4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمعالم العرفان

Ayahs 4:128–130

وَ اِنِ امْرَاَةٌ خَافَتْ مِنْۢ بَعْلِهَا نُشُوْزًا اَوْ اِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَاۤ اَنْ یُّصْلِحَا بَیْنَهُمَا صُلْحًا١ؕ وَ الصُّلْحُ خَیْرٌ١ؕ وَ اُحْضِرَتِ الْاَنْفُسُ الشُّحَّ١ؕ وَ اِنْ تُحْسِنُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:128 in the Quran reader

اگر کوئی عورت خوف کھائے اپنے خاوند کی طرف سے نافرمانی یا اعراض کا ، تو ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں اور صلح ہی بہتر ہے اور حاضر کیا گیا ہے جانوں کے پاس بخل کو اور اگر تم نیکی کرو اور تقویٰ کی راہ اختیار کرو پس بیشک اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کام کرتے ہو اس کی خبر رکھنے والا ہے

وَ لَنْ تَسْتَطِیْعُوْۤا اَنْ تَعْدِلُوْا بَیْنَ النِّسَآءِ وَ لَوْ حَرَصْتُمْ فَلَا تَمِیْلُوْا كُلَّ الْمَیْلِ فَتَذَرُوْهَا كَالْمُعَلَّقَةِ١ؕ وَ اِنْ تُصْلِحُوْا وَ تَتَّقُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 4:129 in the Quran reader

اور تم ہرگز طاقت نہیں رکھتے کہ انصاف کرسکو عورتوں کے درمیان ، اگرچہ تم حرص کرو۔ پس تم نہ مائل ہو پوری طرح ایک طرف مائل ہونا۔ پس چھوڑ د و اس عورت کو معلق (لٹکی ہوئی) چیز کی طرح۔ اور اگر تم اصلاح کروگے اور تقویٰ کی راہ اختیار کروگے تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور مہربان ہے

وَ اِنْ یَّتَفَرَّقَا یُغْنِ اللّٰهُ كُلًّا مِّنْ سَعَتِهٖ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ وَاسِعًا حَكِیْمًا Open ayah 4:130 in the Quran reader

اور اگر وہ دونوں آپس میں جدا ہوجائیں تو مستغنی بنائے گا اللہ تعالیٰ ہر ایک کو اپنی وسعت سے اور ہے اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا اور حکمت والا

ربط آیات گزشتہ دروس میں بعض معاشرتی مسائل کا تذکرہ تھا ، عورتوں ، یتیم بچیوں اور دیگر کمزور طبقات کے متعلق حکم دیا گیا تھا کہ ان کے حقوق ادا کرو اور اس ضمن میں اس سورة کی ابتداء میں اسی موضوع پر نازل ہونے والی آیات کی طرف توجہ دلائی گئی تھی۔ کہ ان طبقات پر وہی احکام لاگو ہیں اور انہی سے راہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ عورتوں کے نکاح اور مہر کا خصوصی ذکر تھا کہ ان کے مقرر مہر ادا کرو۔ یتیم بچیوں کے متعلق سرپرستوں کو تنبیہ تھی کہ اگر ان سے خود نکاح کرنا چاہو ، تو ان کا مہر پورا ادا کرو ، اور باقی حقوق بھی بطریق احسن پورے کرو اور اگر خود نکاح نہ کرنا چاہو ، تو انہیں دوسری جگہ نکاح کرنے سے نہ روکو اور نہ ان کے مال پر ناجائز تصرف رکھو۔ ان کمزور طبقات کو اللہ نے باقی لوگوں کے لیے بطور معیار مقرر فرمایا کہ اگر ان طبقات کے ساتھ انصاف کروگے تو باقی لوگوں کے ساتھ بھی انصاف کی توقع کی جاسکتی ہے۔ اور اگر یہی طبقہ انصاف سے محروم رہا تو پھر باقیوں کے ساتھ بھی عدل نہیں ہوگا ، اور اسی طرح پوری سوسائٹی جائز حقوق سے محروم ہوجائے گی۔ میاں بیوی میں مخاصمت کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کے بعد آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کے درمیان پیدا ہونے والے کسی ممکنہ اختلاف اور پھر اس کے تصیفہ کے متعلق ہدایات دی ہیں۔ ایک گھر میں رہتے ہوئے اور قریب ترین تعلقات قائم ہوتے رہے زوجین کے درمیان مخاصمت کا پیدا ہوجانا بعید از قیاس نہیں کسی ایسی صورت حال کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا وان امراۃ خافت من بعلھانشوزا اواعراضاً اور اگر عورت خوف کھاتی ہے اپنے شوہر کی طرف سے اختلاف کا یا اعراض کا۔ دراصل نشز کا لغوی معنی ابھار ہوتا ہے ، جیسے عربی شاعر کہتا ہے فقد نشزالشرسوف والتصق المعا۔ یعنی پسلیاں فاقے کی وجہ سے ابھر گئیں اور آنتیں ساتھ مل گئیں۔ تو اس نشوز کے لفظ میں لڑائی جھگڑا۔ اختلاف رائے ، نفرت ، ایذا رسانی ، تحقیر وغیرہ ساری چیزیں آتی ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ اگر عورت کو اپنے خاوند کی طرف سے کسی قسم کی زیادتی کا ڈر ہو دونوں کے مزاجوں میں موافقت موجود نہیں یا خاوند اعراض کرتا ہے ، بیوی کی طرف پوری توجہ نہیں دیتا ، تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا فلا جناح علیھا ان یصلحا بینھا صلحا ان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ آپس میں صلح کرلیں ، کیونکہ والصلح خیر صلح بہر صورت بہتر ہے۔ مقصد یہ ہے کہ جب نکاح ہو ہی گیا ہے۔ تو اب کوشش یہی کریں کہ یہ رشتہ ازدواج قائم رہے اور علیحدگی کی نوبت نہ آئے تو بہتر ہے۔ صلح وسیع تر مفہوم میں مفسرین کرام اور فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ یہ آیت بنیادی طور پر تو میاں بیوی کے درمیان مخاصمت اور پھر اس کی اصلاح کے متعلق ہے مگر اپنے وسیع تر مفہوم کے پیش نظر یہ آیت بڑی بڑی پارٹیوں ، گروہوں اور ملکوں کے درمیان تنازعات اور ان کے تصفیہ کے لیے بھی راہنمائی کرتی ہے۔ جھگڑا دو افراد کے درمیان ہو یا دو خاندانوں کے درمیان دو پارٹیاں ہوں یا دو سلطنتیں اختلافات ہر جگہ پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ اصول بیان فرمادیا ہے کہ اگر کوئی تنازعہ پیدا ہوجائے تو فریقین کو آپس میں صلح کرلینی چاہیے اور نتائج کے اعتبار سے ہر متعلقہ فریق کے لیے صلح ہی بہتر ہے۔ یہی بات سورة حجرات میں اس طرح بیان کی گئی ہے وان طائفتن من المومنین اقتتلوا فاصلحوا بینھما اگر مومنوں کے دو گروہوں کے درمیان جھگڑا ہوجائے تو ان میں صلح کرادیا کرو۔ اور جو پارٹی سرکشی اختیار کرے ، اس پر دبائو ڈال کر صلح پر مجبور کرنا چاہیے کہ اسی میں ان کی بہتری ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ ہماری ملت کی مشکلات کی وجہ احکام الٰہی سے روگردانی ہے۔ آج ملت اسلامیہ کے کتنے لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ قوانین پر عمل پیرا ہیں۔ جھگڑے سے متعلق ان واضح احکام کے باوجود دو مسلمان ملکوں کے درمیان کئی سال سے جنگ جاری ہے مگر مصالحت کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اس معاملہ میں اپنا کردار ادا کریں اور ایران عراق کے درمیان تصفیہ کرائیں۔ اور پھر اگر ان میں سے کوئی فریق ناجائز طور پر اپنی بات پر اڑا ہوا ہے اور مصالحت پر آمادہ نہیں ہوتا ، تو سورة حجرات کے احکام کے مطابق باقی عالم اسلام کو اسے مجبور کرنا چاہیے کہ وہ ہٹ دھرمی سے باز آجائیں افسوس کا مقام ہے کہ مسلمان ممالک اور دیگر عالمی اداروں کی کوشش کے باوجود یہ جنگ ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ 1 ؎ درس کے وقت عراق ایران جنگ جاری تھی لیکن درس کی طباعت کے وقت ختم ہوچکی تھی۔ (فیاض) اگر فریقین قرآنی احکام پر عمل کرتے تو اتنا جانی اور مالی نقصان نہ اٹھاتے اس ضمن میں حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد بھی ہے جو ترمذی شریف اور دیگر کتب میں موجود ہے کہ اہل اسلام کے درمیان ہر صلح جائز ہے الاصلحاً احل حراماً اوحرم حلالاً سوائے اس صلح کے جس کی بنیاد حرام کو حلال یا حلال کو حرام بنانا ہو۔ اس کے علاوہ ہر طرح کی صلح جائز اور باعث برکت ہے۔ صلح کی اقسام اور شرائط فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ صلح کی تین قسمیں ہیں۔ پہلی قسم اقرار ، دوسری سکوت اور تیسری انکار ہے۔ پہلی قسم کے متعلق فرمایا کہ اگر کوئی فریق دعویٰ کرے اور دوسرا فریق اس کو تسلیم کرلے ، اپنی غلطی کا اقرار کرلے تو صلح کرانا آسان ہوجاتا ہے دوسری صورت میں اگر کوئی فریق اپنے خلاف لگائے گئے الزام کی نہ تصدیق کرتا ہے اور نہ تکذیب……… بلکہ سکوت اختیار کرتا ہے۔ تو بھی مصالحت کی بنیاد موجود ہوتی ہے اور اسے بروئے کار لایا جاسکتا ہے ۔ باقی رہی تیسری قسم جس میں فریق ثانی دعویٰ کا انکار کرتا ہے تو اس معاملہ میں فقہائے کرام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں کہ انکار کی صورت میں صلح جائز نہیں البتہ باقی ائمہ کرام فرماتے ہیں کہ صلح اس صورت میں بھی جائز ہے اور مقصد جھگڑے کو ختم کرنا ہے۔ اور جیسا کہ اس آیت میں اللہ نے فرمایا کہ صلح ہی بہتر ہے۔ جب صلح کے لیے گفت و شنید ہوتی ہے تو ظاہر ہے کہ فریقین کو اپنے اپنے موقف میں لچک پیدا کرنی ہوگی۔ اور اس کی صورت یہی ہوتی ہے کہ ہر فریق اپنے حق میں کمی کرکے دوسرے کے حق کو تسلیم کرلے اور اس طرح کچھ لے کر اور کچھ دے کر معاملہ کو ختم کیا جاسکتا ہے میاں بیوی کا معاملہ اس آیت کا اصل موضوع ہے۔ تو یہاں پر بھی اگر عورت سمجھتی ہے کہ خاوند کا دل اس سے بھر گیا یا وہ اس سے خوش نہیں ہے ، تو اسے چاہیے کہ وہ خاوند کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لیے اپنے موقف میں لچک پیدا کرے ، اپنے کسی حق میں کمی کردے ، مثلاً اگر پہلے دو سوروپے خرچہ مقرر ہے تو اسے کم کرکے سو روپے کردے۔ یا مہر کا کچھ حصہ معاف کردے۔ یا کوئی دیگر مالی فائدہ پہنچائے جس سے خاوند کو بیوی کی وفاداری کا یقین دلایا جاسکے تو یہی چیز صلح کی بنیاد بن سکتی ہے اور فریقین کے درمیان جھگڑے کو ختم کیا جاسکتا ہے۔ صلح کی مثال حضرت خدیجہ ؓ کی وفات کے بعد حضور ﷺ نے حضرت سودہ ؓ سے نکاح کیا۔ چونکہ آپ زیادہ معمر تھیں کچھ عرصہ بعد حضور ﷺ نے ان کو علیحدہ کرنے کا ارادہ کیا۔ جب ام المومنین کو پتہ چلا تو انہوں نے عرض کیا حضور ! مجھے تو دنیاداری کی چنداں رغبت نہیں ، مجھے آپ طلاق نہ دیں ، میں اپنی باری کے متعلق پنا حق حضرت عائشہ ؓ کو دیتی ہوں ، آپ میری بجائے بھی اس کے ہاں ٹھہرا کریں۔ میں تو یہ چاہتی ہوں کہ قیمت کے دن میرا نام آپ کی ازواج میں شامل ہو۔ حضو رعلیہ السلام نے اس پیش کش کو قبول فرمایا۔ چناچہ آپ باقی بیویوں کے ہاں ایک ایک دن قیام فرمات تھے اور حضرت عائشہ ؓ کے ہاں دو دن۔ بہرحال یہ میاں بیوی کے درمیان مصالحت کی ایک اعلیٰ مثال ہے۔ یہاں پر یہ اصول مدنظر رہنا چاہیے ، کہ اگر عورت اپنا حق کسی وقت چھوڑتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ ہمیشہ کے لیے اس حق سے دست بردار ہوگئی ہے ، عورت مناسب وقت پر اپنے حق کو بحال کرنے کی بھی مجاز ہے۔ اگر کسی عورت نے کسی وقت اپنی باری کی قربانی دی ہے ، تو وہ اس کی بحالی کا مطالبہ بھی کرسکتی ہے ۔ بہرحال فرمایا کہ صلح ہی بہتر ہے اور علیحدگی کی نوت نہیں آنی چاہیے۔ حرص اور بخل عام طور پر جھگڑے کی بنیاد مالی معاملات ہوتے ہیں۔ ایک فریق دوسرے کا حق غصب کرتا ہے۔ یا اس کے حق میں کمی کرتا ہے تو دوسرے فریق کا رنجیدہ خاطر ہونا ایک فطری امر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں فرمایا ہے۔ ” انہ لحب الخیر لشدید یعنی مال کی محبت میں انسان بڑاپکا ہے۔ نیز یہ بھی فرمایا وتحبون المال حباً حباً تم مال کے ساتھ پوری پوری محبت کرتے ہو۔ یہی محبت حرص پیدا کرتی ہے اور پھر اگر یہ شدید تر ہوجائے تو بخل کو جنم دیتی ہے انسان مال اکٹھا کرنا تو اپنا حق سمجھتا ہے۔ مگر اسے خرچ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اس آیت میں بھی اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ صلح کی بنیاد عموماً مالی حقوق میں کمی یا دستبرداری ہوتی ہے مگر واحضرت الانفس الشح حاضر کی گئی ہے نفسوں کے پاس حرص اور بخل ، یعنی انسان فطری طور پر حریض اور بخیل واقع ہوا ہے۔ یہ مال سے محبت کرتا ہے لہٰذا اپنے حق میں کمی یا اس سے دست برداری کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے اس طرف توجہ دلائی ہے کہ مال سے اس قدر محبت نہ کرو کہ صلح کی بنیاد ہی ختم ہوجائے اگر ضرورت ہو تو مالی قربانی سے بھی دریغ نہ کرو کیونکہ مال آنی جانی چیز ہے اور اس کے مقابلے میں صلح اور حسن معاشرت بیش قیمت ہے۔ لہٰذا اپنے حقوق کی قربانی دے کر بھی اگر صلح کرنی پڑے۔ تو اس سے دریغ نہ کرو۔ مال کی محبت مال کی فطری محبت کے باوجود بزرگانِ دین اپنی تربیت کے ذریعے اس مادہ کو کم سے کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چناچہ زکوٰۃ اور صدقات و خیرات کی ادائیگی مال کی محبت میں کمی کا ایک ذریعہ ہے۔ اور جس شخص نے مال کی محبت پر قابو پا لیا ، وہ کامیاب ہوگیا قرآن پاک میں موجود ہے ” ومن یوق شح نفسہ فالئک ہم المفلحون “ جو شخص بخل سے بچا لیا گیا ، وہ کامیابی سے ہمکنار ہوگیا۔ حضور ﷺ کے سامنے ایک شخص نے دوسرے کی تعریف کی کہ وہ نیک آدمی ہے ، نماز روزے کا بڑا خیال رکھتا ہے۔ نوافل ادا کرتا ہے ، مگر اس میں بخل کا مادہ پایا جاتا ہے تو نبی (علیہ السلام) نے فرمایا ای دائٍ ادوء من البخل بخل سے بڑھ کر کون سی بیماری ہو سکتی ہے۔ یہ بہت بری خصلت ہے مومن کے ساتھ اس کی کوئی مناسبت نہیں۔ بہرحال فرمایا کہ انسان میں حرص اتنی زیادہ نہیں ہونی چاہئے۔ کہ وہ اللہ کے دین اور آخرت سے غافل ہوجائے۔ مال بلاشبہ انسان کی مجبوری ہے اس کی اپنی ترغیبات ہوتی ہیں۔ مگر اللہ کے بعض بندوں کی تربیت کی وجہ سے حرص کا مادہ بہت حد تک کم ہوجاتا ہے۔ چناچہ امام اوزاعی (رح) کا مقولہ ہے کہ میرے سامنے سونے کی ڈبی بھی رکھی ہو تو مجھے اس میں کچھ رغبت نہیں ہوتی۔ یہ اللہ کے خاص بندے ہوتے ہیں مگر فرمایا کہ عام طور پر انسان حرص اور بخل میں مبتلا ہوتے ہیں جو کہ ان کی فطری کمزوری ہے۔ نیکی اور تقویٰ فرمایا اگر کچھ لے دے کر صلح کی صورت پید ا ہوجائے تو یہ بھی درست ہے تاکہ زندگی کے دن خوش اسلوبی سے گزر جائیں۔ تاہم وان تحسنوا اگر تم نیکی کرو و تتقوا اور تقویٰ کی راہ اختیار کرو۔ کسی قسم کی زیادتی نہ کرو دوسرے فریق پر ناجائز دباؤ نہ ڈالو اور جس قدرممکن ہو ، عورت کو سہولت بہم پہنچاؤ ۔ فان اللہ کان بما تعلمون خبیراً تو اللہ تعالیٰ تمہارے امور سے باخبر ہے۔ اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں۔ تمہاری صلح و مخاصمت نیکی اور پرہیزگاری اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے وہ تمہارے کوائف سے بھی واقف ہے اور تمہاری ضرورتوں کو بھی جانتا ہے۔ اگر تم اپنی طرف سے دوسریف ریق کو رعایت دو گے ، تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے فضل سے بہت کچھ عطا کر دے گا اور پھر آخرت میں اس کا اجر تو بہت وسیع ہے۔ لہٰذا دوسرے کے ساتھ حتی الامکان حسن سلوک کی کوشش کیا کرو۔ اسی لیے فرمایا کہ خود نقصان اٹھا کر بھی اگر دوسرے کے ساتھ نیکی کرو اور پرہیزگاری اختیار کرو گے ، تو اللہ تعالیٰ سے بہتر اجر پاؤ گے۔ فطری میلان متعدد ازواج میں سے کسی ایک طرف زیادہ میلان بھی فطری امر ہے اور عام طور پر انسان خواہش کے باوجود اس کے خلاف نہیں جاسکتا۔ یہاں پر اللہ تعالیٰ نے اسی بات کو بھی دہرایا ہے۔ ولن تستطیعوا ان تعدلوابین النساء ولوحرصتم اور تم ہرگز طاقت نہیں رکھتے کہ عورتوں کے درمیان پورے طریقے سے انصاف کرسکو ، اگرچہ تم کتنی ہی حرص کرو۔ چاہنے کے باوجود عورتوں کے درمیان مکمل انصاف بڑا مشکل کام ہے۔ چناچہ نبی حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ خدا تعالیٰ کیق انون کے مطابق ظاہری طور پر اپنی بیویوں کی رہائش ، کھانے ، لباس اور لین دین میں برابری کی کوشش کرو۔ حضور ﷺ خود بھی اس پر عمل کرتے ہیں مگر ساتھ یہ دعا بھی فرمایا کرتے تھے کہ اے مولا کریم ! میں یہ کام اپنی طاقت کے مطابق انجام دے رہا ہوں ، اور جس معاملہ میں استطاعت نہیں رکھتا یعنی جو چیز میرے بس میں نہیں ہے اس میں میرا مؤاخذہ نہ کرنا کیونکہ ہو سکتا ہے کہ طبعی میلان کسی ایک طرف ہو جسے میں تقسیم نہ کرسکوں۔ اسی لیے فرمایا کہ تم خواہش کے باوجود عورتوں کے درمیان مکمل انصاف نہ کرسکو گے۔ مگر یادرکھو ! خدا تعالیٰ کا قانون یہ ہے فلا تمیلوا کل المیل کسی ایک طرف مکمل طور پر نہ جھک جاؤ ۔ کہیں ایسا نہ ہوا فتذروھا کا لمعلقۃ کہ دوسری بیوی کو درمیان میں لٹکتا چھوڑ دو ۔ نہیں ، بلکہ اس کے ساتھ تعلقات کو قائم رکھو اور اس کا حق بھی ادا کرو۔ ایک طرف بہت زیادہ رغبت ہو اور دوسری طرف بالکل نہ ہو۔ یہ عدل کے خلاف ہے ، اگر تھوڑا بہت فرق ہوگا تو اللہ تعالیٰ معاف فرمادیگا۔ حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کی دو بیویاں ہوں۔ اور اس نے ایک کے ساتھ التفات کیا اور دوسری کو نظر انداز کردیا تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس حالت میں پیش ہوگا کہ اس کا آدھا جسم فالج زدہ ہوگا۔ وہ گھسٹتا ہوا اللہ کی عدالت میں پیش ہوگا۔ کیونکہ اس نے بیویوں کے درمیان انصاف نہیں کیا۔ حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانویں کی دو بیویاں تھیں مگر اولاد سے محروم رہے۔ تاہم آپ بیویوں کے ساتھ سلوک میں نہایت محتاط تھے۔ جب کوئی چیز باہر سے آتی تو آپ ترازو سے تول کر برابر برابر تقسیم کرتے کہ کسی کے حصے میں کمی بیشی نہ ہوجائے۔ فرمایا عورتوں کے درمیان حتی الامکان عدل قائم کرنے کی کوشش کرو ان تصلحوا و تتقوا پھر اگر تم صلح کرو اور تقویٰ کی راہ اختیار کرو فان اللہ کان غفوراً رحیماً تو بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ وہ چھوٹی موٹی غلطیوں کو معاف فرما دے گا۔ تم بہرحال اصلاح کی پوری پوری کوشش کرو۔ علیحدگی کی صورت فرمایا اگر مصالحت کے تمام راستے مسدود ہوجائیں اور اکٹھا رہنے میں حدود اللہ کی خلاف ورزی کا احتمال ہو ، تو پھر علیحدگی بہتر ہے وان یتفرقا اگر میاں بیوی جدا ہوجائیں ، طلاق کی نوبت آجائے تو شریعت محمدی میں یہ بھی روا ہے۔ طلاق کو اس قدر اَنا کا مسئلہ نہ بنالیا جائے کہ ایک دوسرے کی جان کے درپے ہوجاؤ ، بلکہ اسے بھی اللہ کی مشیت سمجھ کر قبول کرلو۔ اللہ تعالیٰ اس میں بھی بہتری پیدا کردیں گے فرمایا یغن اللہ کلاً من سعتہ اللہ تعالیٰ فریقین کو اپنی وسعت سے مستغنی کر دیگا ۔ اگر علیحدگی نیک نیتی اور اصلاح کے ارادے سے ہوئی ہے تو اللہ تعالیٰ اور مرد ہر دو کے لیے کوئی دوسراراستہ پیدا فرما دے گا جس سے ان دونوں کی زندگی بہتر طور پر بسر ہو سکے۔ لہٰذا علیحدگی کی صورت میں بالکل بددل نہیں ہوجانا چاہئے۔ بلکہ اپنی اصلاح کرنی چاہئے اور آئندہ زندگی کے لیے بہتر لائحہ عمل تجویز کرنا چاہئے وکان اللہ واسعاً حکیماً اور اللہ تعالیٰ بڑی وسعت والا حکمت والا ہے۔ وہ مسب الاسباب ہے۔ تمام اسباب اس کے قبضہ قدرت میں ہیں ، وہ تمہارے لیے کوئی بہتر صورت پیدا کر دے گا۔
Ayahs 4:131–134

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ لَقَدْ وَصَّیْنَا الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَ اِیَّاكُمْ اَنِ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ وَ اِنْ تَكْفُرُوْا فَاِنَّ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ غَنِیًّا حَمِیْدًا Open ayah 4:131 in the Quran reader

اور اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور البتہ تحقیق ہم نے تاکیدی حکم دیا ہے ان لوگوں کو جن کو کتاب دی گئی ہے تم سے پہلے اور تم کو بھی یہی حکم دیا جاتا ہے کہ ڈرتے رہو اللہ تعالیٰ سے اور اگر تم کفر کرو گے پس بیشک اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ اور اللہ تعالیٰ غنی (بےپروا) ہے اور تعریفوں والا ہے

وَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا Open ayah 4:132 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کارساز

اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ اَیُّهَا النَّاسُ وَ یَاْتِ بِاٰخَرِیْنَ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى ذٰلِكَ قَدِیْرًا Open ayah 4:133 in the Quran reader

اگر چاہے تو لے جائے تم کو (یعنی فنا کر دے) اے لوگو ! اور لائے دوسروں کو۔ اور اللہ تعالیٰ اس پر قدرت رکھتا ہے

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ ثَوَابَ الدُّنْیَا فَعِنْدَ اللّٰهِ ثَوَابُ الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِیْعًۢا بَصِیْرًا۠ Open ayah 4:134 in the Quran reader

جو شخص چاہتا ہے تم میں سے دنیا کا ثواب۔ پس اللہ کے نزدیک ہے ثواب دنیا کا اور آخرت کا۔ اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے ولا اور ہر چیز کو دیکھنے والا ہے

ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں ، یتیم بچیوں اور کمزور طبقات کے حقوق کا ذکر فرمایا ، پھر میاں بیوی کے درمیان نزاع کی صورت میں صلح کرنے کا حکم دیا۔ پھر فرمایا کہ اگر عورت سمجھتی ہے کہ خاوند اعراض کر رہا ہے تو وہ اپنے حقوق میں کمی کر کے خاوند کو صلح پر آمادہ کرسکتی ہے تاکہ ان کے درمیان نباہ کی صورت پیداہ و سکے۔ متعدد بیویوں کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہر طرح سے انصاف قائم رکھنے کی تاکیدفرمائی ، اللہ نے اس بات سے منع فرمایا کہ کسی ایک عورت کی طرف مکمل جھکاؤ ہو۔ اور دوسری کو لٹکتا ہوا چھوڑ دیاجائے ، فرمایا قانون کے مطابق ہر ایک کے ساتھ عدل قائم کرنا چاہئے۔ اس کے باوجود اگر کوئی خامی رہ جائے تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔ فرمایا اگر میاں بیوی میں نباہ کی کوئی صورت نظر نہ آئے اور علیحدگی تک نوبت آجائے تو وہ بھی خوش اسلوبی سے انجام پانی چاہئے۔ طلاق کو ایک مستقل دشمنی کی صورت نہیں دینی چاہئے بلکہ عورت اور مرد اسی معاشرے کے افراد ہیں ہر ایک کے کچھ حقوق و فرائض ہیں جنہیں ادا کرنا چاہیے ، اگر علیحدگی نیک نیتی اور اصلاح کی خاطر ہوئی ہے تو اللہ تعالیٰ دونوں کے لیے وسعت پیدا فرما دیگا۔ اور باقی ماندہ زندگی کے گزران کیلئے بہتر وسائل پیدا کر دیگا۔ تقویٰ کی تاکید آج کی آیات میں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔ قرآن پاک کا یہ اسلوبِ بیان ہے کہ جہاں بھی احکام ، اصول اور قوانین کا ذکر آتا ہے اس کے بعد تقویٰ جیسی بنیادی چیز کی تاکید کی جاتی ہے اس قسم کی ترغیب سے انسان میں تعمیلِ حکم کا احساس پیدا ہوتا ہے۔ اور اس کے لیے احکام شریعت پر عمل کرنا آسان ہوجاتا ہے۔ دوسری چیز جو اللہ تعالیٰ ایسے مواقع پر دہراتے ہیں وہ اس کی صفات ہیں… اور ان کے بیان سے مقصودیہ ہوتا ہے کہ اگر تعمیلِ حکم میں کوئی کوتاہی رہ گئی تو اللہ تعالیٰ ان صفات کا مالک ہے وہ تمہیں سزا دینے پر قادر ہے ، لہٰذا اس کے احکام کی تعمیل میں کسی قسم کی حجت بزی نہیں ہونی چاہیے انسان میں احساسِ ذمہ داری پیدا کرنے کا یہ بھی ایک ذریعہ ہے۔ یہی وہ چیز ہے جسے تقویٰ کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اگر انسان میں تقویٰ پیدا ہوجائے تو اس کے لیے حکم کی تعمیل نہایت آسان ہوجاتی ہے۔ لہٰذا تمام چیزوں کا اصل الاصول تقویٰ ہے۔ سورۃ نساء کی ابتداء میں عورتوں اور دیگر کمزور طبقات یتیموں وغیرہ کے حقوق کا ذکر ہے ، لہٰذا وہاں بھی مضمون کی ابتدا اسی لفظ تقویٰ سے ہوتی ہے۔ ” یایھا الناس اتقوا ربکم “ اے لوگو ! اپنے رب سے ڈر جاؤ ۔ اب آج کی آیات میں بھی تخلیق کائنات کا بار بار ذکر کرنے کے ساتھ تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ فرمایا وللہ ما فی السموٰت و ما فی الارض اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ درحقیقت تمام چیزوں کا مالک اور متصرف اللہ تعالیٰ ہے ارض و سما کی ہرچیز اسی کی پیدا کردہ ہے لہٰذا یاد رکھو ولقد وصینا الذین اوتوا لکتب ہم نے تاکیدی طور پر حکم دیا تھا ان لوگوں کو جنہیں کتاب دی گئی من قبلکم تم سے پہلے یعنی یہود و نصاری۔ ان کو بھی یہی حکم تھا وایاکم اور تمہیں بھی حکم دیا جا رہا ہے ان اتقوا اللہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ اگر تم میں خوفِ خدا پیدا ہوجائے گا تو اس مالک الملک کے احکام کی خلاف ورزی نہیں ہوگی ، تم کسی کے ساتھ ناانصافی نہیں کرسکو گے ، کسی کا حق تلف نہیں کرو گے اور کسی پر زیادتی نہیں کرو گے۔ تقویٰ سے مراد خوفِ خدا ہے اور جب یہ چیز پیدا ہوجاتی ہے تو انسان کفر ، شرک ، الحاد اور دیگر تمام گندے عقیدوں سے متنفر ہو کر معاصی سے بچ جاتا ہے کامل تقویٰ کا حامل انسان کبائر کے علاوہ صغائر اور مشتبہ چیزوں سے بھی بچتا رہتا ہے۔ حرام سے بچنا تو بہرصورت لازم ہے ورنہ تقویٰ حاصل نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر معاملہ میں شرعی حدود قائم کردیئے ہیں جو شخص ان حدود کی حفاظت کرے گا ، وہی منصب تقویٰ پر فائز ہوگا۔ آخرت میں اچھے ثمرات کا انحصار تقویٰ پر ہے۔ اگر انسان متقی ہے تو اس کا اخلاق ، نیک اعمال اور اعلیٰ اطوار اسے دنیا میں بھی سرخرو کریں گے اور آخرت میں تو اس کے لیے اجر عظیم ہوگا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے کی بار بار تاکید فرمائی ہے۔ اہل کتاب اور تقویٰ جیسا کہ اس آیت کریمہ سے واضح ہے ، اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب کو بھی ویسے ہی تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا ہے ، جس طرح اس امت محمدیہ کو دیا گیا ہے۔ مگر انہوں نے اللہ کے حکم کی تعمیل کی بجائے اپنے عقائد ہی بگاڑ لیے ہیں۔ قرآن پاک کہتا ہے کہ مدار فلاح تقویٰ ہے مگر عیسائی کہتے ہیں کہ کامیابی کا مدار محبت پر ہے۔ وہ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ چونکہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق سے بیحد محبت کرتا ہے اس لیے وہ سب کچھ خود ہی معاف کر دیگا۔ لہٰذا ہمیں کسی محنت کی ضرورت نہیں ہے۔ برخلاف اس کے انجیل کی اصلی تعلیم قرآن پاک سے ہی مطابقت رکھتی ہے۔ وہاں پر آج بھی ایسی آیات موجود ہیں جن میں انسان کو مخاطب کر کے فرمایا گیا ہے کہ اے ابن آدم ! تم اس ذات سے ڈرو جو روح اور جسم دونوں کو جہنم میں ڈال سکتی ہے۔ مگر عیسائیوں نے تقویٰ کا عقیدہ پس پشت ڈال کر انبیت اور کفارے کا عقیدہ وضع کرلیا اور عمل اور تقویٰ کو فراموش کر بیٹھے۔ فرمایا ہم نے اہل کتاب اور اہل ایمان سب کو حکم دیا کہ تقویٰ کی راہ اختیار کریں اور ساتھ یہ بھی فرما دیا وان تکفروا اگر تم انکار کروگے ، کفر کے راستے پر چل نکلوگے تو سن لو فان للہ ما فی السموت و ما فی الارض پس بیشک اللہ ہی کے لیے ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ ہر چیز کا خالق ، مالک اور متصرف وہی ہے۔ وکان اللہ غنیا حمیداً اللہ تعالیٰ بےپروا ہے اور ہر حالت میں تعریفوں والا ہے۔ بادشاہی اللہ کی ہے پھر تاکیداً فرمایا واللہ ما فی السموت و ما فی الارض یاد رکھو ! اللہ تعالیٰ ہی کا ہے ، جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وکفی باللہ وکیلاً اور کافی ہے اللہ تعالیٰ کارساز ، ان آیات میں للہ… فی الارض تین دفعہ دہرایا گیا ہے۔ شاہ عبدالقادر محدث (رح) فرماتے ہیں کہ پہلی بار نازل ہونیوالے اس کلمہ کا تعلق اللہ تعالیٰ کی صفت وسعت کے ساتھ ہے۔ اس سے گزشتہ آیت کے آخری الفاظ تھے وکان اللہ واسعاً حکیماً تو اسی صفتِ وسعت کے ساتھ ہی آج کی پہلی آیت کی ابتدا و للہ ما فی المس موت و ما فی الارض سے ہوئی ہے فرمایا چونکہ زمین و آسمان کی ہر چیز کا خالق ومالک اللہ تعالیٰ ہے۔ لہٰذا کائنات جیسی وسیع تخلیق میں اللہ تعالیٰ کی صفت وسعت ہی کارفرما ہے۔ شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ آیت کے اگلے حصے میں مذکورہ جملے کا تعلق تکفرو کے ساتھ کہ اس سے فوراً پہلے یہی لفظ آیا ہے اور اس سے مقصود یہ یاد دلانا ہے کہ دیکھو ! دنیا جہاں کی ہرچیز پر تصرف فقط اللہ تعالیٰ کو ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ تو ان حالات میں تم اس کا کفر یعنی انکار کر کے کہاں جاسکتے ہو ، بادشاہی تو اسی کی ہے ، اس کی سلطنت سے بھاگ کر کہاں جائے پناہ تلاش کرو گے ، لہٰذا کفر کر کے تم اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔ وکان اللہ غنیاً حمیداً اللہ ہر چیز سے مستغنی ہے کوئی اس کی تعریف کرے یا نہ کرے ، وہ بہرحال سب تعریفوں کا مالک ہے۔ اس جملے کی تیسری آیت کے متعلق شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کی صفت کارسازی سے ہے جیسا کہ آج کے درس کی دوسری آیت میں پھر آیا ہے واللہ ما فی السموت و مافی الارض چناچہ اس آیت میں یہ جملہ دہرانے کے عبد فرمایا وکفی باللہ وکیلاً مقصد یہ ہے کہ پوری کائنات یعنی زمین ، آسمان ، چاند ، سورج ، ستارے ، سیارے غرضیکہ ہر چیز کا مالک وہی مالک الملک ہے اور اس میں بسنے والے ہر انسان ، جن ، فرشتے ، چرند ، پرند ، کیڑے مکوڑے وغیرہ کا کام بنانے والا بھی وہی ہے۔ لہٰذا جو شخص اللہ تعالیٰ کے احکام کو بجا لائے گا ، اللہ تعالیٰ اس کے کام دنیا میں بھی ٹھیک بنا دیگا اور آخرت میں بھی اسے بیشمار انعامات سے نواز دے گا ، کیونکہ کارساز وہی ہے۔ اسی لیے سورة مزمل میں اسی کو کارساز پکڑنے کا حکم ہے ” لا الہ الا ہو واتخذہ وکیلاً “ اس کے سوا کوئی معبود نہیں ، لہٰذا کار ساز بھی اسی کو سمجھو اور اسی پر بھروسہ رکھو ، کام بنانیوالا صرف وہی ہے۔ معبود برحق صرف اللہ ہے اللہ تعالیٰ نے اپنی ان صفات کا تذکرہ فرما کر معبودان باطلہ کی نفی کردی ہے جب مالک و مختار ، قادر مطلق ، کارساز اور علیم کل اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ تو پھر اس کے علاوہ معبود بھی کوئی نہیں ہو سکتا۔ مگر سب کچھ جاننے کے باوجود غیر اللہ کی پوجا کرنے والے لوگ موجود ہیں کوئی زمین کی پرستش کر رہا ہے کوئی آسمان کروّں چاند سورج کا پرستار ہے اور کوئی حقیر سے حقیر چیز کا پجاری بنا بیٹھا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد (رح) نے ایک بڑا عجیب فقرہ لکھا ہے۔ فرماتے ہیں کہ انسانی فکروذہن بھی عجیب چیز ہے ، جب وہ ماننے پر آتا ہے تو گوبر جیسی ناپاک چیز کو پوجنے لگتا ہے اور جب انکار کرنے پر آئے تو اللہ کے برگزیدہ پیغمبر نوح (علیہ السلام) پر پتھر برسانے لگے۔ ہندو اسی ذہنیت کے ملاک ہیں۔ وہ گائے کے گوبر کو پوتر (پاک) سمجھتے ہیں اور ناپاک چیز کو اسی کے ذریعہ …پاک کرتے ہیں۔ وہ اپنے باورچی خانے میں گوبر اور پیشاب کا چوکا دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ الٰہ صرف وہی ہے ، باقی تمام مخلوق اس کے سامنے عاجز و بےبس ہے۔ سورة فاطر میں صاف موجود ہے ” یایھا الناس انتم الفقراء الی اللہ واللہ ہو الغنی الحمیدٌ غنی صرف خدا کی ذات ہے باقی سب اس کے محتاج ہیں۔ صمد وہی ہے وہ بےنیاز ہے ، جو چاہے کرتا ہے ، حاجت روا اور مشکل کشا بھی وہی ہے۔ کوئی فرشتہ نبی ، جن یا کوئی قبر والا حاجت روا اور مشکل کشا نہیں ہو سکتا۔ وہ تو مخلوق ہیں اور اللہ کے سامنے محتاج ہیں۔ اس کے باوجود جو لوگ امداد کے لیے غیروں کو پکارتے ہیں۔ ان کی بیوقوفی کا اظہار بھی اسی آیت سے ہوتا ہے وللہ ما فی السموت و ما فی الارض اللہ تعالیٰ تو سورة الرحمن میں فرماتا ہے ” یسلہ من فی السموت والارض “ زمین و آسمان کا ہر فرد اسی کے دروازے کا سوالی ہے کائنات کی ہر چیز زبان حال یا زبان قال سے اللہ تعالیٰ ہی سے مانگنے والی ہے۔ درختوں کے پتے اسی کے سامنے ہاتھ پھیلائے کھڑے ہیں۔ تمام نباتات کی جڑیں اپنی ضروریات کی چیزیں اسی سے طلب کرتی ہیں۔ اللہ کے مقرب فرشتے اور اس کے مقربین بندے اسی کے سوالی ہیں ، اسی کا تقرب اور اسی کے انعامات کے طلب گار ہیں۔ مگر مشرک انسان ستاروں اور سیاروں کے علاوہ مکھی مچھر تک کی پوجا کر رہے ہیں اور اپنی حاجات ان کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ حالانکہ اس آیت سے صاف سمجھ آ رہی ہے کہ جب زمین و آسمان کی ہر چیز اسی کی ملکیت ہے تو پھر سوالوں کو پورا کرنے والا بھی وہی ہے اس کے علاوہ نہ کوئی حاجت روا ہے اور نہ مشکل کشا۔ مخلوق کی تبدیلی اللہ تعالیٰ نے اپنی مذکورہ صفات کے اظہار کے بعد فرمایا کہ جو ذات خالق ، مالک اور مختار کل ہے ان یشا یذہبکم ایھا الناس اگر وہ چاہے تو نہیں لے جائے ، اٹھا لے ، اس دنیا سے نیست ونابود کر دے ویات باخرین اور دوسروں کو لے آئے۔ اگر سب لوگ اس وحدہ لاشریک ہستی کا انکار کرنے لگیں تو اس کو اختیار حاصل ہے کہ اس مخلوق کو صفحہ ہستی سے مٹاکر کوئی دوسری مخلوق لے آئے یا کسی خاص علاقے کے منکرین کی جگہ متبعین کو کھڑا کر دے۔ چناچہ جب عربوں نے نبی آخر الزمان کا انکار کیا تو اللہ نے ان کی جگہ عجمی ایمان والوں کو لاکھڑا کیا۔ اور جب مشرکینِ مکہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلّم کی نبوت کا انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے انصار مدینہ کو آپ پر ایمان لانے والے بنا دیا۔ جب عباسیوں نے انکار کیا تو اللہ نے ان کی جگہ مغلوں کو کھڑا کردیا کہ دین کے پاسبان تم بن جاؤ ۔ اگر پاکستانی دین پر عمل پیرا نہیں ہوں گے تو خدا تعالیٰ ان کی جگہ کسی دوسری مخلوق کو لے آئے گا اور موقع ملنے کے باوجود اور وسائل کے ہوتے ہوئے دین سے اعراض کی وجہ سے یہ لوگ لعنت کے مستحق بن جائیں گے۔ وکان اللہ علی ذلک قدیراً اور خدا تعالیٰ ایسا کرنے پر قدرت رکھتا ہے وہ قادر مطلق ہے ، جو چاہے سو کرے ، اس کی مشیت کے سامنے سب عاجز ہیں۔ لہٰذا اگر اہل وطن ملک و ملت کی کوئی خدمت کرسکیں تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کریں کہ اس نے توفیق بخشی اور اگر اس کی نافرمانی کریں گے تو وہ بےنیاز ہے ، اسے کسی کی کچھ پروا نہیں ، وہ جب چاہے ایک جماعت کی جگہ دوسری جماعت کو لے آئے۔ طلبِ دنیا آگے اللہ تعالیٰ نے مخصوص انداز میں دنیا اور آخرت کا موازنہ کیا ہے اور اشارتاً یہ بات سمجھائی ہے کہ اس دنیا کی زندگی محدود ہے اور اصل دائمی زندگی آخرت کی زندگی ہے ، لہٰذا اس دنیا کی بجائے آخرت کی بہتری کے لیے کوشش اور محنت کرنی چاہئے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ من کان یرید ثواب الدنیا جو لوگ دنیا کی زندگی پسند کرتے ہیں اور اس عارضی زندگی کی نعمتوں تک ہی محدود رہنا چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ، وہ دنیا کی ہر نعمت عطا کرنے پر قادر ہے۔ مگر یاد رکھو ! فعند اللہ ثواب الدنیا والاخرۃِ اللہ کے پاس تو دنیا و آخرت دونوں جگہ کی نعمتیں موجود ہیں۔ ہر طالبکو اس کی مطلوبہ چیز ہی ملتی ہے۔ سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں ” ربنا اتنا فی الدنیا “ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اس دنیا میں ہی عطا کر دے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ایسے لوگوں کے لیے آخرت میں کچھ حصہ نہیں ہوگا۔ پھر دوسرے گروہ کا تذکرہ فرمایا جو کہتے ہیں ” ربنا اتینا فی الدنیا حسنۃ و فی الاخرۃ حسنۃً وقنا عذاب النار “ اے مولاکریم ! ہمیں اس دنیا میں بھی بہتری عطا فرما اور آخرت میں بھی اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا لے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسے لوگوں کا حصہ ان کی طلب کے مطابق ہی ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے سورة دہر میں فرمایا کہ انسان جلد باز ہے ، وہ اسی دنیا میں سب کچھ حاصل کرنا چاہتا ہے ” ان ہولاء یحبون العاجلۃ ویذرون ورائہم یوماً ثقیلاً “ اور قیامت کے بھاری دن کو پیچھے چھوڑ دیتے یعنی اس کی کچھ فکر نہیں کرتے جو لوگ اس دنیا کے مال و اسباب ، عیش و راحت کے طلبگار ہوتے ہیں وہ اگلی دنیا میں کچھ حصہ نہیں پاتے۔ اور جو لوگ دنیا اور آخرت دونوں جگہ بہتری چاہتے ہیں۔ انہیں دونوں جگہوں کے انعامات سے سرفراز کیا جاتا ہے۔ ایسے لوگوں کو یقینا ان کی سعی کا بدلہ ملیگا۔ دنیا اور عاقبت کے لیے دو مختلف قانون ہیں۔ یہاں پر صرف اتنی بات سمجھا دی ہے کہ اللہ کے پاس دنیا کی زندگی کا بدلہ بھی ہے اور آخرت کی زندگی کا بھی۔ لہٰذا صرف دنیا کے مال و اسباب میں الجھ کر نہ رہ جاؤ بلکہ آخرت کی دائمی زندگی کا بھی سامان پیدا کرو۔ ظاہر ہے کہ ایمان ، تقویٰ اور نیکی کا اصل ثمرہ اور محل آخرت ہے لہٰذا دائمی چیز کو چھوڑ کر عارضی چیز کے پیچھے نہ پڑو یہ عقلمندی کی بات نہیں۔ یہ ترغیب بھی ہوگئی اور ترہیب بھی۔ وکان اللہ سمیعاً بصیراً اور بیشک اللہ تعالیٰ ہر دعا کو سنتا ہے اور تمہاری حرکات و سکنات کو دیکھ رہا ہے۔ لہٰذا تقویٰ کی راہ اختیار کرنی چاہئے۔ کفر ، شرک اور معاصی سے بچنا چاہئے اور اسی سے امید وابستہ رکھنی چاہئے۔
Ayah 4:135

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَآءَ لِلّٰهِ وَ لَوْ عَلٰۤى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَیْنِ وَ الْاَقْرَبِیْنَ١ۚ اِنْ یَّكُنْ غَنِیًّا اَوْ فَقِیْرًا فَاللّٰهُ اَوْلٰى بِهِمَا١۫ فَلَا تَتَّبِعُوا الْهَوٰۤى اَنْ تَعْدِلُوْا١ۚ وَ اِنْ تَلْوٗۤا اَوْ تُعْرِضُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرًا Open ayah 4:135 in the Quran reader

اے ایمان والو ہوجاؤ قائم رہنے والے انصاف پر گواہی دینے والے ہو اللہ تعالیٰ کے لیے اگرچہ تمہارے نفسوں کے خلاف ہو یا ماں باپ یا قرابت داروں کے خلاف ہو (جس پر گواہی دی گئی ہے) اگر وہ مالدار ہے یا محتاج ہے ، پس اللہ زیادہ بہتر ہے ان دونوں کے ساتھ۔ پس نہ پیروی کرو خواہش کی اس بات سے کہ تم انصاف کرنا چھوڑ دو اور اگر تم زبان کو پھیرو گے یا اعراض کروگے ، پس بیشک اللہ تعالیٰ جو کچھ تم کام کرتے ہو اس کی پوری طرح خبر رکھنے والا ہے

ربط آیات گزشتہ آیات میں میاں بیوی کے درمیان تنازعہ کا ذکر تھا اور اس ضمن میں انصاف کو ملحوظ رکھتے ہوئے صلح کرنے کی ترغیب دی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ نے تقویٰ اختیار کرنے کا حکم دیا تھا ، پھر فرمایا کہ اگر زوجین کے درمیان علیحدگی کی نوبت آجائے تو بھی رنجیدہ خاطر نہیں ہونا چاہئے ، اللہ تعالیٰ ان میں سے ہر ایک کی کفایت کریگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تقویٰ اختیار کرنے کا حکم تم سے پہلے لوگوں کو بھی دیا گیا تھا اور تمہیں بھی یہی حکم دیا جو رہا ہے۔ دراصل تقویٰ ہی مدار فلاح ہے۔ اب آج کی آیت میں انصاف ہی سے متعلق شہادت کا مسئلہ بیان فرمایا گیا ہے اور عدل و انصاف کے قیام کے لیے ٹھیک ٹھیک گواہی دینے کی تلقین کی گئی ہے۔ حق کی گواہی ارشاد ہوتا ہے یایھا الذین امنوا اے ایمان والو ! کونوا قومین بالقسط ہوجاؤ قائم رہنے والے انصاف پر۔ قوامین قوام کی جمع ہے جس کا معنی قائم رہنے والا ، نگرانی کرنیوالا یا حفاظت کرنے والا ہوتا ہے۔ اس سورة میں یہ لفظ پہلے بھی آ چکا ہے ” الرجال قومون علی النسائ “ تو فرمایا قائم رہنے والے بن جاؤ انصاف پر۔ قسط اور عدل دونوں انصاف کے معنوں میں استعمال ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انصاف کے قانون کو اختیار کرنے کا حکم دیا ہے اور انصاف کا زیادہ تر دارو مدار شہادت پر ہوتا ہے۔ اس لیے فرمایا شہداء للہ اللہ کے لیے گواہی دینے والے بن جاؤ ۔ مالک الملک ، قادر مطلق ، علیم کل اور معبود برحق چونکہ اللہ تعالیٰ ہی ہے لہٰذا اس کی رضا جوئی کے لیے سچی اور ٹھیک ٹھیک گواہی دو ۔ اور اس معاملے میں کسی اپنے یا بیگانے کی رُو رعایت نہ رکھو۔ گواہی صحیح دو ولو علی انفسکم اگرچہ یہ تمہارے نفسوں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو ، یعنی ایسا کرنے میں تمہارا ذاتی نقصان ہی کیوں نہ ہو۔ اوالوالدین یا تمہارے والدین کے خلاف ہی کیوں نہ ہو والا قربین یا تمہارے قرابتداروں اور رشتہ داروں کے خلاف ہی کیوں نہ ہو گواہی بہرحال سچی دو اور حق و انصاف کے دامن کو نہ چھوڑو۔ پھر فرمایا کہ مشہود علیہ (جس کے خلاف گواہی دی جا رہی ہے) کی حیثیت کو بھی خاطر میں نہ لاؤ ۔ ان یکن غنیاً اوفقیراً وہ خواہ غنی ہے ، صاحبِ حیثیت ہے یا فقیر اور محتاج ، گواہی کے معاملہ میں کسی قسم کی رعایت کی اجازت نہیں۔ مقصد یہ ہے کہ اگر مشہود علیہ صاحب ثروت ہے ، کوئی بڑا آدمی ہے تو اس سے مرعوب ہو کر اس کی رعایت نہ کرو اور اگر مشہود علیہ غریب اور کمزور ہے تو اس پر ترس کھا کر اس کی رعایت نہ کرو بلکہ جہاں تک شہادت کا تعلق ہے اسے ٹھیک ٹھیک من و عن ادا کر دو ۔ کیونکہ فاللہ اولیٰ بھما تمہاری نسبت خدا ان دونوں فریقین کے ساتھ زیادہ مہربان ہے۔ وہ کسی کو جائز حق سے محروم نہیں رکھتا۔ اگر ان میں سے کسی فریق کی امداد کی ضرورت ہوگی تو اللہ تعالیٰ خود اس کے اسباب پیدا فرما دیگا۔ تم ان کی ہمدردی کی وجہ سے گواہی میں کمی بیشی نہ کرو۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے قانونش ہادت اس سورة کے علاوہ سورة مائدہ اور سورة حدید میں بھی بیان فرمایا ہے۔ اسلام میں قانونِ شہادت کو بڑی اہمیت حاصل ہے اور اسی پر فیصلے کا دارومدار ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” ولا تکتموا الشہادۃ “ گواہی کو مت چھپاؤ ۔ شہادت کو چھپانے والا سخت گنہگار ہے۔ کسی شخص پر ظلم ہوتا دیکھ کر دوسرا شخص خاموش رہے تو وہ خود مجرم بن جائے گا۔ حضور ﷺ نے فرمایا بہترین گواہ وہ ہے جو بغیر مطالبہ کے ٹھیک ٹھیک گواہی دے دے ، اور بدترین گواہ وہ ہے جس سے شہادت دینے کا مطالبہ کیا جائے تو وہ جھوٹی گواہی دے دے۔ اسی لیے سچی شہادت دینے کی ترغیب دی گئی ہے اور جھوٹی گواہی کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ رفع التظالم شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی مشہور زمانہ کتاب 1 ؎ حجۃ اللہ البالغہ میں لکھتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) کی بعثت کے مقاصد میں سے ایک اہم مقصد رفع التظالم من بین الناس بھی ہے۔ یعنی لوگوں کے درمیان سے ظلم کو مٹانا سارے نبیوں کا دستور العمل رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو لوگوں کی اصلاح کے لیے مبعوث فرمایا اور سب سے اولین اصلاح عقیدے کی اصلاح ہے۔ چناچہ تمام انبیائے کرام اصلاح عقیدہ کو اولیت دیتے رہے۔ لوگوں کو کفر ، شرک اور معاصی سے پاک کر کے انہیں توحید ، ایمان اور اخلاص کی دعوت دیتے رہے۔ اس کے بعد انبیاء کے مشن میں یہ بات رہی کہ ظلم مٹا کر عدل و انصاف کی فضا قائم کریں حضور خاتم النبیین (علیہ السلام) کے زمانہ میں مشرق و مغرب میں ظلم کا دور دورہ تھا ، اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلّم کی وساطت سے اسے ختم کیا اور انصاف کا بول بالا ہونے لگا۔ ایک مومن کے دوسرے مومن پر کچھ حقوق و فرائض ہیں لاظلمہ ولایخذلہ ایک مومن دوسرے مومن پر نہ خود ظلم کرتا ہے اور نہ اس پر ظلم کو برداشت کرتا ہے بخاری شریف میں حدیث قدسی میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ، اے بنی آدم ! انی حدمت الظلم علی نفسی میں نے اپنی ذات پر ظلم کرنا حرام قرار دے دیا ہے۔ وجعلتہ حراماً بینکم اور تمہارا آپس کا ایک دوسرے پر ظلم بھی حرام کردیا ہے۔ فلا تظالموا پس کسی پر زیادتی نہ کیا کرو۔ قرآن پاک میں اللہ کا فرمان ہے ” وما ربک بظلامٍ للعبد “ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا۔ دوسرے مقام پر فرمایا ” ان اللہ لا یظلم مثقال ذرۃٍ اللہ تعالیٰ ذرہ بھر بھی کسی کے ساتھ زیادتی نہیں کرتا۔ بہرحال یہاں پر بھی اللہ تعالیٰ نے عدل و انصاف کی دعوت دی ہے۔ اور ظلم و زیادتی سے روکا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان بھی ہے انصر اخاک ظلماً اومظلوماً اپنے بھائی کی مدد کرو ، خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم۔ لوگوں نے عرض کیا ، حضور ! مظلوم کی مدد کرنا تو سمجھ آتا ہے مگر ظالم کی مدد کیسے ہو سکتی ہے ، فرمایا تکفوا عن الظلم اسے ظلم کرنے سے روک دو یہی اس کی مدد ہے۔ غرضیکہ ظلم سے روکنا بھی اتناہی ضروری ہے جتنا خود ظلم سے اجتناب کرنا۔ اگر لایظلم کی روح معاشرے میں زندہ ہو تو پھر کسی سے زیادہ نہیں ہو سکتی۔ ہر ظالم ہاتھ کو مظلوم کی طرف بڑھنے سے روکنا ہوگا۔ اور یہ جذبہ اس وقت پیدا ہوگا جب انسان میں ایمان اور تقویٰ کا عنصر موجود ہوگا۔ جب تک یہ جذبہ موجود رہا ، مسلمان آدھی دنیا پر حکمران رہے ، مگر جب یہ روح ختم ہوگئی تو اپنے ملک بھی چن گئے ، غلامی آگئی اور لوگوں کے اخلاق بگڑ گئے ” وقاتلوا الذین یلونکم “ کا یہی مطلب ہے کہ جہاں کہیں ظلم ہوتا ہو ، قریب والا فوراً مداخلت کرے اور ظلم کی بیخ کنی کرے مگر آج مسلمان سے یہ جذبہ ختم ہوچکا ہے جس کی وجہ سے ہر جگہ ذلت و ناکامی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو رہا ہے۔ قیامِ عدل عدل و انصاف کی ذمہ داری محض حکام عدلیہ پر ہی عاید نہیں ہوتی بلکہ تمام مومنین کا بھی فرض ہے کہ انصاف کی ترویج میں معاونت کریں۔ شہادت کے معاملہ میں بھی جب تک گواہ ٹھیک ٹھیک گواہی دینے میں اپنی ذمہ داری کا احساس نہیں کریں گے اس وقت تک انصاف کا قیام مشکل ہے۔ سورة حجرات میں موجود ہے ” انما المومنون اخوۃٌ “ یعنی تمام مسلمان بھائی بھائی ہیں اور پھر یہ بھی ہے کہ اگر دو مومن بھائیوں کے درمیان جھگڑا ہوجائے ” فاصلحوا بینھما بالعدل “ تو ان کے درمیان عدل و انصاف کی رو سے مصالحت کرا دیا کرو۔ ام سلمہ ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ حاکم کا فرض ہے کہ فریقین مقدمہ کے درمیان برابری کا سلوک کرے اور کسی کے ساتھ ترجیح نہ برتے اور نہ کسی کے ساتھ رو روعایت کرے حتیٰ کہ کسی ایک فریق کی طرف آنکھ یا ہاتھ کا اشارہ بھی نہ کرے۔ امام ابوبکر جصاص (رح) نے حضرت علی ؓ کی روایت نقل کی ہے۔ اور صاحب تفسیر مظہری (رح) نے امام اسحاق ابن راہویہ ؓ کے حوالے سے بیان کیا ہے۔ کہ حضرت علی ؓ نے کہا کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ فریقین میں سے کسی ایک کی دعوت نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے سے ترجیح لازم آئے گی جو کہ روا نہیں۔ فرماتے ہیں کہ دونوں فریقوں کے درمیان بیٹھنے حتیٰ کہ آواز بلند کرنے میں بھی مساوات قائم رکھیں۔ اگر ایک کے ساتھ درشتی سے بات کی ہے اور دوسرے کے ساتھ نرمی سے ، تو اس کی بھی اجازت نہیں کیونکہ اس قسم کے افعال روح عدل کے منافی ہیں۔ بہرحال حق و انصاف کے تقاضا کے پیش نظر فرمایا فلا تتبعوا الھوی ان تعدلوا انصاف کے مقابلہ میں اپنی خواہش کی پیروی نہ کرو بلکہ ہمیشہ انصاف کو محلوظِ خاطر رکھو تاکہ کسی فریق کے ساتھ ظلم و زیادتی نہ ہونے پائے۔ صحیح شہادت صحیح فیصلہ جیساکہ پہلے عرض کیا جا چکا ہے فیصلے کا مدارشہادت پر ہے۔ اگر شہادت درست ہوگی تو فیصلہ بھی درست ہوگا اور اور اگر گواہی ہی غلط اور جھوٹی ہوگی ، تو معاشرے میں انصاف کیسے قائم کیا جاسکتا ہے۔ سورة مائدہ میں آئیگا ” ولایجرمنکم شنان قومٍ علی ان لاتعدنوا اعدلوا ھو اقرب للتقویٰ “ یعنی کسی قوم کی عداوت تمہیں خلافِ عدل کرنے پر آمادہ نہ کر دے۔ بلکہ عدل کرتے رہو کہ یہی تقویٰ کی شان کے قریب تر ہے کسی کے ساتھ تعلق ، محبت اور قرابت داری کی بنا پر بھی غلط فیصلے ہوتے ہیں اور کسی کے ساتھ دشمنی اور عداوت غلط فیصلوں پر منتج ہوتی ہے۔ لہٰذا ایسی چیزوں سے پرہیز کرو اور فیصلہ حق و انصاف کے مطابق کرو۔ اسلام کے قوانین سخت ضرور ہیں مگر اس کے نتائج اچھے نکلتے ہیں۔ صحیح فیصلہ معاشرے میں امن وامان کی ضمانت بنتا ہے جب کہ غلط فیصلہ امن و سکون کو تباہ کردیتا ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا لعن اللہ من اوی محدثاً جس نے مجرم کو پناہ دی اس پر اللہ کی لعنت ہے ، اس نے مجرم کو پناہ دیکر پوری انساینت پر ظلم کیا ہے کیونکہ یہ چیز تقاضائے عدل کے منافی ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ انصاف کے معاملہ میں نہ ذاتیخواہش کی پیروی کرو اور نہ کسی کے حق میں محبت یا کسی کے خلاف نفرت کو انصاف کی بنیاد بناؤ یہ دونوں چیزیں ناانصافی کو جنم دیتی ہیں۔ قانون پر عملدرآمد انصاف کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ قانون پر عملدرآمد کا فقدان ہے قانون تو بنتے رہتے ہیں۔ گزشتہ ڈیڑھ سو سال سے انگریزی قانون دیکھ رہے ہیں کئی قسم کی پولیس بھی موجود ہے کہیں سول پولیس ہے۔ کہیں ملٹری پولیس ، کہیں سیکورٹی پولیس ہے اور کہیں خفیہ پولیس ، مگر قانون پر عمل درآمد کہاں تک ہو رہا ہے ہر طرف رشوت اور اقربا پروری کا دور دورہ ہے ، انصاف کہاں نصیب ہوگا اور دنیا کو چین کب حاصل ہوگا۔ صریح قتل ہو رہے ہیں ، ڈاکے پڑ رہے ہیں ، چوری کی وارداتیں ہیں مگر مجرموں کو کیفر کردار تک کیوں نہیں پہنچایا جا رہا۔ لاکھ دو لاکھ روپے رشوت دیکر قاتل کو چھڑا لو۔ چور کو بری کرا لو۔ عدالتوں میں صحیح شہادت پیش نہیں ہوتی اور جج صحیح فیصلہ نہیں کر پاتے۔ اور اگر کوئی مقدمہ پایہ تکمیل تک پہنچ ہی جاتا ہے تو اس پر عمل درآمد کہا تک ہوتا ہے یہ سب ناانصافی کی باتیں ہیں ایک عدالت کا فیصلہ دوسری عدالت بدل دیتی ہے اور دوسری کا فیصلہ تیسری عدالت میں منسوخ ہوجاتا ہے تو مظلوم کو انصاف کہاں ملے گا ، اس کی مشکلات کا حل کہاں سے میسر ہوگا اور دنیا امن کا گہوارہ کیسے بنے گی ؟ فرمایا شہادت کے معاملہ میں نہایت احتیاط سے کام لو وان تلوا اگر تم زبان کو موڑو گے اوتعرضوا یا اعراض کرو گے ، مطلب یہ کہ شہادت کو توڑنے موڑنے کے لیے اپنی زبان کو اس طرح مت حرکت دو کہ اس سے معانی تبدیل ہونے کا احتمال ہو اور شہادت ہی غلط ہوجائے نیز یہ کہ شہادت کی ادائیگی سے گریز بھی نہ کرو۔ اگر شہادت مکمل نہیں ہوگی جج کسی صحیح نتیجے پر نہیں پہنچ سکے گا۔ اسی لیے فرمایا کہ اگر تم شہادت کے معاملہ میں زبان کو پھیرو گے یا اعراض کرو گے فان اللہ کان بما تعملون خبیراً ۔ بیشک اللہ تعالیٰ تمہارے ہر کام سے باخبر ہے اگر تم گواہی دیتے وقت کج زبان استعمال کرو گے یا جان بوجھ کر شہادت کو چھپاؤ گے ، یا گواہی دینے سے اعراض کرو گے تو خود مجرم بن جاؤ گے۔ سچی گواہی نہ دینا بذات خود ظلم کی حمایت کرنا ہے۔ اگر ایسا کرو گے تو خدا تعالیٰ تو بہرحال تمہاری نیتوں اور ارادوں تک کو جانتا ہے۔ وہ خود تم سے نمٹ لے گا۔