہرحال فرمایا جو کوئی شخص اپنے گھر سے ہجرت کے لیے نکلے گا تاکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف جائے اور پھر اسے راستے میں موت آجائے گی تو اسے اللہ تعالیٰ ہجرت کا پورا ثواب عطا کریں گے وکان اللہ غفوراً رحیماً اللہ تعالیٰ بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ وہ ایسے لوگوں پر خاص مہربانی فرمائے گا
Ayah 4:101

وَ اِذَا ضَرَبْتُمْ فِی الْاَرْضِ فَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ اَنْ تَقْصُرُوْا مِنَ الصَّلٰوةِ١ۖۗ اِنْ خِفْتُمْ اَنْ یَّفْتِنَكُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا١ؕ اِنَّ الْكٰفِرِیْنَ كَانُوْا لَكُمْ عَدُوًّا مُّبِیْنًا Open ayah 4:101 in the Quran reader

اور جب تم زمین میں سفر کرو ، پس تم پر کوئی گناہ نہیں ہے کہ کم کر دو نماز میں سے۔ اگر تمہیں خوف ہو کہ تمہیں فتنہ میں ڈالیں گے ، کفر کرنے والے لوگ بیشک کفر کرنے والے تماہرے کھلے دشمن ہیں

ربط آیات گزشتہ آیات میں جہاد اور مجاہدین کی فضیلت کا بیان تھا ، پھر ہجرت کی فرضیت اور اس میں کوتاہی کرنے والوں کے لیے وعید کا تذکرہ تھا ، ہجرت اور جہاد کے لیے دور دراز کا سفر اختیار کرنا پڑتا ہے۔ جہاد میں خاص طور پر دشمن کے ساتھ مقابلے یا اس کے تعاقب میں بہت دور تک جانا پڑتا ہے۔ بہرحال ان دونوں امور کے لیے سفر کا اختیار کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ اب اس رکوع میں دورانِ سفر نماز کا حکم بیان کیا گیا ہے پہلی دو آیات کا تعلق اسی موضوع سے ہے۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ پہلی آیات کا تعلق مطلقاً سفر کے ساتھ ہے ، خواہ وہ سفر کسی بھی نوعیت کا ہو اور دوسری آیت کا تعلق خوف کی حالت میں نماز پڑھنے سے ہے۔ سفر اور اس کے اثرات سفر ایک دشوار چیز ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے السفر قطعۃٌ من العذاب یمنع احدکم نومہ الخ یعنی سفر عذاب کا ٹکڑا ہے ، جو تمہاری نیند میں بھی خلل کا باعث بنتا ہے۔ دورانِ سفر انسان آرام و راحت سے محروم ہوجاتا ہے۔ کھانے پینے کا نظام متاثر ہوتا ہے ، گھر بار سے دور ہوجاتا ہے۔ اسی لیے ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ تم میں جب کوئی سفر کرتا ہے تو کسی ضرورت کے تحت ہی کرتا ہے ، لہٰذا جب ضرورت پوری ہوجائے فلیعجل الی اہلہ تو فوراً اپنے گھر کی طرف واپس آجانا چاہئے۔ سفر بہرحال کلفت کا باعث ہے۔ سفر کی حالت میں بعض شرعی احکام بدل جاتے ہیں اور مسافر کو بعض رعائتیں حاصل ہوجاتی ہیں مثلاً روزہ افطار کرنے کی اجازت ہوتی ہے اور چار رکعت والی نماز نصف رہ جاتی ہے۔ یعنی چار رکعت کی بجائے صرف دو رکعت پڑھی جاتی ہے… البتہ دو یا تین رکعت والی نماز پوری پڑھی جاتی ہے کیونکہ تین کا نصف ڈیڑھ ہے اور ڈیڑھ رکعت کی کوئی نماز نہیں ہے۔ لہٰذا یہ اپنی جگہ پر قائم رہتی ہے۔ تاہم ظہر ، عصر اور عشاء کی نمازوں میں دو رکعت کی تخفیف ہوجاتی ہے۔ ان میں قصر کرنے کا حکم ہے۔ شرعی سفر کی مسافت قرآن پاک یا فرمانِ رسول (علیہ السلام) میں شرعی سفر کو صراحت کے ساتھ متعین نہیں کیا گای۔ جس پر نماز قصر ہوجائے یا روزہ افطار کرنے کی اجازت ہو۔ اسی لیے شاہ ولی اللہ محدث… دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ شرعی سفر کے تعین کے لیے کئی عوامل کو دیکھنا پڑتا ہے۔ لہٰذا اس میں غورو فکر کی ضرورت ہے اس پمن میں جو کچھ اخذ کیا گیا ہے اس کا دارو مدار صحابہ کرام ؓ کے عمل پر ہے۔ چناچہ شرعی مسافت کے مسئلہ میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے۔ اہل ظواہر ، تین یا نو میل تک کی مسافت کو بھی شرعی سفر شمار کرتے ہیں حالانکہ چار ، پانچ یا چھ میل تو انسان اپنے گھر سے اپنے کھیت ، فیکٹری یا دفتر وغیرہ کے لیے بھی چلے جاتے ہیں۔ بعض اوقات آدمی حفظانِ صحت کی خاطر چار پانچ میل کی سیر کرلیتا ہے۔ تو اتنی قلیل مسافت کا سفر شرعی نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے کسی معتدبہ مسافت کا تعین کرنا پڑے گا۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک (رح) چار برد کو شرعی سفر تسلیم کرتے ہیں ایک برد بارہ میل کا ہوتا ہے اور اس طرح شرعی سفر کی کم از کم مسافت 48 میل بنتی ہے۔ بعض علمائے کرام تین برید یعنی 36 میل کو شرعی سفر مانتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک شرعی سفر دراصل تین دن کی مسافت ہے۔ اوسط رفتار سے کوئی شخص پیدل یا اونٹ پر جتنا سفر تین دن میں طے کرتا ہے ، وہی شرعی سفر ہے۔ یہ عام طور پر بارہ تا سولہ میل یومیہ ہوتا ہے کیونکہ مسافر کو آرام بھی کرنا ہوتا ہے اور دیگر ضروریاتِ زندگی کو بھی پورا کرنا ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے امام صاحب نے شرعی سفر کی مسافت چار برید یعنی اڑتالیس میل مقرر کی ہے اور اسی پر زیادہ علمائے حنفیہ کا اتفاق ہے۔ تاہم استاذ الاساتذہ مولانا عبدالحی لکھنوی (رح) ، امام اہل سنت والجماعت مولانا عبدالشکر لکھنوی (رح) اور مولانا خلیل احمد سہارنپوری (رح) وغیرہم تین برید یعنی 36 میل کے قائل ہیں۔ سمندری سفر کے لیے بھی امام ابوحنیفہ (رح) تین دن مسافت ہی متعین کرتے ہیں۔ بادبانی کشتی تین دن میں اوسط رفتار سے جتنا سفر کرتی ہے۔ وہی سفر ہے ، خشکی کے نسبت آبی راستہ کے ذریعہ نسبتاً کم سفر طے ہوتا ہے جو کہ تقریباً بیس میل کے قریب بنتا ہے۔ لہٰذا دریائی یا سمندری شرعی سفر بیس میل ہوگا اس سے کم شرعی سفر شمار نہیں ہوگا۔ نماز میں قصر ارشاد ہوتا ہے واذا ضربتم فی الارض جب تم زمین میں سفر کرو فلیس علیکم جناحٌ ان تقصروا من الصلوٰۃ ِ تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ تم نماز میں سے کچھ کم کر دو ۔ اس کمی سے مراد تعداد رکعت کی کمی ہے نہ کہ کسی ایک رکعت میں مطلوبہ قرأت میں کمی۔ اس طرح چار رکعت والی نماز کی صرف دو رکعت ادا کی جائیں گی۔ حضرت عائشہ ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ اصل نماز دو رکعت ہی تھی مگر اقامت کی صورت میں اسے چار کردیا گیا۔ چناچہ سفر کی حالت میں اسے اپنی اصل حالت دو رکعت پر برقرار رکھا گیا ہے۔ مسند احمد کی روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا عیدالفطر اور عیدالاضحی کی نماز بھی دو دو رکعت ہے اور جمعہ کی نماز بھی دو رکعت ہے اور مسافر کی نماز بھی دو ہی رکعت ہے یہ مکمل نماز ہے کیونکہ سفر میں اتنی ہی پڑھنے کا حکم ہے۔ اگر کوئی مسافر شخص اکیلا نماز پڑھ رہا ہے یا امامت کرا رہا ہے تو وہ چار کی بجائے دو رکعت پڑھے گا اور اگر مقیم امام کے پیچھے نماز ادا کر رہا ہے تو پھر اسے چار رکعت پوری کرنا ہوں گی ، حتیٰ کہ امام کے پیچھے اگر چوتھی رکعت میں آ کر شامل ہواتو پھر بھی اسے چار رکعت ہی پوری کرنا ہوں گی۔ خود امام ہونے کی صورت میں حضور ﷺ نے منیٰ اور عرفات میں دو دو رکعت ہی پڑھائیں اور مسافر امام کیل یے یہ بھی حکم ہے کہ وہ بلند آواز سے اعلان کر دے کہ ہم مسافر ہیں اتموا الصلوٰۃ تم اپنی نماز پوری کرلو۔ چناچہ حضور ﷺ نے دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا ، مسافر نمازیوں نے بھی ایسا ہی کیا البتہ مقیم نمازیوں کے لیے چار رکعت مکمل کرنے کا حکم تھا۔ قصر کی شرعی حیثیت اب یہ مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ سفر میں قصر کرنا واجب ہے یا مستحب۔ امام ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک (رح) اسے وجوب کا درجہ دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ قصر نہ کرنے والا مسافر گنہگار ہوگا۔ البتہ امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) فرماتے ہیں کہ یہ مستحب ہے۔ گویا سفر می قصر کرنا افضل ہے۔ اگر پوری نماز پڑھ لے تو گنہگار نہیں ہوگا۔ حضرت عمر ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ قصر کرنا صدقۃ تصدق اللہ بھا علیکم فاقبلوا صدقتہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے صدقہ ہے ، اس صدقہ کو قبول کرنا چاہئے اور آدھی نماز پڑھنا چاہئے۔ اس حدیث کا پس منظر یہ ہے کہ حضرت یعلیٰ ابن امیہ ؓ نے حضرت عمر ؓ سے دریافت کیا کہ اس آیت سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں قصر کا حکم صرف خوف کی حالت میں ہے جب کہ حضور ﷺ نے امن کی حالت میں بھی قصر نماز پڑھی ، فتح مکہ کے بعد مسلمانوں کو پورے عرب میں غلبہ حاصل ہوگیا تھا مگر آپ نے دو سال بعد یعنی حجۃ الوداع کے موقع پر بھی نماز دو رکعت ہی ادا فرمائی اس کے جواب میں حضرت عمر ؓ نے کہا ، بھائی ! میں نے بھی حضور ﷺ سے سنا ہے کہ بظاہر یہ آیت خوف کی حالت کے متعلق ہی ہے مگر درحقیقت یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے معافی اور صدقہ ہے اور اس کا قانون یہ ہے کہ صدقہ ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے ایک دفعہ دے کر اسے واپس نہیں لیا جاتا کہ یہ ایک کمینہ حرکت ہے۔ اللہ تعالیٰ تو سب کریموں کا کریم ہے لہٰذا اس کی طرف سے سفر میں دو رکعت کی معافی کا صدقہ قبول کرنا چاہئے۔ وطنِ اصلی اور وطن اقامت کسی شخص کا وطن اصلی وہ مقام ہے ، جہاں وہ پیدا ہوا ، اس کا گھر بار ، بیوی بچے ، مکان ، زمین ، دکان ، فیکٹری ، دفتر وغیرہ اور وطن اقامت وہ جگہ ہے جہاں کوئی شخص شرعی سفر کر کے پندرہ دن یا زیادہ مدت کے لیے عارضی طور پر مقیم ہوتا ہے۔ نماز سے متعلق وطن اصلی اور وطن اقامت کا حکم یکساں ہے ہر دو مقامات پر انسان پوری ہی نماز ادا کریگا ، حضرت عبداللہ بن عمر ؓ اور بعض دوسرے صحابہ سے ثابت ہے کہ اگر کوئی آدمی اپنے اصلی وطن سے اڑتالیس میل یا یزادہ دور جاکر پندرہ دن سے کم مدت ٹھہرنے کا ارادہ کرے تو وہ مسافر شمار ہوگا اور نماز قصرادا کریگا۔ حضرت عثمان ؓ حج کے لیے مکہ مکرمہ آئے تو انہوں نے منیٰ اور عرفات وغیرہ میں پوری نماز ادا کی ، تو لوگوں نے اعتراض کیا کہ باقی صحابہ ؓ نے ان مقامات پر نماز قصر ادا کی ہے ، مگر آپ پوری نماز پڑھتے ہیں اس معاملہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بہت ناراض ہوئے کیونکہ مسافر کے لیے نماز قصر واجب ہے نہ کہ محض مستحب۔ اس پر حضرت عثمان ؓ نے جواب دیا کہ لوگو ! انی تاھلت بمکۃ منذ قدمت میں نے مکہ میں نکاح کرلیا ہے اور میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلّم سے سنا ہے آپ نے فرمایا من تاھل ببلدۃٍ فلیصل صلوٰۃ المقیم جو شخص کسی شہر میں نکاح کرلیتا ہے تو اسے وہاں پر مقیم کی نماز پڑھنی چاہئے چناچہ یہ مسئلہ بھی واضح ہوگیا کہ سسرال میں جا کر پوری نماز ادا کرنی چاہئے۔ سنتوں کا مسئلہ چار فرض کی بجائے صرف دو ادا ہوں گے۔ اب رہا سنتوں کا مسئلہ کہ کیا یہ بھی پڑھی جائیں گی یا نہیں۔ یہ مسئلہ فتاویٰ عالمگیری میں بھی موجود ہے اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) نے شرحم وطا میں بھی لکھا ہے۔ فرماتے ہیں کہ سفر کی دو حالتیں ہوتی ہیں جب کوئی شخص فی الواقع سفرکر رہا ہوتا ہے تو وہ سفر جاری کہلاتا ہے اور جب دوران سفر کسی مقام پر قیام کرتا ہے تو وہ نزول ہوتا ہے۔ سفر جاری میں سنتوں کو ترک کردینا چاہئے اور نزول کی حالت میں اگر سنتیں پڑھ لے لو بہتر ہے ، ضروری نہیں۔ اگر نہ پڑھیگا تو کوئی باز پرس نہیں ہوگی۔ البتہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ فجر کی سنتیں سفر و حضر ہر حالت میں ادا فرماتے تھے۔ اور وتر چونکہ واجب ہیں ، آپ وہ بھی ضرور پڑھتے تھے۔ قصر لازم ہے۔ یہاں پر فلیس علیکم جناحٌ کے الفاظ خاص طور پر قابل توجہ ہیں یہ کہ نماز قصر کرنے میں تم پر کوئی حرج نہیں ۔ دوران سفر نماز کم ہوجانے سے بعض اذہان میں یہ خیال آسکتا تھا کہ رکعتوں کی کمی کی وجہ سے شاید ثواب میں بھی کمی واقع ہو جائیگی تو اس شبہ کو دور کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ نماز کو کم کرنے میں کوئی حرج نہیں ، یہ تو میری طرف سے رعایت ہے ، لہٰذا اس سے ضرور فائدہ اٹھاؤ ۔ اس قسم کا طرز تخاطب دوران حج صفا مروہ کی سعی میں بھی آیا ہے۔ ” فلا جناح علیہ ان یطوف بھما “ یعنی صفا اور مروہ شعائر اللہ میں سے ہیں۔ جب تم حج یا عمرہ کے لیے جاؤ تو ان دونوں کی سعی کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ وہاں بھی لوگوں کو شبہ پیدا ہوا تھا کہ صفا ومروہ کی سعی شاید زمانہ جاہلیت کی کوئی رسم ہے ، مگر اللہ تعالیٰ نے فلا جناح کے الفاظ استعمال کر کے سعی کا حکم دیا۔ بہرحال فرمایا نماز میں کمی ہوجانے سے کوئی حرج محسوس نہ کرو ، کیونکہ جس طرح عزیمت پر عمل درآمد باعث ثواب ہوتا ہے اسی طرح بعض اوقات رخصت پر عمل کرنا بھی ویسے ہی باعث اجر ہوتا ہے۔ خوف کی شرط آگے فرمایا ان خفتم ان یفتنکم الذین کفروا یعنی اگر تمہیں خوف ہو کہ کافر تمہیں فتنے میں مبتلا کردیں گے۔ اگر اس حصہ آیت کو پچھلے حصے کے ساتھ ملاکر پڑھا جائے تو یہ پہلے حصہ کی شرط بن جاتا ہے اور مطلب یہ ہوگا کہ نماز قصر کی اجازت صرف اسی صورت میں ہے جب کہ تمہیں کفار کی طرف سے خطرہ ہو۔ اور ظاہر ہے کہ جب خوف کی شرط نہ پائی جائیگی تو رعایت ختم ہو جائیگی۔ اس سلسلے میں مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ یہ شرط اتفاقی ہے۔ حضور ﷺ کے زمانہ مبارک میں کفار کی طرف سے عموماً خطرہ رہتا تھا کہ کہیں وہ مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچائیں چناچہ اس بات کا ذکر اگلی آیتوں میں آ رہا ہے اور وہاں یہ بھی حکم ہے کہ اس قسم کے حالات میں ہمیشہ ہتھیار بند رہو ، حالانکہ صحابہ کرام ؓ بعض اوقات ہتھیار اتار کر آرام بھی کرنا چاہتیت ہے۔ بہرحال مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ خفتم کا لفظ اتفاقی ہے۔ ضروری نہیں۔ لہٰذا جب خطرہ ٹل جائے اور امن وامان قائم ہوجائے ، تو قصر کرنا اس وقت بھی ردا ہے۔ مفسرین کریم یہ بھی فرماتے ہیں کہ واذا ضربتم سے من الصلوٰۃ تک جملہ مکمل ہوجاتا ہے اور اس میں نماز قصر کا واضح حکم موجود ہے۔ البتہ خوف کا تعلق اگلے جملہ ان یفتنکم الذین کفروا کے ساتھ ہے اور آخر میں فاحتاطوا کا لفظ محذوف ہے۔ اس طرح جملہ کا معنی یہ ہوگا کہ اگر تمہیں کفار کی طرف سے فتنہ میں ڈالے جانے کا خوف ہو تو محتاط رہو اور ان کی ہر ممکنہ جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہو۔ لہٰذا آیت کے اس حصے کا قصر کے ساتھ تعلق باقی نہیں رہتا۔ قصر کا ذکر پہلے حصے میں مکمل ہوچکا ہے۔ فرمایا ان الکفرین کانوا لکم عدواً مبیناً بیشک کافر تمہارے صریح دشمن ہیں۔ ان سے بچاؤ کی تدابیر کرنا تمہارے لئے ہر حالت میں ضروری ہے خواہ سفر امن کا ہو یا خوف کا۔
Ayah 4:102

وَ اِذَا كُنْتَ فِیْهِمْ فَاَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلٰوةَ فَلْتَقُمْ طَآئِفَةٌ مِّنْهُمْ مَّعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْۤا اَسْلِحَتَهُمْ١۫ فَاِذَا سَجَدُوْا فَلْیَكُوْنُوْا مِنْ وَّرَآئِكُمْ١۪ وَ لْتَاْتِ طَآئِفَةٌ اُخْرٰى لَمْ یُصَلُّوْا فَلْیُصَلُّوْا مَعَكَ وَ لْیَاْخُذُوْا حِذْرَهُمْ وَ اَسْلِحَتَهُمْ١ۚ وَدَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ تَغْفُلُوْنَ عَنْ اَسْلِحَتِكُمْ وَ اَمْتِعَتِكُمْ فَیَمِیْلُوْنَ عَلَیْكُمْ مَّیْلَةً وَّاحِدَةً١ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ اِنْ كَانَ بِكُمْ اَذًى مِّنْ مَّطَرٍ اَوْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَنْ تَضَعُوْۤا اَسْلِحَتَكُمْ١ۚ وَ خُذُوْا حِذْرَكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ اَعَدَّ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابًا مُّهِیْنًا Open ayah 4:102 in the Quran reader

اور جب آپ ان میں موجود ہوں اور آپ ان کے لیے نماز قائم کریں ، تو چاہئے کہ ان میں سے ایک گروہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوجائے اور وہ اپنے ہتھیار لے لیں۔ پس جب وہ سجدہ کریں تو آپ کے پیچھے ہوجائیں اور دوسرا گروہ آجائے جنہوں نے نماز نہیں پڑھی۔ پس وہ آپ کے ساتھ نماز پڑھیں اور لے لیں اپنے بچاؤ کا سامان اور اپنے ہتھیار۔ پسند کرتے ہیں وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا کہ کسی طرح تم کو غافل پائیں اپنے اسلحہ اور سامان سے پس حملہ کردیں تم پر یکبارگی حملہ کرنا۔ اور تم پر کوئی گناہ نہیں ہے اگر تمہیں تکلیف ہو بارش کی وجہ سے یا تم بیمار ہو ، کہ تم اپنے ہتھیار اتار دو اور (ہر حالت میں) اپنے بچاؤ کا سامان ا ختیار کرو بیشک اللہ تعالیٰ نے کفر کرنے والوں کے لیے ذلت ناک عذاب تیار کر رکھا ہے

ربط آیات اس رکوع کی پہلی آیت میں سفر کی حالت میں نماز کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے شرعی سفر میں چار رکعت والی نماز میں تخفیف کر کے اسے دو رکعت بنا دیا ہے۔ اس ضمن میں دیگر ضروری مسائل بھی گزشتہ درس میں بیان کردیے گئے تھے۔ تاہم سفر ہی سے متعلق دو مسائل باقی رہ گئے تھے۔ پہلا مسئلہ یہ کہ نماز قصر کہاں سے شروع کرنی چاہئے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ مزعومہ سفر کی نصف منزل طے کرلینے کے بعد نماز قصر شروع ہوئی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ مسافر اپنی منزل پر پہنچ کر نماز قصر کرے۔ بعض دیگر حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ جب سفر کی نیت کرلے تو گھر سے ہی قصر شروع کرسکتا ہے۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ جب مسافر اپنی بستی ، گاؤں یا شہر کی حدود سے نکل جائے تو قصر شروع کر دے۔ شہر کی حدود سے مراد یہ ہے کہ مثلاً چونگی سے باہر نکل جائے تو نماز کا وقت ہوجائے تو قصر پڑھے گا۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کیا معصیت کے سفر میں بھی سفر کی اجازت ہے یا نہیں۔ امام شافعی (رح) اور دیگر ائمہ معصیت کے سفر پر نماز میں قصر کی اجازت کے قائل نہیں اگر کوئی شخص چوری ، ڈاکے ، قتل ، کھیل تماشے یا دیگر حرام امور کے ارتکاب کے لیے سفر کرتا ہے تو اسے دو رکعت کی معافی حاصل نہیں ہوگی ، کیونکہ ایسا شخص گنہگار ہے اس کے برخلاف امام ابوحنیفہ (رح) کا فتویٰ یہ ہے کہ سفر کی نوعیت خواہ کیسی ہی ہو ، قصر کی اجازت ہے ، کیونکہ قصر کا تعلق سفر سے ہے نہ کہ اطاعت یا معصیت سے ، البتہ جس غلط ارادے سے کوئی شخص جارہا ہے اس کی معصیت کا گناہ اس پر الگ ہوگا۔ نماز بہرحال قصر ہی کریگا۔ نماز خوف آج کی آیت میں اللہ تعالیٰ نے خوف کی حالت میں نماز پڑھنے کا طریقہ بیان فرمایا ہے۔ خوف عام طور پر دشمن کی طرف سے ہوتا ہے۔ ابتدائے اسلام کے زمانہ میں اہل اسلام اکثر دشمن کی طرف سے خوف میں مبتلا رہے۔ مسلمانوں کو دشمنوں کی طرف سے کسی ممکنہ حملہ کا ہمیشہ خوف رہتا تھا اور بعض اوقات کفار اور اہل ایمانکے درمیان جنگ جاری ہوتی تھی۔ چناچہ ترمذی شریف کی روایت کے مطابق یہ آیات ایک لڑائی کے متعلق ہی نازل ہوئیں۔ حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ قبیلہ جہینہ کے کفار کے ساتھ جنگ جاری تھی۔ ہم لوگ ظہر کی نماز پڑھ چکے تھے کہ کفار نے آپس میں مشورہ کیا ستاتیہم صلوۃٌ ہی احب الیہم من الاولاد مسلمانوں کی ایک اور نماز (عصر) آ رہی ہے جو انہیں اپنی اولاد سے بھی زیادہ عزیز ہے۔ لہٰذا جب یہ لوگ نماز کے لیے کھڑے ہوں تو ان پر یکبارگی حملہ کر کے انہیں نیست و نابود کردیا جائے۔ بہرحال حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ ؓ نے متعدد بار صلوٰۃ خوف پڑھی ہے اور اس کے لیے مختلف طریقے اختیار کیے ہیں۔ یہاں پر اس کا اجمالی طریقہ اور قانون باین کردیا گیا ہے۔ تاہم اس کی تشریح حضور ﷺ کے ارشادات مبارکہ اور عمل سے واضح ہوتی ہے اور اس کا ذکر احادیث کی تمام کتابوں میں موجود ہے ۔ یہ نماز سفر میں بھی پڑھی جاسکتی ہے اور اقامت میں بھی ادا ہو سکتی ہے۔ نماز خوف کے متعلق سورة بقرہ میں بھی کچھ بیان آ چکا ہے۔ وہاں صرف اس قدر تذکرہ آیا ہے کہ جب خوف کی شدت ہو تو فرجالاً او کسیاناً پاؤں پر کھڑے ہو یا سواری پر ہو تو وہیں اشارے سے نماز پڑھ لو۔ ایسی حالت میں رکوع و سجود کی ضرورت بھی نہیں۔ البتہ اس معاملہ میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے کہ کیا چلتے پھرتے بھی نماز ادا ہوجاتی ہے یا نہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک ایک جگہ کھڑے کھڑے تو نماز ہوجاتی ہے ، مگر چلتے پھرتے نماز پڑھنا ناجائز ہے۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ جنگ کے علاوہ اگر کسی موذی جانور یا درندے کا خوف ہو تو پھر بھی نماز خوف ادا کی جاسکتی ہے۔ کہیں سے شیر یا اژدھا کا خطرہ ہے اور اس کی نگرانی ضروری ہے تو اس صورت میں بھی صلوٰۃ خوف پڑھی جاسکتی ہے تاہم ان تمام حالات سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ نماز ایسا اہم فریضہ ہے کہ یہ کسی بھی حالت میں ترک نہیں کی جاسکتی۔ حکم عام یا حکم خاص اس آیت میں نماز خوف سے متعلق واذا کنت فیہم کے الفاظ آتے ہیں۔ اور بظاہر معنی یہ ہے کہ نماز خوف حضور ﷺ کی حیات طیبہ میں ہی روا تھی۔ حنفی اماموں میں سے امام ابو یوسف (رح) ، اور امام ابوحنیفہ (رح) کے دوسرے شاگرد حسن (رح) اسی کے قائل ہیں۔ مالکی مسلک کے امام ابن ماجشون (رح) کا ذکر بھی ملتا ہے کہ یہ نماز حضور نبی کریم (علیہ السلام) کے ساتھ خاص تھی۔ مگر جمہور ائمہ کرام (چاروں امام) اور جمہور محدثین اور فقہائے کرام متفق ہیں کہ صلوٰۃِ خوف حضور ﷺ کی حیات طیبہ کے بعد بھی جاری ہے۔ لہٰذا یہ حکم عام ہے۔ آپ کے بعد یہ نماز صحابہ کرام ؓ نے مختلف مقامات پر ادا کی ، حضرات ابوبکر ، عمر اور عثمان رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانوں میں بھی یہ نماز پڑھی جاتی رہی۔ گویا حکم منسوخ نہیں۔ اگرچہ یہ خطاب حضور کو ہے مگر حکم عام ہے اس کی مثال فصل لربک وانحر میں بھی ملتی ہے کہ اگرچہ یہ بھی خطاب نبی (علیہ السلام) کو ہی ہے۔ مگر نماز اور قربانی کا حکم ہر مکان و زمان کے لیے عام ہے۔ نماز خوف کب اور کیوں نماز خوف اس وقت ادا کی جاتی ہے۔ جب تمام لوگ ایک ہی امام کے پیچھے نماز پڑھنا چاہتے ہوں اور دشمن یا دیگر خطرے کی نگرانی بھی ضروری ہو۔ اگر سب لوگ بیک وقت نماز میں مشغول ہوجائیں تو دشمن کی طرف سے حملہ کا خطرہ ہوتا ہے۔ لہٰذا یہ نماز ایک امام کے پیچھے دو مختلف گروہوں کی صور ت میں پڑھی جاتی ہے۔ حضور ﷺ کی حیات مبارکہ میں جب آپ بنفس نفیس محاذ جنگ پر موجود ہوتی تھے ، تو سب کی خواہش یہ ہوتی تھی کہ حضور ﷺ کے پیچھے ہی نماز ادا کریں۔ تاہم آپ کے بعد بھی اگر جماعت میں کوئی ایسی بزرگ ہستی موجود ہے کہ سب لوگ اسی کی اقتداء میں نماز پڑھنا چاہتے ہوں تو پھر نماز خوف کا طریقہ اختیار کیا جائیگا۔ اگر کسی خاص امام کے پیچھے نماز پڑھنا ضروری نہ ہو۔ تو پھر صلوٰۃ خوف پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ جماعت کے مختلف گروہوں یا سیکشن بنا دیے جائیں جو اپنے اپنے امام کے پیچھے یکے بعد دیگرے نماز ادا کرلیں۔ نمازِ خوف کا طریقہ فرمایا واذا کنت فیہم فاقمت لہم الصلوٰۃ جب آپ ان میں موجود ہوں اور انہیں نماز پڑھائیں فلتقم طائفۃٌ منہم معک تو چاہئے کہ ان میں سے ایک گروہ آپ کے پیچھے (نماز کے لیے) کھڑا ہوجائے ولیاخذوا اسلحتھم اور وہ اپنا اسلحہ بھی اپنے ساتھ رکھیں۔ فاذا سجدوا فلیکونوا من ورائکم پھر جب یہ سجدہ کرلیں تو آپ کے پیچھے چلے جائیں ولتات طائفۃٌ اُخریٰ لم یصلوا پھر دوسرا گروہ آجائے جس نے نماز نہیں پڑھی فلیصلوا معک پھر وہ بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھیں ولیاخذوا حذرہم واسلحتہم اور اپنے دفاع کا سامان اور اسلحہ اپنے ساتھ رکھیں۔ مطلب یہ ہوا کہ اگر نماز خوف سفر کی حالت میں ادا کی جا رہی ہے تو ایک گروہ بمعہ اسلحہ حضور صلی اللہ علیہ وسلّم کے ساتھ نماز میں شامل ہوجائے گا۔ جب یہ لوگ ایک رکعت مکمل کرلیں تو اپنے اسلحہ سمیت واپس اپنے محاذ پر چلے جائیں گے اور دوسرا گروہ آ کر حضور ﷺ کے ساتھ نماز میں شریک ہوجائے گا اور ایک رکعت آپ کے ساتھ ادا کریگا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم اپنی دو رکعت پوری کر کے سلام پھیر دیں گے جب کہ یہ دونوں گروہ ایک ایک رکعت اپنے طور پر ادا کریں گے۔ اب بقیہ ایک رکعت ادا کرنے کے مختلف طریقے وارد ہوئے ہیں مثلاً یہ کہ پہلا گروہ امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھ کر واپس محاذ پر جائے اور وہیں اپنی دوسری رکعت پوری کرلے۔ اسی طرح جب دوسرا گروہ ایک رکعت امام کے ساتھ ادا کرلے تو اپنی دوسری رکعت واپس جاکر الگ پڑھ کر سلام پھیر دے احادیث میں یہ طریقہ بھی آتا ہے کہ پہلا گروہ ایک رکعت پڑھ کر محا ذ پر چلا جائے اور دوسرا گروہ آجائے ، وہ بھی ایک رکعت پڑھ کر محاذ پر چلا جائے تو پہلا گروہ واپس آ کر اسی جگہ اپنی دوسری رکعت مکمل کرلے۔ یہ پھر اپنے محاذ پر چلا جائے تو دوسرا گروہ پھر واپس آ کر اپنی دوسری رکعت مکمل کرلیں۔ اور اگر اقامت کی حالت میں چار رکعت نماز ادا کرنا ہے تو ایک کی بجائے دو دو رکعت امام کے ساتھ ادا کی جائیں گی اور دو دو رکعت مقتدی علیحدہ ادا کریں گے۔ اس طرح نماز میں دونوں گروہوں نے آنے جانے میں جو حرکات کی ہیں ، وہ جائز ہیں۔ نماز خوفِ کے لیے یہ خاص حکم ہے ، ورنہ عام حالات میں اگر کوئی نمازی نماز کے دوران کوئی ایسی حرکت کرتا ہے تو اس کی نماز ٹوٹ جاتی ہے۔ صلوٰۃِ خوف کا ایک طریقہ یہ بھی آیا ہے کہ پہلا گروہ ایک یا دو رکعت امام کے ساتھ ادا کرنے کے بعد اپنی بقیہ ایک یا دو رکعتیں وہیں پوری کر کے محاذ پر آجائے اور دوسرا گروہ آ کر ایک یا دو رکعت امام کے ساتھ ادا کرے۔ امام سلام پھیر دے تو یہ گروہ وہیں پر اپنی بقیہ ایک یا دو رکعت ادا کرنے کے بعد محاذ پر واپس جائے یہ سب طریقے روا ہیں اور مغرب کی نماز ادا کرنا مقصود ہو تو پہلا گروہ دو رکعت امام کے ساتھ پڑھے گا اور بقیہ ایک رکعت علیحدہ ادا کرے گا پھر دوسرا گروہ آ کر ایک رکعت امام کے ساتھ پڑھیگا۔ اور وہ رکعت علیحدہ ادا کرے گا۔ یہ تمام طریقے اس صورت میں اختیار کیے جائیں جب کہ دشمن قبلہ کی طرف نہیں ہے بلکہ الٹی طرف ہے یا کسی دوسری سائڈ میں ہے اور اگر دشمن قبلہ کی سمت میں صف آرا ہے تو ایسی صورت میں حضور ﷺ نے تمام مجاہدین کی دو صفیں بنائیں اور سب نے بیک وقت نماز شروع کی۔ دونوں صفوں نے قیام اور رکوع اکٹھا کیا ، پھر حضور ﷺ سجدہ میں گئے تو پہلی صف والے آپ کے ساتھ سجدہ میں شریک ہوئے جب کہ دوسری صف والے دشمن کی نگرانی کے لیے کھڑے رہے۔ جب اگلی صف سجدے سے فارغ ہوگئی تو پچھلی صف والوں نے بھی سجدہ کیا۔ جب دوسری رکعت شروع ہوی تو اگلی صف پیچھے چلی گئی اور پچھلی صف آگے آگئی ہے۔ پھر سب نے رکوع اکٹھا کیا۔ پھر اگلی صف نے حضور کے ساتھ سجدہ کیا اور پچھلی صف والے کھڑے رہے اس کے بعد پچھلی صف والوں نے سجدہ کیا۔ اور پھر تشہد کے بعد سب نے نماز اکٹھے مکمل کی۔ دشمن کامنصوبہ فرمایا نماز خوف کا یہ طریقہ دشمن سے حفاظت کے لیے اختیار کیا گیا ہے کیونکہ ودالذین کفرو لو تغفلون عن اسلحتکم و امتعتکمکفار کا منصوبہ تو یہ ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ تم اپنے اسلحہ اور سامان سے غافل ہوجاؤ ۔ فیمیلون علیکم میلۃً واحدۃً اور وہ تم پر یکبارگی حملہ کردیں۔ ترمذی شریف کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ کفار نے اس بات کا پختہ ارادہ کرلیا تھا کہ جب مسلمان نماز میں مشغول ہوں تو ان پر ٹوٹ پڑیں مگر پیشتر اس کے کہ وہ اپنے منصوبے کی تکمیل کرتے اللہ تعالیٰ نے نماز خوف کا طریقہ بتلا کر دشمنوں کے منصوبہ کو خاک میں ملا دیا۔ بہرحال یہ سب طریقے اسی صورت میں اختیار کیے جائیں گے جب دوران جنگ تھوڑا بہت موقع مل جائے جس کے دوران مذکورہ طریقہ سے نماز ادا کی جاس کے۔ اور اگر حالات ایسے ہوں کہ ایک لمحہ کے لیے بھی دشمن سے غافل ہونا باعث نقصان ہو سکتا ہے ، تو پھر نماز کو قضا کرنے کی بھی اجازت ہے۔ جنگ خندق کے موقع پر مسلمانوں کی چار نمازیں فوت ہوگئی تھیں جن کی قضا رات کو بعد از نماز عشاء دی گئی ۔ حضرت انس ؓ کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ کے زمانہ مبارک کے بعد مسلمانوں نے ایران کے قلعہ تستر پر سحری کے وقت حملہ کیا اور اس دوران نماز فجرادا کرنے کا موقع نہ مل سکا۔ مسلمان صلوٰۃ خوف بھی ادا نہ کرسکے اور جنگ جاری رکھی۔ اللہ تعالیٰ کی مدد شامل حال ہوئی اور قلعہ فتح ہوگیا۔ مسلمانوں نے نماز فجر سورج نکلنے کے بعد ادا کی۔ حضرت انس ؓ فرماتے ہیں کہ اس قضا کی ادائیگی میں مجھے اس قدر خوشی ہوئی کہ دنیا ومافیہا کے خزانے مل جانے سے بھی اتنی خوشی نہ ہوتی۔ اس طرح قلعہ بھی فتح ہوگیا اور نماز بھی ادا ہوگئی اگرچہ بعد از وقت بہرحال اس قسم کی صورت حال بھی واقع ہو سکتی ہے اور یہ طریقہ بھی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ عذر میں رخصت فرمایا ولا جناح علیکم تم پر کوئی گناہ نہیں ہے۔ ان کان بکم اذی من مطرٍ او کنتم مرضیٰ اگر تم بارش کی وجہ سے تکلیف میں ہو یا بیمار ہوجاؤ ۔ ان تضعوا اسلحتکم کہ تم اپنے ہتھیار اتار دو ۔ آیت کے پہلے حصہ میں ہر وقت ہتھیار بند رہنے کا حکم تھا۔ حتیٰ کہ نماز کے وقت بھی ہتھیار ساتھ رکھنا ضروری فرمایا تھا۔ اب فرمایا کہ اگر کوئی معقول عذر ہو ، یعنی بارش ہوجائے یا تم میں سے کوئی مجاہد بیمار ہوجائے تو اپنے ہتھیار اتار لینے میں کوئی حرج نہیں۔ ایسا کرسکتے ہو مگر یاد رکھو وخذوا حذرکم اپنے بچاؤ کا سامان ہر حالت میں اختیار کرو۔ اپنے دفاع سے کبھی غافل نہ ہو۔ مقصد یہ ہے کہ اسلحہ اتار کر کسی ایسی جگہ نہ رکھو جہاں سے بوقت ضرورت فوری طور پر دستیاب نہ ہو ، بلکہ اپنے قریب اور نگرانی میں رکھو تاکہ بوقت ضرورت فوراً اس سے لیس ہو سکو۔ ناکامی کے اسباب آج مسلمانوں کی ناکامی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان کے پاس اپنے بچاؤ کا سامان نہیں ہے اور دشمن ان پر غالب آ رہا ہے گزشتہ چار سو سال سے یہی حالت ہے۔ دشمن ہر محاذ پر مسلمانوں کو ناکام بنا رہا ہے۔ مسلمان سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں بالکل پسپا ہو رہے ہیں۔ ان کے پاس اپنے بچاؤ کا کوئی سامان نہیں۔ پہاڑوں سے مع دنیات نکالنا ہو یا تیل کے لیے کنواں کھودنا ہو ، مسلمانوں کے پاس کوئی انتظام نہیں۔ نہ اوزار ہیں اور نہ ٹیکالوجی۔ ماہرین بھی باہر سے منگوانا پڑتے ہیں اور مشینری بھی باہر سے درآمد کرنا پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر محاذ پر شکست کھا رہے ہیں۔ مسلمانوں کے پاس وسائل کی کمی نہیں مگر اغیار نے ان کے دماغ اس قدر ماؤف کردیے ہیں کہ یہ اپنے وسائل سے مستفید نہیں ہو سکتے۔ حدیث شریف میں آتا ہے لکل حالٍ عندہ عتاد حضور ﷺ ہر موقع و ہر حالت کے لیے سامان تیار رکھتے تھے ، مگر آج مسلمان بہت پیچھے رہ گئے ہیں جس کی وجہ سے ناکام ہو رہے ہیں ، سائنس ، ٹیکنالوجی ، صنعت و حرفت ، تجارت جنگ غرضیکہ ہر میدان میں آج مسلمان دوسروں کا دست نگر ہے لہٰذا دشمن کی زد میں ہے۔ فرمایا ان اللہ اعلر للکفرین عذاباً مھیناً ۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کے لیے ذلت ناک عذاب تیار کر رکھا ہے اگر تم مستعد ہو گے تو اللہ تمہارے ہاتھوں سے ہی دشمن کو سزا دلوا دے گا۔ ورنہ اپنے قانون مکافات کے مطابق ان کو آخرت میں تو سزا مل کر رہیگی۔ تم اپنے بچاؤ کا سامان بہرحال تیار رکھو۔