4. Surah An-Nisaa

النساءThe Women · 176 ayahsمعالم العرفان

Ayah 4:43

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى حَتّٰى تَعْلَمُوْا مَا تَقُوْلُوْنَ وَ لَا جُنُبًا اِلَّا عَابِرِیْ سَبِیْلٍ حَتّٰى تَغْتَسِلُوْا١ؕ وَ اِنْ كُنْتُمْ مَّرْضٰۤى اَوْ عَلٰى سَفَرٍ اَوْ جَآءَ اَحَدٌ مِّنْكُمْ مِّنَ الْغَآئِطِ اَوْ لٰمَسْتُمُ النِّسَآءَ فَلَمْ تَجِدُوْا مَآءً فَتَیَمَّمُوْا صَعِیْدًا طَیِّبًا فَامْسَحُوْا بِوُجُوْهِكُمْ وَ اَیْدِیْكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُوْرًا Open ayah 4:43 in the Quran reader

اے ایمان والو ! نہ قریب جاؤ نماز کے اس حالت میں کہ تم نشے میں ہو جب تک کہ سمجھ نہ لو جو تم کہتے ہو اور نہ جنابت کی حالت میں (نماز کے قریب جاؤ ) سوائے اس کے کہ راستے میں گزرنے والے ہو یہاں تک کہ تم غسل کرلو اور اگر تم بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص پست مقام (بیت الخلا) سے آئے یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو ، پھر تم پانی نہ پاؤ ۔ پس ارادہ کرو پاک زمین کا (طہارت حاصل کرنے کے لیے) پس ملو اپنے چہروں کو اور اپنے ہاتھوں کو اس کے ساتھ۔ بیشک اللہ تعالیٰ بہت معاف کرنیوالا اور بخشش کرنیوالا ہے

رابط آیات گزشتہ دروس میں اعبدواللہ کا بنیادی عقیدہ بیان ہوچکا ہے کہ عبادت صرف اللہ ہی کی کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ ، اس کے بعد والدین ، قرابتداروں اور دیگر ایسے لوگوں کے حقوق کا تذکرہ ہواجن سے زندگی میں اکثر واسطہ پڑتا ہے پھر اللہ تعالیٰ نے بخل کی مذمت بیان فرمائی۔ اور ریاکاری سے منع کیا۔ گزشتہ درس میں پھر ایمان اور انفاق فی سبیل اللہ کے تذکرہ کے بعد اللہ اور رسول کے ان نافرمانوں کی حسرت بیان کی گئی کہ قیامت کے دن وہ آرزو کریں گے کہ کاش وہ مٹی ہوجاتے تو جہنم کے ابدی عذاب سے بچ جاتے۔ نماز کی اہمیت آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے عبادت ہی کے سلسلہ میں نماز کا ذکر کیا ہے۔ کیونکہ عبادت میں نماز کو اولیت حاصل ہے نماز چونکہ نہایت اعلیٰ درجہ کی عبادت ہے۔ یہ گویا اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے والی بات ہے تو اس کا تقاضا بھی یہ ہے کہ انسان نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں کھڑا ہو۔ اور اگر یہ چیز پیدا نہ ہو۔ اور انسان کوئی ایسی حرکت کر بیٹھے جو خشوع کے منافی ہو تو اللہ تعالیٰ نے ایسی حالت میں نماز پڑھنے سے منع فرما دیا۔ شاہ ولی اللہ محدیث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ نماز کے ذریعے انسان میں خشوع اور عاجزی پیدا ہوتی ہے ، اعضاء کے ساتھ آدمی آداب بجا لاتا ہے اور زبان سے اللہ تعالیٰ کی مناجات کرتا ہے۔ گویا نماز تکبر کے منافی ہے جس سے پہلے ہی منع کیا جا چکا ہے۔ اور اگر انسان نشے کی حالت میں ہوگا تو اس کے اندر خشوع نہیں ہوگا ، انسان کی عقل کا توازن ہی قائم نہیں رہ سکتا ، بےہنگم حرکات کرنے لگتا ہے۔ نشہ کی حالت میں انسان کے دل میں عاجزی کا پیدا ہونا ممکن نہیں لہٰذا اللہ تعالیٰ نے ایسی حالت میں نماز سے روک دیا ہے۔ طہارت شرط نماز ہے آج کے درس میں جو دوسری اہم بات بیان کی گئی ہے وہ طہارت ہے اور نماز جیسی اعلیٰ وارفع عبادت کرنے کے لیے طہارت شرط ہے ، انسان کا جسم پاک ہو ، لباس پاک ہو اور پھر وہ جگہ پاک ہو جہاں نماز ادا کرنا چاہتا ہے۔ حضور ﷺ نے یہ بات قانون 1 ؎ کے طور پر سمجھا دی لا تقبل صلوٰۃ بغیر طہور یعنی طہارت کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی۔ اس آیت کریمہ میں جو جنابت کا ذکر کیا گیا ہے ، وہ غایت درجہ کی ناپاکی ہے۔ لہٰذا جنابت کی حالت میں بھی اللہ تعالیٰ نے نماز کے قریب جانے سے منع فرما دیا۔ گزشتہ درس میں کفار کی حسرت کا ذکر تھا ، کاش وہ مٹی ہوجاتے اور آج کے درس میں طہارت کے لیے مٹی کو بھی ایک ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔ لہٰذا گزشتہ درس کے ساتھ یہ بھی ایک مناسبت ہے۔ جنابت کی تعریف جنابت کا معنی دوری ہے اس حالت میں انسان فرشتوں اور خدا تعالیٰ کی تجلیات سے دور ہوجاتا ہے اس لیے ایسے شخص کو جنبی کہتے ہیں۔ عربی زبان میں قرابت سے دور والے شخص پر بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ جیسے عربی شاعر کہتا ہے : فلا تحرمنی نائلاعن جنابۃ فانی امرء وسط القباب غریب بھائی مجھے اپنے عطیے سے محض اس لیے محروم نہ کرنا کہ میں تمہارے ساتھ قریبی تعلق نہیں رکھتا اور میں اس بستی میں اجنبی ہوں۔ جنابت خدا کی طرف سے حکمی حالت ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں جنبی آدمی کے مسجد میں داخلے کو حلال نہیں سمجھتا۔ حیض والی عورت کا بھی یہی حکم ہے۔ وہ بھی نہ مسجد میں داخل ہو سکتی ہے اور نہ طواف کرسکتی ہے۔ حضور ﷺ کے الفاظ ہیں ولا احل لحائض ولاجنب ایسی حالت میں نہ قرآن پاک کو ہاتھ لگاسکتا ہے اور نہ زبانی تلاوت کرسکتا ہے اللہ تعالیٰ نے نماز پڑھنے کی بھی ممانعت فرما دی ہے۔ شرعی جنابت مادہ منویہ کا اخراج یا نفسِ جماع ہے۔ مباشرت میں اگر بدخوابی میں بھی مادہ خارج ہوجائے تو انسان ناپاک ہوجاتا ہے بعض آئمہ کرام فرماتے ہیں کہ انسان جنبی اس صورت میں ہوتا ہے جب مادہ منویہ اچھل کر خارج ہو۔ البتہ امام شافعی (رح) کا مسلک یہ ہے کہ مطلقاً مادہ خارج ہونے سے جنابت لازم آتی ہے خواہ یہ اخراج جریان کی وجہ سے ہو یا بدخوابی میں ہوجائے اور آدمی کو پتہ بھی نہ چلے کہ مادہ خارج ہوگیا ہے۔ اس صورت میں بھی غسل ضروری ہوجاتا ہے۔ الغرض ! یہ دونوں حالتیں نماز کے منافی ہیں۔ پہلی یہ کہ انسان نشے کی حالت میں ہو اور اسے پتہ ہی نہ ہو کہ کیا کر رہا ہے اور دوسریص ورت یہ ہے کہ جنبی ہوجائے یا ناپاک ہوجائے۔ نشہ آور اشیاء فرمایا یایھا الذین امنو اے ایمان والو لاتقربوا الصلوۃ نماز کے قریب نہ جاؤ و انتم سکری اس حالت میں کہ تم نشے میں ہو۔ یہاں کونسا نشہ مراد ہے ؟ بعض فرماتے ہیں کہ نشہ سے مراد حقیقی نشہ ہے جو شراب وغیرہ پینے سے آتا ہے۔ اس آیت کے نزول تک شراب کی قطعی حرمت نازل نہیں ہوئی تھی البتہ اس سے قبل سورة بقرہ میں شراب اور جوئے کے حسن و قبح بیان ہوچکے تھے۔ یسئلونک عن الخمر والمیسر یعنی اے پیغمبر (علیہ السلام) ! آپ سے شراب اور جوئے کے متعلق سوال کرتے ہیں ، آپ فرما دیں کہ ان میں بہت سا نقصان ہے تاہم لوگوں کے لیے کچھ فوائد بھی ہیں مگر ان میں نقصان کا پہلو زیادہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شراب کی قباحت کے متعلق اس قدر اشارہ فرما دیا۔ آج کی آیت کی شان نزول کے متعلق ترمذی شریف اور مستدرک حاکم میں روایت موجود ہے کہ صحابی رسول حضرت عبدالرحمن بن عوف ؓ نے بعض دوسرے صحابہ ؓ کو کھانے کی دعوت دی۔ ان میں حضرت علی ؓ بھی شامل تھے۔ کھانا کھانے کے بعد شراب کا دور بھی ہوا ، جس سے بعض کو نشہ چڑھ گیا۔ اُدھر نماز کا وقت بھی ہوگیا۔ حضرت علی ؓ کو امامت کے لیے آگے کھڑا کیا گیا ، انہوں نے نشہ کی حالت میں قرآن پاک پڑھنے میں یہ غلطی کی کہ لا اعبد ماتعبدون میں لاحذف کر گئے جس کی وجہ سے معنی بالکل ہب الٹ ہوگیا ، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ اے ایمان والو ! نماز کے قریب نہ جاؤ اس حالت میں کہ تم نشہ میں ہو۔ حتی تعلموا ما تقولون یہاں تکہ تم سمجھ نہ لو جو کچھ تم کہتے ہو۔ گویا شراب کی خرابی کے متعلق یہ دوسرا حکم تھا جو اللہ تعالیٰ نے نازل فرمایا۔ اور اس کے بعد سورة مائدہ میں وہ قطعی حکم آ گیا جس کے مطابق شراب ہمیشہ کے لیے حرام قرار دیدی گئی۔ مجازی نشہ بعض فرماتے ہیں کہ سکری سے مراد مجازی نشہ یعنی غفلت ہے۔ جب نیند کا غلبہ ہو یا غشی طاری ہو تو نماز کے قریب نہ جاؤ ۔ نیند کے متعلق حضور ﷺ کا واضح ارشاد موجود ہے کہ جب نیند کا غلبہ ہو اس وقت نماز نہ پڑھو بلکہ سو جاؤ ، جب نیند پوری کرلو تو پھر نماز پڑھو۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ نیند کی حالت میں تم اللہ سے بخشش طلب کرنا چاہو مگر زبان سے اپنے آپ کو گالیاں دینے لگو۔ لہٰذا نیند کے غلبے میں نماز نہ پڑھو۔ اگر نماز کا وقت جا رہا ہے تو پھر اس کا علاج یہ ہے کہ تازہ وضو کرو یا کوئی ایسی اور حرکت کرو جس سے نیند کا غلبہ دور ہوجائے اور پھر نماز ادا کرلو۔ ہوش و حواس کی درستگی حتی تعلمھا میں بعض دیگر باتوں کی طرف بھی اشارہ موجود ہے۔ نماز میں قرآن پاک کی قرأت ضروری ہے۔ قرآن کریم وہ عہد ہے جو خداوند کریم اور بندے کے درمیان ہوچکا ہے اور بندہ اس عہد کو دہراتا رہتا ہے ایاک نعبدو ایاک نستعین عہد ہی تو ہے ، اگر کوئی شخص نشے کی حالت میں قرآن پاک پڑھے گا تو وہ کیا سمجھے گا کہ کیا کر رہا ہے۔ دنیا کے عہدو پیمان کا بھی یہ طریقہ ہے کہ جب کوئی شخص کوئی اہم دستاویز تیار کرتا ہے ، کوئی ہبہ یا بیع کرتا ہے ، طلاق دیتا ہے ، وصیت کرتا ہے یا کوئی اقرار نامہ یا ایگریمنٹ کرتا ہے تو لکھتا ہے کہ میں یہ تحریر بقائمی ہوش و حواس کر رہا ہوں ، گویا کسی عہد کو دہراتے وقت عقل و خرد کا درست ہونا ضروری ہے۔ اسی لیے فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ نشہ کے علاوہ نیند کی حالت میں بھی نماز ادا نہیں کرنی چاہیے۔ نشہ آور اشیاء میں سے شراب ایک معروف چیز ہے جسے عربی میں خمر کہتے ہیں اور خمر عقل کو ڈھانپ لیتی ہے۔ جب عقل اور ہوش و حواس ہی قائم نہیں ہوں گے تو اسے کیا معلوم ہوگا کہ وہ کیا کر رہا ہے۔ لہٰذا ایسی حالت میں نماز سے منع فرما دیا گیا۔ عربی تعلیم کی ضرورت یہاں پر ایک اور بات بھی ضمناً ہوجائے جو اگرچہ ضروری تو نہیں ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے اہم ضرور ہے۔ عربی زبان سے واقف آدمی جب نماز میں کھڑا ہوتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ کیا پڑھ رہا ہے مگر ایک عجمی آدمی قرآن پاک کی پوری تلاوت کر کے بھی کچھ نہیں سمجھ پاتا لہٰذا ہر شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس قدر عربی تو سیکھ لے جس سے اسے علم ہو سکے کہ جو عہد وہ دہرا رہا ہے اس کا مطلب کیا ہے۔ انگریزی زبان سیکھنے کے لیے کتنی تگ و دو کی جاتی ہے۔ آج کل بچے کو ابتدا ہی سے انگریزی سکول میں داخل کروا دیا جاتا ہے تاکہ وہ کچھ آئے یا نہ آئے اسے انگریزی پر دسترس حاصل ہوجائے۔ مگر نماز کے معاملہ میں مسلمانوں کی بہت بڑی غفلت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنا جو عہد دہرا رہے ہیں اسے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔ زیادہ نہیں تو سورة فاتحہ کے علاوہ ان چند ایک چھوٹی چھوٹی سورتوں کا تجمہ ہی پڑھ لینا چاہئے ، جو کوئی شخص اکثر نماز میں پڑھتا ہے بہرحال یہ لازم نہیں ہے۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں کہ نماز ضرور پڑھنی چاہیے خواہ کوئی چیز سمجھ میں آئے یا نہ۔ اگر اس آیت میں تفہموا کا لفظ ہوتا ہے تو ہر نمازی کے لیے قرأت کو سمجھنا ضروری ہوجاتا۔ نماز کی ممانعت بہرحال فرمایا اے ایمان والو ! نماز کے قریب نہ جاؤ یہاں تک کہ تم جان لو جو کچھ تم کہتے ہو۔ ولاجنباً اور جنبی آدمی بھی نماز کے قریب نہ جائے الا عابری سبیلٍ سوائے اس کے کہ وہ راستہ گزرنے والا ہو۔ اس کا ایک مطلب توی ہ ہے کہ کوئی شخص مسافر ہے ، غسل کی ضرورت پڑگئی ہے مگر پانی میسر نہیں یا اس پر قادر نہیں تو اس کے لیے اجازت ہے کہ وہ اس وقت تک بغیر غسل کیے نماز پڑھ لے جب تک اسے غسل کے لیے پانی میسر نہیں آتا۔ عابری سبیل کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ نماز کے محل یعنی مسجد میں داخل بھی نہ ہو۔ البتہ اگر وہاں سے بطور راستہ گزرنا ہو تو مسجد سے گزر سکتا ہے۔ اسی طرح اگر مسجد میں بدخوابی ہوگئی ہے تو مسجد سے گزر کر باہر چلے جانا جائز ہے۔ بہرحال فرمایا دو حالتوں میں نماز کے قریب نہ جاؤ ، اولاً یہ کہ تم نشے کی حالت میں ہو اور اس وقت تک نماز نہ پڑھو جب تک کہ تمہارا نشہ زائل ہو کر تم سمجھنے نہ لگو کہ کیا کر رہے ہو۔ اور ثانیاً یہ کہ اگر جنبی ہوجاؤ تو اس وقت تک نماز کے قریب نہ جاؤ حتی تغتسلوا یہاں تک تم غسل کرلو۔ اب آیت کے اگلے حصے میں تیمم کا طریقہ بتایا جا رہا ہے جس کے ذریعہ جنبی آدمی وقتی طور پر (جب تک پانی میسر نہ ہو) طہارت حاصل کر کے نماز ادا کرسکتا ہے۔ گزشتہ سے پیوستہ آیت کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے دو حالتوں میں نماز پڑھنے کی ممانعت فرمادی۔ ایک نشہ کی حالت میں ، جب تک کہ نشہ اتر نہ جائے ، اور انسان کے ہوش و حواس ٹھکانے نہ آجائیں اور دوسرا جنابت کی حالت میں جب تک کہ غسل نہ کرلیا جاوئے اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے عبوری دور کے لیے طہارت حاصل کرنے کا طریقہ بتایا ہے کہ جب تک پانی میسر نہ ہو تیمم کر کے نماز پڑھ لو۔ طہارت بذریعہ تیمم آیت کے اس حصہ میں اللہ تعالیٰ نے تیمم کا طریقہ بیان فرمایا ہے ، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ پانی سے طہارت کرنا ، تیمم یعنی مٹی سے طہارت حاصل کرنا ، اور خوشبو لگانا سب طہارت میں شمار ہوتے ہیں۔ پانی سے طہارت حاصل کرنا امر طبعی ہے اور ہر شخص اس کے اثرات کو محسوس کرتا ہے کیونکہ پانی سے میل کچیل اور جسم کی نجاست دور ہوجاتی ہے مگر مٹی سے طہارت ایک پوشیدہ طہارت ہے تاہم یہ بھی ایک ذریعہ طہارت ہے حضور ﷺ کے ارشاد کے مطابق تیمم اس امت کی خصوصیات میں سے ہے امت آخر الزمان (علیہ السلام) سے پہلے کسی امت کو تیمم کی اجازت نہیں تھی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے آخری نبی کی آخری امت کے لیے اسے بھی ذریعہ طہارت بنا دیا۔ مگر اللہ تعالیٰ نے فرمایا جعلت لنا ترب تھا طہوراً اگر پانی میسر نہ ہو یا کوئی شخص پانی پر قدرت نہ رکھتا ہو تو پھر مٹی کے ساتھ طہارت حاصل کرلے یہ طہارت ضروریہ کہلاتی ہے تاہم طہارت کا فطری ذریعہ پانی ہی ہے اللہ نے اس کی صفت بھی بیان فرمائی ہے وانزک نا من السماء ماء طھوراً ہم نے آسمان سے پاک پانی اتارا ، جو خود بھی پاک ہے اور دوسری چیزوں کو بھی پاک کرتا ہے۔ جسم ، کپڑا ، برتن وغیرہ پانی سے ہی پاک کیے جاتے ہیں اور جب پانی میسر نہ ہو تو پھر وقتی طور پر مٹی بھی ذریعہ طہارت بن جاتی ہے۔ ہاں ! بعض اوقات پانی کی موجودگی کے باوجود مٹی ذریعہ طہارت ہے۔ مثلاً اگر جوتے پر نجاست لگ گئی تو مٹی کے ساتھ کھرچنے سے نجاست دور ہو کر جوتا پاک ہوجائے گا بشرطیکہ نجاست جوتے کے اندر جذب نہ ہوچکی ہو۔ اسی طرح موزے ، آئینے ، تلوار یا چھری وغیرہ کو نجاست لگ جائے تو مٹی ملنے سے پاک ہوجاتی ہیں۔ گویا مٹی بھی ایک ذریعہ پاکیزگی ہے۔ بہرحال حضور ﷺ نے فرمایا کہ ایک تو تیمم اس امت کی خصوصیات میں سے ہے اور دوسری خصوصیت یہ ہے جعلت لی الارض مسجداً میرے لیے پوری زمین کو مسجد بنا دیا گیا۔ بشرطیکہ جگہ پاک ہو۔ چند ایسی جگہوں کو جہاں عام طور پر نجاست ہوتی ہے۔ نماز کے منافی قرار دے دیا گیا ہے وگرنہ ساری زمین جہاں کوئی چاہے نماز پڑھ سکتا ہے۔ سابقہ امتوں کے لوگ صرف اپنے عبادت خانوں میں ہی عبادت کرسکتے تھے ، مگر اس امت کے لیے ہر پاک جگہ پر نماز پڑھنا ردا ہے۔ تیمم کی وجوہات اب اب حصہ آیت میں وہ وجوہات بیان کی جا رہی ہے جن کے پیدا ہونے پر کوئی شخص تیمم کے ذریعے پاکیزگی حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ اسے پانی میسر نہ ہو یا وہ پانی پر قادر نہ ہو۔ تیمم کرنے کے بعد کوئی شخص نمازپڑھ لے گا ، مسجد میں چلا جائے گا ، قرآن پاک کو ہاتھ لگا سکے گا یا کوئی دیگر عبادت انجام دے سکے گا۔ تو فرمایا فان کنتم مرضی اور اگر تم مریض ہو ، مرضیٰ مریض کی جمع ہے۔ یعنی تم میں سے کوئی شخص ایسی بیماری میں مبتلا ہے جس میں پانی کا استعمال بیماری میں اضافہ کا باعث بن سکتا ہے ، یا ہلاکت کا خطرہ ہے ، توپ انی استعمال نہ کرے بلکہ تیمم کر کے نماز ادا کرے۔ دوسری صورت یہ ہے اوعلی سفرٍ یا تم سفر میں ہو۔ بعض اوقات سفر میں پانی میسر نہیں آتا۔ ذخیرہ ختم ہوجاتا ہے اور میلوں دور تک پانی میسر نہیں ہوتا تو ایسی صورت میں بھی تیمم کیا جاسکتا ہے۔ مسلم شریف کی روایت میں آتا ہے کہ حضور ﷺ صحابہ ؓ کی ایک جماعت کے ہمراہ سفر پر تھے۔ پانی ختم ہوگیا۔ اتنے میں ایک عورت ملی جس کے اونٹ پر پانی لدا ہوا تھا۔ صحابہ ؓ نے اس عورت سے پانی کا مقام دریافت کیا ، تو اس نے بتایا کہ یہاں قرب و جوار کہیں پانی میسر نہیں۔ میں چوبیس گھنٹے کی مسافت سے پانی لائی ہوں۔ میری پرورش میں یتیم بچے ہیں جو پانی کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ میں یہ پانی ان کے لیے لیے جا رہی ہوں حضور ﷺ نے اس کی سواری کو بٹھایا اور صحابہ کو پانی حاصل کرنے کی اجازت دے دی ، چناچہ کچاوے کے مشکیزے کو نچلی طرف سے کھول کر پانی حاصل کیا گیا۔ حضور ﷺ نے دعا فرمائی اور عورت سے کہا کہ ہم نے تیرے پانی میں کوئی کمی نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ پانی اپنی مہربانی سے عطا فرمایا ہے ، تیرا کجاوہ اسی طرح بھرا ہوا ہے پھر صحابہ ؓ نے کچھ اناج اور کپڑے وغیرہ اکٹھا کر کے اس عورت کو دے دیے۔ وہ عورت خوش ہوگئی۔ اس واقعہ کا تذکرہ اس نے اپنے علاقہ میں جا کر کیا تو اللہ تعالیٰ نے وہاں کے تمام لوگوں کو ایمان کی دولت نصیب فرمائی۔ بہرحال یہ ایک معجزہ تھا جو ظہور پذیر ہوا ، مگر کہنے کا مقصد یہ تھا کہ بعض اوقات انسان ایسی جگہ سفر کرتا ہے جہاں دور دور تک پانی میسر نہیں ہوتا ، ریگستان ہے یا کوئی پہاڑی علاقہ ہے کہ ہر جگہ پانی موجود نہیں ہوتا ، تو ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ نے پاک مٹی سے تیمم کی اجازت مرحمت فرما دی۔ تیمم کے لیے تیسری وجہ فرمایا وجاء احد منکم من الفائط یا تم میں سے کوئی پست مقام سے آیا۔ غالط و پست یا نچلی جگہ کو کہتے ہیں اور مراد جائے قضائے حاجت ہے کیونکہ عام طور پر انسان قضائے حاجت کے لیے پست جگہ کی اوٹ لیتے ہیں تاکہ کسی کی نظر نہ پڑے۔ بہرحال اس کا معنی ہے استفراغ من البول والبراز یعنی بول و براز سے فراغت تو قضائے حاجت کے بعد اگر پانی میسر نہ ہو تو تیمم کر کے نماز ادا کی جاسکتی ہے۔ تیمم کے جواز کی چوتھی وجہ یہ ہے۔ او لمستم النساء یا تم نے عورتوں کو چھوا ہو۔ لمس کا لغوی معنی چھونا یا ہاتھ لگانا ہے۔ البتہ اس کے اصطلاحی معنی میں فقہائے کرام میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ لمس سے مراد مباشرت لیتے ہیں۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے بھی یہی مسلک اختیار کیا۔ بعض دوسرے فقہائے کرام اسے لغوی معنوں پر ہی محمول کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اگر عورت کو محض ہاتھ لگا دیا تو وضو ٹوٹ جائیگا۔ امام شافعی (رح) کا یہی مسلک ہے مگر عبداللہ ابن عباس ؓ کے علاوہ عبداللہ ابن مسعود ؓ ، حضرت علی ؓ وغیرہ اس سے مباشرت ہی مراد لیتے ہیں۔ البتہ امام مالک (رح) کا تیسرا مسلک ہے کہ اگر مرد و زن ایک دوسرے کوش ہوت کے ساتھ ہاتھ لگائیں تو وضو ٹوٹ جائیگا اور اگر بلا ارادہ اتفاقاً ہاتھ لگ جائے تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔ تیمم کا طریقہ بہرحال ان چار صورتوں میں کہ کوئی بیمار ہو یا سفر پر ہو یا قضائے حاجت کے بعد آیا ہو یا عورت کو چھوا ہو فلم تجدواماء پھر نہ پاؤ یعنی فوری طور پر پانی میسر نہیں ہے یا تم پانی پر قادر نہیں ہو فتیمموا صعیداً طیبا پس قصد کرو پاک مٹی کا یا پاک زمین کا۔ تیمم کا لفظی منیٰ قصد اور ارادے کا ہے اور مراد قصد الصعید للطہیر ہے۔ یعنی پاک مٹی سے طہارت حاصل کرنا۔ اور اس کا طریقہ یہ فرمایا فامسحوا بوجوہکم پس ملو اپنے چہروں کو وایدیکم اور اپنے ہاتھوں کو اس کے ساتھ۔ یعنی مٹی پر ہاتھ مار کر اسے اپنے چہرے اور ہاتھوں پر مل لو۔ یہ تیمم ہوجائیگا۔ البتہ اس معاملہ میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے کہ ایک ہی دفعہ مٹی پر ہاتھ مار کر چہرے اور ہاتھوں پر ملنا کافی ہے یا چہرے کے لیے اور ہاتھوں کیلئے علیحدہ علیحدہ یعنی دوبارہ مٹی پر ہاتھ مارنا ہوگا۔ امام احمد (رح) اور بعض دیگر محدثین ایک ہی ضرب کے قائل ہیں کہ ایک دفعہ ہاتھ مارنے سے دونوں اعضاء پر پھیرلینا چاہئے۔ البتہ امام شافعی (رح) ، امام ابوحنیفہ (رح) اور دیگر فقہائے کرام دو ضرب کا فتویٰ دیتے ہیں۔ پہلیدفعہ مٹی پر ہاتھ مار کر چہرے کے اتنے حصے پر مل لیا جاوے جتنا حصہ وضو میں دھویا جاتا ہے۔ پھر دوسری دفعہ اتھ مار کر دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے لے کر کہنیوں سمیت مل لیاجاوے۔ بعض ہاتھوں کی کلائیوں تک ملنا کافی سمجھتے ہیں اور امام زہری (رح) وغیرہ بغلوں تک کہتے ہیں مگر صحیح قول پہلا ہی ہیں یعنی کہنیوں تک ملنا چاہیے۔ مستدرک حاکم کی روایت میں حضرت جابر ؓ کے مطابق ہر دو اعضاء کے لیے علیحدہ علیحدہ ضرب اور ہر فقین یعنی دونوں کہنیوں کے لفظ آتے ہیں۔ روایت اگرچہ درجہ دوم کی ہے مگر… قابل استدلال ہے اور وضو پر محمول کرتے ہوئے تیمم بھی کہنیوں تک کیا گیا ہے۔ بہرحال یہ تیمم کا طریقہ بتا یدا گیا ہے اس کا تفصیلی ذکر اگلی سورة مائدہ میں بھی آئے گا۔ وضو کی ضرورت ہو یا غسل کی اتنا تیمم کرلینا کافی ہے۔ حضرت عمار ؓ کو تیمم کا طریقہ نہیں آتا تھا۔ انہیں غسل کی ضرورت پڑی تو کپڑے اتار کر مٹی میں لوٹ پوٹ ہوگئے۔ پھر جب حضور کی خدمت میں یہ عمل پیش کیا تو آپ نے فرمایا غسل کی طرح سارے جسم پر مٹی ملنا ضروری نہیں تھا بلکہ صرف چہرے اور ہاتھوں پر مل لیناکافی ہوتا ہے بہرحال حضور ﷺ نے فرمایا کہ مٹی ذریعہ طہارت ہے اگر دس سال تک بھی پانی میسر نہ آئے تو مٹی سے طہارت حاصل ہوتی رہے گی۔ مٹی ذریعہ فلاح ترمذی شریف میں حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ خط لکھو تو اس پر مٹی مل لیا کرو کہ یہ ذریعہ کامیابی ہے۔ آج کل تو سپرٹ والی سیاہی استعمال ہوتی ہے جو فوراً خشک ہوجاتی ہے گزشتہ زمانے میں عام سیاہی سے خط لکھتے تھے ، جو جلدی خشک نہیں ہوتی تھی۔ اس لیے اس کو سیاہی چوس سے چوس لیتے تھے یا اوپر مٹی ڈال کر خشک کرلیتے تھے۔ حضور کا یہ فرمان کہ فانہ انجح للحاجۃ مٹی ڈالنا ذریعہ فلاح ہے یہ دو طریق سے ہے۔ اولاً یہ کہ اگر خط لکھ کر فوراً خط کو لپیٹ دیا جائے تو حروف مٹ جاتے ہیں اور مطلب حاصل نہیں ہوتا۔ البتہ سیاہی خشک کرلینے سے خط درست حالت میں منزل مقصود تک پہنچ کر کامیابی کا ضامن ہوتا ہے اور کامیابی کی دوسری توجیہہ محدثین کرام اور حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی (رح) بھی یہ فرماتے ہیں کہ مٹی کے استعمال میں عاجزی پائی جاتی ہے۔ اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا ” خلقہ من ترابٍ “ اور اپنی اصل یعنی مٹی کی طرف رجوع کمال چیز ہے۔ مٹی میں عاجزی اور انکساری کا عنصر پایا جاتا ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے۔ لہٰذا یہ کامیابی کی دلیل ہے۔ اپنی اصل کی طرف رجوع کرنے سے انسان کو طہارت بھی حاصل ہوتی ہے اس لیے پاکیزگی کے لیے مٹی کی طرف رجوع کیا جاتا ہے یعنی تیمم کیا جاتا ہے۔ اشکال اور جواب بعض ذہنوں میں یہ اشکال پیدا ہو سکتا ہے کہ پانی کے ذریعے تو طہارت حاصل ہوجاتی ہے کیونکہ پانی میل کچیل اور گندگی کو بہا لے جاتا ہے مگر مٹی سے کیونکر پاکیزگی حاصل ہوتی ہے۔ اس اشکال کے ازالہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے اپنی دو صفات کا تذکرہ فرمایا ان اللہ کان عفواً غفوراً بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔ یعنی اے مخاطب ! اگر تمہیں طہارت میں کوئی خامی محسوس ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا ہے۔ طہارت بہرحال ہو جائیگی اور اگر کوئی کوتاہی رہ گئی ہے تو اللہ تعالیٰ غفور بھی ہے۔ وہ بخشش کرنے والا ہے ، لہٰذا اس معاملہ میں فکر نہ کرو۔ بعض حالات میں انسان مجبور ہوجاتا ہے۔ غسل کی ضرورت ہے مگر پانی میسر نہیں۔ اُدھر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش بھی ہونا ہے ، مسجد میں جانا ہے ، قرآن پاک کی تلاوت کرنی ہے کوئی اور ایسا کام کرنا ہے جس کے لیے طہارت ضروری ہے تو فرمایا بغیر کسی وہم کے تیمم کرلو اور اپنے رب کی عبادت میں مشغول ہوجاؤ ۔ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔
Ayahs 4:44–46

اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ اُوْتُوْا نَصِیْبًا مِّنَ الْكِتٰبِ یَشْتَرُوْنَ الضَّلٰلَةَ وَ یُرِیْدُوْنَ اَنْ تَضِلُّوا السَّبِیْلَؕ Open ayah 4:44 in the Quran reader

کیا نہیں دیکھا تو نے ان لوگوں کی طرف جن کو دیا گیا کچھ حصہ کتاب سے ، خریدتے ہیں گمراہی ار ادہ کرتے ہیں کہ تم بھی سیدھے راستے سے گمراہ ہو جاؤ

وَ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَآئِكُمْ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَلِیًّا١٘ۗ وَّ كَفٰى بِاللّٰهِ نَصِیْرًا Open ayah 4:45 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے تمہارے دشمنوں کو ، اور کافی ہے اللہ کارسازی کرنے والا اور کافی ہے اللہ مدد کرنیوالا

مِنَ الَّذِیْنَ هَادُوْا یُحَرِّفُوْنَ الْكَلِمَ عَنْ مَّوَاضِعِهٖ وَ یَقُوْلُوْنَ سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا وَ اسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَیًّۢا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ١ؕ وَ لَوْ اَنَّهُمْ قَالُوْا سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا وَ اسْمَعْ وَ انْظُرْنَا لَكَانَ خَیْرًا لَّهُمْ وَ اَقْوَمَ١ۙ وَ لٰكِنْ لَّعَنَهُمُ اللّٰهُ بِكُفْرِهِمْ فَلَا یُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِیْلًا Open ayah 4:46 in the Quran reader

بعض ان لوگوں میں سے جو یہودی ہوئے وہ تبدیل کرتے ہیں کلمات کو ان کے ٹھکانے سے اور وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سُن لیا اور ہم نہیں مانیں گے اور سُن اور تو نہ سنایا جائے۔ اور راعنا (کا لفظ کہتے ہیں) موڑ کر اپنی زبانوں کو اور عیب نکالتے ہیں دین میں۔ اگر یہ لوگ یوں کہتے کہ ہم نے سُن لیا اور ہم نے اطاعت کی اور تو سُن اور ہماری طرف دیکھ تو یہ ابن کے لیے بہتر ہوتا اور زیادہ درست ہوتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر لعنت کی ہے ان کے کفر کی وجہ سے۔ پس نہیں ایمان لاتے مگر بہت کم

ربط آیات اہل کتاب کی برائیوں کا تذکرہ گزشتہ آیات میں بھی گزر چکا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے وراثت کے مسائل اور محرکات نکاح بیان کیے۔ پھر معاشرتی مسائل کی تشریح ، اہل کتاب کے مال و علم میں بخل اور دوسروں کو بخل کی ترغیب کا بیان تھا۔ اس کے بعد نیکی بدی کا انجام اور قیامت کے محاسبے کا تذکرہ ہوا۔ درمیان میں اللہ تعالیٰ نے خاص مناسبت سے نماز کا ذکر کیا کہ نشے اور جنابت کی حالت میں نماز کے قریب نہ جاؤ ۔ پھر پانی کی عدم موجودگی میں طہارت کے لیے تیمم کا طریقہ بتلایا اور اب ان آیات میں پھر اہل کتاب کی مکاری اور اسلام دشمنی کا ذکر فرمایا ہے ، اس تذکرہ کے دو بنیادی مقاصد ہیں۔ ایک مقصد تو یہ ہے کہ اہل اسلام کو باور کرایا جائے کہ یہود و نصاریٰ ان کے دشمن ہیں ، وہ ہمیشہ نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں لہٰذا مسلمانوں کو محتاط رہ کر دشمن سے اپنا دفاع کرنا چاہیے۔ اہلِ کتاب مسلمانوں کے اسی طرح ازلی ابدی دشمن ہیں جس طرح شیطان پوری نسل انسانی کا دشمن ہے اور اللہ تعالیٰ نے ابر بار اس کے شر سے محفوظ رہنے کی تلقین کی ہے۔ اہلِ کتاب کے تذکرے کا دوسرا مقصد یہ ہے کہ اہل اسلام یہود و نصاریٰ میں پائی جانے والی بیماریوں ، بخل ، حسد ، تحریف ، کمتانِ حق وغیرہ سے محتاط رہیں تاکہ یہود ونصاریٰ کی طرح یہ بیماریاں ان میں بھی پیدا نہ ہوجائیں۔ اہل کتاب کی علمی خامیاں ارشاد باری تعالیٰ ہے الم تر کیا آپ نے نہیں دیکھا۔ یہ علمی ردیت ہے اور مطلب یہ ہے کہ کیا آپ کو معلوم نہیں ہوا۔ الی الذین اوتوا نصیباً من الکتب کہ وہ لوگ جنہیں دیا گیا کتاب کا کچھ حصہ ، نصیباً کا لفظ نکرہ ہے اور اس کا معنی کچھ حصہ ہے اس کے دو معانی ہو سکتے ہیں۔ کتاب کے کچھ حصے سے ایک تو یہ مراد ہو سکتی ہے کہ یہود و نصاریٰ کے کتاب الٰہی کے صرف الفاظ ہی باقی ہیں اور یہ لوگ ان الفاظ کے معانی تک رسائی حاصل نہیں کرتے۔ یعنی زبان سے کتاب کے الفاظ ادا کرتے ہیں مگر نہ تو دل سے ان احکام کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی ان پر عمل کرتے ہیں ۔ یہ بہت بڑی گمراہی ہے کہ کسی چیز پر بظاہر ایمان ہو مگر عملی طور پر اس کی مخالفت کی جائے۔ یہ بیماری اب اہل کتاب سے نکل کر مسلمانوں میں بھی پھیل چکی ہے۔ مسلمانوں کی حالت بھی اب یہ ہے کہ قرآن پاک کے الفاظ تو تلاوت کرتے ہیں ، مگر نہ تو ان الفاظ کے معانی جانتے ہیں اور نہ ان پر عمل کرتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جب کوئی شخص کسی قانون کا مطلب ہی نہیں سمجھتا تو اس پر عمل کیا کرے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اشارتاً اہل اسلام کو بھی سمجھایا کہ اگر تم بھی یہودیوں کی طرح محض الفاظ ہی کو دہراتے رہے تو پھر ان کی طرح تمہیں بھی فلاح نصیب نہیں ہو سکتی۔ نصیباً من الکتب کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اہل کتاب کے پاس ان کی کتاب کی کچھ یعنی چند ایک باتیں ہی سلامت ہیں باقی سب کچھ انہوں نے خود اپنے ہاتھوں بگاڑ دیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کی کتاب کو تبدیل کردیا ہے ، اس میں تحریف کے مرتکب ہوئے ہیں۔ تاہم کچھ نہ کچھ باتیں ضرور ان کے پاس موجود ہیں جو تحریف کی دست برد سے محفوظ اور اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ہیں۔ عیسائیوں کے بڑے بڑے پادری آج بھی تسلیم کرتے ہیں کہ انجیل مقدس میں تین ہزار سے زیادہ اغلاط موجود ہیں ۔ یہ انہی پادریوں کی تحریف کا نتیجہ ہے۔ بہرحال تحریف سے محفوظ کچھ حصہ کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد مبارک بھی موجود ہے کہ شادی شدہ زانی کو سنگسار کرنے کی سزا آج بھی موجود ہے۔ تورات میں یہ بھی موجود ہے کہ جو شخص اپنی پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے وہ جان سے مارا جائے گا۔ اس قسم کے احکام اب بھی موجود ہیں مگر یہ لوگ معنوی تحریف کی بناء پر ان پر عمل سے قاصر ہیں بہرحال نصیباً کا مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب کی کتب میں سے کچھ نہ کچھ حصہ اب بھی ان کے پاس موجود ہے۔ مگر ان کا عمل وہ ہے جس کا تذکرہ آیت کے اگلے حصّے میں آ رہا ہے۔ مکروہ عزائم فرمایا ان لوگوں کی حالت یہ ہے یشترون الضللۃ ایمان اور توحید قبول کرنے کی بجائے گمراہی خریدتے ہیں۔ گویا احکام الٰہی میں تحریف کر کے خود بھی گمراہ ہوئے ہیں ویریدون ان تضلوا السبیل اور تمہیں بھی گمراہ کرنا چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خبردار کیا ہے کہ اہل کتاب کے مکروہ عزائم سے ہوشیار رہیں تاکہ وہ تمہیں بھی گمراہ نہ کردیں۔ وہ تمہیں صراط مستقیم پر گامزن نہیں دیکھنا چاہتے۔ اسی سورة کے پانچویں رکوع میں پہلے بھی ان کی اس قبیح حرکت کا تذکرہ ہوچکا ہے۔ ویرید الذین یتبعون الشہوات ان تمیلوا میلاً عظیماً کہ خواہشات کے پجاری تمہیں اصل راستے سے دور لے جانا چاہتے ہیں ، لہٰذا ان کی مکاریوں سے خبردار رہیں۔ اہل ایمان کو گمراہ کرنے کے لیے یعنی ان کو ان کے دین سے بیزار کرنے کے لیے اہل کتاب اربوں روپے خرچ کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کو قرآن پاک کی تعلیمات سے ہٹانے اور نبی آخر الزماں سے ان کا تعلق منقطع کرنے کے لیے ان کی پوری مشینری حرکت میں ہے۔ اس معاملہ میں اہل ہنود بھی یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ ہیں تاہم اس معاملہ میں یہودی سب سے بڑھے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی خصوصی مذمت بیان فرمائی ہے ہر ملک میں اہل کتاب کی مشنریاں موجود ہیں جن کے ذریعے وہ سکول اور ہسپتال قائم کرتے ہیں اور پھر جذبہ خدمت کا اظہار کر کے اہل ایمان کو اپنے دام میں پھنسانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مذموم عزائم کا تذکرہ مختلف انداز میں مختلف سورتوں میں موجود ہے۔ مشرقی علوم سے واقف مغربی ممالک کے باشندے مستشرق کہلاتے ہیں۔ یہ لوگ مشرقی علوم یعنی عربی ، فارسی وغیرہ سیکھ کر اسلامی علوم کا مطالعہ کرتے ہیں اور پھر ریسرچ یعنی تحقیق کے نام پر قرآن و حدیث کی تفاسیر شائع کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے یورپ اور امریکہ میں تحقیقاتی کمیٹیاں بنی ہوئی ہیں جو بظاہر قرآن و سنت پر تحقیق کرتے ہیں اور مسلمانوں پر احسان جتلاتے ہیں کہ وہ ان کے لیے علمی میدان صاف کر رہے ہیں مگر درپردہ مسلمانوں میں گمراہی پھیلا رہے ہیں۔ ایسی الٹی سیدھی تعبیریں کرتے ہیں جن سے مسلمان اپنے دین سے بیزار ہوجائیں اس ضمن میں انہوں نے لغت (Dictionary) کو بھی تختہ مشق بنایا ہے اور الفاظ کے غلط معانی شائع کرکے مسلمانوں پر شب خون مارنے کی سعی کی ہے۔ عربی انگریزی ڈکشنری میں انہوں نے عیسیٰ کا معنی ابن اللہ (خدا کا بیٹا) کیا ہے جو کہ سراسر غلط ہے۔ چونکہ عیسائیوں کا اپنا عقیدہ یہی ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اللہ کے بیٹے ہیں اس لیے انہوں نے یہی معنی ڈکشنری میں لکھ دیا ہے تاکہ ڈکشنری کا مطالعہ کرنے والے لوگوں کے ذہنوں میں بھی یہی معنی راسخ ہوجائے اور اس طرح وہ اپنے عقیدے اور دین سے دور ہوجائیں۔ اسی لیے فرمایا کہ جن لوگوں کو کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا ہے وہ خود بھی گمراہی کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اور تمہیں بھی صراط مستقیم سے بھٹکا دینا چاہتے ہیں۔ خدا پر بھروسہ فرمایا واللہ اعلم باعدآئکم اللہ تعالیٰ تمہارے ان دشمنوں کو خوب جانتا ہے۔ اگر تمہارا یقین اللہ مالک الملک پر مضبوط رہا اور تم حق بات پر جمے رہے تو پھر تمہیں کوئی خطرہ نہیں و کفی باللہ ولیاً اور اللہ کافی ہے کارسازی کرنے والا۔ تم اسی کو کارساز سمجھتے ہوئے صراط مستقیم پر چلتے رہو اسی پر بھروسہ رکھو وکفی باللہ نصیراً اور کافی ہے اللہ مددگار۔ اگر خدا کی مدد پر بھروسہ رکھو گے ، اپنے دین پر قائم رہو گے تو کوئی دشمن تمہیں زک نہیں پہنچا سکتا۔ یہ اصول کی بات ہے کہ دشمن کا وار اسی وقت کارگر ہوگا جب تم اپنے دین سے پھسل جاؤ گے ، خدا تعالیٰ کی ذات پر اعتماد کمزور پڑجائے گا ، اعتقاد بگڑ جائے گا ، اور گناہ کا ارتکاب کرنے لگو گے۔ ہاں ! و من یتق اللہ یجعل لہ مخرجاً جو اللہ سے ڈرنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے ضرور کوئی نہ کوئی راستہ بنادیتا ہے۔ لہٰذا اللہ سے ڈرتے رہو اور اس کے دین پر قائم رہتے ہوئے دشمنانِ دین کا مقابلہ کرو۔ دیکھو ! اللہ تعالیٰ نے تمہیں کہاں کہاں کامیابی عطا کی۔ بدر وحنین میں کیسے اسباب پیدا کیے ، تبوک ، یرموک اور قادسیہ کی جنگوں میں مسلمانوں کی کس طرح مدد فرمائی ، جب تک مسلمان اللہ کے دین پر قائم رہے اللہ تعالیٰ کی نصرت شامل حال رہی۔ مگر جب ان میں بگاڑ پیدا ہوگیا تو بڑی بڑی سلطنتیں ختم ہوگئیں ، خلافت اڑ گئی اور مسلمان برطانیہ ، امریکہ اور روس سے مغلوب ہو کر رہ گئے۔ ہر جگہ ذلت و خواری کا منہ دیکھنا پڑا۔ آج ہماری حالت بھی یہودیوں سے کسی طرح کم نہیں۔ عقائد بگڑ چکے ہیں۔ اللہ کی عظیم کتاب کے الفاظ کا احترام ضرور ہے مگر نہ اس کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ کوئی عمل ہے تحریف کلمات گزشتہ آیات میں گزر چکا ہے کہ یہودی اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ فضل کو چھپا جاتے ہیں۔ فضل سے مراد وہ مال و دولت بھی ہے جسے بخل کی وجہ سے چھپاتے ہیں اور وہ علم بھی جسے وہ اپنی ضد اور عناد کی بناء پر دوسروں تک نہیں پہنچاتے۔ اب یہاں پر یہودیوں کی تحریف کلمات کی خصلت بیان ہو رہی ہے من الذین ھادو یہودیوں میں سے بعض لوگ ایسے ہیں۔ یحرفون الکلم عن مواضعہ جو کلمات کو ان کے مواقع سے تبدیل کردیتے ہیں۔ یہودیوں نے اپنے حسد ، بغض ، عناد کی بناء پر اور چوہدراہٹ کے تحفظ کی خاطر کتاب میں تحریف کی ، عیسائیوں نے بھی اپنی کتاب کے ساتھ یہی سلوک کیا۔ مکہ کے مشرکین نے بھی اسی لیے رسول آخر الزمان کا انکار کیا کہ ایمان لے آنے سے ان کی برتری ختم ہوجاتی تھی ، انہیں اطاعت کرنا پڑتی تھی یہود و نصاریٰ آج بھی اپنی اسی پرانی ضد پر اڑے ہوئے ہیں۔ اور نہ صرف خود قبول اسلام سے انکاری ہے بلکہ دوسروں کو بھی اپنے دین سے برگشتہ کرنا چاہتے ہیں۔ بہرحال انہوں نے اپنی کتاب میں ہر اس مقام پر تحریف کی جس میں اسلام کی حقانیت اور نبی آخر الزمان کی آمد کی پیشگوئیاں موجود تھیں۔ عیسائیوں نے انجیل مقدس سے فار قلیط کا لفظ ہی حذف کردیا اور اس کی جگہ کوئی دوسرا لفظ ڈال دیا۔ سریانی زبان کا فارقلیط اور عربی کا احمد ہم معنی الفاظ ہیں۔ چونکہ حضور ﷺ کی آمد کی پیش گوئیاں انجیل میں موجود تھیں ، اس لیے انہوں نے یہ لفظ ہی اڑا دیا عیسیٰ (علیہ السلام) تو اپنے ہر وعظ میں فرماتے تھے انی رسول اللہ الیکم میں اللہ کا رسول ہوں مصدقاً لما بین یدی من التوریۃ میں اپنے سے پہلی کتاب تورات کی تصدیق کرنے والا ہوں ” ومبشراً بدسولٍ یاتی من بعدی اسمہ احمد اور اپنے بعد آنے والے رسول کی بشارت دینے والا ہوں جن کا نام نامی اور اسم گرامی احمد ہوگا ، بہرحال عیسائیوں نے یہ لفظ ہی اڑا دیا تاکہ نہ یہ نام ہوگا اور نہ انہیں آخری نبی پر ایمان لانا پڑے گا ، یہ تحریف کی بدترین مثا ل ہے۔ لفظی ہیرا پھیری یہ تو ان کی اپنی کتاب میں تحریف کرنے کا تذکرہ تھا۔ اب آگے اللہ تعالیٰ نے ان کے اس ناروا سلوک کا تذکرہ کیا ہے جو وہ حضور نبی کریم ﷺ کے ساتھ کرتے تھے۔ ارشاد ہے۔ ویقولون سمعنا جب نبی (علیہ السلام) کی مجلس میں آ کر بیٹھتے ہیں اور ان کے فرمودات سنتے ہیں تو زبان سے کہتے ہیں ، ہم نے سن لیا۔ مگر ان کی بدبختی کی انتہا یہ ہے کہ زبانی اقرار کے ساتھ ہی دل میں کہتے ہیں وعصینا اور ہم نہیں مانیں گے۔ یعنی ان احکام کی تعمیل ہم سے نہیں ہو سکتی۔ علاوہ ازیں جب وہ خود حضور ﷺ سے مخاطب ہوتے تو کہتے واسمع یعنی آپ سنیں غیر مسمعٍ اور نہ سنائے جائیں۔ اس قسم کے ذومعنی الفاظ بول کر وہ لوگ بظاہر تو اہل ایمان کی عزت افزائی کرتے تھے مگر ان کے دلوں میں عناد کی خباثت ہوتی تھی واسمع غیر مسمعٍ ایک معنی تو یہ ہے کہ حضور ! آپ ہماری بات سنیں اور آپ کو اپنی مرضی کے خلاف کوئی بات نہ سنائی جائے۔ گویا آپ کی عزت و احترام کرتے تھے کہ دین حق کا بول بالا ہو اور اس کے خلاف کوئی بات آپ تک نہپ ہنچے۔ مگر ان کے دل میں یہ مفہوم ہوتا تھا کہ آپ ہماری بات تو سن لیں مگر آپ نہ سنائے جائیں یعنی آپ کے کان ہی ضائع ہوجائیں جن سے آپ کوئی بات سن سکیں۔ غیر مسمعٍ کا توہین آمیز یہ مطلب بھی ان کے ذہن میں ہوتا تھا کہ آپ کوئی اچھی بات نہ سن سکیں۔ اس طرح گویا وہ بددعائیہ کلمات بھی کہتے تھے۔ وراعنا لیاً بالسنتہم وہ بدبخت اپنی زبانوں کو موڑ کر راعنا کا لفظ بھی بولتے تھے کہ حضور ! ہماری رعایت کریں یعنی ہماری طرف توجہ فرمائیں مگر ان کے دل میں عبرانی زبان کا راعن ہوتا تھا جس کا معنی احمق ہے۔ اس کے علاوہ عربی میں راعی چرواہے کو بھی کہتے ہیں گویا وہ زبان کو گھما کر لفظ کو بگاڑ دیتے تھے جس سے وہ ذومعنی بن جاتا تھا اور وہ اپنی خباثت کا اظہار کرلیتے تھے۔ یہ لفظ پہلے سورة بقرہ میں بھی گزر چکا ہے ” لاتقولوا راعنا “ یعنی حضور ﷺ کو مخاطب کرنے کے لیے راعنا کا لفظ استعمال نہ کرو بلکہ اس کی بجائے وقولو الظرنا کہو ہماری طرف نظر کریں۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اہل کتاب حضور ﷺ کی شان میں اس قسم کی گستاخی کرتے تھے۔ لہٰذا اہل ایمان کو اس قسم کے ذومعنی الفاظ استعمال کرنے سے منع فرمادیا۔ دین پر نکتہ چینی فرمایا یہودیوں کی ایک بری خصلت یہ بھی ہے وطعناً فی الدین دین میں طعن کرتے ہیں۔ اسلام کے احکام پر نکتہ چینی کرتے ہیں مثلاً محرمات نکاح کے سلسلے میں جب تمام حرام رشتوں کی وضاحت ہوئی تو یہودی کہنے لگے دیکھو جی ! مسلمانوں کا دین پھوپھی کی بیٹی سے تو نکاحکو جائز قرار دیتا ہے مگر بھتیجی سے نکاح حرام کیا ہے۔ جب تیمم کا مسئلہ بیان ہوا تو کہنے لگے کہ مسلمانوں نے نیا طریقہ نکالا ہے۔ اگر پانی نہ ملے تو مٹی مل لیا کرو۔ بھلا یہ طہارت ہے یا نجاست۔ بہرحال وہ لوگ دین میں طعن کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کرتے تھے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” قاتلوا ائمۃ الکفر انہم لا ایمان لہم “ بڑے بڑے کافر بےایمان ہیں۔ لہٰذا ان سے مقابلہ اور جنگ کرو۔ ” طعنوا فی دینکم “ یہ تمہارے دین میں طعن کرتے ہیں ، عیب جوئی کرتے ہیں یہ کام آج کے ائمہ الکفر بھی بخوبی انجام دے رہے ہیں۔ یورپین مشنریاں ہنود اور یہود ہمیشہ دین حق کی عیب جوئی میں لگے رہتے ہیں۔ تعدد ازواج پر یہ لوگ ہمیشہ معترض رہے۔ کہ دیکھو ! اسلام عیاش پرست مذہب ہے۔ اس میں چار شادیوں کی اجازت ہے ، وغیرہ وغیرہ لعنت کے مستحق اللہ تعالیٰ نے فرمایا اگر یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی ترک کر کے دین اسلام کو قبول کرلیتے۔ ولو انہم قالوا اور اگر وہ یوں کہتے سمعنا واطعنا ہم نے سن لیا اور ہم اسے مانیں گے واسمع آپ ہماری بات سنیں وانظرنا اور ہماری طرف دیکھیں لکان خیراً لہم تو ایسا کہنا ان کے لیے بہتر ہوتا واقوم اور زیادہ درست ہوتا مگر افسوس کہ انہوں نے ایسا نہ کیا ، جس کا نتیجہ یہ ہوا ولکن لعنہم اللہ بکفرہم کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے کفر کی وجہ سے ان پر لعنت کی۔ لعنت کا معنی بعد من الرحمۃ یعنی اللہ کی رحمت سے دوری ہے۔ ایمان لانے سے انکار کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت و بخشش سے دور ہوگئے۔ انہوں نے کلام الٰہی کو حق نہ مانا۔ رسول کی تکذیب کی۔ ان کے اخلاق بگڑ گئے تھے۔ عقل الٹ گئی تھی ، اس لیے تمام کام خلاف عقل و فہم انجام دیتے تھے کلام الٰہی کو تبدیل کیا فلا یومنون الا قلیلاً پس وہ نہیں ایمان لاتے مگر بہت تھوڑے۔ حضور ﷺ کے زمانہ مبارک میں مدینے کے گرد و نواح میں یہودیوں کے دس بڑے عالم تھے۔ جن میں سے صرف ایک اسلام قبول کرسکے حضور نے فرمایا اگر یہ سارے کے سارے ایمان لے آتے تو روئے زمین پر موجود تمام یہودی حلقہ بگوش اسلام ہوجاتے۔ مگر جیسا کہ یہاں فرمایا بہت قلیل لوگ ایمان لائے۔ یہ لوگ اس وقت بھی مسلمانوں کے خلاف سازشیں کرتے تھے اور آج بھی دنیا میں اسی پالیسی پر گامزن ہیں اور یہ مسلمانوں سے صرف اسی صورت میں راضی ہو سکتے ہیں کہ مسلمان اپنا دین چھوڑ کر ان کے دین میں مدغم ہوجائیں۔ سورۃ بقرہ میں گزر چکا ہے ” ولن ترضی عنک الیہود ولا النصری حتی تتبع ملتہم “ یہودی اور عیسائی آپ سے کبھی خوش نہیں ہوں گے۔ جب تک آپ ان کا دین نہ اختیار کرلیں۔ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ ان دشمنانِ دین سے ہمیشہ ہوشیار رہنا ، یہ دین دشمنی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ یہ مسلمانوں کے ابدی دشمن ہیں۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ یہ لوگ نزول مسیح تک اس قسم کی ریشہ دوانیاں کرتے رہیں گے ، لہٰذا ان سے محتاط رہیں۔